زمرہ جات کے محفوظات: غزل

اسِیروں کے کسی قابل اگر صیاد پر ہوتے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 116
قفس میں محوِ زاری کاہے کو شام و سحر ہوتے
اسِیروں کے کسی قابل اگر صیاد پر ہوتے
مجھے صورت دیکھا کر چاہے پھر دشمن کے گھر ہوتے
دم آنکھو میں نہ رک جاتا اگر پیشِ نظر ہوتے
چلو بیٹھو شبِ فرقت کو دعا دو ضبط کو ورنہ
مرے نالوں کو سنتے اور تم دشمن کے گر ہوتے
علاجِ دردِ شامِ غم مسیحا ہو چکا جاؤ
مریضِ ہجر کی میت اٹھا دینا سحر ہوتے
مداوا جب دلِ صد چاک کا ہوتا شبِ فرقت
رفو کے واسطے تارے گریبانِ سحر ہوتے
قمر اللہ جانے کون تھا کیا تھا شبِ وعدہ
مثالِ درد جو پہلو سے اٹھا تھا سحر ہوتے
قمر جلالوی

وہ کیا ہیں ان کے فرشتے بھی گفتگو کرتے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 115
بیاں جو حشر میں ہم وجہ آرزو کرتے
وہ کیا ہیں ان کے فرشتے بھی گفتگو کرتے
تری گلی میں بیاں کس سے آرزو کرتے
کسی کو جانتے ہوتے تو گفتگو کرتے
لحد میں جا کے بھی ہم مے کی جستجو کرتے
فرشتے پوچھتے کچھ، ہم سبو سبو کرتے
حفاظتِ گل و غنچہ نہ چار سو کرتے
اگر یہ خار نہ احساسِ رنگ و بو کرتے
قفس میں کیسے بیاں حالِ رنگ و بو کرتے
پروں کی خیر مناتے کہ گفتگو کرتے
یہاں نمازِ جنازہ ہے ختم ہونے کو
حضور ہیں کہ ابھی تک نہیں وضو کرتے
بہار دیکھ کے کیا کیا ہنسے ہیں دیوانے
کہ پھول چاک گریباں نہیں، رفو کرتے
جنوں میں جب ہوش آیا تو ہوش ہی نہ رہا
کہ اپنے چاکِ گریباں کو ہم رفو کرتے
نہ ملتی خاک میں دامن سے گر کے یوں شبنم
چمن کے پھول اگر پاسِ آبرو کرتے
یہ کہہ رہ گیا ہو گا کوئی ستم ورنہ
حضور اور میری جینے کی آرزو کرتے
یں سخت جاں کہ قاتل کا ہاتھ نازک ہے
یہ کل کو فیصلہ خود خنجر و گلو کرتے
قمر یقین جو کرتے ہم ان کے وعدے پر
تمام رات ستاروں سے گفتگو کرتے
قمر جلالوی

یہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 114
لحد اور حشر میں یہ فرق کم پائے نہیں جاتے
یہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتے
کسی محفل میں بھی ایسے چلن پائے نہیں جاتے
کہ بلوائے ہوئے مہماں اٹھوائے نہیں جاتے
زمیں پر پاؤں رکھنے دے انھیں اے نازِ یکتائی
کہ اب نقشِ قدم ان کے کہیں پائے نہیں جاتے
تجھے اے دیدہ فکر کیوں ہے دل کے زخموں کی
کہ بے شبنم کے بھی یہ پھول مرجھائے نہیں جاتے
جنوں والوں کو کیا سمجھاؤ گے یہ وہ زمانہ ہے
خِرد والے خِرد والوں سے سمجھائے نہیں جاتے
وقارِ عشق یوں بھی شمع کی نظروں میں کچھ کم ہے
پتنگے خود چلے آتے ہیں بلوائے نہیں جاتے
فضیلت ہے یہ انساں کی وہاں تک پہنچاتا ہے
فرشتے کیا فرشتوں کے جہاں سائے نہیں جاتے
بس اتنی بات پر چھینی گئی ہے رہبری ہم سے
کہ ہم سے کارواں منزل پہ لٹوائے نہیں جاتے
قمر کی صبح پوچھئے سورج کی کرنوں سے
ستارے تو گوآ ہی کے لیے آئے نہیں جاتے
قمر جلالوی

دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیئے ہوئے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 113
دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیئے ہوئے
دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیئے ہوئے
دیکھا خدا پہ چھوڑ کہ کشتی کو نا خدا
جیسے خود آگیا کوئی ساحل لیئے ہوئے
دیکھ ہمارے صبر کی ہمت نہ ٹوٹ جائے
تم رات دن ستاؤ مگر دل لیئے ہوئے
وہ شب بھی یاد ہے کہ میں پہنچا تھا بزم میں !
اور تم اٹھے تھے رونق محفل لیئے ہوئے
اپنی ضروریات ہیں اپنی ضروریات
آنا پڑا مطلب تمہیں دل لیئے ہوئے
بیٹھا جو دل تو چاند دکھا کر کہا قمر !
وہ سامنے چراغ ہے منزل لیئے ہوئے
قمر جلالوی

بس تمھارا نام کافی زمانے کے لئے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 112
سرخیاں کیا ڈھونڈ کر لاؤں فسانے کے لئے
بس تمھارا نام کافی زمانے کے لئے
موجیں ساحل سے ہٹاتیں ہیں حبابوں کا ہجوم
وہ چلے آئے ہیں ساحل پر نہانے کے لئے
سوچتا ہوں اب کہیں بجلی گری تو کیوں گری
تنکے لایا تھا کہاں سے آشیانے کے لئے
چھوڑ کر بستی یہ دیوانے کہاں سے آ گئے
دشت کی بیٹھی بٹھائی خاک اڑانے کے لئے
ہنس کر کہتے ہو زمانہ بھر مجھی پہ جان دے
رہ گئے ہو کیا تمھیں سارے زمانے کے لئے
شام کو آؤ گے تم اچھا ابھی ہوتی ہے شام
گیسوؤ کو کھل دو سورج چھپانے کے لئے
کائناتِ عشق اک دل کے سوا کچھ بھی نہیں
وہ ہی آنے کے لئے ہے وہ ہی جانے کے لئے
اے زمانے بھر کو خوشیاں دینے والے یہ بتا
کیا قمر ہی رہ گیا ہے غم اٹھانے کے لئے
قمر جلالوی

ہر اک شاخِ چمن پر پھول بن کر جام آ جائے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 111
بہار آ جائے گر وہ ساقی گلفام آ جائے
ہر اک شاخِ چمن پر پھول بن کر جام آ جائے
بہار ایسی کوئی اے گردشِ ایام آ جائے
بجائے صید خود صیاد زیرِ دام آ جائے
مرا دل ٹوٹ جانے کی صدا رسوا نہ ہو یا رب
کوئی ایسے میں شکستِ جام آ جائے
تماشہ دیکھنے کیوں جا رہے ہو خونِ ناحق کا
حنائی ہاتھ ہیں تم پر نہ کچھ الزام آ جائے
ہمارا آشیانہ اے باغباں غارت نہ کر دینا
ہمارے بعد ممکن ہے کسی کے کام آ جائے
خدا کے سامنے یوں تک رہا ہے سب کے منہ قاتل
کسی پر بے خطا جیسے کوئی الزام آ جائے
ستم والوں سے پرسش ہو رہی ہے میں یہ ڈرتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو تم پر کوئی الزام آ جائے
قمر اس آبلہ پا راہ رو کی بے بسی توبہ
کہ منزل سامنے ہو اور سر پر شام آ جائے
قمر جلالوی

