ٹیگ کے محفوظات: برباد

آپ کیا کہہ کہ ہمیں لائے تھے کچھ یاد بھی ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 142
یہ جفائیں تو وہی ہیں وہی بیداد بھی ہے
آپ کیا کہہ کہ ہمیں لائے تھے کچھ یاد بھی ہے
کیوں قفس والوں پہ الزامِ فغاں ہے ناحق
ان میں صیاد کوئی قابلِ فریاد بھی ہے
آشیاں کی خبر تجھ کو نہیں ہے نہ سہی
یہ تو صیاد بتا دے چمن آباد بھی ہے
اپنے رہنے کو مکاں لے لیئے تم نے لیکن
یہ نہ سوچا کہ کوئی خانماں برباد بھی ہے
کارواں لے کے تو چلتا ہے مگر یہ تو بتا
راہِ منزل تجھے اے راہ نما یاد بھی ہے
تو حقارت سے جنہیں دیکھ رہا ساقی
کچھ انھیں لوگوں سے یہ میکدہ آباد بھی ہے
اِک تو حق دارِ نوازش ہے قمر خانہ خراب
دوسرے مملکتِ پاکِ خدا داد بھی ہے
قمر جلالوی

بلبلوں نے عمر بھر میری کہانی یاد کی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 97
داستاں اوراقِ گل پر تھی مجھی ناشاد کی
بلبلوں نے عمر بھر میری کہانی یاد کی
مجھ سے روٹھا ہے خودی دیکھو بتِ جلاد کی
مدعا یہ ہے کہ کیوں اللہ سے فریاد کی
قبر ٹھوکر سے مٹا دی عاشقِ ناشاد کی
یہ بھی اک تاریخ تھی ظالم تری بیداد کی
کیا ملے دیکھیں اسیروں کو سزا فریاد کی
آج کچھ بدلی ہوئی سی ہے نظر صیاد کی
رات میں بلبل تجھے سوجھی تو ہے فریاد کی
آنکھ سوتے سے نہ کھل جائے کہیں صیاد کی
آگیا ان کو رحم اے دل تو نے کیوں فریاد کی
اب ہمیں امید بھی جاتی رہی بیداد کی
جس جگہ پہنچا وہیں آمد سنی صیاد کی
کیا بری تقدیر ہے مجھے خانماں برباد کی
فصلِ گل آتے ہی میرے چار تنکوں کے لیے
بجلیاں بے تاب ہیں چرخِ ستم ایجاد کی
ہو گیا بیمار کا دو ہچکیوں میں فیصلہ
ایک ہچکی موت کی اور اک تمھاری یاد کی
جاؤ بس رہنے بھی دو آئے نہ تم تو کیا ہوا
کیا کوئی میت نہ اٹھی عاشقِ ناشاد کی
اب مرے اجڑے نشیمن کی الٰہی خیر ہو
آج پھر دیکھی ہے صورت خواب میں صیاد کی
کس طرح گزری شبِ فرقت قمر سے یہ نہ پوچھ
کچھ ستارے گن لئے، کچھ روئے، کچھ فریاد کی
قمر جلالوی

