زمرہ جات کے محفوظات: غزل

کیا تمھیں یاں سے چلے جاتے ہو ہم بھی جاچکے

دیوان دوم غزل 986
بے خودی جو یہ ہے تو ہم آپ میں اب آچکے
کیا تمھیں یاں سے چلے جاتے ہو ہم بھی جاچکے
تم یہی کہتے رہے یہ اور گل تازہ کھلا
زخم بھی ہم نے اٹھائے داغ بھی ہم کھا چکے
ایک بوسہ دے نہ منھ برسوں لگایا واہ واہ
اب تو ٹک بولو جزا ہم اس عمل کی پا چکے
یاں تلک آنے میں جتنا مکث کرتے ہو کرو
اب تو جانا جان سے ناچار ہم ٹھہرا چکے
اب چمن میں جا نکلتے ہیں تو جی لگتا نہیں
پھول گل سے میر اس بن دل بہت بہلا چکے
میر تقی میر

وحشت بہت تھی طاقت دل ہائے کھو چکے

دیوان دوم غزل 985
دیوانگی میں گاہ ہنسے گاہ رو چکے
وحشت بہت تھی طاقت دل ہائے کھو چکے
افراط اشتیاق میں سمجھے نہ اپنا حال
دیکھے ہیں سوچ کرکے تو اب ہم بھی ہوچکے
کہتا ہے میر سانجھ ہی سے آج درد دل
ایسی کہانی گرچہ نندھی ہے تو سو چکے
میر تقی میر

واں میں بھی ہوں مدام شہادت کے واسطے

دیوان دوم غزل 984
کھینچے جہاں تو تیغ جلادت کے واسطے
واں میں بھی ہوں مدام شہادت کے واسطے
سجدہ کوئی کرے تو در یار پر کرے
ہے جاے پاک شرط عبادت کے واسطے
آئے نہ تم تو درپس دیوار مجھ تلک
کھینچے ہیں لوگ رنج عیادت کے واسطے
خوش طالعی صبح جو اس منھ پہ ہے سفید
پھرتا ہے مہ بھی اس ہی سعادت کے واسطے
ہے میر پیر لیک سوے میکدہ مدام
جاتا ہے مغبچوں کی ارادت کے واسطے
میر تقی میر

یہی ہے طور اس کا ساتھ اپنے خورد سالی سے

دیوان دوم غزل 983
برا کیا مانیے اب چھیڑ سے یا اس کی گالی سے
یہی ہے طور اس کا ساتھ اپنے خورد سالی سے
کلی بیرنگ مرجھائی نظر آتی ہے ظاہر ہے
ہماری بے کلی گل ہاے تصویر نہالی سے
بھری آنکھیں کسو کی پونچھتے جو آستیں رکھتے
ہوئی شرمندگی کیا کیا ہمیں اس دست خالی سے
جو مر رہیے بھی تنگ آکر تو پروا کچھ نہ ہو اس کو
پڑا ہے کام مجھ ناکام کو کس لاابالی سے
جہاں رونے لگے ٹک بے دماغی وہ لگا کرنے
قیامت ضد ہے اس کو عاشقی کی زارنالی سے
دماغ حرف لعل ناب و برگ گل سے ہے تم کو
ہمیں جب گفتگو ہے تب کسو کے لب کی لالی سے
ریاضات محبت نے رکھا ہے ہم میں کیا باقی
نمود اک کرتے ہیں ہم یوں ہی اب شکل مثالی سے
ہم اس راہ حوادث میں بسان سبزہ واقع ہیں
کہ فرصت سر اٹھانے کی نہیں ٹک پائمالی سے
سرہانے رکھ کے پتھر خاک پر ہم بے نوا سوئے
پڑے سر ماریں طالع مند اپنا سنگ قالی سے
کبھو میں عین رونے میں جگر سے آہ کرتا ہوں
کہ دل اٹھ جائیں یاروں کے ہواے برشگالی سے
یہی غم اس دہن کا ہے کہ فکر اس کی کمر کی ہے
کہے سو کیا کوئی ہیں میر صاحب کچھ خیالی سے
میر تقی میر

فراموش آپ کو کرنا محبت میں ہے یاد اس سے

دیوان دوم غزل 982
مرا دل پیر و مرشد ہے مجھے ہے اعتقاد اس سے
فراموش آپ کو کرنا محبت میں ہے یاد اس سے
بلا انداز ہے اس کا قیامت ناز ہے اس کا
اٹھے فتنے ہزار اس سے ہوئے لاکھوں فساد اس سے
نزاکت جیسی ہے ویسا ہی دل بھی سخت ہے اس کا
اگرچہ شیشۂ جاں ہے پہ بہتر ہے جماد اس سے
کسے ہیں بند ان نے کیسے کس درویش سے ملیے
جو ایسے سخت عقدوں کی طلب کریے کشاد اس سے
بھلا یوں گھٹ کے مریے کب تلک دل خوں ہوا سارا
جو کوئی دادگر ہووے تو کریے جاکے داد اس سے
لگے ہی ایک دو رہتے ہیں مہلت بات کی کیسی
ہوا ہے دشمنوں کو کچھ قیامت اتحاد اس سے
پہنچ کر تہ کو ہم تو محض محرومی ہی پاتے ہیں
مراد دل کو پہنچا ہو گا کوئی نامراد اس سے
لیے ہی میان سے رہتا ہے کوئی یہ نہیں کہتا
نکالا ہے کہاں کا تونے اے ظالم عناد اس سے
ادھر توبہ کرے ہے میر ادھر لگتا ہے مے پینے
کہاں تک اب تو اپنا اٹھ گیا ہے اعتماد اس سے
میر تقی میر

ابر کیا کیا اٹھے ہنگامے سے کیا کیا برسے

دیوان دوم غزل 981
وہ کہاں دھوم جو دیکھی گئی چشم تر سے
ابر کیا کیا اٹھے ہنگامے سے کیا کیا برسے
ہو برافروختہ وہ بت جو مئے احمر سے
آگ نکلے ہے تماشے کے تئیں پتھر سے
ڈھب کچھ اچھا نہیں برہم زدن مژگاں کا
کاٹ ڈالے گا گلا اپنا کوئی خنجر سے
تھا نوشتے میں کہ یوں سوکھ کے مریے اس بن
استخواں تن پہ نمودار ہیں سب مسطر سے
یوں تو دس گز کی زباں ہم بھی بتاں رکھتے ہیں
بات کو طول نہیں دیتے خدا کے ڈر سے
سیر کرنے جو چلے ہے کبھو وہ فتنہ خرام
شہر میں شور قیامت اٹھے ہے ہر گھر سے
عشق کے کوچے میں پھر پائوں نہیں رکھنے کے ہم
اب کے ٹل جاتی ہے کلول یہ اگر سر پر سے
مہر کی اس سے توقع غلطی اپنی تھی
کہیں دلداری ہوئی بھی ہے کسو دلبر سے
کوچۂ یار ہے کیا طرفہ بلاخیز مقام
آتے ہیں فتنہ و آشوب چلے اودھر سے
ساتھ سونا جو گیا اس کا بہت دل تڑپا
برسوں پھر میر یہ پہلو نہ لگے بستر سے
میر تقی میر

کاہش مجھے جو ہے وہی ہوتی ہے شام سے

دیوان دوم غزل 980
برسوں ہوئے گئے ہوئے اس مہ کو بام سے
کاہش مجھے جو ہے وہی ہوتی ہے شام سے
تڑپے اسیر ہوتے جو ہم یک اٹھا غبار
سوجھا نہ ہم کو دیر تلک چشم دام سے
دنبال ہر نگاہ ہے صد کاروان اشک
برسے ہے چشم ابر بڑی دھوم دھام سے
محو اس دہان تنگ کے ہیں کوئی کچھ کہو
رہتا ہے ہم کو عشق میں کام اپنے کام سے
یوسفؑ کے پیچھے خوار زلیخا عبث ہوئی
کب صاحبی رہی ہے مل ایسے غلام سے
لڑکے ہزاروں جھولی میں پتھر لیے ہیں ساتھ
مجنوں پھرا ہے کاہے کو اس ازدحام سے
وہ ناز سے چلا کہیں تو حشر ہوچکے
پھر بحث آپڑے گی اسی کے خرام سے
جھک جھک سلام کرنے سے سرکش ہوا وہ اور
ہو بیٹھے ناامید جواب سلام سے
وے دن گئے کہ رات کو یک جا معاش تھی
آتا ہے اب تو ننگ اسے میرے نام سے
سرگرم جلوہ بدر ہو ہر چند شب کو لیک
کب جی لگیں ہیں اپنے کسو ناتمام سے
دل اور عرش دونوں پہ گویا ہے ان کی سیر
کرتے ہیں باتیں میر جی کس کس مقام سے
میر تقی میر

مانا ہے حضور اس کے چراغ سحری سے

دیوان دوم غزل 979
کیا خور ہو طرف یار کے روشن گہری سے
مانا ہے حضور اس کے چراغ سحری سے
سبزان چمن ہوویں برابر ترے کیوں کر
لگتا ہے ترے سائے کو بھی ننگ پری سے
ہشیار کہ ہے راہ محبت کی خطرناک
مارے گئے ہیں لوگ بہت بے خبری سے
ایک آن میں رعنائیاں تیری تو ہیں سو سو
کب عہدہ برآئی ہوئی اس عشوہ گری سے
زنجیر تو پائوں میں لگی رہنے ہمارے
کیا اور ہو رسوا کوئی آشفتہ سری سے
جب لب ترے یاد آتے ہیں آنکھوں سے ہماری
تب ٹکڑے نکلتے ہیں عقیق جگری سے
عشق آنکھوں کے نیچے کیے کیا میر چھپے ہے
پیدا ہے محبت تری مژگاں کی تری سے
میر تقی میر

اثبات ہوا جرم محبت کا اسی سے

دیوان دوم غزل 978
تابوت مرا دیر اٹھا اس کی گلی سے
اثبات ہوا جرم محبت کا اسی سے
تم چھیڑتے ہو بزم میں مجھ کو تو ہنسی سے
پر مجھ پہ جو ہو جائے ہے پوچھو مرے جی سے
آتش بہ جگر اس در نایاب سے سب ہیں
دریا بھی نظر آئے اسی خشک لبی سے
گر ٹھہرے ملک آگے انھوں کے تو عجب ہے
پھرتے ہیں پڑے دلی کے لونڈے جو پری سے
نکلا جو کوئی واں سے تو پھر مر ہی کے نکلا
اس کوچے سے جاتے ہوئے دیکھا کسے جی سے
ہمسائے مجھے رات کو رویا ہی کرے ہیں
سوتے نہیں بے چارے مری نالہ کشی سے
تم نے تو ادھر دیکھنے کی کھائی ہے سوگند
اب ہم بھی لڑا بیٹھتے ہیں آنکھ کسی سے
چھاتی کہیں پھٹ جائے کہ ٹک دل بھی ہوا کھائے
اب دم تو لگے رکنے ہماری خفگی سے
اس شوخ کا تمکین سے آنا ہے قیامت
اکتانے لگے ہم نفساں تم تو ابھی سے
نالاں مجھے دیکھے ہیں بتاں تس پہ ہیں خاموش
فریاد ہے اس قوم کی فریاد رسی سے
تالو سے زباں رات کو مطلق نہیں لگتی
عالم ہے سیہ خانہ مری نوحہ گری سے
بے رحم وہ تجھ پاس لگا بیٹھنے جب دیر
ہم میر سے دل اپنے اٹھائے تھے تبھی سے
میر تقی میر

گفتار اس کی کبر سے رفتار ناز سے

دیوان دوم غزل 977
کرتا ہے کب سلوک وہ اہل نیاز سے
گفتار اس کی کبر سے رفتار ناز سے
یوں کب ہمارے آنسو پچھیں ہیں کہ تونے شوخ
دیکھا کبھو ادھر مژئہ نیم باز سے
خاموش رہ سکے نہ تو بڑھ کر بھی کچھ نہ کہہ
سر شمع کا کٹے ہے زبان دراز سے
اب جا کسو درخت کے سائے میں بیٹھیے
اس طور پھریے کب تئیں بے برگ و ساز سے
یہ کیا کہ دشمنوں میں مجھے ساننے لگے
کرتے کسو کو ذبح بھی تو امتیاز سے
مانند شمع ٹپکے ہی پڑتے ہیں اب تو اشک
کچھ جلتے جلتے ہو گئے ہیں ہم گداز سے
شاید کہ آج رات کو تھے میکدے میں میر
کھیلے تھا ایک مغبچہ مہر نماز سے
میر تقی میر

آئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سے

دیوان دوم غزل 976
کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوری بتاں سے
آئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سے
تصویر کے سے طائر خاموش رہتے ہیں ہم
جی کچھ اچٹ گیا ہے اب نالہ و فغاں سے
جب کوندتی ہے بجلی تب جانب گلستاں
رکھتی ہے چھیڑ میرے خاشاک آشیاں سے
کیا خوبی اس کے منھ کی اے غنچہ نقل کریے
تو تو نہ بول ظالم بو آتی ہے دہاں سے
آنکھوں ہی میں رہے ہو دل سے نہیں گئے ہو
حیران ہوں یہ شوخی آئی تمھیں کہاں سے
سبزان باغ سارے دیکھے ہوئے ہیں اپنے
دلچسپ کاہے کو ہیں اس بے وفا جواں سے
کی شست و شو بدن کی جس دن بہت سی ان نے
دھوئے تھے ہاتھ میں نے اس دن ہی اپنی جاں سے
خاموشی ہی میں ہم نے دیکھی ہے مصلحت اب
ہر یک سے حال دل کا مدت کہا زباں سے
اتنی بھی بدمزاجی ہر لحظہ میر تم کو
الجھائو ہے زمیں سے جھگڑا ہے آسماں سے
میر تقی میر

نہال سبز جھومے ہیں گلستاں میں شرابی سے

دیوان دوم غزل 975
بہار آئی ہے غنچے گل کے نکلے ہیں گلابی سے
نہال سبز جھومے ہیں گلستاں میں شرابی سے
گروں ہوں ہر قدم پر میں ڈھہا جاتا ہے جی ہر دم
پہنچتا ہوں کبھو در پر ترے سو اس خرابی سے
نہ ٹھہری ایک چشمک بھی بسان برق آنکھوں میں
کلیجہ جل گیا اے عمر تیری تو شتابی سے
نکل آتے ہو گھر سے چاند سے یہ کیا طرح پکڑی
قیامت ہورہے گی ایک دن اس بے حجابی سے
یہ جھگڑا تنگ آ کر میں رکھا روزشمار اوپر
کروں کیا تم تو لڑنے لگتے ہو حرف حسابی سے
بہت رویا نوشتے پر میں اپنے دیکھ قاصد کو
کہ سر ڈالے غریب آتا تھا خط کی بے جوابی سے
مبادا کارواں جاتا رہے تو صبح سوتا ہو
بہت ڈرتا ہوں میں اے میر تیری دیر خوابی سے
میر تقی میر

ہما کے آشیانے میں جلیں ہیں استخواں میرے

دیوان دوم غزل 974
وہی شورش موئے پر بھی ہے اب تک ساتھ یاں میرے
ہما کے آشیانے میں جلیں ہیں استخواں میرے
عزیزاں غم میں اپنے یوسفؑ گم گشتہ کے ہر دم
چلے جاتے ہیں آنسو کارواں در کارواں میرے
تمھاری دشمنی ہم دوستوں سے لا نہایت ہے
وگرنہ انتہا کینے کو بھی ہے مہرباں میرے
لب و لہجہ غزل خوانی کا کس کو آج کل ایسا
گھڑی بھر کو ہوئے مرغ چمن ہم داستاں میرے
نظر مت بے پری پر کر کہ آں سوے جہاں پھر ہوں
ہوئے پرواز کے قابل یہ ٹوٹے پر جہاں میرے
کہاں تک سر کو دیواروں سے یوں مارا کرے کوئی
رکھوں اس در پہ پیشانی نصیب ایسے کہاں میرے
مجھے پامال کر یکساں کیا ہے خاک سے تو بھی
وہی رہتا ہے صبح و شام درپے آسماں میرے
خزاں کی بائو سے حضرت میں گلشن کے تطاول تھا
تبرک ہو گئے یک دست خارآشیاں میرے
کہا میں شوق میں طفلان تہ بازار کے کیا کیا
سخن مشتاق ہیں اب شہر کے پیر و جواں میرے
زمیں سر پر اٹھا لی کبک نے رفتار رنگیں سے
خراماں ناز سے ہو تو بھی اے سرو رواں میرے
سخن کیا میر کریے حسرت و اندوہ و حرماں سے
بیاں حاجت نہیں حالات ہیں سارے عیاں میرے
میر تقی میر

