ٹیگ کے محفوظات: جدائی

اُنہیں بہانہ کوئی چاہیے لڑائی کا

عجب نہیں جو بنا دیں پہاڑ رائی کا
اُنہیں بہانہ کوئی چاہیے لڑائی کا
ہمیں تو آنکھوں کے دیکھے کا اعتبار نہیں
اُدھر بھروسہ ہے کتنا سنی سُنائی کا
ہمیں تو لگتی ہے دشوار بندگی بھی بہت
عجیب تھے جنہیں دعوی رہا خدائی کا
چمک سی ایک فریبِ امید کی جو نہ ہو
جو موت کا ہے وہی رنگ ہے جدائی کا
باصر کاظمی

جو میری غزل سرائی کے تھے

وہ دن تری بے وفائی کے تھے
جو میری غزل سرائی کے تھے
دل اشکوں کی داد چاہتا تھا
سامان یہ جگ ہنسائی کے تھے
ملنے کے جتن کیے تھے جتنے
اسباب وہی جدائی کے تھے
ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز میں بھی
آثار تری بڑائی کے تھے
گو تلخ زباں تھے اہلِ محفل
شیدائی سبھی مٹھائی کے تھے
نالے تو بلا کے تھے ہی باصرِؔ
نغمے بھی ترے دہائی کے تھے
باصر کاظمی

جس کو اُونچا سُنائی دیتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
وُہ اُسے ہی خُدائی دیتا ہے
جس کو اُونچا سُنائی دیتا ہے
کون بَونا بنے چھُڑا کے مجھے
کون میری صفائی دیتا ہے
سر بلندی مجھی سے ہے جس کی
کب مجھے وُہ رہائی دیتا ہے
ہے قرابت اُسی سے مالی کی
پیڑ جو بھی کمائی دیتا ہے
کون ہے وُہ چمن کے آنگن سے
جو مہک کو جُدائی دیتا ہے
ہر ستم کوش کو چلن اُس کا
کتنا ارفع دکھائی دیتا ہے
سنگ کب موم میں ڈھلے ماجدؔ
دل یہ کس کی دہائی دیتا ہے
ماجد صدیقی

سِواہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 19
شدید دُکھ تھا اگرچہ تری جُدائی کا
سِواہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا
تجھے بھی ذوق نئے تجربات کا ہو گا
ہمیں بھی شوق تھا کُچھ بخت آزمائی کا
جو میرے سر سے دوپٹہ نہ ہٹنے دیتا تھا
اُسے بھی رنج نہیں میری بے ردائی کا
سفر میں رات جو آئی تو ساتھ چھوڑ گئے
جنھوں نے ہاتھ بڑھایا تھا رہنمائی کا
ردا چھٹی مرے سر سے،مگر میں کیا کہتی
کٹا ہُوا تو نہ تھا ہاتھ میرے بھائی کا
ملے تو ایسے،رگِ جاں کو جیسے چُھو آئے
جُدا ہُوئے تو وہی کرب نارسائی کا
کوئی سوال جو پُوچھے ،تو کیا کہوں اُس سے
بچھڑنے والے!سبب تو بتا جدائی کا
میں سچ کو سچ ہی کہوں گی ،مجھے خبر ہی نہ تھی
تجھے بھی علم نہ تھا میری اس بُرائی کا
نہ دے سکا مجھے تعبیر،خواب تو بخشے
میں احترام کروں گی تری بڑائی کا
پروین شاکر

