ٹیگ کے محفوظات: جنوں

یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے، یوں ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 147
عشق بس ایک کرشمہ ہے، فسوں ہے، یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے، یوں ہے
جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے، نہ بروں ہے، یوں ہے
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جنوں ہے، یوں ہے
اب تم آئے ہو میری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے، یوں ہے
تو نے دیکھی ہی نہیں دشتِ وفا کی تصویر
نوکِ ہر خار پے اک قطرۂ خوں ہے، یوں ہے
ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے، یوں ہے
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز
یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے، یوں ہے
احمد فراز

بات کرنا نہیں آتی ہے تو کیوں بولتا ہے؟

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 76
تیرے لہجے میں ترا جہلِ دروں بولتا ہے
بات کرنا نہیں آتی ہے تو کیوں بولتا ہے؟
پھونک دی جاتی ہے اس طرح مرے شعر میں روح
جیسے سانسوں میں کوئی کن فیکوں بولتا ہے
سننے والوں پہ مرا حال عیاں ہو کیسے
عشق ہوتا ہے تو وحشت میں سکوں بولتا ہے
تیرا اندازِ تخاطب، ترا لہجہ، ترے لفظ
وہ جسے خوفِ خدا ہوتا ہے، یوں بولتا ہے؟
عقل اس باب میں خاموش ہی رہتی ہے جناب
جب ہو موضوع حقیقت تو جنوں بولتا ہے
گفتگو کیا ہو کہ جب گویا ہوں آنکھیں تیری
چپ سی لگ جاتی ہے جب ان کا فسوں بولتا ہے
کوئی عرفان کو سمجھائے، یہ آشفتہ مزاج
جاں کا خطرہ ہو تو پہلے سے فزوں بولتا ہے
عرفان ستار

کس قدر خستہ و خوں بستہ دروں ہے میرا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 4
سب پہ ظاہر ہی کہاں حالِ زبوں ہے میرا
کس قدر خستہ و خوں بستہ دروں ہے میرا
میرے اشعار کو تقریظ و وضاحت سمجھو
ورنہ دراصل سخن کن فیکوں ہے میرا
یہ جو ٹھہراوٗ بظاہر ہے اذیّت ہے مری
جو تلاطم مرے اندر ہے سکوں ہے میرا
یہ جو صحراوٗں میں اڑتی ہے یہ ہے خاک مری
اور دریاوٗں میں بہتا ہے جو خوں ہے میرا
وہ جو اخفا میں ہے وہ اصل حقیقت ہے مری
یہ جو سب کو نظر آتا ہے، فسوں ہے میرا
بیچ میں کچھ بھی نہ ہو، یعنی بدن تک بھی نہیں
تجھ سے ملنے کا ارادہ ہے تو یوں ہے میرا
رازِ حق اس پہ بھی ظاہر ہے ازل سے عرفان
یعنی جبریل کا ہم عصر جنوں ہے میرا
عرفان ستار

خیمۂِ گل کے پاس ہی دجلۂِ خوں بھی چاہیئے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 59
موجِ صبا رواں ہوئی، رقصِ جنوں بھی چاہیئے
خیمۂِ گل کے پاس ہی دجلۂِ خوں بھی چاہیئے
کشمکشِ حیات ہے ، سادہ دلوں کی بات ہے
خواہشِ مرگ بھی نہیں، زہرِ سکوں بھی چاہیئے
ضربِ خیال سے کہاں ٹوٹ سکیں گی بیڑیاں
فکرِ چمن کے ہم رکاب جوشِ جنوں بھی چاہیئے
نغمۂِ شوق خوب تھا، ایک کمی ہے مطربہ
شعلۂِ لب کی خیر ہو، سوزِ دروں بھی چاہیئے
اتنا کرم تو کیجیے ، بجھتا کنول نہ دیجیے
زخمِ جگر کے ساتھ ہی دردِ فزوں بھی چاہیئے
دیکھیے ہم کو غور سے ، پوچھیے اہلِ جور سے
روحِ جمیل کے لیے حالِ زبوں بھی چاہیئے
شکیب جلالی

قریہ قریہ بھٹک رہا ہے جنوں

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 4
کون جانے کہاں ہے شہرِ سکوں
قریہ قریہ بھٹک رہا ہے جنوں
نورِ منزل مجھے نصیب کہاں
میں ابھی حلقۂِ غبار میں ہوں
یہ ہے تاکید سننے والوں کی
واقعہ خوشگوار ہو تو کہوں
کن اندھیروں میں کھو گئی ہے سحر
چاند تاروں پہ مار کر شب خوں
تم جسے نورِ صبح کہتے ہو
میں اسے گردِ شام بھی نہ کہوں
اب تو خونِ جگر بھی ختم ہوا
میں کہاں تک خلا میں رنگ بھروں
جی میں آتا ہے اے رہِ ظلمت
کہکشاں کو مروڑ کر رکھ دوں
شکیب جلالی

دل خون کروں تو پوچھیو مت

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 47
بیمار پڑوں تو پوچھیو مت
دل خون کروں تو پوچھیو مت
میں شدتِ غم سے حال اپنا
کہہ بھی نہ سکوں تو پوچھیو مت
ڈر ہے مجھے جنون نہ ہو جائے
ہو جائے جنوں تو پوچھیو مت
میں شدتِ غم سے عاجز آ کر
ہنسنے لگوں تو پوچھیو مت
آتے ہی تمھارے پاس اگر میں
جانے بھی لگوں تو پوچھیو مت
جون ایلیا

