زمرہ جات کے محفوظات: غزل

اندوہ و درد عشق نے بیمار کردیا

دیوان ششم غزل 1786
بے طاقتی نے دل کی گرفتار کردیا
اندوہ و درد عشق نے بیمار کردیا
دروازے پر کھڑا ہوں کئی دن سے یار کے
حیرت نے حسن کی مجھے دیوار کردیا
سائے کو اس کے دیکھ کے وحشت بلا ہوئی
دیوانہ مجھ کو جیسے پریدار کردیا
نسبت ہوئی گناہوں کی از بس مری طرف
بے جرم ان نے مجھ کو گنہگار کردیا
دن رات اس کو ڈھونڈے ہے دل شوق نے مجھے
نایاب کس گہر کا طلبگار کردیا
دور اس سے زار زار جو روتا رہا ہوں میں
لوگوں کو میری زاری نے بیزار کردیا
خوبی سے بخت بد کی اسے عشق سے مرے
یاروں نے رفتہ رفتہ خبردار کردیا
جس کے لگائی جی میں نہ اس کے ہوس رہی
یعنی کہ ایک وار ہی میں پار کردیا
پہلو میں دل نے لوٹ کے آتش سے شوق کی
پایان کار آنکھوں کو خونبار کردیا
کیا جانوں عشق جان سے کیا چاہتا ہے میر
خوں ریزی کا مجھے تو سزاوار کردیا
میر تقی میر

بے دماغی سے با خطاب رہا

دیوان ششم غزل 1785
اپنے ہوتے تو با عتاب رہا
بے دماغی سے با خطاب رہا
ہو کے بے پردہ ملتفت بھی ہوا
ناکسی سے ہمیں حجاب رہا
نہ اٹھا لطف کچھ جوانی کا
کم بہت موسم شباب رہا
کارواں ہائے صبح ہوتے گیا
میں ستم دیدہ محو خواب رہا
ہجر میں جی ڈھہا گرے ہی رہے
ضعف سے حال دل خراب رہا
گھر سے آئے گلی میں سو باری
یار بن دیر اضطراب رہا
ہم سے سلجھے نہ اس کے الجھے بال
جان کو اپنی پیچ و تاب رہا
پردے میں کام یاں ہوا آخر
واں سدا چہرے پر نقاب رہا
سوزش سینہ اپنے ساتھ گئی
خاک میں بھی ہمیں عذاب رہا
حیف ہے میر کی جناب سے میاں
ہم کو ان سمجھے اجتناب رہا
میر تقی میر

نظر میں اس کی میں تو بھی نہ آیا

دیوان ششم غزل 1784
فلک نے پیس کر سرمہ بنایا
نظر میں اس کی میں تو بھی نہ آیا
زمانے میں مرے شور جنوں نے
قیامت کا سا ہنگامہ اٹھایا
بلا تھی کوفت کچھ سوز جگر سے
ہمیں تو کوٹ کوٹ ان نے جلایا
تمامی عمر جس کی جستجو کی
اسے پاس اپنے اک دم بھی نہ پایا
نہ تھی بیگانگی معلوم اس کی
نہ سمجھے ہم اسی سے دل لگایا
قریب دیر خضر آیا تھا لیکن
ہمیں رستہ نہ کعبے کا بتایا
حق صحبت نہ طیروں کو رہا یاد
کوئی دو پھول اسیروں تک نہ لایا
غرور حسن اس کا دس گنا ہے
ہمارا عشق اسے کن نے جتایا
عجب نقشہ ہے نقاش ازل نے
کوئی ایسا نہ چہرہ پھر بنایا
علاقہ میر تھا خنجر سے اس کے
ندان اپنا گلا ہم نے کٹایا
میر تقی میر

کہ جاناں سے بھی جی ملا جانتا ہے

دیوان پنجم غزل 1783
یہی عشق ہے جی کھپا جانتا ہے
کہ جاناں سے بھی جی ملا جانتا ہے
بدی میں بھی کچھ خوبی ہووے گی تب تو
برا کرنے کو وہ بھلا جانتا ہے
مرا شعر اچھا بھی دانستہ ضد سے
کسو اور ہی کا کہا جانتا ہے
زمانے کے اکثر ستم گار دیکھے
وہی خوب طرز جفا جانتا ہے
نہیں جانتا حرف خط کیا ہیں لکھے
لکھے کو ہمارے مٹا جانتا ہے
نہ جانے جو بیگانہ تو بات پوچھے
سو مغرور کب آشنا جانتا ہے
نہیں اتحاد تن و جاں سے واقف
ہمیں یار سے جو جدا جانتا ہے
میر تقی میر

خدا جانے تو ہم کو کیا جانتا ہے

دیوان پنجم غزل 1782
ترے بندے ہم ہیں خدا جانتا ہے
خدا جانے تو ہم کو کیا جانتا ہے
نہیں عشق کا درد لذت سے خالی
جسے ذوق ہے وہ مزہ جانتا ہے
ہمیشہ دل اپنا جو بے جا ہے اس بن
مرے قتل کو وہ بجا جانتا ہے
گہے زیر برقع گہے گیسوئوں میں
غرض خوب وہ منھ چھپا جانتا ہے
مجھے جانے ہے آپ سا ہی فریبی
دعا کو بھی میری دغا جانتا ہے
جفا اس پہ کرتا ہے حد سے زیادہ
جنھیں یار اہل وفا جانتا ہے
لگا لے ہے جھمکے دکھاکر اسی کو
جسے مغ بچہ پارسا جانتا ہے
اسے جب نہ تب ہم نے بگڑا ہی پایا
یہی اچھے منھ کو بنا جانتا ہے
بلا شور انگیز ہے چال اس کی
اسی طرز کو خوش نما جانتا ہے
نہ گرمی جلاتی تھی ایسی نہ سردی
مجھے یار جیسا جلا جانتا ہے
یہی ہے سزا چاہنے کی ہمارے
ہمیں کشتہ خوں کے سزا جانتا ہے
مرے دل میں رہتا ہے تو ہی تبھی تو
جو کچھ دل کا ہے مدعا جانتا ہے
پری اس کے سائے کو بھی لگ سکے نہ
وہ اس جنس کو کیا بلا جانتا ہے
جہاں میر عاشق ہوا خوار ہی تھا
یہ سودائی کب دل لگا جانتا ہے
میر تقی میر

اغلال و سلاسل ٹک اپنی بھی ہلا جاوے

دیوان پنجم غزل 1781
یارب کوئی دیوانہ بے ڈھنگ سا آجاوے
اغلال و سلاسل ٹک اپنی بھی ہلا جاوے
خاموش رہیں کب تک زندان جہاں میں ہم
ہنگامہ قیامت کا شورش سے اٹھا جاوے
کب عشق کی وادی ہے سر کھینچنے کی جاگہ
ہو سیل بھلا سا تو منھ موڑ چلا جاوے
عاشق میں ہے اور اس میں نسبت سگ و آہو کی
جوں جوں ہو رمیدہ وہ توں توں یہ لگا جاوے
افسوس کی جاگہ ہے یاں باز پسیں دم میں
ہو روبرو آئینہ وہ منھ کو چھپا جاوے
ان نو خطوں سے میری قسمت میں تو تھی خواری
کس طرح لکھا میرا کوئی آ کے مٹا جاوے
دیکھ اس کو ٹھہر رہنا ثابت قدموں سے ہو
اس راہ سے آوے تو ہم سے نہ رہا جاوے
کہیے جہاں کرتا ہو تاثیر سخن کچھ بھی
وہ بات نہیں سنتا کیا اس سے کہا جاوے
یہ رنگ رہے دیکھیں تاچند کہ وہ گھر سے
کھاتا ہوا پان آکر باتوں کو چبا جاوے
ہم دیر کے جنگل میں بھولے پھرے ہیں کب کے
کعبے کا ہمیں رستہ خضر آ کے بتا جاوے
ہاتھوں گئی خوباں کے کچھ شے نہیں پھر ملتی
کیونکر کوئی اب ان سے دل میرا دلا جاوے
یہ ذہن و ذکا اس کا تائید ادھر کی ہے
ٹک ہونٹ ہلے تو وہ تہ بات کی پا جاوے
یوں خط کی سیاہی ہے گرد اس رخ روشن کے
ہر چار طرف گاہے جوں بدر گھرا جاوے
کیا اس کی گلی میں ہے عاشق کسو کی رویت
آلودئہ خاک آوے لوہو میں نہا جاوے
ہے حوصلہ تیرا ہی جو تنگ نہیں آتا
کس سے یہ ستم ورنہ اے میر سہا جاوے
میر تقی میر

بو کہ پھر کر بہار آئی ہے

دیوان پنجم غزل 1780
گل قفس تک نسیم لائی ہے
بو کہ پھر کر بہار آئی ہے
عشق دریا ہے ایک لنگردار
تہ کسو نے بھی اس کی پائی ہے
وہ نہ شرماوے کب تلک آخر
دوستی یاری آشنائی ہے
وے نہیں تو انھوں کا بھائی اور
عشق کرنے کی کیا منائی ہے
بے ستوں کوہکن نے کیا توڑا
عشق کی زور آزمائی ہے
بھیڑیں ٹلتی ہیں اس کے ابرو ہلے
چلی تلوار تو صفائی ہے
لڑکا عطار کا ہے کیا معجون
ہم کو ترکیب اس کی بھائی ہے
کج روی یار کی نہیں جاتی
یہی بے طور بے ادائی ہے
آنے کہتا ہے پھر نہیں آتا
یہی بدعہدی بے وفائی ہے
کر چلو نیکی اب تو جس تس سے
شاید اس ہی میں کچھ بھلائی ہے
برسوں میں میر سے ملے تو کہا
اس سے پوچھو کہ یہ کجائی ہے
میر تقی میر

عشق ہے فقر ہے جدائی ہے

دیوان پنجم غزل 1779
ان بلائوں سے کب رہائی ہے
عشق ہے فقر ہے جدائی ہے
دیکھیے رفتہ رفتہ کیا ہووے
ہم بھی چلنے کو ہیں کہ آئی ہے
استخواں کانپ کانپ جلتے ہیں
عشق نے آگ یہ لگائی ہے
دل کو کھینچے ہے چشمک انجم
آنکھ ہم نے کہاں لڑائی ہے
اس صنائع کا اس بدائع کا
کچھ تعجب نہیں خدائی ہے
نہ تو جذب رسا نہ بخت رسا
کیونکے کہیے کہ واں رسائی ہے
ہے تصنع کہ اس کے لب ہیں لعل
سب نے اک بات یہ بنائی ہے
کیا کہوں خشم عشق سے جو مجھے
کبھو جھنجھلاہٹ آہ آئی ہے
ایسا چہرے پہ ہے نہوں کا خراش
جیسے تلوار منھ پہ کھائی ہے
میں نہ آتا تھا باغ میں اس بن
مجھ کو بلبل پکار لائی ہے
آئی اس جنگ جو کی گر شب وصل
شام سے صبح تک لڑائی ہے
اور کچھ مشغلہ نہیں ہے ہمیں
گاہ و بے گہ غزل سرائی ہے
توڑ کر آئینہ نہ جانا یہ
کہ ہمیں صورت آشنائی ہے
میر تقی میر

سلطان عصر تیری گلی کا فقیر ہے

دیوان پنجم غزل 1778
گردن کش زمانہ تو تیرا اسیر ہے
سلطان عصر تیری گلی کا فقیر ہے
چشمک کرے ہے میری طرف کو نگاہ کر
وہ طفل شوخ چشم قیامت شریر ہے
تنکا سا ہو رہا ہے تن آگے ہی سوکھ کر
اب ننگ کیا فقیر جو سب میں حقیر ہے
جھڑ باندھ دے ہے رونے جو لگتا ہوں صبح کو
ہے چشم تر کہ غیرت ابر مطیر ہے
اک دو اجل رسیدہ جو صید آئے کب کھنچا
پرپیچ جال گیسوئوں کا جرگہ گیر ہے
جوں جوں بڑھاپا آتا ہے جاتے ہیں اینٹھتے
کس مٹی کا نہ جانیے اپنا خمیر ہے
اس خوبصورتی سے نہ صورت نظر پڑی
سورت تلک تو سیر کی وہ بے نظیر ہے
پر جوہر اس کی تیغ ہے نامہ براے قتل
پیغام مرگ عاشقوں کو اس کا تیر ہے
پوچھو اسی سے مضطرب الحال دل کی کچھ
وہ آفتاب چہرئہ روشن ضمیر ہے
جوں طفل شوخ و شنگ و جوان بلند طبع
شائستۂ فلک ہے اگر چرخ پیر ہے
فریاد شب کی سن کے کہا بے دماغ ہو
دیکھو تو اس بلا کو یہ شاید کہ میر ہے
میر تقی میر

ہر گلی کوچے میں تیرا اک دعا گو اور ہے

دیوان پنجم غزل 1777
اے پریشاں ربط دیکھیں کب تلک یہ دور ہے
ہر گلی کوچے میں تیرا اک دعا گو اور ہے
بال بل کھائے ہوئے پیچوں سے پگڑی کے گتھے
طرز کیں چتون کی پائی سر میں شور جور ہے
ہم سے یہ انداز اوباشانہ کرنا کیا ضرور
آنکھ ٹیڑھی خم ہے ابرو طور کچھ بے طور ہے
طبع درہم وضع برہم زخم غائر چشم تر
حال بد میں بیکسوں کے کچھ تمھیں بھی غور ہے
کیا شکایت کریے اس خورشید چہرہ یار کی
مہر وہ برسوں نہیں کرتا ستم فی الفور ہے
وصل کی دولت گئی ہوں تنگ فقر ہجر میں
یا الٰہی فضل کر یہ حور بعد الکور ہے
اس کے دیوانے کے سر پر داغ سودا ہے جو میر
وہ مخبط عاشقوں کا اس سبب سرمور ہے
میر تقی میر