نیند ان کو میرے ساتھ نہ آئی تمام شب

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 39
تھا غیر کا جو رنجِ جدائی تمام شب
نیند ان کو میرے ساتھ نہ آئی تمام شب
شکوہ مجھے نہ ہو جو مکافات حد سے ہو
واں صلح ایک دم ہے لڑائی تمام شب
یہ ڈر رہا کہ سوتے نہ پائیں کہیں مجھے
وعدے کی رات نیند نہ آئی تمام شب
سچ تو یہ ہے کہ بول گئے اکثر اہلِ شوق
بلبل نے کی جو نالہ سرائی تمام شب
دم بھر بھی عمر کھوئی جو ذکرِ رقیب میں
کیفیتِ وصال نہ پائی تمام شب
تھوڑا سا میرے حال پہ فرما کر التفات
کرتے رہے وہ اپنی بڑائی تمام شب
وہ آہ، تار و پود ہو جس کا ہوائے زلف
کرتی ہے عنبری و صبائی تمام شب
وہ صبح جلوہ، جلوہ گرِ باغ تھا جو رات
مرغِ سحر نے دھوم مچائی تمام شب
افسانے سے بگاڑ ہے، ان بن ہے خواب سے
ہے فکرِ وصل و ذکرِ جدائی تمام شب
جس کی شمیمِ زلف پہ میں غش ہوں شیفتہ
اس نے شمیمِ زلف سنگھائی تمام شب
مصطفٰی خان شیفتہ

زندگی حالتِ جدائی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 208
لمحے لمحے کی نارسائی ہے
زندگی حالتِ جدائی ہے
مردِ میدان ہوں اپنی ذات کا میں
میں نے سب سے شکست کھائی ہے
اک عجب حال ہے کہ اب اس کو
یاد کرنا بھی بے وفائی ہے
اب یہ صورت ہے جانِ جاں کہ تجھے
بھولنے میں مری بھلائی ہے
خود کو بھولا ہوں، اُس کو بھولا ہوں
عمر بھر کی یہی کمائی ہے
میں ہنر مندِ رنگ ہوں میں نے
خون تھوکا ہے داد پائی ہے
جانے یہ تیرے وصل کے ہنگام
تیری فرقت کہاں سے آئی ہے
جون ایلیا

سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 118
یاد اُسے انتہائی کرتے ہیں
سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں
پسند آتا ہے دل سے یوسف کو
وہ جو یوسف کے بھائی کرتے ہیں
ہے بدن خوابِ وصل کا دنگل
آؤ زور آزمائی کرتے ہیں
اس کو اور غیر کو خبر ہی نہیں
ہم لگائی بجھائی کرتے ہیں
ہم عجب ہیں کہ اس کو بانہوں میں
شکوہء نارسائی کرتے ہیں
حالتِ وصل میں بھی ہم دونوں
لمحہ لمحہ جدائی کرتے ہیں
آپ جو میری جاں ہیں۔۔میں دل ہوں
مجھ سے کیسے جدائی کرتے ہیں
باوفا ایک دوسرے سے میاں
ہر نفس بے وفائی کرتے ہیں
جو ہیں سرحد کے پار سے آئے
وہ بہت خود ستائی کرتے ہیں
پَل قیامت کے سود خوار ہیں جون
یہ ابد کی کمائی کرتے ہیں
جون ایلیا

بہ خوں غلطیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 81
پئے نذرِ کرم تحفہ ہے ‘شرمِ نا رسائی’ کا
بہ خوں غلطیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا
نہ ہو’ حسنِ تماشا دوست’ رسوا بے وفائی کا
بہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
زکاتِ حسن دے، اے جلوۂ بینش، کہ مہر آسا
چراغِ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا
نہ مارا جان کر بے جرم، غافل!@ تیری گردن پر
رہا مانند خونِ بے گنہ حق آشنائی کا
تمنائے زباں محوِ سپاسِ بے زبانی ہے
مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
وہی اک بات ہے جو یاں نفَس واں نکہتِ گل ہے
چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا
دہانِ ہر” بتِ پیغارہ جُو”، زنجیرِ رسوائی
عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
نہ دے نامے کو اتنا طول غالب، مختصر لکھ دے
کہ حسرت سنج ہوں عرضِ ستم ہائے جدائی کا
@نسخۂ حمیدیہ، نظامی، حسرت اور مہر کے نسخوں میں لفظ ’قاتل‘ ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

