ٹیگ کے محفوظات: قیامت

بَونے بانس لگا کر صاحبِ قامت ٹھہرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
چہرۂ سرو قداں پر داغِ ندامت ٹھہرے
بَونے بانس لگا کر صاحبِ قامت ٹھہرے
اُس کے لیے جو خود شامت ہے بستی بھر کی
جانے کونسی ساعت، ساعتِ شامت ٹھہرے
جس کے طلوع پہ خود سورج بھی شرمندہ ہے
اور وہ کون سا دن ہو گا جو قیامت ٹھہرے
اہلِ نشیمن کو آندھی سے طلب ہے بس اتنی
پیڑ اکھڑ جائے پر شاخ سلامت ٹھہرے
کون یزید کی بیعت سے منہ پھیر دکھائے
کون حسین ہو، دائم جس کی امامت ٹھہرے
خائف ہیں فرعون عصائے قلم سے تیرے
اور بھلا ماجد کیا تیری کرامت ٹھہرے
ماجد صدیقی

مسلسل ایک حالت کے سوا کیا رہ گیا ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 83
یہاں تکرارِ ساعت کے سوا کیا رہ گیا ہے
مسلسل ایک حالت کے سوا کیا رہ گیا ہے
تمہیں فرصت ہو دنیا سے تو ہم سے آ کے ملنا
ہمارے پاس فرصت کے سوا کیا رہ گیا ہے
ہمارا عشق بھی اب ماند ہے جیسے کہ تم ہو
تو یہ سودا رعایت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بہت نادم کیا تھا ہم نے اک شیریں سخن کو
سو اب خود پر ندامت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بہت ممکن ہے کچھ دن میں اسے ہم ترک کردیں
تمہارا قرب عادت کے سوا کیا رہ گیا ہے
کہاں لے جائیں اے دل ہم تری وسعت پسندی
کہ اب دنیا میں وسعت کے سوا کیا رہ گیا ہے
سلامت ہے کوئی خواہش نہ کوئی یاد زندہ
بتا اے شام وحشت کے سوا کیا رہ گیا ہے
کسی آہٹ میں آہٹ کے سوا کچھ بھی نہیں اب
کسی صورت میں صورت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بہت لمبا سفر طے ہو چکا ہے ذہن و دل کا
تمہارا غم علامت کے سوا کیا رہ گیا ہے
اذیّت تھی مگر لذّت بھی کچھ اس سے سوا تھی
اذیّت ہے اذیّت کے سوا کیا رہ گیا ہے
ہمارے درمیاں ساری ہی باتیں ہو چکی ہیں
سو اب اُن کی وضاحت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بجا کہتے ہو تم ہونی تو ہو کر ہی رہے گی
تو ہونے کو قیامت کے سوا کیا رہ گیا ہے
شمار و بے شماری کے تردّد سے گزر کر
مآلِ عشق وحدت کے سوا کیا رہ گیا ہے
عرفان ستار

