زمرہ جات کے محفوظات: غزل

درد و الم ہے کلفت و غم ہے رنج و بلا ہے کیا کیا کچھ

دیوان چہارم غزل 1486
چاہ میں دل پر ظلم و ستم ہے جور و جفا ہے کیا کیا کچھ
درد و الم ہے کلفت و غم ہے رنج و بلا ہے کیا کیا کچھ
عاشق کے مر جانے کے اسباب بہت رسوائی میں
دل بھی لگا ہے شرم و حیا ہے مہر و وفا ہے کیا کیا کچھ
عشق نے دے کر آگ یکایک شہر تن کو پھونک دیا
دل تو جلا ہے دماغ جلا ہے اور جلا ہے کیا کیا کچھ
دل لینے کو فریفتہ کے بہتیرا کچھ ہے یار کنے
غمزہ عشوہ چشمک چتون ناز و ادا ہے کیا کیا کچھ
کیا کیا دیدہ درائی سی تم کرتے رہے اس عالم میں
تم سے آگے سنو ہو صاحب نہیں ہوا ہے کیا کیا کچھ
حسرت وصل اندوہ جدائی خواہش کاوش ذوق و شوق
یوں تو چلا ہوں اکیلا لیکن ساتھ چلا ہے کیا کیا کچھ
کیا کہیے جب میں نے کہا ہے میر ہے مغرور اس پر تو
اپنی زباں مت کھول تو ان نے اور کہا ہے کیا کیا کچھ
میر تقی میر

الجھائو تھا جو اس کی زلفوں سے سو گیا نہ

دیوان چہارم غزل 1484
سر تو بہت بکھیرا پر فائدہ کیا نہ
الجھائو تھا جو اس کی زلفوں سے سو گیا نہ
وے زلفیں عقدہ عقدہ ہیں آفت زمانہ
عقدہ ہمارے دل کا ان سے بھی کچھ کھلا نہ
غنچے کے دل کی کچھ تھی واشد بہار آئی
افسوس ہے کہ موسم گل کا بہت رہا نہ
مرنا ہمارا اس سے کہہ دیکھیں یار جاکر
حال اس کا یہ خبر بھی درہم کرے ہے یا نہ
کن رس بھی حیف اس کو تھا نہ کہا تو کیا کیا
قطعہ لطیفہ بذلہ شعر و غزل ترانہ
بیمارعشق بے کس جیتا رہے گا کیوں کر
احوال گیر کم ہو پہنچے بہم دوا نہ
یوں درمیاں چمن کے لے تو گئے تھے ہم کو
پر فرط بے خودی سے ہم تھے نہ درمیانہ
چھو سکتے بھی نہیں ہیں ہم لپٹے بال اس کے
ہیں شانہ گیر سے جو یہ لڑکے نرم شانہ
وحشت چمن میں ہم کو کل صبح بیشتر تھی
بے اس کے پھول گل سے جی ایک دم لگا نہ
صحبت برآر اپنی لوگوں سے کیونکے ہووے
معقول گو ہم اتنے وے ایسے ہرزہ چا نہ
رگڑے گئے ہیں جبہے ازبسکہ راستوں کے
آئینہ ہو رہا ہے وہ سنگ آستانہ
ہے عینہٖ ابلنا سیلاب رود کا سا
اے میر چشم تر ہے یا کوئی رودخانہ
میر تقی میر

جان عزیز ابھی ہے مری آبرو کے ساتھ

دیوان چہارم غزل 1483
حیرت طلب کو کام نہیں ہے کسو کے ساتھ
جان عزیز ابھی ہے مری آبرو کے ساتھ
یک رنگ آشنا ہیں خرابات ہی کے لوگ
سرمیکشوں کے پھوٹتے دیکھے سبو کے ساتھ
قمری کا لوہو پانی ہوا ایک عشق میں
آتا ہے اس کا خون جگر آب جو کے ساتھ
خالی نہیں ہے خواہش دل سے کوئی بشر
جاتے ہیں سب جہان سے یک آرزو کے ساتھ
دم میں ہے دم جہاں تئیں گرم تلاش ہوں
سو پیچ و تاب رہتے ہیں ہر ایک مو کے ساتھ
کیا اضطراب عشق سے میں حرف زن ہوں میر
منھ تک جگر تو آنے لگا گفتگو کے ساتھ
میر تقی میر

پانی ہوا ہے کچھ تو میرا جگر جلا کچھ

دیوان چہارم غزل 1482
گرمی سے عاشقی کی آخر کو ہو رہا کچھ
پانی ہوا ہے کچھ تو میرا جگر جلا کچھ
آزردہ دل ہزاروں مرتے ہی ہم سنے ہیں
بیماری دلی کی شاید نہیں دوا کچھ
وارفتہ ہے گلستاں اس روے چمپئی کا
ہے فصل گل پہ گل کا اب وہ نہیں مزہ کچھ
وہ آرسی کے آگے پہروں ہے بے تکلف
منھ سے ہمارے اس کو آتی نہیں حیا کچھ
دل ہی کے غم میں گذرے دس دن جو عمر کے تھے
اچرج ہے اس نگر سے جاتا نہیں دہا کچھ
منھ کر بھی میری جانب سوتا نہیں کبھو وہ
کیا جانوں اس کے جی میں ہے اس طرف سے کیا کچھ
دل لے فقیر کا بھی ہاتھوں میں دل دہی کر
آجائے ہے جہاں میں آگے لیا دیا کچھ
یاروں کی آہ و زاری ہووے قبول کیوں کر
ان کی زباں میں کچھ ہے دل میں ہے کچھ دعا کچھ
ساری وہی حقیقت ملحوظ سب میں رکھیے
کہیے نمود ہووے جو اس کے ماسوا کچھ
حرف و سخن کی اس سے اپنی مجال کیا ہے
ان نے کہا ہے کیا کیا میں نے اگر کہا کچھ
کب تک یہ بدشرابی پیری تو میر آئی
جانے کے ہو مہیا اب کر چلو بھلا کچھ
میر تقی میر

آشنایانہ نہ کی کوئی ادا اپنے ساتھ

دیوان چہارم غزل 1481
یار صد حیف کہ بیگانہ رہا اپنے ساتھ
آشنایانہ نہ کی کوئی ادا اپنے ساتھ
اتحاد اتنا ہے اس سے کہ ہمیشہ ہے وصال
اپنے مطلوب کو ہے ربط سدا اپنے ساتھ
عہد یہ تھا کہ نہ بے وصل بدن سے جاوے
سو جدا ہوتا ہے کی جی نے دغا اپنے ساتھ
رنج نے رنج بہت کھینچے پہنچ کر ہم تک
اک بلا میں ہے گرفتار بلا اپنے ساتھ
دس گنا دکھنے لگا زخم رکھے مرہم کے
درد کا کام رہی کرتی دوا اپنے ساتھ
وارد شہر ہیں یا دشت میں ہم شوق طلب
ہر زماں پھرتا ہے اے میر لگا اپنے ساتھ
میر تقی میر

بولو نہ بولو بیٹھو نہ بیٹھو کھڑے کھڑے ٹک ہوجائو

دیوان چہارم غزل 1480
صبر کہاں جو تم کو کہیے لگ کے گلے سے سو جائو
بولو نہ بولو بیٹھو نہ بیٹھو کھڑے کھڑے ٹک ہوجائو
برسے ہے غربت سی غربت گور کے اوپر عاشق کی
ابر نمط جو آئو ادھر تو دیکھ کے تم بھی رو جائو
میر جہاں ہے مقامرخانہ پیدا یاں کا نہ پیدا ہے
آئو یہاں تو دائو نخستیں اپنے تئیں بھی کھو جائو
میر تقی میر

ہوکے فقیر گلی میں کسو کی رنج اٹھائو جا بیٹھو

دیوان چہارم غزل 1479
جی کی لاگ بلا ہے کوئی دل جینے سے اٹھا بیٹھو
ہوکے فقیر گلی میں کسو کی رنج اٹھائو جا بیٹھو
کیا دیکھو ہو آگا پیچھا عشق اگر فی الواقع ہے
ایک دم اس بے چشم و رو کی تیغ تلے بھی جا بیٹھو
ایک سماں تھا وصل کا اس کے سیج پہ سوئے پھولوں کی
اب ہے زمان فراق بچھونے خار و خسک کے بچھا بیٹھو
کام کی صورت اپنے پیارے کیا بگڑی ہے کیا کہیے
آئو کبھو مدت میں یاں تو اچھے منھ کو بنا بیٹھو
ٹیڑھی چال سے اس کی خائف چپکے کھڑے کیا پھرتے ہو
سیدھی سیدھی دوچار اس کو جرأت کرکے سنا بیٹھو
ٹیڑھی بھویں دشمن پہ کرو ہو عشق و ہوس میں تمیز کرو
یعنی تیغ ستم ایک اس کو چلتے پھرتے لگا بیٹھو
نکلا خط پشت لب اس کا خضر و مسیحا مرنے لگے
سوچتے کیا ہو میر عبث اب زہر منگا کر کھا بیٹھو
میر تقی میر

ساتھ ان کے چل تماشا کرلے جس کو چائو ہو

دیوان چہارم غزل 1478
رفتن رنگین گل رویاں سے کیا ٹھہرائو ہو
ساتھ ان کے چل تماشا کرلے جس کو چائو ہو
قد جو خم پیری سے ہو تو سرکا دھننا ہیچ ہے
ہوچکا ہونا جو کچھ تھا اب عبث پچھتائو ہو
خون کے سیلاب میں ڈوبے ہوئوں کا کیا شمار
ٹک بہے وہ جدول شمشیر تو ستھرائو ہو
تھی وفا و مہر تو بابت دیارعشق کی
دیکھیں شہر حسن میں اس جنس کا کیا بھائو ہو
گریۂ خونیں سے ہیں رخسار میرے لعل تر
دیدئہ خوں بار یوں ہیں جیسے منھ پر گھائو ہو
میر تقی میر

آسماں آگیا ورے کچھ تو

دیوان چہارم غزل 1477
جی رکا رکنے سے پرے کچھ تو
آسماں آگیا ورے کچھ تو
جو نہ ہووے نماز کریے نیاز
آدمی چاہیے کرے کچھ تو
طالع و جذب و زاری و زر و زور
عشق میں چاہیے ارے کچھ تو
جینا کیا ہے جہان فانی کا
مرتے جاتے ہیں کچھ مرے کچھ تو
سہمے سہمے نظر پڑیں ہیں میر
اس کے اطوار سے ڈرے کچھ تو
میر تقی میر

مار رکھا بیتابی دل نے ہم سب غم کے ماروں کو

دیوان چہارم غزل 1476
کام کیے ہیں شوق سے ضائع صبر نہ آیا یاروں کو
مار رکھا بیتابی دل نے ہم سب غم کے ماروں کو
جی تو جلا احباب کا مجھ پر عشق میں اس شعلے کے پر
رو ہی نہیں ہے بات کا ہرگز اپنے جانب داروں کو
آئو نہیں دربستہ یعنی منھ پر اس مہ پارے کے
صبح تلک دیکھا کرتے ہیں محو چشمک تاروں کو
گردش چشم سیہ کاسے سے جمع نہ رکھو خاطر تم
بھوکا پیاسا مار رکھا ہے تم سے ان نے ہزاروں کو
کوہکن و مجنوں و وامق میر آئے تھے صحبت میں
منھ نہ لگایا ہم میں کنھوں نے ایسے ہرزہ کاروں کو
میر تقی میر

