زمرہ جات کے محفوظات: غزل

گھر بگاڑیں گے ہزاروں کے، سنورنے والے

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 43
ایک تو حسن بلا اس پہ بناوٹ آفت
گھر بگاڑیں گے ہزاروں کے، سنورنے والے
حشر میں لطف ہو جب ان سے ہوں دو باتیں
وہ کہیں کون ہو تم، ہم کہیں مرنے والے
غسل میت کو شہیدوں کو ترے کیا حاجت
بے نہائے بھی نکھرتے ہیں نکھرنے والے
حضرتِ داغ جہاں بیٹھ گئے، بیٹھ گئے
اور ہوں گے تری محفل سے ابھرنے والے
داغ دہلوی

ضبط آنکھوں کی مرّوت ہو گئی

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 42
حسن کی تم پر حکومت ہو گئی
ضبط آنکھوں کی مرّوت ہو گئی
یہ نہ پوچھو کیوں یہ حالت ہو گئی
خود بدولت کی بدولت ہو گئی
لے گئے آنکھوں ہی آنکھوں میں وہ دل
ہوشیاری اپنی غفلت ہو گئی
وہ جو تجھ سے دوستی کرنے لگا
مجھ کو دشمن سےمحبت ہو گئی
اس قدر بھی سادگی اچھی نہیں
عاشقوں کی پاک نیت ہو گئی
مان کر دل کا کہا پچھتائے ہم
عمر بھر کو اب نصیحت ہو گئی
کیا عجب ہے گر ترا ثانی نہیں
اچھی صورت ایک صورت ہو گئی
غیر بھی روتے ہیں تیرے عشق میں
کیا مری قسمت کی قسمت ہو گئی
اس کی مژگاں پر ہوا قربان دل
تیر تکّوں پر قناعت ہو گئی
جب ریاست اپنی آبائی مٹی
نوکری کی ہم کو حاجت ہو گئی
شاعروں کی بھی طبیعت ہے ولی
جو نئی سوجھی کرامت ہو گئی
تیری زلفوں کا اثر تجھ پر نہیں
دیکھتے ہی مجھ کو وحشت ہو گئی
کھیل سمجھے تھے لڑکپن کو تیرے
بیٹھتے اٹھتے قیامت ہو گئی
مفت پیتے ہیں وہ ہر قسم کی
جن کو مے خانے کی خدمت ہو گئی
میرے دل سے غم ترا کیوں‌دور ہو
پاس رہنے کی محبت ہو گئی
کہتے ہیں کب تک کوئی گھبرا نہ جائے
دل میں رہتے رہتے مدت ہو گئی
نقشہ بگڑا رہتے رہتے غصّہ ناک
کٹ کھنی قاتل کی صورت ہو گئی
داغ کا دم ہے غنیمت بزم میں
دو گھڑی کو گرم محبت ہو گئی
داغ دہلوی

باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 41
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی
نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں
کیا کہا؟، پھر تو کہو، “ہم نہیں سنتے تیری“
نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہے
تجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں
دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہوا
کون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں
ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں
جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں
زیست سے تنگ ہو اے داغ تو کیوں جیتے ہو؟
جان پیاری بھی نہیں، جان سے جاتے بھی نہیں
داغ دہلوی

وہ کون سی زمیں ہے جہاں آسماں نہیں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 40
دنیا میں آدمی کو مصیبت کہاں‌ نہیں
وہ کون سی زمیں ہے جہاں آسماں نہیں
کس طرح جان دینے کے اقرار سے پھروں
میری زبان ہے یہ تمہاری زباں نہیں
اے موت تو نے دیر لگائی ہے کس لیئے
عاشق کا امتحان ہے تیرا امتحان نہیں
تنہا بھی جب رہے تو وہ رہتے ہیں‌ہوشیار
خود اپنے پاسباں‌ ہیں اگر پاسباں نہیں
ایسا خط اُن کو راہ میں‌ ملتا ہے روز ایک
جس میں‌کسی کا نام کسی کا نشاں نہیں
داغ دہلوی

کسی سے آج بگڑی ہے کہ وہ یوں بَن کے بیٹھے ہیں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 39
بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے، تَن کے بیٹھے ہیں
کسی سے آج بگڑی ہے کہ وہ یوں بَن کے بیٹھے ہیں
دلوں‌ پر سیکڑوں سّکے ترے جوبن کے بیٹھے ہیں
کلیجوں پر ہزاروں تیر اس چتون کے بیٹھے ہیں
الٰہی کیوں نہیں‌ اُٹھتی قیامت ماجرا کیا ہے
ہمارے سامنے پہلو میں‌ وہ دُشمن کے بیٹھے ہیں
یہ گستاخی یہ چھیڑ اچھی نہیں‌ ہے اے دلِ ناداں
ابھی پھر سے روٹھ جائیں‌ گے ابھی وہ مَن کے بیٹھے ہیں
اثر ہے جذب الفت میں تو کھنچ کر آ ہی جائیں گے
ہمیں‌ پرواہ نہیں ہم سے اگر وہ تَن کے بیٹھے ہیں
سبک ہو جائیں گے گر جائیں‌گے وہ بزمِ دشمن میں
کہ جب تک گھر میں بیٹھے ہیں تو لاکھوں مَن کے بیٹھے ہیں
فسوں ہے یا دعا ہے یہ معّما کھُل نہیں سکتا
وہ کچھ پڑھتے ہوئے، آگے میرے مدفن کے بیٹھے ہیں
بہت رویا ہوں میں‌جب سے یہ میں‌ نے خواب دیکھا ہے
کہ آپ آنسو بہائے سامنے دُشمن کے بیٹھے ہیں
یہ اُٹھنا بیٹھنا محفل میں اُن کا رنگ لائے گا
قیامت بن کے اُٹھیں گے بھبوکا بن کے بیٹھے ہیں
کسی کی شامت آئیگی کسی کی جان جائیگی
کسی کی تاک میں وہ بام پر بن ٹھن کے بیٹھے ہیں
قسم دے کر اُنہیں سے پوچھ لو تم رنگ ڈھنگ اُس کے
تمہاری بزم میں‌ کچھ دوست بھی دُشمن کے بیٹھے ہیں
داغ دہلوی

ہم بھی دیکھیں تو اسے دیکھ کے کیا کہتے ہیں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 38
بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں
ہم بھی دیکھیں تو اسے دیکھ کے کیا کہتے ہیں
ہم تصور میں بھی جو بات ذرا کہتے ہیں
سب میں اڑ جاتی ہے ظالم اسے کیا کہتے ہیں
جو بھلے ہیں وہ بروں کو بھی بھلا کہتے ہیں
نہ برا سنتے ہیں اچھے نہ برا کہتے ہیں
وقت ملنے کا جو پوچھا تو کہا کہہ دیں گے
غیر کا حال جو پوچھا تو کہا کہتے ہیں
نہیں ملتا کسی مضمون سے ہمارا مضمون
طرز اپنی ہے جدا سب سے جدا کہتے ہیں
پہلے تو داغ کی تعریف ہوا کرتی تھی
اب خدا جانے وہ کیوں اس کو برا کہتے ہیں
داغ دہلوی

نہیں‌معلوم وہ کیا کرتے ہیں‌ کیا ہوتے ہیں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 37
ہائے دو دل جو کبھی مل کے جدا ہوتے ہیں
نہیں‌معلوم وہ کیا کرتے ہیں‌ کیا ہوتے ہیں
جی میں آئے تو کبھی فاتحہ دلوا دینا
آخری وقت ہے ہم تم سے جدا ہوتے ہیں
دیکھیں مسجد ہو کہ مے خانہ ہو پہلے آباد
دونوں دیوار بہ دیوار بنا ہوتے ہیں
دوست دشمن ہیں سبھی بزم میں‌ دیکھیں کیا ہو
کس سے خوش ہوتے ہیں وہ کس سے خفا ہوتے ہیں
پار ہوتی ہیں‌کلیجے سے نگاہیں اُن کی
قدر انداز کے کب تیر خطا ہوتے ہیں
داغ دہلوی

کر چکیں میرے دل میں گھر آنکھیں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 36
کیوں چراتے ہو دیکھ کر آنکھیں
کر چکیں میرے دل میں گھر آنکھیں
چشمِ نرگس کو دیکھ لیں پھر ہم
تم دکھا دو جو اک نظر آنکھیں
ہے دوا انکی آتشِ رخسار
سینکتے ہیں اس آگ پر آنکھیں
کوئی آسان ہے تیرا دیدار
پہلے بنوائے تو بشر آنکھیں
جلوۂ یار کی نہ تاب ہوئی
ٹوٹ آئیں ہیں کس قدر آنکھیں
دل کو تو گھوَنٹ گھوَنٹ کر رکھا
مانتی ہی نہیں مگر آنکھیں
نہ گئی تاک جھانک کی عادت
لئے پھرتی ہیں در بہ در آنکھیں
ناوک و نیشتر تری پلکیں
سحرِ پرداز و فتنہ گر آنکھیں
یہ نرالا ہے شرم کا انداز
بات کرتے ہو ڈھانک کر آنکھیں
خاک پر کیوں ہو نقشِ پا تیرا
ہم بچھائیں زمین پر آنکھیں
نوحہ گر کون ہے مقدر میں
رونے والوں میں ہیں مگر آنکھیں
یہی رونا ہے گر شبِ غم کا
پھوٹ جائیں گی تا سحر آنکھیں
حالَ دل دیکھنا نہیں آتا
دل کی بنوائیں چارہ گر آنکھیں
داغ آنکھیں نکالتے ہیں وہ
انکو دیدو نکال کر آنکھیں
داغ دہلوی

ناز والے نیاز کیا جانیں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 35
ساز، یہ کینہ ساز کیا جانیں
ناز والے نیاز کیا جانیں
کب کسی در کی جُبّہ سائی کی
شیخ صاحب نماز کیا جانیں
جو رہِ عشق میں قدم رکھیں
وہ نشیب و فراز کیا جانیں
پوچھئے مے کشوں سے لطفِ شراب
یہ مزہ پاک باز کیا جانیں
حضرتِ خضر جب شہید نہ ہوں
لطفِ عمرِ دراز کیا جانیں
جو گزرتے ہیں داغ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیا جانیں
داغ دہلوی

مر گئے لاکھوں اسی ارمان میں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 34
حضرت دل آپ ہیں جس دھیان میں
مر گئے لاکھوں اسی ارمان میں
گر فرشتہ وش ہوا کوئی تو کیا
آدمیت چاہئے انسان میں
جس نے دل کھویا اسی کو کچھ ملا
فائدہ دیکھا اسی نقصان میں
کسی نے ملنے کا کیا وعدہ کہ داغ
آج ہو تم اور ہی سامان میں
داغ دہلوی

جو نہ ملتے تھے سب ملیں گے آپ

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 33
مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپ
جو نہ ملتے تھے سب ملیں گے آپ
آپ کیوں‌خاک میں‌ملاتے ہیں
ہم مصیبت طلب ملیں گے آپ
کارواں کی تلاش کیا اے دل
آ کے منزل پہ سب ملیں گے آپ
ایک تو وعدہ اور اُس پہ قسم
یہ یقیں ہے کہ اب ملیں گے آپ
داغ اک آدمی ہے گرما گرم
خوش بہت ہوں گے جب ملیں گے آپ
داغ دہلوی

پروانے دیکھتے ہیں تماشائے باغِ داغ

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 32
مانندِ گل ہیں‌ میرے جگر میں‌ چراغِ داغ
پروانے دیکھتے ہیں تماشائے باغِ داغ
مرگِ عدو سے آپ کے دل میں چھپُا نہ ہو
میرے جگر میں اب نہیں ملتا سراغِ داغ
دل میں قمر کے جب سے ملی ہے اسے جگہ
اس دن سے ہو گیا ہے فلک پر دماغِ داغ
تاریکیِ لحد سے نہیں دل جلے کو خوف
روشن رہے گا تا بہ قیامت چراغِ داغ
مولا نے اپنے فضل و کرم سے بچا لیا
رہتا وگرنہ ایک زمانے کو داغِ داغ
داغ دہلوی