درد ہے، درد بھی قیامت کا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 5
پوچھتے کیا ہو دل کی حالت کا؟
درد ہے، درد بھی قیامت کا
یار، نشتر تو سب کے ہاتھ میں ہے
کوئی ماہر بھی ہے جراحت کا؟
اک نظر کیا اٹھی، کہ اس دل پر
آج تک بوجھ ہے مروّت کا
دل نے کیا سوچ کر کیا آخر
فیصلہ عقل کی حمایت کا
کوئی مجھ سے مکالمہ بھی کرے
میں بھی کردار ہوں حکایت کا
آپ سے نبھ نہیں رہی اِس کی؟
قتل کردیجیئے روایت کا
نہیں کُھلتا یہ رشتہِٗ باہم
گفتگو کا ہے یا وضاحت کا؟
تیری ہر بات مان لیتا ہوں
یہ بھی انداز ہے شکایت کا
دیر مت کیجیئے جناب، کہ وقت
اب زیادہ نہیں عیادت کا
بے سخن ساتھ کیا نباہتے ہم؟
شکریہ ہجر کی سہولت کا
کسرِ نفسی سے کام مت لیجے
بھائی یہ دور ہے رعونت کا
مسئلہ میری زندگی کا نہیں
مسئلہ ہے مری طبیعت کا
درد اشعار میں ڈھلا ہی نہیں
فائدہ کیا ہوا ریاضت کا؟
آپ مجھ کو معاف ہی رکھیئے
میں کھلاڑی نہیں سیاست کا
رات بھی دن کو سوچتے گزری
کیا بنا خواب کی رعایت کا؟
رشک جس پر سلیقہ مند کریں
دیکھ احوال میری وحشت کا
صبح سے شام تک دراز ہے اب
سلسلہ رنجِ بے نہایت کا
وہ نہیں قابلِ معافی، مگر
کیا کروں میں بھی اپنی عادت کا
اہلِ آسودگی کہاں جانیں
مرتبہ درد کی فضیلت کا
اُس کا دامن کہیں سے ہاتھ آئے
آنکھ پر بار ہے امانت کا
اک تماشا ہے دیکھنے والا
آئینے سے مری رقابت کا
دل میں ہر درد کی ہے گنجائش
میں بھی مالک ہوں کیسی دولت کا
ایک تو جبر اختیار کا ہے
اور اک جبر ہے مشیّت کا
پھیلتا جا رہا ہے ابرِ سیاہ
خود نمائی کی اِس نحوست کا
جز تری یاد کوئی کام نہیں
کام ویسے بھی تھا یہ فرصت کا
سانحہ زندگی کا سب سے شدید
واقعہ تھا بس ایک ساعت کا
ایک دھوکہ ہے زندگی عرفان
مت گماں اِس پہ کر حقیقت کا
عرفان ستار

سرِ بزم پہلو میں بیٹھا ہے دشمن قیامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 138
کسی نو گرفتارِ الفت کے دل پر یہ آفت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
سرِ بزم پہلو میں بیٹھا ہے دشمن قیامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
عدو کی شکایت سنے جا رہے ہو نہ برہم طبیعت نہ بل ابروؤں پر
نظر نیچی نیچی لبوں پر تبسم محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
مری قبر ٹھوکر سے ٹھکرا رہا ہے پسِ مرگ ہوتی ہے برباد مٹی
ترے دل میں میری طرف سے سِتمگر کدورت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
بتِ خود نما اور کیا چاہتا ہے تجھے اب بھی شک ہے خدا ماننے میں
ترے سنگِ در پر جبیں میں نے رکھ دی عبادت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
رقیبوں نے کی اور تمھاری شکایت خدا سے ڈرو جھوٹ کیوں بولتے ہو
رقیبوں کے گھر میرا آنا نہ جانا یہ تہمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
کبھی ہے جگر میں خلش، ہلکی ہلکی، کبھی درد پہلو میں ہے میٹھا میٹھا
میں پہروں شبِ غم یہی سوچتا ہوں محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
کوئی دم کا مہماں ہے بیمارِ فرقت تم ایسے میں بیکار بیٹھے ہوئے ہو
پھر اس پر یہ کہتے ہو فرصت نہیں ہے یہ فرصت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
ترے در پہ بے گور کب سے پڑا ہوں نہ فکرِ کفن ہے نہ سامانِ ماتم
اٹھاتا نہیں کوئی بھی میری میت یہ غربت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
میں ان سب میں اک امتیازی نشان ہوں فلک پر نمایاں ہیں جتنے ستارے
قمر بزمِ انجم کی مجھ کو میسر صدارت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
قمر جلالوی

