زمرہ جات کے محفوظات: پروین شاکر

رفاقت

سبز موسم کی بے حد خنک رات تھی

چنبیلی کی خوشبو سے بوجھل ہُوا

دھیمے لہجوں میں سرگوشیاں کر رہی تھی

ریشمیں اوس میں بھیگ کر

رات کا نرم آنچل بدن سے لپٹنے لگا تھا

ہارسنگھار کی نرم خوشبو کا جادو

جواں رات کی سانس میں گُھل رہا تھا

چاندنی،رات کی گود میں سر رکھے ہنس رہی تھی

اور میں سبز موسم کی گلنار ٹھنڈک میں کھوئی ہُوئی

شاخ در شاخ

ایک تیتری کی طرح اُڑ رہی تھی

کبھی اپنی پرواز میں رُک کے نیچے جوآتی تو احساس ہوتا مجھے

شبنمی گھاس کا لمس پاؤں کو کتنا سکوں دے رہا ہے!

دفعتاً

میں نے ٹی ۔وی کی خبروں پہ موسم کی بابت سُنا

ترے شہر میں لُو چلی ہے

ایک سو آٹھ سے بھی زیادہ حرارت کا درجہ رہا ہے

مجھے یوں لگا

میرے چاروں طرف آگ ہی آگ ہے

ہوائیں جہنم سے آنے لگی ہیں

تمازت سے میرا بدن پُھنک رہا ہے

میں اُس شبنمی رُوح پرور فضا کو جھٹک کر

کچھ اس طرح کمرے میں اپنے چلی آئی

جیسے کہ اک لمحہ بھی اور رک جاؤں گی تو جھلس جاؤں گی!

پھر بڑی دیر تک،

تیرے تپتے ہُوئے جسم کو

اپنے آنچل سے جھلستی رہی

تیرے چہرے سے لپٹی ہُوئی گرد کو

اپنی پلکوں سے چُنتی رہی

رات کو سونے سے پہلے

اپنی شب خوابیوں کا لبادہ جو پہنا

تو دیکھا

مرے جسم پر آبلے پڑ چکے تھے!

لمحہ لمحہ وقت کی جھیل میں ڈُوب گیا

اب پانی میں اُتریں بھی تو پائیں کیا

طوفان جب آیا تو جھیل میں کُود پڑ

ا وہ لڑکا جو کشتی کھیلنے نکلا تھا

کتنی دیر تک اپنا آپ بچائے گی

ننھی سی اِک لہر کو موجوں نے گھیرا

اپنے خوابوں کی نازک پتواروں سے

تیر رہا ہے سطحِ آپ پہ اِک پتہ

ہلکی ہلکی لہریں نیلم پانی میں

دھیرے دھیرے ڈولے یاقوتی نیّا

شبنم کے رُخساروں پر سُورج کے ہونٹ

ٹھہرگیا ہے وصل کا اِک روشن لمحہ

چاند اُتر آیا ہے گہرے پانی میں

ذہن کے آئینے میں جیسے عکس ترا

کیسے ان لمحوں میں تیرے پاس آؤں

ساگر گہرا،رات اندھیری ،میں تنہا

ٹھہر کے دیکھے تو رُک جائے نبض ساعت کی

شبِ فراق کی قامت ہے کسقیامت کی

وہ رت جگے،وہ گئی رات تک سخن کاری

شبیں گزاری ہیں ہم نے بھی کُچھ ریاضت کی

وہ مجھ کو برف کے طوفاں میں کیسے چھوڑ گیا

ہَوائے سرد میں بھی جب مری حفاظت کی

سفر میں چاند کا ماتھا جہاں بھی دُھندلایا

تری نگاہ کی زیبائی نے قیادت کی!

ہَوا نے موسمِ باراں سے سازشیں کر لیں

مگر شجر کو خبر ہی نہیں شرارت کی

پروین شاکر

رّدِ عمل

گئے موسم کے کسی لمحے میں

تُونے اِس طرح پُکارا تھا مُجھے

جیسے مَدھم کا بہت میٹھاسُر

رُوح کا کوئی سِرا چُھو جائے

جیسے شبنم کا اکیلا موتی

عارض برگِ حنا چُھو جائے

جیسے اِک موجِ ہَوا کی صورت

رات کی رانی سے کُچھ رات کہے

جیسے بچپن کی سہیلی میری

شوخ لہجے میں تری بات کہے!

میں نے شرما کر جُھکا لیں پلکیں

اِ ک عجب نشے کے احساس سے میری آنکھیں

خُود بخود بند ہُوئی جاتی تھیں

دیر تک خواب کے عالم میں رہی!

تیر ی آواز کہ اِک گونج بنی جس کے ساتھ

رُوح اَن دیکھے جزیروں میں سفرکرتی رہی

کبھی سمٹی،کبھی بکھری،کبھی مدہوش ہُوئی

چاند میں ، دشت میں ،شبنم میں ،سمندر میں رہی

نیلمیں ،ریشمیں دُنیا میں رہی!

آج لوگوں نے بتایا کہ اُنھوں نے دیکھا

اُسی لہجے اُسی انداز کے ساتھ

تیرے ہونٹوں پہ کسی اور کا نام!

سوچتی ہوں کہ ترے لہجے کی اس نرمی پر

جانے اُس لڑکی نے کیا سوچاہو!

خواب،مہتاب،گلاب اور شبنم

نیل ،آکاش،سحاب اور پُونم

چاندنی،رنگ،کرن نکہتِ گل کا موسم

گیت،خوشبو،لبِ جُو،تیرے بدن کا ریشم

یا ترے ساتھ ہی ،شیزان سے کافی پی کر

تجھ سے اٹھلا کے کہا ہو،کہ میری جان،چلو لے آئیں

روبی جیولزر کے ہاں سے کوئی تازہ نیلم

پروین شاکر

رات کی رانی کی خوشبو سے کوئی یہ کہہ دے

رات کی رانی کی خوشبو سے کوئی یہ کہہ دے

آج کی شب نہ مرے پاس آئے

آج تسکینِ مشامِ جاں کو

دل کے زخموں کی مہک کافی ہے

یہ مہک،آج سرِشام ہی جاگ اُٹھی ہے

اب یہ بھیگی ہُوئی بوجھل پلکیں

اور نمناک ،اُداس آنکھیں لیے

رت جگا ایسے منائے گی کہ خود بھی جاگے

اور پَل بھر کے لیے،میں بھی نہ سونے پاؤں

دیو مالائی فسانوں کی کسی منتظرِ موسمِ گل راجکماری کی خزاں بخت،دُکھی رُوح کی مانند

بھٹکنے کے لیے

کُو بہ کُو ابرِ پریشاں کی طرح جائے گی

دُور افتادہ سمندر کے کنارے بیٹھی

پہروں اُس سمت تکے گی جہاں سے اکثر

اُس کے گم گشتہ جزیروں کی ہَوا آتی ہے!

گئے موسم کی شناسا خوشبو

یوں رگ و پے میں اُترتی ہے

کہ جیسے کوئی چمکیلا،رُوپہلاسیال

جسم میں ایسے سرایت کر جائے

جیسے صحراؤں کی شریانوں میں پہلی بارش!

غیر محسوس سروشِ نکہت

ذہن کے ہاتھ میں وہ اِسم ہے

جس کی دستک

یاد کے بند دریچوں کوبڑی نرمی سے

ایسے کھولے گی کہ آنگن میرا

ہر دریچے کی الگ خوشبو سے

رنگ در رنگ چھلک جائے گا

یہ دلاویز خزانے میرے

میرے پیاروں کی عطا بھی ہیں

مرے دل کی کمائی بھی ہیں

ان کے ہوتے ہُوئے اوروں کی کیا ضرورت ہے

رات کی رانی کی خوشبو سے کوئی یہ کہدے

آج کی شب نہ میرے پاس آئے

پروین شاکر

ڈیوٹی

’’جان !

مجھے افسوس ہے

تم سے ملنے،شاید اس ہفتے بھی نہ آسکوں گا

بڑی اہم مجبوری ہے!‘‘

جان!

تمھاری مجبوری کو

اب تو میں بھی سمجھنے لگی ہوں

شاید اس ہفتے بھی

تمھارے چیف کی بیوی تنہا ہو گی!

پروین شاکر

ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں

پرل کا نیچرل پنک،

ریولان ہینڈ لوشن،

الزبتھ آرڈرن کا بلش آن بھی،

میڈورا میں پھر نیل پالش کا کوئی نیا شیڈ آیا؟

مرے اس بنفشی دوپٹے سے ملتی ہُوئی

رائمل میں لپ اسٹک ملے گی؟

ہاں ،وہ ٹیولپ کا شیمپو بھی دیجئے گا،

یاد آیا

کچھ روز پہلے جو ٹیوزر لیا تھا،وہ بالکل ہی بیکار نکلا،

دُوسرا دیجئے گا!

ذرا بِل بنا دیجئے!

