ٹیگ کے محفوظات: بدلتے

وہ زخمۂ رگِ جاں توڑ کر نکلتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 67
سکوت بن کے جو نغمے دلوں میں پلتے ہیں
وہ زخمۂ رگِ جاں توڑ کر نکلتے ہیں
حضور آپ شب آرائیاں کریں لیکن
فقط نمودِ سحر تک چراغ جلتے ہیں
اگر فضا ہے مخالف تو زلف لہراؤ
کہ بادبان ہواؤں کا رُخ بدلتے ہیں
کوئی بھی فیصلہ دینا ابھی درست نہیں
کہ واقعات ابھی کروٹیں بدلتے ہیں
یہ پاسِ پیر مغاں ہے کہ ضعفِ تشنہ لبی
نشہ نہیں ہے مگر لڑکھڑا کے چلتے ہیں
خدا کا نام جہاں بیچتے ہیں لوگ فراز
بصد وثوق وہاں کاروبار چلتے ہیں
احمد فراز

مگر ذکر شامِ الم کا جب آیا چراغِ سحر بجھ گیا جلتے جلتے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 3
مریضِ محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے
مگر ذکر شامِ الم کا جب آیا چراغِ سحر بجھ گیا جلتے جلتے
انھیں خط میں لکھا تھا کے دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا محبت کرتے
تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے
مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے
کہیں پائے نازک میں موچ آنہ جائے دلِ سخت جاں کو مسلتے مسلتے
بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو
قیامت کا دن آگیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے
ارادہ تھا ترکِ محبت کا لیکن فریبِ تبسم میں پھر آ گئے ہم
ابھی کھا کہ ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے
بس اب صبر کر رہروِ راہِ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے
اِدھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے ادھر تھک جائیں گے پاؤں چلتے چلتے
وہ مہمان میری ہوئے بھی تو کب تک ہوئی شمع گل اور نہ ڈوبے ستارے
قمر اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دیے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے
قمر جلالوی

صبحِ فلک پہ اب مجھے چلتے ہوئے بھی دیکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 412
جلتی ہوئی چتا سے نکلتے ہوئے بھی دیکھ
صبحِ فلک پہ اب مجھے چلتے ہوئے بھی دیکھ
جس کو بلا کا زعم تھا اپنے مزاج پر
وہ آہنی چٹان پگھلتے ہوئے بھی دیکھ
چھو کر کسی گلاب کو موجِ بدن کے رنگ
بہتی ہوئی ندی میں مچلتے ہوئے بھی دیکھ
اے بادِ تندِ یار تجھے اور کیا کہوں
بجھتے ہوئے چراغ کو جلتے ہوئے بھی دیکھ
پاگل سا ہو گیا تھا جسے دیکھ کر کبھی
اس چودھویں کے چاند کو ڈھلتے ہوئے بھی دیکھ
مجھ کو گرا دیا تھا زمیں پر تو کیا ہوا
سطحِ زمیں سے گیند اچھلتے ہوئے بھی دیکھ
وہ بھی تو ایک پیڑ تھا اپنے نصیب کا
موسم کے ساتھ اس کو بدلتے ہوئے بھی دیکھ
منصور پھر کھڑا ہے خود اپنے ہی پاؤں پر
جو گر گیا تھا اس کو سنبھلتے ہوئے بھی دیکھ
منصور آفاق