زمرہ جات کے محفوظات: شعراء

اردو ادب کے نام ور شعراء

بس ایک خیال چاہیے تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 33
کب اس کا وصال چاہیے تھا
بس ایک خیال چاہیے تھا
کب دل کو جواب سے غرض تھی
ہونٹوں کو سوال چاہیے تھا
شوق ایک نفس تھا اور وفا کو
پاسِ مہ و سال چاہیے تھا
اک چہرۂِ سادہ تھا جو ہم کو
بے مثل و مثال چاہیے تھا
اک کرب میں ذات و زندگی ہیں
ممکن کو محال چاہیے تھا
میں کیا ہوں بس ملالِ ماضی
اس شخص کو حال چاہیے تھا
ہم تم جو بچھڑ گئے ہیں ہم کو
کچھ دن تو ملال چاہیے تھا
وہ جسم جمال تھا سراپا
اور مجھ کو جمال چاہیے تھا
وہ شوخِ رمیدہ مجھ کو اپنی
بانہوں میں نڈھال چاہیے تھا
تھا وہ جو کمالِ شوقِ وصلت
خواہش کو زوال چاہیے تھا
جو لمحہ بہ لمحہ مل رہا ہے
وہ سال بہ سال چاہیے تھا
جون ایلیا

جو کچھ تھا وہ تھا ہی تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 32
ہونے کا دھوکا ہی تھا
جو کچھ تھا وہ تھا ہی تھا
اب میں شاید تہہ میں ہوں
پر وہ کیا دریا ہی تھا
بُود مری ایسی بِکھری
بس میں نے سوچا ہی تھا
بُھولنے بیٹھا تھا میں اُسے
چاند ابھی نِکلا ہی تھا
ہم کو صنم نے خوار کیا
ورنہ خدا اچھا ہی تھا
کیسا ازل اور کیسا ابد
جس دَم تھا لمحہ ہی تھا
جون ایلیا

بُھولنے پر اس کو جب آیا تو پہچانا بھی تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 31
دل جو دیوانہ نہیں آخر کو دیوانہ بھی تھا
بُھولنے پر اس کو جب آیا تو پہچانا بھی تھا
جانیے کس شوق میں رشتے بچھڑ کر رہگئے
کام تو کوئی نہیں تھا پر ہمیں جانا بھی تھا
اجنبی سا ایک موسم ایک بے موسم سی شام
جب اُسے آنا نہیں تھا جب اُسے آنا بھی تھا
جانیے کیوں دل کی وحشت درمیاں میں آگئی
بس یونہی ہم کو بہکنا بھی تھا بہکانا بھی تھا
اک مہکتا سا وہ لمحہ تھا کہ جیسے اک خیال
اک زمانے تک اسی لمحے کو تڑپانا بھی تھا
جون ایلیا

یاد آنا کوئی ضروری تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 30
تھی گر آنے میں مصلحت حائل
یاد آنا کوئی ضروری تھا
دیکھیے ہو گئی غلط فہمی
مسکرانا کوئی ضروری تھا
لیجیے بات ہی نہ یاد رہی
گنگنانا کوئی ضروری تھا
گنگنا کر مری جواں غزلیں
جھوم جانا کوئی ضروری تھا
مجھ کو پا کر کسی خیال میں گم
چھپ کے آنا کوئی ضروری تھا
اف وہ زلفیں ، وہ ناگنیں ، وہ ہنسی
یوں ڈرانا کوئی ضروری تھا
اور ایسے اہم مذاق کے بعد
روٹھ جانا کوئی ضروری تھا
جون ایلیا

سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 29
اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا
سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا
ساری گلی سنسان پڑی تھی بادِ فنا کے پہرے میں
ہجر کے دلان اور آنگن میں بس ایک سایہ زندہ تھا
وہ جو کبوتر اس موکھے میں رہتے تھے کس دیس اڑے
ایک کا نام نوازندہ تھا اور اک کا بازندہ تھا
وہ دوپہر اپنی رخصت کی ایسا ویسا دھوکا تھی
اپنے اندر اپنی لاش اٹھائے میں جھوٹا زندہ تھا
تھیں وہ گھر راتیں بھی کہانی، وعدے اور پھر دن گننا
آنا تھا جانے والے کو، جانے والا زندہ تھا
دستک دینے والے بھی تھے دستک سننے والے بھی
تھا آباد محلہ سارا ہر دروازہ زندہ تھا
پیلے پتوں کی سہ پہر کی وحشت پرسہ دیتی تھی
آنگن میں اک اوندھے گھڑے پر بس ایک کوا زندہ تھا
جون ایلیا

میں حد سے گزر جاؤں محبت نے کہا تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 28
ٹھہروں نہ گلی میں تری وحشت نے کہا تھا
میں حد سے گزر جاؤں محبت نے کہا تھا
دَر تک تیرے لائی تھی نسیمِ نفس انگیز
دَم بھر نہ رُکوں یہ تیری نکہت نے کہا تھا
احسان کسی سرو کے سائے کا نہ لوں میں
مجھ سے یہ ترے فتنہء قامت نے کہا تھا
مارا ہوں مشیت کا نہیں کچھ مری مرضی
یہ بھی ترے قامت کی قیامت نے کہا تھا
دل شہر سے کر جاؤں سفر میں سوئے دنیا
مجھ سے تو یہی میری سہولت نے کہا تھا
جون ایلیا

آئینہ بے مثال کِس کا تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 27
وہ خیالِ مُحال کِس کا تھا
آئینہ بے مثال کِس کا تھا
سفری اپنے آپ سے تھا میں
ہجر کِس کا۔۔وصال کِس کا تھا
میں تو خود میں کہیں نہ تھا موجود
میرے لب پر سوال کِس کا تھا
تھی مری ذات اک خیال آشوب
جانے میں ہم خیال کِس کا تھا
جب کہ میں ہر نفس تھا بے احوال
وہ جو تھا میرا حال کِس کا تھا
دوپہر! بادِ تُند! کوچہء یار!
وہ غبارِ ملال کِس کا تھا
جون ایلیا

شاید وہ میرا خوب تھا، شاید خیال تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 26
افسانہ ساز جس کا فراق و وصال تھا
شاید وہ میرا خوب تھا، شاید خیال تھا
یادش بخیر زخمِ تمنا کی فصلِ رنگ
بعد اس کے ہم تھے اور غمِ اندمال تھا
دشتِ گماں میں نالہءِ لیلیٰ تھا گرم خیز
شہرِ زیاں میں قیس اسیرِ عیال تھا
خونِ جگر کھپا کے مصور نے یک نظر
دیکھا تو اک مرقعِ بے خدّ و خال تھا
کل شورِ عرض گاہِ سوال و جواب میں
جو بھی خموش تھا وہ عجب باکمال تھا
ہم ایک بےگذشتِ زمانہ زمانے میں
تھے حال مستِ خال جو ہر دم بحال تھا
پُرحال تھا وہ شب مرے آغوش میں مگر
اس حال میں بھی اس کا تقرّب محال تھا
تھا مست اس کے ناف پیالے کا میرا دل
اس لب کی آرزو میں مرا رنگ لال تھا
اس کے عروج کی تھی بہت آرزو ہمیں
جس کے عروج میں ہی ہمارا زوال تھا
اب کیا حسابِ رفتہ و آئندہ ءِ گماں
اک لمحہ تھا جو روز و شب و ماہ و سال تھا
کل ایک قصرِ عیش میں بزمِ سخن تھی جون
جو کچھ بھی تھا وہاں وہ غریبوں کا مال تھا
جون ایلیا

کون جانے، وہ کون تھا، کیا تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 25
ایک سایہ مرا مسیحا تھا
کون جانے، وہ کون تھا، کیا تھا
وہ فقط صحن تک ہی آتی تھی
میں بھی حُجرے سے کم نکلتا تھا
تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کہ جو
تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا
جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
وصل سے انتظار اچھا تھا
بات تو دل شکن ہے پر، یارو!
عقل سچی تھی، عشق جھوٹا تھا
اپنے معیار تک نہ پہنچا میں
مجھ کو خود پر بڑا بھروسہ تھا
جسم کی صاف گوئی کے با وصف
روح نے کتنا جھوٹ بولا تھا
جون ایلیا

وہ جو ابھی یہاں تھا، وہ کون تھا، کہاں تھا؟

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 24
جانے کہاں گیا وہ، وہ جو ابھی یہاں تھا؟
وہ جو ابھی یہاں تھا، وہ کون تھا، کہاں تھا؟
تا لمحہ گزشتہ یہ جسم اور بہار آئے
زندہ تھے رائیگاں میں، جو کچھ تھا رائیگاں تھا
اب جس کی دید کا ہے سودا ہمارے سر میں
وہ اپنی ہی نظر میں اپنا ہی اک سماں تھا
کیا کیا نہ خون تھوکا میں اس گلی میں یارو
سچ جاننا وہاں تو جو فن تھا رائیگاں تھا
یہ وار کر گیا ہے پہلو سے کون مجھ پر؟
تھا میں ہی دائیں بائیں اور میں ہی درمیاں تھا
اس شہر کی حفاظت کرنی تھی جو ہم کو جس میں
آندھی کی تھیں فصلیں اور گرد کا مکاں تھا
تھی اک عجب فضا سی امکانِ خال و خد کی
تھا اک عجب مصور اور وہ مرا گماں تھا
عمریں گزر گئیں تھیں ہم کو یقیں سے بچھڑے
اور لمحہ اک گماں کا، صدیوں میں بے اماں تھا
میں ڈوبتا چلا گیا تاریکیوں کہ تہہ میں
تہہ میں تھا اک دریچہ اور اس میں آسماں تھا
جون ایلیا

آس ہے تیری ہی دل دارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 23
دل ہے سوالی تجھ سے دل آرا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
آس ہے تیری ہی دل دارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
پلکوں کی جھولی پھیلی ہے، پڑ جائیں اس میں کچھ کرنیں
تو ہے دل آکاش کا تارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
ایک صدا ہونٹوں پر لے کے، تیری گلی میں ہم روتے تھے
آ نکلا ہے اک بے چارہ، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
تیرے ہی در کے ہم ہیں سوالی، تیرا ہی در دل میں کھلا ہے
شہرِ نظر در بند ہے سارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
تیرا تمنائی رکھتا ہے، ایک نظر دیدارِ تمنا
ساجن پیارے، میرا پیارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
باناں جان تری حسرت میں، رات بھلا کیسے گزرے گی
سارا دن حسرت میں گزارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا، سینہ خالی کر ڈالا ہے
لے میں اپنی سانس بھی ہارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
جون ایلیا

وقت پہلے گزر گیا ہو گا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 22
آدمی وقت پر گیا ہو گا
وقت پہلے گزر گیا ہو گا
خود سے مایوس ہو کر بیٹھا ہوں
آج ہر شخص مر گیا ہو گا
شام تیرے دیار میں آخر
کوئی تو اپنے گھر گیا ہو گا
مرہمِ ہجر تھا عجب اکسیر
اب تو ہر زخم بھر گیا ہو گا
جون ایلیا

اپنے جھوٹے دکھ سے تم کوکب تک دکھ پہنچاؤں گا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 21
تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں
اپنے جھوٹے دکھ سے تم کوکب تک دکھ پہنچاؤں گا
تم تو وفا میں سرگرداں ہو شوق میں رقصاں رہتی ہو
مجھ کو زوالِ شوق کا غم ہے میں پاگل ہو جاؤں گا
جیت کے مجھ کو خوش مت ہونا میں تو اک پچھتاوا ہوں
کھوؤں گا ، کڑھتا رہوں گا ، پاؤں گا ، پچھتاؤں گا
عہدِ رفاقت ٹھیک ہے لیکن مجھ کو ایسا لگتا ہے
تم میرے ساتھ رہو گی میں تنہا رہ جاؤں گا
شام کہ اکثر بیٹھے بیٹھے دل کچھ ڈوبنے لگتا ہے
تم مجھ کو اتنا نہ چاہوں میں شاید مر جاؤں گا
عشق کسی منزل میں آ کر اتنا بھی بے فکر نہ رہو
اب بستر پر لیٹوں گا میں لیٹتے ہی سو جاؤں گا
جون ایلیا

قیس تو اپنے گھر گیا کب کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 20
زخمِ اُمید بھر گیا کب کا
قیس تو اپنے گھر گیا کب کا
اب تو منہ اپنا مت دکھاؤ مجھے
نا صحو میں سُدھر گیا کب کا
آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں
دل میری جان مر گیا کب کا
آپ اک اور نیند لے لیجئے
قافلہ کوچ کر گیا کب کا
میرا فہرست سے نکال دو نام
میں تو خود سے مُکر گیا کب کا
جون ایلیا

یاد بھی طور ہے بُھلانے کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 19
ہے عجب حال یہ زمانےکا
یاد بھی طور ہے بُھلانے کا
پسند آیا ہمیں بہت پیشہ
خود ہی اپنے گھروں کو ڈھانے کا
کاش ہم کو بھی ہو نصیب کبھی
عیش دفتر میں گنگنانے کا
آسمانِ خموشئ جاوید
میں بھی اب لب نہیں ہلانے کا
جان! کیا اب ترا پیالہء ناف
نشہ مجھ کو نہیں پِلانے کا
شوق ہےِاس دل درندہ کو
آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا
اتنا نادم ہوا ہوں خود سے کہ میں
اب نہیں خود کو آزمانےکا
کیا کہوں جان کو بچانے میں
جون خطرہ ہے جان جانے کا
یہ جہاں جون! اک جہنم ہے
یاں خدا بھے نہیں ہے آنے کا
زندگی ایک فن ہے لمحوں کا
اپنے انداز سے گنوانے کا
جون ایلیا

میں جو ٹوٹا ، میں جو بکھرا، میں تھا درپن ساجن کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 18
بول رے جی اب ساجن جی کا مکھڑا ہے کس درپن کا
میں جو ٹوٹا ، میں جو بکھرا، میں تھا درپن ساجن کا
جب تجھ سے ناتا ٹوٹا تو پھر اپنے سے کیا ناتا
پر اب بھی تو اک ناتا ہے، وہ ناتا ہے ان بن کا
میرا دل ہے ساگر ایسا، تم ندیوں کے مان میں ہو
میں بھی اپنی گنگا کا ہوں، میں بھی اپنی گانگن کا
مجھ کو میرے سارے کھلونے لا کے دو میں کیا جانوں
کیسی جوانی، کس کی جوانی، میں ہوں اپنے بچپن کا
بیچ میں آنے والے تو بس بِن کارن ہلکان ہوئے
سید جی تھا سارا کھیل، تمہارا اور برہمن کا
جو بھی ہو گا اس نے کوئی دامن تھام رکھا ہو گا
جانے میرا ہاتھ ہے یارو کس دلبر کے دامن کا
اس جوگن کے روپ ہزاروں، ان میں سے اک روپ ہے تُو
جب سے میں نے جوگ لیا ہے، جوگی ہوں اس جوگن کا
چلمن پیچھے اک چلمن ہے آنکھوں سے آکاش تلک
جو تیری دیکھن میں آیا، تھا وہ جھلکا چلمن کا
کیا بتلاؤں اس سے لڑنے بھڑنے میں جو لِیلا تھی
لڑنا تھا اس من موہن سے میرا کھیل لڑکپن کا
تُو جو دریچے سے آتی ہے کیوں میں تجھ کو آنے دوں
کوئی بگولا لائی ہے کیا تُو، بادِ صبا اس آنگن کا
جون بڑا ہرجائی نکلا، پر وہ تو بیراگی تھا
ایک رسیلی، ایک انیلی، البیلی امروہن کا
جون ایلیا

وہ نہیں تھا میری طبیعت کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 17
ناروا ہے سخن شکایت کا
وہ نہیں تھا میری طبیعت کا
دشت میں شہر ہو گئے آباد
اب زمانہ نہیں ہے وحشت کا
وقت ہے اور کوئی کام نہیں
بس مزہ لے رہا ہوں فرصت کا
بس اگر تذکرہ کروں تو کروں
کس کی زلفوں کا کس کی قامت کا
مر گئے خواب سب کی آنکھوں کے
ہر طرف ہے گلہ حقیقت کا
اب مجھے دھیان ہی نہیں آتا
اپنے ہونے کا ، اپنی حالت کا
تجھ کو پا کر زیاں ہوا ہم کو
تو نہیں تھا ہماری قیمت کا
صبح سے شام تک میری دُنیا
ایک منظر ہے اس کی رخصت کا
کیا بتاؤں کہ زندگی کیا تھی
خواب تھا جاگنے کی حالت کا
کہتے ہیں انتہائے عشق جسے
اک فقط کھیل ہے مروت کا
آ گئی درمیان روح کی بات
ذکر تھا جسم کی ضرورت کا
زندگی کی غزل تمام ہوئی
قافیہ رہ گیا محبت کا
جون ایلیا

تھا تو اک شہر خاکساروں کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 16
حال خوش تزکرہ نگاروں کا
تھا تو اک شہر خاکساروں کا
پہلے رہتے تھے کوچہء دل میں
اب پتہ کیا ہے دل فگاروں کا
کوئے جاناں کی ناکہ بندی ہے
بسترا اب کہاں ہے یاروں کا
چلتا جاتا ہے سانس کا لشکر
کون پُرساں ہے یادگاروں کا
اپنے اندر گھسٹ رہا ہوں میں
مجھ سے کیا ذکر رہ گزاروں کا
ان سے جو شہر میں ہیں بے دعویٰ
عیش مت پوچھ دعویداروں کا
کیسا یہ معرکہ ہے برپا جو
نہ پیادوں کا نہ سواروں کا
بات تشبیہہ کی نہ کیجیو تُو
دہر ہے صرف استعاروں کا
میں تو خیر اپنی جان ہی سے گیا
کیا ہوا جانے جانثاروں کا
کچھ نہیں اب سوائے خاکستر
ایک جلسہ تھا شعلہ خواروں کا
جون ایلیا

غنیمت کہ میں اپنے باہر چُھپا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 15
نہ پوچھ اس کی جو اپنے اندر چُھپا
غنیمت کہ میں اپنے باہر چُھپا
مجھے یاں کسی پر بھروسہ نہیں
میں اپنی نگاہوں سے چھپ کر چُھپا
پہنچ مخبروں کی سخن تک کہاں
سو میں اپنے ہونٹوں میں اکثر چُھپا
مری سن! نہ رکھ اپنے پہلو میں دل
اسے تو کسی اور کے گھر چُھپا
یہاں تیرے اندر نہیں میری خیر
مری جاں مجھے میرے اندر چُھپا
خیالوں کی آمد میں یہ آرجار
ہے پیروں کی یلغار تو سر چُھپا
جون ایلیا

میں ہوں اپنے طور کا ہارا ہوا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 14
کوئی بھی کیوں مجھ سے شرمندہ ہوا
میں ہوں اپنے طور کا ہارا ہوا
دل میں ہے میرے کئی چہروں کی یاد
جانیے میں کِس سے ہوں رُوٹھا ہوا
شہر میں آیا ہوں اپنے آج شام
اک سرائے میں ہوں میں ٹھیرا ہوا
بے تعلق ہوں اب اپنے دل سے بھی
میں عجب عالم میں بے دنیا ہوا
ہے عجب اک تیرگی در تیرگی
کہکشانوں میں ہوں میں لپٹا ہوا
مال بازارِ زمیں کا تھا میں جون
آسمانوں میں میرا سودا ہوا
اب ہے میرا کربِ ذات آساں بہت
اب تو میں اس کو بھی ہوں بُھولا ہوا
جون ایلیا

اور میں پھر بھی نہ شرمندہ ہوا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 13
میرا، میری ذات میں سودا ہوا
اور میں پھر بھی نہ شرمندہ ہوا
کیا سناؤں سرگزشتِ زندگی؟
اِک سرائے میں تھا، میں ٹھیرا ہوا
پاس تھا رِشتوں کا جس بستی میں عام
میں اس بستی میں بے رشتہ ہوا
اِک گلی سے جب سے رُوٹھن ہے مری
میں ہوں سارے شہر سے رُوٹھا ہوا
پنج شنبہ اور دُکانِ مے فروش
کیا بتاؤں کیسا ہنگامہ ہوا
جون ایلیا

ہیں بند سارے شہر کے، بازار کچھ سُنا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 12
سرکار! اب جنوں کی ہے سرکار کچھ سُنا
ہیں بند سارے شہر کے، بازار کچھ سُنا
شہر قلندراں کا، ہوا ہے عجیب طور
سب ہیں جہاں پناہ سے بیزار کچھ سُنا
مصرُوف کوئی کاتبِ غیبی ہے روز و شب
کیا ہے بھلا نوشتۂِ دیوار کچھ سُنا
آثار اب یہ ہیں کہ گریبانِ شاہ سے
اُلجھیں گے ہاتھ برسرِ دربار کچھ سُنا
اہلِ سِتم سے معرکہ آراء ہے اِک ہجوم
جس کو نہیں مِلا کوئی سردار کچھ سُنا
خُونِیں دِلانِ مرحلۂِ اِمتحاں نے آج
کیا تمکنت دِکھائی سرِ دار کچھ سُنا
کیا لوگ تھے کہ رنگ بِچھاتے چلے گئے
رفتار تھی کہ، خُون کی رفتار کچھ سُنا
جون ایلیا

سب یہ ہنر ہے دید کا، نقش و نگار کیا بھلا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 11
رنگ ہے رنگ سے تہی، اس کا شمار کیا بھلا
سب یہ ہنر ہے دید کا، نقش و نگار کیا بھلا
دائرہ ءِ نگاہ میں تُو کہ ہے میرے رُو برُو
ہے تری رو بروئی، دائرہ وار کیا بھلا
دل کی یہ ہار بھی تو ایک طور ہے زندگی کا یار
یوں بھی ہے دل، خود اپنی ہار، ہار کی ہار کیا بھلا
ہے یہ قرار گاہِ بود، ایک فرارِ صد نمود
اس میں فرار کیا بھلا، اس سے فرار کیا بھلا
یوں تو سو طرح میں خود اپنی پہنچ سے پار ہوں
وہ جو پہنچ کے پار ہے، اس کے ہے پار کیا بھلا
ہے یہ غبار روشنی، نسل و نژاد تیرگی
جیبِ غبار میں بجز، موجِ غبار کیا بھلا
عرصہ ءِ دو نفس کے بیچ، کون تھا میں، میں کون ہوں؟
تو بھی وہی ہے وہ جو تھا، اے مرے یار کیا بھلا؟
کیف بہ کیف، کم بہ کم، دور بدور، دم بدم
حالتِ رم بہ رم یں ہے، قرب و جوار کیا بھلا
جون ایلیا

فقط اک میرا نام تھا میرا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 10
جُز گماں اور تھا ہی کیا میرا
فقط اک میرا نام تھا میرا
نکہتِ پیرہن سے اُس گُل کی
سلسلہ بے صبا رہا میرا
مجھ کو خواہش ہی ڈھونڈھنے کی نہ تھی
مجھ میں کھویا رہا خدا میرا
تھوک دے خون جان لے وہ اگر
عالمِ ترکِ مُدعا میرا
جب تجھے میری چاہ تھی جاناں!
بس وہی وقت تھا کڑا میرا
کوئی مجھ تک پہنچ نہیں پاتا
اتنا آسان ہے پتا میرا
آ چکا پیش وہ مروّت سے
اب چلوں کام ہو چکا میرا
آج میں خود سے ہو گیا مایوس
آج اِک یار مر گیا میرا
جون ایلیا

اس سے رشتہ ہی کیا رہا میرا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 9
ذکر بھی اس سے کیا بَھلا میرا
اس سے رشتہ ہی کیا رہا میرا
آج مجھ کو بہت بُرا کہہ کر
آپ نے نام تو لیا میرا
آخری بات تم سے کہنا ہے
یاد رکھنا نہ تم کہا میرا
اب تو کچھ بھی نہیں ہوں میں ویسے
کبھی وہ بھی تھا مبتلا میرا
وہ بھی منزل تلک پہنچ جاتا
اس نے ڈھونڈا نہیں پتا میرا
تُجھ سے مُجھ کو نجات مِل جائے
تُو دُعا کر کہ ہو بَھلا میرا
کیا بتاؤں بچھڑ گیا یاراں
ایک بلقیس سے سَبا میرا
جون ایلیا

