زمرہ جات کے محفوظات: شعراء

اردو ادب کے نام ور شعراء

ہجر میں کرنا ہے کیا یہ تو بتاتے جائیے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 236
ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے جائیے
ہجر میں کرنا ہے کیا یہ تو بتاتے جائیے
بن کے خوشبو کی اداسی رہیے دل کے باغ میں
دور ہوتے جائیے نزدیک آتے جائیے
جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجیے مرا
یاد کا سر و ساماں جلاتے جائیے
رہ گئی امید تو برباد ہو جاؤں گا میں
جائیے تو پھر مجھے سچ مچ بھلاتے جائیے
زندگی کی انجمن کا بس یہی دستور ہے
بڑھ کے ملیے اور مل کر دور جاتے جائیے
آخری رشتہ تو ہم میں اک خوشی اک غم کا تھا
مسکراتے جائیے آنسو بہاتے جائیے
وہ گلی ہے اک شرابی چشم کافر کی گلی
اس گلی میں جائیے تو لرکھڑاتے جائیے
آپ کو جب مجھ سے شکوا ہی نہیں کوئی تو پھر
آگ ہی دل میں لگانی ہے لگاتے جائیے
کوچ ہے خوابوں سے تعبیروں کی سمتوں میں تو پھر
جائیے پر دم بہ دم برباد جاتے جائیے
آپ کا مہمان ہوں میں آپ میرے میزبان
سو مجھے زہرِ مروت تو پلاتے جائیے
ہے سرِ شب اور مرے گھر میں نہیں کوئی چراغ
آگ تو اس گھر میں جانا نہ لگاتے جائیے
جون ایلیا

خزاں سے کچھ نہیں ہوتا ، بہار دل میں رہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 235
فراق کیا ہے اگر ، یادِ یار دل میں رہے
خزاں سے کچھ نہیں ہوتا ، بہار دل میں رہے
گزار روز و شبِ وصل اک نگار کے ساتھ
وہ ہے ایک شبِ انتظار ،دل میں رہے
تو اپنی ذات کے باہر نہ بکھریو زنہار
فضا کو صاف رکھیو ، غبار دل میں رہے
نہ ہو اگر نہیں دیوار ہائے نقش و نگار
خیالِ پرتوِ نقش و نگار ، دل میں رہے
لبوں کا یہ ہے کہ رشتہ سبھی سے ہے انکا
بنے نہ جس سے لبوں کی وہ خار دل میں رہے
تو بیچ دے سرِ بازار ہوش دل اپنا
ہو اک خیال جو دیوانہ وار دل میں رہے
جون ایلیا

جو کچھ ہے یہاں آگ لگانے کے لیے ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 234
اک دل ہے جو جو ہر لمحہ جلانے کے لیے ہے
جو کچھ ہے یہاں آگ لگانے کے لیے ہے
اک بات ہی کہنی ہے مجھے تجھ سے، بس اک بات
اس شہر میں تُو صرف گنوانے کے لیے ہے
ہر شخص مری ذات سے جانے کے لیے تھا
تُو بھی تو مری ذات سے جانے کے لیے ہے
جو رنگ ہیں سہہ لے انہیں جو رنگ ہیں سہہ لے
یاں جو بھی ہنر ہے وہ کمانے کے لیے ہے
بودش جو ہے وہ ایک تماشہ ہے گماں کا
ہے جو بھی حقیقت وہ فسانے کے لیے ہے
ہنسنے سے کبھی خوش نہیں ہوتا ہے میرا دل
یاں مجھ کو ہنسانا بھی رُلانے کے لیے ہے
قاتل کو مرے مجھ سے نہیں ہے کوئی پَرخاش
قاتل تو مرا رنگ جمانے کے لیے ہے
جون ایلیا

اک دم سے بُھولنا اسے پھر ابتدا سے ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 233
بے انتہائی شیوہ ہمارا سدا سے ہے
اک دم سے بُھولنا اسے پھر ابتدا سے ہے
یہ شام جانے کتنے ہی رشتوں کی شام ہو
اک حُزن دل میں نکہتِ موجِ صبا سے ہے
دستِ شجر کی تحفہ رسانی ہے تا بہ دل
اس دم ہے جو بھی دل میں مرے وہ ہوا سے ہے
جیسے کوئی چلا بھی گیا ہو اور آئے بھی
احساس مجھ کو کچھ یہی ہوتا فضا سے ہے
دل کی سہولتیں ہیں عجب ، مشکلیں عجب
ناآشنائی سی عجب اک آشنا سے ہے
اس میں کوئی گِلہ ہی روا ہے نہ گفتگو
جو بھی یہاں کسی کا سخن ہے وہ جا سے ہے
جون ایلیا

مجھے فرقت سکھائی جا رہی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 232
تری قیمت گھٹائی جا رہی ہے
مجھے فرقت سکھائی جا رہی ہے
یہ ہے تعمیرِ دنیا کا زمانہ
حویلی دل کی ڈھائی جا رہی ہے
وہ شے جو صرف ہندوستان کی تھی
وہ پاکستان لائی جا رہی ہے
کہاں کا دین۔۔کیسا دین۔۔کیا دین
یہ کیا گڑ بڑ مچائی جا رہی ہے
شعورِ آدمی کی سر زمیں تک
خدا کی اب دُہائی جا رہی ہے
بہت سی صورتیں منظر میں لا کر
تمنا آزمائی جا رہی ہے
مجھے اب ہوش آتا جا رہا ہے
خدا تیری خدائی جا رہی ہے
نہیں معلوم کیا سازش ہے دل کی
کہ خود ہی مات کھائی جا رہی ہے
***
نئی خواہش رچائی جا رہی ہے
تیری فرقت منائی جا رہی ہے
ہے ویرانی کی دھوپ اور ایک آنگن
اور اس پر لُو چلائی جا رہی ہے
نبھائی تھی نہ ہم نے جانے کس سے
کہ اب سب سے نبھائی جا رہی ہے
کہاں لذت وہ سوزِ جستجو کی
یہاں ہر چیز پائی جا رہی ہے
سُن اے سورج جدائی موسموں کے
میری کیاری جلائی جا رہی ہے
بہت بدحال ہیں بستی، تیرے لوگ
تو پھر تُو کیوں سجائی جا رہی ہے
خوشا احوال اپنی زندگی کا
سلیقے سے گنوائی جا رہی ہے
جون ایلیا

پِیا جی کی سواری جا رہی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 231
چلو بادِ بہاری جا رہی ہے
پِیا جی کی سواری جا رہی ہے
شمالِ جاودانِ سبز جاں سے
تمنا کی عماری جا رہی ہے
فغاں اے دشمنی دارِ دل و جاں
مری حالت سُدھاری جا رہی ہے
جو اِن روزوں مراغم ہے وہ یہ ہے
کہ غم سے بُردباری جا رہی ہے
ہے سینے میں عجب اک حشر برپا
کہ دل سے بے قراری جا رہی ہے
میں پیہم ہار کر یہ سوچتا ہے
وہ کیا شہ ہے جو ہاری جا رہی ہے
دل اُس کے رُوبرو ہے اور گُم صُم
کوئی عرضی گزاری جا رہی ہے
وہ سید بچہ ہو اور شیخ کے ساتھ
میاں عزت ہماری جا رہی ہے
ہے برپا ہر گلی میں شورِ نغمہ
مری فریاد ماری جا رہی ہے
وہ یاد اب ہو رہی ہے دل سے رُخصت
میاں پیاروں کی پیاری جا رہی ہے
دریغا ! تیری نزدیکی میاں جان
تری دوری پہ واری جا رہی ہے
بہت بدحال ہیں بستی ترے لوگ
تو پھر تُو کیوں سنواری جا رہی ہے
تری مرہم نگاہی اے مسیحا!
خراشِ دل پہ واری جا رہی ہے
خرابے میں عجب تھا شور برپا
دلوں سے انتظاری جا رہی ہے
جون ایلیا

یعنی جاناں دل کا تقاضا آہ بھی ہے فریاد بھی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 230
ہے رنگِ ایجاد بھی دل میں اور زخم ایجاد بھی ہے
یعنی جاناں دل کا تقاضا آہ بھی ہے فریاد بھی ہے
تیشہ ناز نے میری انا کے خوں کی قبا پہنائی مجھے
میں جو ہوں پرویز ہوں اک جو ظالم فرہاد بھی ہے
منحصر اس کی منشا پر ہے کس طور اس سے پیش آؤں
قید میری بانہوں میں وہ ہو کر وہ قاتل آزاد بھی ہے
جون جدا تو رہنا ہو گا تجھ کو اپنے یاروں بیچ
یار ہی تو یاروں کا نہیں ہے یاروں کا استاد بھی ہے
ساری ردیفیں بھی حاضر ہیں پھر ساری ترکیبیں بھی
اور تمہیں کیا چاہیئے یارو، حاصل میری داد بھی ہے
جون ایلیا

میں نے خود سے نباہ کر لی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 229
آخری بار آہ کر لی ہے
میں نے خود سے نباہ کر لی ہے
اپنے سر اک بلا تو لینی تھی
میں نے وہ زُلف اپنے سر لی ہے
دن بھلا کس طرح گزاروگے
وصل کی شب بھی اب گزر لی ہے
جاں نثاروں پہ وار کیا کرنا
میں نے بس ہاتھ میں سِپر لی ہے
جو بھی مانگو اُدھار دوں گا میں
اُس گلی میں دکان کر لی ہے
میرا کشکول کب سے خالی تھا
میں نے اُس میں شراب بھر لی ہے
اور تو کچھ نہیں کیا میں نے
اپنی حالت تباہ کر لی ہے
شیخ آیا تھا محتسب کو لئے
میں نے بھی ان کی وہ خبر لی ہے
جون ایلیا

یہ اداسی کہاں سے آتی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 228
روح پیاسی کہاں سے آتی ہے
یہ اداسی کہاں سے آتی ہے
ایک زندانِ بے دلی اور شام
یہ صبا سی کہاں سے آتی ہے
تو ہے پہلو میں پھر تری خوشبو
ہو کے باسی کہاں سے آتی ہے
جون ایلیا

یہ دنیا اب تمہاری ہو گئی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 227
عجب حالت ہماری ہو گئی ہے
یہ دنیا اب تمہاری ہو گئی ہے
سخن میرا اداسی ہے سرِ شام
جو خاموشی پہ طاری ہو گئی ہے
بہت ہی خوش ہے دل اپنے کیے پر
زمانے بھر میں خواری ہو گئی ہے
وہ نازک لب ہے اب جانے ہی والا
مری آواز بھاری ہو گئی ہے
دل اب دنیا پہ لعنت کر کہ اس کی
بہت خدمت گزاری ہو گئی ہے
یقیں معزور ہے اب اور گماں بھی
بڑی بے روزگاری ہو گئی ہے
وہ اک بادِ شمالی رنگ جو تھی
شمیم اس کی سواری ہو گئی ہے
مرے پاس آکے خنجر بھونک دے تُو
بہت نیزہ کزاری ہو گئی ہے
جون ایلیا

ہے دستِ فتنہ اور گریبانِ فتنہ ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 226
کیوں غم کریں جو شہر میں طوفانِ فتنہ ہے
ہے دستِ فتنہ اور گریبانِ فتنہ ہے
درمانِ فتنہ کے لئے ہے سر بہ جیب کیوں
فتنی اٹھا کہ فتنی ہی درمانِ فتنہ ہے
لب وا ہوئے کہ فتنہ فضا تا فضا پڑا
یہ جنبشِ نفس ہے کہ طغیانِ فتنہ ہے
بےجان ہیں یہ سارے بدن ہائے رقصِ شب
ہائے وہ اک بدن جو بدن جانِ فتنہ ہے
مت جا قریب پاسِ نشیب و فراز ہے
یہ پہلوئے فساد ہے، پستانِ فتنہ ہے
بھاگ اپنے سائے سے کہ بنایا گیا ہے یہ
سائے میں ایک پرتوِ پنہانِ فتنہ ہے
اس کے بدن میں کیسے اماں مل گئی تجھے
جو تشنگی کی جان ہے، جانانِ فتنہ ہے
آثار تک نہیں کسی فتنے کے دور تک
فارغ نہ بیٹھو کہ یہی آنِ فتنہ ہے
نکلا بھی جونؔ وقت پہ سورج گیا بھی ڈوب
آں سوئے کہکشاں کوئی سامانِ فتنہ ہے
جون ایلیا

