ٹیگ کے محفوظات: بہار

دیر تک رہگزار کو دیکھا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 58
کارواں یا غبار کو دیکھا
دیر تک رہگزار کو دیکھا
پھول سا رنگ، خار سے انداز
تجھ کو دیکھا بہار کو دیکھا
زلف و رُخ کے طلسم سے نکلے
حسنِ لیل و نہار کو دیکھا
دل آزاد کا خیال آیا
اپنے ہر اختیار کو دیکھا
ہر ستارے سے روشنی مانگی
ہر شبِ انتظار کو دیکھا
کسی لمحے پہ اپنا نام نہ تھا
گردش روزگار کو دیکھا
پھر تسلی کسی کی یاد آئی
پھر دل بے قرار کو دیکھا
ہر گل تر تھا ایک داغِ نمو
ہم نے ہر شاخسار کو دیکھا
دھیان میں آئی زندگی باقیؔ
رقص میں اک شرار کو دیکھا
باقی صدیقی

کہیں کہاں ترا دیوانہ شرمسار ہوا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 41
کبھی حرم پہ کبھی بتکدے پہ بار ہوا
کہیں کہاں ترا دیوانہ شرمسار ہوا
گزر گیا ہے محبت کا مرحلہ شاید
ترے خیال سے بھی دل نہ بے قرار ہوا
تمہاری بزم میں جب آرزو کی بات چھڑی
ہمارا ذکر بھی یاروں کو ناگوار ہوا
چمن کی خاک سے پیدا ہوا ہے کانٹا بھی
یہ اور بات کہ حالات کا شکار ہوا
نسیم صبح کی شوخی میں تو کلام نہیں
مگر وہ پھول جو پامالِ رہگزار ہوا
روش روش پہ سلگتے ہوئے شگوفوں سے
کبھی کبھی ہمیں اندازۂ بہار ہوا
فسانہ خواں کوئی دنیا میں مل گیا جس کو
اسی کی ذکر فسانوں میں بار بار ہوا
کس انجمن میں جلایا ہے تو نے اے باقیؔ
ترا چراغ، چراغِ سرِ مزار ہوا
باقی صدیقی

بہار

ہسدی ائی بہارنی سیو!

گل ست لڑئیے ہار

رل مِل کھیڈن سکھیاں سیّاں

ونگاں پائی چھنکار

نی سیو! ہسدی آئی بہار

رُٹھڑا سُورج دِسے منیندا

نھیرے نسدے جان

دُھپ دا چانن گُوہڑا ہویا

کِرناں پیار جَتان

گلی گلی وِچ چانن مہکے

چانن سکُھ دا ہارنی سیو!

ہسدی آئی بہار

چٹی چَنّے چادر اُتے

پھلُ کلیاں دا نُور

نیندر رانی دئے سنیہڑے

واء دی مست بلُور

بنے بنے دیاں چُوکاں رنگاں

رنگاں پائی بھرمارنی سیو!

ہسدی آئی بہار

سُوہیاں لال پھُلاں چوں آوے

نمھی نمھی خوشبو

نِکا نِکا مشکاون پیاں

کلیا ں کول کھلو

رُکھ چھتری دیاں سنگھنیاں چھانواں

راہیاں دے دِلدارنی سیو!

ہسدی آئی بہار

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)