ہوئے کتنے دن اس کوچے سے آئے، میں نہیں گِنتا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 8
ہیں موسم رنگ کے کتنے گنوائے، میں نہیں گِنتا
ہوئے کتنے دن اس کوچے سے آئے، میں نہیں گِنتا
بھلا خود میں کب اپنا ہوں، سو پھر اپنا پرایا کیا
ہیں کتنے اپنے اور کتنے پرائے میں نہیں گِنتا
لبوں کے بیچ تھا ہر سانس اک گنتی بچھڑنے کی
مرے وہ لاکھ بوسے لے کے جائے میں نہیں گِنتا
وہ میری ذات کی بستی جو تھی میں اب وہاں کب ہوں
وہاں آباد تھے کِس کِس کے سائے میں نہیں گِنتا
بھلا یہ غم میں بھولوں گا کہ غم بھی بھول جاتے ہیں
مرے لمحوں نے کتنے غم بُھلائے میں نہیں گِنتا
تُو جن یادوں کی خوشبو لے گئی تھی اے صبا مجھ سے
انہیں تُو موج اندر موج لائے میں نہیں گِنتا
وہ سارے رشتہ ہائے جاں کے تازہ تھے جو اس پل تک
تھے سب باشندہء کہنہ سرائے، میں نہیں گِنتا
جون ایلیا

وہ حالت سکوت جو اس کے سخن میں تھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 7
رامش گروں سے داد طلب انجمن میں تھی
وہ حالت سکوت جو اس کے سخن میں تھی
تھے دن عجب وہ کشمکش انتخاب کے
اک بات یاسمیں میں تھی اک یاسمن میں تھی
رم خوردگی میں اپنے غزال ختن تھے ہم
یہ جب کا ذکر ہے کہ غزالہ ختم میں تھی
محمل کے ساتھ ساتھ میں آ تو گیا مگر
وہ بات شہر میں تو نہیں ہے جو بن میں تھی
کیوں کہ سماعتوں کو خنک عیش کر گئی
وہ تند شعلگی جو نوا کے بدن میں تھی
خوباں کہاں تھے نکتہ خوبی سے با خبر
یہ اہلِ فن کی بات تھی اور اہلِ فن میں تھی
یاد آ رہی ہے پھر تری فرمائشِ سخن
وہ نغمگی کہاں مری عرضِ سخن میں تھی
آشوبناک تھی نگہِ اوّلینِ شوق
صبحِ وصال کی سی تھکن اس بدن میں تھی
پہنچی ہے جب ہماری تباہی کی داستاں
عذرا وطن میں تھی نہ عنیزہ وطن میں تھی
میں اور پاسِ وضعِ خرد، کیا ہوا مجھے؟
میری تو آن ہی مرے دیوانہ پن میں تھی
انکار ہے تو قیمتِ انکار کچھ بھی ہو
یزداں سے پوچھنا یہ ادا اہرمن میں تھی
جون ایلیا

گم افق میں ہوا وہ طیارہ

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 6
ہار جا اے نگاہِ ناکارہ
گم افق میں ہوا وہ طیارہ
آہ وہ محملِ فضا پرواز
چاند کو لے گیا ہے سیارہ
صبح اس کو وداع کر کے میں
نصف شب تک پھرا ہوں آوارہ
سانس کیا ہیں کہ میرے سینے میں
ہر نفس چل رہا ہے اک آرا
کچھ کہا بھی جو اس سے حال تو کب؟
جب تلافی رہی، نہ کفّارہ
کیا تھا آخر مرا وہ عشق عجیب
عشق کا خوں، کہ عشقِ خوں خوارہ
ناز کو جس نے اپنا حق سمجھا
کیا تمہیں یاد ہے وہ بے چارہ؟
چاند ہے آج کچھ نڈھال نڈھال
کیا بہت تھک گیا ہے ہرکارہ
اس مسلسل شبِ جدائی میں
خون تھوکا گیا ہے مہ پارہ
ہو گئی ہے مرے سفر کی سحر
کوچ کا بج رہا ہے نقارہ
جون ایلیا

کہ نا اُس شخص کو بھولیں نا اس کو یاد رکھیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 5
عہد اُس کُوچہِ دل سے ہے سو اُس کوچہ میں
ہے کوئی اپنی جگہ ہم جسے برباد رکھیں
کیا کہیں کیتنے نُقطے ہیں جو برتے نہ گئے
خوش بدن عشق کریں اور ہم اُستاد رکھیں
بے ستون اک نواہی میں ہے شہرِ دل کی
تیشہ انعام کریں اور کوئی فریاد رکھیں
آشیانہ کوئی اپنا نہیں پر شوق یہ ہے
اک قفس لائیں کہیں سے اور کوئی صیاد رکھیں
جون ایلیا

تجھ کو تڑپانے کی ہیں تیاریاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 4
تجھ بدن پر ہم نے جانیں واریاں
تجھ کو تڑپانے کی ہیں تیاریاں
کر رہے ہیں یاد اسے ہم روزوشب
ہیں بُھلانے کی اسے تیاریاں
تھا کبھی میں اک ہنسی اُن کے لیے
رو رہی ہیں اب مجھے مت ماریاں
جھوٹ سچ کے کھیل میں ہلکان ہیں
خوب ہیں یہ لڑکیاں بےچاریاں
شعر تو کیا بات کہہ سکتے نہیں
جو بھی نوکر جون ہیں سرکاریاں
جو میاں جاتے ہیں دفتر وقت پر
اُن سے ہیں اپنی جُدا دشواریاں
ہم بھلا آئین اور قانون کی
کب تلک سہتے رہیں غداریاں
سُن رکھو اے شہر دارو ! خون کی
ہونے ہی والی ہیں ندیاں جاریاں
جون ایلیا

سُن میاں ہوتی ہیں ان کی خواریاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 3
ہیں سبھی سے جن کی گہری یاریاں
سُن میاں ہوتی ہیں ان کی خواریاں
ہے خوشی عیاروں کا اک ثمر
غم کی بھی اپنی ہیں کچھ عیاریاں
ذرّے ذرّے پر نہ جانے کس لیے
ہر نفس ہیں کہکشائیں طاریاں
اس نے دل دھاگے ہیں ڈالے پاؤں میں
یہ تو زنجیریں ہیں بےحد بھاریاں
تم کو ہے آداب کا برص و جزام
ہیں ہماری اور ہی بیماریاں
خواب ہائے جاودانی پر مرے
چل رہی ہیں روشنی کی آریاں
ہیں یہ سندھی اور مہاجر ہڈحرام
کیوں نہیں یہ بیچتے ترکاریاں
یار! سوچو تو عجب سی بات ہے
اُس کے پہلو میں مری قلقاریاں
ختم ہے بس جون پر اُردو غزل
اس نے کی ہیں خون کی گل کاریاں
جون ایلیا

سر کوئے دراز مژگاناں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 2
رقصِ جاں میں ہیں زخم ساماناں
سر کوئے دراز مژگاناں
اب نہیں حال سینہ کوبی کا
آؤ سینے سے آ لگو جاناں
میرا حق تو یہ تھا کہ گرد مرے
ہو اک انبوہ نار پستاناں
اپنی ورزش کے دھیان ہی سے ہمیں
مار رکھتے ہیں صندلیں راناں
ہائے وہ نارسائیاں جو گئیں
بحسابِ مزاج درباناں
داغ سینے کے کچھ ہنر تو نہ تھے
وائے برسوخستہ گریباناں
کر عجب، گر ہو ایک لمحہ عیش
حاصل۔ عمرِ لمحہ مہماناں
نہ گئے تا حریمِ رنگ کبھی
خون روتے رہے تن آساناں
وصل تو کیا، نہیں نصیب ہمیں
اب تمہارا فراق تک جاناں
جون ایلیا

دہم شکنِ دلہا برہم زنِ محفلہا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 1
دلِ جان! وہ آ پہنچا، درہم شکنِ دلہا
دہم شکنِ دلہا برہم زنِ محفلہا
یہ نغمہ ساعت کر اے مطربِ کج نغمہ
ہے نعرہ قاتل در حلقہ بسملہا
ہے شام کے بے قابو وہ خجر گیاں آشوب
لو آ ہی گیا کافر اے مجمعِ غافلہا
گردابِ عبث میں ہم اس موج پہ مائل ہیں
جو موج کہ یاراں ہے دور افگنِ ساحلہا
ہم نادرہ جویاں کو وہ راہ خوش آئی ہے
جو آبلہ پرور ہے بے مرہم منزلہا
ہم اس کے ہیں اے یاراں اس کے ہیں جو ٹھہرا ہے
آشوب گرِ جانہا دیوانہ گر۔ دلہا
مجنوں پسِ مجنوں ہے بے شورِ فغاں اے دا
محمل پسِ محمل ہے بے لیلٰی محملہا
جون ایلیا

یہ دروازہ کیسے کھُلا؟

یہ دروازہ کیسے کھُلا، کس نے کھولا؟

وہ کتبہ جو پتھر کی دیوار پر بے زباں سوچتا تھا

ابھی جاگ اٹھا ہے،

وہ دیوار بھولے ہوئے نقش گر کی کہانی

سنانے لگی ہے؛

نکیلے ستوں پر وہ صندوق، جس پر

سیہ رنگ ریشم میں لپٹا ہوا ایک کتے کا بت،

جس کی آنکھیں سنہری،

ابھی بھونک اُٹھا ہے؛

وہ لکڑی کی گائے کا سر

جس کے پیتل کے سینگوں میں بربط،

جو صدیوں سے بے جان تھا

جھنجھنانے لگا ہے؟

وہ ننھے سے جوتے جو عجلت میں اک دوسرے سے

الگ ہو گئے تھے؛

یکایک بہم مل کے، اترا کے چلنے لگے ہیں۔

وہ پایوں پہ رکھے ہوئے تین گلدان

جن پر بزرگوں کے پاکیزہ یا کم گنہ گار

جسموں کی وہ راکھ جو (اپنی تقدیرِ مبرم سے بچ کر)

فقط تِیرہ تر ہو گئی تھی،

اُسی میں چھپے کتنے دل

تلملانے لگے ہیں؟

یہ دروازہ کیسے کھلا؟ کس نے کھولا؟

ہمیں نے____

ابھی ہم نے دہلیز پر پاؤں رکھا نہ تھا

کواڑوں کو ہم نے چھوا تک نہ تھا

کیسے یکدم ہزاروں ہی بے تاب چہروں پہ

تارے چمکنے لگے

جیسے اُن کی مقدس کتابوں میں

جس آنے والی گھڑی کا حوالہ تھا

گویا یہی وہ گھڑی ہو!

ن م راشد

یہ خلا پُر نہ ہوا

ذہن خالی ہے

خلا نور سے، یا نغمے سے

یا نکہتِ گم راہ سے بھی

پُر نہ ہوا

ذہن خالی ہی رہا

یہ خلا حرفِ تسلی سے،

تبسم سے،

کسی آہ سے بھی پر نہ ہوا

اِک نفی لرزشِ پیہم میں سہی

جہدِ بے کار کے ماتم میں سہی

ہم جو نارس بھی ہیں، غم دیدہ بھی ہیں

اِس خلا کو

(اِسی دہلیر پہ سوئے ہوئے

سرمست گدا کے مانند)

کسی مینار کی تصویر سے،

یا رنگ کی جھنکار سے،

یا خوابوں کی خوشبوؤں سے

پُر کیوں نہ کریں؟

کہ اجل ہم سے بہت دُور

بہت دُور رہے؟

نہیں، ہم جانتے ہیں

ہم جو نارس بھی ہیں، غم دیدہ بھی ہیں

جانتے ہیں کہ خلا ہے وہ جسے موت نہیں

کِس لیے نُور سے، یا نغمے سے

یا حرفِ تسلّی سے اسے جسم بنائیں

اور پھر موت کی وارفتہ پذیرائی کریں؟

نئے ہنگاموں کی تجلیل کا در باز کریں

صبحِ تکمیل کا آغاز کریں؟

ن م راشد

ہونٹوں کالمس

تیرے رنگیں رس بھرے ہونٹوں کا لمس

جس سے میرا جسم طوفانوں کی جولاں گاہ ہے

جس سے میری زندگی، میرا عمل گمراہ ہے

میری ذات اور میرے شعر افسانہ ہیں!

تیرے رنگیں رس بھرے ہونٹوں کا لمس

اور پھر لمسِ طویل

جس سے ایسی زندگی کے دن مجھے آتے ہیں یاد

میں نے جو اب تک بسر کی ہی نہیں

اور اک ایسا مقام

آشنا جس کے نظاروں سے نہیں میری نگاہ!

تیرے اک لمسِ جنوں انگیز سے

کیسے کھل جاتی ہے کرنوں کے لیے اک شاہراہ

کیسے ہو جاتی ہے، ظلمت تیز گام،

کیسے جی اٹھتے ہیں آنے وا لے ایامِ جمیل!

تیرے رنگیں رس بھرے ہونٹوں کا لمس

جس کے آگے ہیچ جرعاتِ شراب

یہ سنہری پھل، یہ سیمیں پھول مانندِ سراب

سوزِ شمع و گردشِ پروانہ گویا داستاں

نغمہ ءِ سیارگاں، بے رنگ و آب

قطرہ ءِ بے مایہ طغیانِ شباب!

تیرے ان ہونٹوں کے لمسِ جنوں انگیز سے

چھا گیا ہے چار سُو

چاندنی راتوں کا نورِ بیکراں

کیف و مستی کا وفورِ جاوداں

چاندنی ہے اور میں اک تاک کے سائے تلے

اِستادہ ہوں

جانے دینے کے لیے آمادہ ہوں

میری ہستی ہے نحیف و بے ثبات

تاک کی ہر شاخ ہے آفاق گیر!

حملہ ءِ مرگ و خزاں سے بے نیاز

سامنے جس کے مری دنیا ہے، دنیائے مجاز

میرے جسم و روح جس کی وسعتوں کے سامنے

رفتہ رفتہ مائلِ حلّ و گداز!

ہاں مگر اتنا تو ہے،

میری دنیا کو مٹا کر ہو چلی ہے آشکار

اور دنیائیں مقام و وقت کی سرحد کے پار

جن کی تو ملکہ ہے میں ہوں شہریار!

تیرے رنگیں رس بھرے ہونٹوں کا لمس،

جس سے میری سلطنت تابندہ ہے

انتہائے وقت تک پائندہ ہے!

ن م راشد

ہمہ اوست

خیابانِ سعدی میں

روسی کتابوں کی دکان پر ہم کھڑے تھے

مجھے روس کے چیدہ صنعت گروں کے

نئے کارناموں کی اک عمر سے تشنگی تھی!

مجھے روسیوں کے سیاسی ہمہ اوست سے کوئی رغبت نہیں ہے

مگر ذرے ذرے میں

انساں کے جوہر کی تابندگی دیکھنے کی تمنا ہمیشہ رہی ہے!

اور اُس شام تو مرسدہ کی عروسی تھی،

اُس شوخ، دیوانی لڑکی کی خاطر

مجھے ایک نازک سی سوغات کی جستجو تھی

وہ میرا نیا دوست خالد

ذرا دور، تختے کے پیچھے کھڑی

اک تنومند لیکن فسوں کار،

قفقاز کی رہنے والی حسینہ سے شیر و شکر تھا!

یہ بھوکا مسافر،

جو دستے کے ساتھ

ایک خیمے میں، اک دور افتادہ صحرا میں

مدت سے عزلت گزیں تھا،

بڑی التجاؤں سے

اس حورش قفقاز سے کہہ رہا تھا:

نجانے کہاں سے ملا ہے

تمھاری زباں کو یہ شہد

اور لہجے کو مستی!

میں کیسے بتاؤں

میں کس درجہ دلدادہ ہوں روسیوں کا

مجھے اشتراکی تمدن سے کتنی محبت ہے،

کیسے بتاؤں!

یہ ممکن ہے تم مجھ کو روسی سکھا دو؟

کہ روسی ادیبوں کی سرچشمہ گاہوں کو میں دیکھتا چاہتا ہوں!

وہ پروردہ ءِ عشرہ بازی

کنکھیوں سے یوں دیکھتی تھی

کہ جیسے وہ اُن سرنِگوں آرزوؤں کو پہچانتی ہو،

جو کرتی ہیں اکثر یونہی رُو شناسی

کبھی دوستی کی تمنا،

کبھی علم کی پیاس بن کر!

وہ کولہے ہلاتی تھی، ہنستی تھی

اک سوچی سمجھی حسابی لگاوٹ سے،

جیسے وہ اُن خفیہ سرچشمہ گاہوں کے ہر راز کو جانتی ہو،

وہ تختے کے پیچھے کھڑی، قہقہے مارتی، لوٹتی تھی!

کہا میں نے خالد سے:

بہروپیے!

اس ولایت میں ضربِ مثل ہے

کہ اونٹوں کی سوداگری کی لگن ہو

تو گھر اُن کے قابل بناؤ___،

اور اس شہر میں یوں تو استانیاں اَن گنت ہیں

مگر اِس کی اُجرت بھلا تم کہاں دے سکو گے!

وہ پھر مضطرب ہو کے، بے اختیاری سے ہنسنے لگی تھی!

وہ بولی:

یہ سچ ہے

کہ اُجرت تو اک شاہی بھر کم نہ ہو گی،

مگر فوجیوں کا بھروسہ ہی کیا ہے،

بھلا تم کہاں باز آؤ گے

آخر زباں سیکھنے کے بہانے

خیانت کروگے!

وہ ہنستی ہوئی

اک نئے مشتری کی طرف ملتفت ہو گئی تھی!

تو خالد نے دیکھا

کہ رومان تو خاک میں مل چکا ہےِ__

اُسے کھینچ کر جب میں بازار میں لا رہا تھا،

لگاتار کرنے لگا وہ مقولوں میں باتیں:

زباں سیکھنی ہو تو عورت سے سیکھو!

جہاں بھر میں روسی ادب کا نہیں کوئی ثانی!

وہ قفقاز کی حور، مزدور عورت!

جو دنیا کے مزدور سب ایک ہوجائیں!

آغاز ہو اک نیا دورہ ءِ شادمانی

مرے دوستوں میں بہت اشتراکی ہیں،

جو ہر اک محبت میں مایوس ہو کر،

یونہی اک نئے دورہ ءِ شادمانی کی حسرت میں

کرتے ہیں دلجوئی اک دوسرے کی،

اور اب ایسی باتوں پہ میں

زیرِ لب بھی کبھی مسکراتا نہیں ہوں!

اور اُس شام جشنِ عروسی میں

حُسن و مَے و رقص و نغمہ کے طوفان بہتے رہے تھے،

فرنگی شرابیں تو عنقا تھیں

لیکن مَے ناب قزوین و خُلّارِ شیراز کے دَورِ پیہم سے،

رنگیں لباسوں سے،

خوشبو کی بے باک لہروں سے،

بے ساختہ قہقہوں، ہمہموں سے،

مزامیر کے زیر و بم سے،

وہ ہنگامہ برپا تھا،

محسوس ہوتا تھا

طہران کی آخری شب یہی ہے!

اچانک کہا مرسدہ نے:

تمھارا وہ ساتھی کہاں ہے؟

ابھی ایک صوفے پہ دیکھا تھا میں نے

اُسے سربزانو!

تو ہم کچھ پریشان سے ہو گئے

اور کمرہ بہ کمرہ اُسے ڈھونڈنے مل کے نکلے!

لو اِک گوشہ ءِ نیم روشن میں

وہ اشتراکی زمیں پر پڑا تھا

اُسے ہم بلایا کیے اور جھنجھوڑا کیے

وہ تو ساکت تھا، جامد تھا!

روسی ادیبوں کی سرچشمہ گاہوں کی اُس کو خبر ہو گئی تھی؟

ن م راشد

ہم کہ عشّاق نہیں ۔ ۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم کہ عشّاق نہیں ، اور کبھی تھے بھی نہیں

ہم تو عشّاق کے سائے بھی نہیں!

عشق اِک ترجمہ ءِ بوالہوسی ہے گویا

عشق اپنی ہی کمی ہے گویا!

اور اس ترجمے میں ذکرِ زر و سیم تو ہے

اپنے لمحاتِ گریزاں کا غم و بیم تو ہے

لیکن اس لمس کی لہروں کا کوئی ذکر نہیں

جس سے بول اٹھتے ہیں سوئے ہوئے الہام کے لب

جی سے جی اٹھتے ہیں ایّام کے لب!

۔۔۔۔۔۔۔ ہم وہ کمسن ہیں کہ بسم اللہ ہوئی ہو جن کی

محوِ حیرت کہ پکار اٹھے ہیں کس طرح حروف

کیسے کاغذ کی لکیروں میں صدا دوڑ گئی

اور صداؤں نے معانی کے خزینے کھولے!

یہ خبر ہم کو نہیں ہے لیکن

کہ معانی نے کئی اور بھی در باز کیے

خود سے انساں کے تکلّم کے قرینے کھولے!

خود کلامی کے یہ چشمے تو کسی وادیِ فرحاں میں نہ تھے

جو ہماری ازلی تشنہ لبی نے کھولے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم سرِ چشمہ نگوں سار کسی سوچ میں ہیں

سحر و شام ہے ہر لہر کی جمع و تفریق

جیسے اِک فہم ہو اعداد کے کم ہونے کا

جیسے پنہاں ہو کہیں سینے میں غم ہونے کا!

پارہ ءِ ناں کی تمنّا کہ در و بام کے سائے کا کرم

خلوتِ وصل کہ بزمِ مئے و نغمہ کا سرور

صورت و شعر کی توفیق کہ ذوقِ تخلیق

ان سے قائم تھا ہمیشہ کا بھرم ہونے کا!

اب در و بام کے سائے کا کرم بھی تو نہیں

آج ہونے کا بھرم بھی تو نہیں!

۔۔۔۔۔ آج کا دن بھی گزارا ہم نے ۔۔۔۔ اور ہر دن کی طرح

ہر سحر آتی ہے البتہ ءِ روشن لے کر

شام ڈھل جاتی ہے ظلمت گہِ لیکن کی طرح

ہر سحر آتی ہے امید کے مخزن لے کر

اور دن جاتا ہے نادار، کسی شہر کے محسن کی طرح!

۔۔۔۔۔۔۔ چار سو دائرے ہیں، دائرے ہیں، دائرے ہیں

حلقہ در حلقہ ہیں گفتار میں ہم

رقص و رفتار میں ہم

نغمہ و صورت و اشعار میں ہم

کھو گئے جستجوئے گیسوئے خم دار میں ہم!

عشقِ نارستہ کے ادبار میں ہم

دور سے ہم کبھی منزل کی جھلک دیکھتے ہیں

اور کبھی تیز ترک بڑھتے ہیں

تو بہت دور نہیں، اپنے ہی دنبال تلک بڑھتے ہیں

کھو گئے جیسے خمِ جادہ ءِ پرکار میں ہم!

۔۔۔۔ ‘آپ تک اپنی رسائی تھی کبھی’

آپ ۔۔۔۔۔۔ بھٹکے ہوئے راہی کا چراغ

آپ ۔۔۔۔۔ آئندہ پہنا کا سراغ

آپ ٹوٹے ہوئے ہاتھوں کی وہ گویائی تھی

جس سے شیریں کوئی آواز سرِ تاک نہیں

آج اس آپ کی للکار کہاں سے لائیں؟

اب وہ دانندہ ءِ اسرار کہاں سے لائیں؟

۔۔۔۔۔ آج وہ آپ، سیہ پوش اداکارہ ہے

ہے فقط سینے پہ لٹکائے سمن اور گلاب

مرگِ ناگاہِ سرِ عام سے اس کی ہیں شناسا ہم بھی

اعتراف اس کا مگر اس لیے ہم کرتے نہیں

کہ کہیں وقت پہ ہم رو نہ سکیں!

۔۔۔۔۔ آؤ صحراؤں کے وحشی بن جائیں

کہ ہمیں رقصِ برہنہ سے کوئی باک نہیں!

آگ سلگائیں اسی چوب کے انبار میں ہم

جس میں ہیں بکھرے ہوئے ماضیِ نمناک کے برگ

آگ سلگائیں زمستاں کے شبِ تار میں ہم

کچھ تو کم ہو یہ تمناؤں کی تنہائیِ مرگ!

