زمرہ جات کے محفوظات: نظم

گھٹا سے

گھٹا! نہ رو! مرے دردوں پہ اشکبار نہ ہو

مجھ ایسے سوختہ ساماں کی غمگسار نہ ہو

لپیٹ لے یہ خنک چادریں ہواؤں کی

کسے طلب ہے تری مست کار چھاؤں کی

تو اپنے ساتھ ہی لے چل یہاں سے جاتے ہوئے

کھلونے اپنی پھواروں کے جھنجھناتے ہوئے

یہ بوندیوں کی نوائیں تجھے مبارک ہوں

یہ بہکی بہکی فضائیں تجھے مبارک ہوں

یہ نزہتیں مری محفل سے اے گھٹا، لے جا

یہ اپنی بجلیوں کے ارغنوں اٹھا لے جا

میں سن چکا ہوں بہت تیری داستانیں، بس

خموش! مجھ کو نہیں راس تیرے نغموں کا رس!

نہ چھیڑ آج یہ اپنی رسیلی شہنائی!

ہے مشکلوں سے مرے آنسوؤں کو نیند آئی!

مجید امجد

گر اس جہان میں جینا ہے

نہ تاجِ سر کو تو بیچ اور نہ تو سریر کو بیچ

گر اس جہان میں جینا ہے تو ضمیر کو بیچ

حیا کو اپنی نگاہوں سے حکمِ رخصت دے

زباں کو زہر ملے شہد کی حلاوت دے

فریبِ سجدہ سے اپنی جبیں کو واقف کر

ریا کے آنسوؤں سے آستیں کو واقف کر

ہے تیرے دل میں جو چنگاری اس کا نام نہ لے

خودی کا رتبۂ خودداری! اس کا نام نہ لے

مجید امجد

بھکشا

پھرتا پھرتا دکھ کی وادی میں کھویا کھویا سا

لے کر اپنے اجڑے دل کا ٹوٹا پھوٹا کاسا

آ پہنچا ہے تیرے در پر یہ دکھیا بھکیاری

سینے میں طوفانِ تمنا، آنکھ سے آنسو جاری

تیرے اونچے ایواں کی یہ کنگریاں چمکیلی

چوم رہی ہیں جن کو سورج کی کرنیں البیلی

مرمر کی محرابوں کے نیچے وہ بند دریچے

جیسے بیٹھے ہوں جنت کے غلماں آنکھیں میچے

بھینی خوشبوؤں سے مہکا جالی دار جھروکا

جس کی چلمن پر ہر ہلتا سایہ رنگیں دھوکا

تیرے دوارے پر آ کر میں اوگن ہار بھکاری

آنکھوں کے رستے ٹپکا کر سینے کی چنگاری

ذرّوں کو آج اشکوں کی برساتیں بانٹ رہا ہوں

خاکِ در پر سجدوں کی سوغاتیں بانٹ رہا ہوں

دیکھ اب ڈوبتی ڈوبتی نبضیں کھاتی ہیں ہچکولے

روح کا پنچھی دل کی ممٹی پر ہے کندے تولے

خاک میں مل جانے کو ہے اک چندر روپ جوانی

جیون کی بھکشا دے دے او راج محل کی رانی

مجید امجد

بیسویں صدی کے خدا سے

انہیں آنکھوں سے میں نے ربِ اکبر تیری دنیا میں

غرورِ حسن کو برباد و رسوا ہوتے دیکھا ہے

زر و دولت کی بےحس مورتی کے پاؤں پر میں نے

حسیں فاقہ کشوں کی انکھڑیوں کو روتے دیکھا ہے

چمکتی دھوپ میں مزدور دوشیزہ کو رستوں پر

کڑکتے کوڑوں کی چھاؤں میں اینٹیں ڈھوتے دیکھا ہے

جوانی کی مہکتی رت میں بیواؤں کی آنکھوں کو

جگر کے زخم نمکیں آنسوؤں سے دھوتے دیکھا ہے

تری جنت پہ مجھ کو کیوں یقیں آئے کہ دنیا میں

گل انداموں کو میں نے خار و خس پرسوتے دیکھا ہے

وہ جن پر تو نے برسائے ہیں اپنی بخششوں کے پھول

انہی کو میں نے ہر رستے پہ کانٹے بوتے دیکھا ہے

تری آنکھیں نہیں لیکن سنا ہے دیکھتا ہے تو

ذرا دیکھ اپنے بندوں کی نظر سے گر رہا ہے تو

مجید امجد

قیدی دوست

میرے قیدی دوست! تو مغموم سا رہتا ہے کیوں؟

لگ کے زنداں کی سلاخوں سے کھڑا رہتا ہے کیوں؟

رات دن پتھرائی آنکھوں سے مجھے تکتا ہے تو

بات وہ کیا ہے جو مجھ سے کہہ نہیں سکتا ہے تو؟

تیرے سینے کی نوائے راز کو سنتا ہوں میں

جب تری زنجیر کی آواز کو سنتا ہوں میں

لیکن اے ساتھی، نہ گھبرا، مژدہ ہو، کل رات کو

سنتری دہرا رہے تھے راز کی اس بات کو

’’حکم آیا ہے کہ اس زنداں میں ہیں جتنے اسیر

جن کے دکھیارے دلوں میں ہیں کھٹکتے غم کے تیر

ایک آہن پوش کشتی پر انہیں کر کے سوار

بھیج دو اس بحر کے پُرخوف طوفانوں کے پار‘‘

دیکھ! افق پر صبح کی دھندلاہٹوں کے درمیاں

وہ نظر آیا سفینے کا سنہری بادباں!

اب ہماری قیدگہ کے قفل کھولے جائیں گے

اس سفینے پر ہر اک بدبخت کو لے جائیں گے

اس جگہ اک دوسرے کے متّصل بیٹھیں گے ہم

چند گھڑیوں کے لیے آپس میں مل بیٹھیں گے ہم

اپنی اپنی داستاں رو رو کے کہہ جائیں گے ہم

چند لمحوں کے لیے نشّوں میں بہہ جائیں گے ہم

بیڑیوں پر تیری رکھ کے اپنی سیمائے نیاز

میں پڑھوں گا میرے قیدی دوست! الفت کی نماز

اتنے میں کشتی کنارے سے لپٹ جائے گی دوست

اور مرے سجدوں کی عمرِ شوق کٹ جائے گی دوست

پھر قدم رکھتے ہی ساحل پر جدا ہو جائیں گے

از سرِ نو قیدیِ دامِ بلا ہو جائیں گے

مجید امجد

قیصریت

ایک قطرہ سلطنت کی موج کا

اک سپاہی بادشہ کی فوج کا!

دوش پر تیر و کماں باندھے ہوئے

جا رہا تھا رختِ جاں باندھے ہوئے

چوم کر اس کے گلابی گال کو

جاتے دم کہتا تھا اپنے لال کو

’’دیکھتی ہے راستہ امّی تری

جاؤ بیٹا، جاؤ! میں آیا ابھی‘‘

بچہ مڑ کر چل پڑا ماں کی طرف

اور سپاہی خونی میداں کی طرف

وہ سپاہی جنگ میں مارا گیا

ڈوب اس کی زیست کا تارا گیا

لاش اس کی جوئے خوں میں بہہ گئی

کشتوں کے پشتوں میں کھو کر رہ گئی

لٹ گیا جب اس کی دلہن کا سہاگ

تھام لی شیطاں نے اس کے دل کی باگ

اس نے کر لی ایک اور شادی کہیں

حسن اور خوئے وفا؟ ممکن نہیں

اس سپاہی کا وہ اکلوتا یتیم

آنکھ گریاں، روح لرزاں، دل دونیم

بادشہ کے محل کی چوکھٹ کے پاس

لے کے آیا بھیک کے ٹکڑے کی آس

اس کے ننگے تن پہ کوڑے مار کر

پہرے داروں نے کہا دھتکار کر

کیا ترے مرنے کی باری آ گئی؟

دیکھ وہ شہ کی سواری آ گئی

وہ مڑا، چکرایا اور اوندھا گرا

گھوڑوں کےٹاپوں تلے روندا گیا

دی رعایا نے صدا ہر سمت سے

’’بادشاہِ مہرباں! زندہ رہے‘‘

مجید امجد

بیساکھ

بیساکھ آیا، آئی فسوں زائیوں کی رُت

آئی حسین کلیوں کی برنائیوں کی رُت!

گاؤں کے مرد و زن نے اٹھائیں درانتیاں

آئی سنہری کھیتیوں کی، لائیوں کی رُت

گندم کی فصل کاٹنے کے خوشگوار دن

محنت کشوں کی زمزمہ پیرائیوں کی رُت

خوشوں کے بکھرے بکھرے سے انباروں کا سماں

کھلواڑوں کے نگاروں کی رعنائیوں کی رُت

کھیتوں میں دھیمے قہقہوں کا موسمِ حسیں

رستوں پہ گونجتی ہوئی شہنائیوں کی رُت

دہقان کی اُمید کی بارآوری کا وقت

دنیا کے سوئے بخت کی انگڑائیوں کی رُت

مجید امجد

یہیں پہ رہنے دے صیاد، آشیانہ مرا

یہ باغ تیرا ہے، یہ پھول تیرے ہیں چن لے

گلوں کے ریشوں سے دامِ حسیں کوئی بن لے

ابھی بچھا نہ اسے، ایک التجا سن لے

مرے بغیر اجڑ جائے گا ٹھکانہ مرا

یہیں پہ رہنے دے صیاد، آشیانہ مرا

یہ سچ ہے، تیرے چمن سے چرایا ہے میں نے

یہ ایک تنکا یہیں سے اٹھایا ہے میں نے

کہ جس پہ اپنا بسیرا بسایا ہے میں نے

ترے چمن میں تھا حق اس قدر بھی کیا نہ مرا؟

یہیں پہ رہنے دے صیاد، آشیانہ مرا

یہیں پہ بیٹھ کے میں چپکے چپکے رو لوں گا

کلی کلی مجھے چھیڑے گی، میں نہ بولوں گا

نہ گاؤں گا، میں زباں تک نہ اپنی کھولوں گا

تری فضاؤں پہ گر بار ہے ترانہ مرا

یہیں پہ رہنے دے صیاد، آشیانہ مرا

تجھے ہے یاد؟ یہاں ایک پنچھی رہتا تھا

وہ جس کے نغموں کی رو میں زمانہ بہتا تھا

یہاں سے جانے لگا وہ تو رو کے کہتا تھا

’’رفیق! جاتا ہوں! پھر جانے کب ہو آنا مرا

ترے سپرد یہ چھوٹا سا آشیانہ مرا‘‘

اندھیرے میں کوئی پتّا جو سرسراتا ہے

تو اب بھی راتوں کو دل میرا چونک جاتا ہے

سمجھتا ہوں وہ مرا ہم سرود آتا ہے

ہے جس کی ایک امانت یہ آشیانہ مرا

یہ ٹوٹی ٹہنی پہ برباد سا ٹھکانہ مرا

کبھی تو آئے گا وہ مژدۂ امید لیے

اِک اور جنتِ گلپوش کی کلید لیے

اک اور گلشنِ آزاد کی نوید لیے

بلا کے نام باندازِ محرمانہ مرا

وہ آ کے سر پہ اٹھا لے گا آشیانہ مرا

وہ دیکھ! شاخیں ہلی ہیں — وہ آ رہا ہو گا

حسیں کلیاں کھلی ہیں — وہ آ رہا ہو گا

رُتیں رُتوں سے ملی ہیں — وہ آ رہا ہو گا

یہیں، ادھر ہی، وہ سُکھ سنگتی پرانا مرا

یہیں پہ رہنے دے صیاد، آشیانہ مرا

مجید امجد

انقلاب

مری آنکھوں میں برستے ہوئے آنسو نہ رہے

دل کی دنیا نہ رہی، درد کے پہلو نہ رہے

آہوں سے روح کی اگنی کی بھبھک جاتی رہی

خشک ہونٹوں سے شرابوں کی مہک جاتی رہی

نیند کا چین گیا، جاگنے کی بات گئی

نشوں کا دن گیا اور مستیوں کی رات گئی

ذرّوں کے سینوں میں مہتابوں کی دنیا نہ رہی

قرمزی رنگوں میں گم خوابوں کی دنیا نہ رہی

ڈال رکھا تھا تخیل نے جو رنگیں پردا

رخِ ہستی سے ہے اٹھنے لگا رفتہ رفتہ

اب حقیقت مری آنکھوں کے قریب آتی ہے

نظر اب دنیا کی تصویرِ مہیب آتی ہے

اب تبسم مجھے غنچوں کا رُلا دیتا ہے

دل کے شعلوں کا ہر اک جھونکا ہوا دیتا ہے

حسن کے ناز و ادا جانتا ہوں، جانتا ہوں

اس کا سحر، اس کا فسوں، مانتا ہوں، مانتا ہوں

چاند کی قاش سے ماتھے کی صباحت! سچ ہے

پھول کی طرح حسیں چہرے کی رنگت! سچ ہے

مست نظروں میں شرابوں کی ملاوٹ! سچ ہے

سرخ ہونٹوں میں نباتوں کی گھلاوٹ! سچ ہے

دیکھتی ہیں مگر اب میری نگاہیں کچھ اور!

اب مرے فکر پہ ہیں کھل گئیں راہیں کچھ اور

اب ہر اک شے کی حقیقت پہ گماں رکھتا ہوں

اپنی تخییل کے قدموں پہ جہاں رکھتا ہوں

دیکھتا ہوں کہ نہیں کچھ بھی یہاں میرے بغیر

خس و خاشاک کا ہے ڈھیر جہاں میرے بغیر

حسن اک دھوکا ہے اورعشق ہی خود بھول ہے اک

تتلی کیوں گل پہ گرے، تتلی ہی خود پھول ہے اک

مجید امجد

یہ سچ ہے

یہ سچ ہے اس کی دنیا میں کوئی قیمت نہیں ہوتی

پڑا رہتا ہے جب تک بحر کی آغوش میں موتی

یہ سچ ہے پھول جب تک شاخ سے توڑا نہیں جاتا

کسی کے گیسوئے پُرپیچ میں جوڑا نہیں جاتا

شرابِ ناب جب تک بٹ نہیں جاتی کٹوروں میں

جھلک سکتی نہیں ان مد بھری آنکھوں کے ڈوروں میں

یہ سچ ہے جب ندی اپنی روانی چھوڑ دیتی ہے

تو اس کے ساز کے تاروں کو فطرت توڑ دیتی ہے

یہ سچ ہے اپنے جوہر کھو رہا ہوں دیس میں رہ کر

گزرتی زندگی کو رو رہا ہوں دیس میں رہ کر

اسی ماحول تک محدود ہے نغمہ مری نَے کا

فضا کی تنگیوں میں گھٹ رہا ہے دم مری لَے کا

مجھے آفاق کی پہنائیاں آواز دیتی ہیں

مجھے دنیا کی بزم آرائیاں آواز دیتی ہیں

مگر میں چھوڑ کر یہ دیس پیارا جا نہیں سکتا

بھلا کر میں ان آنکھوں کا اشارا جا نہیں سکتا

وہ آنکھیں جن کی اشک افشانیاں جانے نہیں دیتیں

وہ جن کی ملتجی حیرانیاں جانے نہیں دیتیں

مجید امجد

ریل کا سفر

کراچی کو جاتی ہوئی ڈاک گاڑی

دھوئیں کے سمندر میں تیراک گاڑی

مسافت کو یوں طے کیے جا رہی ہے

سفر کو غٹاغٹ پیے جا رہی ہے

یہ چٹیل سے میداں، یہ ریتوں کے ٹیلے

ہیں جن پر بچھے دوب کے زرد تیلے

یہ کپاس کی کھیتیوں کی بہاریں

یہ ڈوڈوں کو چنتی ہوئی گلغداریں

گھنے بن کی پھلواڑیوں کی تگ و دَو

اور ان پر بگولوں کی زلفوں کے پرتو

یہ چھوٹی سی بستی، یہ ہل اور یہ ہالی

یہ صحرا میں آوارہ، بھیڑوں کے پالی

یہ حیران بچے، یہ خاموش مائیں

یہ گوبر کی چھینٹوں سے لتھڑی قبائیں

یہ نہروں میں بہتا ہوا مست پانی

یہ گنّوں کی رُت کی سنہری جوانی

یہ اینٹوں کا آوا، یہ اونٹوں کی ڈاریں

یہ کیکر کے پیڑوں کی لمبی قطاریں

درختوں کے سایوں سے آباد رستے

یہ آزاد راہی، یہ آزاد رستے

بدلتے چلے جا رہے ہیں نظارے

نئے سے نئے آ رہے ہیں نظارے

یہ صحرا جو نظروں کو برما رہا ہے

مرے ساتھ بھاگا چلا آ رہا ہے

نظر ایک منظر پہ جمتی نہیں ہے

یہ موج آ کے ساحل پہ تھمتی نہیں ہے

کنواں بن میں برباد سا اک پڑا ہے

کسی یادِ رنگیں میں ڈوبا ہوا ہے

بہت دور ادھرایک محمل دواں ہے

دلھن کوئی میکے کو شاید رواں ہے

کھجوروں کا جھرمٹ نظر آ رہا ہے

پتا رودِ راوی کا بتلا رہا ہے

وہ گاڑی کے پہیوں کی دلدوز آہٹ

وہ اڑتے ہوئے بگلوں کی پھڑپھڑاہٹ

یہ شامِ دلآرا، یہ پل کا نظارا

نگاہوں سے چھپتا ہوا وہ کنارا

وہ اٹھتا ہوا مرتعش ناتواں سا

بہت دور اک جھونپڑے سے دھواں سا

وہ ویراں سی مسجد، وہ ٹوٹی سی قبریں

وہ تارا شفق کے گلابی دھوئیں میں

نیا رنگ ہر دم دکھاتے ہیں منظر

نہیں ختم ہونے میں آتے ہیں منظر

ہر اک شے میں حرکت ہے، جولانیاں ہیں

ہر اک ذرّے میں وجد سامانیاں ہیں

کشش ہے، فسوں ہے، نہ جانے وہ کیا ہے

جو گاڑی کو کھینچے لیے جا رہا ہے

مرا خطۂ نور و رنگ آ گیا ہے

مرا سُکھ بھرا دیس جھنگ آ گیا ہے

مدّوکی جھنگ(12-12-1938

مجید امجد

صبحِ نو

اے دوست! ہو نوید کہ پت جھڑ کی رُت گئی

چٹکی ہے میرے باغ میں پہلی نئی کلی

پھر جاگ اٹھی ہیں راگنیاں آبشار کی

پھر جھومتی ہیں تازگیاں سبزہ زار کی

پھر بس رہا ہے اک نیا عالم خمار کا

پھر آ رہا ہے لوٹ کے موسم بہار کا

اے دوست! اس سے بڑھ کے نہیں کچھ بھی میرے پاس

یہ پہلا پھول بھیج رہا ہوں میں تیرے پاس

کومل سا، مسکراتا ہوا، مشکبار پھول

پروردگارِ عشق کا یہ بےزباں رسول

آتا ہے اک پیام رسانی کے واسطے

بسرے دنوں کی یاددہانی کے واسطے

اے دوست، ایک پھول کی نکہت ہے زندگی

اے دوست، ایک سانس کی مہلت ہے زندگی

وہ دیکھ پَو پھٹی، کٹی رات اضطراب کی

اچھلی خطِ افق سے صراحی شراب کی

آ آ یہ صبح نو ہے غنیمت، مرے حیب!

آیا ہے پھر بہار کا موسم! زہے نصیب!