ہاتھ لگتے میلے ہوتے ہو لطافت ہائے رے

دیوان دوم غزل 973
بو کیے کمھلائے جاتے ہو نزاکت ہائے رے
ہاتھ لگتے میلے ہوتے ہو لطافت ہائے رے
یار بے پروا و مفتر اور میں بے اختیار
پیش کچھ جاتی نہیں منت سماجت ہائے رے
سختی کھینچی کوہکن نے قیس نے رنج و تعب
کیا گئی برباد ان یاروں کی محنت ہائے رے
شور اٹھتا ہے جو ہوتے جلوہ گر ہو ناز سے
کھینچنا قد کا بلا آفت قیامت ہائے رے
خانقہ والے ہی کچھ تنہا نہیں الفت میں خوار
کیسے کیسوں کی گئی ہے مفت عزت ہائے رے
عشق میں افسوس سا افسوس اپنا کرچکے
زیر لب کہتے رہے ہم ایک مدت ہائے رے
ریجھنے ہی کے ہے قابل یار کی ترکیب میر
واہ وا رے چشم و ابرو قد و قامت ہائے رے
میر تقی میر

ظاہر تو پاس بیٹھے ہیں پر ہیں بہت پرے

دیوان دوم غزل 972
مت سہل سمجھو ایسے ہیں ہم کیا ورے دھرے
ظاہر تو پاس بیٹھے ہیں پر ہیں بہت پرے
سختی بہت ہے پاس و مراعات عشق میں
پتھر کے دل جگر ہوں تو کوئی وفا کرے
خالی کروں ہوں رو رو کے راتوں کو دل کے تیں
انصاف کر کہ یوں کوئی دن کب تلک بھرے
رندھنے نے جی کے خاک میں ہم کو ملا دیا
گویا کہ آسمان بہت آگیا ورے
داڑھی کو تیری دیکھ کے ہنستے ہیں لڑکے شیخ
اس ریش خند کو بھی سمجھ ٹک تو مسخرے
جل تھل فقط نہیں مرے رونے سے بھر گئے
جنگل پڑے تھے سوکھے سو وہ بھی ہوئے ہرے
جی کو بچا رکھیں گے تو جانیں گے عشق میں
ہر چند میر صاحب قبلہ ہیں منگرے
میر تقی میر

گاڑ دیویں کاش مجھ کو بیچ میں در کے ترے

دیوان دوم غزل 971
آہ روکوں جانے والے کس طرح گھر کے ترے
گاڑ دیویں کاش مجھ کو بیچ میں در کے ترے
لالہ و گل کیوں نہ پھیکے اپنی آنکھوں میں لگیں
دیکھنے والے ہیں ہم تو رنگ احمر کے ترے
بے پرو بالی سے اب کے گوکہ بلبل تو ہے چپ
یاد ہیں سب کے تئیں وے چہچہے پر کے ترے
آج کا آیا تجھے کیا پاوے ہم حیران ہیں
ڈھونڈنے والے جو ہیں اے شوخ اکثر کے ترے
دیکھ اس کو حیف کھا کر سب مجھے کہنے لگے
واے تو گر ہیں یہی اطوار دلبر کے ترے
تازہ تر ہوتے ہیں نوگل سے بھی اے نازک نہال
صبح اٹھتے ہیں بچھے جو پھول بستر کے ترے
مشک عنبر طبلہ طبلہ کیوں نہ ہو کیا کام ہے
ہم دماغ آشفتہ ہیں زلف معنبر کے ترے
جی میں وہ طاقت کہاں جو ہجر میں سنبھلے رہیں
اب ٹھہرتے ہی نہیں ہیں پائوں ٹک سر کے ترے
داغ پیسے سے جو ہیں بلبل کے دل پر کس کے ہیں
یوں تو اے گل ہیں ہزاروں آشنا زر کے ترے
کوئی آب زندگی پیتا ہے یہ زہراب چھوڑ
خضر کو ہنستے ہیں سب مجروح خنجر کے ترے
نوح کا طوفاں ہمارے کب نظر چڑھتا ہے میر
جوش ہم دیکھے ہیں کیا کیا دیدئہ تر کے ترے
میر تقی میر

پسند اس کی ہے وہ جس طرح پسند کرے

دیوان دوم غزل 970
اسیر زلف کرے قیدی کمند کرے
پسند اس کی ہے وہ جس طرح پسند کرے
ہمیشہ چشم ہے نمناک ہاتھ دل پر ہے
خدا کسو کو نہ ہم سا بھی دردمند کرے
بڑوں بڑوں کو جھکاتے ہی سر بنے اس دم
پکڑ کے تیغ وہ اپنی اگر بلند کرے
بیان دل کے بھی جلنے کو کریے مجلس میں
اچھلنے کودنے کو ترک اگر سپند کرے
نہ مجھ کو راہ سے لے جائے مکر دنیا کا
ہزار رنگ یہ فرتوت گو چھچھند کرے
سواے اس کے بڑی داڑھی میں ہے کیا اے شیخ
کہ جو کوئی تجھے دیکھے سو ریش خند کرے
دکھاوے آنکھ کبھو زلف کھولے منھ پہ کبھو
کبھو خرام سے رستے کے رستے بند کرے
اگرچہ سادہ ہے لیکن ربودن دل کو
ہزار پیچ کرے لاکھ لاکھ فند کرے
سخن یہی ہے جو کہتے ہیں شعر میر ہے سحر
زبان خلق کو کس طور کوئی بند کرے
میر تقی میر

پھر جو دیکھا تو کچھ نہیں پیارے

دیوان دوم غزل 969
سیر کی ہم نے ہر کہیں پیارے
پھر جو دیکھا تو کچھ نہیں پیارے
خشک سال وفا میں اک مدت
پلکیں لوہو میں تر رہیں پیارے
یک نظر دیکھنے کی حسرت میں
آنکھیں تو پانی ہو بہیں پیارے
پہنچی ہے ضعف سے یہ اب حالت
جہاں پہنچا رہا وہیں پیارے
تجھ گلی میں رہے ہے میر مگر
دیکھیں ہیں جب نہ تب نہیں پیارے
میر تقی میر

کیا کہہ کے تجھ کو روویں یہ کیا کیا پیارے

دیوان دوم غزل 968
میر ایک دم نہ اس بن تو تو جیا پیارے
کیا کہہ کے تجھ کو روویں یہ کیا کیا پیارے
رنگین ہم تو تجھ کو ایسا نہ جانتے تھے
تو نے تو عاشقوں کا لوہو پیا پیارے
دل کے تو زخم کا کچھ ہوتا نہیں تدارک
گو چاک سینہ تو نے میرا سیا پیارے
اس دام گاہ میں ہم جوں صید نیم بسمل
تڑپے بہت پہ تو نے کب دل لیا پیارے
ہو داغ میر تجھ بن مر بھی گیا ولے تو
آیا نہ گور پر ٹک لے کر دیا پیارے
میر تقی میر

حیرت سے ہم تو چپ ہیں کچھ تم بھی بولو پیارے

دیوان دوم غزل 967
اک شور ہورہا ہے خوں ریزی میں ہمارے
حیرت سے ہم تو چپ ہیں کچھ تم بھی بولو پیارے
زخم اس کے ہاتھ کے جو سینے پہ ہیں نمایاں
چھاتی لگے رہیں گے زیر زمیں بھی سارے
ہیں بدمزاج خوباں پر کس قدر ہیں دلکش
پائے کہاں گلوں نے یہ مکھڑے پیارے پیارے
بیٹھیں ہیں رونے کو تو دریا ہی رو اٹھیں ہیں
جوش و خروش یہ تھے تب ہم لگے کنارے
لاتے نہیں ہو مطلق سر تم فرو خدا سے
یہ ناز خوبرویاں بندے ہیں ہم تمھارے
کوئی تو ماہ پارہ اس بھی رواق میں ہے
چشمک زنی میں شب کو یوں ہی نہیں ہیں تارے
لگ کر گلے نہ سوئے اس منھ پہ منھ نہ رکھا
جی سے گئے ہم آخر ان حسرتوں کے مارے
بیتابی ہے دنوں کو بے خوابی ہے شبوں کو
آرام و صبر دونوں مدت ہوئی سدھارے
آفاق میں جو ہوتے اہل کرم تو سنتے
ہم برسوں رعد آسا بیتاب ہو پکارے
جل بجھیے اب تو بہتر مانند برق خاطف
جوں ابر کس کے آگے دامن کوئی پسارے
ہم نے تو عاشقی میں کھویا ہے جان کو بھی
صدقے ہیں میر جی کے وے ڈھونڈتے ہیں وارے
میر تقی میر

منزل کو عاشق اپنے مقصد کی جا نہ پہنچے

دیوان دوم غزل 966
گر ناز سے وہ سر پر لے تیغ آ نہ پہنچے
منزل کو عاشق اپنے مقصد کی جا نہ پہنچے
جیتے رہیں گے کیونکر ہم اے طبیب ناداں
بیمار ایسے تس پر مطلق دوا نہ پہنچے
لائق ترے نہیں ہے خصمی غیر لیکن
وہ باز کیونکے آوے جب تک سزا نہ پہنچے
ہر چند بہر خوباں سر مسجدوں میں مارے
پر ان کے دامنوں تک دست دعا نہ پہنچے
بن آہ دل کا رکنا بے جا نہیں ہمارا
کیا حال ہووے اس کا جس کو ہوا نہ پہنچے
اپنے سخن کی اس سے کس طور راہ نکلے
خط اس طرف نہ جاوے قاصد گیا نہ پہنچے
وہ میر شاہ خوبی پھر قدر دور اس کی
درویش بے نوا کی اس تک صدا نہ پہنچے
میر تقی میر

چشم بیمار کے دیکھ آنے کی رخصت دیجے

دیوان دوم غزل 965
یک مژہ اے دم آخر مجھے فرصت دیجے
چشم بیمار کے دیکھ آنے کی رخصت دیجے
نو گرفتار ہوں اس باغ کا رحم اے صیاد
موسم گل رہے جب تک مجھے مہلت دیجے
خوار و خستہ کئی پامال تری راہ میں ہیں
کیجیے رنجہ قدم ان کو بھی عزت دیجے
اپنے ہی دل کا گنہ ہے جو جلاتا ہے مجھے
کس کو لے مریے میاں اور کسے تہمت دیجے
چھوٹے ہیں قید قفس سے تو چمن تک پہنچیں
اتنی اے ضعف محبت ہمیں طاقت دیجے
مر گیا میر نہ آیا ترے جی میں اے شوخ
اپنے محنت زدہ کو بھی کبھی راحت دیجے
میر تقی میر

آسماں کو سیاہ کر لیجے

دیوان دوم غزل 964
صبح ہے کوئی آہ کر لیجے
آسماں کو سیاہ کر لیجے
چشم گل باغ میں مندی جا ہے
جو بنے اک نگاہ کر لیجے
ابر رحمت ہے جوش میں مے دے
یعنی ساقی گناہ کر لیجے
میر تقی میر

کوئی دن ہی میں خاک سی یاں اڑا دی

دیوان دوم غزل 963
متاع دل اس عشق نے سب جلا دی
کوئی دن ہی میں خاک سی یاں اڑا دی
دلیل اس بیاباں میں دل ہی ہے اپنا
نہ خضر و بلد یاں نہ رہبر نہ ہادی
مزاجوں میں یاس آگئی ہے ہمارے
نہ مرنے کا غم ہے نہ جینے کی شادی
نہ پوچھو کہ چھاتی کے جلنے نے آخر
عجب آگ دل میں جگر میں لگا دی
وفا لوگ آپس میں کرتے تھے آگے
یہ رسم کہن آہ تم نے اٹھا دی
جدا ان غزالان شہری سے ہوکر
پھرے ہم بگولے سے وادی بہ وادی
صبا اس طرف کو چلی جل گئے ہم
ہوا یہ سبب اپنے مرنے کا بادی
وہ نسخہ جو دیکھا بڑھا روگ دل کا
طبیب محبت نے کیسی دوا دی
ملے قصر جنت میں پیر مغاں کو
ہمیں زیر دیوار میخانہ جا دی
نہ ہو عشق کا شور تا میر ہرگز
چلے بس تو شہروں میں کریے منادی
میر تقی میر

کاہشیں کیا کیا اٹھا جاتا ہے جی

دیوان دوم غزل 962
تجھ کنے بیٹھے گھٹا جاتا ہے جی
کاہشیں کیا کیا اٹھا جاتا ہے جی
یوں تو مردے سے پڑے رہتے ہیں ہم
پر وہ آتا ہے تو آجاتا ہے جی
ہائے اس کے شربتی لب سے جدا
کچھ بتاشا سا گھلا جاتا ہے جی
اب کے اس کی راہ میں جو ہو سو ہو
یا دب ہی آتا ہے یا جاتا ہے جی
کیا کہیں تم سے کہ اس شعلے بغیر
جی ہمارا کچھ جلا جاتا ہے جی
عشق آدم میں نہیں کچھ چھوڑتا
ہولے ہولے کوئی کھا جاتا ہے جی
اٹھ چلے پر اس کے غش کرتے ہیں ہم
یعنی ساتھ اس کے چلا جاتا ہے جی
آ نہیں پھرتا وہ مرتے وقت بھی
حیف ہے اس میں رہا جاتا ہے جی
رکھتے تھے کیا کیا بنائیں پیشتر
سو تو اب آپھی ڈھہا جاتا ہے جی
آسماں شاید ورے کچھ آگیا
رات سے کیا کیا رکا جاتا ہے جی
کاشکے برقع رہے اس رخ پہ میر
منھ کھلے اس کے چھپا جاتا ہے جی
میر تقی میر

اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی

دیوان دوم غزل 961
مطرب سے غزل میر کی کل میں نے پڑھائی
اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی
اس مطلع جاں سوز نے آ اس کے لبوں پر
کیا کہیے کہ کیا صوفیوں کی چھاتی جلائی
خاطر کے علاقے کے سبب جان کھپائی
اس دل کے دھڑکنے سے عجب کوفت اٹھائی
گو اس رخ مہتابی سے واں چاندنی چھٹکی
یاں رنگ شکستہ سے بھی چھٹتی ہے ہوائی
ہر بحر میں اشعار کہے عمر کو کھویا
اس گوہر نایاب کی کچھ بات نہ پائی
بھیڑیں ٹلیں اس ابروے خم دار کے ہلتے
لاکھوں میں اس اوباش نے تلوار چلائی
دل اور جگر جل کے مرے دونوں ہوئے خاک
کیا پوچھتے ہو عشق نے کیا آگ لگائی
قاصد کے تصنع نے کیا دل کے تئیں داغ
بیتاب مجھے دیکھ کے کچھ بات بنائی
چپکی ہے مری آنکھ لب لعل بتاں سے
اس بات کے تیں جانتی ہے ساری خدائی
میں دیر پہنچ کر نہ کیا قصد حرم پھر
اپنی سی جرس نے کی بہت ہرزہ درائی
فریاد انھیں رنگوں ہے گلزار میں ہر صبح
بلبل نے مری طرز سخن صاف اڑائی
مجلس میں مرے ہوتے رہا کرتے ہو چپکے
یہ بات مری ضد سے تمھیں کن نے بتائی
گردش میں جو ہیں میر مہ و مہر و ستارے
دن رات ہمیں رہتی ہے یہ چشم نمائی
میر تقی میر

