ٹیگ کے محفوظات: خیال

شاطِر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف

کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف
شاطِر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف
تیرے یہ سارے شعبدے میرے لیے نہیں نئے
کر کے دکھا کبھی مجھے کوئی کمال مختلف
لگتے ہیں یہ جو کامیاب ہیں جیسے آب پر حباب
پیشِ نگہ انہیں نہ رکھ ڈھونڈ مثال مختلف
جن کو ملیں بلندیاں دیکھیں اُنہوں نے پستیاں
ہوتی ہے ہر دفعہ مگر وجہِ زوال مختلف
تو نے کہی سُنی سُنائی مجھ سے سُنی سُنائی سُن
چاہے اگر نئے جواب پوچھ سوال مختلف
میری بہار اور خزاں میرے لہو میں ہے نہاں
مریخ و ارض سے مرے ہیں ماہ و سال مختلف
ایسی چلی دمِ سحر شام تلک کیا نہال
بادِ صبا سے تھی بہت موجِ خیال مختلف
باصر کاظمی

اور لمبی خیال کی گھڑیاں

مختصر ہیں وصال کی گھڑیاں
اور لمبی خیال کی گھڑیاں
آپ تھے ہم تھے اور تنہائی
وہ بھی تھیں کیا کمال کی گھڑیاں
آگ بھڑکا گئیں مرے دل کی
موسمِ برشگال کی گھڑیاں
چڑھتے سورج تُو اب تو آنکھیں کھول
سر پہ آئیں زوال کی گھڑیاں
ہر نیا سال ہم سے کہتا ہے
خوب تھیں پچھلے سال کی گھڑیاں
باصر کاظمی

جبھی تو تیرے نہ ملنے کا کچھ ملال نہ تھا

میں جانتا ہوں کہ ملنا ترا محال نہ تھا
جبھی تو تیرے نہ ملنے کا کچھ ملال نہ تھا
مجھے تو صرف ترا پیار کھینچ لایا ہے
یہاں رقیب بھی ہوں گے مجھے خیال نہ تھا
خود اپنے آپ سے میں نے شکست کھائی تھی
مری شکست میں تیرا کوئی کمال نہ تھا
خراب حال بہر حال کوئی حال تو ہے
وہ دن بھی یاد ہیں جب اپنا کوئی حال نہ تھا
اُسی کے ہو گئے جس راستے پہ چل نکلے
سدا سے اپنی طبیعت میں اعتدال نہ تھا
گِلہ فضول ہے مُرجھا گیا جو نخلِ عشق
جو اِس زمین میں اُگتا یہ وہ نہال نہ تھا
باصر کاظمی

کیا کیا نہ ہمیں خیال آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
محتاج کو جب سے ٹال آئے
کیا کیا نہ ہمیں خیال آئے
کیا یہ بھی اثر ہے بددُعا کا
سُورج کو جو نت زوال آئے
ہے نام کا بھی جو شیرِ بیشہ
گیدڑ کی اُسے نہ چال آئے
ہے جس کے قلم میں عدلِ دوراں
کیونکر نہ اُسے جلال آئے
اُس شخص سے خیر کی طلب کیا
ماجدؔ، جِسے دیکھ بھال آئے
ماجد صدیقی

لمحہ لمحہ ہُوا ہے سال اپنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
گفتنی اِس قدر ہے حال اپنا
لمحہ لمحہ ہُوا ہے سال اپنا
تشنہ لب تھے جو کھیت اُن کو بھی
ابر دکھلا گیا جلال اپنا
بیچ کر ہی اٹھے وہ منڈی سے
تھے لگائے ہوئے جو مال اپنا
دیکھتے ہی غرور منصف کا
ہم پہ کُھلنے لگا مآل اپنا
موج یُوں مہرباں ہے ناؤ پر
پھینکنے کو ہو جیسے جال اپنا
ظرف کس کس کا جانچ لے پہلے
کس پہ کھولے کوئی کمال اپنا
رَد کیا ہے ہمیں جب اُس نے ہی
آئے ماجدؔ کہاں خیال اپنا
ماجد صدیقی

کس کا رہنے لگا خیال ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 77
روز و شب ہے یہ کیا ملال ہمیں
کس کا رہنے لگا خیال ہمیں
پھر کوئی شوخ دل کے درپے ہیں
اے غمِ زندگی سنبھال ہمیں
تیغ دوراں کے وار سہنے کو
ڈھونڈنی ہے کوئی تو ڈھال ہمیں
شہ پیادوں سے جس سے مر جائیں
جانے سُوجھے گی کب وہ چال ہمیں
کسمساتا ہے جسم جس کے لئے
ملنے پایا نہ پھر وہ مال ہمیں
بار شاخوں سے جھاڑ کر ماجدؔ
گرد دیتے ہیں ماہ و سال ہمیں
ماجد صدیقی

وہی سہم سا وہی خوف سا ہے خیال میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 88
دمِ صید فرق پڑے جو پائے غزال میں
وہی سہم سا وہی خوف سا ہے خیال میں
بڑی بے نیاز رعونتوں کا شکار ہیں
وہ نزاکتیں کہ دبی ہیں اپنے سوال میں
اِسے کس صلابتِ عزم کی میں عطا کہوں
یہ جو تازگی سی ہے آرزو کے جمال میں
وہ تو اُڑ گیا کہ پناہ جس کو بہم ہوئی
پہ لگا جو تیر، لگا درخت کی چھال میں
وہ نشہ کہ بعدِ شکار آئے پلنگ کو
وہی رم امڈنے لگا ہے فکرِ مآل میں
تجھے کیا خیال ہے یہ بھی ماجدِبے خبر!
کہ گھری ہوئی تری جاں بھی ہے کسی جال میں
ماجد صدیقی

میانِ قامت و رُخ جُوں سجے ہیں گال ترے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
افق پہ ذہن کے موزوں ہیں یُوں خیال ترے
میانِ قامت و رُخ جُوں سجے ہیں گال ترے
یہ دشتِ دید ترستا ہے کیوں نظر کو تری
بہ قیدِ چشم ہیں کیوں کر ابھی غزال ترے
گمان‘ برگ و ثمر پر ترا ہی صبح و مسا
خطوطِ حُسن ہویدا ہیں‘ ڈال ڈال ترے
ہرا بھرا ترے دم سے ہے گُلستانِ خیال
بہ کشتِ یاد فسانے ہیں چھال چھال ترے
اُسی سے رقص میں ہے شاخِ آرزوئے وصال
ہیں جس ہوا سے شگفتہ یہ ماہ و سال ترے
نکلنے دیں گے کہاں حلقۂ ضیا سے مُجھے
سحر نما یہ کرشمے ترے، خیال ترے
کبھی یہ شعر بھی ماجدؔ کے دیکھنا تو سہی
نقوش اِن میں بھی اُترے ہیں خال خال ترے
ماجد صدیقی