داستاں کہنے کو بیٹھا ہوں دلِ نا شاد کی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 94
سامنے تصویر رکھ کر اس ستم ایجاد کی
داستاں کہنے کو بیٹھا ہوں دلِ نا شاد کی
کیا کروں چونکے نہ وہ قسمت دلِ نا شاد کی
جس قدر فریاد مجھ سے ہو سی فریاد کی
اس قدر رویا کہ ہچکی بندھ گئے صیاد کی
لاش جب نکلی قفس سے بلبلِ نا شاد کی
دفن سے پہلے اعزا ان سے جا کر پوچھ لیں
اور تو حسرت کوئی باقی نہیں بے دار کی
کاٹتا ہے پر کے نالوں پر بڑھا دیتا ہے قید
اے اسیرانِ قفس عادت ہے کیا صیاد کی
شام کا ہے وقت قبروں کو نہ ٹھکرا کر چلو
جانے کس عالم میں ہے میت کسی ناشاد کی
دور بیٹھا ہوں ثبوتِ خون چھپائے حشر میں
پاس اتنا ہے کہ رسوائی نہ ہو جلاد کی
کیا مجھی کم بخت کی تربت تھی ٹھوکر کے لئے
تم نے جب دیکھا مجھے مٹی مری برباد کی
کھیل اس کمسنے کا دیکھو نام لے لے کر مرا
ہاتھ سے تربت بنائی پاؤں سے برباد کی
کہہ رہے ہو اب قمر سابا وفا ملتا نہیں
خاک میں مجھ کو ملا بیٹھے تو میری یاد کی
قمر جلالوی

حسن اتنا سوچ لے دو بیکسوں کی یاد ہوں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 62
ہم خیالِ قیس ہوں ہم مشربِ فرہاد ہوں
حسن اتنا سوچ لے دو بیکسوں کی یاد ہوں
پاشکستہ، دل حزیں، شوریدہ سر، برباد ہوں
سر سے لے کر پاؤں تک فریاد ہی فریاد ہوں
حالِ گلشن کیا ہے اے نوواردِ کنجِ قفس
میں مدت سے اسیرِ خانۂ صیاد ہوں
خیریت سن لی گل و غنچے کی لیکن اے صبا
یاد ہیں مجھ کو تو سب میں بھی کسی کو یاد ہوں
تم سرِ محفل جو چھیڑو گے مجھے پچھتاؤ گے
جس کو سن سکتا نہیں کوئی میں وہ فریاد ہوں
تجھ سے میں واقف تو تھا گندم نما اوجَو فروش
فطرتاً کھانا پڑا دھکا کہ آدم زاد ہوں
گُلشنِ عالم میں اپنوں وے تو اچھے غیر ہیں
پھول ہیں بھولے، ہوئے کانٹوں کو لیکن یاد ہوں
قید میں صیاد کی پھر بھی ہیں نغمے رات دن
اس قدر پابندیوں پر کس قدر آزاد ہوں
بولنے کی دیر ہے میری ہر اک تصویر ہیں
میں زمانے کا ہوں مانی وقت کا بہزاد ہوں
صفحۂ ہستی سے کیا دنیا مٹائے گی مجھے
میں کوئے نقش و نگار مانی و بہزاد ہوں
فصلِ گل آنے کی کیا خوشیاں نشیمن جب نہ ہو
باغ کا مالک ہوں لیکن خانماں برباد ہوں
میں نے دانستہ چھپائے تھے ترے جور و ستم
تو نے یہ سمجھا کہ میں نا واقفِ فریاد ہوں
کیا پتہ پوچھو ہو میرا نام روشن ہے قمر
جس جگہ تاروں کی بستی ہے وہاں آباد ہوں
تم نے دیکھا تھا قمر کو بزم میں وقتِ سحر
جس کا منہ اترا ہوا تھا میں وہی ناشاد ہوں
قمر جلالوی

کہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 216
بجا ارشاد فرمایا گیا ہے
کہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہے
عنایت کی ہیں ناممکن امدیں
کرم ایجاد فرمایا گیا ہے
ہیں ہم اب اور زد ہے حادثوں کی
ہمیں آزاد فرمایا گیا ہے
ذرا اس کی پراحوالی تو دیکھیں
جسے برباد فرمایا گیا ہے
نسیمِ سبزگی تھے ہم، سو ہم کو
غبار افتاد فرمایا گیا ہے
سند بخشی ہے عشقِ بے غرض کی
بہت ہی شاد فرمایا گیا ہے
سلیقے کو لبِ فریاد تیرے
ادا کی داد فرمایا گیا ہے
کہاں ہم اور کہاں حسنِ سرِ بام
ہمیں بنیاد فرمایا گیا ہے
جون ایلیا