حال تھا جو حضرتِ آدم کا جنت کے بغیر

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 46
اب وہ عالم ہے مرا اس بزمِ عشرت کے بغیر
حال تھا جو حضرتِ آدم کا جنت کے بغیر
اصل کی امید ہے بے کار فرقت کے بغیر
آدم راحت نہیں پاتا مصیبت کے بغیر
مجھ کو شکوہ ہے ستم کا تم کو انکارِ ستم
فیصلہ یہ ہو نہیں سکتا قیامت کے بغیر
دے دعا مجھ کو کہ تیرا نام دنیا بھر میں ہے
حسن کی شہرت نہیں ہوتی محبت کے بغیر
حضرتِ ناصح بجا ارشاد، گستاخی معاف
آپ سمجھاتے تو ہیں لیکن محبت کے بغیر
یہ سمجھ کر دل میں رکھا ہے تمھارے تیر کو
کوئی شے قائم نہیں رہتی حفاظت کے بغیر
راستے میں وہ اگر مل بھی گئے تقدیر سے
ل دیے منہ پھیر کر صاحب سلامت کے بغیر
سن رہا ہوں طعنہ اخیار لیکن کیا کروں
میں تری محفل میں آیا ہوں اجازت کے بغیر
دل ہی پر موقوف کیا او نا شناسِ دردِ دل!
کوئی بھی تڑپا نہیں کرتا اذیت کے بغیر
قمر جلالوی

ضبط آنکھوں کی مرّوت ہو گئی

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 42
حسن کی تم پر حکومت ہو گئی
ضبط آنکھوں کی مرّوت ہو گئی
یہ نہ پوچھو کیوں یہ حالت ہو گئی
خود بدولت کی بدولت ہو گئی
لے گئے آنکھوں ہی آنکھوں میں وہ دل
ہوشیاری اپنی غفلت ہو گئی
وہ جو تجھ سے دوستی کرنے لگا
مجھ کو دشمن سےمحبت ہو گئی
اس قدر بھی سادگی اچھی نہیں
عاشقوں کی پاک نیت ہو گئی
مان کر دل کا کہا پچھتائے ہم
عمر بھر کو اب نصیحت ہو گئی
کیا عجب ہے گر ترا ثانی نہیں
اچھی صورت ایک صورت ہو گئی
غیر بھی روتے ہیں تیرے عشق میں
کیا مری قسمت کی قسمت ہو گئی
اس کی مژگاں پر ہوا قربان دل
تیر تکّوں پر قناعت ہو گئی
جب ریاست اپنی آبائی مٹی
نوکری کی ہم کو حاجت ہو گئی
شاعروں کی بھی طبیعت ہے ولی
جو نئی سوجھی کرامت ہو گئی
تیری زلفوں کا اثر تجھ پر نہیں
دیکھتے ہی مجھ کو وحشت ہو گئی
کھیل سمجھے تھے لڑکپن کو تیرے
بیٹھتے اٹھتے قیامت ہو گئی
مفت پیتے ہیں وہ ہر قسم کی
جن کو مے خانے کی خدمت ہو گئی
میرے دل سے غم ترا کیوں‌دور ہو
پاس رہنے کی محبت ہو گئی
کہتے ہیں کب تک کوئی گھبرا نہ جائے
دل میں رہتے رہتے مدت ہو گئی
نقشہ بگڑا رہتے رہتے غصّہ ناک
کٹ کھنی قاتل کی صورت ہو گئی
داغ کا دم ہے غنیمت بزم میں
دو گھڑی کو گرم محبت ہو گئی
داغ دہلوی

میں حد سے گزر جاؤں محبت نے کہا تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 28
ٹھہروں نہ گلی میں تری وحشت نے کہا تھا
میں حد سے گزر جاؤں محبت نے کہا تھا
دَر تک تیرے لائی تھی نسیمِ نفس انگیز
دَم بھر نہ رُکوں یہ تیری نکہت نے کہا تھا
احسان کسی سرو کے سائے کا نہ لوں میں
مجھ سے یہ ترے فتنہء قامت نے کہا تھا
مارا ہوں مشیت کا نہیں کچھ مری مرضی
یہ بھی ترے قامت کی قیامت نے کہا تھا
دل شہر سے کر جاؤں سفر میں سوئے دنیا
مجھ سے تو یہی میری سہولت نے کہا تھا
جون ایلیا