جس سے پیار رکھے ہے کچھ یہ اس کے سر پر شامت ہے

دیوان پنجم غزل 1776
عشق بلاانگیز مفتن یہ تو کوئی قیامت ہے
جس سے پیار رکھے ہے کچھ یہ اس کے سر پر شامت ہے
موسم گل میں توبہ کی تھی واعظ کے میں کہنے سے
اب جو رنگ بہار کے دیکھے شرمندہ ہیں ندامت ہے
شیخ کی ادنیٰ حرکت بھی میں خرق عادت جانوں ہوں
مسجد سے میخانے آیا یہ بھی اس کی کرامت ہے
ایک طرف میں عشق کیا تھا رسوائی یہ کہاں سے ہوئی
اب جو گھر سے نکل آتا ہوں چاروں طرف سے ملامت ہے
تو ہی کر انصاف صبا ٹک باغوں باغوں پھرے ہے تو
روے گل اس کا ساروہے سرو کا ایسا قامت ہے
صبح کو خورشید اس کے گھر پر طالع ہوکر آتا ہے
دیکھ لیا جو ان نے کبھو تو اس سادہ کی شامت ہے
چھوڑو اس اوباش کا ملنا ورنہ سر کٹوائوگے
چاہ رہو گے بہتیروں کو سر جو میر سلامت ہے
میر تقی میر

دل خرابہ جیسے دلی شہر ہے

دیوان پنجم غزل 1775
دیدئہ گریاں ہمارا نہر ہے
دل خرابہ جیسے دلی شہر ہے
آندھی آئی ہو گیا عالم سیاہ
شور نالوں کا بلاے دہر ہے
دل جو لگتا ہے تڑپنے ہر زماں
اک قیامت ہے غضب ہے قہر ہے
بہ نہیں ہوتا ہے زخم اس کا لگا
آب تیغ یار یکسر زہر ہے
یاد زلف یار جی مارے ہے میر
سانپ کے کاٹے کی سی یہ لہر ہے
میر تقی میر

بے غم کرو خوں ریزی خوں خواہ نہیں کوئی

دیوان پنجم غزل 1774
بے یار ہوں بیکس ہوں آگاہ نہیں کوئی
بے غم کرو خوں ریزی خوں خواہ نہیں کوئی
کیا تنگ مخوف ہے اس نیستی کا رستہ
تنہا پڑا ہے جانا ہمراہ نہیں کوئی
موہوم ہے ہستی تو کیا معتبری اس کی
ہے گاہ اگر کوئی تو گاہ نہیں کوئی
فرہاد کو مجنوں کو موت آگئی ہے آگے
کس سے کہیں درد دل اب آہ نہیں کوئی
میر اتنی سماجت جو بندوں سے تو کرتا ہے
دنیا میں مگر تیرا اللہ نہیں کوئی
میر تقی میر

بازخواہ خوں نہ تھا مارے گئے مارے گئے

دیوان پنجم غزل 1773
بے کسان عشق تھے ہم غم میں کھپ سارے گئے
بازخواہ خوں نہ تھا مارے گئے مارے گئے
بار کل تک ناتوانوں کو نہ تھا اس بزم میں
گرتے پڑتے ہم بھی عاجز آج واں بارے گئے
چھاتی میری سرد آہوں سے ہوئی تھی سب کرخت
استخواں اب اس کے اشک گرم سے دھارے گئے
بخت جاگے ہی نہ ٹک جو ہو خبر گھر میں اسے
صبح تک ہم رات دیواروں سے سر مارے گئے
میر قیس و کوہکن ناچار گذرے جان سے
دو جہاں حسرت لیے ہمراہ بیچارے گئے
میر تقی میر

میری خوں ریزی ہی کا مائل ہے

دیوان پنجم غزل 1772
سخت بے رحم آہ قاتل ہے
میری خوں ریزی ہی کا مائل ہے
دور مجنوں کا ہو گیا آخر
یاں جنوں کا ابھی اوائل ہے
نکلے اس راہ کس طرح وہ ماہ
نہ تو طالع نہ جذب کامل ہے
مثل صورت ہیں جلوہ کے حیراں
ہائے کیا شکل کیا شمائل ہے
ہاتھ رکھ لیوے تو کہے کہ بس اب
کیا جیے گا بہت یہ گھائل ہے
حق میں اس بت کے بد کہیں کیونکر
وہ ہمارا خداے باطل ہے
سچ ہے راحت تو بعد مرنے کے
پر بڑا واقعہ یہ ہائل ہے
تیغ اگر درمیاں رہے تو رہے
یار میرا جوان جاہل ہے
رو نہیں چشم تر سے اب رکھیے
سیل اسی در کا کب سے سائل ہے
حال ہم ڈوبتوں کا کیا جانے
جس کو دریا پہ سیر ساحل ہے
میر کب تک بحال مرگ جئیں
کچھ بھی اس زندگی کا حاصل ہے
میر تقی میر

دل کلیجے کے پار ہوتا ہے

دیوان پنجم غزل 1771
نالہ جب گرم کار ہوتا ہے
دل کلیجے کے پار ہوتا ہے
مار رہتا ہے اس کو آخرکار
عشق کو جس سے پیار ہوتا ہے
سب مزے درکنار عالم کے
یار جب ہم کنار ہوتا ہے
دام گہ کا ہے اس کے عالم اور
ایک عالم شکار ہوتا ہے
بے قراری ہو کیوں نہ چاہت میں
ہم دگر کچھ قرار ہوتا ہے
جبر ہے قہر ہے قیامت ہے
دل جو بے اختیار ہوتا ہے
راہ تکتے ہی بیٹھیں ہیں آنکھیں
اس کا جب انتظار ہوتا ہے
شاخ گل لچکے ہے تو جانوں ہوں
جلوہ گر یوں ہی یار ہوتا ہے
کس کو پوچھے ہے کوئی دنیا میں
دیر یاں اعتبار ہوتا ہے
آہ کس جاے بار کھولا میر
یاں تو جینا بھی بار ہوتا ہے
میر تقی میر

چین نہیں دیتا ہے ظالم جب تک عاشق مرتا ہے

دیوان پنجم غزل 1770
عشق ہمارا در پئے جاں ہے کیسی خصومت کرتا ہے
چین نہیں دیتا ہے ظالم جب تک عاشق مرتا ہے
شاید لمبے بال اس مہ کے بکھر گئے تھے بائو چلے
دل تو پریشاں تھا ہی میرا رات سے جی بھی بکھرتا ہے
صورت اس کی دیدئہ تر میں پھرتی ہے ہر روز و شب
ہے نہ اچنبھا یہ بھی کہیں پانی میں نقش ابھرتا ہے
کیا دشوار گذر ہے طریق عشق مسافر کش یارو
جی سے اپنے گذر جاتا ہے جو اس راہ گذرتا ہے
حال کسو بے تہ کا یاں مانا ہے حباب دریا سے
ٹک جو ہوا دنیا کی لگی تو یہ کم ظرف اپھرتا ہے
یاد خدا کو کرکے کہو ٹک پاس ہمارے ہوجاوے
صد سالہ غم دیکھے اس خوش چشم و رو کے بسرتا ہے
دامن دیدئہ تر کی وسعت دیکھے ہی بن آوے گی
ابر سیاہ و سفید جو ہو سو پانی ان کا بھرتا ہے
دل کی لاگ نہیں چھپتی ہے کوئی چھپاوے بہتیرا
زردی عشق سے بے الفت یہ رنگ کسو کا نکھرتا ہے
کھینچ کے تیغہ اپنا ہر دم کیا لوگوں کو ڈراتے ہو
میر جگر دار آدمی ہے وہ کب مرنے سے ڈرتا ہے
میر تقی میر

موقوف رحم پر ہیں دشوار کام سارے

دیوان پنجم غزل 1769
صاحب ہو تم ہمارے بندے ہیں ہم تمھارے
موقوف رحم پر ہیں دشوار کام سارے
ہو ملتفت کہ ہم بھی جیتوں میں آویں چندے
یہ عشق بے محابا تاچند جان مارے
آشوب بحر ہستی کیا جانیے ہے کب سے
موج و حباب اٹھ کر لگ جاتے ہیں کنارے
کوئی تو تھا طرف پر آواز دی نہ ہم کو
ہم بے قرار ہوکر چاروں طرف پکارے
بے طاقتی سے کیونکر سر مارتے رہیں نہ
صبر و قرار دونوں یک بارگی سدھارے
کوئی تو ماہ پارہ اس بھی رواق میں ہے
چشمک کریں ہیں ہر شب اس کی طرف ستارے
دنیا میں میر آکر کھولا ہے بار ہم نے
اس رہگذر میں دیکھیں کیا پیش آوے بارے
میر تقی میر

بیمار مرا گراں بہت ہے

دیوان پنجم غزل 1768
دل پہلو میں ناتواں بہت ہے
بیمار مرا گراں بہت ہے
ہر آن شکیب میں کمی ہے
بیتابی زماں زماں بہت ہے
مقصود کو دیکھیں پہنچے کب تک
گردش میں تو آسماں بہت ہے
جی کو نہیں لاگ لامکاں سے
ہم کو کوئی دل مکاں بہت ہے
گو خاک سے گور ہووے یکساں
گم گشتے کا یہ نشاں بہت ہے
جاں بخشی غیر ہی کیا کر
مجھ کو یہی نیم جاں بہت ہے
اکثر پوچھے ہے جیتے ہیں میر
اب تو کچھ مہرباں بہت ہے
میر تقی میر

اس سادہ رو کے جی میں کیا جانیے کہ کیا ہے

دیوان پنجم غزل 1767
ننوشتہ نامہ آیا یہ کچھ ہمیں لکھا ہے
اس سادہ رو کے جی میں کیا جانیے کہ کیا ہے
کافر کا بھی رویہ ہوتا نہیں ہے ایسا
ٹھوکر لگا کے چلنا کس دین میں روا ہے
دنیا میں دیر رہنا ہوتا نہیں کسو کا
یہ تو سراے فانی اک کارواں سرا ہے
بندے کا دل بجا ہے جاتا ہوں شاد ہر جا
جب سے سنا ہے میں نے کیا غم ہے جو خدا ہے
پاے ثبات کس کا ٹھہرا ہے اس کے دیکھے
ہے ناز اک قیامت انداز اک بلا ہے
ہرجا بدن میں اس کے افراط سے ہے دلکش
میں کیا دل ملک بھی اٹکے اگر بجا ہے
مرنا تو ایک دم ہے عاشق مرے ہے ہر دم
وہ جانتا ہے جس کو پاس دل وفا ہے
خط اس کو لکھ کے غم سے بے خود ہوا ہوں یعنی
قاصد کے بدلے یاں سے جی ہی مرا چلا ہے
شوخی سے اس کی درہم برہم جہاں ہے سارا
ہنگامۂ قیامت اس کی کوئی ادا ہے
عمر عزیز گذری سب سے برائی کرتے
اب کر چلو بھلا کچھ شاید یہی بھلا ہے
جو ہے سو میر اس کو میرا خدا کہے ہے
کیا خاص نسبت اس سے ہر فرد کو جدا ہے
میر تقی میر

یہ صعوبت کب تلک کوئی اٹھائے

دیوان پنجم غزل 1766
درد و غم سے دل کبھو فرصت نہ پائے
یہ صعوبت کب تلک کوئی اٹھائے
طفل تہ بازار کا عاشق ہوں میں
دل فروشی کوئی مجھ سے سیکھ جائے
زار رونا چشم کا کب دیکھتے
دیکھیں ہیں لیکن خدا جو کچھ دکھائے
کب تلک چاک قفس سے جھانکیے
برگ گل یاں بھی صبا کوئی تو لائے
کب سے ہم کو ہے تلاش دست غیب
تا کمر پیچ اس کا اپنے ہاتھ آئے
اس کی اپنی بنتی ہی ہرگز نہیں
بگڑی صحبت ایسی کیا کوئی بنائے
جو لکھی قسمت میں ذلت ہو سو ہو
خط پیشانی کوئی کیونکر مٹائے
داغ ہے مرغ چمن پائیز سے
دل نہ ہو جلتا جو اس کا گل نہ کھائے
زخم سینہ میرا اس کے ہاتھ کا
ہو کوئی رجھواڑ تو اس کو رجھائے
میر اکثر عمر کے افسوس میں
زیر لب بالاے لب ہے ہائے وائے
میر تقی میر

جی چکا وہ کہ یہ بے طرح کی بیماری ہے

دیوان پنجم غزل 1765
جو کوئی خستہ جگر عشق کا آزاری ہے
جی چکا وہ کہ یہ بے طرح کی بیماری ہے
کارواں گاہ جہاں میں نہیں رہتا کوئی
جس کے ہاں دیکھتے ہیں چلنے کی تیاری ہے
چیز و ناچیز کا آگاہ کو رہتا ہے لحاظ
سارے عالم میں حقیقت تو وہی ساری ہے
آئینہ روبرو رکھنے کو بھی اب جاے نہیں
صورتوں سے اسے ہم لوگوں کی بیزاری ہے
مر گئے عشق میں نازک بدنوں کے آخر
جان کا دینا محبت کی گنہگاری ہے
پلکیں وے اس کی پھری جی میں کھبی جاتی ہیں
آنکھ وہ دیکھے کوئی شوخی میں کیا پیاری ہے
بے قراری میں نہ دلبر سے اٹھا ہرگز ہاتھ
عشق کرنے کے تئیں شرط جگرداری ہے
وائے وہ طائر بے بال ہوس ناک جسے
شوق گل گشت گلستاں میں گرفتاری ہے
جرم بے جرم کھنچی رہتی ہے جس کی شمشیر
اس ستم گار جفاجو سے ہمیں یاری ہے
آنکھ مستی میں کسو پر نہیں پڑتی اس کی
یہ بھی اس سادہ و پرکار کی ہشیاری ہے
واں سے جز ناز و تبختر نہیں کچھ یاں سے میر
عجز ہے دوستی ہے عشق ہے غم خواری ہے
میر تقی میر

ٹکڑے پہ جان دیتے تھے سارے فقیر تھے

دیوان پنجم غزل 1764
کیا کہیے اپنے عہد میں جتنے امیر تھے
ٹکڑے پہ جان دیتے تھے سارے فقیر تھے
دل میں گرہ ہوس رہی پرواز باغ کی
موسم گلوں کا جب تئیں تھا ہم اسیر تھے
برنائی ہی میں تم سے شرارت نہیں ہوئی
لڑکے سے بھی تھے تم تو قیامت شریر تھے
آرائش بدن نہ ہوئی فقر میں بھی کم
جاگہ اتو کی جامے پہ نقش حصیر تھے
آنکھوں میں ہم کسو کی نہ آئے جہان میں
از بس کہ میر عشق سے خشک و حقیر تھے
میر تقی میر