رنگ اس کا کہیں یاد نہ دے زنہار اس سے کچھ کام نہ لو

دیوان چہارم غزل 1475
آج ہمارا سر دکھتا ہے صندل کا بھی نام نہ لو
رنگ اس کا کہیں یاد نہ دے زنہار اس سے کچھ کام نہ لو
یاد آئے وہ کیا تڑپے ہے کیا بیتابی کرتا ہے
کوئی تسلی پھر ہوتا ہے جب تک دل کو تھام نہ لو
میر کہاں تک بے خوابی وہ میں ہوں ٹک جو سلاتا ہوں
بس جو تمھارا کچھ بھی چلے تو ایک گھڑی آرام نہ لو
میر تقی میر

آتے ہو تمکین سے ایسے جیسے کہیں کو جاتے ہو

دیوان چہارم غزل 1474
ناز کی کوئی یہ بھی ٹھسک ہے جی کاہے کو کڑھاتے ہو
آتے ہو تمکین سے ایسے جیسے کہیں کو جاتے ہو
غیر کی ہمراہی کی عزت جی مارے ہے عاشق کا
پاس کبھو جو آتے ہو تو ساتھ اک تحفہ لاتے ہو
مست نہیں پر بال ہیں بکھرے پیچ گلے میں پگڑی کے
ساختہ ایسے بگڑے رہو ہو تم جیسے مدھ ماتے ہو
پردہ ہم سے کر لیتے ہو جب آتے ہو مجلس میں
آنکھیں سب سے ملاتے ہو کچھ ہم ہی سے شرماتے ہو
سوچ نہیں یہ فقیر ہے اپنا جیب دریدہ دیوانہ
ٹھوکر لگتے دامن کو کس ناز سے تم یاں آتے ہو
رفتۂ عشق کسو کا یارو راہ چلے ہے کس کے کہے
کون رہا ہے آپ میں یاں تم کس کے تئیں سمجھاتے ہو
صبر بلا پر کرتے صاحب بیتابی کا حاصل کیا
کوئی مقلب قلبوں کا ہے میر عبث گھبراتے ہو
میر تقی میر

زہر دیویں کاشکے احباب اس درویش کو

دیوان چہارم غزل 1473
کیا کروں میں صبرکم کو اور رنج بیش کو
زہر دیویں کاشکے احباب اس درویش کو
کھول آنکھیں صبح سے آگے کہ شیر اللہ کے
دیکھتے رہتے ہیں غافل وقت گرگ و میش کو
عشق کے بیتاب کے آزار میں مت کر شتاب
جان دیتے دیر لگتی ہی نہیں دل ریش کو
دشمن اپنا میں تو فکر دوستی ہی میں رہا
اب رکھوں کیوں کر سلامت جان عشق اندیش کو
مختلط ترسا بچوں سے شیرہ خانے میں رہا
کن نے دیکھا مسجدوں میں میر کافرکیش کو
میر تقی میر

اس رو کا مثل آئینہ حیراں ہوا نہ تو

دیوان چہارم غزل 1472
دل اس کے مو سے لگ کے پریشاں ہوا نہ تو
اس رو کا مثل آئینہ حیراں ہوا نہ تو
صد رنگ بحث رہتی ہے یاں ذی شعور سے
اے وائے عقلمند کہ ناداں ہوا نہ تو
نزدیک حق کے دین تو اسلام بن ہے کفر
اے برہمن دریغ مسلماں ہوا نہ تو
کتنے دنوں کہا تھا دلا ضبط نالہ کر
پھر شب کو ناشکیبی سے نالاں ہوا نہ تو
ہوتا ہے میر روے سخن آدمی کی اور
افسوس اے ستم زدہ انساں ہوا نہ تو
میر تقی میر

یا تجھ کو دل شکستوں سے اخلاص پیار ہو

دیوان چہارم غزل 1471
تو وہ نہیں کسو کا تہ دل سے یار ہو
یا تجھ کو دل شکستوں سے اخلاص پیار ہو
کیا فکر میں ہو اپنی طرحداری ہی کی تم
ہم دردمند لوگوں کے بیمار دار ہو
مصروف احتیاط رہا کرتے رات دن
دینے میں دل کے اپنا جو کچھ اختیار ہو
دل میں کدر سے آندھی سی اٹھنے لگی ہے اب
نکلے گلے کی راہ تو رفع غبار ہو
کھا زہر مر رہیں کہیں کیا زندگی ہے یہ
زلفیں تنک چھوئیں تو ہمیں مار مار ہو
اے آہوان کعبہ نہ اینڈو حرم کے گرد
کھائو کسو کی تیغ کسو کے شکار ہو
منھ سے لگی گلابی ہوا کچھ شگفتہ تو
تھوڑی شراب اور بھی پی جو بہار ہو
بہتی ہے تیز جدول تیغ جفاے یار
یعنی کہ اک ہی وار لگے کام پار ہو
چھڑیوں سے کر قرار مدار اس کو لایئے
جو میر پھر لڑا نہ کریں بے قرار ہو
میر تقی میر

جو صحن خانہ میں تو ہو در و دیوار عاشق ہو

دیوان چہارم غزل 1470
عجب گر تیری صورت کا نہ کوئی یار عاشق ہو
جو صحن خانہ میں تو ہو در و دیوار عاشق ہو
تجھے اک بار اگر دیکھے کوئی بے جا ہو دل اس کا
خرام ناز پر تیرے لٹا گھر بار عاشق ہو
تری چھاتی سے لگنا ہار کا اچھا نہیں لگتا
مباد اس وجہ سے گل رو گلے کا ہار عاشق ہو
ہوا ہے مخترع بے رحم خوں ریزی بھی کرنے میں
نہ مارے جان سے جب تک نہ منت دار عاشق ہو
سزا ہے عشق میں زرد و زبون و زار ہی ہونا
نہ عاشق کہیے ان رنگوں نہ جو بیمار عاشق ہو
پڑے سایہ کسو کا تیرے بستر پر تو تو چونکے
وہی لے کام تجھ سے جو کوئی پرکار عاشق ہو
نہیں بازار گرمی ایک دو خواہندہ پر اس کی
اگر وہ رشک یوسف آوے تو بازار عاشق ہو
غریبوں کی تو پگڑی جامے تک لے ہے اتروا تو
تجھے اے سیم بر لے بر میں جو زردار عاشق ہو
لگو ہو زار باراں رونے چلتے بات چاہت کی
کہیں ان روزوں تم بھی میر صاحب زار عاشق ہو
میر تقی میر

نرمی بھی کاش دیتا خالق ٹک اس کی خو کو

دیوان چہارم غزل 1469
وہ گل سا رو سراہوں یا پیچ دار مو کو
نرمی بھی کاش دیتا خالق ٹک اس کی خو کو
ان گیسوئوں کے حلقے ہیں چشم شوق عاشق
وے آنکھیں دیکھتی ہیں حسرت سے اس کے رو کو
دم کی کشش سے کوشش معلوم تو ہے لیکن
پاتے نہیں ہم اس کی کچھ طرز جستجو کو
آلودہ خون دل سے صد حرف منھ پر آئے
مرغ چمن نہ سمجھا انداز گفتگو کو
دل میر دلبروں سے چاہا کرے ہے کیا کیا
کچھ انتہا نہیں ہے عاشق کی آرزو کو
میر تقی میر

نہ گرم ہوکے بہت آگ ہو کے آب کرو

دیوان چہارم غزل 1468
نہیں ہے تاب تنک تم بھی مت عتاب کرو
نہ گرم ہوکے بہت آگ ہو کے آب کرو
تمھارے عکس سے بھی عکس مجھ کو رشک سے ہے
نہ دیکھو آئینہ منھ سے مرے حجاب کرو
خراب عشق تو سرگشتہ ہوں ہی میں تم بھی
پھرا پھرا کے مجھے گلیوں میں خراب کرو
کہا تھا تم نے کہ ہر حرف پر ہے بوسۂ لب
جو باتیں کی ہیں تو اب قرض کا حساب کرو
ہوا ہے اہل مساجد پہ کام ازبس تنگ
نہ شب کو جاگتے رہنے کا اضطراب کرو
خدا کریم ہے اس کے کرم سے رکھ کر چشم
دراز کھینچو کسو میکدے میں خواب کرو
جہاں میں دیر نہیں لگتی آنکھیں مندتے میر
تمھیں تو چاہیے ہر کام میں شتاب کرو
میر تقی میر

اک نالہ حوصلے سے بس ہے وداع جاں کو

دیوان چہارم غزل 1467
دیتی ہے طول بلبل کیا شورش فغاں کو
اک نالہ حوصلے سے بس ہے وداع جاں کو
میں تو نہیں پر اب تک مستانہ غنچے ہوکر
کہتے ہیں مرغ گلشن سے میری داستاں کو
نالاں تو ہیں مجھی سے پر وہ اثر کہاں ہے
گو طائر گلستاں سیکھے مری زباں کو
کیا جانیے کہ کیا کچھ پردے سے ہووے ظاہر
رہتے ہیں دیکھتے ہم ہر صبح آسماں کو
اس چشم سرخ پر ہے وہ ابروے کشیدہ
جوں ترک مست رکھ لے سر کے تلے کماں کو
میری نگاہ میں تو معدوم سب ہیں وے ہی
موجود بھی نہ جانا اس راہ سے جہاں کو
بعد از نماز تھے کل میخانے کے در اوپر
کیا جانے میر واں سے پھر اٹھ گئے کہاں کو
میر تقی میر

رہ رہ گئے مہ و خور آئینہ وار دونوں

دیوان چہارم غزل 1466
کیا کیا جھمک گئے ہیں رخسار یار دونوں
رہ رہ گئے مہ و خور آئینہ وار دونوں
تصویر قیس و لیلیٰ ٹک ہاتھ لے کے دیکھو
کیسے ہیں عاشقی کے حیران کار دونوں
دست جنوں نے اب کے کپڑوں کی دھجیاں کیں
دامان و جیب میرے ہیں تار تار دونوں
پر سال کی سی بارش برسوں میں پھر ہوئی تھی
ابر اور دیدئہ تر روتے ہیں زار دونوں
دن ہیں بڑے کبھو کے راتیں بڑی کبھو کی
رہتے نہیں ہیں یکساں لیل و نہار دونوں
دل اور برق ابر و فصل گل ایک سے ہیں
یعنی کہ بے کلی سے ہیں بے قرار دونوں
خوش رنگ اشک خونیں گرتے رہے برابر
باغ و بہار ہیں اب جیب و کنار دونوں
اس شاخ گل سے قد کی کیا چوٹ لگ گئی ہے
جو دل جگر ہوئے ہیں خون ایک بار دونوں
چلتے جو اس کو دیکھا جی اپنے کھنچ گئے ہیں
ہم اور میر یاں ہیں بے اختیار دونوں
میر تقی میر

کیوں کر کہیے بہشتی رو ہے اس خوبی سے حور نہیں

دیوان چہارم غزل 1465
کس سے مشابہ کیجے اس کو ماہ میں ویسا نور نہیں
کیوں کر کہیے بہشتی رو ہے اس خوبی سے حور نہیں
شعر ہمارے عالم کے ہر چار طرف کیا دوڑے ہیں
کس وادی آبادی میں یہ حرف و سخن مشہور نہیں
ہم دیکھیں تو دیکھیں اسے پھر پردہ بہتر ہے یعنی
اور کریں نظارہ اس کا ہم کو یہ منظور نہیں
عزت اپنی تہی دستی میں رکھ لی خدا نے ہزاروں شکر
قدر ہے دست قدرت سے یاں حیف ہمیں مقدور نہیں
راہ دور عدم سے آئے بستی جان کے دنیا میں
سویاں گھر اوجڑ ہیں سارے اک منزل معمور نہیں
عشق و جنوں سے اگرچہ تن پر ضعف و نحافت ہے لیکن
وحشت گو ہو عرصۂ محشر مجنوں سے رنجور نہیں
ہجراں میں بھی برسوں ہم نے میر کیا ہے پاس وفا
اب جو کبھو ٹک پاس بلا لے ہم کو وہ تو دور نہیں
میر تقی میر