آنے لگا ہے حرف، چمن کے جمال پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
مجھ برگِ خشک سے کہ ابھی ہوں جو ڈال پر
آنے لگا ہے حرف، چمن کے جمال پر
ممنوع جب سے آبِ فراتِ نمو ہوا
کیا کچھ گئی ہے بِیت، گلستاں کی آل پر
مانندِ زخم، محو شجر سے بھی ہو گئے
چاقو کے ساتھ نام کھُدے تھے جو چھال پر
گُرگانِ باتمیز بھی ملتے ہیں کُچھ یہاں
کیجے نہ اعتبار دکھاوے کی کھال پر
ماجدؔ رہیں نصیب یہ دانائیاں اُنہیں
قدغن لگا رہے ہیں جو برقِ خیال پر
ماجد صدیقی

مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 141
اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے
مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے
محبتوں میں تو ملنا ہے یا اجڑ جانا
مزاجِ عشق میں کب اعتدال رکھا ہے
ہوا میں نشہ ہی نشہ فضا میں رنگ ہی رنگ
یہ کس نے پیرہن اپنا اچھال رکھا ہے
بھلے دنوں کا بھروسا ہی کیا رہیں نہ رہیں
سو میں نے رشتہ غم کو بحال رکھا ہے
ہم ایسے سادہ دلوں کو وہ دوست ہو کہ خدا
سبھی نے وعدہ فردا پہ ٹال رکھا ہے
حسابِ لطفِ حریفاں کیا ہے جب تو کھلا
کہ دوستوں نے زیادہ خیال رکھا ہے
بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلاب
کہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے
فراز عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی
یہ کس نے فتنہ ہجر و وصال رکھا ہے
احمد فراز

وہ چارہ گر تو ہے اس کو خیال جو بھی ہو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 54
چلو اسی سے کہیں دل کا حال جو بھی ہو
وہ چارہ گر تو ہے اس کو خیال جو بھی ہو
اسی کے درد سے ملتے ہیں سلسلے جاں کے
اسی کے نام لگا دو ملال جو بھی ہو
مرے نہ ہار کے ہم قیس و کوہکن کی طرح
اب عاشقی میں ہماری مثال جو بھی ہو
یہ رہ گزر پہ جو شمعیں دمکتی جاتی ہیں
اسی کا قامتِ زیبا ہے، چال جو بھی ہو
فراز اس نے وفا کی یا بے وفائی کی
جوابدہ تو ہمیں ہیں سوال جو بھی ہو
احمد فراز

گزار دیں گے یونہی کیا یہ ماہ و سال مجھے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 73
ڈرا رہا ہے مسلسل یہی سوال مجھے
گزار دیں گے یونہی کیا یہ ماہ و سال مجھے
بچھڑتے وقت اضافہ نہ اپنے رنج میں کر
یہی سمجھ کہ ہوا ہے بہت ملال مجھے
وہ شہرِ ہجر عجب شہرِ پُر تحیر تھا
بہت دنوں میں تو آیا ترا خیال مجھے
تُو میرے خواب کو عجلت میں رائگاں نہ سمجھ
ابھی سخن گہِ امکاں سے مت نکال مجھے
کسے خبر کہ تہِ خاک آگ زندہ ہو
ذرا سی دیر ٹھہر ، اور دیکھ بھال مجھے
کہاں کا وصل کہ اس شہرِ پُر فشار میں اب
ترا فراق بھی لگنے لگا محال مجھے
اِسی کے دم سے تو قائم ابھی ہے تارِ نفس
یہ اک امید کہ رکھتی ہے پُر سوال مجھے
کہوں میں تازہ غزل اے ہوائے تازہ دلی
ذرا سی دیر کو رکھے جو تُو بحال مجھے
خرامِ عمر کسی شہرِ پُر ملال کو چل
کیے ہوئے ہے یہ آسودگی نڈھال مجھے
کہاں سے لائیں بھلا ہم جوازِ ہم سفری
تجھے عزیز ترے خواب، میرا حال مجھے
اُبھر رہا ہوں میں سطحِ عدم سے نقش بہ نقش
تری ہی جلوہ گری ہوں ذرا اُجال مجھے
یہاں تو حبس بہت ہے سو گردِ بادِ جنوں
مدارِ وقت سے باہر کہیں اچھال مجھے
پھر اس کے بعد نہ تُو ہے، نہ یہ چراغ، نہ میں
سحر کی پہلی کرن تک ذرا سنبھال مجھے
عرفان ستار

بچھڑ گئے تو پھر ترا خیال کیوں نہیں رہا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 15
شکستِ خواب کا ہمیں ملال کیوں نہیں رہا
بچھڑ گئے تو پھر ترا خیال کیوں نہیں رہا
اگر یہ عشق ہے تو پھر وہ شدتیں کہاں گئیں
اگر یہ وصل ہے تو پھر محال کیوں نہیں رہا
وہ زلف زلف رات کیوں بکھر بکھر کے رہ گئی
وہ خواب خواب سلسلہ بحال کیوں نہیں رہا
وہ سایہ جو بجھا تو کیا بدن بھی ساتھ بجھ گیا
نظر کو تیرگی کا اب ملال کیوں نہیں رہا
وہ دور جس میں آگہی کے در کھلے تھے کیا ہوا
زوال تھا تو عمر بھر زوال کیوں نہیں رہا
کہیں سے نقش بجھ گئے کہیں سے رنگ اڑ گئے
یہ دل ترے خیال کو سنبھال کیوں نہیں رہا
عرفان ستار

جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 223
کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے
جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے
میں سکون پا سکوں گا یہ گماں بھی کیوں کیا تھا
ہے یہی ملال کیا کم کہ ملال اب نہیں ہے
نہ رہے اب اس کے دل میں خلشِ شکستِ وعدہ
کہ یہاں کوئی حسابِ مہ و سال اب نہیں ہے
یہ دیارِ دید کیا ہے گئے دشتِ دل سے بھی ہم
کہ ختن زمین میں بھی وہ غزال اب نہیں ہے
جو لیے لیے پھری ہے تجھے روز اک نگر میں
مرے دل ترے نگر میں وہ مثال اب نہیں ہے
لبِ پُرسوال لے کے ہمیں کُوبہ کُو ہے پِھرنا
ہو کوئی جواب برلب یہ سوال اب نہیں ہے
جون ایلیا