ارے! وہ جو کونے میں اک سینٹ رکھا ہُوا ہے

دکھائیں ذرا

اِسے ٹسٹ کر کے تو دیکھوں

(خدایا! خدایا:

یہ خوشبو تو اُس کی پسندیدہ خوشبو رہی ہے

سدا سے اس کے ملبوس سے پھوٹتی تھی!)

ذرا اس کی قیمت بتا دیں !

اِس قدر!!

اچھا ،یوں کیجئے

باقی چیزیں کبھی اور لے جاؤں گی

آج تو صرف اِ س سینٹ کو پیک کر دیجئے

پروین شاکر

دوست چڑیوں کے لیے کچھ حرف

بھولی چڑیا!

میرے کمرے میں ،کیا لینے آئی ہے؟

یہاں تو صرف کتابیں ہیں !

جو تجھ کو تیرے گھر کا نقشہ تو دے سکتی ہیں

لیکن

تِنکے لانے والے ساتھی

اِن کی پہنچ سے باہر ہیں !

(۲)

چڑیا پیاری،

میرے روشندان سے اپنے تنکے لے جا!

ایسا نہ ہو کہ

میرے گھر کی ویرانی کل

تیرے گھر کی آبادی کو کھا جائے!

تجھ پر میری مانگ کا سایہ پڑ جائے!

(۳)

گورّیا!

کیوں روتی ہے؟

آج تو تیرے گھر میں سُورج ہَوا کا قاصد بنا ہُوا ہے

کرنیں تیرے سب بچوں کی اُنگلی تھامے رقصاں تھیں

ننھے پہلی بار ہَوا سے گلے ملے تھے

اور ہَوا سے جو اِک بار گلے مل جاتا ہے

وہ گھر کب واپس آتا ہے!

(۴)

سجھے سجائے گھر کی تنہا چڑیا!

تیری تارہ سی آنکھوں کی ویرانی

پچھم جابسنے والے شہزادوں کی ماں کا دُکھ ہے

تجھ کو دیکھ کے اپنی ماں کو دیکھ رہی ہوں

سوچ رہی ہوں

ساری مائیں ایک مقدر کیوں لاتی ہیں ؟

گودیں پُھولوں والی!

آنگن پھر بھی خالی!

پروین شاکر

دھیان

ہرے لان سُرخ پُھولوں کی چھاؤں میں بیٹھی ہوئی

میں تجھے سوچتی ہوں

مری اُنگلیاں

سبز پتوں کی چُھوتی ہوئی

تیرے ہمراہ گزرے ہوئے موسموں کی مہک چُن رہی ہیں

وہ دلکش مہک

جو مرے ہونٹ پر آ کے ہلکی گلابی ہنسی بن گئی ہے!

دُور اپنے خیالوں میں گُم

شاخ در شاخ

اِک تیتری،خوشنما پَر سمیٹے ہُوئے،اُڑ رہی ہے

مُجھے ایسا محسوس ہونے لگاہے

جیسے مجھ کو بھی پَر مل گئے ہوں

پروین شاکر

دُھوپ کا موسم

میں رنگ میں دیکھتی تھی،خوشبو میں سوچتی تھی!

مجھے گماں تھا

کہ زندگی اُجلی خواہشوں کے چراغ لے کر

مرے دریچوں میں روشنی کی نوید بن کر اُتر رہی ہے

میں کُہر میں چاندنی پہن کر

بنفشی بادل کا ہاتھ تھامے

فضا میں پرواز کر رہی تھی

سماعتوں میں سحاب لہجوں کی بارشیں تھیں

بصارتوں میں گلاب چہروں کی روشنی تھی

ہوا کی ریشم رفاقتیں تھیں

صبا کی شبنم عنائتیں تھیں

حیات خوابوں کا سلسلہ تھیں !

کُھلیں جو آنکھیں توسارے منظر دھنک کے اس پار رہ گئے تھے

نہ رنگ میرے، نہ خُواب میرے

ہُوئے تو بس کچھ عذاب میرے

نہ چاند راتیں ،نہ پُھول باتیں

نہ نیل صبحیں ،نہ جھیل شامیں

نہ کوئی آہٹ،نہ کوئی دستک

حرف مفہوم کھو چکے تھے

علامتیں بانجھ ہو گئی تھیں

گلابی خوابوں کے پیرہن راکھ ہو چکے تھے

حقیقتوں کی برہنگی

اپنی ساری سفاکیوں کے ہمراہ

جسم و جاں پر اُتری جا رہی تھی

وہ مہرباں ،سایہ دار بادل

عذاب کی رُت میں چھوڑ کر مجھ کو جا چُکا تھا

زمین کی تیز دھوپ آنکھوں میں چُبھ رہی تھی

پروین شاکر

دل کی ہنسی

وہ لڑکی

جس کے چہرے پر سدااُداسی رہتی تھی

جس کے ہونٹ کبھی اخلاقاً بھی ہنستے تو

یوں لگتا تھا

اِک لمحہ بھی اور ہنسے تو

اُس کی آنکھیں رو دیں گی!

جو ،روزانہ،

اپنے وقت پہ کالج آتی

سب سے الگ اپنی دُنیا میں گُم رہتی

اپنے کھوئے ہُوئے لوگوں کی یاد میں کھوئی رہتی

وہ خاموش،اُداس سی لڑکی

میرا کہنا مان کے پکنک پر چل دی

میں نے دیکھا

میری سکھیوں کے ہمراہ

وہ پانی میں بیٹھی ہے

لہروں سے بھی کھیل رہی ہے

جانے کون سی بات ہُوئی ہے

سب کے ساتھ وہ ہنس دی ہے

اور اس لمحے

اُس کے ہونٹوں کے ہمراہ

اُس کی آنکھیں بھی ہنستی ہیں

پروین شاکر

دعا

چاندنی،

اُس دریچے کو چُھوکر

مرے نیم روشن جھروکے میں آئے ، نہ آئے

مگر

میری پلکوں کی تقدیر سے نیند چُنتی رہے

اور اُس آنکھ کے خواب بُنتی رہے

پروین شاکر

خُوشبو کی زباں

زباں غیر میں لِکھا ہے تُو نے خط مُجھ کو

بہت عجیب عبارت ، بڑی ادق تحریر

یہ سارے حرف مری حدِ فہم سے باہر

میں ایک لفظ بھی محسوس کر نہیں سکتی

میں ہفت خواں تو کبھی بھی نہ تھی۔مگر اس وقت

یہ صورت و رنگ، یہ آہنگ اجنبی ہی سہی

مجھے یہ لگتا ہے جیسے میں جانتی ہوں انھیں

(ازل سے میری سماعت ہے آشنا اِن سے!)

کہ تیری سوچ کی قربت نصیب ہے اِن کو

یہ وہ زباں ہے جسے تیرا لمس حاصل ہے

ترے قلم نے بڑے پیار سے لکھا ہے انھیں

رچی ہُوئی ہے ہر اک لفظ میں تری خوشبو

تری وفا کی مہک، تیرے پیار کی خوشبو

زبان کوئی بھی ہو خوشبو کی ۔وہ بھلی ہو گی

پروین شاکر

خود کلامی

یوں لگتا ہے

جیسے میرے گرد و پیش کے لوگ

اک اور ہی بولی بولتے ہیں

وہ ویو لنتھ

جس پر میرا اور ان کا رابطہ قائم تھا

کسی اور کرّے میں چلی گئی ہے

یا میری لغت متروک ہوئی

مرے لفظ مجھے جس رستے پر لے جاتے ہیں

ان کی فرہنگ جدا ہے

میں لفظوں کی تقدیس کی خاطر چپ ہوں

اور میری ساری گفتگو

دیوار سے یا تنہائی سے اپنے سائے سے ممکن ہے

مجھے ڈر اُس پل سے لگتا ہے

جب خود میں سکڑتے سکڑتے

میں اپنےآپ سے باتیں کرنے والی

رابطہ رکھنے والی

فریکونسی بھی بھلا دونگی

اور اک دن

مے ڈے مے ڈے کرتی رہ جاؤں گی

پروین شاکر

خُود سے مِلنے کی فرصُت کسے تھی

اپنی پندار کی کرچیاں

چُن سکوں گی

شکستہ اُڑانوں کے ٹوٹے ہُوئے پر سیٹوں گی

تجھ کو بدن کی اجازت سے رُخصت کروں گی

کبھی اپنے بارے میں اِتنی خبرہی نہ رکھی تھی

ورنہ بچھڑے کی یہ رسم کب کی اُدا ہوچکی تھی

مرا حوصلہ

اپنے دل پر بہت قبل ہی منکشف ہو گیا ہوتا

لیکنِ یہاں

خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی

پروین شاکر

خواب

کُھلے پانیوں میں گِھری لڑکیاں

نرم لہروں کے چھینٹے اُڑاتی ہُوئی

بات بے بات ہنستیہُوئی

اپنے خوابوں کے شہزادوں کا تذکرہ کر رہی تھیں

جو خاموش تھیں

اُن کی آنکھوں میں بھی مُسکراہٹ کی تحریر تھی

اُن کے ہونٹوں کو بھی اَن کہے خواب کا ذائقہ چُومتا تھا!

