ٹیگ کے محفوظات: مرے

آسماں آگیا ورے کچھ تو

دیوان چہارم غزل 1477
جی رکا رکنے سے پرے کچھ تو
آسماں آگیا ورے کچھ تو
جو نہ ہووے نماز کریے نیاز
آدمی چاہیے کرے کچھ تو
طالع و جذب و زاری و زر و زور
عشق میں چاہیے ارے کچھ تو
جینا کیا ہے جہان فانی کا
مرتے جاتے ہیں کچھ مرے کچھ تو
سہمے سہمے نظر پڑیں ہیں میر
اس کے اطوار سے ڈرے کچھ تو
میر تقی میر

بیٹھا ہوں پیشِ آئینہ ڈرے ہوئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 57
آنکھوں کو آنکھوں کے آگے دھرے ہوئے
بیٹھا ہوں پیشِ آئینہ ڈرے ہوئے
ایک ذرا معیار کے بدلے جانے سے
دیکھا، کیسے کھوٹے سکے کھرے ہوئے
جسم سے اٹھی باس پرانے جنگل کی
آہٹ آہٹ سارے رستے ہرے ہوئے
اے حیرانی! وُہ تو آج بھی زندہ ہے
اتنے سال ہوئے ہیں جس کو مرے ہوئے
آفتاب اقبال شمیم

زندگی پہ جہاں مرے ہم لوگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 263
آگئے ہیں نیاگرے ہم لوگ
زندگی پہ جہاں مرے ہم لوگ
چہچہاتی تھیں چار سو چڑیاں
ہوتے تھے جب ہرے بھرے ہم لوگ
اُس جگہ کچھ ہمارے جیسا ہے
جاتے رہتے ہیں آگرے ہم لوگ
رقصِ سرمد کا موسم آیا ہے
اب پہن لیں نا گھاگرے ہم لوگ
اے خداوندِ جادہ و منزل
چل پڑے تیرے آسرے ہم لوگ
سارا منظراسی کا ہے منصور
ہیں ازل سے بے منظرے ہم لوگ
منصور آفاق