نہیں دن کو جو فرصت تمھیں تو رات سہی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 110
وفائے وعدہ میں اچھا تمھاری بات سہی
نہیں دن کو جو فرصت تمھیں تو رات سہی
مگر ہمیں تو نگاہِ عتاب سے ہی نواز
عدہ کی سمت تری چشمِ التفات سہی
جو چاہو کہہ لو کہ مجبورِ عشق ہوں ورنہ
تمھیں بتاؤ کہ کس کی بات سہی
تو پھر بتاؤ کہ یہ آنکھوں میں سر خیال کیوں ہیں
غلط وہ محفل دشمن کی واردات سہی
رقیب چھائے ہوئے ہیں مثال ابرِ ان پر
قمر نہ آئیں گے وہ لاکھ چاند رات سہی
قمر جلالوی

لٹ لٹ کے اب خزانے میں دولت نہیں رہی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 109
مٹ مٹ کے اب دل میں کوئی حسرت نہیں رہی
لٹ لٹ کے اب خزانے میں دولت نہیں رہی
ہو کر عزیز مجھ کو ملاتے ہیں خاک میں
دنیا میں نام کو بھی محبت نہیں رہی
اے درد تو ہی اٹھ کہ وہ آئیں ہیں دیکھنے
تعظیم کے مریض میں طاقت نہیں رہی
کیونکر نبھے گی بعد مرے یہ خیال ہے
غیروں کے گھر کبھی شبِ فرقت نہیں رہی
دیکھا تھا آج ہم نے قمر کو خدا گواہ
پہلی سی اب غریبوں کی صورت نہیں رہی
قمر جلالوی

کہ ہے نخلِ گل کاتو ذکر کیا کوئی شاخ تک نہ ہری رہی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 108
مجھے باغباں سے گلہ یہ ہے کہ چمن سے بے خبری رہی
کہ ہے نخلِ گل کاتو ذکر کیا کوئی شاخ تک نہ ہری رہی
مرا حال دیکھ کے ساقیا کوئی بادہ خوار نہ پی سکا
ترا جام خالی نہ ہو سکے مری چشمِ تر نہ بھر رہی
میں قفس کو توڑ کے کیا کروں مجھ رات دن یہ خیال ہے
یہ بہار بھی یوں ہی جائے گی جو یہی شکستہ پری رہی
مجھے علم میں تیرے جمال کا نہ خبر ہے ترے جلال کی
یہ کلیم جانے کہ طور پر تری کیسی جلوہ گری رہی
میں ازل سے آیا تو کیا ملا جو میں جاؤں گا تو ملے گا کیا
مری جب بھی دربدری رہی مری اب بھی دربدری رہی
یہی سوچتا ہوں شبِ الم کہ نہ آئے وہ تو ہوا ہے کیا
وہاں جا سکی نہ مری فغاں کہ فغاں کی بے اثری رہی
شبِ وعدہ جو نہ آسکے تو قمر کہوں گا چرخ سے
ترے تارے بھی گئے رائیگاں تری چاندنی بھی دھری رہی
قمر جلالوی

تجھ سے سائے کی طرح جو نہ ہوا دور کبھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 107
پاس اس کا بھی تو کر اے بتِ مغرور کبھی
تجھ سے سائے کی طرح جو نہ ہوا دور کبھی
شکوۂ حسن نہ کرنا دلِ رنجور کبھی
عشق والوں نے یہ بدلا نہیں دستور کبھی
خود ہی آ جائے تو آ جائے ترا نور کبھی
ورنہ اب موسیٰ نہ جائیں گے سرِ طور کبھی
حق کی کہنا انا الحق کی صدا سے پہلے
ایسی معراج ملی تھی تجھے منصور کبھی
دیکھو آئینے نے آخر کو سکھا دی وہی بات
ہم نہ کہتے تھے کہ ہو جائے گا مغرور کبھی
جانے کب کب کے لیئے دھوپ نے بدلے مجھ سے
تیری دیوار کا سایہ جو ہوا دور کبھی
چاندنی ایسے کھلی ہو گئے ذرے روشن
داغ سینے سے قمر کے نہ ہوا دور کبھی
قمر جلالوی