مجید امجد

کون؟

زمانے پہ چھاتی ہیں جب کالی راتیں

مرے دل سے کون آ کے کرتا ہے باتیں؟

چمکتے ہیں جب جھلملاتے ستارے

مرے من میں کیوں کوندتے ہیں شرارے؟

اٹھاتی ہے جب کہکشاں چندر گاگر

ابلتا ہے کیوں میرے اشکوں کا ساگر؟

گزرتے ہیں جب بادلوں کے سفینے

دھڑک اٹھتے ہیں کیوں امیدوں کے سینے؟

کلی جب ہے شبنم کے جھومر سے سجتی

مری روح میں کس کی بنسی ہے بجتی؟

گلستاں میں جب پھول کھلتے ہیں ہر سو

مجھے کس کی زلفوں کی آتی ہے خوشبو؟

یہ کیا بھید ہے، کوئی بےنام ہستی

ہے آباد جس سے مرے من کی بستی

ہر اک لحظہ اک خوشنما روپ دھارے

مری روح سے کر رہی ہے اشارے

میں اس شکلِ موہوم کو ڈھونڈتا ہوں

میں اس سرِ مکتوم کو ڈھونڈتا ہوں

مجید امجد

قیدی

سخت زنجیریں ہیں قیدی، سخت زنجیریں ہیں یہ

ان کو ڈھالا ہے جہنم کی دہکتی آگ میں

ان کی کڑیاں موت کے پھنکارتے ناگوں کے بیچ

ان کی لڑیاں زندگی کی الجھنوں کے سلسلے

ان کی گیرائی کے آگے تیری تدبیریں ہیں یہ

سخت زنجیریں ہیں قیدی، سخت زنجیریں ہیں یہ

بیڑیاں، قیدی، ترے پاؤں میں ہیں تاگے نہیں

دیکھ یاپی! اپنے سر پر تیز سنگینوں کی چھت

چارسو لوہے کی سیخوں کی فصیلِ بیکراں

تو ادھر بےدست و پا، بے حس و حرکت، بے سکت

اور ادھر اس سوچ میں ہیں تیرے ظالم پاسباں

دُکھ کی کالی کوٹھڑی سے تو کہیں بھاگے نہیں

بیڑیاں، قیدی، ترے پاؤں میں ہیں تاگے نہیں

مجید امجد

سرِ بام!

لوآ گئی وہ سرِ بام مسکراتی

لیے اچٹتی نگاہوں میں اک پیامِ خموش

یہ دھندلی دھندلی فضاؤں میں انعکاسِ شفق

یہ سونا رستہ، یہ تنہا گلی، یہ شامِ خموش

گلی کے موڑ پہ اک گھر کی مختصر دیوار

بچھا ہے جس پہ دھندلکوں کا ایک دامِ خموش

یہ چھت کسی کے سلیپر کی چاپ سے واقف

کسی کے گیتوں سے آباد یہ مقامِ خموش

کسی کے مد بھرے نینوں سے یہ برستا خمار

کسی کی نقرئی بانہوں کا یہ سلامِ خموش

مُنڈیر پر بصد انداز کہنیاں ٹیکے

کھڑی ہوئی ہے کوئی شوخ لالہ فامِ خموش

لیے اچٹتی نگاہوں میں اک پیامِ خموش

مجید امجد

ابرِ صبوح

تیرتے بادل، خنک جھونکے، خمار آگیں سماں

آسماں پر ناچتی اڑتی ابابیلوں کے راگ

اس طرح لہرا رہی ہیں اودی اودی بدلیاں

جیسے اک کافر ادا کے دوش پر زلفوں کے ناگ

جیسے نیلی جھیل میں بہتی ہوئی اک اوڑھنی

بھول آئی ہو جسے معصوم پنہارن کوئی

گدرے گدرے ابرپاروں کی چھلکتی چھاگلیں

اس طرح ٹپکا رہی ہیں رس بھری مدرا کا جھاگ

جس طرح رو دے کوئی مہجور پی کی یاد میں

سونپ کر جذبات کی اندھیاریوں کو دل کی باگ

جیسے سیمیں انگلیوں سے مغبچہ ہائے بہشت

چھانتے ہوں حور کے گیسو میں صہبائے بہشت

وہ اٹھی کالی گھٹا، اٹھ بھی مری مستِ شباب

وہ اڑا جاتا ہے بادل، ہاں اڑا بوتل کا جھاگ

بجھ چلا ہے روح کا آتش کدہ، لا بھی شراب

پھونک دے میرے رگ و پے میں کوئی بہتی سی آگ

تجھ کو جامِ مے کے ان ہنستے شراروں کی قسم

ان ہواؤں کی قسم، ان ابرپاروں کی قسم

مجید امجد

نفیرِ عمل

آہ کب تک گلۂ شومیِ تقدیر کریں

کب تلک ماتمِ ناکامیِ تدبیر کریں

کب تلک شیونِ جورِ فلکِ پیر کریں

کب تلک شکوۂ بےمہریِ ایام کریں

نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں

آج بربادِ خزاں ہے چمنستانِ وطن

آج محرومِ تجلی ہے شبستانِ وطن

مرکزِ نالہ و شیون ہے دبستانِ وطن

وقت ہے چارۂ دردِ دلِ ناکام کریں

نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں

آؤ اجڑی ہوئی بستی کو پھر آباد کریں

آؤ جکڑی ہوئی روحوں کو پھر آزاد کریں

آؤ کچھ پیرویِ مسلکِ فرہاد کریں

یہ نہیں شرطِ وفا، بیٹھ کے آرام کریں

نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں

ایک ہنگامہ سا ہے آج جہاں میں برپا

آج بھائی ہے سگے بھائی کے خوں کا پیاسا

آج ڈھونڈے سے نہیں ملتی زمانے میں وفا

آؤ اس جنسِ گرانمایہ کو پھرعام کریں

نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں

جامِ جم سے نہ ڈریں، شوکتِ کَے سے نہ ڈریں

حشمتِ روم سے اور صولتِ رَے سے نہ ڈریں

ہم جواں ہیں تو یہاں کی کسی شے سے نہ ڈریں

ہم جواں ہیں تو نہ کچھ خدشۂ آلام کریں

نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں

رشتۂ مکر و ریا توڑ بھی دیں، توڑ بھی دیں

کاسۂ حرص و ہوا پھوڑ بھی دیں، پھوڑ بھی دیں

اپنی یہ طرفہ ادا چھوڑ بھی دیں، چھوڑ بھی دیں

آؤ کچھ کام کریں، کام کریں، کام کریں

نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں

مجید امجد

عورت

تو پریم مندر کی پاک دیوی، تو حسن کی مملکت کی رانی

حیاتِ انساں کی قسمتوں پر تری نگاہوں کی حکمرانی

جہانِ الفت تری قلمرو، حریمِ دل تیری راجدھانی

بہارِ فطرت ترے لب لعل گوں کی دوشیزہ مسکراہٹ

نظامِ کونین تیری آنکھوں کے سرخ ڈوروں کی تھرتھراہٹ

فروغِ صد کائنات تیری جبینِ سیمیں کی ضو فشانی

بھڑکتے سینوں میں بس رہی ہیں قرار بن کر تری ادائیں

ترستی روحوں کو جامِ عشرت پلا رہی ہیں تری وفائیں

رگِ جہاں میں تھرک رہی ہے شراب بن کر تری جوانی

دماغِ پروردگار میں جو ازل کے دن سے مچل رہا تھا

زبانِ تخلیقِ دہر سے بھی نہ جس کا اظہار ہو سکا تھا

نمود تیری اسی مقدس حسیں تخیل کی ترجمانی

ہے وادیِ نیل پر ترا ابرِ زلف سایہ کناں ابھی تک

ہیں جامِ ایراں کی مے میں تیرے لبوں کی شیرینیاں ابھی تک

فسانہ گو ہے تری ابھی تک حدیثِ یوناں کی خوں چکانی

ہے تیری الفت کے راگ پر موجِ رودِ گنگا کو وجد اب تک

تری محبت کی آگ میں جل رہا ہے صحرائے نجد اب تک

جمالِ زہرہ ترے ملائک فریب جلووں کی اک نشانی

تری نگاہوں کے سحر سے گل فشاں ہے شعر و ادب کی دنیا

ترے تبسم کے کیف سے ہے یہ غم کی دنیا، طرب کی دنیا

ترے لبوں کی مٹھاس سے شکّریں ہے زہرابِ زندگانی

ترا تبسم کلی کلی میں، ترا ترنم چمن چمن میں

رموزِ ہستی کے پیچ و خم تیرے گیسوؤں کی شکن شکن میں

کتابِ تاریخِ زندگی کے ورق ورق پر تری کہانی

جو تونہ ہوتی تو یوں درخشندہ شمعِ بزمِ جہاں نہ ہوتی

وجودِ ارض و سما نہ ہوتا، نمودِ کون و مکاں نہ ہوتی

بشر کی محدودیت کی خاطر ترستی عالم کی بیکرانی

مجید امجد

فانی جگ

دنیا کی ہر شے ہے پیارے فانی، فانی، فانی

حسن بھی فانی، عشق بھی فانی، فانی مست جوانی

فانی جگ کی سب جگمگ ہے جانی، آنی، فانی

الفت دل کا جذبہ، جذبہ سپنا، سپنا سایہ

سایہ دھوکا، دھوکا دنیا، دنیا رام کہانی

فانی جگ کی سب جگمگ ہے جانی، آنی، فانی

پیاسے رہ گئے کلیوں اور پھولوں کے پیاسے ہونٹ

آیا جھونکا اور چلی گھنگھور گھٹا مستانی

فانی جگ کی سب جگمگ ہے جانی، آنی، فانی

تپتی ریتوں کو جو سمجھے چشموں کی جھلکاری

آخر کو شعلوں پر لوٹے وہ مورکھ سیلانی

فانی جگ کی سب جگمگ ہے جانی، آنی، فانی

مجید امجد

مطربہ سے

فضا میں بحرِ موسیقی رواں معلوم ہوتا ہے

جہاں کا ذرّہ ذرّہ نغمہ خواں معلوم ہوتا ہے

سنبھلنے دے ذرا او مطربہ، یہ نشتریں نغمہ

جگر کے زخم پر زخمہ کناں معلوم ہوتا ہے

یونہی گائے جا گائے جا ترا سوز آفریں دیپک

مری ہی زندگی کی داستاں معلوم ہوتا ہے

تو گاتی ہے تو میرے سامنے نظارۂ عالم

کسی فردوسِ رنگیں کا سماں معلوم ہوتا ہے

تو گاتی ہے تو آنکھیں کھول کر لیتی ہے انگڑائی

ربابِ دہر کے نغموں کی محوِ خواب رعنائی

تو گاتی ہے تو تیرے رخ پہ زلفیں جھوم جاتی ہیں

تو گاتی ہے تو تیری مدھ بھری آنکھیں بھی گاتی ہیں

تو گاتی ہے تو تیرے چنپئی ہونٹوں کی مہکاریں

شرابِ نغمہ کی سرمستیوِں میں ڈوب جاتی ہیں

تو گاتی ہے تو گاتے وقت تیرے روئے تاباں پر

جمالِ زہرہ کی زیبائیاں جادو جگاتی ہیں

تو گاتی ہے تو تیری راگنی کی مست کن تانیں

مری رگ رگ کو نیش درد بن کر گدگداتی ہیں

مرے خلدِ تصور کی فضا کو ہمہمائے جا

یونہی گائے جا، گائےجا، یونہی گائے جا، گائے جا

مجید امجد

شرط

تجھ کو ڈر ہے کہ ناموس گہِ عالم میں

عشق کے ہاتھوں نہ ہو جائے تو بدنام کہیں

آج تک مجھ سے جو شرما کے بھی تو کہہ نہ سکی

وہ ترا راز زمانے میں نہ ہوعام کہیں!

کسی شب ایسا نہ ہو نالۂ بیتاب کے ساتھ

تیرے ہونٹوں سے نکل جائے مرا نام کہیں

روزنِ در سے لگی، منتظر، آنکھوں کا حال

جا کے تاروں سے نہ کہہ دے شفقِ شام کہیں

اس کی پاداش میں ساقیِ فلک چھین نہ لے

مرے ہونٹوں سے ترے ہونٹوں کا یہ جام کہیں

یہ تری شرطِ وفا ہے کہ وفا کا قصہ

دیکھ! سن پائے نہ گردش گرِ ایام کہیں

ہاں مری روح پہ مسطور ہے یہ شرط تری

مجھے منظور ہے منظور ہے یہ شرط تری

تو یقیں رکھ کہ ترے عشق میں جیتے جیتے

عدم آباد کی آغوش میں سو جاؤں گا

ایک دن دل سے جب آوازِ شکست آئے گی

اس کے آہنگِ فنا رقص میں کھو جاؤں گا

موت کے دیو کی آنکھوں سے ٹپکتا ہے جو

جذب اس شعلۂ جاں سوز میں ہو جاؤں گا

اور خدا پوچھے گا وہ راز باصرار ترا

اس کے اصرار سے ٹکرائے گا انکار مرا

مجید امجد

یہی دنیا؟

عشق پیتا ہے جہاں خوننابۂ دل کے ایاغ

آنسوؤں کے تیل سے جلتا ہے الفت کا چراغ

جس جگہ روٹی کے ٹکڑے کو ترستے ہیں مدام

سیم و زر کے دیوتاؤں کے سیہ قسمت غلام

جس جگہ حبِ وطن کے جذبے سے ہو کر تپاں

سولی کی رسی کو ہنس کر چومتے ہیں نوجواں

جس جگہ انسان ہے وہ پیکرِ بے عقل و ہوش

نوچ کر کھاتے ہیں جس کی بوٹیاں مذہب فروش

جس جگہ یوں جمع ہیں تہذیب کے پروردگار

جس طرح سڑتے ہوئے مردار پر مردار خوار

جس جگہ اٹھتی ہے یوں مزدور کے دل سے فغاں

فیکٹری کی چمنیوں سے جس طرح نکلے دھواں

جس جگہ سرما کی ٹھنڈی شب میں ٹھٹھرے ہونٹ سے

چومتی ہے رو کے بیوہ گال سوتے لال کے

جس جگہ دہقاں کو رنجِ محنت و کوشش ملے

اور نوّابوں کے کتّوں کو حسیں پوشش ملے

تیرے شاعر کو یقیں آتا نہیں، رب العلا!

جس پہ تو نازاں ہے اتنا، وہ یہی دنیا ہے کیا؟

مجید امجد

تیرے بغیر

زندگی بھولا ہوا سا خواب ہے تیرے بغیر

سازِ دل اک سازِ بےمضراب ہے تیرے بغیر

روح برمائی ہوئی بےتاب ہے تیرے بغیر

آنکھ خوں روتی ہوئی بےخواب ہے تیرے بغیر

ضبطِ غم دشوار ہے، آسان ہے، جو کچھ بھی ہو

ضبطِ غم کرنے کی کس کو تاب ہے تیرے بغیر

کاش ہو معلوم تجھ کو ساقیِ جامِ حیات

زندگی اک جرعۂ زہراب ہے تیرے بغیر

ملجگی پلکوں پہ رسوا، رائیگاں، رم آشنا

دل کا اک اک قطرۂ خونناب ہے تیرے بغیر

پھر مرے جذبات کا وہ پرسکوں بحرِ رواں

یم بہ یم گرداب در گرداب ہے تیرے بغیر

میری پاکیزہ جوانی صرفِ عصیاں ہو نہ جائے

جنسِ تقدیسِ وفا نایاب ہے تیرے بغیر

چاند کی کرنوں کے زینوں پر قدم دھرتی ہوئی

آ بھی جا سونی شبِ مہتاب ہے تیرے بغیر

آ کہ پھر اس آسماں کو حکم دیں سجدے کا ہم

دشمنِ جاں گردشِ دولاب ہے تیرے بغیر

مجید امجد

جھنگ

یہ خاکداں جو ہیولیٰ ہے ظلمتستاں کا

یہ سرزمیں جو ہے نقشہ جحیمِ سوزاں کا

یہ تنگ و تیرہ و بے رنگ و بو دیارِ مہیب

یہ طرفہ شہرِ عجیب و غریب و خفتہ نصیب

یہاں خیال ہے محرومِ اہتزازِ حیات

یہاں حیات ہے دوزخ کی ایک کالی رات

یہاں پہ دردِ دروں کی دوا نہیں ملتی

یہاں پہ قلب و نظر کو غذا نہیں ملتی

یہاں کلیدِ حقیقت نہیں کسی کے پاس

یہاں کے تحفے حسد اورعداوت اور افلاس

یہاں ارادہ و ہمت کی وسعتیں محدود

یہاں عروج و ترقی کے راستے مسدود

ہر اک بشر ہے یہاں تنگدستیوں کے قریب

بلندیوں سے بہت دور، پستیوں کے قریب

یہاں نہ روح کو راحت، یہاں نہ دل کو سرور

یہاں ہے طائرِ پر بستہ آدمی کا شعور

یہاں نہ پرورشِ شوقِ علم کے امکاں

یہاں نہ تربیتِ ذوقِ شعر کے ساماں

کبھی سے پاپ کی بھٹی میں سڑ رہا ہوں میں

ندیم، جھنگ سے اب تنگ آ گیا ہوں میں

مجید امجد

نووارد

نازنیں! اجنبیِ شہرِ محبت ہوں میں

میں ترے دیس کے اطوار سے ناواقف ہوں

دیدۂ شوق کی بیباک نگاہوں پہ نہ جا

کیا کروں جرأتِ گفتار سے ناواقف ہوں

چل پڑا ہوں ترے دامن کو پکڑ کر لیکن

اس کٹھن جادۂ پُرخارسے ناواقف ہوں

مست ہوں عشرتِ آغاز کی سرمستی میں

میں ابھی عاقبتِ کار سے ناواقف ہوں

سونگھنی ہے تری زلفوں سے ابھی بوئے جنوں

ابھی دامن کے پھٹے تار سے ناواقف ہوں

دیکھ لوں تجھ کو تو بےساختہ پیار آتا ہے

پیار آتا ہے مگر پیار سے ناواقف ہوں

دل میں یہ جذبۂ بیدار ہے کیا؟ تو ہی بتا

میں تو اس جذبۂ بیدارسے ناواقف ہوں

اِک مسافر ہوں ترے دیس میں آ نکلا ہوں

اور ترے دیس کے اطوار سے ناواقف ہوں

مجید امجد

پسِ پردہ

میری قیام گاہ کی سمتِ جنوبِ مغربی

جس میں کہ خار و خس کی ہے چھوٹی سی ایک جھونپڑی

اس کے درِ شکستہ پر پردہ ہے اک پھٹا ہوا

چھید سے جس کے جھانک کر دیکھ رہی ہے (آمنہ)