کشاد و بستِ مژہ ، سیلئِ ندامت ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 267
زبسکہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہے
کشاد و بستِ مژہ ، سیلئِ ندامت ہے
نہ جانوں ، کیونکہ مٹے داغِ طعنِ بد عہدی
تجھے کہ آئینہ بھی ورطۂ ملامت ہے
بہ پیچ و تابِ ہوس ، سِلکِ عافیت مت توڑ
نگاہِ عجز سرِ رشتۂ سلامت ہے
وفا مقابل و دعوائے عشق بے بُنیاد
جنونِ ساختہ و فصلِ گُل ، قیامت ہے!
مرزا اسد اللہ خان غالب

کیجے ہمارے ساتھ، عداوت ہی کیوں نہ ہو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 148
وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو
کیجے ہمارے ساتھ، عداوت ہی کیوں نہ ہو
چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کا
ہے دل پہ بار، نقشِ محبّت ہی کیوں نہ ہو
ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہ
ہر چند بر سبیلِ شکایت ہی کیوں نہ ہو
پیدا ہوئی ہے، کہتے ہیں، ہر درد کی دوا
یوں ہو تو چارۂ غمِ الفت ہی کیوں نہ ہو
ڈالا نہ بیکسی نے کسی سے معاملہ
اپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو
ہے آدمی بجائے خود اک محشرِ خیال
ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
ہنگامۂ زبونئِ ہمّت ہے، انفعال
حاصل نہ کیجے دہر سے، عبرت ہی کیوں نہ ہو
وارستگی بہانۂ بیگانگی نہیں
اپنے سے کر، نہ غیر سے، وحشت ہی کیوں نہ ہو
مٹتا ہے فوتِ فرصتِ ہستی کا غم کوئی ؟
عمرِ عزیز صَرفِ عبادت ہی کیوں نہ ہو
اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔ
اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو
مرزا اسد اللہ خان غالب

مسلماں بھی خدا لگتی نہیں کہتے قیامت ہے

دیوان سوم غزل 1304
بتوں کے جرم الفت پر ہمیں زجرو ملامت ہے
مسلماں بھی خدا لگتی نہیں کہتے قیامت ہے
کھڑا ہوتا نہیں وہ رہزن دل پاس عاشق کے
موافق رسم کے اک دور کی صاحب سلامت ہے
جھکی ہے شاخ پرگل ناز سے کیا صحن گلشن میں
نہال قد کی اس کے مدعی تھی سو ندامت ہے
نکلتا ہے سحر خورشید ہر روز اس کے گھر پر سے
مقابل ہو گیا اس سے تو اس سادہ کی شامت ہے
پیے دارو پڑے پھرتے تھے کل تک میر کوچوں میں
انھیں کو مسجد جامع کی دیکھی آج امامت ہے
میر تقی میر

دھوم رہی ہے سر پر میرے رنج و عتاب و کلفت کی

دیوان سوم غزل 1255
کیسے نحس دنوں میں یارب میں نے اس سے محبت کی
دھوم رہی ہے سر پر میرے رنج و عتاب و کلفت کی
میں تو سرو و شاخ گل کی قطع ہی کا دیوانہ تھا
یار نے قد قامت دکھلاکر سر پر میرے قیامت کی
قسمت میں جو کچھ کہ بدا ہو دیتے ہیں وہ ہی انساں کو
غم غصہ ہی ہم کو ملا ہے خوبی اپنی قسمت کی
خلوت یار ہے عالم عالم ایک نہیں ہے ہم کو بار
در پر جاکر پھر آتے ہیں خوب ہماری عزت کی
اک گردن سے سو حق باندھے کیا کیا کریے ہوں جو ادا
مدت اس پر ایک نفس جوں صبح ہماری فرصت کی
شیوہ اس کا قہر و غضب ہے ناز و خشم و ستم وے سب
کوئی نگاہ لطف اگر کی ان نے ہم سے مروت کی
بے پروائی درویشی کی تھوڑی تھوڑی تب آئی
جب کہ فقیری کے اوپر میں خرچ بڑی سی دولت کی
ناز و خشم کا رتبہ کیسا ہٹ کس اعلیٰ درجے میں
بات ہماری ایک نہ مانی برسوں ہم نے منت کی
دکھن پورب پچھم سے لوگ آکر مجھ کو دیکھیں ہیں
حیف کہ پروا تم کو نہیں ہے مطلق میری صحبت کی
دوستی یاری الفت باہم عہد میں اس کے رسم نہیں
یہ جانے ہیں مہر و وفا اک بات ہے گویا مدت کی
آب حسرت آنکھوں میں اس کی نومیدانہ پھرتا تھا
میر نے شاید خواہش دل کی آج کوئی پھر رخصت کی
میر تقی میر

