ٹیگ کے محفوظات: منظر

اچّھا نہیں ہے خواب کا منظر رکھا ہوا

دل کے نگار خانہ سے باہر رکھا ہوا
اچّھا نہیں ہے خواب کا منظر رکھا ہوا
بے رنگ ہو کے گر پڑا فوراً چراغِ حُسن
تھا میں نے عشق ہاتھ کے اوپر رکھا ہوا
خطرہ ہے جم نہ جائے کہیں ضبط کا غبار
ہے دل کو ہم نے اس لیے اندر رکھا ہوا
کب ہو گئے فگار مرے ہاتھ کیا خبر
پہلو میں اُس نے تھا کہیں خنجر رکھا ہوا
اِس احتیاط سے تمہیں چاہا کہ اے فلکؔ!
اب تک زباں پہ چپ کا ہے پتھّر رکھا ہوا
افتخار فلک

جو سیر کر دے رُوح کو ایسا کوئی منظر نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
یادوں کا نقشِ دلنشیں دِل میں کوئی کیونکر نہیں
جو سیر کر دے رُوح کو ایسا کوئی منظر نہیں
وُہ جس جگہ ہے اُس جگہ جانا کسی کا سہل کب
تُجھ بِن صبا! اپنا کوئی اب اور نامہ بر نہیں
ہم آپ تو ہیں دمبخود،ہم سے ملے جو وہ کہے
تُم لوگ ہو جس جَیش میں اُس کا کوئی رہبر نہیں
ہے کس جگہ چلنا ہمیں رُکنا کہاں بِچھنا کہاں
ہے درس ایسا کون سا وُہ جو ہمیں ازبر نہیں
جو دب گیا وُہ صید ہے،چڑھ دوڑتا صیّاد ہے
ابنائے آدم ہیں جہاں،بالائے خیر و شر نہیں
کُچھ یہ کہیں کُچھ وہ کہیں ہم کیاکہیں کیا ٹھیک ہے
ماجِد ہی ذی دانش یہاں، ماجِد ہی دانشور نہیں
ماجد صدیقی

اہلِ نظر میں بھی ہیں گویا تنگ نظر کے لوگ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
مجھ سے کشیدہ رو ہیں کیونکر میرے ہنر کے لوگ
اہلِ نظر میں بھی ہیں گویا تنگ نظر کے لوگ
جیسے کم سن چوزے ہوں مرغی کے پروں میں بند
جبر کی چیلوں سے دبکے ہیں یوں ہر گھر کے لوگ
ہر فریاد پہ لب بستہ ہیں مانندِ اصنام
عدل پہ بھی مامور ہوئے کیا کیا پتّھر کے لوگ
صبح و مسا ان کے چہروں پر اک جیسا اندوہ
منظر منظر ہیں جیسے اک ہی منظر کے لوگ
کچھ بھی نہیں مرغوب اِنہیں، کولہو کے سفر کے سوا
میرے نگر کے لوگ ہیں ماجد اور ڈگر کے لوگ
ماجد صدیقی

مادۂ آتش سے پُر اپنے سمندر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا
مادۂ آتش سے پُر اپنے سمندر دیکھنا
پچھلی ساعت کربلاؤں سا ہُوا جو رُو نما
ہے ہمیں سکرین پر گھر میں وہ منظر دیکھنا
اِس سے پہلے تو کوئی بھی ٹڈّی دَل ایسا نہ تھا
اب کے جو پرّاں فضا میں ہیں وہ اخگر دیکھنا
فاختائیں فاختاؤں کو کریں تلقینِ امن
مضحکہ موزوں ہُوا یہ بھی ہمِیں پر دیکھنا
کیا کہیں آنکھوں پہ اپنی جانے کب سے قرض تھا
جسم میں اُترا کم اندیشی کا خنجر دیکھنا
کچھ نہیں جن میں معانی منمناہٹ کے سوا
درس کیا سے کیا ہمیں ماجد ہیں ازبر دیکھنا
ماجد صدیقی

آشتی باہر نمایاں اور بگاڑ اندر یہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
خَیر کے چرچے فراواں اور زیادہ شر یہاں
آشتی باہر نمایاں اور بگاڑ اندر یہاں
جس نے بھی چاہا اُٹھائے رتبۂ نادار کو
کیا سے کیا برسا کِیے اُس شخص پر پتّھر یہاں
سرگرانی جن سے ہو وہ آنکھ سے ہٹتے نہیں
جی کو جو اچّھے لگیں ٹھہریں نہ وہ منظر یہاں
دیکھتے ہیں چونک کر سارے خدا اُن کی طرف
فائدے میں ہیں جو ہیں اعلانیہ، آذر یہاں
کاش ایسا ہو کہ پاس اُس کے خبر ہو خَیر کی
جب بھی آئے کاٹتا ہے ہونٹ، نامہ بر یہاں
اور ہی انداز سے دمکے گی اب اردو یہاں
اس سے وابستہ رہے گر خاورؔ و یاورؔ یہاں
محض گرد و دُود ہی کیا اور بھی اسباب ہیں
سانس تک لینا بھی ماجدؔ ہو چلا دُوبھر یہاں
ماجد صدیقی

ہم نے سینتے کیا کیا منظر آنکھوں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
نقش ہُوا ہے پل پل کا شر آنکھوں میں
ہم نے سینتے کیا کیا منظر آنکھوں میں
پھوڑوں جیسا حال ہے جن کے اندر کا
کھُلتے ہیں کُچھ ایسے بھی در آنکھوں میں
کیا کیا خودسر جذبے دریاؤں جیسے
ڈوب گئے اُن شوخ سمندر آنکھوں میں
ایک وُہی تو نخلستان کا پودا تھا
آنچ ہی آنچ تھی جس سے ہٹ کر آنکھوں میں
آدم کے حق میں تخفیفِ منصب کا
ناٹک سا ہر دم ہے خودسر آنکھوں میں
فصلوں جیسے جسم کٹے آگے جن کے
کرب نہ تھا کیا کیا اُن ششدر آنکھوں میں
ماجدؔ بت بن جائیں اُس چنچل جیسے
پھول بھی گر اُتریں اِن آذر آنکھوں میں
ماجد صدیقی