ہجراں کا غم تھا تہ میں سختی سے جان ٹوٹی

دیوان پنجم غزل 1763
دو چار روز آگے چھاتی گئی تھی کوٹی
ہجراں کا غم تھا تہ میں سختی سے جان ٹوٹی
کلیاں جھڑی ہیں کچی بکھرے ہیں پھول سارے
پائیز نے چمن میں کیا کیا بہار لوٹی
سیر چمن میں کچھ تو جی سے ہوس نکلتی
موسم میں گل کے بلبل افسوس ہے نہ چھوٹی
میر تقی میر

شاید اس کے بھی دل میں جا کریے

دیوان پنجم غزل 1762
داد فریاد جابجا کریے
شاید اس کے بھی دل میں جا کریے
اب سلگنے لگی ہے چھاتی بھی
یعنی مدت پڑے جلا کریے
چشم و دل جان مائل خوباں
بدی یاروں کی کیا کیا کریے
دیکھیں کب تک رہے ہے یہ صحبت
گالیاں کھائیے دعا کریے
کچھ کہیں تو کہے ہے یہ نہ کہو
کیونکر اظہار مدعا کریے
اتفاق ان کا مارے ڈالے ہے
ناز و انداز کو جدا کریے
عید ہی کاشکے رہے ہر روز
صبح اس کے گلے لگا کریے
راہ تکنے کو بھی نہایت ہے
منتظر کب تلک رہا کریے
ہستی موہوم و یک سرو گردن
سینکڑوں کیونکے حق ادا کریے
وہ نہیں سرگذشت سنتا میر
یوں کہانی سی کیا کہا کریے
مترتب ہو نفع جو کچھ بھی
دل کی بیماری کی دوا کریے
سو تو ہر روز ہے بتر احوال
متحیر ہیں آہ کیا کریے
میر تقی میر

ایسے گئے کہ ان کی پھر کچھ خبر نہ آئی

دیوان پنجم غزل 1761
کیا کہیے ویسی صورت گاہے نظر نہ آئی
ایسے گئے کہ ان کی پھر کچھ خبر نہ آئی
روٹھے جو تھے سو ہم سے روٹھے ہوئے وداعی
کیا رویئے ہمیں تو منت بھی کر نہ آئی
طالع کا مکث دیکھو آئی صبا جو واں سے
چاروں طرف پھرا کی لیکن ادھر نہ آئی
جی میں جو کچھ کسو کے آوے سو باندھ جاوے
اپنے خیال میں تو اس کی کمر نہ آئی
کیا رات دن کٹے ہیں ہجراں کی بے خودی میں
سدھ اپنی میر اس بن دو دو پہر نہ آئی
میر تقی میر

نام خدا ہوا ہے اب وہ جوان بارے

دیوان پنجم غزل 1760
اٹھکھیلیوں سے چلتے طفلی میں جان مارے
نام خدا ہوا ہے اب وہ جوان بارے
اپنی نیاز تم سے اب تک بتاں وہی ہے
تم ہو خداے باطل ہم بندے ہیں تمھارے
ٹھہرے ہیں ہم تو مجرم ٹک پیار کرکے تم کو
تم سے بھی کوئی پوچھے تم کیوں ہوئے پیارے
کل میں جو سیر میں تھا کیا پھول پھول بیٹھی
بلبل لیے ہے گویا گلزار سب اجارے
کرتا ہے ابر نیساں پر در دہن صدف کا
منھ جو کوئی پسارے ایسے کنے پسارے
اے کاش غور سے وہ دیکھے کبھو ٹک آکر
سینے کے زخم اب تو غائر ہوئے ہیں سارے
چپکا چلا گیا میں آزردہ دل چمن سے
کس کو دماغ اتنا بلبل کو جو پکارے
میدان عشق میں سے چڑھ گھوڑے کون نکلا
مارے گئے سپاہی جتنے ہوئے اتارے
جو مر رہے ہیں اس پر ان کا نہیں ٹھکانا
کیا جانیے کہاں وے پھرتے ہیں مارے مارے
کیا برچھیاں چلائیں آہوں نے نیم شب کی
رخنے ہیں آسماں میں سارے نہیں ستارے
ہوتی ہے صبح جو یاں ہے شام سے بھی بدتر
کیا کہیے میر خوبی ایام کی ہمارے
میر تقی میر

دل نے پہلو تہی کیا ہم سے

دیوان پنجم غزل 1759
ہجر میں خوں ہوا تھا سب غم سے
دل نے پہلو تہی کیا ہم سے
عالم حسن ہے عجب عالم
چاہیے عشق اس بھی عالم سے
طرح چھریوں کی پلکوں سے ڈالی
نکلی تلوار ابرو کے خم سے
نسبت ان بالوں کی درست ہوئی
دیر میں میرے حال درہم سے
درپئے خون میر کے نہ رہو
ہو بھی جاتا ہے جرم آدم سے
میر تقی میر

گلے سے ہمارے لگو عید ہے

دیوان پنجم غزل 1758
گئے روزے اب دید وادید ہے
گلے سے ہمارے لگو عید ہے
گریزاں ہوں سائے سے خورشید ساں
جہاں جب سے ہے مجھ کو تجرید ہے
تصرف میں جب ڈال دیتے ہیں بات
خدا رس کہیں ہیں یہ توحید ہے
جو آویں بتاں جذب سے یاں تو یہ
خدا کی طرف ہی کی تائید ہے
لپیٹا ہے میں بوریاے نماز
یہی میر جانے کی تمہید ہے
میر تقی میر

اس گھر میں کوئی بھی نہ تھا شرمندہ ہوئے ہم جانے سے

دیوان پنجم غزل 1757
کیسی سعی و کشش کوشش سے کعبے گئے بت خانے سے
اس گھر میں کوئی بھی نہ تھا شرمندہ ہوئے ہم جانے سے
دامن پر فانوس کے تھا کچھ یوں ہی نشاں خاکستر کا
شوق کی میں جو نہایت پوچھی جان جلے پروانے سے
ننگے سامنے آتے تھے تو کیا کیا زجر اٹھاتے تھے
ننگ لگا ہے لگنے انھیں اب بات ہماری مانے سے
پاس غیرت تم کو نہیں کچھ دریا پرسن غیر کو تم
گھر سے اٹھ کے چلے جاتے ہو نہانے کے بھی بہانے سے
تم نے کہا مر رہ بھی جاکر بندہ جاکر مر ہی رہا
کس دن میں نے عدول کیا ہے صاحب کے فرمانے سے
سوکھ کے ہوں لکڑی سے کیوں نہ زرد و زبوں ہم عاشق زار
کچھ نہیں رہتا انساں میں ہر لحظہ غم کے کھانے سے
جب دیکھو تب تربت عاشق جھکڑ سے ہے تزلزل میں
عشق ہے باد صرصر کو یاں ان کی خاک اڑانے سے
برسوں میں پہچان ہوئی تھی سو تم صورت بھول گئے
یہ بھی شرارت یاد رہے گی ہم کو نہ جانا جانے سے
سنی سنائی بات سے واں کی کب چیتے ہیں ہم غافل
دونوں کان بھرے ہیں اپنے بے تہ یاں کے فسانے سے
میر کی تیری کیا سلجھے گی حرف و سخن میں گنجلک ہے
کوئی بھی عاقل الجھ پڑے ہے ناصح ایسے دوانے سے
میر تقی میر

رہتے ہیں ان کے گلے لگنے کے برسوں سے گلے

دیوان پنجم غزل 1756
عیدیں آئیں بارہا لیکن نہ وے آکر ملے
رہتے ہیں ان کے گلے لگنے کے برسوں سے گلے
اس زمانے کی تری سے لہر بہر اگلی کہاں
بے تہی کرنے لگے دریا دلوں کے حوصلے
غنچگی میں دیکھے ہیں صد رنگ جور آسماں
اب جو گل سا بکھرا ہوں دیکھوں کہ کیسا گل کھلے
سارے عالم کے حواس خمسہ میں ہے انتشار
ایک ہم تم ہی نہیں معلوم ہوتے دہ دلے
میر طے ہو گا بیابان محبت کس طرح
راہ ہے پرخار میرے پائوں میں ہیں آبلے
میر تقی میر

عاشق اس کی قامت کے بالا بالا مارے گئے

دیوان پنجم غزل 1755
اس تک کوشش سے بھی نہ پہنچے جان سے آخر سارے گئے
عاشق اس کی قامت کے بالا بالا مارے گئے
اس کے روے خوے کردہ پہ نقاب لیے وہ صورت ہے
جیسے یکایک سطح ہوا پر بدلی آئی تارے گئے
ایسے قماری سے دل کو لگاکر جیتے رہنا ہو نہ سکا
رفتۂ شاہدبازی اس کے جی بھی اپنا ہارے گئے
چارہ گر اس شہر کے ہوں تو فکر کریں آبادی کا
یارب بستے تھے جو یاں وے لوگ کہاں بیچارے گئے
مشکل میر نظر آتا تھا اٹھنا بار امانت کا
آئے ہم تو سہولت سے وہ بوجھ اٹھاکر بارے گئے
میر تقی میر

وحشت پر جب آتا ہے تو جیسے بگولا جاتا ہے

دیوان پنجم غزل 1754
بات ہماری یاد رہے جی بھولا بھولا جاتا ہے
وحشت پر جب آتا ہے تو جیسے بگولا جاتا ہے
تھوڑے سے پانی میں میں نے سر کھپی کی ہے جیسے حباب
کہتے ہیں بے تہ مجھ کو کیا اپھرا پھولا جاتا ہے
گام کی صورت کیا ہے اس کی راہ چلے ہے میر اگر
دیکھنے والے کہتے ہیں یہ کوئی ہیولا جاتا ہے
میر تقی میر

بوسۂ کنج لب سے پھر بھی ذائقے اپنے بناتے تھے

دیوان پنجم غزل 1753
ہائے جوانی وصل میں اس کے کیا کیا لذت پاتے تھے
بوسۂ کنج لب سے پھر بھی ذائقے اپنے بناتے تھے
کیا کیا تم نے فریب کیے ہیں سادگی میں دل لینے کو
ٹیڑھی کرکے کلاہ آتے تھے مے ناخوردہ ماتے تھے
ہائے جدائی ایک ہی جاگہ مار کے ہم کو توڑ رکھا
وے دن یاد آتے ہیں اب جب ان کے آتے جاتے تھے
غیروں کی تم سنتے رہے سو غیرت سے ہم سہتے رہے
وے تو تم کو لگا جاتے تھے تم آہم کو جلاتے تھے
رنج و الم غم عشق ہی کے اعجاز سے کھنچتے تھے ورنہ
حوصلہ کتنا اپنا جس میں یہ آزار سماتے تھے
وے دن کیسے سالتے ہیں جو آکر سوتے پاتے کبھو
آنکھوں سے ہم سہلا سہلا تلوے اس کو جگاتے تھے
چاہت روگ برا ہے جی کا میر اس سے پرہیز بھلا
اگلے لوگ سنا ہے ہم نے دل نہ کسو سے لگاتے تھے
میر تقی میر

اس قافلے میں ہم بھی تھے افسوس رہ گئے

دیوان پنجم غزل 1752
چلتے ہوئے تسلی کو کچھ یار کہہ گئے
اس قافلے میں ہم بھی تھے افسوس رہ گئے
کیا کیا مکان شاہ نشیں تھے وزیر کے
وہ اٹھ گیا تو یہ بھی گرے بیٹھے ڈھہ گئے
اس کج روش سے ملنا خرابات میں نہ تھا
بے طور ہم بھی جاکے ملے بے جگہ گئے
وے زورور جواں جنھیں کہیے پہاڑ تھے
جب آئی موج حادثہ تنکے سے بہ گئے
وہ یار تو نہ تھا تہ دل سے کسو کا میر
ناچار اس کے جور و ستم ہم بھی سہ گئے
میر تقی میر

وہ ہی ناز و عتاب ہے سو ہے

دیوان پنجم غزل 1751
ہم پہ خشم و خطاب ہے سو ہے
وہ ہی ناز و عتاب ہے سو ہے
گرچہ گھبرا کے لب پہ آئی ولے
جان کو اضطراب ہے سو ہے
بس گئی جاں خراب مدت کی
حال اپنا خراب ہے سو ہے
خشکی لب کی ہے تری کیسی
چشم لیکن پرآب ہے سو ہے
خاک جل کر بدن ہوا ہے سب
دل جلا سا کباب ہے سو ہے
کر گئے کاروانیاں شب گیر
وہ گراں مجھ کو خواب ہے سو ہے
یاں تو رسوا ہیں کیسا پردئہ شرم
اس کو ہم سے حجاب ہے سو ہے
دشمن جاں تو ہے دلوں میں بہم
دوستی کا حساب ہے سو ہے
زلفیں اس کی ہوا کریں برہم
ہم کو بھی پیچ و تاب ہے سو ہے
خاک میں مل کے پست ہیں ہم تو
ان کی عالی جناب ہے سو ہے
شہر میں در بدر پھرے ہے عزیز
میر ذلت کا باب ہے سو ہے
میر تقی میر

یکسر ان نامردوں کو جو ایک ہی تک تک پا میں اٹھائے

دیوان پنجم غزل 1750
عشق اگر ہے مرد میداں مرد کوئی عرصے میں لائے
یکسر ان نامردوں کو جو ایک ہی تک تک پا میں اٹھائے
کار عدالت شہر کا ہم کو اک دن دو دن ہووے تو پھر
چاروں اور منادی کریے کوئی کسی سے دل نہ لگائے
پر کے اسیر دام ہوئے تھے نکلے ٹوٹی شکن کی راہ
اب کے دیکھیں موسم گل کا کیسے کیسے شگوفے لائے
بھوکے مرتے مرتے منھ میں تلخی صفرا پھیل گئی
بے ذوقی میں ذوق کہاں جو کھانا پینا مجھ کو بھائے
گھر سے نکل کر کھڑے کھڑے پھر جاتا ہوں میں یعنی میر
عشق و جنوں کا آوارہ حیران پریشاں کیدھر جائے
میر تقی میر

اب وہ دل میں تاب نہیں جو لب تک آہ سرد کھنچے

دیوان پنجم غزل 1749
ظلم سہے ہیں داغ ہوئے ہیں رنج اٹھے ہیں درد کھنچے
اب وہ دل میں تاب نہیں جو لب تک آہ سرد کھنچے
جیتے جی میت کے رنگوں عشق میں اس کے ہو بیٹھا
بعد مرے نقاش سے شاید صورت میری زرد کھنچے
خاک ہوئی تھی سرکشی اپنی جوں کی توں اپنی طبیعت میں
میر عجب کیا ہے اس کا تا گردوں جو یہ گرد کھنچے
میر تقی میر