گائے کا دودھ دوہ کر رکھ رہی ہے وہ آگ پر

میرے قدم کی چاپ پر آ گئی در پہ بھا گ کر

سہمی ہوئی کھڑی ہے وہ ساحرۂ لطیف جاں

سانس سے اس کی لرزشیں پردۂ در پہ ہیں عیاں

دیکھ رہی ہے وہ مجھے ہنستی ہوئی نگاہ سے

ہستی ہوئی نگاہ کی تابشِ بےپناہ سے

اُف یہ نگہ فسانۂ شوقِ نہاں لیے ہوئے

سادہ سے ایک پریم کی سادگیاں لیے ہوئے

آہ اسی نگاہ کے جام کو پی رہا ہوں میں

آج اک اورعالمِ نور میں جی رہا ہوں میں

عالم نور ہاں یہی خطۂ کیفِ سرمدی

میری قیام گاہ کی سمتِ جنوبِ مغربی

مجید امجد

نذرِ محبت

میں روتا ہوں مری آنکھوں سے جو آنسو ٹپکتے ہیں

پروتے ہیں لڑی سی موتیوں کی، تارِ مژگاں میں

یہ موتی جن میں نورِ قدس کے جلوے جھلکتے ہیں

یہ موتی جو ستارے ہیں عروسِ شب کے داماں میں

یہ موتی جو فروغِ سوزِ الفت سے دمکتے ہیں

بکا کرتے ہیں جیبوں آستینوں کی جو دکّاں میں

مری ہستی کا سرمایہ ہیں یہ نور آفریں موتی

کہ سلکِ کہکشاں بھی جن کی قیمت ہو نہیں سکتی

ابھی ان موتیوں کو عمر بھر دامن میں رولوں گا

اور آخر ان کو اِک رنگین مالا میں پرو لوں گا

ترے قدموں میں گر کر، پریم مندر کی حسیں دیوی

اسی مالا کو میں ترے گلے میں لا کے ڈالوں گا

اور اپنی زندگی کے آخری مقصد کو پا لوں گا

مجید امجد

محرومِ ازل

عرصۂ کونین میں کچھ بھی نہیں میرے لیے

خاک ہیں فرشِ زمیں عرشِ بریں میرے لیے

اک جہاں کے واسطے ہے اک جہانِ انبساط

اور ہے اشکوں میں وبی آستیں میرے لیے

دوسروں کے واسطے تاج و سریر و آستاں

بندۂ مجبور کی عاجز جبیں میرے لیے

رات بھر دورِ شرابِ ارغواں ان کے لیے

صبح کو محفل کے خالی ساتگیں میرے لیے

اس خیالِ خام کو رہنے بھی دے اخترشناس

آسماں کی وسعتوں میں کچھ نہیں میرے لیے

مجید امجد

لہر انقلاب کی

حالت بدل رہی ہے جہانِ خراب کی

لہرا رہی ہے دہر میں لہر انقلاب کی

تخریب جس کی حدت و شدت کا نام ہے

دنیا میں پھر نمود ہے اس اضطراب کی

سرمائے کے نظام کا انجام ہے قریب

اب اس کی زندگی ہے کہ ہستی حباب کی

پہنچا ہے اختتام پہ دورِ ملوکیت

حد بھی تو ہو کوئی ستم بےحساب کی

بوڑھوں کی مصلحت کو بھلا پوچھتا ہے کون

سرجوشیاں ہیں جوش پہ روحِ شباب کی

اس عہد کے جوانِ جواں عزم کے لیے

تہذیبِ نو ہے ایک تجلی سراب کی

پھر جاگ اٹھا ہے جذبۂ آزادیِ وطن

تعبیر اور کیا ہو غلامی کے خواب کی

امجد تو آنے والے تغیّر کو بھانپ جا

مستقبلِ مہیب کی ہیبت سے کانپ جا

مجید امجد

حالی

مسدس کا مصنف، شاعرِ جادو بیاں حالی

وہ حالی، عندلیبِ گلشنِ ہندوستاں حالی

قلم کی نوک سے جس نے ربابِ روح کو چھیڑا

حریمِ قدس کا وہ مطربِ شیریں زباں حالی

جہاں آرا نظر جس کی، رموز آّگاہ دل جس کا

وہ اسرار و معارف کا محیطِ بیکراں حالی

فلک جس کو کرے سجدے، زمیں جس کے قدم چومے

وہ حالی، ہاں وہی شخصیّتِ گردوں نشاں حالی

وہی حالی جسے دانائے رازِ زندگی کہہ دیں

جسے سرمایۂ سوز و گدازِ زندگی کہہ دیں

وہ حالی چھوڑ کر جس نے کہانی بلبل و گل کی

بھلا کر قلقلِ وجد آفریں میخانۂ مِل کی

نئے انداز سے چھیڑی فضائے بزمِ عالم میں

حدیثِ دل فروز اسلام کے شان و تجمل کی

وہ حالی توڑ کر جس نے طلسمِ گیسوئے پیچاں

دکھائی شان موجِ زندگانی کے تسلسل کی

وہ جس نے قصہ ہائے نرگسِ بیمار کے بدلے

سنائی داستاں اوضاعِ ملت کے تعطل کی

وہ حالی جس کے آنے سے جہاں میں انقلاب آیا

وہ جس کے شعر سے ہندوستاں میں انقلاب آیا

وہی حالی جو سوتوں کو جگانے کے لیے آیا

وہی حالی جو مُردوں کو جِلانے کے لیے آیا

جسے صحرائے بطحا کے حُدی خوانوں نے چھیڑا تھا

نئی لے میں اسی نغمے کو گانے کے لیے آیا

وہ حالی، ہاں وہ مردِ حق جو کفرستانِ عالم میں

خدا کے نام کا ڈنکا بجانے کے لیے آیا

وہ حالی، وہ معلّم مکتبِ اخلاقِ ملت کا

جو ہر انسان کو انساں بنانے کے لیے آیا

وہ حالی جو علمدارِ وقارِ زندگانی ہے

سرورِ جاودانی ہے، بہارِ زندگانی ہے

وہی حالی جو اذکار و نصیحت کے لیے آیا

وہی حالی جو ارشاد و ہدایت کے لیے آیا

وہی شاعر کہ جس نے شعر کی طرزِ کہن بدلی

وہی ناقد جو تبلیغِ صداقت کے لیے آیا

وہی رہبر کہ جس نے گمرہوں کی رہنمائی کی

وہ مصلح جو فلاحِ ملک و ملت کے لیے آیا

وہ فخرِ ایشیا، مہرِ سپہرِ شاعری حالی

وہ مردِ حق جو اظہارِ حقیقت کے لیے آیا

وہ جس کے فکرِ کیف اندوز نے موتی لٹائے ہیں

وہ جس کے خامۂ سحرآفریں نے گل کھلائے ہیں

وہی حالی کہ جو آئینہ دارِ باکمالی ہے

نظیرِ بےنظیری ہے، مثالِ بےمثالی ہے

وہی حالی کہ جس کی شاعری سلکِ لآلی ہے

زباں آبِ زلالی ہے، بیاں سحرِ حلالی ہے

وہ جس کے قلب میں ہنگامۂ دردِ نہانی ہے

وہ جس کی روح میں سرمستیِ تخئیلِ عالی ہے

ہے گر قومیّتِ ہندوستاں کا ترجماں کوئی

یقیں رکھو، یقیں رکھو، وہ حالی ہے، وہ حالی ہے

اسی حالی، اسی حالی کی یہ صد سالہ برسی ہے

جبھی تو چار سو شانِ جمالی جلوہ گر سی ہے

اسی حالی، اسی حالی کا ہے یہ جشنِ صد سالہ

جبھی تو آج ہے ہندوستان کی شان دوبالا

اسے پیدا ہوئے سو سال گزرے ہیں مگر اب بھی

جسے دیکھو وہی اس کی محبت میں ہے متوالا

ابھی تک اک جہاں بےامتیازِ مذہب و ملت

کلامِ حالیِ مرحوم کا ہے پوجنے والا

ابھی تک ہے وہی جس کی ضیاریزی جلوخیزی

کلامِ حالیِ مرحوم ہے وہ لولوئے لالا

کلام حالی مرحوم اِک گنج معافی ہے

جو ادبیّات میں اک شاہکارِ غیرفانی ہے

ابھی تک چل رہا ہے میکدے میں جام حالی کا

ابھی تک مرکزِ تقدیس ہے پیغام حالی کا

ابھی بھولے نہیں اہلِ جہاں احسان حالی کے

زمیں سے آسماں تک غلغلہ ہے عام حالی کا

اسی جانب رواں ہیں قافلے اقوام عالم کے

بڑھا جس منزلِ مقصد کی جانب گام حالی کا

ابھی تک ان فضاؤں میں ہے مضمر روح حالی کی

ابھی تک چٹکیاں لیتا ہے دل میں نام حالی کا

ابھی تک آ رہی ہے عرش سے آواز حالی کی

ابھی تک کان سنتے ہیں نوائے راز حالی کا

سپہرِ زندگی کا ضوفشاں ناہید ہے حالی

نہیں، سرمطلعِ امید کا خورشید ہے حالی

پیام ولولہ انگیز س کا مٹ نہیں سکتا

جہانِ زندگی میں زندۂ جاوید ہے حالی

اگر اب بھی نہیں سمجھے تو لو میں برملا کہہ دوں

اجی! اِک آنے والے دور کی تمہید ہے حالی

چلے گا حشر تک بزمِ جہاں میں جام حالی کا

رہے گا ثبت لوحِ کن فکاں پر نام حالی کا

مجید امجد

گاؤں

یہ تنگ و تار جھونپڑیاں گھاس پھوس کی

اب تک جنھیں ہوا نہ تمدن کی چھو سکی

ان جھونپڑوں سے دور اور اس پار کھیت کے

یہ جھاڑیوں کے جھنڈ یہ انبار ریت کے

یہ سادگی کے رنگ میں ڈوبا ہوا جہاں

ہنگامۂ جہاں ہے سکوں آشنا جہاں

یہ دوپہر کو کیکروں کی چھاؤں کے تلے

گرمی سے ہانپتی ہوئی بھینسوں کے سلسلے

ریوڑ یہ بھیڑ بکریوں کے اونگھتے ہوئے

جھک کر ہر ایک چیز کی بو سونگھتے ہوئے

یہ آندھیوں کے خوف سے سہمی ہوئی فضا

جنگل کی جھاڑیوں سے سنکتی ہوئی ہوا

یہ شام کے مناظرِ رنگیں کی خامشی

اور اس میں گونجتی ہوئی جھینگر کی راگنی

بچے غبارِ راہگزر پھانکتے ہوئے

میدان میں مویشیوں کو ہانکتے ہوئے

برفاب کے دفینے اگلتا ہوا کنواں

یہ گھنگھروؤں کی تال پہ چلتا ہوا کنواں

یہ کھیت، یہ درخت، یہ شاداب گرد و پیش

سیلابِ رنگ و بو سے یہ سیراب گرد و پیش

مستِ شباب کھیتیوں کی گلفشانیاں

دوشیزۂ بہار کی اٹھتی جوانیاں

یہ نزہتِ مظاہرِ قدرت کی جلوہ گہ

ہاں ہاں یہ حسنِ شاہدِ فطرت کی جلوہ گہ

دنیا میں جس کو کہتے ہیں گاؤں یہی تو ہے

طوبیٰ کی شاخِ سبز کی چھاؤں یہی تو ہے

مجید امجد

رازِ گراں بہا

نہ رہنما سے تعلق نہ راستہ معلوم

ترے جنونِ تجسس کا منتہا معلوم

نہ آرزوئے ترقی نہ جستجوئے کمال

تری حیات کا مقصد ہے کیا، خدا معلوم

یہی ہے حال اگر پستیِ عزائم کا

مآلِ خواہشِ تکمیلِ ارتقا معلوم

نہاں ہے محنتِ پیہم میں راحتِ جاوید

نہیں ہے تجھ کو یہ رازِ گراں بہا معلوم

تو اجتماعِ مصائب سے ڈر رہا ہے کیوں

نہیں تحمّلِ آفات کا صلا معلوم؟

حریمِ قدس کی رنگینیوں کا مرکز ہے

وہ دل کہ جس کو نہیں خوفِ ماسوا معلوم

مجید امجد

محبوبِ خدا سے

نوبہارِ گلستانِ معرفت

یعنی اے روح و روانِ معرفت

تیرے دل میں جلوۂ ربِ جمیل

تیری محفل میں سرودِ جبرئیل

اہتمام و اہتزازِ کائنات

تیری اک ادنیٰ نگاہِ التفات

قرب یابِ درگہِ یزداں ہے تو

ساقیِ خُم خانۂ عرفاں ہے تو

جھک رہا ہے تیرے در پر آسماں

چومتا ہے تیرے قدموں کو جہاں

ترے دم سے دل کی کلیاں کھل گئیں

بدنصیبوں کو مرادیں مل گئیں

تیری چوکھٹ پر جھکی جس کی جبیں

ہو گیا اس کے جہاں زیرِ نگیں

میں سمجھتا ہوں کہ تیری خاکِپا

کیمیا ہے کیمیا ہے کیمیا

مجھ پہ گر تو لطف فرمائی کرے

بخت میرا نازِ دارائی کرے

میں بھی ہوں اک بندۂ عصیاں شعار

کشتۂ جور و جفائے روزگار

میں بھی تیرا بستۂ فتراک ہوں

کس قدرغمگین ہوں غمناک ہوں

میں زمانے بھر سے ٹھکرایا گیا

میں ہر اک محفل سے اٹھوایا گیا

درگہِ عالم سے دھتکارا ہوا

بخت اور تقدیر کا مارا ہوا

اب ترے دربار میں آیا ہوں میں

دل میں لاکھوں حسرتیں لایا ہوں میں

تجھ کو میری بےکسی کا واسطہ

اپنی شانِ خسروی کا واسطہ

مر رہا ہوں، زندگی کا جام دے

رحمتِ جاوید کا پیغام دے

اب زمانے میں مرا کوئی نہیں

آسرا تیرے سوا کوئی نہیں

اِک فقط درد آشنا تو ہی تو ہے

میرے دل کا مدعا تو ہی تو ہے

جب ترے دربا رمیں آتا ہوں میں

جب تری سرکار میں آتا ہوں میں

عظمتِ مفقود کو پاتا ہوں میں

منزلِ مقصود کو پاتا ہوں میں

تیرے آگے ہاتھ پھیلاتا ہوں میں

جھولیاں بھر بھر کے لے جاتا ہوں میں

زندگی کی زندگی تو ہی تو ہے

روح کی تابندگی تو ہی تو ہے

میرے دل کو مہبطِ انوار کر

مجھ کو بھی بینندۂ اسرار کر

مجید امجد

آہ یہ خوش گوار نظارے!

ساملی کیا ہے اک پہاڑی ہے

خوبصورت، بلند اور شاداب

اس کی چیں بر جبیں چٹانوں پر

رقص کرتے ہیں سایہ ہائے سحاب

اس کی خاموش وادیاں، یعنی

ایک سویا ہوا جہانِ شباب

اس کی سقفِ بلند کے آگے

آسماں ایک سرنگوں محراب

شام کے وقت کوہ کا منظر

جیسے بھولا ہوا طلسمی خواب

جھومتے، ناچتے ہوئے چشمے

پھوٹتا، پھیلتا ہوا سیماب

دُوب کی رینگتی ہوئی بیلیں

پتھروں سے پٹے ہوئے تالاب

آہ یہ خوش گوار نظّارے

خلد کے شاہکار نظّارے

چیل کے اُف یہ بےشمار درخت

اور یہ ان کی عنبریں بو باس

سنبلیں کونپلوں سے چھنتے ہوئے

یہ نسیمِ شمال کے انفاس

سایہ ہائے دراز کے نیچے

سرنگوں جھاڑیوں کا خوف و ہراس

چیل کی چوٹیوں پہ صبح کے وقت

سبز پتوں کا زرنگار لباس

یہ دھواں جھونپڑوں سے اٹھتا ہوا

کوہ کے اس طرف افق کے پاس

یہ برستی ہوئی گھٹا کا سماں

قلبِ شاعر پہ بارشِ احساس

آہ یہ خوش گوار نظّارے

خلد کے شاہکار نظّارے

مرغزاروں میں تا بحدِ نظر

لطف افزا فضا مہکتی ہوئی

شب کو دہقاں کے تنگ جھونپڑے سے

سرخ سی روشنی جھلکتی ہوئی

ابر میں کوندتی ہوئی بجلی

دامنِ آتشیں جھٹکتی ہوئی

کوہ کی سربلند چوٹی سے

اک نئی تازگی ٹپکتی ہوئی

آہ یہ خوش گوار نظّارے

خلد کے شاہکار نظّارے

وادیوں کا ہر ایک خارِ حقیر

امتدادِ زمانہ کی تصویر

قدسیوں کی ادائے کج نگہی

صبح کے آفتاب کی تنویر

جلوہ ہائے شفق کی عریانی

ایک رنگین خواب کی تعبیر

زمہریری ہوا کے جھونکوں سے

ڈبڈبائی ہوئی سی چشمِ اثیر

آہ یہ خوش گوار نظّارے

خلد کے شاہکار نظّارے

چاہتا ہوں کہ اپنی ہستی کو

سرمدی کیف میں ڈبو جاؤں

چاہتا ہوں کہ ان فضاؤں کی

وسعتِ بیکراں میں کھو جاؤں

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں میں

جذب ہو جاؤں، جذب ہو جاؤں

آہ یہ خوش گوار نظّارے

خلد کے شاہکار نظّارے

مجید امجد

ہوائی جہاز کو دیکھ کر

یہ تہذیب اور سائنس کی ترقی کا زمانہ ہے

رہے گا یوں بھلا کب تک درندوں کی طرح انساں

یہ علم و دانش و حکمت کا ادنیٰ سا کرشمہ ہے

ہوا میں لگ گیا اڑنے پرندوں کی طرح انسان

وہ دیکھو ہیں فضا میں مائل پرواز طیارے

گرجتے، گھومتے، گرتے، سنبھلتے اور چکراتے

فضائے آسماں کی سیر کرنے والے سیارے

وہ دیکھو جا رہے ہیں گنگناتے، گونجتے، گاتے

اُدھر وہ خوش نصیب اور صاحبِ اقبال انسان ہیں

جنھیں بخشی گئی اِن برق پازوں کی عناں گیری

اُدھر وہ ذوقِ علم و فن سے مالامال انسان ہیں

جنھیں سونپی گئی دنیائے حکمت کی جہانگیری

اِدھر ہم لوگ ہیں کیفیتِ فکر و نظر جن کی

جہاں میں قوتِ پرواز سے محروم رہتی ہے

اِدھر ہم لوگ ہیں دنیا میں جن کی مضمحل ہستی

حیاتِ جاوداں کے راز سے محروم رہتی ہے

اگر یہ آرزو انساں کے دل میں جلوہ گر ہو گی

کہ چھن جائیں نہ عیشِ سرمدی کی نزہتیں اس سے

تو اس کی زندگی تابندہ تر پائندہ تر ہو گی

فقط سعیِ مسلسل سے فقط ذوقِ تجسس سے

مجید امجد

اقبال

اقبال! کیوں نہ تجھ کو کہیں شاعرِ حیات

ہے تیرا قلب محرم اسرارِ کائنات

سرگرمیِ دوام ہے تیرے لیے حیات

میدانِ کارزار ہے تجھ کو یہ کائنات

مشرق تری نظر میں ہے امید کا افق

مغرب تری نگاہ میں ہے غرق سئیات

یورپ کی ساری شوکتیں تیرے لیے سراب

ہنگامۂ تمدنِ افرنگ، بےثبات

اسلامیوں کے فلسفے میں دیکھتا ہے تو

مظلوم کائنات کی واحد رہِ نجات

تیرا کلام جس کو کہ بانگِ درا کہیں

ہیں اس کے نقطے نقطے میں قرآن کے نکات

بھولے ہوؤں کو تو نے دیا درسِ زندگی

زیبا ہے گر کہیں تجھے خضرِ رہِ حیات

سینے میں تیرے عشق کی بیتاب شورشیں

محفل میں تیری قدس کی رقصاں تجلیات

عریاں تیری نگاہ میں اسرارِ کن فکاں

مضمر ترے ضمیر میں تقدیرِ کائنات

دنیا کا ایک شاعرِ اعظم کہیں تجھے

اسلام کی کچھار کا ضیغم کہیں تجھے

مجید امجد

موجِ تبسم

ستاروں کو نہ آتا تھا ابھی تک مسکرا اٹھنا

دیے بن کر یوں ایوانِ فلک میں جگمگا اٹھنا

حسیں غنچوں کے رنگیں لب تھے ناواقف تبسم سے

چمن گونجا نہ تھا اب تک عنادل کے ترنم سے

نہ پروانے تھے جلتے شمعِ سوزاں کے شراروں میں

نہ آئی تھی ابھی ہمت یہ ننھے جاں نثاروں میں

ابھی گہوارۂ ابرِ بہاری میں وہ سوتی تھی

نہ بجلی یوں شرر بار اور خرمن سوز ہوتی تھی

نہ اب تک ارتعاشِ نغمہ تھا بربط کے تاروں میں

نہ اب تک گونجنے پائے تھے نغمے نغمہ زاروں میں

نہ اب تک آبشاریں پتھروں سے سر پٹکتی تھیں

نہ اب تک رونے دھونے میں یوں راتیں ان کی کٹتی تھیں

سمجھتا تھا نہ دل اب تک نشاط و رنج و کلفت کو

نہ چھیڑا تھا ابھی تک اس نے اپنے سازِ الفت کو

ابھی تیروں کو ترکش ہی میں ڈالے دیوتا کیوپڈ

کھڑا خالی کماں کو تھا سنبھالے دیوتا کیوپڈ

جہاں پر حکمراں تھی ایک ہیبت خیز خاموشی

مصیبت ریز، خوف آمیز، ہول انگیز خاموشی

یکایک بجلیاں ٹوٹیں فغانِ بزمِ ہستی میں

ہزاروں جاگ اٹّھے فتنے اس دنیا کی بستی میں

خموش و پرسکوں عالم میں دوڑی روحِ بیتابی

ہوئی ہر ذرّۂ رقصاں میں پیدا شانِ سیمابی

سمندر کی روانی ہو گئی تبدیل طوفاں میں

پڑا نورس گلوں کے قہقہوں کا غل گلستاں میں

شبستانوں سے رندوں کی صدائے ہاوہو اٹّھی

دبستانوں سے بلبل کی نوائے ہاوہو اٹّھی

پٹکنے لگ گئی سر جوئے کہساری چٹانوں سے

مچل کر بجلیاں ٹوٹیں زمیں پر آسمانوں سے

اٹھایا شورافزا آبشاروں نے رباب اپنا

سنایا گا کے سبزے کو گزشتہ شب کا خواب اپنا

حیاتِ تازہ یوں دوڑی دلوں کی کائناتوں میں

کہ جیسے برق چمکے برشگالی کالی راتوں میں

یمِ ہستی میں کیف و نور کا سیلِ رواں آیا

ریاضِ دہر میں اک رنگ و بو کا کارواں آیا

جہاں بس رہ گیا بن کر طلسمِ کیف و سرمستی

نشوں کی ایک دنیا اور کیفیّات کی بستی

فلک اک گنبدِ زرّیں، زمیں اک بقعۂ نوریں

یہ ساری کائناتِ شش جہت اک جلوۂ رنگیں

یہ موجِ بحرِ امکاں جلوۂ موجِ تبسم ہے

چمک کر جو ترے لب پر فروغ افزائے عالم ہے

تبسم جس کی رنگینی ترے ہونٹوں پہ رقصاں ہے

تبسم آہ جس کا رقص مضرابِ رگِ جاں ہے

مجید امجد

حرفِ اّول

کتنی چھناچھن ناچتی صدیاں

کتنے گھناگھن گھومتے عالم

کتنے مراحل—

جن کا مآل — اک سانس کی مہلت

سانس کی مہلت — عمرِ گریزاں —

جس کی لرزتی روشنیوں میں

جھلمل جھلمل

جھلکے اک مسحور مسافت!