وصل کی رات میں لڑائی کی

دیوان ششم غزل 1881
یار نے ہم سے بے ادائی کی
وصل کی رات میں لڑائی کی
بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ
اب توقع نہیں رہائی کی
کلفت رنج عشق کم نہ ہوئی
میں دوا کی بہت شفائی کی
طرفہ رفتار کے ہیں رفتہ سب
دھوم ہے اس کی رہگرائی کی
خندئہ یار سے طرف ہوکر
برق نے اپنی جگ ہنسائی کی
کچھ مروت نہ تھی ان آنکھوں میں
دیکھ کر کیا یہ آشنائی کی
وصل کے دن کو کار جاں نہ کھنچا
شب نہ آخر ہوئی جدائی کی
منھ لگایا نہ دختر رز کو
میں جوانی میں پارسائی کی
جور اس سنگ دل کے سب نہ کھنچے
عمر نے سخت بے وفائی کی
کوہکن کیا پہاڑ توڑے گا
عشق نے زور آزمائی کی
چپکے اس کی گلی میں پھرتے رہے
دیر واں ہم نے بے نوائی کی
اک نگہ میں ہزار جی مارے
ساحری کی کہ دلربائی کی
نسبت اس آستاں سے کچھ نہ ہوئی
برسوں تک ہم نے جبہہ سائی کی
میر کی بندگی میں جانبازی
سیر سی ہو گئی خدائی کی
میر تقی میر

عشق ہے فقر ہے جدائی ہے

دیوان پنجم غزل 1779
ان بلائوں سے کب رہائی ہے
عشق ہے فقر ہے جدائی ہے
دیکھیے رفتہ رفتہ کیا ہووے
ہم بھی چلنے کو ہیں کہ آئی ہے
استخواں کانپ کانپ جلتے ہیں
عشق نے آگ یہ لگائی ہے
دل کو کھینچے ہے چشمک انجم
آنکھ ہم نے کہاں لڑائی ہے
اس صنائع کا اس بدائع کا
کچھ تعجب نہیں خدائی ہے
نہ تو جذب رسا نہ بخت رسا
کیونکے کہیے کہ واں رسائی ہے
ہے تصنع کہ اس کے لب ہیں لعل
سب نے اک بات یہ بنائی ہے
کیا کہوں خشم عشق سے جو مجھے
کبھو جھنجھلاہٹ آہ آئی ہے
ایسا چہرے پہ ہے نہوں کا خراش
جیسے تلوار منھ پہ کھائی ہے
میں نہ آتا تھا باغ میں اس بن
مجھ کو بلبل پکار لائی ہے
آئی اس جنگ جو کی گر شب وصل
شام سے صبح تک لڑائی ہے
اور کچھ مشغلہ نہیں ہے ہمیں
گاہ و بے گہ غزل سرائی ہے
توڑ کر آئینہ نہ جانا یہ
کہ ہمیں صورت آشنائی ہے
میر تقی میر