مروت قحط ہے آنکھیں نہیں کوئی ملاتا یاں

دیوان چہارم غزل 1464
پھرا میں صورت احوال ہر یک کو دکھاتا یاں
مروت قحط ہے آنکھیں نہیں کوئی ملاتا یاں
خرابہ دلی کا دہ چند بہتر لکھنؤ سے تھا
وہیں میں کاش مرجاتا سراسیمہ نہ آتا یاں
محبت دشمن جاں ہے جو میں معلوم یہ کرتا
تو کاہے کو کسو سے میر اپنا دل لگاتا یاں
میر تقی میر

رسوا ہوکر مارے جاویں اس کو بھی بدنام کریں

دیوان چہارم غزل 1463
یوں ناکام رہیں گے کب تک جی میں ہے اک کام کریں
رسوا ہوکر مارے جاویں اس کو بھی بدنام کریں
جن کو خدا دیتا ہے سب کچھ وے ہی سب کچھ دیتے ہیں
ٹوپی لنگوٹی پاس اپنے ہم اس پر کیا انعام کریں
منھ کھولے تو روز ہے روشن زلف بکھیرے رات ہے پھر
ان طوروں سے عاشق کیوں کر صبح کو اپنی شام کریں
خط و کتابت حرف و حکایت صفحہ ورق میں آجاوے
دستے کے دستے کاغذ ہو جو دل کا حال ارقام کریں
شیخ پڑے محراب حرم میں پہروں دوگانہ پڑھتے رہو
سجدہ ایک اس تیغ تلے کا ان سے ہو تو سلام کریں
دل آسودہ ہو تو رہے ٹک در پر ہم سو بار گئے
وہ سو یہی کہہ بھیجے ہے باہر جاویں اب آرام کریں
میل گدائی طبع کو اپنی کچھ بھی نہیں ہے ورنہ میر
دو عالم کو مانگ کے لاویں ہم جو تنک ابرام کریں
میر تقی میر

اب کہتے ہیں خلطہ کیسا جان نہیں پہچان نہیں

دیوان چہارم غزل 1462
عالم علم میں ایک تھے ہم وے حیف ہے ان کو گیان نہیں
اب کہتے ہیں خلطہ کیسا جان نہیں پہچان نہیں
کس امید پہ ساکن ہووے کوئی غریب شہر اس کا
لطف نہیں اکرام نہیں انعام نہیں احسان نہیں
ہائے لطافت جسم کی اس کے مر ہی گیا ہوں پوچھو مت
جب سے تن نازک وہ دیکھا تب سے مجھ میں جان نہیں
کیا باتوں سے تسلی ہو دل مشکل عشقی میری سب
یار سے کہنے کہتے ہیں پر کہنا کچھ آسان نہیں
شام و سحر ہم سرزدہ دامن سر بگریباں رہتے ہیں
ہم کو خیال ادھر ہی کاہے ان کو ادھر کا دھیان نہیں
جان کے میں تو آپ بنا ہوں ان لڑکوں میں دیوانہ
عقل سے بھی بہرہ ہے مجھ کو اتنا میں نادان نہیں
پائوں کو دامن محشر میں ناچاری سے ہم کھینچیں گے
لائق اپنی وحشت کے اس عرصے کا میدان نہیں
چاہت میں اس مایۂ جاں کی مرنے کے شائستہ ہوئے
جا بھی چکی ہے دل کی ہوس اب جینے کا ارمان نہیں
شور نہیں یاں سنتا کوئی میر قفس کے اسیروں کا
گوش نہیں دیوار چمن کے گل کے شاید کان نہیں
میر تقی میر

ہم جو عاشق ہیں سو ٹھہرے ہیں گنہگاروں میں

دیوان چہارم غزل 1461
اب ہوسناک ہی مردم ہیں ترے یاروں میں
ہم جو عاشق ہیں سو ٹھہرے ہیں گنہگاروں میں
کوچۂ یار تو ہے غیرت فردوس ولے
آدمی ایک نہیں اس کے ہواداروں میں
ہوکے بدحال محبت میں کھنچے آخرکار
لوگ اچھے تھے بہت یار کے بیماروں میں
جی گیا ایک دم سرد ہی کے ساتھ اپنا
ہم جو خوش زمزمہ تھے اس کے گرفتاروں میں
اب در باز بیاباں میں قدم رکھیے میر
کب تلک تنگ رہیں شہر کی دیواروں میں
میر تقی میر

چھاتی سے وہ مہ نہ لگا ٹک آکر اس بھی مہینے میں

دیوان چہارم غزل 1460
داغ فراق سے کیا پوچھو ہو آگ لگائی سینے میں
چھاتی سے وہ مہ نہ لگا ٹک آکر اس بھی مہینے میں
چاک ہوا دل ٹکڑے جگر ہے لوہو روئے آنکھوں سے
عشق نے کیا کیا ظلم دکھائے دس دن کے اس جینے میں
گوندھ کے گویا پتی گل کی وہ ترکیب بنائی ہے
رنگ بدن کا تب دیکھو جب چولی بھیگے پسینے میں
اس صورت کا ناز نہ تھا کچھ دب چلتا تھا ہم سے بھی
جب تک دیکھا ان نے نہ تھا منھ خوب اپنا آئینے میں
لوگوں میں اسلام کے ہو نہ شہرت اس رسوائی کی
شیخ کو پھیرا گدھے چڑھاکر مکے اور مدینے میں
دل نہ ٹٹولیں کاشکے اس کا سردی مہر تو ظاہر ہے
پاویں اس کو گرم مبادا یار ہمارے کینے میں
میر نے کیا کیا ضبط کیا ہے شوق میں اشک خونیں کو
کہیے جو تقصیر ہوئی ہو اپنا لوہو پینے میں
میر تقی میر

وے اندھیری مینھ برسے جوں کبھو شدت سے یاں

دیوان چہارم غزل 1459
ہجر میں روتا ہوں ہر شب میں تو اس صورت سے یاں
وے اندھیری مینھ برسے جوں کبھو شدت سے یاں
کس قدر بیگانہ خو ہیں مردمان شہرحسن
بات کرنا رسم و عادت ہی نہیں الفت سے یاں
اٹھ گئے ہیں جب سے ہم سونا پڑا ہے باغ سب
شور ہنگام سحر کا مہر ہے مدت سے یاں
سر کوئی پھوڑے محبت میں تو بارے اس طرح
مر گیا ہے عشق میں فرہاد جس قدرت سے یاں
دلکشی اس بزم کی ظاہر ہے تم دیکھو تو ہو
لوگ جی دیتے چلے جاتے ہیں کس حسرت سے یاں
صورتوں سے خاکداں یہ عالم تصویر ہے
بولیں کیا اہل نظر خاموش ہیں حیرت سے یاں
فہم حرفوں کے تنافر کا بھی یاروں کو نہیں
اس پہ رکھتے ہیں تنفر سب مری صحبت سے یاں
پنج روزہ عمر کریے عاشقی یا زاہدی
کام کچھ چلتا نہیں اس تھوڑی سی مہلت سے یاں
کیا سرجنگ و جدل ہو بے دماغ عشق کو
صلح کی ہے میر نے ہفتاد و دو ملت سے یاں
میر تقی میر

کہو تم سو دل کا مداوا کریں

دیوان چہارم غزل 1458
تھکے چارہ جوئی سے اب کیا کریں
کہو تم سو دل کا مداوا کریں
گلستاں میں ہم غنچہ ہیں دیر سے
کہاں ہم کو پروا کہ پروا کریں
نہیں چاہتا جی کچھ اب سیر ہیں
ہوس دل کو ہو تو تمنا کریں
بخود جستجو میں نہ اس کی رہے
ہم آپھی ہیں گم کس کو پیدا کریں
غضب ہے یہ انداز رفتار عشق
چلے جائیں جی ہم تماشا کریں
بلا شور ہے سر میں ہم کب تلک
قیامت کا ہنگامہ برپا کریں
کہیں دل کی مرغان گلشن سے کیا
یہ بے حوصلہ ہم کو رسوا کریں
کھپا عشق کا جوش دل میں بھلا
کہ بدنام ہوویں جو سودا کریں
برے حال اس کی گلی میں ہیں میر
جو اٹھ جائیں واں سے تو اچھا کریں
میر تقی میر

ہم جو دیکھیں ہیں تو وے آنکھ چھپا لیتے ہیں

دیوان چہارم غزل 1457
وہ نہیں اب کہ فریبوں سے لگا لیتے ہیں
ہم جو دیکھیں ہیں تو وے آنکھ چھپا لیتے ہیں
کچھ تفاوت نہیں ہستی و عدم میں ہم بھی
اٹھ کے اب قافلۂ رفتہ کو جا لیتے ہیں
نازکی ہائے رے طالع کی نکوئی سے کبھو
پھول سا ہاتھوں میں ہم اس کو اٹھا لیتے ہیں
صحبت آخر کو بگڑتی ہے سخن سازی سے
کیا درانداز بھی اک بات بنا لیتے ہیں
ہم فقیروں کو کچھ آزار تمھیں دیتے ہو
یوں تو اس فرقے سے سب لوگ دعا لیتے ہیں
چاک سینے کے ہمارے نہیں سینے اچھے
انھیں رخنوں سے دل و جان ہوا لیتے ہیں
میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
میر تقی میر

رنگ طپیدن کی شوخی سے منھ پر میرے رنگ نہیں

دیوان چہارم غزل 1456
جی مارا بیتابی دل نے اب کچھ اچھا ڈھنگ نہیں
رنگ طپیدن کی شوخی سے منھ پر میرے رنگ نہیں
وہ جو خرام ناز کرے ہے ٹھوکر دل کو لگتی ہے
چوٹ کے اوپر چوٹ پڑے ہے دل ہے میرا سنگ نہیں
ہم بھی عالم فقر میں ہیں پر ہم سے جو مانگے کوئی فقیر
ایک سوال میں دو عالم دیں اتنے دل کے تنگ نہیں
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے ہو گے کیا میرے طور شتابی ہو
بیٹھا ہوں کھڑے پائوں میں کچھ چلنے میں تو درنگ نہیں
شعرمیر بھی پڑھتا ہے تو اور کسو کا لے کر نام
کیوں کر کہیے اس ناداں کو نام سے میرے ننگ نہیں
میر تقی میر

بیٹھنے پاتے نہیں ہم کہ اٹھا دیتے ہیں

دیوان چہارم غزل 1455
ہم کو کہنے کے تئیں بزم میں جا دیتے ہیں
بیٹھنے پاتے نہیں ہم کہ اٹھا دیتے ہیں
ان طیوروں سے ہوں میں بھی اگر آتی ہے صبا
باغ کے چار طرف آگ لگا دیتے ہیں
گرچہ ملتے ہیں خنک غیرت مہ یہ لڑکے
دل جگر دونوں کو یک لخت جلا دیتے ہیں
دیر رہتا ہے ہما لاش پہ غم کشتوں کی
استخواں ان کے جلے کچھ تو مزہ دیتے ہیں
اس شہ حسن کا اقبال کہ ظالم کے تئیں
ہر طرف سینکڑوں درویش دعا دیتے ہیں
دل جگر ہو گئے بیتاب غم عشق جہاں
جی بھی ہم شوق کے ماروں کے دغا دیتے ہیں
کیونکے اس راہ میں پا رکھیے کہ صاحب نظراں
یاں سے لے واں تئیں آنکھیں ہی بچھا دیتے ہیں
ملتے ہی آنکھ ملی اس کی تو پر ہم بے تہ
خاک میں آپ کو فی الفور ملا دیتے ہیں
طرفہ صناع ہیں اے میر یہ موزوں طبعاں
بات جاتی ہے بگڑ بھی تو بنا دیتے ہیں
میر تقی میر