طرف ہے مجھ سے اب ساری خدائی

دیوان دوم غزل 960
بتوں سے آنکھ کیوں میں نے لڑائی
طرف ہے مجھ سے اب ساری خدائی
نرا دھوکا ہی ہے دریاے ہستی
نہیں کچھ تہ سے تجھ کو آشنائی
بگڑتی ہی گئی صورت ہماری
گئے پر دل کے پھر کچھ بن نہ آئی
نہ نکلا ایک شب اس راہ وہ ماہ
بہت کی ہم نے طالع آزمائی
کہا تھا میں نہ دیکھو غیر کی اور
سو تم نے آنکھ مجھ سے ہی چھپائی
نہ ملیے خاک میں کہہ کیونکے پیارے
گذرتی ہے کڑی تیری جدائی
جفا اس کی نہ پہنچی انتہا کو
دریغا عمر نے کی بے وفائی
گلے اس مہ نے لگ کر ایک دو رات
مہینوں تک مری چھاتی جلائی
نہ تھا جب درمیاں آئینہ تب تک
تھی یک صورت کہ ہو جاوے صفائی
نظر اس کی پڑی چہرے پر اپنے
نمدپوشوں سے آنکھ اب کب ملائی
بڑھائی کس قدر بات اس کے قد کی
قیامت میر صاحب ہیں چوائی
میر تقی میر

اب کے جو آئے سفر سے خوب مہمانی ہوئی

دیوان دوم غزل 959
قوت کو پیرانہ سر دلی میں حیرانی ہوئی
اب کے جو آئے سفر سے خوب مہمانی ہوئی
بائولے سے جب تلک بکتے تھے سب کرتے تھے پیار
عقل کی باتیں کیاں کیا ہم سے نادانی ہوئی
لوہو پانی ایک دونوں نے کیا میرا ندان
یعنی دل لوہو ہوا سب چشم سب پانی ہوئی
کیا چھپا کچھ رہ گیا ہے مدعاے خط شوق
رقعہ وار اب اشک خونیں سے تو افشانی ہوئی
آنکھ اٹھاکر ٹک جو دیکھا گھر کے گھر بٹھلا دیے
اک نگہ میں سینکڑوں کی خانہ ویرانی ہوئی
مرتبہ واجب کا سمجھے آدمی ممکن نہیں
فہم سودائی ہوا یاں عقل دیوانی ہوئی
چاہ کر اس بے وفا کو آخر اپنی جان دی
دوستی اس کی ہماری دشمن جانی ہوئی
بلبل اس خوبی سے گل ہے سِیَّما سیماے یار
تو عبث اے بے حقیقت غنچہ پیشانی ہوئی
شیخ مت یاد بتاں کو رات کا سا ذکر جان
یاصنم گوئی ہماری کیا خداخوانی ہوئی
غنچۂ گل ہے گلابی پھول ہے جام شراب
توڑتے تو توڑی توبہ اب پشیمانی ہوئی
چشم ہوتے ہوتے تر کچھ سب بھری رہنے لگی
اب ہوئی خطرے کی جاگہ کشتی طوفانی ہوئی
دل تڑپتا تھا نہایت جان دے تسکین کی
بارے اپنی ایسی مشکل کی بھی آسانی ہوئی
جب سے دیکھا اس کو ہم نے جی ڈھہا جاتا ہے میر
اس خرابی کی یہ چشم روسیہ بانی ہوئی
میر تقی میر

آخر آخر جان دی یاروں نے یہ صحبت ہوئی

دیوان دوم غزل 958
عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی
آخر آخر جان دی یاروں نے یہ صحبت ہوئی
عکس اس بے دید کا تو متصل پڑتا تھا صبح
دن چڑھے کیا جانوں آئینے کی کیا صورت ہوئی
لوح سینہ پر مری سو نیزئہ خطی لگے
خستگی اس دل شکستہ کی اسی بابت ہوئی
کھولتے ہی آنکھیں پھر یاں موندنی ہم کو پڑیں
دید کیا کوئی کرے وہ کس قدر مہلت ہوئی
پائوں میرا کلبۂ احزاں میں اب رہتا نہیں
رفتہ رفتہ اس طرف جانے کی مجھ کو لت ہوئی
مر گیا آوارہ ہوکر میں تو جیسے گردباد
پر جسے یہ واقعہ پہنچا اسے وحشت ہوئی
شاد و خوش طالع کوئی ہو گا کسو کو چاہ کر
میں تو کلفت میں رہا جب سے مجھے الفت ہوئی
دل کا جانا آج کل تازہ ہوا ہو تو کہوں
گذرے اس بھی سانحے کو ہم نشیں مدت ہوئی
شوق دل ہم ناتوانوں کا لکھا جاتا ہے کب
اب تلک آپھی پہنچنے کی اگر طاقت ہوئی
کیا کف دست ایک میداں تھا بیاباں عشق کا
جان سے جب اس میں گذرے تب ہمیں راحت ہوئی
یوں تو ہم عاجزترین خلق عالم ہیں ولے
دیکھیو قدرت خدا کی گر ہمیں قدرت ہوئی
گوش زد چٹ پٹ ہی مرنا عشق میں اپنے ہوا
کس کو اس بیماری جانکاہ سے فرصت ہوئی
بے زباں جو کہتے ہیں مجھ کو سو چپ رہ جائیں گے
معرکے میں حشر کے گر بات کی رخصت ہوئی
ہم نہ کہتے تھے کہ نقش اس کا نہیں نقاش سہل
چاند سارا لگ گیا تب نیم رخ صورت ہوئی
اس غزل پر شام سے تو صوفیوں کو وجد تھا
پھر نہیں معلوم کچھ مجلس کی کیا حالت ہوئی
کم کسو کو میر کی میت کی ہاتھ آئی نماز
نعش پر اس بے سر و پا کی بلا کثرت ہوئی
میر تقی میر

اس بے وفا کو ہم سے کچھ الفت نہیں رہی

دیوان دوم غزل 957
وہ رابطہ نہیں وہ محبت نہیں رہی
اس بے وفا کو ہم سے کچھ الفت نہیں رہی
دیکھا تو مثل اشک نظر سے گرا دیا
اب میری اس کی آنکھ میں عزت نہیں رہی
رندھنے سے جی کے کس کو رہا ہے دماغ حرف
دم لینے کی بھی ہم کو تو فرصت نہیں رہی
تھی تاب جی میں جب تئیں رنج و تعب کھنچے
وہ جسم اب نہیں ہے وہ قدرت نہیں رہی
منعم امل کا طول یہ کس جینے کے لیے
جتنی گئی اب اتنی تو مدت نہیں رہی
دیوانگی سے اپنی ہے اب ساری بات خبط
افراط اشتیاق سے وہ مت نہیں رہی
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
میر تقی میر

دوستی مدعی جانی تھی

دیوان دوم غزل 956
یار بن تلخ زندگانی تھی
دوستی مدعی جانی تھی
سر سے اس کی ہوا گئی نہ کبھو
عمر برباد یوں ہی جانی تھی
لطف پر اس کے ہم نشیں مت جا
کبھو ہم پر بھی مہربانی تھی
ہاتھ آتا جو تو تو کیا ہوتا
برسوں تک ہم نے خاک چھانی تھی
شیب میں فائدہ تامل کا
سوچنا تب تھا جب جوانی تھی
میرے قصے سے سب کی گئیں نیندیں
کچھ عجب طور کی کہانی تھی
عاشقی جی ہی لے گئی آخر
یہ بلا کوئی ناگہانی تھی
اس رخ آتشیں کی شرم سے رات
شمع مجلس میں پانی پانی تھی
پھر سخن نشنوی ہے ویسی ہی
رات ایک آدھ بات مانی تھی
کوے قاتل سے بچ کے نکلا خضر
اسی میں اس کی زندگانی تھی
فقر پر بھی تھا میر کے اک رنگ
کفنی پہنی سو زعفرانی تھی
میر تقی میر

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

دیوان دوم غزل 955
دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی
اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی
پامالی عاشق کو منظور رکھے جانا
پھر چال کڈھب چلنا ٹھوکر نہ لگانا بھی
برقع کو اٹھا دینا پر آدھے ہی چہرے سے
کیا منھ کو چھپانا بھی کچھ جھمکی دکھانا بھی
دیکھ آنکھیں مری نیچی اک مارنا پتھر بھی
ظاہر میں ستانا بھی پردے میں جتانا بھی
صحبت ہے یہ ویسی ہی اے جان کی آسائش
ساتھ آن کے سونا بھی پھر منھ کو چھپانا بھی
میر تقی میر

کیا ہی مست شراب ہے وہ بھی

دیوان دوم غزل 954
آج کچھ بے حجاب ہے وہ بھی
کیا ہی مست شراب ہے وہ بھی
میں ہی جلتا نہیں جدا دل سے
دور مجھ سے کباب ہے وہ بھی
سائل بوسہ سب گئے محروم
ایک حاضر جواب ہے وہ بھی
وہم جس کو محیط سمجھا ہے
دیکھیے تو سراب ہے وہ بھی
کم نہیں کچھ صبا سے اشک گرم
قاصد پرشتاب ہے وہ بھی
حسن سے دود دل نہیں خالی
زلف پرپیچ و تاب ہے وہ بھی
خانہ آباد کعبے میں تھا میر
کیا خدائی خراب ہے وہ بھی
میر تقی میر

کیا کہیے آج صبح عجب کچھ ہوا چلی

دیوان دوم غزل 953
جی رشک سے گئے جو ادھر کو صبا چلی
کیا کہیے آج صبح عجب کچھ ہوا چلی
کیا رنگ و بو و بادسحر سب ہیں گرم راہ
کیا ہے جو اس چمن میں ہے ایسی چلا چلی
تو دو قدم جو راہ چلا گرم اے نگار
مہندی کفک کی آگ دلوں میں لگا چلی
فتنہ ہے اس سے شہر میں برپا ہزار جا
تلوار اس کی چال پہ کیا ایک جا چلی
یہ جور و جورکش تھے کہاں آگے عشق میں
تجھ سے جفا و میر سے رسم وفا چلی
میر تقی میر

مارا خراب کر کر تعزیر کیا نکالی

دیوان دوم غزل 952
رکھا گنہ وفا کا تقصیر کیا نکالی
مارا خراب کر کر تعزیر کیا نکالی
رہتی ہے چت چڑھی ہی دن رات تیری صورت
صفحے پہ دل کے میں نے تصویر کیا نکالی
چپ بھی مری جتائی اس سے مخالفوں نے
بات اور جب بنائی تقریر کیا نکالی
بس تھی ہمیں تو تیری ابرو کی ایک جنبش
خوں ریزی کو ہماری شمشیر کیا نکالی
کی اس طبیب جاں نے تجویز مرگ عاشق
آزار کے مناسب تدبیر کیا نکالی
دل بند ہے ہمارا موج ہواے گل سے
اب کے جنوں میں ہم نے زنجیر کیا نکالی
نامے پہ لوہو رو رو خط کھینچ ڈالے سارے
یہ میر بیٹھے بیٹھے تحریر کیا نکالی
میر تقی میر

سر ہمارے ہیں گوے میداں کی

دیوان دوم غزل 951
ٹپہ بازی سے چرخ گرداں کی
سر ہمارے ہیں گوے میداں کی
جی گیا اس کے تیر کے ہمراہ
تھی تواضع ضرور مہماں کی
ہیں لیے آبروے خنجر و تیغ
ترچھی پلکیں تری بھویں بانکی
پھوڑ ڈالیں گے سر ہی اس در پر
منت اٹھتی نہیں ہے درباں کی
سر دامن سے گفتگو کریے
بات بگڑی لب گریباں کی
اس بت شوخ کی ہے طینت میں
دشمنی میرے دین و ایماں کی
آدمی سے ملک کو کیا نسبت
شان ارفع ہے میر انساں کی
میر تقی میر

اس تختے نے بھی اب کے قیامت بہار کی

دیوان دوم غزل 950
کی سیر ہم نے سینۂ یکسر فگار کی
اس تختے نے بھی اب کے قیامت بہار کی
دریاے حسن یار تلاطم کرے کہیں
خواہش ہے اپنے جی میں بھی بوس و کنار کی
اپنا بھی جی اسیر تھا آواز عندلیب
دل میں چبھا کی رات کو جوں نوک خار کی
آنکھیں غبار لائیں مری انتظار میں
دیکھوں تو گرد کب اٹھے اس رہ گذار کی
مقدور تک تو ضبط کروں ہوں پہ کیا کروں
منھ سے نکل ہی جاتی ہے اک بات پیار کی
اب گرد سر پھروں ترے ہوں میں فقیر محض
رکھتا تھا ایک جان سو تجھ پر نثار کی
کیا صید کی تڑپ کو اٹھائے دماغ یار
نازک بہت ہے طبع مرے دل شکار کی
رکھتا نہیں طریق وفا میں کبھو قدم
ہم کچھ نہ سمجھے راہ و روش اپنے یار کی
کیا جانوں چشم تر سے ادھر دل پہ کیا ہوا
کس کو خبر ہے میر سمندر کے پار کی
میر تقی میر

اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی

دیوان دوم غزل 949
میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی
خاطر بادیہ سے دیر میں جاوے گی کہیں
خاک مانند بگولے کے اڑانی اس کی
ایک ہے عہد میں اپنے وہ پراگندہ مزاج
اپنی آنکھوں میں نہ آیا کوئی ثانی اس کی
مینھ تو بوچھار کا دیکھا ہے برستے تم نے
اسی انداز سے تھی اشک فشانی اس کی
بات کی طرز کو دیکھو تو کوئی جادو تھا
پر ملی خاک میں کیا سحر بیانی اس کی
کرکے تعویذ رکھیں اس کو بہت بھاتی ہے
وہ نظر پائوں پہ وہ بات دوانی اس کی
اس کا وہ عجز تمھارا یہ غرور خوبی
منتیں ان نے بہت کیں پہ نہ مانی اس کی
کچھ لکھا ہے تجھے ہر برگ پہ اے رشک بہار
رقعہ واریں ہیں یہ اوراق خزانی اس کی
سرگذشت اپنی کس اندوہ سے شب کہتا تھا
سو گئے تم نہ سنی آہ کہانی اس کی
مرثیے دل کے کئی کہہ کے دیے لوگوں کو
شہر دلی میں ہے سب پاس نشانی اس کی
میان سے نکلی ہی پڑتی تھی تمھاری تلوار
کیا عوض چاہ کا تھا خصمی جانی اس کی
آبلے کی سی طرح ٹھیس لگی پھوٹ بہے
دردمندی میں گئی ساری جوانی اس کی
اب گئے اس کے جز افسوس نہیں کچھ حاصل
حیف صد حیف کہ کچھ قدر نہ جانی اس کی
میر تقی میر

دھوم ہے پھر بہار آنے کی

دیوان دوم غزل 948
کچھ کرو فکر مجھ دوانے کی
دھوم ہے پھر بہار آنے کی
دل کا اس کنج لب سے دے ہیں نشاں
بات لگتی تو ہے ٹھکانے کی
وہ جو پھرتا ہے مجھ سے دور ہی دور
ہے یہ تقریب جی کے جانے کی
تیز یوں ہی نہ تھی شب آتش شوق
تھی خبر گرم اس کے آنے کی
خضر اس خط سبز پر تو موا
دھن ہے اب اپنے زہر کھانے کی
دل صد چاک باب زلف ہے لیک
بائو سی بندھ رہی ہے شانے کی
کسو کم ظرف نے لگائی آہ
تجھ سے میخانے کے جلانے کی
ورنہ اے شیخ شہر واجب تھی
جام داری شراب خانے کی
جو ہے سو پائمال غم ہے میر
چال بے ڈول ہے زمانے کی
میر تقی میر

ایک دل قطرئہ خوں تس پہ جفا کیا کیا کی

دیوان دوم غزل 947
ہم سے دیکھا کہ محبت نے ادا کیا کیا کی
ایک دل قطرئہ خوں تس پہ جفا کیا کیا کی
کس کو لاگی کہ نہ لوہو میں ڈبایا اس کو
اس کی شمشیر کی جدول بھی بہا کیا کیا کی
جان کے ساتھ ہی آخر مرض عشق گیا
جی بھلا ٹک نہ ہوا ہم نے دوا کیا کیا کی
ان نے چھوڑی نہ طرف جور و جفا کی ہرگز
ہم نے یوں اپنی طرف سے تو وفا کیا کیا کی
سجدہ اک صبح ترے در کا کروں اس خاطر
میں نے محراب میں راتوں کو دعا کیا کیا کی
آگ سی پھنکتی ہی دن رات رہا کی تن میں
جان غمناک ترے غم میں جلا کیا کیا کی
میر نے ہونٹوں سے اس کے نہ اٹھایا جی کو
خلق اس کے تئیں یہ سن کے کہا کیا کیا کی
میر تقی میر