وقت نجانے اور ابھی کیا کیا منظر دکھلائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
سچ کہنے پر شہر بدر ہوتے، بُوذرؓ دکھلائے گا
وقت نجانے اور ابھی کیا کیا منظر دکھلائے گا
اِک اِک گوشۂ شہر سے تو ہم خاک جبیں پر مَل لائے
خواہش کا عفریت ہمیں اَب کون سا در دکھلائے گا
سُورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ دمکتے اِک جیسے
کون مُبارک دن ایسا، جو سارے نگر دکھلائے گا
راہبروں کی سنگ دلی سے بچ نہ سکا جو دبنے سے
کون سا ایسا عزم ہمیں مائل بہ سفر دکھلائے گا
ہم بھاڑے کے وُہ مزدور ہیں پیٹ کا یہ تنّور جنہیں
دریاؤں کی تہہ میں چھپُا اِک ایک گہر دکھلائے گا
دُور لگے وُہ وقت ابھی جب ٹھہری رات کے آنگن میں
پھیکا پڑ کے چاند ہمیں آثارِ سحر دکھلائے گا
ہاں وُہ شہر کہ جس کا اِک اِک باسی اُونچا سُنتا ہو
ماجدؔ ایسے شہر میں تو کیا رنگِ ہُنر دکھلائے گا
ماجد صدیقی

پھر نہ آیا نظر میں منظر وُہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
مہرباں جس گھڑی تھا ہم پر وُہ
پھر نہ آیا نظر میں منظر وُہ
تھا جسے اختلاف ناحق سے
اب کہاں پاس اپنے بُوذرؑ وُہ
جس کے دیکھے سے پیاس بجھتی ہو
ملنے آئے گا ہم سے کیونکر وُہ
میں کہ مس ہوں جہاں میں مجھ کو بھی
آنچ دیتا ہے کیمیا گر وُہ
جب سے پیکر مہک اُٹھا اُس کا
بند رکھتا ہے روزن و دَر وُہ
کب سے جاری ہے یہ مہم اپنی
ہم سے لیکن نہیں ہُوا سر وُہ
اُس سے ماجدؔ! کہاں کا سمجھوتہ
موم ہیں ہم اگر تو پتّھر وُہ
ماجد صدیقی

مَیں بدن کا ترے کھُلتا ہوا منظر دیکھوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
جب بھی دیکھوں یہ فلک، اَبر ہٹا کر دیکھوں
مَیں بدن کا ترے کھُلتا ہوا منظر دیکھوں
گلشنِ حُسن پہ ہو راج اِسی کا جیسے
ان دنوں مرغِ طلب کو وُہ لگے پر دیکھوں
اوج کے لمس سے پہنچوں بہ سرِ چشمۂ لُطف
پر جو اِیدھر سے اُتر پاؤں تو اُودھر دیکھوں
میری حیرت سے کھلے تُجھ پہ ترا حُسن مگر
آئنوں سا میں جبھی تُجھ کو برابر دیکھوں
لب پہ رقصاں ہے مرے، ہے جو پسِ چشم اُدھر
اِس شرارت میں بپا کتنے ہی محشر دیکھوں
بِین سا سامنے جس کے ترا پیکر گونجے
خواب میں بھی ترے آنگن میں وہ اژدر دیکھوں
شعبدہ ہے، کہ تقاضا یہ تری دید کا ہے
ہر بُنِ مُو میں سمائے ہوئے اخگر دیکھوں
اِک لب و چشم تو کیا اِن کے سوا بھی ماجدؔ
جذبۂ شوق کے کیا کیا نہ کھلے در دیکھوں
ماجد صدیقی

یہ میرا گھر ہے! لیکن نہیں

نینا عادل ۔ غزل نمبر 15
سب میسّر ہے لیکن نہیں
یہ میرا گھر ہے! لیکن نہیں
روز لگتا ہے ایسا ہمیں
آج محشرہے ۔۔ لیکن نہیں
اُگ رہا ہے نظر میں سراب
ایک منظر ہے لیکن نہیں
یہ محبت بھری گفتگو!
کوئی منتر ہے لیکن نہیں
دوسروں سے مرا بے وفا
لاکھ بہتر ہے! لیکن نہیں
میری گردن پہ گو رات دن
نوکِ خنجر ہے لیکن نہیں
کج ادائی پہ ما ئل کوئی
میرے اندر ہے!! لیکن نہیں
نیند کے آخری موڑ تک
خواب رہبر ہے لیکن نہیں
باب در باب وہ داستاں
لاکھ ازبر ہے!! لیکن نہیں
توڑ دے وہم کی ہر فصیل
وقت پتھر ہے لیکن نہیں
پاؤں پھیلا رہی ہے طلب
تنگ چادر ہے لیکن نہیں
کب گزرتا ہے بچپن مرا
دل معمر ہے لیکن نہیں
نینا عادل

ہر چند آئنہ ہوں، منور نہیں ہوں میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 39
جس دن سے اُس نگاہ کا منظر نہیں ہوں میں
ہر چند آئنہ ہوں، منور نہیں ہوں میں
بکھرا ہوا ہوں شہرِ طلب میں اِدھر اُدھر
اب تیری جستجو کو میسر نہیں ہوں میں
یہ عمر اک سراب ہے صحرائے ذات کا
موجود اس سراب میں دم بھر نہیں ہوں میں
گردش میں ہے زمین بھی، ہفت آسمان بھی
تُو مجھ پہ رکھ نظر کہ مکرر نہیں ہوں میں
ہوں اُس کی بزمِ ناز میں مانندِ ذکرِ غیر
وہ بھی کبھی کبھار ہوں، اکثر نہیں ہوں میں
تُو جب طلب کرے گا مجھے بہرِ التفات
اُس دن خبر ملے گی کہ در پر نہیں ہوں میں
ہے بامِ اوج پر یہ مری تمکنت مگر
تیرے تصرفات سے باہر نہیں ہوں میں
میں ہوں ترے تصورِ تخلیق کا جواز
اپنے کسی خیال کا پیکر نہیں ہوں میں
کر دے سلوکِ جاں سے معطر مشامِ جاں
چُھو لے مجھے کہ خواب کا منظر نہیں ہوں میں
عرفانؔ خوش عقیدگی اپنی جگہ مگر
غالبؔ کی خاکِ پا کے برابر نہیں ہوں میں
عرفان ستار

جب سے ہم اُن کو میسر ہو گئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 96
دسترس سے اپنی،باہر ہو گئے
جب سے ہم اُن کو میسر ہو گئے
ہم جو کہلائے طُلوعِ ماہتاب
ڈوبتے سُورج کا منظر ہو گئے
شہرِ خوباں کا یہی دستورہے
مُڑ کے دیکھا اور پتھر ہو گئے
بے وطن کہلائے اپنے دیس میں
اپنے گھر میں رہ کے بے گھر ہو گئے
سُکھ تری میراث تھے،تجھ کو ملے
دُکھ ہمارے تھے،مقدر ہو گئے
وہ سر اب اُترا رگ وپے میں کہ ہم
خود فریبی میں سمندر ہو گئے
تیری خود غرضی سے خود کو سوچ کر
آج ہم تیرے برابر ہو گئے
پروین شاکر

