زمرہ جات کے محفوظات: شعراء

اردو ادب کے نام ور شعراء

اور کچھ نشہ چڑھا ہے اپنا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 37
کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا
اور کچھ نشہ چڑھا ہے اپنا
کان پڑتی نہیں آواز کوئی
دل میں وہ شور بپا ہے اپنا
اب تو ہر بات پہ ہوتاہے گماں
واقعہ کوئی سنا ہے اپنا
ہر بگولے کو ہے نسبت ہم سے
دشت تک سایہ گیا ہے اپنا
خود ہی دروازے پہ دستک دی ہے
خود ہی در کھول دیا ہے اپنا
دل کی اک شاخ بریدہ کے سوا
چمن دہر میں کیا ہے اپنا
کوئی آواز، کوئی ہنگامہ
قافلہ رکنے لگا ہے اپنا
اپنی آواز پہ چونک اٹھتا ہے
دل میں جو چور چھپا ہے اپنا
کون تھا مدِ مقابل باقیؔ
خود پہ ہی وار پڑا ہے اپنا
باقی صدیقی

جس نے تیرے ایما پر طے کیا سفر اپنا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 36
لے گیا بچا کر وہ دل کے ساتھ سر اپنا
جس نے تیرے ایما پر طے کیا سفر اپنا
زندگی کے ہنگامے دھڑکنوں میں ڈھلتے ہیں
خواب میں بھی سنتے ہیں شور رات بھر اپنا
دل کے ہر دریچے میں جھانکتے ہیں کچھ چہرے
خود کو راہ میں پایا رُخ کیا جدھر اپنا
کون کس سے الجھا ہے، ایک شور برپا ہے
جا رہاہے دیکھو تو قافلہ کدھر اپنا
خیر ہو ترے غم کی شام ہونے والی ہے
اور کر لیا ہم نے ایک دن بسر اپنا
رنگ زندگی دیکھا کچھ یہاں وہاں باقیؔ
غم غلط کیا ہم نے کچھ اِدھر اُدھر اپنا
باقی صدیقی

دور کا غم قریب تر جانا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 35
دل کو جب تیری رہگزر جانا
دور کا غم قریب تر جانا
بے نیازی سی بے نیازی تھی
اپنے گھر کو نہ اپنا گھر جانا
لے نہ ڈوبے کہیں یہ بے خبری
ہر خبر کو تری خبر جانا
اک نئے غم کا پیش خیمہ ہے
بے سبب زخم دل کا بھر جانا
تجھ سے آتی ہے بوئے ہمدردی
جانے والے ذرا ٹھہر جانا
ابتدائے سفر کا شوق نہ پوچھ
ہر مسافر کو ہم سفر جانا
زندگی غم کا نام ہے باقیؔ
ہم نے اب قصہ مختصر جانا
باقی صدیقی

پھر نہ آگے ترا فسانہ چلا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 34
چال ایسی غم زمانہ چلا
پھر نہ آگے ترا فسانہ چلا
منزل زیست بے سراغ رہی
کوئی جب تک برہنہ پا نہ چلا
دل ملیں تو قدم بھی ملتے ہیں
ساتھ ورنہ کوئی چلا نہ چلا
کس طرف سے تری صدا آئی
چھوڑ کر دل ہر اک ٹھکانہ چلا
کیوں گریزاں ہیں منزلیں ہم سے
نہ چلے ہم کہ رہنما نہ چلا
آج کیسی ہوا چلی باقیؔ
ایک جھونکے میں آشیانہ چلا
باقی صدیقی

لے آیا کہاں خیال تیرا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 33
ہم پوچھ سکے نہ حال تیرا
لے آیا کہاں خیال تیرا
جیسے کسی غیر کا تصور
یوں آتا ہے اب خیال تیرا
ہم دیکھتے رہ گئے جہاں کو
پوچھا تھا کسی نے حال تیرا
ٹوٹے ہیں تعلقات کیونکر
میرا تھا نہ یہ خیال تیرا
کس رنگ میں وہ ملے تھے باقیؔ
دل ہی میں رہا سوال تیرا
باقی صدیقی

عجب نہیں ترا در بھی نہ ان کو پہچانے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 32
چلے ہیں ایک زمانے کے بعد دیوانے
عجب نہیں ترا در بھی نہ ان کو پہچانے
ادا شناس نگاہیں بھی کھا گئیں دھوکا
یہ کس لباس میں نکلے ہیں تیرے دیوانے
کسی امید پہ پھر بھی نظر بھٹکتی ہے
اگرچہ چھان چکے ہیں دلوں کے ویرانے
کہیں نہ روشنی پاؤ گے میرے دل کے سوا
کہاں چلے ہو اندھیرے میں ٹھوکریں کھانے
تری نگاہ نے رستہ بدل دیا ورنہ
چلے تھے ہم بھی غم زندگی کو اپنانے
بہار انجمن شب میں اب وہ بات کہاں
ہزار شمع جلے، لاکھ آئیں پروانے
پر ایک بات زباں پر نہ آ سکی باقیؔ
کہاں کہاں کے سنائے ہیں ہم نے افسانے
باقی صدیقی

تلاطم بھی آئے سفینے بھی ڈولے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 31
کسی نے نہ دریا کے اسرار کھولے
تلاطم بھی آئے سفینے بھی ڈولے
زمانے کا ہے کام تقلید کرنا
مرے ساتھ ہولے، ترے ساتھ ہولے
دیا ہے یہ صیاد نے حکم باقیؔ
قفس میں کوئی پر بھی اپنے نہ تولے
باقی صدیقی

آگے وحشت جس کو پکارے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 30
یاں تک آئے اپنے سہارے
آگے وحشت جس کو پکارے
جس کو اتنا ڈھونڈ رہے ہیں
جانے وہ کس گھاٹ اتارے
تیری آس پہ آرزوؤں نے
ہر رستے میں پاؤں پسارے
ہم نے جب پتوار سنبھالے
ابھرے طوفانوں سے کنارے
دنیا کو ہے شغل سے مطلب
تم ہارو یا باقیؔ ہارے
باقی صدیقی

راہرو کوئی نہ ٹھوکر کھائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 29
ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے
راہرو کوئی نہ ٹھوکر کھائے
زندگی حرف غلط ہی نکلی
ہم نے معنی تو بہت پہنائے
دامن خواب کہاں تک پھیلے
ریگ کی موج کہاں تک جائے
تجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے
اونچی دیوار کے لمبے سائے
بند کلیوں کی ادا کہتی ہے
بات کرنے کے ہیں سو پیرائے
بام و در کانپ اٹھے ہیں باقیؔ
اس طرح جھوم کے بادل آئے
باقی صدیقی

بہت غم کے ماروں نے پہلو بچائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 28
جو دنیا کے الزام آنے تھے، آئے
بہت غم کے ماروں نے پہلو بچائے
کسی نے تمہیں آج کیا کہہ دیا ہے
نظر آ رہے ہو پرائے پرائے
بہت واقعے پیش آئے تھے لیکن
نہ تم نے سنے کچھ نہ ہم نے سنائے
ملاقات کی کونسی ہے یہ صورت
نہ ہم مسکرائے، نہ تم مسکرائے
فسانہ سنائے چلا جا رہا ہوں
یقیں سننے والوں کو آئے نہ آئے
زمانے کی آنکھوں میں نور آ گیا ہے
کوئی اپنے دامن کے دھبے چھپائے
نہ دنیا نے تھاما نہ تو نے سنبھالا
کہاں آ کے میرے قدم ڈگمگائے
الجھتے ہیں ہر گام پر خار باقیؔ
کہاں تک کوئی اپنا دامن بچائے
باقی صدیقی

آئے مرے غمگسار آئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 27
بولے منہ سے نہ مسکرائے
آئے مرے غمگسار آئے
دامن بھی نہ ہو جسے میسر
زخموں کو وہ کس طرح چھپائے
عنوان حیات بن گئے ہیں
جو تیری نظر نے گل کھلائے
ہے فرصت زہر خند کس کو
پھولوں کو صبا نہ گدگدائے
زخموں کو وہ چھیڑتے ہیں باقیؔ
لب پر کوئی بات آ نہ جائے
باقی صدیقی

وہ دل چھوڑ کر جا رہا ہے زمانہ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 26
ہوئی کش مکش زندگی کی فسانہ
وہ دل چھوڑ کر جا رہا ہے زمانہ
اسی میں ہے پوشیدہ راز زمانہ
فسانہ حقیقت، حقیقت فسانہ
نہ اتراؤ صیاد کی دوستی پر
اسی باغ میں تھا مرا آشیانہ
ادھر نام تک مٹ رہا ہے کسی کا
ادھر بن رہا ہے کسی کا فسانہ
نہ پوچھو محبت کی پرواز باقیؔ
بہت دور تک ساتھ آیا زمانہ
باقی صدیقی

لے آیا کہاں دل تپیدہ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 25
اک سانس ہے نوحہ، اک قصیدہ
لے آیا کہاں دل تپیدہ
ہیں لفظ کہ کاغذی شگوفے
ہیں شعر کہ داغ چیدہ چیدہ
ہر بات ہے اک ورق پرانا
ہر فکر ہے اک نیا جریدہ
کچھ مثل خدنگ ہیں ہوا میں
کچھ مثل کماں ہیں سرکشیدہ
گلشن میں ہو کے بھی نہیں ہیں
ہم صورت شاخ نو بریدہ
تکتے ہیں رقص ساغر گل
پیتے ہیں شبنم چکیدہ
اپنی خوشبو ہے طنز ہم پر
ہم گل ہیں مگر صبا گزیدہ
ہر راہ میں گرد بن کے ابھرا
یہ زیست کا آہوئے رمیدہ
دل تک نہ گئی نگاہ اپنی
پردہ بنا دامن دریدہ
یا میری نظر نظر نہیں ہے
یا رنگ حیات ہے پریدہ
اس راہ پہ چل رہے ہیں باقیؔ
جس سے واقف نہ دل نہ دیدہ
باقی صدیقی

مسافروں کے ارادے بدل نہ جائیں کہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 24
یہ آگ آگ ہوائیں یہ سرخ سرخ زمیں
مسافروں کے ارادے بدل نہ جائیں کہیں
ترے بغیر نظر کا یہ حال ہے جیسے
تمام شہرکی شمعیں کسی نے گل کر دیں
ہزار کروٹیں لیتی ہے ایک پل میں حیات
جو ایک بار نگاہیں ہٹیں تو پھر نہ ملیں
ترے خیال میں گم ہو گئے ہیں دیوانے
ترے سوا کوئی اب تیری انجمن میں نہیں
اسی کا نام تو دیوانگی نہیں باقیؔ
کہ اپنے آپ سے ہنس ہنس کے ہم نے باتیں کیں
باقی صدیقی

تیرے ٹوٹے ہوئے وعدے کا یقیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 23
ہے روایات محبت کا امیں
تیرے ٹوٹے ہوئے وعدے کا یقیں
کتنے اونچے تھے جہاں سے گویا
آسماں تھی ترے کوچے کی زمیں
ہم نے تیور تو بدلتے دیکھے
پھر کہا آپ نے کیا یاد نہیں
دیکھ کر رنگ تری محفل کا
ہم نے غیروں کی طرح باتیں کیں
حادثہ ہے کوئی ہونے والا
دل کی مانند دھڑکتی ہے زمیں
تنگ آ کر مری خاموشی سے
چیخ اٹھیں نہ در و بام کہیں
دور سے دیکھتے جائیں باقیؔ
زندگی کوئی تماشہ تو نہیں
باقی صدیقی

ختم ہونے پہ ہیں ملاقاتیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 22
کہہ رہی ہیں حضور کی باتیں
ختم ہونے پہ ہیں ملاقاتیں
کس کی راتیں، کہاں کی برساتیں
آپ کے ساتھ تھیں وہ سب باتیں
جانے کس ڈھب کی تھیں ملاقاتیں
اور بھی تلخ ہو گئیں راتیں
اور سے اور ہو گئی دنیا
جب ملیں حسن و عشق کی گھاتیں
عم زدوں کا ہے کام کیا باقیؔ
یا شکایات یا مناجاتیں
باقی صدیقی