وہ بچھڑا اور دھیان میں اس کے سو موسم ایجاد ہوئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 164
دل کتنا آبادہوا جب دیدکے گھر برباد ہوئے
وہ بچھڑا اور دھیان میں اس کے سو موسم ایجاد ہوئے
ناموری کی بات دگر ہے ورنہ یارو سوچو تو
گلگلوں اب تک کتنے تیشے بے خونِ فرہاد ہوئے
لائیں کہاں سے بول رسیلے ہونٹوں کی ناداری میں
سمجھو ایک زمانہ گزرا بوسوں کی امداد ہوئے
تم میری اک خود مستی ہو میں ہوں تمہاری خود بینی
رشتے میں اس عشق کے ہم تم دونوں بےبنیاد ہوئے
میرا کیا اک موجِ ہوا ہوں پر یوں ہے اے غنچہ دہن
تُو نے دل کا باغ جو چھوڑا غنچے بے استاد ہوئے
عشق محلے میں اب یارو کیا کوئی معشوق نہیں
کتنے قاتل موسم گزرے شور ہوئے فریاد ہوئے
ہم نے دل کو مار رکھا ہے اور جتاتے پھرتے ہیں
ہم دل زخمی مژگاں خونیں ہم نہ ہوئے جلاد ہوئے
برق کیا ہے عکسِ بدن نے تیرے ہمیں اے تنگ قبا
تیرے بدن پر جتنے تِل ہیں سارے ہم کو یاد ہوئے
تُو نے کبھی سوچا تو ہو گا۔۔سوچا بھی اے مست ادا
تیری ادا کی آبادی پر کتنے گھر برباد ہوئے
جو کچھ بھی رودادِ سخن تھی ہونٹوں کی دُوری سے تھی
جب ہونٹوں سے ہونٹ ملے تو یکدم بے رُوداد ہوئے
خاک نشینوں سے کوچے کے کیا کیا نخوت کرتے ہیں
جاناں جان! ترے درباں تو فرعون و شدّاد ہوئے
شہروں میں ہی خاک اُڑالو شور مچالو بے حالو
جن دَشتوں کی سوچ رہے ہو وہ کب کے برباد ہوئے
سمتوں میں بکھری وہ خلوت۔۔وہ دل کی رنگ آبادی
یعنی وہ جو بام و دَر تھے یکسر گردوباد ہوئے
تُو نے رندوں کا حق مارا مے خانے میں رات گئے
شیخ!! کھرے سیّد ہیں ہم تو ہم نے سُنا ناشاد ہوئے
جون ایلیا

پہلے سنتے ہیں کہ رہتی تھی کوئی یاد اس میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 106
دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میں
پہلے سنتے ہیں کہ رہتی تھی کوئی یاد اس میں
وہ جو تھا اپنا گمان آج بہت یاد آیا
تھی عجب راحتِ آزادئ ایجاد اس میں
ایک ہی تو وہ مہم تھی جسے سر کرنا تھا
مجھے حاصل نہ کسی کی ہوئی امداد اس میں
ایک خوشبو میں رہی مجھ کو تلاشِ خدوخال
رنگ فصیلیں مری یارو ہوئیں برباد اس میں
باغِ جاں سے تُو کبھی رات گئے گزرا ہے
کہتے ہیں رات میں کھیلیں ہیں پری زاد اس میں
دل محلے میں عجب ایک قفس تھا یارو
صید کو چھوڑ کے رہنے لگا صیاد اس میں
جون ایلیا