خود کو خوشبو میں سمو کر دیکھوں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 52
حلقہ ءِ رنگ سے باہر نکلوں
خود کو خوشبو میں سمو کر دیکھوں
اُس کو بینائی کے اندر دیکھوں
عمر بھر دیکھوں کہ پل بھر دیکھوں
کس کی نیندوں کے چُرا لائی رنگ
موجہ ءِ زُلف کو چُھو کر دیکھوں
زرد برگد کے اکیلے پن میں
اپنی تنہائی کے منظر دیکھوں
موت کا ذائقہ لکھنے کے لیے
چند لمحوں کو ذرا مَر دیکھوں
پروین شاکر

کچھ نہیں ہے مگر اس گھر کا مقدّر یادیں

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 40
دستکیں دیتی ہیں شب کو درِ دل پر یادیں
کچھ نہیں ہے مگر اس گھر کا مقدّر یادیں
ڈھونڈتی ہیں تری مہکی ہوئی زلفوں کی بہار
چاندنی رات کے زینے سے اتر کر یادیں
عشرتِ رفتہ کو آواز دیا کرتی ہیں
ہر نئے لمحے کی دہلیز پہ جا کر یادیں
رنگ بھرتی ہیں خلاؤں میں ہیولے کیا کیا
پیش کرتی ہیں عجب خواب کا منظر یادیں
نہ کسی زلف کا عنبر، نہ گلوں کی خوشبو
کر گئی ہیں مری سانسوں کو معطّر یادیں
کم نہیں رات کے صحرا سے مرے دل کی فضا
اور آکاش کے تاروں سے فزوں تر یادیں
مشعلِ غم نہ بجھاؤ کہ شکیبؔ اس کے بغیر
راستہ گھر کا بھلا دیتی ہیں اکثر یادیں
شکیب جلالی

اک بَلا تو ٹلی مرے سر سے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 178
گذر آیا میں چل کے خود پر سے
اک بَلا تو ٹلی مرے سر سے
مستقل بولتا ہی رہتا ہوں
کتنا خاموش ہوں میں اندر سے
مجھ سے اب لوگ کم ہی ملتے ہیں
یوں بھی میں ہٹ گیا ہوں منظر سے
میں خمِ کوچہء جدائی تھا
سب گزرتے گئے برابر سے
حجرہء صد بلا ہے باطن ذات
خود کو تو کھینچیئو نہ باہر سے
کیا سحر ہو گئی دلِ بے خواب
اک دھواں اٹھ رہا ہے بستر سے
جون ایلیا

سودا بھی وہم ہے اور سر بھی کچھ نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 134
طفلانِ کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیں
سودا بھی وہم ہے اور سر بھی کچھ نہیں
میں اور خود سے تجھ کو چھپاؤں گا ، یعنی میں
لے دیکھ لے میاں میرے اندر بھی کچھ نہیں
بس اک غبارِ غم ہے ایک کوچہ گرد کا
دیوارِ بود کچھ نہیں اور گھر بھی کچھ نہیں
یہ شہرِ دارِ محتسب و مولوی ہی کیا
پیرِمغاں و رند و قلندر بھی کچھ نہیں
شیخِ حرم لقمہ کی پروا ہے کیوں نہیں
مسجد بھی اس کی کچھ نہیں ممبر بھی کچھ نہیں
مقدور اپنا کچھ بھی نہیں اس دِیار میں
شاید وہ جبر ہے کے مقدر بھی کچھ نہیں
جانی میں تیرے ناف پیالے پہ ہوں فدا
یہ اور بات ہے تیرا پیکر بھی کچھ نہیں
یہ شب کا رقص و رنگ تو کیا سن میرے کوہان
صبح شتاب کوش کا دفتر بھی کچھ نہیں
بس اک غبارِ طور گماں کا بھی تہ با تہ
یعنی نظر بھی کچھ نہیں ، منظر بھی کچھ نہیں
ہے اب تو اک حالِ سکونِ ہمیشیگی
پرواز کا تو ذکر ہی کیا ، پر بھی کچھ نہیں
پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
یعنی وفاِ عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
گزرے گی جون شہر میں رشتوں کے کس طرح
دل میں بھی کچھ نہیں ہے اور زباں پر بھی کچھ نہیں
جون ایلیا

یاد کے گھر نہیں رہے آباد

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 49
ہم رہے پر نہیں رہے آباد
یاد کے گھر نہیں رہے آباد
کتنی آنکھیں ہوئیں ہلاک نظر
کتنے منظر نہیں رہے آباد
ہم کہ اے دل سخن تھے سرتاپا
ہم لبوں پر نہیں رہے آباد
شہر دل میں عجب محلے تھے
ان میں اکثر نہیں رہے آباد
جانے کیا واقعہ ہوا کیوں لوگ
اپنے اندر نہیں رہے آباد
جون ایلیا

دکھائے حیرانیوں کا منظر، بہے سمندر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 29
حدوں میں رہ کر، حدوں سے باہر، بہے سمندر
دکھائے حیرانیوں کا منظر، بہے سمندر
زمیں کی آغوشِ پُرسکوں میں سکوں نہ پائے
ہوا کی راہوں میں ابر بن کر، بہے سمندر
یہ جان و جُنبش ثمر ہیں پانی کی ٹہنیوں کے
بدل کے شکلِ نوید گھر گھر، بہے سمندر
یہ سب کے سب ہیں پڑاؤ اسکی روانیوں کے
پہاڑ یا برف یا صنوبر، بہے سمندر
ہری کویتا کے شبد مٹی پہ لکھتا جائے
زبانِ اسرار کا سخن ور، بہے سمندر
یہ وجہ فعلِ وجود اصل وجود بھی ہے
یہی ہے دریا یہی شناور، بہے سمندر
اسی حوالے سے آنکھ پر منکشف ہوئے ہیں
زمین، افلاک اور خاور، بہے سمندر
رُکے تو ایسے بسیط و ساکت، ہو موت جیسے
بنامِ ہستی بہے برابر، بہے سمندر
فنا کرے تو بقا کی گنجائشیں بھی رکھے
ہو جیسے انسان کا مقدر، بہے سمندر
آفتاب اقبال شمیم