گر نہ تھی دل میں تو لب پر تیرے آئی کیوں کر

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 31
تو نے کی غیر سے کل میری بُرائی کیوں کر
گر نہ تھی دل میں تو لب پر تیرے آئی کیوں کر
نہ کہوں گا نہ کہوں گا نہ کہوں گا ہر گز
جا کے اُس بزم میں شامت میری آئی کیوں ‌کر
کھُل گئی بات جب اُن کی تو وہ یہ پوچھتے ہیں
منہ سے نکلی ہوئی ہوتی ہےَپرائی کیوں کر
داد خواہوں سے وہ کہتے ہیں‌کہو ہم بھی تو سنیں
دو گے تم حشر میں سب مل کے دُہائی کیوں کر
وہ یہاں آئیں وہاں‌غیر کا گھر ہو برباد
اس طرح سے ہو صفائی میں‌صفائی کیوں کر
آئینہ دیکھ کے وہ کہنے لگے آپ ہی آپ
ایسے اچھے کی کرے کوئی بُرائی کیوں کر
اُس نے صدقے میں‌کیئے آج ہزاروں آزاد
دیکھئے ہوتی ہے عاشق کی رہائی کیوں کر
داغ کو مہر کہا اشک کو دریا تم نے
اور پھر کرتے ہیں چھوٹوں‌ کی برائی کیوں کر
داغ کل تک تو دعا آپ کی مقبول نہ تھی
آج منہ مانگی مراد آپ نے پائی کیوں‌ کر
داغ دہلوی

دنیا میں مخمس کا ہمارے نہ کھلا بند

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 30
دل میں ہے غم و رنج و الم، حرص و ہوا بند
دنیا میں مخمس کا ہمارے نہ کھلا بند
موقوف نہیں دام و قفس پر ہی اسیری
ہر غم میں گرفتار ہوں ہر فکر میں پابند
اے حضرت دل !جائیے، میرا بھی خدا ہے
بے آپ کے رہنے کا نہیں کام مرا بند
دم رکتے ہی سینہ سے نکل پڑتے ہیں آنسو
بارش کی علامت ہے جو ہوتی ہے ہوا بند
کہتے تھے ہم ۔ اے داغ وہ کوچہ ہے خطرناک
چھپ چھپ کے مگر آپ کا جانا نہ ہوا بند
داغ دہلوی

جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 29
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
دل لے کے مفت کہتے ہیں کہ کام کا نہیں
اُلٹی شکایتیں ہوئیں، احسان تو گیا
دیکھا ہے بُت کدے میں جو اے شیخ، کچھ نہ پوچھ
ایمان کی تو یہ ہے کہ ایمان تو گیا
افشائے رازِ عشق میں گو ذلتیں ہوئیں
لیکن اُسے جتا تو دیا، جان تو گیا
گو نامہ بر سے خوش نہ ہوا، پر ہزار شکر
مجھ کو وہ میرے نام سے پہچان تو گیا
بزمِ عدو میں صورت پروانہ دل میرا
گو رشک سے جلا تیرے قربان تو گیا
ہوش و ہواس و تاب و تواں داغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
داغ دہلوی

اس بت کو دیکھتے ہی بس ایمان پھر گیا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 28
کعبے کی سمت جا کے مرا دھیان پھر گیا
اس بت کو دیکھتے ہی بس ایمان پھر گیا
محشر میں داد خواہ جو اے دل نہ تو ہوا
تو جان لے یہ باتھ سے میرا پھر گیا
چھپ کر کہاں گئے تھے وہ شب کو کہ میرے گھر
سو بار آ کے ان کا نگہبان پھر گیا
رونق جو آ گئی پسینے سے موت کے
پانی ترے مریض پر اک آن پھر گیا
گریے نے ایک دم میں بنا دی وہ گھر کی شکل
میری نظر میں صاف بیابان پھر گیا
لائے تھے کوئے یار سے ہم داغ کو ابھی
لو اس کی موت آئی وہ نادان پھر گیا
داغ دہلوی

وہ ہاتھ مل کے کہتے ہیں کیا یار مر گیا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 27
کس نے کہا کہ داغ وفا دار مر گیا
وہ ہاتھ مل کے کہتے ہیں کیا یار مر گیا
دام بلائے عشق کی وہ کشمکش رہی
ایک اک پھڑک پھڑک کے گرفتار مر گیا
آنکھیں کھلی ہوئی پس مرگ اس لئے
جانے کوئی کہ طالب دیدار مر گیا
جس سے کیا ہے آپ نے اقرار جی گیا
جس نے سنا ہے آپ سے انکار مر گیا
کس بیکسی سے داغ نے افسوس جان دی
پڑھ کر ترے فراق کے اشعار مر گیا
داغ دہلوی

تجھ پر آتا ہے مجھے پیار یہ کیا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 26
تو ہے مشہور دل آزار یہ کیا
تجھ پر آتا ہے مجھے پیار یہ کیا
جانتا ہوں کہ میری جان ہے تو
اور میں جان سے بیزار یہ کیا
پاؤں‌ پر اُنکے گِرا میں‌ تو کہا
دیکھ ہُشیار خبردار یہ کیا
تیری آنکھیں تو بہت اچھی ہیں
سب انہیں کہتے ہیں بیمار یہ کیا
کیوں مرے قتل سے انکار یہ کیوں
اسقدر ہے تمہیں دشوار یہ کیا
سر اُڑاتے ہیں وہ تلواروں سے
کوئی کہتا نہیں سرکار یہ کیا
ہاتھ آتی ہے متاعِ الفت
ہاتھ ملتے ہیں خریدار یہ کیا
خوبیاں کل تو بیاں ہوتی تھیں
آج ہے شکوۂ اغیار یہ کیا
وحشتِ دل کے سوا اُلفت میں
اور ہیں سینکڑوں آزار یہ کیا
ضعف رخصت نہیں دیتا افسوس
سامنے ہے درِ دلدار یہ کیا
باتیں سنیے تو پھڑک جائیے گا
گرم ہیں‌ داغ کے اشعار یہ کیا
داغ دہلوی

تمام رات قیامت کا انتظار کیا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 25
غضب کیا تیرے وعدے کا اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا
مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا
وہ دل کو تاب کہاں ہے کہ ہو مال اندیش
انہوں نے وعدہ کیا اس نے اعتبار کیا
نہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہو جاتا
صبا نے خاک پریشاں مرا غبار کیا
تری نگاہ کے تصور میں ہم نے اے قاتل
لگا لگا کے گلے سے چھری کو پیار کیا
ہوا ہے کوئی مگر اس کا چاہنے والا
کہ آسماں نے ترا شیوہ اختیار کیا
نہ پوچھ دل کی حقیقت مگر یہ کہتے ہیں
وہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیا
وہ بات کر جو کبھی آسماں سے ہو نہ سکے
ستم کیا تو بڑا تو نے افتخار کیا
داغ دہلوی

بو سے لینے کے لئے کعبے میں پتھر رکھ دیا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 24
آئینہ تصویر کا تیرے نہ لے کر رکھ دیا
بو سے لینے کے لئے کعبے میں پتھر رکھ دیا
ہم نے ان کے سامنے اول تو خنجر رکھ دیا
پھر کلیجا رکھ دیا دل رکھ دیا سر رکھ دیا
زندگی میں پاس سے دم بھر نہ ہوتے تھے جدا
قبر میں تنہا مجھے یاروں نے کیونکر رکھ دیا
دیکھئے اب ٹھوکریں کھاتی ہے کس کس کی نگاہ
روزن دیوار میں ظالم نے پتھر رکھ دیا
زلف خالی ہاتھ خالی کس جگہ ڈھونڈیں اسے
تم نے دل لے کر کہاں اے بندہ پرور رکھ دیا
داغ کی شامت جو آئی اضطراب شوق میں
حال دل کمبخت نے سب ان کے منہ پر رکھ دیا
داغ دہلوی

وعدہ ایسا کوئی جانے کہ مقرر آیا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 23
خواب میں بھی نہ کسی شب وہ ستم گر آیا
وعدہ ایسا کوئی جانے کہ مقرر آیا
مجھ سے مے کش کو کہاں صبر، کہاں کی توبہ
لے لیا دوڑ کے جب سامنے ساغر آیا
غیر کے روپ میں بھیجا ہے جلانے کو مرے
نامہ بر ان کا نیا بھیس بدل کر آیا
سخت جانی سے مری جان بچے گی کب تک
ایک جب کُند ہوا دوسرا خنجر آیا
داغ تھا درد تھا غم تھا کہ الم تھا کچھ تھا
لے لیا عشق میں جو ہم کو میسر آیا
عشق تاثیر ہی کرتا ہے کہ اس کافر نے
جب مرا حال سنا سنتے ہی جی بھر آیا
اس قدر شاد ہوں گویا کہ ملی ہفت اقلیم
آئینہ ہاتھ میں آیا کہ سکندر آیا
وصل میں ہائے وہ اترا کے مرا بول اٹھنا
اے فلک دیکھ تو یہ کون مرے گھر آیا
راہ میں وعدہ کریں جاؤں میں گھر پر تو کہیں
کون ہے، کس نے بلایا اسے، کیونکر آیا
داغ کے نام سے نفرت ہے، وہ جل جاتے ہیں
ذکر کم بخت کا آنے کو تو اکثر آیا
داغ دہلوی

پھر بھی یہ کہوں جلوہ جاناں نہیں دیکھا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 22
کیا ذوق ہے کہ شوق ہے سو مرتبہ دیکھوں
پھر بھی یہ کہوں جلوہ جاناں نہیں دیکھا
محشر میں وہ نادم ہوں خدا یہ نہ دکھائے
آنکھوں نے کبھی اس کو پشیماں نہیں دیکھا
ہر چند ترے ظلم کی کچھ حد نہیں ظالم
پر ہم نے کسی شخص کو نالاں نہیں دیکھا
ملتا نہیں ہم کو دل گم گشتہ ہمارا
تو نے تو کہیں اے غم جاناں نہیں دیکھا
لو اور سنو کہتے ہیں وہ دیکھ کے مجھ کو
جو حال سنا تھا وہ پریشان نہیں دیکھا
کیا پوچھتے ہو کون ہے یہ کسی کی ہے شہرت
کیا تم نے کبھی داغ کا دیوان نہیں دیکھا
داغ دہلوی

برائی دیکھی، بھلائی دیکھی، عذاب دیکھا، ثواب دیکھا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 21
ہماری آنکھوں نے بھی تماشا عجب عجب انتخاب دیکھا
برائی دیکھی، بھلائی دیکھی، عذاب دیکھا، ثواب دیکھا
نہ دل ہی ٹھہرا، نہ آنکھ جھپکی، نہ چین پایا، نہ خواب آیا
خدا دکھائے نہ دشمنوں کو، جو دوستی میں عذاب دیکھا
نظر میں ہے تیری کبریائی، سما گئی تیری خود نمائی
اگر چہ دیکھی بہت خدائی، مگر نہ تیرا جواب دیکھا
پڑے ہوئے تھے ہزاروں پردے کلیم دیکھوں تو جب بھی خوش تھے
ہم اس کی آنکھوں کے صدقے جس نے وہ جلوہ یوں بے حجاب دیکھا
یہ دل تو اے عشق گھر ہے تیرا، جس کو تو نے بگاڑ ڈالا
مکاں سے تالا دیکھا، تجھی کو خانہ خراب دیکھا
جو تجھ کو پایا تو کچھ نہ پایا، یہ خاکداں ہم نے خاک پایا
جو تجھ کو دیکھا تو کچھ نہ دیکھا، تمام عالم خراب دیکھا
داغ دہلوی

نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 20
تمھارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے، یہ کام کس کا تھا
وفا کریں گے، نباہیں گے، بات مانیں گے
تمھیں بھی یاد ہے کچھ، یہ کلام کس کا تھا
رہا نہ دل میں وہ بےدرد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے، مقام کس کا تھا
نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت
تمھاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا
تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق
کہو، وہ تذکرۂ نا تمام کس کا تھا
گزر گیا وہ زمانہ، کہوں تو کس سے کہوں
خیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا
ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغ بے وفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا
داغ دہلوی