اُس کو خیال بھی نہیں، اپنا خیال بھی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 135
حال یہ ہے کہ خواہشِ پُرسشِ حال بھی نہیں
اُس کو خیال بھی نہیں، اپنا خیال بھی نہیں
اے شجرِ حیاتِ شوق، ایسی خزاں رسیدگی؟
پوششِ برگ و گُل تو کیا، جسم پہ چھال بھی نہیں
مُجھ میں وہ شخص ہو چکا جس کا کوئی حساب تھا
سُود ہی کیا، زیاں ہے کیا، اس کا سوال بھی نہیں
مست ہیں اپنے حال میں دل زدگان و دلبراں
صُلح و سلام تو کُجا، بحث و جدال بھی نہیں
تُو میرا حوصلہ تو دیکھ، داد تو دے کہ اب مجھے
شوقِ کمال بھی نہیں، خوفِ زوال بھی نہیں
خیمہ گہ نگاہ کو لوٹ لیا گیا ہے کیا؟
آج افق کے دوش پر گرد کی شال بھی نہیں
اف یہ فضا سے احتیاط تا کہیں اڑ نہ جائیں ہم
بادِ جنوب بھی نہیں، بادِ شمال بھی نہیں
وجہ معاشِ بے دلاں، یاس ہے اب مگر کہاں
اس کے درود کا گماں، فرضِ محال بھی نہیں
غارتِ روز و شب کو دیکھ، وقت کا یہ غضب تو دیکھ
کل تو نڈھال بھی تھا میں، آج نڈھال بھی نہیں
میرے زبان و ذات کا ہے یہ معاملہ کہ اب
صبحِ فراق بھی نہیں، شامِ وصال بھی نہیں
پہلے ہمارے ذہن میں حسن کی اک مثال تھی
اب تو ہمارے ذہن میں کوئی مثال بھی نہیں
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
جون ایلیا

اب کہیں اوج پر نہیں تیرا خیال شہر میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 105
رو بہ زوال ہو گئی مستی حال شہر میں
اب کہیں اوج پر نہیں تیرا خیال شہر میں
یہ جو کراہتے ہوئے لوٹ رہے ہیں شہر سے
خوب دکھا کے آئے ہیں اپنا کمال شہر میں
شہر وفا میں ہر طرف سود و زیاں کی ہے شمار
لائیں گے اب کہاں سے ہم کوئی مثال شہر میں
حالت گفتگو نہیں عشرت آرزو نہیں
کتنی اداس آئی ہے شام وصال شہر میں
خاک نشیں ترے تمام خانہ نشین ہو گئے
چار طرف ہے اڑ رہی گرد ملال شہر میں
جون ایلیا

بس ایک خیال چاہیے تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 33
کب اس کا وصال چاہیے تھا
بس ایک خیال چاہیے تھا
کب دل کو جواب سے غرض تھی
ہونٹوں کو سوال چاہیے تھا
شوق ایک نفس تھا اور وفا کو
پاسِ مہ و سال چاہیے تھا
اک چہرۂِ سادہ تھا جو ہم کو
بے مثل و مثال چاہیے تھا
اک کرب میں ذات و زندگی ہیں
ممکن کو محال چاہیے تھا
میں کیا ہوں بس ملالِ ماضی
اس شخص کو حال چاہیے تھا
ہم تم جو بچھڑ گئے ہیں ہم کو
کچھ دن تو ملال چاہیے تھا
وہ جسم جمال تھا سراپا
اور مجھ کو جمال چاہیے تھا
وہ شوخِ رمیدہ مجھ کو اپنی
بانہوں میں نڈھال چاہیے تھا
تھا وہ جو کمالِ شوقِ وصلت
خواہش کو زوال چاہیے تھا
جو لمحہ بہ لمحہ مل رہا ہے
وہ سال بہ سال چاہیے تھا
جون ایلیا

آئینہ بے مثال کِس کا تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 27
وہ خیالِ مُحال کِس کا تھا
آئینہ بے مثال کِس کا تھا
سفری اپنے آپ سے تھا میں
ہجر کِس کا۔۔وصال کِس کا تھا
میں تو خود میں کہیں نہ تھا موجود
میرے لب پر سوال کِس کا تھا
تھی مری ذات اک خیال آشوب
جانے میں ہم خیال کِس کا تھا
جب کہ میں ہر نفس تھا بے احوال
وہ جو تھا میرا حال کِس کا تھا
دوپہر! بادِ تُند! کوچہء یار!
وہ غبارِ ملال کِس کا تھا
جون ایلیا

شاید وہ میرا خوب تھا، شاید خیال تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 26
افسانہ ساز جس کا فراق و وصال تھا
شاید وہ میرا خوب تھا، شاید خیال تھا
یادش بخیر زخمِ تمنا کی فصلِ رنگ
بعد اس کے ہم تھے اور غمِ اندمال تھا
دشتِ گماں میں نالہءِ لیلیٰ تھا گرم خیز
شہرِ زیاں میں قیس اسیرِ عیال تھا
خونِ جگر کھپا کے مصور نے یک نظر
دیکھا تو اک مرقعِ بے خدّ و خال تھا
کل شورِ عرض گاہِ سوال و جواب میں
جو بھی خموش تھا وہ عجب باکمال تھا
ہم ایک بےگذشتِ زمانہ زمانے میں
تھے حال مستِ خال جو ہر دم بحال تھا
پُرحال تھا وہ شب مرے آغوش میں مگر
اس حال میں بھی اس کا تقرّب محال تھا
تھا مست اس کے ناف پیالے کا میرا دل
اس لب کی آرزو میں مرا رنگ لال تھا
اس کے عروج کی تھی بہت آرزو ہمیں
جس کے عروج میں ہی ہمارا زوال تھا
اب کیا حسابِ رفتہ و آئندہ ءِ گماں
اک لمحہ تھا جو روز و شب و ماہ و سال تھا
کل ایک قصرِ عیش میں بزمِ سخن تھی جون
جو کچھ بھی تھا وہاں وہ غریبوں کا مال تھا
جون ایلیا

اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 270
حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے
اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہے
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچّھا ہے
بے طلب دیں تو مزہ اس میں سوا ملتا ہے
وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچّھا ہے
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے
دیکھیے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے
ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کیا
جس طرح کا کہ@ کسی میں ہو کمال اچّھا ہے
قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے
کام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ مآل اچّھا ہے
خضر سلطاں کو رکھے خالقِ اکبر سر سبز
شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچّھا ہے
ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچّھا ہے
@ نسخۂ مہر میں "جس طرح کا بھی”
مرزا اسد اللہ خان غالب

خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 252
گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
کس کو سناؤں حسرتِ اظہار کا گلہ
دل فردِ جمع و خرچِ زباں ہائے لال ہے
کس پردے میں ہے آئینہ پرداز اے خدا
رحمت کہ عذر خواہ لبِ بے سوال ہے
ہے ہے خدا نہ خواستہ وہ اور دشمنی
اے شوقِ منفعل! یہ تجھے کیا خیال ہے
مشکیں لباسِ کعبہ علی کے قدم سے جان
نافِ زمین ہے نہ کہ نافِ غزال ہے
وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا
دریا زمین کو عرقِ انفعال ہے
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ
عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 157
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں
فرصتِ کاروبارِ شوق کسے
ذوقِ نظارۂ جمال کہاں
دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا
شورِ سودائے خطّ و خال کہاں
تھی وہ اک شخص کے تصّور سے
اب وہ رعنائیِ خیال کہاں
ایسا آساں نہیں لہو رونا
دل میں طاقت، جگر میں حال کہاں
ہم سے چھوٹا "قمار خانۂ عشق”
واں جو جاویں، گرہ میں مال کہاں
فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں
میں کہاں اور یہ وبال کہاں
مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
وہ عناصر میں اعتدال کہاں
مرزا اسد اللہ خان غالب

مستجمع جمیع صفات و کمال کا

دیوان پنجم غزل 1534
دل رفتۂ جمال ہے اس ذوالجلال کا
مستجمع جمیع صفات و کمال کا
ادراک کو ہے ذات مقدس میں دخل کیا
اودھر نہیں گذار گمان و خیال کا
حیرت سے عارفوں کو نہیں راہ معرفت
حال اور کچھ ہے یاں انھوں کے حال و قال کا
ہے قسمت زمین و فلک سے غرض نمود
جلوہ وگرنہ سب میں ہے اس کے جمال کا
مرنے کا بھی خیال رہے میر اگر تجھے
ہے اشتیاق جان جہاں کے وصال کا
میر تقی میر

دنبالہ گرد چشم سیاہ غزال تھا

دیوان سوم غزل 1095
کیا میر دل شکستہ بھی وحشی مثال تھا
دنبالہ گرد چشم سیاہ غزال تھا
آخر کو خواب مرگ ہمیں جا سے لے گئی
جی دیتے تک بھی سر میں اسی کا خیال تھا
میں جو کہا کہ دل کو تو تم نے ہرا دیا
بولا کہ ذوق اپنا ہمارا ہی مال تھا
سرو اس طرف کو جیسے گنہگار تھا کھڑا
اودھر جو آب جو کے وہ نازک نہال تھا
کیا میرے روزگار کے اہل سخن کی بات
ہر ناقص اپنے زعم میں صاحب کمال تھا
کیا کیا ہوائیں دیدئہ تر سے نظر پڑیں
جب رونے بیٹھ جاتے تھے تب برشکال تھا
کہتے تھے ہم تباہ ہے اب حال میر کا
دیکھا نہ تم نے اس میں بھلا کچھ بھی حال تھا
میر تقی میر

جو کوئی اس کو چاہے ظاہر ہے حال اس کا

دیوان سوم غزل 1088
وہ کم نما و دل ہے شائق کمال اس کا
جو کوئی اس کو چاہے ظاہر ہے حال اس کا
ہم کیا کریں علاقہ جس کو بہت ہے اس سے
رکھ دیتے ہیں گلے پر خنجر نکال اس کا
بس ہو تو وام کر بھی اس پر نثار کریے
یک نقد دل رکھے ہیں سو تو ہے مال اس کا
یہ جانتا تو اس سے ہم خواب میں نہ ہوتا
پکا خیال جی کا ایسا خیال اس کا
ان زلفوں سے نہ لگ کر چل اے نسیم ظالم
تاریک ہے جہاں پھر بکا جو بال اس کا
جس داغ سے کہ عالم ہے مبتلا بلا میں
سو داغ جان عاشق منھ پر ہے خال اس کا
مستانہ ساتھ میرے روتی پھرے ہے بلبل
گل سے جو دل لگا ہے ابتر ہے حال اس کا
میری طرح جھکے ہیں بے خود ہو سرو و گل بھی
دیکھا کہیں چمن میں شاید جمال اس کا
کیا تم کو پیار سے وہ اے میر منھ لگاوے
پہلے ہی چومے تم تو کاٹو ہو گال اس کا
میر تقی میر

دل ہاتھ جو نہ آوے اس کا خیال کیا ہے

دیوان دوم غزل 1031
باریک وہ کمر ہے ایسی کہ بال کیا ہے
دل ہاتھ جو نہ آوے اس کا خیال کیا ہے
جو بے کلی ہے ایسی چاہت گلوں کی اتنی
کیا جانے ہم صفیرو تو اب کے سال کیا ہے
پہنچا بہم علاقہ اے عزلتی کسو سے
کرنا معاش اکیلے اتنا کمال کیا ہے
آغاز تو یہ ہے کچھ روتے ہیں خون ہر دم
کیا جانے عاشقی کا یارو مآل کیا ہے
پامال راہ اس کے کیا کیا عزیز دیکھے
آئی نہ جب سمجھ میں گردوں کی چال کیا ہے
وہ سیم تن ہو ننگا تو لطف تن پر اس کے
سوجی گئے تھے صدقے اک جان و مال کیا ہے
سرگرم جلوہ اس کو دیکھے کوئی سو جانے
طرز خرام کیا ہے حسن و جمال کیا ہے
میں بے نوا اڑا تھا بوسے کو ان لبوں کے
ہر دم صدا یہی تھی دے گذرو ٹال کیا ہے
پر چپ ہی لگ گئی جب ان نے کہا کہ کوئی
پوچھو تو شاہ جی سے ان کا سوال کیا ہے
گہ آپ میں نہیں ہو گہ منتظر کہیں ہو
کچھ میرجی تمھارا ان روزوں حال کیا ہے
میر تقی میر