کہ نا اُس شخص کو بھولیں نا اس کو یاد رکھیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 5
عہد اُس کُوچہِ دل سے ہے سو اُس کوچہ میں
ہے کوئی اپنی جگہ ہم جسے برباد رکھیں
کیا کہیں کیتنے نُقطے ہیں جو برتے نہ گئے
خوش بدن عشق کریں اور ہم اُستاد رکھیں
بے ستون اک نواہی میں ہے شہرِ دل کی
تیشہ انعام کریں اور کوئی فریاد رکھیں
آشیانہ کوئی اپنا نہیں پر شوق یہ ہے
اک قفس لائیں کہیں سے اور کوئی صیاد رکھیں
جون ایلیا

مجنوں کہنے لگا کہ ہاں استاد

دیوان چہارم غزل 1383
شعر دیواں کے میرے کر کر یاد
مجنوں کہنے لگا کہ ہاں استاد
خود کو عشق بتاں میں بھول نہ جا
متوکل ہو کر خدا کو یاد
سب طرف کرتے ہیں نکویاں کی
کس سے جا کر کوئی کرے فریاد
وحشی اب گردباد سے ہم ہیں
عمر افسوس کیا گئی برباد
چار دیواری عناصر میر
خوب جاگہ ہے پر ہے بے بنیاد
میر تقی میر

زبان سرخ سرِسبز دیتی ہے برباد

دیوان سوم غزل 1127
ہماری بات کو اے شمع بزم کریو یاد
زبان سرخ سرِسبز دیتی ہے برباد
ہمیں اسیر تو ہونا ہے اپنا اچھا یاد
کشش نہ دام کی دیکھی نہ کوشش صیاد
نہ دردمندی سے یہ راہ تم چلے ورنہ
قدم قدم پہ تھی یاں جاے نالہ و فریاد
ہزار فاختہ گردن میں طوق پہنے پھرے
اسے خیال نہیں کچھ وہ سرو ہے آزاد
جہاں میں اتنے ہی آشوب کیا رہیں گے بس
ابھی پڑے گا مرے خون بے گنہ سے زیاد
چمن میں اٹھتے ہیں سنّاہٹے سے اے بلبل
جگرخراش یہ نالے ہیں تیرے منھ سے زیاد
ثبات قصر و در و بام و خشت و گل کتنا
عمارت دل درویش کی رکھو بنیاد
چمن میں یار ہمیں لے گئے تھے وا نہ ہوئے
ہمارے ساتھ یہی غم یہی دل ناشاد
ہمیں تو مرنے کا طور اس کے خوش بہت آیا
طواف کریے جو ہو نخل ماتم فرہاد
نظر نہ کرنی طرف صید کے دم بسمل
یہ ظلم تازہ ہوا اس کشندے سے ایجاد
چلے نہ تیغ اگر ہم نگاہ عجز کریں
ہماری اور نہ دیکھے خدا کرے جلاد
کب ان نے دل میں کر انصاف ہم پہ لطف کیا
وہی ہے خشم وہی یاں سے جا وہی بیداد
تمام ریجھ پچائو ہیں اب تو پھر پس مرگ
کہا کنھوں نے تو کیا عزّاسمہٗ استاد
اگرچہ گنج بھی ہے پر خرابیاں ہیں بہت
نہ پھر خرابے میں اے میر خانماں برباد
میر تقی میر

رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد

دیوان اول غزل 203
میرے سنگ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد
ہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملال
جان کے ساتھ ہے دل ناشاد
موند آنکھیں سفر عدم کا کر
بس ہے دیکھا نہ عالم ایجاد
فکر تعمیر میں نہ رہ منعم
زندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد
خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیں
کس خرابے میں ہم ہوئے آباد
سنتے ہو ٹک سنو کہ پھر مجھ بعد
نہ سنوگے یہ نالہ و فریاد
لگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیم
خاک کس دل جلے کی دی برباد
بھولا جا ہے غم بتاں میں جی
غرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد
تیرے قید قفس کا کیا شکوہ
نالے اپنے سے اپنے سے فریاد
ہر طرف ہیں اسیر ہم آواز
باغ ہے گھر ترا تو اے صیاد
ہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں کہیں
اپنی قید حیات سے آزاد
ایسا وہ شوخ ہے کہ اٹھتے صبح
جانا سو جاے اس کی ہے معتاد
نہیں صورت پذیر نقش اس کا
یوں ہی تصدیع کھینچے ہے بہزاد
خوب ہے خاک سے بزرگوں کی
چاہنا تو مرے تئیں امداد
پر مروت کہاں کی ہے اے میر
تو ہی مجھ دل جلے کو کر ارشاد
نامرادی ہو جس پہ پروانہ
وہ جلاتا پھرے چراغ مراد
میر تقی میر