دل ملا کر مجھی سے ملنا تھا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 19
تم کو کیا ہر کسی سے ملنا تھا
دل ملا کر مجھی سے ملنا تھا
پوچھتے کیا ہو کیوں لگائی دیر
اک نئے آدمی سے ملنا تھا
مل کے غیروں سے بزم میں یہ کہا
مجھ کو آ کر سبھی سے ملنا تھا
عید کو بھی خفا خفا ہی رہے
آج کے دن خوشی سے ملنا تھا
آپ کا مجھ سے جی نہیں‌ملتا
اس محبت پہ جی سے ملنا تھا
تم تو اُکھڑے رہے تمہیں اے داغ
ہر طرح مدّعی سے ملنا تھا
داغ دہلوی

یاں تلک روئے کہ سر دکھنے لگا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 18
دل کے نالوں سے جگر دکھنے لگا
یاں تلک روئے کہ سر دکھنے لگا
دور تھی از بسکہ راہِ انتظار
تھک کے ہر پائے نظر دکھنے لگا
روتے روتے چشم کا ہر گوشہ یاں
تجھ بن اے نور بصر دکھنے لگا
درد یہ ہے ہاتھ اگر رکھا ادھر
واں سے تب سرکا ادہار دکھنے لگا
مت کراہ انشا نہ کر افشائے راز
دل کو دکھنے دے اگر دکھنے لگا
داغ دہلوی

یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانہ دل کا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 17
اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانہ دل کا
تم بھی چوم لو، بے ساختہ پیار آ جائے
میں سناؤں جو کبھی دل سے فسانہ دل کا
ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہ
ہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا
پوری مہندی بھی لگانی نہیں آئی اب تک
کیوں کر آیا تجھے غیروں سے لگانا دل کا
حور کی شکل ہو تم، نور کے پتلے ہو تم
اور اس پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا
بعد مدت کے یہ اے داغ سمجھ میں آیا
وہی دانا ہے، کہا جس نے نہ مانا دل کا
داغ دہلوی

اب آ چکا ہے لبوں پر معاملہ دل کا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 16
زباں ہلاؤ تو ہو جائے فیصلہ دل کا
اب آ چکا ہے لبوں پر معاملہ دل کا
خدا کے واسطے کر لو معاملہ دل کا
کہ گھر کے گھر ہی میں ہو جائے فیصلہ دل کا
تم اپنے ساتھ ہی تصویر اپنی لے جاؤ
نکال لیں گے کوئی اور مشغلہ دل کا
قصور تیری نگہ کا ہے کیا خطا اس کی
لگاوٹوں نے بڑھا یا ہے حوصلہ دل کا
شباب آتے ہی اسے کاش موت بھی آتی
ابھارتا ہے اسی سن میں ولولہ دل کا
جو منصفی ہے جہاں میں تو منصفی تیری
اگر معاملہ ہے تو معاملہ دل کا
ملی بھی ہے کبھی عاشقی کی داد دنیا میں
ہوا بھی ہے کبھی کم بخت فیصلہ دل کا
ہماری آنکھ میں بھی اشک گرم ایسے ہیں
کہ جن کے آگے بھرے پانی آبلہ دل کا
ہوا نہ اس سے کوئی اور کانوں کان خبر
الگ الگ ہی رہا سب معاملہ دل کا
اگر چہ جان پہ بن بن گئی محبت میں
کسی کے منہ پر نہ رکھا غلہ دل کا
ازل سے تا بہ ابد عشق ہے اس کے لئے
ترے مٹائے مٹے گا نہ سلسلہ دل کا
کچھ اور بھی تجھے اے داغ بات آتی ہے
وہی بتوں کی شکایت وہی گلہ دل کا
داغ دہلوی

کہتا ہوں برا ہو عاشقی کا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 15
بنتی ہے بری کبھی جو دل پر
کہتا ہوں برا ہو عاشقی کا
ماتم سے مرے وہ دل میں خوش ہیں
منہ پر نہیں نام بھی ہنسی کا
اتنا ہی تو بس کسر ہے تم میں
کہنا نہیں مانتے کسی کا
ہم بزم میں ان کی چپکے بیٹھے
منہ دیکھتے ہیں ہر آدمی کا
جو دم ہے وہ ہے بسا غنیمت
سارا سودا ہے جیتے جی کا
آغاز کو کون پوچھتا ہے
انجام اچھا ہو آدمی کا
روکیں انہیں کیا کہ ہے غنیمت
آنا جانا کبھی کبھی کا
ایسے سے جو داغ نے نباہی
سچ ہے کہ یہ کام تھا اسی کا
داغ دہلوی

یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 14
اب دل ہے مقام بے کسی کا
یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا
کس کس کو مزا ہے عاشقی کا
تم نام تو لو بھلا کسی کا
پھر دیکھتے ہیں عیش آدمی کا
بنتا جو فلک میر خوشی کا
گلشن میں ترے لبوں نے گویا
رس چوم لیا کلی کلی کا
لیتے نہیں بزم میں مرا نام
کہتے ہیں خیال ہے کسی کا
جیتے ہیں کسی کی آس پر ہم
احسان ہے ایسی زندگی کا
بنتی ہے بری کبھی جو دل پر
کہتا ہوں برا ہو عاشقی کا
ماتم سے مرے وہ دل میں خوش ہیں
منہ پر نہیں نام بھی ہنسی کا
اتنا ہی تو بس کسر ہے تم میں
کہنا نہیں مانتے کسی کا
ہم بزم میں ان کی چپکے بیٹھے
منہ دیکھتے ہیں ہر آدمی کا
جو دم ہے وہ ہے بسا غنیمت
سارا سودا ہے جیتے جی کا
آغاز کو کون پوچھتا ہے
انجام اچھا ہو آدمی کا
روکیں انہیں کیا کہ ہے غنیمت
آنا جانا کبھی کبھی کا
ایسے سے جو داگ نے نباہی
سچ ہے کہ یہ کام تھا اسی کا
داغ دہلوی

اڑا نہ لے کوئی انداز مسکرانے کا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 13
سبب کھلا یہ ہمیں اُن کے منہ چھپانے کا
اڑا نہ لے کوئی انداز مسکرانے کا
طریق خوب ہے یہ عمر کے بڑھانے کا
کہ منتظر رہوں‌ تا حشر اُن کے آنے کا
چڑھاؤ پھول میری قبر پر جو آئے ہو
کہ اب زمانہ گیا تیوری چڑھانے کا
جفائیں کرتے ہیں تھم تھم کے اس خیال سے وہ
گیا تو پھر یہ نہیں میرے ہاتھ آنے کا
سمائیں اپنی نگاہوں میں ایسے ویسے کیا
رقیب ہی سہی ہو آدمی ٹھکانے کا
تمہیں رقیب نے بھیجا کھلا ہوا پرچہ
نہ تھا نصیب لفافہ بھی آدھ آنے کا
داغ دہلوی

گستاخیوں کرے لب خاموش نقش پا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 12
دیکھو جو مسکراکے تم آغوش نقش پا
گستاخیوں کرے لب خاموش نقش پا
پائی مرے سراغ سے دشمن نے راہ دوست
اے بیخودی مجھے نہ رہا ہوش نقش پا
میں خاکسار عشق ہوں آگاہ راز عشق
میری زباں سے حال سنے گوش نقش پا
آئے بھی وہ چلے بھی گئے مری راہ سے
میں نا مراد والہ و مدہوش نقش پا
یہ کون میرے کوچہ سے چھپ کر نکل گیا
خالی نہیں ہے فتنوں سے آغوش نقش پا
یہ داغ کی تو خاک نہیں کوئے یار میں
اک نشہ وصال ہے آغوش نقش پا
داغ دہلوی

یا نبی خوب ہوا خوب ہوا خوب ہوا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 11
تو جو اللہ کا محبوب ہوا خوب ہوا
یا نبی خوب ہوا خوب ہوا خوب ہوا
شب معراج یہ کہتے تھے فرشتے باہم
سخن طالب و مطلوب ہوا خوب ہوا
حشر میں امت عاصی کا ٹھکانا ہی نہ تھا
بخشوانا تجھے مر غوب ہوا خوب ہوا
تھا سبھی پیش نظر معرکہ کرب و بلا
صبر میں ثانی ایوب ہوا خوب ہوا
داغ ہے روز قیامت مری شرم اسکے ہاتھ
میں گناہوں سے جو محبوب ہوا خوب ہوا
داغ دہلوی

تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں‌ کمی نہ کرنا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 10
ستم ہے کرنا جفا ہے کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا
تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں‌ کمی نہ کرنا
ہماری میت پہ تم جو آنا تو چار آنسو گرا کے جانا
ذرا رہے پاس آبرو بھی کہیں ہماری ہنسی نہ کرنا
کہاں کا آنا کہاں کا جانا وہ جانتے ہی نہیں‌ یہ رسمیں
وہاں ہے وعدے کی بھی یہ صورت کبھی تو کرنا کبھی نہ کرنا
لیئے تو چلتے ہیں‌حضرت دل تمہیں بھی اس انجمن میں‌لیکن
ہمارے پہلو میں‌بیٹھ کر تم ہمیں سے پہلو تہی نہ کرنا
نہیں ہے کچھ قتل انکا آسان یہ سخت جان ہیں‌ بڑے بلا کے
قضا کو پہلے شریک کرنا یہ کام اپنے خوشی نہ کرنا
داغ دہلوی

پڑی آنکھ جس کوہ پر طور نکلا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 9
جہاں تیرے جلوہ سے معمور نکلا
پڑی آنکھ جس کوہ پر طور نکلا
یہ سمجھے تھے ہم ایک چرکہ ہے دل پر
دبا کر جو دیکھا تو ناسور نکلا
نہ نکلا کوئی بات کا اپنی پورا
مگر ایک نکلا تو منصور نکلا
وجود و عدم دونوں گھر پاس نکلے
نہ یہ دور نکلا نہ وہ دور نکلا
سمجھتے تھے ہم داغ گمنام ہو گا
مگر وہ تو عالم میں مشہور نکلا
داغ دہلوی

کہیں ہم نے پتہ پایا نہ ہر گز آج تک تیرا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 8
یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا
کہیں ہم نے پتہ پایا نہ ہر گز آج تک تیرا
صفات و ذات میں یکتا ہے تو اے واحد مطلق
نہ کوئی تیرا ثانی کوئی مشترک تیرا
جمال احمد و یوسف کو رونق تو نے بخشی ہے
ملاحت تجھ سے شیریں حسن شیریں میں نمک تیرا
ترے فیض و کرم سے نار و نور آپس میں یکدل ہیں
ثنا گر یک زبان ہر ایک ہے جن و ملک تیرا
نہ جلتا طور کیونکر کس طرح موسی نہ غش کھاتے
کہاں یہ تاب و طاقت جلوہ دیکھئے مر دیک تیرا
دعا یہ ہے کہ وقت مرگ اسکی مشکل آساں ہو
زباں پر داغ کے نام آئے یا رب یک بہ یک تیرا
داغ دہلوی

محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 7
یا رب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا
محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا
جب تک ہے دل بغل میں ہر دم ہو یاد تیری
جب تک زباں ہے منہ میں‌جاری ہو نام تیرا
ایمان کی کہیں گے ایمان ہے ہمارا
احمد رسول تیرا مصحف کلام تیرا
ہے تو ہی دینے والا پستی سے دے بلندی
اسفل مقام میرا اعلٰی مقام تیرا
محروم کیوں‌رہوں میں جی بھر کے کیوں نہ لوں میں
دیتا ہے رزق سب کو ہے فیض عام تیرا
یہ “داغ“ بھی نہ ہو گا تیرے سوا کسی کا
کونین میں‌ہے جو کچھ وہ ہے تمام تیرا
داغ دہلوی

ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 6
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا
تو جو اے زلف پریشان رہا کرتی ہے
کس کے اجڑے ہوئے دل میں ہے ٹھکانا تیرا
اپنی آنکھوں میں کوند گئی بجلی سی
ہم نہ سمجھے کہ یہ آنا ہے کہ جانا تیرا
داغ دہلوی

وہ کچھ نہیں کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں‌ کہتا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 5
یہ قول کسی کا ہے کہ میں کچھ نہیں‌ کہتا
وہ کچھ نہیں کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں‌ کہتا
سُن سُن کے تیرے عشق میں اغیار کے طعنے
میرا ہی کلیجا ہے کہ میں کچھ نہیں‌ کہتا
اُن کا یہی سننا ہے کہ وہ کچھ نہیں‌سنتے
میرا یہی کہنا ہے کہ میں کچھ نہیں‌ کہتا
خط میں وہ مجھے اوّل تو سنائی ہیں ہزاروں
آخر میں‌لکھا ہے کہ میں کچھ نہیں‌ کہتا
پھٹتا ہے جگر دیکھ کے قاصد کی مصیبت
پوچھو تو یہ کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں‌ کہتا
یہ خوب سمجھ لیجئے غماّز وہی ہے
جو آپ سے کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں‌ کہتا
تم کو یہی شایاں ہے کہ تم دیتے ہو دشنام
مجھ کو یہی زیبا ہے کہ میں کچھ نہیں‌ کہتا
مشتاق بہت ہیں مرے کہنے کے پر اے داغ
یہ وقت ہی ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
داغ دہلوی

وہ کچھ نہیں کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 4
یہ قول کسی کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
وہ کچھ نہیں کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
سن سن کے ترے عشق میں اغیار کے طعنے
میرا ہی کلیجا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ان کا یہی سننا ہے کہ وہ کچھ نہیں سنتے
میرا یہی کہنا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
خط میں مجھے اوّل تو سنائی ہیں ہزاروں
آخر میں یہ لکھا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
پھٹتا ہے جگر دیکھ کے قاصد کی مصیبت
پوچھوں تو یہ کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
یہ خوب سمجھ لیجئے غمار وہی ہے
جو آپ سے کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
تم کو یہی شایاں ہے کہ تم دیتے ہو دشنام
مجھ کو یہی زیبا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
مشتاق بہت ہیں مرے کہنے کے پر اے داغؔ
یہ وقت ہی ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
داغ دہلوی

مرا مرنا بھی تو میری خوشی سے ہو نہیں سکتا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 3
محبت میں کرے کیا کچھ کسی سے ہو نہیں سکتا
مرا مرنا بھی تو میری خوشی سے ہو نہیں سکتا
کیا ہے وعدہ فردا انہوں نے دیکھئے کیا ہو
یہاں صبر و تحمل آج ہی سے ہو نہیں سکتا
چمن میں ناز بلبل نے کیا جب اپنے نالے پر
چٹک کر غنچہ بولا کیا کسی سے ہو نہیں سکتا
نہ رونا ہے طریقہ کا نہ ہنسنا ہے سلیقےکا
پریشانی میں کوئی کا جی سے ہو نہیں سکتا
ہوا ہوں اس قدر محبوب عرض مدعا کر کے
اب تو عذر بھی شرمندگی سے ہو نہیں سکتا
خدا جب دوست ہے اے داغ کیا دشمن سے اندیشہ
ہمارا کچھ کسی کی دشمنی سے ہو نہیں سکتا
داغ دہلوی

کبھی جان صدقے ہوتی، کبھی دل نثار ہوتا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 2
عجب اپنا حال ہوتا، جو وصال یار ہوتا
کبھی جان صدقے ہوتی، کبھی دل نثار ہوتا
کوئی فتنہ تا قیامت نہ پھر آشکار ہوتا
ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا
جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا
تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا
غمِ عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے
یہ وہ زہر ہے کہ آخر مے خوشگوار ہوتا
یہ مزہ تھا دل لگی کا، کہ برابر ٓاگ لگتی
نہ تجھے قرار ہوتا، نہ مجھے قرار ہوتا
یہ مزا ہے دشمنی میں، نہ ہے لطف دوستی میں
کوئی غیر غیر ہوتا، کوئی یار یار ہوتا
ترے وعدے پر ستمگر، ابھی اور صبر کرتے
مگر اپنی زندگی کا، ہمیں اعتبار ہوتا
یہ وہ دردِ دل نہیں ہے کہ ہو چارہ ساز کوئی
اگر ایک بار مٹتا تو ہزار بار ہوتا
گئے ہوش تیرے زاہد جو وہ چشمِ مست دیکھی
مجھے کیا الٹ نہ دینے جو نہ بادہ خوار ہوتا
مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے
درِ یار کعبہ بنتا جو مرا مزار ہوتا
تمہیں ناز ہو نہ کیونکر کہ لیا ہے داغ کا دل
یہ رقم نہ ہاتھ لگتی نہ یہ افتخار ہوتا
داغ دہلوی

کچھ ٹھکانہ نظر نہیں آتا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 1
وہ زمانہ نظر نہیں آتا
کچھ ٹھکانہ نظر نہیں آتا
دل نے اس بزم میں بٹھا تو دیا
اٹھ کے جانا نظر نہیں آتا
رہئے مشتاق جلوہ دیدار
ہم نے مانا نظر نہیں آتا
لے چلو مجھکو رہروان عدم
یہاں ٹھکانہ نظر نہیں آتا
دل پر آرزو لٹا اے داغ
وہ خزانہ نظر نہیں آتا
داغ دہلوی

شوقِ خیال تازہ ہے یعنی عذاب چاہیے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 237
مجھ کو شبِ وجود میں تابشِ خواب چاہیے
شوقِ خیال تازہ ہے یعنی عذاب چاہیے
آج شکستِ ذات کی شام ہے مجھ کو آج شام
صرف شراب چاہیے ، صرف شراب چاہیے
کچھ بھی نہیں ہے ذہن میں کچھ بھی نہیں سو اب مجھے
کوئی سوال چاہیے کوئی جواب چاہیے
اس سے نبھے گا رشتۂِ سودوزیاں بھی کیا بھلا
میں ہوں بَلا کا بدحساب اس کو حساب چاہیے
امن و امانِ شہرِ دل خواب و خیال ہے ابھی
یعنی کہ شہرِ دل کا حال اور خراب چاہیے
جانِ گماں ہمیں تو تم صرف گمان میں رکھو
تشنہ لبی کو ہر نفس کوئی سراب چاہیے
کھل تو گیا ہے دل میں ایک مکتبِ حسرت و امید
جون اب اس کے واسطے کوئی نصاب چاہیے
جون ایلیا

ہجر میں کرنا ہے کیا یہ تو بتاتے جائیے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 236
ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے جائیے
ہجر میں کرنا ہے کیا یہ تو بتاتے جائیے
بن کے خوشبو کی اداسی رہیے دل کے باغ میں
دور ہوتے جائیے نزدیک آتے جائیے
جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجیے مرا
یاد کا سر و ساماں جلاتے جائیے
رہ گئی امید تو برباد ہو جاؤں گا میں
جائیے تو پھر مجھے سچ مچ بھلاتے جائیے
زندگی کی انجمن کا بس یہی دستور ہے
بڑھ کے ملیے اور مل کر دور جاتے جائیے
آخری رشتہ تو ہم میں اک خوشی اک غم کا تھا
مسکراتے جائیے آنسو بہاتے جائیے
وہ گلی ہے اک شرابی چشم کافر کی گلی
اس گلی میں جائیے تو لرکھڑاتے جائیے
آپ کو جب مجھ سے شکوا ہی نہیں کوئی تو پھر
آگ ہی دل میں لگانی ہے لگاتے جائیے
کوچ ہے خوابوں سے تعبیروں کی سمتوں میں تو پھر
جائیے پر دم بہ دم برباد جاتے جائیے
آپ کا مہمان ہوں میں آپ میرے میزبان
سو مجھے زہرِ مروت تو پلاتے جائیے
ہے سرِ شب اور مرے گھر میں نہیں کوئی چراغ
آگ تو اس گھر میں جانا نہ لگاتے جائیے
جون ایلیا

خزاں سے کچھ نہیں ہوتا ، بہار دل میں رہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 235
فراق کیا ہے اگر ، یادِ یار دل میں رہے
خزاں سے کچھ نہیں ہوتا ، بہار دل میں رہے
گزار روز و شبِ وصل اک نگار کے ساتھ
وہ ہے ایک شبِ انتظار ،دل میں رہے
تو اپنی ذات کے باہر نہ بکھریو زنہار
فضا کو صاف رکھیو ، غبار دل میں رہے
نہ ہو اگر نہیں دیوار ہائے نقش و نگار
خیالِ پرتوِ نقش و نگار ، دل میں رہے
لبوں کا یہ ہے کہ رشتہ سبھی سے ہے انکا
بنے نہ جس سے لبوں کی وہ خار دل میں رہے
تو بیچ دے سرِ بازار ہوش دل اپنا
ہو اک خیال جو دیوانہ وار دل میں رہے
جون ایلیا

جو کچھ ہے یہاں آگ لگانے کے لیے ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 234
اک دل ہے جو جو ہر لمحہ جلانے کے لیے ہے
جو کچھ ہے یہاں آگ لگانے کے لیے ہے
اک بات ہی کہنی ہے مجھے تجھ سے، بس اک بات
اس شہر میں تُو صرف گنوانے کے لیے ہے
ہر شخص مری ذات سے جانے کے لیے تھا
تُو بھی تو مری ذات سے جانے کے لیے ہے
جو رنگ ہیں سہہ لے انہیں جو رنگ ہیں سہہ لے
یاں جو بھی ہنر ہے وہ کمانے کے لیے ہے
بودش جو ہے وہ ایک تماشہ ہے گماں کا
ہے جو بھی حقیقت وہ فسانے کے لیے ہے
ہنسنے سے کبھی خوش نہیں ہوتا ہے میرا دل
یاں مجھ کو ہنسانا بھی رُلانے کے لیے ہے
قاتل کو مرے مجھ سے نہیں ہے کوئی پَرخاش
قاتل تو مرا رنگ جمانے کے لیے ہے
جون ایلیا

اک دم سے بُھولنا اسے پھر ابتدا سے ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 233
بے انتہائی شیوہ ہمارا سدا سے ہے
اک دم سے بُھولنا اسے پھر ابتدا سے ہے
یہ شام جانے کتنے ہی رشتوں کی شام ہو
اک حُزن دل میں نکہتِ موجِ صبا سے ہے
دستِ شجر کی تحفہ رسانی ہے تا بہ دل
اس دم ہے جو بھی دل میں مرے وہ ہوا سے ہے
جیسے کوئی چلا بھی گیا ہو اور آئے بھی
احساس مجھ کو کچھ یہی ہوتا فضا سے ہے
دل کی سہولتیں ہیں عجب ، مشکلیں عجب
ناآشنائی سی عجب اک آشنا سے ہے
اس میں کوئی گِلہ ہی روا ہے نہ گفتگو
جو بھی یہاں کسی کا سخن ہے وہ جا سے ہے
جون ایلیا

مجھے فرقت سکھائی جا رہی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 232
تری قیمت گھٹائی جا رہی ہے
مجھے فرقت سکھائی جا رہی ہے
یہ ہے تعمیرِ دنیا کا زمانہ
حویلی دل کی ڈھائی جا رہی ہے
وہ شے جو صرف ہندوستان کی تھی
وہ پاکستان لائی جا رہی ہے
کہاں کا دین۔۔کیسا دین۔۔کیا دین
یہ کیا گڑ بڑ مچائی جا رہی ہے
شعورِ آدمی کی سر زمیں تک
خدا کی اب دُہائی جا رہی ہے
بہت سی صورتیں منظر میں لا کر
تمنا آزمائی جا رہی ہے
مجھے اب ہوش آتا جا رہا ہے
خدا تیری خدائی جا رہی ہے
نہیں معلوم کیا سازش ہے دل کی
کہ خود ہی مات کھائی جا رہی ہے
***
نئی خواہش رچائی جا رہی ہے
تیری فرقت منائی جا رہی ہے
ہے ویرانی کی دھوپ اور ایک آنگن
اور اس پر لُو چلائی جا رہی ہے
نبھائی تھی نہ ہم نے جانے کس سے
کہ اب سب سے نبھائی جا رہی ہے
کہاں لذت وہ سوزِ جستجو کی
یہاں ہر چیز پائی جا رہی ہے
سُن اے سورج جدائی موسموں کے
میری کیاری جلائی جا رہی ہے
بہت بدحال ہیں بستی، تیرے لوگ
تو پھر تُو کیوں سجائی جا رہی ہے
خوشا احوال اپنی زندگی کا
سلیقے سے گنوائی جا رہی ہے
جون ایلیا