خونیں جگروں ، سینہ فگاروں سے گلہ ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 225
یارو نگہ یار کو ، یاروں سے گلہ ہے
خونیں جگروں ، سینہ فگاروں سے گلہ ہے
جاں سے بھی گئے ، بات بھی جاناں کی نہ سمجھی
جاناں کو بہت عشق کے ماروں سے گلہ ہے
اب وصل ہو یا ہجر ، نہ اب تک بسر آیا
اک لمحہ ، جسے لمحہ شماروں سے گلہ ہے
اڑتی ہے ہر اک شور کے سینے سے خموشی
صحراؤں پر شور دیاروں سے گلہ ہے
بیکار کی اک کارگزاری کے حسابوں
بیکار ہوں اور کار گزاروں سے گلہ ہے
میں آس کی بستی میں گیا تھا سو یہ پایا
جو بھی ہے اسے اپنے سہاروں سے گلہ ہے
بے فصل اشاروں سے ہوا خون جنوں کا
ان شوخ نگاہوں کے اشاروں سے گلہ ہے
جون ایلیا

دل کواب دل دہی سے خطرہ ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 224
عیشِ اُمید ہی سے خطرہ ہے
دل کواب دل دہی سے خطرہ ہے
ہے کچھ ایسا کہ اس کی جلوت میں
ہمیں اپنی کمی سے خطرہ ہے
جس کے آغوش کا ہوں دیوانہ
اس کے آغوش ہی سے خطرہ ہے
یاد کی دھوپ تو ہے روز کی بات
ہاں مجھے چاندنی سے خطرہ ہے
ہے عجب کچھ معاملہ درپیش
عقل کو آ گہی سے خطرہ ہے
شہر غدار جان لے کہ تجھے
ایک امروہوی سے خطرہ ہے
ہے عجب طورِ حالتِ گریہ
کہ مژہ کو نمی سے خطرہ ہے
حال خوش لکھنو کا دلّی کا
بس انہیں مصحفی سے خطرہ ہے
آسمانوں میں ہے خدا تنہا
اور ہر آدمی سے خطرہ ہے
میں کہوں کس طرح یہ بات اس سے
تجھ کو جانم مجھی سے خطرہ ہے
آج بھی اے کنارِ بان مجھے
تیری اک سانولی سے خطرہ ہے
ان لبوں کا لہو نہ پی جاؤں
اپنی تشنہ لبی سے خطرہ ہے
جون ہی تو ہے جون کے درپے
میر کو میر ہی سے خطرہ ہے
اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
جون ایلیا

جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 223
کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے
جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے
میں سکون پا سکوں گا یہ گماں بھی کیوں کیا تھا
ہے یہی ملال کیا کم کہ ملال اب نہیں ہے
نہ رہے اب اس کے دل میں خلشِ شکستِ وعدہ
کہ یہاں کوئی حسابِ مہ و سال اب نہیں ہے
یہ دیارِ دید کیا ہے گئے دشتِ دل سے بھی ہم
کہ ختن زمین میں بھی وہ غزال اب نہیں ہے
جو لیے لیے پھری ہے تجھے روز اک نگر میں
مرے دل ترے نگر میں وہ مثال اب نہیں ہے
لبِ پُرسوال لے کے ہمیں کُوبہ کُو ہے پِھرنا
ہو کوئی جواب برلب یہ سوال اب نہیں ہے
جون ایلیا

کس نے عذاب جاں سہا کون عذاب جاں میں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 222
ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے
کس نے عذاب جاں سہا کون عذاب جاں میں ہے
لمحہ بہ لمحہ دم بہ دم آن بہ آن رم بہ رم
میں بھی گزشتگاں میں ہوں تو بھی گزشتگاں میں ہے
آدم و ذات کبریا کرب میں ہیں جدا جدا
کیا کہوں ان کا ماجرا جو بھی ہے امتحاں میں ہے
شاخ سے اڑ گیا پرند ہے دل شام درد مند
صحن میں ہے ملال سا حزن سا آسماں میں ہے
خودمیں بھی بےاماں ہوں میں،تجھ میں بھی بےاماں ہوں میں
کون سہے گا اس کا غم وہ جو مری اماں میں ہے
کیسا حساب کیا حساب حالت حال ہے عذاب
زخم نفس نفس میں ہے زہر زماں زماں میں ہے
اس کا فراق بھی زیاں اس کا وصال بھی زیاں
ایک عجیب کشمکش حلقہ بے دلاں میں ہے
بود نبود کا حساب میں نہیں جانتا مگر
سارے وجود کی نہیں میرے عدم کی ہاں میں ہے
جون ایلیا

اُس کی خوشبو، نفس نفس میں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 221
اب جنوں کب کسی کے بس میں ہے
اُس کی خوشبو، نفس نفس میں ہے
حال اس صید کا سنایئے کیا ؟
جس کا صیاد خود قفس میں ہے
کیا ہے گر زندگی کا بس نہیں چلا
زندگی کب کسی کے بس میں ہے
غیر سے رہیو تُو ذرا ہشیار
وہ ترے جسم کی ہوس میں ہے
پاشکستہ پڑا ہوں مگر
دل کسی نغمہِ جرس میں ہے
جون ہم سب کی دسترس میں ہیں
وہ بھلا کس کی دسترس میں ہے
جون ایلیا

از زمیں تا بہ آسماں خوں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 220
زیرِ محراب ابرواں خوں ہے
از زمیں تا بہ آسماں خوں ہے
ایک بسمل کا رقصِ رنگ تھا آج
سرِ مقتل جہاں تہاں خوں ہے
زخم کے خرمنوں کا مژدہ ہو
آب۔ کشت بلا کشاں خوں ہے
سادہ پوشانِ عیدِ شوق، نوید
آبِ حوض نمازیاں خوں ہے
باب ہے حسرتوں کی محنت گاہ
دل یارانہ خوں فشاں خوں ہے
زخم انگیز ہے خراشِ امید
ہے دیدار۔ گل رخاں خوں ہے
ہو گئے باریاب اہل غرض
روئے دہلیز و آسماں خوں ہے
دل خونیں ہے میزباں
عمدہ خوانِ میزبان خوں ہے
فصل آئی ہے رنگِ مستوں کی
تابہ دیوارِ گلستاں خوں ہے
ہر تماشائی مدعی ٹھہرا
پر تو زخمِ خوں چکا خوں ہے
میں ہوں بے داغ دامناں محتاط
نفسِ خوں گرفتگاں خوں ہے
غنچہ ہا زخم، زخم ہا الماس
شبنم باغ امتحاں خوں ہے
اس طرف کوہکن ادھر شیریں
اور دونوں کے درمیاں خوں ہے
بے دلوں کو نہ چھیڑیو کہ یہ قوم
امتِ شوق رائیگاں خوں ہے
جون ایلیا

با صد ہزار رنگ، وہ بے غازہ ہے، سو ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 219
بے یک نگاہ بے شوق بھی، اندازہ ہے، سو ہے
با صد ہزار رنگ، وہ بے غازہ ہے، سو ہے
ہوں شامِ حال یک طرفہ کا امیدِ مست
دستک؟ سو وہ نہیں ہے، پہ دروازہ ہے، سو ہے
آواز ہوں جو ہجرِ سماعت میں ہے سکوت
پر اس سکوت پر بھی اک آوازہ ہے، سو ہے
اک حالتِ جمال پر جاں وارنے کو ہوں
صد حالتی میری، میری طنازہ ہے، سو ہے
شوقِ یقیں گزیدہ ہے اب تک یقیں مرا
یہ بھی کسی گمان کا خمیازہ ہے، سو ہے
ا خلوتِ وصال میں یہ حسرتِ وصال
اک خواہشِ وصال کی غمّازہ ہے، سو ہے
تھی یک نگاہِ شوق میری تازگی رُبا
اپنے گماں میں اب بھی کوئی تازہ ہے، سو ہے
جون ایلیا

ہے آگ جامہ زیب۔۔دھواں بے لباس ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 218
بخشش ہوا یقین۔۔گماں بے لباس ہے
ہے آگ جامہ زیب۔۔دھواں بے لباس ہے
ہے یہ فضا ہزار لباسوں کا اک لباس
جو بے لباس ہے وہ کہاں بے لباس ہے
ملبوس تار تارِ نفس ہے زیانِ سود
سُودِ زیان یہ ہے کہ زیاں بے لباس ہے
محمل نشینِ رنگ! کوئی پوستینِ رنگ
ریگِ رواں ہوں۔۔ریگِ رواں بے لباس ہے
اب پارہ پارہ پوششِ گفتار بھی نہیں
ہیں سانس بے رفو سو زیاں بے لباس ہے
صد جامہ پوش جس کا ہے جسم برہنہ ابھی
خلوت سرائے جاں میں وہ جاں بے لباس ہے
ہے دل سے ہر نفس ہوسِ دید کا سوال
خلوت ہے وہ کہاں۔۔وہ جہاں بے لباس ہے
ہے بُود اور نبود میں پوشش نہ پیرہن
یاراں مکین کیا کہ مکاں بے لباس ہے
تُو خود ہی دیکھ رنگِ بدن اپنا جوش رنگ
تُو اپنے ہر لباس میں جاں بے لباس ہے
غم کی برہنگی کو کہاں سے جُڑے لباس
میں لب سیے ہوئے ہوں۔۔فغاں بے لباس ہے
جون ایلیا

زندگی اک زیاں کا دفتر ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 217
نہ تو دل کا نہ جاں کا دفتر ہے
زندگی اک زیاں کا دفتر ہے
پڑھ رہا ہوں میں کاغذاتِ وجود
اور نہیں اور ہاں کا دفتر ہے
کوئی سوچے تو سوزِ کربِ جاں
سارا دفتر گماں کا دفتر ہے
ہم میں سے کوئی تو کرے اصرار
کہ زمیں، آسماں کا دفتر ہے
ہجر تعطیلِ جسم و جاں ہے میاں
وصل، جسم اور جاں کا دفتر ہے
ہے جو بود اور نبود کا دفتر
آخرش یہ کہاں کا دفتر ہے
جو حقیقت ہے دم بدم کی یاد
وہ تو اک داستاں کا دفتر ہے
ہو رہا ہے گزشتگاں کا حساب
اور آئیندگاں کا دفتر ہے
جون ایلیا

کہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 216
بجا ارشاد فرمایا گیا ہے
کہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہے
عنایت کی ہیں ناممکن امدیں
کرم ایجاد فرمایا گیا ہے
ہیں ہم اب اور زد ہے حادثوں کی
ہمیں آزاد فرمایا گیا ہے
ذرا اس کی پراحوالی تو دیکھیں
جسے برباد فرمایا گیا ہے
نسیمِ سبزگی تھے ہم، سو ہم کو
غبار افتاد فرمایا گیا ہے
سند بخشی ہے عشقِ بے غرض کی
بہت ہی شاد فرمایا گیا ہے
سلیقے کو لبِ فریاد تیرے
ادا کی داد فرمایا گیا ہے
کہاں ہم اور کہاں حسنِ سرِ بام
ہمیں بنیاد فرمایا گیا ہے
جون ایلیا

سو پیہم گنگنایا جا رہا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 215
گِلے سے باز آیا جا رہا ہے
سو پیہم گنگنایا جا رہا ہے
نہیں مطلب کسی پہ طنز کرنا
ہنسی میں مسکرایا جا رہا ہے
وہاں اب میں کہاں اب تو وہاں سے
مرا سامان لایا جا رہا ہے
عجب ہے ایک حالت سی ہوا میں
ہمیں جیسے گنوایا جا رہا ہے
اب اس کا نام بھی کب یاد ہو گا
جسے ہر دَم بُھلایا جا رہا ہے
چراغ اس طرح روشن کر رہا ہوں
کہ جیسے گھر جلایا جا رہا ہے
بَھلا تم کب چلے تھے یوں سنبھل کر
کہاں سے اُٹھ کے جایا جا رہا ہے
تو کیا اب نیند بھی آنے لگی ہے
تو بستر کیوں بِچھایا جا رہا ہے
جون ایلیا

رہیو بہم خود میں یہاں، شہر بگولوں کا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 214
اے نفس آشفتگاں! شہر بگولوں کا ہے
رہیو بہم خود میں یہاں، شہر بگولوں کا ہے
دھول ہے ساری زمیں، دھند ہے سب آسماں
شکل کی صورت کہاں؟ شہر بگولوں کا ہے
گرد کی شکلیں سی دو ہونے کو ہیں ہمکنار
بیچ میں ہیں آندھیاں، شہر بگولوں کا ہے
گرد ہیں تعمیر کی ساری فلک بوسیاں
گرد میں ہوُ کا مکاں، شہر بگولوں کا ہے
ہیں اسی دم رُوبرُو، پھر نہ کوئی میں نہ توُ
اُس پہ وعدے بھی جاں ؟ شہر بگولوں کا ہے
اب سے ہے جو اب تلک، سود میں ہے وہ پلک
کس کا زیاں، کیا زیاں، شہر بگولوں کا ہے
ایک نفس ہی سہی، اس کی ہوس ہی سہی
رشتہ ہو اک درمیاں، شہر بگولوں کا ہے
دھند ہے بکھراو ہے، دھول ہے اندھیاو ہے
خود سے لگا چل میاں، شہر بگولوں کا ہے
ہائیں یہ آشفتگی، پائے نہ جاو گے پھر
شہر یہ آشفتگاں، شہر بگولوں کا ہے
وہم گماں کا گماں، عیشِ یقیں ہے یہاں
یہ بھی گماں ہے گماں، شہر بگولوں کا ہے
جون ایلیا