آگ کے لمحہ ءِ آزاد کی لذّت کا سماں

اس سے بڑھ کر کوئی ہنگامِ طرب ناک نہیں

کیسے اس دشت کے سوکھے ہوئے اشجار جھلک اٹھے ہیں

کیسے رہ گیروں کے مٹتے ہوئے آثار جھلک اٹھے ہیں

کیسے یک بار جھلک اٹھے ہیں!

۔۔۔۔۔ ہاں مگر رقصِ برہنہ کے لئے نغمہ کہاں سے لائیں؟

دہل و تار کہاں سے لائیں؟

چنگ و تلوار کہاں سے لائیں؟

جب زباں سوکھ کے اِک غار سے آویختہ ہے

ذات اِک ایسا بیاباں ہے جہاں

نغمہ ءِ جاں کی صدا ریت میں آمیختہ ہے!

۔۔۔۔ دھُل گئے کیسے مگر دستِ حنا بندِ عروس

اجنبی شہر میں دھو آئے انہیں!

لوگ حیرت سے پکار اٹھے: یہ کیا لائے تم؟

وہی جو دولتِ نایاب تھی کھو آئے تم؟

ہم ہنسے، ہم نے کہا: دیوانو!

زینتیں اب بھی ہیں دیکھو تو سلامت اِس کی

کیا یہ کم ہے سرِ بازار یہ عریاں نہ ہوئی؟

لوگ بپھرے تو بہت، اِس کے سوا کہہ نہ سکے:

ہاں یہ سچ ہے سرِ بازار یہ عریاں نہ ہوئی

یہی کیا کم ہے کہ محفوظ ہے عفت اِس کی،

یہی کیا کم ہے کہ اتنا دَم ہے!

۔۔۔۔۔۔۔ ہاں، تقنّن ہو کہ رقت ہو کہ نفرت ہو کہ رحم

محو کرتے ہی چلے جاتے ہیں اک دوسرے کو ہرزہ سراؤں کی طرح!

درمیاں کیف و کمِ جسم کے ہم جھولتے ہیں

اور جذبات کی جنت میں در آ سکتے نہیں!

ہاں وہ جذبات جو باہم کبھی مہجور نہ ہوں

رہیں پیوست جو عشّاق کی باہوں کی طرح

ایسے جذباتِ طرح دار کہاں سے لائیں؟

۔۔۔۔۔۔۔ ہم کہ احساس سے خائف ہیں، سمجھتے ہیں مگر

اِن کا اظہار شبِ عہد نہ بن جائے کہیں

جس کے ایفا کی تمنا کی سحر ہو نہ سکے

روبرو فاصلہ در فاصلہ در فاصلہ ہے

اِس طرف پستیِ دل برف کے مانند گراں

اُس طرف گرمِ صلا حوصلہ ہے

دل بہ دریا زدن اک سو ہے تو اک سو کیا ہے؟

ایک گرداب کہ ڈوبیں تو کسی کو بھی خبر ہو نہ سکے!

اپنی ہی ذات کی سب مسخرگی ہے گویا؟

اپنے ہونے کی نفی ہے گویا؟

۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں، فطرت کہ ہمیشہ سے وہ معشوقِ تماشا جُو ہے

جس کے لب پر ہے صدا، تُو جو نہیں، اور سہی،

اور سہی، اور سہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتنے عشّاق سرِ راہ پڑے ہیں گویا

شبِ یک گانہ و سہ گانہ و نُہ گاہ کے بعد

(اپنی ہرسعی کو جو حاصلِ جاوید سمجھتے تھے کبھی!)

اُن کے لب پر نہ تبسّم نہ فغاں ہے باقی!

اُن کی آنکھوں میں فقط سّرِ نہاں ہے باقی!

ہم کہ عشّاق نہیں اور کبھی تھے بھی نہیں

ہمیں کھا جائیں نہ خود اپنے ہی سینوں کے سراب

لیتنی کنت تُراب!

کچھ تو نذرانہ ءِ جاں ہم بھی لائیں

اپنے ہونے کا نشاں ہم بھی لائیں!

ن م راشد

ہم رات کی خوشبوؤں سے بوجھل اٹھے

صبح کے سینے میں نیزے ٹوٹے ،

اور ہم رات کی خوشبوؤں سے بوجھل اٹھے !

جسم کے ساحلِ آشفتہ پر اک عشق کا مارا ہوا

انسان ہے آسودہ، مرے دل میں ، سرِ ریگ تپاں

میں فقط اس کا قصیدہ خواں ہوں !

(ریت پر لیٹے ہوئے شخص کا آوازہ بلند!)

دور کی گندم و مے ، صندل و خس لایا ہے

تا ک کی شاخ پر اک قافلہ زنبوروں کا!

تاک کی شاخ بھی خوشبوؤں سے بوجھل اٹھی!

کیسے زنبور ہمیشہ سے تمنا کے خداؤں کے حضور

سر بسجدہ ہیں ، مگر مشعلِجاں لے کے ہر اک سمت رواں !

جونہی دن نکلے گا اور شہر

جواں میوہ فروشوں کی پکاروں سے چھلک اٹھے گا،

میں بھی ہر سو ترے مژگاں کے سفیروں کی طرح دوڑوں گا!

(دن نکل آیا تو شبنم کی رسالت کی صفیں تہہ ہوں گی

راستے دن کے سیہ جھوٹ سے لد جائیں گے

بھونکنا چھوڑ کے پھر کاٹنے لگ جائیں گے غم کے کتے

اور اس شہر کے دلشاد مسافر، جن پر

ان کے سائے سے بھی لرزہ طاری،

پیکرِ خواب کے مانند سر راہ پلٹ جائیں گے )

رات یوں چاہا مجھے تو نے کہ میں فرد نہیں

بلکہ آزادی کے دیوانوں کا جمگھٹ ہوں میں ؛

رات یوں چاہا تجھے میں نے کہ تو فرد نہ ہو

بلکہ آئندہ ستاروں کا ہجوم۔ ۔ ۔

صبح کے سینے میں نیزے ٹوٹے

اور ہم رات کی خوشبوؤں سے بوجھل اٹھے !

اب بھی اک جسم مرے جسم سے پیوستہ ہے

جیسے اس ریت پہ لیٹے ہوئے انسان کا قالب ہو یہی ۔۔

جسم، میں جس کا قصیدہ خواں ہوں ۔۔۔

دن نکل آئے گا زنبوروں کی سوغات گل و تاک

کی دہلیز پہ رکھی ہو گی،

وہ اٹھا لیں گے اسے چومیں گے

ایسی سوغات گل و تاک پہ کچھ بار نہیں!

انہی زنبوروں کی محنت کے پسینے سے درختوں کو ملی

تاب، کہ رویا دیکھیں

کسی دوشیزہ کا رویا جسے شیرینیِ لب بار ہو

(زیبائی جہاں بھی ہو سلام ۔۔۔

تیرے ہونٹوں کو دوام!)

رات کے باغوں کی خوشبوؤں کو چھو کر آئے،

زیست کی تازہ دمی، ہست کی ندرت لائے،

اُن کے اِک بوسے سے ہر لب میں نمو آئے گی

موت اس شہر سے دزدانہ پلٹ جائے گی

ن م راشد

ہم جسم

در پیش ہمیں

چشم و لب و گوش

کے پیرائے رہے ہیں

کل رات

جو ہم چاند میں

اس سبزے پہ

ان سایوں میں

غزلائے رہے ہیں

کس آس میں

کجلائے رہے ہیں؟

اس میں کو

جو ہم جسموں میں

محبوس ہے

آزاد کریں

کیسے ہم آزاد کریں؟

کون کرے؟ ہم؟

ہم جسم

ہم جسم کہ کل رات

اسی چاند میں

اس سبزے پہ

ان سایوں میں

خود اپنے کو

دہرائے رہے ہیں؟

کچھ روشنیاں

کرتی رہیں ہم سے

وہ سرگوشیاں

جو حرف سے

یا صوت سے

آزاد ہیں

کہہ سکتی ہیں

جو کتنی زبانوں میں

وہی بات، ہر اک رات

سدا جسم

جسے سننے کو

گوشائے رہے ہیں

ہم جسم بھی

کل رات کے

اک لمحے کو

دل بن کے

اسی بات سے

پھر سینوں میں

گرمائے رہے ہیں

اس میں کو

ہم آزاد کریں؟

رنگ کی، خوشبوؤں کی

اس ذات کو

دل بن کے

جسے ہم بھی

ہر اک رات

عزیزائے رہے ہیں؟

یا اپنے توہمات کی

زنجیروں میں

الجھائے رہے ہیں

اس ذات کو

جس ذات کے

ہم سائے رہے ہیں؟

ن م راشد

کیمیا گر

رضا شاہ!

تجھ پر سلام اجنبی کا!

سلام ایک ہندی سپاہی کا تجھ پر!

مجھے تو کہاں دیکھ سکتا ہے؟

تیری نگاہیں تو البرز کے پار اُفق پر لگی ہیں!

یہاں___ میں ترے بت کے نیچے

چمکتی ہوئی سیڑھیوں پر کھڑا ہوں!

سنا ہے کہ اُس انتہائی عقیدت کی خاطر

جو بخشی گئی تھی تجھے اپنی ذاتِ گرامی سے،

تو نے یہ بت

اپنی فرماں روائی میں

یورپ کے مشہور ہیکل تراشوں سے بنوا کے

اس چوک میں نصب کروا دیا تھا!

اسی سے ہویدا ہے یہ بھی

کہ ملت کی احساں شناسی پہ کتنا بھروسہ تھا تجھ کو!

رضا شاہ!

اے داریوش اور سیروس کے جانشیں

یہ قلم رو،

تجھے جس کی تزئین کی لو لگی تھی

جسے تو خدا کی اماں میں بھی دینا گوارا نہ کرتا،

یہی شہر یور کے الم زا حوادث کے بعد

آج قدموں میں تیرے پڑی ہے،

یہ بے جان لاشہ

جسے تین خونخوار کرگس

نئی اور بڑھتی ہوئی آز سے نوچتے جا رہے ہیں!

وطن اور ولی عہد کی والہانہ محبت،

ترے ہوش و فکر و عمل کے لیے،

کون سی چیز مہمیز کا کام دیتی تھی،

سب جانتے ہیں!

مگر تو وہ معما تھا جس کو

بنیاد سے کوئی مطلب نہ تھا

وہ تو زخموں کو آنکھوں سے روپوش کرنے میں،

چھت اور دیوار و در کی منبّت پہ گلگو نہ ملنے میں

دن رات بے انتہا تندہی سے لگا تھا!

یہ مشہور ہے

تو نے اک روز نادر کی تربت پہ جا کر

کہا تھا:

کہ نادر میں سب خوبیاں تھیں

مگر پیٹ کا اتنا ہلکا

کہ لوگ اس کے مقصود کو بھانپ لیتے!

یہ سچ ہے کہ نادر اگر نیم شب

صبح کے وحشت افزا ارادے کو ا فشا نہ کرنا

تو یوں قتل ہونے کی نوبت نہ آتی!

مگر وہ تری حد سے گزری ہوئی رازداری

کہ جس نے تجھے

اپنے افکار کے قید خانے میں

محصور سا کر دیا تھا،

____وہ زنداں جہاں گھوم پھر کر نگاہیں

فقط اپنا چہرہ دکھاتی تھیں تجھ کو

جہاں ہر عقیدے کو تو

اپنے الہام کے شیشہ ءِ کور میں دیکھتا تھا،

جہاں ایک چھوٹا سا روزن بھی ایسا نہ تھا،

جس میں ملت کے افکار کی ایک کرن کا گزر ہو!

اسی کا نتیجہ، کہ اک روز

کہنے کو باتیں بہت تھیں

مگر سننے والے کہیں بھی نہ تھے،

اور تجھے بھی تو کر ہو گئے تھے!

تجھے اس زمیں سے گئے دو برس ہو چکے ہیں

تری یاد تک مٹ چکی ہے دلوں سے

کبھی یاد کرتا ہے کوئی تو کہتا ہے،

وہ کیمیا گر

جو کرتا رہا سب سے وعدے

کہ لاؤں گا سونا بنا کر

مگر شہریوں کے مس و سیم تک

لے کے چلتا بنا؟

یہ طہران جو تیرے خوابوں میں

پاریس کا نقشِ ثانی تھا،

یوں تو یہاں رہگزاروں میں

بہتا ہے ہر شام سیما فروشوں کا سیلاب جاری،

یہاں رقص گاہوں میں اب بھی

بہت جھلملاتی ہیں محفل کی شمعیں،

یہاں رقص سے چور یا جام و بادہ سے مخمور ہو کر

وطن کے پجاری

بآہنگِ سنتور و تار و دف و نَے

لگاتے ہیں مل کر

وطن! اے وطن! کی صدائیں!

مگر کون جانے یہ کس کا وطن ہے؟

کہ پاریس بھی آج اُس کا ہیولا ہے بے چارگی میں

کہ اُس پر فقط برقِ خرمن گری تھی

اسے شعلہ ہائے نیستاں نگلتے چلے جا رہے ہیں!

ن م راشد

کونسی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟

لب بیاباں، بوسے بے جاں

کونسی الجھن کو سلجھاتے ھیں ہم؟

جسم کی یہ کار گاہیں

جن کا ہیزم آپ بن جاتے ہیں ہم!

نیم شب اور شہر خواب آلودہ، ہم سائے

کہ جیسے دزدِ شبِ گرداں کوئی!

شام سے تھے حسرتوں کے بندہ بے دام ہم

پی رھے تھے جام پر ہر جام ہم

یہ سمجھ کر، جرعہِپنہاں کوئی

شائد آخر، ابتدائے راز کا ایما بنے

مطلب آساں، حرف بے معنی

تبسّم کے حسابی زاو یے

متن کے سب حاشیے،

جن سے عیش خام کے نقش ریا بنتے رہے!

اور آخر بعُد جسموں میں سر مو بھی نہ تھا

جب دلوں کے درمیاں حائل تھے سنگیں فاصلے

قرب چشم و گوش سے ہم کونسی الجھن کو سلجھاتے رہے!

کونسی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟

شام کو جب اپنی غم گاہوں سے دزدانہ نکل آتے ہیں ہم!

زندگی کو تنگنائے تازہ تر کی جستجو

یا زوال عمر کا دیو سبک پا رو برو

یا انا کے دست و پا کو وسعتوں کی آرزو

کونسی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟

ن م راشد

کلام ہنس نہیں رہا

کلام ہنس نہیں رہا

کلام کس طرح ہنسے؟

ہمارے اِن پِٹے لطیفوں پر جو ہم اِسے

سنا چکے ہیں بار ہا

کلام کس طرح ہنسے

کلام اب پگھل رہا ہے رفتہ رفتہ

ان دلوں کی شمع کی طرح

جو جل چکے، جلا چکے ۔۔۔

کلام جس کا ذکر کر رہے ہیں ہم

عجیب بات ہے کلام بھی نہیں

مگر اِسے کلام کے سوا کہیں تو کیا کہیں؟

کہ اس کا اور کوئی نام بھی نہیں!

ہم اس پہ کچھ فدا نہیں مگر اِسے

جو رد کریں تو کیوں کریں؟

کہ یہ ہمارے جسم و جاں کو پالتا رہا

ہمارے ذہن و دل کو سالہا سے ڈھالتا رہا ۔۔۔

یہ اب بھی ڈھالتا ہے اور ڈھالتا رہے گا

اور ہم یہ چاہتے بھی ہیں!

کلام ایک قرب ہے،

ہمیشہ بُعد کو پکارتا رہا ۔۔۔

سمندروں کو دیکھتے ہو تم

وہ کس طرح سمندروں کے بُعد کو پکارتے ہیں رات دن؟

اسی لیے صدائے مرگ

سُن کے اپنے باطنِ نحیف میں

ہم آپ کر اُٹھے ہیں پھر سے ہستِ نو کی آرزو ۔۔۔

وہ رات جو کبھی سیاہ جنگلوں کو ۔۔۔

جنگلوں کی آنکھ سے چھپی ہوئی

مہورتوں کو چاٹتی رہی

وہ اب دلوں کو چاٹتی ہے، اُن دلوں

کو جن میں پھر سے جاگ اٹھی

حیاتِ نو کی آرزو ۔۔

وہ رات جس کے چاوشوں نے دیکھ پائے

وحشیِ قدیم کے نشانِ پا

جو شرق و غرب میں نکل پڑا ہے

چور کی دلاوری لیے ۔۔۔

ہم اپنے ماضیِ قریب کو مٹا تو دیں

۔۔۔ مٹانا چاہتے بھی ہیں مگر ۔۔۔

یہ دیکھتے ہو تم

خفیف سی صدا اٹھی، وہ ہانپنے لگے

وہ خوف ہانکنے لگے

وہ اپنے ناخنوں کے جنگلوں سے

ہم کو جھانکنے لگے؟

وہ رات جو سیاہ جنگلوں کو چاٹتی رہی

وہ آج ہم پہ ایسے آئی ہے کہ جیسے آئےرات

کمسنوں پہ جو کسی بڑے فِرج میں ناگہاں

اسیر ہو کے رہ گئے!

ہم آدمی کو پھر سے زندہ کر سکیں گے گیا؟

۔۔ ۔ مگر وہ مرحلے

فسانہ و فسوں کے صد ہزار مرحلے

جو راہ میں پھر آئیں گے؟

تباہی! یہ بتا کہ اور مرحلہ بھی ہے

کہ جس کو پار کر سکے گا آدمی؟

وہ دیکھ وحشیِ قدیم جو لہو سے

سوچتا رہا سدا

پھر آج رنگ و نور سے الجھ پڑا ۔۔۔

اُسی کا نغمہ ہے

جو سُن رہے ہیں ریڈیو سے ہم

دھرم دھما دھما دھرم دھما دھرم ۔۔۔

بتا وہ راستہ کہاں ہے جس سے پھر

جنوں کے خواب،

یا خرد کے خواب،

یا سکوں کے خواب

لوٹ آئیں گے

بتا وہ راستہ کہاں؟

ن م راشد

کشاکش

شبِ دو شینہ کے آثار کہیں بھی تو نہیں،

تیری آنکھوں میں، نہ ہونٹوں پہ، نہ رخساروں پر،

اڑ گئی اوس کی مانند ہر انگڑائی بھی!

اور ترا دل تو بس اک حجلہ ءِ تاریکی ہے،

جس میں کام آ نہیں سکتی مری بینائی بھی!

یہ تجسس مجھے کیوں ہے کہ سحر کے ہنگام

کون اٹھا ترے آغوش سے سرمست جوانی لے کر:

کیا وہ اس شہر کا سب سے بڑا سوداگر تھا؟

(تیرے پاؤں میں ہے زنجیر طلائی جس کی)

یا فرنگی کا گرانڈیل سپاہی تھا کوئی؟

(جن سے یہ شہر ابلتا ہوا ناسور بنا جاتا ہے)

یا کوئی دوست، شب و روز کی محنت کا شریک؟

(میرے ہی شوق نے ترغیب دلائی ہو جیسے!)

یہ تجسس مجھے کیوں ہے آخر،

جبکہ خود میرے لیے دور نہ تھا، دور نہیں،

کہ میں چاہوں تو ترے جسم کے خم خانوں کا محرم بن جاؤں؟

جس کی قسمت میں کوئی موجِ تبسم بھی نہ ہو،

قہقہوں کا اُسے ذخّار سمندر مل جائے،

مبتلا کیوں نہ وہ اوہام کے اس دام میں ہو،

کہ وہی ایک وہی ہے تری ہستی پہ محیط،

اور تُو عہدِ گزشتہ کی طرح

کارواں ہائے تمنا کی گزرگاہ نہیں!

شبِ دوشینہ کے آثار کہیں بھی تو نہیں،

تیری آنکھوں میں، نہ ہونٹوں پہ، نہ رخساروں پر،

اور نمودار بھی ہو جائیں تو کیا،

آگہی ہو بھی، تو حاصل نہیں کچھ اس کے سوا

کہ غمِ عشق چراغِ تہِ داماں ہو جائے،

زندگی اور پریشاں ہو جائے!

ن م راشد

ویران کشید گاہیں

مَری کی ویراں کشید گاہوں میں

جو شیشہ و جام ودستِ ساقی کی منزلوں سے

گزر کے جب بھی بڑھا ہے آگے

تو اُس کے اکثر غموں سے اُجڑے ہوئے دماغوں

کے تیرہ گوشے

اَنا کی شمعوں کی روشنی سے جھلک اٹھے ہیں!

میں اس فتیلے کے اس سرے پر،

کھڑا ہوں، مجذوب کی نظر سے

مَری کی ویراں کشید گاہوں میں جھانکتا ہوں!

میں کامگاری کے انتہائی سرور سے کانپنے لگا ہوں

جہان بھر کے عظیم سیاح دیر تک یہ خبر نہ لائے

کہ نیل،

جو بے شمار صدیوں سے،

مصر کے خشک ریگزاروں کو،

رنگ و نغمہ سے بھر رہا تھا

کہاں سے ہوتی تھی اس کی تقدیر کی روپہلی سحر ہویدا؟

میں آج ایسے ہی نیل کی وسعتوں

کی دہلیز پر کھڑا ہوں!

کھنڈر جو صبحِ ازل کی مانند

ایستادہ ہیں،

اِس یقیں سے،

کہ ابتدا ہی اگر ہیولائے انتہا ہے

تو انتہا بھی کبھی وہی نقطہ بن گئی ہے،

جہاں سے سالک، اوّلیں بار جادہ پیما!

کھنڈر جو صبحِ ازل کی مانند دیکھتے ہیں،

یہ دیکھ کر مضمحل نہیں ہیں،

کہ اُن کے آغوش کے فتیلے کی روشنی

سرد پڑ چکی ہے

وہ اس فتیلے کی

سرکشی کو بھی جانتے ہیں!

ن م راشد

وہی کشفِ ذات کی آرزو

مرا دل گرو، مری جاں گرو!

چلا آ کہ ہے مرا در کھلا

تو مرا نصیب ہے راہرو!

یہ ہوا، یہ برق، یہ رعد و ابر، یہ تیرگی

رہِ انتظار کی نارسی

مرے جان و دل پہ ہیں تو بتو

مرے میہماں ، مرے راہرو!

اے گریز پیا، تو سرابِ دشتِ خلا نہ بن

وہ نوا نہ بن جو فریبِ راہگزار ہو

وہ فسونِ ارض و سما نہ بن

جسے دل گرفتوں سے عار ہو!

جو تجھے بلاتی ہے پے بہ پے

وہ صدا جلاجلِ جاں کی ہے

وہ صدا مرورِ زماں کی ہے!

کسے اس صدا سے فرار ہو؟

مرا دل گرو، مری جاں گرو

تری کُن مکُن، تری رَو مرَو

مجھے بارِ جاں،

کہ میں حرف جس کی رواں ہے تو

تو کلام ہے، میں تری زباں

تو وہ شمع ہے کہ میں جس کی لو!

کسی نقش کار کا اِک نفس ۔۔۔

کئی صورتیں جو سدا سے تشنہ ءِ رنگ تھیں

ہوئیں وصل معنی سے بارور

کسی بت تراش کی اِک نگہ ۔۔۔

کئی سنگ اذیتِ یاس و مرگ

سے بچ گئے

ہوئے سمتِ راہ سے باخبر!

چلا آ کہ میری ندا میں بھی

وہی رویتِ ازلی کہ ہے

جسے یاد غایتِ رنگ و بُو

جسے یاد رازِ مئے و سبو

جسے یاد وعدہ ءِ تار و پو!

چلا آ کہ میری ندا میں بھی

اسی کشفِ ذات کی آرزو!

ن م راشد

وہ حرفِ تنہا

ہمارے اعضا جو آسماں کی طرف دعا کے لیے اٹھے ہیں

(تم آسماں کی طرف نہ دیکھو!)

مقامِ نازک پہ ضربِ کاری سے جاں بچانے کا ہے وسیلہ

کہ اپنی محرومیوں سے چھپنے کا ایک حیلہ؟

بزرگ و برتر خدا کبھی تو (بہشت برحق)

ہمیں خدا سے نجات دے گا

کہ ہم ہیں اس سر زمیں پہ جیسے وہ حرفِ تنہا،

(مگر وہ ایسا جہاں نہ ہو گا) خموش و گویا

جو آرزوئے وصالِ معنی میں جی رہا ہو

جو حرف و معنی کی یک دلی کو ترس گیا ہو!

