ٹیگ کے محفوظات: ڈال

تو بھی ہمیں نہ جنّتِ فردا پہ ٹال دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 66
جاناں! کبھی تو مژدۂ لطفِ وصال دے
تو بھی ہمیں نہ جنّتِ فردا پہ ٹال دے
ہم گمرہی میں، غیر مگر راستی میں فرد
دیتا ہے وُہ، جسے بھی، جو اوجِ کمال دے
سجنے لگے شرر جو سرِ شاخِ آرزو
ایسا ثمر تو باغ میں کوئی نہ ڈال دے
اتنا تو بخش دے ہمیں اخفائے دردِ دل
حدّت وُہ دے جو اشک کو آہوں میں ڈھال دے
ایسا کوئی نہیں کہ جو یُوسف کہے تجھے
چاہے سخن کو جتنا بھی ماجدؔ جمال دے
ماجد صدیقی

ساتھ دنوں کے ہر شکلِ احوال گئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
ہم نے کھیلی وقت سے جو بھی چال گئی
ساتھ دنوں کے ہر شکلِ احوال گئی
ڈھانپنے والے تھے ہم جس سے سر اپنا
اُس سودے میں ساتھ ہی اپنی کھال گئی
خواہش، لُطف کی آخری حد چھُو لینے کی
چھین کے ہم سے کیا کیا ماہ و سال گئی
دیکھا رنگ اور رُوپ دلائے جس نے اِنہیں
پیڑوں کو آثار میں وُہ رُت ڈھال گئی
ہمیں چِڑانے باغ سے آتی تھی جو صبا
آخر ہم سے بھی ہو کر بے حال گئی
اُس چنچل کی بات کچھ ایسی پیچاں تھی
رگ رگ میں جو سو سو گرہیں ڈال گئی
ماجدؔ بات ہماری لیکھ سنورنے کی
ہر جاتی رُت اگلی رُت پر ٹال گئی
ماجد صدیقی

خلق جِسے کمزور کا استحصال کہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
زورآور اُس فن کو اپنی ڈھال کہے
خلق جِسے کمزور کا استحصال کہے
دیکھ رہی ہے ہاتھ دُعا کا بن بن کر
بادل سے کیا اور چمن کی آل کہے
رُخصت ہوتے اُس سے وُہی کُچھ مَیں نے کہا
پیڑ سے جو کچھ ٹوُٹ کے گرتی ڈال کہے
اور بھی کیوں لوٹے جا کر انگاروں پر
کون کسی سے اپنے دل کا حال کہے
یہ بھی کسی کے دل کا نقشہ ہو شاید
تُو جس کو شیشے میں آیا بال کہے
آپ کے حق میں اگلے دن اچّھے ہوں گے
بات یہی ہم سے ہر گزرا سال کہے
دل کی بات تجھی سے جیسا کہتا ہو
فیض کہے ماجدؔ یا وُہ اقبال کہے
ماجد صدیقی

میانِ قامت و رُخ جُوں سجے ہیں گال ترے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
افق پہ ذہن کے موزوں ہیں یُوں خیال ترے
میانِ قامت و رُخ جُوں سجے ہیں گال ترے
یہ دشتِ دید ترستا ہے کیوں نظر کو تری
بہ قیدِ چشم ہیں کیوں کر ابھی غزال ترے
گمان‘ برگ و ثمر پر ترا ہی صبح و مسا
خطوطِ حُسن ہویدا ہیں‘ ڈال ڈال ترے
ہرا بھرا ترے دم سے ہے گُلستانِ خیال
بہ کشتِ یاد فسانے ہیں چھال چھال ترے
اُسی سے رقص میں ہے شاخِ آرزوئے وصال
ہیں جس ہوا سے شگفتہ یہ ماہ و سال ترے
نکلنے دیں گے کہاں حلقۂ ضیا سے مُجھے
سحر نما یہ کرشمے ترے، خیال ترے
کبھی یہ شعر بھی ماجدؔ کے دیکھنا تو سہی
نقوش اِن میں بھی اُترے ہیں خال خال ترے
ماجد صدیقی

ملے جو ہم تو لبوں پر سوال کیا کیا تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
نظر میں واہمے، دل میں خیال کیا کیا تھے
ملے جو ہم تو لبوں پر سوال کیا کیا تھے
وُہ کرکے وار چلے تو غرور سے لیکن
قدم اُنہیں بھی اُٹھانے محال کیا کیا تھے
زمیں اجاڑ، فضا پُر شرر، فلک عریاں
پئے عذاب نظر کو وبال کیا کیا تھے
مہک ہماری لگی بھی تو ہاتھ صرصر کے
کسے جتائیں کہ اپنے کمال کیا کیا تھے
چٹک گلوں کی کہیں دُھول کا سکوت کہیں
رُتوں کے رنگ سجے ڈال ڈال کیا کیا تھے
بہ شکلِ خواب تھا امکانِ وصلِ یار سدا
عُروج کیا تھے ہمارے زوال کیا کیا تھے
رُتوں نے عہد سبھی محو کر دئیے، ورنہ
حروفِ ربط لکھے چھال چھال کیا کیا تھے
تھا ابتدا سے یہی حبس، ہے جو اَب ماجدؔ
نہ پوچھ مجھ سے مرے ماہ وسال کیا کیا تھے
ماجد صدیقی