یہ دنیا جابروں کے قہر سے آزاد ہو جائے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 22
اگر ہر شہر اپنی ذات میں بغداد ہو جائے
یہ دنیا جابروں کے قہر سے آزاد ہو جائے
وہ ریگستاں جسے مورخ بھی قاصر تھے جلانے سے
کہاں ممکن ہے تیری آگ سے برباد ہو جائے
کرشمہ دیکھئے اُس کی خبر سازی کی صنعت کا
ستم احسان بن جائے، کرم بے داد ہو جائے
کہاں تک تجربہ پر تجربہ کرتے چلے جائیں
سبق وُہ دو، ہمیشہ کے لئے جو یاد ہو جائے
اگر تقدیر سے اک خواب بھی سچا نکل آئے
تو اِس دورانِ غم کی مختصر میعاد ہو جائے
ابھی اِس شہر میں سچ بولنے کی رُت نہیں آئی
تو اِس پت جھڑ میں کوئی شعر ہی ارشاد ہو جائے
آفتاب اقبال شمیم

اپنے لئے فریب سا ایجاد کر لیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 20
جب چاہا خود کو شاد یا ناشاد کر لیا
اپنے لئے فریب سا ایجاد کر لیا
کیا سوچنا کہ شوق کا انجام کیا ہوا
جب اختیار پیشۂ فرہاد کر لیا
خود سے چھپا کے خود کو زمانے کے خوف سے
ہم نے تو اپنے آپ کو برباد کر لیا
تھا عشق کا حوالہ نیا، ہم نے اس لئے
مضمونِ دل کو پھر سے طبع زاد کر لیا
یوں بھی پناہ سایہ کڑی دھوپ میں ملی
آنکھیں جھکائیں اور تجھے یاد کر لیا
آیا نیا شعور نئی اُلجھنوں کے ساتھ
سمجھے تھے ہم کہ ذہن کو آزاد کر لیا
بس کہ امامِ عصر کا فرمان تھا یہی
منہ ہم نے سوئے قبلۂ اضداد کر لیا
آفتاب اقبال شمیم

جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیّاد ہوئے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
اب کے برس دستورِستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے
جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیّاد ہوئے
پہلے بھی خزاں میں باغ اجڑے پر یوں نہیں جیسے اب کے برس
سارے بوٹے پتہ پتہ روش روش برباد ہوئے
پہلے بھی طوافِ شمعِ وفا تھی، رسم محبت والوں کی
ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصور ہوئے، فرہاد ہوئے
اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن میں کہرام مچا
اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے
فیض، نہ ہم یوسف نہ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے؎۱
اپنی کیا، کنعاں میں رہے یا مصر میں‌ جا آباد ہوئے
؎۱ غنی روزِ سیاہ پیرِ کنعاں را تماشا کن ۔۔۔۔ کہ نورِ دیدہ اش روشن کند چشمِ زلیخا را
فیض احمد فیض