ہمیں معرّی کے خواب دے دو

(کہ سب کو بخشیں بقدرِ ذوقِ نگہ تبسّم)

ہمیں معرّی کی روح کا اضطراب دے دو

(جہاں گناہوں کے حوصلے سے ملے تقدّس کے دکھ کا مرہم)

کہ اُس کی بے نور و تار آنکھیں

درونِ آدم کی تیرہ راتوں

کو چھیدتی تھیں

اُسی جہاں میں فراقِ جاں کاہِ حرف و معنی

کو دیکھتی تھیں

بہشت اس کے لیے وہ معصوم سادہ لوحوں کی عافیت تھا

جہاں وہ ننگے بدن پہ جابر کے تازیانوں سے بچ کے

راہِ فرار پائیں

وہ کفشِ پا تھا، کہ جس سے غربت کی ریگِ بریاں

سے روزِ فرصت قرار پائیں

کہ صُلبِ آدم کی، رحمِ حوّا کی عزلتوں میں

نہایت انتظار پائیں!

(بہشت صفرِ عظیم، لیکن ہمیں وہ گم گشتہ ہندسے ہیں

بغیر جن کے کوئی مساوات کیا بنے گی؟

وصالِ معنی سے حرف کی بات کیا بنے گی؟)

ہم اس زمیں پر ازل سے پیرانہ سر ہیں، مانا

مگر ابھی تک ہیں دل توانا

اور اپنی ژولیدہ کاریوں کے طفیل و دانا

ہمیں معرّی کے خواب دے دو

(بہشت میں بھی نشاط، یک رنگ ہو تو، غم ہے

ہو ایک سا جامِ شہد سب کے لیے تو سم ہے)

کہ ہم ابھی تک ہیں اس جہاں میں وہ حرفِ تنہا

(بہشت رکھ لو، ہمیں خود اپنا جواب دے دو!)

جسے تمنّاے وصلِ معنا ۔۔۔۔۔

ن م راشد

وادیِ پنہاں

وقت کے دریا میں اٹھی تھی ابھی پہلی ہی لہر

چند انسانوں نے لی اک وادیِ پنہاں کی راہ

مل گئی اُن کو وہاں

آغوشِ راحت میں پناہ

کر لیا تعمیر اک موسیقی و عشرت کا شہر،

مشرق و مغرب کے پار

زندگی اور موت کی فرسودہ شہ راہوں سے دور

جس جگہ سے آسماں کا قافلہ لیتا ہے نور

جس جگہ ہر صبح کو ملتا ہے ایمائے ظہور

اور بُنے جاتے ہیں راتوں کے لیے خوابوں کے جال

سیکھتی ہے جس جگہ پرواز حور

اور فرشتوں کو جہاں ملتا ہے آہنگِ سُرور

غم نصیب اہریمنوں کو گریہ و آہ و فغاں!

کاش بتلا دے کوئی

مجھ کو بھی اس وادیِ پنہاں کی راہ

مجھ کو اب تک جستجو ہے

زندگی کے تازہ جولاں گاہ کی

کیسی بیزاری سی ہے

زندگی کے کہنہ آہنگِ مسلسل سے مجھے

سر زمینِ زیست کی افسردہ محفل سے مجھے

دیکھ لے اک بار کاش

اس جہاں کا منظر رنگیں نگاہ

جس جگہ ہے قہقہوں کا اک درخشندہ وفور

جس جگہ سے آسماں کا قافلہ لیتا ہے نُور

جس کی رفعت دیکھ کر خود ہمتِ یزداں ہے چُور

جس جگہ ہے وقت اک تازہ سُرور

زندگی کا پیرہن ہے تار تار!

جس جگہ اہریمنوں کا بھی نہیں کچھ اختیار

مشرق و مغرب کے پار!

ن م راشد

نیاآدمی

نوا اور سازِ طرب۔۔۔۔

یہ سازِ طرب میں نوائے تمنا

نوائے تمنا پہ کوچے کے لڑکوں کے پتھر

یہ پتھرکی بارش پہ سازِ طرب کا سرور

نئی آگ، دل

دلِ ناتواں کی نئی آگ سب کاسرور

نئی آگ سب سے مقدس ہمیں

ہم اس آگ کوکس کی آنکھوں کے معبد

پہ جا کر چڑھائیں؟

نئی آگ کے کس کومعنی سجھائیں؟

نئی آگ ہرچشم و لب کاسرور

نئی آگ سب کا سرور

روایت، جنازہ

خدااپنے سورج کی چھتری کے نیچے کھڑا

نالہ کرتاہوا

جنازے کے ہمراہ چلتے ہوئے

گھر کے بے کار لوگوں کا شور و شغب

ریاکارلوگوں کو شور و شغب کا سرور

نئے آدمی کا نزول

اوراس پر غضب کا سرور

نئے آدمی کی اس آمد سے پہلے

مہینوں کے بھوکے کئی بھیڑیوں کی فغاں

(زمانے کی بارش میں بھیگے ہوئے بھیڑیے!)

نئے لفظ ومعنی کی بڑھتی ہوئی یک دلی

اور اس پر پرانے نئے بھیڑیوں کی فغاں

فغاں کا غضب اورغضب کا سرور

نئے آدمی کا ادب

ادب اورنیا آدمی

نئے آدمی کو طلب کا سرور

نئے آدمی کے گماں بھی یقیں

گماں جن کاپایاں نہیں۔۔۔۔

گمانوں میں دانش

برہنہ درختوں میں بادِنسیم

برہنہ درختوں کے دل چیرتی۔۔۔۔

نئے آدمی کا ادب

اورنئے آدمی کو ادب کا سرور

ن م راشد

نمرود کی خدائی

یہ قدسیوں کی زمیں

جہاں فلسفی نے دیکھا تھا، اپنے خوابِ سحر گہی میں،

ہوائے تازہ و کشتِ شاداب و چشمہ ءِ جانفروز کی آرزو کا پرتو!

یہیں مسافر پہنچ کے اب سوچنے لگا ہے:

وہ خواب کا بوس تو نہیں تھا؟

___وہ خواب کا بوس تو نہیں تھا؟

اے فلسفہ گو،

کہاں وہ رویائے آسمانی!

کہاں یہ نمرود کی خدائی!

تو جال بنتا رہا ہے، جن کے شکستہ تاروں سے اپنے موہوم فلسفے کے

ہم اُس یقیں سے، ہم اُس عمل سے، ہم اُس محبت سے،

آج مایوس ہو چکے ہیں!

کوئی یہ کس سے کہے کہ آخر

گواہ کس عدلِ بے بہا کے تھے عہدِ تاتار کے خرابے؟

عجم، وہ مرزِ طلسم و رنگ و خیال و نغمہ

عرب، وہ اقلیمِ شیر و شہد و شراب و خرما

فقط نوا سنج تھے در و بام کے زیاں کے،

جو اُن پہ گزری تھی

اُس سے بدتر دنوں کے ہم صید ناتواں ہیں!

کوئی یہ کس سے کہے:

در و بام،

آہن و چوب و سنگ و سیماں کے

حُسنِ پیوند کا فسوں تھے

بکھر گیا وہ فسوں تو کیا غم؟

اور ایسے پیوند سے امیدِ وفا کسے تھی!

شکستِ مینا و جام برحق،

شکستِ رنگ عذارِ محبوب بھی گوارا

مگر____یہاں تو کھنڈر دلوں کے،

(____یہ نوعِ انساں کی

کہکشاں سے بلند و برتر طلب کے اُجڑے ہوئے مدائن____)

شکستِ آہنگ حرف و معنی کے نوحہ گر ہیں!

ن م راشد

نارسائی

درختوں کی شاخوں کو اتنی خبر ہے

کہ ان کی جڑیں کھوکھلی ہو چلی ہیں،

مگر ان میں ہر شاخ بزدل ہے

یا مبتلا خود فریبی میں شاید

کہ ان کرم خردہ جڑوں سے

وہ اپنے لیے تازہ نم ڈھونڈتی ہے!

میں مہمان خانے کے سالون میں

ایک صوفے میں چپ چاپ دبکا ہوا تھا،

گرانی کے باعث وہاں دختران عجم تو نہ تھیں

ہاں کوئی بیس گز پر

فقط ایک چہرہ تھا جس کے

خد وخال کی چاشنی ارمنی تھی!

زمستاں کے دن تھے،

لگاتار ہوتی رہی تھی سر شام سے برفباری

دریچے کے باہر سپیدے کے انبار سے لگ گئے تھے

مگر برف کا رقص سیمیں تھا جاری،

وہ اپنے لباس حریری میں

پاؤں میں گلھاے نسریں کے زنگولے باندھے،

بدستور ایک بے صدا، سہل انگار سی تال پر ناچتی جا رہی تھی!

مگر رات ہوتے ہی چاروں طرف بے کراں خامشی چھا گئی تھی

خیاباں کے دو رویہ سرو و صنوبر کی شاخوں پہ

یخ کے گلولے، پرندے سے بن کر لٹکنے لگے تھے،

زمیں ان کے بکھرے ہوےبال و پر سے

کفّ آلود سا ساحل بنتی چلی جا رہی تھی!

میں اک گرم خانے کے پہلو میں صوفے پہ تنہا پڑا سوچتا تھا،

بخاری میں افسردہ ہوتے ہوے رقص کو گھورتا تھا،

اجازت ہے میں بھی ذرا سینک لوں ہاتھ اپنے

(زباں فارسی تھی تکلم کی شیرینیاں اصفہانی! )

تمہیں شوق شطرنج سے ہے ؟

(اٹھا لایا میں اپنے کمرے سے شطرنج جا کر )

بچو فیل____

اسپ سیاہ کا توخانہ نہیں یہِ___

بچاؤ وزیر____

اور لو یہ پیادے کی شہ لوِ_

اور اک اور شہ!

اور یہ آخری مات !

بس ناز تھا کیا اسی شاطری پر ؟

میں اچھا کھلاڑی نہیں ہوں

مگر آن بھر کی خجالت سے میں ہنس دیا تھا !

ابھی اور کھیلو گے ؟

لو اور بازیِ__

یہ اک اور بازی ۔۔۔

یونہی کھیلتے کھیلتے صبح ہونے لگی تھی !

موذن کی آواز اس شہر میں زیر لب ہو چکی ہے

سحر پھر بھی ہونے لگی تھی !!

وہ دروازے جو سال ہاسال سے بند تھے

آج وا ہو گئے تھے !

میں کرتا رہا ہند و ایراں کی باتیں :

اور اب عہد حاضر کے ضحاک سے۔۔۔

رستگاری کا رستہ یہی ہے

کہ ہم ایک ہو جایں ،ہم ایشیائی !

وہ زنجیر ، جس کے سرے سے بندھے تھے کبھی ہم

وہ اب سست پڑنے لگی ہے ،

تو آو کہ ہے وقت کا یہ تقاضا

کہ ہم ایک ہو جایں____ہم ایشیائی !

میں روسی حکایات کے ہرزہ گو نو جوانوں کے مانند یہ بے محل وعظ کرتا رہا تھا !

اسے صبحدم اس کی منزل پہ جب چھوڑ کر آ رہا تھا ،

وہ کہنے لگی :

اب سفینے پہ کوئی بھروسہ کرے کیا

سفینہ ہی جب ہو پر و بال طوفاں؟

یہاں بھی وہاں بھی وہی آسماں ہے ،

مگر اس زمیں سے خدایا رہائی

خدایا دہائی!!

ٹھکاناہے لوطی گری،رہزنی کا !

یہاں زندگی کی جڑیں کھوکھلی ہو چکی ہیں ،

فقط شاخساریں

ابھی اپنی افتاد کے حشر سے ہیں گریزاں !

یہ بچپن میں ،میں نے پڑھی تھی کہانی

کہا ساحرہ نے :کہ اےشہزادے

رہ جستجو میں

اگر اس لق و دق بیاباں میں

دیکھا پلٹ کر،

تو پتھر کا بت بن کے رہ جاے گا تو!

جہاں سب نگاہیں ہو ماضی کی جانب

وہاں راہرو ہیں فقط عازم نارسائی!

تو دن بھر یہی سوچ تھی

کیا ہمارے نصیبے میں افتاد ہے

کوئی رفعت نہیں ؟

کوئی منزل نہیں ہے ؟

ن م راشد

نئے گناہوں کے خوشے

ندی کنارے درخت

بلّور بن چکے ہیں

درخت، جن کی طناب شاخوں

پہ مرگِ ناگاہ کی صدا

رینگتی رہی تھی

درخت بلّور کی صلیبیں

لہو میں لتھڑے ہوئے زمانوں

میں گڑ گئی ہیں!

ہَوا جو فرماں کی پیروی میں

کبھی انھیں گدگدانے آئے

یہ اپنی افسوں زدہ نگاہوں سے دیکھتے ہیں

مگر ہوا کے لیے کبھی سر نہیں جھکاتے!

کہو، یہ سچ ہے

کہ اب بھی بارش میں اِن کے آنسو

سکوت بن کر پکارتے ہیں؟

نکلتے سورج کو دیکھتے ہی

یہ ستر اپنا، عیوب اپنے سنوارتے ہیں؟

نہیں ۔۔

روایت کی لوریوں نے

کلام کی روشنی کو اِن پر

سلا دیا ہے!

کہو یہ سچ ہے

کہ ان کی آنکھوں

کی بجلیاں اب بھی گھومتی ہیں؟

غروب ہوتے افق کے شہروں کے بام و در کو

سراب ہونٹوں سے چومتی ہیں

نہیں ۔۔

کہ الہام کی سخاوت کے ہاتھ

اِن تک رسا نہیں ہیں!

کہو، یہ سچ ہے

ابھی پرندے رسول بن کر

دلوں پر اِن کے

اِک آنے والے وصال کے خواب اتارتے ہیں؟

خیال جو دور دور سے وہ سمیٹ لائے

تمام اِن پر نثارتے ہیں؟

نہیں ۔۔

پرندوں کے ۔۔ اِن رسولوں کے ۔۔۔

خواب اپنے،

خیال اپنے،

غضب کے ٹھنڈے الاؤ میں جان

دے چکے ہیں!

تو شاید ایسا بھی ہو کِسی دن۔۔

کہ ہر نئے راہرو سے پہلے

نئی طلب کے فشار اِن کے

سمور جسموں کو چاک کر دیں!

تو شاید ایسا بھی ہو کسی دن ۔۔

نئے گناہوں کے تازہ خوشوں

سے کھیتیوں کے مشام بھر دیں

وہ خوشے جن سے تمام چہرے

طلوع ہوتے ہیں ہر تہجد کی لو سے پہلے

وہ خوشے جن سے تمام بوسے

نسیم کی دل نوازیِ نو بنو سے پہلے!

ن م راشد

میں کیا کہہ رہا تھا؟

میں تنہائی میں کر رہا تھا

پرندوں سے باتیں

میں یہ کہہ رہا تھا

پرندو، نئی حمد گاؤ

کہ وہ بول جو اک زمانے میں

بھونروں کی بانہوں پہ اڑتے ہوئے

باغ کے آخری موسموں تک پہنچتے تھے

اب راستوں میں جھلسنے لگے ہیں

نئی حمد گاؤ!

پرندے، لگاتار، لیکن

پرندے ہمیشہ سے اپنے ہی عاشق

سراسر وہی آسماں چیختے تھے!

میں یہ کہہ رہا تھا

گناہ گار دل!

کون جانے کہ کس ہاتھ نے

ہمیں اپنی یادوں کی لمبی قطاروں

کی زنجیر میں

کب سے بے دست و پا کر دیا ہے؟

وہ ماضی، کبھی ہانپتے تھے

جو گھوڑوں کے مانند

اب نافراموش گاڑی کے صحنوں میں

لنگڑا رہے ہیں!

میں یہ کہہ رہا تھا

مرے عشق کے سامنے

جنتری کے وقت

اب زیادہ نہ پلٹو

کہ یہ آئنوں کے طلسموں کی مانند

تاریخ کو بارہا رٹ چکی ہے،

مگر دل کا تنہا پیمبر

کبھی اپنی تکرار کا ہمہمہ گائے

ممکن نہیں

کبھی اپنی ہی گونج بن جائے

ممکن نہیں

وہی میرے دل کا پیمبر

کہ جس نے دیا ایسا روشن کیا

کہ راتوں کی نیندیں اچٹنے لگیں

وہ خود کو الٹ کر پلٹ کر پرکھنے لگیں

میں یہ کہہ رہا تھا

سناتی ہیں جب شہر میں بلیاں

اپنی جفتی کی معصوم باتیں

تو جنگل کے ہاتھی

(مقدس درختوں کے ریشوں میں الجھے ہوئے)

کیوں اگلتے ہین دن رات

آیات کی فربہی

کہ ان بلیوں کے گناہ گار، معصوم دل

سہم جائیں؟

میں یہ کہہ رہا تھا

درختو، ہواؤں کو تم کھیل جانو

تو جانو

مگر ہم نہیں جانتے بوڑھے سبزے

کی دعوت کو جاتے ہوئے

ذہن کی رہگزاروں میں کیسے

نئے دن کی دزدیدہ آہٹ کبھی سن سکیں گے؟

نہیں صرف پتھر ہی بے غم ہے پتھر کی ناتشنگی پر!

درختو، ہوا کتنی تیزی سے گزری

تمہارے برہنہ بدن سے

کہ اس میں روایات

سرگوشیاں کر رہی تھیں

درختو، بھلا کس لیے نام اپنا

کئی بار دہرا رہے ہو

یہ شیشم، یہ شم شی، یہ شی شی ی ی ی ۔۔۔

مگر تم کبھی شی ی ی ر ۔۔۔ بھی کہہ سکو گے؟

میں یہ کہہ رہا تھا

ن م راشد

میں اسے واقف الفت نہ کروں

سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ

میں ابھی اس کو شناسائے محبت نہ کروں

روح کو اس کی اسیرِغمِالفت نہ کروں

اس کو رسوا نہ کروں، وقفِ مصیبت نہ کروں

سوچتا ہوں کہ ابھی رنج سے آزاد ہے وہ

واقفِ درد نہیں، خوگرِآلام نہیں

سحر عیش میں اس کی اثرِشام نہیں

زندگی اس کے لیے زہر بھرا جام نہیں!

سوچتا ہوں کہ محبّت ہے جوانی کی خزاں

اس نے دیکھا نہیں دنیا میں بہاروں کے سوا

نکہت و نور سے لبریز نظاروں کے سوا

سبزہ زاروں کے سوا اور ستاروں کے سوا

سوچتا ھوں کہ غمِدل نہ سناؤں اس کو

سامنے اس کے کبھی راز کو عریاں نہ کرو

خلش دل سے اسے دست و گریباں نہ کروں

اس کے جذبات کو میں شعلہ بداماں نہ کروں

سوچتا ھوں کہ جلا دے گی محبّت اس کو

وہ محبت کی بھلا تاب کہاں لائے گی

خود تو وہ آتش جذبات میں جل جائے گی

اور دنیا کو اس انجام پہ تڑپائے گی

سوچتا ھوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ

میں اسے واقف الفت نہ کروںِ_____

ن م راشد

میں

میں وہ اقلیم کہ محروم چلی آتی ہے

آج تک دشت نوردوں سے جہاں گردوں سے

سالہا سال میں گر ہم نے رسائی پائی

کسی شے تک تو فقط اس کے نواحی دیکھے

اس کے پوشیدہ مناظر کے حواشی دیکھے

یا کوئی سلسلہ ءِ عکسِ رواں تھا اِس کا

ایک روئے گزراں تھا اس کا

کوہِ احساس پر آلام کے اشجار بلند

جن میں محرومئ دیرینہ سے شادابی ہے

برگ و باراں کا وہ پامال امیدیں جن سے

پرسی افشاں کی طرح خواہشیں آویزاں تھیں

کبھی ارمانوں کے آوارہ سراسیمہ طیّور

کسی نادیدہ شکاری کی صدا سے ڈر کر

ان کی شاخوں میں اماں پاتے ہیں سستاتے ہیں

اور پھر شوق کے صحراؤں کو اڑ جاتے ہیں

شوق کے گرم بیاباں کہ ہیں بے آب و گیاہ

ولولے جن میں بگولوں کی طرح گھومتے ہیں

اونگھتے ذرّوں کے تپتے ہوئے لب چومتے ہیں

دُور اس وادی سے اک منزلِ بے نام بھی ہے

کروٹیں لیتے ہیں جس میں انہی صحراؤں کے خواب

ان کہستانوں کی روحیں ۔۔ سرو رو بستہ ہیں

اولّیں نقش ہیں آوارہ پرندوں کے جہاں

خواہشوں اور امیدوں کے جنین

اور بگولوں کے ہیولے

کسی نقّاش کی حسرت میں ملول

میں وہ اقلیم کہ محروم چلی آتی ہے

آج تک دشت نوردوں سے جہاں گردوں سے

کون اس دشتِ گریزاں کی خبر لاتا ہے!

ن م راشد

میرے بھی ہیں کچھ خواب

اے عشق ازل گیر و ابد تاب، میرے بھی ہیں کچھ خواب

میرے بھی ہیں کچھ خواب!

اس دور سے، اس دور کے سوکھے ہوئے دریاؤں سے،

پھیلے ہوئے صحراؤں سے، اور شہروں کے ویرانوں سے

ویرانہ گروں سے میں حزیں اور اداس!

اے عشق ازل گیر و ابد تاب

میرے بھی ہیں کچھ خواب!

اے عشق ازل گیر و ابد تاب، میرے بھی ہیں کچھ خواب

میرے بھی ہیں کچھ خواب

وہ خواب کہ اسرار نہیں جن کے ہمیں آج بھی معلوم

وہ خواب جو آسودگیء مرتبہ و جاہ سے،

آلودگیء گرد سر راہ سے معصوم!

جو زیست کی بے ہودہ کشاکش سے بھی ہوتے نہیں معدوم

خود زیست کا مفہوم!

اے عشق ازل گیر و ابد تاب،

اے کاہن دانشور و عالی گہر و پیر

تو نے ہی بتائی ہمیں ہر خواب کی تعبیر

تو نے ہی سجھائی غم دلگیر کی تسخیر

ٹوٹی ترے ہاتھوں ہی سے ہر خوف کی زنجیر

اے عشق ازل گیر و ابد تاب، میرے بھی ہیں کچھ خواب

میرے بھی ہیں کچھ خواب!

اے عشق ازل گیر و ابد تاب،

کچھ خواب کہ مدفون ہیں اجداد کے خود ساختہ اسمار کے نیچے

اجڑے ہوئے مذہب کے بنا ریختہ اوہام کی دیوار کے نیچے

شیراز کے مجذوب تنک جام کے افکار کے نیچے

تہذیب نگوں سار کے آلام کے انبار کے نیچے!

کچھ خواب ہیں آزاد مگر بڑھتے ھوئے نور سے مرعوب

نے حوصلہءخوب ہے، نے ہمت نا خوب

گر ذات سے بڑھ کر نہیں کچھ بھی انھیں محبوب

ہیں آپ ہی اس ذات کے جاروب

ذات سے محجوب!

کچھ خواب ہیں جو گردش آلات سے جویندہء تمکین

ہے جن کے لیے بندگی قاضی حاجات سے اس دہر کی تزئین

کچھ جن کے لیے غم کی مساوات سے انسان کی تامین

کچھ خواب کہ جن کا ہوس جور ہے آئین

دنیا ہے نہ دین!

کچھ خواب ہیں پروردہء انوار، مگر ان کی سحر گم

جس آگ سے اٹھتا ہے محبّت کا خمیر، اس کے شرر گم

ہے کل کی خبر ان کو مگر جز کی خبر گم

یہ خواب ہیں وہ جن کے لیے مرتبہ دیدہءتر ہیچ

دل ہیچ ہے، سر اتنے برابر ہیں کہ سر ہیچ

عرض ہنر ہیچ!

اے عشق ازل گیر و ابد تاب

یہ خواب مرے خواب نہیں ہیں کہ مرے خواب ہیں کچھ اور

کچھ اور مرے خواب ہیں، کچھ اور مرا دور

خوابوں کے نئے دور میں، نے مور و ملخ، نے اسد و ثور

نے لذّت تسلیم کسی میں نہ کسی کو ہوس جور

سب کے نئے طور!

اے عشق ازل گیر و ابد تاب،

میرے بھی ہیں کچھ خواب!

ہر خواب کی سوگند!