سخت کدورت بیچ میں آئی صبح تلک نہ صفائی ہوئی

دیوان پنجم غزل 1725
رات کو تھا کعبے میں میں بھی شیخ حرم سے لڑائی ہوئی
سخت کدورت بیچ میں آئی صبح تلک نہ صفائی ہوئی
تہمت رکھ مستی کی مجھ پر شیخ شہر کنے لایا
وہ بھی بگڑا حد سے زیادہ سن کر بات بنائی ہوئی
شیشہ ان نے گلے میں ڈلوا شہر میں سب تشہیر کیا
ہائے سیہ رو عاشق کی عالم میں کیا رسوائی ہوئی
کیسی ہی شکلیں سامنے آویں مژگاں وا اودھر نہ کروں
حور و پری پر آنکھ نہیں پڑتی ہے کسو سے لگائی ہوئی
حوصلہ داری کیا ہے اتنی قدرت کچھ ہے خدا ہی کی
عالم عالم جہاں جہاں جو غم کی ہم میں سمائی ہوئی
دیکھ کے دست و پاے نگاریں چپکے سے رہ جاویں نہ کیوں
منھ بولے ہے یارو گویا مہندی اس کی رچائی ہوئی
دل میں درد جگر میں طپیدن سر میں شور آشفتہ دماغ
کیا کیا رنج اٹھائے گئے ہیں جب سے ان سے جدائی ہوئی
ہفتم چرخ سے اودھر ہوکر عرش کو پہنچی میری دعا
اور رسائی کیا ہوتی ہے گوکہ کہیں نہ رسائی ہوئی
دود دل سوزان محبت محو جو ہو تو عرش پہ ہو
دور بجھے گی یعنی جاکر عشق کی آگ لگائی ہوئی
یہ یہ بلائیں سر پر ہیں تو آج موئے کل دوسرا دن
یاری ہوئی بیماری ہوئی درویشی ہوئی تنہائی ہوئی
اتنی لگوہیں چشم کسو کی قہر قیامت آفت ہے
تم نے دیکھی نہیں ہے صاحب آنکھ کوئی شرمائی ہوئی
جب موسم تھا وا ہونے کا تب تو شگفتہ ٹک نہ ہوا
اب جو بہت افسردہ ہوا ہے دل ہے کلی مرجھائی ہوئی
اس کی طرف جو لی ہم نے ہے اپنی طرف سے پھرا عالم
یعنی دوستی سے اس بت کی دشمن ساری خدائی ہوئی
ہم قیدی بھی موسم گل کے کب سے توقع رکھتے تھے
دیر بہار آئی اب کے پر اسیروں کی نہ رہائی ہوئی
کہنا جو کچھ جس سے ہو گا سامنے میر کہا ہو گا
بات نہ دل میں پھر گئی ہو گی منھ پہ میرے آئی ہوئی
میر تقی میر

خشک ہوا خون اشک کے بدلے ریگ رواں سی آئی خاک

دیوان پنجم غزل 1662
دل کی تڑپ نے ہلاک کیا ہے دھڑکے نے اس کے اڑائی خاک
خشک ہوا خون اشک کے بدلے ریگ رواں سی آئی خاک
صورت کے ہم آئینے کے سے ظاہر فقر نہیں کرتے
ہوتے ساتے روتے پاتے ان نے منھ کو لگائی خاک
پیچ و تاب سے خاک بھی میری جیسے بگولا پھرنے لگی
سر میں ہوا ہی اس کے بہت تھی تب تو ہوئی ہے ہوائی خاک
اور غبار کسو کے دل کا کس انداز سے نکلے آہ
روے فلک پر بدلی سی تو ساری ہماری چھائی خاک
نعمت رنگارنگ حق سے بہرہ بخت سیہ کو نہیں
سانپ رہا گو گنج کے اوپر کھانے کو تو کھائی خاک
اپنے تئیں گم جیسا کیا تھا یاں سر کھینچ کے لوگوں نے
عالم خاک میں ویسی ہی اب ڈھونڈی ان کی نہ پائی خاک
انس نہیں انسان سے اچھا عشق و جنوں اک آفت ہے
فرق ہوئے کیا چھوڑے ہے آدم میں اس کی جدائی خاک
ہوکے فقیر گلی میں اس کی چین بہت سا پایا ہم
لے کے سرہانے پتھر رکھا جاے فرش بچھائی خاک
قلب گداز ہیں جن کے وے بھی مٹی سونا کرتے ہیں
میر اکسیر بنائی انھوں نے جن کی جہاں سے اٹھائی خاک
میر تقی میر