پِیا جی کی سواری جا رہی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 231
چلو بادِ بہاری جا رہی ہے
پِیا جی کی سواری جا رہی ہے
شمالِ جاودانِ سبز جاں سے
تمنا کی عماری جا رہی ہے
فغاں اے دشمنی دارِ دل و جاں
مری حالت سُدھاری جا رہی ہے
جو اِن روزوں مراغم ہے وہ یہ ہے
کہ غم سے بُردباری جا رہی ہے
ہے سینے میں عجب اک حشر برپا
کہ دل سے بے قراری جا رہی ہے
میں پیہم ہار کر یہ سوچتا ہے
وہ کیا شہ ہے جو ہاری جا رہی ہے
دل اُس کے رُوبرو ہے اور گُم صُم
کوئی عرضی گزاری جا رہی ہے
وہ سید بچہ ہو اور شیخ کے ساتھ
میاں عزت ہماری جا رہی ہے
ہے برپا ہر گلی میں شورِ نغمہ
مری فریاد ماری جا رہی ہے
وہ یاد اب ہو رہی ہے دل سے رُخصت
میاں پیاروں کی پیاری جا رہی ہے
دریغا ! تیری نزدیکی میاں جان
تری دوری پہ واری جا رہی ہے
بہت بدحال ہیں بستی ترے لوگ
تو پھر تُو کیوں سنواری جا رہی ہے
تری مرہم نگاہی اے مسیحا!
خراشِ دل پہ واری جا رہی ہے
خرابے میں عجب تھا شور برپا
دلوں سے انتظاری جا رہی ہے
جون ایلیا

یعنی جاناں دل کا تقاضا آہ بھی ہے فریاد بھی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 230
ہے رنگِ ایجاد بھی دل میں اور زخم ایجاد بھی ہے
یعنی جاناں دل کا تقاضا آہ بھی ہے فریاد بھی ہے
تیشہ ناز نے میری انا کے خوں کی قبا پہنائی مجھے
میں جو ہوں پرویز ہوں اک جو ظالم فرہاد بھی ہے
منحصر اس کی منشا پر ہے کس طور اس سے پیش آؤں
قید میری بانہوں میں وہ ہو کر وہ قاتل آزاد بھی ہے
جون جدا تو رہنا ہو گا تجھ کو اپنے یاروں بیچ
یار ہی تو یاروں کا نہیں ہے یاروں کا استاد بھی ہے
ساری ردیفیں بھی حاضر ہیں پھر ساری ترکیبیں بھی
اور تمہیں کیا چاہیئے یارو، حاصل میری داد بھی ہے
جون ایلیا

میں نے خود سے نباہ کر لی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 229
آخری بار آہ کر لی ہے
میں نے خود سے نباہ کر لی ہے
اپنے سر اک بلا تو لینی تھی
میں نے وہ زُلف اپنے سر لی ہے
دن بھلا کس طرح گزاروگے
وصل کی شب بھی اب گزر لی ہے
جاں نثاروں پہ وار کیا کرنا
میں نے بس ہاتھ میں سِپر لی ہے
جو بھی مانگو اُدھار دوں گا میں
اُس گلی میں دکان کر لی ہے
میرا کشکول کب سے خالی تھا
میں نے اُس میں شراب بھر لی ہے
اور تو کچھ نہیں کیا میں نے
اپنی حالت تباہ کر لی ہے
شیخ آیا تھا محتسب کو لئے
میں نے بھی ان کی وہ خبر لی ہے
جون ایلیا

یہ اداسی کہاں سے آتی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 228
روح پیاسی کہاں سے آتی ہے
یہ اداسی کہاں سے آتی ہے
ایک زندانِ بے دلی اور شام
یہ صبا سی کہاں سے آتی ہے
تو ہے پہلو میں پھر تری خوشبو
ہو کے باسی کہاں سے آتی ہے
جون ایلیا

یہ دنیا اب تمہاری ہو گئی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 227
عجب حالت ہماری ہو گئی ہے
یہ دنیا اب تمہاری ہو گئی ہے
سخن میرا اداسی ہے سرِ شام
جو خاموشی پہ طاری ہو گئی ہے
بہت ہی خوش ہے دل اپنے کیے پر
زمانے بھر میں خواری ہو گئی ہے
وہ نازک لب ہے اب جانے ہی والا
مری آواز بھاری ہو گئی ہے
دل اب دنیا پہ لعنت کر کہ اس کی
بہت خدمت گزاری ہو گئی ہے
یقیں معزور ہے اب اور گماں بھی
بڑی بے روزگاری ہو گئی ہے
وہ اک بادِ شمالی رنگ جو تھی
شمیم اس کی سواری ہو گئی ہے
مرے پاس آکے خنجر بھونک دے تُو
بہت نیزہ کزاری ہو گئی ہے
جون ایلیا

ہے دستِ فتنہ اور گریبانِ فتنہ ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 226
کیوں غم کریں جو شہر میں طوفانِ فتنہ ہے
ہے دستِ فتنہ اور گریبانِ فتنہ ہے
درمانِ فتنہ کے لئے ہے سر بہ جیب کیوں
فتنی اٹھا کہ فتنی ہی درمانِ فتنہ ہے
لب وا ہوئے کہ فتنہ فضا تا فضا پڑا
یہ جنبشِ نفس ہے کہ طغیانِ فتنہ ہے
بےجان ہیں یہ سارے بدن ہائے رقصِ شب
ہائے وہ اک بدن جو بدن جانِ فتنہ ہے
مت جا قریب پاسِ نشیب و فراز ہے
یہ پہلوئے فساد ہے، پستانِ فتنہ ہے
بھاگ اپنے سائے سے کہ بنایا گیا ہے یہ
سائے میں ایک پرتوِ پنہانِ فتنہ ہے
اس کے بدن میں کیسے اماں مل گئی تجھے
جو تشنگی کی جان ہے، جانانِ فتنہ ہے
آثار تک نہیں کسی فتنے کے دور تک
فارغ نہ بیٹھو کہ یہی آنِ فتنہ ہے
نکلا بھی جونؔ وقت پہ سورج گیا بھی ڈوب
آں سوئے کہکشاں کوئی سامانِ فتنہ ہے
جون ایلیا

خونیں جگروں ، سینہ فگاروں سے گلہ ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 225
یارو نگہ یار کو ، یاروں سے گلہ ہے
خونیں جگروں ، سینہ فگاروں سے گلہ ہے
جاں سے بھی گئے ، بات بھی جاناں کی نہ سمجھی
جاناں کو بہت عشق کے ماروں سے گلہ ہے
اب وصل ہو یا ہجر ، نہ اب تک بسر آیا
اک لمحہ ، جسے لمحہ شماروں سے گلہ ہے
اڑتی ہے ہر اک شور کے سینے سے خموشی
صحراؤں پر شور دیاروں سے گلہ ہے
بیکار کی اک کارگزاری کے حسابوں
بیکار ہوں اور کار گزاروں سے گلہ ہے
میں آس کی بستی میں گیا تھا سو یہ پایا
جو بھی ہے اسے اپنے سہاروں سے گلہ ہے
بے فصل اشاروں سے ہوا خون جنوں کا
ان شوخ نگاہوں کے اشاروں سے گلہ ہے
جون ایلیا

دل کواب دل دہی سے خطرہ ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 224
عیشِ اُمید ہی سے خطرہ ہے
دل کواب دل دہی سے خطرہ ہے
ہے کچھ ایسا کہ اس کی جلوت میں
ہمیں اپنی کمی سے خطرہ ہے
جس کے آغوش کا ہوں دیوانہ
اس کے آغوش ہی سے خطرہ ہے
یاد کی دھوپ تو ہے روز کی بات
ہاں مجھے چاندنی سے خطرہ ہے
ہے عجب کچھ معاملہ درپیش
عقل کو آ گہی سے خطرہ ہے
شہر غدار جان لے کہ تجھے
ایک امروہوی سے خطرہ ہے
ہے عجب طورِ حالتِ گریہ
کہ مژہ کو نمی سے خطرہ ہے
حال خوش لکھنو کا دلّی کا
بس انہیں مصحفی سے خطرہ ہے
آسمانوں میں ہے خدا تنہا
اور ہر آدمی سے خطرہ ہے
میں کہوں کس طرح یہ بات اس سے
تجھ کو جانم مجھی سے خطرہ ہے
آج بھی اے کنارِ بان مجھے
تیری اک سانولی سے خطرہ ہے
ان لبوں کا لہو نہ پی جاؤں
اپنی تشنہ لبی سے خطرہ ہے
جون ہی تو ہے جون کے درپے
میر کو میر ہی سے خطرہ ہے
اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
جون ایلیا

جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 223
کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے
جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے
میں سکون پا سکوں گا یہ گماں بھی کیوں کیا تھا
ہے یہی ملال کیا کم کہ ملال اب نہیں ہے
نہ رہے اب اس کے دل میں خلشِ شکستِ وعدہ
کہ یہاں کوئی حسابِ مہ و سال اب نہیں ہے
یہ دیارِ دید کیا ہے گئے دشتِ دل سے بھی ہم
کہ ختن زمین میں بھی وہ غزال اب نہیں ہے
جو لیے لیے پھری ہے تجھے روز اک نگر میں
مرے دل ترے نگر میں وہ مثال اب نہیں ہے
لبِ پُرسوال لے کے ہمیں کُوبہ کُو ہے پِھرنا
ہو کوئی جواب برلب یہ سوال اب نہیں ہے
جون ایلیا

کس نے عذاب جاں سہا کون عذاب جاں میں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 222
ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے
کس نے عذاب جاں سہا کون عذاب جاں میں ہے
لمحہ بہ لمحہ دم بہ دم آن بہ آن رم بہ رم
میں بھی گزشتگاں میں ہوں تو بھی گزشتگاں میں ہے
آدم و ذات کبریا کرب میں ہیں جدا جدا
کیا کہوں ان کا ماجرا جو بھی ہے امتحاں میں ہے
شاخ سے اڑ گیا پرند ہے دل شام درد مند
صحن میں ہے ملال سا حزن سا آسماں میں ہے
خودمیں بھی بےاماں ہوں میں،تجھ میں بھی بےاماں ہوں میں
کون سہے گا اس کا غم وہ جو مری اماں میں ہے
کیسا حساب کیا حساب حالت حال ہے عذاب
زخم نفس نفس میں ہے زہر زماں زماں میں ہے
اس کا فراق بھی زیاں اس کا وصال بھی زیاں
ایک عجیب کشمکش حلقہ بے دلاں میں ہے
بود نبود کا حساب میں نہیں جانتا مگر
سارے وجود کی نہیں میرے عدم کی ہاں میں ہے
جون ایلیا

اُس کی خوشبو، نفس نفس میں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 221
اب جنوں کب کسی کے بس میں ہے
اُس کی خوشبو، نفس نفس میں ہے
حال اس صید کا سنایئے کیا ؟
جس کا صیاد خود قفس میں ہے
کیا ہے گر زندگی کا بس نہیں چلا
زندگی کب کسی کے بس میں ہے
غیر سے رہیو تُو ذرا ہشیار
وہ ترے جسم کی ہوس میں ہے
پاشکستہ پڑا ہوں مگر
دل کسی نغمہِ جرس میں ہے
جون ہم سب کی دسترس میں ہیں
وہ بھلا کس کی دسترس میں ہے
جون ایلیا