وہ رنگِ رُخ ہے کہ خود غازہ مست رہتا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 212
مہک سے اپنی گَلِ تازہ مست رہتا ہے
وہ رنگِ رُخ ہے کہ خود غازہ مست رہتا ہے
نگاہ سے کبھی گزرا نہیں وہ مست انداز
مگر خیال سے، اندازہ مست رہتا ہے
کہاں سے ہے رَسدِ نشہ، اس کی خلوت میں
کہ رنگ مست کا اندازہ مست رہتا ہے
یہاں کبھی کوئی آیا نہیں مگر سرِ شام
بس اک گمان سے دروازہ مست رہتا ہے
مجھے خیال کی مستی میں کس کا اندازہ
خدا نہیں جو باندازہ مست رہتا ہے
جون ایلیا

میرے دل سے غبار اٹھتا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 211
بزم سے جب نگار اٹھتا ہے
میرے دل سے غبار اٹھتا ہے
میں جو بیٹھا ہوں تو وہ خوش قامت
دیکھ لو! بار بار اٹھتا ہے
تیری صورت کو دیکھ کر مری جاں
خود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے
اس کی گُل گشت سے روش بہ روش
رنگ ہی رنگ یار اٹھتا ہے
تیرے جاتے ہی اس خرابے سے
شورِ گریہ ہزار اٹھتا ہے
کون ہے جس کو جاں عزیز نہیں؟
لے ترا جاں نثار اٹھتا ہے
صف بہ صف آ کھڑے ہوئے ہیں غزال
دشت سے خاکسار اٹھتا ہے
ہے یہ تیشہ کہ ایک شعلہ سا
بر سرِ کوہسار اٹھتا ہے
کربِ تنہائی ہے وہ شے کہ خدا
آدمی کو پکار اٹھتا ہے
تو نے پھر کَسبِ زَر کا ذکر کیا
کہیں ہم سے یہ بار اٹھتا ہے
لو وہ مجبورِ شہر صحرا سے
آج دیوانہ وار اٹھتا ہے
اپنے ہاں تو زمانے والوں کا
روز ہی اعتبار اٹھتا ہے
جون اٹھتا ہے، یوں کہو، یعنی
میر و غالب کا یار اٹھتا ہے
جون ایلیا

ساری دنیا فقط کہانی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 210
دل کو اک بات کہہ سنانی ہے
ساری دنیا فقط کہانی ہے
تو میری جان داستان تھا کبھی
اب تیرا نام داستانی ہے
سہہ چکے زخمِ التفات تیرا
اب تیری یاد آزمانی ہے
اک طرف دل ہے، اک طرف دنیا
یہ کہانی بہت پرانی ہے
تھا سوال ان کی اداس آنکھوں کا
زندگی کیا نہیں گنوانی ہے
کیا بتاؤں میں اپنے پاسِ انا
میں نے ہنس ہنس کر ہار مانی ہے
ہوس انگیز ہے بدن میرا
ہائے میری ہوس کہ فانی ہے
زندگی کس طرح سے گزاروں میں
مجھ کو روزی نہیں کمانی ہے
جون ایلیا

باقی کو کیا کرنا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 209
مجھ کو تو گِر کے مرنا ہے
باقی کو کیا کرنا ہے
شہر ہے چہروں کی تمثیل
سب کا رنگ اترنا ہے
وقت ہے وہ ناٹک جس میں
سب کو ڈرا کر ڈرنا ہے
میرے نقشِ ثانی کو
مجھ میں ہی سے اُبھرنا ہے
کیسی تلافی کیا تدبیر
کرنا ہے اور بھرنا ہے
جو نہیں گزرا ہے اب تک
وہ لمحہ تو گزرنا ہے
اپنے گماں کا رنگ تھا میں
اب یہ رنگ بکھرنا ہے
ہم دو پائے ہیں سو ہمیں
میز پہ جا کر چرنا ہے
چاہے ہم کچھ بھی کر لیں
ہم ایسوں کو سُدھرنا ہے
ہم تم ہیں اک لمحہ کے
پھر بھی وعدہ کرنا ہے
جون ایلیا

زندگی حالتِ جدائی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 208
لمحے لمحے کی نارسائی ہے
زندگی حالتِ جدائی ہے
مردِ میدان ہوں اپنی ذات کا میں
میں نے سب سے شکست کھائی ہے
اک عجب حال ہے کہ اب اس کو
یاد کرنا بھی بے وفائی ہے
اب یہ صورت ہے جانِ جاں کہ تجھے
بھولنے میں مری بھلائی ہے
خود کو بھولا ہوں، اُس کو بھولا ہوں
عمر بھر کی یہی کمائی ہے
میں ہنر مندِ رنگ ہوں میں نے
خون تھوکا ہے داد پائی ہے
جانے یہ تیرے وصل کے ہنگام
تیری فرقت کہاں سے آئی ہے
جون ایلیا

وصل ہے اور فراق طاری ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 207
بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق طاری ہے
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
بن تمہارے کبھی نہیں آئی
کیا مری نیند بھی تمھاری ہے
اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں
رات دن تیری انتطاری ہے
ایک مہک سمت دل سے آئی تھی
میں یہ سمجھا تری سواری ہے
خوش رہے تو کہ زندگی اپنی
عمر بھر کی امید واری ہے
جون ایلیا

بس اک دیوار ہے اور بے دری ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 206
گماں کی اک پریشاں منظری ہے
بس اک دیوار ہے اور بے دری ہے
اگرچہ زہر ہے دنیا کی ہر بات
میں پی جاؤں اسی میں بہتری ہے
تُو اے بادِ خزاں اس گُل سے کہیو
کہ شاخ اُمید کی اب تک ہری ہے
گلی میں اس نگارِ ناشنو کی
فغاں کرنا ہماری نوکری ہے
کوئی لہکے خیابانِ صبا میں
یہاں تو آگ سینے میں بھری ہے
جون ایلیا

کہ ہر نفس، نفسِ آخرِ بہاراں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 205
غبارِ محمل گل پر ہجوم یاراں ہے
کہ ہر نفس، نفسِ آخرِ بہاراں ہے
بتاؤ وجد کروں یا لبِ سخن کھولوں
ہوں مستِ راز اور انبوہ رازداراں ہے
مٹا ہوا ہوں شباہت پہ نامداروں کی
چلا ہوں کہ یہی وضعِ نامداراں ہے
چلا ہوں پھر سرِ کوئے دراز مژگاں
مرا ہنر زخم تازہ داراں ہے
یہی وقت کہ آغوش دار رقص کروں
سرورِ نیم شبی ہے صفِ نگاراں ہے
ہوا ہے وقت کہیں سے علیم کو لاؤ
ہے ایک شخص جو کمبخت یارِ یاراں ہے
فراق یار کو ٹھیرا لیا ہے عذرِ ہوس
کوئی بتاؤ یہی رسمِ سوگواراں ہے
جون ایلیا

میرا اک زخم شام کرتا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 204
رنگ بادِ صبا میں بھرتا ہے
میرا اک زخم شام کرتا ہے
سب یہی پوچھتے ہیں مجھ سے کہ تو
کیوں سدھارے نہیں سدھرتا ہے
روز شام و سحر کی راہوں سے
ایک انبوہ کیوں گزرتا ہے ؟
آئینے تیرے سامنے وہ شخص
اب بھلا کیوں نہیں سنورتا ہے
ایلیا جون کچھ نہیں کرتا
صرف خوشبو میں رنگ بھرتا ہے
جون ایلیا

دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 203
ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے
رنگ موسم ہے اور باد صبا
شہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے
فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں
میز پر گرد جمتی جاتی ہے
سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر
اب کسے رات بھر جگاتی ہے
میں بھی اذن نواگری چاہوں
بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے
سو گئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو
زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے
اس سراپا وفا کی فرقت میں
خواہش غیر کیوں ستاتی ہے
آپ اپنے سے ہم سخن رہنا
ہمنشیں! سانس پھول جاتی ہے
کیا ستم ہے کہ اب تری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
جون ایلیا

تیرے ساتھ تری یاد آئی، تو کیا سچ مچ آئی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 202
تو بھی چپ ہے، میں بھی چپ ہوں، یہ کیسی تنہائی ہے
تیرے ساتھ تری یاد آئی، تو کیا سچ مچ آئی ہے
شاید وہ دن پہلا دن تھا، پلکیں بوجھل ہونے کا
مجھ کو دیکھتے ہی اس کی انگڑائی شرمائی ہے
اس دن پہلی بار ہوا تھا مجھ کو رفاقت کا احساس
جب اس کے ملبوس کی خوشبو گھر پہنچانے آئی ہے
حسن سے عرضِ شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے
ہم نے عرضِ شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے
ہم کو اور تو کچھ نہیں سوجھا البتہ اس کے دل میں
سوزِ رفاقت پیدا کر کے اس کی نیند اڑائی ہے
ہم دونوں مل کر بھی دلوں کی تنہائی میں بھٹکیں گے
پاگل کچھ تو سوچ یہ تو نے کیسی شکل بنائی ہے
عشقِ پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے
کیاری میں پانی ٹھیرا ہے، دیواروں پر کائی ہے
حسن کے جانے کتنے چہرے، حسن کے جانے کتنے نام
عشق کا پیشہ حسن پرستی، عشق بڑا ہرجائی ہے
آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا
جوں ہی دروازہ کھولا ہے اس کی خوشبو آئی ہے
ایک تو اتنا حبس ہے پھر میں سانسیں روک کے بیٹھا ہوں
ویرانی نے جھاڑو دے کر گھر کی دھول اڑائی ہے
جون ایلیا

یہ تو آشوب ناک صورت ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 201
کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے
یہ تو آشوب ناک صورت ہے
انجمن میں کیا یہ میری خاموشی
بردباری نہیں ہے وحشت ہے
طنز پیرایہ ءِ تبسم میں
اس تکلف کی کیا ضرورت ہے
تجھ سے یہ گا ہ گاہ کا شکوہ
جب تلک ہے بسا غنیمت ہے
گرم جوشی اور اس قدر کیا بات!
کیا تمہیں مجھ سے کچھ شکایت ہے
تو بھی اے شخص کیا کرے آخر
مجھ کو سر پھوڑنے کی عادت ہے
اب نکل آؤ اپنے اندر سے
گھر میں سامان کی ضرورت ہے
ہم نے جانا تو ہم نے یہ جانا
جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے
خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں
یہ اذیت بڑی اذیت ہے
لوگ مصروف جانتے ہیں مجھے
ہاں مرا غم ہی میری فرصت ہے
آج کا دن بھی عیش سے گذرا
سر سے پا تک بدن سلامت ہے
جون ایلیا

کیاری میں پانی ٹھہرا ھے دیواروں پر کائی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 200
عشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے
کیاری میں پانی ٹھہرا ھے دیواروں پر کائی ہے
حسن کے جانے کتنے چہرے حسن کے جانے کتنے نام
عشق کا پیشہ حسن پرستی عشق بڑا ھرجائی ہے
آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا
جوں ھی دروازہ کھولا ھے اس کی خوشبو آئی ہے
ایک تو اتنا حبس ھے پھر میں سانسیں روکے بیٹھا ہوں
ویرانی نے جھاڑو دے کے گھر میں دھول اڑائی ہے
جون ایلیا

تیرے بدن کی جدائی بہت ستاتی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 199
کسی لباس کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے
تیرے بدن کی جدائی بہت ستاتی ہے
ترے گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو
تیری سفید چنبیلی تجھے بلاتی ہے
تیرے بغیر مجھے چین کیسے پڑتا
مرے بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
جون ایلیا

