ٹیگ کے محفوظات: آئینہ

وہ قحطِ عشق کہ دشوار ہو گیا جینا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 1
نہ کوئی تازہ رفاقت نہ یارِ دیرینہ
وہ قحطِ عشق کہ دشوار ہو گیا جینا
مرے چراغ تو سورج کے ہم نسَب نکلے
غلط تھا اب کے تری آندھیوں کا تخمینہ
یہ زخم کھائیو سر پر بپاسِ دستِ سبُو
وہ سنگِ محتسب آیا، بچائیو مینا
تمھیں بھی ہجر کا دکھ ہے نہ قُرب کی خواہش
سنو کہ بھول چکے ہم بھی عہدِ پارینہ
چلو کہ بادہ گساروں کو سنگسار کریں
چلو کہ ٹھہرا ہے کارِ ثواب خوں پینا
اس ایک شخص کی سج دھج غضب کی تھی کہ فراز
میں دیکھتا تھا، اسے دیکھتا تھا آئینہ
احمد فراز

اب تو بس معلوم کرنا ہے کہ کیا موجود ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 84
یہ خبر ہے، مجھ میں کچھ میرے سِوا موجود ہے
اب تو بس معلوم کرنا ہے کہ کیا موجود ہے
ایک میں ہوں، جس کا ہونا ہو کے بھی ثابت نہیں
ایک وہ ہے جو نہ ہو کر جابجا موجود ہے
ہاں خدا ہے، اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں
اس سے تم یہ مت سمجھ لینا خدا موجود ہے
حل کبھی ہوتا نہیں یہ جسم سے چھوٹے بغیر
میں ابھی زندہ ہوں سو یہ مسئلہ موجود ہے
تاب آنکھیں لا سکیں اُس حسن کی، ممکن نہیں
میں تو حیراں ہوں کہ اب تک آئینہ موجود ہے
رات کٹتی ہے مزے میں چین سے ہوتی ہے صبح
چاندنی موجود ہے بادِ صبا موجود ہے
روشنی سی آرہی ہے اِس طرف چھنتی ہوئی
اور وہ حدۤت بھی جو زیرِ قبا موجود ہے
ایک پل فرصت کہاں دیتے ہیں مجھ کو میرے غم
ایک کو بہلا دیا تو دوسرا موجود ہے
درد کی شدۤت میں بھی چلتی ہے میرے دل کے ساتھ
اک دھڑکتی روشنی جو ہر جگہ موجود ہے
معتبر تو قیس کا قصہ بھی ہے اس ضمن میں
اس حوالے سے مرا بھی واقعہ موجود ہے
خواب میں اک زخم دیکھا تھا بدن پر جس جگہ
صبح دیکھا تو وہاں اک داغ سا موجود ہے
ایک ہی شعلہ سے جلتے آرہے ہیں یہ چراغ
میر سے مجھ تک وہی اک سلسلہ موجود ہے
یوں تو ہے عرفان ہر احساس ہی محدود سا
اک کسک سی ہے کہ جو بے انتہا موجود ہے
عرفان ستار

چمک رہے ہیں، مگر آئینہ نہیں ہوئے ہیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 44
ترے جمال سے ہم رُونما نہیں ہوئے ہیں
چمک رہے ہیں، مگر آئینہ نہیں ہوئے ہیں
دھڑک رہا ہے تو اک اِسم کی ہے یہ برَ کت
وگرنہ واقعے اِس دل میں کیا نہیں ہوئے ہیں
بتا نہ پائیں، تو خود تم سمجھ ہی جاؤ کہ ہم
بلا جواز تو بے ماجرا نہیں ہوئے ہیں
ترا کمال، کہ آنکھوں میں کچھ، زبان پہ کچھ
ہمیں تو معجزے ایسے عطا نہیں ہوئے ہیں
یہ مت سمجھ، کہ کوئی تجھ سے منحرف ہی نہیں
ابھی ہم اہلِ جُنوں لب کُشا نہیں ہوئے ہیں
بنامِ ذوقِ سخن خود نمائی آپ کریں
ہم اِس مرض میں ابھی مبتلا نہیں ہوئے ہیں
ہمی وہ، جن کا سفر ماورائے وقت و وجود
ہمی وہ، خود سے کبھی جو رہا نہیں ہوئے ہیں
خود آگہی بھی کھڑی مانگتی ہے اپنا حساب
جُنوں کے قرض بھی اب تک ادا نہیں ہوئے ہیں
کسی نے دل جو دکھایا کبھی، تو ہم عرفان
اُداس ہو گئے، لیکن خفا نہیں ہوئے ہیں
عرفان ستار

