ٹیگ کے محفوظات: دشمنی

آخ تھو! اس قدر بےبسی! آخ تھو

مسئلوں میں گھری زندگی، آخ تھو
آخ تھو! اس قدر بےبسی! آخ تھو
بھائیو! صبر سے، ہوش سے کام لو
اور مل کر کہو! عاشقی! آخ تھو
دوستوں کی محبت بڑی چیز ہے
دوستوں سے دغا! دشمنی! آخ تھو
چھوڑنے کا نہیں چاہے دنیا کہے
دل بری آخ تھو! شاعری آخ تھو!
بک گیا چار پیسوں کے لالچ میں تو
تجھ پہ مذہب شکن مولوی، آخ تھو!
اتنی آساں نہیں جتنی لگتی ہے یہ
چاہے آساں بھی ہو، خودکشی؟ آخ تھو
منھ بھی کڑوا ہوا، دل بھی میلا ہوا
باتیں سن کے تری شیخ جی! آخ تھو
افتخار فلک

کہ طوق ڈالا ہے میری گردن میں بندگی کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
ملا ہے فیضان یہ خداؤں کی برتری کا
کہ طوق ڈالا ہے میری گردن میں بندگی کا
بدستِ انساں عَلَم جہاں امن کا گڑا ہے
لٹک رہا ہے وہیں پرندہ بھی آشتی کا
کُھلی فضاؤں کی راہ جو بھی کوئی سجھائے
اُسی پہ آنے لگا ہے الزام گمُرہی کا
پڑے نہ زد جس پہ بات ساری مفاد کی ہے
جواز سیدھا سا ایک ہی تو ہے دشمنی کا
دلوں کے اندر ہی پائے جاتے ہیں نقش ایسے
نشان ماتھوں پہ کب ملا ہے درندگی کا
نہ تا ابد غرقِ نیل ہو کر بھی باز آئے
ہُوا ہے لپکا جسے خدا سے برابری کا
نظر کا آشوب جب تلک ہے نہ جا سکے گا
ہمیں لگا ہے جو روگ ماجدؔ سخنوری کا
ماجد صدیقی

اس تشنگی میں ضم ہوئے کتنے خُمِ آسودگی

نینا عادل ۔ غزل نمبر 4
دل ہے سرودِ سرکشی، رقصِ جنوں ہے زندگی
اس تشنگی میں ضم ہوئے کتنے خُمِ آسودگی
اے یارِ من، اے دل ستاں، اس آبسالِ دہر میں
ہے آشنا تجھ سا کوئی نا کوئی تجھ سا اجنبی
وہ رات کی آغوش میں مدھم ستارہ خواب کا
کرتا ہے گاہے تیرگی، دیتا ہے گاہے روشنی
آب و ہوائے شوق وہ جس میں نہائیں بارشیں
سینکے ہے جس کو دھوپ خود، ہے آگ جس کو تاپتی
یا رقص اندر رقص ہو، یا نغمگی در نغمگی
یا بات جیسی بات ہو یا خامشی سی خامشی
دادِ ہنر کے واسطے روتا نہیں فن کار خوں
فن ہے خدا اس کے لیے، فن ہی حیات دائمی
ہم خواب زاروں میں بسے ہیں دو جہاں سے بے خبر
کیا دوستوں کی دوستی، کیا دشمنوں کی دشمنی
لفظ وبیاں کے درمیاں اک رنگِ نا تمثال میں
روحِ وفا کا کرب ہے نیناؔ ؔکی ساری شاعری
نینا عادل

ترے منہ پر کہی تیری مرے منہ پر کہی میری

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 93
یہ آئینے کی سازش تھی کچھ خطا بھی نہ تھی میری
ترے منہ پر کہی تیری مرے منہ پر کہی میری
تعلق مجھ سے کیا اے درد کیوں مجھ کو ستاتا ہے
نہ تجھ سے دوستی میری نہ تجھ سے دشمنی میری
لڑکپن دیکھئے گلگشت میں وہ مجھ سے کہتے ہیں
چمن میں پھول جتنے ہیں وہ سب تیرے کلی میری
کوئی اتنا نہیں ہے آ کے جو دو پھول رکھ جائے
قمر تربت پر بیٹھی رو رہی ہے بے کسی میری
قمر جلالوی