منسوب ہے مجھی سے مقدر زمین کا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 15
ہوں دیکھنے میں عام سا مظہر زمین کا
منسوب ہے مجھی سے مقدر زمین کا
زنجیر سی پڑی ہے دلو ں کے کواڑ پر
یہ سرحدیں ہٹا کر کھلے در زمین کا
بدلے لہو کے رنگ سے، وہ بھی ذرا سی دیر
رہتا ہے ورنہ ایک سا منظر زمین کا
مجھ کو مرے شعور کی برکت سے مل گیا
اس شہرَ کائنات میں یہ گھر زمین کا
سو جائیں فکرِ شعر میں بے فکریوں کے ساتھ
چادر ہو آسمان کی بستر زمین کا
جیتا ہوں خود کو بیچ کے بازارِ نثر میں
میں رہنے والا شاعری کی سرزمین کا
آفتاب اقبال شمیم

منظر

رہ گزر ، سائے شجر ، منزل و در، حلقۂ بام

بام پر سینۂ مہتاب کھُلا، آہستہ

جس طرح کھولے کوئی بندِ قبا، آہستہ

حلقۂ بام تلے ،سایوں کا ٹھہرا ہُوا نیل

نِیل کی جِھیل

جِھیل میں چُپکے سے تَیرا، کسی پتّے کا حباب

ایک پل تیرا، چلا، پُھوٹ گیا، آہستہ

بہت آہستہ، بہت ہلکا، خنک رنگِ شراب

میرے شیشے میں ڈھلا، آہستہ

شیشہ و جام، صراحی، ترے ہاتھوں کے گلاب

جس طرح دور کسی خواب کا نقش

آپ ہی آپ بنا اور مِٹا آہستہ

دل نے دُہرایا کوئی حرفِ وفا، آہستہ

تم نے کہا ’’آہستہ‘‘

چاند نے جھک کے کہا

’’اور ذرا آہستہ‘‘

(ماسکو)

فیض احمد فیض

منظر

رہ گزر ، سائے شجر ، منزل و در، حلقۂ بام

بام پر سینۂ مہتاب کھُلا، آہستہ

جس طرح کھولے کوئی بندِ قبا، آہستہ

حلقۂ بام تلے ،سایوں کا ٹھہرا ہُوا نیل

نِیل کی جِھیل

جِھیل میں چُپکے سے تَیرا، کسی پتّے کا حباب

ایک پل تیرا، چلا، پُھوٹ گیا، آہستہ

بہت آہستہ، بہت ہلکا، خنک رنگِ شراب

میرے شیشے میں ڈھلا، آہستہ

شیشہ و جام، صراحی، ترے ہاتھوں کے گلاب

جس طرح دور کسی خواب کا نقش

آپ ہی آپ بنا اور مِٹا آہستہ

دل نے دُہرایا کوئی حرفِ وفا، آہستہ

تم نے کہا ’’آہستہ‘‘

چاند نے جھک کے کہا

’’اور ذرا آہستہ‘‘

(ماسکو)

فیض احمد فیض

نگاہوں سے جو چپکے ہیں وہ منظر کیسے پھینکو گے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 286
ہر اِک تصوِیر کو کھڑکی سے باہر کیسے پھینکو گے
نگاہوں سے جو چپکے ہیں وہ منظر کیسے پھینکو گے
جھٹک کر پھینک دو گے چند اَن چاہے خیالوں کو
مگر کاندھوں پہ یہ رکھا ہوا سَر کیسے پھینکو گے
اگر اِتنا ڈروگے اَپنے سر پر چوٹ لگنے سے
تو پھر تم آم کے پیڑوں پہ پتھر کیسے پھینکو گے
خیالوں کو بیاں کے دائروں میں لاؤ گے کیوں کر
کمندیں بھاگتی پرچھائیوں پر کیسے پھینکو گے
کبھی سچائیوں کی دُھوپ میں بیٹھے نہیں اَب تک
تم اَپنے سر سے یہ خوابوں کی چادر کیسے پھینکو گے
تو پھر کیوں اُس کو آنکھوں میں سجا کر رکھ نہیں لیتے
تم اِس بیکار دُنیا کو اُٹھاکر کیسے پھینکو گے
عرفان صدیقی

حق کا ولی، نبیؐ کا برادر، علیؑ علیؑ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 220
شانِ خدا، ردانِ پیمبرؐ، علیؑ علیؑ
حق کا ولی، نبیؐ کا برادر، علیؑ علیؑ
زیب بدن شہانۂ تسخیرِ کائنات
سر پر لوائے حمد کا افسر علیؑ علیؑ
مٹی کی مملکت میں علم اسم بوترابؑ
افلاک پر ندائے مکرر، علیؑ علیؑ
سازِ مکانِ انفس و آفاق اُس کا نام
نازِ جہانِ اصغر و اکبر، علیؑ علیؑ
بے مایگاں کا مونس و غم خوار کون ہے
بے چارگاں کا کون ہے یاور، علیؑ علیؑ
مردانِ حرُ کا قافلہ سالار کون ہے
خاصانِ رب کا کون ہے رہبر، علیؑ علیؑ
مدّت سے ہے نواحِ غریباں میں خیمہ زن
وحشت کی فوج، خوف کا لشکر، علیؑ علیؑ
اِک بادباں شکستہ جہاز اور چہار سمت
کالی گھٹا، سیاہ سمندر، علیؑ علیؑ
اِک تشنہ کام ناقۂ جاں اور ہر طرف
باد سموم، دشت ستم گر، علیؑ علیؑ
اِک پافگار رہ گزری اور راہ میں
انبوہِ گرگ، مجمعِ اژدر، علیؑ علیؑ
اک سینہ چاک خاک بہ سر اور کوُ بہ کوُ
سوغاتِ سنگ، ہدیۂ خنجر، علیؑ علیؑ
میں بے نوا ترے درِ دولت پہ داد خواہ
اے میرے مرتضیٰؑ ، میرے حیدرؑ ، علیؑ علیؑ
میں بے اماں مجھے ترے دستِ کرم کی آس
تو دل نواز، تو ہی دلاور، علیؑ علیؑ
نانِ شعیر و جوہرِ شمشیر تیرے پاس
توُ ہی دلیر، توُ ہی تونگر، علیؑ علیؑ
توُ تاجدار تاب و تبِ روزگار کا
مجھ کو بھی اِک قبالۂ منظر، علیؑ علیؑ
توُ شہریار آب و نمِ شاخسار کا
میرے لیے بھی کوئی گلِ تر، علیؑ علیؑ
روشن ترے چراغ یمین و یسار میں
دونوں حوالے میرے منوّر، علیؑ علیؑ
یہ خانہ زادگاں ہیں تجھی سے شرف نصیب
ان کو بھی اِک خریئ گوہر، علیؑ علیؑ
اب میرے دشت میرے خرابے کی سمت موڑ
رہوار کی عنانِ معبر، علیؑ علیؑ
نصرت، کہ ہو چکے ہیں سزاوار ذوالفقار
میری زمیں کے مرحب و عنتر علیؑ علیؑ
پابستگاں پہ بام و درِ شش جہات کھول
اے بابِ علم، فاتحِ خیبر، علیؑ علیؑ
انعام کر مجھے بھی کہ صدیوں کی پیاس ہے
دریا، بنامِ ساقئ کوثر، علیؑ علیؑ
مولاؑ ، صراطِ روزِ جزا سے گزار ہی جائے
کہتا ہوا یہ تیرا ثناگر، علیؑ علیؑ
عرفان صدیقی