ہاتھ لگتے میلے ہوتے ہو لطافت ہائے رے

دیوان دوم غزل 973
بو کیے کمھلائے جاتے ہو نزاکت ہائے رے
ہاتھ لگتے میلے ہوتے ہو لطافت ہائے رے
یار بے پروا و مفتر اور میں بے اختیار
پیش کچھ جاتی نہیں منت سماجت ہائے رے
سختی کھینچی کوہکن نے قیس نے رنج و تعب
کیا گئی برباد ان یاروں کی محنت ہائے رے
شور اٹھتا ہے جو ہوتے جلوہ گر ہو ناز سے
کھینچنا قد کا بلا آفت قیامت ہائے رے
خانقہ والے ہی کچھ تنہا نہیں الفت میں خوار
کیسے کیسوں کی گئی ہے مفت عزت ہائے رے
عشق میں افسوس سا افسوس اپنا کرچکے
زیر لب کہتے رہے ہم ایک مدت ہائے رے
ریجھنے ہی کے ہے قابل یار کی ترکیب میر
واہ وا رے چشم و ابرو قد و قامت ہائے رے
میر تقی میر

جیے ہیں خدا ہی کی قدرت سے ہم

دیوان دوم غزل 862
موئے جاتے تھے فرط الفت سے ہم
جیے ہیں خدا ہی کی قدرت سے ہم
ترش رو بہت ہے وہ زرگر پسر
پڑے ہیں کھٹائی میں مدت سے ہم
نہیں دیکھتے صبح اب آرسی
خفا رہتے ہیں اپنی صورت سے ہم
جو دیکھو وہ قامت تو معلوم ہو
کہ روکش ہوئے ہیں قیامت سے ہم
نہ ٹک لا سکا تاب جلوے کی دل
گلہ رکھتے ہیں صبر و طاقت سے ہم
نہ مانی کوئی ان نے پھر روٹھ کر
مناتے رہے رات منت سے ہم
خدا سے بھی شب کو دعا مانگتے
نہ اس کا لیا نام غیرت سے ہم
رکھا جس کو آنکھوں میں اک عمر اب
اسے دیکھ رہتے ہیں حسرت سے ہم
بھری آنکھیں لوہو سے رہنے لگیں
یہ رنگ اپنا دیکھا مروت سے ہم
نہ مل میر اب کے امیروں سے تو
ہوئے ہیں فقیر ان کی دولت سے ہم
میر تقی میر