میل دلی اس خودسر سے ہے جو پایہ ہے خدائی کا

دیوان پنجم غزل 1536
عشق تو بن رسوائی عالم باعث ہے رسوائی کا
میل دلی اس خودسر سے ہے جو پایہ ہے خدائی کا
ہے جو سیاہی جرم قمر میں اس کے سوا کچھ اور نہیں
داغ ہے مہ کا آئینہ اس سطح رخ کی صفائی کا
نزع میں میری حاضر تھا پر آنکھ نہ ایدھر اس کی پڑی
داغ چلا ہوں اس سے جہاں میں یار کی بے پروائی کا
کوشش میں سر مارا لیکن در پہ کسی کے جا نہ سکا
تن پہ زبان شکر ہے ہر مو اپنی شکستہ پائی کا
رنگ سراپا اس کا ہوا لے آگے دل خوں کرتی رہی
اب ہے جگر یک لخت افسردہ اس کے رنگ حنائی کا
آنا سن ناداری سے ہم نے جی دینا ٹھہرایا ہے
کیا کہیے اندیشہ بڑا تھا اس کی منھ دکھلائی کا
کوفت میں ہے ہر عضو اس کا جوں عضو از جا رفتہ میر
جو کشتہ ہے ظلم رسیدہ اس کے درد جدائی کا
میر تقی میر

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

دیوان چہارم غزل 1451
غزل میر کی کب پڑھائی نہیں
کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں
زباں سے ہماری ہے صیاد خوش
ہمیں اب امید رہائی نہیں
کتابت گئی کب کہ اس شوخ نے
بنا اس کی گڈّی اڑائی نہیں
نسیم آئی میرے قفس میں عبث
گلستاں سے دو پھول لائی نہیں
مری دل لگی اس کے رو سے ہی ہے
گل تر سے کچھ آشنائی نہیں
نوشتے کی خوبی لکھی کب گئی
کتابت بھی ایک اب تک آئی نہیں
گلہ ہجر کا سن کے کہنے لگا
ہمارے تمھارے جدائی نہیں
جدا رہتے برسوں ہوئے کیونکے یہ
کنایہ نہیں بے ادائی نہیں
سیہ طالعی میری ظاہر ہے اب
نہیں شب کہ اس سے لڑائی نہیں
میر تقی میر

یہ بات اک بے خودی میں منھ پر آئی

دیوان سوم غزل 1272
کہی میں ان لبوں کی جاں فزائی
یہ بات اک بے خودی میں منھ پر آئی
تعارف کیا رہا اہل چمن سے
ہوئی اک عمر میں اپنی رہائی
کہاں کا بے ستوں فرہاد کیسا
یہ سب تھی عشق کی زورآزمائی
جفا اٹھتی وفا جو عمر کرتی
سو کی اس رفتنی نے بے وفائی
کہیں سو کیا کہیں سر پر ہمارے
قیامت شامت اعمال لائی
گیا اس ترک کی آمد کو سن جی
تھمی ہم سے نہ اک دم بھی اوائی
موافق ٹک ہو تو تو پھر جہاں میں
مثل ہو میری تیری آشنائی
بغیر از چہرئہ مہتابی یار
ہمارے منھ پہ چھوٹے ہے ہوائی
گئی ٹکڑے ہو دل کی آرسی تو
ہوئی صدچند اس کی خودنمائی
فراق یار کو آساں نہ سمجھو
کہ جان و تن کی مشکل ہے جدائی
پھر آنا کعبے سے اپنا نہ ہو گا
اب اس کے گھر کی ہم نے راہ پائی
ہوئے ہیں درد دل سے میر کے تنگ
پھر اس جوگی نے یاں دھونی لگائی
میر تقی میر

ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے

دیوان دوم غزل 1047
کوفت سے جان لب پہ آئی ہے
ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے
لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر
شوق نے بات کیا بڑھائی ہے
آرزو اس بلند و بالا کی
کیا بلا میرے سر پہ لائی ہے
دیدنی ہے شکستگی دل کی
کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے
ہے تصنع کہ لعل ہیں وے لب
یعنی اک بات سی بنائی ہے
دل سے نزدیک اور اتنا دور
کس سے اس کو کچھ آشنائی ہے
بے ستوں کیا ہے کوہکن کیسا
عشق کی زور آزمائی ہے
جس مرض میں کہ جان جاتی ہے
دلبروں ہی کی وہ جدائی ہے
یاں ہوئے خاک سے برابر ہم
واں وہی ناز و خودنمائی ہے
ایسا موتیٰ ہے زندئہ جاوید
رفتۂ یار تھا جب آئی ہے
مرگ مجنوں سے عقل گم ہے میر
کیا دوانے نے موت پائی ہے
میر تقی میر