بہت ہی حال برا ہے اب اضطراب نہیں

دیوان چہارم غزل 1454
بھلا ہوا کہ دل مضطرب میں تاب نہیں
بہت ہی حال برا ہے اب اضطراب نہیں
جگر کا لوہو جو پانی ہو بہ نکلتا تھا
سو ہو چکا کہ مری چشم اب پرآب نہیں
دیار حسن میں دل کی نہیں خریداری
وفا متاع ہے اچھی پہ یاں کے باب نہیں
حساب پاک ہو روز شمار میں تو عجب
گناہ اتنے ہیں میرے کہ کچھ حساب نہیں
گذر ہے عشق کی بے طاقتی سے مشکل آہ
دنوں کو چین نہیں ہے شبوں کو خواب نہیں
جہاں کے باغ کا یہ عیش ہے کہ گل کے رنگ
ہمارے جام میں لوہو ہے سب شراب نہیں
تلاش میر کی اب میکدوں میں کاش کریں
کہ مسجدوں میں تو وہ خانماں خراب نہیں
میر تقی میر

مار رکھا سو ان نے مجھ کو کس ظالم سے جا لڑیاں

دیوان چہارم غزل 1453
دل کی کچھ تقصیر نہیں ہے آنکھیں اس سے لگ پڑیاں
مار رکھا سو ان نے مجھ کو کس ظالم سے جا لڑیاں
ایک نگہ میں مر جاتا ہے عاشق کوچک دل اس کا
زہر بھری کیا کام آتی ہیں گو وے آنکھیں ہوں بڑیاں
عقدے داغ دل کے شاید دست قدرت کھولے گا
ناخن سے تدبیر کے میری کھلتی نہیں یہ گل جھڑیاں
نحس تھے کیا وے وقت و ساعت جن میں لگا تھا دل اپنا
سال پہر ہے اب تو ہم کو ماہ برابر ہیں گھڑیاں
میر بلاے جان رہے ہیں دونوں فراق و وصل اس کے
ہجر کی راتیں وہ بھاری تھیں ملنے کے دن کی یہ کڑیاں
میر تقی میر

آپ میں ہم سے بے خود و رفتہ پھر پھر بھی کیا آتے ہیں

دیوان چہارم غزل 1452
دل کی لاگ بری ہے ہوتی چنگے بھلے مرجاتے ہیں
آپ میں ہم سے بے خود و رفتہ پھر پھر بھی کیا آتے ہیں
رنگ نہ بدلے چہرہ کیونکر آنکھیں بیٹھی جائیں نہ کیوں
کیسے کیسے غم کھاتے ہیں کیا کیا رنج اٹھاتے ہیں
جی ہی جائے ہے میر جو اپنا دیر کی جانب کیا کریے
یوں تو مزاج طرف کعبے کے بہتیرا ہم لاتے ہیں
میر تقی میر

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

دیوان چہارم غزل 1451
غزل میر کی کب پڑھائی نہیں
کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں
زباں سے ہماری ہے صیاد خوش
ہمیں اب امید رہائی نہیں
کتابت گئی کب کہ اس شوخ نے
بنا اس کی گڈّی اڑائی نہیں
نسیم آئی میرے قفس میں عبث
گلستاں سے دو پھول لائی نہیں
مری دل لگی اس کے رو سے ہی ہے
گل تر سے کچھ آشنائی نہیں
نوشتے کی خوبی لکھی کب گئی
کتابت بھی ایک اب تک آئی نہیں
گلہ ہجر کا سن کے کہنے لگا
ہمارے تمھارے جدائی نہیں
جدا رہتے برسوں ہوئے کیونکے یہ
کنایہ نہیں بے ادائی نہیں
سیہ طالعی میری ظاہر ہے اب
نہیں شب کہ اس سے لڑائی نہیں
میر تقی میر

یاد میں اس خود رو گل تر کی کیسے کیسے بولیں ہیں

دیوان چہارم غزل 1450
صبح ہوئی گلزار کے طائر دل کو اپنے ٹٹولیں ہیں
یاد میں اس خود رو گل تر کی کیسے کیسے بولیں ہیں
باغ میں جو ہم دیوانے سے جا نکلیں ہیں نالہ کناں
غنچے ہو ہو مرغ چمن کے ساتھ ہمارے ہولیں ہیں
یار ہمارا آساں کیا کچھ سینہ کشادہ ہم سے ملا
خون کریں ہیں جب دل کو وے بند قبا کے کھولیں ہیں
مینھ جو برسے ہے شدت سے دیکھ اندھیری کیا ہے یہ
یعنی تنگ جو ہم آتے ہیں دل کو کھول کے رولیں ہیں
وہ دھوبی کا کم ملتا ہے میل دل اودھر ہے بہت
کوئی کہے اس سے ملتے میں تجھ کو کیا ہم دھولیں ہیں
سرو تو ہے سنجیدہ لیکن پیش مصرع قد یار
ناموزوں ہی نکلے ہے جب دل میں اپنے تولیں ہیں
مرگ کا وقفہ اس رستے میں کیا ہے میر سمجھتے ہو
ہارے ماندے راہ کے ہیں ہم لوگ کوئی دم سولیں ہیں
میر تقی میر

کم اتفاق پڑتے ہیں یہ اتفاق میں

دیوان چہارم غزل 1449
ہم سے اسے نفاق ہوا ہے وفاق میں
کم اتفاق پڑتے ہیں یہ اتفاق میں
شاید کہ جان و تن کی جدائی بھی ہے قریب
جی کو ہے اضطراب بہت اب فراق میں
عازم پہنچنے کے تھے دل و عرش تک ولے
آیا قصور اپنے ہی کچھ اشتیاق میں
احراق اپنے قلب کا رونے سے کب گیا
پانی کی چار بوندیں ہیں کیا احتراق میں
تحصیل علم کرنے سے دیکھا نہ کچھ حصول
میں نے کتابیں رکھیں اٹھا گھر کے طاق میں
دم ناک میں بقول زناں عاشقوں کے ہیں
ہلنا بلا ہے موتی کا اس کے بلاق میں
اک نور گرم جلوہ فلک پر ہے ہر سحر
کوئی تو ماہ پارہ ہے میر اس رواق میں
میر تقی میر

پلکوں کی صف کو دیکھ کے بھیڑیں سرک گئیں

دیوان چہارم غزل 1448
خوبی رو و چشم سے آنکھیں اٹک گئیں
پلکوں کی صف کو دیکھ کے بھیڑیں سرک گئیں
چلتے سمندناز کی شوخی کو اس کے دیکھ
گھوڑوں کی باگیں دست سپہ سے اچک گئیں
ترچھی نگاہیں پلکیں پھریں اس کی پھرپھریں
سو فوجیں جو دو رستہ کھڑی تھیں بہک گئیں
بجلی سا مرکب اس کا کڑک کر چمک گیا
لوگوں کے سینے پھٹ گئے جانیں دھڑک گئیں
محبوب کا وصال نہ ہم کو ہوا نصیب
دل سے ہزار خواہشیں سر کو پٹک گئیں
موقوف طور نور کا جھمکا ترا نہیں
چمکا جہاں تو برق سا آنکھیں جھپک گئیں
وحشت سے بھر رہی تھی بزن گہ جہان کی
جانیں بسان طائر بسمل پھڑک گئیں
گرد رہ اس کی دیکھتے اپنے اٹھی نہ حیف
اب منتظر ہو آنکھیں مندیں یعنی تھک گئیں
بھردی تھی چشم ساقی میں یارب کہاں کی مے
مجلس کی مجلسیں نظر اک کرتے چھک گئیں
کیا میر اس کی نوک پلک سے سخن کرے
سرتیز چھریاں گڑتی جگر دل تلک گئیں
میر تقی میر

اب ہجر یار میں ہیں کیا دل زدہ سفر میں

دیوان چہارم غزل 1447
کچھ قدر عافیت کی معلوم کی نہ گھر میں
اب ہجر یار میں ہیں کیا دل زدہ سفر میں
ہر لحظہ بے قراری ہر لمحہ آہ و زاری
ہر دم ہے اشکباری نومیدی ہے نظر میں
روتے ہی رہنا اکثر تہ چاہتا ہے سو تو
تاب اب نہیں ہے دل میں نے خون ہے جگر میں
یہ بخت دیکھ گاہے آتا ہے آنکھوں میں بھی
پر نقش اس کے پا کا بیٹھا نہ چشم تر میں
کیا راہ چلنے سے ہے اے میر دل مکدر
تو ہی نہیں مسافر ہے عمر بھی گذر میں
میر تقی میر

محزوں ہوویں مفتوں ہوویں مجنوں ہوویں رسوا ہوں

دیوان چہارم غزل 1446
دل کے گئے بے دل کہلائے آگے دیکھیے کیا کیا ہوں
محزوں ہوویں مفتوں ہوویں مجنوں ہوویں رسوا ہوں
عشق کی رہ میں پائوں رکھا سو رہنے لگے کچھ رفتہ سے
آگے چل کر دیکھیں ہم اب گم ہوویں یا پیدا ہوں
خار و خس الجھے ہیں آپھی بحث انھوں سے کیا رکھیں
موج زن اپنی طبع رواں سے جب ہم جیسے دریا ہوں
ہم بھی گئے جاگہ سے اپنی شوق میں اس ہرجائی کے
عشق کا جذبہ کام کرے تو پھر ہم دونوں یک جا ہوں
کوئی طرف یاں ایسی نہیں جو خالی ہووے اس سے میر
یہ طرفہ ہے شورجرس سے چار طرف ہم تنہا ہوں
میر تقی میر

نکلی ہے مگر تازہ کوئی شاخ کماں میں

دیوان چہارم غزل 1445
ہے وضع کشیدہ کا جو شور اس کے جہاں میں
نکلی ہے مگر تازہ کوئی شاخ کماں میں
ہر طور میں ہم حرف و سخن لاگ سے دل کی
کیا کیا کہیں ہیں مرغ چمن اپنی زباں میں
کیا بائو نے بھی دست تطاول کو دیا طول
پھیلے پڑے ہیں پھول ہی سب اب کے خزاں میں
خوش رنگ ہے کس مرتبہ انہار کا پانی
خوناب مری چشم کا ہے آب رواں میں
روئو مرے احوال پہ جوں ابر بہت میر
بے طاقتی بجلی کی سی ہے آہ و فغاں میں
میر تقی میر

اتنا ہے کہ طپش سے دل کی سر پر وہ دھمّال نہیں

دیوان چہارم غزل 1444
ضعف دماغ سے کیا پوچھو ہو اب تو ہم میں حال نہیں
اتنا ہے کہ طپش سے دل کی سر پر وہ دھمّال نہیں
گاہے گاہے اس میں ہم نے منھ اس مہ کا دیکھا تھا
جیسا سال کہ پر کا گذرا ویسا بھی یہ سال نہیں
بالوں میں اس کے دل الجھا تھا خوب ہوا جو تمام ہوا
یعنی گیا جب پیچ سے جی ہی تب پھر کچھ جنجال نہیں
ایسی متاع قلیل کے اوپر چشم نہ کھولیں اہل نظر
آنکھ میں آوے جو کچھ ہووے دنیا اتنی مال نہیں
سرو چماں کو سیر کیا تھا کبک خراماں دیکھ لیا
اس کا سا انداز نہ پایا اس کی سی یہ چال نہیں
دل تو ان میں پھنس جاتا ہے جی ڈوبے ہے دیکھ ادھر
چاہ زنخ گو چاہ نہیں ہے بال اس کے گو جال نہیں
کب تک دل کے ٹکڑے جوڑوں میر جگر کے لختوں سے
کسب نہیں ہے پارہ دوزی میں کوئی وصّال نہیں
میر تقی میر

