ٹیگ کے محفوظات: غرور

کس درجہ ہم تھے غرق بدن کے سرور میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
خوشبو میں غوطہ زن تھے نہائے تھے نور میں
کس درجہ ہم تھے غرق بدن کے سرور میں
روشن پسِ زباں ہے الاؤ کوئی ضرور
حدت سی آ گئی ہے جو آنکھوں کے نُور میں
دونوں جہاں تھے جیسے اُسی کے تہِ قدم
اُس نے تو ہاتھ تک نہ ملایا غرُور میں
پوچھا ہے کس نے حال مری بُود و باش کا
چھینٹا دیا یہ کس نے دہکتے تنُور میں
اے پیڑ تیری خیر کہ ہیں بادِ زرد کی
پیوست انگلیاں تری شاخوں کے بُور میں
ماجدؔ چمن میں صُورتِ حالات ہے کچھ اور
پھیلی ہے سنسنی سی جو اُڑتے طیُور میں
ماجد صدیقی

صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 95
آئینہ دیکھ، اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

پھر چھپا خور سا اپنے نور سے وہ

دیوان ششم غزل 1871
نظر آیا تھا صبح دور سے وہ
پھر چھپا خور سا اپنے نور سے وہ
جز برادر عزیز یوسف کو
نہیں لکھتا کبھو غرور سے وہ
دیکھیں عاشق کا جی بھی ہے کہ نہیں
تنگ ہے جان ناصبور سے وہ
کیا تصور میں پھیرے ہے صورت
کہ سرکتا نہیں حضور سے وہ
خوبی اس خوبی سے بشر میں کہاں
خوب تر ہے پری و حور سے وہ
دل لیا جس غمیں کا تونے شوخ
دے گیا جی ہی اک سرور سے وہ
خوش ہیں دیوانگی میر سے سب
کیا جنوں کر گیا شعور سے وہ
میر تقی میر

وہ منھ ٹک اودھر نہیں کرتا داغ ہے اس کے غرور سے شمع

دیوان پنجم غزل 1646
کیا جھمکا فانوس میں اپنا دکھلاتی ہے دور سے شمع
وہ منھ ٹک اودھر نہیں کرتا داغ ہے اس کے غرور سے شمع
وہ بیٹھا ہے جیسے نکلے چودھویں رات کا چاند کہیں
روشن ہے کیا ہو گی طرف اس طرح رخ پر نور سے شمع
آگے اس کے فروغ نہ تھا جلتی تھی بجھی سی مجلس میں
تب تو لوگ اٹھا لیتے تھے شتابی اس کے حضور سے شمع
جلنے کو آتی ہیں جو ستیاں میر سنبھل کر جلتی ہیں
کیا بے صرفہ رات جلی بے بہرہ اپنے شعور سے شمع
میر تقی میر

لڑکا سا ان دنوں تھا اس کو شعور کیا تھا

دیوان چہارم غزل 1322
دیوانگی میں مجنوں میرے حضور کیا تھا
لڑکا سا ان دنوں تھا اس کو شعور کیا تھا
گردن کشی سے اپنی مارے گئے ہم آخر
عاشق اگر ہوئے تھے ناز و غرور کیا تھا
غم قرب و بعد کا تھا جب تک نہ ہم نے جانا
اب مرتبہ جو سمجھے وہ اتنا دور کیا تھا
اے وائے یہ نہ سمجھے مارے پڑیں گے اس میں
اظہار عشق کرنا ہم کو ضرور کیا تھا
مرتا تھا جس کی خاطر اس کی طرف نہ دیکھا
میر ستم رسیدہ ظالم غیور کیا تھا
میر تقی میر

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

دیوان اول غزل 1
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا
پیدا ہر ایک نالے سے شورنشور تھا
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم
یک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا
مجلس میں رات ایک ترے پر توے بغیر
کیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا
اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوا
دیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا
منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا
اس رند کی بھی رات گذر گئی جو عور تھا
ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر
اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا
کل پائوں ایک کاسۂ سر پر جو آگیا
یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر
میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا
تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میر
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنے قصور تھا
میر تقی میر

وہ زمانے سے دور ہوتا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 245
جو تمہارے حضور ہوتا ہے
وہ زمانے سے دور ہوتا ہے
اپنی اپنی وفاؤں پر سب کو
تھوڑا تھوڑا غرور ہوتا ہے
بے رُخی کا گلہ کریں نہ کریں
دل کو صدمہ ضرور ہوتا ہے
بخش دیجے تو کوئی بات نہیں
آدمی سے قصور ہوتا ہے
مئے الفت کی بات کیا باقیؔ
اور ہی کچھ سرور ہوتا ہے
باقی صدیقی

میرا قصہ بھی دور تک پہنچا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 42
میکدے سے حضور تک پہنچا
میرا قصہ بھی دور تک پہنچا
سرفرازی کی بات ہے ساری
یوں تو میں بھی حضور تک پہنچا
خلد کا ذکر آ گیا تھا ذرا
شیخ حور و قصور تک پہنچا
صورت آئینہ شکست ہوا
عشق بھی جب غرور تک پہنچا
جا سکا غم نہ پھر کہیں باقیؔ
جب دل ناصبور تک پہنچا
باقی صدیقی