کہ بیتاب دل کی بنا صبر ہے

دیوان پنجم غزل 1748
کوئی نام اس کا نہ لو جبر ہے
کہ بیتاب دل کی بنا صبر ہے
نہ سوز جگر خاک میں بھی گڑا
موئے پر پرآتش مری قبر ہے
گلستاں کے ہیں دونوں پلے بھرے
بہار اس طرف اس طرف ابر ہے
جو درویش پہنے ہے ببری لباس
تو پھر عینہٖ شیر ہے ببر ہے
در کعبہ پر کفر بکتا ہے میر
مسلماں نہیں وہ کہن گبر ہے
میر تقی میر

آئے بیٹھے اٹھ بھی گئے بیتاب ہوئے پھر آئے بھی

دیوان پنجم غزل 1747
دل کی لاگ بری ہوتی ہے رہ نہ سکے ٹک جائے بھی
آئے بیٹھے اٹھ بھی گئے بیتاب ہوئے پھر آئے بھی
آنکھ نہ ٹک میلی ہوئی اپنی مطلق دل بے جا نہ ہوا
دل کی مصیبت کیسی کیسی کیا کیا رنج اٹھائے بھی
ٹھنڈے ہوتے نہ دیکھے ہرگز ویسے ہی جلتے رہتے ہیں
تلوے حنائی اس کے ہم نے آنکھوں سے سہلائے بھی
رنگ نہیں ہے منھ پہ کسی کے باد خزاں سے گلستاں میں
برگ و بار گرے بکھرے ہیں گل غنچے مرجھائے بھی
نفع کبھو دیکھا نہیں ہم نے ایسے خرچ اٹھانے پر
دل کے گداز سے لوہو روئے داغ جگر پہ جلائے بھی
عشق میں اس کے جان مری مشتاق پھرے گی بھٹکی ہوئی
شوق اگر ہے ایسا ہی تو چین کہاں مرجائے بھی
تاجر ترک فقیر ہوئے اب شاعر عالم کامل ہیں
پیش گئی کچھ میر نہ اپنی سوانگ بہت سے لائے بھی
میر تقی میر

ابر بہاری وادی سے اٹھ کر آبادی پر آیا ہے

دیوان پنجم غزل 1746
عہد جنوں ہے موسم گل کا اور شگوفہ لایا ہے
ابر بہاری وادی سے اٹھ کر آبادی پر آیا ہے
سن کر میرے شور شب کو جھنجھلا کر وہ کہنے لگا
نالے اس کے فلک تک پہنچے کن نے اس کو ستایا ہے
دکھن اتر پورب پچھم ہنگامہ ہے سب جاگہ
اودھم میرے حرف و سخن نے چاروں اور مچایا ہے
بے چشم و رو ہو بیٹھے ہو وجہ نہیں ہے ظاہر کچھ
کام کی صورت بگڑی ہماری منھ کیوں تم نے بنایا ہے
ظلم و ستم سب سہل ہیں اس کے ہم سے اٹھتے ہیں کہ نہیں
لوگ جو پرسش حال کریں ہیں جی تو انھوں نے کھایا ہے
ہو کے فقیر تو واں بیٹھے ہیں رہتے ہیں اشراف جہاں
ہم نے توکل بحت کیا ہے نام خدا سرمایہ ہے
برسوں ہم درویش رہے ہیں پردے میں دنیاداری کے
ناموس اس کی کیونکے رہے یہ پردہ جن نے اٹھایا ہے
ڈھونڈ نکالا تھا جو اسے سو آپ کو بھی ہم کھو بیٹھے
جیسا نہال لگایا ہم نے ویسا ہی پھل پایا ہے
میر غریب سے کیا ہو معارض گوشے میں اس وادی کے
ایک دیا سا بجھتا ان نے داغ جگر پہ جلایا ہے
میر تقی میر

روزے رکھے غریبوں نے تو دن بڑے ہوئے

دیوان پنجم غزل 1745
گردش دنوں کی کم نہ ہوئی کچھ کڑے ہوئے
روزے رکھے غریبوں نے تو دن بڑے ہوئے
نرمی سے کوے یار میں جاوے تو جا نسیم
ایسا نہ ہو کہ اکھڑیں کہیں دل گڑے ہوئے
آہن دلوں نے مارا ہے جی غم میں ان کے ہم
پھرتے ہیں نعل سینوں پر اپنے جڑے ہوئے
آئے ہو بعد صلح کبھو ناز سے تو یاں
منھ پھیر ادھر سے بیٹھے ہو جیسے لڑے ہوئے
بیمار امیدوار سے بستر پہ اپنے ہم
دروازے ہی کی اور تکیں ہیں پڑے ہوئے
بار اس کی بزم میں نہیں ناچار در پہ ہم
رہتے ہیں جیسے صورت دیوار اڑے ہوئے
ہم زیر تیغ بیٹھے تھے پر وقت قتل میر
وے ٹک ہمارے پاس نہ آکر کھڑے ہوئے
میر تقی میر

جس کو شبہ ہووے نہ ہرگز جی کے ہمارے جائے سے

دیوان پنجم غزل 1744
اس مغرور کو کیا ہوتا ہے حال شکستہ دکھائے سے
جس کو شبہ ہووے نہ ہرگز جی کے ہمارے جائے سے
کیسا کیسا ہوکے جدا پہلو سے اس بن تڑپا ہے
کیا پوچھو ہو آئی قیامت سر پر دل کے لگائے سے
یمن تجرد سے میں اپنے روز جہاں سے گذرتا ہوں
وحشت ہے خورشید نمط اپنے بھی مجھ کو سائے سے
ہر کوے و ہر برزن میں یا پہر پہر وہ جویاں تھا
یا اب ننگ اسے آتا ہے پاس ہمارے آئے سے
ایک جراحت کیا تسکیں دے موت کے بھوکے صید کے تیں
شاید دل ہو تسلی اس کا زخم دگر کے کھائے سے
رنج و عنا پر درد و بلا پر صبر کیے ہم بیٹھے ہیں
کلفت الفت جاتی رہی کیا جور و ستم کے اٹھائے سے
اول تو آتے ہی نہیں ہو اور کبھو جو آتے ہو
نیچی آنکھیں کیے پھرتے ہو مجلس میں شرمائے سے
جھگڑا ناز و نیاز کا سن کر بے مزہ ہم سے تم تو ہوئے
میر سخن کو طول نہ دو بس بات بڑھے ہے بڑھائے سے
میر تقی میر

کیا جانوں میں روئوں گا کیسا دریا چڑھتا آتا ہے

دیوان پنجم غزل 1743
دل بھی بھرا رہتا ہے میرا جی بھی رندھا کچھ جاتا ہے
کیا جانوں میں روئوں گا کیسا دریا چڑھتا آتا ہے
سچ ہے وہ جو کہا کرتا ہے کون ہے تو کیا سمجھے ہمیں
بیگانے تو ہیں ہی ہم وے ناؤں کا چاہ کا ناتا ہے
تو بلبل آزردہ نہ ہو گل پھول سے باغ بہاراں میں
رنج کش الفت ہے عاشق جی اپنا بہلاتا ہے
عشق و محبت کیا جانوں میں لیکن اتنا جانوں ہوں
اندر ہی سینے میں میرے دل کو کوئی کھاتا ہے
عاشق اپنا جان لیا ہے ان نے شاید میر ہمیں
دیکھ بھری مجلس میں اپنی ہم ہی سے شرماتا ہے
میر تقی میر

بے موقع یاں آہ و فغاں ہے بے اثری زاری میں ہے

دیوان پنجم غزل 1742
یاری کرے جو چاہے کسو سے غم ہی غم یاری میں ہے
بے موقع یاں آہ و فغاں ہے بے اثری زاری میں ہے
ہاتھ لیے آئینہ تجھ کو حیرت ہے رعنائی کی
ہے بھی زمانہ ہی ایسا ہر کوئی گرفتاری میں ہے
باغ میں شب جو روتا پھرتا ہوں اس بن میں سو صبح تلک
دانۂ اشک روش شبنم کے گل پر ہر کیاری میں ہے
صورتیں بگڑیں کتنی کیوں نہ اس کو توجہ کب ہے وہ
سامنے رکھے آئینہ مصروف طرحداری میں ہے
میر کوئی اس صورت میں امید بہی کی کیا رکھے
ایک جراحت سینے کے میرے ہر زخم کاری میں ہے
میر تقی میر

کوٹے گئے ہیں سب اعضا یہ محبت تھی یا محنت تھی

دیوان پنجم غزل 1741
عشق کیا سو جان جلی ہے الفت تھی یا کلفت تھی
کوٹے گئے ہیں سب اعضا یہ محبت تھی یا محنت تھی
اب تو نڈھال پڑے رہتے ہیں ضعف ہی اکثر رہتا ہے
آئے گئے اس کے کوچے میں جب تک جی میں طاقت تھی
آب حیات وہی نہ جس پر خضر و سکندر مرتے رہے
خاک سے ہم نے بھرا وہ چشمہ یہ بھی ہماری ہمت تھی
آنسو ہوکر خون جگر کا بیتابانہ آیا تھا
شاید رات شکیبائی کی جلد بہت کچھ رخصت تھی
جب سے عشق کیا ہے میں نے سر پر میرے قیامت ہے
ساعت دل لگنے کی شاید نحس ترین ساعت تھی
میر تقی میر

دریا دریا روتا ہوں میں صحرا صحرا وحشت ہے

دیوان پنجم غزل 1740
عالم عالم عشق و جنوں ہے دنیا دنیا تہمت ہے
دریا دریا روتا ہوں میں صحرا صحرا وحشت ہے
ہم تو عشق میں ناکس ٹھہرے کوئی نہ ایدھر دیکھے گا
آنکھ اٹھاکر وہ دیکھے تو یہ بھی اس کی مروت ہے
ہائے غیوری جس کے دیکھے جی ہی نکلتا ہے اپنا
دیکھیے اس کی اور نہیں پھر عشق کی یہ بھی غیرت ہے
کوئی دم رونق مجلس کی اور بھی ہے اس دم کے ساتھ
یعنی چراغ صبح سے ہیں ہم دم اپنا بھی غنیمت ہے
خط آئے ظاہر ہے ہم پر بگڑی بھی اچھی صورت تھی
بارے کہو ناکام ہی ہو یا کام کی بھی کچھ صورت ہے
ایک ورق پر تصویریں میں دیکھی ہیں لیلی و مجنوں کی
ایسی صورت حال کی اپنی ان دونوں کو حیرت ہے
خاک سے آدم کرکے اٹھایا جس کو دست قدرت نے
قدر نہیں کچھ اس بندے کی یہ بھی خدا کی قدرت ہے
صبح سے آنسو نومیدانہ جیسے وداعی آتا تھا
آج کسو خواہش کی شاید دل سے ہمارے رخصت ہے
کیا دلکش ہے بزم جہاں کی جاتے یاں سے جسے دیکھو
وہ غم دیدہ رنج کشیدہ آہ سراپا حسرت ہے
جب کچھ اپنے کنے رکھتے تھے تب بھی صرف تھا لڑکوں کا
اب جو فقیر ہوئے پھرتے ہیں میر انھیں کی دولت ہے
میر تقی میر

عاشق کہیں شتاب تو ہووے خدا کرے

دیوان پنجم غزل 1739
بے اس کے تیرے حق میں کوئی کیا دعا کرے
عاشق کہیں شتاب تو ہووے خدا کرے
اے سردمہر کوئی مرے رہ تو گرم ناز
پرسش کسو کے حال کی تیری بلا کرے
دامن بہت وسیع ہے آنکھوں کا اے سحاب
لازم ہے تجھ کو ان ہی کا پانی بھرا کرے
آکر بکھیرے پھول مری مشت خاک پر
مرغ چمن اگر حق صحبت ادا کرے
پتھر کی چھاتی چاہیے ہے میر عشق میں
جی جانتا ہے اس کا جو کوئی وفا کرے
میر تقی میر

کہاں ہم کہاں تم کہاں پھر جوانی

دیوان پنجم غزل 1738
ملو ان دنوں ہم سے اک رات جانی
کہاں ہم کہاں تم کہاں پھر جوانی
شکایت کروں ہوں تو سونے لگے ہے
مری سرگذشت اب ہوئی ہے کہانی
ادا کھینچ سکتا ہے بہزاد اس کی
کھنچے صورت ایسی تو یہ ہم نے مانی
ملاقات ہوتی ہے تو کشمکش سے
یہی ہم سے ہے جب نہ تب اینچا تانی
بسنتی قبا پر تری مر گیا ہے
کفن میر کو دیجیو زعفرانی
میر تقی میر

چال ایسی چلا جس پر تلوار چلا کی ہے

دیوان پنجم غزل 1737
جب جل گئے تب ان نے کینے کی ادا کی ہے
چال ایسی چلا جس پر تلوار چلا کی ہے
خلقت مگر الفت سے ہے شورش سینہ کی
چسپاں مری چھاتی سے دن رات رہا کی ہے
ہم لوگوں کے لوہو میں ڈوبی ہی رہی اکثر
اس تیغ کی جدول بھی کیا تیز بہا کی ہے
عشاق موئے پر بھی ہجراں میں معذب ہیں
مدفن میں مرے ہر دم اک آگ لگا کی ہے
صد رنگ بہاراں میں اب کے جو کھلے ہیں گل
یہ لطف نہ ہو ایسی رنگینی ہوا کی ہے
مرنے کو رہے حاضر سو مارے گئے آخر
گو ان نے جفا کی ہے ہم نے تو وفا کی ہے
مایوس ہی رہتے ہیں بیمار محبت کے
اس درد کی مدت تک ہم نے بھی دوا کی ہے
آنا ادھر اس بت کا کیا میری کشش سے ہے
ہو موم جو پتھر تو تائید خدا کی ہے
دامان دراز اس کا جو صبح نہیں کھینچا
اے میر یہ کوتاہی شب دست دعا کی ہے
میر تقی میر