حدِ نظر تک وسعتِ دوراں

جس کی خونیں سطح پہ تڑپے

طوق و سلاسل

میں جکڑی انسان کی قسمت

یہ اشکوں، آہوں کی دنیا

اس منڈلی میں پہیم دھڑکے

سازِ غم دل

پیہم باجے، درد کی نوبت

یہ جلتے لمحوں کا الاؤ

اس جیون میں، غم، دمِ خنجر

دُکھ سمِ قاتل

میں نے پیا ہر زہر سے امرت!

کیسے کیسے عجب زمانے

پگ پگ شعلے، تٹ تٹ طوفاں

اور مرا دل:

بجھتے جُگوں کی راکھ میں لت پت!

بِسری یادوں کی بستی کے

بند کواڑوں سے ٹکراتا

میں اک سائل

میرا رزق، سسکتی چاہت!

شہر جنوں کے رنگ نیارے

گلیاں، موڑ، منڈیریں، دوارے

منزل منزل

ارمانوں کی بچھڑتی سنگت!

دور کہیں، اس پار، وہ دنیا

آرزوؤں کا دیس کہ جس کی

راہ میں حائل

آنکھ کی جھیلیں، دھوئیں کے پربت!

دردوں کے اس کوہِ گراں سے

میں نے تراشی، نظم کے ایواں

کی اک اک سِل

اک اک سوچ کی حیراں مورت!

تجربہ ہائے زیست کے آرے

تلخیِ صد احساس کے تیشے

ان کے مقابل

حرفِ زبوں — اک کانچ کی لعبت!

عمر اسی الجھن میں گزری

کیا شے ہے یہ حرف و بیاں کا

عقدۂ مشکل؟

صورتِ معنی؟ معنیِ صورت؟

اکثر گردِ سخن سے نہ ابھرے

وادیِ فکر کی لیلاؤں کے

جھومتے محمل!

طے نہ ہوا ویرانۂ حیرت!

گرچہ قلم کی نوک سے ٹپکے

کتنے ترانے، کتنے فسانے

لاکھ مسائل

دل میں رہی سب دل کی حکایت!

بیس برس کی کاوشِ پہیم

سوچتے دن اور جاگتی راتیں

ان کا حاصل:

ایک یہی اظہار کی حسرت!

مجید امجد

جاروب کش

آسمانوں کے تلے، سبز و خنک گوشوں میں

کوئی ہو گا جسے اک ساعتِ راحت مل جائے

یہ گھڑی تیرے مقدر میں نہیں ہے، نہ سہی

آسمانوں کے تلے، تلخ و سیہ راہوں پر

اتنے غم بکھرے پڑے ہیں کہ اگر تو چن لے

کوئی اک غم تری قسمت کو بدل سکتا ہے

آسمانوں کے تلے، تلخ و سیہ راہوں پر

تو اگر دیکھے تو خوشیوں کی گریزاں سرحد

سوزِ یک غم سے شکیبِ غمِ دیگر تک ہے

زندگی قہر سہی، زہر سہی، کچھ بھی سہی

آسمانوں کے تلے، تلخ و سیہ لمحوں میں

جرعۂ سم کے لیے عفّتِ لب لازم ہے

اور تو ہے کہ ترے جسم کا سایہ بھی نجس

تو اگر چاہے تو ان تلخ و سیہ راہوں پر

جابجا، اتنی تڑپتی ہوئی دنیاؤں میں

اتنے غم بکھرے پڑے ہیں کہ جنہیں تیری حیات

قوتِ یک شب کے تقدس میں سمو سکتی ہے

کاش تو حیلۂ جاروب کے پَر نوچ سکے!

کاش تو سوچ سکے ۔۔۔ سوچ سکے!

مجید امجد

برہنہ

فرنگی جریدوں کے اوراقِ رنگیں

پہ ہنستی، لچکتی، دھڑکتی لکیریں

کٹیلے بدن، تیغ کی دھار جیسے!

لہو رس میں گوندھے ہوئے جسم، ریشم کے انبار جیسے!

نگہ جن پہ پھسلے، وہ شانے وہ بانہیں

مدوّر اٹھانیں، منوّر ڈھلانیں

ہر اک نقش میں زیست کی تازگی ہے

ہر اک رنگ سے کھولتی آرزوؤں کی آنچ آ رہی ہے!

خطوطِ برہنہ کے ان آئنوں میں

حسیں پیکروں کے یہ شفاف خاکے

کہ جن کے سجل روپ میں کھیلتی ہیں

وہ خوشیاں جو صدیوں سے بوجھل کے اوجھل رہی ہیں!

انہیں پھونک دے گی یہ بےمہر دنیا

فرنگی جریدوں کے اوراقِ رنگیں

کو اک بارحسرت سے تک لو

پھر ان کو حفاظت سے اپنے دلوں کے مقفل درازوں میں رکھ لو!

مجید امجد

رفتگاں

رات تھی اور نیم تاباں مشعلوں کی روشنی

رات تھی اور پیاسی آنکھوں، ہنستے چہروں کے ہجوم

سامنے میزوں پہ رنگارنگ جام

پی رہے تھے ہونٹ ارمانوں کی آگ!

جب بھی تارِ ارغنوں سے آ کے ٹکراتی کسی وحشی تمنا کی پکار

جھن جھنا اٹھتیں دلوں کی بستیاں

اپنی پلکوں کو جھکا لیتیں چراغوں کی لویں

ناچتے جسموں کے جنگل میں بھڑکنے لگتی ارمانوں کی آگ

آہ وہ محدود آہنگوں میں لپٹے زمزمے

جیسے طوفاں میں گھری کشتی سے کوئی ساحلِ گم گشتہ کو آواز دے!

آہ وہ مجروح سینوں سے ابلتے قہقہے

جیسے انگاروں بھرے جھکّڑ میں کوئی بےاماں راہی پکارے

منزلِ روپوش کو!

ہائے وہ مدہوش لوگ

مست پنچھی، جن کے جلتے پنکھ ان کی آتشِ دل کو ہوا دیتے گئے

کس گپھا میں کھو گئے؟

کیا انہیں سکھ کی کہیں بھی وہ کرن حاصل ہوئی

وہ کرن جو رات بھر ان نیم تاباں مشعلوں کے روپ میں ہنستی رہی

وہ کرن جو ان کی دنیا میں چمک کر ان کے دل میں بجھ گئی!

مجید امجد

پیش رَو

پت جھڑ کی اداس سلطنت میں

اک شاخِ برہنہ تن پہ تنہا

بےبرگ مسافتوں میں حیراں

کچھ زود شگفت شوخ کلیاں

جو ایک سرورِ سرکشی میں

اعلانِ بہار سے بھی پہلے

انجامِ خزاں پہ ہنس پڑی ہیں

تقدیرِ چمن بنی کھڑی ہیں!

اس یخ کدۂ یقینِ غم میں

دیکھو یہ شگفتہ دل شگوفے

ماحول نہ کائنات ان کی

اِک نازِ نمو حیات ان کی

عمر ان کی بس ایک پل ہے لیکن

آئیں گے انہی کی راکھ سے، کل

ماتھے پہ حسیں تلک لگائے

پھولوں بھری صبحِ نو کے سائے!

مجید امجد

ریوڑ

شام کی راکھ میں لتھڑی ہوئی ڈھلوانوں پر

ایک ریوڑ کے تھکے قدموں کا مدھم آہنگ

جس کی ہر لہر دھندلکوں میں لڑھک جاتی ہے

مست چرواہا، چراگاہ کی اک چوٹی سے

جب اترتا ہے تو زیتون کی لانبی سونٹی

کسی جلتی ہوئی بدلی میں اٹک جاتی ہے

بکریاں، دشت کی مہکار میں گوندھا ہوا دودھ

چھاگلوں میں لیے جب رقص کناں آتی ہیں

کوئی چوڑی خمِ دوراں پہ چھنک جاتی ہے

جست بھرتی ہے کبھی اور کبھی چلتے چلتے

ناچتی ڈار ممکتے ہوئے بزغالوں کی

ہر جھکی شاخ کی چوکھٹ پہ ٹھٹک جاتی ہے

سان پر لاکھ چھری، سیخ پہ صد پارۂ گوشت

پھر بھی مدہوش غزالوں کی یہ ٹولی ہے کہ جو

بار بار اپنے خطِ رہ سے بھٹک جاتی ہے

شام کی راکھ میں لتھڑی ہوئی ڈھلوانوں پر

کھیلتی ہے غمِ ہستی کی وہ شاداں سی اُمنگ

جس کی رو وقت کی پہنائیوں تک جاتی ہے

مجید امجد

مقبرۂ جہانگیر

زنگ آلود کمربند، صدف دوز عبا

یہ محافظ، تہہِ محراب عصا تھامے ہوئے

کھانستی صدیوں کا تھوکا ہوا اک قصہ ہیں

اِسی گرتی ہوئی دیوار کا اک حصہ ہیں!

کھردرے، میلے، پھٹے کپڑوں میں بوڑھے مالی

یہ چمن بند، جو گزرے ہوئے سلطانوں کی

ہڈیاں سینچ کے پھلواڑیاں مہکاتے ہیں

گھاس کٹتی ہے کہ دن ان کے کٹے جاتے ہیں

اور انہیں دیکھو — یہ جاروب کشانِ بےعقل

صبح ہوتے ہی جو چُن چُن کے اٹھا پھینکتے ہیں

گٹھلیاں — عشرتِ دزدیدہ کی تلچھٹ سے بھری

کہنہ زینوں میں پڑی، تیرہ دریچوں میں پڑی!

لاکھ ادوار کی لاشوں پہ بچھا کر قالین

چند لوگ اپنی ترنگوں میں مگن بیٹھے ہیں

عکس پڑتا ہے جو نظروں پہ حسیں زلفوں کا

ڈوب جاتا ہے پیالوں میں دھواں سُلفوں کا

سنگِ احمر کی سِلوں پر یہ سطورِ پُرنور

جن کی ہر جدولِ گل پیچ کے الجھاؤ میں

کتنے صناعوں کی صد عمرِ عزیز آویزاں

اس جگہ آج سحرخیز مریض آویزاں

موجِ صد نقش میں لپٹے ہوئے میناروں کے

دودھیا بُرج، درختوں کے گھنے جھنڈ میں گم

جن کے چھجوں سے نظر آتے ہیں مدفون غبار

رینگتی روحوں سے آباد گناہوں کے دیار!

گنبدِ دل میں لیے رقصِ مہ و سال کی گونج

یہ جھروکا کہ جو راوی کی طرف کھلتا ہے

اپنی تنہائیِ ویراں سے اماں مانگتا ہے

ہر گزرتی ہوئی گاڑی سے دھواں مانگتا ہے!

تین سو سالوں سے مبہوت کھڑے ہیں جو یہ سرو

اِن کی شاخیں ہیں کہ آفاق کے شیرازے ہیں

صفِ ایام کی بکھری ہوئی ترتیبیں ہیں

اِن کے سائے ہیں کہ ڈھلتی ہوئی تہذیبیں ہیں

مرمریں قبر کے باہر چمن و قصر و اُطاق

کوئلیں، امریاں، جھونکے، روشیں، فوارے

اور — کچھ لوگ کہ جو محرمِ آداب نہیں!

مرمریں قبر کے اندر، تہہِ ظلمات کہیں

کرمک و مور کے جبڑوں میں سلاطیں کے بدن

کوئی دیکھے، کوئی سمجھے تو اس ایواں میں جہاں

نور ہے، حسن ہے، ترئین ہے، زیبائش ہے

ہے تو بس ایک دکھی روح کی گنجائش ہے

تم نے دیکھا کہ نہیں آج بھی اِن محلوں میں

قہقہے جشن مناتے ہوئے نادانوں کے

جب کسی ٹوٹتی محراب سے ٹکراتے ہیں

مرقدِ شاہ کے مینار لرز جاتے ہیں!

مجید امجد

آٹوگراف

کھلاڑیوں کے خودنوشت دستخط کے واسطے

کتابچے لیے ہوئے

کھڑی ہیں منتظر — حسین لڑکیاں!

ڈھلکتے آنچلوں سے بےخبر، حسین لڑکیاں!

مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھے

ابل پڑے الجھتے بازوؤں، چٹختی پسلیوں کے پُرہراس قافلے

گرے، بڑھے، مڑے بھنور ہجوم کے

کھڑی ہیں یہ بھی، راستے پہ، اک طرف

بیاضِ آرزو بہ کف

نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں

لرز رہا ہے دم بہ دم

کمانِ ابرواں کا خم

کوئی جب ایک نازِ بےنیاز سے

کتابچوں پہ کھینچتا چلا گیا

حروفِ کج تراش کی لکیر سی

تو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سی

کسی عظیم شخصیت کی تمکنت

حنائی انگلیوں میں کانپتے ورق پہ جھک گئی

تو زرنگار پلوؤں سے جھانکتی کلائیوں کی تیز بنض رک گئی

وہ باؤلر ایک، مہ وشوں کے جمگٹھوں میں گِھر گیا

وہ صفحۂ بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں پھری

حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری

میں اجنبی، میں بےنشاں

میں پا بہ گِل

نہ رفعتِ مقام ہے، نہ شہرتِ دوام ہے

یہ لوحِ دل! یہ لوحِ دم!

نہ اس پہ کوئی نقش ہے، نہ اس پہ کوئی نام ہے!

مجید امجد

بس سٹینڈ پر

’’خدایا اب کے یہ کیسی بہار آئی!‘‘

’’خدا سے کیا گلہ، بھائی!

خدا تو خیر کس نے اس کا عکسِ نقشِ پا دیکھا

نہ دیکھا تو بھی دیکھا اور دیکھا بھی تو کیا دیکھا

مگر توبہ، مری توبہ، یہ انساں بھی تو آخر اک تماشا ہے

یہ جس نے پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہونا بڑے جتنوں سے سیکھا ہے

ابھی کل تک، جب اس کے ابروؤں تک مُوئے پیچاں تھے

ابھی کل تک، جب اس کے ہونٹ محرومِ زنخداں تھے

ردائے صد زماں اوڑھے، لرزتا، کانپتا، بیٹھا

ضمیرِ سنگ سے بس ایک چنگاری کا طالب تھا! ‘‘

’’مگر اب تو یہ اونچی ممٹیوں والے جلوخانوں میں بستا ہے

ہمارے ہی لبوں سے مسکراہٹ چھین کر اب ہم پہ ہنستا ہے

خدا اس کا، خدائی اس کی، ہرشے اس کی، ہم کیا ہیں!

چمکتی موٹروں سے اڑنے والی دھول کا ناچیز ذرّہ ہیں‘‘

’’ہماری ہی طرح جو پائمالِ سطوتِ میری و شاہی میں

لکھوکھا، آبدیدہ، پاپیادہ، دل زدہ، واماندہ راہی ہیں

جنہیں نظروں سے گم ہوتے ہوئے رستوں کی غم پیما لکیروں میں

دکھائی دے رہی ہیں آنے والی منزلوں کی دھندلی تصویریں‘‘

’’ضرور اک روز بدلے گا نظامِ قسمتِ آدم

بسے گی اک نئی دنیا، سجے گا اک نیا عالم

شبستاں میں نئی شمعیں، گلستاں میں نیا موسم‘‘

’’وہ رُت اے ہم نفس جانے کب آئے گی؟

وہ فصلِ دیر رس جانے کب آئے گی؟

یہ نو نمبر کی بس جانے کب آئے گی؟‘‘

مجید امجد

ایسے بھی دن

پھلواڑی میں پھول کھلے، مرجھائے

کون اب ان کی مٹتی راکھ سے اپنی مانگ سجائے

آتے زمانے نئے پھول اور نئی بہاریں لائے

آتے جاتے زمانوں کی اس گونگی بھیڑ میں بہنے

آئے لاکھوں لمحے، گدلے گدلے فرغل پہنے

ایک قدم اور اس انبوہ میں کھو گئے ان کے کج مج سائے

پھول نہ گجرے، پلکیں اور نہ کجرے

بیتے سموں کے اُجڑے پنگھٹ، ٹھیکریاں اور بجرے

کون اب ان کی اڑتی دھول سے من کی پیاس بجھائے

ایسی ہی کتنی صبحیں، کتنی شامیں، پیلی پیلی

جن کے نہ میٹھے ہونٹ رسیلے، جن کی نہ کڑوی دھار کٹیلی

موجیں ابھریں، موجیں ڈوبیں، رُت آئے، رُت جائے

جن کی پلک پر، جن کے اُفق پر آنسو ہے نہ ستارہ

چپ چپ، گم سم، تھکے تھکے، آوارہ

آہ وہ دن جو بیت گئے اور یاد نہ آئے

مجید امجد

ہری بھری فصلو!

ہری بھری فصلو

جُگ جُگ جیو، پھلو

ہم تو ہیں دو گھڑیوں کو اس جگ میں مہمان

تم سے ہے اس دیس کی شوبھا، اس دھرتی کا مان

دیس بھی ایسا دیس کہ جس کے سینے کے ارمان

آنے والی مست رُتوں کے ہونٹوں پر مُسکان

جھکتے ڈنٹھل، پکتے بالے، دھوپ رچے کھلیان

ایک ایک گھروندا خوشیوں سے بھرپور جہان

شہر شہر اور بستی بستی جیون سنگ بسو!

دامن دامن، پلو پلو، جھولی جھولی ہنسو

چندن روپ سجو!

ہری بھری فصلو!

جُگ جُگ جیو، پھلو!

قرنوں کے بجھتے انگار، اک موجِ ہوا کا دَم

صدیوں کے ماتھے کا پسینہ، پتیوں پر شبنم

دَورِ زماں کے لاکھوں موڑ، اک شاخِ حسیں کا خم

زندگیوں کے تپتے جزیروں پر رکھ رکھ کے قدم

ہم تک پہنچی عظمتِ فطرت، طنطنۂ آدم

جھومتے کھیتو! ہستی کی تقدیرو! رقص کرو!

دامن دامن، پلو پلو، جھولی جھولی ہنسو!

چندن چندن رُوپ سجو!

ہری بھری فصلو!

جُگ جُگ جیو پھلو!