بس کوئی دم نہ بھرنے والے تھے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 198
وہ جو کیا کچھ نہ کرنے والے تھے
بس کوئی دم نہ بھرنے والے تھے
تھے گلے اور گرد باد کی شام
اور ہم سب بکھرنے والے تھے
وہ جو آتا تو اس کی خوشبو میں
آج ہم رنگ بھرنے والے تھے
صرف افسوس ہے یہ طنز نہیں
تم نہ سنوارے ، سنوارنے والے تھے
یوں تو مرنا ہے اک بار مگر
ہم کئی بار مرنے والے تھے
جون ایلیا

بلا کی حالتِ شوریدگی میں آئے تھے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 197
وہ اہلِ حال جو خود رفتگی میں آئے تھے
بلا کی حالتِ شوریدگی میں آئے تھے
کہاں گئے کبھی ان کی خبر تو لے ظالم
وہ بےخبر جو تیری زندگی میں آئے تھے
گلی میں اپنی گِلہ کر ہمارے آنے کا
کہ ہم خوشی میں نہیں سرخوشی میں آئے تھے
کہاں چلے گئے اے فصلِ رنگ و بُو وہ لوگ
جو زرد زرد تھے اور سبزگی میں آئے تھے
نہیں ہے جن کے سبب اپنی جانبری ممکن
وہ زخم ہم کو گزشتہ صدی میں آئے تھے
تمہیں ہماری کمی کا خیال کیوں آتا
ہزار حیف ہم اپنی کمی میں آئے تھے
جون ایلیا

پاؤں پھسلا تو آسمان میں تھے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 196
ہم کو سودا تھا سر کے مان میں تھے
پاؤں پھسلا تو آسمان میں تھے
ہے ندامت لہو نہ رویا دل
زخم دل کے کسی چٹان میں تھے
میرے کتنے ہی نام اور ہم نام
میرے اور میرے درمیان میں تھے
میرا خود پر سے اِعتماد اُٹھا
کتنے وعدے مری اُٹھان میں تھے
تھے عجب دھیان کے در و دیوار
گرتے گرتے بھی اپنے دھیان میں تھے
واہ! اُن بستیوں کے سنّاٹے
سب قصیدے ہماری شان میں تھے
آسمانوں میں گر پڑے یعنی
ہم زمیں کی طرف اُڑان میں تھے
جون ایلیا

ہم میں کچھ دلدار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 195
ہم جان و دل سے یار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
ہم میں کچھ دلدار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
آسان تھے سب کے لیئے جیسے سخن لب کے لئے
اپنے لئے دشوار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
اپنے سے ہم کو بیر تھا، خود اپنا آپا غیر تھا
اپنے سے ہم بیزار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
ہم کون تھے ہم کون تھے ، اندر سے تھےگلزار ہم
باہر سے ہم تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
رنگیں اداؤں کے لئے، شیریں نواؤں کے لئے
ہم سر بہ سر آزار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
جون ایلیا

وہ خون بھی تھوکے گا تو پرواہ نہ کریں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 194
سوچا ہے کہ اب کارِ مسیحا نہ کریں گے
وہ خون بھی تھوکے گا تو پرواہ نہ کریں گے
اس بار وہ تلخی ہے کہ روٹھے بھی نہیں ہم
اب کہ وہ کر لیتی ہے کہ جھگڑا نہ کریں گے
یاں اس کے سلیقے کے ہیں آثار تو کیا ہم
اس پر بھی یہ کمرا تہ و بالا نہ کریں گے
اب نغمہ طرازانِ برا فروختہ اے شہر!
واسوخت کہیں گے غزل انشا نہ کریں گے
ایسا ہے کہ سینے میں سلگتی ہیں خراشیں
اب سانس بھی ہم لیں گے تو اچھا نہ کریں گے
جون ایلیا

اب ہم بھی کسی شخص کی پرواہ نہ کریں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 193
اخلاق نہ برتیں گے مدارا نہ کریں گے
اب ہم بھی کسی شخص کی پرواہ نہ کریں گے
کچھ لوگ کئی لفظ غلط بول رہے ہیں
اصلاح مگر ہم بھی اب اصلا نہ کریں گے
کم گوئی کہ اک وصف حماقت ہے ہر طور
کم گوئی کو اپنائیں گے چہکا نہ کریں گے
اب سہل پسندی کو بنائیں گے وتیرہ
تا دیر کسی باب میں سوچا نہ کریں گے
غصہ بھی ہے تہذیب تعلق کا طلب گار
ہم چپ ہیں، بھرے بیٹھے ہیں، غصہ نہ کریں گے
کل رات بہت غور کیا ہے سو ہم اے جون
طے کر کے اٹھے ہیں کہ تمنا نہ کریں گے
جون ایلیا

ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 192
ہے بکھرنے کو یہ محفل رنگ و بو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر متاع نفس نذر آہنگ کی، ہم کو یاراں ہوس تھی بہت رنگ کی
گل زمیں سے ابلنے کو ہے اب لہو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
اول شب کا مہتاب بھی جا چکا صحن میخانہ سے اب افق میں کہیں
آخر شب ہے، خالی ہیں جام و سبو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر، سانحہ یہ ہے کہ اب آرزو بھی نہیں
وقت کی اس مسافت میں بے آرزو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
کس قدر دور سے لوٹ کر آئے ہیں، یوں کہو عمر برباد کر آئے ہیں
تھا سراب اپنا سرمایہ جستجو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
اک جنوں تھا کہ آباد ہو شہر جاں، اور آباد جب شہر جاں ہو گیا
ہیں یہ سرگوشیاں در بہ در کو بہ کو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
دشت میں رقص شوق بہار اب کہاں، باد پیمائی دیوانہ وار اب کہاں
بس گزرنے کو ہے موسم ہائے دہو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
ہم ہیں رسوا کن دلی و لکھنؤ ، اپنی کیا زندگی اپنی کیا آبرو
میر دلی سے نکلے گئے لکھنؤ، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
جون ایلیا

صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 191
بےدلی کیا یونہی دن گذر جائیں گے
صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہے
سب بچھڑ جائیں گے، سب بکھر جائیں گے
یہ خراباتیانِ خرد باختہ
صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے
کتنے دلکش ہو تم، کتنے دل جو ہیں ہم
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
ہے غنیمت کہ اَسرارِ ہستی سے ہم
بے خبر آئیں گے، بے خبر جائیں گے
جون ایلیا

زخم کھاتے چلے گئے ہوں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 190
ہم جو گاتے چلے گئے ہوں گے
زخم کھاتے چلے گئے ہوں گے
تھا ستم بار بار کا ملنا
لوگ بھاتے چلے گئے ہوں گے
دور تک باغ اس کی یادوں کے
لہلہاتے چلے گئے ہوں گے
فکر اپنے شرابیوں کی نہ کر
لڑکھڑاتے چلے گئے ہوں گے
ہم خود آزار تھے سو لوگوں کو
آزماتے چلے گئے ہوں گے
ہم جو دنیا سے تنگ آئے ہیں
تنگ آتے چلے گئے ہوں گے
جون ایلیا

اپنے ہی آپ تک گئے ہوں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 189
گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے
اپنے ہی آپ تک گئے ہوں گے
ہم جو اب آدمی ہیں پہلے کبھی
جام ہوں گے چھلگ گئے ہوں گے
وہ بھی اب ہم سے تھک گیا ہو گا
ہم بھی اب اس سے تھک گئے ہوں گے
شب جو ہم سے ہوا معاف کرو
نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے
کتنے ہی لوگ حرص شہرت میں
دار پر خود لٹک گئے ہوں گے
شکر ہے اس نگاہ کم کا میاں
پہلے ہی ہم کھٹک گئے ہوں گے
ہم تو اپنی تلاش میں اکثر
از سما تا سمک گئے ہوں گے
اس کا لشکر جہاں تہاں یعنی
ہم بھی بس بے کمک گئے ہوں گے
جون ، اللہ اور یہ عالم
بیچ میں ہم اٹک گئے ہوں گے
جون ایلیا

پہنچے گی جو نہ اس تک ہم اس خبر میں ہوں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 188
جب ہم کہیں نہ ہوں گے تب شہر بھر میں ہوں گے
پہنچے گی جو نہ اس تک ہم اس خبر میں ہوں گے
تھک کر گریں گے جس دم بانہوں میں تیری آ کر
اُس دَم بھی کون جانے ہم کس سفر میں ہوں گے
اے جانِ عہد و پیماں۔۔ہم گھر بسائیں گے ہاں
تُو اپنے گھر میں ہو گا۔۔ہم اپنے گھر میں ہوں گے
میں لے کے دل کے رشتے گھر سے نکل چکا ہوں
دیوار و دَر کے رشتے۔۔دیوار و دَر میں ہوں گے
تجھ عکس کے سوا بھی اے حُسن وقتِ رخصت
کچھ اور عکس بھی تو اس چشمِ تر میں ہوں گے
ایسے سراب تھے وہ ایسے تھے کچھ کہ اب بھی
میں آنکھ بند کر لوں تب بھی نظر میں ہوں گے
اس کے نقوشِ پا کو راہوں میں ڈھونڈنا کیا
جو اس کے زیر پا تھے وہ میرے سر میں ہوں گے
وہ بیشتر ہیں جن کو کل کا خیال کم ہے
تُو رُک سکے تو ہم بھی ان بیشتر میں ہوں گے
آنگن سے وہ جو پچھلے دالان تک بسے تھے
جانے وہ میرے سائے اب کِس کھنڈر میں ہوں گے
یہ تو کمر عجب ہے اِک سوچ ہے جو اَب ہے
اب جانے ہاتھ میرے کِس کمر میں ہوں گے
جون ایلیا

جانے کیسے لوگ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 187
کتنے عیش اڑاتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
جانے کیسے لوگ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے
اس کی یاد کی باد صبا میں اور تو کیا ہوتا ہو گا
یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے
یارو! کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا
وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے
جون ایلیا

غم تو جانے تھے رائیگاں اُن کے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 186
خود سے رشتے رہے کہاں اُن کے
غم تو جانے تھے رائیگاں اُن کے
مست اُن کو گماں میں رہنے دے
خانہ برباد ہیں گماں اُن کے
یار سُکھ نیند ہو نصیب اُن کو
دُکھ یہ ہے دُکھ ہیں بے اماں اُن کے
کتنی سر سبز تھی زمیں اُن کی
کتنے نیلے تھے آسماں اُن کے
نوحہ خوانی ہے کیا ضرور انہیں
ان کے نغمے ہیں نوحہ خواں اُن کے
جون ایلیا

یہ ہنر کِس کو دکھایا میں نے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 185
کر لیا خود کو جو تنہا میں نے
یہ ہنر کِس کو دکھایا میں نے
وہ جو تھا اس کو مِلا کیا مجھ سے
اس کو تو خواب ہی سمجھا میں نے
دل جلانا کوئی حاصل تو نہ تھا
آخرِ کار کیا کیا میں نے
دیکھ کر اس کو ہُوا مست ایسا
پھر کبھی اسکو نہ دیکھا میں نے
شوقِ منزل تھا بُلاتا مجھ کو
راستہ تک نہیں ڈھونڈا میں نے
اک پلک تجھ سے گزر کر ، تاعمر
خود ترا وقت گزارا میں نے
اب کھڑا سوچ رہا ہوں لوگو!
کیوں کیا تم کو اِکھٹا میں نے
جون ایلیا

وہ کون تھا جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 184
گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے
وہ کون تھا جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے
ترا خیال تو ہے پر ترا وجود نہیں
ترے لئے تو یہ محفل سجائی تھی میں نے
ترے عدم کو گوارا نہ تھا وجود مرا
سو اپنی بیخ کنی میں کمی نہ کی میں نے
ہیں تیری ذات سے منسوب صد فسانہ ءِ عشق
اور ایک سطر بھی اب تک نہیں لکھی میں نے
خود اپنے عشوہ و انداز کا شہید ہوں میں
خود اپنی ذات سے برتی ہے بے رخی میں نے
مرے حریف مری یکہ تازیوں پہ نثار
تمام عمر حلیفوں سے جنگ کی میں نے
خراشِ نغمہ سے سینہ چھلا ہوا میرا
فغاں کہ ترک نہ کی نغمہ پروری میں نے
دوا سے فائدہ مقصود تھا ہی کب کہ فقط
دوا کے شوق میں صحت تباہ کی میں نے
زبانہ زن تھا جگر سوز تشنگی کا عذاب
سو جوفِ سینہ میں دوزخ انڈیل لی میں نے
سرورِ مے پہ بھی غالب رہا شعور مرا
کہ ہر رعایتِ غم ذہن میں رکھی میں نے
غمِ شعور کوئی دم تو مجھ کو مہلت دے
تمام عمر جلایا ہے اپنا جی میں نے
علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں
وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے
رہا میں شاہدِ تنہا نشینِ مسندِ غم
اور اپنے کربِ انا سے غرض رکھی میں نے
جون ایلیا