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

دیوان پنجم غزل 1736
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کو بالے تک
اس کو فلک چشم مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے
آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں
کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے
عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہو گا دنیا میں
جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا وارا جانے ہے
چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیں
ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے
کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہ
طائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے
مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیں
اور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارہ جانے ہے
عاشق تو مردہ ہے ہمیشہ جی اٹھتا ہے دیکھے اسے
یار کے آجانے کو یکایک عمر دوبارہ جانے ہے
کیا کیا فتنے سر پر اس کے لاتا ہے معشوق اپنا
جس بے دل بے تاب و تواں کو عشق کا مارا جانے ہے
رخنوں سے دیوار چمن کے منھ کو لے ہے چھپا یعنی
ان سوراخوں کے ٹک رہنے کو سو کا نظارہ جانے ہے
تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میر بھی ناداں تلخی کش
دمدار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے
میر تقی میر

شور طیور اٹھتا ہے ایسا جیسے اٹھے ہے بول کوئی

دیوان پنجم غزل 1735
اس کے رنگ چمن میں شاید اور کھلا ہے پھول کوئی
شور طیور اٹھتا ہے ایسا جیسے اٹھے ہے بول کوئی
یوں پھرتا ہوں دشت و در میں دور اس سے میں سرگشتہ
غم کا مارا آوارہ جوں راہ گیا ہو بھول کوئی
ایک کہیں سر کھینچے ہے ایسا جس کی کریں سب پابوسی
ہو ہر اک کو قبول دلہا یہ نہ کرے گا قبول کوئی
کس امید کا تجھ کو اے دل چاہ میں اس کی حصول ہوا
شوخ و شلائیں خوشرویاں سے رہتا ہے مامول کوئی
لمبے اس کے بالوں کا میں وصف لکھا ہے دور تلک
حرف مار تو طولانی تھا پھر بھی وے ہے طول کوئی
مستی حسن پرستی رندی یہی عمل ہے مدت سے
پیر کبیر ہوئے تو کیا ہے چھوٹے ہے معمول کوئی
حرف و حکایت شکر و شکایت تھی اک وضع و وتیرہ پر
میر کو جاکر دیکھا ہم نے ہے مرد معقول کوئی
میر تقی میر

عجب ہیں لوگ جو کہتے ہیں وہ ناساز آتا ہے

دیوان پنجم غزل 1734
ادھر مطرب کا عودی رنگ کب طناز آتا ہے
عجب ہیں لوگ جو کہتے ہیں وہ ناساز آتا ہے
خبر ہے شرط اتنا مت برس اے ابر بارندہ
ہمیں بھی آج رونا درد دل پرداز آتا ہے
اٹھے ہے گرد معشوقانہ اس تربت سے عاشق کی
کبھو ٹک جس کے اوپر وہ سراپا ناز آتا ہے
عجب رنگ حنا طائر ہے دست آموز خوباں کا
اڑے ہے تو بھی ہاتھوں ہی میں کر پرواز آتا ہے
وہی نازاں خراماں کبک سا آیا مری جانب
کوئی مغرور وہ شوخی سے اپنی باز آتا ہے
رہائی اپنی ہے دشوار کب صیاد چھوڑے ہے
اسیر دام ہو طائر جو خوش آواز آتا ہے
اگر مسجد سے آئوں میر تو بھی لوگ کہتے ہیں
کہ میخانے سے پھر دیکھو وہ شاہد باز آتا ہے
میر تقی میر

کہاں رحمت حق کہاں بے گناہی

دیوان پنجم غزل 1733
نہ بک شیخ اتنا بھی واہی تباہی
کہاں رحمت حق کہاں بے گناہی
ملوں کیونکے ہم رنگ ہو تجھ سے اے گل
ترا رنگ شعلہ مرا رنگ کاہی
مجھے میر تا گور کاندھا دیا تھا
تمناے دل نے تو یاں تک نباہی
میر تقی میر

لکھتا ہوں تو پھرے ہے کتابت بہی بہی

دیوان پنجم غزل 1732
کیا خط لکھوں میں رونے سے فرصت نہیں رہی
لکھتا ہوں تو پھرے ہے کتابت بہی بہی
میدان غم میں قتل ہوئی آرزوے وصل
تھی اپنے خاندان تمنا میں اک یہی
اپنا لکھا ہے یاد مجھے میری بات بھول
قاصد نے جا کے یار سے کچھ اور ہی کہی
شب شور کرنے میں جو سماجت کی تنگ ہو
کہنے لگا کہ مارو اسے یہ تو ہے وہی
مت بہ نمک حرام تو داغوں سے ساز کر
اے زخم کہنہ میر کی خاطر ہی یوں سہی
میر تقی میر

ولے دل شرط ہے جو تاب لاوے

دیوان پنجم غزل 1731
بسان برق وہ جھمکے دکھاوے
ولے دل شرط ہے جو تاب لاوے
اڑاتا گڈی وہ باہر نہ آوے
مبادا مجھ کو بھی گڈا بناوے
صبا سے میں جو لگ چل کر گیا واں
ہوا کھاوے کہا آنے نہ پاوے
نزاکت سے بہت ہے کم دماغی
رکھے پگڑی پہ گل تیوری چڑھاوے
بزن گاہ اس کشندے کی گلی ہے
وہی جاوے جو لوہو میں نہاوے
نہ پوچھو فرش رہ کیا ہووے اس کا
جو اہل دل ہو تو آنکھیں بچھاوے
بلا مغرور ہے وہ آتشیں خو
بہت منت کرو تو جی جلاوے
پڑا تڑپا کیا میں دور پہروں
عجب کیا ہے جو پاس اپنے بلاوے
بتان دیر سے ایسی نہیں لاگ
خدا ہی ہو تو کعبے میر جاوے
میر تقی میر

ہووے پیوند زمیں یہ رفتنی

دیوان پنجم غزل 1730
بسکہ ہے گردون دوں پرور دنی
ہووے پیوند زمیں یہ رفتنی
بزم میں سے اب تو چل اے رشک صبح
شمع کے منھ پر پھری ہے مردنی
میں چراغ صبح گاہی ہوں نسیم
مجھ سے اک دم کے لیے کیا دشمنی
مجھ سا محنت کش محبت میں نہیں
ہر زماں کرتا رہا ہوں جاں کنی
کچھ گدا شاعر نہیں ہوں میر میں
تھا مرا سرمشق دیوان غنیؔ
میر تقی میر

برسے ہے عشق اپنے دیوار اور در سے

دیوان پنجم غزل 1729
جوں ابر بے کسانہ روتے اٹھے ہیں گھر سے
برسے ہے عشق اپنے دیوار اور در سے
جمہور راہ اس کی دیکھا کرے ہے اکثر
محفوظ رکھ الٰہی اس کو نظرگذر سے
وحش اور طیر آنکھیں ہر سو لگا رہے ہیں
گرد رہ اس کی دیکھیں اٹھ چلتی ہے کدھر سے
شاید کہ وصل اس کا ہووے تو جی بھی ٹھہرے
ہوتی نہیں ہے اب تو تسکین دل خبر سے
مدت سے چشم بستہ بیٹھا رہا ہوں لیکن
وہ روے خوب ہرگز جاتا نہیں نظر سے
گو ہاتھ وہ نہ آوے دل غم سے خون کرنا
ہے لاگ میرے جی کو اس شوخ کی کمر سے
یہ گل نیا کھلا ہے لے بال تو قفس میں
کوئی کلی نہ نکلے مرغ چمن کے پر سے
دیکھو نہ چشم کم سے یہ آنکھ ڈبڈبائی
سیراب ابر ہوتے دیکھے ہیں چشم تر سے
گلشن سے لے قفس تک آواز ایک سی ہے
کیا طائر گلستاں ہیں نالہ کش اثر سے
ہر اک خراش ناخن جبہے سے صدر تک ہے
رجھواڑ ہو تو پوچھے کوئی ہمیں ہنر سے
یہ عاشقی ہے کیسی ایسے جیوگے کب تک
ترک وفا کرو ہو مرنے کے میر ڈر سے
میر تقی میر

چھانہہ میں جاکے ببولوں کی ہم عشق و جنوں کو رو آئے

دیوان پنجم غزل 1728
کیا کہیے کچھ بن نہیں آتی جنگل جنگل ہو آئے
چھانہہ میں جاکے ببولوں کی ہم عشق و جنوں کو رو آئے
دل کی تلاش میں اٹھ کے گئے تھے شاید یاں پیدا ہو سو
جان کا اپنی گرامی گوہر اس کی گلی میں کھو آئے
آہوے عرفاں صید انھوں کا گر نہ ہوا نقصان کیا
اس عالم سے اس عالم میں کسب کمال کو جو آئے
کچھ کہنے کا مقام نہ تھا وہ وا ہوتا تو کہتے کچھ
آنا نہ آنا یکساں تھا واں ہوتے ادھر ہم گو آئے
سب کہتے تھے چین کرے گا کچھ بھی نہ دیکھا جز سختی
پتھر رکھ کے سرہانے ہم ٹک اس کی گلی میں سو آئے
کیا ہی دامن گیر تھی یارب خاک بسمل گاہ وفا
اس ظالم کی تیغ تلے سے ایک گیا تو دو آئے
سر دینا ٹھہرا کر ہم نے پائوں کو باہر رکھا تھا
ہر سو ہو دشوار ہے پھرنا میر ادھر اب تو آئے
میر تقی میر

گھر ہے کسو گوشے میں تو مکڑی کا سا گھر ہے

دیوان پنجم غزل 1727
کیا خانہ خرابی کا ہمیں خوف و خطر ہے
گھر ہے کسو گوشے میں تو مکڑی کا سا گھر ہے
میلان نہ آئینے کا اس کو ہے نہ گل کا
کیا جانیے اب روے دل یار کدھر ہے
اے شمع اقامت کدہ اس بزم کو مت جان
روشن ہے ترے چہرے سے تو گرم سفر ہے
اس عاشق دیوانہ کی مت پوچھ معیشت
دنداں بجگر دست بدل داغ بسر ہے
کیا آگ کی چنگاریاں سینے میں بھری ہیں
جو آنسو مری آنکھ سے گرتا ہے شرر ہے
ڈر جان کا جس جا ہے وہیں گھر بھی ہے اپنا
ہم خانہ خرابوں کو تو یاں گھر ہے نہ در ہے
کیا پرسش احوال کیا کرتے ہو اکثر
ظاہر ہے کہ بیمار اجل روز بتر ہے
رہتی ہیں الم ناک ہی وے آنکھیں جو اچھی
بدچشم کسو شخص کی شاید کہ نظر ہے
دیدار کے مشتاق ہیں سب جس کے اب اس کی
کچھ شورش ہنگامۂ محشر میں خبر ہے
سب چاہتے ہیں رشد مرا یوں تو پر اے میر
شاید یہی اک عیب ہے مانع کہ ہنر ہے
میر تقی میر

کچھ یار کے آنے کی مگر گرم خبر ہے

دیوان پنجم غزل 1726
آنکھوں کی طرف گوش کی در پردہ نظر ہے
کچھ یار کے آنے کی مگر گرم خبر ہے
یہ راہ و روش سرو گلستاں میں نہ ہو گی
اس قامت دلچسپ کا انداز دگر ہے
یہ بادیۂ عشق ہے البتہ ادھر سے
بچ کر نکل اے سیل کہ یاں شیر کا ڈر ہے
وہ ناوک دلدوز ہے لاگو مرے جی کا
تو سامنے ہو ہمدم اگر تجھ کو جگر ہے
کیا پھیل پڑی مدت ہجراں کو نہ پوچھو
مہ سال ہوا ہم کو گھڑی ایک پہر ہے
کیا جان کہ جس کے لیے منھ موڑیے تم سے
تم آؤ چلے داعیہ کچھ تم کو اگر ہے
تجھ سا تو سوار ایک بھی محبوب نہ نکلا
جس دلبر خودکام کو دیکھا سو نفر ہے
شب شور و فغاں کرتے گئی مجھ کو تو اب تو
دم کش ہو ٹک اے مرغ چمن وقت سحر ہے
سوچے تھے کہ سوداے محبت میں ہے کچھ سود
اب دیکھتے ہیں اس میں تو جی ہی کا ضرر ہے
شانے پہ رکھا ہار جو پھولوں کا تو لچکی
کیا ساتھ نزاکت کے رگ گل سی کمر ہے
کر کام کسو دل میں گئی عرش پہ تو کیا
اے آہ سحرگاہ اگر تجھ میں اثر ہے
پیغام بھی کیا کریے کہ اوباش ہے ظالم
ہر حرف میاں دار پہ شمشیر و سپر ہے
ہر بیت میں کیا میر تری باتیں گتھی ہیں
کچھ اور سخن کر کہ غزل سلک گہر ہے
میر تقی میر

سخت کدورت بیچ میں آئی صبح تلک نہ صفائی ہوئی

دیوان پنجم غزل 1725
رات کو تھا کعبے میں میں بھی شیخ حرم سے لڑائی ہوئی
سخت کدورت بیچ میں آئی صبح تلک نہ صفائی ہوئی
تہمت رکھ مستی کی مجھ پر شیخ شہر کنے لایا
وہ بھی بگڑا حد سے زیادہ سن کر بات بنائی ہوئی
شیشہ ان نے گلے میں ڈلوا شہر میں سب تشہیر کیا
ہائے سیہ رو عاشق کی عالم میں کیا رسوائی ہوئی
کیسی ہی شکلیں سامنے آویں مژگاں وا اودھر نہ کروں
حور و پری پر آنکھ نہیں پڑتی ہے کسو سے لگائی ہوئی
حوصلہ داری کیا ہے اتنی قدرت کچھ ہے خدا ہی کی
عالم عالم جہاں جہاں جو غم کی ہم میں سمائی ہوئی
دیکھ کے دست و پاے نگاریں چپکے سے رہ جاویں نہ کیوں
منھ بولے ہے یارو گویا مہندی اس کی رچائی ہوئی
دل میں درد جگر میں طپیدن سر میں شور آشفتہ دماغ
کیا کیا رنج اٹھائے گئے ہیں جب سے ان سے جدائی ہوئی
ہفتم چرخ سے اودھر ہوکر عرش کو پہنچی میری دعا
اور رسائی کیا ہوتی ہے گوکہ کہیں نہ رسائی ہوئی
دود دل سوزان محبت محو جو ہو تو عرش پہ ہو
دور بجھے گی یعنی جاکر عشق کی آگ لگائی ہوئی
یہ یہ بلائیں سر پر ہیں تو آج موئے کل دوسرا دن
یاری ہوئی بیماری ہوئی درویشی ہوئی تنہائی ہوئی
اتنی لگوہیں چشم کسو کی قہر قیامت آفت ہے
تم نے دیکھی نہیں ہے صاحب آنکھ کوئی شرمائی ہوئی
جب موسم تھا وا ہونے کا تب تو شگفتہ ٹک نہ ہوا
اب جو بہت افسردہ ہوا ہے دل ہے کلی مرجھائی ہوئی
اس کی طرف جو لی ہم نے ہے اپنی طرف سے پھرا عالم
یعنی دوستی سے اس بت کی دشمن ساری خدائی ہوئی
ہم قیدی بھی موسم گل کے کب سے توقع رکھتے تھے
دیر بہار آئی اب کے پر اسیروں کی نہ رہائی ہوئی
کہنا جو کچھ جس سے ہو گا سامنے میر کہا ہو گا
بات نہ دل میں پھر گئی ہو گی منھ پہ میرے آئی ہوئی
میر تقی میر

