ٹیگ کے محفوظات: بچپن

میں جو ٹوٹا ، میں جو بکھرا، میں تھا درپن ساجن کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 18
بول رے جی اب ساجن جی کا مکھڑا ہے کس درپن کا
میں جو ٹوٹا ، میں جو بکھرا، میں تھا درپن ساجن کا
جب تجھ سے ناتا ٹوٹا تو پھر اپنے سے کیا ناتا
پر اب بھی تو اک ناتا ہے، وہ ناتا ہے ان بن کا
میرا دل ہے ساگر ایسا، تم ندیوں کے مان میں ہو
میں بھی اپنی گنگا کا ہوں، میں بھی اپنی گانگن کا
مجھ کو میرے سارے کھلونے لا کے دو میں کیا جانوں
کیسی جوانی، کس کی جوانی، میں ہوں اپنے بچپن کا
بیچ میں آنے والے تو بس بِن کارن ہلکان ہوئے
سید جی تھا سارا کھیل، تمہارا اور برہمن کا
جو بھی ہو گا اس نے کوئی دامن تھام رکھا ہو گا
جانے میرا ہاتھ ہے یارو کس دلبر کے دامن کا
اس جوگن کے روپ ہزاروں، ان میں سے اک روپ ہے تُو
جب سے میں نے جوگ لیا ہے، جوگی ہوں اس جوگن کا
چلمن پیچھے اک چلمن ہے آنکھوں سے آکاش تلک
جو تیری دیکھن میں آیا، تھا وہ جھلکا چلمن کا
کیا بتلاؤں اس سے لڑنے بھڑنے میں جو لِیلا تھی
لڑنا تھا اس من موہن سے میرا کھیل لڑکپن کا
تُو جو دریچے سے آتی ہے کیوں میں تجھ کو آنے دوں
کوئی بگولا لائی ہے کیا تُو، بادِ صبا اس آنگن کا
جون بڑا ہرجائی نکلا، پر وہ تو بیراگی تھا
ایک رسیلی، ایک انیلی، البیلی امروہن کا
جون ایلیا

روز گلگشت کرے خواہشوں کے گلشن میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 38
صبحِ اُمید، شب یاس کے پیراہن میں
روز گلگشت کرے خواہشوں کے گلشن میں
میں درِ شام پہ بیٹھا ہوں سوالی بن کر
اک ستارا ہی اُتر آئے مرے آنگن میں
نارسائی میں رہو اور کرشمہ دیکھو
ہے عبادت کا مزہ گوریوں کے درشن میں
ابر تو برسا بہت، پیاس نہ مِٹ پائی مگر
کاش میں مر ہی گیا ہوتا کسی ساون میں
بے صدا ہوتی گئیں روشنیاں وقت کے ساتھ
وہ جو پیغام سا دیتی تھیں ہمیں بچپن میں
زندگی! کھل کے مرے سامنے آ یا چھپ جا
تو نے رکھا ہے ہمیشہ سے مجھے اُلجھن میں
قید میں دیوے بشارت مجھے آزادی کی
آسماں رہتا ہے دن رات مرے روزن میں
آفتاب اقبال شمیم

آنکھ کا تالاب بد روحوں کا مسکن ہو گیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 128
آخرش ہجراں کے مہتابوں کا مد فن ہو گیا
آنکھ کا تالاب بد روحوں کا مسکن ہو گیا
دھوپ در آئی اچانک رات کو برسات میں
اس کا چہرہ آنسوئوں میں عکس افگن ہو گیا
دل چرا کر جا رہا تھا میں دبے پاؤں مگر
چاند نکلا اور سارا شہر روشن ہو گیا
رو پڑا تھا جا کے داتا گنج کے دربار پر
یوں ہوا پھر راہ میں سانول کا درشن ہو گیا
بجلیاں ہیں بادلوں کے بین ہیں کمرے کے بیچ
اور کیلنڈر کہے ہے، ختم ساون ہو گیا
کیوں سلگتی ریت نے سہلا دیے تلووں کے پھول
یہ اذیت کیش دل صحرا کا دشمن ہو گیا
جھلملا اٹھتا تھا برتن مانجھنے پر جھاگ سے
اس کلائی سے جو روٹھا زرد کنگن ہو گیا
تیری میری زندگی کی خوبصورت ساعتیں
تیرا بچپن ہو گیا یا میرا بچپن ہو گیا
ایک جلوے کی قیامت میں نے دیکھی طور پر
دھوپ تھی ایسی کہ سورج سوختہ تن ہو گیا
بے خدا ہوں سوچتا ہوں شکر کس کا ہو ادا
میں نے جو چاہا وہی منصور فوراً ہو گیا
منصور آفاق