ہر چند کہ وہ خواب ہیں سر بستہ و روبند

سینے میں‌چھپائے ہوئے گویائی دو شیزہء لب خند

ہر خواب میں اجسام سے افکار کا، مفہوم سے گفتار کا پیوند

عشّاق کے لب ہائے ازل تشنہ کی پیوستگیء شوق کے مانند

(اے لمحہ خورسند!)

اے عشق ازل گیر و ابد تاب، میرے بھی ہیں کچھ خواب

وہ خواب ہیں آزادی کامل کے نئے خواب

ہر سعئی جگر دوز کے حاصل نے نئے خواب

آدم کی ولادت کے نئے جشن پہ لہراتے جلاجل کے نئے خواب

اس خاک کی سطوت کی منازل کے نئے خواب

اے عشق ازل گیر و ابد تاب

میرے بھی ہیں کچھ خواب

میرے بھی ہیں کچھ خواب!

ن م راشد

مِیر ہو، مرزا ہو، میرا جی ہو

نارسا ہاتھ کی نمناکی ہے

ایک ہی چیخ ہے فرقت کے بیابانوں میں

ایک ہی طولِ المناکی ہے

ایک ہی رُوح جو بے حال ہے زندانوں میں

ایک ہی قید تمنا کی ہے

عہدِ رفتہ کے بہت خواب تمنا میں ہیں

اور کچھ واہمے آئندہ کے

پھر بھی اندیشہ وہ آئنہ ہے جس میں گویا

مِیر ہو، مرزا ہو، میرا جی ہو

کچھ نہیں دیکھتے ہیں

محورِ عشق کی خود مست حقیقت کے سوا

اپنے ہی بیم و رجا اپنی ہی صورت کے سوا

اپنے رنگ، اپنے بدن، اپنے ہی قامت کے سوا

اپنی تنہائی جانکاہ کی دہشت کے سوا!

دل خراشی و جگر چاکی و خوں افشانی

ہوں تو ناکام پہ ہوتے ہیں مجھے کام بہت

مدعا محوِ تماشائے شکستِ دل ہے

آئنہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے

چاند کے آنے پہ سائے آئے

سائے ہلتے ہوئے، گھُلتے ہوئے، کچھ بھوت سے بن جاتے ہیں۔۔۔۔

(مِیر ہو، مرزا ہو، میرا جی ہو

اپنی ہی ذات کی غربال میں چھَن جاتے ہیں!)

دل خراشیدہ ہو خوں دادہ رہے

آئنہ خانے کے ریزوں پہ ہم استادہ رہے

چاند کے آنے پہ سائے بہت آئے بھی

ہم بہت سایوں سے گھبرائے بھی

مِیر ہو، مرزا ہو، میرا جی ہو

آج جاں اِک نئے ہنگامے میں در آئی ہے

ماہِ بے سایہ کی دارائی ہے

یاد وہ عشرتِ خوں ناب کِسے؟

فرصتِ خواب کسے؟

ن م راشد

مہمان

میں اس شہر مہمان اترا

تو سینے میں غم اور آنکھوں میں آنسو کے طوفاں

جدائی سے ہر چیز، حسنِ ازل تک وہ پردہ

کہ جس کے ورا حیرتِ خیرگی تھی!

جدائی سے تو بھی حزیں

اور ترا زخم مجھ سے بھی گہرا تھا خوں دادہ تر تھا!

میں مبہم سی امید تو ساتھ لایا تھا لیکن

تو اک شاخسارِ شکستہ کے مانند بے آرزو!

۔۔۔ وہ بے آرزوئی کا گہرا خلا جس کو میں نے

کبھی ذہنِ بے مایہ جانا

کبھی خوف و نفرت کے عفریت کا سایہ جانا!

تجھے یاد محبوب کا نرم راحت سے لبریز بالش

تجھے یاد کمرے کے شام و پگا، جن میں تو نے

ستاروں کے خوشوں کی آواز دیکھی

بنفشے کے رنگوں کو تُو نے چکھا

اور بہشتی پرندوں کے نغموں کو چھوتی رہی

تجھے اس کی پرواز کی آخری رات بھی یاد تھی۔۔

لذت و غم سے بے خواب لمحے

جو صدیوں سے بھرپور، صدیوں کی

پہنائی بنتے چلے جا رہے تھے!

ادھر میں مہجور، افسردہ، تنہا

وہ شبنم کا قطرہ

جو صحرا میں نازل ہو لیکن

سمندر سے ملنے کا رویا لیے ہو!

میں افسردہ، مہجور، تنہا

کہ محبوب سے بُعد کو نور کے سالہا سال سے

ناپتا آ رہا تھا،

مگر نور کے سال اِک خطِّ پیمانہ بھی تو

نہیں بن سکے تھے!

نئی سر زمیں کے نئی اجنبی،

تجھے میں نے اک خواب پیما کی آنکھوں سے دیکھا

کہ اس روز تجھ کو عیاں دیکھنا

ایسا الحاد ہوتا

کہ جس کی سزا جسم و جہاں سہہ نہ سکتے!

مگر میرے دل نے کہا

اجنبی شہر کی خلوتِ بے نہایت میں تُو بھی

کسی روز بن کر رہے گی

ستم ہائے تازہ کی خواہش کا پرتو!

زخود رفتگی سے، اشاروں سے، ترغیب وا سے

تجھے میں بلاتا رہا تھا

تُو آہستہ، خاموش بڑھنے لگی تھی

کہ یادیں ابھی تک ترے دل میں یوں گونجتی تھیں

کہ ہم گوش بر لب سہی،

سُن نہ سکتے تھے اک دوسرے کی صدائیں

مگر جب ملے ہم تو ایسے ملے

وہ تری خود نگہداریاں کام آئیں

نہ میرا تذبذب مجھے راس آیا

ہم ایسے ملے جیسے صدیوں کے مہجور

آدم کے جشنِ ولادت کے مہجور

باہم ابد میں ملیں گے!

ن م راشد

مکافات

رہی ہے حضرتِ یزداں سے دوستی میری

رہا ہے زہد سے یارانہ استوار مرا

گزر گئی ہے تقدس میں زندگی میری

دل اہرمن سے رہا ہے ستیزہ کار مرا

کبھی پہ روح نمایاں نہ ہو سکی میری

رہا ہے اپنی امنگوں پہ اختیار مرا

دبائے رکھا ہے سینے میں اپنی آہوں کو

وہیں دیا ہے شب و روز پیچ و تاب انھیں

زبانِ شوق بنایا نہیں نگاہوں کو

کیا نہیں کبھی وحشت میں بے نقاب انھیں

خیال ہی میں کیا پرورش گناہوں کو

کبھی کیا نہ جوانی سے بہرہ یاب انھیں

یہ مل رہی ہے مرے ضبط کی سزا مجھ کو

کہ ایک زہر سے لبریز ہے شباب مرا

اذیتوں سے بھری ہے ہر ا یک بیداری

مہیب و روح ستاں ہے ہر ایک بیداری

مہیب و روح ستاں ہے ہر ایک خواب مرا

الجھ رہی ہیں نوائیں مرے سرودوں کی

نشاطِ ضبط سے بے تاب ہے رباب مرا

مگر یہ ضبط مرے قہقہوں کا دشمن تھا

پیامِ مرگ جوانی تھا اجتناب مرا

لو آگئی ہیں وہ بن کر مہیب تصویریں

وہ آرزوئیں کہ جن کا کیا تھا خوں میں نے

لو آگئے ہیں وہی پیروانِ اہریمن

کیا تھا جن کو سیاست سے سرنگوں میں نے

کبھی نہ جان پہ دیکھا تھا یہ عذابِ الیم

کبھی نہیں اے مرے بختِ واژگوں میں نے

مگر یہ جتنی اذیت بھی دیں مجھے کم ہے

کیا ہے روح کو اپنی بہت زبوں میں نے

اسے نہ ہونے دیا میں نے ہم نوائے شباب

نہ اس پہ چلنے دیا شوق کا فسوں میں نے

اے کاش چھپ کے کہیں اک گناہ کر لیتا

حلاوتوں سے جوانی کو اپنی بھر لیتا

گناہ ایک بھی اب تک کیا نہ کیوں میں نے؟

ن م راشد

من وسلویٰ

خدائے برتر،

یہ دار یوشِ بزرگ کی سر زمیں،

یہ نو شیروانِ عادل کی داد گاہیں،

تصوف و حکمت و ادب کے نگار خانے،

یہ کیوں سیہ پوست دشمنوں کے وجود سے

آج پھر اُبلتے ہوئے سے ناسور بن رہے ہیں؟

ہم اِس کے مجرم نہیں ہیں، جانِ عجم نہیں ہیں،

وہ پہلا انگریز

جس نے ہندوستان کے ساحل پہ

لا کے رکھی تھی جنسِ سوداگری

یہ اس کا گناہ ہے

جو تیرے وطن کی

زمین گل پوش کو

ہم اپنے سیاہ قدموں سے روندتے ہیں!

یہ شہر اپنا وطن نہیں ہے،

مگر فرنگی کی رہزنی نے

اسی سے ناچار ہم کو وابستہ کر دیا ہے،

ہم اِس کی تہذیب کی بلندی کی چھپکلی بن کے رہ گئے ہیں،

وہ راہزن جو یہ سوچتا ہے:

کہ ایشیا ہے کوئی عقیم و امیر بیوہ

جو اپنی دولت کی بے پناہی سے مبتلا اک فشار میں ہے،

اور اُس کا آغوشِ آرزو مند وا مرے انتظار میں ہے،

اور ایشیائی،

قدیم خواجہ سراؤں کی اک نژادِ کاہل،

اجل کی راہوں پہ تیز گامی سے جارہے ہیں____

مگر یہ ہندی

گرسنہ و پا برہنہ ہندی

جو سالکِ راہ ہیں

مگر راہ و رسمِ منزل سے بے خبر ہیں،

گھروں کو ویران کر کے،

لاکھوں صعوبتیں سہہ کے

اور اپنا لہو بہا کر

اگر کبھی سوچتے ہیں کچھ تو یہی،

کہ شاید انہی کے بازو

نجات دلوا سکیں گے مشرق کو

غیر کے بے پناہ بپھرے ہوئے ستم سے___

یہ سوچتے ہیں:

یہ حادثہ ہی کہ جس نے پھینکا ہے

لا کے ان کو ترے وطن میں

وہ آنچ بن جائے،

جس سے پھُنک جائے،

وہ جراثیم کا اکھاڑہ،

جہاں سے ہر بار جنگ کی بوئے تند اُٹھتی ہے

اور دنیا میں پھیلتی ہے!___

میں جانتا ہوں

مرے بہت سے رفیق

اپنی اداس، بیکار زندگی کے

دراز و تاریک فاصلوں میں

کبھی کبھی بھیڑیوں کے مانند

آ نکلتے ہیں، را ہگزاروں پہ

جستجو میں کسی کے دو ساقِ صندلیں کی!

کبھی دریچوں کی اوٹ میں

ناتواں پتنگوں کی پھڑپھڑاہٹ پہ

ہوش سے بے نیاز ہو کر وہ ٹوٹتے ہیں؛

وہ دستِ سائل

جو سامنے اُن کے پھیلتا ہے

اس آرزو میں

کہ اُن کی بخشش سے

پارہ ءِ نان، من و سلویٰ کا روپ بھر لے،

وہی کبھی اپنی نازکی سے

وہ رہ سجھاتا ہے

جس کی منزل پہ شوق کی تشنگی نہیں ہے!

تو اِن مناظر کو دیکھتی ہے!

تو سوچتی ہے:

____یہ سنگدل، اپنی بزدلی سے

فرنگیوں کی محبتِ ناروا کی زنجیر میں بندھے ہیں

اِنہی کے دم سے یہ شہر ابلتا ہوا سا ناسور بن رہا ہے____!

محبتِ ناروا نہیں ہے،

بس ایک زنجیر،

ایک ہی آہنی کمندِ عظیم

پھیلی ہوئی ہے،

مشرق کے اک کنارے سے دوسرے کنارے تک،

مرے وطن سے ترے وطن تک،

بس ایک ہی عنکبوت کا جال ہے کہ جس میں

ہم ایشیائی اسیر ہو کر تڑپ رہے ہیں!

مغول کی صبح خوں فشاں سے

فرنگ کی شامِ جاں ستاں تک!

تڑپ رہے ہیں

بس ایک ہی دردِ لا دوا میں،

اور اپنے آلامِ جاں گزا کے

اس اشتراکِ گراں بہانے بھی

ہم کو اک دوسرے سے اب تک

قریب ہونے نہیں دیا ہے!

ن م راشد

مُسکراہٹیں

مُسکراہٹیں ہیں وہ کرم کہ جس کا ریشہ

استوارِ ازل میں ہے

ابد بھی جس کے ایک ایک پل میں ہے

کبھی ہیں سہوِ گفتگو

کبھی اشارہ ءِ خرد، کبھی شرارہ ءِ جنوں

کبھی ہیں رازِ اندروں

وہ مسکراہٹیں بھی ہیں کہ پارہ ہاے ناں بنیں

وہ مسکراہٹیں بھی ہیں کہ برگِ زر فشاں بنیں

کبود رنگ، زرد رنگ، نیل گُوں

کبھی ہیں پیشہ ور کا التہابِ خوں

کبھی ہیں رس، کبھی ہیں مَے

کبھی ہیں کارگر کا رنگِ خَے

کبھی ہیں سنگِ رہ

کبھی ہیں راہ کا نشاں

کبھی ہیں پشتِ پا پہ چور بن کے گامزن

کبھی فریبِ جستجو،

کبھی یہی فراقِ لب، کبھی یہی وصالِ جاں

مگر ہمیشہ سے وہی کرم

کہ جس کا ریشہ استوار ازل میں ہے!

ن م راشد

مریل گدھے

تلاش۔۔۔ کہنہ، گرسنہ پیکر

برہنہ، آوارہ، رہگزاروں میں پھرنے والی

تلاش۔۔۔۔ مریل گدھے کے مانند

کس دریچے سے آ لگی ہے؟

غموں کے برفان میں بھٹک کر

تلاش زخمی ہے

رات کے دل پر اُس کی دستک

بہت ہی بے جان پڑ رہی ہے

(گدھے بہت ہیں کہ جن کی آنکھوں

میں برف کے گالے لرز رہے ہیں)

ہوا کے ہاتھوں میں تازیانہ

تمام عشقوں کو راستے سے

(تلاش کو بھی)

بھگا رہی ہے

(تلاش کو عشق کہہ رہی ہے!)

یہ رات ایسی ہے

حرف جس میں لبوں سے نکلیں

تو برف بن کر،

وہ برف پارے کہ جن کے اندر

ہزار پتھرائی، ہجر راتیں،

ہزار پتھرائی ہجر راتوں کے بکھرے پنجر

دبے ہوئے ہوں۔۔۔۔۔۔

تلاش کیا کہہ رہی ہے؟

(دیکھو، مری کہانی میں رات کے تین بچ چکے ہیں

اگر میں بے وزن ہو چکی ہوں۔۔۔۔

اگر میں مریل گدھا ہوں

مجھ کو معاف کر دو۔۔۔۔)

تلاش ہی وہ ازل سے بوڑھا گدھا نہیں ہے

دھکیل کر جس کو برف گالے

گھروں کے دیوار و در کے نیچے

لِٹا رہے ہیں۔۔۔۔۔

گدھے بہت ہیں جہاں میں: (ماضی سے آنے والے

جہاز کا انتظار مثلاً ۔۔۔۔۔۔۔)

(اور ایسے مثلاً میں ثائے ساکن!)

یہ اجتماعی حکایتیں، ایّتیں، کشاکش،

یہ داڑھیوں کا، یہ گیسوؤں کا ہجوم مثلاً۔۔۔۔

یہ الوؤں کی، گدھوں کی عفت پہ نکتہ چینی۔۔۔۔۔

یہ بے سرے راگ ناقدوں کے۔۔۔۔۔۔

یہ بے یقینی۔۔۔۔۔

یہ ننگی رانیں، یہ عشق بازی کی دھوم مثلاً۔۔۔۔۔

تمام مریل گدھے ہیں۔۔۔۔

(مریل گدھے نہیں کیا؟)

دریچہ کھولو

کہ برف کی لے

نئے توانا گدھوں کی آواز

ساتھ لائے

تمہاری روحوں کے چیتھڑوں کو سفید کر دے!

ن م راشد

مری مور جاں

مری مور جاں،

مورِ کم مایہ جاں،

رات بھر، زیرِ دیوار، دیوار کے پاؤں میں

رینگتی، سانپ لہریں بناتی رہی تھی؛

مگر صبح ہونے سے پہلے

انہوں نے جو دروازہ کھولا

تو میں مردہ پایا گیا ۔۔

[مرے خواب زندہ بچے تھے!]

مجھے آنسوؤں کے کرم سے ہمیشہ عداوت رہی ہے

تو میں نے یہ پوچھا: عزیزو!

تمہیں اس کا خدشہ نہیں

کہ میرے زیاں سے، وہ آہنگِ حرف و معانی

نمودار ہو گا، مری مور جاں جس کی خاطر

سدا رینگتی، سانپ لہریں بناتی رہی ہے؟

تمہیں اس کا خدشہ نہیں،

کہ یہ خواب بھی،

جو مری موت پر تہ نشیں رہ گئے ہیں،

جنہیں تم ہزاروں برس تک

چھپاتے پھرو گے اساطیر کے روزنوں میں

محبت کے کافور کو چیر کر

عقیدت کی روئی کے تودوں سے ناگہ نکل کر

عجائب گھروں میں، ہزاروں برس بعد کے

زائروں کے لیے راحتِ جاں بنیں گے،

تمہیں اس کا خدشہ نہیں ہے۔۔۔۔؟

ہنسے، جیسے یہ بات میں نے

انہی کے دلوں سے چُرا لی!

وہ کہنے لگے: ہاں یہ خدشہ تو ہے،

آؤ، اس مرنے والے کو پھر سے جلا دیں

[مگر اس کے خوابوں کو نابود کر دیں !]

اسے رینگنے دیں

اسے سالہا سال تک رینگنے دیں

اور آئندہ نسلوں کی جانیں

غمِ آگہی سے بچا لیں!

ن م راشد

مری محبت جواں رہے گی

مثالِ خورشید و ماہ و انجم مری محبت جواں رہے گی

عروسِ فطرت کے حسنِ شاداب کی طرح جاوداں رہے گی

شعاعِ امید بن کے ہر وقت روح پر ضو فشاں رہے گی

شگفتہ و شادماں کرے گی، شگفتہ و شادماں رہے گی

مری محبت جواں رہے گی

کیا ہے جب سے غمِ محبت نے دیدہ ءِ التفات پیدا

نئے سے کیا ہوئی ہے گویا مرے لیے کائنات پیدا

ہوئی ہے میرے فسردہ پیکر میں آرزوئے حیات پیدا

یہ آرزو اب رگوں میں میری شراب بن کر رواں رہے گی

مری محبت جواں رہے گی!

مجھے محبت نے ذوقِ مثلِ رنگِ سحر دیا ہے

زمانہ بھر کی لطافتوں سے مری جوانی کو بھر دیا ہے

مرے گلستاں کو آشنائے بہارِ جاوید کر دیا ہے

مرے گلستاں میں رنگ و نکہت کی نزہتِ جاوداں رہے گی

مری محبت جواں رہے گی!

ن م راشد

مجھے وداع کر

مجھے وداع کر

اے میری ذات، مجھے وداع کر

وہ لوگ کیا کہیں گے، میری ذات،

لوگ جو ہزار سال سے

مرے کلام کو ترس گئے؟

مجھے وداع کر،

میں تیرے ساتھ

اپنے آپ کے سیاہ غار میں

بہت پناہ لے چُکا

میں اپنے ہاتھ پاؤں

دل کی آگ میں تپا چکا!

مجھے وداع کر

کہ آب و گِل کے آنسوؤں

کی بے صدائی سُن سکوں

حیات و مرگ کا سلامِ روستائی سن سکوں!

مجھے وداع کر

بہت ہی دیرِ______ دیر جیسی دیر ہو گئی ہے

کہ اب گھڑی میں بیسوی صدی کی رات بج چُکی ہے

شجر حجر وہ جانور وہ طائرانِ خستہ پر

ہزار سال سے جو نیچے ہال میں زمین پر

مکالمے میں جمع ہیں

وہ کیا کہیں گے؟ میں خداؤں کی طرحِ____

ازل کے بے وفاؤں کی طرح

پھر اپنے عہدِ ہمدمی سے پھر گیا؟

مجھے وداع کر، اے میری ذات

تو اپنے روزنوں کے پاس آکے دیکھ لے

کہ ذہنِ ناتمام کی مساحتوں میں پھر

ہر اس کی خزاں کے برگِ خشک یوں بکھر گئے

کہ جیسے شہرِ ہست میں

یہ نیستی کی گرد کی پکار ہوںِ___

لہو کی دلدلوں میں

حادثوں کے زمہریر اُتر گئے!

تو اپنے روزنوں کے پاس آکے دیکھ لے

کہ مشرقی افق پہ عارفوں کے خوابِ___

خوابِ قہوہ رنگ میںِ____

امید کا گزر نہیں

کہ مغربی افق پہ مرگِ رنگ و نور پر

کِسی کی آنکھ تر نہیں!

مجھے وداع کر

مگر نہ اپنے زینوں سے اُتر

کہ زینے جل رہے ہیں بے ہشی کی آگ میںِ___

مجھے وداع کر، مگر نہ سانس لے

کہ رہبرانِ نو

تری صدا کے سہم سے دبک نہ جائیں

کہ تُو سدا رسالتوں کا بار اُن پہ ڈالتی رہی

یہ بار اُن کا ہول ہے!

وہ دیکھ، روشنی کے دوسری طرف

خیالِ___ بھاگتے ہوئے

تمام اپنے آپ ہی کو چاٹتے ہوئے!

جہاں زمانہ تیز تیز گامزن

وہیں یہ سب زمانہ باز

اپنے کھیل میں مگن

جہاں یہ بام و دَر لپک رہے ہیں

بارشوں کے سمت

آرزو کی تشنگی لیے

وہیں گماں کے فاصلے ہیں راہزن!

مجھے وداع کر

کہ شہر کی فصیل کے تمام در ہیں وا ابھی

کہیں وہ لوگ سو نہ جائیں

بوریوں میں ریت کی طرحِ____

مجھے اے میرے ذات،

اپنے آپ سے نکل کے جانے دے

کہ اس زباں بریدہ کی پکارِ___ اِس کی ہاو ہُوِ__

گلی گلی سنائی دے

کہ شہرِ نو کے لوگ جانتے ہیں

(کاسہء گرسنگی لیے)

کہ اُن کے آب و نان کی جھلک ہے کون؟

مَیں اُن کے تشنہ باغچوں میں

اپنے وقت کے دُھلائے ہاتھ سے

نئے درخت اگاؤں گا

میَں اُن کے سیم و زر سےِ___ اُن کے جسم و جاں سےِ___

کولتار کی تہیں ہٹاؤں گا

تمام سنگ پارہ ہائے برف

اُن کے آستاں سے مَیں اٹھاؤں گا

انہی سے شہرِ نو کے راستے تمام بند ہیںِ___

مجھے وداع کر،

کہ اپنے آپ میں

مَیں اتنے خواب جی چکا

کہ حوصلہ نہیں

مَیں اتنی بار اپنے زخم آپ سی چُکا

کہ حوصلہ نہیںِ____

ن م راشد

مارِ سیاہ

سرِشام ہم یاسمن سے ملے تھے

وہ بت کی طرح بے زباں اور افسردہ،

اِک کہنہ و خستہ گھر میں،

ہمیں لے کے داخل ہوئی تھی!

کسی پیرہ زن نے ہمارا وہاں

شمعِ لرزاں لیے خیر مقدم کیا تھا،

مَے کم بہا اور خیام سے

میر ی اور دوستوں کی مدارات کی تھی!

مگر یاسمن کی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں

وہ بالیں پہ زلفِ سیہ میں

سپیدے کے داغوں کو مجھ سے چھپاتی رہی تھی؛

وہ پھر ہم سے مہمان خانے میں ملتی رہی تھی،

شکر اور قہوے کے ملفوفِ ارزاں

جو بازار میں انتہائی گراں تھے

وہ ہر بار ہم سے بصد معذرت لے کے جاتی رہی تھی!