فرد فرد

ہمیں جیب و آستیں پر اگر اختیار ہوتا
یہ شگفتِ گل کا موسم بڑا خوش گوار ہوتا

گونجتے ہیں شکیب آنکھوں میں
آنے والی کسی صدی کے گیت

ثاند کی پر بہار وادی میں
ایک دوشیزہ چن رہی ہے کپاس

بھاگتے سایوں کی چیخیں، ٹوٹے تاروں کا شور
میں ہوں اور اک محشرِ بے خواب آدھی رات کو

بات میری کہاں سمجھتے ہو
آنسوؤں کی زباں سمجھتے ہو

ہاۓ وہ آگ کہ جو دل میں سلگتی ہی رہے
ہاۓ وہ بات کہ جس کا کبھی اظہار نہ ہو

جنگل جلے تو ان کو خبر تک نہ ہو سکی
چھائی گھٹا تو جھوم اٹھے بستیوں کے لوگ

مجھ کو آمادۂِ سفر نہ کرو
راستے پر خطر نہ ہو جائیں

خوشی کی بات نہیں ہے کوئی فسانے میں
وگرنہ عذر نہ تھا آپ کو سنانے میں

پائلیں بجتی رہیں کان میں سودائی کے
کوئی آیا نہ گیا رات کے سنّاٹے میں

خاموشی کے دکھ جھیلو گے ہنستے بولتے شہروں میں
نغموں کی خیرات نہ بانٹو جنم جنم کے بہروں میں

ہر شاخ سے گہنے چھین لیے ، ہر دال سے موتی بین لیے
اب کھیت سنہرے کھیت نہیں، ویرانے ہی ویرانے ہیں

طلسمِ گردشِ ایّام کس طرح ٹوٹے
نظر علیل، جنوں خام، فکر آوارہ

اس گلبدن کی بوۓ قبا یاد آگئی
صندل کے جنگلوں کی ہوا یاد آ گئی

آبلہ پائی کا ہم کو غم نہ تھا
رہنماؤں کی ہنسی تڑپا گئی

جس دم قفس میں موسمِ گل کی خبر گئی
اک بار قیدیوں پہ قیامت گزر گئی
کتنے ہی لوگ صاحبِ احساس ہو گئے
اک بے نوا کی چیخ بڑا کام کر گئی