ہے آبرو فقیر کی شاہ ولا کے ہاتھ

دیوان پنجم غزل 1724
عز و وقار کیا ہے کسو خود نما کے ہاتھ
ہے آبرو فقیر کی شاہ ولا کے ہاتھ
بٹھلا دیا فلک نے ہمیں نقش پا کے رنگ
اٹھنا ہمارا خاک سے ہے اب خدا کے ہاتھ
آنکھوں میں آشنا تھا مگر دیکھا تھا کہیں
نوگل کل ایک دیکھا ہے میں نے صبا کے ہاتھ
دیکھ اس کو مجھ کو یاروں نے حیران ہو کہا
کس ڈھب سے لگ گیا ہے یہ گوہر گدا کے ہاتھ
دل کی گرہ نہ ناخن تدبیر سے کھلی
عقدہ کھلے گا میر یہ مشکل کشا کے ہاتھ
میر تقی میر

دیر و حرم میں ہو کہیں ہوہے خدا کے ساتھ

دیوان پنجم غزل 1723
بندہ ہے یا خدا نہیں اس دلربا کے ساتھ
دیر و حرم میں ہو کہیں ہوہے خدا کے ساتھ
ملتا رہا کشادہ جبیں خوب و زشت سے
کیا آئینہ کرے ہے بسر یاں حیا کے ساتھ
گو دست لطف سر سے اٹھا لے کوئی شفیق
دل کا لگائو اپنا ہے دست دعا کے ساتھ
تدبیر دوستاں سے ہے بالعکس فائدہ
ہے درد عاشقی کو خصومت دوا کے ساتھ
کی کشتی اس کی پاک زبردست عشق نے
جن نے ملائے ہاتھ ٹک ایک اس بلا کے ساتھ
اوباش لڑکوں سے تو بہت کرچکے معاش
اب عمر کاٹیے گا کسو میرزا کے ساتھ
کیا جانوں میں چمن کو ولیکن قفس پہ میر
آتا ہے برگ گل کبھو کوئی صبا کے ساتھ
میر تقی میر

یک جرعہ ہمدم اور پلا پھر بہار دیکھ

دیوان پنجم غزل 1722
گل گل شگفتہ مے سے ہوا ہے نگار دیکھ
یک جرعہ ہمدم اور پلا پھر بہار دیکھ
اب وہ نہیں کرم کہ بھرن پڑنے لگ گئی
جوں ابر آگے لوگوں کے دامن پسار دیکھ
آنکھوں کو تیری عین کیا سب نے دیدنی
تو سب سے ٹک تو پھیر لے آنکھوں کو یار دیکھ
محتاج گل نہیں ہے گریبان غم کشاں
گلزار اشک خونیں سے جیب و کنار دیکھ
آنکھیں ادھر سے موند لیں ہیں اب تو شرط ہے
پھر دیکھیو نہ میری طرف ایک بار دیکھ
خالی پڑا ہے خانۂ دولت وزیر کا
باور نہیں تو آصف آصف پکار دیکھ
خواہش نہ ہووے دل کی جو حاصل تو موت ہے
احوال میر دیکھ نہیں جی تو مار دیکھ
میر تقی میر

یعنی چشم شوق لگی رہتی ہے شگاف در کے ساتھ

دیوان پنجم غزل 1721
جان چلی جاتی ہے ہماری اس کی اور نظر کے ساتھ
یعنی چشم شوق لگی رہتی ہے شگاف در کے ساتھ
شاہد عادل عشق کے دونوں پاس ہی حاضر ہیں یعنی
پہروں پہروں خشک لبی رہتی ہے چشم تر کے ساتھ
آنا اس کا ظاہر ہے پر مژدہ لایا یاں نہ کرو
جی ہی نکل جاوے گا اپنا یوں ہی ذوق خبر کے ساتھ
کیا رو ماہ و خور کو لیکن جھمکا اس کا دکھا دوں ہوں
روز و شب کچھ ضد سی ہوئی ہے مجھ کو شمس و قمر کے ساتھ
سینہ خالی آج پڑا ہے میر طرف سے پہلو کے
دل بھی شاید نکل گیا ہے روتے خون جگر کے ساتھ
میر تقی میر

لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ

دیوان پنجم غزل 1720
ہم جانتے تو عشق نہ کرتے کسو کے ساتھ
لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ
مستی میں شیخ شہر سے صحبت عجب رہی
سر پھوڑتے رہا کیے اکثر سبو کے ساتھ
تھا عکس اس کی قامت دلکش کا باغ میں
آنکھیں چلی گئیں ہیں لگی آب جو کے ساتھ
نازاں ہو اس کے سامنے کیا گل کھلا ہوا
رکھتا ہے لطف ناز بھی روے نکو کے ساتھ
ہم زرد کاہ خشک سے نکلے ہیں خاک سے
بالیدگی نہ خلق ہوئی اس نمو کے ساتھ
گردن بلند کرتے ہی ضربت اٹھا گئے
خنجر رکھے ہے اس کا علاقہ گلو کے ساتھ
ہنگامے جیسے رہتے ہیں اس کوچے میں سدا
ظاہر ہے حشر ہو گی نہ ایسے غلو کے ساتھ
مجروح اپنی چھاتی کو بخیہ کیا بہت
سینہ گتھا ہے میر ہمارا رفو کے ساتھ
میر تقی میر

آب اس کے پوست میں ہے جوں میوئہ رسیدہ

دیوان پنجم غزل 1719
اب کچھ مزے پر آیا شاید وہ شوخ دیدہ
آب اس کے پوست میں ہے جوں میوئہ رسیدہ
آنکھیں ملا کبھو تو کب تک کیا کروں میں
دنبالہ گردی تیری اے آہوے رمیدہ
پانی بھر آیا منھ میں دیکھے جنھوں کے یارب
وے کس مزے کے ہوں گے لب ہاے نامکیدہ
سائے کو اس پری کے لگتا نہ تھا چمن میں
مغرور کاہے پر ہے شمشاد قد کشیدہ
آنکھیں ہی بچھ رہی ہیں اہل نظر کی یکسر
چلتے ہوئے زمیں پر رکھ پائوں دیدہ دیدہ
چل سیر کرنے تو بھی تا صبح آنکھیں کھولیں
منھ پر ترے چمن میں گل ہاے نو دمیدہ
محراب میں رہو نہ سجدہ کیا کرو نہ
بے وقت کیا ہے طاعت قد اب ہوا خمیدہ
پروانہ گرد پھر کر جل بھی بجھا ولیکن
خاموش رات کو تھی شمع زباں بریدہ
دیکھا مجھے شب گل بلبل نے جو چمن میں
بولا کی میرے منھ پر کیا کیا دہن دریدہ
قلب و کبد تو دونوں تیروں سے چھن رہے ہیں
وہ اس ستم کشی پر ہم سے رہے کبیدہ
اشعار میر سب نے چن چن کے لکھ لیے ہیں
رکھیں گے یاد ہم بھی کچھ بیتیں چیدہ چیدہ
میر تقی میر

جان عزیز گئی ہوتی کاش اب کے سال بہار کے ساتھ

دیوان پنجم غزل 1718
ہائے ستم ناچار معیشت کرنی پڑی ہر خار کے ساتھ
جان عزیز گئی ہوتی کاش اب کے سال بہار کے ساتھ
کس آوارئہ عشق و جنوں کی اک مٹھی اب خاک اڑی
اڑتی پھرے ہے پس محمل جو راہ کے گرد و غبار کے ساتھ
وہ لحظہ نہیں جاتا جی سے آنکھ لڑی تھی جب اس سے
چاہ نکلتی تھی باتوں سے چتون بھی تھی پیار کے ساتھ
جی مارے شب مہ میں ہمارے قہر کیا مشاطہ نے
بل کھائے بالوں کو دیے بل اس کے گلے کے ہار کے ساتھ
کیا دن تھے جو ہم کو تنہا کہیں کہیں مل جاتا تھا
اب تو لگے ہی رہتے ہیں اغیار ہمارے یار کے ساتھ
ہم ہیں مریض عشق و جنوں سختی سے دل کو مت توڑو
نرم کرے ہیں حرف و حکایت اہل خرد بیمار کے ساتھ
دیدئہ تر سے چشمۂ جوشاں ہیں جو قریب اپنے واقع
تو ہی رود چلے جاتے ہیں لگ کر جیب و کنار کے ساتھ
دیر سے ہیں بیمار محبت ہم سے قطع امید کرو
جانیں ہی جاتی دیکھی ہیں ہم نے آخر اس آزار کے ساتھ
رونے سے سب سر بر آئے خاک ہمارے سر پر میر
مدت میں ہم ٹک لگ بیٹھے تھے اس کی دیوار کے ساتھ
میر تقی میر

یہی حال ہمیشہ رہا کیا تو مآل پر بھی نظر کرو

دیوان پنجم غزل 1717
مژہ وا کرو تمھیں غش ہے کیا کبھو حال پر بھی نظر کرو
یہی حال ہمیشہ رہا کیا تو مآل پر بھی نظر کرو
کہیں دل بھی ان کے اٹکتے ہیں جنھیں شوق میں ہے کمال کچھ
ہوئے ہو جو رفتہ خرام کے تو جمال پر بھی نظر کرو
نہ بنے جو دلبر سادہ تو نہ بھلا لگے مری آنکھوں میر
نہیں سادگی ہی میں لطف کچھ خط و خال پر بھی نظر کرو
میر تقی میر

خاموش ان لبوں سے کوئی بات ہو تو ہو

دیوان پنجم غزل 1716
راہیں رکے پر اس سے ملاقات ہو تو ہو
خاموش ان لبوں سے کوئی بات ہو تو ہو
رنج و عنا کہ دشمن جان عزیز ہیں
ان سے بچائو اس کی عنایات ہو تو ہو
نومید وصل دل نہیں شب ہاے ہجر میں
ان راتوں ہی میں ملنے کی بھی بات ہو تو ہو
امید ہے کہ اس سے قیامت کو پھر ملوں
حسن عمل کی واں بھی مکافات ہو تو ہو
تخفیفے شملے پیرہن و کنگھی اور کلاہ
شیخوں کی گاہ ان میں کرامات ہو تو ہو
ساقی کو چشم مست سے اودھر ہی دیکھنا
مسجد ہو یا کہ کعبہ خرابات ہو تو ہو
منکر نہیں ہے کوئی سیادت کا میر کی
ذات مقدس ان کی یہی ذات ہو تو ہو
میر تقی میر

ہم نے کمر کو کھول رکھا ہے اپنی کمر تم کستے ہو

دیوان پنجم غزل 1715
تم کو ہم سے لاگ لگی ہے روتے ہیں تو ہنستے ہو
ہم نے کمر کو کھول رکھا ہے اپنی کمر تم کستے ہو
درج گوہر مال نہیں کچھ دیں در بستہ مصر اگر
تو بھی ایسی قیمت پر تم آگے ہمارے سستے ہو
رستے راہ میں دیکھ لیا ہے بستی میں سے نکلے تمھیں
کیا جانیں ہم روز و شب تم کیدھر رستے بستے ہو
ابر کرم کی راہ تکو اب رحمت حق پہ نظر رکھو
گوکہ تم اے مستاں مجرم اس غم سے دل خستے ہو
پیری میں بھی جواں رکھا ہے دختر تاک کی صحبت نے
یعنی پی پی مئے انگوری میر ہوئے کٹ مستے ہو
میر تقی میر

سو سو قاصد جان سے جاویں یک کو ادھر سے جواب نہ ہو

دیوان پنجم غزل 1714
کیونکر مجھ کو نامہ نمط ہر حرف پہ پیچ و تاب نہ ہو
سو سو قاصد جان سے جاویں یک کو ادھر سے جواب نہ ہو
گل کو دیکھ کے گلشن کے دروازے ہی سے پھر آیا
کیا مل بیٹھیے اس سے بھلا جو صحبت ہی کا باب نہ ہو
مستی خرابی سر پر لائی کعبے سے اٹھ دیر گیا
جس کو خدا نے خراب کیا ہو پھر وہ کیونکے خراب نہ ہو
خلع بدن کرنے سے عاشق خوش رہتے ہیں اس خاطر
جان و جاناں ایک ہیں یعنی بیچ میں تن جو حساب نہ ہو
خشم و خطاب جبیں پر چیں تو حسن ہے گل رخساروں کا
وہ محبوب خنک ہوتا ہے جس میں ناز و عتاب نہ ہو
میں نے جو کچھ کہا کیا ہے حد و حساب سے افزوں ہے
روز شمار میں یارب میرے کہے کیے کا حساب نہ ہو
صبر بلا ہاے عشقی پر حوصلے والے کرتے ہیں
رحمت ہے اس خستہ جگر کو دل جس کا بیتاب نہ ہو
جس شب گل دیکھا ہے ہم نے صبح کو اس کا منھ دیکھا
خواب ہمارا ہوا ہوا ہے لوگوں کا سا خواب نہ ہو
نہریں چمن کی بھر رکھی ہیں گویا بادئہ لعلیں سے
بے عکس گل و لالہ الٰہی ان جویوں میں آب نہ ہو
اس دن میں تو مستانہ ہوتا ہوں کوئی کوچہ گدا
جس دن کاسۂ چوبیں میں میرے یک جرعہ بھی شراب نہ ہو
تہ داری کچھ دیدئہ تر کی میر نہیں کم دریا سے
جوشاں شور کناں آجاوے یہ شعلہ سیلاب نہ ہو
میر تقی میر