(آنے والے نئے موسموں کے سبھی پیرہن نیلمیں ہو چکے تھے!)

دُور ساحل پہ بیٹھی ہُوئی ایک ننھی سی بچی

ہماری ہنسی اور موجوں کے آہنگ سے بے خبر

ریت سے ایک ننھا گھروندا بنانے میں مصروف تھی

اور میں سوچتی تھی

خدایا! یہ ہم لڑکیاں

کچی عُمروں سے ہی خواب کیوں دیکھنا چاہتی ہیں

(خواب کی حکمرانی میں کِتنا تسلسل ہے!)

پروین شاکر

خلش

عجیب طرز ملاقات اب کے بار رہی

تمھی تھے بدلے ہوئے یا مری نگاہیں تھیں !

تُمھاری نظروں سے لگتا تھا جیسے میری بجائے

تُمھارے گھر میں کوئی اور شخص آیا ہے

تُمھارے عہدے کی دینے تمھیں مُبارکباد

سو تم نے میرا سواگت اُسی طرح سے کیا

جو افسرانِ حکومت کے ایٹی کیٹ میں ہے!

تکلفاً مرے نزدیک آ کے بیٹھ گئے

پھر اہتمام سے موسم کا ذکر چھیڑ دیا

کُچھ اس کے بعد سیاست کی بات بھی نکلی

اَدب پہ بھی کوئی دوچار تبصرے فرمائے

مگر نہ تم نے ہمیشہ کی طرح یہ پُوچھا

کہ وقت کیسا گُزرتا ہے تیرا، جانِ حیات

پہاڑ دن کی اذیت میں کِتنی شدت ہے!

اُجاڑ رات کی تنہائی کیا قیامت ہے!

شبوں کی سُست روی کا تجھے بھی شکوہ ہے؟

غِم فراق کے قصے ،نشاطِ وصل کا ذکر

روایتاً ہی سہی، کوئی بات تو کرتے!

پروین شاکر

چاند رات

گئے برس کی عید کا دن کیا اچھا تھا

چاند کو دیکھ کے اُس کا چہرہ دیکھا تھا!

فضا میں کیٹس کے لہجے کی نرماہٹ تھی

موسم اپنے رنگ میں فیض کا مصرعہ تھا

دُعا کے بے آواز، الوہی لمحوں میں

وہ لمحہ بھی کتنا دلکش تھا

ہاتھ اُٹھا کر جب آنکھوں ہی آنکھوں میں

اُس نے مُجھ کو اپنے رب سے مانگا تھا

پھر میرے چہرے کو ہاتھوں میں لے کر

کتنے پیار سے میرا ما تھا چُوما تھا

ہَوا! کچھ آج کی شب کا بھی احوال سُنا

کیا وہ اپنی چھت پر آج اکیلا تھا؟

یا کوئی میرے جیسی ساتھ تھی،اور اُس نے

چاند کو دیکھ کر اُس کا چہرہ دیکھا تھا!

پروین شاکر

جنم

اب کے،دیوالی !

اُس کے گھر بھی

میرے نام کا دیا جلا

جو اپنے دروازوں پر ، میری دستک کو

ہَوا کا شور سمجھتا تھا

مِلن کی رُت کو بِرہ کی بھور سمجھتا تھا

سپنے تک میں چھُو کر مُجھ کو

خود کو چور سمجھتا تھا

چور نے مور کا جنم لیا ہے

سچّی ہار کے سندر بن میں ناچ رہا ہے

پروین شاکر

جل پری

اس قدر دودھیا خوشنما ہنس کر

اپنی جانب لپکتے ہُوئے دیکھ کر مُسکرائی

مگر اس کی یہ مسکراہٹ ہنسی بننے سے قبل ہی چیخ میں ڈھل گئی

اُس کا انکار بے سُود

وحشت ، سراسیمگی ، اجنبی پھڑپھڑاہٹ میں گُم ہو گئی

آہ وزاری کے باوصف

مضبوط پَر اُس کا سارا بدن ڈھک چکے تھے!

اُجلی گردن میں وحشت زدہ چونچ اُتری چلی جا رہی تھی

اُس کے آنسو

سمندر میں شبنم کی مانند حل ہو گئے!

سِسکیاں

تُند موجوں کی آواز میں بے صدا ہو گئیں !

ہنس اپنے لُہو کی دہکتی ہُوئی وحشتیں

نیم بے ہوش خوشبو کے رس سے بجھاتا رہا

اورپھر اپنے پیاسے بدن کے مساموں پہ

بھیگی ہُوئی لذّتوں کی تھکن اوڑھ کر اُڑگیا!

جل پری

گہرے نیلے سمندر کی بیٹی

اپنی مفتوح و نا منتظر کوکھ میں

آسماں اور زمیں کے کہیں درمیاں رہنے والو ں کا

بے شجرہ و بے نسب ورثے کا بوجھ تھامے ہُوئے

آج تک رو رہی ہے!

پروین شاکر

جان پہچان

شور مچاتی موجِ آب

ساحل سے ٹکرا کے جب واپس لوٹی تو

پاؤں کے نیچے جمی ہُوئی چمکیلی سنہری ریت

اچانک سرک گئی!

کچھ کچھ گہرے پانی میں

کھڑی ہُوئی لڑکی نے سوچا

یہ لمحہ کتنا جانا پہچانا لگتا ہے

پروین شاکر

توقع

جب ہوا

دھیمے لہجوں میں کُچھ گنگناتی ہُوئی

خواب آسا، سماعت کو چُھو جائے ، تو

کیا تمھیں کوئی گُزری ہُوئی بات یاد آئے گی؟

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا!

بجتے رہیں ہواؤں سے در، تم کو اس سے کیا!

تم موج موج مثل صبا گُھومتے رہو

کٹ جائیں میری سوچ کے پر ،تُم کو اس سے کیا

اوروں کا ہاتھ تھامو ، انھیں راستہ دکھاؤ

میں بُھول جاؤں اپنا ہی گھر ، تم کو اس سے کیا

ابرِ گریز پا کو برسنے سے کیا غرض

سیپی میں بن نہ پائے گُہر،تم کو اس سے کیا!

لے جائیں مجھ کو مالِ غنیمت کے ساتھ عدو

تم نے تو ڈال دی ہے سپر، تم کو اس سے کیا!

تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیے

تنہا کٹے کسی کا سفر ، تم کو اس سے کیا!

پروین شاکر

تنقید اور تخلیق

’’آپ کی شاعری صرف خوشبو ہے

دل میں اُترتی ہُوئی

رُوح پر شبنمی ہاتھ رکھتی ہُوئی

یہ مگر۔۔۔۔ذہن کو ہلکے سے چُھو کر گُزر جائے گی

آپ اِسے رنگ کا پیرہن دیجئے

کوئی آدرش اُونچا ،انوکھا عقیدہ،کوئی گنجلک فلسفہ

سخت ناقابلِ فہم الفاظ میں پیش کرنے کی کوشش کریں

آپ کی سوچ میں کچھ تو گہرائی ہو__!‘‘

آپ سچ کہہ رہے ہیں

مگر ۔۔دیکھیے نا۔۔۔ابھی میرا فن کچی عمروں میں ہے

(آپ اسے خواب ہی دیکھنے دیجئے

اتنی گھمبیر دانشوری میں نہ اُلجھائیے)

میں نہیں چاہتی۔۔کہ میرا فن

جواں ہونے سے قبل ہی بوڑھا ہو جائے

اور فلسفے کا عصا لے کے چلنے لگے

پروین شاکر

تُمھارا رویہ

تُمھارا رویہ

مرے ساتھ ایسا رہا ہے

کہ جو

ایک کہنہ سیاسی مُدبر کا

کمسن صحافی کے ہمراہ ہوتا ہے ا۔

ہر حرف اپنے عواقب سے ہشیار

ہر نقط تولا ہوا

(مسئلہ فقرے بازی میں الجھا ہوا )

کوئی بات ایسی نہ ہوپائے ، جوبعد میں

اُس کے حق میں

خود اُس کی زباں سے چلایا ہُوا تیر بن جائے

(اور وہ پشیمان ہو)

پروین شاکر

تعبیر

سیہ راتوں کے آگے سُرخرو ہوں

چاند سے آنکھیں ملا کر بات کرتی ہوں

کہ میں نے عمر میں دیکھا ہے پہلی بار یہ منظر

مری نیندیں مرے خوابوں کے آگے سر اُٹھا کر چل رہی ہیں

پروین شاکر

تشکر

دشتِ غُربت میں جس پیڑ نے

میرے تنہا مُسافر کی خاطر گھنی چھاؤں پھیلائی ہے

اُس کی شادابیوں کے لیے

میری سب اُنگلیاں

ہَوا میں دُعا لِکھ رہی ہیں !