اتنے کہاں ہوئے ہیں مرے بال و پر ابھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 106
قیدِ قفس سے چھٹ کے پہنچ جاؤں گھر ابھی
اتنے کہاں ہوئے ہیں مرے بال و پر ابھی
بیمارِ ہجر آئی کہاں سے سحر ابھی
تارہ کوئی نہیں ہے ادھر سے ادھر ابھی
صیاد صرف پاسِ وفا ہے جو ہوں خموش
ورنہ خدا کے فضل سے ہیں بال و پر ابھی
کیا آ رہے ہو واقعی تم میرے ساتھ ساتھ
یہ کام کر رہا ہے فریبِ نظر ابھی
کیوں روتے روتے ہو گئے چپ شامِ غم قمر
تارے بتا رہے ہیں نہیں ہے سحر ابھی
قمر جلالوی

آتا ہوں ہے کے گھر سے تیری قسم ابھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 105
وہ فتنہ ساز دے کے گیا ہے یہ دم ابھی
آتا ہوں ہے کے گھر سے تیری قسم ابھی
ظالم وہ دیکھ پاس سے اٹھتے ہیں چارہ گر
تیرے مریضِ ہجر نے توڑا ہے دم ابھی
ان کے لیئے تو کھیل ہے دنیا کا انقلاب
چاہیں تو بتکدے کو بنا دیں حرم ابھی
کیا آپ سا کوئی نہیں ہے جہاں میں
اچھا حضور آئینہ لاتے ہیں ہم ابھی
کوچے سے ان کے اٹھتے ہی یوں بدحواس ہوں
آیا ہوں جیسے چھوڑ کے باغِ ارم ابھی
ذوق الم میں حق سے دعا مانگتا ہوں میں
جتنے بھی مجھ کو دینے ہیں دے دے الم ابھی
شکوے فضول گردشِ دوراں کے اے قمر
یہ آسماں نہ چھوڑے گا جورو ستم ابھی
قمر جلالوی

اسی گلشن اسی ڈالی پہ ہو گا آشیاں پھر بھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 104
اگر زندہ رہیں تو آئیں گے اے باغباں پھر بھی
اسی گلشن اسی ڈالی پہ ہو گا آشیاں پھر بھی
سمجھتا ہے کہ اب میں پا شکستہ اٹھ نہیں سکتا
مگر مڑ مڑ کہ تکتا جا رہا ہے کارواں پھر بھی
بہت کچھ یاد کرتا ہوں کہ یا رب ماجرا کیا ہے
وہ مجھ کو بھول بیٹھے آ رہے ہیں ہچکیاں پھر بھی
سمجھتا ہوں انھیں نیند آ گئی ہے اب نہ چونکیں گے
مگر میں ہوں سنائے جا رہا ہوں داستاں پھر بھی
قمر حالانکہ طعنے روز دیتا ہوں جفاؤں کے
جدا کرتا نہیں سینہ سے مجھ کو آسماں پھر بھی
قمر جلالوی

ہم نے مارا نہ آج تک دم بھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 103
تیرے طعنے سنے سہے غم بھی
ہم نے مارا نہ آج تک دم بھی
میری میت تو کیا اٹھاؤ گے
تم نہ ہو گے شریکِ ماتم بھی
باغباں برق کیا گلوں پہ گری
ترے گلشن میں لٹ گئے ہم بھی
جلتے رہتے ہیں تری محفل میں
یہ پتنگے بھی، شمع بھی، ہم بھی
کاروانِ رہِ عدم والو
ٹھہرو کپڑے بدل چکے ہیں ہم بھی
قمر جلالوی

قسم کھائی ہوئی توبہ بڑی مشکل سے ٹوٹے گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 102
غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی
قسم کھائی ہوئی توبہ بڑی مشکل سے ٹوٹے گی
تمھیں رستے میں رہبر چھوڑ دیں گے قافلے والو
اگر ہمت تمھاری دوریِ منزل سے ٹوٹے گی
جو یہ کار نمایاں تو میری سخت جانی کا
بھلا تلوار زورِ بازوئے قاتل سے ٹوٹے گی
نگاہِ قیس ٹکراتی رہے سارباں کب تک
یہ بندش بھی کسی دن پردۂ محمل سے ٹوٹے گی
غرورِ نا خدائی سامنے آ جائے گا اک دن
یہ کشتی یک بہ یک ٹکرا کے جب ساحل سے ٹوٹے گی
قمر اختر شماری کے لئے تیار ہو جاؤ
کہ اب رسمِ محبت اس مہِ کامل سے ٹوٹے گی
قمر جلالوی