طرف ہے مجھ سے اب ساری خدائی

دیوان دوم غزل 960
بتوں سے آنکھ کیوں میں نے لڑائی
طرف ہے مجھ سے اب ساری خدائی
نرا دھوکا ہی ہے دریاے ہستی
نہیں کچھ تہ سے تجھ کو آشنائی
بگڑتی ہی گئی صورت ہماری
گئے پر دل کے پھر کچھ بن نہ آئی
نہ نکلا ایک شب اس راہ وہ ماہ
بہت کی ہم نے طالع آزمائی
کہا تھا میں نہ دیکھو غیر کی اور
سو تم نے آنکھ مجھ سے ہی چھپائی
نہ ملیے خاک میں کہہ کیونکے پیارے
گذرتی ہے کڑی تیری جدائی
جفا اس کی نہ پہنچی انتہا کو
دریغا عمر نے کی بے وفائی
گلے اس مہ نے لگ کر ایک دو رات
مہینوں تک مری چھاتی جلائی
نہ تھا جب درمیاں آئینہ تب تک
تھی یک صورت کہ ہو جاوے صفائی
نظر اس کی پڑی چہرے پر اپنے
نمدپوشوں سے آنکھ اب کب ملائی
بڑھائی کس قدر بات اس کے قد کی
قیامت میر صاحب ہیں چوائی
میر تقی میر

کہ پھر موئے ہی بنے ہے اگر جدائی ہو

دیوان دوم غزل 923
خدا کرے کہ بتوں سے نہ آشنائی ہو
کہ پھر موئے ہی بنے ہے اگر جدائی ہو
بدن نما ہے ہر آئینہ لوح تربت کا
نظر جسے ہو اسے خاک خودنمائی ہو
بدی نوشتے کی تحریر کیا کروں اپنے
کہ نامہ پہنچے تو پھر کاغذ ہوائی ہو
فرو نہ آوے سر اس کا طواف کعبہ سے
نصیب جس کے ترے در کی جبہہ سائی ہو
ہماری چاہ نہ یوسفؑ ہی پر ہے کچھ موقوف
نہیں ہے وہ تو کوئی اور اس کا بھائی ہو
گلی میں اس کی رہا جا کے جو کوئی سو رہا
وہی تو جاوے ہے واں جس کسو کی آئی ہو
لب سوال نہ اک بوسے کے لیے کھولوں
ہزار مہر و محبت میں بے نوائی ہو
زمانہ یار نہیں اپنے بخت سے اتنا
کہ مدعی سے اسے ایک دن لڑائی ہو
جفا و جور و ستم اس کے آپ ہی سہیے
جو اپنے حوصلہ میں کچھ بھی اب سمائی ہو
ہزار موسم گل تو گئے اسیری میں
دکھائی دے ہے موئے ہی پہ اب رہائی ہو
چمکتے دانتوں سے اس کے ہوئی ہے روکش میر
عجب نہیں ہے کہ بجلی کی جگ ہنسائی ہو
میر تقی میر

دیکھی نہ بے ستوں میں زور آزمائی دل

دیوان دوم غزل 851
پوشیدہ کیا رہے ہے قدرت نمائی دل
دیکھی نہ بے ستوں میں زور آزمائی دل
ہے تیرہ یہ بیاباں گرد و غبار سے سب
دے راہ کب دکھائی بے رہنمائی دل
اندوہ و غم سے اکثر رہتا ہوں میں مکدر
کیا خاک میں ملی ہے میری صفائی دل
پیش آوے کوئی صورت منھ موڑتے نہیں وے
آئینہ ساں جنھیں ہے کچھ آشنائی دل
مر تو نہیں گیا میں پر جی ہی جانتا ہے
گذرے ہے شاق مجھ پر جیسی جدائی دل
اس دامگہ میں اس کے سارے فریب ہی ہیں
آتی نہیں نظر کچھ مجھ کو رہائی دل
گر رنگ ہے چلا ہے ور بو ہے تو ہوا ہے
کہہ میر اس چمن میں کس سے لگایئے دل
میر تقی میر