رنج و محنت کمال راحت ہے

دیوان اول غزل 583
نالۂ عجز نقص الفت ہے
رنج و محنت کمال راحت ہے
عشق ہی گریۂ ندامت ہے
ورنہ عاشق کو چشم خفت ہے
تا دم مرگ غم خوشی کا نہیں
دل آزردہ گر سلامت ہے
دل میں ناسور پھر جدھر چاہے
ہر طرف کوچۂ جراحت ہے
رونا آتا ہے دم بدم شاید
کسو حسرت کی دل سے رخصت ہے
فتنے رہتے ہیں اس کے سائے میں
قد و قامت ترا قیامت ہے
نہ تجھے رحم نے اسے ٹک صبر
دل پہ میرے عجب مصیبت ہے
تو تو نادان ہے نپٹ ناصح
کب موثر تری نصیحت ہے
دل پہ جب میرے آ کے یہ ٹھہرا
کہ مجھے خوش دلی اذیت ہے
رنج و محنت سے باز کیونکے رہوں
وقت جاتا رہے تو حسرت ہے
کیا ہے پھر کوئی دم کو کیا جانو
دم غنیمت میاں جو فرصت ہے
تیرا شکوہ مجھے نہ میرا تجھے
چاہیے یوں جو فی الحقیقت ہے
تجھ کو مسجد ہے مجھ کو میخانہ
واعظا اپنی اپنی قسمت ہے
ایسے ہنس مکھ کو شمع سے تشبیہ
شمع مجلس کی رونی صورت ہے
باطل السحر دیکھ باطل تھے
تیری آنکھوں کا سحر آفت ہے
ابرتر کے حضور پھوٹ بہا
دیدئہ تر کو میرے رحمت ہے
گاہ نالاں طپاں گہے بے دم
دل کی میرے عجب ہی حالت ہے
کیا ہوا گر غزل قصیدہ ہوئی
عاقبت قصۂ محبت ہے
تربت میر پر ہیں اہل سخن
ہر طرف حرف ہے حکایت ہے
تو بھی تقریب فاتحہ سے چل
بخدا واجب الزیارت ہے
میر تقی میر

اٹھے ہے فتنہ ہر اک شوخ تر قیامت سے

دیوان اول غزل 570
جہاں میں روز ہے آشوب اس کی قامت سے
اٹھے ہے فتنہ ہر اک شوخ تر قیامت سے
موا ہوں ہو کے دل افسردہ رنج کلفت سے
اگے ہے سبزئہ پژمردہ میری تربت سے
جہاں ملے تہاں کافر ہی ہونا پڑتا ہے
خدا پناہ میں رکھے بتوں کی صحبت سے
تسلی ان نے نہ کی ایک دو سخن سے کبھو
جو کوئی بات کہی بھی تو آدھی لکنت سے
پلک کے مارتے ہم تو نظر نہیں آتے
سخن کرو ہو عبث تم ہماری فرصت سے
امیرزادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور
کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انھیں کی دولت سے
یہ جہل دیکھ کہ ان سمجھے میں اٹھا لایا
گراں وہ بار جو تھا بیش اپنی طاقت سے
رہا نہ ہو گا بخود صانع ازل بھی تب
بنایا ہو گا جب اس منھ کو دست قدرت سے
وہ آنکھیں پھیرے ہی لیتا ہے دیکھتے کیا ہو
معاملت ہے ہمیں دل کی بے مروت سے
جو سوچے ٹک تو وہ مطلوب ہم ہی نکلے میر
خراب پھرتے تھے جس کی طلب میں مدت سے
میر تقی میر

نگاہ چشم ادھر تونے کی قیامت کی

دیوان اول غزل 443
خبر نہ تھی تجھے کیا میرے دل کی طاقت کی
نگاہ چشم ادھر تونے کی قیامت کی
انھوں میں جوکہ ترے محو سجدہ رہتے ہیں
نہیں ہے قدر ہزاروں برس کی طاعت کی
اٹھائی ننگ سمجھ تم نے بات کے کہتے
وفا و مہر جو تھی رسم ایک مدت کی
رکھیں امید رہائی اسیر کاکل و زلف
مری تو باتیں ہیں زنجیر صرف الفت کی
رہے ہے کوئی خرابات چھوڑ مسجد میں
ہوا منائی اگر شیخ نے کرامت کی
سوال میں نے جو انجام زندگی سے کیا
قد خمیدہ نے سوے زمیں اشارت کی
نہ میری قدر کی اس سنگ دل نے میر کبھو
ہزار حیف کہ پتھر سے میں محبت کی
میر تقی میر