ادھر اندھیرے میں چل پڑوں گا جدھر مجھے روشنی ملے گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 101
بلا سے ہو شام کی سیآ ہی کہیں تو منزل مری ملے گی
ادھر اندھیرے میں چل پڑوں گا جدھر مجھے روشنی ملے گی
ہجومِ محشر میں کیسا ملنا نظر فریبی بڑی ملے گی
کسی سے صورت تری ملے گی کسی سے صورت مری ملے گی
تمھاری فرقت میں تنگ آ کر یہ مرنے والوں کا فیصلہ ہے
قضا سے جو ہمکنار ہو گا اسے نئی زندگی ملے گی
قفس سے جب چھٹ کے جائیں گے ہم تو سب ملین گے بجز نشیمن
چمن کا ایک ایک گل ملے گا چمن کی اک اک کلی ملے گی
تمھاری فرقت میں کیا ملے گا، تمھارے ملنے سے کیا ملے گا
قمر کے ہوں گے ہزار ہا غم رقیب کو اک خوشی ملے گی
قمر جلالوی

وہ تو وہ ان کے فرشتوں کو خبر ہو جائے گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 100
آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی
وہ تو وہ ان کے فرشتوں کو خبر ہو جائے گی
پوری کیا موسیٰؑ تمنا طور پر ہو جائے گی
تم اگر اوپر گئے نیچی نظر ہو جائے گی
کیا ان آہوں سے شبِ غم مختصر ہو جائے گی
یہ سحر ہونے کی باتیں ہیں سحر ہو جائے گی ؟
آ تو جائیں گے وہ میری آہِ پر تاثیر سے
محفلِ دشمن میں رسوائی مگر ہو جائے گی
کس سے پوچھیں کے وہ میرے رات کے مرنے کا حال
تو بھی اب خاموش اے شمعِ سحر ہو جائے گی
یہ بہت اچھا ہوا آئیں گے وہ پہلے پہر
چاندنی بھی ختم جب تک اے قمر ہو جائے گی
قمر جلالوی

دھواں تنکوں سے اٹھے گا چمن میں روشنی ہو گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 99
اگر صیاد یہ بجلی نشیمن پہ گری ہو گی
دھواں تنکوں سے اٹھے گا چمن میں روشنی ہو گی
ستم گر حشر میں وہ بھی قیامت کی گھڑی ہو گی
ترے دامن پہ ہو گا ہاتھ دنیا دیکھتی ہو گی
مجھے شکوے بھی آتے ہیں مجھے نالے بھی آتے ہیں
مگر یہ سوچ کر چپ ہوں کی رسوا عاشقی ہو گی
تو ہی انصاف کر جلوہ ترا دیکھا نہیں جاتا
نظر کا جب یہ عالم ہے تو دل پر کیا بنی ہو گی
اگر آ جائے پہلو میں قمر وہ ماہِ کامل بھی
دو عالم جگمگا اٹھیں گے دوہری چاندنی ہو گی
قمر جلالوی