کیسے اپنا دیا جلائیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 21
یہ رات یہ دشت کی ہوائیں
کیسے اپنا دیا جلائیں
نشہ دیتا ہے زہر غم بھی
ہے تاب ستم تو مسکرائیں
ہوتے رہتے ہیں زخم تازہ
تم ساتھ نہ ہو تو بھول جائیں
اب سوز بھی ساز چاہتا ہے
دنیا کی زباں کہاں سے لائیں
کب تک سنیں دل شکست باتیں
کب تک ہم خود کو آزمائیں
دریا کو پیاس لگ رہی تھی
صحرا سے گزر گئیں گھٹائیں
آئی وہ شاہ کی سواری
آؤ ہم تالیاں بجائیں
در سے دیوار بے خبر ہے
کیسے یہ فاصلے مٹائیں
یہ رنگ کہ رنگ اڑ رہا ہے
یہ ہوش کہ ہوش میں نہ آئیں
ہم تیرے خیال سے بھی گزرے
ایسے میں اگر مراد پائیں
ہو شوق سفر کی خیر باقیؔ
لینے لگے حادثے بلائیں
باقی صدیقی

اور بھی رات ہو گئی تاریک

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 20
دیکھ کر صبح کی گھڑی نزدیک
اور بھی رات ہو گئی تاریک
انقلاب چمن معاذاﷲ
پھول کانٹوں سے مانگتے ہیں بھیک
اے شب غم ترا خیال ہے کیا
سن رہے ہیں کہ ہے سحر نزدیک
ساتھ آؤ کہ لوگ کہتے ہیں
راستہ زندگی کا ہے تاریک
دل کا دامن سمیٹ لے باقیؔ
کون دے گا تجھے حیات کی بھیک
باقی صدیقی

دل بیٹھا جاتاہے سنبھالو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 19
ٹھہرو ٹھہرو قافلے والو
دل بیٹھا جاتاہے سنبھالو
اور ستم کہتے ہیں کس کو
تم ہی کہہ دو دیکھنے والو
کچھ دن اور نہ ان سے الجھو
کچھ دن اور قضا کو ٹالو
افسانہ بھی سنتے جاؤ
دل کی بات بتانے والو
دنیا دیکھ نہ لے اے باقیؔ
دل میں امیدوں کو چھپا لو
باقی صدیقی

اے ہستی کے خام سہارو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 18
کچھ تو ڈوبے دل کو ابھارو
اے ہستی کے خام سہارو
دنیا دارو! اتنی نفرت!
اتنی نفرت! دنیا دارو!
میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو
کوئی بات کرو غم خوارو!
موجیں اور پابندیٔ دریا
ہٹ جاؤ رستے سے کنارو!
کوئی جھٹک دے دامن باقیؔ
اتنے بھی پاؤں نہ پسارو!
باقی صدیقی

وہ نگاہیں اٹھیں مگر کم کم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 17
دل پہ کچھ کھل سکا نہ راز غم
وہ نگاہیں اٹھیں مگر کم کم
اس طرح ہو گئے جدا جیسے
راہ میں یوں ہی مل گئے تھے ہم
آرزو راستے میں چھوڑ گئی
ہم ہیں اور زندگی کے پیچ و خم
پستیاں بھی گریز کرنے لگیں
کس بلندی سے گر رہے ہیں ہم
لب گل بھی نہ تر ہوئے باقیؔ
رات برسی کچھ اس طرح شبنم
باقی صدیقی

مسکرانے لگے حیات کے غم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 16
دیکھ کر تیرے گیسوئے برہم
مسکرانے لگے حیات کے غم
اک تمہاری نظر بدلنے سے
ہو گئیں کتنی محفلیں برہم
آ گئے آپ درمیاں ورنہ
کھل چلی تھی حقیقت عالم
دیکھنا تو بہار کے انداز
غنچے غنچے کی آنکھ ہے پُرنم
آ رہی ہے وہ صبح نو باقیؔ
دیکھو لے کر حیات کا پرچم
باقی صدیقی

اور بھی ہیں دنیا کے کام

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 15
یاد نہ آؤ صبح و شام
اور بھی ہیں دنیا کے کام
ایسی پیاس کا کیا ہو گا
جب بھی دیکھو تشنہ کام
کوئی تیری بات کرے
ہم پر آتا ہے الزام
کتنے فسانوں کا عنواں
میری نظریں تیرا بام
چپکے چپکے دل سے گزر
دیکھ نہ لے دور ایام
اتنا جرم نہ تھا باقیؔ
جتنے ہوئے ہیں ہم بدنام
باقی صدیقی

ستارے جھلملا اٹھے سر شام

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 14
لیا کس نے ابھی سے صبح کا نام
ستارے جھلملا اٹھے سر شام
فسون آرزو ٹوٹے نہ ٹوٹے
ہمارے سامنے ہے دل کا انجام
چلے جائیں گے خالی ہاتھ بھی ہم۔۔
مگر آئے تھے سن کر آپ کا نام
جو ہم بدلے تو کوئی بھی نہ بدلا
جو تم بدلے تو بدلا دور ایام
محبت اور اطوار زمانہ
کیا اپنی وفا کو ہم نے بدنام
تمنا داغ دے جائے نہ باقیؔ
ستارا ایک ٹوٹا ہے سرشام
باقی صدیقی

ہر سائے کے ساتھ نہ ڈھل

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 13
اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل
ہر سائے کے ساتھ نہ ڈھل
لفظوں کے پھلوں پہ نہ جا
دیکھ سروں پر چلتے ہل
دنیا برف کا تودہ ہے
جتنا جل سکتا ہے جل
غم کی نہیں آواز کوئی
کاغذ کالے کرتا چل
بن کے لکیریں ابھرے ہیں
ماتھے پر راہوں کے بل
میں نے تیرا ساتھ دیا
میرے منہ پر کالک مل
آس کے پھول کھلے باقیؔ
دل سے گزرا پھر بادل
باقی صدیقی

نئی نئی ہے محبت، جواں جواں ہیں خیال

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 12
حسیں حسیں نظر آتے ہیں آرزوؤں کے جال
نئی نئی ہے محبت، جواں جواں ہیں خیال
کبھی پیام قضا ہے، کبھی نوید حیات
تمام عمر معمہ رہا تمہارا جمال
کیا جو غور محبت کے ماحصل پہ کبھی
تو دھندلے دھندلے نظر آئے حسن کے خدوخال
کس اعتماد پہ دعویٰ کریں محبت کا
بدل بھی جاتے ہیں اے دوست آدمی کے خیال
بس ایک ان کے اشارے کی دیر ہے باقیؔ
نفس نفس ہے تمنا، نظر نظر ہے سوال
باقی صدیقی

ورنہ کرتا ہے کون پرسش حال

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 11
دیکھ کر آ گیا ہے ان کو خیال
ورنہ کرتا ہے کون پرسش حال
آرزوئے سکون دل توبہ
آپ کی بزم تک گیا ہے خیال
اک مصیبت سے بچ گئے تو کیا
دل سلامت رہے ہزار وبال
لازمی ہے سماعت احساس
لوگ کرتے ہیں زیرلب بھی سوال
ہیں ابھی مرحلے بہت باقیؔ
خود فریبی تو ہے اک آخری چال
باقی صدیقی

ساری دنیا ہے غماز

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 10
کب تک راز رہے گا راز
ساری دنیا ہے غماز
کس کے نغمے، کس کا ساز
دیکھ زمانے کے انداز
گونج رہی ہے کانوں میں
اک سے ایک نئی آواز
جب دیکھو برہم برہم
کون اٹھائے اتنے ناز
ہمرازوں کے سینوں میں
ڈھونڈ رہا ہوں اپنا راز
آپ مجسم مہر و وفا
باقیؔ سب فتنہ پرداز
باقی صدیقی

ہاتھ میں جام پاؤں میں زنجیر

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 9
کس نے کھینچی حیات کی تصویر
ہاتھ میں جام پاؤں میں زنجیر
بات کرتا ہے ہنس کے جب صیاد
بھول جاتے ہیں اپنی بات اسیر
ہائے یہ راستے کے ہنگامے
اک تماشا سا بن گئے رہگیر
دیکھنا طرز پرسش احوال
بات کی بات اور تیر کا تیر
اتنے باریک تھے نقوش حیات
بنتے بنتے بگڑ گئی تصویر
وہ زمانے کی چال تھی باقیؔ
ہم سمجھتے رہے جسے تقدیر
باقی صدیقی

خوب ہے تیری بزم کا دستور

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 8
کوئی مختار اور کوئی مجبور
خوب ہے تیری بزم کا دستور
غم زدوں کا نہ پوچھئے مقدور
موت بھی دور، زندگی بھی دور
ظلمت زیست کی بساط ہی کیا
مے کا اک گھونٹ اور نور ہی نور
کیا بتائیں کہ زندگی کیا ہے
ایک منزل مگر قریب نہ دور
وضعداری بھی سیکھ لے باقیؔ
یہ بھی ہے اک جہان کا دستور
باقی صدیقی

دل کی صورت چپ ہیں کھیت

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 7
اب کے آیا ایسا چیت
دل کی صورت چپ ہیں کھیت
پھیلا دریا کا دامن
اوپر پانی نیچے ریت
راہوں کے سناٹے میں
ڈوب گیا دل درد سمیت
اس موسم کا نام ہے کیا
دل میں ساون منہ پر چیت
نام کو آنچ نہیں باقیؔ
دل ہے یا ندی کی ریت
باقی صدیقی

نیند نہ آئی ساری رات

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 6
یاد آئی کیا تیری بات
نیند نہ آئی ساری رات
تم بھی واپس لا نہ سکو
اتنی دور گئی ہے بات
میرے غم میں ڈوب گئی
انگڑائی لے کر برسات
رسوائی کا نام بُرا
جب چھیڑو تازہ ہے بات
دل کو روشن کرتی ہیں
بجھ کر شمعیں بعض اوقات
جب عرض غم کی باقیؔ
ہنس کر ٹال گئے وہ بات
باقی صدیقی

ہزار پھول کھلیں گے جو ایک مرجھایا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 5
مجھے خراب جنوں کر کے تو نے کیا پایا
ہزار پھول کھلیں گے جو ایک مرجھایا
ترے غرور نے محفل میں جو نہ بات سنی
ترے شعور نے خلوت میں اس کو دہرایا
تمہارے ذکر سے دل کو سکوں ملے نہ ملے
چلو کوئی نہ کوئی مشغلہ تو ہاتھ آیا
بہت غرور تھا اپنی وفاؤں پر جس کو
اسی کو تیری نگاہ کرم نے ٹھکرایا
کچھ اس طرح بھی ملے ہیں فریب غم باقیؔ
قریب پہنچے تو آگے سرک گیا سایا
باقی صدیقی

اک کھلا پھول، ایک مرجھایا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 4
حسن گلشن میں فرق کیا آیا
اک کھلا پھول، ایک مرجھایا
اس قدر برہمی شکایت پر
چھوڑئیے ہم نے مدعا پایا
اور بھی تنگ ہو گئی دنیا
دل کو دنیا کا جب خیال آیا
ڈوب کر دل میں جب نظر نکلی
ایک عالم کو آشنا پایا
گمرہی سی ہے گمرہی باقیؔ
جس نے دیکھا اسی نے سمجھایا
باقی صدیقی

آپ کی برہمی کا وقت آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 3
دل نے اظہار غم پہ اکسایا
آپ کی برہمی کا وقت آیا
کون سے راستے پہ چل نکلے
جس نے دیکھا اسی نے سمجھایا
اور بھی تلخ ہو گیا جینا
وضعداری کا جب خیال آیا
ہر تمنا سے بے نیاز ہوئے
یوں بھی دامان زیست پھیلایا
جانے کس غم میں سوئے تھے باقیؔ
آنکھ کھلتے ہی کوئی یاد آیا
باقی صدیقی

دیکھ رہا ہے ان جانے لوگوں کا ریلا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 2
ندی کے اس پار کھڑا اک پیڑ اکیلا
دیکھ رہا ہے ان جانے لوگوں کا ریلا
یوں تیری ان جان جوانی راہ میں آئی
جیسے تو بچپن سے میرے ساتھ نہ کھیلا
جنگل کے سناٹے سے کچھ نسبت تو ہے
شہر کے ہنگامے میں پھرتا کون اکیلا
پہلی آگ ابھی تک ہے رگ رگ میں باقیؔ
سنتے ہیں کل پھر گاؤں میں ہو گا میلہ
باقی صدیقی