از زمیں تا بہ آسماں خوں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 220
زیرِ محراب ابرواں خوں ہے
از زمیں تا بہ آسماں خوں ہے
ایک بسمل کا رقصِ رنگ تھا آج
سرِ مقتل جہاں تہاں خوں ہے
زخم کے خرمنوں کا مژدہ ہو
آب۔ کشت بلا کشاں خوں ہے
سادہ پوشانِ عیدِ شوق، نوید
آبِ حوض نمازیاں خوں ہے
باب ہے حسرتوں کی محنت گاہ
دل یارانہ خوں فشاں خوں ہے
زخم انگیز ہے خراشِ امید
ہے دیدار۔ گل رخاں خوں ہے
ہو گئے باریاب اہل غرض
روئے دہلیز و آسماں خوں ہے
دل خونیں ہے میزباں
عمدہ خوانِ میزبان خوں ہے
فصل آئی ہے رنگِ مستوں کی
تابہ دیوارِ گلستاں خوں ہے
ہر تماشائی مدعی ٹھہرا
پر تو زخمِ خوں چکا خوں ہے
میں ہوں بے داغ دامناں محتاط
نفسِ خوں گرفتگاں خوں ہے
غنچہ ہا زخم، زخم ہا الماس
شبنم باغ امتحاں خوں ہے
اس طرف کوہکن ادھر شیریں
اور دونوں کے درمیاں خوں ہے
بے دلوں کو نہ چھیڑیو کہ یہ قوم
امتِ شوق رائیگاں خوں ہے
جون ایلیا

با صد ہزار رنگ، وہ بے غازہ ہے، سو ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 219
بے یک نگاہ بے شوق بھی، اندازہ ہے، سو ہے
با صد ہزار رنگ، وہ بے غازہ ہے، سو ہے
ہوں شامِ حال یک طرفہ کا امیدِ مست
دستک؟ سو وہ نہیں ہے، پہ دروازہ ہے، سو ہے
آواز ہوں جو ہجرِ سماعت میں ہے سکوت
پر اس سکوت پر بھی اک آوازہ ہے، سو ہے
اک حالتِ جمال پر جاں وارنے کو ہوں
صد حالتی میری، میری طنازہ ہے، سو ہے
شوقِ یقیں گزیدہ ہے اب تک یقیں مرا
یہ بھی کسی گمان کا خمیازہ ہے، سو ہے
ا خلوتِ وصال میں یہ حسرتِ وصال
اک خواہشِ وصال کی غمّازہ ہے، سو ہے
تھی یک نگاہِ شوق میری تازگی رُبا
اپنے گماں میں اب بھی کوئی تازہ ہے، سو ہے
جون ایلیا

ہے آگ جامہ زیب۔۔دھواں بے لباس ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 218
بخشش ہوا یقین۔۔گماں بے لباس ہے
ہے آگ جامہ زیب۔۔دھواں بے لباس ہے
ہے یہ فضا ہزار لباسوں کا اک لباس
جو بے لباس ہے وہ کہاں بے لباس ہے
ملبوس تار تارِ نفس ہے زیانِ سود
سُودِ زیان یہ ہے کہ زیاں بے لباس ہے
محمل نشینِ رنگ! کوئی پوستینِ رنگ
ریگِ رواں ہوں۔۔ریگِ رواں بے لباس ہے
اب پارہ پارہ پوششِ گفتار بھی نہیں
ہیں سانس بے رفو سو زیاں بے لباس ہے
صد جامہ پوش جس کا ہے جسم برہنہ ابھی
خلوت سرائے جاں میں وہ جاں بے لباس ہے
ہے دل سے ہر نفس ہوسِ دید کا سوال
خلوت ہے وہ کہاں۔۔وہ جہاں بے لباس ہے
ہے بُود اور نبود میں پوشش نہ پیرہن
یاراں مکین کیا کہ مکاں بے لباس ہے
تُو خود ہی دیکھ رنگِ بدن اپنا جوش رنگ
تُو اپنے ہر لباس میں جاں بے لباس ہے
غم کی برہنگی کو کہاں سے جُڑے لباس
میں لب سیے ہوئے ہوں۔۔فغاں بے لباس ہے
جون ایلیا

زندگی اک زیاں کا دفتر ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 217
نہ تو دل کا نہ جاں کا دفتر ہے
زندگی اک زیاں کا دفتر ہے
پڑھ رہا ہوں میں کاغذاتِ وجود
اور نہیں اور ہاں کا دفتر ہے
کوئی سوچے تو سوزِ کربِ جاں
سارا دفتر گماں کا دفتر ہے
ہم میں سے کوئی تو کرے اصرار
کہ زمیں، آسماں کا دفتر ہے
ہجر تعطیلِ جسم و جاں ہے میاں
وصل، جسم اور جاں کا دفتر ہے
ہے جو بود اور نبود کا دفتر
آخرش یہ کہاں کا دفتر ہے
جو حقیقت ہے دم بدم کی یاد
وہ تو اک داستاں کا دفتر ہے
ہو رہا ہے گزشتگاں کا حساب
اور آئیندگاں کا دفتر ہے
جون ایلیا

کہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 216
بجا ارشاد فرمایا گیا ہے
کہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہے
عنایت کی ہیں ناممکن امدیں
کرم ایجاد فرمایا گیا ہے
ہیں ہم اب اور زد ہے حادثوں کی
ہمیں آزاد فرمایا گیا ہے
ذرا اس کی پراحوالی تو دیکھیں
جسے برباد فرمایا گیا ہے
نسیمِ سبزگی تھے ہم، سو ہم کو
غبار افتاد فرمایا گیا ہے
سند بخشی ہے عشقِ بے غرض کی
بہت ہی شاد فرمایا گیا ہے
سلیقے کو لبِ فریاد تیرے
ادا کی داد فرمایا گیا ہے
کہاں ہم اور کہاں حسنِ سرِ بام
ہمیں بنیاد فرمایا گیا ہے
جون ایلیا

سو پیہم گنگنایا جا رہا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 215
گِلے سے باز آیا جا رہا ہے
سو پیہم گنگنایا جا رہا ہے
نہیں مطلب کسی پہ طنز کرنا
ہنسی میں مسکرایا جا رہا ہے
وہاں اب میں کہاں اب تو وہاں سے
مرا سامان لایا جا رہا ہے
عجب ہے ایک حالت سی ہوا میں
ہمیں جیسے گنوایا جا رہا ہے
اب اس کا نام بھی کب یاد ہو گا
جسے ہر دَم بُھلایا جا رہا ہے
چراغ اس طرح روشن کر رہا ہوں
کہ جیسے گھر جلایا جا رہا ہے
بَھلا تم کب چلے تھے یوں سنبھل کر
کہاں سے اُٹھ کے جایا جا رہا ہے
تو کیا اب نیند بھی آنے لگی ہے
تو بستر کیوں بِچھایا جا رہا ہے
جون ایلیا

رہیو بہم خود میں یہاں، شہر بگولوں کا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 214
اے نفس آشفتگاں! شہر بگولوں کا ہے
رہیو بہم خود میں یہاں، شہر بگولوں کا ہے
دھول ہے ساری زمیں، دھند ہے سب آسماں
شکل کی صورت کہاں؟ شہر بگولوں کا ہے
گرد کی شکلیں سی دو ہونے کو ہیں ہمکنار
بیچ میں ہیں آندھیاں، شہر بگولوں کا ہے
گرد ہیں تعمیر کی ساری فلک بوسیاں
گرد میں ہوُ کا مکاں، شہر بگولوں کا ہے
ہیں اسی دم رُوبرُو، پھر نہ کوئی میں نہ توُ
اُس پہ وعدے بھی جاں ؟ شہر بگولوں کا ہے
اب سے ہے جو اب تلک، سود میں ہے وہ پلک
کس کا زیاں، کیا زیاں، شہر بگولوں کا ہے
ایک نفس ہی سہی، اس کی ہوس ہی سہی
رشتہ ہو اک درمیاں، شہر بگولوں کا ہے
دھند ہے بکھراو ہے، دھول ہے اندھیاو ہے
خود سے لگا چل میاں، شہر بگولوں کا ہے
ہائیں یہ آشفتگی، پائے نہ جاو گے پھر
شہر یہ آشفتگاں، شہر بگولوں کا ہے
وہم گماں کا گماں، عیشِ یقیں ہے یہاں
یہ بھی گماں ہے گماں، شہر بگولوں کا ہے
جون ایلیا

وہ رنگِ رُخ ہے کہ خود غازہ مست رہتا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 212
مہک سے اپنی گَلِ تازہ مست رہتا ہے
وہ رنگِ رُخ ہے کہ خود غازہ مست رہتا ہے
نگاہ سے کبھی گزرا نہیں وہ مست انداز
مگر خیال سے، اندازہ مست رہتا ہے
کہاں سے ہے رَسدِ نشہ، اس کی خلوت میں
کہ رنگ مست کا اندازہ مست رہتا ہے
یہاں کبھی کوئی آیا نہیں مگر سرِ شام
بس اک گمان سے دروازہ مست رہتا ہے
مجھے خیال کی مستی میں کس کا اندازہ
خدا نہیں جو باندازہ مست رہتا ہے
جون ایلیا

میرے دل سے غبار اٹھتا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 211
بزم سے جب نگار اٹھتا ہے
میرے دل سے غبار اٹھتا ہے
میں جو بیٹھا ہوں تو وہ خوش قامت
دیکھ لو! بار بار اٹھتا ہے
تیری صورت کو دیکھ کر مری جاں
خود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے
اس کی گُل گشت سے روش بہ روش
رنگ ہی رنگ یار اٹھتا ہے
تیرے جاتے ہی اس خرابے سے
شورِ گریہ ہزار اٹھتا ہے
کون ہے جس کو جاں عزیز نہیں؟
لے ترا جاں نثار اٹھتا ہے
صف بہ صف آ کھڑے ہوئے ہیں غزال
دشت سے خاکسار اٹھتا ہے
ہے یہ تیشہ کہ ایک شعلہ سا
بر سرِ کوہسار اٹھتا ہے
کربِ تنہائی ہے وہ شے کہ خدا
آدمی کو پکار اٹھتا ہے
تو نے پھر کَسبِ زَر کا ذکر کیا
کہیں ہم سے یہ بار اٹھتا ہے
لو وہ مجبورِ شہر صحرا سے
آج دیوانہ وار اٹھتا ہے
اپنے ہاں تو زمانے والوں کا
روز ہی اعتبار اٹھتا ہے
جون اٹھتا ہے، یوں کہو، یعنی
میر و غالب کا یار اٹھتا ہے
جون ایلیا

ساری دنیا فقط کہانی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 210
دل کو اک بات کہہ سنانی ہے
ساری دنیا فقط کہانی ہے
تو میری جان داستان تھا کبھی
اب تیرا نام داستانی ہے
سہہ چکے زخمِ التفات تیرا
اب تیری یاد آزمانی ہے
اک طرف دل ہے، اک طرف دنیا
یہ کہانی بہت پرانی ہے
تھا سوال ان کی اداس آنکھوں کا
زندگی کیا نہیں گنوانی ہے
کیا بتاؤں میں اپنے پاسِ انا
میں نے ہنس ہنس کر ہار مانی ہے
ہوس انگیز ہے بدن میرا
ہائے میری ہوس کہ فانی ہے
زندگی کس طرح سے گزاروں میں
مجھ کو روزی نہیں کمانی ہے
جون ایلیا

باقی کو کیا کرنا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 209
مجھ کو تو گِر کے مرنا ہے
باقی کو کیا کرنا ہے
شہر ہے چہروں کی تمثیل
سب کا رنگ اترنا ہے
وقت ہے وہ ناٹک جس میں
سب کو ڈرا کر ڈرنا ہے
میرے نقشِ ثانی کو
مجھ میں ہی سے اُبھرنا ہے
کیسی تلافی کیا تدبیر
کرنا ہے اور بھرنا ہے
جو نہیں گزرا ہے اب تک
وہ لمحہ تو گزرنا ہے
اپنے گماں کا رنگ تھا میں
اب یہ رنگ بکھرنا ہے
ہم دو پائے ہیں سو ہمیں
میز پہ جا کر چرنا ہے
چاہے ہم کچھ بھی کر لیں
ہم ایسوں کو سُدھرنا ہے
ہم تم ہیں اک لمحہ کے
پھر بھی وعدہ کرنا ہے
جون ایلیا