نہ پیش آوے اگر مرحلہ جدائی کا

دیوان دوم غزل 721
طریق خوب ہے آپس میں آشنائی کا
نہ پیش آوے اگر مرحلہ جدائی کا
ہوا ہے کنج قفس ہی کی بے پری میں خوب
کہ پر کے سال تلک لطف تھا رہائی کا
یہیں ہیں دیر و حرم اب تو یہ حقیقت ہے
دماغ کس کو ہے ہر در کی جبہہ سائی کا
نہ پوچھ مہندی لگانے کی خوبیاں اپنی
جگر ہے خستہ ترے پنجۂ حنائی کا
نہیں جہان میں کس طرف گفتگو دل سے
یہ ایک قطرئہ خوں ہے طرف خدائی کا
کسو پہاڑ میں جوں کوہکن سر اب ماریں
خیال ہم کو بھی ہے بخت آزمائی کا
بجا رہا نہ دل شیخ شور محشر سے
جگر بھی چاہے ہے کچھ تھامنا اوائی کا
رکھا ہے باز ہمیں در بدر کے پھرنے سے
سروں پہ اپنے ہے احساں شکستہ پائی کا
ملا کہیں تو دکھا دیں گے عشق کا جنگل
بہت ہی خضر کو غرہ ہے رہنمائی کا
نہ انس مجھ سے ہوا اس کو میں ہزار کہا
جگر میں داغ ہے اس گل کی بیوفائی کا
جہاں سے میر ہی کے ساتھ جانا تھا لیکن
کوئی شریک نہیں ہے کسو کی آئی کا
میر تقی میر

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

دیوان اول غزل 435
ہے غزل میر یہ شفائیؔ کی
ہم نے بھی طبع آزمائی کی
اس کے ایفاے عہد تک نہ جیے
عمر نے ہم سے بے وفائی کی
وصل کے دن کی آرزو ہی رہی
شب نہ آخر ہوئی جدائی کی
اسی تقریب اس گلی میں رہے
منتیں ہیں شکستہ پائی کی
دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر
آہ نے آہ نارسائی کی
کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس
ہم نے دیدار کی گدائی کی
زور و زر کچھ نہ تھا تو بارے میر
کس بھروسے پر آشنائی کی
میر تقی میر

کی بھی اور کسی سے آشنائی کی

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 8
دھوم تھی اپنی پارسائی کی
کی بھی اور کسی سے آشنائی کی
کیوں بڑھاتے ہو اخلاط بہت
ہم کو طاقت نہیں جدائی کی
منہ کہاں چھپاؤ گے ہم سے
تم کو عادت ہے خود نمائی کی
لاگ میں ہیں لگاؤ کی باتیں
صلح میں چھیڑ ہے لڑائی کی
ملتے غیروں سے ہو ملو لیکن
ہم سے باتیں کرو صفائی کی
دل رہا پائے بند الفت دام
تھی عبث آرزو رہائی کی
دل بھی پہلو میں ہو یاں کسی سے
رکھئے امید دلربائی کی
شہر و دریا سے باغ و صحرا سے
بو نہیں آتی آشنائی کی
نہ ملا کوئی غارتِ ایماں
رہ گئی شرم پارسائی کی
موت کی طرح جس سے ڈرتے تھے
ساعت آن پہنچی اس جدائی کی
زندہ پھرنے کی ہے ہوس حالیؔ
انتہا ہے یہ بے حیائی کی
الطاف حسین حالی

شہر کیسا دکھائی دینے لگا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 55
کیوں میں تیری دہائی دینے لگا
شہر کیسا دکھائی دینے لگا
لو غم آشنائی دینے لگا
میں جہاں کو دکھائی دینے لگا
اے خیال ہجوم ہم سفراں
تو بھی داغ جدائی دینے لگا
کون اندر سے اٹھ گیا باقیؔ
شور دل کا سنائی دینے لگا
باقی صدیقی