کہ اے شمعِ فرقت نہ ہم ہونگے نہ تو ہو گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 98
اگر وہ صبح کو آئے تو کس سے گفتگو ہو گی
کہ اے شمعِ فرقت نہ ہم ہونگے نہ تو ہو گی
حقیقت جب تجھے معلوم اے دیوانہ خو ہو گی
جب ان کی جستجو کے بعد اپنی جستجو ہو گی
ملیں گے ہو بہو تجھ سے حسیں آئینہ خانے میں
کسی سے کچھ نہ کہنا ورنہ تم سے دو بدو ہو گی
مآلِ گل کو جب تک آنکھ سے دیکھا نہیں ہو گا
کلی کو پھول بن جانے کی کیا کیا آرزو ہو گی
دلِ مضطرب تو اس محفل میں نالے ضبط کر لے گا
مگر اے چشمِ گریاں تو بہت بے آبرو ہو گی
حریمِ ناز تک تو آگیا ہوں کس سے کیا پوچھوں
یہاں جلوہ دکھایا جائے گا یا گفتگو ہو گی
جنھیں اے راہبر لٹوا رہے ہیں راہِ منزل میں
خدا معلوم ان کے دل میں کیا کیا آرزو ہو گی
ہمارا کیا ہے ارمانِ وفا میں جان دے دیں گے
مگر تم کیا کرو گے جب تمھیں یہ آرزو ہو گی
یہ بلبل جس کی آوازیں خزاں میں اتنی دلکش ہیں
بہاروں میں خدا معلوم کتنی خوش گلو ہو گی
قمر سنتے ہیں تو شیخ صاحب آج توڑیں گے
سجے گا میکدہ آرائشِ جام و سبو ہو گی
قمر جلالوی

بلبلوں نے عمر بھر میری کہانی یاد کی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 97
داستاں اوراقِ گل پر تھی مجھی ناشاد کی
بلبلوں نے عمر بھر میری کہانی یاد کی
مجھ سے روٹھا ہے خودی دیکھو بتِ جلاد کی
مدعا یہ ہے کہ کیوں اللہ سے فریاد کی
قبر ٹھوکر سے مٹا دی عاشقِ ناشاد کی
یہ بھی اک تاریخ تھی ظالم تری بیداد کی
کیا ملے دیکھیں اسیروں کو سزا فریاد کی
آج کچھ بدلی ہوئی سی ہے نظر صیاد کی
رات میں بلبل تجھے سوجھی تو ہے فریاد کی
آنکھ سوتے سے نہ کھل جائے کہیں صیاد کی
آگیا ان کو رحم اے دل تو نے کیوں فریاد کی
اب ہمیں امید بھی جاتی رہی بیداد کی
جس جگہ پہنچا وہیں آمد سنی صیاد کی
کیا بری تقدیر ہے مجھے خانماں برباد کی
فصلِ گل آتے ہی میرے چار تنکوں کے لیے
بجلیاں بے تاب ہیں چرخِ ستم ایجاد کی
ہو گیا بیمار کا دو ہچکیوں میں فیصلہ
ایک ہچکی موت کی اور اک تمھاری یاد کی
جاؤ بس رہنے بھی دو آئے نہ تم تو کیا ہوا
کیا کوئی میت نہ اٹھی عاشقِ ناشاد کی
اب مرے اجڑے نشیمن کی الٰہی خیر ہو
آج پھر دیکھی ہے صورت خواب میں صیاد کی
کس طرح گزری شبِ فرقت قمر سے یہ نہ پوچھ
کچھ ستارے گن لئے، کچھ روئے، کچھ فریاد کی
قمر جلالوی

وہ دو سانس کا دم اور یہ شب چار پہر کی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 96
بیمار کو کیا خاک ہوا امید سحر کی
وہ دو سانس کا دم اور یہ شب چار پہر کی
مہماں ہے کبھی میری کبھی غیر کے گھر کی
تو اے شبِ فرقت ادھر کی نہ ادھر کی
اللہ رے الفت بتِ کافر ترے در کی
منت مجھے درباں کی نہ کرنی تھی مگر کی
بیمار شبِ ہجر کی ہو خیر الٰہی
اتری ہوئی صورت نظر آتی ہے سحر کی
اس وعدہ فراموش کے آنسو نکل گئے
بیمار نے جو چہرے پر حسرت سے نظر کی
اے شمع مرے حال پہ تو روئے گی کب تک
مجھ پر تو مصیبت ہے ابھی چار پہل کی
یہ وقت وہ ہے غیر بھی اٹھ کر نہیں جاتے
آنکھوں میں مرا دم ہے تمہیں سوجھی ہے گھر کی
دم توڑنے والا ہے مریضِ خمِ گیسو
سوجھی ہے مسافر کو سرِ شام سفر کی
جاؤ بھی شبِ وعدہ رکھا خوب پریشاں
رہنے دو قسم کھا گئے جھوٹی مرے سر کی
ہر اک سے کہتے ہو کہ وہ مرتا مجھ پر
چاہے کبھی صورت بھی نہ دیکھی ہو قمر کی
قمر جلالوی