کوئی بھی نہ دے سکا سہارا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 1
جب گھیر کے بے کسی نے مارا
کوئی بھی نہ دے سکا سہارا
ساحل سے نہ کیجئے اشارا
کچھ اور بھی دور اب خدا را
خاموش ہیں اس طرح وہ جیسے
میں نے کسی اور کو پکارا
احساس ملا ہے سب کو لیکن
چمکا ہے کوئی کوئی ستارا
ہوتی ہے قدم قدم پہ لغزش
ملتا ہے کہیں کہیں سہارا
کھاتے گئے ہم فریب جتنے
بڑھتا گیا حوصلہ ہمارا
کس طرح کٹے گی رات باقیؔ
دن تو کسی طور سے گزارا
اب کیا ہو کہ لب پہ آ گیا ہے
ہر چند یہ راز تھا تمہارا
اس طرح خموش ہیں وہ جیسے
میں نے کسی اور کو پکارا
حالات کی نذر ہو نہ جائے
باقیؔ ہے جو ضبط غم کا یارا
باقی صدیقی

وہم ایں مینوں

وہم ایں مینوں ایہہ اکھیاں ہن

سب کجھ تکنوں رھیاں

پتھر بنیاں یا پتھرائیاں

یا دردوں بجھ گیئیاں

دل توں ناطہ توڑ کے خورے

بھل بھلیکے پیاں

یا فر دل دا بھانبڑ بجھیاں

کھلیاں ایں مینوں ایہہ اکھیاں ہن

سب کجھ تکنوں رہیا

اک ویلا سی پہلی دا چن

ہے سی خنجر ہویا

چنے چودھویں

رات سی جدوں

دل ہے سی ادھ ہویا

ترس گئے سن چانن دا

گھٹ بھرنے نوں ایہہ دیدے

لوکاں کہیا

’’وگدا پانی کیہدے کول کھلویا‘‘

اھوں اک الاہنگھ بھری سی

ول اسماناں سدھی

ایہناں ائی اکھیاں نوں فرمیں سی

چانن وچ ڈویا

اک ویلاسی جدفر میری

ٹٹی ڈور اسمانوں

کھیڑیاں وی ڈولی وچ ڈردیاں

لتھا چاک دھینوں؁بِناں نشانے میں ساں اُدوں

چھٹیا تیر کمانوں

ایہناں ائی اکھیوں اتھرو پُھٹے

نگھے ساون وسّے

دریا ویں مینوں ڈبدیاں تردیاں

تک وہ نویں جگ ہسے

اکھیاں کھُلیاں فکراں ڈُلھیاں

تکیار چار چفیرے

کل مکلی جند نمانی

گھری سی گھمن گھیرے

پر اُدوں تے اپنے دکھ نے

ہرب دا دکھ سُجھایا

ہر کوئی مینوں وندا دھوندا

وسیا ماں دا جایا

کسے دی ہے سی ہیر گواچی

کسے توں صاحباں کھنجی

کسے پنوں دی اُلری ہوئی بانہہ

واویں ہو گئی لُنجی

کسے دا پیٹ تگارا خالی

کسیدی اکھ سدھرائی

کسے دی سوچاں فکراں پاروں

جند لباں تےآئی

اکھیوں اکھیں لہو دیاں لہراں

شوکر اک مچائی

تے ایہناں سبھناں درداں وی

میں پئی ونڈ کرائی

اجے وی ناجو لبھدی پھروی

لتھا چن اسمانی

صورت جیہدی میں سی ویکھی

بندی پیا رکہانی

اجے وی سیدو دے ویہڑے وچ

دھواں کدے ہ دھخیا

اجے وی اوہیاں ہیکاں نے

اسماناں نوں سِر چکھیا

اجے وی راجو وی روح پھر دی

قبراں دے وچکار لے

دسن جوگی موت ہ جس دی

ہوٹھیں وجدے تالے

اجے وی تسّا پانی منگے

مونہوں بول نہ سکے

بھرے بھریاتے وگدے شوہ نوں

گنگیاں وانگر تکے

انج ای سنگ جنہاندے

میں وی مونہوں گنگا ہویا

بلھیاں تے وج گوے نیں تالے

پتھر بن کھلویا

بٹ بٹ تکدیاں اکھیاں چوں

نئیں درد کدے کوئی چویا

جے اکھیاں پتھرائیاں نئیں تے

کاہنوں ٹھپ ہو گیایں

وہم ایں مینتوں ایں ایہہ اکھیاں ہن

سب کچھ تکنوں رہیاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

مرن والیا

توں تے مر گیئوں

تیرا ایہدے اُتے وس نیئیں سی

تیرے پچھے رہ گیئاں

حیاتیاں دی اکھ وچ

تیرے جیوندے ورہیاں دی

نمھی نمھی دھوڑاے

ایہو جیہے سمے

بس اکو گل سجھدی اے

جیؤن نوں حقیقتاں دا

نام جنھے دتاسی

ایہو جیہے سمے

ساڈی اکھاں نال ویکھدا

تے بول بول آکھدا

تینوں میری بھل تسی

قبراں توں ایدھرے وی

امبراں توں ایدھرے وی

کوئی وی گل سچ نیئیں جے

سبھے کجھ پکھنڈ اے

تے سارا کجھ کوڑ اے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

وین

لوکی کہندے نیں

موت تے وس کوئی نیئیں

خورے اینویں ہوسی اسیں کیہ کہئے؟

بوہے بھچ جاندے ایتھے سوچ والے

دل ڈب جاندا، ہنجوڈلھ پیندے

ساڈے کول کیہ اے؟

ایہو ہنجو

محیوری دے رسدے پھٹ

اینہاں ہنجواں دا کیہڑا مل سجناں

کتھے تارے تے کتھے چراغ ہنجو

کتھے نھیرے وچ

دہکدے داغ ہنجو

کتھے پیراں دی خاک نوں

گنھ کے تے

دلاں دکھیاں دا دین سراغ ہنجو

تارے رات وامتھا سہائی رکھدے

پھل موسماں دے گل دا ہار بندے

پھلاں تاریاں دی تے اک عمر ہوندی

تیری عمر کیہہ؟

تیرے جیوں دا پھل خوشبوئی والا

کنھے کھڑدیاں سارای ترنڈی لیا

دے دے جھلک

تیرا تار ذات والا

کیویں ادب دیں امبروں ٹٹ پیا

تیرے روگ تے

کسے دی نظر نیئیں سی

تینوں دتا نہ کسے تویت دھاگا

ایتھے آن کے دس

کیہڑی گل چھوئیے

سبھے ویناں دے تار

ایتھے ٹٹ جاندے

ہنجو اکھاں دے وچوں نکھٹ جاندے

کیہ کہیے تے کیہ نہ کہیے ایتھے؟

سانوں بول کے آکھ سناوندا اے

’’جیہدے سینے اندر اگ دھڑکدی، اوہ

تھاپی دھخدی دھخدی دھخ جاندی،

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

موسیقار

میں ہاں موسیقار سمے دا، میرے روپ ہزار

کلیاں دے منہ میریاں چٹکاں وااوں دا شنگھار

میری اکھیوں چانن پھنڈا، چانن جیئو دا ہار

میرے دکھ نوں میرے سکھ نوں جانے کل سنسار

میں ہاں موسیقار سمے دا

میں ہاں موسیقار

ستے درد جگا دیندے نیں میرے سر سنگیت

ہوکیاں نوں ہاسے کر دینا میرے فن دی ریت

آل دوالے ونڈدا پھرناں میں ایس دل دا پیار

میں ہاں موسیقار سمے دا

میرے روپ ہزار

بھیت دلاں دے کھل کھل پیندے میری لے دے مال

اکھیاں دے وچ تر دے ویکھاں ستڑے خواب خیال

سکھ میرے دا پتہ نشانی چک چک پھرے بہار

میں ہاں موسیقار سمے دا

میں ہاں موسیقار

رتاں دے رُخ موڑن والی میری اڈدی واج

اگاں دے وچ پھل کھڑانا میرا جدی کاج

دیپک چار چفیرے میرے، میں وچ میگھ ملہار

میں ہاں موسیقار سمے دا

میں ہاں موسیقار

سر گم دل دھڑکن میری نبضاں میریاں گیت

مینوں ایہہ کجھ دیون والی کس گوری دی پریت

ایہہ گل جانن والے ایتھے ماجدؔ جیہے فنکار

میں ہاں موسیقار سمے دا

میں ہاں موسیقار

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

پرکھ

توں کڑی ایں کروڑ دی

جے میں سولی چڑھاں تیرے نام تے

تے توں کولوں دی ہس کے لنگھ جائیں

توں کڑی ایں ہیر دے جوڑ دی

جے میں پندھ کراں لمی واٹ دے

میری بانسری سن کے سنگ جائیں

توں کڑی ایں بجھنے دے روڈ دی

جے میں تکاں تے میری نگاہ نوں

رنگاں ہاسیاں دے نال رنگ جائیں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ورثہ

ماپے کی کجھ دے گئے مینوں ورثہ پھول نہ تکیا

اگاں دی وچ مہکان گھلیاں خوشیاں سانبھ نہ سکیا

کدھرے جنگلاں دے وچ خیمے، خیمیاں دے سر پہرے

کدھرے وطناں کی جھولی وچ او ہوئیاں دے لہرے

کدھرے سولی دے منہ رو حاں، کدھرے ہتھیں چانن

خون بھگوئیاں جتیاں کدھرے دل دل پیار پچھانن

ورقہ ورقہ رنگ برنگیاں لختاں جیوں تصوایاں

تاج محل دے قصے کدھرے، کدھرے خون شمبھیراں

چٹیاں صفحیاں چوں پئی پھٹے حرفاں دی رشنائی

اج فر میرے لہوئیں ماجدؔ وسری گل دھرائی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

جا تو میرا کی لگدا ایں

تیریاں میریاں قدماں اگے

ٹوٹیاں بٹیاں والی دنیا

اک دوجے دا تول کریندی

پیار محبتوں خالی دنیا

میں سمیاں دا سکھ پر چھانواں

تو مچیا بھا نبڑ اگ دا ایں

جا تو میرا کی لگدا ایں

تیریاں میریاں اکھیاں اگے

تاریخاں دیاں اگھڑیاں لیکاں

رانجھے دی قبراں دے لبنو

پنوں دے گل کھبیاں چیکاں

میں فکراں توں اکھیاں میٹاں

توں دکھ دیوا بن جگدا اے

جا توں میرا کی لگدا ایں

تیریاں میریاں سدھراں اگے

اکو ریت پرانی جگ دی

مرزا نام دھرلے اپنا

میں صاحباں دی کجھ نیئیں لگدی

میں مجبور زمانے ہتھوں

تو جو چاہیں کر سکدا ایں

جا توں میرا کی لگد ایں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ویلے دی گل

ہن اوہ میرے کولوں

اُکیاں اُکیاں پیریں لنگھدی اے

نہ ہسدی اے نہ سنگدی اے

خورے اوہنوں کیہ ہویا اے

انج لگدا اے، جیویں

اوہ تے میں ورہیاں دے ویری آں ن ن

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

چھلا

بھلا بھلا چھلیا

دل کتھے لیا

چھلا پھل کلیاں

راہواں مل کھلی آں

نظراں نیئیں ولیاں

بھلا بھلا چھلیا

دل کتھے لیا

چھلا چن چانن

دکھ مینوں جانن

سکھ نہ پچھانن

بھلا بھلا چھلیا

دل کتھے لیا

چھلا داکھاں بور اے

پنوں میرا دور اے

تتا تھل تنور اے

بھلا بھلا چھلیا

دل کتھے رلیا

چھلا پانی وگدا

لنبو ہویا اگ دا

پیار کسے ٹھگ دا

بھلا بھلا چھلیا

دل کتھے لیا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

(بہار دی غزل)

ٹہنیے گلاب دئیے! پُلاں نال جھُورئیے فی کیہا تینڈھا سوہجھ تینڈھا رنگ نی

چن مینڈی رانگلی بہار مینڈا مکھڑا تے الہڑ جوانیاں ناں سنگ نی

چنبے نی ایں ڈالئے نی چاندیاں کھنگالئیے کیہا تینڈا جھلنے ناں چج نی

چوڑئیے بی کچ بی ایں ماہی مینڈھے دیتے توں چن جیہاں وینیاں تے سج نی

رات نی ایں رانئے بہار نی ایں سکھئے نی تو آں مینڈھے مکھڑے ناں جوڑنی

اکھ تے ملا ذری ہان بی ایں ہاننے اکھیاں نوں ہن تے اگھوڑ نی

پھلاوے گلاب نیاں ہس ہس تکنا ئیں ہسنے ناں کیہڑا تھے مل وے

نیئیں آں اتبار دے توں ایڈ ان بھول ایں تے ماہی مینڈھے کون ذری جل دے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

بہار

ہسدی ائی بہارنی سیو!