قد قامت یہ کچھ ہے تمھارا لیکن قہر قیامت ہو

دیوان اول غزل 393
مت پوچھو کچھ اپنی باتیں کہیے تو تم کو ندامت ہو
قد قامت یہ کچھ ہے تمھارا لیکن قہر قیامت ہو
ربط اخلاص اے دیدہ و دل بھی دنیا میں ایک سے ہوتا ہے
لگ پڑتے ہو جس سے تس سے تم بھی کوئی ملامت ہو
آج سحر ہوتے ہی کچھ خورشید ترے منھ آن چڑھا
روک سکے ہے کون اسے سر جس کے ایسی شامت ہو
چاہ کا دعویٰ سب کرتے ہیں مانیے کیونکر بے آثار
اشک کی سرخی زردی منھ کی عشق کی کچھ تو علامت ہو
سرو و گل اچھے ہیں دونوں رونق ہیں گلزار کی ایک
چاہیے رو اس کا سا رو ہو قامت ویسا قامت ہو
مل بیٹھے اس نائی کے سے کوئی گھڑی جو زاہد تو
جتنے بال ہیں سارے سر میں ویسی ہی اس کی حجامت ہو
ہو جو ارادہ یاں رہنے کا رہ سکیے تو رہیے آپ
ہم تو چلے جاتے ہیں ہر دم کس کو قصد اقامت ہو
کس مدت سے دوری میں تیری خاک رہ سے برابر ہوں
کریے رنجہ قدم ٹک مجھ تک جو کچھ پاس قدامت ہو
منھ پر اس کی تیغ ستم کے سیدھا جانا ٹھہرا ہے
جینا پھر کج دار و مریز اس طور میں ہو ٹک یا مت ہو
شور و شغب کو راتوں کے ہمسائے تمھارے کیا روویں
ایسے فتنے کتنے اٹھیں گے میر جی تم جو سلامت ہو
میر تقی میر

چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا

دیوان اول غزل 5
اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
امیدوار وعدئہ دیدار مر چلے
آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا
کب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیں
کچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا
اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیں
معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا
بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل
اے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف
اے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا
تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میر پر
کیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا
میر تقی میر

شہرِ مشرق میں بپا روزِ قیامت ہو چکا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 16
میں جسے ملنے یہاں آیا وہ رخصت ہو چکا
شہرِ مشرق میں بپا روزِ قیامت ہو چکا
اب درِ آئندگاں پہ جا کے دستک دیجئے
یارِ خواب افروز اب کا بے مروّت ہو چکا
اُن سے کہنا خامۂ امکاں سے پھر لکھیں اُسے
وُہ سنہرا لفظ جو حرفِ عبارت ہو چکا
کل وہ پھر جائیں گے جاں دینے فرازِ دار پر
اور ایسا دیکھنا برسوں کی عادت ہو چکا
اب بیاض شوق کا اگلا ورق اُلٹائیے
آج کا منظر تو خونِ دل سے لت پت ہو چکا
میں کھنڈر سا رہ گیا اے رفتگاں ! اے رفتگاں !
اپنے ہی لشکر کے ہاتھوں شہر غارت ہو چکا
آفتاب اقبال شمیم

سب سچ ہی سہی، پہلے سماعت میں تو آئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 239
جو دل میں ہے وہ حرف و حکایت میں تو آئے
سب سچ ہی سہی، پہلے سماعت میں تو آئے
اب تک جو ترے دست ستم میں ہے وہ تلوار
اک بار مرے دست مروت میں تو آئے
ہم ایسے ہوس کار نہیں جو نہ سدھر جائیں
تھوڑا سا مزہ کار محبت میں تو آئے
مشکل تو یہی ہے کہ قیامت نہیں آتی
قاتل مرا میدان قیامت میں تو آئے
اس نے ابھی دیکھا ہے سر پُل مجھے تنہا
وہ شخص مری رات کی دعوت میں تو آئے
عرفان صدیقی