پروین شاکر

ترانہ

میرا بدن لہو لہو

مرا وطن لہو لہو

مگر عظیم تر

یہ میری ارض پاک ہو گئی

اسی لہو سے

سرخرو

وطن کی خاک ہو گئی

مرا بدن لہو لہو

بجھا جو اک دیا یہاں

تو روشنی کے کارواں

رواں دواں رواں دواں

یہاں تلک کے ظلم کی

فصیل چاک ہو گئی

عظیم تر یہ ارض پاک ہو گئی

مرا بدن لہو لہو

غنیم کس گماں میں تھا

کہ اس نے وار کر دیا

اسے خبر نہ تھی ذرا

کہ جب بھی ہم بڑھے

تو پھر رکے نہیں

یہ سر اٹھے تو کٹ مرے

مگر جھکے نہیں

اسی ادا سے رزمگاہ تابناک ہو گئی

عظیم تر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ارض پاک ہو گئی

مرا بدن لہو لہو

مرا وطن لہو لہو

ہر ایک زخم فتح کا نشان ہے

وہی تو میری آبرو ہے آن ہے

جو زندگی وطن کی راہ میں ہلاک ہو گئی

عظیم تر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ارض پاک ہو گئی

پروین شاکر

پیشہ ور قاتلو

میں نے اکثر تمہارے قصیدے لکھے

اور آج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں

پا بہ زنجیر یاروں سے نادم ہوں میں

اپنے گیتوں کی عظمت سے شرمندہ ہوں

سرحدوں نے کبھی جب پکارا تمہیں

آنسووں سے تمہیں الوداعیں کہیں

تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے

ہار کر بھی نہ جی سے اتارا تمہیں

جس جلال و رعونت سے وارد ہوئے

کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے

تیغ در دست و کف در دہاں آئے تھے

طوق در گردنوں پا بہ جولاں گئے

سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے

جن کا خوں منہ کو ملنے کو تم آئے تھے

مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے

یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے

انکی تقدیر تم کیا بدلتے مگر

انکی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے

جیسے برطانوی راج میں ڈوگرے

جیسے سفاک گورے تھے ویتنام میں

تم بھی ان سے ذرا مختلف تو نہیں

حق پرستوں پہ الزام انکے بھی تھے

وحشیوں سے چلن عام انکے بھی تھے

رائفلیں وردیاں نام انکے بھی تھے

آج سرحد سے پنجاب و مہران تک

تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو

اتنی غارتگری کس کے ایما پر ہے

کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو

کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے

کس کے آگے ہو تم سرنگوں غازیو

آج شاعر پہ ہی قرض مٹی کا ہے

اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں۔

آج تم آئینہ ہو میرے سامنے

پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں

(نامکمل)

پروین شاکر

پوربی پردیسی کب آؤ گے؟

سُورج ڈوباشام ہو گئی

تن میں چنبیلی پُھولی،

من میں آگ لگانے والے

میں کب تجھ کو بُھولی

کب تک آنکھ چراؤ گے؟

پردیسی ، کب آؤ گے؟

سانجھ کی چھاؤں میں تیری چھایا

ڈھونڈتی جائے داسی

بھرے ماگھ میں کھوجے تجھ کو

تن درشن کی پیاسی

جیون بھر ترساؤگے

پردیسی کب آؤ گے؟

بھیروں ٹھاٹھ نے انگ بتایا

وادی سُر___گندھار

سموا دی کو نکھادرنگ دے

شدھ مدھم سنگھار

تم کب تلک لگاؤ گے؟

پردیسی ،کب آؤ گے؟

ہاتھ کا پُھول ، گلے کی مالا

مانگ کا سُرخ سیندور

سب کے رنگ ہیں پھیکے پرانے

ساجن جب تک دُور

روپ نہ میرا سجاؤ گے؟

پردیسی ، کب آؤ گے؟

ہر آہٹ پر کھڑکی کھولی

ہر دستک پر آنکھ

چاند نہ میرے آنگن اترا

سپنے ہو گئے راکھ

ساری عمر جلاؤ گے؟

پردیسی ، کب آؤ گے؟

پروین شاکر

پہلے پہل

شِکن چُپ ہے

بدن خاموش ہے

گالوں پہ ویسی تمتماہٹ بھی نہیں ،لیکن،

میں گھر سے کیسے نکلوں گی،

ہَوا ،چخچل سہیلی کی طرح باہر کھڑی ہے

دیکھتے ہی مُسکرائے گی!

مجھے چُھوکر تری ہر بات پالے گی

تجھے مجھ سے چُرالے گی

زمانے بھر سے کہہ دے گی،میں تجھ سے مِل کے آئی ہوں !

ہَوا کی شوخیاں یہ

اور میرا بچپنا ایسا

کہ اپنے آپ سے بھی میں

تری خوشبو چُھپاتی پھر رہی ہوں

پروین شاکر

پہرے

پسِ شہرِ گُل

سُرخ پتّھر کی دیوار پر

آ کے موجِ صبا

عُمر بھر دستکیں دے تو کیا

صرف یہ ہے کہ ہاتھ اُس کے تھک جائیں گے

پروین شاکر

پکنک

سکھیاں میری

کُھلے سمندر بیچ کھڑی ہنستی ہیں

اور میں سب سے دُور،الگ ساحل پر بیٹھی

آتی جاتی لہروں کو گنتی ہوں

یا پھر

گِیلی ریت پہ تیرا نام لکھے جاتی ہوں

پروین شاکر

پروردہ

لوگ کہتے ہیں ان دنوں چپ ہے

میرا قاتل_______

کہ اُس کے خنجر کو

دھونے والی کنیز

چُھپ چُھپ کر

اب لُہو کو زباں سے چاٹتی ہے!

پروین شاکر

پرزم

پانی کے اِک قطرے میں

جب سُورج اُترے

رنگوں کی تصویر بنے

دھنک کی ساتوں قوسیں

اپنی بانہیں یُوں پھیلائیں

قطرے کے ننھے سے بدن میں

رنگوں کی دُنیا کِھنچ آئے!

میرا بھی اِک سورج ہے

جو میرا تَن چُھوکر مُجھ میں

قوسِ قزح کے پُھول اُگائے

ذرا بھی اُس نے زاویہ بدلا

اور مَیں ہو گئی

پانی کا اِک سادہ قطرہ

بے منظر،بے رنگ

پروین شاکر

بے نسب ورثے کا بوجھ

گہرے پانی کی چادر پہ لیٹی ہُوئی جل پری

اپنے آئینہ تن کی عریانیوں کے تکلم سے ناآشنا

موجۂ زلفِ آب رواں سے لپٹ کر

ہواؤں کی سرگوشیاں سُنتے رہنے میں مشغول تھی!

ناگہاں

نیلگوں آسمانوں میں اُڑتے ہوئے دیوتا نے

زمیں پر جو دیکھا

تو پرواز ہی بُھول بیٹھا

نظر جیسے شل ہو گئی

اُڑنا چاہا____مگر

خواہشِ بے اماں نے بدن میں قیامت مچا دی

مگر وصل کیسے ہو ممکن

کہ وہ دیوتا___آسمانوں کا بیٹا ہُوا!

جل پری کا تعلّق زمیں سے

سو خواہش کے عفریت نے

آسماں اور زمیں کے کہیں درمیاں سرزمینوں کی مخلوق کا رُوپ دھارا

بہت کھولتی خواہشوں کے تلاطم سے سرشار نیچے اُترنے لگا

پروین شاکر

بے بسی

بارش نے زمین پر پاؤں دھرا

خوشبو کھنکی ، گھنگھرو چھنکا

لہرائی ہَوا ، بہکی برکھا

کیا جانیے کیا مٹّی سے کہا

در آئی شریر میں اِک ندیا

کس اور چلی ، دیّا دیّا!

کس گھاٹ لگوں رے پرویّا

سارا جگ جل اور میں نیّا

پروین شاکر

بنفشے کا پُھول

وہ پتھر پہ کِھلتے ہُوئے خُوبصورت بنفشے کا ننھا سا ایک پُھول بھی

جس کی سانسوں میں جنگل کی وحشی ہوائیں سمائی ہُوئی تھیں

اُس کے بے ساختہ حُسن کو دیکھ کر

اک مُسافر بڑے پیار سے توڑ کر،اپنے گھر لے گیا

اور پھر

اپنے دیوان خانے میں رکھے ہُوئے کانچ کے خُوبصورت سے گُل دان میں

اُس کو ایسے سجایا

کہ ہر آنے والے کی پہلی نظر اُس پہ پڑنے لگی

دادوتحسین کی بارش میں وہ بھیگتا ہی گیا

کوئی اُس سے کہے

گولڈ لیف اور شنبیل کی نرم شہری مہک سے

بنفشے کے ننھے شگوفے کا دَم گُھٹ رہا ہے

وہ جنگل کی تازہ ہَوا کو ترسنے لگاہے

پروین شاکر

بسنت بہار کی نرم ہنسی

بسنت بہار کی نرم ہنسی

آنگن میں چھلکی

بھیگ گئی مری ساری

پھر___پروا کی شوخی!