حاجت روا ہو خاتم حیدر کا واسطہ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 207
دریا عطا ہو ساقئ کوثر کا واسطہ
حاجت روا ہو خاتم حیدر کا واسطہ
اہل وفا سے شہر و بیاباں بسے رہیں
آل عبا کے اُجڑے ہوئے گھر کا واسطہ
کوئی کنیز اہل حرم بے ردا نہ ہو
اُن پاک بیبیوں کے کھلے سر کا واسطہ
روشن رہے گھروں میں چراغ غم حسین
جلتے ہوئے خیام کے منظر کا واسطہ
دنیا میں حرف حق کا علم سرنگوں نہ ہو
بازو بریدہ مرد دلاور کا واسطہ
مولا ہمارے سینوں سے کھینچیں سنان خوف
نوک سنان سینۂ اکبر کا واسطہ
عرفان صدیقی

تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 29
نقشِ ظفر تھا لوحِ ازل پر لکھا ہوا
تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا
صحرا کو شاد کام کیا اُس کی موج نے
تھا سرنوشت میں جو سمندر لکھا ہوا
تابندہ ہے دلوں میں لہوُ روشنائی سے
دُنیا کے نام نامۂ سرور لکھا ہوا
مجرائیوں کے قدموں سے لپٹی ہوئی زمیں
پیشانیوں پہ بختِ سکندر لکھا ہوا
رستہ بدل کے معرکۂ صبر و جور میں
کس نے بدل دیا ہے مقدّر لکھا ہوا
پانی پہ کس کے دستِ بریدہ کی مہر ہے
کس کے لیے ہے چشمۂ کوثر لکھا ہوا
ہے خاک پر یہ کون ستارہ بدن شہید
جیسے ورق پہ حرفِ منوّر لکھا ہوا
نیزے سے ہے بلند صدائے کلامِ حق
کیا اَوج پر ہے مصحفِ اطہر لکھا ہوا
روشن ہے ایک چہرہ بیاضِ خیال پر
لو دے رہا ہے شعرِ ثناگر لکھا ہوا
سرمہ ہے جب سے خاک درِ بوترابؑ کی
آنکھوں میں ہے قبالۂ منظر لکھا ہوا
فہرستِ چاکراں میں سلاطیں کے ساتھ ساتھ
میرا بھی نام ہے سرِ دفتر لکھا ہوا
اور اس کے آگے خانۂ احوال ذات میں
ہے مدح خوانِ آلِ پیمبرؐ لکھا ہوا
سب نام دستِ ظلم تری دسترس میں ہیں
لیکن جو نام ہے مرے اندر لکھا ہوا
میں اور سیلِ گریہ خداساز بات ہے
قسمت میں تھا خزینۂ گوہر لکھا ہوا
MERGED نقشِ ظفر تھا لوح ازل پر لکھا ہوا
تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا
صحرا کو شاد کام کیا اس کی موج نے
تھا سرنوشت میں جو سمندر لکھا ہوا
تابندہ ہے دلوں میں لہو روشنائی سے
دُنیا کے نام نامۂ سرور لکھا ہوا
مجرائیوں کے قدموں سے لپٹی ہوئی زمین
پیشانیوں پہ بختِ سکندر لکھا ہوا
رستہ بدل کے معرکۂ صبر و جور میں
کس نے بدل دیا ہے مقدر لکھا ہوا
ہے خاک پر یہ کون ستارہ بدن شہید
جیسے ورق پہ حرفِ منور لکھا ہوا
نیزے سے ہے بلند صدائے کلامِ حق
کیا اوج پر ہے مصحفِ اطہر لکھا ہوا
روشن ہے ایک چہرہ بیاضِ خیال پر
لو دے رہا ہے بیتِ ثناگر لکھا ہوا
سرمہ ہے جب سے خاک درِ بوتراب کی
آنکھوں میں ہے قبالۂ منظر لکھا ہوا
اور اس کے آگے خانۂ احوالِ ذات میں
ہے مدح خوانِ آلِ پیمبر لکھا ہوا
سب نام دستِ ظلم‘ تری دسترس میں ہیں
لیکن جو نام ہے مرے اندر لکھا ہوا
میں اور سیلِ گریہ‘ خدا ساز بات ہے
قسمت میں تھا خزینۂ گوہر لکھا ہوا
عرفان صدیقی

جیسے موٹر وے کی سروس پر کچھ دیر رکے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 583
گھونٹ بھرا چائے کا تیرے گھر کچھ دیر رکے
جیسے موٹر وے کی سروس پر کچھ دیر رکے
حیرانی سے لوگ بھی دیکھیں میری آنکھ کے ساتھ
کیمرہ لے کے آتا ہوں … منظر کچھ دیر رکے
اتنی رات گئے تک کس ماں کے پہلو میں تھا
کتے کا بچہ اور اب باہر کچھ دیر رکے
کیسی کیسی منزل ہجرت کرتی آتی ہے
دیس سے آنے والی راہ گزر کچھ دیر رکے
چاروں طرف بس خاموشی کی چاپ سنائی دے
یہ لاکھوں سال پرانی صرصر کچھ دیر رکے
وہ منصور کبھی تو اتنی دیر میسر ہو
اس کی جانب اٹھے اور نظر کچھ دیر رکے
منصور آفاق

دکھائی دے رہے ہیں پھر نئے منظر محبت کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 576
کسی گل پوش بنگلے میں کھلے ہیں در محبت کے
دکھائی دے رہے ہیں پھر نئے منظر محبت کے
انگیٹھی پر سجا رکھا ہے جن کو اُس گلی کے ہیں
کئے ہیں جمع برسوں میں یہی پتھر محبت کے
سدا رختِ سفر کی ہے گراں باری پہاڑوں پر
گلے میں طوق غم کے پاؤں میں چکر محبت کے
ابھی کچھ دیر دیکھوں گا ابھی کچھ دیر سوچوں گا
مسائل ہیں کئی مجھ کو ، کئی ہیں ڈر محبت کے
مجھے منصور پہلا تجربہ ہے تبصرہ کیا ہو
کئی حیرت بھرے موسم ملے اندر محبت کے
منصور آفاق