ہم تک نہیں پہنچتی گل کی خبر عطر کچھ

دیوان دوم غزل 946
اب تو صبا چمن سے آتی نہیں ادھر کچھ
ہم تک نہیں پہنچتی گل کی خبر عطر کچھ
ذوق خبر میں ہم تو بے ہوش ہو گئے تھے
کیا جانے کب وہ آیا ہم کو نہیں خبر کچھ
یہ طشت و تیغ ہے اب یہ میں ہوں اور یہ تو
ہے ساتھ میرے ظالم دعویٰ تجھے اگر کچھ
وے دن گئے کہ بے غم کوئی گھڑی کٹے تھی
تھمتے نہیں ہیں آنسو اب تو پہر پہر کچھ
ان اجڑی بستیوں میں دیوار و در ہیں کیا کیا
آثار جن کے ہیں یہ ان کا نہیں اثر کچھ
واعظ نہ ہو معارض نیک و بد جہاں سے
جو ہوسکے تو غافل اپنا ہی فکر کر کچھ
آنکھوں میں میری عالم سارا سیاہ ہے اب
مجھ کو بغیر اس کے آتا نہیں نظر کچھ
ہم نے تو ناخنوں سے منھ سارا نوچ ڈالا
اب کوہکن دکھاوے رکھتا ہے گر ہنر کچھ
تلوار کے تلے ہی کاٹی ہے عمر ساری
ابروے خم سے اس کے ہم کو نہیں ہے ڈر کچھ
گہ شیفتہ ہیں مو کے گہ بائولے ہیں رو کے
احوال میر جی کا ہے شام کچھ سحر کچھ
میر تقی میر

جاں بہ لب رہتے ہیں پر کہتے نہیں ہیں حال کچھ

دیوان دوم غزل 945
آوے کہنے میں رہا ہو غم سے گر احوال کچھ
جاں بہ لب رہتے ہیں پر کہتے نہیں ہیں حال کچھ
بے زری سے داغ ہیں لیکن لبوں پر مہر ہے
کہیے حاجت اپنی لوگوں سے جو وے ہوں مال کچھ
کام کو مشکل دل پر آرزو نے کردیا
یاس کلی ہوچکے تو پھر نہیں اشکال کچھ
دل ترا آیا کسو کے پیچ میں جو سدھ گئی
متصل بکھرے رہا کرتے ہیں منھ پر بال کچھ
ماہ سے ماہی تلک اس داغ میں ہیں مبتلا
کیا بلاے جان ہے میرا تمھارا حال کچھ
ایک دن کنج قفس میں ہم کہیں رہ جائیں گے
بے کلی گل بن بہت رہتی ہے اب کے سال کچھ
کیا اس آتش باز کے لونڈے کا اتنا شوق میر
بہ چلی ہے دیکھ کر اس کو تمھاری رال کچھ
میر تقی میر

صورت اک اعتبار سا ہے کچھ

دیوان دوم غزل 944
بود نقش و نگار سا ہے کچھ
صورت اک اعتبار سا ہے کچھ
یہ جو مہلت جسے کہیں ہیں عمر
دیکھو تو انتظار سا ہے کچھ
منھ نہ ہم جبریوں کا کھلوائو
کہنے کو اختیار سا ہے کچھ
منتظر اس کی گرد راہ کے تھے
آنکھوں میں سو غبار سا ہے کچھ
ضعف پیری میں زندگانی بھی
دوش پر اپنے بار سا ہے کچھ
کیا ہے دیکھو ہو جو ادھر ہر دم
اور چتون میں پیار سا ہے کچھ
اس کی برہم زنی مژگاں سے
دل میں اب خار خار سا ہے کچھ
جیسے عنقا کہاں ہیں ہم اے میر
شہروں میں اشتہار سا ہے کچھ
میر تقی میر

ہے مزاجوں میں اپنے سودا کچھ

دیوان دوم غزل 943
کھینچتا ہے دلوں کو صحرا کچھ
ہے مزاجوں میں اپنے سودا کچھ
دل نہیں جمع چشم تر سے اب
پھیلتا سا چلا یہ دریا کچھ
شہر میں حشر کیوں نہ برپا ہو
شور ہے میرے سر میں کیسا کچھ
ویسے ظاہر کا لطف ہے چھپنا
کم تماشا نہیں یہ پردہ کچھ
خلق کی کیا سمجھ میں وہ آیا
آپ سے تو گیا نہ سمجھا کچھ
یاس سے مجھ کو بھی ہو استغنا
گو نہ ہو اس کو میری پروا کچھ
کچھ نہ دیکھا تھا ہم نے پر تو بھی
آنکھ میں آئی ہی نہ دنیا کچھ
اب تو بگڑے ہی جاتے ہیں خوباں
رنگ صحبت نہیں ہے اچھا کچھ
کچھ کہو دور ہے بہت وہ شوخ
اپنے نزدیک تو نہ ٹھہرا کچھ
وصل اس کا خدا نصیب کرے
میر دل چاہتا ہے کیا کیا کچھ
میر تقی میر

کج طبیعت جو مخالف ہیں انھوں سے جا سمجھ

دیوان دوم غزل 942
ہم سے کیوں الجھا کرے ہے آ سمجھ اے ناسمجھ
کج طبیعت جو مخالف ہیں انھوں سے جا سمجھ
یار کی ان بھولی باتوں پر نہ جا اے ہم نشیں
ایک فتنہ ہے وہ اس کو آہ مت لڑکا سمجھ
خوبرو عشاق سے بد پیش آتے ہی سنے
گرچہ خوش ظاہر ہیں یہ پر ان کو مت اچھا سمجھ
باغباں بے رحم گل بے دید موسم بے وفا
آشیاں اس باغ میں بلبل نے باندھا کیا سمجھ
میں جو نرمی کی تو دونا سر چڑھا وہ بدمعاش
کھانے ہی کو دوڑتا ہے اب مجھے حلوا سمجھ
دور سے دیکھی جو بدحالی وہیں سے ٹل گیا
دو قدم آگے نہ آیا مجھ کو وہ مرتا سمجھ
میر کی عیاریاں معلوم لڑکوں کو نہیں
کرتے ہیں کیا کیا ادائیں اس کو سادہ سا سمجھ
میر تقی میر

چاہ وہ ہے جو ہو نباہ کے ساتھ

دیوان دوم غزل 941
لطف کیا ہر کسو کی چاہ کے ساتھ
چاہ وہ ہے جو ہو نباہ کے ساتھ
وقت کڑھنے کے ہاتھ دل پر رکھ
جان جاتی رہے نہ آہ کے ساتھ
عشق میں ترک سر کیے ہی بنے
مشورت تو بھی کر کلاہ کے ساتھ
ہو اگرچند آسماں پہ ولے
نسبت اس مہ کو کیا ہے ماہ کے ساتھ
سفری وہ جو مہ ہوا تا دیر
چشم اپنی تھی گرد راہ کے ساتھ
جاذبہ تو ان آنکھوں کا دیکھا
جی کھنچے جاتے ہیں نگاہ کے ساتھ
میر سے تم برے ہی رہتے ہو
کیا شرارت ہے خیرخواہ کے ساتھ
میر تقی میر

رہتا ہے آب دیدہ یاں تا گلے ہمیشہ

دیوان دوم غزل 940
پھرتی ہیں اس کی آنکھیں آنکھوں تلے ہمیشہ
رہتا ہے آب دیدہ یاں تا گلے ہمیشہ
تصدیع ایک دو دن ہووے تو کوئی کھینچے
تڑپے جگر ہمیشہ چھاتی جلے ہمیشہ
اک اس مغل بچے کو وعدہ وفا نہ کرنا
کچھ جا کہیں تو کرنا آرے بلے ہمیشہ
کب تک وفا کرے گا یوں حوصلہ ہمارا
دل پیسے درد اکثر غم جی ملے ہمیشہ
اس جسم خاکی سے ہم مٹی میں اٹ رہے ہیں
یوں خاک میں کہاں تک کوئی رلے ہمیشہ
آئندہ و روندہ باد سحر کبوتر
قاصد نیا ادھر کو کب تک چلے ہمیشہ
مسجد میں چل کے ملیے جمعے کے دن بنے تو
ہوتے ہیں میر صاحب واں دن ڈھلے ہمیشہ
میر تقی میر

گویا کہ ہیں یہ لڑکے پیر زمانہ دیدہ

دیوان دوم غزل 939
ٹک پاس آ کے کیسے صرفے سے ہیں کشیدہ
گویا کہ ہیں یہ لڑکے پیر زمانہ دیدہ
اب خاک تو ہماری سب سبز ہو چلی ہے
کب منھ ادھر کرے گا وہ آہوے رمیدہ
یوسف سے کوئی کیونکر اس ماہ کو ملاوے
ہے فرق رات دن کا از دیدہ تا شنیدہ
بندے کے درد دل کو کوئی نہیں پہنچتا
ہر ایک بے حقیقت یاں ہے خدا رسیدہ
کیا وسوسہ ہے مجھ کو عزت سے جینے کا یاں
نکلا نہ میرے دل سے یہ خار ناخلیدہ
ہم کاڑھ کر جگر بھی آگے تمھارے رکھا
پھر یا نصیب اس پر تم جو ہوئے کبیدہ
سائے سے اپنے وحشت ہم کو رہی ہمیشہ
جوں آفتاب ہم بھی کیسے رہے جریدہ
منصور کی نظر تھی جو دار کی طرف سو
پھل وہ درخت لایا آخر سر بریدہ
ذوق سخن ہوا ہے اب تو بہت ہمیں بھی
لکھ لیں گے میر جی کے کچھ شعر چیدہ چیدہ
میر تقی میر

مانند برق ہیں یاں وے لوگ جستہ جستہ

دیوان دوم غزل 938
پیدا نہیں جہاں میں قید جہاں سے رستہ
مانند برق ہیں یاں وے لوگ جستہ جستہ
ظالم بھلی نہیں ہے برہم زنی مژگاں
مر جائے گا کسو دن یوں کوئی سینہ خستہ
پاے حنائی اس کے ہاتھوں ہی پر رکھے ہیں
پر اس کو خوش نہ آیا یہ کار دست بستہ
شہر چمن سے کچھ کم دشت جنوں نہیں ہے
یاں گل ہیں رستہ رستہ واں باغ دستہ دستہ
معمار کا وہ لڑکا پتھر ہے اس کی خاطر
کیوں خاک میں ملا تو اے میر دل شکستہ
میر تقی میر

اس چال پر چلے گی تلوار رفتہ رفتہ

دیوان دوم غزل 937
ظالم یہ کیا نکالی رفتار رفتہ رفتہ
اس چال پر چلے گی تلوار رفتہ رفتہ
ہر آن ہم کو تجھ بن ایک اک برس ہوئی ہے
کیا آ گیا زمانہ اے یار رفتہ رفتہ
کیا کہیے کیونکے جانیں بے پردہ جاتیاں ہیں
اس معنی کا بھی ہو گا اظہار رفتہ رفتہ
یہ ہی سلوک اس کے اکثر چلے گئے تو
بیٹھیں گے اپنے گھر ہم ناچار رفتہ رفتہ
پامال ہوں کہ اس میں ہوں خاک سے برابر
اب ہو گیا ہے سب کچھ ہموار رفتہ رفتہ
چاہت میں دخل مت دے زنہار آرزو کو
کردے ہے دل کی خواہش بیمار رفتہ رفتہ
خاطر نہ جمع رکھو ان پلکوں کی خلش سے
سر دل سے کاڑھتے ہیں یاں خار رفتہ رفتہ
تھے ایک ہم وے دونوں سو اتحاد کیسا
ہر بات پر اب آئی تکرار رفتہ رفتہ
گر بت کدے میں جانا ایسا ہے میر جی کا
تو تار سبحہ ہو گا زنار رفتہ رفتہ
میر تقی میر

سانپ سا چھاتی پہ پھر جاتا ہے آہ

دیوان دوم غزل 936
یاد جب آتی ہے وہ زلف سیاہ
سانپ سا چھاتی پہ پھر جاتا ہے آہ
کھل گیا منھ اب تو اس محجوب کا
کچھ سخن کی بھی نکل آوے گی راہ
شرم کرنی تھی مرا سر کاٹ کر
سو تو ان نے اور ٹیڑھی کی کلاہ
یار کا وہ ناز اپنا یہ نیاز
دیکھیے ہوتا ہے کیونکر یوں نباہ
دین میں اس کافر بے رحم کے
اجر اک رکھتا ہے خون بے گناہ
پتھروں سے سینہ کوبی میں نے کی
دل کے ماتم میں مری چھاتی سراہ
مول لے چک مجھ کو آنکھیں موند کر
دیکھ تو قیمت ہے میری اک نگاہ
لذت دنیا سے کیا بہرہ ہمیں
پاس ہے رنڈی ولے ہے ضعف باہ
روٹھ کر کیا آپ سے ملنے میں لطف
ہووے وہ بھی تو کبھو ٹک عذر خواہ
ضبط بہتیرا ہی کرتے ہیں ولے
آہ اک منھ سے نکل جاتی ہے گاہ
اس کے رو کے رفتہ ہی آئے ہیں یاں
آج سے تو کچھ نہیں یہ جی کی چاہ
دیکھ رہتے دھوکے اس رخسار کے
دایہ منھ دھوتے جو کہتی ماہ ماہ
شیخ تونے خوب سمجھا میر کو
واہ وا اے بے حقیقت واہ واہ
میر تقی میر

دو باتیں گر لکھوں میں دل کو ٹک اک لگالو

دیوان دوم غزل 935
یوں کب ہوا ہے پیارے پاس اپنے تم بلالو
دو باتیں گر لکھوں میں دل کو ٹک اک لگالو
اب جو نصیب میں ہے سو دیکھ لوں گا میں بھی
تم دست لطف اپنا سر سے مرے اٹھا لو
جنبش بھی اس کے آگے ہونٹوں کو ہو تو کہیو
یوں اپنے طور پر تم باتیں بہت بنا لو
دو نعروں ہی میں شب کے ہو گا مکان ہو کا
سن رکھو کان رکھ کر یہ بات بستی والو
نام خدا ستم میں تم نامور تو ہو ہی
پر ایک دو کو یوں ہی للہ مار ڈالو
زلف اور خال و خط کا سودا نہیں ہے اچھا
یارو بنے تو سر سے جلد اس بلا کو ٹالو
یاران رفتہ ایسے کیا دورتر گئے ہیں
ٹک کرکے تیزگامی اس قافلے کو جالو
بازاری سارے وے ہی کہتے ہیں راز بیٹھے
جن کو ہمیں کہا ہے تم منھ سے مت نکالو
یوں رفتہ اور بے خود کب تک رہا کروگے
تم اب بھی میر صاحب اپنے تئیں سنبھالو
میر تقی میر

صبح کی بائو سے لگ لگنے نہ دیتی گل کو

دیوان دوم غزل 934
ہوتی کچھ عشق کی غیرت بھی اگر بلبل کو
صبح کی بائو سے لگ لگنے نہ دیتی گل کو
میں نے سر اپنا دھنا تھا تبھی اس شوخ نے جب
پگڑی کے پیچ سے باندھا تھا اٹھا کاکل کو
مستی ان آنکھوں سے نکلے ہے اگر دیکھو خوب
خلق بدنام عبث کرتی ہے جام مل کو
جیسے ہوتی ہے کتاب ایک ورق بن ناقص
نسبت تام اسی طور ہے جز سے کل کو
ایک لحظے ہی میں بل سارے نکل جاتے میر
پیچ اس زلف کے دینے تھے دکھا سنبل کو
میر تقی میر

