ٹیگ کے محفوظات: تابندہ

کسی گزرے ہوئے موسم کے نمائندہ ہم

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 105
یاد آتی ہوئی خوشبو کی طرح زندہ ہم
کسی گزرے ہوئے موسم کے نمائندہ ہم
اڑ گئے آنکھ سے سب لمحۂ موجود کے رنگ
رہ گئے نقش گرِ رفتہ و آئندہ ہم
حرفِ ناگفتہ کا خواہاں کوئی ملتا ہی نہیں
اور اسی گوہرِ ارزاں کے فروشندہ ہم
ایسے آشوب میں دکھ دینے کی فرصت کس کو
ہیں بہت لذتِ آزار سے شرمندہ ہم
اس اندھیرے میں کہ پل بھر کا چمکنا بھی محال
رات بھر زندہ و رخشندہ و تابندہ ہم
اپنا اس حرف و حکایت میں ہنر کچھ بھی نہیں
بولنے والا کوئی اور نگارندہ ہم
عرفان صدیقی

قیامت ہے مسلسل زندہ رہنا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 49
خود اپنے آپ سے شرمندہ رہنا
قیامت ہے مسلسل زندہ رہنا
یہاں روبوٹ کم ہیں آسماں سے
یہ دنیا ہے یہاں آئندہ رہنا
مجھے دکھ کی قیامت خیز رت میں
محبت نے کہا ’’پائندہ رہنا‘‘
سمٹ آئی ہے جب مٹھی میں دنیا
کسی بستی کا کیا باشندہ رہنا
سکھاتا ہے مجھے ہر شام سورج
لہو میں ڈوب کر تابندہ رہنا
یہی منصور حاصل زندگی کا
خود اپنا آپ ہی کارندہ رہنا
منصور آفاق