کیسے اپنا آپ سنبھالوں

آنچل سے تن ڈھانپوںِ__تو

زُلفیں کُھل جائیں

زُلف سمیٹوں

تن چھلکے گا

پروین شاکر

بس اِتنا یاد ہے

دُعاتو جانے کون سی تھی

ذہن میں نہیں

بس اِتنا یاد ہے

کہ دو ہتھیلیاں ملی ہُوئی تھیں

جن میں ایک میری تھی

اور اِک تمھاری!

پروین شاکر

بائیسویں صلیب

صبح کے وقت ، اذاں سے پہلے

اب سے بائیس برس قبل اُدھر

عمر میں پہلی دفعہ روئی تھی میں

کر ب میں ڈوبی ہُوئی چیخ کو سُن کر مری ماں ہنس دی تھی

مری آواز نے اُس کو شاید

اُس کے ہونے کا یقیں بخشا تھا

دُکھ کے اک لمبے سفر اور اذیّت کی کئی راتیں بسر کرنے پر

اُس نے تخلیق کیا تھا مجھ کو

میری تخلیق کے بعد اُس نے نئی زندگی پائی تھی جسے

آنسوؤں نے مرے بپتسمہ دیا!

ہر نئے سال کے چوبیس نومبر کی سحر

دُکھ کا اِک رنگ نیا لے کے مرے گھر اُتری

اور میں ہر رنگ کے شایان سواگت کے لیے

نذر کرتی رہی

کیا کیا تحفے!

کبھی آنگن کی ہر ی بیلوں کی ٹھنڈی چھایا

کبھی دیوار پہ اُگتے ہُوئے پُھولوں کا بنفشی سایا

کبھی آنکھوں کا کوئی طفلکِ معصوم

کبھی خوابوں کا کوئی شہزادہ کہ تھاقاف کا رہنے والا

کبھی نیندوں کے مسلسل کئی موسم

تو کبھی

جاگتے رہنے کی بے انت رُتیں !

(رس بھیگی ہُوئی برسات کی کاجل راتیں

چاندنی پی کے مچلتی ہُوئی پاگل راتیں !)

وقت نے مجھ سے کئی دان لیے

اُس کی بانہیں ، مری مضبوط پناہیں لے لیں

مجھ تک آتی ہُوئی اس سوچ کی راہیں لے لیں

حد تو یہ ہے کہ وہ بے فیض نگاہیں لے لیں

رنگ تو رنگ تھے ، خوشبوئے حنا تک لے لی

سایہ ابر کا کیا ذکر ، ردا تک لے لی

کانپتے ہونٹوں سے موہوم دُعا تک لے لی

ہر نئے سال کی اِک تازہ صلیب

میرے بے رنگ دریچوں میں گڑی

قرضِ زیبائی طلب کرتی رہی

اور میں تقدیر کی مشاطہ مجبور کی مانند ادھر

اپنے خوابوں سے لہو لے لے کر

دستِ قاتل کی حنا بندی میں مصروف رہی___

اور یہاں تک___کہ صلیبیں مری قامت سے بڑی ہونے لگیں !

ہاں کبھی نرم ہَوا نے بھی دریچوں پہ مرے ، دستک دی

اورخوشبو نے مرے کان میں سرگوشی کی

رنگ نے کھیل رچانے کوکہا بھی،لیکن

میرے اندر کی یہ تنہا لڑکی

رنگ و خوشبو کی سکھی نہ بن سکی

ہر نئی سالگرہ کی شمعیں

میرے ہونٹوں کی بجائے

شام کی سَرد ہَوا نے گل کیں

اور میں جاتی ہُوئی رُت کے شجر کی مانند

تنِ تنہا وتہی دست کھڑی

اپنے ویران کواڑوں سے ٹکائے سرکو

خود کو تقسیم کے نا دیدہ عمل میں سے گُزرتے ہُوئے بس دیکھا کی !

آج اکیسویں صلیبوں کو لہو دے کے خیال آتا ہے

اپنے بائیسویں مہمان کی کِس طرح پذیرائی کروں

آج تو آنکھ میں آنسو بھی نہیں !

ماں کی خاموش نگاہیں

مرے اندر کے شجر میں کسی کونپل کی مہک ڈھونڈتی ہیں

اپنے ہونے سے مرے ہونے کی مربوط حقیقت کا سفر چاہتی ہیں

خالی سیپی سے گُہر مانگتی ہیں

میں تو موتی کے لیے گہرے سمندر میں اُترنے کو بھی راضی ہوںِ_مگر

ایسی برسات کہاں سے لاؤں

جو مری رُوح کو بپتسمہ دے

پروین شاکر

بارش میں

زمین ہے

یا کہ کچّے رنگوں کی ساری پہنے

گھنے درختوں کے نیچے کوئی شریر لڑکی

شریر تر پانیوں سے اپنا بدن چُرائے___چُرا نہ پائے

پروین شاکر

ایکسٹیسی

سبز مدّھم روشنی میں سُرخ آنچل کی دھنک

سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک

بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن

سلوٹیں ملبوس پر،آنچل بھی کُچھ ڈھلکا ہُوا

گرمی رخسار سے دہکی ہُوئی ٹھنڈی ہوا

نرم زُلفوں سے مُلائم اُنگلیوں کی چھیڑ چھاڑ

سُرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکس

ریشمیں باہوں میں چُوڑی کی کبھی مدّھم کھنک

شرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی بات

دو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی اِک صدا

کانپتے ہونٹوں پہ تھی اللہ سے صرف اِک دُعا

کاش یہ لمحے ٹھہر جائیں ،ذرا

پروین شاکر

ایک ننّھی سی اُمیّد

اب تو شہر میں لَوٹ آئے ہو

اب تو سب لمحے اپنے ہیں

کیا اب بھی کم فرصت ہو؟

ہاںِ_لمحوں کی تیز روی نے مجھ کو بھی سمجھایا ہے

دن کے شور میں اپنی صدا گم رہتی ہے

لیکن شام کا لہجہ تو سرگوشی ہے

جِم خانے کی گہر ی رات کی انگوری بانہوں میں آنے سے پہلے

جب وہسکی آنکھوں میں ستارے بھر دے

اورسرشاری

بُھولے بھٹکے رستوں کے وہ سارے چراغ جلا دے

جو تم ہوا سے لڑ کر روشن رکھّا کرتے تھے

کیا کوئی کرن__ننھّی سی کرن___میری ہو گی؟

پروین شاکر

ایک مشکل سوال

ٹاٹ کے پردوں کے پیچھے سے

ایک بارہ تیرہ سالہ چہرہ جھانکا

وہ چہرہ

بہار کے پہلے پھول کی طرح تازہ تھا

اور آنکھیں

پہلی محبت کی طرح شفاف!

لیکن اس کے ہاتھ میں

ترکاری کاٹتے رہنے کی لکیریں تھیں

اور اُن لکیروں میں

برتن مانجھنے والی راکھ جمی تھی

اُس کے ہاتھ

اُس کے چہرے سے بیس سال بڑے تھے!

پروین شاکر

ایک دوست کے نام

لڑکی!

یہ لمحے بادل ہیں

گزر گئے تو ہاتھ کبھی نہیں آئیں گے

ان کے لمس کو پیتی جا

قطرہ قطرہ بھیگتی جا

بھیگتی جا تُو جب تک اِن میں نم ہے

اور تیرے اندر کی مٹی پیاسی ہے

مُجھ سے پوچھ

کہ بارش کوواپس آنے کا رستہ کبھی نہ یاد ہُوا

بال سُکھانے کے موسم اَن پڑھ ہوتے ہیں

پروین شاکر

ایک بُری عورت

ایک بُری عورت

وہ اگرچہ مطربہ ہے

لیکن اُس کے دامِ صورت سے زیادہ

شہر اُس کے جسم کا اسیر ہے

وہ آگ میں گلاب گوندھ کر کمالِ آزری سے پہلوی تراش پانے والا جسم

جس کو آفتاب کی کرن جہاں سے چُومتی ہے

رنگ کی پھوار پھوٹتی ہے!

ا س کے حسنِ بے پناہ کی چمک

کسی قدیم لوک داستان کے جمال کی طرح

تمام عُمر لاشعور کو اسیرِ رنگ رکھتی ہے!

گئے زمانوں میں کسی پری کو مُڑکے دیکھنے سے لوگ

باقی عُمر قیدِ سنگ کاٹتے تھے

یاںِ__سزائے باز دید آگ ہے!