خیاباں میں وہ مسکرا کر گزرتی،

تماشا گھروں اور تفریح گاہوں کی خلوت کو جلوت بناتی رہی تھی

ہم اس لطفِ آساں ربودہ پہ نازاں رہے تھے!

مگر کل سحر وہ دریچے کے نیچے

جہاں سیب کے اک شجر کے گلابی شگوفے

ابھی کھل رہے تھے

رکی اور کہنے لگی:

آج کے بعد تم یاسمن کو نہیں پا سکو گے

کہ مارِ سیہ بن کے اک اجنبی نے اُسے ڈس لیا ہے!

میں خود اجنبی ہوں

مگر سن کے یوں دم بخود ہو گیا تھا،

کہ جیسے مجھی کو وہ مارِ سیہ ڈس گیا ہو!

میں اُٹھا، خیاباں میں نکلا

اور اک کہنہ مسجد کی دیوار سے لگ کے

آنسو بہاتا رہا!

ن م راشد

گناہ اور محبت

گناہ:

گناہ کے تند و تیز شعلوں سے روح میری بھڑک رہی تھی

ہوس کی سنسان وادیوں میں مری جوانی بھٹک رہی تھی

مری جوانی کے دن گزرتے تھے وحشت آلود عشرتوں میں

مری جوانی کے میکدوں میں گناہ کی مَے چھلک رہی تھی

مرے حریمِ گناہ میں عشق دیوتا کا گزر نہیں تھا

مرے فریبِ وفا کے صحرا میں حورِ عصمت بھٹک رہی تھی

مجھے خسِ ناتواں کے مانند ذوقِ عصیاں بہا رہا تھا

گناہ کی موجِ فتنہ ساماں اُٹھا اُٹھا کر پٹک رہی تھی

شباب کے اوّلیں دنوں میں تباہ و افسردہ ہو چکے تھے

مرے گلستاں کے پھول، جن سے فضائے طفلی مہک رہی تھی

غرض جوانی میں اہرمن کے طرب کا سامان بن گیا مَیں

گنہ کی آلائشوں میں لتھڑا ہوا اک انسان بن گیا میں

محبت:

اور اب کہ تیری محبتِ سرمدی کا بادہ گسار ہوں میں

ہوس پرستی کی لذتِ بے ثبات سے شرمسار ہوں میں

مری بہیمانہ خواہشوں نے فرار کی راہ لی ہے دل سے

اور اُن کے بدلے اک آرزوئے سلیم سے ہمکنار ہوں میں

دلیلِ راہِ وفا بنی ہیں ضیائے الفت کی پاک کرنیں

پھر اپنے فردوسِ گمشدہ کی تلاش میں رہ سپار ہوں میں

ہوا ہوں بیدار کانپ کر اک مہیب خوابوں کے سلسلے سے

اور اب نمودِ سحر کی خاطر ستم کشِ انتظار ہوں میں

بہارِ تقدیسِ جاوداں کی مجھے پھر اک بار آرزو ہے

پھر ایک پاکیزہ زندگی کے لیے بہت بے قرار ہوں میں

مجھے محبت نے معصیت کے جہنموں سے بچا لیا ہے

مجھے جوانی کی تیرہ و تار پستیوں سے اٹھا لیا ہے

ن م راشد

گناہ

آج پھر آ ہی گیا

آج پھر روح پہ وہ چھا ہی گیا

دی مرے گھر پہ شکست آ کے مجھے!

ہوش آیا تو میں دہلیز پہ افتادہ تھا

خاک آلودہ و افسردہ و غمگین و نزار

پارہ پارہ تھے مری روح کے تار

آج وہ آ ہی گیا

روزنِ در سے لرزتے ہوئے دیکھا میں نے

خرم و شاد سرِ راہ اُسے جاتے ہوئے

سالہا سال سے مسدود تھا یارانہ مرا

اپنے ہی بادہ سے لبریز تھا پیمانہ مرا

اس کے لَوٹ آنے کا امکان نہ تھا

اس کے ملنے کا بھی ارمان نہ تھا

پھر بھی وہ آ ہی گیا

کون جانے کہ وہ شیطان نہ تھا

بے بسی میرے خداوند کی تھی!

ن م راشد

گماں کا ممکن ۔۔۔ جو تُو ہے میں ہوں

کریم سورج،

جو ٹھنڈے پتھر کو اپنی گولائی دے رہا ہے

جو اپنی ہمواری دے رہا ہے ۔۔۔۔۔

(وہ ٹھنڈا پتھر جو میرے مانند

بھورے سبزوں میں

دور ریگ و ہوا کی یادوں میں لوٹتا ہے)

جو بہتے پانی کو اپنی دریا دلی کی

سرشاری دے رہا ہے

۔۔۔ وہی مجھے جانتا نہیں

مگر مجھی کو یہ وہم شاید

کہ آپ اپنا ثبوت اپنا جواب ہوں میں!

مجھے وہ پہچانتا نہیں ہے

کہ میری دھیمی صدا

زمانے کی جھیل کے دوسرے کنارے سے آ رہی ہے

یہ جھیل وہ ہے کہ جس کے اوپر

ہزاروں انساں

افق کے متوازی چل رہے ہیں

افق کے متوازی چلنے والوں کو پار لاتی ہیں

وقت لہریں ۔۔۔۔

جنہیں تمنا، مگر، سماوی خرام کی ہو

انہی کو پاتال زمزموں کی صدا سناتی ہے

وقت لہریں

انہیں ڈبوتی ہیں وقت لہریں!

تمام ملاح اس صدا سے سدا ہراساں، سدا گریزاں

کہ جھیل میں اِک عمود کا چور چھپ کے بیٹھا ہے

اس کے گیسو افق کی چھت سے لٹک رہے ہیں

پکارتا ہے : اب آؤ، آؤ!

ازل سے میں منتظر تمہارا۔۔۔۔

میں گنبدوں کے تمام رازوں کو جانتا ہوں

درخت، مینار، برج، زینے مرے ہی ساتھی

مرے ہی متوازی چل رہے ہیں

میں ہر ہوائی جہاز کا آخری بسیرا

سمندروں پر جہاز رانوں کا میں کنارا

اب آؤ، آؤ!

تمہارے جیسے کئی فسانوں کو میں نے اُن کے

ابد کے آغوش میں اتارا۔

تمام ملاح اس کی آواز سے گریزاں

افق کی شاہراہِ مبتذل پر تمام سہمے ہوئے خراماں۔۔۔۔

مگر سماوی خرام والے

جو پست و بالا کے آستاں پر جمے ہوئے ہیں

عمود کے اس طناب ہی سے اتر رہے ہیں

اسی کو تھامے ہوئے بلندی پہ چڑھ رہے ہیں!

اسی طرح میں بھی ساتھ اَن کے اتر گیا ہوں

اور ایسے ساحل پر آ لگا ہوں

جہاں خدا کے نشانِ پا نے پناہ لی ہے

جہاں خدا کی ضعیف آنکھیں

ابھی سلامت بچی ہوئی ہیں

یہی سماوی خرام میرا نصیب نکلا

یہی سماوی خرام جو میری آرزو تھا ۔۔۔۔

مگر نجانے

وہ راستہ کیوں چنا تھا میں نے

کہ جس پہ خود سے وصال تک کا گماں نہیں ہے؟

وہ راستہ کیوں چنا تھا میں نے

جو رُک گیا ہے دلوں کے ابہام کے کنارے

وہی کنارا کہ جس کے آگے گماں کا ممکن

جو تُو ہے میں ہوں!

مگر یہ سچ ہے،

میں تجھ کو پانے کی (خود کو پانے کی) آرزو میں

نکل پڑا تھا

اُس ایک ممکن کی جستجو میں

جو تُو ہے میں ہوں

میں ایسے چہرے کو ڈھونڈتا تھا

جو تُو ہے میں ہوں

میں ایسی تصویر کے تعاقب میں گھومتا تھا

جو تُو ہے میں ہوں!

میں اس تعاقب میں

کتنے آغاز گن چکا ہوں

(میں اس سے ڈرتا ہوں جو یہ کہتا

ہے مجھ کو اب کوئی ڈر نہیں ہے)

میں اس تعاقب میں کتنی گلیوں سے،

کتنے چوکوں سے،

کتنے گونگے مجسموں سے ، گزر گیا ہوں

میں اِس تعاقب میں کتنے باغوں سے،

کتنی اندھی شراب راتوں سے

کتنی بانہوں سے،

کتنی چاہت کے کتنے بپھرے سمندروں سے

گزر گیا ہوں

میں کتنی ہوش و عمل کی شمعوں سے،

کتنے ایماں کے گنبدوں سے

گرز گیا ہوں

میں اِس تعاقب میں کتنے آغاز کتنے انجام گن چکا ہوں ۔۔۔

اب اس تعاقب میں کوئی در ہے

نہ کوئی آتا ہوا زمانہ

ہر ایک منزل جو رہ گئی ہے

فقط گزرتا ہوا زمانہ

تمام رستے، تمام بوجھے سوال، بے وزن ہو چکے ہیں

جواب، تاریخ روپ دھارے

بس اپنی تکرار کر رہے ہیں ۔۔۔

جواب ہم ہیں ۔۔۔ جواب ہم ہیں۔۔۔۔

ہمیں یقیں ہے جواب ہم ہیں ۔۔۔۔

یقیں کو کیسے یقیں سے دہرا رہے ہیں کیسے!

مگر وہ سب آپ اپنی ضد ہیں

تمام، جیسے گماں کا ممکن

جو تُو ہے میں ہوں !

تمام کُندے (تو جانتی ہے)

جو سطحِ دریا پہ ساتھ دریا کی تیرتے ہیں

یہ جانتے ہیں یہ حادثہ ہے،

کہ جس سے اِن کو،

(کسی کو) کوئی مفر نہیں ہے

تمام کُندے جو سطحِ دریا پہ تیرتے ہیں،

نہنگ بننا ۔۔ یہ اُن کی تقدیر میں نہیں ہے

(نہنگ کی ابتدا میں ہے اِک نہنگ شامل

نہنگ کا دل نہنگ کا دل!)

نہ اُن کی تقدیر میں ہے پھر سے درخت بننا

(درخت کی ابتدا میں ہے اک درخت شامل

درخت کا دل درخت کا دل!)

تمام کُندوں کے سامنے بند واپسی کی

تمام راہیں

وہ سطحِ دریا پہ جبر سے تیرتے ہیں

اب ان کا انجام گھاٹ ہیں جو

سدا سے آغوش وا کیے ہیں

اب اِن کا انجام وہ سفینے

ابھی نہیں جو سفینہ گر کے قیاس میں بھی

اب ان کا انجام

ایسے اوراق جن پہ حرفِ سیہ چھپے گا

اب اِن کا انجام وہ کتابیں۔۔۔

کہ جن کے قاری نہیں، نہ ہوں گے

اب اِن کا انجام ایسے صورت گروں کے پردے

ابھی نہیں جن کے کوئی چہرے

کہ اُن پہ آنسو کے رنگ اتریں،

اور ان میں آیندہ

اُن کے رویا کے نقش بھر دے!

غریب کُندوں کے سامنے بند واپسی کی

تمام راہیں

بقائے موہوم کے جو رستے کھلے ہیں اب تک

ہے اُن کے آگے گماں کا ممکن ۔۔۔۔

گماں کا ممکن، جو تُو ہے میں ہوں !

جو تُو ہے میں ہوں

ن م راشد

گزرگاہ

وقت کے پابند ہاتھ

راہوں کا غمگیں جواب

سنتے رہے،

سبزے کے تشنہ سراب

رات کادیوانہ خواب

تکتے رہے،

جیسے وہ جاسوس ہوں

جن کاہدف

آنکھ سے اوجھل کوئی

آفتاب!

وعدے کی سردی کی رات

(وعدے کی بے مہررات)

کیسی ہوائیں چلیں

دیدہ ودل نے مرے

کیسے طمانچے سہے!

کیسے ہر اک چاپ سے

خون پہ ضربیں پڑیں

کیسے رگیں دردکے

راگ سے بوجھل رہیں!

آہ وہ زیبا کلام

کھل اٹھیں

جس کے لیے بارہا

روح کی شب ہائے تار

اورپگھلتے رہے

جس کے لیے

ہجر کی برفوں کے خواب

آہ دہ زیباکلام

دورکاسایہ رہا

اورمیں سوچاکیا

جینے کی خاطر مگر

رینگتے سایوں سے وابستہ رہوں؟

بات کے پل پرکھڑا

پیاس سے خستہ رہوں؟

ن م راشد

گرد باد

ن م راشد

مجموعہ کلام لا انسان

غم کے دَندانے بہت!

گرد باد اِک موج پرّاں، گرد باد اِک ہمہمہ،

گرد باد اِک سایہ ھے،

گرد بادِ غم کے دَندانے بہت!

اس کی اِک آواز، اِک پُھنکار ویرانے بہت!

اس کی آوازوں میں بام و دَر بھی گُم

ریگِ بے مہری سے پُر سینوں کے پیمانے بہت!

شہرِ تنہا اور برہنہ شہر

جن کا کام جاری تھا ابھی،

جن کی صُبحوں میں اَذاں کا نام جاری تھا ابھی،

ایک ھی صُبحِ اَذاں، صُبحِ اجل!

جن کی جولانی کا دورِ جام جاری تھا ابھی،

ھاں اُنہی کی شاہراھوں کا ضمیر

بے صدائی میں اسیر

ھانپتا پھرتا ھے خوُں آلوُد دہلیزوں کے پاس

اُس کی دلجوئی کو دردِ دِل کے کاشانے بہت!

اور تمناؤں کے واماندہ شجر

حیرت آسا خامشی میں تن دہی سے اشک ریز:

گرد بادِ غم کے نقشِ پا کہاں!

اِس کا پائے لنگ ھو اس کا سہارا تابکے؟

اس کو ویرانی کا یارا تابکے؟

اس کے افسانے بہت!

ن م راشد

گداگر

جن گزرگاہوں پہ دیکھا ہے نگاہوں نے لُہو

یاسیہ عورت کی آنکھوں میں یہ سہم

کیا یہ اونچے شہر رہ جائیں گے بس شہروں کا وہم

مَیں گداگر اور مرا دریوزہ فہم!

راہ پیمائی عصا اور عافیت کوشی گدا کا لنگِ پا

آ رہی ہے ساحروں کی، شعبدہ سازوں کی صبح

تیز پا، گرداب آسا، ناچتی، بڑھتی ہوئی

اک نئے سدرہ کے نیچے، اِک نئے انساں کی ہُو

تا بہ کے روکیں گے ہم کو چار سُو؟

کیا کہیں گے اُس نئے انساں سے ہم

ہم تھے کُچھ انساں سے کم؟

رنگ پر کرتے تھے ہم بارانِ سنگ

تھی ہماری ساز و گُل سے، نغمہ و نکہت سے جنگ

آدمی زادے کے سائے سے بھی تنگ؟

ن م راشد

قافلہ بن کر گزر جاتے ہیں سب

قافلہ بن کر گزر جاتے ہیں سب

قصہ ہائے مصر و ہندوستان و ایران و عرب!

رہنے دے اب کھو نہیں باتوں میں وقت،

اب رہنے دے،

آج میں ہوں چند لمحوں کے لیے تیرے قریب،

سارے انسانوں سے بڑھ کر خوش نصیب!

چند لمحوں کے لیے آزاد ہوں

تیرے دل سے اخذ نور و نغمہ کرنے کے لیے

زندگی کی لذتوں سے سینہ بھرنے کے لیے

تیرے پیکر میں جو روحِ زیست ہے شعلہ فشاں

وہ دھڑکتی ہے مقام و وقت کی راہوں سے دور

بیگانہ ءِ مرگ و خزاں!

ایک دن جب تیرا پیکر خاک میں مل جائے گا

زندہ، تابندہ رہے گی اس کی گرمی، اُس کا نور

اپنے عہدِ رفتہ کے جاں سوز نغمے گائے گی

اور انسانوں کا دیوانہ بناتی جائے گی

رہنے دے اب کھو نہیں باتوں میں وقت

اب رہنے دے!

وقت کے اس مختصر لمحے کو دیکھ

تُو اگر چاہے تو یہ بھی جاوداں ہو جائے گا

پھیل کر خود بیکراں ہو جائے گا

مطمئن باتوں سے ہو سکتا ہے کون؟

روح کی سنگین تاریکی کو دھو سکتا ہے کون؟

دیکھ اس جذبات کے نشے کو دیکھ

تیرے سینے میں بھی اک لرزش سی پیدا ہو گئی!

زندگی کی لذتوں سے سینہ بھر لینے بھی دے

مجھ کو اپنی روح کی تکمیل کر لینے بھی دے!

ن م راشد

فطرت اور عہدِ نَو کا انسان (دو سانیٹ)

شام ہونے کو ہے اور تاریکیاں چھانے کو ہیں

آ مرے ننھے، مری جاں، آ مرے شہکار آ!

تجھ پہ صدقے خلد کے نغمات اور انوار آ

آ مرے ننھے! کہ پریاں رات کی آنے کو ہیں

ساری دنیا پر فسوں کا جال پھیلانے کو ہیں

تیری خاطر لا رہی ہیں لوریوں کے ہار آ

دل ترا کب تک نہ ہو گا کھیل سے بیزار آ

جب کھلونے بھی ترے نیندوں میں کھو جانے کو ہیں؟

کھیل میں کانٹوں سے ہے دامانِ صد پارا ترا

کاش تُو جانے کہ سامانِ طرب ارزاں نہیں

کون سی شے ہے جو وجہِ کاہش انساں نہیں

کس لیے رہتا ہے دل شیدائے نظارا ترا؟

آ کہ ہے راحت بھری آغوش وا تیرے لیے؟

آ کہ میری جان ہے غم آشنا تیرے لیے؟

انسان:

جانتا ہوں مادرِ فطرت! کہ میں آوارہ ہوں

طفلِ آوارہ ہوں لیکن سرکش و ناداں نہیں

میری اس آوارگی میں وحشتِ عصیاں نہیں

شوخ ہوں لیکن ابھی معصوم اور بیچارہ ہوں

تجھ کو کیا غم ہے اگر وارفتہ ءِ نظارہ ہوں؟

شکر ہے زندانیِ اہریمن و یزداں نہیں

ان سے بڑھ کر کچھ بھی وجہ ءِ کاہشِ انساں نہیں

میں مگر اُن کے افق سے دور ایک سیارہ ہوں!

شام ہونے کو ہے اور تاریکیاں چھانے کو ہیں

تُو بلاتی ہے مجھے راحت بھری آغوش میں

کھیل لوں تھوڑا سا آتا ہوں، ابھی آتا ہوں میں

اب تو دن کی آخری کرنیں بھی سو جانے کو ہیں

اور کھو جانے کو ہیں وہ بھی کنارِ دوش میں

بہہ چلی ہے روح نیندوں میں مری آتا ہوں میں!

ن م راشد

عہدِ وفا

تُو مرے عشق سے مایوس نہ ہو

کہ مرا عہدِ وفا ہے ابدی!

شمع کے سائے سے دیوار پہ محراب سی ہے

سالہا سال سے بدلا نہیں سائے کا مقام

شمع جلتی ہے تو سائے کو بھی حاصل ہے دوام

سائے کا عہدِ وفا ہے ابدی!

تُو مری شمع ہے، میں سایہ ترا

زندہ جب تک ہوں کہ سینے میں ترے روشنی ہے

کہ مرا عہدِ وفا ہے ابدی!

ایک پتنگا سرِ دیوار چلا جاتا ہے

خوف سے سہما ہوا، خطروں سے گھبرایا ہوا

اور سائے کی لکیروں کو سمجھتا ہے کہ ہیں

سرحدِ مرگ و حیات اس کے لیے!

ہاں یہی حال مرے دل کی تمناؤں کا ہے

پھر بھی تُو عشق سے مایوس نہ ہو

کہ مرا عہدِ وفا ہے ابدی!

زندگی ان کے لیے ریت نہیں، دھوپ نہیں

ریت پر دھوپ میں گر لیٹتے ہیں آ کے نہنگ

قعرِ دریا ہی سے وابستہ ہے پیمان ان کا

ان کو لے آتا ہے ساحل پہ تنوع کا خمار

اور پھر ریت میں اک لذتِ آسودگی ہے!

میں جو سر مست نہنگوں کی طرح

اپنے جذبات کی شوریدہ سری سے مجبور

مضطرب رہتا ہوں مدہوشی و عشرت کے لیے

اور تری سادہ پرستش کی بجائے

مرتا ہوں تیری ہم آغوشی کی لذت کے لیے

میرے جذبات کو تو پھر بھی حقارت سے نہ دیکھ

اور مرے عشق سے مایوس نہ ہو

کہ مرا عہدِ وفا ہے ابدی!

ن م راشد

عہدِ نَو کا انسان

جانتا ہوں مادرِ فطرت! کہ میں آوارہ ہوں

طفلِ آوارہ ہوں لیکن سرکش و ناداں نہیں

میری اس آوارگی میں وحشتِ عصیاں نہیں

شوخ ہوں لیکن ابھی معصوم اور بیچارہ ہوں

تجھ کو کیا غم ہے اگر وارفتہ ءِ نظارہ ہوں؟

شکر ہے زندانیِ اہریمن و یزداں نہیں

ان سے بڑھ کر کچھ بھی وجہِ کاہشِ انساں نہیں

میں مگر اُن کے افق سے دور ایک سیارہ ہوں!

شام ہونے کو ہے اور تاریکیاں چھانے کو ہیں

تُو بلاتی ہے مجھے راحت بھری آغوش میں

کھیل لوں تھوڑا سا آتا ہوں، ابھی آتا ہوں میں

اب تو دن کی آخری کرنیں بھی سو جانے کو ہیں

اور کھو جانے کو ہیں وہ بھی کنارِ دوش میں

بہہ چلی ہے روح نیندوں میں مری آتا ہوں میں!

ن م راشد

ظلمِ رنگ

یہ میں ہوں!

اور یہ میں ہوں!

یہ دو میں‌ ایک سیمِ‌نیلگوں کے ساتھ آویزاں

ہیں شرق وغرب کے مانند،

لیکن مِل نہیں سکتے!

صدائیں رنگ سے نا آشنا

اک تار ان کے درمیاں‌حائل!

مگر وہ ہاتھ جن کا بخت،

مشرق کے جواں سورج کی تابانی

کبھی اِن نرم و نازک، برف پروردہ حسیں باہوں

کو چھو جائیں،

محبّت کی کمیں‌گاہوں کو چھو جائیں

یہ ناممکن! یہ ناممکن!

کہ ظلمِ رنگ کی دیوار ان کے درمیاں حائل!

یہ میں‌ہوں!

انا کے زخم خوں آلودہ، ہر پردے میں،

ہر پوشاک میں‌عریاں،

یہ زخم ایسے ہیں‌جو اشکِ ریا سے سِل نہیں سکتے

کسی سوچے ہوئے حرفِ وفا سے سِل نہیں‌سکتے!

ن م راشد

طوفان اورکرن

شب تم اس قلعے کے ناجشن میں

موجودنہ تھے

(شادرہو!)

کیسی طوفان کی شوریدہ سری تھی، توبہ!

کس طرح پردے کیے چاک

گرائے فانوس

اورہردرزمیں غرّاتارہا!

ڈگمگاتے ہوئے مہمان

ضیافت کی صفوں سے گزرے

پاؤں تک رکھتے نہ تھے

دل کے قالینوں کے

رنگ وخط ومحراب کو

تکتے بھی نہ تھے!

آکے ٹھہری ہے لبِکاسہ ءِ جاں

یادکے جنگلِ افسردہ سے

بچتی ہوئی اک تازہ کرن

پرجھپکتی بھی نہیں

اور۔۔۔اُس آنکھ کوجوکاسہ ءِ جاں میں

وا ہے

ابھی تکتی بھی نہیں۔۔۔۔

(یہی وہ کاسہ ءِ جاں

جس میں جلائی ہیں گُلوں کی شمعیں،

جس میں سورنگ سے کل رات کے مانند

منائی ہیں خدائی راتیں!)

اے کرن،

شکرکہ ہم

ہجر کے زینوں پہ یا

وصل کے آئینوں پہ

جم جاتے نہیں!