مہندی لگی قدم سے ہوئے پائمال ہم

دیوان دوم غزل 860
بخت سیہ کی نقل کریں کس سے چال ہم
مہندی لگی قدم سے ہوئے پائمال ہم
کیونکر نہ اس چمن میں ہوں اتنے نڈھال ہم
یاں پھول سونگھ سونگھ رہے ماہ و سال ہم
یا ہر گلی میں سینکڑوں جس جا ملیح تھے
یا زلف و خط کو دیکھتے ہیں خال خال ہم
گذرے ہے جی میں گہ وہ دہن گاہ وہ کمر
کیا جانیں لوگ رکھتے ہیں کیا کیا خیال ہم
جاتیں نہیں اٹھائی یہ اب سرگرانیاں
مقدور تک تو اپنے گئے ٹال ٹال ہم
لوہو کہاں ہے گریۂ خونیں سے تن کے بیچ
کرتے ہیں منھ کو اپنے طمانچوں سے لال ہم
وہ تو ہی ہے کہ مرتے ہیں سب تیرے طور پر
حور و پری کو جان کے کب ہیں دوال ہم
گذرے ہے بسکہ اس کی جدائی دلوں پہ شاق
منھ نوچ نوچ لے ہیں علی الاتصال ہم
منظور سجدہ ہے ہمیں اس آفتاب کا
ظاہر میں یوں کریں ہیں نماز زوال ہم
ظاہر ہوئے تمھیں بھی ہمارے دم اور ہوش
آئے نہ پھر تمھارے گئے ٹک بحال ہم
مطلق جہاں میں رہنے کو جی چاہتا نہیں
اب تم بغیر اپنے ہوئے ہیں وبال ہم
نقصان ہو گا اس میں نہ ظاہر کہاں تلک
ہوویں گے جس زمانے کے صاحب کمال ہم
تھا کب گماں ملے گا وہ دامن سوار میر
کل راہ جاتے مفت ہوئے پائمال ہم
میر تقی میر

اے نقش وہم آیا کیدھر خیال تیرا

دیوان دوم غزل 745
کیا تو نمود کس کی کیسا کمال تیرا
اے نقش وہم آیا کیدھر خیال تیرا
کیا ہے جو ہو زنخ زن مہ پاس کا ستارہ
ہے داغ جان عالم ٹھوڑی کا خال تیرا
اے گل مغل بچہ وہ مرزا ہے اس کے آگے
کچھ بھی بھلا لگے ہے منھ لال لال تیرا
تجھ روے خوے فشاں سے انجم ہی کیا خجل ہیں
ہے آفتاب کو بھی اے ماہ سال تیرا
اب صبح پاس گل کے ہوکر نہیں نکلتی
دیکھا نسیم نے بھی شاید جمال تیرا
پہلا قدم ہے انساں پامال مرگ ہونا
کیا جانے رفتہ رفتہ کیا ہو مآل تیرا
ہو گی جو چل سرمو پنہاں نہیں رہے گی
اک دن زبان ہو گا ایک ایک بال تیرا
تفصیل حال میری تھی باعث کدورت
سو جی کو خوش نہ آیا ہرگز ملال تیرا
کچھ زرد زرد چہرہ کچھ لاغری بدن میں
کیا عشق میں ہوا ہے اے میر حال تیرا
میر تقی میر

ہر بال اس کے تن پہ ہے موجب وبال کا

دیوان دوم غزل 666
جو معتقد نہیں ہے علیؓ کے کمال کا
ہر بال اس کے تن پہ ہے موجب وبال کا
عزت علیؓ کی قدر علیؓ کی بہت ہے دور
مورد ہے ذوالجلال کے عز و جلال کا
پایا علیؓ کو جا کے محمدؐ نے اس جگہ
جس جا نہ تھا لگائو گمان و خیال کا
رکھنا قدم پہ اس کے قدم کب ملک سے ہو
مخلوق آدمی نہ ہوا ایسی چال کا
شخصیت ایسی کس کی تھی ختم رسل کے بعد
تھا مشورت شریک حق لایزال کا
توڑا بتوں کو دوش نبیؐ پر قدم کو رکھ
چھوڑا نہ نام کعبہ میں کفر و ضلال کا
راہ خدا میں ان نے دیا اپنے بھی تئیں
یہ جود منھ تو دیکھو کسو آشمال کا
نسبت نہ بندگی کی ہوئی جس کی واں درست
رونا مجھے ہے حشر میں اس کی ہی چال کا
فکر نجات میر کو کیا مدح خواں ہے وہ
اولاد کا علیؓ کی محمدؐ کی آل کا
میر تقی میر

جی میں کیا کیا خیال آتا ہے

دیوان اول غزل 542
یاں جو وہ نونہال آتا ہے
جی میں کیا کیا خیال آتا ہے
اس کے چلنے کی آن کا بے حال
مدتوں میں بحال آتا ہے
پر تو گذرا قفس ہی میں دیکھیں
اب کے کیسا یہ سال آتا ہے
شیخ کی تو نماز پر مت جا
بوجھ سر کا سا ڈال آتا ہے
آرسی کے بھی گھر میں شرم سے میر
کم ہی وہ بے مثال آتا ہے
میر تقی میر

صید بندوں نے جال ڈال رکھے

دیوان اول غزل 541
جب سے اس بے وفا نے بال رکھے
صید بندوں نے جال ڈال رکھے
ہاتھ کیا آوے وہ کمر ہے ہیچ
یوں کوئی جی میں کچھ خیال رکھے
رہرو راہ خوفناک عشق
چاہیے پائوں کو سنبھال رکھے
پہنچے ہر اک نہ درد کو میرے
وہ ہی جانے جو ایسا حال رکھے
ایسے زر دوست ہو تو خیر ہے اب
ملیے اس سے جو کوئی مال رکھے
بحث ہے ناقصوں سے کاش فلک
مجھ کو اس زمرے سے نکال رکھے
سمجھے انداز شعر کو میرے
میر کا سا اگر کمال رکھے
میر تقی میر

یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں

دیوان اول غزل 355
خوش نہ آئی تمھاری چال ہمیں
یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں
حال کیا پوچھ پوچھ جاتے ہو
کبھو پاتے بھی ہو بحال ہمیں
وہ دہاں وہ کمر ہی ہے مقصود
اور کچھ اب نہیں خیال ہمیں
اس مہ چاردہ کی دوری نے
دس ہی دن میں کیا ہلال ہمیں
نظر آتے ہیں ہوتے جی کے وبال
حلقہ حلقہ تمھارے بال ہمیں
تنگی اس جا کی نقل کیا کریے
یاں سے واجب ہے انتقال ہمیں
صرف للہ خم کے خم کرتے
نہ کیا چرخ نے کلال ہمیں
مغ بچے مال مست ہم درویش
کون کرتا ہے مشت مال ہمیں
کب تک اس تنگنا میں کھینچئے رنج
یاں سے یارب تو ہی نکال ہمیں
ترک سبزان شہر کریے اب
بس بہت کر چکے نہال ہمیں
وجہ کیا ہے کہ میر منھ پہ ترے
نظر آتا ہے کچھ ملال ہمیں
میر تقی میر