مرا مرنا بھی تو میری خوشی سے ہو نہیں سکتا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 3
محبت میں کرے کیا کچھ کسی سے ہو نہیں سکتا
مرا مرنا بھی تو میری خوشی سے ہو نہیں سکتا
کیا ہے وعدہ فردا انہوں نے دیکھئے کیا ہو
یہاں صبر و تحمل آج ہی سے ہو نہیں سکتا
چمن میں ناز بلبل نے کیا جب اپنے نالے پر
چٹک کر غنچہ بولا کیا کسی سے ہو نہیں سکتا
نہ رونا ہے طریقہ کا نہ ہنسنا ہے سلیقےکا
پریشانی میں کوئی کا جی سے ہو نہیں سکتا
ہوا ہوں اس قدر محبوب عرض مدعا کر کے
اب تو عذر بھی شرمندگی سے ہو نہیں سکتا
خدا جب دوست ہے اے داغ کیا دشمن سے اندیشہ
ہمارا کچھ کسی کی دشمنی سے ہو نہیں سکتا
داغ دہلوی

کیا محبت نے دشمنی کی ہے

دیوان ششم غزل 1877
عشق میں ہم نے جاں کنی کی ہے
کیا محبت نے دشمنی کی ہے
کیسی سرخ و سفید نکلی تھی
مے مگر دختر ارمنی کی ہے
بید سا کیوں نہ سوکھ جائوں میں
دیر مجنوں سے ہم فنی کی ہے
اس پریشان کو نشانہ کر
یار نے جمع افگنی کی ہے
کر دیا خاک آسماں نے ہمیں
یہ بھی ہمت اسی دنی کی ہے
تکیہ ویراں فقیر کا بھی ہو
یاں خرابی بہت غنی کی ہے
قافلہ لٹ گیا جو آنسو کا
عشق نے میر رہزنی کی ہے
میر تقی میر

ہووے پیوند زمیں یہ رفتنی

دیوان پنجم غزل 1730
بسکہ ہے گردون دوں پرور دنی
ہووے پیوند زمیں یہ رفتنی
بزم میں سے اب تو چل اے رشک صبح
شمع کے منھ پر پھری ہے مردنی
میں چراغ صبح گاہی ہوں نسیم
مجھ سے اک دم کے لیے کیا دشمنی
مجھ سا محنت کش محبت میں نہیں
ہر زماں کرتا رہا ہوں جاں کنی
کچھ گدا شاعر نہیں ہوں میر میں
تھا مرا سرمشق دیوان غنیؔ
میر تقی میر

ہر ایک چشمِ تماشا سے دشمنی ہوئی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 628
یہ کیا چراغِ تمنا کی روشنی ہوئی ہے
ہر ایک چشمِ تماشا سے دشمنی ہوئی ہے
تُو چشمِ ہجر کی رنگت پہ تبصرہ مت کر
یہ انتظار کے جاڑے میں جامنی ہوئی ہے
نہ پوچھ مجھ سے طوالت اک ایک لکنت کی
یہ گفتگو کئی برسوں میں گفتنی ہوئی ہے
چمکتی ہے کبھی بجلی تو لگتا ہے شاید
یہیں کہیں کوئی تصویر سی بنی ہوئی ہے
ابھی سے کس لیے رکھتے ہو بام پر آنکھیں
ابھی تو رات کی مہتاب سے ٹھنی ہوئی ہے
ابھی نکال نہ کچھ انگلیوں کی پوروں سے
ابھی یہ تارِ رگ جاں ذرا تنی ہوئی ہے
شراب خانے سے کھلنے لگے ہیں آنکھوں میں
شعاعِ شام سیہ، ابر سے چھنی ہوئی ہے
نظر کے ساتھ سنبھلتا ہوا گرا پلو
مری نگاہ سے بے باک اوڑھنی ہوئی ہے
کچھ اور درد کے بادل اٹھے ترے در سے
کچھ اور بھادوں بھری تیرگی گھنی ہوئی ہے
کلی کلی کی پلک پر ہیں رات کے آنسو
یہ میرے باغ میں کیسی شگفتنی ہوئی ہے
اک ایک انگ میں برقِ رواں دکھائی دے
کسی کے قرب سے پیدا وہ سنسنی ہوئی ہے
جنوں نواز بہت دشتِ غم سہی لیکن
مرے علاوہ کہاں چاک دامنی ہوئی ہے
میں رنگ رنگ ہوا ہوں دیارِ خوشبو میں
لٹاتی پھرتی ہے کیا کیا، ہوا غنی ہوئی ہے
سکوتِ دل میں عجب ارتعاش ہے منصور
یہ لگ رہا ہے دوبارہ نقب زنی ہوئی ہے
منصور آفاق