ٹیگ کے محفوظات: تماشے

مری طرح سے اٹھائے بتاشے اُس نے بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 477
قریب ہونے کے رستے تلاشے اُس نے بھی
مری طرح سے اٹھائے بتاشے اُس نے بھی
مجھے بھی اپنی وجاہت کے زعم نے روکا
تمام رات بہانے تراشے اُس نے بھی
مری بھی پیٹھ پہ رکھی ہے حسرتوں کی صلیب
اٹھائے اپنی تمنا کے لاشے اُس نے بھی
سناہے میری طرح رات رات دیکھے ہیں
شکست و ریخت کے وحشی تماشے اُس نے بھی
اگرچہ عشق ہے مجرم مگر بنائے ہیں
دیارِ ہجرکے اجڑے مہاشے اُس نے بھی
حساب درد کا جس رات کر رہا تھا میں
شماراپنے کئے تولے ماشے اُس نے بھی
نکل سکی نہ اداسی مزاج سے میرے
اگرچہ خواب ہشاشے بشاشے اُس نے بھی
پلٹ کے دشت سے آئی نہ میری تنہائی
نگاہِ ناز کے ریشم فراشے اُس نے بھی
میں خوش دماغوں کی بستی کو ساتھ لایا تھا
بلا رکھے تھے کئی خوش معاشے اُس نے بھی
مجھے بھی چیخ سنائی دی لمس کی منصور
خیال میں مرے شانے خراشے اُس نے بھی
منصور آفاق