کس کس ناز سے وے آتے پر آنکھ نہ ان سے ملاتے ہم

دیوان چہارم غزل 1443
صبر بہت تھا ایک سمیں میں جا سے اپنی نہ جاتے ہم
کس کس ناز سے وے آتے پر آنکھ نہ ان سے ملاتے ہم
کعبے سے کر نذر اٹھے سو خرج راہ اے وائے ہوئے
ورنہ صنم خانے میں جا زنار گلے سے بندھاتے ہم
ہاتھی مست بھی آوے چلا تو اس سے منھ کو پھیر نہ لیں
پھرتے ہیں سرمست محبت مے ناخوردہ ماتے ہم
ہائے جوانی وہ نہ گلے لگتا تو خشم عشقی سے
نعل جڑی جاتی چھاتی پر گل ہاتھوں پر کھاتے ہم
عشق تو کارخوب ہے لیکن میر کھنچے ہے رنج بہت
کاش کے عالم ہستی میں بے عشق و محبت آتے ہم
میر تقی میر

رحلت کرنے سے آگے مجھ کو دیکھتے آتے جاتے تم

دیوان چہارم غزل 1442
چاہیے یوں تھا بگڑی صحبت آپھی آ کے بناتے تم
رحلت کرنے سے آگے مجھ کو دیکھتے آتے جاتے تم
چلتے کہا تھا جائو سفر کر آئوگے تو ملیے گا
وعدئہ وصل نہ ہوتا تو پھر کس کو جیتا پاتے تم
کیا دن تھے وے دیکھتے تم کو نیچی نظر میں کرلیتا
شرما شرما لوگوں سے جب آنکھیں مجھ کو دکھاتے تم
بستر پر میں مردہ سا تھا جان سی مجھ میں آجاتی
کیا ہوتا جو رنجہ قدم کر میرے سرہانے آتے تم
دل کے اوپر ہاتھ رکھے ہی شام و سحر یاں گذرے ہے
حال یہ تھا تو دل عاشق کا ہاتھ میں ٹک تو لاتے تم
خاک ہے اصل طینت آدم چاہیے اس کو عجز کرے
بات کی تہ کو کچھ پاتے تو اتنا سر نہ اٹھاتے تم
چہرہ زرد بجا ہے سارا عشق میں غم کا مارا ہوں
رنگ یہ دیکھا ہوتا تو دل میر کہیں نہ لگاتے تم
میر تقی میر

آجاویں جو یہ ہرجائی تو بھی نہ جاویں جا سے ہم

دیوان چہارم غزل 1441
عشق بتوں سے اب نہ کریں گے عہد کیا ہے خدا سے ہم
آجاویں جو یہ ہرجائی تو بھی نہ جاویں جا سے ہم
گریۂ خونیں ٹک بھی رہے تو خاک سی منھ پر اڑتی ہے
شام و سحر رہتے ہیں یعنی اپنے لہو کے پیاسے ہم
اس کی نہ پوچھو دوری میں ان نے پرسش حال ہماری نہ کی
ہم کو دیکھو مارے گئے ہیں آکر پاس وفا سے ہم
چپکے کیا انواع اذیت عشق میں کھینچی جاتی ہے
دل تو بھرا ہے اپنا تو بھی کچھ نہیں کہتے حیا سے ہم
کیا کیا عجز کریں ہیں لیکن پیش نہیں کچھ جاتا میر
سر رگڑے ہیں آنکھیں ملیں ہیں اس کے حنائی پا سے ہم
میر تقی میر

خموش دیکھتے رہتے ہیں اس کے رو کو ہم

دیوان چہارم غزل 1440
تجا ہے حیرت عشقی سے گفتگو کو ہم
خموش دیکھتے رہتے ہیں اس کے رو کو ہم
اگرچہ وصل ہے پر ہیں طلب میں سرگرداں
پہ وہم کار ہی جاتے ہیں جستجو کو ہم
اب اپنی جان سے ہیں تنگ دم رکا ہے بہت
ملا ہی دیں گے تری تیغ سے گلو کو ہم
جلا کے خاک کرے وہ کہ رہ کے داغ کرے
لگا دیں آگ سے کیا اپنی گرم خو کو ہم
مرید پیر خرابات یوں نہ ہوتے میر
سمجھتے عارف اگر اور بھی کسو کو ہم
میر تقی میر

کاش رہتے کسو طرف مر ہم

دیوان چہارم غزل 1439
حال زخم جگر سے ہے درہم
کاش رہتے کسو طرف مر ہم
دلبروں کو جو بر میں کھینچا ٹک
اس ادا سے بہت ہوئے برہم
آپ کو اب کہیں نہیں پاتے
بے خودی سے گئے ہیں کیدھر ہم
دیر و کعبہ گئے ہیں ہم اکثر
یعنی ڈھونڈا ہے اس کو گھر گھر ہم
کہہ سکے کون ہم کو ناہموار
اب تو ہیں خاک سے برابر ہم
کوفت سی کوفت اپنے دل پر ہے
چھاتی کوٹا کیے ہیں اکثر ہم
ابر کرتا ہے اب کمی سی میر
دیکھیں ہیں سوے دیدئہ تر ہم
میر تقی میر

کانپا کرے ہے جی سو ٹھہرا کے رہ گئے ہم

دیوان چہارم غزل 1438
ایک آدھ دن سنوگے سنّا کے رہ گئے ہم
کانپا کرے ہے جی سو ٹھہرا کے رہ گئے ہم
واشد ہوئی سو اپنی پژمردگی سے بدتر
موسم گئے کے گل سے مرجھا کے رہ گئے ہم
پرداغ دل کو لے کر آخر کیا کنارہ
اس باغ سے گلی میں جا جا کے رہ گئے ہم
سوز دروں نے ہم کو پردے میں مار رکھا
جوں شمع آپ ہی کو کھا کھا کے رہ گئے ہم
حیرت سے عاشقی کی پوچھا تھا دوستوں نے
کہہ سکتے کچھ تو کہتے شرما کے رہ گئے ہم
اے وائے دل گئے پر جی بھی گیا ہمارا
یعنی کہ میر برسوں پچھتا کے رہ گئے ہم
میر تقی میر

آن لگے ہیں گور کنارے اس کی گلی میں جا جا ہم

دیوان چہارم غزل 1437
ظلم ہوئے ہیں کیا کیا ہم پر صبر کیا ہے کیا کیا ہم
آن لگے ہیں گور کنارے اس کی گلی میں جا جا ہم
ہاہا ہی ہی کر ٹالے گا اس کا غرور دو چنداں ہے
گھگھیانے کا اب کیا حاصل یوں ہی کرے ہیں ہاہا ہم
اب حیرت ہے کس کس جاگہ پنبہ و مرہم رکھنے کی
قد تو کیا ہے سرو چراغاں داغ بدن پر کھا کھا ہم
سیر خیال جنوں کا کریے صرف کریں تا ہم پر سب
پتھر آپ گلی کوچوں میں ڈھیر کیے ہیں لالا ہم
میر فقیر ہوئے تو اک دن کیا کہتے ہیں بیٹے سے
عمر رہی ہے تھوڑی اسے اب کیوں کر کاٹیں بابا ہم
میر تقی میر

پائوں کا رکھنا گرچہ ادھر کو عار سے ہے پر آئو تم

دیوان چہارم غزل 1436
صبر کیا جاتا نہیں ہم سے رہ کے جدا نہ ستائو تم
پائوں کا رکھنا گرچہ ادھر کو عار سے ہے پر آئو تم
جس کے تئیں پروا ہو کسو کی آنا جانا اس کا ہے
نیک ہو یا بد حال ہمارا تم کو کیا ہے جائو تم
چپ ہیں کچھ جو نہیں کہتے ہم کار عشق کے حیراں ہیں
سوچو حال ہمارا ٹک تو بات کی تہ کو پائو تم
میر کو وحشت ہے گی قیامت واہی تباہی بکتے ہیں
حرف و حکایت کیا مجنوں کی دل میں کچھ مت لائو تم
میر تقی میر

اپنی آنکھوں سے اسے یاں جلوہ گر دیکھیں گے ہم

دیوان چہارم غزل 1435
یارب اس محبوب کو پھر اک نظر دیکھیں گے ہم
اپنی آنکھوں سے اسے یاں جلوہ گر دیکھیں گے ہم
میں کہا دیکھو ادھر ٹک تم تو میں بھی جان دوں
ہنس کے بولے یہ تری باتیں ہیں پر دیکھیں گے ہم
پاس ظاہر سے اسے تو دیکھنا دشوار ہے
جائیں گے مجلس میں تو ایدھر ادھر دیکھیں گے ہم
یوں نہ دیں گے دل کسو سیمیں بدن زر دوست کو
ابتداے عشق میں اپنا بھی گھر دیکھیں گے ہم
کام کہتے ہیں سماجت سے کبھو لیتے ہیں لوگ
ایک دن اس کے کنے جاکر بپھر دیکھیں گے ہم
راہ تکتے تکتے اپنی آنکھیں بھی پتھرا چلیں
یہ نہ جانا تھا کہ سختی اس قدر دیکھیں گے ہم
شورش دیوانگی اس کی نہیں جائے گی لیک
ایک دو دن میر کو زنجیر کر دیکھیں گے ہم
میر تقی میر

ہے آج عید صاحب میرے لگے گلے تم

دیوان چہارم غزل 1434
پوشاک تنگ پہنے بارے کہاں چلے تم
ہے آج عید صاحب میرے لگے گلے تم
اس نازکی سے گذرے کس کے خیال میں شب
مرجھائے پھول سے ہو جو کچھ ملے دلے تم
کیا ظلم ہے کہ کھینچے شمشیر وہ کہے ہے
آزردہ ہوں گا پھر میں جاگہ سے جو ہلے تم
کم پائی اس قدر ہے منزل ہے دور اتنی
طے کس طرح کروگے یارو یہ مرحلے تم
اکثر نڈھال ہیں ہم پر یوں نہیں وہ کہتا
کیا ہے کہ جاتے ہو گے کچھ اتنے ہی ڈھلے تم
یہ جانتے نہ تھے ہم ایسے برے ہوئے ہو
ہونٹوں پہ جان آئی تم بن گئے بھلے تم
قربانی اس کی ٹھہری پر یہ طرح نہ چھوڑی
تکتے ہو میر اودھر تلوار کے تلے تم
میر تقی میر

سب سے گلی کوچوں میں ملو ہو پھرتے رہو ہو گھر گھر تم

دیوان چہارم غزل 1433
شاید ہم سے ضد رکھتے ہو آتے نہیں ٹک ایدھر تم
سب سے گلی کوچوں میں ملو ہو پھرتے رہو ہو گھر گھر تم
کیا رکھیں یہ تم سے توقع خاک سے آ کے اٹھائوگے
راہ میں دیکھو افتادہ تو اور لگائو ٹھوکر تم
اس سے زیادہ ہوتا نہ ہو گا دنیا میں بھی نچلاپن
سون کسے بیٹھے رہتے ہو حال ہمارا سن کر تم
لطف و مہر و خشم و غضب ہم ہر صورت میں راضی ہیں
حق میں ہمارے کر گذرو بھی جو کچھ جانو بہتر تم
رنگ ہمارا جیسا اب ہے کاہے کو آگے ایسا تھا
پاؤں میں مہندی اپنے لگا کر آفت لائے سر پر تم
لوگ صنم کہتے تھے تم کو ان سمجھے تھے ہم محظوظ
سختی سی سختی کھینچی گئی یعنی نکلے پتھر تم
چپکے سے کچھ آجاتے ہو آنکھیں بھر بھر لاتے ہو
میر گذرتی کیا ہے دل پر کڑھا کرو ہو اکثر تم
میر تقی میر