تمھارے ساتھ گرفتار حال اپنا ہوں

دیوان اول غزل 328
مثال سایہ محبت میں جال اپنا ہوں
تمھارے ساتھ گرفتار حال اپنا ہوں
سرشک سرخ کو جاتا ہوں جو پیے ہر دم
لہو کا پیاسا علی الاتصال اپنا ہوں
اگرچہ نشہ ہوں سب میں خم جہاں میں لیک
برنگ مے عرق انفعال اپنا ہوں
مری نمود نے مجھ کو کیا برابر خاک
میں نقش پا کی طرح پائمال اپنا ہوں
ہوئی ہے زندگی دشوار مشکل آساں کر
پھروں چلوں تو ہوں پر میں وبال اپنا ہوں
ترا ہے وہم کہ یہ ناتواں ہے جامے میں
وگرنہ میں نہیں اب اک خیال اپنا ہوں
بلا ہوئی ہے مری گوکہ طبع روشن میر
ہوں آفتاب ولیکن زوال اپنا ہوں
میر تقی میر

سارے تیرا خیال رکھتے ہیں

دیوان اول غزل 316
وے جو حسن و جمال رکھتے ہیں
سارے تیرا خیال رکھتے ہیں
شب جو وہ مہ کبھو رہے ہے یاں
مدتوں یاد سال رکھتے ہیں
ان لبوں کا جواب دہ ہے لعل
ہم تجھی سے سوال رکھتے ہیں
گل ترے روزگار خوبی میں
منھ طمانچوں سے لال رکھتے ہیں
دہن تنگ کے ترے مشتاق
آرزوے محال رکھتے ہیں
خاک آدم ہی ہے تمام زمیں
پائوں کو ہم سنبھال رکھتے ہیں
یہ جو سر کھینچے تو قیامت ہے
دل کو ہم پائمال رکھتے ہیں
اہل دل چشم سب تری جانب
آئینے کی مثال رکھتے ہیں
گفتگو ناقصوں سے ہے ورنہ
میرجی بھی کمال رکھتے ہیں
میر تقی میر

حال ہے اور قال ہے کچھ اور

دیوان اول غزل 217
شیخی کا اب کمال ہے کچھ اور
حال ہے اور قال ہے کچھ اور
وعدے برسوں کے کن نے دیکھے ہیں
دم میں عاشق کا حال ہے کچھ اور
سہل مت بوجھ یہ طلسم جہاں
ہر جگہ یاں خیال ہے کچھ اور
تو رگ جاں سمجھتی ہو گی نسیم
اس کے گیسو کا بال ہے کچھ اور
نہ ملیں گو کہ ہجر میں مر جائیں
عاشقوں کا وصال ہے کچھ اور
کوزپشتی پہ شیخ کی مت جائو
اس پہ بھی احتمال ہے کچھ اور
اس میں اس میں بڑا تفاوت ہے
کبک کی چال ڈھال ہے کچھ اور
میر تلوار چلتی ہے تو چلے
خوش خراموں کی چال ہے کچھ اور
میر تقی میر

پر مرے جی ہی کے خیال پڑا

دیوان اول غزل 81
خواب میں تو نظر جمال پڑا
پر مرے جی ہی کے خیال پڑا
وہ نہانے لگا تو سایۂ زلف
بحر میں تو کہے کہ جال پڑا
میں نے تو سر دیا پر اے جلاد
کس کی گردن پہ یہ وبال پڑا
شیخ قلاش ہے جوے میں نہ لائو
یاں ہمارا رہے ہے مال پڑا
خوبرو اب نہیں ہیں گندم گوں
میر ہندوستاں میں کال پڑا
میر تقی میر

جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا

دیوان اول غزل 8
چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا
جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا
فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کر
برنگ سبزئہ نورستہ پائمال کیا
رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقی
سو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا
مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدم
نہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا
بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کو
چمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا
جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف
کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تونے
جو کچھ کہ میر کا اس عاشقی نے حال کیا
میر تقی میر

تھے جیب میں جو سکّے، رستے میں اُچھال آئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 66
لو حسرت ناداری، ہم دل سے نکال آئے
تھے جیب میں جو سکّے، رستے میں اُچھال آئے
سر کہنیوں پر ٹیکے، بیٹھے ہیں پیا سے ہم
منہ بند شرابوں میں شاید کہ اُبال آئے
تاریک مناظر نے آنکھوں کے نگر لوٹے
ہم منزلِ خواہش سے بے نقد خیال آئے
برسیں مری آنکھوں پر جب ٹوٹ کے دوپہریں
شاید مرے اندر کے سایوں کو زوال آئے
ہم خوار ہوئے کتنے انکار کے صحرا میں
سوچوں میں بگولے سے بن بن کے سوال آئے
جو جان کے گوہر سے قیمت میں زیادہ تھی
لو طاقِ زیاں میں ہم وُہ چیز سنبھال آئے
آفتاب اقبال شمیم

شب و روزِ آشنائی مہ و سال تک نہ پہنچے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 13
کیے آرزو سے پیماں جو مآل تک نہ پہنچے
شب و روزِ آشنائی مہ و سال تک نہ پہنچے
وہ نظر بہم نہ پہنچی کہ محیطِ حسن کرتے
تری دید کے وسیلے خد و خال تک نہ پہنچے
وہی چشمہء بقا تھا جسے سب سراب سمجھے
وہی خواب معتبر تھے جو خیال تک نہ پہنچے
ترا لطف وجہِ تسکیں، نہ قرار شرحِ غم سے
کہ ہیں دل میں وہ گلے بھی جو ملال تک نہ پہنچے
کوئی یار جاں سے گزرا، کوئی ہوش سے نہ گزرا
یہ ندیم یک دو ساغر مرے حال تک نہ پہنچے
چلو فیض دل جلائیں کریں پھر سے عرضِ جاناں
وہ سخن جو لب تک آئے پہ سوال تک نہ پہنچے
فیض احمد فیض

تو کیسا شعبدہ گر ہے، کوئی کمال بھی کر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 94
بزرگِ وقت، کسی شے کو لازوال بھی کر
تو کیسا شعبدہ گر ہے، کوئی کمال بھی کر
دَرخت ہوں تو کبھی بیٹھ میرے سائے میں
میں سبزہ ہوں تو کبھی مجھ کو پائمال بھی کر
یہ تمکنت کہیں پتھر بنا نہ دے تجھ کو
توُ آدمی ہے، خوشی بھی دِکھا، ملال بھی کر
میں چاہتا ہوں کہ اَب جو بھی جی میں آئے کروں
تجھے بھی میری اِجازت ہے جو خیال بھی کر
پگھل رہی ہیں اس آشوبِ وقت میں صدیاں
وہ کہہ رہا ہے کہ تو فکرِ ماہ و سال بھی کر
عرفان صدیقی