مجید امجد

کون دیس گیو۔۔۔

کون دیس گیو۔۔۔

نیناں

کون دیس گیو۔۔۔

رُت آئے، رُت جائے، مھاری عمر کٹے رو رو

کجرارے، متوارے نیناں، کون دیس گیو

دیکھتے دیکھتے اس نگری میں چاروں اور اک نور بہا

ایک گزرتی رتھ سے چھلکا اُمڈ کے جوبن، اہا، اہا

راہ راہ پہ پلک پلک نے سیس نوا کے کہا:

’’باوری لہرو

رس کے شہرو

نینو، ٹھہرو، ٹھہرو

چھین نہ لو ان ہنستے جُگوں سے سُکھ کا سانس اک رہا سہا‘‘

دھول اڑی اور پھول گرے

لمحے، خوشبوئیں، جھونکے

ابھرے، پھیلے، گئے گئے

ایدھر دیکھیں، اودھردیکھیں، دل کے سنگ نہ کو

کون دیس گیو

کجرارے، متوارے نیناں، کون دیس گیو

اب ان تپتے ویرانوں میں

کانٹے چُن چُن پور دُکھیں

جانے تم کس پھول بھوم میں جھوم جھوم ہنسو

کون دیسو گیو

کجرارے او، متوارے او، نیناں

کون دیس گیو

مجید امجد

بہ فرشِ خاک

آنکھیں میچوں، دھیان کروں تو صورت تیری، مورت تیری

من کے ہنستے بستے دیس کے رستے رستے پر مسکائے

تیری باہیں، گلگوں راہیں، میری جانب بڑھتی آئیں

تیری اکھیاں، جیون سکھیاں، دل کے تٹ پر راس رچائیں

چاروں کھونٹ گلابی ہونٹ نگہ کو رس کے گھونٹ پلائیں

لیکن جب میں ہات بڑھاؤں، تیرا دامن ہات نہ آئے

اکثر اکثر، سوچتے سوچتے، یوں محسوس ہوا ہے مجھ کو

جیسے اک طوفان میں گھر کر، گر کر، پھول کی پتی ابھرے

لہر لہر کے ڈولتے شہر میں دھندلے دھندلے دیے لہرائیں

سکھ کی سامگری سے نگری نگری کے آنگن بھر جائیں

گجرے لہکیں، سیجیں مہکیں، گھلتی سانس کے جھونکے آئیں

لیکن جب میں تجھ کو پکاروں، دور اک گونج کی میّت گزرے

دل کے بےآواز جزیرے میں چھپ چھپ کے، چپکے چپکے

آنے والو! کیوں چھپتے ہو؟ گھونگھٹ کھولو، ہنس ہنس بولو

اب تک ہم نے سنوارے نکھارے، منزل منزل، رستے رستے

خوابوں کے مسحور خرابوں میں ارمانوں کے گلدستے

اس مٹی کے گھروندے میں بھی اک دن بیٹھ کے ہنستے ہنستے

اپنے ہات سے میری چائے کی پیالی میں چینی گھولو!

مجید امجد

ساجن دیس کو جانا

او طنبور بجاتے راہی، گاتے راہی

جاتے راہی

ساجن دیس کو جانا

منڈلی منڈلی چوکھٹ چوکھٹ

جھاجھن، جھاجھن، ڈِگ تٹ، ڈِگ تٹ

من کی تان اڑانا

لیکن میرے دکھوں کے سانجھی، میرے درد نہ گانا

او طنبور بجاتے راہی، گاتے راہی

جاتے راہی

ساجن دیس کو جانا

سوچ بھرے مکھ، زہر پیے من

ان کی آس بندھانا

جھنن جھنن جھن، چھنن چھنن چھن

گیت ملن کے گانا

گلی گلی میں ساون رت کی مست پون بن جانا

او طنبور بجاتے راہی، گاتے راہی

جاتے راہی

ساجن دیس کو جانا

پلک پلک پہ مچل سکتا ہے

آنسو بن کے زمانہ

اک دھڑکن میں ڈھل سکتا ہے

جیون کا افسانہ

ان آنکھوں کو ان ہونٹوں کو سمجھانا، سمجھانا

مجید امجد

زندگی، اے زندگی

خرقہ پوش و پا بہ گِل

میں کھڑا ہوں، تیرے درپر، زندگی

ملتجی و مضمحل

خرقہ پوش و پا بہ گِل

اے جہانِ خار و خس کی روشنی

زندگی، اے زندگی

میں ترے در پر چمکتی چلمنوں کی اوٹ سے

سن رہا ہوں قہقہوں کے دھیمے دھیمے زمزمے

کھنکھناتی پیالیوں کے شور میں ڈوبے ہوئے

گرم، گہری گفتگو کے سلسلے

منقلِ آتش بجاں کے متصل

اور ادھر، باہر گلی میں، خرقہ پوش و پا بہ گِل

میں کہ اک لمحے کا دل

جس کی ہر دھڑکن میں گونجے دو جہاں کی تیرگی

زندگی، اے زندگی

کتنے سائے محوِ رقص

تیرے در کے پردۂ گلفام پر

کتنے سائے، کتنے عکس

کتنے پیکر محوِ رقص

اور اک تو کہنیاں ٹیکے خمِ ایام پر

ہونٹ رکھ کر جام پر

سن رہی ہے ناچتی صدیوں کا آہنگِ قدم

جاوداں خوشیوں کی بجتی گتکڑی کے زیر و بم

آنچلوں کی جھم جھماہٹ، پائلوں کی چھم چھمم

اس طرف، باہر، سرِ کوئے عدم

ایک طوفاں، ایک سیلِ بےاماں

ڈوبنے کو ہیں مرے شام و سحر کی کشتیاں

اے نگارِ دل ستاں

اپنی نٹ کھٹ انکھڑیوں سے میری جانب جھانک بھی

زندگی، اے زندگی!

مجید امجد

افتاد

کوئی دوزخ کوئی ٹھکانہ تو ہو

کوئی غم حاصلِ زمانہ تو ہو

لالہ و گل کی رت نہیں، نہ سہی

کچھ نہ ہو، شاخِ آشیانہ تو ہو

کبھی لچکے بھی آسمان کی ڈھال

یہ حقیقت کبھی فسانہ تو ہو

ان اندھیروں میں روشنی کے لیے

طاقِ چوبیں پہ شمعِ خانہ تو ہو

کسی بدلی کی ڈولتی چھایا

کوئی رختِ مسافرانہ تو ہو

گونجتے گھومتے جہانوں میں

کوئی آوازِ محرمانہ تو ہو

اس گلی سے پلٹ کے کون آئے

ہاں مگر اس گلی میں جانا تو ہو

میں سمجھتا ہوں ان سہاروں کو

پھر بھی جینے کا اک بہانہ تو ہو

مجید امجد

منٹو

میں نے اس کو دیکھا ہے

اجلی اجلی سڑکوں پر اک گرد بھری حیرانی میں

پھیلتی بھیڑ کے اوندھے اوندھے کٹوروں کی طغیانی میں

جب وہ خالی بوتل پھینک کے کہتا ہے:

’’دنیا! تیرا حسن یہی بدصورتی ہے‘‘

دنیا اس کو گھورتی ہے

شورِ سلاسل بن کر گونجنے لگتا ہے

انگاروں بھری آنکھوں میں یہ تند سوال

کون ہے یہ جس نے اپنی بہکی بہکی سانسوں کا جال

بامِ زماں پر پھینکا ہے؟

کون ہے جو بل کھاتے ضمیروں کے پُرپیچ دھندلکوں میں

روحوں کے عفریت کدوں کے زہراندوز محلکوں میں

لے آیا ہے، یوں بن پوچھے، اپنے آپ

عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروں کی چاپ؟

کون ہے یہ گستاخ؟

تاخ، تڑاخ!

مجید امجد

سنہری زلفوں کے مست سائے

نہ پھر وہ ٹھنڈی ہوائیں لوٹیں

نہ پھر وہ بادل پلٹ کے آئے

نہ پھر کبھی شام کے نم آلود شعلہ زاروں پہ لڑکھڑائے

سنہری زلفوں کے مست سائے

سنہری زلفیں، جو اڑ کے لہرا کے اک شفق گوں محل کی چھت سے

گزر چلی تھیں گزرتے جھونکوں کی سلطنت سے

جھکیں مری سمت بھی گھٹاؤں کی تمکنت سے

کنارِ دل سے حدِ افق تک، تمام بادل، گھنیرے بادل

شراب کی مستیوں کے جھونکے، گلاب کی پنکھڑیوں کے آنچل

خیال رم جھم، نگاہ جل تھل

پھر ایک اجڑے ہوئے تبسم کے ساتھ ہر سو

تلاش میں ہے گلوں کی خوشبو

کبھی پسِ در، کبھی سرِ کُو

مگر وہ بادل؟

مگر وہ گیسو؟

مجید امجد

درسِ ایام

سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی

تخت و کلاہ و قصر کے سب سلسلے گئے

وہ دست و پا میں گڑتی سلاخوں کے روبرو

صدہا تبسموں سے لدے طاقچے گئے

آنکھوں کو چھیدتے ہوئے نیزوں کے سامنے

محرابِ زر سے اٹھتے ہوئے قہقہے گئے

ہر سانس لیتی کھال کھچی، لاش کے لیے

شہنائیوں سے جھڑتے ہوئے زمزمے گئے

دامن تھے جن کے خون کی چھینٹوں سے گلستاں

وہ اطلس و حریر کے پیکر گئے، گئے

ہر کنجِ باغ ٹوٹے پیالوں کا ڈھیر تھی

سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی

سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر ہے

یہ ہات، جھریوں بھرے، مرجھائے ہات جو

سینوں میں اٹکے تیروں سے رستے لہو کے جام

بھر بھر کے دے رہے ہیں تمہارے غرور کو

یہ ہات، گلبنِ غمِ ہستی کی ٹہنیاں

اے کاش! انھیں بہار کا جھونکا نصیب ہو

ممکن نہیں کہ ان کی گرفتِ تپاں سے تم

تادیر اپنی ساعدِ نازک بچا سکو

تم نے فصیلِ قصر کے رخنوں میں بھر تو لیں

ہم بےکسوں کی ہڈیاں لیکن یہ جان لو

اے وارثانِ طرۂ طرفِ کلاہِ کَے!

سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر ہے

مجید امجد

ارے یقینِ حیات

یہ دور رفتہ تبسم جو میرے ہونٹوں پر

ترے اشارۂ ابرو سے لوٹ آیا ہے

یہ زیست کی سوغات!

سیاہیوں میں گھرے طاق و گنبد و ایواں

کی اوٹ سے یہ ابھرتی ہوئی شعاعوں کے

لپکتے بڑھتے ہات!

جو تیرے باغ کے گجرے کلائیوں میں لیے

سسکتے لمحوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں

بڑے غرور کے سات!

یہ ایک نقشِ کفِ پا، بہ سطحِ ریگِ رواں

ترے حریمِ فروزاں سے ایک اور چراغ

بہ سینۂ ظلمات!

خروشِ شام و سحر میں کشید ہوتی ہوئی

شرابِ غم کا یہ اک جام جس میں اتری ہے

تجلیوں کی برات!

یہ ایک جرعۂ زہراب جس میں غلطاں ہیں

تری نگاہ کا رس، تیرے عارضوں کے گلاب

ترے لبوں کی نبات!

اسی اسی ترے پیمانۂ نشاط کے دور

یونہی یونہی ذرا کچھ اور، اے یقینِ حیات

ارے یقینِ حیات!

مجید امجد

کانٹے کلیاں

تم سے تو یہ ڈسنے والے کانٹے اچھے، ہنستے پھولو!

چنچل کانٹے، لانبی دوب کی ٹھنڈی چھاؤں کے متوالے

اپنی جلتی جلتی زباں سے چاٹ چاٹ کے دکھتے چھالے

ہر راہی کا دامن تھام کے کہتے ہیں

’’او جانے والے!

چلتے چلتے، جب تم اک دن پھاند کے یہ گم سم ویرانہ

دور، کسی وادی کے کنارے، کھول کے اپنے دل کا خزانہ

ڈرتے ڈرتے چھیڑو کوئی دھیما دھیما مست ترانہ

ہم نے ہی یہ بِس میں گھول کے رس بخشا تھا، بھول نہ جانا‘‘

تم سے تو یہ ڈسنے والے کانٹے اچھے، ہنستے پھولو!

ظالم پھولو! کتنے پیاسے خوابوں کے بیتاب ہیولے

کتنی زندگیوں کے بگولے، تمہاری خوشبوؤں کے جھولے

میں دو گھومتے لمحوں کے لب چوم کے اپنا رستہ بھولے

تم سے تو یہ کانٹے اچھے—

مجید امجد

نژادِ نو

برہنہ سر ہیں، برہنہ تن ہیں، برہنہ پا ہیں

شریر روحیں

ضمیرِ ہستی کی آرزوئیں

چٹکتی کلیاں

کہ جن سے بوڑھی، اداس گلیاں

مہک رہی ہیں

غریب بچے کہ جو شعاعِ سحرگہی ہیں

ہماری قبروں پہ گرتے اشکوں کا سلسلہ ہیں

وہ منزلیں جن کی جھلکیوں کو ہماری راہیں

ترس رہی ہیں

انہی کے قدموں میں بس رہی ہیں

حسین خوابوں

کی دھندلی دنیائیں جو سرابوں

کا روپ دھارے

ہمارے احساس پر شرارے

انڈیلتی ہیں

انہی کی آنکھوں میں کھیلتی ہیں

انہی کے گم سم

اداس چہروں پر جھلملاتے ہوئے تبسم

میں ڈھل گئے ہیں ہمارے آنسو، ہماری آہیں

طویل تاریکیوں میں کھو جائیں گے جب اک دن

ہمارے سائے

اس اپنی دنیا کی لاش اٹھائے

تو سیلِ دوراں

کی کوئی موجِ حیات ساماں

فروغِ فردا

کا رخ پہ ڈالے مہین پردا

اچھل کے شاید

سمیٹ لے زندگی کی سرحد

کے اس کنارے

یہ گھومتے عالموں کے دھارے

یہ سب بجا ہے، بجا ہے، لیکن۔۔۔

یہ توتلی نوخرام روحیں کہ جن کی ہر سانس انگبیں ہے

اگرانہی کونپلوں کی قسمت میں نازِ بالیدگی نہیں ہے

تو بہتی ندیوں

میں آنے والی ہزار صدیوں

کا یہ تلاطم

سکوتِ پیہم کا یہ ترنم

یہ جھونکے جھونکے

میں کھلتے گھونگھٹ نئی رتوں کے

تھکی خلاؤں

میں لاکھ اَن دیکھی کہکشاؤں

کی کاوشِ رم

ہزار ناآفریدہ عالم۔۔۔

تمام باطل

نہ ان کا مقصد نہ ان کا حاصل

اگر انھی کونپلوں کی قسمت میں نازِ بالیدگی نہیں ہے

مجید امجد

دورِ نو؟

زندگانی کا یہ فرسودہ نظام

آنسوؤں کی صبح اور آہوں کی شام

اس نظامِ کہنہ کو بدلے کوئی

سامنے وہ گوشۂ بالائے بام

چند دیواریں، شکستہ، ناتمام

نیچے اک سونی گلی کے موڑ پر

روز اپنے دیدۂ بےنور سے

ایک کھڑکی جھانکتی ہے دور سے

عمر گزری، عمر گزری دیکھتے

اب وہاں چھت پر کوئی آتا نہیں

کوئی سہما سایہ لہراتا نہیں

اب کسی آنچل کا عکسِ بےقرار

چوم کر اونچی منڈیروں کی جبیں

سیڑھیوں میں جا کے گم ہوتا نہیں

کھائے جاتی ہیں یہ دیواریں مجھے

ان فصیلوں میں گھرا ہے چار سو

اک مرا اجڑا سا شہرِ آرزو

کوئی اس دنیا کا بھی بدلے نظام

سینکڑوں خفتہ زمانوں کا خروش

کلبلا اٹھا ہے ہنگامہ بدوش

دوڑتی ہیں زلزلوں کے ساز پر

ایک دورِ نو کی خونیں انگلیاں

پھر بھی میرے اور تیرے درمیاں

کہنہ دیواریں ابھی موجود ہیں

کیوں مری چھوٹی سی دنیائے حزیں

اپنی قسمت کو پلٹ سکتی نہیں؟

کیوں نظر آتی نہیں بالائے بام

اب کسی کی جھینپتی، ہنستی نگاہ

کون بدلے اس مری دنیا کو، آہ!

مجید امجد

اور آج سوچتا ہوں۔۔۔

اور آج سوچتا ہوں کہ کیوں میرا سوزِ دل

تیرے محل کا جشنِ چراغاں نہ بن سکا

تیری وفا سے پردۂ محمل نہ اٹھ سکا

میرا جنوں بھی چاک گریباں نہ بن سکا

آنکھوں میں ممکنات کی طغیانیاں لیے

تو ساحلِ حیات پہ حیراں کھڑی رہی

دور اک تڑپتی ناؤ، افق کے نشیب میں

موجوں کی سیڑھیوں سے اترتی چلی گئی

دورِ زماں کی ایک چمکتی سی موڑ پر

تیرے قدم کی چاپ کا میں منتظر رہا

دور اک حجابِ نور سے چھنتا ہوا سرود

پل بھر ابھر کے کھولتے لمحوں میں گھل گیا

آج اس تمام کاہشِ جاں سوز کا مآل

دکھتی سی اک خراش جبینِ خیال پر

بھولی سی ایک یاد، جو اب بھی کبھی کبھی

پَر تولتی ہے کنگرۂ ماہ و سال پر

دنیا تو اک طلوعِ مسلسل کا نام ہے

لیکن ہماری زیست کی مچلی ہوئی کرن

جب بجھ گئی تو تیرگیِ لازوال ہے

تو شمعِ انجمن ہے نہ میں شمعِ انجمن

یہ غم نہیں کہ قصۂ لیل و نہار میں

ہم اک حسین باب نہ ایزاد کر سکے

افسوس یہ ہے جی تو رہا ہوں ترے بغیر

لیکن یہ سوچ، تیرے لیے کون مر سکے

مجید امجد

ہم سفر

ابھی ابھی سبز کھیتیوں پر

جو دور تک مست آرزوؤں کی موج بن کر لہک رہی ہیں

سیاہ بادل جھکے ہوئے تھے

اور اب، حسیں دھوپ میں نہاتی فضائیں زلفیں چھٹک رہی ہیں

طویل پٹڑی کے ساتھ رقصاں

مہیب پیڑوں کے گونجتے جھنڈ، دراز سایوں سے بچتی راہیں

کہ جن کی موہوم سرحدوں پر

نکل کے گاڑی کی کھڑکیوں سے، تری نگاہیں مری نگاہیں

الگ الگ آ کے تھم گئی ہیں

اور ایک اندازِ بےکسی میں، مآلِ امروز سوچتی ہیں

پلٹ پلٹ کر امڈتے بادل

سمٹ سمٹ کر سرکتے آنچل

عجیب اک لذتِ طرب ہے!

مجید امجد

رودادِ زمانہ

مجھ کو تسلیم ہے یہ بات فسانہ ہی سہی

پھر بھی سوچو تو حقیقت ہے کہ اس دنیا میں

جب سے ویرانۂ ماضی کے اندھیروں میں کہیں

رینگتے اژدروں کی زہر بھری پھنکاریں

نفسِ سینۂ انساں کی خبر لائی ہیں

ہم نے دیکھا ہے یہی کچھ کہ ہر اک دورِ زماں

برف زاروں سے پھسلتی ہوئی صدیوں کا خروش

کھولتے لاوے میں جلتے ہوئے قرنوں کا دھواں

نردبانِ سحر و شام کے ساتھ اٹھتی ہوئی

اس صنم خانۂ ایام کی اک اک تعمیر

کچھ اگر ہے بھی، یہ سب سلسلۂ زیست تو ہے

انھی ناگوں کے خم و پیچِ بدن کی تصویر

کیا وہ شوریدگیِ آب و دخاں کی منزل

کیا یہ حیرت کدۂ لالہ و گل کی سرحد

جابجا وقت کے گنبد میں نظر آتے ہیں

یہی عفریت، خدایانِ جہاں کے اب و جد

زیبِ اورنگ کہیں، زینتِ محراب کہیں

ان کی شعلہ سی زباں ہے کہ ازل سے اب تک

چاٹتی آئی ہے ان کانپتی روحوں کا لہو

جن کے ہونٹوں کی ڈلک، جن کی نگاہوں کی چمک

زہر میں ڈوب کے بھی بجھ نہ سکی، بجھ نہ سکی

ہاں اسی طرح سرِ سطحِ سوادِ ایام!