راہ خرابے سے نکلی نہ گھر کی بستی میں کیوں کر جاویں ہم

دیوان چہارم غزل 1432
بن میں چمن میں جی نہیں لگتا یارو کیدھر جاویں ہم
راہ خرابے سے نکلی نہ گھر کی بستی میں کیوں کر جاویں ہم
کیسی کیسی خرابی کھینچی دشت و در میں سر مارا
خانہ خراب کہاں تک پھریے ایسا ہو گھر جاویں ہم
عشق میں گام اول اپنے جی سے گذرنا پیش آیا
اس میدان میں رکھ کے قدم کیا مرنے سے ڈر جاویں ہم
خواہ نماز خضوع سے ہووے خواہ نیاز اک سوے دل
وقت رہا ہے بہت کم اب تو بارے کچھ کر جاویں ہم
کب تک میر فراق میں اس کے لوہو پی پی جیتے رہیں
بس چلتا نہیں آہ اپنا کچھ ورنہ ابھی مر جاویں ہم
میر تقی میر

اب دماغ اڑتا ہے باتوں میں کہ ہوں بیمار دل

دیوان چہارم غزل 1430
مت کرو شور و فغاں سے طائرو آزار دل
اب دماغ اڑتا ہے باتوں میں کہ ہوں بیمار دل
رنج و غم بھی کھینچنے کے دن تو یارو ہوچکے
اب نہیں جاتی اٹھائی کلفت بسیار دل
میر تقی میر

دیوانہ دل بلا زدہ دل بے قرار دل

دیوان چہارم غزل 1429
کھنچتا ہے اس طرف ہی کو بے اختیار دل
دیوانہ دل بلا زدہ دل بے قرار دل
سمجھا بھی تو کہ دل کسے کہتے ہیں دل ہے کیا
آتا ہے جو زباں پہ تری بار بار دل
آزردہ خاطری کا ہماری نہ کر عجب
اک عمر ہم رہا کیے ہیں مار مار دل
واشد فسردگی سے تری اس چمن میں ہے
دل جو کھلا تو جیسے گل بے بہار دل
میر اس کے اشتیاق ہم آغوشی میں نہ پوچھ
جاتا ہے اب تو جی ہی رہا درکنار دل
میر تقی میر

دل وہی بے قرار ہے تا حال

دیوان چہارم غزل 1428
حال تو حال زار ہے تا حال
دل وہی بے قرار ہے تا حال
بڑھتی ہے حال کی خرابی روز
گرچہ کچھ روزگار ہے تا حال
خستہ جانی نے ننگ خلق کیا
پر اسے مجھ سے عار ہے تا حال
حال فکر سخن میں کچھ نہ رہا
شعر میرا شعار ہے تا حال
حال مستی جوانی تھی سو گئی
میر اس کا خمار ہے تا حال
آنکھیں بدحالی سے ٹھہرتیں نہیں
شوق دیدار یار ہے تا حال
غم سے حالانکہ خون دل سوکھا
چشم تر اشکبار ہے تا حال
میر تقی میر

نزدیک ہے کہ کہیے اب ہائے ہائے اے دل

دیوان چہارم غزل 1427
دل تو گداز سب ہے کس کو کوئی کہے دل
نزدیک ہے کہ کہیے اب ہائے ہائے اے دل
اس عشق میں نکالے میں نے بھی نام کیا کیا
خانہ خراب و رسوا بے دین اور بے دل
جوں ابر رویئے کیا دل برق سا ہے بے کل
رکھے ہی رہیے اکثر ہاتھ اس پہ جو رہے دل
دل گوکہ داغ و خوں ہے رہتی ہے لاگ تجھ سے
انصاف کر کہ جا کر دکھلاویں پھر کسے دل
دل کے ثبات سے ہم نومید ہو رہے ہیں
اب وہ سماں ہے خوں ہو رخسار پر بہے دل
عاشق کہاں ہوئے ہم پانچوں حواس کھوئے
اس مخمصے میں ازبس حیراں ہے کیا کرے دل
جاتا ہے کیا کھنچا کچھ دیکھ اس کو ناز کرتا
آتا نہیں ہمیں خوش انداز بے تہ دل
ہم دردمند اپنا سوز دروں ہے بے حد
یارب ہمارے اوپر کس مرتبے جلے دل
اے میر اسے ہے نسبت کن حلقہ حلقہ مو سے
بیتاب کچھ ہے گاہے پرپیچ ہے گہے دل
میر تقی میر

ہوا کاغذ نمط گو رنگ تیرا زرد کیا حاصل

دیوان چہارم غزل 1426
غم مضموں نہ خاطر میں نہ دل میں درد کیا حاصل
ہوا کاغذ نمط گو رنگ تیرا زرد کیا حاصل
ہوئے صید زبوں ہم منتظر ہی خاک جی دے کر
سواری سے کسو کی گو اٹھی اب گرد کیا حاصل
بلا ہے سوزسینہ میر لوں ہوجائے گی جل کر
اگر دل سے اٹھی تیرے یہ آہ سرد کیا حاصل
میر تقی میر

یوں بے دم ہے اب پہلو میں جوں صید بسمل ہے دل

دیوان چہارم غزل 1425
عشق کی چوٹیں پے درپے جو اٹھائی گئیں گھائل ہے دل
یوں بے دم ہے اب پہلو میں جوں صید بسمل ہے دل
خون ہوا ہے چاک ہوا ہے جلتے جلتے داغ ہوا
خواہش اس کو کیا ہے بارے کس کے لیے بیدل ہے دل
عشق کی بجلی آ کے گری سو داغ ہوا ہے سر تا سر
کیا رووے جوں ابر کوئی اس مزرع کا حاصل ہے دل
یوں تو گرہ سینے میں ہمارے درد و غم کی ہوکے رہا
کس سے ظاہر کرتے جاکر کام بہت مشکل ہے دل
آنکھوں کی دیکھا دیکھی ہرگز دل کو اس سے نہ لگنا تھا
جیسی سزا پہنچاوے کوئی اب اس کے قابل ہے دل
عمر انساں راہ تو ہے تشویش سے طے ہوتی ہے ولے
دل کے تئیں پہنچے جو کوئی چین کی پھر منزل ہے دل
شہد لب سے اس کے چپکا جی کا صرفہ کچھ نہ کیا
میر جو دیکھا اپنے حق میں کیا زہر قاتل ہے دل
میر تقی میر

لیکن ہزار حیف نہ ٹھہری ہواے گل

دیوان چہارم غزل 1424
بلبل نے کل کہا کہ بہت ہم نے کھائے گل
لیکن ہزار حیف نہ ٹھہری ہواے گل
رعنا جوان شہر کے رہتے ہیں گل بسر
سر پر ہمارے داغ جنوں کے ہیں جاے گل
دل لوٹنے پہ مرغ چمن کے نہ کی نظر
بے درد گل فروش سبد بھر کے لائے گل
حیف آفتاب میں پس دیوار باغ ہیں
جوں سایہ وا کشیدہ ہوئے ہم نہ پاے گل
بوے گل و نواے خوش عندلیب میر
آئی چلی گئی یہی کچھ تھی وفاے گل
میر تقی میر

مگر آئے تھے میہمان سے لوگ

دیوان چہارم غزل 1423
کیا چلے جاتے ہیں جہان سے لوگ
مگر آئے تھے میہمان سے لوگ
قہر ہے بات بات پر گالی
جاں بہ لب ہیں تری زبان سے لوگ
شہر میں گھر خراب ہے اپنا
آتے ہیں یاں اب اس نشان سے لوگ
ایک گردش میں ہیں برابر خاک
کیا جھگڑتے ہیں آسمان سے لوگ
درد دل ان نے کب سنا میرا
لگے رہتے ہیں اس کے کان سے لوگ
بائو سے بھی لچک لہک ہے انھیں
ہیں یہی سبزے دھان پان سے لوگ
شوق میں تیر سے چلے اودھر
ہم خمیدہ قداں کمان سے لوگ
آدمی اب نہیں جہاں میں میر
اٹھ گئے اس بھی کاروان سے لوگ
میر تقی میر

دل کے مرض عشق سے بیمار ہیں ہم لوگ

دیوان چہارم غزل 1422
اس رنگ سے جو زرد زبوں زار ہیں ہم لوگ
دل کے مرض عشق سے بیمار ہیں ہم لوگ
کیا اپنے تئیں پستی بلندی سے جہاں کی
اب خاک برابر ہوئے ہموار ہیں ہم لوگ
مقصود تو حاصل ہے طلب شرط پڑی ہے
وہ مطلب عمدہ ہے طلبگار ہیں ہم لوگ
خوں ریز ہی لڑکوں سے لڑا رہتے ہیں آنکھیں
گر قتل کریں ہم کو سزاوار ہیں ہم لوگ
دل پھنس رہے ہیں دام میں زلفوں کے کسو کی
تنگ اپنے جیوں سے ہیں گرفتار ہیں ہم لوگ
بازار کی بھی جنس پہ جی دیتے ہیں عاشق
سر بیچتے پھرتے ہیں خریدار ہیں ہم لوگ
ان پریوں سے لڑکوں ہی کے جھپٹے میں دل آئے
بے ہوش و خرد جیسے پریدار ہیں ہم لوگ
در پر کسو کے جا کے کھڑے ہوں تو کھڑے ہیں
حیرت زدئہ عشق ہیں دیوار ہیں ہم لوگ
جاتے ہیں چلے قافلہ در قافلہ اس راہ
چلنے میں تردد نہیں تیار ہیں ہم لوگ
مارے ہی پڑیں کچھ کہیں عشاق تو شاید
حیرت سے ہیں چپ تس پہ گنہگار ہیں ہم لوگ
گو نیچی نظر میر کی ہو آنکھیں تو ٹک دیکھ
کیا دل زدگاں سادہ میں پرکار ہیں ہم لوگ
میر تقی میر

نہ ایسا کھلا گل نزاکت سے اب تک

دیوان چہارم غزل 1421
رہا پھول سا یار نزہت سے اب تک
نہ ایسا کھلا گل نزاکت سے اب تک
لبالب ہے وہ حسن معنی سے سارا
نہ دیکھا کوئی ایسی صورت سے اب تک
سلیماں ؑ سکندر کہ شاہان دیگر
نہ رونق گئی کس کی دولت سے اب تک
کرم کیا صفت ہے نہ ہوں گو کریماں
سخن کرتے ہیں ان کی ہمت سے اب تک
سبب مرگ فرہاد کا ہو گیا تھا
نگوں ہے سرتیشہ خجلت سے اب تک
ہلا تو بھی لب کو کہ عیسیٰ ؑکے دم کی
چلی جائے ہے بات مدت سے اب تک
عقیق لب اس کے کبھو دیکھے تھے میں
بھرا ہے دہن آب حسرت سے اب تک
گئی عمر ساری مجھے عجز کرتے
نہ مانی کوئی ان نے منت سے اب تک
نہ ہو گو جنوں میرجی کو پر ان کی
طبیعت ہے آشفتہ وحشت سے اب تک
میر تقی میر

سر مارے ہیں اپنے در و دیوار سے اب تک

دیوان چہارم غزل 1420
وحشت ہے ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک
سر مارے ہیں اپنے در و دیوار سے اب تک
مرتے ہی سنا ان کو جنھیں دل لگی کچھ تھی
اچھا بھی ہوا کوئی اس آزار سے اب تک
جب سے لگی ہیں آنکھیں کھلی راہ تکے ہیں
سوئے نہیں ساتھ اس کے کبھو پیار سے اب تک
آیا تھا کبھو یار سو مامول ہم اس کے
بستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے اب تک
بدعہدیوں میں وقت وفات آن بھی پہنچا
وعدہ نہ ہوا ایک وفا یار سے اب تک
ہے قہر و غضب دیکھ طرف کشتے کے ظالم
کرتا ہے اشارت بھی تو تلوار سے اب تک
کچھ رنج دلی میر جوانی میں کھنچا تھا
زردی نہیں جاتی مرے رخسار سے اب تک
میر تقی میر

