اَزَل سے سب مکرّر ہو رَہا ہے مئی 20, 2021قطعہ،کیفِ غزل،ضامن جعفریاَزَل سے سب مکرّر ہو رَہا ہےadmin نہ جانے کہہ دِیا ہے عشق نے کیا کہ حُسن آپے سے باہر ہو رَہا ہے حواس و ہوش سے کہہ دو کہ جائیں حسابِ دل برابر ہو رَہا ہے اَبَد ممکن ہے لائے کچھ تغیّر اَزَل سے سب مکرّر ہو رَہا ہے ضامن جعفری Rate this:اسے شیئر کریں: Share on X (Opens in new window) X Share on Facebook (Opens in new window) فیس بک پسند کریں لوڈ کیا جا رہا ہے۔۔۔