یہ آزمائشِ شکیبِ ناصحاں و امتحانِ زُہدِ واعظاں

دریچۂ مُراد کھول کر ذرا جُھکے

تو شہرِ عاشقاں کے سارے سبز خط

خدائے تن سے،

شب عذار ہونے کی دُعا کریں

جواں لُہو کا ذکر کیا

یہ آتشہ تو

پیرِ سال خوردہ کو صبح خیز کر دے

شہر اس کی دلکشی کے بوجھ سے چٹخ رہا ہے

کیا عجیب حُسن ہے،

کہ جس سے ڈر کے مائیں اپنی کوکھ جائیوں کو،

کوڑھ صورتی کی بد دُعائیں دے رہی ہیں

کنواریاں تو کیا

کہ کھیلی کھائی عورتیں بھی جس کے سائے سے پناہ مانگتی ہیں

بیاہتا دِلوں میں اس کا حُسن خوف بن کے یوں دھڑکتا ہے

کہ گھر کے مرد شام تک نہ لوٹ آئیں تو

وفاشعار بیبیاں دُعائے نور پڑھنے لگتی ہیں !

کوئی برس نہیں گیا

کہ اس کے قرب کی سزا میں

شہر کے سبہی قدر داں

نہ قامتِ صلیب کی قبا ہُوئے

وہ نہر جس پہ ہر سحر یہ خوش جمال بال دھونے جاتی ہے

اُسے فقیہِ شہر نے نجس قرار دے دیا

تمام نیک مرد اس سے خوف کھاتے ہیں

اگر بکارِ خسروی

کبھی کسی کو اس کی راندۂ جہاں گلی سے ہوکے جانا ہو

تو سب کلاہ دار،

اپنی عصمتیں بچائے یوں نکلتے ہیں ،

کہ جیسے اس گلی کی ساری کھڑکیاں

زنانِ مصر کی طرح سے

اُن کے پچھلے دامنوں کو کھینچنے لگی ہیں

یہ گئی اماوسوں کا ذکر ہے

کہ ایک شام گھر کو لوٹتے ہُوئے میں راستہ بھٹک گئی

مری تلاش مجھ کو جنگلوں میں لا کے تھک گئی

میں راہ کھوجتی ہی رہ گئی

اس ابتلا میں چاند سبز چشم ہو چکا تھا

جگنوؤں سے اُمید باندھتی

مہیب شب ہر اس بن کے جسم و جاں پہ یوں اُتر رہی تھی

جیسے میرے روئیں روئیں میں

کسی بلا کا ہاتھ سرسرا رہا ہو

زندگی میں ۔۔۔ خامشی سے اِتنا ڈر کبھی نہیں لگا!

کوئی پرند پاؤں بھی بدلتا تھا تو نبض ڈوب جاتی تھی

میں ایک آسماں چشیدہ پیڑ کے سیہ تنے سے سرٹکائے

تازہ پتّے کی طرح لرز رہی تھی

ناگہاں کسی گھنیری شاخ کو ہٹا کے

روشنی کے دو الاؤ یوں دہک اُٹھے

کہ ان کی آنچ میرے ناخنون تک آ رہی تھی

ایک جست۔۔۔

اور قریب تھا کہ ہانپتی ہُوئی بلا

مری رگ گلو میں اپنے دانت گاڑتی

کہ دفعتاً کسی درخت کے عقب میں چوڑیاں بجیں

لباس شب کی سلوٹوں میں چرمرائے زرد پتّوں کی ہری کہانیاں لیے

وصالِ تشنہ کا گلال آنکھ میں

لبوں پہ ورم ، گال پر خراش

سنبلیں کُھلے ہُوئے دراز گیسوؤں میں آنکھ مارتا ہُوا گُلاب

اور چھلی ہُوئی سپید کہنیوں میں اوس اور دُھول کی ملی جلی ہنسی لیے

وہی بلا ، وہی نجس، وہی بدن دریدہ فاحشہ

تڑپ کے آئی___اور__

میرے اور بھیڑیے کے درمیان ڈٹ گئی

پروین شاکر

ایک اداس نظم

یہ حسین شام اپنی

ابھی جس میں گھل رہی ہے

ترے پیرہن کی خوشبو

ابھی جس میں کھل رہے ہیں

میرے خواب کے شگوفے

ذرا دیر کا ہے منظر!

ذرا دیر میں افق پہ

کھلے گا کوئی ستارہ

تری سمت دیکھ کر وہ

کرے گا کوئی اشارہ

ترے دل کو آئیگا پھر

کسی یاد کا بلاوا

کوئی قصۂ جدائی

کوئی کار نا مکمل

کوئی خواب نا شگفتہ

کوئی بات کہنے والی

کسی اور آدمی سے !

ہمیں چاہیے تھا ملنا

کسی عہد مہرباں میں

کسی خواب کے یقیں میں

کسی اور آسماں میں

کسی اور سر زمیں میں !

پروین شاکر

ایسا نہیں ہونے دینا

میری بستی سے پرے بھی میرے دشمن ہوں گے

پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا

آشنا ہاتھ ہی اکثر میری جانب لپکے

میرے سینے میں میرا اپنا ہی خنجر اترا

پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضا

پھر وہی عام وہ ہی اہل رِیا کی باتیں

نعرہ حبِ وطن مالِ تجارت کی طرح

جنسِ ارزاں کی طرح دین خدا کی باتیں

اس سے پہلے بھی تو ایسی ہی گھڑی آئی تھی

صبح وحشت کی طرح شام غریباں کی طرح

اس سے پہلے بھی تو عہد و پیمانِ وفا ٹوٹے تھے

شیشۂ دل کی طرح آئینۂ جاں کی طرح

پھر کہاں ہیں مری ہونٹوں پہ دعاؤں کے دئے

پھر کہاں شبنمی چہروں پہ رفاقت کی وِداع

صندلی پاؤں سے مستانہ روی روٹھ گئی

ململی ہاتھوں پہ جل بجھ گیا انگارِ حنا

دل نشیں آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویا

شاخِ بازو کے لئے زلف کا بادل رویا

مثلِ پیراہنِ گل پھر سے بدن چاک ہوئے

جیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیر

اس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا ندیم

نوکِ دشتاں سے کھنچی تھی میری مٹی کی لکیر

آج ایسا نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا

اے میری سوختہ جانوں، میرے پیارے لوگو

اب کے گر زلزلے آئے تو قیامت ہو گی

میرے دلگیر، میرے درد کے مارے لوگو

کیسی غاصب، کسی ظالم، کسی قاتل کے لیے

خود کو تقسیم نہ کرنا میرے پیارے لوگو

نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا

پروین شاکر

اے عشق جنوں پیشہ

عمروں کی مسافت سے

تھک ہار گئے آخر

سب عہد اذیّت کے

بیکار گئے آخر

اغیار کی بانہوں میں

دلدار گئے آخر

رو کر تری قسمت کو

غمخوار گئے آخر

یوں زندگی گزرے گی

تا چند وفا کیشا

وہ وادیِ الفت تھی

یا کوہ الَم جو تھا

سب مدِّ مقابل تھے

خسرو تھا کہ جم جو تھا

ہر راہ میں ٹپکا ہے

خونابہ بہم جو تھا

رستوں میں لُٹایا ہے

وہ بیش کہ کم جو تھا

نے رنجِ شکستِ دل

نے جان کا اندیشہ

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کچھ اہلِ ریا بھی تو

ہمراہ ہمارے تھے

رہرو تھے کہ رہزن تھے

جو روپ بھی دھارے تھے

کچھ سہل طلب بھی تھے

وہ بھی ہمیں پیارے تھے

اپنے تھے کہ بیگانے

ہم خوش تھے کہ سارے تھے

سو زخم تھے نَس نَس میں

گھائل تھے رگ و ریشہ

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جو جسم کا ایندھن تھا

گلنار کیا ہم نے

وہ زہر کہ امرت تھا

جی بھر کے پیا ہم نے

سو زخم ابھر آئے

جب دل کو سیا ہم نے

کیا کیا نہ مَحبّت کی

کیا کیا نہ جیا ہم نے

لو کوچ کیا گھر سے

لو جوگ لیا ہم نے

جو کچھ تھا دیا ہم نے

اور دل سے کہا ہم نے

رکنا نہیں درویشا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یوں ہے کہ سفر اپنا

تھا خواب نہ افسانہ

آنکھوں میں ابھی تک ہے

فردا کا پری خانہ

صد شکر سلامت ہے

پندارِ فقیرانہ

اس شہرِ خموشی میں

پھر نعرۂ مستانہ

اے ہمّتِ مردانہ

صد خارہ و یک تیشہ

اے عشق جنوں پیشہ

اے عشق جنوں پیشہ

پروین شاکر

اے دل ان آنکھوں پر نہ جا

اے دل ان آنکھوں پر نہ جا

جن میں وفورِ رنج سے

کچھ دیر کو تیرے لیئے

آنسو اگر لہرا گئے

یہ چند لمحوں کی چمک

جو تجھ کو پاگل کر گئ!