گل ست لڑئیے ہار

رل مِل کھیڈن سکھیاں سیّاں

ونگاں پائی چھنکار

نی سیو! ہسدی آئی بہار

رُٹھڑا سُورج دِسے منیندا

نھیرے نسدے جان

دُھپ دا چانن گُوہڑا ہویا

کِرناں پیار جَتان

گلی گلی وِچ چانن مہکے

چانن سکُھ دا ہارنی سیو!

ہسدی آئی بہار

چٹی چَنّے چادر اُتے

پھلُ کلیاں دا نُور

نیندر رانی دئے سنیہڑے

واء دی مست بلُور

بنے بنے دیاں چُوکاں رنگاں

رنگاں پائی بھرمارنی سیو!

ہسدی آئی بہار

سُوہیاں لال پھُلاں چوں آوے

نمھی نمھی خوشبو

نِکا نِکا مشکاون پیاں

کلیا ں کول کھلو

رُکھ چھتری دیاں سنگھنیاں چھانواں

راہیاں دے دِلدارنی سیو!

ہسدی آئی بہار

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

بہار دا گیت

ہو بھُلیں نئیں ہانیاں

وے باتاں پرانیاں

جیون دا بوٹا اَج

نویں سِروں پھُٹیا

موسماں نے دُھوڑاں والا

چولا لاہ سُٹیا

اکھاں پیاں مارویاں

رُتاں سہانیاں

… ہو بھلیں نئیں ہانیاں

اَتے اَتے پتر تے

پھُٹدیاں ٹاہنیاں

جُھل جُھل کہن تینوں

میریاں کہانیاں

بُوریاں نی دا کھاں وانگوں

حُسن جوانیاں

ہو بھُلیں نئیں ہانیاں

سمیاں نوں رنگ نویں

تتلیاں دِتے اَج

واواں دے بُلورے گئے

فصلاں تے سَج سَج

رُت پئی پکار دی اے

وساطہ میں پانی آں

ہو بُھلیں نئیں ہانیاں

کلیاں دے کھِڑنے توں لکھ مُنہ جوڑ دیاں

چاہواں البیلیاں دے

تینوں نت لوڑ دیاں

؁تک! کویں رُتاں دے میں

پھیر نوں بھلانی آں

ہو بھُلیں نئیں ہانیاں

ایہو رُتاں ایہو سمے

ایہو سی بہاروے

جدوں ساہ دی ڈوری لیکے

گنڈھیا سیپیار وے

یاد رکھیں پیار دیاں

رُتاں سہُارنیاں

ہوبُھلیں نئیں ہانڑیاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

سنیہڑا

انہوں جا کے کہنا پئی

… میں دُکُ دی زہر وی کھا لئی اے

اَج تیکر جو ہویا ہویا

جنڈری بوہت دھخا لئی اے

میں دُکھاں دی کُجھ نئیں لگدی

دُکھ نُوں رکھو دُوری ای دُور

سدھی پدھری گل کرو کوئی

موسٰی ای ویکھے اپنے طور

سسی کون؟ تے صاحباں کیہڑی؟

سوہنی ہیر دا نام نہ لئو

اوڑک تہاڈا مطلب کی اے؟

گل کوئی سمجھاں دی کہئو

ایہہ وی ٹھیک

… جے تُساں مینوں چن چانن دا دِتا ناں

چیت سمے دی وادی کہیا

نالے وگدی مست جھناں

میرا چانن اکھیاں لایا

چیت سمے دی وا دے نال

میری سوہجھ جھناں توں پچھے

خورے کی کی پُٹھ سوال

اَن ویکھیاں ، آن جانیاں مینوں

تُساں مِتھیا اپنے ناں

پنج ندانت دُراڈا جِتھے

ملدا وی نال جھناں

اک اسمانوں لتھے پانی نُو ں وی

مِلدے وکھرے پندھ

تسی بھانویں لکھ پئیے دیوو

مینوں اپنی پیار سُگندھ

میں جد بوہیوں نِکلاں تے

مہارانی سارے پنڈی دی آں

میں ورہیاں دی سوہجھ سہائی

کیکر تُساں نوں گل لاں

تہاڈامیرا جوڑ نہ کوئی‘‘

… پر ایہہ گل نہ کہنا تُوں

… اورک مُڑدیاں وی چُپ رہنا توں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

اِک تصویر بناواں

اِک تصویر بناواں، جیہدیاں

بُلھیاں کلیوں چیر وکھانواں

اکھیاں تے پِپناں دیاں چھانواں

پیشانی دے چن دے اُتے

اِک نکی جیہی بندی لانواں

نک دی سیدھ جیئوں تارا ٹُٹے

ہاسا… جیئوں نھیریوں پوہ پھٹے

گلہاںْ نال شفق دے رَکھ کے

سورنگوں اِک رنگ بنانواں

چیر کے ٹھوڈی ادھ وچکاروں

اکھیوں کالا تل سجانواں

کن چنبے دیاں الہڑ کلیاں

گردن کو نجاں وانگ وِکھاوں ا

گل گلمے دیاں رِشماں کولوں

اپنے آپ پیا شرمانواں

ہتھ تقدیر فرشتے والے

بانہواں چن چگر دے ہالے

زُلفاں دی گلو کڑی کولوں

کالے سپ دی کُنج لہانواں

لک… حسیناں دی دِل تنگی

قد … مراد جیویں منُہ منگی

چانن بِھنّاں جثہ سارا

آس لباسوں پر دے پانواں

آس لباسوں پر دے پا کے

دِل دے وِچلے بھیت لُکا کے

اکھیاں تیرے نال ملا کے

تیرے پتھر دِل دے اگے

رَکھاں تیرا سوہجھ پچھانواں

فربھانویں تُوں اکھ نہ کھولیں

بھانویں اتھرو موتی رولیں

سکھ دے بال گواچے وانگوں

؁مڑ کے تیرے ہتھ نہ آنواں

اِک تصویر بناواں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

تن رنگ

کل دے ویہڑے چرخہ، پونی

کھتر کھلری کھاد

ماپے میرے پتھر پھاڑ کے

اکھوا گئے فرہاد

اج دیاں اکھیاں عینک لا کے

ویکھن اپنا آپ

اَج دا سُورج دُھپ دے رُوپ چ

پیا کھنڈا وے تاپ

بھلکے دی اکھیاں نوں چوبھے

میزائلاں دا دُھوں

کل دے بُڈھے پِنجن بِنج کے

بھلی اُڈائی رُوں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

گویڑ

دونواں دے سر بھجے ہوئے نیں

دونواں دے مُکھ بُجھے ہوئے نیں

ہو کے کِسے ا۳کل دے انروں

آ بیٹھے نیں کول

اک جیون دی پہلی راہ تے

ا۳ک دی عُمر اُدھیڑ

سوچاں دے وِچ وِس پئے گھولن

دُوں ہوٹھاں چوں کجھ نہ بولن

آل دوالے بیٹھے لوکی ہس ہس کرن گویڑ

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

سیال

ٹھنڈیاں واواں چِک نوں چھیڑن

پائے سیالا جھاتاں

دیمک بن کے چٹن لگیاں

دیمک بن کے چٹن لگیاں

دیہوں چانن نوں راتاں

چھاواں جُثے ٹھارن لگیاں

دُھپ دِسّے مجبور

دکُھ دے شوہ وِچ منتاں منّے

دل بیڑی دا پُور

سّپاں وانگر لمیاں راتاں

لگیاں پان شکاٹ

کیہڑا منتر پھوک الیکاں

دُکھ ورایا دا پاٹ

(۲)

موسم وگدے کھوہ دے چکر

اکو گل دُہران

سُدھراں پھُل فجر دے ماجد

شام پیاں مُرجھان

کل دا مکھڑا لچ لچ کردا

بھخدا تپدا ہاڑ

اکھیاں دے وچ لو دی بھُبل

تپشاں دیوے جھاڑ

بھلکے دے مُنہ لپیا ہویا

ٹھنڈا ککر پوہ

دونواں دے ہوٹھاں چوں آوے

سڑ دے لہو دی بو

اج دا جُثہ ریشم تاراں

دُھپ چڑھیاں دُھخ جان

پالے دی کنسوئی سُن کے

دل دا لہو برفان

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

سرہیوں

میں کنکے دی ہوٹھیں پخدی

رُت دی پہلی واج

میں کنکے دا سُکھ سینہوڑا

میں کنکے دا ساج

چاندی میری سجن پرانی

میں سونے دی بھین

میں کنکے دی گھ دی راکھی

جیوے میری سین

چو چو پیندا اے اَج ، میرے

مکھڑیوں قہر دا رنگ

سر میرے اِک رنگ، ویکھو

اڈ دے اَج پتنگ

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

کنکاں پھٹیاں

۔ ۱ ۔

اِکو کل کنکاں پھٹنے تے

چار چفیرے وسدا ہیسی

نھیر مُنھیرا

اِکو اج کنکاں پھٹنے تے

دُورے تیکر نظری پیندا

چانن گھیرا

اوہوز میں، اوہو اسمان ایں

کل ملکی اہوو جان ایں

پر ایہہ کنکاں

اج دیاں کنکاں

کل نالوں کیوں چنگیاں ہوئیاں؟

اج انہاندی ونڈ ہو گئی اے

نئیں رہیاں ایہہ منگیاں ہوئیاں

۔ ۲ ۔

راویوں دُور جھناووں اوہلے کنکاں پھُٹیاں

اکھیاں دے امبراں توں نُوری لیکاں چھُٹیاں

اُڈ کے نئیں آوندی اسمانوں پھنیہہ پانی دی

اِک اِک تند تَرٹدی جاندی ایس تانی دی

جیہا کون جے آکے ایہدے تروپے گڈھے؟

زمیوں۔ امبروں کوئی تے اِنھوں کھوہیوں کڈھے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

پت جھڑ

میرے مُنہ تے

مدّتاں ہوئیاں

وجیا اے چُپ دا تالا

رُکھاں نُوں کِس دس دِتا اے

بھیت میرے دِل والا

۔ ۲۔

پوہ دی دھپ رُسمیے پا کے

اک البیلی ٹاہلی کولوں

سنگھنیاں چھانواں کھسے

ہیٹھ کھلوتی اِک بھٹیارن

جھڑ دے ہوئے پتراں توں ماجد

جھولیاں بھر بھر ہسّے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

پینگ چڑھی اے

پینگ چڑھی اے اَج جھلاریاں تے

نئیں خوف اولیاں جھوٹیاں دا

نئیں خوف ہن رسیاں ٹُٹ جاسن

نئیں خوف ہُن لپھدیاں بوٹیاں دا

ہوئے چیئون دے رُکھ دے ٹاہن پکے

کدوں اج جھُلاریوں ٹُٹدے نیں؟

اج وَٹیاں رسیاں ہوریں ہتھیں

اج ہتھ نویں رسیوں چھٹدے نیں

جیویں ہوندی آئی اے اَج تائیں یارو

اُس ہونی دی جھجک نئیں اَج سانوں

نئیں ٹاہن اَج کڑکدے کل ورگے

نئیں بِنڈے اج تُھڑکدے روئیے کاہنوں

اَج پ!رھی اے پینگ جھلاریاں تے

پیادِ سے اج دُور دُراڈیوں وی

حسن چمکدا جیئون دے رنگ رنگیا

ویکھوی! جھوٹیاں دی اج لہر ہے کی؟

گائیو گیت نویں پیر رکھ پینگیں

مولے پھیرے نیں دن اَج گئے گزرے

جگ تکسی شوق دیاں دیویاں نُوں

کیہڑے رنگ ایہہ پینگ جُھلار وی اے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