محل شکر ہے آتا نہیں گلہ مجھ کو

دیوان دوم غزل 933
عنایت ازلی سے جو دل ملا مجھ کو
محل شکر ہے آتا نہیں گلہ مجھ کو
تنک شراب ضعیف الدماغ ہوں ساقی
دم سحر مئے پرزور مت پلا مجھ کو
پڑا رہے کوئی مردہ سا کب تلک خاموش
ہلا کہیں لب جاں بخش کو جلا مجھ کو
جنوں میں سخت ہے اس زلف سے علاقۂ دل
خوش آگیا ہے نہایت یہ سلسلہ مجھ کو
فلک کی چرخ زنی برسوں ہو تو مجھ سا ہو
سمجھ سمجھ کے تنک خاک میں ملا مجھ کو
رہا تھا خوں تئیں ہمرہ سو آپھی خون ہے حیف
رفیق تجھ سا ملے گا کہاں دلا مجھ کو
درستی جیب کی اتنی نہیں ہے اے ناصح
بنے تو سینۂ صدچاک دے سلا مجھ کو
ہوا ہوں خاک پہ دل کی وہی ہے ناصافی
ابھی اس آئینے کی کرنی ہے جلا مجھ کو
مگر کہ مردن دشوار میر سہل ہے شوخ
ہلاک کرتا ہے تیرا مساہلہ مجھ کو
میر تقی میر

دینا تھا تنک رحم بھی بیدادگروں کو

دیوان دوم غزل 932
کیا چہرے خدا نے دیے ان خوش پسروں کو
دینا تھا تنک رحم بھی بیدادگروں کو
آنکھوں سے ہوئی خانہ خرابی دل اے کاش
کر لیتے تبھی بند ہم ان دونوں دروں کو
پرواز گلستاں کے تو شائستہ نہ نکلے
پروانہ نمط آگ ہم اب دیں گے پروں کو
سب طائر قدسی ہیں یہ جو زیر فلک ہیں
موندا ہے کہاں عشق نے ان جانوروں کو
زنہار ترے دل کی توجہ نہ ہو ایدھر
آگے ترے ہم کاڑھ رکھیں گر جگروں کو
پیراہن صدچاک سلاتے ہیں مرا لوگ
تہ سے نہیں مطلق خبر ان بے خبروں کو
جوں اشک جہاں جاتے رہیں گے تو گئے پھر
دیکھا کرو ٹک آن کے ہم دیدہ تروں کو
اس باغ کے ہر گل سے چپک جاتی ہیں آنکھیں
مشکل بنی ہے آن کے صاحب نظروں کو
آداب جنوں چاہیے ہم سے کوئی سیکھے
دیکھا ہے بہت یاروں نے آشفتہ سروں کو
اندیشہ کی جاگہ ہے بہت میرجی مرنا
درپیش عجب راہ ہے ہم نوسفروں کو
میر تقی میر

کہ افشاں کیجے خون اپنے سے اس کے دامن زیں کو

دیوان دوم غزل 931
ملا یا رب کہیں اس صید افگن سربسر کیں کو
کہ افشاں کیجے خون اپنے سے اس کے دامن زیں کو
گئے وے سابقے سارے خصوصیت رہے پیارے
کبھو در تک تو آ بارے ہمارے دل کی تسکیں کو
پیے جاتے نہیں بس اب لہو کے گھونٹ یہ مجھ سے
بہت پی پی گیا ڈر سے ترے میں اشک خونیں کو
نہ لکھیں یار کو محضر ہمارے خون ناحق کا
دکھا دیویں گے ہم محشر میں اس کے دست رنگیں کو
بجز حیرت نہ بن آوے گی کوئی شکل پھر اس سے
دکھایا ہم نے گر چہرہ ترا صورت گرچیں کو
ابھر کر سنگ کے تختے سے پھر دیکھا کیا اودھر
محبت ہو گئی تھی کوہکن سے نقش شیریں کو
ہم اس کے چاند سے منھ کے ہیں عاشق مہ سے کیا ہم کو
سر اپنا کبک ہی مارا کرے اس خشت سیمیں کو
ہوئے کیا کیا مقدس لوگ آوارہ ترے غم میں
سبک پا کر دکھایا شوخ تونے اہل تمکیں کو
بہت مدت ہوئی صحرا سے مجنوں کی خبر آئے
نہیں معلوم پیش آیا ہے کیا اس یار دیریں کو
لیے تسبیح ہاتھوں میں جو تو باتیں بناتا ہے
نہیں دیکھا ہے واعظ تونے اس غارت گر دیں کو
گیا کوچے سے تیرے اٹھ کے میر آشفتہ سر شاید
پڑا دیکھا تھا میں نے رہ میں اس کے سنگ بالیں کو
میر تقی میر

مجلس میں بہت وجد کی حالت رہی سب کو

دیوان دوم غزل 930
مطرب نے پڑھی تھی غزل اک میر کی شب کو
مجلس میں بہت وجد کی حالت رہی سب کو
پھرتے ہیں چنانچہ لیے خدام سلاتے
درویشوں کے پیراہن صد چاک قصب کو
کیا وجہ کہیں خوں شدن دل کی پیارے
دیکھو تو ہو آئینے میں تم جنبش لب کو
برسوں تئیں جب ہم نے تردد کیے ہیں تب
پہنچایا ہے آدم تئیں واعظ کے نسب کو
ہے رحم کو بھی راہ دل یار میں بارے
جاگہ نہیں یاں ورنہ کہیں اس کے غضب کو
کیا ہم سے گنہگار ہیں یہ سب جو موئے ہیں
کچھ پوچھو نہ اس شوخ کی رنجش کے سبب کو
دل دینے سے اس طرح کے جی کاش کے دیتے
یوں کھینچے کوئی کب تئیں اس رنج و تعب کو
حیرت ہے کہ ہے مدعی معرفت اک خلق
کچھ ہم نے تو پایا نہیں اب تک ترے ڈھب کو
ہو گا کسو دیوار کے سائے میں پڑا میر
کیا ربط محبت سے اس آرام طلب کو
میر تقی میر

قدرت سے اس کے دل کی کل پھیر دے ادھر کو

دیوان دوم غزل 929
لا میری اور یارب آج ایک خوش کمر کو
قدرت سے اس کے دل کی کل پھیر دے ادھر کو
بے طاقتی میں شب کی پوچھو نہ ضبط میرا
ہاتھوں میں دل کو رکھا دانتوں تلے جگر کو
پھولا پھلا نہ اب تک ہرگز درخت خواہش
برسوں ہوئے کہ دوں ہوں خون دل اس شجر کو
ہے روزگار میرا ایسا سیہ کہ یارو
مشکل ہے فرق کرنا ٹک شام سے سحر کو
ہرچند ہے سخن کو تشبیہ در سے لیکن
باتیں مری سنو تو تم پھینک دو گہر کو
نزدیک ہے کہ جاویں ہم آپ سے اب آئو
ملتے ہیں دوستوں سے جاتے ہوئے سفر کو
کب میر ابر ویسا برساوے کر اندھیری
جیسا کہ روتے ہم نے دیکھا ہے چشم تر کو
میر تقی میر

گل پھول دیکھنے کو بھی ٹک اٹھ چلا کرو

دیوان دوم غزل 928
جوں غنچہ میر اتنے نہ بیٹھے رہا کرو
گل پھول دیکھنے کو بھی ٹک اٹھ چلا کرو
جوں نے نہ زارنالی سے ہم ایک دم رہیں
تم بند بند کیوں نہ ہمارا جدا کرو
سوتے کے سوتے یوں ہی نہ رہ جائیں ہم کبھو
آنکھیں ادھر سے موند نہ اپنی لیا کرو
سودے میں اس کے بک گئے ایسے کئی ہزار
یوسفؑ کا شور دور ہی سے تم سنا کرو
ہوتے ہو بے دماغ تو دیکھو ہو ٹک ادھر
غصے ہی ہم پہ کاش کے اکثر رہا کرو
یہ اضطراب دیکھ کہ اب دشمنوں سے بھی
کہتا ہوں اس کے ملنے کی کچھ تم دعا کرو
دم رکتے ہیں سیاہی مژگاں ہی دیکھ کر
سرمہ لگا کے اور ہمیں مت خفا کرو
پورا کریں ہیں وعدے کو اپنے ہم آج کل
وعدے کے تیں وصال کے تم بھی وفا کرو
دشمن ہیں اپنے جی کے تمھارے لیے ہوئے
تم بھی حقوق دوستی کے کچھ ادا کرو
اپنا چلے تو آپھی ستم سب اٹھایئے
تم کون چاہتا ہے کسو پر جفا کرو
ہر چند ساتھ جان کے ہے عشق میر لیک
اس درد لاعلاج کی کچھ تو دوا کرو
میر تقی میر

اس کنے بیٹھنے پائو تو مباہات کرو

دیوان دوم غزل 927
مت سگ یار سے دعواے مساوات کرو
اس کنے بیٹھنے پائو تو مباہات کرو
صحبت آخر ہے ہماری نہ کرو پھر افسوس
متصل ہوسکے تو ہم سے ملاقات کرو
دیدنی ہے یہ ہوا شیخ جی سے کوئی کہے
کہ چلو میکدے ٹک تم تو کرامات کرو
تم تو تصویر ہوئے دیکھ کے کچھ آئینہ
اتنی چپ بھی نہیں ہے خوب کوئی بات کرو
بس بہت وقت کیا شعر کے فن میں ضائع
میر اب پیر ہوئے ترک خیالات کرو
میر تقی میر

پر ہے یہی ہمارے کیے کی سزا کہو

دیوان دوم غزل 926
لائق نہیں تمھیں کہ ہمیں ناسزا کہو
پر ہے یہی ہمارے کیے کی سزا کہو
چپکے رہے بھی چین نہیں تب کہے ہے یوں
لب بستہ بیٹھے رہتے جو ہو مدعا کہو
پیغام بر تو یارو تمھیں میں کروں ولے
کیا جانوں جاکے حق میں مرے اس سے کیا کہو
اب نیک و بد پہ عشق میں مجھ کو نظر نہیں
اس میں مجھے برا کہو کوئی بھلا کہو
سر خاک آستاں پہ تمھاری رہا مدام
اس پر بھی یا نصیب جو تم بے وفا کہو
برسوں تلک تو گھر میں بلا گالیاں دیاں
اب در پہ سن کے کہنے لگے ہیں دعا کہو
صحبت ہماری اس کی جو ہے گفتنی نہیں
کیا کہیے گر کہے کوئی یہ ماجرا کہو
یارو خصوصیت تو رہے اپنی اس کے ساتھ
میرا کہو جو حال تو اس سے جدا کہو
آشفتہ مو حواس پریشاں خراب حال
دیکھو مجھے تو خبطی دوانہ سڑا کہو
کب شرح شوق ہوسکے پر تو بھی میرجی
خط تم نے جو لکھا اسے کیا کیا لکھا کہو
میر تقی میر

آخر ہوئی کہانی مری تم بھی سو رہو

دیوان دوم غزل 925
سب سرگذشت سن چکے اب چپکے ہو رہو
آخر ہوئی کہانی مری تم بھی سو رہو
جوش محیط عشق میں کیا جی سے گفتگو
اس گوہر گرامی سے اب ہاتھ دھو رہو
فندق تو ہے پہ یہ بھی تماشے کا رنگ ہے
ٹک انگلیوں کو خون میں میرے ڈبو رہو
اتنا سیاہ خانۂ عاشق سے ننگ کیا
کتنے دنوں میں آئے ہو یاں رات تو رہو
ٹھہرائو تم کو شوخی سے جوں برق ٹک نہیں
ٹھہرے تو ٹھہرے دل بھی مرا نچلے جو رہو
ہم خواب تجھ سے ہوکے رہا جاوے کس طرح
ملتے ہوئے سمجھ کے کہا کر رہو رہو
خطرہ بہت ہے میر رہ صعب عشق میں
ایسا نہ ہو کہیں کہ دل و دیں کو کھو رہو
میر تقی میر

وہ چاند سا جو نکلے تو رفع حجاب ہو

دیوان دوم غزل 924
تاچند انتظار قیامت شتاب ہو
وہ چاند سا جو نکلے تو رفع حجاب ہو
احوال کی خرابی مری پہنچی اس سرے
اس پر بھی وہ کہے ہے ابھی ٹک خراب ہو
یاں آنکھیں مندتے دیر نہیں لگتی میری جاں
میں کان کھولے رکھتا ہوں تیرے شتاب ہو
پھولوں کے عکس سے نہیں جوے چمن میں رنگ
گل بہ چلے ہیں شرم سے اس منھ کی آب ہو
یاں جرم گنتے انگلیوں کے خط بھی مٹ گئے
واں کس طرح سے دیکھیں ہمارا حساب ہو
غفلت ہے اپنی عمر سے تم کو ہزار حیف
یہ کاروان جانے پہ تم مست خواب ہو
شان تغافل اس کی لکھی ہم سے کب گئی
جب نامہ بر ہلاک ہو تب کچھ جواب ہو
لطف شراب ابر سے ہے سو نصیب دیکھ
جب لیویں جام ہاتھ میں تب آفتاب ہو
ہستی پر ایک دم کی تمھیں جوش اس قدر
اس بحرموج خیز میں تم تو حباب ہو
جی چاہتا ہے عیش کریں ایک رات ہم
تو ہووے چاندنی ہو گلابی شراب ہو
پرپیچ و تاب دود دل اپنا ہے جیسے زلف
جب اس طرح سے جل کے درونہ کباب ہو
آگے زبان یار کے خط کھینچے سب نے میر
پہلی جو بات اس کی کہیں تو کتاب ہو
میر تقی میر

کہ پھر موئے ہی بنے ہے اگر جدائی ہو

دیوان دوم غزل 923
خدا کرے کہ بتوں سے نہ آشنائی ہو
کہ پھر موئے ہی بنے ہے اگر جدائی ہو
بدن نما ہے ہر آئینہ لوح تربت کا
نظر جسے ہو اسے خاک خودنمائی ہو
بدی نوشتے کی تحریر کیا کروں اپنے
کہ نامہ پہنچے تو پھر کاغذ ہوائی ہو
فرو نہ آوے سر اس کا طواف کعبہ سے
نصیب جس کے ترے در کی جبہہ سائی ہو
ہماری چاہ نہ یوسفؑ ہی پر ہے کچھ موقوف
نہیں ہے وہ تو کوئی اور اس کا بھائی ہو
گلی میں اس کی رہا جا کے جو کوئی سو رہا
وہی تو جاوے ہے واں جس کسو کی آئی ہو
لب سوال نہ اک بوسے کے لیے کھولوں
ہزار مہر و محبت میں بے نوائی ہو
زمانہ یار نہیں اپنے بخت سے اتنا
کہ مدعی سے اسے ایک دن لڑائی ہو
جفا و جور و ستم اس کے آپ ہی سہیے
جو اپنے حوصلہ میں کچھ بھی اب سمائی ہو
ہزار موسم گل تو گئے اسیری میں
دکھائی دے ہے موئے ہی پہ اب رہائی ہو
چمکتے دانتوں سے اس کے ہوئی ہے روکش میر
عجب نہیں ہے کہ بجلی کی جگ ہنسائی ہو
میر تقی میر

بے رحمی اتنی عیب نہیں بے وفا نہ ہو

دیوان دوم غزل 922
ظالم ہو میری جان پہ ناآشنا نہ ہو
بے رحمی اتنی عیب نہیں بے وفا نہ ہو
کرتی ہے عشق بازی کو بے مائگی وبال
کیا کھیلے وہ جوا جسے کچھ آسرا نہ ہو
ہجر بتاں میں طبع پراگندہ ہی رہی
کافر بھی اپنے یار سے یارب جدا نہ ہو
آزار کھینچنے کے مزے عاشقوں سے پوچھ
کیا جانے وہ کہ جس کا کہیں دل لگا نہ ہو
کھینچا ہے آدمی نے بہت دور آپ کو
اس پردے میں خیال تو کر ٹک خدا نہ ہو
رک جائے دم گر آہ نہ کریے جہاں کے بیچ
اس تنگناے میں کریں کیا جو ہوا نہ ہو
طرزسخن تو دیکھ ٹک اس بدمعاش کی
دل داغ کس طرح سے ہمارا بھلا نہ ہو
شکوہ سیاہ چشمی کا سن ہم سے یہ کہا
سرمہ نہیں لگانے کا میں تم خفا نہ ہو
جی میں تو ہے کہ دیکھیے آوارہ میر کو
لیکن خدا ہی جانے وہ گھر میں ہو یا نہ ہو
میر تقی میر