بات تھی آئی گئی ہو گئی دیوانوں کی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 95
عمر بھر خاک ہی کیا چھانتے ویرانوں کی
بات تھی آئی گئی ہو گئی دیوانوں کی
کون کہہ دے گا کہ باتیں ہیں دیوانوں کی
دھجیاں جیب میں رکھی ہیں گریبانوں کی
جا چکے چھوڑ کر آزادیاں ویرانوں کی
اب تو بستی میں خبر جائے گی دیوانوں کی
یادگاریں نہیں کچھ اور تو دیوانوں کی
دھجیاں ملتی ہیں صحرا میں گریبانوں کی
خیر محفل میں نہیں حسن کے دیوانوں کی
شمع کے بھیس میں موت آئی ہے پروانوں کی
تو بھی کب توڑنے کو پھول چلا ہے گلچیں
آنکھ جب کھل گئی گلشن کے نگہبانوں کی
صرف اک اپنی نمودِ سرِ محفل کے لئے
لاکھوں قربانیاں دیں شمع نے پروانوں کی
شمع کے بعد پتنگوں نے کسی کو پوچھا
کہیں پرسش ہوئی ان سوختہ سامانوں کی
لنگر اٹھتا تھا کہ اس طرح سے کشتی بیٹھی
جیسے ساحل سے حدیں مل گئیں طوفانوں کی
اے قمر رات کو مے خانے میں اتنا تھا ہجوم
قسمتیں کھل گئیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کی
قمر جلالوی

داستاں کہنے کو بیٹھا ہوں دلِ نا شاد کی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 94
سامنے تصویر رکھ کر اس ستم ایجاد کی
داستاں کہنے کو بیٹھا ہوں دلِ نا شاد کی
کیا کروں چونکے نہ وہ قسمت دلِ نا شاد کی
جس قدر فریاد مجھ سے ہو سی فریاد کی
اس قدر رویا کہ ہچکی بندھ گئے صیاد کی
لاش جب نکلی قفس سے بلبلِ نا شاد کی
دفن سے پہلے اعزا ان سے جا کر پوچھ لیں
اور تو حسرت کوئی باقی نہیں بے دار کی
کاٹتا ہے پر کے نالوں پر بڑھا دیتا ہے قید
اے اسیرانِ قفس عادت ہے کیا صیاد کی
شام کا ہے وقت قبروں کو نہ ٹھکرا کر چلو
جانے کس عالم میں ہے میت کسی ناشاد کی
دور بیٹھا ہوں ثبوتِ خون چھپائے حشر میں
پاس اتنا ہے کہ رسوائی نہ ہو جلاد کی
کیا مجھی کم بخت کی تربت تھی ٹھوکر کے لئے
تم نے جب دیکھا مجھے مٹی مری برباد کی
کھیل اس کمسنے کا دیکھو نام لے لے کر مرا
ہاتھ سے تربت بنائی پاؤں سے برباد کی
کہہ رہے ہو اب قمر سابا وفا ملتا نہیں
خاک میں مجھ کو ملا بیٹھے تو میری یاد کی
قمر جلالوی

ترے منہ پر کہی تیری مرے منہ پر کہی میری

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 93
یہ آئینے کی سازش تھی کچھ خطا بھی نہ تھی میری
ترے منہ پر کہی تیری مرے منہ پر کہی میری
تعلق مجھ سے کیا اے درد کیوں مجھ کو ستاتا ہے
نہ تجھ سے دوستی میری نہ تجھ سے دشمنی میری
لڑکپن دیکھئے گلگشت میں وہ مجھ سے کہتے ہیں
چمن میں پھول جتنے ہیں وہ سب تیرے کلی میری
کوئی اتنا نہیں ہے آ کے جو دو پھول رکھ جائے
قمر تربت پر بیٹھی رو رہی ہے بے کسی میری
قمر جلالوی

