ٹیگ کے محفوظات: ابالی

وہ اسکندر گیا یاں سے تو دونوں ہاتھ خالی تھے

دیوان اول غزل 643
مہیا جس کنے اسباب ملکی اور مالی تھے
وہ اسکندر گیا یاں سے تو دونوں ہاتھ خالی تھے
کلاہ کج سے ہر غنچے کی پیدا ہے گلستاں میں
کہ کیا کیا اس چمن میں دلبروں کے لا ابالی تھے
میر تقی میر

کوئی تو بات ہونے والی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 240
دل دھڑکتا ہے جام خالی ہے
کوئی تو بات ہونے والی ہے
غم جاناں ہو یا غم دوراں
زیست ہر حال میں سوالی ہے
حادثہ حادثے سے روکا ہے
آرزو آرزو سے ٹالی ہے
ٹوٹ کر دل ہے اس طرح خاموش
ہم نے گویا مراد پا لی ہے
کیا زیاں کا گلہ کریں باقیؔ
کچھ طبیعت ہی لا ابالی ہے
باقی صدیقی