ٹیگ کے محفوظات: ترا

سخی! محبت زدہ عقیدہ تری محبت

مرا تصوّف، مرا عقیدہ، تری محبت
سخی! محبت زدہ عقیدہ تری محبت
نمازِ مغرب قضا ہوئی تو ضمیر بولا!
کہ ہائے غافل! ترا عقیدہ، تری محبت
مری عقیدت سبھی عقیدوں سے ایک جیسی
مگر ہے سب سے جُدا عقیدہ تری محبت
تری قسم دے کے کہہ رہا ہوں مرے لئے تو
فنا صدی کا بقا عقیدہ، تری محبت
تری عطا پہ میں خوش ہوں میرے کریم مولا!
ہے لا اِلٰہ جڑا عقیدہ تری محبت
ذلیل دنیا نے ساتھ چھوڑا تو کام آئے
قدم، قدم پر ترا عقیدہ تری محبت
افتخار فلک

یار تک، بے وفا نِرا نکلا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
ربطِ باہم کا یہ سِرا نکلا
یار تک، بے وفا نِرا نکلا
کھیل میں ٹیڑھ جو، قصور تھا جو
اور کسی کا نہیں مِرا نکلا
ہوشمند اِک مجھے ہی رہنا تھا
جو مِلا مجھ سے سرپِھرا نکلا
جتنا پیندا تھا دل کی ناؤ کا
آبِ دشمن میں ہی گِھرا نکلا
جو مزہ قُربِ دوستاں کا تھا
آخرش وہ بھی کِرکِرا نکلا
تیرا سایہ تلک بھی اے ماجِد!
جانے کیوں مُحتسب ترا نکلا
ماجد صدیقی

شاخ کو، پھر ہے تبر، یاد آیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
جس سے لرزاں تھی وُہ ڈر، یاد آیا
شاخ کو، پھر ہے تبر، یاد آیا
حبس سانسوں میں، جہاں بھی اُترا
مُجھ کو ہجرت کا، سفر یاد آیا
چاند تھا جن کا، چراغاں مَیں تھا
پھر نہ وُہ بام، نہ در یاد آیا
زخم سا محو، جو دل سے ٹھہرا
کیوں اچانک، وُہ نگر یاد آیا
کیسی سازش یہ صبا نے، کی ہے
کیوں قفس میں، گلِ ترا یاد آیا
بُوند جب، ابر سے بچھڑی ماجدؔ
مُجھ کو چھوڑا ہُوا گھر، یاد آیا
ماجد صدیقی

پھیلتے جا رہے ہیں کھنڈر سامنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
کوئی بستی نہ دیوار و در سامنے
پھیلتے جا رہے ہیں کھنڈر سامنے
اپنی جانب لپکتے قدم دیکھ کر
مُسکراتے ہیں گل شاخ پر سامنے
یاد میں تھیں صبا کی سی اٹکھیلیاں
جانے کیا کچھ رہا رات بھر سامنے
زندگی ہے کہ آلام کی گرد سے
ہانپتی ہے کوئی راہگزر سامنے
رات تھی جیسے جنگل کا تنہا سفر
چونک اُٹھے جو دیکھی سحر سامنے
آئنے ہیں مقابل جِدھر دیکھیے
اپنی صورت ہے با چشمِ ترا سامنے
ہم ہیں ماجدؔ سُلگتے دئیے رات کے
بُجھ گئے بھی تو ہو گی سحر سامنے
ماجد صدیقی

آج کیا جانیے کیا یاد آیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 25
جو بھی دکھ یاد نہ تھا یاد آیا
آج کیا جانیے کیا یاد آیا
پھر کوئی ہاتھ ہے دل پر جیسے
پھر ترا عہد وفا یاد آیا
جس طرح دھند میں‌لپٹے ہوئے پھول
ایک اک نقش ترا یاد آیا
ایسی مجبوری کے عالم میں‌ کوئی
یاد آیا بھی تو کیا یاد آیا
اے رفیقو سر منزل جا کر
کیا کوئی آبلہ پا یاد آیا
یاد آیا تھا بچھڑنا تیرا
پھر نہیں‌ یاد کہ کیا یاد آیا
جب کوئی زخم بھرا داغ بنا
جب کوئی بھول گیا یاد آیا
یہ محبت بھی ہے کیا روگ فراز
جس کو بھولے وہ سدا یاد آیا
احمد فراز