رات چراغِ ساعتِ ہجراں روشن طاقِ وصال میں تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 50
تیرا سراپا میرا تماشا، کوئی تو برجِ زوال میں تھا
رات چراغِ ساعتِ ہجراں روشن طاقِ وصال میں تھا
میری چشم تحیر آگے اور ہی نقش ہویدا تھے
چہرہ اپنے وہم میں تھا‘ آئینہ اپنے خیال میں تھا
عقدۂ جاں بھی رمزِ جفر ہے‘ جتنا جتنا غور کیا
جو بھی جواب تھا میرا پنہاں میرے حرف سوال میں تھا
تیر سہی‘ زنجیر سہی‘ پر ہوئے بیاباں کہتی ہے
اور بھی کچھ وحشت کے علاوہ شاید پائے غزال میں تھا
ورنہ ہم ابدال بھلا کب ترکِ قناعت کرتے ہیں
ایک تقاضا رنج سفر کا خواہش مال و منال میں تھا
تیغِ ستم کے گرد ہمارے خالی ہاتھ حمائل تھے
اب کے برس بھی ایک کرشمہ اپنے دستِ کمال میں تھا
عرفان صدیقی

بوند بوند بکھرے تھے جسم پر خیال اپنے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 566
وہ لپیٹ کر نکلی تولیے میں بال اپنے
بوند بوند بکھرے تھے جسم پر خیال اپنے
درد کے پرندوں کو آنکھ سے رہائی دی
آخرش وہ دن آیا رو پڑے ملال اپنے
یہ صدا سنائی دے کوئلے کی کانوں سے
زندگی کے چولھے میں جل رہے ہیں سال اپنے
دیکھ دستِ جانانہ ! کھلنے کی تمنا میں
جینز کے اٹیچی میں بند ہیں جمال اپنے
قتل تو ڈرامے کا ایکٹ تھا کوئی منصور
کس لیے لہو سے ہیں دونوں ہاتھ لال اپنے
منصور آفاق

آ انتظار کے اک اور سال بسم اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 425
پرانے غم کے نئے احتمال بسم اللہ
آ انتظار کے اک اور سال بسم اللہ
بس ایک تیری کمی تھی جنوں کے صحرا میں
خوش آمدید اے میرے غزال، بسم اللہ
آ دیکھ زخم ترو تازہ ہیں مہکتے ہیں
آ مجھ سے پوچھنے پرسانِ حال بسم اللہ
اندھیرے کروٹیں لیتے ہیں مجھ میں پہلے بھی
بہ سرو چشم شبِ ذوالجلال بسم اللہ
سنا ہے آج اکیلا ہے اپنے کمرے میں
چل اس کے پاس دلِ خوش خیال بسم اللہ
لگی تھی آنکھ ذرا ہجر کی تھکاوٹ سے
میں اٹھ گیا میرے دشتِ ملال بسم اللہ
یہ کیسے خانۂ درویش یاد آیا ہے
بچھاؤں آنکھیں ؟ اے خوابِ وصال بسم اللہ
پھر اپنے زخم چھپانے کی رُت پلٹ آئی
شجر نے اوڑھ لی پتوں کی شال بسم اللہ
کھنچا ہوا ترا ناوک نہ جان ضائع ہو
ہے جان پہلے بھی جاں کا وبال بسم اللہ
یہ تیرے وار تو تمغے ہیں میری چھاتی کے
لو میں نے پھینک دی خود آپ ڈھال بسم اللہ
یہ لگ رہا ہے کہ اپنے بھی بخت جاگے ہیں
کسی نے مجھ پہ بھی پھینکا ہے جال بسم اللہ
نہیں کچھ اور تو امید رکھ ہتھیلی پر
دراز ہے مرا دستِ سوال بسم اللہ
کسی فقیر کی انگلی سے میرے سینے پر
لکھا ہوا ہے فقید المثال بسم اللہ
منصور آفاق

ہرا بھرا کوئی قالین ڈال کمرے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 344
مناسب اتنا نہیں اعتدال کمرے میں
ہرا بھرا کوئی قالین ڈال کمرے میں
کسی ستم زدہ روزن سے آتو سکتی تھی
ذرا سی دیر کو صبحِ وصال کمرے میں
لٹک رہاتھا دریچے میں بھیڑیے کا بت
دکھائی دیتا تھا کوئی غزال کمرے میں
بس اس لئے کہ سپاہی بہت زیادہ تھے
تھی تاج پوشی کی تقریب ہال کمرے میں
اسے بھی زاویے سیدھے کمر کے کرنے تھے
مجھے بھی آیا تھا یہ ہی خیال کمرے میں
بلٹ پروف محافظ تھے ہر طرف لیکن
گزر رہے تھے حکومت کے سال کمرے میں
ہر ایک شے میں اداسی ہے شام کی منصور
اتر رہا ہے نظر سے ملال کمرے میں
منصور آفاق

ناموں کے زخم رہ گئے برگد کی چھال پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 166
دونوں بچھڑ کے چل دیئے راہِ ملال پر
ناموں کے زخم رہ گئے برگد کی چھال پر
شب کے سکوت میں لیا یوں اس نے کوئی نام
مندری بجی ہو جس طرح پیتل کے تھال پر
بارش میں بھیگتی چلی آئی تھی کوئی ہیر
بوندیں ٹھہر گئی تھیں دھنک رنگ شال پر
آتی تھی ٹیلی فون سے آوازِ لمسِ یار
بستر بچھا تھا فرشِ بہشتِ خیال پر
منصور کیا سفید کرسمس کی رات ہے
تارے مچل رہے ہیں زمیں کے وصال پر
ذرا بھی دھیان نہیں وصل کے فریضوں پر
یونہی وہ کاڑھتی پھرتی ہے دل قمیضوں پر
قیام کرتا ہوں اکثر میں دل کے کمرے میں
کہ جم نہ جائے کہیں گرد اس کی چیزوں پر
یہی تو لوگ مسیحا ہیں زندگانی کے
ہزار رحمتیں ہوں عشق کے مریضوں پر
کسی انار کلی کے خیال میں اب تک
غلام گردشیں ماتم کناں کنیزوں پر
جلا رہی ہے مرے بادلوں کے پیراہن
پھوار گرتی ہوئی ململیں شمیضوں پر
غزل کہی ہے کسی بے چراغ لمحے میں
شبِ فراق کے کاجل زدہ عزیزوں پر
وہ غور کرتی رہی ہے تمام دن منصور
مرے لباس کی الجھی ہوئی کریزوں پر
منصور آفاق

