ٹیگ کے محفوظات: راستہ

کی عبادت بھی تو وہ، جس کی جزا کوئی نہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 80
ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں
کی عبادت بھی تو وہ، جس کی جزا کوئی نہیں
آ کہ اب تسلیم کر لیں تو نہیں تو میں سہی
کون مانے گا کہ ہم میں بے وفا کوئی نہیں
وقت نے وہ خاک اڑائی ہے کہ دل کے دشت سے
قافلے گزرے ہیں پھر بھی نقشِ پا کوئی نہیں
خود کو یوں‌ محصور کر بیٹھا ہوں اپنی ذات میں
منزلیں چاروں طرف ہیں راستہ کوئی نہیں
کیسے رستوں سے چلے اور یہ کہاں پہنچے فراز
یا ہجومِ دوستاں تھا ساتھ ۔ یا کوئی نہیں
احمد فراز

کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 60
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں
تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر
ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں
تو کہ یکتا تھا بے شمار ہوا
ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں
ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریں
پھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں
ہم اگر منزلیں نہ بن پائے
منزلوں تک کا راستہ ہو جائیں
دیر سے سوچ میں ہیں پروانے
راکھ ہو جائیں یا ہوا ہو جائیں
اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سے
ایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں
بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فراز
کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں
احمد فراز

اب ذہن میں نہیں ہے پرنام تھا بھلا سا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 9
برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلربا سا
اب ذہن میں نہیں ہے پر، نام تھا بھلا سا
ابرو کھچے کھچے سے آنکھیں جھکی جھکی سی
باتیں رکی رکی سی، لہجہ تھکا تھکا سا
الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر میں
بن جائے جنگلوں میں جس طرح راستہ سا
خوابوں میں خواب اس کے یادوں میں یاد اس کی
نیندوں میں گھل گیا ہو جیسے کہ رتجگا سا
پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی میں
وہ ہر طرح سے لیکن اوروں سے تھا جدا سا
اگلی محبتوں نے وہ نا مرادیاں دیں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا
کچھ یہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہیں تھے روئے
کچھ زہر میں بُجھا تھا احباب کا دلاسا
پھر یوں ہوا کے ساون آنکھوں میں آ بسے تھے
پھر یوں ہوا کہ جیسے دل بھی تھا آبلہ سا
اب سچ کہیں تو یارو ہم کو خبر نہیں تھی
بن جائے گا قیامت اک واقعہ ذرا سا
تیور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے
وہ اجنبی تھا لیکن لگتا تھا آشنا سا
ہم دشت تھے کہ دریا ہم زہر تھے کہ امرت
ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہیں تھا پیاسا
ہم نے بھی اُس کو دیکھا کل شام اتفاقاً
اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا
احمد فراز

بتادوں؟ مجھ سے خود اپنا پتہ گُم ہو گیا ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 82
سبھی یہ پوچھتے رہتے ہیں کیا گُم ہو گیا ہے
بتادوں؟ مجھ سے خود اپنا پتہ گُم ہو گیا ہے
تمہارے دن میں اک رُوداد تھی جو کھو گئی ہے
ہماری رات میں اک خواب تھا، گُم ہو گیا ہے
وہ جس کے پیچ و خم میں داستاں لپٹی ہوئی تھی
کہانی میں کہیں وہ ماجرا گُم ہو گیا ہے
ذرا اہلِ جُنوں آؤ، ہمیں رستہ سُجھاؤ
یہاں ہم عقل والوں کا خدا گُم ہو گیا ہے
نظر باقی ہے لیکن تابِ نظّارہ نہیں اب
سخن باقی ہے لیکن مدّعا گُم ہو گیا ہے
مجھے دکھ ہے، کہ زخم و رنج کے اِس جمگھٹے میں
تمہارا اور میرا واقعہ گُم ہو گیا ہے
یہ شدّت درد کی اُس کے نہ ہونے سے نہ ہوتی
یقیناً اور کچھ اُس کے سِوا گُم ہو گیا ہے
وہ جس کو کھینچنے سے ذات کی پرتیں کھُلیں گی
ہماری زندگی کا وہ سِرا گُم ہو گیا ہے
وہ در وا ہو نہ ہو، آزاد و خود بیں ہم کہاں کے
پلٹ آئیں تو سمجھو راستہ گُم ہو گیا ہے
عرفان ستار

وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 115
کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے
تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں
مرا تن، مور بن کر ناچتا ہے
مجھے ہر کیفیت میں کیوں نہ سمجھے
وہ میرے سب حوالے جانتا ہے
میں اس کی دسترس میں ہوں ، مگر وہ
مجھے میری رضا سے مانگتا ہے
کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دل
بہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے
سڑک کو چھوڑ کر چلنا پڑے گا
کہ میرے گھر کا کچّا راستہ ہے
پروین شاکر

وہ آئے تو مجھے اب بھی ہرا بھرا دیکھے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 114
اُسی طرح سے ہر اِک زخم خوشنما دیکھے
وہ آئے تو مجھے اب بھی ہرا بھرا دیکھے
گزر گئے ہیں بہت دن رفاقتِ شب میں
اب عُمر ہو گئی چہرہ وہ چاند سا دیکھے
مرے سکوت سے جس کو گِلے رہے کیا کیا
بچھڑتے وقت ان آنکھوں کا بولنا دیکھے
بس ایک ریت کا ذّرہ بچا تھا آنکھوں میں
ابھی تلک جو مسافر کا راستہ دیکھے
تیرے سوا بھی کئی رنگ خوش نظر تھے
جو تجھ کو دیکھ چکا ہو وہ اور کیا دیکھے
اُسی سے پوچھے کوئی دشت کی رفاقت جو
جب آنکھ کھولے، پہاڑوں کا سلسلہ دیکھے
تجھے عزیز تھا اور میں نے اُسے جیت لیا
مری طرف بھی تو اِک پل ترا خدا دیکھے
پروین شاکر

زباں سے کچھ نہ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دینا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 13
مرا خاموش رہ کر بھی انھیں سب کچھ سنا دینا
زباں سے کچھ نہ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دینا
نشیمن ہو نہ ہو یہ تو فلک کا مشغلہ ٹھہرا
کہ دو تنکے جہاں پر دیکھنا بجلی گرا دینا
میں اس حالت سے پہنچا حشر والے خود پکار اٹھے
کوئی فریاد والا آ رہا ہے راستہ دینا
اجازت ہو تو کہہ دوں قصۂ الفت سرِ محفل
مگر پہلے خطا پر غور کر لو پھر سزا دینا
ہٹا کر رخ سے گیسو صبح کر دینا تو ممکن ہے
مگر سرکار کے بس میں نہیں تارے چھپا دینا
یہ تہذیبِ چمن بدلی ہے بیرونی ہواؤں نے
گریباں چاک پھولوں پر کلی کا مسکرا دینا
قمر وہ سب سے چھپ کر آ رہے ہیں فاتحہ پڑھنے
کہوں کس سے کہ میری شمع تربت اب بجھا دینا
قمر جلالوی

صبح کا دکھ بڑھا دیا، شام کا دکھ بڑھا دیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 38
ہم تھے نیاز مندِ شوق، شوق نے ہم کو کیا دیا
صبح کا دکھ بڑھا دیا، شام کا دکھ بڑھا دیا
دن میں عذابِ ذات کے، تُو مرا ساتھ بھی تو دے
نیند تھی میری زندگی، تُو نے مجھے جگا دیا
واعظ و زاہد و فقیہہ، تم کو بتائے بھی تو کون
وہ بھی عجیب شخص تھا، جس نے ہمیں خدا دیا
تُو نے بھی اپنے خدّ و خال، جانے کہاں گنوا دیئے
میں نے بھی اپنے خواب کو، جانے کہاں گنوا دیا
جانے وہ کاروانِ جاں، کیوں نہ گزر سکا جسے
تُو نے بھی راستہ دیا، میں نے بھی راستہ دیا
تُو مرا حوصلہ تو دیکھ، میں ہی کب اپنے ساتھ ہوں
تُو مرا کربِ جاں تو دیکھ، میں نے تجھے بھلا دیا
ہم جو گلہ گزار ہیں، کیوں نہ گلہ گزار ہوں
میں نے بھی اس کو کیا دیا، اس نے بھی مجھ کو کیا دیا
قید کے کھل رہے تھے در، وقت تھا دل نواز تر
رنگ کی موج آئی تھی، ہم نے اسے گنوا دیا
ہم بھی خدا سے کم نہیں، جو اسے ماننے لگے
وہ بھی خدا سے کم نہ تھا، جس نے ہمیں خدا دیا
جون ایلیا