قائداعظم دے ناں

توں مالی باگ دا چھپیوں ص

کتھے پُوریاں ہوئیاں تھوڑاں

ہو گئے اوہ دن دراڈے

جدوں مُکسن تیریاں لوڑاں

تینوں ویکھ کے سوچیا سبھناں

’’مُڑ آئیاں گھڑیاں پَچھیاں‘‘

تیرے بول دلاں وچ لتھے

تیری راہ وِچ نظراں وَچھیاں

تیرے سبھے کم نرالے

تُوں اُٹھیوں تے جگ جھکیا

لکھ چھاپے راہیں ٹُھکے

تیرا قدم نہ ودھنوں رُکیا

ہر پتّا خُونیں رنگیا

کوئی پھُل نہ نظری آوے

کوئی سمّاں نہ دسیا اَج تائیں

جیہدی جھال نہ جھلی جاوے

کیہ ہو گئی تیری کھیتی

اَج ہو کے دیکھ دوالے

ہر منُہ اَج ایہو گل اے

’’جیہڑی جمے اوہو پالے‘‘

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

کل کیہ ہوسی

اَج عید سنیہڑا آیا اے

سدھراں بیٹھی بن بنھیرے تے

پئی گتکدی آں تے جھکدی آں

پئی کدی آں کل کیہ ہوسی

اکھیاں ہسن تے دل روسی

میں دُکھاں ساڑے مُکھڑے تے

کل پَوڈر سُرخی مَل بہساں

تے ہسدیاں رسدیاں سکھیاں وَچ

ہتھ مہندی لاکے رَل بہساں

اوہ ہسییاں تے میں ہس پیساں

اوہ نسیاں تے میں نس پیساں

اوہ… ہرنیاں وانگوں ترٹھسن تے

میں نپ جیڑے دی چُوکے نُوں

سدھراں دی سُکی بھُوکے نُوں

دنداں دے ہیٹھ دِبَا لیساں

چیڑے نوں کلاَوا پالیساں

دُکھاں دے ہڑ وی شوکر وَچ

ونگاں بُندے چھنکا لیساں

تے ایس بھلاوے سکھیاں نوں

کھیڈاں دے لالچ لالیساں

پر ایہہ تے عید دہاڑا اے

ریجھاں سدھراں دا ہاڑا اے

کجلے مہندی دا موسم ایں

الہڑاں دا پیار اکھارا اے

ایہہ رُت اے بارسنگھا راں دِی

گیتاں ناچاں چھنکاراں دی

دِلاں دے قول اِقراراں دی

تے پینگاں دیاں جُھلاراں دی

منیاں۔ب سکھیاں وِچ رل بہساں

اوہ ہسیاں تے میں ہس پیساں

اوہ نسیاں تے میں نس پیساں

پر کد تیکن انج ہو سکسی؟

سکھیاں ہسیاں۔ سکھیاں نسیاں

تے پِچھے پَھے ہساں میں

پینگاں ص تے چڑھ کے ہتھاں نُوں

رسے دے حوالے وی کرساں

تے جھوٹا لیندیاں دنداں وِچ

چیڑے دیاں چُوکاں وی پھڑساں

ہائے کیہ کرساں؟

پینگاں دے تیز جھلارے تُوں

سدھراں دے نظر اشارے وں

مینوں چیڑا پھڑنا بھُل ویسی

چیڑے دا کلاوا ہٹیا تے

ایس زخمے دا منہ پھٹیا تے

شہرت چ نک دی تریلی توں

ایہہ پوڈر سُرخی گُھل ویسی

تے بھیت دِلے دا کھل ویسی

مینوں چیڑا پھڑنا بھُل ویسی

ہائے کیوں میں جھلی ہوئی اں

کس کارن ایہہ گل گھِن بیٹھی تے

بھل گی کٹوی بھانی نُوں

کیہہ ہویا سُگھڑ سیانی نُوں

چھڈاں ایہہ جھلیاں گلاں ہن

چُلھے ویہڑے ول چلاں ہُن

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

بھکارن دے ناں

تیرا مُکھڑا گلابی

تیری اکُ مستانی

تیرے سوہجھ دا نکھار

جیوں پتھراں دا پانی

تیرے سوہجھ نوں میں تکاں

میرے ہوش نہ ٹکان

جے میں بولنا وی چاہواں

میرے بُلھ شرمان

اکھیاں دے وِچ پھرے

تیرے پیار دی دُکان

تیری سدھراں دی پَچھی وِچ

دِیدے پئے رون

اِک چنحدی تے تڑفدی

کہانی پئے چھون

مینتھوں بولیا نہ جائے

دُکھ پھولیا نہ جائے

تیرے ساہواں وِچ

زہر نواں گھولیا نہ جائے

میری اکھاں دے

ہنجواں توں بک بھرے

میرے پیار دی

خیرات نُوں قبول کر لے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

لج پال ناطہ

ٹھنڈے وُدھ نوں پھوکا دیواں

چھاں وِچ ہو کے بھردی

اپنے آپ نُوں دِساں بھکارن

میں رانی ایس گھر دی

اَن ہوئیاں کنسوئیاں پُچھے

سس سدھراں ی ماری

میں پھُلاں دی کھاری بابل

اوہ میری ملیاری

رُوں وچھاون پیراں تھلے

میریاں دوہے نناناں

اوہ میریاں اشنائیاں لوڑن

میں نہ مُول پچھاناں

سوہرے دا دل نھیری کوٹھی

پیار میرا روشنائی

سُتی پئی دے ساہ گنیندا

جیہدی میں بھرجائی

فِر وی رات ہنیری میری

فجر نہ مُولوں بھاوے

بابل! دھی دکھیاری تیری

کچرک بھیت لکاوے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

بوہت پُرانے ویلے دی گل

اُدوں میریاں اکھیاں دے وچ

پیار سمے دیاں لہراں سن

اُدوں دِل دے ویہڑے اندر

گوہڑیاں شوق دُپہراں سن

انت سجیلی گلی سی اوہدی

قدم گُمراں پاوندے سن

رات گئے نوں یاداں دے وِچ

سفنے سُکھ ورتاؤندے سن

بلُھ کلیاں سن راہ جاندیاں نوں

چٹکاں گیت سناؤندے سن

پہرے دارغماں دے مینتھوں

اپنا آپ لُکاؤندے سن

ویکھن وَع میں حاکم ساں

اوہ میرے روہک سداؤندے سن

وچوں وِچ پَر اَج دے متھے

گُوہڑیاں لِیکاں پاؤندے سن

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

سیج وِچھا کے سُتیے کُڑئیے!

تیں کیہ اے؟

تُوں شاماں ویلے سوں رہندی ایں

اپنے پلنگ پنگھوڑے چھڈ کے

تُوں ائی ایں اوہ؟

جیہڑی اکیاں ا۔کیاں پیریں

رات دے نھیرے ویہڑیوں ہوکے

میریاں گھُورسیاہیاں اندر

چُوڑیاں نت چھنکاؤندی ایں

مینتھوں نیندر کھوہ لے جاؤندی ایں

سیج وَچھا کے سُتئیے کُڑئیے!

سرگی دے تارے دی لو

مینوں تھپڑ مار کے لنگھ جاندی اے

ڈِیک وی ڈوری

تکدیاں تکدیاں ہنگھ جاندی اے

دیہوں دا دیوا

میریاں اَدھ کھلیاں اکھیاں وَچ

خورے کِس دھوئیں دی

کالک بھر جاندا اے

اَج نویں نت دا قصّہ اے

مینوں ادھ مویاں کر جاندا اے

اگ لگے اُس منجی نوں

تینوں بھچ کے جیہڑی

سانجھ سویرے تیکن وی نئیں ہلن دیندی

سوک پوے ایس درد لہر نُوں

جیہڑی میرے سُکھ دے تھم نُوں

اک پل وی نہیں کھلن دیندی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

کل تے اَج

ہس کے کل بنایا سی مین

تُوں پتھر دا بُت

اج میں تیری اوس جھلک دی

کچھی اے تصویر

’چمکیا سی کل بن بنھریے

تیرے مُکھ دا چن

چھٹی اے میرے مکُھ دے امبروں

نور دی اج لکیر‘‘

میں نئیں کہندا اکھیں اگے

مُڑ مُڑ ہسدی آ

پر کجھ ایس تصویرے دا وی

مُل تے اڑئیے پا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

مَت

توں جیہڑی اج

نظر اشارے توں وی

پئی تربکدی ایں

اوہ ویلا ہُن ہتھ نئییں آؤنا

جس ویلے نوں سکدی ایں

آون والے ویلے نوں تک

تک اُس اَنھے ویلے نُوں

چھیل چھبیلیاں نڈھیاں نُوں جد

کسیں وں دلگیر

رانجھیاں دے ہتھ ونجھلیاں دیسیں

مرزیاں دے ہتھ تیر

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

یاد

ان بھول سمے دی مورت جیہی

سفنیاں دے ایس ویس چ رہندی اے

فکراں دی پوہڑی پوہڑی توں

چھکاراں پا پا لہندی اے

بیتے ہوئے سمے سہانے دی

تصویر اکھاں وچ پھر دی اے

بولاں دے اُجڑے شہر اندر

گل اوس کڑی دی چھڑ دی اے

جیہڑی… نظراں دیاں لہراں تے

پھل سدھراں دیاں راہواں تے

چانن بن دے تاریاں لاندی سی

گلاں جیہدیاں خوشبوئی سن

جیہدی چال سی چھم چھم وگدی وا

جیہدی اکھ چ مستی بدلاں دی

جیہدے سر تے زلفاں کالیاں شاہ

جیہدے پیار چ شوہ دیاں لہراں سن

جیہدے بول سجیلے پھل کلیاں

جیہدی سوچ سمے دی مستیائی

جیہدے میل بہاراں رانگلیاں

جیہدے سجر نے پھیرا پایا تے

گل پا گئی طوق دُہائیاں دے

اج بیٹھا گنت شمار کراں

کیہے دوش نیں اکھیاں لائیاں دے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

وڈھ

کل جہناں ہریاں کنکاں نوں

جیون ہر یاتک کے

ہر کسے دامن پر چاون

اج اوہ کنکاں پک کے

واتی چلدی رسیاں وچھیاں

لوکی بوہل اڈا وندے

بوہل اُڈا ؤندے ہاسیاں دے

تے پکیاں کنکاں چاؤندے

خالی کوٹھے دانیاں والے

اج فر بھرے بھکنے

بھرے بھڑولے لپے پوچے

بھرے چٹوریاں کنے

سٹا سٹا وڈھ پئی چگدی

بنے بنے لک نوا کے

اپنا بڈھی لک نوا کے اپنا

پھر وی کنے چردی

گل بوجھی، ہتھ کھونڈی لے کے

تیلا تیلا جوڑے

تاریخاں دے ڈھیراں وچوں

اپنی قسمت لوڑے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

اوہلا

دل دے بوہے نوں کھڑ کاوے

دکھ دا لہنے دار

آس دیاں سب جیباں خالی

اپنے ہون توں مکراں

واج بدل کے آکھاں انھوں

’’گئے نیں کدھرے باہر‘‘

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

اڑیکا

پیا عجب اڑیکا

سدھی گل کوئی نہ سجھے

دیوا بن کے خیال

کدیں بلے کدیں بجھے

وچ نھیریاں تھوڑی لو

دیوے تھوڑی تھوڑی لو

تھکے پِٹ پِٹ متھا

کوئی ڈھکدا نہ ڈھو

وچ کہن نیئیں آوندے

ایس من دے ودھیکے

کھول تاکڑی کناو دی

اْدوں جند چیکے

اُدوں بھلیاں بُھلائیا ں

یاد آندیاں نیں گلاں

ایدوں الہڑ جوانی

پئی ماردی اے چھلاں

کنھوں کنھوں دئیے چھوڑ

کس کس نوں بلائیے

پلہ… فکروں چھڑا کے

کیہدا ذکر سنائیے

پیا رعجب اڑیکا

سدھی گل کوئی نہ سجھے

دیوا بن کے خیال

کدیں بلے کدیں بجھے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

موت

موت موت ہے موت دا کیہ رونا

ایہہ تے حق دِی راہ شمار ہوندی

موت … مشکلاں دے وِچ یار ہوندی

کالے پانیوں پار لنگھا وندی اے

موت … سُکھ سنیہڑے لے آوندی اے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