اور آسماں غبار سر رہ گذار عشق

دیوان چہارم غزل 1419
نزدیک عاشقوں کے زمیں ہے قرارعشق
اور آسماں غبار سر رہ گذار عشق
مقبول شہر ہی نہیں مجنوں ضعیف و زار
ہے وحشیان دشت میں بھی اعتبارعشق
گھر کیسے کیسے دیں کے بزرگوں کے ہیں خراب
القصہ ہے خرابۂ کہنہ دیارعشق
گو ضبط کرتے ہوویں جراحت جگر کے زخم
روتا نہیں ہے کھول کے دل رازدارعشق
مارا پڑے ہے انس ہی کرنے میں ورنہ میر
ہے دورگرد وادی وحشت شکارعشق
میر تقی میر

ہیں فن عشق کے بھی مشکل بہت دقائق

دیوان چہارم غزل 1418
دل کا مطالعہ کر اے آگہ حقائق
ہیں فن عشق کے بھی مشکل بہت دقائق
چھاتی جلوں کے آگے کھنچتا ہے بیشتر دل
ایک آشنا ہے مجھ سے اس باغ میں شقائق
ہے راستی کہ انساں مشتق ہے انس ہی سے
بیماری دوستی کی ہے دشمن خلائق
جی سارے تن کا کھنچ کر آنکھوں میں آرہا ہے
کس مرتبے میں ہم بھی ہیں دیکھنے کے شائق
کل میرجی نے ضائع اپنے تئیں کیا ہے
یہ کام تھا نہ ان کی شائستگی کے لائق
میر تقی میر

کچھ کہتے ہیں سر الٰہی کچھ کہتے ہیں خدا ہے عشق

دیوان چہارم غزل 1417
لوگ بہت پوچھا کرتے ہیں کیا کہیے میاں کیا ہے عشق
کچھ کہتے ہیں سر الٰہی کچھ کہتے ہیں خدا ہے عشق
عشق کی شان ارفع اکثر ہے لیکن شانیں عجائب ہیں
گہ ساری ہے دماغ و دل میں گاہے سب سے جدا ہے عشق
کام ہے مشکل الفت کرنا اس گلشن کے نہالوں سے
بوکش ہوکر سیب ذقن کا غش نہ کرے تو سزا ہے عشق
الفت سے پرہیز کیا کر کلفت اس میں قیامت ہے
یعنی درد و رنج و تعب ہے آفت جان بلا ہے عشق
میر خلاف مزاج محبت موجب تلخی کشیدن ہے
یار موافق مل جاوے تو لطف ہے چاہ مزہ ہے عشق
میر تقی میر

نگاہیں ہیں میری نظر کی طرف

دیوان چہارم غزل 1416
نظر کیا کروں اس کے گھر کی طرف
نگاہیں ہیں میری نظر کی طرف
چھپاتے ہیں منھ اپنا کامل سے سب
نہیں کوئی کرتا ہنر کی طرف
بڑی دھوم سے ابر آئے گئے
نہ کوئی ہوا چشم تر کی طرف
اندھادھند روتے ہیں آنکھوں سے خون
نہیں دیکھتے ہم جگر کی طرف
رہا بے خبر گرچہ ہجراں میں میر
رہے گوش اس کی خبر کی طرف
میر تقی میر

پلکیں نہ ہوئی تھیں مری خوناب سے واقف

دیوان چہارم غزل 1415
میں آگے نہ تھا دیدئہ پرآب سے واقف
پلکیں نہ ہوئی تھیں مری خوناب سے واقف
پتھر تو بہت لڑکوں کے کھائے ہیں ولیکن
ہم اب بھی جنوں کے نہیں آداب سے واقف
ہم ننگ خلائق یہ عجب ہے کہ نہیں ہیں
اس عالم اسباب میں اسباب سے واقف
شب آنکھیں کھلی رہتی ہیں ہم منتظروں کی
جوں دیدئہ انجم نہیں ہیں خواب سے واقف
بل کھائے انھیں بالوں کو ہم جانیں ہیں یا میر
ہیں پیچ و غم و رنج و تب و تاب سے واقف
میر تقی میر

حرف و سخن جو بایک دیگر رہتے تھے سو اب موقوف

دیوان چہارم غزل 1414
آج ہمارا سر پھرتا ہے باتیں جتنی سب موقوف
حرف و سخن جو بایک دیگر رہتے تھے سو اب موقوف
کس کو دماغ رہا ہے یاں آٹھ پہر کی منت کا
ربط اخلاص سے دن گذرے ہے خلطہ اس سے سب موقوف
اس کی گلی میں آمد و شد کی گھات ہی میں ہم رہتے تھے
اب جو شکستہ پا ہو بیٹھے ڈھب کرنے کے ڈھب موقوف
وہ جو مانع ہو تو کیا ہے شوق کمال کو پہنچا ہے
وقفہ ہو گا تب ملنے میں ہم بھی کریں گے جب موقوف
حلقے پڑے ہیں چشم تر میں سوکھے ایسے تم نہ رہے
رونا کڑھنا عشق میں اس کے میر کروگے کب موقوف
میر تقی میر

عشق نے کیا ہمیں دکھائے داغ

دیوان چہارم غزل 1413
دل جگر دونوں پر جلائے داغ
عشق نے کیا ہمیں دکھائے داغ
دل جلے ہم نہیں رہے بیکار
زخم کاری اٹھائے کھائے داغ
جل گئے دیکھ گرمی اغیار
آئے اس کوچے سے تو آئے داغ
احتیاطاً صراحی مے سے
ہم نے سجادے کے دھلائے داغ
دیکھے دامن کے نیچے کے سے دیے
میر نے گر تلے چھپائے داغ
میر تقی میر

تلووں تک وہ داغ گیا ہے سب مجھ کو کھا جیسے شمع

دیوان چہارم غزل 1411
ایک ہی گل کا صرف کیا ہے میں نے سراپا جیسے شمع
تلووں تک وہ داغ گیا ہے سب مجھ کو کھا جیسے شمع
میر تقی میر

ایسی شے کا زیاں کھینچے تو دانا ہووے نامحظوظ

دیوان چہارم غزل 1410
عشق ہمارا جی مارے ہے ہم ناداں ہیں کیا محظوظ
ایسی شے کا زیاں کھینچے تو دانا ہووے نامحظوظ
پانی منھ میں بھر آتا تھا اس کے عقیق لب دیکھے
اب ہے تشنہ کام جدائی میر وگرنہ تھا محظوظ
میر تقی میر

سو تو بہا تھا خوں ہو آگے پہلے دائو ہی ہارے شرط

دیوان چہارم غزل 1409
دل کا لگانا جی کھوتا ہے اس کو جگر ہے پیارے شرط
سو تو بہا تھا خوں ہو آگے پہلے دائو ہی ہارے شرط
میر تقی میر

بے خبر مت رہو خبر ہے شرط

دیوان چہارم غزل 1408
دل لگی کے تئیں جگر ہے شرط
بے خبر مت رہو خبر ہے شرط
عشق کے دو گواہ لا یعنی
زردی رنگ و چشم تر ہے شرط
میر تقی میر

ان ہی رنگوں ہوتا ہے اس صید طرفہ دل کا رقص

دیوان چہارم غزل 1406
طائر دل کی طپش سینے میں جانو تم بسمل کا رقص
ان ہی رنگوں ہوتا ہے اس صید طرفہ دل کا رقص
میر تقی میر

بستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے ناخوش

دیوان چہارم غزل 1405
رہتے ہیں بہت دل کے ہم آزار سے ناخوش
بستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے ناخوش
جانا جو مقرر ہے مرا دار فنا سے
اس بستی کے میں ہوں در و دیوار سے ناخوش
ہمواری سے ہیں نرم و خشن ایک سے دونوں
خوش ہیں نہ گل تر سے نہ ہم خار سے ناخوش
سررشتۂ دل بند نہیں زلف و کمر میں
کیا جانیے ہم کس لیے ہیں یار سے ناخوش
ہے عشق میں صحبت مری خوباں کی عجب کچھ
اقرار سے بیزار ہیں انکار سے ناخوش
خوش رہتے ہیں احباب بہم ربط کیے سے
رہتے ہو تمھیں ایک مرے پیار سے ناخوش
اک بات کا بھی لوگوں میں پھپّٹ اسے کرنا
ہم ہیں گے بہت میر کے بستار سے ناخوش
میر تقی میر

کچھ اس کی ہم نے پائی نہ رفتار کی روش

دیوان چہارم غزل 1404
اس کا خیال آوے ہے عیار کی روش
کچھ اس کی ہم نے پائی نہ رفتار کی روش
کیا چال ہے گی زہر بھری روزگار کی
سب اس گزندے کی ہے سیہ مار کی روش
وہ رفت و خیز گرم تو مدت سے ہوچکی
رہتے ہیں اب گرے پڑے بیمار کی روش
جاتے ہیں رنگ و بوے گل و آب جو چلے
آئی نہ خوش ہمیں تو یہ گلزار کی روش
مائل ہوا ہے سرو گلستاں کا دل بہت
کچھ آگئی تھی اس میں قد یار کی روش
زندان میں جہاں کے بہت ہیں خراب حال
کرتے ہیں ہم معاش گنہگار کی روش
یوں سر بکھیرے عشق میں پھرتے نہیں ہیں میر
اظہار بھی کریں ہیں تو اظہار کی روش
میر تقی میر

منھ کرے ٹک ادھر بہار اے کاش

دیوان چہارم غزل 1403
نکلے پردے سے روے یار اے کاش
منھ کرے ٹک ادھر بہار اے کاش
کچھ وسیلہ نہیں جو اس سے ملوں
شعر ہو یار کا شعار اے کاش
کہیں اس بحر حسن سے بھر جائے
موج ساں میری بھی کنار اے کاش
برق ساں ہو چکوں تڑپ کر میں
یوں ہی آوے مجھے قرار اے کاش
اعتمادی نہیں ہے یاری غیر
یار سے ہم سے ہووے پیار اے کاش
آوے سررشتۂ جنوں کچھ ہاتھ
ہو گریبان تار تار اے کاش
میر جنگل تمام بس جاوے
بن پڑے ہم سے روزگار اے کاش
میر تقی میر

بہ گیا خون ہو جگر افسوس

دیوان چہارم غزل 1402
اب نہیں ہوتی چشم تر افسوس
بہ گیا خون ہو جگر افسوس
دیدنی ہے یہ خستہ حالی لیک
ایدھر اس کی نہیں نظر افسوس
عیب ہی عیب میرے ظاہر ہیں
مجھ کو آیا نہ کچھ ہنر افسوس
میر ابتر بہت ہے دل کا حال
یعنی ویراں پڑا ہے گھر افسوس
میر تقی میر

گویا کہ جا رہا کسو سوزندہ نار پاس

دیوان چہارم غزل 1401
کل ہاتھ جا رہا تھا دل بے قرار پاس
گویا کہ جا رہا کسو سوزندہ نار پاس
کس جد و کد سے حیف ہے مجھ کو کیا شکار
ٹھہرا نہ پھر وہ صیدفگن اس شکار پاس
اس گل بغیر پہروں ہیں بلبل سے نالہ کش
کرتے ہیں اپنی اور سے تو ہم ہزار پاس
خوشحال وے جو حال کہیں دلبروں سے دیر
رویا نہ میں تو ایک گھڑی اپنے یار پاس
دوری میں جس کی مر گئے رک رک کے میر ہم
نکلا نہ وہ سو ہو کے ہمارے مزار پاس
میر تقی میر