جی میں ہم نے یہ کیا ہے اب مقرر ہو سو ہو

دیوان دوم غزل 921
رکھیے گردن کو تری تیغ ستم پر ہو سو ہو
جی میں ہم نے یہ کیا ہے اب مقرر ہو سو ہو
قطرہ قطرہ اشک باری تو کجا پیش سحاب
ایک دن تو ٹوٹ پڑ اے دیدئہ تر ہو سو ہو
بند میں ناز و نعم ہی کے رہے کیونکر فقیر
یہ فضولی ہے فقیری میں میسر ہو سو ہو
آ کے کوچے سے ترے جاتا ہوں کب جوں ابرشب
تیر باراں ہو کہ برسے تیغ یک سر ہو سو ہو
صاحبی کیسی جو تم کو بھی کوئی تم سا ملا
پھر تو خواری بے وقاری بندہ پرور ہو سو ہو
کب تلک فریاد کرتے یوں پھریں اب قصد ہے
داد لیجے اپنی اس ظالم سے اڑ کر ہو سو ہو
بال تیرے سر کے آگے تو جیوں کے ہیں وبال
سر منڈاکر ہم بھی ہوتے ہیں قلندر ہو سو ہو
سختیاں دیکھیں تو ہم سے چند کھنچواتا ہے عشق
دل کو ہم نے بھی کیا ہے اب تو پتھر ہو سو ہو
کہتے ہیں ٹھہرا ہے تیرا اور غیروں کا بگاڑ
ہیں شریک اے میر ہم بھی تیرے بہتر ہو سو ہو
میر تقی میر

سو تب تلک کہ مجھ کو ہجراں سے تیرے خو ہو

دیوان دوم غزل 920
ٹک لطف سے ملاکر گو پھر کبھو کبھو ہو
سو تب تلک کہ مجھ کو ہجراں سے تیرے خو ہو
کیا کیا جوان ہم نے دنیا سے جاتے دیکھے
اے عشق بے محابا دنیا ہو اور تو ہو
ایسے کہو گے کچھ تو ہم چپکے ہو رہیں گے
ہر بات پر کہاں تک آپس میں گفتگو ہو
کیا ہے جواب ظالم پرسش کے روز کہیو
جو روسیاہ یہ بھی واں آ کے روبرو ہو
پرخوں ہمارے دل سے کتنی ہے تو مشابہ
شاید کلی تجھے بھی اس گل کی آرزو ہو
خط اس کے پشت لب کا ساکت کرے گا تجھ کو
کہیو اگر تفاوت اس میں بقدرمو ہو
کھولے تھے بال کن نے ہنگام صبح اپنے
آئی ہے اے صبا تو ایسی جو مشک بو ہو
درویشی سے بھی اپنی نکلے ہے میرزائی
نقش حصیر تن پر ایسے ہیں جوں اتو ہو
مت التیام چاہے پھر دل شکستگاں سے
ممکن نہیں کہ شیشہ ٹوٹا ہوا رفو ہو
کہتے ہو کانپتا ہوں جوں بید عاشقی سے
تم بھی تو میر صاحب کتنے خلاف گو ہو
میر تقی میر

ایسا نہ ہو کہ کام ہی اس کا اخیر ہو

دیوان دوم غزل 919
ہر صبح شام تو پئے ایذاے میر ہو
ایسا نہ ہو کہ کام ہی اس کا اخیر ہو
ہو کوئی بادشاہ کوئی یاں وزیر ہو
اپنی بلا سے بیٹھ رہے جب فقیر ہو
جنت کی منت ان کے دماغوں سے کب اٹھے
خاک رہ اس کی جن کے کفن کا عبیر ہو
کیا یوں ہی آب و تاب سے ہو بیٹھیں کار عشق
سوکھے جگر کا خوں تو رواں جوے شیر ہو
چھاتی قفس میں داغ سے ہو کیوں نہ رشک باغ
جوش بہار تھا کہ ہم آئے اسیر ہو
یاں برگ گل اڑاتے ہیں پرکالۂ جگر
جا عندلیب تو نہ مری ہم صفیر ہو
اس کے خیال خط میں کسے یاں دماغ حرف
کرتی ہے بے مزہ جو قلم کی صریر ہو
زنہار اپنی آنکھ میں آتا نہیں وہ صید
پھوٹا دوسار جس کے جگر میں نہ تیر ہو
ہوتے ہیں میکدے کے جواں شیخ جی برے
پھر درگذر یہ کرتے نہیں گوکہ پیر ہو
کس طرح آہ خاک مذلت سے میں اٹھوں
افتادہ تر جو مجھ سے مرا دستگیر ہو
حد سے زیادہ جور و ستم خوشنما نہیں
ایسا سلوک کر کہ تدارک پذیر ہو
دم بھر نہ ٹھہرے دل میں نہ آنکھوں میں ایک پل
اتنے سے قد پہ تم بھی قیامت شریر ہو
ایسا ہی اس کے گھر کو بھی آباد دیکھیو
جس خانماں خراب کا یہ دل مشیر ہو
تسکین دل کے واسطے ہر کم بغل کے پاس
انصاف کریے کب تئیں مخلص حقیر ہو
یک وقت خاص حق میں مرے کچھ دعا کرو
تم بھی تو میر صاحب و قبلہ فقیر ہو
میر تقی میر

پھر برسوں تئیں پیارے جی سے نہیں جاتے ہو

دیوان دوم غزل 918
برسوں میں کبھو ایدھر تم ناز سے آتے ہو
پھر برسوں تئیں پیارے جی سے نہیں جاتے ہو
آتے ہو کبھو یاں تو ہم لطف نہیں پاتے
سو آفتیں لاتے ہو سو فتنے اٹھاتے ہو
رہتے ہو تم آنکھوں میں پھرتے ہو تمھیں دل میں
مدت سے اگرچہ یاں آتے ہو نہ جاتے ہو
ایسی ہی زباں ہے تو کیا عہدہ برآ ہوں گے
ہم ایک نہیں کہتے تم لاکھ سناتے ہو
خوش کرنے سے ٹک ایسے ناخوش ہی رکھا کریے
ہنستے ہو گھڑی بھر تو پہروں ہی رلاتے ہو
اک خلق تلاشی ہے تم ہاتھ نہیں لگتے
لڑکے تو ہو پر سب کو ٹالے ہی بتاتے ہو
مدت سے تمھارا کب ایدھر کو تہ دل ہے
کاہے کو تصنع سے یہ باتیں بناتے ہو
کچھ عزت کفر آخر اے دیر کے باشندو
مجھ سہل سے کو کیوں تم زنار بندھاتے ہو
آوارہ اسے پھرتے پھر برسوں گذرتے ہیں
تم جس کسو کو اپنے ٹک پاس بٹھاتے ہو
دل کھول کے مل چلیے جو میر سے ملنا ہے
آنکھیں بھی دکھاتے ہو پھر منھ بھی چھپاتے ہو
میر تقی میر

ابھی کیا جانیے یاں کیا سماں ہو

دیوان دوم غزل 917
نہ میرے باعث شور و فغاں ہو
ابھی کیا جانیے یاں کیا سماں ہو
یہی مشہور عالم ہیں دوعالم
خدا جانے ملاپ اس سے کہاں ہو
جہاں سجدے میں ہم نے غش کیا تھا
وہیں شاید کہ اس کا آستاں ہو
نہ ہووے وصف ان بالوں کا مجھ سے
اگر ہر مو مرے تن پر زباں ہو
جگر تو چھن گیا تیروں کے مارے
تمھاری کس طرح خاطر نشاں ہو
نہ دل سے جا خدا کی تجھ کو سوگند
خدائی میں اگر ایسا مکاں ہو
تم اے نازک تناں ہو وہ کہ سب کے
تمناے دل و آرام جاں ہو
ہلے ٹک لب کہ اس نے مار ڈالا
کہے کچھ کوئی گر جی کی اماں ہو
سنا ہے چاہ کا دعویٰ تمھارا
کہو جو کچھ کہ چاہو مہرباں ہو
کنارہ یوں کیا جاتا نہیں پھر
اگر پاے محبت درمیاں ہو
ہوئے ہم پیر سو ساکت ہیں اب میر
تمھاری بات کیا ہے تم جواں ہو
میر تقی میر

درمیاں تو ہو سامنے گل ہو

دیوان دوم غزل 916
منعقد کاش مجلس مل ہو
درمیاں تو ہو سامنے گل ہو
گرمیاں متصل رہیں باہم
نے تساہل ہو نے تغافل ہو
اب دھواں یوں جگر سے اٹھتا ہے
جیسے پرپیچ کوئی کاکل ہو
نہ تو طالع نہ جذب پھر دل کو
کس بھروسے پہ ٹک تحمل ہو
لگ نہ چل اے نسیم باغ کہ میں
رہ گیا ہوں چراغ سا گل ہو
ادھ جلا لالہ ساں رہا تو کیا
داغ بھی ہو تو کوئی بالکل ہو
طول رکھتا ہے درد دل میرا
لکھنے بیٹھوں تو خط ترسل ہو
ہوجو مجھ بادہ کش کے عرس میں تو
جبکہ قلقل سے شیشے کی قل ہو
دیر رہنے کی جا نہیں یہ چمن
بوے گل ہو صفیر بلبل ہو
مجھ دوانے کی مت ہلا زنجیر
کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر غل ہو
منکشف ہو رہا ہے حال میر
کاش ٹک یار کو تامل ہو
میر تقی میر

کیا کہیں جو کچھ کہ ہو تم خوب ہو

دیوان دوم غزل 915
بدزباں ہو جیسے خوش اسلوب ہو
کیا کہیں جو کچھ کہ ہو تم خوب ہو
بے نقابی اس کی ہے ہم پر ستم
لایئے منھ پر تو وہ محجوب ہو
ایسا شہر حسن ہی ہے تازہ رسم
دوستی باہم جہاں معیوب ہو
مطلب عمدہ ہے دل لے تو رکھو
گاہ باشد تم کو بھی مطلوب ہو
چاہیے ہے اور کچھ عاشق کو کیا
جان کا خواہاں اگر محبوب ہو
لوہو پینا جان کھانا دیکھیے
کیا مزاج عشق میں مرغوب ہو
جو کہو ہو سو مخالف عقل کے
میر صاحب تم مگر مجذوب ہو
میر تقی میر

کیا ہے جھمک کفک کی رنگ حنا تو دیکھو

دیوان دوم غزل 914
گل برگ سے ہیں نازک خوبی پا تو دیکھو
کیا ہے جھمک کفک کی رنگ حنا تو دیکھو
ہر بات پر خشونت طرزجفا تو دیکھو
ہر لمحہ بے ادائی اس کی ادا تو دیکھو
سائے میں ہر پلک کے خوابیدہ ہے قیامت
اس فتنۂ زماں کو کوئی جگا تو دیکھو
بلبل بھی گل گئے پر مرکر چمن سے نکلی
اس مرغ شوق کش کی ٹک تم وفا تو دیکھو
طنزیں عبث کرو ہو غش رہنے پر ہمارے
دو چار دن کسو سے دل کو لگا تو دیکھو
ہونا پڑے ہے دشمن ہر گام اپنی جاں کا
کوچے میں دوستی کے ہر کوئی آ تو دیکھو
پیری میں مول لے ہے منعم حویلیوں کو
ڈھہتا پھرے ہے آپھی اس پر بنا تو دیکھو
ڈوبی ہے کشتی میری بحر عمیق غم میں
بیگانے سے کھڑے ہو تم آشنا تو دیکھو
آئے جو ہم تو ان نے آنکھوں میں ہم کو رکھا
اہل ہوس سے کوئی اودھر کو جا تو دیکھو
ہے اس چمن میں وہ گل صد رنگ محو جلوہ
دیکھو جہاں وہی ہے کچھ اس سوا تو دیکھو
اشعار میر پر ہے اب ہائے وائے ہر سو
کچھ سحر تو نہیں ہے لیکن ہوا تو دیکھو
میر تقی میر

تھا ہمارا بھی چمن میں اے صبا مسکن کبھو

دیوان دوم غزل 913
اب اسیری سے بچیں تو دیکھیں گے گلشن کبھو
تھا ہمارا بھی چمن میں اے صبا مسکن کبھو
ہم بھی ایک امید پر اس صید گہ میں ہیں پڑے
کہتے ہیں آتا ہے ایدھر وہ شکار افگن کبھو
بند پایا جیب میں یا سر سے مارا تنگ ہو
دست کوتہ میں نہ آیا اپنے وہ دامن کبھو
یار کی برگشتہ مژگاں سے نہ دل کو جمع رکھ
بد بلا ہے پھر کھڑی ہووے جو یہ پلٹن کبھو
جان کوئی کیوں نہ دو اس بے مروت کے لیے
آشنا ہوتا نہیں وہ دوستی دشمن کبھو
ہوں تو نالاں زیر دیوار چمن پر ضعف سے
گوش زد گل کے نہیں ہوتا مرا شیون کبھو
دل مگر ان جامہ زیبوں کو دیا ہے میر نے
اس طرح پھرتے نہ تھے وے چاک پیراہن کبھو
میر تقی میر

کس قدر مغرور ہے اللہ تو

دیوان دوم غزل 912
ملتفت ہوتا نہیں ہے گاہ تو
کس قدر مغرور ہے اللہ تو
مجھ سے کتنے جان سے جاتے رہے
کس کی میت کے گیا ہمراہ تو
بے خودی رہتی ہے اب اکثر مجھے
حال سے میرے نہیں آگاہ تو
اس کے دل میں کام کرنا کام ہے
یوں فلک پر کیوں نہ جا اے آہ تو
فرش ہیں آنکھیں ہی تیری راہ میں
آہ ٹک تو دیکھ کر چل راہ تو
جی تلک تو منھ نہ موڑیں تجھ سے ہم
کر جفا و جور خاطر خواہ تو
کاہش دل بھی دو چنداں کیوں نہ ہو
آنکھ میں آوے نہ دو دو ماہ تو
دل دہی کیا کی ہے یوں ہی چاہیے
اے زہے تو آفریں تو واہ تو
میر تو تو عاشقی میں کھپ گیا
مت کسی کو چند روز اب چاہ تو
میر تقی میر

برہم زدہ شہر ہے جہاں تو

دیوان دوم غزل 911
سب حال سے بے خبر ہیں یاں تو
برہم زدہ شہر ہے جہاں تو
اس تن پہ نثار کرتے لیکن
اپنی بھی نظر میں ٹھہرے جاں تو
برباد نہ دے کہیں سراسر
رہتی نہیں شمع ساں زباں تو
کیا اس کے گئے ہے ذکر دل کا
ویران پڑا ہے یہ مکاں تو
کیا کیا نہ عزیز خوار ہوں گے
ہونے دو اسے ابھی جواں تو
غنچہ لگے منھ تمھارے لیکن
صحبت کا اسے بھی ہو دہاں تو
کیا اس سے رکھیں امید بہبود
پھرتا ہے خراب آسماں تو
یہ طالع نارسا بھی جاگیں
سو جائے ٹک اس کا پاسباں تو
مت تربت میر کو مٹائو
رہنے دو غریب کا نشاں تو
میر تقی میر

نہ ہو گلچین باغ حسن ظالم زرد ہو گا تو

دیوان دوم غزل 910
نہ مائل آرسی کا رہ سراپا درد ہو گا تو
نہ ہو گلچین باغ حسن ظالم زرد ہو گا تو
یہ پیشہ عشق کا ہے خاک چھنوائے گا صحرا کی
ہزار اے بے وفا جوں گل چمن پرورد ہو گا تو
غبار اٹھنے لگے گا تیری اس نازک طبیعت سے
بسان گردباد آخر بیاباں گرد ہو گا تو
علاقہ دل کا لکھوائے گا دفتر ہاتھ سے تیرے
تجرد کے جریدوں میں قلم سا فرد ہو گا تو
نہ یک دم صبح تک بھی آنکھ لگنے دے گا دل جلنا
یہی پھر میر سا سرگرم آہ سرد ہو گا تو
میر تقی میر