ہم کو جو رنج ہے وہ جرأتِ فریاد سے ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 348
شکوہ کوئی بھی نہ دستِ ستم اِیجاد سے ہے
ہم کو جو رنج ہے وہ جرأتِ فریاد سے ہے
داستانوں میں تو ہم نے بھی پڑھا ہے، لیکن
آدمی کا بھی کوئی رِشتہ پری زاد سے ہے
زندہ ہے ذہن میں گزرے ہوئے لمحوں کی مہک
دشت آباد بہت، نکہتِ برباد سے ہے
سچ تو یہ ہے کہ تری نوک پلک کا رِشتہ
آخرِ کار ترے حسنِ خداداد سے ہے
اُس بلندی سے تجھے چاہے میں دِکھلائی نہ دوں
پھر بھی کچھ ربط تو دیوار کا بنیاد سے ہے
زہر کا جام ہو یا منبرِ دانش، عرفانؔ
ابنِ آدم کا جو ورثہ ہے وہ اَجداد سے ہے
عرفان صدیقی

جو ہمیں بھول گیا ہے اسے کیا یاد کریں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 300
اب کوئی اورخدا کعبہ میں آباد کریں
جو ہمیں بھول گیا ہے اسے کیا یاد کریں
اتنی بے رحم سلگتی ہوئی تنہائی میں
در کوئی ہے جہاں انصاف کی فریاد کریں
زندگی اور خدا دونوں بڑے تیزمزاج
کس کو ناشاد کریں اور کسے شاد کریں
شب کی تعمیر گرانا کوئی آساں تو نہیں
تھک نہ جائے کہیں آ وقت کی امداد کریں
ہے ازل ہی سے وفا اپنے قبیلے کی سرشت
کیا گلہ تجھ سے ترے خانماں برباد کریں
روک کر ہاتھ سے خورشید کی گردش منصور
وقت کی قید سے آفاق کو آزاد کریں
منصور آفاق

اس کو بھی اپنی طرح برباد کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 170
اب کوئی ایسا ستم ایجاد کر
اس کو بھی اپنی طرح برباد کر
روند کر رکھ دوں ترے سات آسماں
اک ذرا بس موت سے آزاد کر
اب مجھے تسخیر کرنے کے لیے
اسم اعظم روح میں آباد کر
میری باتیں میری آنکھیں میرے ہاتھ
بیٹھ کر اب رو مجھے اور یاد کر
قریہء تشکیک کی سرحد پہ ہوں
صاحبِ لوح و قلم امداد کر
خالق و مخلوق میں دے فاصلے
ہم خدا زادوں کو آدم زاد کر
خشک سالی آ گئی آنکھوں تلک
پانیوں کے واسطے فریاد کر
ہے رکا کوئی یہاں برسوں کے بعد
بس دعائے عمرِ ابر و باد کر
اک قیامت سے نکل آیا ہوں میں
اب کوئی نازل نئی افتاد کر
ہیں ہمہ تن گوش ساتوں آسماں
بول کچھ منصور کچھ ارشاد کر
منصور آفاق

جان اسکی ترے طوطے میں ہے، یاد سے کہنا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 51
میں دیو کا قیدی ہوں پری زاد سے کہنا
جان اسکی ترے طوطے میں ہے، یاد سے کہنا
ممکن ہے ابابیلوں کے مالک سے ملاقات
اُس ہاتھیوں کے لشکرِ برباد سے کہنا
آنا ذرا خسروسے مگرآنکھ بچا کر
شیریں نے کیا یاد ہے فرہاد سے کہنا
کوہ قاف سے آیا ہے بلاوہ کسی رُت کا
تیار رہے اشہبِ شمشاد سے کہنا
میں بادِ زمانہ کا ازل سے ہوں مخالف
اے بادِ جہاں گیر ،شہِ باد سے کہنا
معلوم ہیں اسرار ہمیں تیرے کرم کے
طیاروں پہ آتی ہوئی امداد سے کہنا
حاکم تری گلیوں میں ہیں ابلیس کے بیٹے
یہ بات مرے ملکِ خداداد سے کہنا
منصور نہیں بھولا میانوالی کی گلیاں
اے باد صبا اُس دلِ ناشاد سے کہنا
منصور آفاق