حال پرسی بھی نہ کی آن کے بیمار کے پاس

دیوان چہارم غزل 1400
مدت ہجر میں کیا کریے بیاں یار کے پاس
حال پرسی بھی نہ کی آن کے بیمار کے پاس
حق یہ ہے خواہش دل ہے مری تو آجاتا
جب کہ خوں ریزی کو بٹھلائیں مجھے دار کے پاس
در اسیری کا کھلا منھ پہ ہمارے کیا تنگ
مر ہی رہیے گا قفس کے در و دیوار کے پاس
آنا اس کا تو دم قتل ضروری ہے ولے
کون آتا ہے کسو خوں کے سزاوار کے پاس
پایئے یار اکیلا تو غم دل کہیے
سو تو بیٹھا ہی اسے پاتے ہیں دوچار کے پاس
منھ پہ ناخن کے خراشوں سے لگا دل بہنے
چشمے نکلے ہیں نئے چشم جگر بار کے پاس
میں تو تلوار تلے اس کے لیے بیٹھا میر
وہ کھڑا بھی نہ ہوا آ کے گنہگار کے پاس
میر تقی میر

دل کا بیٹھا نہیں غبار ہنوز

دیوان چہارم غزل 1398
خاک ہوکر اڑیں ہیں یار ہنوز
دل کا بیٹھا نہیں غبار ہنوز
نہ جگر میں ہے خوں نہ دل میں خوں
درپئے خوں ہے روزگار ہنوز
دست بر دل ہوں مدتوں سے میر
دل ہے ویسا ہی بے قرار ہنوز
میر تقی میر

کچھ پذیرا نہیں نیاز ہنوز

دیوان چہارم غزل 1397
وہ مخطط ہے محو ناز ہنوز
کچھ پذیرا نہیں نیاز ہنوز
کیا ہوا خوں ہوا کہ داغ ہوا
دل ہمارا نہیں گداز ہنوز
سادگی دیکھ اس جفاجو سے
ہم نہیں کرتے احتراز ہنوز
ایک دن وا ہوئی تھی اس منھ پر
آرسی کی ہے چشم باز ہنوز
معتبر کیا ہے میر کی طاعت
رہن بادہ ہے جانماز ہنوز
میر تقی میر

نہ گیا دل سے روے یار ہنوز

دیوان چہارم غزل 1396
گرچہ آتے ہیں گل ہزار ہنوز
نہ گیا دل سے روے یار ہنوز
بے قراری میں ساری عمر گئی
دل کو آتا نہیں قرار ہنوز
خاک مجنوں جہاں ہے صحرا میں
واں سے اٹھتا ہے اک غبار ہنوز
کب سے ہے وہ خلاف وعدہ ولے
دل کو اس کا ہے اعتبار ہنوز
قیس و فرہاد پر نہیں موقوف
عشق لاتا ہے مردکار ہنوز
برسوں گذرے ہیں اس سے ملتے ولے
صحبت اس سے نہیں برآر ہنوز
عشق کرتے ہوئے تھے بے خود میر
اپنا ان کو ہے انتظار ہنوز
میر تقی میر

ہر دم نئی ہے میری گریباں دری ہنوز

دیوان چہارم غزل 1395
دیوانگی کی ہے وہی زور آوری ہنوز
ہر دم نئی ہے میری گریباں دری ہنوز
سر سے گیا ہے سایۂ لطف اس کا دیر سے
آنکھوں ہی میں پھرے ہے مری وہ پری ہنوز
شوخی سے زارگریہ کی خوں چشم میں نہیں
ویسی ہی ہے مژہ کی بعینہ تری ہنوز
کب سے نگاہ گاڑے ہے یاں روز آفتاب
ہم دیکھے ہیں جہاں کے تئیں سرسری ہنوز
مبہوت ہو گیا ہے جہاں اک نظر کیے
جاتی نہیں ان آنکھوں سے جادوگری ہنوز
ابر کرم نے سعی بہت کی پہ کیا حصول
ہوتی نہیں ہماری زراعت ہری ہنوز
مدت سے میر بے دل و دیں دلبروں میں ہے
کرتا نہیں ہے اس کی کوئی دلبری ہنوز
میر تقی میر

پیدا ہے عشق کشتے کا اس کے نشاں ہنوز

دیوان چہارم غزل 1394
ہے زیرخاک لاشۂ عاشق طپاں ہنوز
پیدا ہے عشق کشتے کا اس کے نشاں ہنوز
گردش سے اس کی خاک برابر ہوئی ہے خلق
استادہ روے خاک پہ ہے آسماں ہنوز
اس تک پہنچنے کا تو نہیں حال کچھ ولے
جاتے ہیں گرتے پڑتے بھی ہم ناتواں ہنوز
پروانہ جل کے خاک ہوا پھر اڑا کیا
اے شمع تیری رہتی نہیں ہے زباں ہنوز
چندیں ہزار جانیں گئیں اس کی راہ میں
ایک آدھ تو بھی مر رہے ہیں نیم جاں ہنوز
مدت ہوئی کہ خوار ہو گلیوں میں مر گئے
قصہ ہمارے عشق کا ہے داستاں ہنوز
لخت جگر کے غم میں کہ تھا لعل پارہ میر
رخسار زرد پر ہے مرے خوں رواں ہنوز
میر تقی میر

اور نیچی نظر کریں کیوں کر

دیوان چہارم غزل 1393
بزم میں منھ ادھر کریں کیوں کر
اور نیچی نظر کریں کیوں کر
یوں بھی مشکل ہے ووں بھی مشکل ہے
سر جھکائے گذر کریں کیوں کر
رازپوشی عشق ہے منظور
آنکھیں رو رو کے تر کریں کیوں کر
مست و بے خود ہم اس کے در پہ گئے
لوگ اس کو خبر کریں کیوں کر
سو رہا بال منھ پہ کھول کے وہ
ہم شب اپنی سحر کریں کیوں کر
مہ فلک پر ہے وہ زمیں پر آہ
ان کو زیر و زبر کریں کیوں کر
دل نہیں دردمند اپنا میر
آہ و نالے اثر کریں کیوں کر
میر تقی میر

پر حیف میں نہ دیکھا بالیں سے سر اٹھا کر

دیوان چہارم غزل 1392
اس رفتہ پاس اس کو لائے تھے لوگ جا کر
پر حیف میں نہ دیکھا بالیں سے سر اٹھا کر
سن سن کے درد دل کو بولا کہ جاتے ہیں ہم
تو اپنی یہ کہانی بیٹھا ہوا کہا کر
آگے زمیں کی تہ میں ہم سے بہت تھے تو بھی
سر پر زمین اٹھالی ہم بے تہوں نے آ کر
میرے ہی خوں میں ان نے تیغہ نہیں سلایا
سویا ہے اژدہا یہ بہتیرے مجھ سے کھا کر
دل ہاتھ آگیا تھا لطف قضا سے میرے
افسوس کھو چلا ہوں ایسے گہر کو پا کر
جو وجہ کوئی ہو تو کہنے میں بھی کچھ آوے
باتیں کرو ہو بگڑی منھ کو بنا بنا کر
اب تو پھرو ہو بے غم تب میر جانیں گے ہم
اچھے رہو گے جب تم دل کو کہیں لگا کر
میر تقی میر

فراق ایسا نہیں ہوتا کہ پھر آتے نہیں جاکر

دیوان چہارم غزل 1391
جدائی تا جدائی فرق ہے ملتے بھی ہیں آکر
فراق ایسا نہیں ہوتا کہ پھر آتے نہیں جاکر
اگرچہ چپ لگی ہے عاشقی کی مجھ کو حیرت سے
کبھو احوال پرسی تو کرو دل ہاتھ میں لاکر
جو جانوں تجھ میں بلبل تہ نہیں تو کیوں زباں دیتا
زباں کر بند سارے باغ میں مجھ کو نہ رسوا کر
فلک نے باغ سے جوں غنچۂ نرگس نکالا ہے
کہیں کیا جانوں کیا دیکھوں گا چشم بستہ کو وا کر
سبد پھولوں بھرے بازار میں آئے ہیں موسم میں
نکل کر گوشۂ مسجد سے تو بھی میر سودا کر
میر تقی میر

کاے میر کچھ کہیں ہم تجھ کو عتاب کر کر

دیوان چہارم غزل 1390
یہ لطف اور پوچھا مجھ سے خطاب کر کر
کاے میر کچھ کہیں ہم تجھ کو عتاب کر کر
چھاتی جلی ہے کیسی اڑتی جو یہ سنی ہے
واں مرغ نامہ بر کا کھایا کباب کر کر
خوں ریزی سے کچھ آگے تشہیر کر لیا تھا
اس دل زدے کو ان نے مارا خراب کر کر
گنتی میں تو نہ تھا میں پر کل خجل ہوا وہ
کچھ دوستی کا میری دل میں حساب کر کر
روپوش ہی رہا وہ مرنے تک اپنے لیکن
منھ پر نہ رکھا اس کے کچھ میں حجاب کر کر
مستی و بے خودی میں آسودگی بہت تھی
پایا نہ چین میں نے ترک شراب کر کر
کیا جانیے کہ دل پر گذرے ہے میر کیا کیا
کرتا ہے بات کوئی آنکھیں پرآب کر کر
میر تقی میر

آج لہو آنکھوں میں آیا درد و غم سے رو رو کر

دیوان چہارم غزل 1389
کل سے دل کی کل بگڑی ہے جی مارا بے کل ہوکر
آج لہو آنکھوں میں آیا درد و غم سے رو رو کر
ایک سجود خلوص دل سے آہ کیا نہ جوانی میں
سر مارے ہیں محرابوں میں یوں ہی وقت کو اب کھو کر
جیب دریدہ خاک ملوں کے حال سے کیا آگاہی تمھیں
راہ چلو ہو نازکناں دامن کو لگا کر تم ٹھوکر
ایک تو ہم تو ہوتے نہیں ہیں سر بہتیرا مار چکے
اب بہتر ہے تیغ ستم کی جلد لگا کر تو دوکر
جی ہی ملا جاتا ہے اپنا میر سماں یہ دیکھے سے
آنکھیں ملتے اٹھتے ہیں بستر سے دلبر جب سو کر
میر تقی میر

چشم سیاہ ملاکر یوں ہی مجھ کو خانہ سیاہ نہ کر

دیوان چہارم غزل 1388
تجھ کو ہے سوگند خدا کی میری اور نگاہ نہ کر
چشم سیاہ ملاکر یوں ہی مجھ کو خانہ سیاہ نہ کر
عشق و محبت یاری میں اک لطف رکھے ہے کرنا ضبط
چھاتی پہ جو ہو کوہ الم کا تو بھی نالہ وآہ نہ کر
مانگ پناہ خدا سے بندے دل لگنا اک آفت ہے
عشق نہ کر زنہار نہ کر واللہ نہ کر باللہ نہ کر
گھاس ہے میخانے کی بہتر ان شیخوں کے مصلے سے
پائوں نہ رکھ سجادے پہ ان کے اس جادے سے راہ نہ کر
میر نہ ہم کہتے تھے تجھ سے حال نہیں کچھ رہنے کا
چاہ بلاے جان و دل ہے آ جانے دے چاہ نہ کر
میر تقی میر

ستم سا ستم ہو گیا اس میں ہم پر

دیوان چہارم غزل 1387
کیا صبر ہم نے جو اس کے ستم پر
ستم سا ستم ہو گیا اس میں ہم پر
لکھا جو گیا اس کو کیا نقل کریے
سخن خونچکاں تھے زبان قلم پر
جھکے ٹک جدھر جھک گئے لوگ اودھر
رہی درمیاں تیغ ابرو کے خم پر
سخن زن ہوں ہر چند وے مست آنکھیں
نہیں اعتماد ان کے قول و قسم پر
جگر ہے سزا میر اس رنج کش کو
گیا دو قدم جو ہمارے قدم پر
میر تقی میر