جانا تھا کس سمت کو جانے بس بے اٹکل چل نکلے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 183
باد بہاری کے چلتے ہی لہری پاگل چل نکلے
جانا تھا کس سمت کو جانے بس بے اٹکل چل نکلے
جو ہلچل مارے تھے، ان کو دوش نہ دو نردوش ہیں وہ
دوش ہمیں دو، اس بستی سے ہم بے ہلچل چل نکلے
پاس ادب کی حد ہوتی ہے ہم پہلے ہی کہتے تھے
کل تک جن کو پاس تھا ان کا وہ ان سے کل چل نکلے
کچھ مت پوچھو حیف آتا ہے وحشت کے بے حالوں پر
وحشت جب پر حال ہوئی تو چھوڑ کے جنگل چل نکلے
خون بھی اپنا سیر طلب تھا ہم بھی موجی رنگ کے تھے
یوں بھی تھا نزدیک ہی مقتل سوئے مقتل چل نکلے
جون ایلیا

وہ سوراخوں سے کالے ناگ نکلے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 182
دھرم کی بانسری سے راگ نکلے
وہ سوراخوں سے کالے ناگ نکلے
رکھو دیر و حرم کو اب مقفّل
کئی پاگل یہاں سے بھاگ نکلے
وہ گنگا جل ہو یا آبِ زمزم
یہ وہ پانی ہیں جن سے آگ نکلے
خدا سے لے لیا جنت کا وعدہ
یہ زاہد تو بڑے ہی گھاگ نکلے
ہے آخر آدمیت بھی کوئی شے
ترے دربان تو بُل ڈاگ نکلے
یہ کیا انداز ہے اے نکتہ چینو
کوئی تنقید تو بے لاگ نکلے
پلایا تھا ہمیں امرت کسی نے
مگر منہ سے لہو کے جھاگ نکلے
جون ایلیا

جی نہیں لگ رہا کئی دن سے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 181
غم ہے بے ماجرا کئی دن سے
جی نہیں لگ رہا کئی دن سے
بے شمیمِ ملال و حیراں ہے
خیمہ گاہِ صبا کئی دن سے
دل محلے کی اس گلی میں بَھلا
کیوں نہیں غُل مچا کئی دن سے
وہ جو خوشبو ہے اس کے قاصد کو
میں نہیں مِل سکا کئی دن سے
اس سے بھی اور اپنے آپ سے بھی
ہم ہیں بےواسطہ کئی دن سے
جون ایلیا

وہ خوشبو لوٹ آئی ہے سفر سے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 180
مہک اٹھا ہے آنگن اس خبر سے
وہ خوشبو لوٹ آئی ہے سفر سے
جدائی نے اُسے دیکھا سرِبام
دریچے پر شفق کے رنگ برسے
میںِاس دیوار پر چڑھ تو گیا تھا
اُتارے کون اب دیوار پر سے
گلہ ہے ایک گلی سے شہرِدل کی
میں لڑتاِپھر رہا ہوں شہر بھر سے
اسے دیکھے زمانے بھر کا یہ چاند
ہماری چاندنی سائے کو ترسے
میرے مانند گذرا کر میری جان
کبھی تو خود بھی اپنی رہگزر سے
جون ایلیا

کہ ہٹ جاؤں میں اپنے درمیاں سے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 179
ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے
کہ ہٹ جاؤں میں اپنے درمیاں سے
یہاں جو ہے تنفس ہی میں گم ہے
پرندے اڑ رہے ہیں شاخِ جاں سے
دریچہ باز ہے یادوں کا اور میں
ہوا سنتا ہوں پیڑوں کی زباں سے
تھا اب تک معرکہ باہر کا در پیش
ابھی تو گھر بھی جانا ہے یہاں سے
فلاں سے تھی غزل بہتر فلاں کی
فلاں کے زخم اچھے تھے فلاں سے
خبر کیا دوں میں شہرِ رفتگاں کی
کوئی لوٹے بھی شہرِ رفتگاں سے
یہی انجام کیا تجھ کو ہوس تھا
کوئی پوچھے تو میرِ داستاں سے
جون ایلیا

اک بَلا تو ٹلی مرے سر سے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 178
گذر آیا میں چل کے خود پر سے
اک بَلا تو ٹلی مرے سر سے
مستقل بولتا ہی رہتا ہوں
کتنا خاموش ہوں میں اندر سے
مجھ سے اب لوگ کم ہی ملتے ہیں
یوں بھی میں ہٹ گیا ہوں منظر سے
میں خمِ کوچہء جدائی تھا
سب گزرتے گئے برابر سے
حجرہء صد بلا ہے باطن ذات
خود کو تو کھینچیئو نہ باہر سے
کیا سحر ہو گئی دلِ بے خواب
اک دھواں اٹھ رہا ہے بستر سے
جون ایلیا

کون لمحوں کے رُوبرو ٹھہرے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 177
میں نہ ٹھیروں نہ جان تُو ٹھہرے
کون لمحوں کے رُوبرو ٹھہرے
نہ گزرنے پہ زندگی گزری
نہ ٹھہرنے پہ چار سُو ٹھہرے
ہے مری بزمِ بے دلی بھی عجیب
دلِ پُر خوں جہاں سبو ٹھہرے
میں یہاں مدتوں میں آیا ہوں
ایک ہنگامہ کُو بہ کُو ٹھہرے
محفلِ رخصتِ ہمیشہ ہے
آؤ اک حشر ہا و ہو ٹھہرے
اک توجہ عجب ہے سمتوں میں
کہ نہ بولوں تو گفتگو ٹھہرے
کج ادا تھی بہت اُمید مگر
ہم بھی جون ایک حیلہ جو ٹھہرے
ایک چاکِ برہنگی ہے وجود
پیرہن ہو تو بے رفو ٹھہرے
میں جو ہوں۔۔کیا نہیں ہوں میں خود بھی
خود سے بات آج دُوبدو ٹھہرے
باغِ جاں سے مِلا نہ کوئی ثمر
جون ہم تو نمو نمو ٹھہرے
جون ایلیا

آپ ملتے نہیں ہے کیا کیجے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 176
کس سے اظہارِ مدعا کیجے
آپ ملتے نہیں ہے کیا کیجے
ہو نا پایا یہ فیصلہ اب تک
آپ کیا کیجیے تو کیا کیجے
آپ تھے جس کے چارہ گر وہ جواں
سخت بیمار ہے دعا کیجے
ایک ہی فن تو ہم نے سیکھا ہے
جن سے ملیے اسے خفا کیجے
ہے تقاضا مری طبیعت کا
ہر کسی کو چراغ پا کیجے
ہے تو بارے یہ عالمِ اسباب
بے سبب چیخنے لگا کیجے
آج ہم کیا گلا کریں اس سے؟
گلہ تنگیِ قبا کیجے
فطق حیوان پر گراں ہے ابھی
گفتگو کم سے کم کیا کیجے
حضرتِ زلفِ غالیہ افشاں
نام اپنا صبا صبا کیجے
زندگی کا عجب معاملہ ہے
ایک لمحے میں فیصلہ کیجے
مجھ کو عادت ہے روٹھ جانے کی
آپ مجھ کو منا لیا کیجے
ملتے رہیے اسی تپاک کے ساتھ
بیوفائی کی انتہا کیجے
کوہکن کو ہے خودکشی خواہش
شاہ بانو سے التجا کیجے
مجھ سے کہتی تھیں وہ شراب آنکھیں
آپ وہ زہر مت پیا کیجے
رنگ ہر رنگ میں ہے دوا غالب
خون تھوکوں تو واہ وا کیجے
جون ایلیا

اب کوئی شکوا ہم نہیں کرتے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 175
دل کی تکلیف کم نہیں کرتے
اب کوئی شکوا ہم نہیں کرتے
جانِ جاں تجھ کو اب تری خاطر
یاد ہم کوئی دَم نہیں کرتے
دوسری ہار کی ہوس ہے سو ہم
سرِ تسلیم خم نہیں کرتے
وہ بھی پڑھتا نہیں ہے اب دل سے
ہم بھی نالے کو نم نہیں کرتے
جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں
تم سزا بھی تو کم نہیں کرتے
جون ایلیا

پھر گنوائے بھی گئے اور بھلائے بھی گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 174
ہم بصد ناز دل و جاں ‌ میں بسائے بھی گئے
پھر گنوائے بھی گئے اور بھلائے بھی گئے
ہم ترا ناز تھے ، پھر تیری خوشی کی خاطر
کر کے بے چارہ ترے سامنے لائے بھی گئے
کج ادائی سے سزا کج کلہی کی پائی
میرِ محفل تھے سو محفل سے اٹھائے بھی گئے
کیا گلہ خون جو اب تھوک رہے ہیں ‌ جاناں
ہم ترے رنگ کے پرتَو سے سجائے بھی گئے
ہم سے روٹھا بھی گیا ہم کو منایا بھی گیا
پھر سبھی نقش تعلق کے مٹائے بھی گئے
جمع و تفریق تھے ہم مکتبِ جسم و جاں ‌ کی
کہ بڑھائے بھی گئے اور گھٹائے بھی گئے
جون، دلِ شہرِ حقیقت کو اجاڑا بھی گیا
اور پھر شہر توّہم کے بسائے بھی گئے
جون ایلیا

پھر وہی رنگ بہ صد طور جلائے بھی گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 173
خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئے
پھر وہی رنگ بہ صد طور جلائے بھی گئے
انہیں شہروں کوشتابی سے لپیٹا بھی گیا
جو عجب شوق فراخی سے بچھائے بھی گئے
بزمِ شوق کا کسی کی کہیں کیا حال جہاں
دل جلائے بھی گئے اور بجھائے بھی گئے
پشت مٹی سے لگی جس میں ہماری لوگو!
اُسی دنگل میں ہمیں داؤ سِکھائے بھی گئے
یادِ ایام کہ اک محفلِ جاں تھی کہ جہاں
ہاتھ کھینچے بھی گئے اور مِلائے بھی گئے
ہم کہ جس شہر میں تھے سوگ نشینِ احوال
روز اس شہر میں ہم دھوم مچائے بھی گئے
یاد مت رکھیو رُوداد ہماری ہرگز
ہم تھے وہ تاج محل جون جو ڈھائے بھی گئے
جون ایلیا

کیسے دنیا جہان چھوڑ گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 172
وہ جو اپنے مکان چھوڑ گئے
کیسے دنیا جہان چھوڑ گئے
اے زمینِ وصال لوگ ترے
ہجر کا آسمان چھوڑ گئے
تیرے کوچے کے رُخصتی جاناں
ساری دنیا کا دھیان چھوڑ گئے
روزِ میداں وہ تیرے تیرانداز
تیر لے کر کمان چھوڑ گئے
جون لالچ میں آن بان کی یار
اپنی سب آن بان چھوڑ گئے
جون ایلیا

میں تو نڈھال ہو گیا، ھم تو نڈھال ہو گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 171
کون سا قافلہ ھے یہ، جس کے جرس کا ھے یہ شور
میں تو نڈھال ہو گیا، ھم تو نڈھال ہو گئے
خار بہ خار گل بہ گل فصل بہار آگئی
فصل بہار آگئی، زخم بحال ہو گئے
شور اٹھا مگر تجھے لذت گوش تو ملی
خوں بہا مگر ترے ھاتھ تو لال ہو گئے
ھم نفسان وضع دار، مستمعان بردبار
ھم تو تمہارے واسطے ایک وبال ہو گئے
جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
اب کئی ہجر ہو چکے اب کئی سال ہو گئے
جون ایلیا

تیری مثال دے کے ہم تیری مثال ہو گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 170
نام ہی کیا نشاں ہی کیا خواب و خیال ہو گئے
تیری مثال دے کے ہم تیری مثال ہو گئے
سایہ ذات سے بھی رم، عکس صفات سے بھی رم
دشتِ غزل میں آ کے دیکھ ہم تو غزال ہو گئے
کتنے ہی نشہ ہائے ذوق، کتنے ہی جذبہ ہائے شوق
رسمِ تپاکِ یار سے رو بہ زوال ہو گئے
عشق ہے اپنا پائیدار، اس کی وفا ہے استوار
ہم تو ہلاک۔ ورزشِ فرض۔ محال ہو گئے
کیسے زمیں پرست تھے عہدِ وفا کے پاس دار
اڑ کے بلندیوں میں ہم، گرد ملال ہو گئے
قربِ جمال اور ہم، عیش و وصال اور ہم؟
ہاں یہ ہوا کہ ساکنِ شہرِ جمال ہو گئے
جادو شوق میں پڑا قحطِ غبارِ کارواں
واں کے شجر تو سر بہ سر دست سوال ہو گئے
کون سا قافلہ ہے یہ، جس کے جرس کا ہے یہ شور
میں تو نڈھال ہو گیا، ہم تو نڈھال ہو گئے
خار بہ خار گل بہ گل، فصلِ بہار آ گئی
فصلِ بہار آ گئی۔ زخم بحال ہو گئے
شور اٹھا مگر تجھے لذت گوش تو ملی
خون بہا مگر ترے ہاتھ تو لال ہو گئے
ہم نفسانِ وضع دار، مستعانِ بردبار
ہم تو تمہارے واسطے ایک وبال ہو گئے
جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
اب کئی ہجر ہو چکے، اب کئی سال ہو گئے
جون ایلیا

یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی ، بھول گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 169
مستیء حال کبھی تھی ، کہ نہ تھی ، بھول گئے
یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی ، بھول گئے
یوں مجھے بھیج کے تنہا سر بازار فریب
کیا میرے دوست میری سادہ دلی بھول گئے
میں تو بے حس ہوں ، مجھے درد کا احساس نہیں
چارہ گر کیوں روش چارہ گری بھول گئے؟
اب میرے اشک محبت بھی نہیں آپ کو یاد
آپ تو اپنے ہی دامن کی نمی بھول گئے
اب مجھے کوئی دلائے نہ محبت کا یقیں
جو مجھے بھول نہ سکتے تھے وہی بھول گئے
اور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہم
اپنا گھر بھول گئے ، ان کی گلی بھول گئے
کیا کہیں کتنی ہی باتیں تھیں جو اب یاد نہیں
کیا کریں ہم سے بڑی بھول ہوئی ، بھول گئے
جون ایلیا

زمزمہ خواں گزر گئے ، رقص کناں گزر گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 168
خوش گذران شہر غم ، خوش گذراں گزر گئے
زمزمہ خواں گزر گئے ، رقص کناں گزر گئے
وادی غم کے خوش خرام ، خوش نفسان تلخ جام
نغمہ زناں ، نوازناں ، نعرہ زناں گزر گئے
سوختگاں کا ذکر کیا، بس یہ سمجھ کہ وہ گروہ
صر صر بے اماں کے ساتھ ، دست فشاں گزر گئے
زہر بہ جام ریختہ، زخم بہ کام بیختہ
عشرتیان رزق غم ، نوش چکاں گزر گئے
اس در نیم وا سے ہم حلقہ بہ حلقہ صف بہ صف
سینہ زناں گزر گئے ، جامہ وراں گزر گئے
ہم نے خدا کا رد لکھا نفی بہ نفی لا بہ لا!
ہم ہی خدا گزیدگاں تم پہ گراں گزر گئے
اس کی وفاکے باوجود اس کو نہ پا کے بد گماں
کتنے یقیں بچھڑ گئے ، کتنے گماں گزر گئے
مجمع مہ وشاں سے ہم زخم طلب کے باوجود
اپنی کلاہ کج کیے ، عشوہ کناں گزر گئے
خود نگران دل زدہ ، دل زدگان خود نگر!
کوچہ ءِ التفات سے خود نگراں گزر گئے
اب یہی طے ہوا کہ ہم تجھ سے قریب تر نہیں
آج ترے تکلفات دل پہ گراں گزر گئے
رات تھی میرے سامنے فرد حساب ماہ و سال
دن ، مری سرخوشی کے دن، جانے کہاں گزر گئے
کیا وہ بساط الٹ گئی، ہاں وہ بساط الٹ گئی
کیا وہ جواں گزر گئے ؟ ہاں وہ جواں گزر گئے
جون ایلیا

جو اپنے گھر سے آئے تھے وہ اپنے گھر گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 167
اے کوئے یار تیرے زمانے گزر گئے
جو اپنے گھر سے آئے تھے وہ اپنے گھر گئے
اب کون زخم و زہر سے رکھے گا سلسلے
جینے کی اب ہوس ہے ہمیں ہم تو مر گئے
اب کیا کہوں کے سارا محلہ ہے شرم سار
میں ہوں عذاب میں کہ میرے زخم بھی گئے
ہم نے بھی زندگی کو تماشہ بنا دیا
اس سے گزر گئے کبھی خود سے گزر گئے
تھا رن بھی زندگی کا عجب طرفہ معاملہ
یعنی اٹھے تو پاؤں مگر جون سر گئے
جون ایلیا

ہم بھی اپنے سامنے سے ہٹ گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 166
جب تری خواہش کے بادل چھٹ گئے
ہم بھی اپنے سامنے سے ہٹ گئے
رنگِ سرشاری کی تھی جِن سے رَسَد
دل کی ان فصلوں کے جنگل کٹ گئے
اک چراغاں ہے حرم میں دیر میں
جشن اس کا ہے دل و جاں بٹ گئے
شہرِ دل اور شہرِ دنیا الوداع
ہم تو دونوں کی طرف سے کٹ گئے
ہو گیا سکتہ خردمندوں کو جب
مات کھاتے ہی دوانے ڈٹ گئے
چاند سورج کے عالم اور واپسی
وہ ہوا ماتم کہ سینے پھٹ گئے
کیا بتائیں کتنے شرمندہ ہیں ہم
تجھ سے مِل کر اور بھی ہم گھٹ گئے
جون ایلیا

یاد یاراں یار، یاراں کیا ہوئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 165
کیا ہوئے آشفتہ کاراں کیا ہوئے
یاد یاراں یار، یاراں کیا ہوئے
اب تو اپنوں میں سے کوئی بھی نہیں
وہ پریشاں روزگاراں کیا ہوئے
سو رہا ہے شام ہی سے شہر اول
شہر کے شب زندہ داراں کیا ہوئے
اس کی چشم نیم وا سے پوچھیو
وہ ترے مژگاں شماراں کیا ہوئے
اے بہار انتظار فصل گل
وہ گریباں تار تاراں کیا ہوئے
کیا ہوئے صورت نگاراں خواب کے
خواب کے صورت نگاراں کیا ہوئے
یاد اس کی ہو گئی ہے بے اماں
یاد کے بے یادگاراں کیا ہوئے
جون ایلیا

وہ بچھڑا اور دھیان میں اس کے سو موسم ایجاد ہوئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 164
دل کتنا آبادہوا جب دیدکے گھر برباد ہوئے
وہ بچھڑا اور دھیان میں اس کے سو موسم ایجاد ہوئے
ناموری کی بات دگر ہے ورنہ یارو سوچو تو
گلگلوں اب تک کتنے تیشے بے خونِ فرہاد ہوئے
لائیں کہاں سے بول رسیلے ہونٹوں کی ناداری میں
سمجھو ایک زمانہ گزرا بوسوں کی امداد ہوئے
تم میری اک خود مستی ہو میں ہوں تمہاری خود بینی
رشتے میں اس عشق کے ہم تم دونوں بےبنیاد ہوئے
میرا کیا اک موجِ ہوا ہوں پر یوں ہے اے غنچہ دہن
تُو نے دل کا باغ جو چھوڑا غنچے بے استاد ہوئے
عشق محلے میں اب یارو کیا کوئی معشوق نہیں
کتنے قاتل موسم گزرے شور ہوئے فریاد ہوئے
ہم نے دل کو مار رکھا ہے اور جتاتے پھرتے ہیں
ہم دل زخمی مژگاں خونیں ہم نہ ہوئے جلاد ہوئے
برق کیا ہے عکسِ بدن نے تیرے ہمیں اے تنگ قبا
تیرے بدن پر جتنے تِل ہیں سارے ہم کو یاد ہوئے
تُو نے کبھی سوچا تو ہو گا۔۔سوچا بھی اے مست ادا
تیری ادا کی آبادی پر کتنے گھر برباد ہوئے
جو کچھ بھی رودادِ سخن تھی ہونٹوں کی دُوری سے تھی
جب ہونٹوں سے ہونٹ ملے تو یکدم بے رُوداد ہوئے
خاک نشینوں سے کوچے کے کیا کیا نخوت کرتے ہیں
جاناں جان! ترے درباں تو فرعون و شدّاد ہوئے
شہروں میں ہی خاک اُڑالو شور مچالو بے حالو
جن دَشتوں کی سوچ رہے ہو وہ کب کے برباد ہوئے
سمتوں میں بکھری وہ خلوت۔۔وہ دل کی رنگ آبادی
یعنی وہ جو بام و دَر تھے یکسر گردوباد ہوئے
تُو نے رندوں کا حق مارا مے خانے میں رات گئے
شیخ!! کھرے سیّد ہیں ہم تو ہم نے سُنا ناشاد ہوئے
جون ایلیا

بند آنکھوں نگاہ کی جائے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 163
ذات اپنی گواہ کی جائے
بند آنکھوں نگاہ کی جائے
ہم تو بس اپنی چاہ میں ہیں مگن
کچھ تو اس کی بھی چاہ کی جائے
ایک ناٹک ہے زندگی جس میں
آہ کی جائے، واہ کی جائے
دل! ہے اس میں ترا بَھلا کہ تری
مملکت بے سپاہ کی جائے
ملکہ جو بھی اپنے دل کی نہ ہو
جون ! وہ بےکلاہ کی جائے
جون ایلیا

لب سے کم ہی نباہ کی جائے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 162
دل سے اب رسم و راہ کی جائے
لب سے کم ہی نباہ کی جائے
گفتگو میں ضرر ہے معنی کا
گفتگو گاہ گاہ کی جائے
ایک ہی تو ہوس رہی ہے ہمیں
اپنی حالت تباہ کی جائے
ہوس انگیز ہوں بدن جن کے
اُن میں سب سے نباہ کی جائے
اپنے دل کی پناہ میں آ کر
زندگی بے پناہ کی جائے
جون ایلیا

عقل حیراں ہے کیا کیا جائے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 161
دل پریشاں ہے کیا کیا جائے
عقل حیراں ہے کیا کیا جائے
شوقِ مشکل پسند اُن کا حصول
سخت آساں ہے کیا کیا جائے
عشقِ خوباں کے ساتھ ہی ہم میں
نازِ خوباں ہے کیا کیا جائے
بے سبب ہی مری طبیعتِ غم
سب سے نالاں ہے کیا کیا جائے
باوجود ان کی دلنوازی کے
دل گریزاں ہے کیا کیا جائے
میں تو نقدِ حیات لایا تھا
جنس ارزاں ہے کیا کیا جائے
ہم سمجھتے تھے عشق کو دشوار
یہ بھی آساں ہے کیا کیا جائے
وہ بہاروں کی ناز پروردہ
ہم پہ نازاں ہے کیا کیا جائے
مصرِ لطف و کرم میں بھی اے جونؔ
یادِ کنعاں ہے کیا کیا جائے
جون ایلیا

تم ہمیں زہر پلا دو تو مزا آ جائے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 160
تشنہ کامی کی سزا دو تو مزا آ جائے
تم ہمیں زہر پلا دو تو مزا آ جائے
میرِ محفل بنے بیٹھے ہیں بڑے ناز سے ہم
ہمیں محفل سے اُٹھا دو تو مزا آ جائے
تم نے اِحسان کیا تھا جو ہمیں چاہا تھا
اب وہ اِحسان جتا دو تو مزا آ جائے
آپنے یوسف کی زلیخا کی طرح تم بھی کبھی
کچھ حسینوں سے ملا دو تو مزا آ جائے
چین پڑتا ہی نہیں ہے تمھیں اب میرے بغیر
اب جو تم مجھ کو گنوا دو تو مزا آ جائے
بھائی حضرت رئیس امروہی کی نذر
جون ایلیا

کہ دار پر گئے ہم اور پھر اُتر آئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 159
حواس میں تو نہ تھے پھر بھی کیا نہ کر آئے
کہ دار پر گئے ہم اور پھر اُتر آئے
عجیب حال کے مجنوں تھے جو بہ عشوہ و ناز
بہ سوئے بادیہ محمل میں بیٹھ کر آئے
کبھی گئے تھے میاں جو خبر کو صحرا کی
وہ آئے بھی تو بگولوں کے ساتھ گھر آئے
کوئی جنوں نہیں سودائیانِ صحرا کو
کہ جو عزاب بھی آئے وہ شہر پر آئے
بتاؤ دام گرو چاہیے تمہیں اب کیا
پرندگانِ ہوا خاک پر اُتر آئے
عجب خلوص سے رخصت کیا گیا ہم کو
خیالِ خام کا ناوان تھا سو بھر آئے
جون ایلیا