پھلُ خوشبوئی

نہ اوہ میری تے نہ میں اوہدا

نہ کوئی گل اشنائی دی

نہ میحں اوہدے بارے سوچاں

کیکن پریت نبھائی دی

نہ اَستاں تے انگلاں اُٹھن

نہ کوئی تہمت لاندا اے

نہ کوئی سانوں گنجھلاں والیاں

گلاں بہہ سمجھدندا اے

اکو اوہدی سُندر صورت

جگ وچ ہور نہ کوئی اے

ہر کوئی اوہنوں اپنا سمجھے

جیہڑا پھُل خوشبوئی اے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

چھَلا نشانی

نظراں نوں جد سیک پوے تے

کُنڈل بناون سڑکے

دل دیاں سدھراں بنن بھمھیری

درد اڑانے اڑاکے

سوچ سمے وچ انگلاں گردے

دُکھڑے گھراں پاون

سجناں دے وچ دل دیاں گلاں

ہوکھاں تے چکراون

پھُل دی وِینی گجر ابن کے

بھنور چھن چھن چھنکے

پیار پُجاری وے گل جیویں

دُکھ تسی دے مِنکے

چن نُوں ویکھ چکوراں اڈن

اڈ اڈا کے مُڑ آون

وا دے کورے سینے اُتے

دائرے پّیاں بناون

اکھیوں اوبلے صدیاں سال

مہینیپالیاں لاون

اک دوجے ہتھ نُوں پھڑکے

دل نُوں گھیرے پاون

اج میریاں سدھرائیاں انگلاں

چھلاّ نشانی لوڑن

سوچاں تر کلیوں سدھیاں گلاں دے وی

رُخ پیاں موڑن

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

اوہ تے میں

اوہ شہزادی

عمر جوانی نُوں اِنج پُجی

جوں راکٹ وِچ خلا د ے

میں شدیاں پہلے دا مسافر

عمر جوانی دی منزل تے

ٹھیڈے کھاندا پُجیا

اوہدا اک اک انگ سلامت

چن چانن وچ گُجھیا ہویا

پھُلاں وانگر ہے

میری لُوں لوں دے وچ

لمیاں پندھاں دی اگ دھڑکے

ویلے دی لہو رنگی اکھ وچ

میرا جُثہ

اتھرو واں وانگوں رڑ کے

اوہ تے میں اِک ہو جاواں تے

اک دوجے توں وچھڑیاں شدیاں

سینے بھچ بھچ ہسن

عُمراں… تھکیاں ہاریاں عُمراں

بال پنے دیاں رہواں پھڑکے

پچھلی پیریں نسن

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

دھڑکا

کوئی سماں نہیں عُمر دے دیہڑے اندر

جیہدی جھال نہ رُوح توں ھلی جاوے

دے لوڑیا، نظراں لبھ تھکّیاں

بت پُوجنے نوں کوئی نہ نظر آوے

بُت پُوجنا تے وڈا کفر ہوندا

میری پُوجا تے پُوجا سی ہور ائی کجُھ

بُت لبھدا ساں جیہدے روپ اندر

مینوں دِسدا بُت بنان والا

تے ایہہ گل کدوں کوئی جاندا نئیں

کے گل نوں کوئی سلاھے تے اوہ

گل والے دی ذات دی مدح کردا

میرے ذوق دے منہ تے کالک نئیں سی

میری رگاں وچ سی لہو خلوص بھریا

کون پُچھدا اے ایس خلوص نوں اَج؟

میری حُسن نُوں پُوجدی نظراں نے

بھرے باگ وچوں اِک پھُل چُنیا

کوئی بُت نئیں سی اِک پھُل ہیسی

جیہدی پتی پتی اجے کھلی سی نویں

سبھاں تکیاں اوہنوں پر اُنھے اجے

کسے دل نہ تکیا نظر بھر کے

ہیسی پھُل اُس پھُل ن کھڑنا سی

جدوں کھڑیا اوہیاں اکھاں کھُل گئیاں

میری سدھراں خاک وِچ رُل گئیاں

اُس پھُل نے تے کھِڑ کے نظر کیتی

دل چن وے، دیہوں دے، تاریاں دے

میری لُوں لُوں کہندیاں دھڑکدی اے

مینتھوں پُچھو اَج نئیں

کوئی دل والا

جیہدا ذوق ستھرا ہووے چانن وانگوں

تک سکدا اے کدوں یا ر ہسدا

کسے غیر دے نال

بانویں چن تارے اوہدے نال ہسن

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

دوہڑے

۔ ۱ ۔

فیر سٹرانداں دے اُٹھیا اے

دل دا قبرستاں

خورے کییہڑی آس دا ماجدؔ

ٹُٹیا اے فرمان

۔ ۲ ۔

دیہوں دے چانن لو نئیں دینی

راتاں ای ساڈیاں مِیت

عشق دے لیکھاں لکھی ہوئی اے

سوہنیاں والی رِیت

۔ ۳ ۔

باسی ہو گئی مہک اِنہاندی

بھنورا کوئی نہ دِسے

کوئی کوئی ست پُرانا پُھل ہن

دل بوٹے تے دِسے

۔ ۴ ۔

کولوں دی اِنج لنگھ جاندی ایں

جوں ٹھاٹھاں مارے چھل

تک ساڈا وی پیار کنارا

کدے ساڈے کول وی کھل

۔ ۵ ۔

کوئی وی نہ انہوں میرے کولوں

جاندیاں موڑ لے آیا

ویلے دی مُنہ زور ہوا تے

کسے نہ قابو پایا

۔ ۶ ۔

مدتاں ہوئیاں اک مورت نوں سی

پیار سنیہڑا گھلیا

گل دی گونج تے بہوں سی پر

اک بول دی پچھاں نہ ولیا

۔ ۷ ۔

سنگھنیاں زلفاں دے پرچھانویں

سِر ساڈا نہ کجا

اکو دُکُ دا بدل سی

پیا چار چفیرے گجیا

۔ ۸ ۔

ماجدؔ جی جس دن توں گُھلے

دل وِچ سوچ وَ لُوہنے

اُگے کیہ دکھی ساں جے

دُکھ ہور وی ہو گئے دُونے

۔ ۹ ۔

سدھراں بھریاں واجاں دِتیاں

فیر وی تُسی نہ بولے

جِنّے سد سنہیڑے گلے

تُساں گِلیاں نال ای تولے

۔ ۱۰ ۔

توں پتی پُھل گلاب دی

میں بھنجیُ رُلدا ککھ

جا اپنا سانواں لوڑ توں

مینوں حال میرے تے رکھ

۔ ۱۱ ۔

گھر دیاں کندھاں کنبدیاں دسن

نظراں ٹھیڈے کھاون

پیار تیرے دا ہاڑ دبایا

اکھیاں لایا ساون

۔ ۱۲ ۔

تُوں پنچھی پیار بہار دا

تُوں پَوناں دی خوشبو

تُوں مکھڑا سانجھ سویر دا

تیرا ہاسا پھُٹدی پوہ

نقش سمے دیاس تِتلیاں

چال پُرے دی وَا

دل وچ ولٹے کھاوندا

ہاوے کس کُڑی دا چاہ

۔ ۱۳ ۔

میں کیہدی رُشنائی لے کے

تیرے نقش اُتاراں

چانن دُھوڑ تیرے قدماں دی

تیرا ہاسا حسن بہاراں

۔ ۱۴ ۔

گل کیتی مینہ واچھڑوسی

خلقت سُن سُن ہسی

فیر وی ماجدؔ ایہہ دنیا

ساڈے بولاں باہجوں تسی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ایہہ اکھیاں ویکھ نہ سکیاں

پئے ہنجوآں روپے وٹاوندے

اکھیاں وچ خواب خیال

دل بُکلاں بہہ بہہ مار دا

لَے فکراں والی شال

اسمانے لگیاں نظراں

بن گئیاں کھِلرے جال

مینوں دکھ نے گُنگا جانیا

میں گل نہ سکاں کھول

پر دل دیاں سوچاں تاؤلیاں

جنہاں ورقے دِتے پھول

ایہہ چُپ چپیتے بول نیں

ایہہ تِرم تِرم رِسدے گھأ

ایہہ سطراں ہنجواں لیکیاں

ایہہ حرف دُکھاں دے تأ

جھڑ جھڑ کے میری جھولیوں

پئے ناپن کُل جہان

ہر دل والے نوں روک کے

پئے لمی کہانی پان

ایہہ لمی کہانی درد دی

لئو ویکھو اک اک باب

ورقے ورقے دے ہوٹھ چوں

پیا بولے دیس پنجاب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایہہ اکھیاں ویکھ نہ سکیاں

بیبو دے اڈوے رنگ

جیہدے دیور چگلی مار کے

اوہدا جیون کیتا تنگ

رہئی ادھ وچکارے تڑفدی

جیہدے دل وی پیارا منگ

اک بال ایانا چھوڑ کے

گئی تروڑ عمراں دے سنگ

ایہہ اکھیاں ویکھ نہ سکھیاں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جِیرو دا لُٹیا پیار

جس جگ سارے چوں لوڑیا

اِک بانکا دیسوں پار

کاراں تے موجاں مانیاں

پئے لُٹے عیش بزار

جیہدے جھولی سونا لشکیا

باہواں وچ پئے چھنکار

جیہدی پیریں مخملاں وِچھیاں

گل موتیاں والے ہار

جیہدے آل دوالے گولیاں

اوہ سبھناں دی سردار

جیہدے اکھ اشارے دیکھ کے

لگ جاندے رہئے دربار

اُس جو کُجھ مونہوں بولیا

تُلیا سونے دے تُل

نِت نویاں مہکاں کھولیاں

اوہدے جوبن والے پُھل

اَج تیکن لوکی بیٹھ کے پئے اک دوجے نُوں کہن

’اوہ چنگی اوہدی بھین سی

جیہڑی بن گئی اوڑک ڈین

گئی چار دہائے رہن نُوں

بن بیٹھی گھر دی سین

تے ساہ اس سوکن بھین دے

بن گئے جیرو دے وین‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایہہ اکھیاں ویکھ نہ سکیاں

تابو دی کھِلری جھول

جیہدا اک اک انگ سی ریشمی

جیہدے بڑے سیانے بول

اجیہدے ہتھ ٹھوٹھا پیار دا

پئی پئی راہ راہ منگے بھیک

جیہدے مکھ تے دیوا سوہج دا

جیہدے مَتھے بھکھ دی لیک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایہہ اکھیاں ویکھ نہ سکیاں

راجو دا ٹُٹیا مان

جیہدا مکھرا چن وی چاننی

جیہدا پھُل کلیاں دا ہان

جیہدے بلُھ گلاوبی پتّیاں

پئے جگ دے ہوش بھُلان

جیہدی اکھ چوں پھُٹیاں نظراں

پیاں نوری جال وچھان

گلہاں تے لالی قہر دی

کوئی رنگ نہ سکے پچھان

ابرو اک دوجیوں کھ! کے

دل دل دی کھِچ ودھان

قد جویں النبا اگ دا

پیا جاندا ول اسمان

جوں بدل کالے ساؤن دے

اِنج زُلفاں لوہڑے پان

بابل دے ویہڑے کھیڈی دی

دُنیا توں رات ان جان

کسے ول اکھ نہ کھول دی

الہڑا مند رائے نے پان

نکلی سی بوہیوں ہسدی

تے پے گئی راہ کُراہ

تِرہا کے پی لئے وحشیاں

سستی تتڑی دے ساہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایہہ اکھیاں ویکھ نہ سکیاں