ترے فراق سے پہلے ہی میں جدا ہو جاؤں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 26
وفا کے باب میں اپنا مثالیہ ہو جاؤں
ترے فراق سے پہلے ہی میں جدا ہو جاؤں
میں اپنے آپ کو تیرے سبب سے جانتا ہوں
ترے یقین سے ہٹ کر تو واہمہ ہو جاؤں
تعلقات کے برزخ میں عین ممکن ہے
ذرا سا دُکھ وہ مجھے دے تو میں ترا ہو جاؤں
ابھی میں خوش ہوں تو غافل نہ جان اپنے سے
نہ جانے کون سی لغزش پہ میں خفا ہو جاؤں
ابھی تو راہ میں حائل ہے آرزو کی فصیل
ذرا یہ عشق سوا ہو تو جا بہ جا ہو جاؤں
ابھی تو وقت تنفس کے ساتھ چلتا ہے
ذرا ٹھہر کہ میں اس جسم سے رہا ہو جاؤں
ابھی تو میں بھی تری جستجو میں شامل ہوں
قریب ہے کہ تجسس سے ماورا ہو جاؤں
خموشیاں ہیں، اندھیرا ہے، بے یقینی ہے
رہے نہ یاد بھی تیری تو میں خلا ہو جاؤں
کسی سے مل کے بچھڑنا بڑی اذیت ہے
تو کیا میں عہدِ تمنا کا فاصلہ ہو جاؤں
ترے خیال کی صورت گری کا شوق لیے
میں خواب ہو تو گیا ہوں اب اور کیا ہو جاؤں
یہ حرف و صوت کا رشتہ ہے زندگی کی دلیل
خدا وہ دن نہ دکھائے کہ بے صدا ہو جاؤں
وہ جس نے مجھ کو ترے ہجر میں بحال رکھا
تُو آ گیا ہے تو کیا اُس سے بے وفا ہو جاؤں
عرفان ستار

ہوش و حواس و عقل و خرد کا پتا نہ تھا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 20
کل نغمہ گر جو مطربِ جادو ترا نہ تھا
ہوش و حواس و عقل و خرد کا پتا نہ تھا
یہ بت کہ جائے شیب ہے، جب تھا نقاب میں
عہدِ شباب اور بتوں کا زمانہ تھا
معلوم ہے ستاتے ہو ہر اک بہانے سے
قصداً نہ آئے رات، حنا کا بہانہ تھا
حسرت سے اس کے کوچے کو کیوں کر نہ دیکھئے
اپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا
کیا مے کدوں میں ہے کہ مدارس میں وہ نہیں
البتہ ایک واں دلِ بے مدعا نہ تھا
ساقی کی بے مدد نہ بنی بات رات کو
مطرب اگرچہ کام میں اپنے یگانہ تھا
کچھ آج ان کی بزم میں بے ڈھب ہے بندوبست
آلودہ مے سے دامنِ بادِ صبا نہ تھا
دشمن کے فعل کی تمہیں توجیہ کیا ضرور
تم سے فقط مجھے گلۂ دوستانہ تھا
کل شیفتہ سحر کو عجب حالِ خوش میں تھے
آنکھوں میں نشہ اور لبوں پر ترانہ تھا
مصطفٰی خان شیفتہ

الجھائو تھا جو اس کی زلفوں سے سو گیا نہ

دیوان چہارم غزل 1484
سر تو بہت بکھیرا پر فائدہ کیا نہ
الجھائو تھا جو اس کی زلفوں سے سو گیا نہ
وے زلفیں عقدہ عقدہ ہیں آفت زمانہ
عقدہ ہمارے دل کا ان سے بھی کچھ کھلا نہ
غنچے کے دل کی کچھ تھی واشد بہار آئی
افسوس ہے کہ موسم گل کا بہت رہا نہ
مرنا ہمارا اس سے کہہ دیکھیں یار جاکر
حال اس کا یہ خبر بھی درہم کرے ہے یا نہ
کن رس بھی حیف اس کو تھا نہ کہا تو کیا کیا
قطعہ لطیفہ بذلہ شعر و غزل ترانہ
بیمارعشق بے کس جیتا رہے گا کیوں کر
احوال گیر کم ہو پہنچے بہم دوا نہ
یوں درمیاں چمن کے لے تو گئے تھے ہم کو
پر فرط بے خودی سے ہم تھے نہ درمیانہ
چھو سکتے بھی نہیں ہیں ہم لپٹے بال اس کے
ہیں شانہ گیر سے جو یہ لڑکے نرم شانہ
وحشت چمن میں ہم کو کل صبح بیشتر تھی
بے اس کے پھول گل سے جی ایک دم لگا نہ
صحبت برآر اپنی لوگوں سے کیونکے ہووے
معقول گو ہم اتنے وے ایسے ہرزہ چا نہ
رگڑے گئے ہیں جبہے ازبسکہ راستوں کے
آئینہ ہو رہا ہے وہ سنگ آستانہ
ہے عینہٖ ابلنا سیلاب رود کا سا
اے میر چشم تر ہے یا کوئی رودخانہ
میر تقی میر

دل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 143
وقف رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں
دل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیں
صحبت شیشہ گراں سے انکار
سنگ آئنہ بنا ہے کہ نہیں
ہر کرن وقت سحر کہتی ہے
روزن دل کوئی وا ہے کہ نہیں
رنگ ہر بات میں بھرنے والو
قصہ کچھ آگے بڑھا ہے کہ نہیں
زندگی جرم بنی جاتی ہے
جرم کی کوئی سزا ہے کہ نہیں
دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں
کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں
زخم دل منزل جاں تک آئے
سنگ رہ ساتھ چلا ہے کہ نہیں
کھو گئے راہ کے سناٹے میں
اب کوئی دل کی صدا ہے کہ نہیں
ہم ترسنے لگے بوئے گل کو
کہیں گلشن میں صبا ہے کہ نہیں
حکم حاکم ہے کہ خاموش رہو
بولو اب کوئی گلہ ہے کہ نہیں
چپ تو ہو جاتے ہیں لیکن باقیؔ
اس میں بھی اپنا بھلا ہے کہ نہیں
باقی صدیقی