زندگی حالتِ جدائی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 208
لمحے لمحے کی نارسائی ہے
زندگی حالتِ جدائی ہے
مردِ میدان ہوں اپنی ذات کا میں
میں نے سب سے شکست کھائی ہے
اک عجب حال ہے کہ اب اس کو
یاد کرنا بھی بے وفائی ہے
اب یہ صورت ہے جانِ جاں کہ تجھے
بھولنے میں مری بھلائی ہے
خود کو بھولا ہوں، اُس کو بھولا ہوں
عمر بھر کی یہی کمائی ہے
میں ہنر مندِ رنگ ہوں میں نے
خون تھوکا ہے داد پائی ہے
جانے یہ تیرے وصل کے ہنگام
تیری فرقت کہاں سے آئی ہے
جون ایلیا

وصل ہے اور فراق طاری ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 207
بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق طاری ہے
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
بن تمہارے کبھی نہیں آئی
کیا مری نیند بھی تمھاری ہے
اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں
رات دن تیری انتطاری ہے
ایک مہک سمت دل سے آئی تھی
میں یہ سمجھا تری سواری ہے
خوش رہے تو کہ زندگی اپنی
عمر بھر کی امید واری ہے
جون ایلیا

بس اک دیوار ہے اور بے دری ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 206
گماں کی اک پریشاں منظری ہے
بس اک دیوار ہے اور بے دری ہے
اگرچہ زہر ہے دنیا کی ہر بات
میں پی جاؤں اسی میں بہتری ہے
تُو اے بادِ خزاں اس گُل سے کہیو
کہ شاخ اُمید کی اب تک ہری ہے
گلی میں اس نگارِ ناشنو کی
فغاں کرنا ہماری نوکری ہے
کوئی لہکے خیابانِ صبا میں
یہاں تو آگ سینے میں بھری ہے
جون ایلیا

کہ ہر نفس، نفسِ آخرِ بہاراں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 205
غبارِ محمل گل پر ہجوم یاراں ہے
کہ ہر نفس، نفسِ آخرِ بہاراں ہے
بتاؤ وجد کروں یا لبِ سخن کھولوں
ہوں مستِ راز اور انبوہ رازداراں ہے
مٹا ہوا ہوں شباہت پہ نامداروں کی
چلا ہوں کہ یہی وضعِ نامداراں ہے
چلا ہوں پھر سرِ کوئے دراز مژگاں
مرا ہنر زخم تازہ داراں ہے
یہی وقت کہ آغوش دار رقص کروں
سرورِ نیم شبی ہے صفِ نگاراں ہے
ہوا ہے وقت کہیں سے علیم کو لاؤ
ہے ایک شخص جو کمبخت یارِ یاراں ہے
فراق یار کو ٹھیرا لیا ہے عذرِ ہوس
کوئی بتاؤ یہی رسمِ سوگواراں ہے
جون ایلیا

میرا اک زخم شام کرتا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 204
رنگ بادِ صبا میں بھرتا ہے
میرا اک زخم شام کرتا ہے
سب یہی پوچھتے ہیں مجھ سے کہ تو
کیوں سدھارے نہیں سدھرتا ہے
روز شام و سحر کی راہوں سے
ایک انبوہ کیوں گزرتا ہے ؟
آئینے تیرے سامنے وہ شخص
اب بھلا کیوں نہیں سنورتا ہے
ایلیا جون کچھ نہیں کرتا
صرف خوشبو میں رنگ بھرتا ہے
جون ایلیا

دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 203
ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے
رنگ موسم ہے اور باد صبا
شہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے
فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں
میز پر گرد جمتی جاتی ہے
سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر
اب کسے رات بھر جگاتی ہے
میں بھی اذن نواگری چاہوں
بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے
سو گئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو
زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے
اس سراپا وفا کی فرقت میں
خواہش غیر کیوں ستاتی ہے
آپ اپنے سے ہم سخن رہنا
ہمنشیں! سانس پھول جاتی ہے
کیا ستم ہے کہ اب تری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
جون ایلیا

تیرے ساتھ تری یاد آئی، تو کیا سچ مچ آئی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 202
تو بھی چپ ہے، میں بھی چپ ہوں، یہ کیسی تنہائی ہے
تیرے ساتھ تری یاد آئی، تو کیا سچ مچ آئی ہے
شاید وہ دن پہلا دن تھا، پلکیں بوجھل ہونے کا
مجھ کو دیکھتے ہی اس کی انگڑائی شرمائی ہے
اس دن پہلی بار ہوا تھا مجھ کو رفاقت کا احساس
جب اس کے ملبوس کی خوشبو گھر پہنچانے آئی ہے
حسن سے عرضِ شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے
ہم نے عرضِ شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے
ہم کو اور تو کچھ نہیں سوجھا البتہ اس کے دل میں
سوزِ رفاقت پیدا کر کے اس کی نیند اڑائی ہے
ہم دونوں مل کر بھی دلوں کی تنہائی میں بھٹکیں گے
پاگل کچھ تو سوچ یہ تو نے کیسی شکل بنائی ہے
عشقِ پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے
کیاری میں پانی ٹھیرا ہے، دیواروں پر کائی ہے
حسن کے جانے کتنے چہرے، حسن کے جانے کتنے نام
عشق کا پیشہ حسن پرستی، عشق بڑا ہرجائی ہے
آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا
جوں ہی دروازہ کھولا ہے اس کی خوشبو آئی ہے
ایک تو اتنا حبس ہے پھر میں سانسیں روک کے بیٹھا ہوں
ویرانی نے جھاڑو دے کر گھر کی دھول اڑائی ہے
جون ایلیا

یہ تو آشوب ناک صورت ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 201
کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے
یہ تو آشوب ناک صورت ہے
انجمن میں کیا یہ میری خاموشی
بردباری نہیں ہے وحشت ہے
طنز پیرایہ ءِ تبسم میں
اس تکلف کی کیا ضرورت ہے
تجھ سے یہ گا ہ گاہ کا شکوہ
جب تلک ہے بسا غنیمت ہے
گرم جوشی اور اس قدر کیا بات!
کیا تمہیں مجھ سے کچھ شکایت ہے
تو بھی اے شخص کیا کرے آخر
مجھ کو سر پھوڑنے کی عادت ہے
اب نکل آؤ اپنے اندر سے
گھر میں سامان کی ضرورت ہے
ہم نے جانا تو ہم نے یہ جانا
جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے
خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں
یہ اذیت بڑی اذیت ہے
لوگ مصروف جانتے ہیں مجھے
ہاں مرا غم ہی میری فرصت ہے
آج کا دن بھی عیش سے گذرا
سر سے پا تک بدن سلامت ہے
جون ایلیا

کیاری میں پانی ٹھہرا ھے دیواروں پر کائی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 200
عشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے
کیاری میں پانی ٹھہرا ھے دیواروں پر کائی ہے
حسن کے جانے کتنے چہرے حسن کے جانے کتنے نام
عشق کا پیشہ حسن پرستی عشق بڑا ھرجائی ہے
آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا
جوں ھی دروازہ کھولا ھے اس کی خوشبو آئی ہے
ایک تو اتنا حبس ھے پھر میں سانسیں روکے بیٹھا ہوں
ویرانی نے جھاڑو دے کے گھر میں دھول اڑائی ہے
جون ایلیا

تیرے بدن کی جدائی بہت ستاتی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 199
کسی لباس کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے
تیرے بدن کی جدائی بہت ستاتی ہے
ترے گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو
تیری سفید چنبیلی تجھے بلاتی ہے
تیرے بغیر مجھے چین کیسے پڑتا
مرے بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
جون ایلیا

بس کوئی دم نہ بھرنے والے تھے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 198
وہ جو کیا کچھ نہ کرنے والے تھے
بس کوئی دم نہ بھرنے والے تھے
تھے گلے اور گرد باد کی شام
اور ہم سب بکھرنے والے تھے
وہ جو آتا تو اس کی خوشبو میں
آج ہم رنگ بھرنے والے تھے
صرف افسوس ہے یہ طنز نہیں
تم نہ سنوارے ، سنوارنے والے تھے
یوں تو مرنا ہے اک بار مگر
ہم کئی بار مرنے والے تھے
جون ایلیا

بلا کی حالتِ شوریدگی میں آئے تھے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 197
وہ اہلِ حال جو خود رفتگی میں آئے تھے
بلا کی حالتِ شوریدگی میں آئے تھے
کہاں گئے کبھی ان کی خبر تو لے ظالم
وہ بےخبر جو تیری زندگی میں آئے تھے
گلی میں اپنی گِلہ کر ہمارے آنے کا
کہ ہم خوشی میں نہیں سرخوشی میں آئے تھے
کہاں چلے گئے اے فصلِ رنگ و بُو وہ لوگ
جو زرد زرد تھے اور سبزگی میں آئے تھے
نہیں ہے جن کے سبب اپنی جانبری ممکن
وہ زخم ہم کو گزشتہ صدی میں آئے تھے
تمہیں ہماری کمی کا خیال کیوں آتا
ہزار حیف ہم اپنی کمی میں آئے تھے
جون ایلیا

پاؤں پھسلا تو آسمان میں تھے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 196
ہم کو سودا تھا سر کے مان میں تھے
پاؤں پھسلا تو آسمان میں تھے
ہے ندامت لہو نہ رویا دل
زخم دل کے کسی چٹان میں تھے
میرے کتنے ہی نام اور ہم نام
میرے اور میرے درمیان میں تھے
میرا خود پر سے اِعتماد اُٹھا
کتنے وعدے مری اُٹھان میں تھے
تھے عجب دھیان کے در و دیوار
گرتے گرتے بھی اپنے دھیان میں تھے
واہ! اُن بستیوں کے سنّاٹے
سب قصیدے ہماری شان میں تھے
آسمانوں میں گر پڑے یعنی
ہم زمیں کی طرف اُڑان میں تھے
جون ایلیا

ہم میں کچھ دلدار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 195
ہم جان و دل سے یار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
ہم میں کچھ دلدار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
آسان تھے سب کے لیئے جیسے سخن لب کے لئے
اپنے لئے دشوار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
اپنے سے ہم کو بیر تھا، خود اپنا آپا غیر تھا
اپنے سے ہم بیزار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
ہم کون تھے ہم کون تھے ، اندر سے تھےگلزار ہم
باہر سے ہم تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
رنگیں اداؤں کے لئے، شیریں نواؤں کے لئے
ہم سر بہ سر آزار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
جون ایلیا

وہ خون بھی تھوکے گا تو پرواہ نہ کریں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 194
سوچا ہے کہ اب کارِ مسیحا نہ کریں گے
وہ خون بھی تھوکے گا تو پرواہ نہ کریں گے
اس بار وہ تلخی ہے کہ روٹھے بھی نہیں ہم
اب کہ وہ کر لیتی ہے کہ جھگڑا نہ کریں گے
یاں اس کے سلیقے کے ہیں آثار تو کیا ہم
اس پر بھی یہ کمرا تہ و بالا نہ کریں گے
اب نغمہ طرازانِ برا فروختہ اے شہر!
واسوخت کہیں گے غزل انشا نہ کریں گے
ایسا ہے کہ سینے میں سلگتی ہیں خراشیں
اب سانس بھی ہم لیں گے تو اچھا نہ کریں گے
جون ایلیا