یُوں تو ہو گا یہ جی کچھ اور نڈھال

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
ہو نہ محتاجِ پرسشِ احوال
یُوں تو ہو گا یہ جی کچھ اور نڈھال
وہ ترا بام ہو کہ ہو سرِ دار
پستیوں سے مجھے کہیں تو اُچھال
گُل بہ آغوش ہیں مرے ہی لیے
یہ شب و روز یہ حسیں مہ و سال
دن ترے پیار کا اُجالا ہے
شب ترے عارضوں کا مدّھم خال
مَیں مقّید ہوں اپنی سوچوں کا
بُن لیا مَیں نے شش جہت اِک جال
بے رُخی کی تو آپ ہی نے کی
آپ سے کچھ نہ تھا ہمیں تو ملال
ہے اسی میں تری شفا ماجدؔ
لکھ غزل اور اِسے گلے میں ڈال
ماجد صدیقی

ہر شے گزشتنی ہے مہ و سال کی طرح

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 23
تیز آندھیوں میں اڑتے پر وبال کی طرح
ہر شے گزشتنی ہے مہ و سال کی طرح
کیوں کر کہوں کہ درپئے آزار ہے وہی
جو آسماں ہے سر پہ مرے ڈھال کی طرح
یوں بے سبب تو کوئی انہیں پوجتا نہیں
کچھ تو ہے پتھروں میں خدوخال کی طرح
کیا کچھ کیا نہ خود کو چھپانے کے واسطے
عریانیوں کو اوڑھ لیا شال کی طرح
اب تک مرا زمین سے رشتہ ہے استوار
رہنِ ستم ہوں سبزۂِ پامال کی طرح
میں خود ہی جلوہ ریز ہوں، خود ہی نگاہِ شوق
شفاف پانیوں پہ جھکی ڈال کی طرح
ہر موڑ پر ملیں گے کئی راہ زن شکیبؔ
چلیے چھپا کے غم بھی زر و مال کی طرح
شکیب جلالی

حال کچھ بھی تجھ میں ہے اے میر اپنا حال دیکھ

دیوان سوم غزل 1245
جانے دے مت اس قدر اب زلف و خط و خال دیکھ
حال کچھ بھی تجھ میں ہے اے میر اپنا حال دیکھ
کیا مری طول پریشانی کی حیرت ہم نفس
آنکھیں تو دی ہیں خدا نے اس کے لپٹے بال دیکھ
دامن صحرا میں کیا وسعت ہے جو دل میں نہیں
موند کر آنکھیں گریباں میں بھی ٹک سر ڈال دیکھ
چشم و دل کا اس سے لگ جانا تو تھا جس تس طرح
جی بھی ان بالوں میں الجھا اور یہ جنجال دیکھ
گرچہ اس مہ کی جدائی میں مجھے برسوں ہوئے
لیکن اے اخترشناس اب کا ہے کیسا سال دیکھ
کب نظر میری پڑے گی اس کے روے خوب پر
ہم نشیں ٹک تو بھی مصحف کھول کر تو فال دیکھ
ٹھوکریں دل کو لگے ہیں جب چلے ہے راہ تو
یہ خرام ناز ہے ظالم ٹک اپنی چال دیکھ
میر تقی میر

دل کلیجا نکال لیتے ہیں

دیوان سوم غزل 1203
جس کا خوباں خیال لیتے ہیں
دل کلیجا نکال لیتے ہیں
کیا نظرگاہ ہے کہ شرم سے گل
سر گریباں میں ڈال لیتے ہیں
دیکھ اسے ہو ملک سے بھی لغزش
ہم تو دل کو سنبھال لیتے ہیں
کھول کر بال سادہ رو لڑکے
خلق کا کیوں وبال لیتے ہیں
تیغ کھینچے ہیں جب یہ خوش ظاہر
ماہ و خور منھ پہ ڈھال لیتے ہیں
دلبراں نقد دل کو عاشق کے
جان کر اپنا مال لیتے ہیں
ہیں گدا میر بھی ولے دوجہاں
کرکے اک ہی سوال لیتے ہیں
میر تقی میر

جی میں کیا کیا خیال آتا ہے

دیوان اول غزل 542
یاں جو وہ نونہال آتا ہے
جی میں کیا کیا خیال آتا ہے
اس کے چلنے کی آن کا بے حال
مدتوں میں بحال آتا ہے
پر تو گذرا قفس ہی میں دیکھیں
اب کے کیسا یہ سال آتا ہے
شیخ کی تو نماز پر مت جا
بوجھ سر کا سا ڈال آتا ہے
آرسی کے بھی گھر میں شرم سے میر
کم ہی وہ بے مثال آتا ہے
میر تقی میر