ان جگنوؤں کے نور سے

چمکی ہے کب وہ زندگی

جس کے مقدر میں رہی

صبحِ طلب سے تیرگی

کس سوچ میں گم سم ہے تو

اے بے خبر! ناداں نہ بن

تیری فسردہ روح کو

چاہت کے کانٹوں کی طلب

اور اس کے دامن میں ‌فقط

ہمدردیوں کے پھول ہیں

پروین شاکر

اوتھیلو

اپنے فون پہ اپنا نمبر

بار بار ڈائل کرتی ہوں

سوچ رہی ہوں

کب تک اُس کا ٹیلی فون انگیج رہے گا

دل کُڑھتا ہے

اِتنی اِتنی دیر تلک

وہ کس سے باتیں کرتا ہے

پروین شاکر

آنے والی کل کا دُکھ

مِری نظر میں اُبھر رہا ہے

وہ ایک لمحہ

کہ جب کسی کی حسین زُلفوں کی نرم چھاؤں میں آنکھ مُوندے

گئے دنوں کا خیال کر کے

تم ایک لمحے کو کھو سے جاؤ گے اور شاید

نہ چاہ کر بھی اُداس ہو گے

تو کوئی شیریں نوایہ پُوچھے گی

’’میری جاں ! تم کو کیا ہُوا ہے؟

یہ کس تصور میں کھو گئے ہو؟

تمھارے ہونٹوں پہ صبح کی اوّلیں کرن کی طرح سے اُبھرے گی مُسکراہٹ

تم اُس کے رُخسار تھپتھپا کے

کہو گے اُس سے

میں ایک لڑکی کو سوچتا تھا

عجیب لڑکی تھی۔۔۔کِتنی پاگل!‘‘

تُمھاری ساتھی کی خُوبصورت جبیں پہ کوئی شکن بنے گی

تو تم بڑے پیار سے ہنسو گے

کہو گے اُس سے

’’ارے وہ لڑکی

وہ میرے جذبات کی حماقت

وہ اس قدر بے وقوف لڑکی

مرے لیے کب کی مر چکی ہے!

پھر اپنی ساتھی کی نرم زُلفوں میں اُنگلیاں پھیرتے ہوئے تم

کہو گے اُس سے

چلو، نئے آنے والی کل میں

ہم اپنے ماضی کو دفن کریں

پروین شاکر

اندیشہ ہائے دُور دراز

اُداس شام دریچوں میں مُسکراتی ہے

ہَوا بھی،دھیمے سُروں میں ،کوئی اُداس گیت

مرے قریب سے گُزرے تو گنگناتی ہے

مری طرح سے شفق بھی کسی کی سوچ میں ہے

میں اپنے کمرے میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں

مری نگاہ دھندلکوں میں اُلجھی جاتی ہے

نہ رنگ ہے،نہ کرن ہے،نہ روشنی، نہ چراغ

نہ تیرا ذکر، نہ تیرا پتہ، نہ تیرا سُراغ

ہَوا سے ،خشک کتابوں کے اُڑ رہے ہیں ورق

مگرمیں بُھول چُکی ہُوں تمام ان کے سبق

اُبھر رہا ہے تخیلُ میں بس ترا چہرہ

میں اپنی پلکیں جھپکتی ہوں اُس کو دیکھتی ہوں

میں اس کو دیکھتی ہوں اور ڈر کے سوچتی ہوں

کہ کل یہ چہرہ کسی اور ہاتھ میں پہنچے

تو میرے ہاتھوں کی لکھی ہُوئی کوئی تحریر

جو اِن خطوط میں روشن ہے آگ کی مانند

نہ ان ذہین نگاہوں کی زد میں آ جائے!

پروین شاکر

آنچل اور بادبان

ساحل پر اِک تنہا لڑکی

سرد ہَوا کے بازو تھامے

گیلی ریت پر گُھوم رہی ہے

جانے کس کو ڈھونڈ رہی ہے

بِن کاجل، بیکل آنکھوں سے

کھلے سمندر کے سینے پر

فراٹے بھرتی کشتی کے بادبان کے لہرانے کو

کس حیرت سے دیکھ رہی ہے!

کس حسرت سے اپنا آنچل مَسل رہی ہے!

پروین شاکر

امَر

ہم میں بھی نہیں وہ روشنی اب

اور تم بھی تمام جل بُجھے ہو

دونوں سے بچھڑ گئی ہیں کرنیں

ویران ہیں شہرِ دل کی راتیں

اب خواب ہیں چاندنی کی باتیں

جنگل میں ٹھہر گئی ہیں شامیں

پروین شاکر

الوداعیہ

وہ جا چکا ہے

مگر جدائی سے قبل کا

ایک نرم لمحہ

ٹھہر گیا ہے

مِری ہتھیلی کی پشت پر

زِندگی میں

پہلی کا چاند بن کر !

پروین شاکر

اُلجھن

رات ابھی تنہائی کی پہلی دہلیز پہ ہے

اور میری جانب اپنے ہاتھ بڑھاتی ہے

سوچ رہی ہوں

ان کو تھاموں

زینہ زینہ سناٹوں کے تہہ خانوں میں اُتروں

یا اپنے کمرے میں ٹھہروں

چاند مری کھڑکی پر دستک دیتا ہے

پروین شاکر

اعتراف

جانے کب تک تری تصویر نگاہوں میں رہی

ہو گئی رات ترے عکس کو تکتے تکتے

میں نے پھر تیرے تصّور کے کسی لمحے میں

تیری تصویر پہ لب رکھ دیئے آہستہ سے !

پروین شاکر

آشیر باد

پھر مسیحائی دستگیر ہُوئی

چُن رہی ہے تمھارے اشکوں کو

کِس محبت سے یہ نئی لڑکی

میرے ہاتھوں کی کم سخن نرمی

دُکھ تمھارے نہ بانٹ پائی مگر

اس کے ہاتھوں کی مہربانی کو

میری کم ساز آرزو کی دُعا

اور یہ بھی کہ اس کی چارہ گری

عمر بھر ایسے سر اُٹھا کے چلے

میری صُورت کبھی نہ کہلائے

زخم پر ایک وقت کی پٹّی

پروین شاکر

اِسم

بہت پیار سے

بعد مّدت کے

جب سے کسی شخص نے چاند کہ کر بُلایا

تب سے

اندھیروں کی خُوگر نِگاہوں کو

ہر روشنی اچھی لگنے لگی !

پروین شاکر

اُس وقت

جب آنکھ میں شام اُترے

پلکوں پہ شفق پُھولے

کاجل کی طرح ،میری

آنکھوں کو دھنک چُھولے

اُس وقت کوئی اس کو

آنکھوں سے مری دیکھے

پلکوں سے مری چُومے!

پروین شاکر

اس کے مسیحا کے لیے ایک نظم

اجنبی!

کبھی زندگی میں اگر اکیلا ہو

اور درد حد سے گزر جائے

آنکھیں تری

با ت بے بات رو پڑیں

تب کوئی اجنبی

تیر ی تنہائی کے چاند کا نرم ہالہ بنے

تیری قامت کا سایہ بنے

تیرے زخموں کا سایہ بنے

تیری پلکوں سے شبنم چُنے

تیرے دُکھ کا مسیحا بنے!

پروین شاکر

آزمائش

ڈیڑھ برس کے بعد

اچانک

وقت نے اپنا آئینہ پن دِکھلایا

بچھڑے ہوؤں کو مدِّ مقابل لے آیا

بہتی ہَوا کے عکس بنانے والا ساحر

گونگی تصویروں کو اب آواز بھی دے!

پروین شاکر

احساس

گہرے نیلم پانی میں

پُھول بدن لہریں لیتے تھے

ہَوا کے شبنم ہاتھ انھیں چُھو جاتے تو

پور پور میں خنکی تیرنے لگتی تھی

شوخ سی کوئی موج شرارت کرتی تو

نازک جسموں ،نازک احساسات کے مالک لوگ

شاخِ گلاب کی صُورت کانپ اُٹھتے تھے!

اُوپر وسط اپریل کا سُورج

انگارے برساتا تھا

ایسی تمازت!

آنکھیں پگھلی جاتی تھی!

لیکن دِل کا پُھول کِھلا تھا

جسم کے اندر رات کی رانی مہک رہی تھی

رُوح محبت کی بارش میں بھیگ رہی تھی

گیلی ریت اگرچہ دُھوپ کی حدت پاکر

جسموں کو جھلسانے لگی تھی

پھر بھی چہروں پہ لکھا تھا

ریت کے ہر ذرے کی چُبھن میں

فصلِ بہار کے پہلے گُلابوں کی ٹھنڈک ہے

پروین شاکر

احتیاط

سوتے میں بھی

چہرے کو آنچل سے چُھپائے رہتی ہوں

ڈر لگتا ہے

پلکوں کی ہلکی سی لرزش

ہونٹوں کی موہوم سی جنبش

گالوں پر وہ رہ رہ کے اُترنے والی دھنک

لہومیں چاند رچاتی اِس ننھی سی خوشی کا نام نہ لے لے

نیند میں آئی ہُوئی مُسکان

کِسی سے دل کی بات نہ کہہ دے

پروین شاکر

اِحتساب

ہواِ_جو گندم کی پہلی خوشبو کے لمس سے لے کے

کڑوے بارُود کی مہک تک

زمیں کے ہمراہ رقص میں تھی

گماں یہ ہوتا ہے

اس رفاقت سے تھک چکی ہے

اور اپنی پازیب اُتار کر

اجنبی زمینوں کی سرد بانہوں میں سورہی ہے

فضا میں سنّاٹا دم بخود ہے

ہوا کی خفگی ہی بے سبب ہے

کہ ابِن آدم نے اپنے نیپام سے بھی بڑھ کر

کوئی نیا بم بنا لیا ہے؟

پروین شاکر

اجنبی

کھوئی کھوئی آنکھیں

بکھرے بال

شکن آلود قبا

لُٹا لُٹا انسان !