اے اندھیری بستیو! تم کو خدا روشن کرے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 267
کوئی بجلی ان خرابوں میں گھٹا روشن کرے
اے اندھیری بستیو! تم کو خدا روشن کرے
ننھے ہونٹوں پر کھلیں معصوم لفظوں کے گلاب
اور ماتھے پر کوئی حرفِ دُعا روشن کرے
زرد چہروں پر بھی چمکے‘ سرخ جذبوں کی دھنک
سانولے ہاتھوں کو بھی رنگِ حنا روشن کرے
ایک لڑکا شہر کی رونق میں سب کچھ بھول جائے
ایک بڑھیا روز چوکھٹ پر دیا روشن کرے
خیر‘ اگر تم سے نہ جل پائیں وفاؤں کے چراغ
تم بجھانا مت جو کوئی دوسرا روشن کرے
آگ جلتی چھوڑ آئے ہو تو اب کیا فکر ہے
جانے کتنے شہر یہ پاگل ہوا روشن کرے
دل ہی فانوسِ وفا‘ دل ہی خس و خارِ ہوس
دیکھنا یہ ہے کہ اس کا قرب کیا روشن کرے
یا تو اس جنگل میں نکلے چاند تیرے نام کا
یا مرا ہی لفظ میرا راستہ روشن کرے
عرفان صدیقی

میں چپ رہوں تو یہ بھولی ہوئی صدا بھی نہ آئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 241
سماعتوں میں کوئی حرف آشنا بھی نہ آئے
میں چپ رہوں تو یہ بھولی ہوئی صدا بھی نہ آئے
ہوا کا حکم ہو سب کچھ تو اس کنارے تک
یہ جلتے بجھتے چراغوں کا سلسلہ بھی نہ آئے
تمام خانہ خرابوں سے ہو گئیں آباد
وہ بستیاں جو ترے دربدر بسا بھی نہ آئے
تو کیا خراب ہی کی جائے یہ خدا کی زمیں
تو کیا دمشق کے جادے میں کربلا بھی نہ آئے
کبھی نہ ختم ہو یہ جنگلوں کی ہم سفری
میں تیرے ساتھ چلوں اور راستہ بھی نہ آئے
مجھے قبول نہیں ہے یہ عرض حال کی شرط
کہ میں سخن بھی کروں اور مدعا بھی نہ آئے
عرفان صدیقی

ستارہ ڈوبے ستارہ نما نکل آئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 238
زوالِ شب میں کسی کی صدا نکل آئے
ستارہ ڈوبے ستارہ نما نکل آئے
عجب نہیں کہ یہ دریا نظر کا دھوکا ہو
عجب نہیں کہ کوئی راستہ نکل آئے
یہ کس نے دستِ بریدہ کی فصل بوئی تھی
تمام شہر میں نخلِ دُعا نکل آئے
بڑی گھٹن ہے‘ چراغوں کا کیا خیال کروں
اب اس طرف کوئی موجِ ہوا نکل آئے
خدا کرے صفِ سر دادگاں نہ ہو خالی
جو میں گروں تو کوئی دوسرا نکل آئے
عرفان صدیقی

چلنے لگے تو راستہ تقسیم ہو گیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 129
دونوں طرف ذرا ذرا تقسیم ہو گیا
چلنے لگے تو راستہ تقسیم ہو گیا
کچھ دیدئہ سیاہ میں کچھ تیرہ بخت میں
کاجل شبِ فراق کا تقسیم ہو گیا
پہلے پہل تو ہنس پڑے سن کر کسی کی بات
پھر آنسوئوں میں حوصلہ تقسیم ہو گیا
خود کو کیا تھا جمع بڑی مشکلوں کے ساتھ
پھر کرچیوں میں بٹ گیا تقسیم ہو گیا
محسوس یوں ہوا کسی زلفِ سیہ کا لمس
شانوں پہ جیسے ابر سا تقسیم ہو گیا
منصور یادِ یار کے انبوہ میں کہیں
وہ دل جو دوست اپنا تھا تقسیم ہو گیا
منصور آفاق