صید بندوں نے جال ڈال رکھے

دیوان اول غزل 541
جب سے اس بے وفا نے بال رکھے
صید بندوں نے جال ڈال رکھے
ہاتھ کیا آوے وہ کمر ہے ہیچ
یوں کوئی جی میں کچھ خیال رکھے
رہرو راہ خوفناک عشق
چاہیے پائوں کو سنبھال رکھے
پہنچے ہر اک نہ درد کو میرے
وہ ہی جانے جو ایسا حال رکھے
ایسے زر دوست ہو تو خیر ہے اب
ملیے اس سے جو کوئی مال رکھے
بحث ہے ناقصوں سے کاش فلک
مجھ کو اس زمرے سے نکال رکھے
سمجھے انداز شعر کو میرے
میر کا سا اگر کمال رکھے
میر تقی میر

اے رشک حور آدمیوں کی سی چال چل

دیوان اول غزل 268
جانیں ہیں فرش رہ تری مت حال حال چل
اے رشک حور آدمیوں کی سی چال چل
اک آن میں بدلتی ہے صورت جہان کی
جلد اس نگارخانے سے کر انتقال چل
سالک بہر طریق بدن ہے وبال جاں
یہ بوجھ تیرے ساتھ جو ہے اس کو ڈال چل
آوارہ میرے ہونے کا باعث وہ زلف ہے
کافر ہوں اس میں ہووے اگر ایک بال چل
دنیا ہے میر حادثہ گاہ مقرری
یاں سے تو اپنا پائوں شتابی نکال چل
میر تقی میر

کہ کاروان کا کنعاں کے جی نکال لیا

دیوان اول غزل 82
نہ پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیا
کہ کاروان کا کنعاں کے جی نکال لیا
رہ طلب میں گرے ہوتے سر کے بھل ہم بھی
شکستہ پائی نے اپنی ہمیں سنبھال لیا
رہوں ہوں برسوں سے ہم دوش پر کبھو ان نے
گلے میں ہاتھ مرا پیار سے نہ ڈال لیا
بتاں کی میر ستم وہ نگاہ ہے جس نے
خدا کے واسطے بھی خلق کا وبال لیا
میر تقی میر

شبِ سفر میں کبھی ساعتِ زوال بھی آئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 242
کہیں خیام لگیں قریہ وصال بھی آئے
شبِ سفر میں کبھی ساعتِ زوال بھی آئے
کسی اُفق پہ تو ہو اتصالِ ظلمت و نور
کہ ہم خراب بھی ہوں اور وہ خوش خصال بھی آئے
سخن میں کب سے ہے روشن، یہ کیا ضروری ہے
کہ وہ ستارہ سرِ مطلعِ مثال بھی آئے
سنا ہے سیر کو نکلی ہوئی ہے موجِ نشاط
عجب نہیں طرفِ کوچۂ ملال بھی آئے
ہمیں عطیۂ ترکِ طلب قبول نہ تھا
سو ہم تو اس کی عنایت پہ خاک ڈال بھی آئے
عرفان صدیقی

ہرا بھرا کوئی قالین ڈال کمرے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 344
مناسب اتنا نہیں اعتدال کمرے میں
ہرا بھرا کوئی قالین ڈال کمرے میں
کسی ستم زدہ روزن سے آتو سکتی تھی
ذرا سی دیر کو صبحِ وصال کمرے میں
لٹک رہاتھا دریچے میں بھیڑیے کا بت
دکھائی دیتا تھا کوئی غزال کمرے میں
بس اس لئے کہ سپاہی بہت زیادہ تھے
تھی تاج پوشی کی تقریب ہال کمرے میں
اسے بھی زاویے سیدھے کمر کے کرنے تھے
مجھے بھی آیا تھا یہ ہی خیال کمرے میں
بلٹ پروف محافظ تھے ہر طرف لیکن
گزر رہے تھے حکومت کے سال کمرے میں
ہر ایک شے میں اداسی ہے شام کی منصور
اتر رہا ہے نظر سے ملال کمرے میں
منصور آفاق

اک نئے عم کی طرح ڈال گیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 71
جس طرف بھی ترا خیال گیا
اک نئے غم کی طرح ڈال گیا
زیست کس مرحلے پہ آ پہنچی
وضعداری کا بھی سوال گیا
غم دل پر غم جہاں کا گماں
چھوڑئیے لطف عرض حال گیا
ہر تمنا پہ غم کا پہرہ تھا
پھر بھی کس کس طرف خیال گیا
دل سے رہ رہ کے ہم الجھتے ہیں
کس مصیبت میں کوئی ڈال گیا
درد اٹھا کچھ اس طرح باقیؔ
دل کی سب حسرتیں نکال گیا
باقی صدیقی