ٹیگ کے محفوظات: اندھیاری

اوپگلے کیا سوچ کے تو نے جیون کی بازی ہاری ہے

اُس مَدھ ماتی سُندر چھب کی متوالی دُنیا ساری ہے
اوپگلے کیا سوچ کے تو نے جیون کی بازی ہاری ہے
جھیل نہیں اِندر کی سبھا ہے، پُھول نہیں چنچل پریاں ہیں
جنگل میں ایسی رُت کب تھی، یہ سب دھیان کی گُل کاری ہے
رُوپ محل کی چور گلی سے، دیکھوکس کو بُلاوا آئے
اک ہیروں کا سوداگر ہے اَور اِک من کا بیوپاری ہے
گھر سے اکیلا جو بھی نِکلا اس نے اپنی کھوج نہ پائی
چندرما کا ہاتھ پکڑلو، یہ رات بڑی اندھیاری ہے
کِس سے روئیں پیار کا دُکھڑا، کِس سے پائیں داد وفا کی
کچھ گونگے بہرے لوگوں کی، اس بستی میں سرداری ہے
شکیب جلالی

دزد غمزوں کی ویسی عیاری

دیوان ششم غزل 1902
وے سیہ موئی و گرفتاری
دزد غمزوں کی ویسی عیاری
اب کے دل ان سے بچ گیا تو کیا
چور جاتے رہے کہ اندھیاری
اچھا ہونا نہیں مریض عشق
ساتھ جی کے ہے دل کی بیماری
کیوں نہ ابر بہار پر ہو رنگ
برسوں دیکھی ہے میری خوں باری
شور و فریاد و زاری شب سے
شہریوں کو ہے مجھ سے بیزاری
چلے جاتے ہیں رات دن آنسو
دیدئہ تر کی خیر ہے جاری
مر رہیں اس میں یا رہیں جیتے
شیوہ اپنا تو ہے وفاداری
کیونکے راہ فنا میں بیٹھیے گا
جرم بے حد سے ہے گراں باری
واں سے خشم و خطاب و ناز و عتاب
یاں سے اخلاص و دوستی یاری
میر چلنے سے کیوں ہو غافل تم
سب کے ہاں ہو رہی ہے تیاری
میر تقی میر