اور۔۔۔بیکارہیولاؤں کے ساتھ

بہتی مالاؤں پہ تھم جاتے نہیں

جن میں نادیدہ ملاقات کی سرگوشی ہو

ایسے گوشوں میں بھی ہم جاتے نہیں!

کل تم اس قلعے کے ناجشن میں موجود نہ تھے

اورنہ تم سن ہی سکے

کیسی دوشیزہ وہ دستک تھی

جسے سن نہ سکے

اس کے مژگاں کی لب وچشم کی پیہم دستک!

ایسی دوشیزہ

کہ افلاس کے ناشہروں کی رہنے والی

وہ اترتی ہی گئی

زینوں سے

دیواروں سے

تاحدِّغبار

تم کہ تھے سیرنگاہ اپنے توہّم پہ سوار

اس کی آوازکہیں سن نہ سکے!

اب بھی وہ قلعہ ءِ عرفاں کے دریچے کے تلے

دیتی رہتی ہے دبی پیاس کی دستک شب وروز

اے کرن،

اس کے لیے قطرہ ءِ اشک!

اپنے نادیدہ اجالوں کی پھواروں سے

کوئی قطرہ ءِ اشک!

جس سے دھندلائے بدن

پھر سے نکھر کرنکلیں

خندہ ءِ نور سے بھرکرنکلیں!

ن م راشد

طلسمِ جاوداں

رہنے دے اب کھو نہیں باتوں میں وقت،

اب رہنے دے،

اپنی آنکھوں کے طلسمِ جاوداں میں بہنے دے

میری آنکھوں میں ہے وہ سحرِ عظیم

جو کئی صدیوں سے پیہم زندہ ہے

انتہائے وقت تک پایندہ ہے!

دیکھتی ہے جب کبھی آنکھیں اٹھا کر تو مجھے

قافلہ بن کر گزرتے ہیں نگہ کے سامنے

مصر و ہند و نجد و ایراں کے اساطیرِ قدیم:

کوئی شاہنشاہ تاج و تخت لٹواتا ہوا

دشت و صحرا میں کوئی شہزادہ آوارہ کہیں

سر کوئی جانباز کہساروں سے ٹکراتا ہوا

اپنی محبوبہ کی خاطر جان سے جاتا ہوا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

قافلہ بن کر گزر جاتے ہیں سب

قصہ ہائے مصر و ہندوستان و ایران و عرب!

رہنے دے اب کھو نہیں باتوں میں وقت،

اب رہنے دے،

آج میں ہوں چند لمحوں کے لیے تیرے قریب،

سارے انسانوں سے بڑھ کر خوش نصیب!

چند لمحوں کے لیے آزاد ہوں

تیرے دل سے اخذ نور و نغمہ کرنے کے لیے

زندگی کی لذتوں سے سینہ بھرنے کے لیے؛

تیرے پیکر میں جو روحِ زیست ہے شعلہ فشاں

وہ دھڑکتی ہے مقام و وقت کی راہوں سے دور

بیگانہ ءِ مرگ و خزاں!

ایک دن جب تیرا پیکر خاک میں مل جائے گا

زندہ، تابندہ رہے گی اس کی گرمی، اُس کا نور

اپنے عہدِ رفتہ کے جاں سوز نغمے گائے گی

اور انسانوں کا دیوانہ بناتی جائے گی

رہنے دے اب کھو نہیں باتوں میں وقت

اب رہنے دے!

وقت کے اس مختصر لمحے کو دیکھ

تُو اگر چاہے تو یہ بھی جاوداں ہو جائے گا

پھیل کر خود بیکراں ہو جائے گا

مطمئن باتوں سے ہو سکتا ہے کون؟

روح کی سنگین تاریکی کو دھو سکتا ہے کون؟

دیکھ اس جذبات کے نشے کو دیکھ

تیرے سینے میں بھی اک لرزش سی پیدا ہو گئی!

زندگی کی لذتوں سے سینہ بھر لینے بھی دے

مجھ کو اپنی روح کی تکمیل کر لینے بھی دے!

ن م راشد

طلسمِ ازل

مجھے پھر طلسمِ ازل نے

نئی صبح کے نور میں نیم وا،

شرم آگیں دریچے سے جھانکا!

میں اس شہر میں بھی،

جہاں کوئے و برزن میں بکھرے ہوئے

حُسن و رقص و مَے و نور و نغمہ

اُسی نقشِ صد رنگ کے خط و محراب ہیں، تار و پو ہیں،

کہ صدیوں سے جس کے لیے

نوعِ انساں کا دل، کان، آنکھیں،

سب آوارہ ءِ جستجو ہیں،

میں اس شہر میں تھا پریشان و تنہا!

یہاں زندگی ہے اک آہنگِ تازہ،

مسلسل، مگر پھر بھی تازہ

یہاں زندگی لمحہ لمحہ، نئے، دم بہ دم تیز تر

جوش سے گامزن ہے،

یہاں وہ سکوں، جس کے گہوارہ ءِ نرم و نازک

میں پلتے ہیں ہم ایشیائی

فقط دور ہی دور سے خندہ زن ہے،

مگر میں اسی شہر میں تھا پریشان و غمگین و تنہا!

پریشان و غمگین و تنہا

کہ ہم ایشیائی

جو صدیوں سے ہیں خوابِ تمکیں کے رسیا

یہ کہتے رہے ہیں:

ہمارا لہو زخمِ افرنگ کی مومیائی

ہمارے ہی دم سے جلالِ شہی، فرّہ ءِ کبریائی!

پریشان و غمگین و تنہا

کہ ہم تابکے اپنے اوہامِ کہنہ کے دلبند بن کر،

یونہی عافیت کی پُر اسرار لذت کے آغوش سے

زہرِ تقدیر پیتے رہیں گے

ابھی اور کَے سال دریوزہ گر بن کے جیتے رہیں گے!

اسی سوچ میں تھا کہ مجھ کو

طلسمِ ازل نے نئی صبح کے نور میں نیم وا،

شرم آگیں دریچے سے جھانکاِ___

مگر اس طرح، ایک چشمک میں جیسے

ہمالہ میں الوند کے سینہ ءِ آہنی سے

محبت کا اک بے کراں سیل بہنے لگا ہو

اور اس سیل میں سب ازل اور ابد مل گئے ہوں!

ن م راشد

طلب کے تلے

گُل و یاسمن کل سے نا آشنا،

کل سے بے اعتنا

گُل و یاسمن اپنے جسموں کی ہئیت میں فرد

مگر۔۔ کل سے ناآشنا، کل سے بے اعتنا

کسی مرگِ مبرم کا درد

اُن کے دل میں نہیں!

فقط اپنی تاریخ کے بے سر و پا طلب کے تلے

ہم دبے ہیں!

ہم اپنے وجودوں کی پنہاں تہیں

کھولتے تک نہیں

آرزو بولتے تک نہیں!

یہ تاریخ میری نہیں اور تیری نہیں

یہ تاریخ ہے ازدحامِ رواں

اُسی ازدحامِ رواں کی یہ تاریخ ہے،

یہ وہ چیخ ہے

جس کی تکراراپنے من و تُو میں ہے

وہ تکرار جو اپنی تہذیب کی ہُو میں ہے!

تجھے اس پہ حیرت نہیں

ہم اِس ازدحامِ رواں کے نشانِ قدم پر چلے جا رہے ہیں

بڑھے جا رہے ہیں

کہ ہم ظلمتِ شب میں تنہا

پڑے رہ نہ جائیں۔۔

بڑھے جا رہے ہیں،

نہ جینے کی خاطر

نہ اس سے فزوں زندہ رہنے کی خاطر

بڑھے جا رہے ہیں، کسی عیب سے

رہزنِ مرگ سے بچ نکلنے کی خاطر،

جدائی کی خاطر!

کسی فرد کے خوف سے بڑھ رہے ہیں

جو باطن کے ٹوٹے دریچوں کے پیچھے

شرارت سے ہنستا چلا جا رہا ہے

ن م راشد

شہرِ وجود اور مزار

یہ مزار،

سجدہ گزار جس پہ رہے ہیں ہم

یہ مزارِ تار۔۔۔۔ خبر نہیں

کسی صبحِ نو کا جلال ہے

کہ ہے رات کوئی دبی ہوئی؟

کسی آئنے کو سزا ملی، جو ازل سے

عقدہ ءِ نا کشا کا شکار تھا؟

کسی قہقہے کا مآل ہے

جو دوامِ ذات کی آرزو میں نزار تھا؟

یہ مزار خیرہ نگہ سہی،

یہ مزار، مہر بلب سہی،

جو نسیمِ خندہ چلے کبھی تو وہ در کھلیں

جو ہزار سال سے بند ہیں

وہ رسالتیں جو اسیر ہیں

یہ نوائے خندہ نما سنیں تو اُبل پڑیں!

انہیں کیا کہیں

کہ جو اپنی آنکھ کے سیم و زر

کسی روگ میں، کسی حادثے میں

گنوا چکے؟

انہیں کیا کہیں

کہ جو اپنے ساتھ کوئی کرن

سحرِعدم سے نہ لا سکے؟

مگر ایک وہ

کہ ہزار شمعوں کے سیل میں

کبھی ایک بار جو گم ہوئے

خبر اپنی آپ نہ پا سکے!

کبھی گردِ رہ، کبھی مہر و ماہ پہ سوار تھے

وہ کہانیوں کے جوان۔۔ کیسے گزر گئے!

وہ گزر گئے ہمیں خاکِ بے کسی جان کر

نہ کبھی ہماری صدا سنی

وہ صدا کہ جس کی ہر ایک لے

کبھی شعلہ تھی، کبھی رنگ تھی

کبھی دل ہوئی، کبھی جان بنی!

وہ نمی، وہ خلوتِ ترش بو

جو اجالا ہوتے ہی

قحبہ گاہوں میں آپ پائیں

وہی خامشیِ دراز مو، وہی سائیں سائیں

کہ جو بنک خانوں کے آس پاس

تمام رات ہے رینگتی

وہی اس مزار کی خامشی

جو ہماری ہست پہ حکمراں

جو ہماری بُود پہ خندہ زن!

مگر آرزوئیں،

وہ سائے عہدِ گزشتہ کے،

کبھی واردات کے بال و پر

کبھی آنے والے دنوں کا پرتوِ زندہ تر

وہ ہوائیں ہیں کہ سدا سے

آگ کے رقصِ وحشی و بے زمام میں ہانپتی

کبھی گھر کے سارے شگاف و درز میں چیختی

کبھی چیختی ہیں پلک لگے

کبھی چیختی ہیں سحر گئے!

ابھی سامنے ہے وہ ثانیہ

جسے میرے خوابوں نے

شب کے ناخنِ تیز تر سے بچا لیا

اسی ثانیے میں وہ شیشے پیکر و جاں کے

پھر سے سمیٹ لوں

جو انہی ہواؤں کے زور سے

گرے اور ٹوٹ کے ماہ و سال کے رہ گزر

میں بکھر گئے

کہ نہیں ہیں اپنی بہا میں دیدہ ءِ تر سے کم

جو مدار، حدِّ نظر سے کم!

میں ہوں آرزو کا۔۔۔

امید بن کے جو دشت و در میں

بھٹک گئی۔۔۔۔

میں ہوں تشنگی کا

جو کناتِ آب کا خواب تھی

کہ چھلک گئی ۔۔۔۔

میں کشادگی کا ۔۔۔

جو تنگ نائے نگاہ و دل میں

اتر گئی ۔۔۔۔

میں ہوں یک دلی کا ۔۔

جو بستیوں کی چھتوں پہ

دودِ سیاہ بن کے بکھر گئی ۔۔۔

میں ہوں لحنِ آب کا،

رسمِ باد کا، وردِ خاک کا نغمہ خواں!

یہ بجا کہ ہست ہزار رنگ سے جلوہ گر

مگر اک حقیقتِ آخریں

یہی آستانہ ءِ مرگ ہے!

یہ بجا سہی

کبھی مرگ اپنی نفی بھی ہے

(وہی مرگ سال بہ سال آپ نے جی بھی ہے)

وہی ہولِ جاں کی کمی بھی ہے

یہی وہ نفی تھی کہ جس کے سایے میں

آپ (میرے مراقبے کی طرح)

برہنہ گزر گئے

یہ اسی کمی کی تھی ریل پیل

کہ آپ اپنی گرسنگی کی ندی

کے پار اتر گئے

کبھی آسماں و زمیں پہ (دورِ خزاں میں)

بوئے عبیر و گل کی سخاوتوں کی مثال

آپ بکھر گئے۔۔۔۔

ابھی تک (مرا یہ مشاہدہ ہے)

کہ اس مزار کے آس پاس

عبیر و گل کی لپٹ سے

زائروں، رہروؤں کے نصیب

جیسے دمک اٹھے

تو ہزار نام بس ایک نام کی گونج بن کے

جھلک اٹھے

تو تمام چہروں سے ایک آنکھ

تمام آنکھوں سے اک اشارہ

تمام لمحوں سے ایک لمحہ برس پڑا

تو پھر آنے والے ہزار قرنوں کی شاہراہیں

(جو راہ دیکھتے تھک گئی تھیں)

شرار بن کے چمک اٹھیں!

یہ بجا کہ مرگ ہے اک حقیقتِ آخریں

مگر ایک ایسی نگاہ بھی ہے

جو کسی کنوئیں میں دبی ہوئی

کسی پیرہ زن (کہ ہے مامتا میں رچی ہوئی)

کی طرح ہمیں

ہے ابد کی ساعتِ نا گزیر سے جھانکتی

تو اے زائرو،

کبھی نا وجود کی چوٹیوں سے اتر کے تم

اسی اک نگاہ میں کود جاؤ

نئی زندگی کا شباب پاؤ

نئے ابر و ماہ کے خواب پاؤ!

نہیں مرگ کو (کہ وہ پاک دامن و نیک ہے)

کسی زمزمے کو فسردہ کرنے سے کیا غرض؟

وہ تو زندہ لوگوں کے ہم قدم

وہ تو ان کے ساتھ

شراب و نان کی جستجو میں شریک ہے

وہ نسیم بن کے

گُلوں کے بیم و رجا میں

ان کی ہر آرزو میں شریک ہے

وہ ہماری لذتِ عشق میں،

وہ ہمارے شوقِ وصال میں،

وہ ہماری ہُو میں شریک ہے

کبھی کھیل کود میں ہوں جو ہم

تو ہمارے ساتھ حریف بن کے ہے کھیلتی

کبھی ہارتی کبھی جیتتی۔۔۔۔۔

کسی چوک میں کھڑے سوچتے ہوں

کدھر کو جائیں؟

تو وہ اپنی آنکھیں بچھا کے راہ دکھائے گی۔۔۔

جو کتاب خانے میں جا کے کوئی کتاب اٹھائیں

تو وہ پردہ ہائے حروف ہم سے ہٹائے گی،

وہ ہماری روز کی گفتگو میں شریک ہے!

تو، مرے وجود کے شہر

مجھ کو جگا بھی دو

مری آرزو کے درخت مجھ کو دکھا بھی دو

وہ گلی گلی جو گرا رہے ہیں دو رویہ

کتنے ہزار سال سے برگ و گل ۔۔۔۔

مجھے دیکھنے دو وہی سحر،

وہی دن کا چہرہ ءِ لازوال،

وہ دھوپ

جس سے ہماری جلد سیاہ تاب ازل سے ہے

مجھے اس جنوں کی رہِ خرام پہ لے چلو

نہیں جس کے ہاتھ میں مو قلم

نہیں واسطہ جسے رنگ سے

فقط ایک پارہ ءِ سنگ سے

ہے کمالِ نقش گرِ جنوں!

اے مرے وجود کے شہر

مجھ کو جگا بھی دو!

مرے ساتھ ایک ہجوم ہے

میں جہاں ہوں

زائروں کے ہجوم بھی ساتھ ہیں

کہ ہم آج

معنی و حرف کی شبِ وصلِ نو

کی برات ہیں!

ن م راشد

شہر میں صبح

مجھے فجر آئی ہے شہر میں

مگر آج شہر خموش ہے!

کوئی شہر ہے،

کسی ریگ زار سے جیسے اپنا وصال ہو!

نہ صدائے سگ ہے نہ پائے دزد کی چاپ ہے

نہ عصائے ہمّتِ پاسباں

نہ اذانِ فجر سنائی دے

اب وجد کی یاد، صلائے شہر،

نوائے دل

مرے ھم رکاب ہزار ایسی بلائیں ہیں!

(اے تمام لوگو!

کہ میں جنھیں کبھی جانتا تھا

کہاں ہو تم؟

تمہیں رات سونگھ گئی ہے کیا

کہ ہو دور قیدِ غنیم میں؟

جو نہیں‌ ہیں قیدِ غنیم میں

وہ پکار دیں!)

اسی اک خرابے کے سامنے

میں یہ بارِدوش اتار دوں

مجھے سنگ و خشت بتا رہے ہیں کہ کیا ہوا

مجھے گرد و خاک سنا رہے ہیں وہ داستاں

جو زوالِ جاں کا فسانہ ہے

ابھی بُوئے خوں ہے نسیم میں

تمہیں آن بھر میں‌خدا کی چیخ نے آلیا

وہ خدا کی چیخ

جو ہر صدا سے ہے زندہ تر

کہیں گونج کوئی سنائی دے

کوئی بھولی بھٹکی فغاں ملے،

میں پہنچ گیا ہوں تمہارے بستر خواب تک

کہ یہیں سے گم شدہ راستوں کا نشاں ملے!

ن م راشد

شرابی

آج بھی جی بھر کے پی آیا ہوں میں

دیکھتے ہی تیری آنکھیں شعلہ ساماں ہو گئیں!

شکر کر اے جاں کہ میں

ہوں درِ افرنگ کا ادنیٰ غلام

صدرِ اعظم یعنی دریوزہ گرِ اعظم نہیں،

ورنہ اک جامِ شرابِ ارغواں

کیا بجھا سکتا تھا میرے سینہ ءِ سوزاں کی آگ؟

غم سے مرجاتی نہ تُو

آج پی آتا جو میں

جامِ رنگیں کی بجائے

بے کسوں اور ناتوانوں کا لہو؟

شکر کر اے جاں کہ میں

ہوں درِ افرنگ کا ادنیٰ غلام!

اور بہتر عشق کے قابل نہیں!

ن م راشد

شبابِ گریزاں

مئے تازہ و ناب حاصل نہیں ہے

تو کر لوں گا دُردِ تہ جام پی کر گزارا!

مجھے ایک نورس کلی نے

یہ طعنہ دیا تھا:

تری عمر کا یہ تقاضا ہے

تو ایسے پھولوں کا بھونرا بنے

جن میں دوچار دن کی مہک رہ گئی ہو

یہ سچ ہے وہ تصویر،

جس کے سبھی رنگ دھندلا گئے ہوں

نئے رنگ اُس میں بھرے کون لا کر

نئے رنگ لائے کہاں سے ؟

ترے آسماں کا،

میں اک تازہ وارد ستارا سہی،

جانتا ہوں کہ، اس آسماں پر

بہت چاند، سورج، ستارے ابھر کر

جو اک بار ڈوبے تو ابھرے نہیں ہیں

فراموش گاری کے نیلے افق سے،

اُنہی کی طرح میں بھی

نا تجربہ کار انساں کی ہمت سے آگے بڑھا ہوں،

جو آگے بڑھا ہوں،

تو دل میں ہوس یہ نہیں ہے

کہ اب سے ہزاروں برس بعد کی داستانوں میں

زندہ ہو اک بار پھر نام میرا!

یہ شامِ دلآویز تو اک بہانہ ہے،

اک کوششِ ناتواں ہے

شبابِ گریزاں کو جاتے ہوئے روکنے کی

وگرنہ ہے کافی مجھے ایک پل کا سہارا،

ہوں اک تازہ وارد، مصیبت کا مارا

میں کر لوں گا دردِ تہ جام پی کر گزارا!

ن م راشد

شاعر کا ماضی

یہ شب ہائے گزشتہ کے جنوں انگیز افسانے

یہ آوارہ پریشاں زمزمے سازِ جوانی کے

یہ میری عشرتِ برباد کی بے باک تصویریں

یہ آئینے مرے شوریدہ آغازِ جوانی کے!

یہ اک رنگیں غزل لیلیٰ کی زلفوں کی ستائش میں

یہ تعریفیں سلیمیٰ کی فسوں پرور نگاہوں کی

یہ جذبے سے بھرا اظہار شیریں کی محبت کا

یہ ایک گزری کہانی آنسوؤں کی اور آہوں کی

کہاں ہو او مری لیلیِٰ___کہاں ہو او مری شیریں؟

سلیمیٰ تم بھی تھک کر رہ گئیں راہِ محبت میں؟

مرے عہدِ گزشتہ پر سکوتِ مرگ طاری ہے

مری شمعو، بجھی جاتی ہو کس طوفانِ ظلمت میں؟

مرے شعرو، مرے فردوسِ گم گشتہ کے نظّارو!

ابھی تک ہے دیارِ روح میں ایک روشنی تم سے

کہ میں حسن و محبت پر لٹانے کے لیے تم کو

اڑا لایا تھا جا کر محفلِ ماہتاب و انجم سے!

ن م راشد

شاعرِ درماندہ

زندگی تیرے لیے بسترِ سنجاب و سمور

اور میرے لیے افرنگ کی دریوزہ گری

عافیت کوشئ آبا کے طفیل،

میں ہوں درماندہ و بے چارہ ادیب

خستہء فکرِ معاش!

پارہء نانِ جویں کے لیے محتاج ہیں ہم

میں، مرے دوست، مرے سینکڑوں ارباب وطن

یعنی افرنگ کے گلزاروں کے پھول!

تجھے اک شاعر درماندہ کی امّید نہ تھی

مجھ سے جس روز ستارہ ترا وابستہ ہوا

تو سمجھتی تھی کہ اک روز مرا ذہن رسا

اور مرے علم و ہنر

بحر و بر سے تری زینت کو گہر لائیں گے!

مرے رستے میں جو حائل ہوں مرے تیرہ نصیب

کیوں دعائیں تری بے کار نہ جائیں

تیرے راتوں کے سجود اور نیاز

(اس کا باعث مرا الحاد بھی ہے !)

اے مری شمع شبستانِ وفا،

بھول جا میرے لیے

زندگی خواب کی آسودہ فراموشی ہے!

تجھے معلوم ہے مشرق کا خدا کوئی نہیں

اور اگر ہے، تو سرا پردہء نسیان میں ہے

تو مسرّت ہے مری، تو مری بیداری ہے

مجھے آغوش میں لے

دو انا مل کے جہاں سوز بنیں

اور جس عہد کی ہے تجھ کو دعاؤں میں تلاش

آپ ہی آپ ہویدا ہو جائے!

ن م راشد

شاخِ آہُو

وزیرِ معارف علی کیانی نے

شمشیرِ ایراں کا تازہ مقالہ پڑھا،

اور محسن فرح زاد کی تازہ تصنیف دیکھی،

جو طہران کے سب تماشا گھروں میں

کئی روز سے قہقہوں کے سمندر بہانے لگی تھی

تو وہ سر کھجانے لگا،

اور کہنے لگا:

لو اسے کہہ رہے ہیں،

علی کیانی کی تازہ جنایت!

بھلا کون سا ظلم ڈھایا ہے میں نے

جو بانو رضا بہبانی سے

اسی ہزار اور نو سو ریال

اپنا حق جان کر

راہداری کے بدلے لیے ہیں؟

خدائے توانا و برتر

وزارت ہے وہ دردِ سر

جس کا کوئی مداوا نہیں ہے!

رضا بہبانی ولایت سے

ڈگری طبابت کی لے کر،

جو لوٹے گی

کچھ تو کمائے گی،

پہلے سے بڑھ کر کمائے گی آخر

اور اِس پر یہ ایراں فروشی کے طعنے

یہ کہرام، اے مسخرے روزنامہ نگارو!

یہاں سات بچوں کے تنّور

ہر لحظہ فریاد کرتے ہوئے،

اور خانم کے

گلگونہ و غازہ و کفش و موزہ کے

یہ روز افزوں تقاضے،

ادھر یہ گرانی،

اِدھریہ وزارت کی کرسی

فقط شاخِ آہو!

تو اس پر علی کیانی نے سوچا،

اٹھایا قلم اور لِکھا:

جنابِ مدیرِ شہیر

آپ کی خدمتِ فائقہ کے عوض

دس ہزار اور چھ سو ریال

آپ کو صد ہزار احترامات کے ساتھ

تقدیم کرتا ہے بندہ!