اسی گماں کو بچا لوں کہ درمیاں ہے یہی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 158
کوئی گماں بھی نہیں درمیاں گماں ہے یہی
اسی گماں کو بچا لوں کہ درمیاں ہے یہی
یہ آدمی کے ہیں انفاس جس کے زہر فروش
اسے بٹھاؤ کہ میرا مزاج داں ہے یہی
کبھی کبھی جو نہ آؤ نظر تو سہہ لیں گے
نظر سے دُور نہ ہونا کہ امتحاں ہے یہی
میں آسماں کا عجب کچھ لحاظ رکھتا ہوں
جو اس زمین کو سہہ لے وہ آسماں ہے یہی
یہ ایک لمحہ جو دریافت کر لیا میں نے
وصالِ جاں ہے یہی اور فراقِ جاں ہے یہی
تم اُن میں سے ہو جو یاں فتح مند ٹہرے ہیں
سنو کہ وجہِ غمِ دل شگستگاں ہے یہی
جون ایلیا

گماں گماں سی مہک خود کو ڈھونڈتی ہی رہی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 157
نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی
گماں گماں سی مہک خود کو ڈھونڈتی ہی رہی
عجب طرح رخ آیندگی کا رنگ اڑا
دیار ذات میں ازخود گزشتگی ہی رہی
حریم شوق کا عالم بتائیں کیا تم کو
حریم شوق میں بس کمی ہی رہی
پس نگاہ تغافل تھی اک نگاہ کہ تھی
جو دل کے چہرہ ء حسرت کی تازگی ہی رہی
عجیب آئینہ پر تو تمنا تھا
تھی اس میں ایک اداسی جو سجی ہی رہی
بدل گیا سبھی کچھ اس دیار بودش میں
گلی تھی جو تری جاں وہ تری گلی ہی رہی
تمام دل کے محلے اجڑ چکے تھے—– مگر
بہت دنوں تو ہنسی ہی رہی خوشی ہی رہی
وہ داستاں تمہیں اب بھی یاد ہے کہ نہیں
جو خون تھوکنے والوں کی بے حسی ہی رہی
سناؤں میں کسے افسانہ ء خیال ملال
تری کمی ہی رہی اور مری کمی ہی رہی
جون ایلیا

ہم اب کہیں بھی رہیں، جب تری گلی نہ رہی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 156
وہ کہکشاں وہ رہِ رقصِ رنگ ہی نہ رہی
ہم اب کہیں بھی رہیں، جب تری گلی نہ رہی
تمارے بعد کوئی خاص فرق تو نہ ہوا
جزیں قدر کے وہ پہلی سی زندگی نہ رہی
یہ ذکر کیا کہ خرد میں بہت تصنّع ہے
ستم یہ ہے جنوں میں بھی سادگی نہ رہی
قلمروِ غمِ جاناں ہوئی ہے جب سے تباہ
دل و نظر کی فضاوں میں زندگی نہ رہی
نکال ڈالیے دل سے ہماری یادوں کو
یقین کیجیے ہم میں وہ بات ہی نہ رہی
جہاں فروز تھا یادش بخیر اپنا جنوں
پھر اُس کے بعد کسی شے میں دل کشی نہ رہی
دکھائیں کیا تمہیں داغوں کی لالہ انگیزی
گزر گئیں وہ بہاریں، وہ فصل ہی نہ رہی
وہ ڈھونڈتے ہیں سر جادہ امید کسے
وہاں تو قافلے والوں کی گرد بھی نہ رہی
جون ایلیا

ایک عجیب سکوت تھا ایک عجب صدا بھی تھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 155
شام تھی اور برگ و گُل شَل تھے مگر صبا بھی تھی
ایک عجیب سکوت تھا ایک عجب صدا بھی تھی
ایک ملال کا سا حال محو تھا اپنے حال میں
رقص و نوا تھے بے طرف محفلِ شب بپا بھی تھی
سامعہء صدائے جاں بے سروکار تھا کہ تھا
ایک گماں کی داستاں برلبِ نیم وا بھی تھی
کیا مہ و سالِ ماجرا۔۔ایک پلک تھی جو میاں
بات کی ابتدا بھی تھی بات کی انتہا بھی تھی
ایک سرودِ روشنی نیمہء شب کا خواب تھا
ایک خموش تیرگی سانحہ آشنا بھی تھی
دل تیرا پیشہء گلہ کام خراب کر گیا
ورنہ تو ایک رنج کی حالتِ بے گلہ بھی تھی
دل کے معاملے جو تھے ان میں سے ایک یہ بھی ہے
اک ہوس تھی دل میں جو دل سے گریز پا بھی تھی
بال و پرِ خیال کو اب نہیں سمت وسُو نصیب
پہلے تھی ایک عجب فضا اور جو پُر فضا بھی تھی
خشک ہے چشمہء سارِ جاں زرد ہے سبزہ زارِدل
اب تو یہ سوچیے کہ یاں پہلے کبھی ہوا بھی تھی
جون ایلیا

وہ کوئی شخص نہیں تھا، وہ ایک حالت تھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 154
گہے وصال تھا جس سے تو گاہ فرقت تھی
وہ کوئی شخص نہیں تھا، وہ ایک حالت تھی
وہ بات جس کا گلہ تک نہیں مجھے، پر ہے
کہ میری چاہ نہیں تھی، مری ضرورت تھی
وہ بیدلی کی ہوائیں چلیں کہ بھول گئے
کہ دل کے کون سے موسم کی کیا روایت تھی
نہ اعتبار نہ وعدہ، بس ایک رشتہ دید
میں اُس سے روٹھ گیا تھا، عجیب ہمت تھی
گمانِ شوق، وہ محمل نظر نہیں آتا
کنارِ دشت وہی تو بس اک عمارت تھی
حساب عشق میں آتا بھی کسی حسین کا نام
کہ ہر کسی میں کسی اور کی شباہت تھی
ہے اُس سے جنگ اب ایسی کہ سامنا نہ کریں
کبھی اُسی سے کمک مانگنے کی عادت تھی
جون ایلیا

پھر بھی محبت صرف مسلسل ملنے کی آسانی تھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 153
ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھی
پھر بھی محبت صرف مسلسل ملنے کی آسانی تھی
جس دن اُس سے بات ہوئی تھی اس دن بھی بےکیف تھا میں
جس دن اُس کا خط آیا ہے اُس دن بھی ویرانی تھی
جب اُس نے مجھ سے کہا تھا عشق رفاقت ہی تو نہیں
تب میں نے ہر شخص کی صورت مشکل سے پہچانی تھی
جس دن وہ ملنے آئی ہے اس دن کی رُوداد یہ ہے
اس کا بلاؤز نارنجی تھا اس کی ساری دھانی تھی
اُلجھن سی ہونے لگتی تھی مجھ کو اکثر اور وہ یوں
میرا مزاجِ عشق تھا شہری اس کی وفا دہقانی تھی
اب تو اس کے بارے میں تم جو چاہو وہ کہہ ڈالو
وہ انگڑائی میرے کمرے تک تو بڑی روحانی تھی
نام پہ ہم قربان تھے اس کے لیکن پھر یہ طور ہوا
اس کو دیکھ کے رُک جانا بھی سب سے بڑی قربانی تھی
مجھ سے بچھڑ کر بھی وہ لڑکی کتنی خوش خوش رہتی ہے
اس لڑکی نے مجھ سے بچھڑ کر مر جانے کی ٹھانی تھی
عشق کی حالت کچھ بھی نہیں تھی بات بڑھانے کا فن تھا
لمحے لافانی ٹھیرے تھے قطروں کی طغیانی تھی
جس کو خود میں نے بھی اپنی روح کا عرفان سمجھا تھا
وہ تو شاید میرے پیاسے ہونٹوں کی شیطانی تھی
تھا دربارِ کلاں بھی اس کا نوبت خانہ اس کا تھا
تھی میرے دل کی جو رانی امروہے کی رانی تھی
جون ایلیا

میں بھی برباد ہو گیا، تو بھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 152
خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی
میں بھی برباد ہو گیا، تو بھی
حسنِ مغموم، تمکنت میں تری
فرق آیا نہ یک سرِ مو بھی
یہ نہ سوچا تھا زیرِ سایہ ءِ زلف
کہ بچھڑ جائے گی یہ خوشبو بھی
حسن کہتا تھا چھیڑنے والے
چھیڑنا ہی تو بس نہیں چھو بھی
ہائے اس کا وہ موج خیز بدن
میں تو پیاسا رہا لبِ جُو بھی
یاد آتے ہیں معجزے اپنے
اور اس کے بدن کا جادو بھی
یاسمیں! اس کی خاص محرمِ راز
یاد آیا کرے گی اب تو بھی
یاد سے اس کی ہے مرا پرہیز
اے صبا اب نہ آئیو تو بھی
ہیں یہی جون ایلیا جو کبھی
سخت مغرور بھی تھے، بد خو بھی
جون ایلیا

داستاں کی داستاں ہے زندگی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 151
اک گمانِ بے گماں ہے زندگی
داستاں کی داستاں ہے زندگی
دَم بہ دَم ہے اک فراقِ جاوداں
اک جبیں بے آستاں ہے زندگی
کہکشاں بر کہکشاں ہے اک گریز
بودِ بے سودوزیاں ہے زندگی
ہے مری تیرہ نگاہی اک تلاش
تم کہاں ہو اور کہاں ہے زندگی
جون ایلیا

اور ہاں یکبارگی کی جائے گی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 150
تم سے جانم عاشقی کی جائے گی
اور ہاں یکبارگی کی جائے گی
کر گئے ہیں کوچ اس کوچے کے لوگ
اب تو بس آوارگی کی جائے گی
تم سراپا حُسن ہو، نیکی ہو تم
یعنی اب تم سے بدی کی جائے گی
یار اس دن کو کبھی آنا نہیں
پھول جس دن وہ کلی کی جائے گی
اس سے مِل کر بے طرح روؤں گا میں
ایک طرفہ تر خوشی کی جائے گی
ہے رسائی اس تلک دل کا زیاں
اب تو یاراں نارسی کی جائے گی
آج ہم کو اس سے ملنا ہی نہیں
آج کی بات آج ہی کی جائے گی
ہے مجھے احساس کم کرنا ہلاک
یعنی اب تو بے حسی کی جائے گی
جون ایلیا

چاندنی میں ٹہل رہی ہو گی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 149
جی ہی جی میں وہ جل رہی ہو گی
چاندنی میں ٹہل رہی ہو گی
چاند نے تان لی ہے چادرِ ابر
اب وہ کپڑے بدل رہی ہو گی
سو گئی ہو گی وہ شفق اندام
سبز قندیل جل رہی ہو گی
سرخ اور سبز وادیوں کی طرف
وہ مرے ساتھ چل رہی ہو گی
چڑھتے چڑھتے کسی پہاڑی پر
اب وہ کروٹ بدل رہی ہو گی
پیڑ کی چھال سے رگڑ کھا کر
وہ تنے سے پھسل رہی ہو گی
نیلگوں جھیل ناف تک پہنے
صندلیں جسم مل رہی ہو گی
ہو کے وہ خوابِ عیش سے بیدار
کتنی ہی دیر شل رہی ہو گی
جون ایلیا

جان حیران ہو گئی ہو گی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 148
جب تری جان ہو گئی ہو گی
جان حیران ہو گئی ہو گی
شب تھا میری نگاہ کا بوجھ اس پر
وہ تو ہلکان ہو گئی ہو گی
اس کی خاطر ہوا میں خار بہت
وہ میری آن ہو گئی ہو گی
ہو کے دشوار زندگی اپنی
اتنی آسان ہو گئی ہو گی
بے گلہ ہوں میں اب بہت دن سے
وہ پریشان ہو گئی ہو گی
اک حویلی تھی دل محلے میں
اب وہ ویران ہو گئی ہو گی
اس کے کوچے میں آئی تھی شیریں
اس کی دربان ہو گئی ہو گی
کمسنی میں بہت شریر تھی وہ
اب تو شیطان ہو گئی ہو گی
جون ایلیا

اب گلہ کیا، بہت خوشی کر لی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 147
دل نے وحشت گلی گلی کر لی
اب گلہ کیا، بہت خوشی کر لی
یار! دل تو بلا کا تھا عیاش
اس نے کس طرح خود کشی کر لی
نہیں آئیں گے اپنے بس میں ہم
ہم نے کوشش رہی سہی کر لی
اب تو مجھ کو پسند آ جاؤ
میں نے خود میں بہت کمی کر لی
یہ جو حالت ہے اپنی، حالتِ زار
ہم نے خود اپنے آپ ہی کر لی
اب کریں کس کی بات ہم آخر
ہم نے تو اپنی بات بھی کر لی
قافلہ کب چلے گا خوابوں کا
ہم نے اک اور نیند بھی کر لی
اس کو یکسر بھلا دیا پھر سے
ایک بات اور کی ہوئی کر لی
آج بھی رات بھر کی بےخوابی
دلِ بیدار نے گھری کر لی
کیا خدا اس سے دل لگی کرتا
ہم نے تو اس سے بات بھی کر لی
جون ایلیا