لکھنؤ میں بھی بتوں کا قد و قامت ہے وہی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 236
ہر جگہ فتنۂ محشر کی علامت ہے وہی
لکھنؤ میں بھی بتوں کا قد و قامت ہے وہی
بات کرنے لگے سناٹے تو معلوم ہُوا
اَب بھی خاموش زَبانوں میں کرامت ہے وہی
کون ہم خانہ خرابوں کو کرے گا برباد
جو اِس آشوب میں غارت ہے سلامت ہے وہی
آستیں پر کوئی دھبّہ تو نہیں ہے، لیکن
اُس کی آنکھوں میں بہرحال ندامت ہے وہی
کم سے کم ایک رَوایت تو اَبھی زِندہ ہے
سر وہی ہوں کہ نہ ہوں، سنگِ ملامت ہے وہی
موجِ خوں ہو کہ ترے شہر کی دِلدار ہَوا
یار، جو سر سے گزر جائے قیامت ہے وہی
عرفان صدیقی

اُس جیسی ایک اور قیامت دکھائی دی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 452
آب رواں میں پھر نئی شامت دکھائی دی
اُس جیسی ایک اور قیامت دکھائی دی
اس کے خیال بھی تھے پرانے ، بہت قدیم
اس کے لباس میں بھی قدامت دکھائی دی
تقریبِ گل میں سرو کئی آئے تھے مگر
ہر سمت تیری رونقء قامت دکھائی دی
پہلے بدن کا معجزہ دیکھا نگاہ نے
پھر گفتگو میں ایک کرامت دکھائی دی
میں نے بھلا دیں ساری گذشتہ کی تلخیاں
تھوڑی سی اُس نظر میں ندامت دکھائی دی
جاری ہے ٹوٹ پھوٹ وجود و شہود میں
کوئی کہیں بھی شے نہ سلامت دکھائی دی
منصور چپ کھڑی تھی کہیں شام کی کرن
چھیڑا توزندگی کی علامت دکھائی دی
منصور آفاق

کچھ کہو وہ رت بدلنے پر پلٹ جانے کی عادت کیا ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 444
آب و دانہ کے لئے آئے پرندویہ سکونت کیا ہوئی
کچھ کہو وہ رت بدلنے پر پلٹ جانے کی عادت کیا ہوئی
چند دن وہ ساحلوں پر رکنے والے کیا ہوئے بحری جہاز
دور دیسوں کے سفر سے لوٹ آنے کی روایت کیا ہوئی
دیکھنے آئے تھے ہم کافر تو حسنِ کافرانہ کو مگر
اس گنہ آباد بستی میں مسلمانوں کی ہجرت کیا ہوئی
ساحلوں پر ڈوبتے سورج پہ اتری ہے کوئی پیتل کی کونج
سیپیاں چنتی ہوئی سر گرم کرنوں کی حرارت کیا ہوئی
ہو گئی بچی کی چھاتی تو سلگتے سگریٹوں سے داغ داغ
وہ جو آنی تھی زمیں پر آسمانوں سے قیامت کیا ہوئی
کیا ہوا وہ جنگ سے اجڑاہوابچوں بھرا منصورپارک
وہ کتابوں سے بھری تہذیب کی روشن عمارت کیا ہوئی
منصور آفاق

مت پوچھ ایک پل کی طوالت کا واقعہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 422
صدیوں پہ ہے محیط سکونت کا واقعہ
مت پوچھ ایک پل کی طوالت کا واقعہ
ممکن نہیں ہے صبحِ ازل پھر اسے لکھے
جیسا تھا بزمِ شمعِ ہدایت کا واقعہ
ہم اہلِ عشق ہیں سو بڑے جلد باز تھے
عجلت میں ہم نے لکھا محبت کا واقعہ
وہ دلنواز چیخ مری گود میں گری
یہ کاکروچ کی ہے خباثت کا واقعہ
جا خانۂ وراق پہ آواز دے کے دیکھ
مت پوچھ مجھ سے اس کی عنایت کا واقعہ
پاؤں رکھا جہاں پہ وہیں پھول کھل اٹھے
پھیلا ہے سارے دشت میں وحشت کا واقعہ
منصور اعتقاد ضروری سہی مگر
ہونا نہیں ہے کوئی قیامت کا واقعہ
منصور آفاق