ٹیگ کے محفوظات: سکوں

خیمہِ گُل کے پاس ہی‘ دجلہِ خوں بھی چاہیے

موجِ صبا رواں ہوئی‘ رقصِ جنوں بھی چاہیے
خیمہِ گُل کے پاس ہی‘ دجلہِ خوں بھی چاہیے
کشمکشِ حیات ہے‘ سادہ دلوں کی بات ہے
خواہشِ مرگ بھی نہیں ‘ زہرِ سکوں بھی چاہیے
ضربِ خیال سے کہاں ٹوٹ سکیں گی بیڑیاں
فکرِ چمن کے ہم رکاب‘ جوشِ جنوں بھی چاہیے
نغمہِ شوق خوب تھا‘ ایک کمی ہے مُطربہ!
شعلہِ لَب کی خیر ہو‘ سوزِ دُروں بھی چاہیے
اتنا کرم تو کیجیے‘ بُجھتا کنول نہ دیجیے
زخمِ جگر کے ساتھ ہی دردِ فزوں بھی چاہیے
دیکھیے ہم کو غور سے‘ پوچھیے اہلِ جور سے
روحِ جمیل کے لیے‘ حالِ زُبوں بھی چاہیے
شکیب جلالی

بات کرنا نہیں آتی ہے تو کیوں بولتا ہے؟

تیرے لہجے میں ترا جہلِ دروں بولتا ہے
بات کرنا نہیں آتی ہے تو کیوں بولتا ہے؟
پھونک دی جاتی ہے اس طرح مرے شعر میں روح
جیسے سانسوں میں کوئی کن فیکوں بولتا ہے
سننے والوں پہ مرا حال عیاں ہو کیسے
عشق ہوتا ہے تو وحشت میں سکوں بولتا ہے
تیرا اندازِ تخاطب، ترا لہجہ، ترے لفظ
وہ جسے خوفِ خدا ہوتا ہے، یوں بولتا ہے؟
عقل اس باب میں خاموش ہی رہتی ہے جناب
جب ہو موضوع حقیقت تو جنوں بولتا ہے
گفتگو کیا ہو کہ جب گویا ہوں آنکھیں تیری
چپ سی لگ جاتی ہے جب ان کا فسوں بولتا ہے
کوئی عرفان کو سمجھائے، یہ آشفتہ مزاج
جاں کا خطرہ ہو تو پہلے سے فزوں بولتا ہے
عرفان ستار

کس قدر خستہ و خوں بستہ دروں ہے میرا

سب پہ ظاہر ہی کہاں حالِ زبوں ہے میرا
کس قدر خستہ و خوں بستہ دروں ہے میرا
میرے اشعار کو تقریظ و وضاحت سمجھو
ورنہ دراصل سخن کن فیکوں ہے میرا
یہ جو ٹھہراوٗ بظاہر ہے اذیّت ہے مری
جو تلاطم مرے اندر ہے سکوں ہے میرا
یہ جو صحراوٗں میں اڑتی ہے یہ ہے خاک مری
اور دریاوٗں میں بہتا ہے جو خوں ہے میرا
وہ جو اخفا میں ہے وہ اصل حقیقت ہے مری
یہ جو سب کو نظر آتا ہے، فسوں ہے میرا
بیچ میں کچھ بھی نہ ہو، یعنی بدن تک بھی نہیں
تجھ سے ملنے کا ارادہ ہے تو یوں ہے میرا
رازِ حق اس پہ بھی ظاہر ہے ازل سے عرفان
یعنی جبریل کا ہم عصر جنوں ہے میرا
عرفان ستار

ہَر بَندِ قَفَس کو توڑا ہے ہَر دامِ فسوں سے گُذرے ہیں

ہر مقتل سے ہو آئے ہیں ہَر موجَہِ خُوں سے گُذرے ہیں
ہَر بَندِ قَفَس کو توڑا ہے ہَر دامِ فسوں سے گُذرے ہیں
اَندیشَہِ فَردا کے ماروں کی صَف میں ہَم کَب شامِل تھے
اے اہلِ خِرَد کُچھ پاسِ اَدَب ہَم لوگ جنوں سے گذرے ہیں
کِس چیز کا غَرّہ ہے اِن کو؟ کِس بات پَر اِتنے نازاں ہیں؟
یہ واعِظ و ناصِح کون سے دَردِ روز اَفزُوں سے گُذرے ہیں
یہ روز بَدَلتے مَوسِم جَب چاہیں جا کَر دَریافت کریں
طُوفانِ حَوادِث حَیراں تھے ہَم اِتنے سکوں سے گُذرے ہیں
کیا جان کی بازی لگنی ہے؟ گر یہ ہے تَو چَلیے یہ ہی سَہی!
ہَم لوگ تَواِس کے عادی ہیں ہَم خاک اُور خُوں سے گُذرے ہیں
بینائی بَغیَرِ دانائی اِلزام ہے اَندھی آنکھوں پَر
کیا اہلِ دَوَل دیکھیں گے ہَم کِس کَربِ دَروں سے گُذرے ہیں
کُچھ کارِ جنوں تھا بے پایاں کُچھ تَنگیِ دامَنِ وَقت بھی تھی
کُچھ ہَم بھی عُجلَت میں ضامنؔ بے "کُن”، "فَیَکُوں” سے گُذرے ہیں
ضامن جعفری