اوہ امبروں لتھی حور

جیہدی سوچاں دے وچ مستیاں

جیہدی لُوں لُوں نشیوں چُور

جیہدے پہرے دین جوانیاں

جیہدی گولی سوہج بہار

سِرات خوشبوئی مِینڈھیاں

جوں کالے پَٹ دے تار

جنہوں لبھ لبھ ویکھے چاننی

جنہوں چُک چُک پھر وی وَا

جیہڑی نمھے ہاسے ہس کے

لئے چن دے رُوپ وَٹا

پائے دلاں وچ قیامتاں

جیہدا اسوہناں ستواں قَد

امبروں تھلے نہ اُترو دے

جیہدے پیاراں والے سد

اوہ صاحباں مرزے خان دی

مرزا نہ سکی لبھ

سی جنہاں تے اُ نھے اُڈنا

اوہ کھیویاں کھوہ لئے کھب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایہہ اکھیاں ویکھ نہ سکیاں

جانو دی اکھ دا لوبھ

جس ٹپو پا کے پیار دا

سِینے وِچ دِتی چوبھ

جیہدے ہاسے مُل وکندڑے

جیہدا جوبن پیار دُکان

دُکھاں دی اوٹے بیٹھ کے

جیہدے سکھڑے پئے شرمان

ہتھاں وِچ جال فریب دا

آئی دوروں سِرکی لا

پَر تھڑیا ہتھ شکار توں

کوئی لگ نہ سکیا دائ

انہوں لُٹیا پیار و پایاں

اوہدا اپنا کوئی ہ دوش

جدوں جھک جھولے جھلدے

تدوں ثابت رہن نہ ہوش

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایہہ اکھیاں ویکھ نہ سکھیاں

نجو دے پہرے دار

جہدے مُکھ نے لشکاں چھوڑیاں

لو لگدی آروپار

تصویراں جیہدیاں کھچدا

اسمانے بیٹھا چَن

کوئی پتّا باہروں کھڑکدا

اوہدے وجدے اندر کن

کوئی وا نہ اُدھروں لنگھدی

جیہڑی دئیے سنہیڑا جا

لوکی ظالم نیں دوستو

ڈکن وَگدے دریا

میں لکھ چھپاواں بھیت نوں

پر کچرک لُکے بیت

جَد وَا پُرے دی وگدی

اُڈ دی اے نال ائی ریت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایہہ اکھیاں ویکھ نہ سکیاں

اُس بابو دی پتلون

جس اک الہڑ مٹیار دے

پھٹاں تے گھتیا لُون

’’توں جٹی تھپ تھپ تھاپیاں

اَج مینتھوں منگیں پیار

میں جیہڑا سارے پِنڈ دیاں

پڑھو کیاں دا سردار

میں تیرے لڑ نہیں لگناں

توں اپنا آپ پچھان

مِلدے ویکھے نی جھلئیے

کدیں زمیں تے اسمان‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔

ایہہ اکھیاں ویکھ نہ سکیاں

نُوری دانوِیاں لک

جیہدی موئے پُتر نوں روڑھ کے

رو رو کے بجھ گئی اکھ

اوہ کھیتاں چوں وَدھ چُگدی

اوہ سِٹے جوڑ لیاوندی

اوہ تیلا تیلا جوڑ کے

عمراں دے پندھ مکاوندی

جیون دی ڈوری کھچدی

تے پگ پگ ٹھیڈے کھاوندی

رہ رہ تے وین الاپدی

سانہواں نوں دھریکاں پاوندی

اِک دن بوہے نوں بیڑ کے گئی اپنا آپ مُکا

دُکھ تایاں دی تاریخ وِچ

اِک ورقہ گئی وَدھا

۔۔۔۔۔۔۔

ایہہ اکھیاں ویکھ نہ سکیاں

شاعر دے سکھنے ہتھ

گئی نال ای جنہوں روڑھ کے

اوہدے اندروں گدی رَت

جس جگ دے روگ سمھال کے

لئی اپنی جان دُھخا

انہوں کدے نہ سوچاں سُجھدیاں

انہوں کدے نہ جَمدی ما

اوہ کدے نہ اکھر سِکھسدا

اوہ کدے نہ سکدا ویکھ

وَچ دُوں ہنیرے سہکدے

لوکاں دے نھیرے لیکھ

اوہدی اکھیں نوری چاننے

اوہدے دل وَچ تکھے تِیر

اُس ٹِلا ٹِلا جھوکیا

انہوں لبھی نہ اپنی ہیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایہہ اکھیاں ویکھ نہ سکیاں

سوچاں دا زہری دُھوں

اَج واواں اگ چنگاریاں

اج پنڈ پڈ ہیرو شیمیاں

ناگا ساکی ہر شہر

اَج خبراں انت ڈراؤنیاں

پیاں وگدیا لہرو لہر

زمیں توں اُٹھ قیامتاں

پّیاں وَل اسماناں جان

اَج ککھوں ہَولے تُلدے

اِس دھرتی ے انسان

گرمایا چن مسافراں

ہفدے لوکاں دا ساہ

اپنی اَن بھاؤندی سوچ دا

دل دل وچ پایا تراہ

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

سُونہاں لیندی اکھ

نام کتاب: ’’سُونہاں لیندی اکھ‘‘

شاعر: ماجد صدّیقی

پہلی اشاعت: 1964

ناشر: ماجد نشان پبلشرز

انتساب

کرنال محمد خان دے ناں

زخم پھُل ہوندا

تے میں کالر سجاوندا

پَیڑ رو سکدی

تے نظماں کہن دی کی لوڑ سی؟

۔۔۔۔

منّو بھائی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

دل چوں جے کر اُٹھن وی تے، ہوٹھاں تے نئیں لیاؤن دیاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 123
ویلے نے کجھ جیہاں گلاں وی، ناں ساڈے مِتھیاں نیں
دل چوں جے کر اُٹھن وی تے، ہوٹھاں تے نئیں لیاؤن دیاں
اُچّا ہسیاں، جان نہ چھڈّے، مگروں دھڑکا رووَن دا
خورے کِنج سہیڑیاں اسّاں، چاہواں اونسیاں پاؤن دیاں
سانتھوں خورے، کس پاروں، ایہہ لوکی گرمی کھان پئے
مُکھڑے مُکھڑے سوجاں نیں، جِنج ڈَلھکاں، اُبھری تاوَن دیاں
اوہ ائی گلاں چمٹیاں رہیاں، ماجدُ جی سنگ تالُو دے
جیہڑیاں گلاّں، سجناں سانویں، بہہ کے سَن دُہراؤن دیاں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

پر گُھگیاں دے، رہ گئے نیں وچ پھائیاں دے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 122
واواں وے وچ کھنڈ گئے، بول دُہائیاں اے
پر گُھگیاں دے، رہ گئے نیں وچ پھائیاں دے
مُکھ مُکھ اُکرے حرف نیں، حال حوالاں دے
یا اکھر پانی تے، جمیاں کائیاں دے
مُڑ مُڑ دیندے جھوٹے، ہُٹھ اسواری دے
پندھ اساڈے، ٹوئیاں بِٹیاں کھائیاں دے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

جنج ماواں نوں، دُکھڑے جمیاں جائیاں دے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 121
سانوں فکراں نیں، انج آل دوال دیاں
جنج ماواں نوں، دُکھڑے جمیاں جائیاں دے
بھخدیاں دُھپاں، بھبُھل کیتا نظراں نوں
دارو لبھدے پھرئیے، اکھیاں آئیاں دے
شیشہ بن کے ویلا، نقش اُبھاریگا
ہُسٹراں پاروں، منہ تے پیاں، چھائیاں دے
لیکھاں ہتھوں، جِنڈری کجھ اِنج گھِر گئی اے
جنج بکروٹا، چڑھ جائے ہتھ قصائیاں دے
ماجدُ اِنج بولی چڑھیاں نیں، سدھراں جیئوں
مَنڈیاں وچ مُل چکن، مجھیاں گائیاں دے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

پرت کے شاید کدے نہ آوے، اوہ رُت گھنیاں چھانواں دی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 120
نگھیاں مِٹھیاں پرتیاں والی، ڈاہڈیاں اَبھُّل چاہواں دی
پرت کے شاید کدے نہ آوے، اوہ رُت گھنیاں چھانواں دی
ساڈی چاہ دے نال وی قصہ، کُجھ انج دا ای ہویا اے
وچ تندوردے جھُلسے، جیونکر روٹی پہلیاں تاواں دی
شِکرا چڑیاں تے اکھ رکّھے، شیر نتھانویاں بھیڈاں تے
نیویں لہو تے اٹھدی جاوے، کندھ اُچیریاں نانواں دی
اک دریاؤں نکلیاں نہراں، جنج آپس چ ملدیاں نئیں
اِنج ائی کُجھ بے وسّی جاپے، ماجدُ سانجھ بھراواں دی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

اوڑک اِک دن منی جاسی، مَنت سِکدیاں ماواں دی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 119
دُکھ دی لامے نکلے ہوئے، پُت سُکھاں ول پرتن گے
اوڑک اِک دن منی جاسی، مَنت سِکدیاں ماواں دی
کی کہوئیے ایس جیون رُکھ نے، کچرک کھلیاں رہنا ایں
آری جیہی پئی چلے جس تے، آندیاں جاندیاں سانہواں دی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

سانوں۔۔ جنہاں کھیڑیاں کولوں، اپنا حق منوایا اے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 118
ایس کارن توں اگوں لئی وی، کسّے نے ڈک سکنا نئیں
سانوں۔۔ جنہاں کھیڑیاں کولوں، اپنا حق منوایا اے
جس دے ہیتھاں بیٹھ کے بندہ، عرشاں دی سُونہہ لیندا اے
ساڈے سِراں دے اُتے، اوس ائی پک یقین دا سایا اے
ماجدُ ایہہ حاصل اے ساڈا، تن تے جریاں دھپاں دا
ہریاں فصلاں وانگر جیہڑا،سُکھ اکھیں لہرایا اے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

یا فر اوہدے قد تے، دھوکا سی کجھ لہر دا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 117
ہے سی ٹھاٹھاں مار دا، جوبن چڑھیا قہر دا
یا فر اوہدے قد تے، دھوکا سی کجھ لہر دا
ایہہ کی میں پیا ویکھناں، گُجھے درد حبیب توں
بازی لے لے جاوندا، دُکھڑا اک اک دہر دا
لگدا سی کر دئے گا، تھالی جنج دریاں نوں
پانی کنڈھیاں نال سی، مڑ مڑ کے اِنج کھیہر دا
اکھیاں وچ برسات جیہی، سرتے کالی رات جیہی
دل وچ اوہدی جھات جیہی، نقشہ بھری دوپہر دا
اکو سوہجھ خیال سی، چلدا نالوں نال سی
فکراں وچ ابال سی، قدم نئیں سی ٹھہر دا
سینے دے وچ چھیک سی‘ ڈاہڈا مِٹھڑا سیک سی
دل نوں اوہدی ٹیک سی، رنگ ائی ہورسی شہر دا
آئی تے اوہدے نال سی، پھُٹڈی پوہ وساکھ دی
گئی تے ماجدُ مکھ تے، سماں سی پچھلے پہر دا
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

