ٹیگ کے محفوظات: گناہی

کہاں رحمت حق کہاں بے گناہی

دیوان پنجم غزل 1733
نہ بک شیخ اتنا بھی واہی تباہی
کہاں رحمت حق کہاں بے گناہی
ملوں کیونکے ہم رنگ ہو تجھ سے اے گل
ترا رنگ شعلہ مرا رنگ کاہی
مجھے میر تا گور کاندھا دیا تھا
تمناے دل نے تو یاں تک نباہی
میر تقی میر

دار تک مجھ کو غرور بے گناہی لے گیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 81
میں فقط خاموش ہونٹوں کی گواہی لے گیا
دار تک مجھ کو غرور بے گناہی لے گیا
کون کہتا ہے کہ ان آنکھوں میں جادو ہی نہیں
توڑ دی اس نے کمند اور بادشاہی لے گیا
لوٹنے والا نہیں تھا، جیتنے والا تھا وہ
اس نے جو شئے بھی مرے خیمے سے چاہی لے گیا
MERGED وہ شکاری ہی سہی، سودا خسارے کا نہ تھا
کھول دی اس نے کمند اور یاد ساری لے گیا
عرفان صدیقی

کس کے آگے جا کے سر پھوڑوں الٰہی کیا کروں؟

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 24
وہ تو سنتا ہی نہیں میں داد خواہی کیا کروں؟
کس کے آگے جا کے سر پھوڑوں الٰہی کیا کروں؟
مجھ گدا کو دے نہ تکلیف حکومت اے ہوس!
چار دن کی زندگی میں بادشاہی کیا کروں؟
مجھ کو ساحل تک خدا پہنچائے گا اے ناخدا!
اپنی کشتی کی بیاں تجھ سے تباہی کیا کروں؟
وہ مرے اعمال روز و شب سے واقف ہے امیر
پیش خالق ادعائے بے گناہی کیا کروں؟
امیر مینائی