اب انہیں پرسشِ حالات گراں گزرے گی
بد گمانی ہے تو ہر بات گراں گزرے گی

دیکھ زخمی ہوا جاتا ہے دو عالم کا خلوص
ایک انساں کو تری ذات سے دکھ پہنچا ہے

سحر میں حسن ہے کیسا، بہارِ شب کیا ہے
جو دل شگفتہ نہیں ہے تو پھر یہ سب کیا ہے

گمرہی ہمیں شکیبؔ دے رہی ہے یہ فریب
رہنما غلط نہیں، راستہ طویل ہے

اس طرح گوش بر آواز ہیں اربابِ ستم
جیسے خاموشیِٔ مظلوم صدا رکھتی ہے

کسی کا قرب اگر قربِ عارضی ہے شکیبؔ
فراقِ یار کی لذّت ہی پائیدار رہے

ہوا جو صحنِ گلستاں میں راج کانٹوں کا
صبا بھی پوچھنے آئی مزاج کانٹوں کا

ہم نے گھبرا کے موند لیں آنکھیں
جب کوئی تارہ ٹوٹتا دیکھا

تھکن سے چور ہیں پاؤں کہاں کہاں بھٹکیں
ہر ایک گام نیا حسن رہ گزار سہی

کمتر نہ جانیں لوگ اسے مہر و ماہ سے
ہم نے گرا دیا جسے اپنی نگاہ سے

یہ لطف زہر نہ بن جاۓ زندگی کے لیے
چلے تو آۓ ہو تجدیدِ دوستی کے لیے

ہم نے جسے آزاد کیا حلقۂِ شب سے
حاصل نہیں ہم کو اسی سورج کا اجالا

ہم اپنے چاکِ قبا کو رفو تو کر لیتے
مگر وہی ہے ابھی تک مزاج کانٹوں کا

سچ کہو میری یاد بھی آئی؟
جب کبھی تم نے آئینہ دیکھا

سکوں بدوش کنارا بھی اب ابھر آئے
سفینہ ہائے دل و جاں بھنور کے پار سہی

یا میں بھٹک گیا ہوں سرِ رہ گزر شکیب
یا ہٹ گئی ہے منزلِ مقسود راہ سے

نہ جانے ہو گیا کیوں مطمئن تجھے پا کر
بھٹک رہا تھا مرا دل خود آگہی کے لیے
شکیب جلالی

کبھی تقدیر کا خواہش سے سمجھوتا نہیں ہوتا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 45
جو ہونا چاہئے اس کے علاوہ کیا نہیں ہوتا
کبھی تقدیر کا خواہش سے سمجھوتا نہیں ہوتا
بچھڑنا حادثہ بن جائے خود جاں سے بچھڑنے کا
کس کے ساتھ ایسا ربط بھی اچھا نہیں ہوتا
حقیقت پر گماں ، پھر اس گماں پر بھی گماں کرنا
یہ صورت ہو تو عکس افروز آئینہ نہیں ہوتا
ہمیں نظّارہ کرواتا ہے بے ساحل سمندر کا
وُہ آنسو جو ہماری آنکھ پر افشا نہیں ہوتا
ہم اپنے آپ کو اس شہر کا حاکم سمجھتے ہیں
ہمیشہ کی طرح جب جیب میں پیسہ نہیں ہوتا
لگا ہے قفل پر چہرے پر نامانوس چہرے کا
کہیں پہچان کا دروازہ ہم پر وا نہیں ہوتا
آفتاب اقبال شمیم

ہے مفت کی شراب اسے پینا چاہئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 43
مرنا اگر ضرور ہے تو جینا چاہئے
ہے مفت کی شراب اسے پینا چاہئے
چاہے کہ دیکھ کر بھی نہ دیکھا کرے کوئی
اِس حکمراں کو خلقتِ نابینا چاہئے
دیکھیں کہ عکس کوئی بدلتا ہے کس طرح
اک اور آئینہ پسِ آئینہ چاہئے
بیٹھے رہیں مرقعِٔ ایام کھول کر
قربت میں کوئی ہمدمِ دیرینہ چاہئے
طے کر سکو گے راہِ محبت کی منزلیں !
دل میں بہت غرور بڑا کینہ چاہئے
آ اِس طرح سے حسن کو نا مطمئن کریں
اس زخمِ شاعری کو کبھی سینا چاہئے
آفتاب اقبال شمیم

بڑھی سر کی طرف تیغِ جفا آہستہ آہستہ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 206
گھلا تصویر میں رنگِ حنا آہستہ آہستہ
بڑھی سر کی طرف تیغِ جفا آہستہ آہستہ
تم اپنی مملکت میں جرم کر دو زندگی، ورنہ
سبھی مانگیں گے اپنا خون بہا آہستہ آہستہ
مجھے اوروں کے سے اَنداز آتے آتے آئیں گے
کہ پتھر بن سکے گا آئینہ آہستہ آہستہ
ہُوا آخر وہ ہم سے ہم سخن، قدرے تکلف سے
چلی صحرا میں بھی ٹھنڈی ہوا آہستہ آہستہ
بگولے یک بیک اُن سونے والوں کو جگاتے ہیں
سلاتی ہے جنہیں بادِ صبا آہستہ آہستہ
ہمیں دُنیا جو دے گی ہم وہیں لوٹائیں گے اُس کو
گنہ بن جائے گی رسمِ وفا آہستہ آہستہ
اَچانک دوستو میرے وطن میں کچھ نہیں ہوتا
یہاں ہوتا ہے ہر اِک حادثہ آہستہ آہستہ
عرفان صدیقی