کاہے کو یوں کھڑے ہو وحشی سے بیٹھ جائو

دیوان دوم غزل 909
اتنا کہا نہ ہم سے تم نے کبھو کہ آئو
کاہے کو یوں کھڑے ہو وحشی سے بیٹھ جائو
یہ چاند کے سے ٹکڑے چھپتے نہیں چھپائے
ہر چند اپنے منھ کو برقع میں تم چھپائو
دوچار تیر یارو اس سے بھلی ہے دوری
تم کھینچ کھینچ مجھ کو اس پلے پر نہ لائو
ہو شرم آنکھ میں تو بھاری جہاز سے ہے
مت کرکے شوخ چشمی آشوب سا اٹھائو
اب آتے ہو تو آئو ہر لحظہ جی گھٹے ہے
پھر لطف کیا جو آکر آدھا بھی تم نہ پائو
تھی سحر یا نگہ تھی ہم آپ کو تھے بھولے
اس جادوگر کو یارو پھر بھی تنک دکھائو
بارے گئے سو گذرے جی بھر بھر آتے ہیں کیا
آئندہ میر صاحب دل مت کہیں لگائو
میر تقی میر

اس آتش خاموش کا ہے شور جہاں میں

دیوان دوم غزل 908
معلوم نہیں کیا ہے لب سرخ بتاں میں
اس آتش خاموش کا ہے شور جہاں میں
یوسفؑ کے تئیں دیکھ نہ کیوں بند ہوں بازار
یہ جنس نکلتی نہیں ہر اک کی دکاں میں
یک پرچۂ اشعار سے منھ باندھے سبھوں کے
جادو تھا مرے خامے کی گویا کہ زباں میں
یہ دل جو شکستہ ہے سو بے لطف نہیں ہے
ٹھہرو کوئی دم آن کے اس ٹوٹے مکاں میں
میں لگ کے گلے خوب ہی رویا لب جو پر
ملتی تھی طرح اس کی بہت سرو رواں میں
کیا قہر ہوا دل جو دیا لڑکوں کو میں نے
چرچا ہے یہی شہر کے اب پیر و جواں میں
وے یاسمن تازہ شگفتہ میں کہاں میر
پائے گئے لطف اس کے جو پائوں کے نشاں میں
میر تقی میر

کھو گئے دنیا سے تم ہو اور اب دنیا ہو میاں

دیوان دوم غزل 907
کیا کہیں پایا نہیں جاتا ہے کچھ تم کیا ہو میاں
کھو گئے دنیا سے تم ہو اور اب دنیا ہو میاں
مت حنائی پائوں سے چل کر کہیں جایا کرو
دلی ہے آخر نہ ہنگامہ کہیں برپا ہو میاں
دل جہاں کھویا گیا کھویا گیا پھر دیکھیے
کون مرتا ہے جیے ہے کون ناپیدا ہو میاں
دل کو لے کر صاف یوں آنکھیں ملاتا ہے کوئی
تب تلک ہی لطف ہے جب تک کہ کچھ پردہ ہو میاں
ایک جنبش میں ترے ابرو کی ٹل جاتی ہے بھیڑ
درمیاں آوے اگر تلوار تو پرچھا ہو میاں
برسوں تک چھایا رہا ہے چشم تر پر ابر سا
پاٹ دامن کا نچوڑوں کوئی تو دریا ہو میاں
شہر میں تو موسم گل میں نہیں لگتا ہے جی
یا گریباں کوہ کا یا دامن صحرا ہو میاں
مدعی عشق تو ہیں عزلتی شہر لیک
جب گلی کوچوں میں کوئی اس طرح رسوا ہو میاں
گفتگو اتنی پریشاں حال کی یہ درہمی
میر کچھ دل تنگ ہے ایسا نہ ہو سودا ہو میاں
میر تقی میر

چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں

دیوان دوم غزل 906
کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں
چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں
گوہرگوش کسو کا نہیں جی سے جاتا
آنسو موتی سے مرے منھ پہ ڈھلے جاتے ہیں
یہی مسدود ہے کچھ راہ وفا ورنہ بہم
سب کہیں نامہ و پیغام چلے جاتے ہیں
بارحرمان و گل و داغ نہیں اپنے ساتھ
شجر باغ وفا پھولے پھلے جاتے ہیں
حیرت عشق میں تصویر سے رفتہ ہی رہے
ایسے جاتے ہیں جو ہم بھی تو بھلے جاتے ہیں
ہجر کی کوفت جو کھینچے ہیں انھیں سے پوچھو
دل دیے جاتے ہیں جی اپنے ملے جاتے ہیں
یاد قد میں ترے آنکھوں سے بہیں ہیں جوئیں
گر کسو باغ میں ہم سرو تلے جاتے ہیں
دیکھیں پیش آوے ہے کیا عشق میں اب تو جوں سیل
ہم بھی اس راہ میں سر گاڑے چلے جاتے ہیں
پُرغباری جہاں سے نہیں سدھ میر ہمیں
گرد اتنی ہے کہ مٹی میں رلے جاتے ہیں
میر تقی میر

سو لطف کیوں نہ جمع ہوں اس میں مزہ نہیں

دیوان دوم غزل 905
لذت سے درد کی جو کوئی آشنا نہیں
سو لطف کیوں نہ جمع ہوں اس میں مزہ نہیں
ہر آن کیا عوض ہے دعا کا بدی ولے
تم کیا کرو بھلے کا زمانہ رہا نہیں
روے سخن جو ہے تو مرا چشم دل کی اور
تم سے خدانخواستہ مجھ کو گلہ نہیں
تلوار ہی کھنچا کی ترے ہوتے بزم میں
بیٹھا ہے کب تو آ کے کہ فتنہ اٹھا نہیں
مل دیکھے ایسے دلبر ہرجائی سے کوئی
بے جا نہیں ہے دل جو ہمارا بجا نہیں
ہو تم جو میرے حیرتی فرط شوق وصل
کیا جانو دل کسو سے تمھارا لگا نہیں
آئینے پر سے ٹک نہیں اٹھتی تری نظر
اس شوق کش کے منھ سے تجھے کچھ حیا نہیں
رنگ اور بو تو دلکش و دلچسپ ہیں کمال
لیکن ہزار حیف کہ گل میں وفا نہیں
تیرستم کا تیرے ہدف کب تلک رہوں
آخر جگر ہے لوہے کا کوئی توا نہیں
ان نے تو آنکھیں موند لیاں ہیں ادھر سے واں
ایک آدھ دن میں دیکھیے یاں کیا ہے کیا نہیں
اٹھتے ہو میر دیر سے تو کعبے چل رہو
مغموم کاہے کو ہو تمھارے خدا نہیں
میر تقی میر

یہ دوانہ بائولا عاقل ہے میاں

دیوان دوم غزل 904
کیا عبث مجنوں پئے محمل ہے میاں
یہ دوانہ بائولا عاقل ہے میاں
قند کا کون اس قدر مائل ہے میاں
جو ہے ان ہونٹوں ہی کا قائل ہے میاں
ہم نے یہ مانا کہ واعظ ہے ملک
آدمی ہونا بہت مشکل ہے میاں
چشم تر کی خیر جاری ہے سدا
سیل اس دروازے کا سائل ہے میاں
مرنے کے پیچھے تو راحت سچ ہے لیک
بیچ میں یہ واقعہ حائل ہے میاں
دل کی پامالی ستم ہے قہر ہے
کوئی یوں دلتا ہے آخر دل ہے میاں
آج کیا فرداے محشر کا ہراس
صبح دیکھیں کیا ہو شب حامل ہے میاں
دل تڑپتا ہی نہیں کیا جانیے
کس شکار انداز کا بسمل ہے میاں
چاہیے پیش از نماز آنکھیں کھلیں
حیف اس کا وقت جو غافل ہے میاں
رنگ بے رنگی جدا تو ہے ولے
آب سا ہر رنگ میں شامل ہے میاں
سامنے سے ٹک ٹلے تو دق نہ ہو
آسماں چھاتی پر اپنی سل ہے میاں
دل لگی اتنی جہاں میں کس لیے
رہگذر ہے یہ تو کیا منزل ہے میاں
بے تہی دریاے ہستی کی نہ پوچھ
یاں سے واں تک سو جگہ ساحل ہے میاں
چشم حق بیں سے کرو ٹک تم نظر
دیکھتے جو کچھ ہو سب باطل ہے میاں
دردمندی ہی تو ہے جو کچھ کہ ہے
حق میں عاشق کے دوا قاتل ہے میاں
برسوں ہم روتے پھرے ہیں ابر سے
زانو زانو اس گلی میں گل ہے میاں
کہنہ سالی میں ہے جیسے خورد سال
کیا فلک پیری میں بھی جاہل ہے میاں
کیا دل مجروح و محزوں کا گلہ
ایک غمگیں دوسرے گھائل ہے میاں
دیکھ کر سبزہ ہی خرم دل کو رکھ
مزرع دنیا کا یہ حاصل ہے میاں
مستعدوں پر سخن ہے آج کل
شعر اپنا فن سو کس قابل ہے میاں
کی زیارت میر کی ہم نے بھی کل
لاابالی سا ہے پر کامل ہے میاں
میر تقی میر

رہا دیکھ اپنا پرایا ہمیں

دیوان دوم غزل 903
جنوں نے تماشا بنایا ہمیں
رہا دیکھ اپنا پرایا ہمیں
سدا ہم تو کھوئے گئے سے رہے
کبھو آپ میں تم نے پایا ہمیں
یہی تا دم مرگ بیتاب تھے
نہ اس بن تنک صبر آیا ہمیں
شب آنکھوں سے دریا سا بہتا رہا
انھیں نے کنارے لگایا ہمیں
ہمارا نہیں تم کو کچھ پاس رنج
یہ کیا تم نے سمجھا ہے آیا ہمیں
لگی سر سے جوں شمع پا تک گئی
سب اس داغ نے آہ کھایا ہمیں
جلیں پیش و پس جیسے شمع و پتنگ
جلا وہ بھی جن نے جلایا ہمیں
ازل میں ملا کیا نہ عالم کے تیں
قضا نے یہی دل دلایا ہمیں
رہا تو تو اکثر الم ناک میر
ترا طور کچھ خوش نہ آیا ہمیں
میر تقی میر

بہت ان نے ڈھونڈا نہ پایا ہمیں

دیوان دوم غزل 902
محبت نے کھویا کھپایا ہمیں
بہت ان نے ڈھونڈا نہ پایا ہمیں
پھرا کرتے ہیں دھوپ میں جلتے ہم
ہوا ہے کہے تو کہ سایہ ہمیں
گہے تر رہیں گاہ خوں بستہ تھیں
ان آنکھوں نے کیا کیا دکھایا ہمیں
بٹھا اس کی خاطر میں نقش وفا
نہیں تو اٹھالے خدایا ہمیں
ملے ڈالے ہے دل کوئی عشق میں
یہ کیا روگ یارب لگایا ہمیں
ہوئی اس گلی میں تو مٹی عزیز
ولے خواریوں سے اٹھایا ہمیں
جوانی دوانی سنا کیا نہیں
حسینوں کا ملنا ہی بھایا ہمیں
نہ سمجھی گئی دشمنی عشق کی
بہت دوستوں نے جتایا ہمیں
کوئی دم کل آئے تھے مجلس میں میر
بہت اس غزل پر رلایا ہمیں
میر تقی میر

بدوضع یاں کے لڑکے کیا خوش معاملے ہیں

دیوان دوم غزل 901
دل لے کے کیسے کیسے جھگڑے مجادلے ہیں
بدوضع یاں کے لڑکے کیا خوش معاملے ہیں
گھبرانے لگتیاں ہیں رک رک کے تن میں جانیں
کرتے ہیں جو وفائیں ان ہی کے حوصلے ہیں
کیا قدر تھی سخن کی جب یاں بھی صحبتیں تھیں
ہر بات جائزہ ہے ہر بیت پر صلے ہیں
جب کچھ تھی جہت مجھ سے تب کس سے ملتے تھے تم
اطراف کے یہ بے تہ اب تم سے آملے ہیں
تھا واجب الترحم مظلوم عشق تھا میں
اس کشتۂ ستم کو تم سے بہت گلے ہیں
سوز دروں سے کیونکر میں آگ میں نہ لوٹوں
جوں شیشۂ حبابی سب دل پر آبلے ہیں
میں جی سنبھالتا ہوں وہ ہنس کے ٹالتا ہے
یاں مشکلیں ہیں ایسی واں یہ مساہلے ہیں
اندیشہ زاد رہ کا رکھیے تو ہے مناسب
چلنے کو یاں سے اکثر تیار قافلے ہیں
پانچوں حواس گم ہیں ہر اک کے اس سمیں میں
کیا میر جی ہی تنہا ان روزوں دہ دلے ہیں
میر تقی میر

پلک سے پلک آشنا ہی نہیں

دیوان دوم غزل 900
فراق آنکھ لگنے کی جا ہی نہیں
پلک سے پلک آشنا ہی نہیں
گلہ عشق کا بدو خلقت سے ہے
غم دل کو کچھ انتہا ہی نہیں
محبت جہاں کی تہاں ہوچکی
کچھ اس روگ کی بھی دوا ہی نہیں
دکھایا کیے یار اس رخ کا سطح
کہیں آرسی کو حیا ہی نہیں
وہ کیا کچھ نہیں حسن کے شہر میں
نہیں ہے تو رسم وفا ہی نہیں
چمن محو اس روے خوش کا ہے سب
گل تر کی اب وہ ہوا ہی نہیں
نہیں دیر اگر میر کعبہ تو ہے
ہمارے کوئی کیا خدا ہی نہیں
میر تقی میر

عاشقی میں بلائیں کیا کیا ہیں

دیوان دوم غزل 899
جور کیا کیا جفائیں کیا کیا ہیں
عاشقی میں بلائیں کیا کیا ہیں
خوب رو ہی فقط نہیں وہ شوخ
حسن کیا کیا ادائیں کیا کیا ہیں
فکر تعمیر دل کسو کو نہیں
ایسی ویسی بنائیں کیا کیا ہیں
گہ نسیم و صبا ہے گاہ سموم
اس چمن میں ہوائیں کیا کیا ہیں
شور ہے ترک شیخ کا لیکن
چپکے چپکے دعائیں کیا کیا ہیں
منظر دیدہ قصر دل اے میر
شہر تن میں بھی جائیں کیا کیا ہیں
میر تقی میر

پہ جوش دل میں کبھو آگیا تو طوفاں ہیں

دیوان دوم غزل 898
اگرچہ اب کے ہم اے ابر خشک مژگاں ہیں
پہ جوش دل میں کبھو آگیا تو طوفاں ہیں
صنم پرستی میں اے راہباں نہ کی تقصیر
تم اہل صومعہ سے پوچھو وے مسلماں ہیں
کریں انھوں پہ بھلا کس طرح نظر گستاخ
بتان شہر ہمارے تو دین و ایماں ہیں
چمن میں جاکے بھرو تم گلوں سے جیب و کنار
ہم اپنے دل ہی کے ٹکڑوں سے گل بداماں ہیں
رہے ہیں دیکھ جو تصویر سے ترے منھ کو
ہماری آنکھ سے ظاہر ہے یہ کہ حیراں ہیں
رہا ہے کون سا پردہ ترے ستم کا شوخ
کہ زخم سینہ ہمارے سبھی نمایاں ہیں
شبیہ شکل سا ہے حال ضبط عشق کے بیچ
کہ رنگ روپ ہے سب کچھ ولیک بے جاں ہیں
بنے تو عزت عشاق میں نہ کر تقصیر
کہ ایسے لوگ پیارے عزیز مہماں ہیں
جو ابر دشت میں برسے تو ہم اڑاویں خاک
وہ میر آب ہے ہم یاں کے میر ساماں ہیں
میر تقی میر