بارہا جنبشِ یک موج کے ہلکورے میں

بہہ گئے غولِ بیاباں کے گرانڈیل اجسام

بارہا تند ہوائیں چلیں، طوفاں آئے

لیکن اک پھول سے چمٹی ہوئی تتلی نہ گری

کوئی سمجھے تو حقیقت ہے، نہ سمجھے تو یہ بات

اک فسانہ سہی، رودادِ زمانہ نہ سہی

مجید امجد

جہانِ قیصر و جم میں

’’ہے کس طرف، مرے بیٹے! تمہاری عمر دراز

ہمارے دیس کے فرماں روا کی درگہِ ناز‘‘

شعاعِ اوّلِ خورشید کی نگاہِ خموش

فضائے صبح کی دھندلاہٹوں میں ڈوب گئی

مجھے وہ لمحۂ ظلمت فشاں نہیں بھولا

جب ایک پل کے لیے دو جہاں کی تاریکی

مرے ضمیر کی گہرائیوں سے اچھلی اور

ابھر کے راستوں اور منزلوں پہ پھیل گئی

’’معاف رکھنا، بڑی بی! مجھے نہیں معلوم!‘‘

’’کوئی بھی میرا جہاں میں نہیں‘‘

’’ترے مقسوم!‘‘

جہانِ قیصر و جم کی شگفتہ راہوں پر

ضعیف قدموں کے جلتے نشاں بکھرتے گئے

غبارِ راہ کی پیشانیوں سے مٹتے ہوئے

مرے شعور کے الواح پر ابھرتے گئے

ہزار لٹتے ہوئے خرمنوں کے نظّارے

نظر کے سامنے آتے گئے، گزرتے گئے

’’یہاں کہیں بھی مداوائے اضطراب نہیں

کہاں ہو، لوٹ بھی آؤ‘‘

کوئی جواب نہیں!

کسی کے ہانپتے ارماں جنھیں جگہ نہ ملی

نظامِ زر کے چمکتے ہوئے قرینوں میں

اب ایک دوزخِ احساس بن کے کھولتے ہیں

مرے تڑپتے ارادوں کے آبگینوں میں

پڑا رہے گا یونہی کب تک اے خسِ پامال

بلند محلوں کے رفعت نورد زینوں میں

عطا ہوا ہے تجھے بھی یہ حق مشیّت سے

خراج مانگ بہاروں کی بادشاہت سے

مجید امجد

راتوں کو۔۔۔

آنکھوں میں کوئی بس جاتا ہے

میٹھی سی ہنسی ہنس جاتا ہے

احساس کی لہریں ان تاریک جزیروں سے ٹکراتی ہیں

جہاں نغمے پنکھ سنوارتے ہیں

سنگین فصیلوں کے گنبد سے پہرےدار پکارتے ہیں:

’’کیا کرتا ہے؟‘‘

دل ڈرتا ہے

دل ڈرتا ہے ان کالی اکیلی راتوں سے دل ڈرتا ہے

ان سونی تنہا راتوں میں

دل ڈوب کے گزری باتوں میں

جب سوچتا ہے، کیا دیکھتا ہے، ہرسمت دھوئیں کا بادل ہے

وادی و بیاباں جل تھل ہے

ذخّار سمندر سوکھے ہیں، پُرہول چٹانیں پگھلی ہیں

دھرتی نے ٹوٹتے تاروں کی جلتی ہوئی لاشیں نگلی ہیں

پہنائے زماں کے سینے پر اک موج انگڑائی لیتی ہے!

اس آب و گِل کی دلدل میں اک چاپ سنائی دیتی ہے

اک تھرکن سی، اک دھڑکن سی، آفاق کی ڈھلوانوں میں کہیں

تانیں جو ہمک کر ملتی ہیں، چل پڑتی ہیں، رکتی ہی نہیں

ان راگنیوں کے بھنور بھنور میں صدہا صدیاں گھوم گئیں

اس قرن آلود مسافت میں لاکھ آبلے پھوٹے، دیپ بجھے

اور آج کسے معلوم، ضمیرِ ہستی کا آہنگِ تپاں

کس دور دیس کے کہروں میں لرزاں لرزاں رقصاں رقصاں

اس سانس کی رو تک پہنچا ہے

اس میرے میز پہ جلتی ہوئی قندیل کی لو تک پہنچا ہے

کون آیا ہے؟ کون آتا ہے؟ کون آئے گا؟

انجانے من کی مورکھتا کو کیا کیا دھیان گزرتا ہے

دل ڈرتا ہے

دل ڈرتا ہے ان کالی اکیلی راتوں سے دل ڈرتا ہے

مجید امجد

جبر و اختیار

دف دفِ طبلک، نفیرِ نے، سرودِ ارغنوں

بہہ رہا ہے ایک نغمہ چار سو نکہت فشاں

خواب گوں ایواں میں، دھندلے قمقموں کے درمیان

نرم سانسوں میں نگاروں کی لپک تھامے ہوئے

ناچتے پیکر ہیں اور آشوبِ صد آہنگِ ساز

کیا مجال اک چاپ بھی ہو گنکڑی سے بےنیاز

دائروں میں مست روحیں، موج موج اور زوج زوج

ہر طرازِ آستیں اک گوشۂ داماں میں گم

شورشِ ارماں کنارِ شورشِ ارماں میں گم

بیتتے لمحوں کی بجھتی مشعلوں سے پھوٹ کر

تیرتی پھرتی ہے حرفِ آرزو کی نغمگی

سرد ہونٹوں پر کبھی، مخمور آنکھوں میں کبھی

کالے کالے بادلوں کے دیس سے آتی ہوئی

رقص کی زنجیر کے سرگم سے ٹکراتی ہوئی

مجید امجد

تیرے دیس میں

مدت کے بعد آج ادھر سے گزر ہوا

تیری گلی کے موڑ پہ رک سا گیا ہوں میں

اک لمحے کے لیے مجھے بیتے ہوئے سمے

لوٹا دیے ہیں سلسلۂ صبح و شام نے

ایک ایک کر کے گزرے ہوئے لاکھ واقعات

پھرنے لگے ہیں میری نگاہوں کے سامنے

تو ہی نہیں ہے بلکہ بڑی مدتوں کے بعد

خود آج اپنے آپ کو یاد آ رہا ہوں میں

اب جانے اس کو کتنے زمانے گزر گئے

اک دن تری نگاہ سے میری نگاہ میں

ٹپکا تو تھا وہ حوصلۂ روزگار سوز

تب میں تھا اور دل کی جوالا دھواں دھواں

زنجیریں تپ گئیں مری لیکن نہ کٹ سکیں

میں جل بجھا اس آگ کے شعلوں کے درمیان

تیرے ارادہ بخش بلاوے کے باوجود

سہما رہا میں قیدگہِ رسم و راہ میں

میں مانتا ہوں میں نے بغاوت ضرور کی

جبرِ زمانہ سے؟ نہیں، تیری نگاہ سے

لائی ہے ایک اَن ہوئی ہونی کی یاد آج

پھر تیری رہ پہ دور بہت تیری راہ سے

مجید امجد

ایک کوہستانی سفر کے دوران میں

تنگ پگڈنڈی سرِ کہسار بل کھاتی ہوئی

نیچے، دونوں سمت، گہرے غار منہ کھولے ہوئے

آگے، ڈھلوانوں کے پار، اک تیز موڑ اور اس جگہ

اک فرشتے کی طرح نورانی پر تولے ہوئے

جھک پڑا ہے آ کے رستے پر کوئی نخلِ بلند

تھام کر جس کو گزر جاتے ہیں آسانی کے ساتھ

موڑ پر سے، ڈگمگاتے رہرووں کے قافلے

ایک بوسیدہ، خمیدہ پیڑ کا کمزور ہاتھ

سینکڑوں گرتے ہوؤں کی دستگیری کا امیں

آہ! ان گردن فرازانِ جہاں کی زندگی

اک جھکی ٹہنی کا منصب بھی جنہیں حاصل نہیں

مجید امجد

امروز

ابد کے سمندر کی اک موج جس پر مری زندگی کا کنول تیرتا ہے

کسی اَن سنی دائمی راگنی کی کوئی تان، آزردہ، آوارہ، برباد

جو دم بھر کو آ کر مری الجھی الجھی سی سانسوں کے سنگیت میں ڈھل گئی ہے

زمانے کی پھیلی ہوئی بےکراں وسعتوں میں یہ دو چار لمحوں کی میعاد

طلوع وغروبِ مہ و مہر کے جاودانی تسلسل کی دو چار کڑیاں

یہ کچھ تھرتھراتے اجالوں کا روماں، یہ کچھ سنسناتے اندھیروں کا قصہ

یہ جو کچھ کہ میرے زمانے میں ہے اور یہ جو کچھ کہ اس کے زمانے میں میں ہوں

یہی میرا حصہ ازل سے ابد کے خزانوں سے ہے، بس یہی میرا حصہ

مجھے کیا خبر، وقت کے دیوتا کی حسیں رتھ کے پہیوں تلے پِس چکے ہیں

مقدر کے کتنے کھلونے، زمانوں کے ہنگامے، صدیوں کے صدہا ہیولے

مجھے کیا تعلق ۔۔۔ میری آخری سانس کے بعد بھی دوشِ گیتی پہ مچلے

مہ و سال کے لازوال آبشارِ رواں کا وہ آنچل جو تاروں کو چھو لے

مگر آہ یہ لمحۂ مختصر جو مری زندگی، میرا زادِ سفر ہے

مرے ساتھ ہے، میرے بس میں ہے، میری ہتھیلی پہ ہے یہ لبالب پیالہ

یہی کچھ ہے لے دے کے میرے لیے اس خراباتِ شام و سحر میں یہی کچھ

یہ اک مہلتِ کاوشِ دردِ ہستی! یہ اک فرصتِ کوششِ آہ و نالہ

یہ صہبائے امروز جو صبح کی شاہزادی کی مست انکھڑیوں سے ٹپک کر

بدورِ حیات آ گئی ہے، یہ ننھی سی چڑیاں جو چھت میں چہکنے لگی ہیں

ہوا کا یہ جھونکا جو میرے دریچے میں تلسی کی ٹہنی کو لرزا گیا ہے

پڑوسن کے آنگن میں، پانی کے نلکے پہ یہ چوڑیاں جو چھنکنے لگی ہیں

یہ دنیائے امروز میری ہے، میرے دلِ زار کی دھڑکنوں کی امیں ہے

یہ اشکوں سے شاداب دو چار صبحیں، یہ آہوں سے معمور دو چار شامیں

انہی چلمنوں سے مجھے دیکھنا ہے وہ جو کچھ کہ نظروں کی زد میں نہیں ہے

مجید امجد

یاد

ایک اجلا سا کانپتا دھبا

ذہن کی سطح پر لڑھکتا ہوا

نقش جس میں کبھی سمٹ آئی

لاکھ یادوں کی مست انگڑائی

داغ جس کی جبینِ غم پہ کبھی

ہو گیا آ کے لرزہ بر اندام

کسی بھولے ہوئے حبیب کا نام

زخم جس کی تپکتی تہہ سے کبھی

رس پڑے، دُکھتے گھونگھٹ الٹا کے

کسی چہرے کے سینکڑوں خاکے

عکس، ان دیکھا عکس تیرتا ہے

آنسوؤں کی روانیوں میں رواں

روح کی شورشوں میں سایہ کناں

ذہن کی سطح پر لڑھکتا ہوا

مجید امجد

ایک پُرنشاط جلوس کے ساتھ

کون ۔۔۔ اس اونچی چھت کی بوسیدہ منڈیروں کے قریب؟

نیچے خلعت پوش بازاروں میں، سیلابِ سرور

ناچتے پاؤں، تھرکتی بانہیں، محوِ نغمہ ہونٹ

میں بھی آ نکلا ہوں اتنی دور سے، دردوں سے چور

صرف اس امید پر شاید کہ گزرے اب کے بھی

تیرے گھر کے سامنے والی سڑک کے پاس سے

اس حسیں تہوارکی رنگینیوں کا کارواں

شاید اب کے پھر بھی، شوقِ دید کے احساس سے

تو بھی آ نکلے سرِ بام ۔۔۔ آہ یہ سودائے خام

جا رہا ہوں زرفشاں پوشاک میں لپٹا ہوا

زرفشاں پوشاک کے نیچے دلِ حسرت نصیب

اک شرر پیراہنِ خاشاک میں لپٹا ہوا

آج کیوں ان ٹھوکروں کی پے بہ پے افتاد میں

اک عجب آسودگی محسوس ہوتی ہے مجھے

کیوں اس انبوہِ رواں کی شورشوں کے درمیان

اک حسیں موجودگی محسوس ہوتی ہے مجھے

پاؤں تو اٹھتے ہیں لیکن آنکھ اٹھ سکتی نہیں

جا رہا ہوں میں نہ جانے کس سے شرماتا ہوا

میں لرز اٹھتا ہوں کس کی ٹکٹکی کے وہم سے؟

میں جھجھک جاتا ہوں کس کے سامنے آتا ہوا؟

کس کا چہرہ ہے کہیں ان گھونگھٹوں کے درمیان۔۔۔

چوڑیوں والی کلائی؟ جھومروں والی جبیں؟

ممٹیوں پر سے پھسلتا ہی نہیں کنکر کوئی

کون ہے موجود؟ جو موجود بھی شاید نہیں

مجید امجد

بارش کے بعد

حسن تہذیب کا آئینۂ خوبی ۔۔۔ بازار

چہرۂ شہر پہ دو شوخ لٹوں کا جادہ

جس کے دورویہ، پرآشوب کمیں گاہوں میں

جسم اور دل کے لذائذ کی صفِ استادہ

راہگیروں کی نگاہوں کو صدا دیتی ہے

مینہ تھما ہے، اور ابھی ہلکی پھہار آتی ہے

کچکچاتے ہوئے کیچڑ کو کچوکے دیتی۔۔۔

کھلکھلاتی ہوئی، قدموں کی قطار آتی ہے

کھیلتے بولتے انبوہ اور آموں کی دکاں!

نہ پپیہے کی، نہ کوئل کی پکار آتی ہے

آم! ہاں جن کی غریب الوطنی کی سوغات

دور سے ریل کے ڈبوں پہ سوار آتی ہے!

آم ہی آم ہیں! اور ان کے سوا کچھ بھی نہیں

امریوں کے نہ وہ جھولے نہ وہ پینگوں کی کمان!

جھیل کے تٹ پہ گھنی چھاؤں میں جو گونجا کی

ناچتی سکھیوں کی بجتی ہوئی پائل کی وہ تان

سینۂ وقت سے پھوٹی ہوئی موجِ الہام

موت کی نیند ہے گیتوں کی کتابوں میں پڑی

اب یہی رہ گئیں انسان کے ماتم کے لیے

ہڈیاں بچھڑے ہوئے آموں کی، چھابوں میں پڑی

لوگ، بن گٹھلیوں کے، پچکے ہوئے، چھلکوں سے

رائیگاں چوستے ہیں آموں کی فصلوں کی شراب

آہ! ساون کا وہ امرت، جو امر رس نہ رہا

پاس ہی تھالوں پہ بجتا ہوا بوندوں کا رباب

نانبائی کی دکاں جس کے چراغوں کی چمک

جلتے پاتال کے دوزخ سے اڑا لائی ہے

سینکڑوں بھوک کے مارے ہوئے پروانوں کو

سرپھرے کیڑے ہیں، بازار کی پہنائی ہے

یہ کتلیوں میں شپاشپ، یہ تووں پر تِڑتِڑ

اور وہ اک تھال میں کچھ پَرجلی چاپیں باقی

یہ’’اٹکتے ہوئے‘‘ لقمے، یہ ’’پھڑکتے ہوئے‘‘ گھونٹ

’’مے کی ہر بوند متاعِ دو جہاں ہے ساقی‘‘

مجید امجد

بن کی چڑیا

صبح سویرے بن کی چڑیا من کی بات بتائے

جنگل میں سرکنڈوں کی کونپل پر بیٹھی گائے

ننھی چونچ پہ چوں چر چوں چر چوں کی چونچل بانی

کرن کرن پر ناچ رہی ہے اس کے من کی کہانی

کیا گاتی ہے؟ کیا کہتی ہے؟ کون اس بھید کو کھولے؟

جانے دور کے کس اَن دیکھے دیس کی بولی بولے؟

کون سنے، ہاں کون سنے، راگ اس کے راگ البیلے

سب کے سب بہرے ہیں، میداں، وادی، دریا، ٹیلے

ظالم تنہائی کا جادو ویرانوں پرکھیلے!

دور سرابوں کی جھلمل روحوں پر آگ انڈیلے!

نوکِ نوکِ خار کھلنڈرے ہرنوں کو کلپائے!

گانے والی چڑیا اپنا راگ الاپے جائے

مجید امجد

ایک نظم

دوست، یہ سب سچ ہے، لیکن زندگی

کاٹنی تو ہے، بسر کرنی تو ہے!

گھات میں ہو منتظر چلّے پہ تیر

ہرنیوں نے چوکڑی بھرنی تو ہے

کاٹ دیں کتنی رتوں کی گردنیں

بھاگتے لمحوں کے چلتے آروں نے

ہاں، یہ سب سچ ہے، پر اس کا کیا علاج

چار دن جینا ہے ہم بےچاروں نے

ہم نے بھی اپنی نحیف آواز کو

شاملِ شورِ جہاں کرنا تو ہے!

زندگی اک گہری، کڑوی، لمبی سانس

دوست، پہلے جی بھی لیں، مرنا تو ہے

موت کتنی تیرہ و تاریک ہے!

ہو گی، لیکن مجھ کو اس کا غم نہیں

قبر کے اندھے گڑھے کے اِس طرف

اس طرف، باہر، اندھیرا کم نہیں

ہاں اسی گم سم اندھیرے میں ابھی

بیٹھ کر وہ راکھ چننی ہے ہمیں

راکھ، ان دنیاؤں کی، جو جل بجھیں

راکھ، جس میں لاکھ خونیں شبنمیں

زیست کی پلکوں سے ٹپ ٹپ پھوٹتی

جانے کب سے جذب ہوتی آئی ہیں

کتنی روحیں ان زمانوں کا خمیر

اپنے اشکوں میں سموتی آئی ہیں

جانتا ہوں، میرے دل کی آگ کو

چند ماہ و سال کے ایندھن کا ڈھیر

دیر تک تابندہ رکھ سکتا نہیں

زیست امکانات کا اک ہیرپھیر

کیا عجب ہے، میرے سینے کا شرر

اک تمنائے بغل گیری کے سات

وقت کے مرگھٹ پہ بانہیں کھول دے

اک نرالی صبح بن جائے یہ رات

مجید امجد

واماندہ

قافلے کتنے پیش و پس گزرے!

میری واماندگی پہ ہنس گزرے!

کتنے تارے چمک چمک ڈوبے

کتنے بادل برس برس گزرے!

سلسلے ہانپتے زمانوں کے

تیزرفتار، دوررس گزرے

کتنی راتیں تڑپ تڑپ کاٹیں!