یہ پر کالہ ءِ آتشیں چھوڑ کر

اور مقالہ و تصنیف کی یاد دل سے بھلا کر

لگا جھولنے اپنی کرسی میں آسودہ ہو کر

وزیرِ معارف علی کیانی!

ن م راشد

سومنات

نئے سرے سے غضب کی سج کر

عجوزہ ءِ سومنات نکلی،

مگر ستم پیشہ غزنوی

اپنے حجلہ ءِ خاک میں ہے خنداں____

وہ سوچتا ہے:

بھری جوانی سہاگ لوٹا تھا میں نے اس کا،

مگر مرا ہاتھ

اس کی روحِ عظیم پر بڑھ نہیں سکا تھا

اور اب فرنگی یہ کہہ رہا ہے:

کہ آؤ آؤ اس ہڈیوں کے ڈھانچے کو

جس کے مالک تمھیں ہو

ہم مل کے نورِ کمخواب سے سجائیں!

وہ جانتا ہے،

وہ نورِ کمخواب چین و ما چین میں نہیں ہے

کہ جس کی کرنوں میں

ایسا آہنگ ہو کہ گویا

وہی ہو ستار عیب بھی

اورپردہ ءِ ساز بھی وہی ہو!

عجوزہ ءِ سومنات کے اس جلوس میں ہیں

عقیم صدیوں کا علم لادے ہوئے برہمن

جو اک نئے سامراج کے خواب دیکھتے ہیں

اور اپنی توندوں کے بل پہ چلے ہوئے مہاجن

حصولِ دولت کی آرزو میں بہ جبر عریاں،

جو سامری کے فسوں کی قاتل حشیش پی کر

ہیں رہگزاروں میں آج پا کوب ومست و غلطاں

دف و دہل کی صدائے دلدوز پر خروشاں!

کسی جزیرے کی کور وادی کے

وحشیوں سے بھی بڑھ کے وحشی،

کہ اُن کے ہونٹوں سے خوں کی رالیں ٹپک رہی ہیں

اور اُن کے سینوں پہ کاسہ ءِ سر لٹک رہے ہیں

جو بن کے تاریخ کی زبانیں

سنا رہے ہیں فسانہ ءِ صد ہزار انساں!

اور اُن کے پیچھے لڑھکتے، لنگڑاتے آ رہے ہیں

کچھ اشتراکی،

کچھ اُن کے احساس شناس مُلّا

بجھا چکے ہیں جو اپنے سینے کی شمعِ ایقاں!

مگر سرِ راہ تک رہے ہیں

کبھی تو دہشت زدہ نگاہوں سے

اور کبھی یاسِ جاں گزا سے

غریب و افسردہ دل مسلماں،

جو سوچتے ہیں،

کہ اے خدا

آج اپنے آبا کی سر زمیں میں

ہم اجنبی ہیں،

ہدف ہیں نفرت کے ناوکِ تیز و جانستاں کے!

منو کے آئیں کا ظلم سہتے ہوئے ہریجن

کہ جن کا سایہ بھی برہمن کے لیے

ہے دزدِ شبِ زمستاں

وہ سوچتے ہیں:

کہیں یہ ممکن ہے:

بیچ ڈالے گا

ہم کو بردہ فروشِ افرنگ

اب اسی برہمن کے ہاتھوں

کہ جس کی صدیوں پرانے سیسے سے

آج بھی کور و کر ہیں سب ہم!

جو اَب بھی چاہے

تو روک لے ہم سے نورِ عرفاں!‘‘

ستم رسیدہ نحیف و دہقاں

بھی اس تماشے کو تک رہا ہے،

اُسے خبر بھی نہیں کہ آقا بدل رہے ہیں

وہ اس تماشے کو

طفلِ کمسن کی حیرتِ تابناک سے محض دیکھتا ہے!

جلوس وحشی کی آز سے

سب کو اپنی جانب بلا رہا ہے

کہ ربّہ ءِ سومنات کی بارگاہ میں آکے سرجھکاؤ!

مگر وہ حسِ ازل

جو حیواں کو بھی میسر ہے

سب تماشائیوں سے کہتی ہے:

اس سے آگے اجل ہے

بس مرگِ لم یزل ہے!

اسی لیے وہ کنارِ جادہ پر ایستادہ ہیں، دیکھتے ہیں!

ن م راشد

سوغات

زندگی ہیزمِ تنّورِ شکم ہی تو نہیں

پارہ ءِ نانِ شبینہ کا ستم ہی تو نہیں

ہوسِ دام و درم ہی تو نہیں

سیم و زر کی جو وہ سوغات جیسا لائی تھی

ہم سہی کاہ، مگر کاہ ربا ہو نہ سکی

دردمندوں کی خدائی ہو نہ سکی

آرزو ہدیہ ءِ اربابِ کرم ہی تو نہیں!

ہم نے مانا کہ ہیں جاروب کشِ قصرِ حرم

کچھ وہ احباب جو خاکسترِ زنداں نہ بنے

شبِ تاریکِ وفا کے مہِ تاباں نہ بنے

کچھ وہ ا حباب بھی ہیں جن کے لیے

حیلہ ءِ امن ہے خود ساختہ خوابوں کا فسوں

کچھ وہ احباب بھی ہیں، جن کے قدم

راہ پیما تو رہے، راہ شناسا نہ ہوئے

غم کے ماروں کا سہارا نہ ہوئے!

کچھ وہ مردانِ جنوں پیشہ بھی ہیں جن کے لیے

زندگی غیر کا بخشا ہوا سم ہی تو نہیں

آتشِ دَیر و حرم ہی تو نہیں!

ن م راشد

سمندر کی تہہ میں

ن م راشد

مجموعہ کلام گماں کا ممکن

سمندر کی تہہ میں

سمندر کی سنگین تہہ میں

ھے صندوق

صندوق میں ایک ڈبیا میں ڈبیا

میں ڈبیا

میں کتنے معانی کی صُبحیں

وہ صُبحیں کہ جن پر رسالت کے دَر بند

اپنی شعاعوں میں جکڑی ھوُئی

کتنی سہمی ھوُئی !

یہ صندوق کیوں کر گِرا؟

نہ جانے کِسی نے چُرایا؟

ھمارے ھی ھاتھوں سے پِھسلا؟

پِھسل کر گِرا؟

سمندر کی تہہ میں مگر کب؟

ھمیشہ سے پہلے

ھمیشہ سے بھی سالہا سال پہلے؟

اور اب تک ھے صندوق کے گِرد

لفظوں کی راتوں کا پہرا

وہ لفظوں کی راتیں

جو دیووں کی مانند

پانی کے لسداد دیووں کے مانند !

یہ لفظوں کی راتیں

سمندر کی تہہ میں تو بستی نہیں ھیں

مگر اپنے لاریب پہرے کی خاطر

وھیں رینگتی ھیں

شب و روز

صندوق کے چار سوُ رینگتی ھیں

سمندر کی تہہ میں !

بہت سوچتا ھوُں

کبھی یہ معانی کی پاکیزہ صُبحوں کی پریاں

رھائی کی اُمید میں

اپنے غوّاص جادوُگروں کی

صدائیں سُنیں گی؟

ن م راشد

سفرنامہ

اُسے ضد کہ نُور کے ناشتے میں

شریک ہوں!

ہمیں خوف تھا سحرِ ازل

کہ وہ خود پرست نہ روک لے

ہمیں اپنی راہِ دراز سے

کہیں کامرانیِ نَو کے عیش و سُرور میں

ہمیں روک لے

نہ خلا کے پہلے جہاز سے

جو زمیں کی سمت رحیل تھا!

ہمیں یہ خبر تھی بیان و حرف کی خُو اُسے

ہمیں یہ خبر تھی کہ اپنی صورتِ گلو اُسے

ہے ہر ایک شے سے عزیز تر

ہمیں اور کتنے ہی کام تھے (تمہیں یاد ہے؟)

ابھی پاسپورٹ لیے نہ تھے

ابھی ریزگاری کا انتظار تھا

سوٹ کیس بھی ہم نے بند کیے نہ تھے

اُسے ضد کہ نُور کے ناشتے میں شریک ہوں!

وہ تمام ناشتہ

اپنے آپ کی گفتگو میں لگا رہا

ہے مجھے زمیں کے لیے خلیفہ کی جستجو

کوئی نیک خُو

جو مرا ہی عکس ہو ہُو بہُو!

تو امیدواروں کے نام ہم نے لکھا دیے

اور اپنا نام بھی ساتھ اُن کے بڑھا دیا!

مری آرزو ہے شجر ہجر

مری راہ میں شب و روز

سجدہ گزار ہوں۔۔۔

مری آرزو ہے کہ خشک و تر

مری آرزو میں نزاز ہوں ۔۔۔

مری آرزو ہے کہ خیر و شر

مرے آستاں پہ نثار ہوں

مری آرزو۔۔۔ مری آرزو ۔۔۔

شجر و حجر تھے نہ خشک و تر

نہ ہمیں مستیِ خیر و شر

ہمیں کیا خبر؟

تو تمام ناشتہ چپ رہے

وہ جو گفتگو کا دھنی تھا

آپ ہی گفتگو میں لگا رہا!

بڑی بھاگ دوڑ میں

ہم جہاز پکڑ سکے

اسی انتشار میں کتنی چیزیں

ہماری عرش پہ رہ گئیں

وہ تمام عشق۔۔۔ وہ حوصلے

وہ مسرّتیں۔۔ وہ تمام خواب

جو سوٹ کیسوں میں بند تھے!

ن م راشد

سرگوشیاں

پھر آج شام گاہ سرِ راہگزر اُسے

دیکھا ہے اس کے دوشِ حسیں پر جھکے ہوئے!

یارو وہ ہرزہ گرد،

ہے کسبِ روزگار میں اپنا شریکِ کار،

راتوں کو اُس کی راہگزاروں پہ گردشیں

اور میکدوں میں چھپ کے مے آشامیِ طویل

رسوائیوں کی کوئی زمانے میں حد بھی ہے!

یہ غصہ رائیگاں ہے، ہمیں تو ہے یہ گلہ

وارفتہ کیوں اُسی کے لیے وہ عشوہ ساز

کیوں اتنی دلکشی بھی خدا نے نہ دی ہمیں

تسخیر اُس کا خندہ ءِ بے باک کرسکیں؟

اب تو کسی نوید کا امکان ہی نہیں

جب اُس کا، دل کی آرزوؤں کے حصول تک،

ایک اپنے یارِ غار سے ہے ربطِ شرمناک

اک رشتہ ءِ ذلیل

یہ اُس کی شاطری ہے، کہ ‘زلفِ عجم’ کا دام؟

کچھ بھی ہو، اس میں شائبہ ءِ شاعری نہیں

برسوں کا ایک ترسا ہوا شخص جان کر

پہچانتی ہے دور سے عورت کی بُو اُسے

اور کررہا ہے اس کا نصیبہ بھی یاوری!

اس رشکِ بے بسی سے مرے دوست، فائدہ؟

ہے کچھ تو اپنا زورِ گریباں کے چاک پر!

حاصل نہیں ہے ہم کو اگر وہ شرابِ ناب

تو بام ودر کی شہر میں کوئی کمی نہیں

دو ’پول‘ ایک پیکرِ یخ بستہ، ایک رات!

ن م راشد

ستارے (سانیٹ)

نکل کر جوئے نغمہ خلد زارِ ماہ و انجم سے

فضا کی وسعتوں میں ہے رواں آہستہ آہستہ

بہ سوئے نوحہ آبادِ جہاں آہستہ آہستہ

نکل کر آ رہی ہے اک گلستانِ ترنم سے!

ستارے اپنے میٹھے مد بھرے ہلکے تبسم سے

کیے جاتے ہیں فطرت کو جواں آہستہ آہستہ

سناتے ہیں اسے اک داستاں آہستہ آہستہ

دیارِ زندگی مدہوش ہے اُن کے تکلم سے

یہی عادت ہے روزِ اوّلیں سے ان ستاروں کی

چمکتے ہیں کہ دنیا میں مسرت کی حکومت ہو

چمکتے ہیں کہ انساں مسرت کی حکومت ہو

چمکتے ہیں کہ انساں فکرِ ہستی کو بھلا ڈالے

لیے ہے یہ تمنا کہ ہرکرن ان نور پاروں کی

کبھی یہ خاک داں گہوارہ ءِ حسن و لطافت ہو

کبھی انسان اپنی گم شدہ جنت کو پھر پالے!

ن م راشد

سپاہی

تُو مرے ساتھ کہاں جائے گی؟

۔۔۔ موت کا لمحہ ءِ مایوس نہیں،

قوم ابھی نیند میں ہے!

مصلحِ قوم نہیں ہوں کہ میں آہستہ چلوں

اور ڈروں قوم کہیں جاگ نہ جائے۔۔۔

میں تو اک عام سپاہی ہوں، مجھے

حکم ہے دوڑ کے منزل کے قدم لینے کا

اور اسی سعیِ جگر دوز میں جاں دینے کا

تُو مرے ساتھ مری جان، کہاں جائے گی؟

تُو مرے ساتھ کہاں جائے گی؟

راہ میں اونچے پہاڑ آئیں گے

دشتِ بے آب وگیاہ

اور کہیں رودِ عمیق

بے کراں، تیز و کف آلود و عظیم

اجڑے سنسان دیار

اور دشمن کے گرانڈیل جواں

جیسے کہسار پہ دیودار کے پیڑ

عزت و عفت و عصمت کے غنیم

ہر طرف خون کے سیلابِ رواں۔۔۔

اک سپاہی کے لیے خون کے نظاروں میں

جسم اور روح کی بالیدگی ہے

تُو مگر تاب کہاں لائے گی

تُو مرے ساتھ مری جان کہاں جائے گی؟

دم بدم بڑھتے چلے جاتے ہیں

سرِ میدان رفیق،

تُو مرے ساتھ مری جان کہاں جائے گی؟

عمر گزری ہے غلامی میں مری

اس سے اب تک مری پرواز میں کوتاہی ہے!

زمزمے اپنی محبت کے نہ چھیڑ

اس سے اے جان پر وبال میں آتا ہے جمود

میں نہ جاؤں گا تو دشمن کو شکست

آسمانوں سے بھلا آئے گی؟

دیکھ خونخوار درندوں کے وہ غول

میرے محبوب وطن کو یہ نگل جائیں گے؟

ان سے ٹکرانے بھی دے

جنگِ آزادی میں کام آنے بھی دے

تُو مرے ساتھ مری جان کہاں جائے گی؟

ن م راشد

سپاھی

ن م راشد

مجموعہ کلام ماورا

توُ مِرے ساتھ کہاں جائے گی؟

موت کا لمحہء مایوس نہیں،

قوم ابھی نیند میں ھے!

مصلحِ قوم نہیں ھوُں کہ میں آہستہ چلوُں

اور ڈروُں قوم کہیں جاگ نہ جائے

میں تو اِ عام سپاھی ھوُں، مجھے

حُکم ھے دوڑ کے منزل کے قدم لینے کا

اور اِسی سعیء جگر دوز میں جاں دینے کا

توُ مِرے ساتھ مِری جان، کہاں جائے گی؟

توُ مِرے ساتھ کہاں جائے گی؟

راہ میں اُونچے پہاڑ آئیں گے

دشتِ بے آب و گیاہ

اور کہیں رودِ عمیق

بے کراں، تیز و کَف آلوُد و عظیم

اُجڑے سُنسان دیار

اور دُشمن کے گرانڈیل جواں

جیسے کہسار پہ دیودار کے پیڑ

عِزّت و عِفت و عصمت کے غنیم

ھر طرف خوُن کے سیلاب رواں

اِک سپاھی کے لیے خوُن کے نظاروں میں

جسم اور روُح کی بالیدگی ھے

توُ مگر تاب کہاں لائے گی

توُ مِرے ساتھ مِری جان کہاں جائے گی؟

دَم بدم بڑھتے چلے جاتے ھیں

سرِ میدان رفیق،

توُ مِرے ساتھ مِری جان کہاں جائے گی؟

عُر گُزری ھے غلامی میں مِری

اس سے اَب تک مِری پرواز میں کوتاھی ھے!

زمزمے اپنی محبّت کے نہ چھیڑ

اس سے اے جان، پر و بال میں آتا ھے جموُد

میں نہ جاؤں گا تو دُشمن کو شکست

آسمانوں سے بَھلا آئے گی؟

دیکھ خوُنخوار درندوں کے وہ غول

میرے محبوُب وطن کو یہ نِگل جائیں گے

ان سے ٹکرانے بھی دے

جنگِ آزادی میں کام آنے بھی دے

توُ مِرے ساتھ مِری جان کہاں جائے گی؟

ن م راشد

سبا ویراں

سلیماں سر بزانو اور سبا ویراں

سبا ویراں، سبا آسیب کا مسکن

سب آلام کا انبارِ بے پایاں!

گیاہ و سبزہ وگُل سے جہاں خالی

ہوائیں تشنہ ءِ باراں،

طیور اِس دشت کے منقار زیرِ پر

تو سرمہ در گلو انساں

سلیماں سر بزانو اور سبا ویراں!

سلیماں سر بزانو، تُرش رو، غمگیں، پریشاں مُو

جہانگیری، جہانبانی، فقط طرارہ ءِ آہو،

محبت شعلہ ءِ پرّاں، ہوس بوئے گُلِ بے بُو

ز رازِ دہرِ کمتر گو!

سبا ویراں کہ اب تک اس زمیں پر ہیں

کسی عیار کے غارت گروں کے نقشِ پا باقی

سبا باقی، نہ مہروئے سبا باقی!

سلیماں سر بہ زانو،

اب کہاں سے قاصدِ فرخندہ پَے آئے؟

کہاں سے، کس سبو سے کا سہ ءِ پیری میں مَے آئے؟

ن م راشد

سایہ

کسی خواب آلودہ سائے کا پیکر

کہاں تک ترے گوش شِنوا، تری چشمِ بینا، ترے قلبِ دانا

کا ملجا و ماویٰ بنے گا؟

تجھے آج سائے کے ہونٹوں سے حکمت کی باتیں گوارا،

تجھے آج سائے کے آغوش میں شعر و نغمہ کی راتیں گوارا،

گوارا ہیں اُس زندگی سے کہ جس میں کئی کارواں راہ پیما رہے ہیں!

مگر کل ترے لب پہ پہلی سی آہوں کی لپٹیں اٹھیں گی،

ترا دل اُنہی کاروانوں کو ڈھونڈے گا،

اُن کو پکارے گا،

جو جسم کی چشمہ گاہوں پر رکتے ہیں آ کر

جنھیں سیریِ جاں کی پوشیدہ راہوں کی ساری خبر ہے!

یہ تسلیم، سائے نے تجھ کو

وہ پہنائیاں دیں

افق سے بلند اور بالا

جو تیری نگاہوں کے مرئی حجابوں میں پنہاں رہی تھیں،

وہ اسرار تجھ پر ہویدا کیے، جن کا ارماں

فلاطوں سے اقبال تک سب کے سینوں کی دولت رہا ہے؛

وہ اشعار تجھ کو سنائے، جو حاصل ہیں ورجل سے لے کر

سبک مایہ راشد کے سوز و دروں کا

کہ تُو بھول جائے وہ صرصر، وہ گرداب جن میں

تری زندگی واژگوں تھی،

تری زندگی خاک و خوں تھی!

تُو اسرار و اشعار سنتی رہی ہے،

مگر دل ہی دل میں تُو ہنستی رہی ہے

تو سیّال پیکر سے، سائے سے، غم کے کنائے سے کیا پا سکے گی؟

جب اس کے ورا، اس سے زندہ توانا بدن

رنگ و لذت کے مخزن، ہزاروں

تمنا کے مامن ہزاروں!

کبھی خواب آلودہ سائے کی مہجور و غم دیدہ آنکھیں

ترے خشک مژگاں کو رنجور و نم دیدہ کرتی رہی ہیں

تو پھر بھی تُو ہنستی رہی ہے!

ن م راشد

سالگرہ کی رات

آج دروازے کھُلے رہنے دو

یاد کی آگ دہک اٹھی ہے

شاید اس رات ہمارے شہدا آ جائیں

آج دروازے کھلے رہنے دو

جانتے ہو کبھی تنہا نہیں چلتے ہیں شہید؟

میں نے دریا کے کنارے جو پرے دیکھے ہیں

جو چراغوں کی لویں دیکھی ہیں

وہ لویں بولتی تھیں زندہ زبانوں کی طرح

میں نے سرحد پہ وہ نغمات سنے ہیں کہ جنہیں

کون گائے گا شہیدوں کے سوا؟

میں نے ہونٹوں پہ تبسّم کی نئی تیز چمک دیکھی ہے

نور جس کا تھا حلاوت سے شرابور

اذانوں کی طرح!

ابھی سرحد سے میں لوٹا ہوں ابھی،

مَیں ابھی ہانپ رہا ہوں مجھے دم لینے دو

راز وہ اُن کی نگاہوں میں نظر آیا ہے

جو ہمہ گیر تھا نادیدہ زمانوں کی طرح!

یاد کی آگ دہک اٹھی ہے

سب تمنّاؤں کے شہروں میں دہک اٹھی ہے

آج دروازے کھلے رہنے دو

شاید اس رات ہمارے شہدا آ جائیں!

وقت کے پاؤں الجھ جاتے ہیں آواز کی زنجیروں سے

اُن کی جھنکار سے خود وقت جھنک اٹھتا ہے

نغمہ مرتا ہے کبھی، نالہ بھی مرتا ہے کبھی؟

سنسناہٹ کبھی جاتی ہے محبت کے بجھے تیروں سے؟

میں نے دریا کے کنارے انہیں یوں دیکھا ہے ۔۔

میں نے جس آن میں دیکھا ہے انہیں

شاید اس رات،

اس شام ہی،

دروازوں پہ دستک دیں گے!

شہدا اتنے سبک پا ہیں کہ جب آئیں گے

نہ کسی سوئے پرندے کو خبر تک ہو گی

نہ درختوں سے کسی شاخ کے گرنے کی صدا گونجے گی

پھڑپھڑاہٹ کسی زنبور کی بھی کم ہی سنائی دے گی

آج دروازے کھلے رہنے دو!

ابھی سرحد سے میں لوٹا ہوں ابھی

پار جو گزرے گی اس کا ہمیں غم ہی کیوں ہو؟

پار کیا گزرے گی، معلوم نہیں ۔۔

ایک شب جس میں

پریشانیِ آلام سے روحوں پہ گرانی طاری

روحیں سنسان، یتیم

اُن پہ ہمیشہ کی جفائیں بھاری

بوئے کافور اگر بستے گھروں سے جاری

بے پناہ خوف میں رویائےشکستہ کی فغاں اٹھے گی

بجھتی شمعوں کا دھواں اٹھے گا ۔۔۔

پار جو گزرے گی معلوم نہیں ۔۔

اپنے دروازے کھُلے رہنے دو

ن م راشد

زوال

آہ پایندہ نہیں،

درد و لذت کا یہ ہنگامِ جلیل!

پھر کئی بار ابھی آئیں گے لمحاتِ جنوں

اس سے شدت میں فزوں، اس سے طویل

پھر بھی پائندہ نہیں!

آپ ہی آپ کسی روز ٹھہر جائے گا

تیرے جذبات کا دریائے رواں

تجھے معلوم نہیں،

کس طرح وقت کی امواج ہیں سرگرمِ خرام؟

تیرے سینے کا درخشندہ جمال

کر دیا جائے گا بیگانہ ءِ نور

نکہت و رنگ سے محرومِ دوام!

تجھے معلوم نہیں؟

اس دریچے میں سے دیکھ

خشک، بے برگ، المناک د رختوں کا سماں

کیسا دل دوز سکوت!

زیرِ لب نالہ کشِ جورِ خزاں

چودھویں رات کا مہتابِ جواں!

ان کے اس پار سے ہے نزد طلوع؛

تجھے معلوم نہیں،

ایک دن تیرا جنوں خیز شباب

تیرے اعضا کا جمال

کر دیا جائے گا اس طرح سے محرومِ فسوں؟

اور پھر چاند کے مانند محبت کے خیال

سارے اس عہد کے گزرے ہوئے خواب

تیرے ماضی کے افق پر سے ہویدا ہوں گے

تجھے معلوم نہیں!

ن م راشد