یعنی سایۂ سرو و گل میں اب مجھ کو زنجیر کرو

دیوان پنجم غزل 1713
موسم گل آیا ہے یارو کچھ میری تدبیر کرو
یعنی سایۂ سرو و گل میں اب مجھ کو زنجیر کرو
پیش سعایت کیا جائے ہے حق ہے میری طرف سو ہے
میں تو چپ بیٹھا ہوں یکسو گر کوئی تقریر کرو
کان لگا رہتا ہے غیر اس شوخ کماں ابرو کے بہت
اس تو گناہ عظیم پہ یارو ناک میں اس کی تیر کرو
پھیر دیے ہیں دل لوگوں کے مالک نے کچھ میری طرف
تم بھی ٹک اے آہ و نالہ قلبوں میں تاثیر کرو
آگے ہی آزردہ ہیں ہم دل ہیں شکستہ ہمارے سب
حرف رنجش بیچ میں لاکر اور نہ اب دلگیر کرو
کیا ہو محو عمارت منعم اے معمار خرابی ہے
بن آوے تو گھر ویراں درویشوں کے تعمیر کرو
عاشق ہو ترسا بچگاں پر تاکیفیت حاصل ہو
اور کشود کار جو چاہو پیر مغاں کو پیر کرو
شعر کیے موزوں تو ایسے جن سے خوش ہیں صاحب دل
روویں کڑھیں جو یاد کریں اب ایسا تم کچھ میر کرو
میر تقی میر

ابر آیا زور غیرت تم بھی ٹک پیدا کرو

دیوان پنجم غزل 1712
صوفیاں خم وا ہوئے ہیں ہائے آنکھیں وا کرو
ابر آیا زور غیرت تم بھی ٹک پیدا کرو
مستی و دیوانگی کا عہد ہے بازار میں
پاے کوباں دست افشاں آن کر سودا کرو
ہر جگہ دلکش ہے اس کی برگ گل سے جسم میں
ایک جا تو جی لگائو دل کے تیں بے جا کرو
ہے تکلف ہے تعین اس قصب پوشی کی قید
خرقۂ صد چاک پہنو آپ کو رسوا کرو
گرچہ ہم پر بستہ طائر ہیں پر اے گل ہاے تر
کچھ ہمیں پروا نہیں ہے تم اگر پروا کرو
میر تقی میر

دیکھتے ہو تو دیکھو ہمارے جلتے توے سے سینے کو

دیوان پنجم غزل 1711
بات کہوں کیا چپکے چپکے دیکھو ہو آئینے کو
دیکھتے ہو تو دیکھو ہمارے جلتے توے سے سینے کو
کیا جانو تم قدر ہماری مہر و وفا کی لڑکے ہو
لوہو اپنا دیں ہیں تمھارے گرتے دیکھ پسینے کو
پھیر ایام نحس کا مجھ کو بہت کڈھب آتا ہے نظر
تم بھی غنیمت جانو میاں دس دن کے میرے جینے کو
وہ جو غیرت مہ ملتا ہے غیر سے ہم ہیں غیرت کش
سال ہمارے جی کا ہو گا ظاہر کوئی مہینے کو
لخت دل آنکھوں سے گرا سو ٹکڑا لعل کا تھا گویا
نصب کروں گا میر جگر پر خوش رنگ ایسے نگینے کو
میر تقی میر

مت کھائیو غم اپنا اپنا نہ لہو پیجو

دیوان پنجم غزل 1710
کہتے نہ تھے ہم تم سے دل ہاتھ سے مت دیجو
مت کھائیو غم اپنا اپنا نہ لہو پیجو
ان پلکوں کی کاوش سے زخمی ہے جگر سارا
لے تار نگاہوں کے نازک سا رفو کیجو
کیا جان لیے جس کے جاناں سے چھپاتا منھ
جینا تو کوئی دن ہے تم میر بہت جیجو
دل خستہ شکستہ دل دل بستہ گرفتہ دل
ہو ان میں کوئی اس کا دل ہاتھ میں ٹک لیجو
اس راہ سے کرتا ہے دل کسب ہوا گاہے
میرے پھٹے سینے کو زنہار نہ تم سیجو
میر تقی میر

لگ پڑتے ہیں ہم تم سے تو تم اوروں کو لگا دو ہو

دیوان پنجم غزل 1709
کیا کچھ ہم سے ضد ہے تم کو بات ہماری اڑا دو ہو
لگ پڑتے ہیں ہم تم سے تو تم اوروں کو لگا دو ہو
کیا روویں قدر و قیمت کو یہیں سے ہے معلوم ہمیں
کام ہمارا پاس تمھارے جو آتا ہے بہادو ہو
اتنی تو جا خالی رہی ہے بزم خوش میں تمھارے سوا
جن کو کہیں جاگہ نہیں ملتی پہلو میں ان کو جا دو ہو
زنگ تو جاوے دل سے ہمارے غیر سیہ روبدگو کے
کھینچ کے تو ایک ایسی لگائو تیغ ستم کی تا دو ہو
صحبت گرم ہماری تمھاری شمع پتنگے کی سی ہے
یعنی ہو دل سوز جو کوئی اس کو تم تو جلا دو ہو
رنگ صحبت کس کو دکھاویں خوبی اپنی قسمت کی
ساغر مے دشمن کو دو ہو ہم کو زہر منگا دو ہو
بند نہیں جو کرتے ہو تم سینے کے سوراخوں کو
جی کی رکن میں ان رخنوں سے شاید دل کو ہوا دو ہو
آنکھ جھپک جاتی نہیں تنہا آگے چہرئہ روشن کے
ماہ بھی بیٹھا جاتا ہے جب منھ سے نقاب اٹھا دو ہو
غیر سے غیریت ہے آساں لیکن تہ کچھ ہم کو نہیں
بات بتاویں کیا ہم تم کو تم ہم کو تو بنا دو ہو
میر حقارت سے ہم اپنی چپ رہ جاتے ہیں جان جلے
طول ہمارے گھٹنے کو دے کر جیسے چراغ بڑھا دو ہو
میر تقی میر

بس اب تو کھل گئیں ہیں آنکھیں دیکھا ہم نے دنیا کو

دیوان پنجم غزل 1708
کیا غیرت سے دل پر تنگ رنج و غم نے دنیا کو
بس اب تو کھل گئیں ہیں آنکھیں دیکھا ہم نے دنیا کو
رہا ہے ایک عالم اور دنیاداروں میں اس کا
کیا ہے بے وفا معلوم سب عالم نے دنیا کو
ہمیشہ رونا کڑھنا سینہ کوبی ہر زماں کرنا
عزاخانہ کیا دل کے مرے ماتم نے دنیا کو
سنا میں نے کہ آخر ہاتھ اٹھایا اس نے دنیا سے
اگر پایا بھی محنت کر کسو ہمدم نے دنیا کو
زمیں سے آسماں تک میر ہے شور جنوں میرا
تہ و بالا کیا دونوں میں اس اودھم نے دنیا کو
میر تقی میر

کہیں اپنے رونے سے فرصت ہے مجھ کو

دیوان پنجم غزل 1707
کیا فرض ہستی کی رخصت ہے مجھ کو
کہیں اپنے رونے سے فرصت ہے مجھ کو
پھروں ہوں ترے عشق میں کوچہ کوچہ
مگر کوچہ گردی سے الفت ہے مجھ کو
کہاں زندگی مدت العمر ظالم
ترے عشق میں دم غنیمت ہے مجھ کو
نہ کر شور ناصح بہت ناتواں ہوں
کہاں بات اٹھانے کی طاقت ہے مجھ کو
ہیں اسباب مرنے کے سب تیرے غم میں
جیا اب تلک کیونکے حیرت ہے مجھ کو
دل اتنا ہے آشفتہ خورشیدرو کا
کہ اپنے بھی سائے سے وحشت ہے مجھ کو
کڑھوں ہوں گا من مانتا میر صاحب
غم یار میں کیا فراغت ہے مجھ کو
میر تقی میر

چکر مارو جیسے بگولا خاک اڑاتے آتے رہو

دیوان پنجم غزل 1706
عاشق ہو تو اپنے تئیں دیوانہ سب میں جاتے رہو
چکر مارو جیسے بگولا خاک اڑاتے آتے رہو
دوستی جس کو لوگ کہیں ہیں جان سے اس کو خصومت ہے
ہوجاوے جو تم کو کسی سے تا مقدور چھپاتے رہو
دل لگنے کی چوٹ بری ہے اس صدمے سے خدا حافظ
بارے سعی و کشش کوشش سے جی کو اپنے بچاتے رہو
آئی بہار جنوں ہو مبارک عشق اللہ ہمارے لیے
نعل جڑے سینوں پہ پھرو تم داغ سروں پہ جلاتے رہو
شاعر ہو مت چپکے رہو اب چپ میں جانیں جاتی ہیں
بات کرو ابیات پڑھو کچھ بیتیں ہم کو بتاتے رہو
ابر سیہ قبلے سے آیا تم بھی شیخو پاس کرو
تخفیفے ٹک لٹ پٹے باندھو ساختہ ہی مدھ ماتے رہو
کیا جانے وہ مائل ہووے کب ملنے کا تم سے میر
قبلہ و کعبہ اس کی جانب اکثر آتے جاتے رہو
میر تقی میر

پاس تو ہے جس کے وے ہی کل کہیں گے دور ہو

دیوان پنجم غزل 1705
اپنے حسن رفتنی پر آج مت مغرور ہو
پاس تو ہے جس کے وے ہی کل کہیں گے دور ہو
دیکھ کر وہ راہ چلتا ہی نہیں ٹک ورنہ ہم
پائوں اس کے آنکھوں پر رکھ لیویں جو منظور ہو
شہر دل کی کیا خرابی کا بیاں باہم کریں
اس کو ویرانہ نہ کہیے جو کبھو معمور ہو
ہم بغل اس سنگ دل سے کاشکے اس دم ہوں جب
شیشۂ مے پاس ہووے اور وہ مخمور ہو
عشق دلکش ذبح ہے پر کھیل قدرت کا ہے میر
صرف کریے اس میں اپنا جس قدر مقدور ہو
میر تقی میر

میں خوش ہوں اسی شہر سے میخانہ جہاں ہو

دیوان پنجم غزل 1704
دل کھلتا ہے واں صحبت رندانہ جہاں ہو
میں خوش ہوں اسی شہر سے میخانہ جہاں ہو
ان بکھرے ہوئے بالوں سے خاطر ہے پریشاں
وے جمع ہوئے پر ہیں بلا شانہ جہاں ہو
رہنے سے مرے پاس کے بدنام ہوئے تم
اب جاکے رہو واں کہیں رسوا نہ جہاں ہو
کچھ حال کہیں اپنا نہیں بے خودی تجھ کو
غش آتا ہے لوگوں کو یہ افسانہ جہاں ہو
کیوں جلتا ہے ہر جمع میں مانند دیے کے
اس بزم میں جا شمع سا پروانہ جہاں ہو
ان اجڑی ہوئی بستیوں میں دل نہیں لگتا
ہے جی میں وہیں جا بسیں ویرانہ جہاں ہو
وحشت ہے خردمندوں کی صحبت سے مجھے میر
اب جا رہوں گا واں کوئی دیوانہ جہاں ہو
میر تقی میر

بے خود ہوجاتے ہیں ہم تو دیر بخود پھر آتے ہیں

دیوان پنجم غزل 1703
ملنے کے دن جب یاد آتے ہیں سدھ بدھ بھولے جاتے ہیں
بے خود ہوجاتے ہیں ہم تو دیر بخود پھر آتے ہیں
میر تقی میر

فاقہ مستی مدام کرتا ہوں

دیوان پنجم غزل 1702
مے کشی صبح و شام کرتا ہوں
فاقہ مستی مدام کرتا ہوں
کوئی ناکام یوں رہے کب تک
میں بھی اب ایک کام کرتا ہوں
یا تو لیتا ہوں داد دل یا اب
کام اپنا تمام کرتا ہوں
میر تقی میر

جینے کی اپنے ہم بھی کوئی طرح نکالیں

دیوان پنجم غزل 1701
تدبیر کوئی بتاوے جو آپ کو سنبھالیں
جینے کی اپنے ہم بھی کوئی طرح نکالیں
قالب میں جی نہیں ہے اس بن ہمارے گویا
حیران کار یارب ہم کیسا ڈول ڈالیں
محشر میں داد خوباں چاہیں تو کس سے چاہیں
واں لگ چلے ملک تو اس کو بھی یہ لگالیں
طالع نہ ذائقے کے اپنے کھلے کہ ہم بھی
ان شکریں لبوں کے ہونٹوں کا کچھ مزہ لیں
خوش چشم خوبرویاں دیدہ وراں ہیں کتنے
دزدیدہ دیکھنے میں دل دیکھتے چرا لیں
عشق و جنوں سے جی تو تنگ آگیا ہے کاش اب
دست تلطف اپنے سر سے مرے اٹھا لیں
خونریزی سے ہماری اچھا ہے ہاتھ اٹھانا
یوں چاہیے کہ دلبر درویش سے دعا لیں
چلتے ہیں ناز سے جب ٹھوکر لگے ہے دل کو
آتیں نہیں سمجھ میں ان دلبروں کی چالیں
منت ہزار کریے مانے منے نہ ہرگز
میر ایسے غصہ ور کو ہم کس طرح منا لیں
میر تقی میر

خون کسو کا کوئی کرے واں داد نہیں فریاد نہیں

دیوان پنجم غزل 1700
حاکم شہر حسن کے ظالم کیونکے ستم ایجاد نہیں
خون کسو کا کوئی کرے واں داد نہیں فریاد نہیں
یاری ہماری یک باری خاطر سے فراموش ان نے کی
ذکر ہمارا اس سے کیا سو کہنے لگا کچھ یاد نہیں
کیا کیا مردم خوش ظاہر ہیں عالم حسن میں نام خدا
عالم عشق خرابہ ہے واں کوئی گھر آباد نہیں
عشق کوئی ہمدرد کہیں مدت میں پیدا کرتا ہے
کوہ رہیں گو نالاں برسوں لیکن اب فرہاد نہیں
لڑنا کاواکی سے فلک کا پیش پا افتادہ ہے
میر طلسم غبار جو یہ ہے کچھ اس کی بنیاد نہیں
میر تقی میر