سائے کی طرح سے میرے ساتھ رہا کرتا لیکن

کِسی جگہ مل جائے تو

گبھرا کر مُڑ جاتا ہے

اور پھر دور سے جا کر مجھ کو تکنے لگتا ہے

کون ہے یہ

پروین شاکر

آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی!

رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی

میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی

میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی

میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی

زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی

تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے

تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے

تیری بانہیں ،ترا پہلو ہے ابھی میرے لیے

سب سے بڑھ کر، مری جاں !تو ہے ابھی میرے لیے

زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی

آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی!

آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہو گا

عشق حیراں ہے سرِ شہرِ سبا کی ہو گا

میرے قاتل! ترا اندازِ جفا کیا ہو گا!

آج کی شب تو بہت کچھ ہے ، مگر کل کے لیے

ایک اندیشہ بے نام ہے اور کچھ بھی نہیں

دیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد

رنگِ اُمید کِھلے گا کہ بکھر جائے گا!

وقت پرواز کرے گا کہ ٹھہر جائے گا!

جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا

خواب کا شہر رہے گا کہ اُجڑ جائے گا!

پروین شاکر

اتنے اچھے موسم میں

اتنے اچھے موسم میں

روٹھنا نہیں اچھا

ہار جیت کی باتیں

کل پہ ہم اُٹھا رکھیں

آج دوستی کر لیں !!!

پروین شاکر

اِتنا معلوم ہے!

اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز

سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہو گا

میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہ رنگ وبُو میں

روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہ وگا

اور جب اُس نے وہاں مُجھ کو نہ پایا ہو گا!؟

آپ کو عِلم ہے، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟

میری ہر دوست سے اُس نے یہی پُوچھا ہو گا

کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہُوئی ہے آخر

خُود سے اِس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہو گا

کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا

آپ ہی آپ کئی بار وہ رُوٹھا ہو گا

وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن

سیڑھیاں چڑھتے ہُوئے اُس نے یہ سوچا ہو گا

راہداری میں ، ہرے لان میں ،پُھولوں کے قریب

اُس نے ہر سمت مُجھے آن کے ڈھونڈا ہو گا

نام بُھولے سے جو میرا کہیں آیا ہو گا

غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہو گا

ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہو گا

بات کرتے ہُوئے سو بار وہ بُھولا ہو گا

یہ جو لڑکی نئی آئی ہے،کہیں وہ تو نہیں

اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہو گا

جانِ محفل ہے، مگر آج، فقط میرے بغیر

ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہو گا

کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہُوئی ہو گی اُسے

اُس نے بے ساختہ پھر مُجھ کو پُکارا ہو گا

چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پاکر

دوستوں کو بھی کسی عُذر سے روکا ہو گا

یاد کر کے مجھے، نَم ہو گئی ہوں گی پلکیں

’’آنکھ میں پڑ گیا کچھ‘‘ کہہ کے یہ ٹالا ہو گا

اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہو گئی پناہ

ہر سطر میں مرا چہرہ اُبھر آیا ہو گا

جب ملی ہوئی اسے میری علالت کی خبر

اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہو گا

سوچ کہ یہ، کہ بہل جائے پریشانی دل

یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہو گا!

اتفاقاً مجھے اُس شام مری دوست ملی

مَیں نے پُوچھا کہ سنو۔آئے تھے وہ۔کیسے تھے؟

مُجھ کو پُوچھا تھا؟مُجھے ڈُھونڈا تھا چاروں جانب؟

اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنسی دی

اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے

کیا کہا اُس نے ۔۔ مُجھے یاد نہیں ہے لیکن

اِتنا معلوم ہے ،خوابوں کا بھرم ٹُوٹ گیا

پروین شاکر

اِتنا دھیان رکھنا

اُجلے آج کی سّچائی کو

مَیلی کل کی دُھندلاہٹ میں

کیا اوروں کی صُورت تم بھی پرکھو گے ؟

خیر___تمھاری مرضی

لیکن اِتنا دھیا ن میں رکھنا

سُور ج پر بھی رات کی ہم آغوشی کا الزام رہا ہے

پروین شاکر

اپنی زمین کے لیے ایک نظم

خواب،آنکھوں کی عبادت ہیں

گئی رات کے سناٹے میں

اپنے ہونے کا یقیں بھی ہیں

گُل و نغمہ کا اثبات بھی ہیں

خواب کے رنگ دھنگ سے بڑھ کر

کبھی پلکوں پہ ستارہ،کبھی آنکھوں میں سحاب

کبھی رُخسار پہ لالہ،کبھی ہونٹوں پہ گلاب

کبھی زخموں کا،کبھی خندۂ گل کا موسم

کبھی تنہائی کا چاند اور کبھی پچھلے پہر کی شبنم

خواب،جو تجزیۂ ذات ہوئے

ان کو جب فرد کی نیندوں کی نفی کر کے لکھا جائے

تو اک قوم کا ناقابل تردید تشخص بن جائیں !

وہ خزاں زاد تھا

اور بنتِ بہار

اُس کی آنکھوں کے لیے خوابِ حیات

اپنے اس خواب کی تقدیس بچانے کے لئے

وہ اماوس کی گھنی راتوں میں

رت جگا کرتا رہا

اورایسے،کہ نیا موسمِ گُل آیاتوسب نے دیکھا

جھلملاتے ہُوئے اِک تارے کی اُنگلی تھامے

چاند پرچم پہ اُتر آیا ہے

سنگریزوں میں گلاب اُگتے ہیں

شہرِ آذر میں اذاں گونجتی ہے

خوشبو آزاد ہے

جنگل کی ہَوا بن کے سفر کرتی ہے

نئی مٹی کا،نئی خواب زمینوں کا سفر

یہ سفر____رقصِ زمیں ،رقصِ ہَوا،رقصِ محبت ہے

جواَب لمحہ موجود تک آ پہنچاہے

پروین شاکر

اب کس کا جشن مناتے ہو

اب کس کا جشن مناتے ہو، اس دیس کا جو تقسیم ہوا

اب کس کے گیت سناتے ہو، اس تن من کا جو دونیم ہوا

اس خواب کا جو ریزہ ریزہ ان آنکھوں کی تقدیر ہوا

اس نام کا جو ٹکڑا ٹکڑا گلیوں میں بے توقیر ہوا

اس پرچم کا جس کی حرمت بازاروں میں نیلام ہوئی

اس مٹی کا جس کی حرمت منسوب عدو کے نام ہوئی

اس جنگ کو جو تم ہار چکے، اس رسم کا جو جاری بھی نہیں

اس زخم کا جو سینے پہ نہ تھا، اس جان کا جو واری بھی نہیں

اس خون کا جو بدقسمت تھا راہوں میں بہا یا تن میں رہا

اس پھول کا جو بے قیمت تھا، آنگن میں کھلا یا بن میں رہا

اس مشرق کا جس کو تم نے نیزے کی انی، مرہم سمجھا

اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا، کم سمجھا

ان معصوموں کا جن کے لہو سے تم نے فروزاں راتیں کیں

یا ان مظلوموں کا جس سے خنجر کی زباں میں باتیں کیں

اس مریم کا جس کی عفت لٹتی ہے بھرے بازاروں میں

اس عیسیٰ کا جو قاتل ہے اور شامل ہے غم خواروں میں

ان نوحہ گروں کا جس نے ہمیں خود قتل کیا خود روتے ہیں

ایسے بھی کہیں دم ساز ہوئے، ایسے جلاد بھی ہوتے ہیں

ان بھوکے ننگے ڈھانچوں کا جو رقص سر بازار کریں

یا ان ظالم قزاقوں کا جو بھیس بدل کر وار کریں

یا ان جھوٹے اقراروں کا جو آج تلک ایفا نہ ہوئے

یا ان بے بس لاچاروں کا جو اور بھی دکھ کا نشانہ ہوئے

اس شاہی کا جو دست بدست آئی ہے تمہارے حصے میں

کیوں ننگ وطن کی بات کرو، کیا رکھا ہے اس قصے میں

آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو، ہونٹوں میں وفا کے بول لیے

پروین شاکر