یہ یاد آئے گا شاید ہزار سال کے بعد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 158
ہے تیرا سامنا کرنا، شبِ زوال کے بعد
یہ یاد آئے گا شاید ہزار سال کے بعد
ترے زمانے میں ہوتا تو عین ممکن تھا
کھڑا غلاموں میں ہوتا کہیں بلال کے بعد
عجب حصار سا کھینچا ہے اسم نے تیرے
خیال کوئی نہ آیا ترے خیال کے بعد
تجھے ملے تو ملاقاتیں سب ہوئیں منسوخ
ہوئی تلاش مکمل، ترے وصال کے بعد
فرشتے ٹانکتے پھرتے ہیں پھول شاخوں پر
خدا بدل گیا اس کی بس ایک کال کے بعد
وہ جس نے مجھ سے کہا آپ کون ہیں منصور
سوال بن گیا وہ آئینہ سوال کے بعد
منصور آفاق

ہم مرے جاتے ہیں، تم کہتے ہو حال اچھا ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 47
اچھے عیسیٰ ہو، مریضوں کا خیال اچھا ہے
ہم مرے جاتے ہیں، تم کہتے ہو حال اچھا ہے
تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
سَو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے
دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بے تابی کو
ہجر اچھا، نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے
آگیا اس کا تصور، تو پکارا یہ شوق
دل میں جم جائے الہٰی، یہ خیال اچھا ہے
برق اگر گرمیِ رفتار میں اچھی ہے امیر
گرمیِ حسن میں وہ برق جمال اچھا ہے
امیر مینائی

بات جاتی رہی سوال کے ساتھ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 149
جھک گئی آنکھ عرض حال کے ساتھ
بات جاتی رہی سوال کے ساتھ
اے غم زیست اس پہ کیا گزری
اک تمنا بھی تھی خیال کے ساتھ
احتیاط غم حیات نہ پوچھ
چل دئیے ہم جہاں کی چال کے ساتھ
ایک الزام بن گئی باقیؔ
فکر فردا بھی ذکر حال کے ساتھ
باقی صدیقی

اک مجسم سوال ہیں ہم لوگ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 101
ہمہ تن عرض حال ہیں ہم لوگ
اک مجسم سوال ہیں ہم لوگ
اور کس پر یہ حادثے گزرے
آپ اپنی مثال ہیں ہم لوگ
وقت کا فیصلہ ہے چارہ گرو
زخم تم، اندمال ہیں ہم لوگ
موت اپنی نہ زندگی اپنی
کس گماں کا مآل ہیں ہم لوگ
آپ سمجھیں تو ایک حقیقت ہیں
ورنہ خواب و خیال ہیں ہم لوگ
لاکھ پردوں میں بھی نمایاں ہیں
وقت کے خدوخال ہیں ہم لوگ
چارہ سازوں کے سرد ماتھے پر
عرق انفعال ہیں ہم لوگ
زندگی کی بساط پر باقیؔ
موت کی ایک چال ہیں ہم لوگ
کام لیتا ہے اک جہاں باقیؔ
ہر مصیبت کی ڈھال ہیں ہم لوگ
باقی صدیقی

رہتے ہیں ترے خیال میں ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 81
ماضی میں ہیں اب نہ حال میں ہم
رہتے ہیں ترے خیال میں ہم
فروا ہے کوئی خیال جیسے
یوں مست ہیں اپنے حال میں ہم
کھو بیٹھے ہیں اعتبار اپنا
آ آ کے جہاں کی چال میں ہم
آئے نہ ادھر غم زمانہ
بیٹھے ہیں ترے خیال میں ہم
دیتے ہیں کوئی جواب باقیؔ
کھوئے ہیں ابھی سوال میں ہم
باقی صدیقی

اک نئے عم کی طرح ڈال گیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 71
جس طرف بھی ترا خیال گیا
اک نئے غم کی طرح ڈال گیا
زیست کس مرحلے پہ آ پہنچی
وضعداری کا بھی سوال گیا
غم دل پر غم جہاں کا گماں
چھوڑئیے لطف عرض حال گیا
ہر تمنا پہ غم کا پہرہ تھا
پھر بھی کس کس طرف خیال گیا
دل سے رہ رہ کے ہم الجھتے ہیں
کس مصیبت میں کوئی ڈال گیا
درد اٹھا کچھ اس طرح باقیؔ
دل کی سب حسرتیں نکال گیا
باقی صدیقی

لے آیا کہاں خیال تیرا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 33
ہم پوچھ سکے نہ حال تیرا
لے آیا کہاں خیال تیرا
جیسے کسی غیر کا تصور
یوں آتا ہے اب خیال تیرا
ہم دیکھتے رہ گئے جہاں کو
پوچھا تھا کسی نے حال تیرا
ٹوٹے ہیں تعلقات کیونکر
میرا تھا نہ یہ خیال تیرا
کس رنگ میں وہ ملے تھے باقیؔ
دل ہی میں رہا سوال تیرا
باقی صدیقی

نئی نئی ہے محبت، جواں جواں ہیں خیال

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 12
حسیں حسیں نظر آتے ہیں آرزوؤں کے جال
نئی نئی ہے محبت، جواں جواں ہیں خیال
کبھی پیام قضا ہے، کبھی نوید حیات
تمام عمر معمہ رہا تمہارا جمال
کیا جو غور محبت کے ماحصل پہ کبھی
تو دھندلے دھندلے نظر آئے حسن کے خدوخال
کس اعتماد پہ دعویٰ کریں محبت کا
بدل بھی جاتے ہیں اے دوست آدمی کے خیال
بس ایک ان کے اشارے کی دیر ہے باقیؔ
نفس نفس ہے تمنا، نظر نظر ہے سوال
باقی صدیقی

ورنہ کرتا ہے کون پرسش حال

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 11
دیکھ کر آ گیا ہے ان کو خیال
ورنہ کرتا ہے کون پرسش حال
آرزوئے سکون دل توبہ
آپ کی بزم تک گیا ہے خیال
اک مصیبت سے بچ گئے تو کیا
دل سلامت رہے ہزار وبال
لازمی ہے سماعت احساس
لوگ کرتے ہیں زیرلب بھی سوال
ہیں ابھی مرحلے بہت باقیؔ
خود فریبی تو ہے اک آخری چال
باقی صدیقی