ٹیگ کے محفوظات: محنت

کوٹے گئے ہیں سب اعضا یہ محبت تھی یا محنت تھی

دیوان پنجم غزل 1741
عشق کیا سو جان جلی ہے الفت تھی یا کلفت تھی
کوٹے گئے ہیں سب اعضا یہ محبت تھی یا محنت تھی
اب تو نڈھال پڑے رہتے ہیں ضعف ہی اکثر رہتا ہے
آئے گئے اس کے کوچے میں جب تک جی میں طاقت تھی
آب حیات وہی نہ جس پر خضر و سکندر مرتے رہے
خاک سے ہم نے بھرا وہ چشمہ یہ بھی ہماری ہمت تھی
آنسو ہوکر خون جگر کا بیتابانہ آیا تھا
شاید رات شکیبائی کی جلد بہت کچھ رخصت تھی
جب سے عشق کیا ہے میں نے سر پر میرے قیامت ہے
ساعت دل لگنے کی شاید نحس ترین ساعت تھی
میر تقی میر

تب کسی ناآشناے مہر سے الفت کرو

دیوان سوم غزل 1227
کھینچنا رنج و تعب کا دوستاں عادت کرو
تب کسی ناآشناے مہر سے الفت کرو
روٹھ کر منتا نہیں وہ شوخ یوں کیوں نہ کوئی
عذر چاہو دیر تک مدت تلک منت کرو
کب تک اے صورت گراں حیراں پھروں بے روے یار
نقش اس کا کھینچ رکھنے کی کوئی صورت کرو
انس اگر ان نوخطان شہر سے منظور ہے
اپنی پرچھائیں سے بھی جوں خامہ تم وحشت کرو
کچھ نہ پوچھو صحبت دیروزہ کی کم فرصتی
جوں ہی جا بیٹھے لگا کہنے انھیں رخصت کرو
عشق میں کیا دخل ہے نازک مزاجی کے تئیں
کوہکن کے طور سے جی توڑ کر محنت کرو
پہلے دیوانے ہوئے پھر میر آخر ہو گئے
ہم نہ کہتے تھے کہ صاحب عاشقی تم مت کرو
میر تقی میر

ہاتھ لگتے میلے ہوتے ہو لطافت ہائے رے

دیوان دوم غزل 973
بو کیے کمھلائے جاتے ہو نزاکت ہائے رے
ہاتھ لگتے میلے ہوتے ہو لطافت ہائے رے
یار بے پروا و مفتر اور میں بے اختیار
پیش کچھ جاتی نہیں منت سماجت ہائے رے
سختی کھینچی کوہکن نے قیس نے رنج و تعب
کیا گئی برباد ان یاروں کی محنت ہائے رے
شور اٹھتا ہے جو ہوتے جلوہ گر ہو ناز سے
کھینچنا قد کا بلا آفت قیامت ہائے رے
خانقہ والے ہی کچھ تنہا نہیں الفت میں خوار
کیسے کیسوں کی گئی ہے مفت عزت ہائے رے
عشق میں افسوس سا افسوس اپنا کرچکے
زیر لب کہتے رہے ہم ایک مدت ہائے رے
ریجھنے ہی کے ہے قابل یار کی ترکیب میر
واہ وا رے چشم و ابرو قد و قامت ہائے رے
میر تقی میر

سو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد

دیوان دوم غزل 801
بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد
سو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد
جدائی کے حالات میں کیا کہوں
قیامت تھی ایک ایک ساعت کے بعد
موا کوہکن بے ستوں کھود کر
یہ راحت ہوئی ایسی محنت کے بعد
لگا آگ پانی کو دوڑے ہے تو
یہ گرمی تری اس شرارت کے بعد
کہے کو ہمارے کب ان نے سنا
کوئی بات مانی سو منت کے بعد
سخن کی نہ تکلیف ہم سے کرو
لہو ٹپکے ہے اب شکایت کے بعد
نظر میر نے کیسی حسرت سے کی
بہت روئے ہم اس کی رخصت کے بعد
میر تقی میر