اب ہم بھی کسی شخص کی پرواہ نہ کریں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 193
اخلاق نہ برتیں گے مدارا نہ کریں گے
اب ہم بھی کسی شخص کی پرواہ نہ کریں گے
کچھ لوگ کئی لفظ غلط بول رہے ہیں
اصلاح مگر ہم بھی اب اصلا نہ کریں گے
کم گوئی کہ اک وصف حماقت ہے ہر طور
کم گوئی کو اپنائیں گے چہکا نہ کریں گے
اب سہل پسندی کو بنائیں گے وتیرہ
تا دیر کسی باب میں سوچا نہ کریں گے
غصہ بھی ہے تہذیب تعلق کا طلب گار
ہم چپ ہیں، بھرے بیٹھے ہیں، غصہ نہ کریں گے
کل رات بہت غور کیا ہے سو ہم اے جون
طے کر کے اٹھے ہیں کہ تمنا نہ کریں گے
جون ایلیا

ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 192
ہے بکھرنے کو یہ محفل رنگ و بو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر متاع نفس نذر آہنگ کی، ہم کو یاراں ہوس تھی بہت رنگ کی
گل زمیں سے ابلنے کو ہے اب لہو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
اول شب کا مہتاب بھی جا چکا صحن میخانہ سے اب افق میں کہیں
آخر شب ہے، خالی ہیں جام و سبو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر، سانحہ یہ ہے کہ اب آرزو بھی نہیں
وقت کی اس مسافت میں بے آرزو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
کس قدر دور سے لوٹ کر آئے ہیں، یوں کہو عمر برباد کر آئے ہیں
تھا سراب اپنا سرمایہ جستجو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
اک جنوں تھا کہ آباد ہو شہر جاں، اور آباد جب شہر جاں ہو گیا
ہیں یہ سرگوشیاں در بہ در کو بہ کو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
دشت میں رقص شوق بہار اب کہاں، باد پیمائی دیوانہ وار اب کہاں
بس گزرنے کو ہے موسم ہائے دہو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
ہم ہیں رسوا کن دلی و لکھنؤ ، اپنی کیا زندگی اپنی کیا آبرو
میر دلی سے نکلے گئے لکھنؤ، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
جون ایلیا

صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 191
بےدلی کیا یونہی دن گذر جائیں گے
صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہے
سب بچھڑ جائیں گے، سب بکھر جائیں گے
یہ خراباتیانِ خرد باختہ
صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے
کتنے دلکش ہو تم، کتنے دل جو ہیں ہم
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
ہے غنیمت کہ اَسرارِ ہستی سے ہم
بے خبر آئیں گے، بے خبر جائیں گے
جون ایلیا

زخم کھاتے چلے گئے ہوں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 190
ہم جو گاتے چلے گئے ہوں گے
زخم کھاتے چلے گئے ہوں گے
تھا ستم بار بار کا ملنا
لوگ بھاتے چلے گئے ہوں گے
دور تک باغ اس کی یادوں کے
لہلہاتے چلے گئے ہوں گے
فکر اپنے شرابیوں کی نہ کر
لڑکھڑاتے چلے گئے ہوں گے
ہم خود آزار تھے سو لوگوں کو
آزماتے چلے گئے ہوں گے
ہم جو دنیا سے تنگ آئے ہیں
تنگ آتے چلے گئے ہوں گے
جون ایلیا

اپنے ہی آپ تک گئے ہوں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 189
گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے
اپنے ہی آپ تک گئے ہوں گے
ہم جو اب آدمی ہیں پہلے کبھی
جام ہوں گے چھلگ گئے ہوں گے
وہ بھی اب ہم سے تھک گیا ہو گا
ہم بھی اب اس سے تھک گئے ہوں گے
شب جو ہم سے ہوا معاف کرو
نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے
کتنے ہی لوگ حرص شہرت میں
دار پر خود لٹک گئے ہوں گے
شکر ہے اس نگاہ کم کا میاں
پہلے ہی ہم کھٹک گئے ہوں گے
ہم تو اپنی تلاش میں اکثر
از سما تا سمک گئے ہوں گے
اس کا لشکر جہاں تہاں یعنی
ہم بھی بس بے کمک گئے ہوں گے
جون ، اللہ اور یہ عالم
بیچ میں ہم اٹک گئے ہوں گے
جون ایلیا

پہنچے گی جو نہ اس تک ہم اس خبر میں ہوں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 188
جب ہم کہیں نہ ہوں گے تب شہر بھر میں ہوں گے
پہنچے گی جو نہ اس تک ہم اس خبر میں ہوں گے
تھک کر گریں گے جس دم بانہوں میں تیری آ کر
اُس دَم بھی کون جانے ہم کس سفر میں ہوں گے
اے جانِ عہد و پیماں۔۔ہم گھر بسائیں گے ہاں
تُو اپنے گھر میں ہو گا۔۔ہم اپنے گھر میں ہوں گے
میں لے کے دل کے رشتے گھر سے نکل چکا ہوں
دیوار و دَر کے رشتے۔۔دیوار و دَر میں ہوں گے
تجھ عکس کے سوا بھی اے حُسن وقتِ رخصت
کچھ اور عکس بھی تو اس چشمِ تر میں ہوں گے
ایسے سراب تھے وہ ایسے تھے کچھ کہ اب بھی
میں آنکھ بند کر لوں تب بھی نظر میں ہوں گے
اس کے نقوشِ پا کو راہوں میں ڈھونڈنا کیا
جو اس کے زیر پا تھے وہ میرے سر میں ہوں گے
وہ بیشتر ہیں جن کو کل کا خیال کم ہے
تُو رُک سکے تو ہم بھی ان بیشتر میں ہوں گے
آنگن سے وہ جو پچھلے دالان تک بسے تھے
جانے وہ میرے سائے اب کِس کھنڈر میں ہوں گے
یہ تو کمر عجب ہے اِک سوچ ہے جو اَب ہے
اب جانے ہاتھ میرے کِس کمر میں ہوں گے
جون ایلیا

جانے کیسے لوگ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 187
کتنے عیش اڑاتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
جانے کیسے لوگ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے
اس کی یاد کی باد صبا میں اور تو کیا ہوتا ہو گا
یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے
یارو! کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا
وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے
جون ایلیا

غم تو جانے تھے رائیگاں اُن کے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 186
خود سے رشتے رہے کہاں اُن کے
غم تو جانے تھے رائیگاں اُن کے
مست اُن کو گماں میں رہنے دے
خانہ برباد ہیں گماں اُن کے
یار سُکھ نیند ہو نصیب اُن کو
دُکھ یہ ہے دُکھ ہیں بے اماں اُن کے
کتنی سر سبز تھی زمیں اُن کی
کتنے نیلے تھے آسماں اُن کے
نوحہ خوانی ہے کیا ضرور انہیں
ان کے نغمے ہیں نوحہ خواں اُن کے
جون ایلیا

یہ ہنر کِس کو دکھایا میں نے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 185
کر لیا خود کو جو تنہا میں نے
یہ ہنر کِس کو دکھایا میں نے
وہ جو تھا اس کو مِلا کیا مجھ سے
اس کو تو خواب ہی سمجھا میں نے
دل جلانا کوئی حاصل تو نہ تھا
آخرِ کار کیا کیا میں نے
دیکھ کر اس کو ہُوا مست ایسا
پھر کبھی اسکو نہ دیکھا میں نے
شوقِ منزل تھا بُلاتا مجھ کو
راستہ تک نہیں ڈھونڈا میں نے
اک پلک تجھ سے گزر کر ، تاعمر
خود ترا وقت گزارا میں نے
اب کھڑا سوچ رہا ہوں لوگو!
کیوں کیا تم کو اِکھٹا میں نے
جون ایلیا

وہ کون تھا جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 184
گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے
وہ کون تھا جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے
ترا خیال تو ہے پر ترا وجود نہیں
ترے لئے تو یہ محفل سجائی تھی میں نے
ترے عدم کو گوارا نہ تھا وجود مرا
سو اپنی بیخ کنی میں کمی نہ کی میں نے
ہیں تیری ذات سے منسوب صد فسانہ ءِ عشق
اور ایک سطر بھی اب تک نہیں لکھی میں نے
خود اپنے عشوہ و انداز کا شہید ہوں میں
خود اپنی ذات سے برتی ہے بے رخی میں نے
مرے حریف مری یکہ تازیوں پہ نثار
تمام عمر حلیفوں سے جنگ کی میں نے
خراشِ نغمہ سے سینہ چھلا ہوا میرا
فغاں کہ ترک نہ کی نغمہ پروری میں نے
دوا سے فائدہ مقصود تھا ہی کب کہ فقط
دوا کے شوق میں صحت تباہ کی میں نے
زبانہ زن تھا جگر سوز تشنگی کا عذاب
سو جوفِ سینہ میں دوزخ انڈیل لی میں نے
سرورِ مے پہ بھی غالب رہا شعور مرا
کہ ہر رعایتِ غم ذہن میں رکھی میں نے
غمِ شعور کوئی دم تو مجھ کو مہلت دے
تمام عمر جلایا ہے اپنا جی میں نے
علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں
وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے
رہا میں شاہدِ تنہا نشینِ مسندِ غم
اور اپنے کربِ انا سے غرض رکھی میں نے
جون ایلیا

جانا تھا کس سمت کو جانے بس بے اٹکل چل نکلے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 183
باد بہاری کے چلتے ہی لہری پاگل چل نکلے
جانا تھا کس سمت کو جانے بس بے اٹکل چل نکلے
جو ہلچل مارے تھے، ان کو دوش نہ دو نردوش ہیں وہ
دوش ہمیں دو، اس بستی سے ہم بے ہلچل چل نکلے
پاس ادب کی حد ہوتی ہے ہم پہلے ہی کہتے تھے
کل تک جن کو پاس تھا ان کا وہ ان سے کل چل نکلے
کچھ مت پوچھو حیف آتا ہے وحشت کے بے حالوں پر
وحشت جب پر حال ہوئی تو چھوڑ کے جنگل چل نکلے
خون بھی اپنا سیر طلب تھا ہم بھی موجی رنگ کے تھے
یوں بھی تھا نزدیک ہی مقتل سوئے مقتل چل نکلے
جون ایلیا

وہ سوراخوں سے کالے ناگ نکلے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 182
دھرم کی بانسری سے راگ نکلے
وہ سوراخوں سے کالے ناگ نکلے
رکھو دیر و حرم کو اب مقفّل
کئی پاگل یہاں سے بھاگ نکلے
وہ گنگا جل ہو یا آبِ زمزم
یہ وہ پانی ہیں جن سے آگ نکلے
خدا سے لے لیا جنت کا وعدہ
یہ زاہد تو بڑے ہی گھاگ نکلے
ہے آخر آدمیت بھی کوئی شے
ترے دربان تو بُل ڈاگ نکلے
یہ کیا انداز ہے اے نکتہ چینو
کوئی تنقید تو بے لاگ نکلے
پلایا تھا ہمیں امرت کسی نے
مگر منہ سے لہو کے جھاگ نکلے
جون ایلیا

جی نہیں لگ رہا کئی دن سے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 181
غم ہے بے ماجرا کئی دن سے
جی نہیں لگ رہا کئی دن سے
بے شمیمِ ملال و حیراں ہے
خیمہ گاہِ صبا کئی دن سے
دل محلے کی اس گلی میں بَھلا
کیوں نہیں غُل مچا کئی دن سے
وہ جو خوشبو ہے اس کے قاصد کو
میں نہیں مِل سکا کئی دن سے
اس سے بھی اور اپنے آپ سے بھی
ہم ہیں بےواسطہ کئی دن سے
جون ایلیا

وہ خوشبو لوٹ آئی ہے سفر سے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 180
مہک اٹھا ہے آنگن اس خبر سے
وہ خوشبو لوٹ آئی ہے سفر سے
جدائی نے اُسے دیکھا سرِبام
دریچے پر شفق کے رنگ برسے
میںِاس دیوار پر چڑھ تو گیا تھا
اُتارے کون اب دیوار پر سے
گلہ ہے ایک گلی سے شہرِدل کی
میں لڑتاِپھر رہا ہوں شہر بھر سے
اسے دیکھے زمانے بھر کا یہ چاند
ہماری چاندنی سائے کو ترسے
میرے مانند گذرا کر میری جان
کبھی تو خود بھی اپنی رہگزر سے
جون ایلیا