کس قدردن ترس ترس گزرے

وہ نہ پھر لوٹے، مدتیں بیتیں

انہیں دیکھے ہوئے برس گزرے

اب تو یاد اُن کی دل میں آتی ہے

جیسے بجلی بہ نبضِ خس گزرے

ابدی خامشی کی آندھی میں

جیسے کوئی پرِ مگس گزرے

دور سے راہرو کے کانوں میں

جس طرح نالۂ جرس گزرے

مجید امجد

پنواڑی

بوڑھا پنواڑی، اس کے بالوں میں مانگ ہے نیاری

آنکھوں میں جیون کی بجھتی اگنی کی چنگاری

نام کی اک ہٹّی کے اندر بوسیدہ الماری

آگے پیتل کے تختے پر اس کی دنیا ساری

پان، کتھا، سگرٹ، تمباکو، چونا، لونگ، سپاری

عمر اس بوڑھے پنواڑی کی پان لگاتے گزری

چونا گھولتے، چھالیا کاٹتے، کتھ پگھلاتے گزری

سگرٹ کی خالی ڈبیوں کے محل سجاتے گزری

کتنے شرابی مشتریوں سے نین ملاتے گزری

چند کسیلے پتوں کی گتھی سلجھاتے گزری

کون اس گتھی کو سلجھائے، دنیا ایک پہیلی

دو دن ایک پھٹی چادر میں دکھ کی آندھی جھیلی

دو کڑوی سانسیں لیں، دو چلموں کی راکھ انڈیلی

اور پھر اس کے بعد نہ پوچھو، کھیل جو ہونی کھیلی

پنواڑی کی ارتھی اٹھی، بابا اللہ بیلی

صبح بھجن کی تان منوہر جھنن جھنن لہرائے

ایک چتا کی راکھ ہوا کے جھونکوں میں کھو جائے

شام کو اس کا کمسن بالا بیٹھا پان لگائے

جھن جھن، ٹھن ٹھن چونے والی کٹوری بجتی جائے

ایک پتنگا دیپک پر جل جائے، دوسرا آئے

مجید امجد

چولھا

ڈوریاں جب سے تھرتھرائی ہیں

زیست کی نیم باز پلکوں کی

آگ جلتی ہے تیرے سینے میں

روشنی جھونپڑیوں محلکوں میں

آگ جلتی ہے، زندگی کی آگ!

جس کی لپٹوں پہ ہاتھ سینکتے ہیں

آنسوؤں کی نمی سے ٹھٹھرے راگ!

جس کے زخمی دھوئیں میں چھپ چھپ کر

روح سے روح بات کرتی ہے

دل کے داغوں کی سطحِ سوزاں پر

قہقہوں کی برات اترتی ہے

تو نے دیکھیں وہ ان گنت شامیں

جب ترے آہ بر لب انگارے

ہو گئے بجھ کے سرد راکھ کا ڈھیر

چھڑ گئے دو دلوں کے اکتارے

دو نگاہیں اٹھیں، ملیں، چمکیں

آنے والی سحر کی دھندلی آس

دو تڑپتے دلوں میں تیر گئی

اوندھی ہنڈیا، خنک توے کے پاس

مجید امجد

دور کے پیڑ

آج آخر میں نے دل میں ٹھان لی

آج ان کے پاس جاؤں گا ضرور!

پار ان پھیلی چراگاہوں کے پار

ہانپتی پگڈنڈیوں سے دور۔۔۔ دور

اس طرف سے ایک عمر آیا کیے

میرے نام ان کے بلاوے روز و شب

دل کو سندیسے، نگہ کو دعوتیں

شوق میں ڈوبے ہوئے پیغام سب

بارہا اٹھی مری حیراں نظر

صجدم ان کے ٹھکانوں کی طرف

بارہا دل نے یہ چپکے سے کہا

وہ کھڑے ہیں تیرے ارماں، صف بہ صف!

بارہا جب ان کے محلوں کے کلس

جگمگا اٹھے فروغِ شام سے

میں نے دیکھی دور سے اٹھتی ہوئی

تودۂ خاکسترِ ایام سے

زندگی کے بےنشاں خوابوں کی دھند

منزلیں جن تک کوئی رستہ نہیں

آرزوؤں کی سنہری بستیاں

بستیاں، جن میں کوئی بستا نہیں

کر رہے ہیں روز و شب اک عمر سے

میری شرمیلی تمناؤں سے چھیڑ

دور، جھکتے آسماں کی اوٹ میں

ٹیکری پر لہلہانے والے پیڑ

آج آخر میں نے دل میں ٹھان لی

آج جا پہنچا میں، جا پہنچا وہاں

خستہ دل پیڑوں کی اک سونی قطار

خشک شاخیں، کھڑکھڑاتی ٹہنیاں

بےکفن لاشوں کی طرح آویختہ

اپنی جھولی میں لیے پہنائے دشت

برگ و بر کی لاکھ پشتوں کے مزار

ان میں جھونکوں کی صدائے بازگشت

جس طرح مردے کریں سرگوشیاں

دیکھتا ہوں اور یقیں آتا نہیں

آج ان ویرانیوں کا میرے نام

کوئی پیغامِ حسیں آتا نہیں

کوئی محمل، کوئی گردِ کارواں

کوئی آوازِ جرس، کچھ بھی نہیں

آرزوؤں کے سمن زاروں میں آج

رنگ، بو، چھب، روپ، رس، کچھ بھی نہیں

ریتلے ٹیلوں کی ڈھلوانوں کے پار

وہ رہا میرا نشیمن، دور اُدھر

کھیلتا ہے جس کے بام و در کے ساتھ

ٹیکری سے دور اِدھر، اک نور اُدھر

نور۔۔۔ اِک رنگیں دھوئیں کی طرح نور

روشنی۔۔۔ اِک گل بداماں روشنی

میں تجھے ڈھونڈوں کہاں، ڈھونڈوں کہاں

میری نظروں سے گریزاں روشنی!

مجید امجد

دل دریا سمندروں ڈونگھے

اتنی آنکھیں، اتنے ماتھے، اتنے ہونٹ

چشمکیں، تیور، تبسم، قہقہے

اس قدر غماز، اتنے ترجماں

اور پھر بھی لاکھ پیغام اَن کہے

لاکھ اشارے جو ہیں اَن بوجھے ابھی

لاکھ باتیں جو ہیں گویائی سے دور

دور، دل کے کنج ناموجود میں

روز و شب موجود، پیچاں، ناصبور!

کون اندھیری گھاٹیوں کو پھاند کر

جائے ان پرشور سناٹوں کے پار

گونجتے ہیں لاکھ سندیسے جہاں

کان سن سکتے نہیں جن کی پکار!

یہ جبینوں پر لکیریں موج موج!

کتنے افسانوں کی ژولیدہ سطور

انکھڑیوں میں ترمراتی ڈوریاں

کتنے قصوں کی زبانِ بےشعور

جامِ لب کی کھنکھناہٹ میں نہاں

کتنے مےخانوں کا شورِ بےخروش

اک تبسم، اک تکلم، اک نگاہ

کتنے احساسات کی صوتِ خموش!

کون الٹ سکتا ہے یہ بوجھل نقاب

پردہ در پردہ، حجاب اندر حجاب

اس طرف میں گوش بر آواز ہوں

اس طرف ہر ذرّہ اک بجتا رباب

کس کو طاقت؟ کس کو یارا؟ کس کو تاب؟

کون ان بیاکل صداؤں کو سنے

اور ضمیرِ ہر صدا میں ڈوب کر

کون دل کے باغ کی کلیاں چنے!

کاش میں اتنا سمجھ سکتا کبھی

جب کوئی کرتا ہے مجھ سے ہنس کے بات

کیا یہ ہو سکتا ہے وقتِ گفتگو

اس کا دل بھی ہنستا ہو ہونٹوں کے سات

مجھ خرابِ آرزو کے حال پر

پھوٹ پڑتی ہے کسی کی آنکھ جب

مجھ کو ڈس جاتا ہے یہ چبھتا خیال

اس کا دل مجھ پر نہ ہو خندہ بلب!

کیا یہ سب سچ ہے جو کہتے ہیں یہ ہونٹ

ہونٹ، دھبے روح کے قرطاس پر

ہونٹ، قصرِ دل کے دروازے پہ قفل

ہونٹ، مہریں نامۂ احساس پر

اور ان آنکھوں پہ کس کو اعتبار؟

آنکھیں پردے روزنِ ادراک کے

کس طرح سمجھیں رموزِ زیست کو

آئنے پر دو کھلونے خاک کے!

کس طرح مانوں کہ یہ سب سچ ہے سچ

مجھ سے جو کہتے ہیں اس دنیا کے لوگ

چھو سکا ہے ان کے سینوں کو کبھی!

میرے دل کا درد، میرے من کا روگ

مجید امجد

کلبہ و ایواں

گھاس کی گٹھڑی کے نیچے وہ روشن روشن چہرہ

روپ جو شاہی ایوانوں کے پھولوں کو شرمائے

راہگزر پر سوکھے پتے چننے والی بانہیں

بانہیں جن کو دیکھ کے موجِ کوثر بل کھا جائے

بیلوں کے جھگڑوں کے پیچھے چلتے زخمی پاؤں

پاؤں جن کی آہٹ سوئی تقدیروں کو جگائے

بھیک کے اک ٹکڑے کو ترستی کھوئی کھوئی آنکھیں

پلکیں جن کے نیچے لاکھوں دنیاؤں کے سائے

یہ زخمی روحیں، یہ دکھتے دل، یہ جلتے سینے

کوئی انہیں سمجھائے جا کر، کوئی انہیں بتلائے

تم اچھے ہو ان ہونٹوں سے جن کی خونیں سرخی

محلوں کے سینوں کے اندر آگ لگاتی جائے

تم اچھے ہو ان زلفوں سے جن کی ظالم خوشبو

پھولوں کی وادی میں ناگن بن کر ڈسنے آئے

تم خوش قسمت ہو ان آنکھوں سے جن کی تنویریں

سونے چاندی کے ایوانوں میں مرگھٹ کے سائے

وہ چھپر اچھے جن میں ہوں دل سے دل کی باتیں

ان بنگلوں سے جن میں بسیں گونگے دن، بہری راتیں

مجید امجد

طلوع فرض

سحر کے وقت دفتر کو رواں ہوں

رواں ہوں، ہمرہِ صد کارواں ہوں

سرِ بازار انسانوں کا انبوہ

کسی دستِ گل اندوزِ حنا میں

زمانے کی حسیں رتھ کی لگامیں

کسی کف پر خراشِ خارِ محنت

عدم کے راستے پر آنکھ میچے

کوئی آگے رواں ہے کوئی پیچھے

سڑک کے موڑ پر نالی میں پانی

تڑپتا تلملاتا جا رہا ہے

زدِ جاروب کھاتا جا رہا ہے

وہی مجبوریِ افتادِ مقصد

جو اس کی کاہشِ رفتار میں ہے

مرے ہر گامِ ناہموار میں ہے

کوئی خاموش پنچھی اپنے دل میں

امیدوں کے سنہرے جال بن کے

اڑا جاتا ہے چگنے دانے دنکے

فضائے زندگی کی آندھیوں سے

ہے ہر اک کو بچشمِ تر گزرنا

مجھے چل کر، اسے اڑ کر گزرنا

وہ اک اندھی بھکارن لڑکھڑائی

کہ چوراہے کے کھمبے کو پکڑ لے

صدا سے راہگیروں کو جکڑ لے

یہ پھیلا پھیلا، میلا میلا دامن

یہ کاسہ، یہ گلوئے شورانگیز

میرا دفتر، میری مسلیں، میرا میز

ابھی کمسن ہے اس کو کیا پڑی ہے

جسے جزداں بھی اک بارِ گراں ہے

وہ بچہ بھی سوئے مکتب رواں ہے

شریکِ کاروانِ زندگانی!

یہ کیا ہے مالکِ زندانِ تقدیر!

جوان و پیر کے پاؤں میں زنجیر!

شبِ رفتہ کی یادوں کو بھلانے

دکاں پر پان کھانے آ گئی ہے

جہاں کا منہ چڑانے آ گئی ہے

ہے اس میں مجھ میں کتنا فرق! لیکن

وہی اک فکر اس کو بھی، مجھے بھی

کہ آنے والی شب کیسے کٹے گی!

چمکتی کار فراٹے سے گزری

غبارِ رہ نے کروٹ بدلی، جاگا

اٹھا، اِک دو قدم تک ساتھ بھاگا

پیاپے ٹھوکروں کا یہ تسلسل

یہی پرواز بھی، افتادگی بھی

متاعِ زیست اس کی بھی، مری بھی

گلستاں میں کہیں بھونرے نے چوسا

گلوں کا رس، شرابوں سا نشیلا

کہیں پر گھونٹ اک کڑوا کسیلا

کسی سڑتے ہوئے جوہڑ کے اندر

پڑا اک رینگتے کیڑے کو پینا

مگر مقصد وہی دو سانس جینا

وہ نکلا پھوٹ کر نورِ سحر سے

نظامِ زیست کا دریائے خونناب

پسینوں، آنسوؤں کا ایک سیلاب

کہ جس کی رو میں بہتا جا رہا ہے

گداگر کا کدو بھی، جامِ جم بھی

کلھاڑی بھی، درانتی بھی، قلم بھی!

سحر کے وقت دفتر کو رواں ہوں

رواں ہوں ہمرہِ صد کارواں ہوں

مجید امجد

گاڑی میں

یہ بےکراں فضائیں جہاں اپنے چہرے سے

پردہ الٹ دیا ہے نمودِ حیات نے

شاداب مرغزار کہ دیکھی ہے جس جگہ

اپنے نمو کی آخری حد، ڈال پات نے

گنجان جھنڈ جن کے تلے کہنہ سال دھوپ

آئی کبھی نہ سوت شعاؤں کا کاتنے

پیڑوں کے شاخچوں پہ چہکتے ہوئے طیور

تاکا جنھیں کبھی نہ شکاری کی گھات نے

تم کتنے خوش نصیب ہو آزاد جنگلو!

اب تک تمہیں چھوا نہیں انساں کے ہات نے

اب تک تمہاری صبح کو دھندلا نہیں کیا

تہذیب کے نظام کی تاریک رات نے

پھینکی نہیں تمہارے مقامِ بلند پر

کوئی کمند سلسلۂ حادثات نے

اچھے ہو تم کہ تم کو پریشاں نہیں کیا

انسانیت کے دل کی کسی واردات نے

اے وائے اس حسین بیاباں کو کس طرح

نیندوں سے بھر دیا ہے نسیمِ حیات نے

ان وسعتوں میں کلبہ و ایواں کوئی نہیں

ان کنکروں میں بندہ و سلطاں کوئی نہیں

مجید امجد

پھر کیا ہو؟

آسماں بھی نہ ہو زمیں بھی نہ ہو

دشت و دریا نہ کوہ و صحرا ہو

دن ہو بےنور، رات بےظلمت

ماہ کافور، مہرعنقا ہو

بےنشاں بےکراں فضاؤں میں

کوئی تارا نہ جھلملاتا ہو

نہ ازل ہو نہ ہو ابد کوئی

کوئی جلوہ نہ کوئی پردا ہو

نہ کہیں بھی نشانِ ہستی ہو

نہ کہیں بھی گمانِ دنیا ہو

موت ناپید، زندگی معدوم

نہ حقیقت ہو اور نہ دھوکا ہو

کہیں نقشِ وجود تک نہ رہے

کہیں اک سانس تک نہ آتا ہو

یہ جہاں بھی نہ ہو، خدا بھی نہ ہو

کہیں اک ذرّہ تک نہ اڑتا ہو

سوچتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں

یہاں کچھ بھی نہ ہو تو پھر کیا ہو؟

مجید امجد

دستک

کس نے دروازہ کھٹکھٹایا ہے؟

جا کے دیکھوں تو، کون آیا ہے؟

کون آیا ہے میرے دوارے پر

رات آئی کہاں بچارے پر!

میرے چھپر سے ٹیک کر کاندھا

کون استادہ ہے تھکا ماندہ؟

میری کٹیا میں آؤ، سستا لو

یہ مرا ساغرِ شکستہ لو!

میری چھاگل سے گھونٹ پانی پیو

اک نئے عزم کی جوانی پیو

ٹمٹماتے دیے کی جھلمل میں

جوت سلگا لو اِک نئی دل میں

یہ مرے آنسوؤں کی شبنم لو

پاؤں کے آبلوں کی مرہم لو

یہ مجھے افتخار دو، بیٹھو

سر سے گٹھڑی اتار دو، بیٹھو

میرے زانو پر اپنا سر رکھ کر

طاق پر کاہشِ سفر رکھ کر

نیند کی انجمن میں کھو جاؤ

منزلوں کے سپن میں کھو جاؤ

خواب، وادی و کوہسار کے خواب

دشت و دریا و آبشار کے خواب

خواب اندھیری طویل راہوں کے

کنجِ صحرا کی خیمہ گاہوں کے

جہاں اک شمع ابھی فروزاں ہے

جہاں اک دل تپاں ہے، سوزاں ہے

تم لپٹ جاؤ ان خیالوں سے

اور میں کھیلوں تمہارے بالوں سے

صبح جب نور کا فسوں برسے

سونی پگڈنڈیوں پہ خوں برسے

باگ تھامے حسیں ارادوں کی

تم خبر لو پھر اپنے جادوں کی

جب تلک زیست کا سفینہ بہے

اجنبی اجنبی کو یاد رہے

مجھ کو یہ اپنی یاد دے جاؤ

آؤ بھی، کیوں جھجھکتے ہو، آؤ

تم کہاں ہو؟ کہاں؟ جواب تو دو

او مرے میہماں! جواب تو دو

تم نے دروازہ کھٹکھٹایا تھا!