پتھرا گئے ہیں فلم میں منظر پڑے پڑے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 569
اک سین دیکھتے ہیں زمیں پر پڑے پڑے
پتھرا گئے ہیں فلم میں منظر پڑے پڑے
کیسا ہے کائنات کی تہذیبِ کُن کا آرٹ
شکلیں بدلتے رہتے ہیں پتھر پڑے پڑے
اے زلفِ سایہ دار تری دوپہر کی خیر
جلتا رہا ہوں چھاؤں میں دن بھر پڑے پڑے
ویراں کدے میں جھانکتے کیا ہو نگاہ کے
صحرا سا ہو گیا ہے سمندر پڑے پڑے
سوچا تھا منتظر ہے مرا کون شہر میں
دیکھا تو شام ہو گئی گھر پر، پڑے پڑے
شکنوں کے انتظار میں اے کھڑکیوں کی یار
بوسیدہ ہو گیا مرا بستر پڑے پڑے
منصور کوئی ذات کا تابوت کھول دے
میں مر رہا ہوں اپنے ہی اندر پڑے پڑے
منصور آفاق

میں جا رہا ہوں شہر سے باہر کسی جگہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 429
مل جاؤ تھوڑی دیر تو آ کر کسی جگہ
میں جا رہا ہوں شہر سے باہر کسی جگہ
میں روزنامچہ ہوں تری صبح و شام کا
مجھ کو چھپا دے شیلف کے اندر کسی جگہ
جادو گری حواس کی پھیلی ہوئی ہے بس
ہوتا نہیں ہے کوئی بھی منظر کسی جگہ
کچھ دن گزارتا ہوں پرندوں کے آس پاس
جنگل میں چھت بناتا ہوں جا کر کسی جگہ
منصور اس گلی میں تو آتی نہیں ہے دھوپ
گھر ڈھونڈ کوئی مین سڑک پر کسی جگہ
منصور آفاق

جہاں رہنا نہیں ہوتا وہاں پر گھر بناتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 384
یونہی ہم بستیوں کو خوبصورت تر بناتے ہیں
جہاں رہنا نہیں ہوتا وہاں پر گھر بناتے ہیں
بنا کر فرش سے بستر تلک ٹوٹی ہوئی چوڑی
گذشتہ رات کا تصویر میں منظر بناتے ہیں
لکھا ہے اس نے لکھ بھیجو شبِ ہجراں کی کیفیت
چلو ٹھہرے ہوئے دریا کو کاغذ پر بناتے ہیں
سمندر کے بدن جیسا ہے عورت کا تعلق بھی
لہو کی آبدوزوں کے سفر گوہر بناتے ہیں
مکمل تجربہ کرتے ہیں ہم اپنی تباہی کا
کسی آوارہ دوشیزہ کو اب دلبر بناتے ہیں
شرابوں نے دیا سچ بولنے کا حوصلہ منصور
غلط موسم مجھے کردار میں بہتر بناتے ہیں
منصور آفاق

آنکھیں کسی جلتے ہوئے منظر کی طرح ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 365
پلکیں کسی برہن کے کھلے سر کی طرح ہیں
آنکھیں کسی جلتے ہوئے منظر کی طرح ہیں
گرتے ہیں ہمی میں کئی بپھرے ہوئے دریا
ہم وقت ہیں ، لمحوں کے سمندر کی طرح ہیں
بس ٹوٹتے پتوں کی صدائیں ہیں ہوا میں
موسم بھی مرادوں کے مقدر کی طرح ہیں
رکھتے ہیں اک اک چونچ میں کنکر کئی دکھ کے
اب حرف ابابیلوں کے لشکر کی طرح ہیں
بکتے ہوئے سو بار ہمیں سوچنا ہو گا
اب ہم بھی کسی آخری زیور کی طرح ہیں
یہ خواب جنہیں اوڑھ کے سونا تھا نگر کو
فٹ پاتھ پہ بچھتے ہوئے بستر کی طرح ہیں
ناراض نہ ہو اپنے بہک جانے پہ جاناں
ہم لوگ بھی انسان ہیں ، اکثر کی طرح ہیں
اب اپنا بھروسہ نہیں ، ہم ساحلِ جاں پر
طوفان میں ٹوٹے ہوئے لنگر کی طرح ہیں
تم صرفِ نظر کیسے، کہاں ہم سے کرو گے
وہ لوگ ہیں ہم جو تمہیں ازبر کی طرح ہیں
منصور ہمیں بھولنا ممکن ہی نہیں ہے
ہم زخم میں اترے ہوئے خنجر کی طرح ہیں
منصور آفاق

ہم لوگ سدھارتھ کے کھلے در کی طرح ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 363
لٹنے کو خزانوں بھرے مندر کی طرح ہیں
ہم لوگ سدھارتھ کے کھلے در کی طرح ہیں
ہم حرفِ زمیں ، چیختی صدیوں کی امانت
گم گشتہ ثقافت کے سخنور کی طرح ہیں
ہم پھول کنول کے ہیں ہمیں نقش کھنڈر کے
آثارِ قدیمہ کے پیمبر کی طرح ہیں
فرعون کے اہرام بھی موسیٰ کا عصا بھی
ہم نیل کی تہذیب کے منظر کی طرح ہیں
آدم کے ہمی نقشِ کفِ پا ہیں فلک پر
کعبہ میں ہمی عرش کے پتھر کی طرح ہیں
ہم گنبد و مینار ہوئے تاج محل کے
ہم قرطبہ کے سرخ سے مرمر کی طرح ہیں
ہم عہدِ ہڑپہ کی جوانی پہ شب و روز
دیواروں میں روتی ہوئی صرصر کی طرح ہیں
منصور آفاق

اے حرفِ کُن تری ٹھوکر پہ میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 290
مسلسل چاک کے محور پہ میں ہوں
اے حرفِ کُن تری ٹھوکر پہ میں ہوں
تُو مجھ کو دیکھ یا صرفِ نظر کر
مثالِ گل ترے کالر پہ میں ہوں
سبھی کردار واپس جا چکے ہیں
اکیلا وقت کے تھیٹر پہ میں ہوں
صلائے عام ہے تنہائیوں کو
محبت کے لیے منظر پہ میں ہوں
پھر اس کے بعد لمبا راستہ ہے
ابھی تو شام تک دفتر پہ میں ہوں
اٹھو بیڈ سے چلو گاڑی نکالو
فقط دو سو کلو میٹر پہ میں ہوں
مجھے بھی رنگ کر لینا کسی دن
ابھی کچھ دن اسی نمبر پہ میں ہوں
بجا تو دی ہے بیل میں نے مگر اب
کہوں کیسے کہ تیرے در پہ میں ہوں
ازل سے تیز رو بچے کے پیچھے
کسی چابی بھری موٹر پہ میں ہوں
پڑا تمثیل سے باہر ہوں لیکن
کسی کردار کی ٹھوکر پہ میں ہوں
کہے مجھ سے شبِ شہر نگاراں
ابھی تک کس لیے بستر پہ میں ہوں
یہی ہر دور میں سوچا ہے میں نے
زمیں کے آخری پتھر پہ میں ہوں
ہلا منصور مت اپنی جگہ سے
پہاڑ ایسا خود اپنے سر پہ میں ہوں
منصور آفاق