سو سو کہیں تونے مجھے منھ پر نہ لایا ایک میں

دیوان دوم غزل 897
اے مجھ سے تجھ کو سو ملے تجھ سا نہ پایا ایک میں
سو سو کہیں تونے مجھے منھ پر نہ لایا ایک میں
عالم کی میں نے سیر کی مجھ کو جو خوش آیا سو تو
سب سے رہا محظوظ تو تجھ کو نہ بھایا ایک میں
یہ جوش غم ہوتے بھی ہیں یوں ابرتر روتے بھی ہیں
چشم جہاں آشوب سے دریا بہایا ایک میں
تھا سب کو دعویٰ عشق کا لیکن نہ ٹھہرا کوئی بھی
دانستہ اپنی جان سے دل کو اٹھایا ایک میں
ہیں طالب صورت سبھی مجھ پر ستم کیوں اس قدر
کیا مجرم عشق بتاں یاں ہوں خدایا ایک میں
بجلی سے یوں چمکے بہت پر بات کہتے ہوچکے
جوں ابر ساری خلق پر ہوں اب تو چھایا ایک میں
سو رنگ وہ ظاہر ہوا کوئی نہ جاگہ سے گیا
دل کو جو میرے چوٹ تھی طاقت نہ لایا ایک میں
اس گلستاں سے منفعت یوں تو ہزاروں کو ہوئی
دیکھا نہ سرو و گل کا یاں ٹک سر پہ سایہ ایک میں
رسم کہن ہے دوستی ہوتی بھی ہے الفت بہم
میں کشتنی ٹھہرا جو ہوں کیا دل لگایا ایک میں
جن جن نے دیکھا تھا اسے بے خود ہوا چیتا بھی پھر
پر میر جیتے جی بخود ہرگز نہ آیا ایک میں
میر تقی میر

دل کہاں وقت کہاں عمر کہاں یار کہاں

دیوان دوم غزل 896
باغ گو سبز ہوا اب سر گلزار کہاں
دل کہاں وقت کہاں عمر کہاں یار کہاں
تم تو اب آنے کو پھر کہہ چلے ہو کل لیکن
بے کل ایسا ہی رہا شب تو یہ بیمار کہاں
دل کی خواہش ہو کسو کو تو کمی دل کی نہیں
اب یہی جنس بہت ہے پہ خریدار کہاں
خاک یاں چھانتے ہی کیوں نہ پھرو دل کے لیے
ایسا پہنچے ہے بہم پھر کوئی غم خوار کہاں
دم زدن مصلحت وقت نہیں اے ہمدم
جی میں کیا کیا ہے مرے پر لب اظہار کہاں
شیخ کے آنے ہی کی دیر ہے میخانے میں پھر
سبحہ سجادہ کہاں جبہ و دستار کہاں
ہم سے ناکس تو بہت پھرتے ہیں جی دیتے ولے
زخم تیغ اس کے اٹھانے کا سزاوار کہاں
تونے بھی گرد رخ سرخ نکالا خط سبز
باغ شاداب جہاں میں گل بے خار کہاں
خبط نے عقل کے سر رشتے کیے گم سارے
اب جو ڈھونڈو تو گریباں میں کوئی تار کہاں
گوکہ گردن تئیں یاں کوئی لہو میں بیٹھے
ہاتھ اٹھاتا ہے جفا سے وہ ستم گار کہاں
ڈوبا لوہو میں پڑا تھا ہمگی پیکر میر
یہ نہ جانا کہ لگی ظلم کی تلوار کہاں
میر تقی میر

ایک عالم میں ہیں ہم وے پہ جدا رہتے ہیں

دیوان دوم غزل 895
اتفاق ایسا ہے کڑھتے ہی سدا رہتے ہیں
ایک عالم میں ہیں ہم وے پہ جدا رہتے ہیں
برسے تلوار کہ حائل ہو کوئی سیل بلا
پیش کچھ آئو ہم اس کوچے میں جا رہتے ہیں
کام آتا ہے میسر کسے ان ہونٹوں سے
بابت بوسہ ہیں پر سب کو چما رہتے ہیں
دشت میں گرد رہ اس کی اٹھے ہے جیدھر سے
وحش و طیر آنکھیں ادھر ہی کو لگا رہتے ہیں
کیا تری گرمی بازار کہیں خوبی کی
سینکڑوں آن کے یوسف سے بکا رہتے ہیں
بسترا خاک رہ اس کی تو ہے اپنا لیکن
گریۂ خونیں سے لوہو میں نہا رہتے ہیں
کیوں اڑاتے ہو بلایا ہمیں کب کب ہم آپ
جیسے گردان کبوتر یہیں آ رہتے ہیں
حق تلف کن ہیں بتاں یاد دلائوں کب تک
ہر سحر صحبت دوشیں کو بھلا رہتے ہیں
یاد میں اس کے قد و قامت دلکش کی میر
اپنے سر ایک قیامت نئی لا رہتے ہیں
میر تقی میر

رہتی ہے میرے خلق کے تلوار درمیاں

دیوان دوم غزل 894
جب سے ہے اس کی ابروے خمدار درمیاں
رہتی ہے میرے خلق کے تلوار درمیاں
برپا ہوا ہجوم سے اک حشر تازہ واں
آیا جہاں کہیں قدم یار درمیاں
اس کام جاں میں ہم میں ہوا ہے حجاب چشم
یوں رہیے آہ کب تئیں دیوار درمیاں
سو بار اس سے فتنے جہاں میں اٹھے ولے
دیکھی نہ ہم نے وہ کمر اک بار درمیاں
کیا کہیے آہ جی کو قیامت ہے انتظار
آتا نہ کاش وعدئہ دیدار درمیاں
رکھ دی ہے کتنے روزوں سے تلوار یار نے
کوئی نہیں ہے خوں کا سزاوار درمیاں
ثابت ہے ساری خلق کے اوپر کہ تو ہے ایک
حاجت نہیں جو آوے یہ تکرار درمیاں
آیا کیے دماغ کے اعضا میں یہ فتور
ٹھہرے قشون کیا نہیں سردار درمیاں
بازار میں دکھائی ہے کب ان نے جنس حسن
جو بک نہیں گئے ہیں خریدار درمیاں
دیکھیں چمن جو سینۂ پر داغ سے بڑھیں
بیداد ہے یہ قطعۂ گلزار درمیاں
کھنچنے نہ پائی اس کی تو تلوار بھیڑ میں
مارا گیا عبث یہ گنہگار درمیاں
اب کے جنوں کے بیچ گریباں کا ذکر کیا
کہیے بھی جو رہا ہو کوئی تار درمیاں
کتنے دنوں سے میر کا نالہ نہیں سنا
شاید نہیں ہے اب وہ گرفتار درمیاں
میر تقی میر

دیوانے کو جو خط لکھوں بتلائو کیا لکھوں

دیوان دوم غزل 893
دل کو لکھوں ہوں آہ وہ کیا مدعا لکھوں
دیوانے کو جو خط لکھوں بتلائو کیا لکھوں
کیا کیا لقب ہیں شوق کے عالم میں یار کے
کعبہ لکھوں کہ قبلہ اسے یا خدا لکھوں
حیراں ہو میرے حال میں کہنے لگا طبیب
اس دردمند عشق کی میں کیا دوا لکھوں
وحشت زدوں کو نامہ لکھوں ہوں نہ کس طرح
مجنوں کو اس کے حاشیے پر میں دعا لکھوں
کچھ روبرو ہوئے پہ جو سلجھے تو سلجھے میر
جی کے الجھنے کا اسے کیا ماجرا لکھوں
میر تقی میر

جی چاہتا ہے جا کے کسو اور مر رہیں

دیوان دوم غزل 892
یوں قیدیوں سے کب تئیں ہم تنگ تر رہیں
جی چاہتا ہے جا کے کسو اور مر رہیں
اے کاش ہم کو سکر کی حالت رہے مدام
تا حال کی خرابی سے ہم بے خبر رہیں
رہتے ہیں یوں حواس پریشاں کہ جوں کہیں
دو تین آ کے لوٹے مسافر اتر رہیں
وعدہ تو تب ہو صبح کا جب ہم بھی جاں بلب
جیسے چراغ آخر شب تا سحر رہیں
آوارگی کی سب ہیں یہ خانہ خرابیاں
لوگ آویں دیکھنے کو بہت ہم جو گھر رہیں
ہم نے بھی نذر کی ہے کہ پھریے چمن کے گرد
یارب قفس کے چھوٹنے تک بال و پر رہیں
ان دلبروں کی آنکھ نہیں جاے اعتماد
جب تک رہیں یہ چاہیے پیش نظر رہیں
فردا کی فکر آج نہیں مقتضاے عقل
کل کی بھی دیکھ لیویں گے کل ہم اگر رہیں
تیغ و تبر رکھا نہ کرو پاس میر کے
ایسا نہ ہو کہ آپ کو ضائع وے کر رہیں
میر تقی میر

ہم لوگ تیرے اوپر سو جی سے مر رہے ہیں

دیوان دوم غزل 891
گو جان کر تجھے سب تعبیر کر رہے ہیں
ہم لوگ تیرے اوپر سو جی سے مر رہے ہیں
کھنچتا چلا ہے اب تو تصدیق کو تصور
ہر لحظہ اس کے جلوے پیش نظر رہے ہیں
نکلے ہوس جو اب بھی ہو وارہی قفس سے
شائستۂ پریدن دوچار پر رہے ہیں
کل دیکھتے ہمارے بستے تھے گھر برابر
اب یہ کہیں کہیں جو دیوار و در رہے ہیں
کیا آج ڈبڈبائی دیکھو ہو تم یہ آنکھیں
جوں چشمہ یوں ہی برسوں ہم چشم تر رہے ہیں
نے غم ہے ہم کو یاں کا نے فکر کچھ ہے واں کا
صدقے جنوں کے کیا ہم بے درد سر رہے ہیں
پاس ایک دن بھی اپنا ان نے نہیں کیا ہے
ہم دور اس سے بے دم دو دو پہر رہے ہیں
کیا یہ سراے فانی ہے جاے باش اپنی
ہم یاں مسافرانہ آکر اتر رہے ہیں
ایسا نہ ہو کہ چھیڑے یک بار پھوٹ بہیے
ہم پکے پھوڑے کے اب مانند بھر رہے ہیں
اس میکدے میں جس جا ہشیار چاہیے تھے
رحمت ہے ہم کو ہم بھی کیا بے خبر رہے ہیں
گو راہ عشق میں ہو شمشیر کے دم اوپر
وسواس کیا ہے ہم تو جی سے گذر رہے ہیں
چل ہم نشیں بنے تو ایک آدھ بیت سنیے
کہتے ہیں بعد مدت میر اپنے گھر رہے ہیں
میر تقی میر

کیا جانیے کدھر کو گیا کچھ خبر نہیں

دیوان دوم غزل 890
کوچے میں تیرے میر کا مطلق اثر نہیں
کیا جانیے کدھر کو گیا کچھ خبر نہیں
ہے عاشقی کے بیچ ستم دیکھنا ہی لطف
مر جانا آنکھیں موند کے یہ کچھ ہنر نہیں
کب شب ہوئی زمانے میں جو پھر ہوا نہ روز
کیا اے شب فراق تجھی کو سحر نہیں
ہر چند ہم کو مستوں سے صحبت رہی ہے لیک
دامن ہمارا ابر کے مانند تر نہیں
گلگشت اپنے طور پہ ہے سو تو خوب یاں
شائستۂ پریدن گلزار پر نہیں
کیا ہو جے حرف زن گذر دوستی سے آہ
خط لے گیا کہ راہ میں پھر نامہ بر نہیں
آنکھیں تمام خلق کی رہتی ہیں اس کی اور
مطلق کسو کو حال پہ میرے نظر نہیں
کہتے ہیں سب کہ خون ہی ہوتا ہے اشک چشم
راتوں کو گر بکا ہے یہی تو جگر نہیں
جاکر شراب خانے میں رہتا نہیں تو پھر
یہ کیا کہ میر جمعے ہی کی رات گھر نہیں
میر تقی میر

بھاگوں ہوں دور سب سے میں کس کا آشنا ہوں

دیوان دوم غزل 889
بیگانہ وضع برسوں اس شہر میں رہا ہوں
بھاگوں ہوں دور سب سے میں کس کا آشنا ہوں
پوچھا کیے ہیں مجھ سے گل برگ لب کو تیرے
بلبل کے ہاتھ جب میں گلزار میں لگا ہوں
اب کارشوق دیکھوں پہنچے مرا کہاں تک
قاصد کے پیچھے میں بھی بے طاقت اٹھ چلا ہوں
تجھ سے متاع خوش کا کیونکر نہ ہوں معرف
یوسفؑ کے ہاتھ پیارے کچھ میں نہیں بکا ہوں
گل پھول کوئی کب تک جھڑ جھڑ کے گرتے دیکھے
اس باغ میں بہت اب جوں غنچہ میں رکا ہوں
کیا کیا کیا تامل اس فکر میں گیا گھل
سمجھا نہ آپ کو میں کیا جانیے کہ کیا ہوں
ہوتا ہے گرم کیا تو اے آفتاب خوبی
ایک آدھ دم میں میں تو شبنم نمط ہوا ہوں
پیری سے جھکتے جھکتے پہنچا ہوں خاک تک میں
وہ سرکشی کہاں ہے اب تو بہت دبا ہوں
مجھ کو بلا ہے وحشت اے میر دور اس سے
جاگہ سے جب اٹھا ہوں آشوب سا اٹھا ہوں
میر تقی میر

لے گئے پیش فلک اس مہ کا ایسا رو کہاں

دیوان دوم غزل 888
گر کوئی اعمیٰ کہے کچھ پر کہاں وہ تو کہاں
لے گئے پیش فلک اس مہ کا ایسا رو کہاں
گل کو کیا نسبت ہے تجھ سے میں نہ مانوں زینہار
رنگ اگر بالفرض تیرا سا ہوا یہ بو کہاں
عشق لاتا ہے بروے کار مجنوں سا کبھو
بید بہتیرے کھڑے ہیں وے پریشاں مو کہاں
دیکھیاں کجیاں کمانوں کی بھی خم محراب کے
پر دلوں کو کھینچتے ہیں جیسے وے ابرو کہاں
سنبل آپھی آپ پیچ و تاب یوں کھایا کرے
یار کی سی زلف کے وے حلقہ حلقہ مو کہاں
آگے یہ آنکھیں گلے کی ہار ہی رہتی تھیں روز
اب جگر میں خوں نہیں وے سہرے سے آنسو کہاں
میر سچ کہتا تھا جنت ہو نصیب اس کے تئیں
حور کا چہرہ کہاں اس کا رخ نیکو کہاں
میر تقی میر

الا کھینچ بغل میں تجھ کو دیر تلک ہم پیار کریں

دیوان دوم غزل 887
آج ہمارے گھر آیا تو کیا ہے یاں جو نثار کریں
الا کھینچ بغل میں تجھ کو دیر تلک ہم پیار کریں
خاک ہوئے برباد ہوئے پامال ہوئے سب محو ہوئے
اور شدائد عشق کی رہ کے کیسے ہم ہموار کریں
زردی رخ رونا ہر دم کا شاہد دو جب ایسے ہوں
چاہت کا انصاف کرو تم کیونکر ہم انکار کریں
باغ میں اب آجاتے ہیں تو صرفہ اپنا چپ میں ہے
خوبی بیاں کر تیری ہم کیا گل کو گلے کا ہار کریں
شیوہ اپنا بے پروائی نومیدی سے ٹھہرا ہے
کچھ بھی وہ مغرور دبے تو منت ہم سو بار کریں
ہم تو فقیر ہیں خاک برابر آ بیٹھے تو لطف کیا
ننگ جہاں لگتا ہو ان کو واں وے ایسی عار کریں
پتا پتا گلشن کا تو حال ہمارا جانے ہے
اور کہے تو جس سے اے گل بے برگی اظہار کریں
کیا ان خوش ظاہر لوگوں سے ہم یہ توقع رکھتے تھے
غیر کو لے کر پاس یہ بیٹھیں ہم کو گلیوں میں خوار کریں
میر جی ہیں گے ایک جو آئے کیا ہم ان سے درد کہیں
کچھ بھی جو سن پاویں تو یہ مجلس میں بستار کریں
میر تقی میر