کس کی دستک تھی؟ کون آیا تھا؟

نیم شب، قافلے ستاروں کے

تیز ہرکارے اَبرپاروں کے

کس نے نیندوں کو میری ٹوکا تھا؟

کوئی جھونکا تھا؟ کوئی دھوکا تھا؟

مجید امجد

ساتھی

پھول کی خوشبو ہنستی آئی

میرے بسیرے کو مہکانے

میں خوشبو میں، خوشبو مجھ میں

اس کو میں جانوں، مجھ کو وہ جانے

مجھ سے چھو کر، مجھ میں بس کر

اس کی بہاریں، اس کے زمانے

لاکھوں پھولوں کی مہکاریں

رکھتے ہیں گلشن ویرانے

مجھ سے الگ ہیں، مجھ سے جدا ہیں

میں بیگانہ، وہ بیگانے

ان کو بکھیرا، ان کو اڑایا

دستِ خزاں نے، موجِ صبا نے

بھولا بھٹکا، ناداں قطرہ

آنکھوں کی پتلی کو سجانے

آنسو بن کر دوڑا آیا

میری پلکیں اس کے ٹھکانے

اس کا تھرکنا، اس کا تڑپنا

میرے قصے، میرے فسانے

اس کی ہستی میری ہستی

اس کے موتی میرے خزانے

باقی سارے گوہرپارے

خاک کے ذرّے، ریت کے دانے

پربت کی اونچی چوٹی سے

دامن پھیلایا جو گھٹا نے

ٹھنڈی ہوا کے ٹھنڈے جھونکے

بےخود، آوارہ، مستانے

اپنی ٹھنڈک لے کر آئے

میری آگ میں گھل مل جانے

ان کی ہستی کا پیراہن

میری سانس کے تانے بانے

ان کے جھکولے، میری امنگیں

ان کی نوائیں، میرے ترانے

باقی سارے طوفانوں کو

جذب کیا پہنائے فضا نے

فطرت کی یہ گوناگونی

گلشن، بن، وادی، ویرانے

کانٹے، کلیاں، نور، اندھیرا

انجمنیں، شمعیں، پروانے

لاکھوں شاطر، لاکھوں مہرے

پھیلے ہیں شطرنج کے خانے

جانتا ہوں میں یہ سب کیا ہیں

صہبا سے خالی پیمانے

بھوکی مٹی کو سونپے ہیں

دنیا نے اپنے نذرانے

جس نے میرا دامن تھاما

آیا جو مجھ میں بس جانے

میرے طوفانوں میں بہنے

میری موجوں میں لہرانے

میرے سوزِ دل کی لو سے

اپنے من کی جوت جگانے

زیست کی پہنائی میں پھیلے

موت کی گیرائی کو نہ جانے

اس کا بربط میرے نغمے

اس کے گیسو میرے شانے

میری نظریں اس کی دنیا

میری سانسیں اس کے زمانے

مجید امجد

۱۹۴۲ کا ایک جنگی پوسٹر

اک محافظ ستارے نے کل شام

کرۂ ارض کو خبر دی ہے

ملکِ مریخ کے لٹیروں نے

وادیٔ مہ تباہ کر دی ہے

جادۂ کہکشاں کے دونوں طرف

گھاٹی گھاٹی لہو سے بھر دی ہے

آندھیوں نے انہیں خرام دیا

بجلیوں نے انہیں نظر دی ہے

ڈوبتا سورج ان کا مغفر ہے

شفقِ سرخ ان کی وردی ہے

آج انہوں نے نظامِ عالم کو

دعوتِ آتش و شرر دی ہے

آن پہنچی ہے امتحاں کی گھڑی

خاکیو! وقتِ پائےمردی ہے

یہ تمھی نے ہی ماہ و پرویں کو

اپنی تابانیِ نظر دی ہے

یہ تمھی نے ہی بزمِ انجم کو

تابشِ سلکِ صد گہر دی ہے

یہ تمھی نے متاعِ نور اپنی

مشتری کو بھی مشت بھر دی ہے

بارہا وقت کے اندھیرے کو

تم نے رنگینیِ سحر دی ہے

جن مقامات کی خبر ہی نہیں

ان مقامات کی خبر دی ہے

تم وہ منزل ہو جس کے جلووں نے

منزلوں کو رہِ سفر دی ہے

سینکڑوں ناشگفتہ پھولوں کی بو

تم نے اس گلستاں میں بھر دی ہے

سینکڑوں ہستیوں کو صبحِ نمود

اپنی ہستی میں ڈوب کر دی ہے

سرمۂ چشمِ صد جہاں کے لیے

اپنے ایواں کی خاکِ در دی ہے

کون بتلائے تم نے اپنی شراب

میکدے میں کدھر کدھر دی ہے

آج تقدیرِ زندگی نے صدا

پھر تمہیں نوبتِ دگر دی ہے

چشم بر راہ روحِ عالم ہے

منتظر چرخِ لاجوردی ہے

کہو کس چیز کی کمی ہے تمہیں

دل دیا ہے تمہیں، نظر دی ہے

زندگانی کے قافلوں کے لیے

تم کو آوازِ راہبر دی ہے

آب اور گِل کے اِک کھلونے کو

شانِ دارائیِ بشر دی ہے

پھاند جاؤ حدیں زمانوں کی

تھام لو باگ آسمانوں کی

مجید امجد

راہگیر

کوئی تو مجھ کو بتائے یہ راہگیر ہے کون

حسین انکھڑیوں میں حسنِ شش جہات لیے

دمِ سحر ہے سرِ رہگزار محوِ سفر

سیاہ گیسوؤں میں بےکسی کی رات لیے

چلی ہے کون سی دنیائے بےنشاں کی طرف

ہزار گردشِ افلاک سات سات لیے

جبینِ ناز پہ دردِ مسافری کا ہجوم

پلک پلک پہ غبارِ رہِ حیات لیے

اداس چہرے پہ اک التجا کی گویائی

خموش لب پہ کوئی بےصدا سی بات لیے

خزاں کی سلطنتوں میں ہے ایک پھول رواں

ہر ایک خار سے امیدِ التفات لیے

لگی ہے اس کو لگن جانے کس ٹھکانے کی

بھٹک گئی نہ ہو ٹھوکر کوئی زمانے کی

مجید امجد

جینے والے

کیا خبر صبح کے ستارے کو

ہے اسے فرصتِ نظر کتنی

پھیلتی خوشبوؤں کو کیا معلوم

ہے انہیں مہلتِ سفرکتنی

برقِ بےتاب کو خبر نہ ہوئی

کہ ہے عمرِ دمِ شرر کتنی

کبھی سوچا نہ پینے والے نے

جام میں مے تو ہے مگر کتنی

دیکھ سکتی نہیں مآلِ بہار

گرچہ نرگس ہے دیدہ ور کتنی

جانے کیا زندگی کی جاگتی آنکھ

ہو گئی اس کی شب بسر کتنی

شمعِ خود سوز کو پتہ نہ چلا

دور ہے منزلِ سحر کتنی

مسکراتی کلی کو اس سے غرض

کہ ہے عمر اس کی مختصر کتنی

جینے والوں کو کام جینے سے

زندگی کا نظام جینے سے

مجید امجد

سوکھا تنہا پتّا

اس بیری کی اونچی چوٹی پر وہ سوکھا تنہا پتّا!

جس کی ہستی کا بیری ہے پت جھڑ کی رت کا ہر جھونکا

کاش مری یہ قسمت ہوتی، کاش میں وہ اک پتّا ہوتا

ٹوٹ کے جھٹ اس ٹہنی سے گر پڑتا، کتنا اچھا ہوتا

گر پڑتا، اس بیری والے گھر کے آنگن میں گر پڑتا

یوں ان پازیبوں والے پاؤں کے دامن میں گر پڑتا

جس کو میرے آنسو پوجیں، اس گھر کے خاشاک میں مل کر

جس کو میرے سجدے ترسیں، اس دوارے کی خاک میں مل کر

اس آنگن کی دھول میں مل کر مٹتا مٹتا مٹ جاتا میں

عمر بھر ان قدموں کو اپنے سینے پر مضطر پاتا میں

ہائے! مجھ سے نہ دیکھا جائے، آیا ہوا کا جھونکا آیا

ڈالیاں لرزیں، ٹہنیاں کانپیں، لو، وہ سوکھا پتّا ٹوٹا

مجید امجد

کنواں

کنواں چل رہا ہے، مگر کھیت سوکھے پڑے ہیں، نہ فصلیں، نہ خرمن، نہ دانہ

نہ شاخوں کی باہیں، نہ پھولوں کے مکھڑے، نہ کلیوں کے ماتھے، نہ رُت کی جوانی

گزرتا ہے کیاروں کے پیاسے کناروں کو یوں چیرتا تیز، خوں رنگ پانی

کہ جس طرح زخموں کی دکھتی تپکتی تہوں میں کسی نیشتر کی روانی

ادھر دھیری دھیری

کنوئیں کی نفیری

ہے چھیڑے چلی جا رہی اک ترانہ

پراسرار گانا

جسے سن کے رقصاں ہے اندھے تھکے ہارے بےجان بیلوں کا جوڑا بچارا

گراں بار زنجیریں، بھاری سلاسل، کڑکتے ہوئے آتشیں تازیانے

طویل اور لامنتہی راستے پر بچھا رکھے ہیں دام اپنے قضا نے

اِدھر وہ مصیبت کے ساتھی ملائے ہوئے سینگوں سے سینگ، شانوں سے شانے

رواں ہیں نہ جانے

کدھر؟ کس ٹھکانے؟

نہ رکنے کی تاب اور نہ چلنے کا یارا

مقدر نیارا

کنوئیں والا گادی پہ لیٹا ہے مست اپنی بنسی کی میٹھی سریلی صدا میں

کہیں کھیت سوکھا پڑا رہ گیا اور نہ اس تک کبھی آئی پانی کی باری

کہیں بہہ گئی ایک ہی تند ریلے کی فیاض لہروں میں کیاری کی کیاری

کہیں ہو گئیں دھول میں دھول لاکھوں رنگارنگ فصلیں، ثمردار ساری

پریشاں پریشاں

گریزاں گریزاں

تڑپتی ہیں خوشبوئیں دامِ ہوا میں

نظامِ فنا میں

اور اک نغمۂ سرمدی کان میں آ رہا ہے، مسلسل کنواں چل رہا ہے

پیاپے مگر نرم رو اس کی رفتار، پیہم مگر بےتکان اس کی گردش

عدم سے ازل تک، ازل سے ابد تک، بدلتی نہیں ایک آن اس کی گردش

نہ جانے لیے اپنے دولاب کی آستینوں میں کتنے جہان اس کی گردش

رواں ہے رواں ہے

تپاں ہے تپاں ہے

یہ چکر یونہی جاوداں چل رہا ہے

کنواں چل رہا ہے

مجید امجد

سیرِ سرما

پوہ کی سردیوں کی رعنائی

آخرِ شب کی سرد تنہائی

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا، خدا کی پناہ

دھند میں گم فضا، خدا کی پناہ

ذرّے ذرّے پہ، پات پات پہ برف

ہر کہیں سطحِ کائنات پہ برف

اس قدر ہے خنک ہوائے صبوح

منجمد ہے رگوں میں موجۂ روح

کون کہتا ہے دل ہے سینے میں

برف کی ایک سل ہے سینے میں

پھر بھی آنکھوں کے سرد جاموں میں

پھر بھی پلکوں کے ٹھٹھرے داموں میں

گرم گرم اشک اضطراب میں ہیں

میری مانند پیچ و تاب میں ہیں

ہوں رواں آتشیں خیالوں میں گم

’’آہ تم!

کتنے سردمہر

ہو۔۔۔۔تم!‘‘

مجید امجد

خودکشی

ہاں میں نے بھی سنا ہے تمہارے پڑوس میں

کل رات ایک حادثۂ قتل ہو گیا

ہاں میں نے بھی سنا ہے کہ اک جام زہر کا

دو جیونوں کی ننھی سی نوکا ڈبو گیا

کوئی دکھی جوان وطن اپنا چھوڑ کر

اپنی سکھی کے ساتھ اک اور دیس کو گیا

دنیا کے خارزار میں سو ٹھوکروں کے بعد

یوں آخر ان کا قصۂ غم ختم ہو گیا

یوں طے کیا انہوں نے محبت کا مرحلہ

ایک ایک گھونٹ اور جو ہونا تھا ہو گیا

دونوں کی آنکھ میں تھا اک اک اشک منجمد

جو خشک خشک پلکوں کی نوکیں بھگو گیا

کچھ کہنے پائی تھی کہ وہ خاموش ہو گئی

کوئی جواب دینے کو تھا وہ کہ سو گیا

پیمانۂ اجل کا وہ تلخابہ اس طرح

روحوں کے زخموں، سینوں کے داغوں کو دھو گیا

اکثر یونہی ہوا ہے کہ الفت کا امتحاں

دشواریوں میں موت کی آسان ہو گیا

آؤ نا! ہم بھی توڑ دیں اس دامِ زیست کو

سنگِ اجل پہ پھوڑ دیں اس جامِ زیست کو

مجید امجد

دنیا

جہاں کی حقیقت کی کس کو خبر ہے

فریبِ نظر تھی، فریبِ نظر ہے

یہی پھول کی زیست کا ماحصل ہے

کہ اس کا تبسم ہی اس کی اجل ہے

نہ سمجھو کہ چشمِ حسیں سرمگیں ہے

نہیں، قبر کی تیرگی کی امیں ہے

یہ کیا کہہ رہے ہو کہ ندی رواں ہے

سمندر سے پوچھو، کہاں تھی، کہاں ہے

نہ سمجھو کہ ہے کیف پرور یہ نغمہ

شکن ہے ہوا کی جبیں پر یہ نغمہ

کہاں دھڑکنیں ہیں دلِ زار کی یہ

صدائیں ہیں اک ٹوٹتے تار کی یہ

یہ ہستی کا دریا بہا جا رہا ہے

ہم آہنگ سیلِ فنا جا رہا ہے

پھنسے کچھ انوکھے قرینوں میں ہیں ہم

حبابوں کے نازک سفینوں میں ہیں ہم

یہ کیا ہے، یہ کیوں ہے، خبر کیا، خبر کیا

مرے تیرہ ادراک کی ہو سحر کیا!

مری بزمِ دل میں نہیں روشنی کیوں؟

ہے بےصید میری نگہ کی انی کیوں؟

یہ دنیا ہے میری کہ مرقد ہے میرا؟

یہاں بھی اندھیرا، وہاں بھی اندھیرا

مجید امجد

رخصت

تھک گئیں آنکھیں، امیدیں سو گئیں، دل مر گیا

زندگی! عزمِ سفر کر، موت! کب آئے گی تو؟

آنسوؤ! آنکھوں میں اب آنے سے شرماتے ہو کیوں؟

تھی تمہی سے میرے داغِ آرزو کی آبرو!

اے کسی کے آستاں کو جانے والے راستے!

بخش دینا! میرا پائے شوق تھا سیماب خو

یہ ترا کتنا بڑا احسان ہے بادِ سحر!

عمر بھر کھیلی مری آہوں کے انگاروں سے تو

اے زمانے کے حسیں صیاد! کیا کہنا ترا

جاں گسل ہیں تیرے دامِ خوشنما کے تار و پو

آہ میری روح کو ڈسنے لگی ہے سانس سانس

اب میں رخصت چاہتا ہوں اے جہانِ رنگ و بو!

مجید امجد

پژمردہ پتیاں

بکھری ہیں صحنِ باغ میں پژمردہ پیتاں

دوشیزۂ بہار کے دامن کی دھجیاں!

ہمدم! غمیں نہ ہو کہ یہ مٹتی نشانیاں

اک آنے والی رت کی ہیں شیریں کہانیاں!

ڈھیر ان کے یہ نہیں ہیں چمن میں لگے ہوئے

پیوند ہیں خزاں کے کفن میں لگے ہوئے

جاتی ہوئی خزاں کے جنازے کے ساتھ ساتھ

تالی بجاتے جاتے ہیں ان کے حسین ہاتھ

ان کے دلوں پہ زیست کے راز آشکار ہیں

صرفِ خزاں بھی ہو کے نقیبِ بہار ہیں

مجید امجد

گلی کا چراغ

تری جلن ہے مرے سوزِ دل کے کتنی قریب

خدا رکھے تجھے روشن! چراغِ کوئے حبیب

تو جانتا ہے مری زندگی کا افسانہ

تو جانتا ہے میں کس شمع کا ہوں پروانہ

لرز لرز گئی اکثر تری یہ نازک لو۔۔۔

ٹھٹک ٹھٹک کے چلا جب کوئی حزیں رہرو

وہ تیرے سانولے سایوں میں اس کا طوفِ نیاز

وہ دور ۔۔۔ موڑ پہ قدموں کی آخری آواز

صدا خفیف سی دستک سے ملتی جلتی ہوئی

اور اس کے بعد کوئی چٹخنی سی کھلتی ہوئی

ہَوا کے نرم جھکولوں میں سرسراہٹ سی

گلی کے کونے پہ باتیں سی، کھلکھلاہٹ سی

کہ اتنے میں نظر آیا طویل سایا کوئی

پھر اک صدا کہ ’’وہ دیکھو ادھر سے آیا کوئی‘‘

کواڑ بند، گلی بےصدا، فضا خاموش

اور ایک درد کا مارا مسافرِ مدہوش

پلٹ چلا انھی رستوں پہ ڈگمگاتا ہوا

دکھے دکھے ہوئے لہجوں میں گنگناتا ہوا

تو جانتا ہے کسی کی گلی کے پاک چراغ

چراغِ طور سے بھی بڑھ کے تابناک چراغ

کہ تو نہ ہو تو وہ آوارۂ دیارِ حبیب

پہنچ سکے نہ کبھی ’’ان‘‘ کے آستاں کے قریب

جو تو نہ ہو تو یہ راز اک فسانہ بن جائے

نگاہِ اہلِ جہاں کا نشانہ بن جائے

مجید امجد

خدا

خبر ہے تجھ کو کچھ، رلدو! مرے ننھے! مرے بالک!

ترا بھگوان پرمیشر ہے اس سنسار کا پالک!

کہاں رہتا ہے پرمیشر؟ ادھر آکاش کے پیچھے

کہیں دور، اس طرف تاروں کی بکھری تاش کے پیچھے

نہیں دیکھا؟ سویرے جوں ہی مندر میں گجر باجا

پہن کر نور کی پوشاک وہ من موہنا راجا

لیے سونے کا چھابا جب ادھر پورب سے آتا ہے

تو ان تاروں کی پگڈنڈی پہ جھاڑو دے کے جاتا ہے

نہیں سمجھے کہ اتنا دور کیوں اس کا بسیرا ہے؟

وہ اونچی ذات والا ہے اور اونچا اس کا ڈیرا ہے

یہ دنیا والے، یہ امرت کے رس کی چھاگلوں والے

یہ میٹھے بھوجنوں والے، یہ اجلے آنچلوں والے

یہ اس کو اپنی لاشیں اپنے مردے سونپ دیتے ہیں

عفونت سے بھرے دل اور گردے سونپ دیتے ہیں

جنہیں دوزخ کے زہروں میں بھگو کر بھونتا ہے وہ

جنہیں شعلوں کی سیخوں میں پرو کر بھونتا ہے وہ

یہ اس بھگوان کے دامن کو چھو لینے سے ڈرتے ہیں

یہ اس کو اپنے محلوں میں جگہ دینے سے ڈرتے ہیں

کسی نے بھول کر اس کا بھجن گایا، یہ جل اٹھے

کہیں پڑ بھی گیا اس کا حسیں سایا، یہ جل اٹھے

غلط کہتا ہے تو نادان، تو نے اس کو دیکھا ہے

مرے بھولے! ہماری اور اس کی ایک لیکھا ہے

مجید امجد

بُندا

کاش میں تیرے بُنِ گوش میں بُندا ہوتا!

رات کو بےخبری میں جو مچل جاتا میں

تو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میں

صبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھول

میرے کھو جانے پہ ہوتا ترا دل کتنا ملول!

تو مجھے ڈھونڈتی کس شوق سے گھبراہٹ میں

اپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر اک سلوٹ میں

جونہی کرتیں تری نرم انگلیاں محسوس مجھے

ملتا اس گوش کا پھر گوشۂ مانوس مجھے

کان سے تو مجھے ہرگز نہ اتارا کرتی

تو کبھی میری جدائی نہ گوارا کرتی

یوں تری قربتِ رنگیں کے نشے میں مدہوش

عمر بھر رہتا مری جاں میں ترا حلقہ بگوش

کاش میں تیرے بُنِ گوش میں بُندا ہوتا!

مجید امجد

آوار گانِ فطرت سے

بتا بھی مجھ کو ارے ہانپتے ہوئے جھونکے!

ارے او سینۂ فطرت کی آہِ آوارہ!

تری نظر نے بھی دیکھا کبھی وہ نظارہ

کہ لے کے اپنے جلو میں ہجوم اشکوں کے

کسی کی یاد جب ایوانِ دل پہ چھا جائے

تو اک خرابِ محبت کو نیند آ جائے

ابدکنار سمندر! تری حسیں موجیں

الاپتی ہیں شب و روز کیسے بھیانک راگ

بتا کبھی ترے طوفاں بجھا سکے ہیں وہ آگ

جو دفعتہً سلگ اٹھتی ہے دکھ بھرے دل میں

جب ایک بچھڑے ہوئے کا پیام آتا ہے

کسی کا روح کے ہونٹوں پہ نام آتا ہے

حسین چاند! ستاروں کی انجمن کے ایاغ!

بتا کبھی تری کرنوں کے سیمگوں سائے

اِک ایسے شہرِ خموشاں پہ بھی ہیں لہرائے

جہاں پہ ایک اَبھاگن نے جب جلا کے چراغ

کسی کی قبر پہ مدھم سی روشنی کی ہو

تو سونے والے نے بھی جاگ کر صدا دی ہو

مجید امجد

صبحِ جدائی

اب دھندلی پڑتی جاتی ہے تاریکیِ شب، میں جاتا ہوں

وہ صبح کا تارا ابھرا، وہ پو پھوٹی، اب میں جاتا ہوں

جاتا ہوں، اجازت! جانے دو، وہ دیکھو اجالے چھانے کو ہیں

سورج کی سنہری کرنوں کے خاموش بلاوے آنے کو ہیں

وہ پھولوں کے گجرے جو تم کل شام پرو کر لائی تھیں

وہ کلیاں جن سے تم نے یہ رنگیں سیجیں مہکائی تھیں

دیکھو ان باسی کلیوں کی پتی پتی مرجھائی ہے

وہ رات سہانی بیت چکی، آ پہنچی صبح جدائی ہے

اب مجھ کو یہاں سے جانا ہے، پُرشوق نگاہو! مت روکو

او میرے گلے میں لٹکی ہوئی لچکیلی باہو! مت روکو

ان الجھی الجھی زلفوں میں دل اپنا بسارے جاتا ہوں

ان میٹھی میٹھی نظروں کی یادوں کے سہارے جاتا ہوں

جاتا ہوں، اجازت! وہ دیکھو، غرفے سے شعاعیں جھلکی ہیں

پگھلے ہوئے سونے کی لہریں مینائے شفق سے چھلکی ہیں

کھیتوں میں کسی چرواہے نے بنسی کی تان اڑائی ہے

ایک ایک رسیلی سر جس کی پیغام سفر کا لائی ہے

مجبور ہوں میں، جانا جو ہوا، دل مانے نہ مانے جاتا ہوں

دُنیا کی اندھیری گھاٹی میں اب ٹھوکریں کھانے جاتا ہوں

مجید امجد