ٹیگ کے محفوظات: بانٹ

بچا جو دیس میں تھوڑا بہت ہے بانٹ ابھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 480
پہنچنے والی ہے انگریز کی گرانٹ ابھی
بچا جو دیس میں تھوڑا بہت ہے بانٹ ابھی
میں تیری فونڈری بیچوں گا وقت آنے پر
تُو میرے بیج دے اسٹیل کے پلانٹ ابھی
تجھے کلاس کے کچھ چور مل بھی سکتے ہیں
فریب کار بہت ہیں کچھ اور چھانٹ ابھی
او بادشاہِ ٹھگاں ! میں ترا مخالف ہوں
اکھیڑ نی ہے جومیری اکھیڑ جھانٹ ابھی
امیرِ شہر نے امپوٹ کھالیں کردی ہیں
غریبِ شہروہی اپنے جوتے گانٹھ ابھی
نئے چراغ جلا صبح کیلئے منصور
ہے تیرے ملک پہ قابض وہی خرانٹ ابھی
منصور آفاق