چار سو فوراً سراسر اور رنگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 261
ہم بدن ہوتے ہی بستر اور رنگ
چار سو فوراً سراسر اور رنگ
بھر گیا ہوں میں ترے انوار سے
بھیج دے بس اک دیابھر اور رنگ
اترا ہوں قوسِ قزح سے میں ابھی
ہیں مگر تیرے لبوں پراور رنگ
روشنی تھوڑی سی بہتر جب ہوئی
ہو گئے یکدم اجاگر اور رنگ
کینوس منصور صبحوں کا کہے
اک تناسب میں ہیں منظر اور رنگ
منصور آفاق

زندگی مجھ سے ملی پچھلے دسمبر کی طرح

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 150
برف کی شال میں لپٹی ہوئی صرصر کی طرح
زندگی مجھ سے ملی پچھلے دسمبر کی طرح
کس طرح دیکھنا ممکن تھا کسی اور طرف
میں نے دیکھا تھا اُسے آخری منظر کی طرح
ہاتھ رکھ ، لمس بھری تیز نظر کے آگے
چیرتی جاتی ہے سینہ مرا خنجر کی طرح
بارشیں اس کا لب و لہجہ پہن لیتی تھیں
شور کرتی تھی وہ برسات میں جھانجر کی طرح
کچی مٹی کی مہک اوڑھ کے اِتراتی تھی
میں پہنتا تھا اسے گرم سمندر کی طرح
پلو گرتا ہوا ساڑھی کا اٹھا کر منصور
چلتی ہے چھلکی ہوئی دودھ کی گاگر کی طرح
منصور آفاق

بچے نے اپنے خواب کا منظر بنا لیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 116
موجوں کے آس پاس کوئی گھر بنا لیا
بچے نے اپنے خواب کا منظر بنا لیا
اپنی سیاہ بختی کا اتنا رکھا لحاظ
گوہر ملا تو اس کو بھی کنکر بنا لیا
بدلی رُتوں کو دیکھ کے اک سرخ سا نشاں
ہر فاختہ نے اپنے پروں پر بنا لیا
شفاف پانیوں کے اجالوں میں تیرا روپ
دیکھا تو میں نے آنکھ کو پتھر بنا لیا
ہر شام بامِ دل پہ فروزاں کیے چراغ
اپنا مزار اپنے ہی اندر بنا لیا
پیچھے جو چل دیا مرے سائے کی شکل میں
میں نے اُس ایک فرد کو لشکر بنا لیا
شاید ہر اک جبیں کا مقدر ہے بندگی
مسجد اگر گرائی تو مندر بنا لیا
کھینچی پلک پلک کے برش سے سیہ لکیر
اک دوپہر میں رات کا منظر بنا لیا
پھر عرصۂ دراز گزارا اسی کے بیچ
اک واہموں کا جال سا اکثر بنا لیا
بس ایک بازگشت سنی ہے تمام عمر
اپنا دماغ گنبدِ بے در بنا لیا
باہر نکل رہے ہیں ستم کی سرنگ سے
لوگوں نے اپنا راستہ مل کر بنا لیا
گم کربِ ذات میں کیا یوں کربِ کائنات
آنکھوں کے کینوس پہ سمندر بنا لیا
منصور جس کی خاک میں افلاک دفن ہیں
دل نے اسی دیار کو دلبر بنا لیا
منصور آفاق

گردشِ دوراں پہ ساغر رکھ دیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 111
ہاتھ سے ہنگامِ محشر رکھ دیا
گردشِ دوراں پہ ساغر رکھ دیا
اک نظر دیکھا کسی نے کیا مجھے
بوجھ کہساروں کا دل پر رکھ دیا
پانیوں میں ڈوبتا جاتا ہوں میں
آنکھ میں کس نے سمندر رکھ دیا
اور پھر تازہ ہوا کے واسطے
ذہن کی دیوار میں در رکھ دیا
ٹھوکروں کی دلربائی دیکھ کر
پاؤں میں اس کے مقدر رکھ دیا
دیکھ کر افسوس تارے کی چمک
اس نے گوہر کو اٹھا کر رکھ دیا
ایک ہی آواز پہنی کان میں
ایک ہی مژگاں میں منظر رکھ دیا
نیند آور گولیاں کچھ پھانک کر
خواب کو بستر سے باہر رکھ دیا
دیدئہ تر میں سمندر دیکھ کر
اس نے صحرا میرے اندر رکھ دیا
اور پھر جاہ و حشم رکھتے ہوئے
میں نے گروی ایک دن گھر رکھ دیا
میری مٹی کا دیا تھا سو اسے
میں نے سورج کے برابر رکھ دیا
خانہء دل کو اٹھا کر وقت نے
بے سرو ساماں ، سڑک پر رکھ دیا
جو پہن کرآتی ہے زخموں کے پھول
نام اس رُت کا بھی چیتر رکھ دیا
کچھ کہا منصور اس نے اور پھر
میز پر لا کر دسمبر رکھ دیا
منصور آفاق

تیرے بن باسیوں کا یہ گھر تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 81
ہجر تھل ریت کا سمندر تھا
تیرے بن باسیوں کا یہ گھر تھا
آدھے حصے میں رنگ تھے موجود
آدھا خالی گلی کا منظر تھا
چھت بھی بیٹھی ہوئی تھی کمرے کی
اور دل کا گرا ہوا در تھا
اک سلگتی سڑک پہ بچے کے
پاؤں میں ایک ہی سلیپر تھا
مملکت کی خراب حالت تھی
میں اکیلا وہاں قلندر تھا
وہ تھی یونان کی کوئی دیوی
اور قسمت کا میں سکندر تھا
ایک بس وہ خدا نہ تھا منصور
ورنہ ہر چیز پہ وہ قادر تھا
منصور آفاق