سُورج لتھ کے کالک جیہی چھڈ جاندا اے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 116
ہور تے ایناں فرق نہ کوئی پاندا اے
سُورج لتھ کے کالک جیہی چھڈ جاندا اے
خورے کاہنوں اِک نہ اوس دے ہوون تے
سارے گھر دا اندر کھان نوں آندا اے
نویں سونی اِل دی خاطر داری نُوں
چِڑیاں تِیلا تِیلا جوڑ لیاندا اے
مگرے لگا جھولا وہم ہواواں دا
خورے کیہڑی کھائی تیک پجاندا اے
ویلا کھِنڈیاں بدلاں نوں شرماون لئی
خورے کچراں تیکر دیپک گاندا اے
ایہہ کی وِتّھاں اُچیاناں آ پائیاں نیں
پُتّر پیو دا ناں لیندا شرماندا اے
سَن وی نال ائی ہونجھ کے لے جاندا جاپے
ماجدُ جو پَتّر وی ٹہنیوں ڈھاندا اے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ہور دی ہور ائی ہو گئی، صورت اپنے آپ دی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 115
ہوٹھیں لنبو چُپ دے، اکھ انگارے تاپدی
ہور دی ہور ائی ہو گئی، صورت اپنے آپ دی
اج اوہدی تحریر چوں، اُڈیا رنگ مہکار دا
دل وچ سی اک یاد جیہی، اوہ وی بُجھدی جاپدی
چڑھدے لہندے شور سی، چانن جیہی اک چپ دا
اکھیں پیار بہار سی، نِمھے گیت الاپدی
میں تے نئیں سی دوستو! چنگا جیہا دھیانیاں
کِنھوں ٹور لیائی سی، چھِک ڈھولک دی تھاپ دی
ماجدُ میں ساں تاولا، گیا ساں اپنے دل تے
ایہہ دنیا کجھ ہور سی، تتیاں نوں سی تاپدی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ماجدُ بناں بیان دے، فکراں دا کیہ رنگ سی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 114
ہوٹھاں دے وچکار تے اکو چُپ دا زنگ سی
ماجدُ بناں بیان دے، فکراں دا کیہ رنگ سی
اک اک پرت سی یاد دا، جویں دوپٹہ لہریا
ہیٹھ سرہانے مہکدی، اوہدی اک اک ونگ سی
وانگ سودائیاں شہر وچ، دل دا حال وِچاریا
کنّاں نال نہ ٹھاکیا، دَسیا تے لاہ لنگ سی
اکو جثہ آپنا، نئیں سی اگ چ، ساڑیا
سچی گل اے روح وی، ہن تے مینتھوں تنگ سی
چار چفیرے روشنی، نھیرے مینوں ولہٹیا
ستی سوں گئی سوچ وی، وہماں دا اوہ سنگ سی
اوہ وی ہے سی ماجداُ، وگدی وا بسنت دی
دل وی ادوں آپنا، جیئوں بِن ڈور پتنگ سی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

اکھیاں اوس ائی صورت نوں سدھرائیاں نیں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 113
ہنجواں وچ وی اگّاں جس بھڑکائیاں نیں
اکھیاں اوس ائی صورت نوں سدھرائیاں نیں
لفظاں دے پکھنو اُڈ کے فِر پرتے نئیں
ہوٹھاں اُتے جم جم گئیاں کائیاں نیں
دل نُوں پئی رہندی اے مُٹھ جیہی یاداں دی
اکھّیاں اندر پھریاں ہجر سلائیاں نیں
مار کے جھاتی پلکاں دے دروازے چوں
خورے کِنّھے میگھ مَلہاراں گائیاں نیں
منگن پّیاں لاڈ اسانتھوں وِیراں جیہے
مشکل گھڑیاں وی جیونکر ماں جائیاں نیں
ہتھیں سجرے پھل لیان نوں اسّاں وی
سدھراں والیاں شاخاں پیئوند کرائیاں نیں
بوٹی تک کے ہتھ چ بال ایانے دے
شاطر کانواں کی کی جھُٹیاں لائیاں نیں
بھُکھیاں چڑیاں اپنی حرص مٹاون نوں
بُوریاں شاخاں تے آ پینگاں پائیاں نیں
ماجدُ پندھ اساڈے، سُکھ دے ہاڑے لئی
ہُٹھاں دی لیکھیں لکھیاں اُترائیاں نیں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ماجدُ وکھرے رنگ نتاردا اے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 112
پھُلاں وانگ دی واشنا لبھدا اے
ماجدُ وکھرے رنگ نتاردا اے
گل کرے تے کرے نکھیرویں اوہ
ہوٹھیں لیاوندا سخن پچھان والے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

دِلاّ جھلیا! کنتھوں اُڈیکنا ایں کدے پرت نئیں آوندے جان والے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 111
کسے اک دی گل تے من لے تُوں سبھے لوک نیں، تینوں سمجھان والے
دِلاّ جھلیا! کنتھوں اُڈیکنا ایں کدے پرت نئیں آوندے جان والے
کوئی سخن مراد نُوں پُجیا نئیں عمر وچ دعاواں دے گال دتی
طلب رُتاں نوں تن دے رس دی اے سمے لبھے نیں اوہ وی رُلان والے
تیرے درتوں مالکا سوہنیا اوئے بھیک ٹھنڈکاں دی، اسیں بھالدے ساں
کیہڑی تھاں دی کھڑکی کھولیوئی جھونکے آون جتھوں، جِند تان والے
کسے چیک نوں ساہمنے کاگیاں دے پر لگے نہ عرش نوں جان خاطر
پرت پرت اسمان وَل تکدے رہئیے وچ آہلنے شور مچان والے
اوہدے ذہن چ ایداں دی گل نئیں سی منجے پئے دی آس کجھ ہور جیہی سی
اے پر اوہناں تے درد سوائے کیتے آئے جیہڑے وی، درد ونڈان والے
ہووے پریت تے بدلاں وانگ ہووے جیہڑے وس کے، فیر چتاردے نئیں
نال اوہناں دے سنگ دا مان کاہدا جیہڑے ہون احسان جتان والے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ویلا آپوں ساڈے ناں دیاں، ویلاں ہوکن آیا اے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 110
ہک تے ٹِکیا پتھر اَساں، اِنج دا پرت وکھایا اے
ویلا آپوں ساڈے ناں دیاں، ویلاں ہوکن آیا اے
ساڈے مان دا ضامن، ساڈے دیس دے سر دا شملہ اے
اوہ جھنڈا سدھراں نے جیہڑا، ساڈے ہتھ پھڑایا اے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

مُکھڑے مکھڑے اکو جیہی بے زاری اے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 109
ویلے نے کُجھ ایداں دی مت ماری اے
مُکھڑے مکھڑے اکو جیہی بے زاری اے
رُکھ اپنی چھاں دُوجے رُکھ نوں دیندا نئیں
انت نوں سبھناں ایہو گل نتاری اے
گلی گلی وچ ہوکا دیوے اُسّے دا
جس جس دے سر اُتے جیہڑی کھاری اے
پَتّر نَم نوں رُکھ چھانواں نوں سِکدے نیں
دَین رُتاں دی ہرتھانویں ہکساہری اے
کون کسے دا، جنہوں ویکھو، اُنّھے اُئی
اپنے آل دوالے کندھ اُساری اے
کدے نہ پھیرا پاوے اجڑیاں تھانواں ول
کَنیاں دی رُت وی شاہ دی اسواری اے
نویں وکھالی دیون دے لئی چڑیاں نوں
سپ نے اپنی پہلی کُنج اُتاری اے
اوڑک اوہنوں پنجرہ کھِچ ائی لیاندا اے
دَھون دوالے جس پکھنو دے دھاری اے
حرص دی ایس بھاجڑ وچ کِنّھے بچنا ایں
سڑکاں اُتّے لاری پچھے لاری اے
سُولی تیک وی ایہو حرف پُجاندے نیں
ماجدُ جنہاں دے سنگ تیری یاری اے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

دیہوں مارن کھچکِلیاں، راتاں مارن تاڑیاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 108
ویلے پَیریں ساڈڑے، پائیاں اِنج پَچھاڑیاں
دیہوں مارن کھچکِلیاں، راتاں مارن تاڑیاں
تک تک ول اسمان دے، پگ سروں پئی کُھلدی
روڑیوں سُکیاں ٹہنیاں، اُگرن پیاں کہاڑیاں
ایدھر تاہنگاں ساڈیاں، اودھر مان تہاڈڑے
اِک پلّے نیں جُھگیاں، دُوجے پلے ماڑیاں
وچ سانویں دی کھیڈ دے، چلّن کدوں رِیٹیاں
آ جاندی جد وار تے، سنگی منگدے چاہڑیاں
راہ دی اُچّ نِوان نوں، اسّیں کیکن بدلئیے
نکِلن بیجوں اُکریاں، ہر کھکھڑی تے پھاڑیاں
بکسے سانبھے سالہوآں، پِنڈ پِنڈ لیئا کھا گیا
تن تن سجیاں رج کے، وچ شہراں دے ساہڑیاں
جد تائیں رہیا میں جاگدا، چُنج نہ لائی پکھنوآں
سُتیاں کیہ کیہ کھیتیاں، گِڈراں آن اُجاڑیاں
توڑ نہ چڑھنی ماجداُ، تیری ویل پیار دی
اُتھے گڈیں انگور توں، جِتھے جمن جھاڑیاں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

دل دے وسدے شہروں لنگھدیاں، پاگل ہو گئی وا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 107
ویکھ ویکھ کے بوہے بھِیڑے، کُنڈیاں رہئی کھڑکا
دل دے وسدے شہروں لنگھدیاں، پاگل ہو گئی وا
مکھڑے مکھڑے پَچھ دُکھاں دے، ویکھ نہ سکے کو
اکھیوں اکھیں ٹھاٹھاں مارے، لہو دا اک دریا
مَتّھے ائی نہ لگاّں تیرے، میں اَؤں بُھگا رُکھ
لٹکے لاندئیے وگدئیے وائے، مینوں ہتھ نہ لا
سُفنیاں دے ایس شیش محل چ، لہہ آئی کیہڑی حور
سِر تے چھتر تان پھُلاں دا، چانن ہیٹھ وچھا
دھپ چڑھے یا چانن لشکے، اوڑک گوہڑی چھاں
کوئی وی جان نہ سکیا ماجدُ سُکھ دے نگھّے تا
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

فِر ویلے نے، کدھرے کُونجاں لُٹیاں نیں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 106
وِچ فضاواں، فر کُجھ چیکاں اُٹھیاں نیں
فِر ویلے نے، کدھرے کُونجاں لُٹیاں نیں
سجری رُتوں، فِر اُبکائیاں آؤن پیّاں
پچھلیاں کسّاں وی حالے، نئیں ٹُٹیاں نیں
فِر مچھیاں نُوں، وہم ایں اَنّ بھت لبھنے دا
فیر شکاریاں، جل چ کُنڈیاں سُٹیاں نیں
سُکھ دے چُر مُر بوٹے، عاری نِسرن تُوں
دُکھ رُکھ تے، فِر سجریاں شاخاں، پھُٹیاں نیں
نرم ہوا، فر شاید، کدھرے رُس گئی اے
جھکھڑاں، بُوریاں شاخاں، مُڈھوں پُٹیاں نیں
لفظ نہ سانبھے جان، سیاہی رُکدی توں
وچ دوات، کِسے جنج کِرچاں کُٹیاں نیں
دھرت ٹِنانے نیں ماجدُ، ایہہ حرف ترے
ایہہ نُوری لیکاں، کِس امبروں چھٹیاں نیں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

اُنج صفحیاں تے، کھِلریاں گلاّں پا دِتے نیں رَو لے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 105
نئیں کیتے تے حرفاں میریاں دُکھ ایس دل دے ہَولے
اُنج صفحیاں تے، کھِلریاں گلاّں پا دِتے نیں رَو لے
دل دے مندر وچ نئیں لبھی، کوئی صورت من موہنی
پیار دے تیشے نال سی، کِنّے سدھراں دے بُت، ڈَولے
ایس توں ودھ، ہن ہور اساں توں، دُکھ دیپک کی منگنا
اکھیاں چوں انگیارے جھڑ پئے، دل دا لہو پیا کھولے
پیار ترے دی وی تے، آخر انت سزا اے سُولی
دل دا کی اے، ایس گل نوں وی گَولے یا نہ گَولے
سَک ہاسے دا، پپڑی جمیاں ہوٹھاں نوں، چمکاسی
دُھوڑ دُکھاں دی، دُھلسی تے، پر دُھلسی ہَولے ہَولے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

کِنھے اوہدی چپ دا، کنگن شیشہ توڑیا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 104
نھیرے دے وچ بیٹھیاں، کنّھے ہتھ مروڑیا
کِنھے اوہدی چپ دا، کنگن شیشہ توڑیا
کیہ کھٹیا فرہاد وی، دس کے ہک دے زور نوں
لا کے نال پہاڑ دے، اُنج ائی متّھا پھوڑیا
خورے کنی وار میں، وچ خلاواں لٹکیا
امبر مینتھوں دُور سن، دھرتی سی منہ موڑیا
کُجُھ یاداں سن ہانیاں، اوہ وی انت پُرانیاں
دل دا بوہا کھول کے کونہ کونہ لوڑیا
توں سیں میرے کول یا، اُنج ائی کوئی تصویر سی
خورے کیہا فریم سی، خواباں وچ اکھوڑیا
کجھ تصویراں رنگلیاں، کجھ حرفاں دیاں سنگلیاں
غالب مگروں ماجداُ اساں وی کیہ جوڑیا
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)