وہ اسکندر گیا یاں سے تو دونوں ہاتھ خالی تھے اکتوبر 6, 2015میر تقی میر،اساتذہ،غزلابالی،خالیadmin دیوان اول غزل 643 مہیا جس کنے اسباب ملکی اور مالی تھے وہ اسکندر گیا یاں سے تو دونوں ہاتھ خالی تھے کلاہ کج سے ہر غنچے کی پیدا ہے گلستاں میں کہ کیا کیا اس چمن میں دلبروں کے لا ابالی تھے میر تقی میر Rate this:اسے شیئر کریں: Share on X (Opens in new window) X Share on Facebook (Opens in new window) فیس بک پسند کریں لوڈ کیا جا رہا ہے۔۔۔
کوئی تو بات ہونے والی ہے جنوری 8, 1972باقی صدیقی،شعراء،غزللی،والی،ٹالی،ابالی،سوالیadmin باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 240 دل دھڑکتا ہے جام خالی ہے کوئی تو بات ہونے والی ہے غم جاناں ہو یا غم دوراں زیست ہر حال میں سوالی ہے حادثہ حادثے سے روکا ہے آرزو آرزو سے ٹالی ہے ٹوٹ کر دل ہے اس طرح خاموش ہم نے گویا مراد پا لی ہے کیا زیاں کا گلہ کریں باقیؔ کچھ طبیعت ہی لا ابالی ہے باقی صدیقی Rate this:اسے شیئر کریں: Share on X (Opens in new window) X Share on Facebook (Opens in new window) فیس بک پسند کریں لوڈ کیا جا رہا ہے۔۔۔