میں جو گزرے ہوئے ہنگاموں کا خمیازا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 139
دیکھ لے، آج تری بزم میں بھی تنہا ہوں
میں جو گزرے ہوئے ہنگاموں کا خمیازا ہوں
جانے کیا ٹھان کے اُٹھتا ہوں نکلنے کے لیے
جانے کیا سوچ کے دروازے سے لوٹ آتا ہوں
میرے ہر جزو کا ہے مجھ سے الگ ایک وجود
تم مجھے جتنا بگاڑو گے میں بن سکتا ہوں
مجھ میں رَقصاں کوئی آسیب ہے آوازوں کا
میں کسی اُجڑے ہوئے شہر کا سنّاٹا ہوں
اپنا ہی چہرہ اُنہیں مجھ میں دِکھائی دے گا
لوگ تصویر سمجھتے ہیں میں آئینہ ہوں
لمحۂ شوق ہوں، میری کوئی قیمت ہی نہیں
میں میسر تجھے آجاؤں تو مہنگا کیا ہوں
میں جھپٹنے کے لیے ڈُھونڈھ رہا ہوں موقع
اور وہ شوخ سمجھتا ہے کہ شرماتا ہوں
عرفان صدیقی

کیسا نالہ وہ فقیر بے نوا کرتا تھا رات

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 84
بام و در پر ایک سنّاٹا عزا کرتا تھا رات
کیسا نالہ وہ فقیر بے نوا کرتا تھا رات
شہر ہوُ میں ایک ویرانی کا لشکر صف بہ صف
ہر طرف تاراج بازار و سرا کرتا تھا رات
اس خرابی کے مکاں میں ایک سایہ ایک نقش
ہم کلامی مجھ سے بے صوت و صدا کرتا تھا رات
اک غبارِ ساعتِ رفتہ کسی محراب سے
میرے چہرے میرے آگے رونما کرتا تھا رات
طاقِ تنہائی سے اٹھتا تھا چراغوں کا دھواں
اور مرے ہونے سے مجھ کو آشنا کرتا تھا رات
وہم دکھلاتا تھا مجھ کو روشنی کی تیرگی
وہم ہی میرے اندھیرے پر جلا کرتا تھا رات
روشنی کے ایک ربطِ رائیگاں کے باوجود
اک خلا آنکھوں سے منظر کو جدا کرتا تھا رات
تھا مرے باطن میں کوئی قصہ گو‘ وہ کون تھا
مجھ سے اک طرفہ حکایت ماجرا کرتا تھا رات
ہو گیا تھا تاجِ سر میرے لیے سودائے سر
سایۂ شب سر بسر کارِ ہما کرتا تھا رات
زہر شب میں کوئی دارو کارگر ہوتی نہ تھی
ہاں مگر اک زہر شب جو فائدہ کرتا تھا رات
جسم میں میرا لہو درویشِ گرداں کی طرح
لحظہ لحظہ پائے کوبی جا بجا کرتا تھا رات
زرد پتوں کے بکھرنے کی خبر دیتا ہوا
رقص میرے صحن میں پیکِ ہوا کرتا تھا رات
میں کوئی گوشہ گزیں‘ ترکِ وفا کا نوحہ گر
دیر تک تحریر تعویذ وفا کرتا تھا رات
کیا بشارت غرفۂ حیرت سے کرتی تھی نزول
کیا کرامت میرا حرفِ نارسا کرتا تھا رات
بند میرے کھولتا تھا کوئی آکر خواب میں
جاگتے میں پھر مجھے بے دست و پا کرتا تھا رات
رنگ روشن تھا سوادِ جاں میں اک تصویر کا
ایک چہرہ میری آنکھیں آئینہ کرتا تھا رات
مجھ کو اپنا ہی گماں ہوتا تھا ہر تمثال پر
کوئی مجھ سے کاروبارِ سیمیا کرتا تھا رات
صبح سورج نے اسی حجرے میں پھر پایا مجھے
میں کہاں تھا کیا خبر عرفانؔ کیا کرتا تھا رات
عرفان صدیقی