کیوں کے ہیں گے اس رستے میں ہم سے آہ گراں باراں

دیوان پنجم غزل 1699
منھ کیے اودھر زرد ہوئے جاتے ہیں ڈر سے سبک ساراں
کیوں کے ہیں گے اس رستے میں ہم سے آہ گراں باراں
جی تو پھٹا دیکھ آئینہ ہر لوح مزار کا جامہ نما
پھاڑ گریباں تنگ دلی سے ترک لباس کیا یاراں
کی ہے عمارت دل کی جنھوں نے ان کی بنا کچھ رکھی رہی
اور تو خانہ خراب ہی دیکھے اس بستی کے معماراں
میخانے میں اس عالم کے لغزش پر مستوں کی نہ جا
سکر میں اکثر دیکھے ہم نے بڑے بڑے یاں ہشیاراں
کیا ستھرائو شفاخانے میں عشق کے جاکر دیکھے ہیں
ایدھر اودھر سینکڑوں ہی برپشت بام تھے بیماراں
بعد صبوحی گھگھیاتے گھگھیاتے باچھیں پھٹ بھی گئیں
یارب ہو گی قبول کبھو بھی دعاے صبح گنہگاراں
عشق میں ہم سے تم سے کھپیں تو کھپ جاویں غم کس کو ہے
مارے گئے ہیں اس میداں میں کیا دل والے جگر داراں
میر تقی میر

عزلتی شہر کے بازار میں آ بیٹھے ہیں

دیوان پنجم غزل 1698
حسن کیا جنس ہے جی اس پہ لگا بیٹھے ہیں
عزلتی شہر کے بازار میں آ بیٹھے ہیں
ہم وے ہر چند کہ ہم خانہ ہیں دونوں لیکن
روش عاشق و معشوق جدا بیٹھے ہیں
ان ستم کشتوں کو ہے عشق کہ اٹھ کر یک بار
تیغ خوں خوار تلے یار کی جا بیٹھے ہیں
کیونکے یاں اس کا خیال آوے کہ آگے ہی ہم
دل سا گھر آتشیں آہوں سے جلا بیٹھے ہیں
پیش رو دست دعا ہے وہی شے خواہش ہے
اور سب چیز سے ہم ہاتھ اٹھا بیٹھے ہیں
ساری رات آنکھوں کے آگے ہی مری رہتا ہے
گوکہ وے چاند سے مکھڑے کو چھپا بیٹھے ہیں
باغ میں آئے ہیں پر اس گل تر بن یک سو
غنچہ پیشانی و دل تنگ و خفا بیٹھے ہیں
کیا کہوں آئے کھڑے گھر سے تو اک شوخی سے
پائوں کے نیچے مرے ہاتھ دبا بیٹھے ہیں
قافلہ قافلہ جاتے ہیں چلے کیا کیا لوگ
میر غفلت زدہ حیران سے کیا بیٹھے ہیں
میر تقی میر

رک کر پھوٹ بہیں جو آنکھیں رود کی سی دو دھاریں ہیں

دیوان پنجم غزل 1697
دل کی تہ کی کہی نہیں جاتی کہیے تو جی ماریں ہیں
رک کر پھوٹ بہیں جو آنکھیں رود کی سی دو دھاریں ہیں
حرف شناس نہ تھے جب تم تو بے پرسش تھا بوسۂ لب
ایک اک بات کی مشتاقوں سے سو سو اب تکراریں ہیں
عشق کے دیوانے کی سلاسل ہلتی ہے تو ڈریں ہیں ہم
بگڑے پیل مست کی سی زنجیروں کی جھنکاریں ہیں
وے بھوویں جیدھر ہوں خمیدہ اودھر کا ہے خدا حافظ
یعنی جوہردار جھکی خوں ریز کی دو تلواریں ہیں
وے وے جن لوگوں کو پھرتے آنکھوں ہم نے دیکھا تھا
حد نظر تک آج انھوں کی گرد شہر مزاریں ہیں
پیچ و تاب میں بل کھا کھاکر کوئی مرے یاں ان کو کیا
واں وے لیے مشاطہ کو یکسو بال ہی اپنے سنواریں ہیں
بڑے بڑے تھے گھر جن کے یاں آثار ان کے ہیں یہ اب
میر شکستہ دروازے ہیں گری پڑی دیواریں ہیں
میر تقی میر

گدائی رات کو کرتا ہوں خجلت سے فقیری میں

دیوان پنجم غزل 1696
طلب ہے کام دل کی اس کے بالوں کی اسیری میں
گدائی رات کو کرتا ہوں خجلت سے فقیری میں
نگہ عزلت میں اس ابرو کماں کی تھی ادھر یعنی
لگا تیر اس کا چھاتی میں ہماری گوشہ گیری میں
نظیر اس کی نظر آئی نہ سیاحان عالم کو
سیاحت دور تک کی ایک ہے وہ بے نظیری میں
حزیں آواز ہے مرغ چمن کی کیا جنوں آور
نہیں خوش زمزمہ ویسا ہماری ہم صفیری میں
جوانی میں نہ رسوائی ہوئی تا میر غم کھینچا
ہوئے اطفال تہ بازار گاہک جی کے پیری میں
میر تقی میر

کیا کچھ نہ ہم بھی دیکھ چکے ہجر یار میں

دیوان پنجم غزل 1695
آنکھیں سفید دل بھی جلا انتظار میں
کیا کچھ نہ ہم بھی دیکھ چکے ہجر یار میں
دنیا میں ایک دو نہیں کرتا کوئی مقام
جو ہے رواروی ہی میں ہے اس دیار میں
دیکھی تھیں ایک روز تری مست انکھڑیاں
انگڑائیاں ہی لیتے ہیں اب تک خمار میں
اخگر تھا دل نہ تھا مرا جس سے تہ زمیں
لگ لگ اٹھی ہے آگ کفن کو مزار میں
بے دم ہیں دام گاہ میں اک دم تو چل کے دیکھ
سنتے ہیں دم نہیں کسی تیرے شکار میں
محمل کے تیرے گرد ہیں محمل کئی ہزار
ناقہ ہے ایک لیلیٰ کا سو کس قطار میں
شور اب چمن میں میری غزل خوانی کا ہے میر
اک عندلیب کیا ہے کہوں میں ہزار میں
میر تقی میر

دل کو خیال صبر نہیں آنکھوں کو میل خواب نہیں

دیوان پنجم غزل 1694
عشق نے ہم کو مار رکھا ہے جی میں اپنے تاب نہیں
دل کو خیال صبر نہیں آنکھوں کو میل خواب نہیں
کوئی سبب ایسا ہو یارب جس سے عزت رہ جاوے
عالم میں اسباب کے ہیں پر پاس اپنے اسباب نہیں
قحط نہیں ہے دل کا اب من مارے تم کیوں پھرتے ہو
لینے والا چاہیے اس کا ایسا تو کمیاب نہیں
خط کا جواب نہ لکھنے کی کچھ وجہ نہ ظاہر ہم پہ ہوئی
دیر تلک قاصد سے پوچھا منھ میں اس کے جواب نہیں
رونا روز شمار کا مجھ کو آٹھ پہر اب رہتا ہے
یعنی میرے گناہوں کو کچھ حصر و حد وحساب نہیں
رنگ شکستہ دل ہے شکستہ سر ہے شکستہ مستی میں
حال کسو کا اپنا سا اس میخانے میں خراب نہیں
ٹھہریں میر کسو جاگہ ہم دل کو قرار جو ٹک آوے
ہوکے فقیر اس در پر بیٹھیں اس کے بھی ہم باب نہیں
میر تقی میر

جیسے چراغ آخری شب ہم لوگ نبڑتے جاتے ہیں

دیوان پنجم غزل 1693
دل جلتے کچھ بن نہیں آتی حال بگڑتے جاتے ہیں
جیسے چراغ آخری شب ہم لوگ نبڑتے جاتے ہیں
رنگ ثبات چمن کا اڑایا باد تند خزاں نے سب
برگ وبار و نورس گل کے غنچے جھڑتے جاتے ہیں
طینت میں ہے نیاز جنھوں کی مسجود ان کی سب ہے زمیں
خاک جو یہ پامال ہے اس سے سر کو رگڑتے جاتے ہیں
راہ عجب پیش آئی ہم کو یاں سے تنہا جانے کی
یار و ہمدم ہمراہی ہر گام بچھڑتے جاتے ہیں
ضعف دماغ سے افتاں خیزاں چلتے ہیں ہم راہ ہوس
دیکھیں کیا پیش آوے اب تو گرتے پڑتے جاتے ہیں
قد کو اپنے حشر خرام کے ایک نہیں لگ سکتا ہے
سرو روان باغ جہاں ہر چند اکڑتے جاتے ہیں
میر بلا ناساز طبیعت لڑکے ہیں خوش ظاہر بھی
ساتھ ہمارے راہ میں ہیں پھر ہم سے لڑتے جاتے ہیں
میر تقی میر

پر اس ستم سے بامزہ لطف و کرم نہیں

دیوان پنجم غزل 1692
ہر چند میرے حق میں کب اس کا ستم نہیں
پر اس ستم سے بامزہ لطف و کرم نہیں
درویش جو ہوئے تو گیا اعتبار سب
اب قابل اعتماد کے قول و قسم نہیں
حیرت میں سکتے سے بھی مرا حال ہے پرے
آئینہ رکھ کے سامنے دیکھا تو دم نہیں
مستغنی کس قدر ہیں فقیروں کے حال سے
یاں بار غم سے خم ہوئے واں بھوویں خم نہیں
شاید جگر کا کام تمامی کو کھنچ گیا
یا لوہو روتے رہتے تھے یا چشم نم نہیں
غم اس کا کچھ نہیں ہمیں گو لوگ کچھ کہیں
یہ التفات ان نے جو کی ہے سو کم نہیں
کہنے لگا کہ میر تمھیں بیچوں گا کہیں
تم دیکھیو نہ کہیو غلام اس کے ہم نہیں
میر تقی میر

اور گذارا کب تک ہو گا کچھ اب ہم رخصت سے ہیں

دیوان پنجم غزل 1691
صبر کیا ہے برسوں ہم نے رات سے بے طاقت سے ہیں
اور گذارا کب تک ہو گا کچھ اب ہم رخصت سے ہیں
رسم لطف نہیں ہے مطلق شہر خوش محبوباں میں
دیکھے کم جو کرتے کسو پر ہم عاشق مدت سے ہیں
عشق کے دین اور مذہب میں مرجانا واجب آیا ہے
کوہکن و مجنون موئے اب ہم بھی اسی ملت سے ہیں
ملنا نفروں سے ان کا چھوٹا آکر میری صحبت میں
پھر متنفر بھی یہ بے تہ مجھ سے کی صحبت سے ہیں
فرصت ان کو کم ہے اگرچہ پر ملتے ہیں قابو پر
برسوں میر سے مل دیکھا ہے کچھ وے کم فرصت سے ہیں
میر تقی میر

اس اوباش کی دیکھو شوخی سادگی سے ہم چاہیں ہیں

دیوان پنجم غزل 1690
پلکیں پھری ہیں کھنچی بھویں ہیں ترچھی تیکھی نگاہیں ہیں
اس اوباش کی دیکھو شوخی سادگی سے ہم چاہیں ہیں
کیا پہناوا خوش آتا ہے لڑکے چسپاں پوشوں کا
مونڈھے چسے ہیں چولی پھنسی ہے ٹیڑھی ٹیڑھی کلاہیں ہیں
ضبط گریہ دل سے ہو تو کوزے میں دریا کرتا ہے
حوصلہ داری جن کی ہو ایسی عشق میں ان کو سراہیں ہیں
جب سے جدا میں ان سے ہوا ہوں حال عجب ہے روز و شب
چشم تر سے ٹپکے ہیں آنسو خشک لبوں پر آہیں ہیں
دل ہے داغ جگر ہے ٹکڑے رہ جاتے ہیں چپکے سے
چھاتی سراہیے ان لوگوں کی جو چاہت کو نباہیں ہیں
دل الجھے ان بالوں میں تو آخر سودا ہوتا ہے
کوچے کو زنجیر کے یعنی زلفوں سے دو راہیں ہیں
یہ بھی سماں خوش ترکیبوں کا میر نہ اپنے دل سے گیا
سوتے سے اٹھ کر آنکھیں ملے ہیں لے انگڑائی جماہیں ہیں
میر تقی میر

اہل اس گھر پہ جان دیتے ہیں

دیوان پنجم غزل 1689
کس کو دل سا مکان دیتے ہیں
اہل اس گھر پہ جان دیتے ہیں
کیونکے خوش خواں نہ ہوویں اہل چمن
ہم انھوں کو زبان دیتے ہیں
نوخطاں پھیر لیں ہیں منھ یعنی
ملتے رخصت کے پان دیتے ہیں
جان کیا گوہر گرامی ہے
بدلے اس کے جہان دیتے ہیں
ہندو بچوں سے کیا معیشت ہو
یہ کبھو انگ دان دیتے ہیں
یہ عجب گم ہوئے ہیں جس کے لیے
نہیں اس کا نشان دیتے ہیں
گل خوباں میں میر مہر نہیں
ہم کو غیروں میں سان دیتے ہیں
میر تقی میر

رہتی ہے خلش نالوں سے میرے دل شب میں

دیوان پنجم غزل 1688
فریاد سے کیا لوگ ہیں دن ہی کو عجب میں
رہتی ہے خلش نالوں سے میرے دل شب میں
حسرت کی جگہ ہے نہ کہ سبزان گل اندام
جاتے ہیں چلے آگے سے آتے نہیں ڈھب میں
افتادگی پر بھی نہ چھوا دامن انھوں کا
کوتاہی نہ کی دلبروں کے ہم نے ادب میں
کر خوف کَلک خَسپ کی جو سرخ ہیں آنکھیں
جلتے ہیں تر و خشک بھی مسکیں کے غضب میں
پایا نہ کنھوں نے اسے کوشش کی بہت میر
سب سالک و مجذوب گئے اس کی طلب میں
میر تقی میر

طرف گلزار کی آیا چلا میں

دیوان پنجم غزل 1687
غم ہجراں میں گھبرا کر اٹھا میں
طرف گلزار کی آیا چلا میں
شگفتہ خاطری اس بن کہاں تھی
چمن میں غنچہ پیشانی رہا میں
کسو سے دل نہیں ملتا ہے یارب
ہوا تھا کس گھڑی ان سے جدا میں
تعارف ہم صفیروں سے نہیں کچھ
ہوا ہوں ایک مدت میں رہا میں
کیا صبر آخر آزار دلی پر
بہت کرتا رہا دارو دوا میں
نہ عنقا کا کہیں نام و نشاں تھا
ہوا تھا شہرہ جب نام خدا میں
ہوا تھا میر مشکل عشق میں کام
کیا پتھر جگر تب کی دوا میں
میر تقی میر