ٹیگ کے محفوظات: رفاقت

رفاقت

سبز موسم کی بے حد خنک رات تھی

چنبیلی کی خوشبو سے بوجھل ہُوا

دھیمے لہجوں میں سرگوشیاں کر رہی تھی

ریشمیں اوس میں بھیگ کر

رات کا نرم آنچل بدن سے لپٹنے لگا تھا

ہارسنگھار کی نرم خوشبو کا جادو

جواں رات کی سانس میں گُھل رہا تھا

چاندنی،رات کی گود میں سر رکھے ہنس رہی تھی

اور میں سبز موسم کی گلنار ٹھنڈک میں کھوئی ہُوئی

شاخ در شاخ

ایک تیتری کی طرح اُڑ رہی تھی

کبھی اپنی پرواز میں رُک کے نیچے جوآتی تو احساس ہوتا مجھے

شبنمی گھاس کا لمس پاؤں کو کتنا سکوں دے رہا ہے!

دفعتاً

میں نے ٹی ۔وی کی خبروں پہ موسم کی بابت سُنا

ترے شہر میں لُو چلی ہے

ایک سو آٹھ سے بھی زیادہ حرارت کا درجہ رہا ہے

مجھے یوں لگا

میرے چاروں طرف آگ ہی آگ ہے

ہوائیں جہنم سے آنے لگی ہیں

تمازت سے میرا بدن پُھنک رہا ہے

میں اُس شبنمی رُوح پرور فضا کو جھٹک کر

کچھ اس طرح کمرے میں اپنے چلی آئی

جیسے کہ اک لمحہ بھی اور رک جاؤں گی تو جھلس جاؤں گی!

پھر بڑی دیر تک،

تیرے تپتے ہُوئے جسم کو

اپنے آنچل سے جھلستی رہی

تیرے چہرے سے لپٹی ہُوئی گرد کو

اپنی پلکوں سے چُنتی رہی

رات کو سونے سے پہلے

اپنی شب خوابیوں کا لبادہ جو پہنا

تو دیکھا

مرے جسم پر آبلے پڑ چکے تھے!

لمحہ لمحہ وقت کی جھیل میں ڈُوب گیا

اب پانی میں اُتریں بھی تو پائیں کیا

طوفان جب آیا تو جھیل میں کُود پڑ

ا وہ لڑکا جو کشتی کھیلنے نکلا تھا

کتنی دیر تک اپنا آپ بچائے گی

ننھی سی اِک لہر کو موجوں نے گھیرا

اپنے خوابوں کی نازک پتواروں سے

تیر رہا ہے سطحِ آپ پہ اِک پتہ

ہلکی ہلکی لہریں نیلم پانی میں

دھیرے دھیرے ڈولے یاقوتی نیّا

شبنم کے رُخساروں پر سُورج کے ہونٹ

ٹھہرگیا ہے وصل کا اِک روشن لمحہ

چاند اُتر آیا ہے گہرے پانی میں

ذہن کے آئینے میں جیسے عکس ترا

کیسے ان لمحوں میں تیرے پاس آؤں

ساگر گہرا،رات اندھیری ،میں تنہا

ٹھہر کے دیکھے تو رُک جائے نبض ساعت کی

شبِ فراق کی قامت ہے کسقیامت کی

وہ رت جگے،وہ گئی رات تک سخن کاری

شبیں گزاری ہیں ہم نے بھی کُچھ ریاضت کی

وہ مجھ کو برف کے طوفاں میں کیسے چھوڑ گیا

ہَوائے سرد میں بھی جب مری حفاظت کی

سفر میں چاند کا ماتھا جہاں بھی دُھندلایا

تری نگاہ کی زیبائی نے قیادت کی!

ہَوا نے موسمِ باراں سے سازشیں کر لیں

مگر شجر کو خبر ہی نہیں شرارت کی

پروین شاکر

وہ لوگ ادا اجر رسالت نہیں کرتے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 259
جو معرکۂ صبر میں نصرت نہیں کرتے
وہ لوگ ادا اجر رسالت نہیں کرتے
ہوتی ہے یہی مصحف ناطق کی نشانی
نیزے پہ بھی سر بولے تو حیرت نہیں کرتے
جب تشنہ دہاں خود نہ دیں اس کی اجازت
دریا بھی قریب آنے کی ہمت نہیں کرتے
پھولوں سے بہت ڈرتے تھے باطل کے گنہگار
کیوں تیر چلا دینے میں عجلت نہیں کرتے
وہ ہاتھ کٹا دیتے ہیں سر دینے سے پہلے
مظلوم کبھی ظلم کی بیعت نہیں کرتے
کوثر پہ نہ کیوں حق ہو کہ دنیا میں بھی ہم لوگ
گریہ نہیں کرتے ہیں کہ مدحت نہیں کرتے
اس وقت سے ظالم کے مقابل ہیں سو اب تک
بیعت ہے بڑی چیز، اطاعت نہیں کرتے
یہ اشک عزا اور یہ دنیا کے خزانے
ہم اپنے چراغوں کی تجارت نہیں کرتے
اس آئینہ خانے کی طرف دیکھتے ہیں ہم
پھر کوئی زیارت کسی صورت نہیں کرتے
جز حرف دلا کچھ بھی عبارت نہیں کرتے
ہم اور سخن کوئی سماعت نہیں کرتے
جس طرح چلے سبط نبی شہر نبی سے
اس طرح تو مہماں کو بھی رُخصت نہیں کرتے
اک درد کو کرتے ہیں جہاں گیر جہاں تاب
ہم صرف وہ تاریخ روایت نہیں کرتے
وہ شمع بجھی اور یہ حقیقت ہوئی روشن
ارباب وفا ترک رفاقت نہیں کرتے
عرفان صدیقی

ہم تو سرکار کے مداح ہیں خلعت کے بغیر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 97
سرِ تسلیم ہے خم اذنِ عقوبت کے بغیر
ہم تو سرکار کے مداح ہیں خلعت کے بغیر
سر برہنہ ہوں تو کیا غم ہے کہ اب شہر میں لوگ
برگزیدہ ہوئے دستارِ فضیلت کے بغیر
دیکھ تنہا مری آواز کہاں تک پہنچی
کیا سفر طے نہیں ہوتے ہیں رفاقت کے بغیر
ریت پر تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے
آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر
عرفان صدیقی