یہ الگ پھر زخم پچھلے زخم کے اندر لگا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 78
یہ الگ اس مرتبہ بھی پشت پر خنجر لگا
یہ الگ پھر زخم پچھلے زخم کے اندر لگا
مجھ سے لپٹی جا رہی ہے اک حسیں آکاس بیل
یاد کے برسوں پرانے پیڑ کو کینسر لگا
موت کی ٹھنڈی گلی سے بھاگ کر آیا ہوں میں
کھڑکیوں کو بند کر، جلدی سے اور ہیٹر لگا
بند کر دے روشنی کا آخری امکان بھی
روزنِ دیوار کو مٹی سے بھر، پتھر لگا
کیا بلندی بخش دی بس ایک لمحے نے اسے
جیسے ہی سجدے سے اٹھا، آسماں سے سر لگا
پھیر مت بالوں میں میرے، اب سلگتی انگلیاں
مت کفِ افسوس میرے، مردہ چہرے پر لگا
گر محبت ہے تماشا تو تماشا ہی سہی
چل مکانِ یار کے فٹ پاتھ پر بستر لگا
بہہ رہی ہے جوئے غم، سایہ فگن ہے شاخِ درد
باغِ ہجراں کو نہ اتناآبِ چشمِ تر لگا
اتنے ویراں خواب میں تتلی کہاں سے آئے گی
پھول کی تصویر کے پیچھے کوئی منظر لگا
اک قیامت خیز بوسہ اس نے بخشا ہے تجھے
آج دن ہے، لاٹری کے آج چل نمبر لگا
منصور آفاق

وہ علم و آگہی کا جو منظر تھا کیا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 65
سید نصیر شاہ کا جو گھر تھا کیا ہوا
وہ علم و آگہی کا جو منظر تھا کیا ہوا
کہتا تھا جو خدا سے کہ اک جیساکر ہمیں
مشہور شہر میں وہ جو کافر تھا کیا ہوا
وہ جس بلند طرے سے ڈرتے تھے کجکلاہ
وہ جو غریب چلتا اکٹر کر تھا کیا ہوا
ہوتے مشاعرے تھے جو اکثر وہ کیا ہوئے
وہ شاعروں کا ایک جو لشکر تھا کیا ہوا
وہ شام کیا ہوئی جو سٹیشن کے پاس تھی
وہ شخص جو مجھے کبھی ازبر تھا کیا ہوا
وہ ہار مونیم جو بجاتا تھا ساری رات
وہ ایک گانے والا یہاں پر تھا کیا ہوا
برگد ہزاروں سال سے سایہ فگن جہاں
وہ چشمہ جو پہاڑ کے اوپر تھا کیا ہوا
جلتے جہاں تھے دیپ وہ میلے کہاں گئے
آتا یہاں جو پھولوں کا چیتر تھا کیا ہوا
مکھن جو کھایا کرتے تھے وہ مرغ کیا ہوئے
ہر صبح وہ جو بولتا تیتر تھا کیا ہوا
عاجز کے وہ لہکتے ہوئے گیت کیا ہوئے
تنویر کچھ بتا وہ جو مظہر تھا کیا ہوا
چشمہ بیراج کیا ہوا منصور کچھ کہو
جو دیکھنے میں ایک سمندر تھا کیا ہوا
منصور آفاق

اک پہلوان رِنگ سے باہر پڑا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 63
وہ ہے شکست مان کے پتھر پڑا ہوا
اک پہلوان رِنگ سے باہر پڑا ہوا
آگاہ بھلا ہو کیسے کہ کیا ہے فلک کے پار
وہ جو ہے کائنات کے اندرپڑا ہوا
ڈالی تھی ایک میں نے اچٹتی ہوئی نظر
میرے قریب تھا کوئی منظر پڑا ہوا
آرام کر رہا تھا ابھی تو یہ ریت پر
دریا کہاں گیا ہے برابر پڑا ہوا
یہ بادِ تند و تیز کی آغوشِ گرم میں
خراٹے لے رہا ہے سمندر پڑا ہوا
وہ بھی گلی میں پھرتی ہے بے چین دیر سے
میں بھی ہوں گھر میں بلب جلا کر پڑا ہوا
منصور آسمان سے لے کر پہاڑ تک
کیا کیا اٹھانا پڑتا ہے سر پر پڑا ہوا
منصور آفاق

ہوتا تھا آسماں کا کوئی در بنا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 61
اِس جا نمازِ خاک کے اوپر بنا ہوا
ہوتا تھا آسماں کا کوئی در بنا ہوا
دیوار بڑھ رہی ہے مسلسل مری طرف
اور ہے وبالِ دوش مرا سر بنا ہوا
آگے نہ جا کہ دل کا بھروسہ نہیں کوئی
اس وقت بھی ہے غم کا سمندر بنا ہوا
اک زخم نوچتا ہوا بگلا کنارِ آب
تمثیل میں تھا میرا مقدر بنا ہوا
ممکن ہے کوئی جنتِ فرضی کہیں پہ ہو
دیکھا نہیں ہے شہر ہوا پر بنا ہوا
گربہ صفت گلی میں کسی گھونسلے کے بیچ
میں رہ رہا ہوں کوئی کبوتر بنا ہوا
ہر لمحہ ہو رہا ہے کوئی اجنبی نزول
لگتا ہے آسماں کا ہوں دلبر بنا ہوا
پردوں پہ جھولتے ہوئے سُر ہیں گٹار کے
کمرے میں ہے میڈونا کا بستر بنا ہوا
یادوں کے سبز لان میں پھولوں کے اس طرف
اب بھی ہے آبشار کا منظر بنا ہوا
ٹینس کا کھیل اور وہ بھیگی ہوئی شعاع
تھا انگ انگ کورٹ کا محشر بنا ہوا
منصور آفاق

ایک جیسا کر دے مولا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 40
روشنی سے بھر دے مولا
ایک جیسا کر دے مولا
بے سہاروں ، بے کسوں کو
زندگی بہتر دے مولا
اچھی روٹی ،اچھے کپڑے
سب کو اچھے گھر دے مولا
ہرطرف دوزخ ہیں شر کے
خیر کے منظر دے مولا
بچے جتنے بھی ہیں ان کو
علم کا زیور دے مولا
ارتکازِ زر کے آگے
ہمتِ بوزر دے مولا
اِس معاشرتی گھٹن کو
نغمہِ صرصر دے مولا
نام پر اپنے نبیؐ کے
کٹنے والا سر دے مولا
شکل اچھی دی ہے لیکن
خوبرو اندر دے مولا
بس مدنیے کی گلی میں
نیکیوں کا در دے مولا
میرے پاکستان کو بھی
کوئی چارہ گر دے مولا
جان لوں منصور کو میں
چشمِ دیدہ ور دے مولا
منصور آفاق