ٹیگ کے محفوظات: بناہل کا ایک منظر

بناہل کا ایک منظر

۔۔۔۔ اور پرانے پربت پر

آتے جاتے سورج رُک کر تکتا ہے

اپنے اپنے خون میں تر دو بیلوں میں

بے انجام لڑائی یکساں ماتوں کی

طبلِ زمیں پر تھاپ۔۔۔۔ مسلسل تھاپ پڑے

غیب کے بھاری ہاتھوں کی

آنکھیں۔۔۔۔ ہر سو خفیہ آنکھیں

محوِ جشنِ تماشا ہیں

دم دم بولتے سنانے میں ہول کڑی دوپہروں کا

ہر پتے پر طاری ہے

اور ہمیشہ کی، ناوقت اڑانوں پر

دھوپ کے زرد بسیرے سے

اِس پربت کے

پیچھے بہتے دریا کی آواز کا پنچھی آتا ہے،

بکھراتا ہے

سبز نمی کا نعمہ ٹھہری وادی پر

لیکن مٹی کے اعصاب میں، شریانوں میں

بے انجام لڑائی پیہم جاری ہے

آفتاب اقبال شمیم