شوق میں کچھ نہیں گیا، شوق کی زندگی گئی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 144
حالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئی
شوق میں کچھ نہیں گیا، شوق کی زندگی گئی
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی
بعد بھی تیرے جانِ جاں ، دل میں رہا عجب سماں
یاد رہی تیری یہاں ، پھر تیری یاد بھی گئی
اس کی امیدِ ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ
عمر گزار دیجئے ، عمر گزار دی گئی
اس کے وصال کے لئے ، اپنے کمال کے لئے
حالتِ دل، کہ تھی خراب،اور خراب کی گئی
تیرا فراق جانِ جاں ، عیش تھا کیا میرے لئے
یعنی تیرے فراق میں خوب شراب پی گئی
اس کی گلی سے اٹھ کے میں آن پڑا تھا اپنے گھر
ایک گلی کی بات تھی اور گلی گلی گئی
جون ایلیا

سمجھو کہ خواب تھا کہ سحر اس میں گم ہوئی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 143
منظر سا تھا کوئی کہ نظر اس میں گم ہوئی
سمجھو کہ خواب تھا کہ سحر اس میں گم ہوئی
سودائے رنگ وہ تھا کہ اترا خود اپنا رنگ
پھر یہ کہ ساری جنسِ ہنر اس میں گم ہوئی
وہ میرا اک گمان کہ منزل تھا جس کا نام
ساری متاعِ شوقِ سفر اس میں گم ہوئی
دیوار کے سوا نہ رہا کچھ دلوں کے بیچ
ہر صورتِ کشایشِ در اس میں گم ہوئی
لائے تھے رات اس کی خبر قاصدانِ دل
دل میں وہ شور اٹھا کہ خبر اس میں گم ہوئی
اک فیصلے کا سانس تھا اک عمر کا سفر
لیکن تمام راہگزر اس میں گم ہوئی
بس جون کیا کہوں کہ مری ذاتِ نفع جو
جس کام میں یہاں تھا ضرور اس میں گم ہوئی
جون ایلیا

کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 142
سینہ دہک رہا ہو تو کیا چُپ رہے کوئی
کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی
ثابت ہُوا سکونِ دل و جان نہیں کہیں
رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی
ترکِ تعلقات تو کوئی مسئلہ نہیں
یہ تو وہ راستہ ہے کہ چل پڑے کوئی
دیوار جانتا تھا جسے میں، وہ دھول تھی
اب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی
میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب
میرے خلاف زہر اُگلتا پھرے کوئی
اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے
یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی
ہاں ٹھیک ہے میں اپنی اَنا کا مریض ہوں
آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی
جون ایلیا

شام کا وقت ہے میاں چپ رہ

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 141
کیا یقین اور کیا گماں چپ رہ
شام کا وقت ہے میاں چپ رہ
ہو گیا قصہ وجود تمام
ہے اب آغاز داستان چپ رہ
میں تو پہلے ہی جا چکاہوں کہیں
تو بھی جاناں نہیں یہاں چپ رہ
تو اب آیا ہے حال میں اپنے
جب زمین ہے نہ آسمان چپ رہ
تو جہاں تھا جہاں جہاں تھا کبھی
تو بھی اب نہیں وہاں چپ رہ
ذکر چھیڑا خدا کا پھر تو نے
یاں ہے انساں بھی رایگاں چپ رہ
سارا سودا نکال دے سر سے
اب نہیں کوئی آستاں چپ رہ
اہرمن ہو خدا ہو یا آدم
ہو چکا سب کا امتحاں چپ رہ
اب کوئی بات تیری بات نہیں
نہیں تیری تری زباں چپ رہ
ہے یہاں ذکر حال موجوداں
تو ہے اب ازگزشتگاں چپ رہ
ہجر کی جاں کنی تمام ہوئی
دل ہو جون بے اماں چپ رہ
جون ایلیا

بے اماں تھے اماں کے تھے ہی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 140
ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں
بے اماں تھے اماں کے تھے ہی نہیں
ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر
ہم تری داستاں کے تھے ہی نہیں
ان کو اندھی میں ہی بکھرنا تھا
بال و پر آشیاں کے تھے ہی نہیں
اب ہمارا مکان کس کا ہے
ہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں
ہو تری خاک آستاں پہ سلام
ہم ترے آستاں کے تھے ہی نہیں
ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا
کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں
دل نے ڈالا تھا درمیاں جن کو
لوگ وہ درمیاں کے تھے ہی نہیں
اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
جون ایلیا

یہ میرا طورِ زندگی ہی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 139
کام کی بات میں نے کی ہی نہیں
یہ میرا طورِ زندگی ہی نہیں
اے اُمید، اے اُمیدِ نو میداں
مجھ سے میّت تیری اُٹھی ہی نہیں
میں جو تھا اِس گلی کا مست خُرام
اس گلی میں میری چلی ہی نہیں
یہ سنا ہے کہ میرے کوچ کے بعد
اُس کی خوشبو کہیں بسی ہی نہیں
تھی جو اِک فاختہ اُداس اُداس
صبح وہ شاخ سے اُڑی ہی نہیں
مجھ میں اب میرا جی نہیں لگتا
اور ستم یہ کے میرا جی ہی نہیں
وہ رہتی تھی جو دل محلے میں
وہ لڑکی مجھے ملی ہی نہیں
جائیے اور خاک اڑائیں آپ
اب وہ گھر کیا کے وہ گلی ہی نہیں
ہائے وہ شوق جو نہیں تھا کبھی
ہائے وہ زندگی جو تھی ہی نہیں
جون ایلیا

دل لگایا تھا، دل لگا ہی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 138
وقت درماں پذیر تھا ہی نہیں
دل لگایا تھا، دل لگا ہی نہیں
ترکِ الفت ہے کس قدر آسان
آج تو جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
ہے کہاں موجہ ءِ صبا و شمیم
جیسے تُو موجہ ءِ صبا ہی نہیں
جس سے کوئی خطا ہوئی ہو کبھی
ہم کو وہ آدمی ملا ہی نہیں
وہ بھی کتنا کٹھن رہا ہو گا
جو کہ اچھا بھی تھا ، برا ہی نہیں
کوئی دیکھے تو میرا حجرہ ءِ ذات
یاں سبھی کچھ وہ تھا جو تھا ہی نہیں
ایک ہی اپنا ملنے والا تھا
ایسا بچھڑا کہ پھر ملا ہی نہیں
جون ایلیا

کہ جیسے یہ شہرِ بَلا ہی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 137
یہاں تو کوئی مَن چلا ہی نہیں
کہ جیسے یہ شہرِ بَلا ہی نہیں
ترے حسرتی کے ہے دل پر یہ داغ
کوئی اب ترا مبتلا ہی نہیں
ہوئی اُس گلی میں فضیحت بہت
مگر میں وہاں سے ٹَلا ہی نہیں
نِکل چل کبھی آپ سے جانِ جاں
ترے دل میں تو ولولہ ہی نہیں
دمِ آخر جو بچھڑے تو بس
پتا بھی کسی کا چَلا ہی نہیں
قیامت تھی اُس کے شکم کی شکن
کوئی بس مرا پھر چلا ہی نہیں
اُسے خون سے اپنے سینچا مگر
تمنا کا پودا پَھلا ہی نہیں
کہاں جا کے دنیا کو ڈالوں بَھلا
ادھر تو کوئی مزبلہ ہی نہیں
اک انبوہِ خونیں دلاں ہے مگر
کسی میں کوئی حوصلہ ہی نہیں
جون ایلیا

فغاں کہ اب وہ ملالِ ملال ہے بھی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 136
جو حال خیز ہو دل کا وہ حال ہے بھی نہیں
فغاں کہ اب وہ ملالِ ملال ہے بھی نہیں
تُو آ کے بے سروکارانہ مار ڈال مجھے
کہ تیغ تھی بھی نہیں اور ڈھال ہے بھی نہیں
مرا زوال ہے اس کے کمال کا حاصل
مرا زوال تو میرا زوال ہے بھی نہیں
کیا تھا جو لبِ خونیں سے اس پہ میں نے سخن
کمال تھا بھی نہیں اور کمال ہے بھی نہیں
وہ اک عجیب زلیخا ہے، یعنی بے یوسف
ہمارے مصر میں اس کی مثال ہے بھی نہیں
تُو ایک کہنہ متاعِ دکانِ شرم ہے، شرم!
ترے بدن کا کوئی حال، حال ہے بھی نہیں
وہ کیا تھی ایک عروسِ ہزار شوہر تھی
سو اب مجھے غمِ ہجر و وصال ہے بھی نہیں
تری گلی میں تو کوڑے کے ڈھیر ہیں جب سے
تری گلی میں کمینوں کا کال ہے بھی نہیں
جون ایلیا

اُس کو خیال بھی نہیں، اپنا خیال بھی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 135
حال یہ ہے کہ خواہشِ پُرسشِ حال بھی نہیں
اُس کو خیال بھی نہیں، اپنا خیال بھی نہیں
اے شجرِ حیاتِ شوق، ایسی خزاں رسیدگی؟
پوششِ برگ و گُل تو کیا، جسم پہ چھال بھی نہیں
مُجھ میں وہ شخص ہو چکا جس کا کوئی حساب تھا
سُود ہی کیا، زیاں ہے کیا، اس کا سوال بھی نہیں
مست ہیں اپنے حال میں دل زدگان و دلبراں
صُلح و سلام تو کُجا، بحث و جدال بھی نہیں
تُو میرا حوصلہ تو دیکھ، داد تو دے کہ اب مجھے
شوقِ کمال بھی نہیں، خوفِ زوال بھی نہیں
خیمہ گہ نگاہ کو لوٹ لیا گیا ہے کیا؟
آج افق کے دوش پر گرد کی شال بھی نہیں
اف یہ فضا سے احتیاط تا کہیں اڑ نہ جائیں ہم
بادِ جنوب بھی نہیں، بادِ شمال بھی نہیں
وجہ معاشِ بے دلاں، یاس ہے اب مگر کہاں
اس کے درود کا گماں، فرضِ محال بھی نہیں
غارتِ روز و شب کو دیکھ، وقت کا یہ غضب تو دیکھ
کل تو نڈھال بھی تھا میں، آج نڈھال بھی نہیں
میرے زبان و ذات کا ہے یہ معاملہ کہ اب
صبحِ فراق بھی نہیں، شامِ وصال بھی نہیں
پہلے ہمارے ذہن میں حسن کی اک مثال تھی
اب تو ہمارے ذہن میں کوئی مثال بھی نہیں
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
جون ایلیا

سودا بھی وہم ہے اور سر بھی کچھ نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 134
طفلانِ کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیں
سودا بھی وہم ہے اور سر بھی کچھ نہیں
میں اور خود سے تجھ کو چھپاؤں گا ، یعنی میں
لے دیکھ لے میاں میرے اندر بھی کچھ نہیں
بس اک غبارِ غم ہے ایک کوچہ گرد کا
دیوارِ بود کچھ نہیں اور گھر بھی کچھ نہیں
یہ شہرِ دارِ محتسب و مولوی ہی کیا
پیرِمغاں و رند و قلندر بھی کچھ نہیں
شیخِ حرم لقمہ کی پروا ہے کیوں نہیں
مسجد بھی اس کی کچھ نہیں ممبر بھی کچھ نہیں
مقدور اپنا کچھ بھی نہیں اس دِیار میں
شاید وہ جبر ہے کے مقدر بھی کچھ نہیں
جانی میں تیرے ناف پیالے پہ ہوں فدا
یہ اور بات ہے تیرا پیکر بھی کچھ نہیں
یہ شب کا رقص و رنگ تو کیا سن میرے کوہان
صبح شتاب کوش کا دفتر بھی کچھ نہیں
بس اک غبارِ طور گماں کا بھی تہ با تہ
یعنی نظر بھی کچھ نہیں ، منظر بھی کچھ نہیں
ہے اب تو اک حالِ سکونِ ہمیشیگی
پرواز کا تو ذکر ہی کیا ، پر بھی کچھ نہیں
پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
یعنی وفاِ عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
گزرے گی جون شہر میں رشتوں کے کس طرح
دل میں بھی کچھ نہیں ہے اور زباں پر بھی کچھ نہیں
جون ایلیا