عِشق بے نِسبَتِ "کُن” خُود "فَیَکُوں ” ہے یُوں ہے

اِس کی تَوجیہہ عَبَث ہے کہ یہ یُوں ہے یُوں ہے
عِشق بے نِسبَتِ "کُن” خُود "فَیَکُوں ” ہے یُوں ہے
اَپنی پہچان پَہ مائِل ہے بہت رُوحِ حیات
ہَر طَرَف شورِ اَنالحق جو فزوں ہے یُوں ہے
زُعمِ دانائی کو اِدراکِ حَقیقَت تھا مُحال
یہ مِرا صَدقَہِ اَندازِ جُنوں ہے یُوں ہے
تُم نے دیکھی ہی نہیں ہے تَپِشِ دَشتِ خَیال
ذِہن کی آبلہ پائی جو فُزوں ہے یُوں ہے
بحرِ مَوّاجِ بَشَر اَپنی حَقیِقَت کو نَہ بُھول
سَرحَدِ عِجز پَہ تُو قَطرَہِ خُوں ہے یُوں ہے
اَز اَزَل تا بَہ اَبَد خالِق و مَخلُوق کا کھیل
ہَم یہی سُنتے چَلے آئے ہیں کیوں ہے یُوں ہے
عَدل و اِنصاف کی تعریف مُکَمَّل کَر دُوں
حُکم اُس کا ہے مِرا صَبر و سُکوں ہے یُوں ہے
میں وہی ہُوں کہ جو تھا، تُجھ کو لگا ہُوں بہتَر
صَیقَلِ آئینَہِ ظَرف فُزوں ہے یُوں ہے
حُسن آمادَہِ اِظہارِ نَدامَت ہے ضَرور
عشق کے سامنے یہ سر جو نِگوں ہے یُوں ہے
مُشتِ خاک اَور یہ ہَنگامَہِ ہَستی ضامنؔ!
قید میں رُوح کا اِک رَقصِ جُنوں ہے یُوں ہے
ضامن جعفری

جی میں ہے پایۂ عرش کو تھام لوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
دیکھیے یہ بھی اِک اِختراعِ جنوں
جی میں ہے پایۂ عرش کو تھام لوں
ہے یہی طرّۂ امتیازِ جنوں
مَیں جو روؤں تو پھر مُسکرا بھی سکوں
پیار آتش سہی پر یہ کیا شرط ہے
چاندنی رات میں بھی سُلگتا رہوں
یہ روش بھی کچھ ایسی بُری تو نہیں
چوٹ کھاؤں مگر مُسکراتا رہوں
احترامِ شبِ وصل ہو گر مجھے
مَیں شبِ ہجر کا نام تک بھی نہ لُوں
مجھ کو بھی حق پہنچتا ہے ماجدؔ کہ مَیں
ساتھ پھولوں کے مہکوں گلستاں بنوں
ماجد صدیقی

یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے، یوں ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 147
عشق بس ایک کرشمہ ہے، فسوں ہے، یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے، یوں ہے
جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے، نہ بروں ہے، یوں ہے
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جنوں ہے، یوں ہے
اب تم آئے ہو میری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے، یوں ہے
تو نے دیکھی ہی نہیں دشتِ وفا کی تصویر
نوکِ ہر خار پے اک قطرۂ خوں ہے، یوں ہے
ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے، یوں ہے
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز
یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے، یوں ہے
احمد فراز

کیا کہوں اب میں’ کہوں یا نہ کہوں‘ سے پہلے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 127
سو صلیبیں تھیں ہر اک حرف جنوں سے پہلے
کیا کہوں اب میں’ کہوں یا نہ کہوں‘ سے پہلے
اس کو فرصت ہی نہیں دوسرے لوگوں کی طرح
جس کو نسبت تھی مرے حال زبوں سے پہلے
کوئی اسم ایسا کہ اس شخص کا جادو اترے
کوئی اعجاز مگر اس کے فسوں سے پہلے
بے طلب اس کی عنایت ہے تو حیران ہوں میں
ہاتھ مانوس نہ تھے شاخ نگوں سے پہلے
حرف دل آیا کہ آیا میرے ہونٹوں پہ اب
بڑھ گئی بات بہت سوز دروں سے پہلے
تشنگی نے نگہ یار کی شرمندہ کیا
دل کی اوقات نہ تھی قطرۂ خوں سے پہلے
خوش ہو آشوب محبت سے کہ زندہ ہو فراز
ورنہ کچھ بھی تو نہیں دل کے سکوں سے پہلے
احمد فراز

مگر قرار سے دن کٹ رہے ہوں یوں بھی نہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 81
فراز اب کوئی سودا کوئی جنوں بھی نہیں
مگر قرار سے دن کٹ رہے ہوں یوں بھی نہیں
لب و دہن بھی ملا گفتگو کا فن بھی ملا
مگر جو دل پہ گزرتی ہے کہہ سکوں بھی نہیں
مری زبان کی لکنت سے بدگمان نہ ہو
جو تو کہے تو تجھے عمر بھر ملوں بھی نہیں
فراز جیسے دیا تربتِ ہوا چاہے
تو پاس آۓ تو ممکن ہے میں رہوں بھی نہیں
احمد فراز