دشتِکُن میں چشمۂ حمد و ثنا احمد رضا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 33
صبح دم شہرِ مدنیہ کی ہوا احمد رضا
دشتِکُن میں چشمۂ حمد و ثنا احمد رضا
حمد کی بہتی کرن وہ نعت کی اجلی شعاع
مدحتوں کے باغ کی بادِصبا احمد رضا
زندہ و جاوید رکھتا ہے انہیں عشقِ رسول
عشق کی بابت فنا نا آشنا احمد رضا
یہ سرِ فہرست عشاقِ محمدمیں ہے کون ؟
پوچھنے والے نے پھر خود ہی کہا احمد رضا
خانہ ء تاریک میں بھر دے اجالے لفظ سے
فیض کا سر چشمۂ صدق و صفا احمد رضا
کنزالایماں سے منور صحنِ اردو ہو گیا
آیتوں کا اختتامِ ترجمہ احمد رضا
روک دیتے ہیں بہارِ حکمت و عرفان سے
بد عقیدہ موسموں کا سلسلہ احمد رضا
آسماں کی بے کراں چھاتی پہ روز حشر تک
صبح نے کرنوں سے اپنی، لکھ دیا، احمد رضا
جل اٹھے ان سے سبھی علمِ عقائد کے چراغ
راستی کا روشنی کا راستہ احمد رضا
صاحبِ علم الکلام و حاملِ علم شعور
حاصلِ عہد علومِ فلسفہ احمد رضا
عالمِ علم لدنی ، عاملِ تسخیرِ ذات
روح و جاں میں قربِ احساسِ خدا احمد رضا
وہ صفاتِ حرف کی رو سے مخارج کے امیں
محرمِ احکامِ تجوید و نوا احمد رضا
بابتِ تفسیر قرآں جانتے تھے ایک ایک
معنی و تفہیمِ الہامِ الہ احمد رضا
وہ روایت اور درایت آشنا شیخ الحدیث
علمِ احوالِ نبی کے نابغہ احمد رضا
مالکی وشافعی ہوں یا کہ حنفی حنبلی
فقہ اربعہ پہ حرف انتہا احمد رضا
علمِ استخراجیہ ہویا کہ استقرائیہ
دیدہ ء منطق میں ہے چہرہ نما احمد رضا
علم ہندسہ و ریاضی کے نئے ادوار میں
موئے اقلیدس کی اشکال و ادا احمد رضا
علم جامع و جفر کی ہر ریاضت گاہ میں
جو ہرِ اعداد کی صوت و صدا احمد رضا
وہ بروج فلکیہ میں انتقال شمس ہیں
صاحبِعلمِ نجوم و زائچہ احمد رضا
وقت کی تاریخ ان کے ہاتھ پر تحریر ہے
جانتے ہیں سرگزشتِ ماجرا احمد رضا
روشنی علمِ تصوف کی انہی کی ذات سے
کثرتِ جاں میں لبِ وحدت سرا احمد رضا
حرفِ آخر تھے وہی عربی ادب پر ہند میں
والی ء تختِ علوم عربیہ احمد رضا
علمِ جاں ، علمِ فضائلِ علمِ لغت ،علم سیر
در علومِ خیرتجسیمِ ضیا احمد رضا
آسمانِ معرفت ، علمِ سلوک وکشف میں
منظرِبدرالدجیٰ ، شمس الضحیٰ احمد رضا
صبحِ عرفانِ الہی ، عابد شب زندہ دار
مسجدِ یاد خدا و مصطفی احمد رضا
عجز کا پندار ہے میرے قلم کی آنکھ میں
جو کچھ لکھا میں نے، کہیں اُس سے سوا احمد رضا
ٹوٹے پھوٹے لفظ تیری بارگاہ میں پیش ہیں
گرقبول افتدزہے عزوعطا احمد رضا
اعلی حضرت اہلِ سنت کے امام و پیشوا
اک نگہ مجھ پہ کرم کی اک نگہ احمد رضا
منصور آفاق

رنگ آنکھوں میں آ گیا دل کا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 47
ہم چھپائیں گے بھید کیا دل کا
رنگ آنکھوں میں آ گیا دل کا
زندگی تیرگی میں ڈوب گئی
ہم جلاتے رہے دیا دل کا
تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا
زندگی بھر کوئی پتہ نہ چلا
دور گردوں کا، آپ کا، دل کا
وقت اور زندگی کا آئینہ
نوک غم اور آبلہ دل کا
آنکھ کھلتے ہی سامنے باقیؔ
ایک سنسان دشت تھا دل کا
باقی صدیقی