سو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 199
بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
سو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی
رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلّف سے
تکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی
خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشے
مرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھی
نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
کہ ہو گا باعثِ افزائشِ دردِ دروں وہ بھی
نہ اتنا بُرّشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤ
مرے دریائے بیتابی میں ہے اک موجِ خوں وہ بھی
مئے عشرت کی خواہش ساقیِ گردوں سے کیا کیجے
لیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی
مرے دل میں ہے غالب شوقِ وصل و شکوۂ ہجراں
خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں، وہ بھی
مرزا اسد اللہ خان غالب

اب کے مجھے بہار سے آگے جنوں ہوا

دیوان دوم غزل 759
اندوہ و غم کے جوش سے دل رک کے خوں ہوا
اب کے مجھے بہار سے آگے جنوں ہوا
اچھا نہیں ہے رفتن رنگیں بھی اس قدر
سنیو کہ اس کی چال پر اک آدھ خوں ہوا
جی میں تھا خوب جاکے خرابے میں رویئے
سیلاب آیا آ کے چلا کیا شگوں ہوا
نخچیرگاہ عشق میں افراط صید سے
روح الامیں کا نام شکار زبوں ہوا
ہوں داغ نازکی کہ کیا تھا خیال بوس
گلبرگ سا وہ ہونٹ جو تھا نیلگوں ہوا
میں دور ہوں اگرچہ برابر ہوں خاک سے
اس رہ میں نقش پا ہی مرا رہ نموں ہوا
میر ان نے سرگذشت سنی ساری رات کو
افسانہ عاشقی کا ہماری فسوں ہوا
میر تقی میر

جب یہ کہتا ہوں تو کہتا ہے کہ ہوں ہوجائے گا

دیوان اول غزل 141
کام میرا بھی ترے غم میں کہوں ہوجائے گا
جب یہ کہتا ہوں تو کہتا ہے کہ ہوں ہوجائے گا
خون کم کر اب کہ کشتوں کے تو پشتے لگ گئے
قتل کرتے کرتے تیرے تیں جنوں ہوجائے گا
اس شکار انداز خونیں کا نہیں آیا مزاج
ورنہ آہوے حرم صید زبوں ہوجائے گا
بزم عشرت میں ملا مت ہم نگوں بختوں کے تیں
جوں حباب بادہ ساغر سرنگوں ہوجائے گا
تاکجا غنچہ صفت رکنا چمن میں دہر کے
کب گرفتہ دل مرے سینے میں خوں ہوجائے گا
کیا کہوں میں میر اس عاشق ستم محبوب کو
طور پر اس کے کسو دن کوئی خوں ہوجائے گا
میر تقی میر

سمندر کے کنارے ایک کاٹج میں رہوں کچھ دن

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 222
میں اپنی فیملی کے ساتھ کچھ دن… پُر سکوں کچھ دن
سمندر کے کنارے ایک کاٹج میں رہوں کچھ دن
کہیں ڈھلتی ہوئی شب کو بھی ورزش کی ضرورت ہے
میں اپنے دوستوں کے ساتھ جاگنگ چھوڑ دوں کچھ دن
ابھی کچھ دن پلیٹوں میں رکھوں جذبے قیامت کے
سلاخوں میں دہکتے گوشت پر نظمیں لکھوں کچھ دن
مرے ہم عصر پیرس اب اداسی چھوڑ دے اپنی
جدا ہونا تو ہے لیکن ابھی میں اور ہوں کچھ دن
ابھی اس لمس تک شاید کئی ہفتوں کا رستہ ہے
رگوں میں تیز رہنی ہے ابھی رفتارِ خوں کچھ دن
بدن کے شہر کو جاتی سڑک پہ کوئی خطرہ ہے ؟
مجھے حیرت سرائے روح میں رہنا ہے کیوں کچھ دن
بہت ہی سست ہیں نبضیں مرے شہرِ نگاراں کی
اضافہ خود سری میں کچھ، چلے رسمِ جنوں کچھ دن
منصور آفاق

اک مستقل فراق کے پہلو میں کیوں رہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 15
میرا خیال ہے کوئی پردہ اٹھا ہی دوں
اک مستقل فراق کے پہلو میں کیوں رہوں
مے خانۂ حیات میں محرم کوئی نہیں
شاید میں کائنات کا پہلا شعور ہوں
سورج کو میری آنکھ بجھا ہی نہ دے کہیں
پروردگارِ دشت ہوں پیغمبرِ جنوں
دن بھر تلاش کرتا ہوں تعبیر کس لیے
ہر رات ایک خواب کے ہوتا ہوں ساتھ کیوں
بستی سے جا رہی ہے پرندوں بھری ٹرام
تُو ساتھ دے اگر تو کہیں میں بھی چل پڑوں
کیوں آنکھ میں سجا کے سمندر کے ولولے
حیرت سے دیکھتا ہوں کسی چاند کا فسوں
کوئی نشانی میری کسی ہاتھ میں تو ہو
منصور کس کو جا کے میں سونے کا رِنگ دوں
منصور آفاق