بات کرنا نہیں آتی ہے تو کیوں بولتا ہے؟

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 76
تیرے لہجے میں ترا جہلِ دروں بولتا ہے
بات کرنا نہیں آتی ہے تو کیوں بولتا ہے؟
پھونک دی جاتی ہے اس طرح مرے شعر میں روح
جیسے سانسوں میں کوئی کن فیکوں بولتا ہے
سننے والوں پہ مرا حال عیاں ہو کیسے
عشق ہوتا ہے تو وحشت میں سکوں بولتا ہے
تیرا اندازِ تخاطب، ترا لہجہ، ترے لفظ
وہ جسے خوفِ خدا ہوتا ہے، یوں بولتا ہے؟
عقل اس باب میں خاموش ہی رہتی ہے جناب
جب ہو موضوع حقیقت تو جنوں بولتا ہے
گفتگو کیا ہو کہ جب گویا ہوں آنکھیں تیری
چپ سی لگ جاتی ہے جب ان کا فسوں بولتا ہے
کوئی عرفان کو سمجھائے، یہ آشفتہ مزاج
جاں کا خطرہ ہو تو پہلے سے فزوں بولتا ہے
عرفان ستار

کس قدر خستہ و خوں بستہ دروں ہے میرا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 4
سب پہ ظاہر ہی کہاں حالِ زبوں ہے میرا
کس قدر خستہ و خوں بستہ دروں ہے میرا
میرے اشعار کو تقریظ و وضاحت سمجھو
ورنہ دراصل سخن کن فیکوں ہے میرا
یہ جو ٹھہراوٗ بظاہر ہے اذیّت ہے مری
جو تلاطم مرے اندر ہے سکوں ہے میرا
یہ جو صحراوٗں میں اڑتی ہے یہ ہے خاک مری
اور دریاوٗں میں بہتا ہے جو خوں ہے میرا
وہ جو اخفا میں ہے وہ اصل حقیقت ہے مری
یہ جو سب کو نظر آتا ہے، فسوں ہے میرا
بیچ میں کچھ بھی نہ ہو، یعنی بدن تک بھی نہیں
تجھ سے ملنے کا ارادہ ہے تو یوں ہے میرا
رازِ حق اس پہ بھی ظاہر ہے ازل سے عرفان
یعنی جبریل کا ہم عصر جنوں ہے میرا
عرفان ستار

دل خون کروں تو پوچھیو مت

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 47
بیمار پڑوں تو پوچھیو مت
دل خون کروں تو پوچھیو مت
میں شدتِ غم سے حال اپنا
کہہ بھی نہ سکوں تو پوچھیو مت
ڈر ہے مجھے جنون نہ ہو جائے
ہو جائے جنوں تو پوچھیو مت
میں شدتِ غم سے عاجز آ کر
ہنسنے لگوں تو پوچھیو مت
آتے ہی تمھارے پاس اگر میں
جانے بھی لگوں تو پوچھیو مت
جون ایلیا

وہ دل کہ جس پہ اپنا بھروسا تھا خوں ہوا

دیوان سوم غزل 1073
اب کے جو گل کی فصل میں ہم کو جنوں ہوا
وہ دل کہ جس پہ اپنا بھروسا تھا خوں ہوا
ٹھہرا گیا ہو ٹک بھی تو تم سے بیاں کروں
آتے ہی اس کے رفتن صبر و سکوں ہوا
تھا شوق طوف تربت مجنوں مجھے بہت
اک گردباد دشت مرا رہنموں ہوا
سیلاب آگے آیا چلا جاتے دشت میں
بے اختیار رونے کا میرے شگوں ہوا
جان اس کی تیغ تیز سے رکھ کر دریغ میر
صید حرم ندان شکار زبوں ہوا
میر تقی میر

چلتا رہوں سڑک پہ ابھی یا کہیں رکوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 14
کوئی نہیں مجھے جو بتائے میں کیا کروں
چلتا رہوں سڑک پہ ابھی یا کہیں رکوں
ممکن نہیں ہے اس سے کوئی بات ہو سکے
ممکن نہیں ہے اس کا کہیں نام لے سکوں
اس شہرناشناس میں کوئی نہیں مرا
دستک کہاں پہ دوں میں کسے جا کے کچھ کہوں
کب تک امیدرکھوں کہ اترے گا وہ ابھی
کب تک میں آسماں کی طرف دیکھتا رہوں
آنچل شبِ فراق کا اب کاٹنے لگا
میرا خیال ہے یہ ستارے میں نوچ لوں
بارش ہوا کے دوش پہ کمروں تک آگئی
گملے برآمدے کے چھپا کر کہاں رکھوں
منصور مشورہ یہی بہتر ہے دھوپ کا
اب شامِ انتظار اٹھا کرمیں پھینک دوں
منصور آفاق