جو ہم پی کر چلے آئے تو میخانے پہ کیا گزری

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 92
نہ جانے ساغر و مینا پہ پیمانے پہ کیا گزری
جو ہم پی کر چلے آئے تو میخانے پہ کیا گزری
بڑی رنگینیاں تھیں اولِ شب ان کی محفل میں
بتاؤ بزم والو رات ڈھل جانے پہ کیا گزری
چھپائیں گے کہاں تک رازِ محفل شمع کے آنسو
کہے گی خاکِ پروانہ کہ پروانے پہ کیا گزری
مرا دل جانتا ہے دونوں منظر میں نے دیکھے ہیں
ترے آنے پہ کیا گزری ترے جانے پہ کیا گزری
بگولے مجھ سے کوسوں دور بھاگے دشتِ وحشت میں
بس اتنا میں نے پوچھا تھا کہ دیوانے پہ کیا گزری
گری فصلِ چمن پر برق دیوانے یہ کیا جانیں
مصیبت باغ پر گزری تھی ویرانے پہ کیا گزری
قمر جھیلے دِلِ صد چاک نے الفت میں دکھ کیا کیا
کوئی زلفوں سے اتنا پوچھ لے شانے پہ کیا گزری
قمر جلالوی

تو نے جسے ستایا تو نے جسے دغا دی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 91
میں کون ہوں بتا دوں او بھولنے کی عادی
تو نے جسے ستایا تو نے جسے دغا دی
مجھ تشنہ لب کی ساقی تشنہ لبی بڑھا دی
دے کر ذرا سا پانی اک آگ سی لگا دی
ایسی بھی کیا جفائیں برہم ہو نظمِ الفت
تو نے تو فقرِ دل کی بنیاد ہی ہلا دی
جب چاہا رخ پہ چن لی اس سے مہ جبیں نے افشاں
جب چاہا دن میں دنیا تاروں سے جگمگا دی
اہلِ چمن نے اتنا پوچھا نہ بوئے گل سے
آوارہ پھر رہی ہے کیوں اے حسین زادی
قمر جلالوی

تری بہار تو کیا ہے خزاں نہیں رہتی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 90
ہوا کسی کی بھی اے باغباں نہیں رہتی
تری بہار تو کیا ہے خزاں نہیں رہتی
سنے جو حشر میں شکوے نظر بدل کئے
کہیں بھی بند تمھاری زباں نہیں رہتی
نہ دے تسلیاں صیاد برق گرنے پر
یہ بے جلائے ہوئے آشیاں نہیں رہتی
کئے جو سجدے تو دیر و حرم پکار اٹھے
خدا کی ذات مقید یہاں نہیں رہتی
قمر وہاں سے میں کشتی بچا کہ لایا ہوں
کسی کی ناؤ سلامت جہاں نہیں رہتی
قمر جلالوی

گریباں پاؤں میں ہوتا گلے میں آستیں ہوتی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 89
مری وحشت کی شہرت جب زمانے میں کہیں ہوتی
گریباں پاؤں میں ہوتا گلے میں آستیں ہوتی
مشیت اے بتو، اللہ کی خالی نہیں ہوتی
خدائی تم نہ کر لیتے اگر دنیا حسیں ہوتی
کوئی ضد نہ تھی کوچے میں در ہی کے قریں، ہوتی
جہاں پر آپ کہہ دیتے مری تربت وہیں ہوتی
پسِ مردن مجھے تڑپانے والے دل یہ بہتر تھا
تری تربت کہیں ہوتی مری تربت کہیں ہوتی
اثر ہے کس قدر قاتل تری نیچی نگاہوں کا
شکایت تک خدا کے سامنے مجھ سے نہیں ہوتی
ہمیشہ کا تعلق اور اس پر غیر کی محفل
یہاں تو پردہ پوشِ چشمِ گریاں آستیں ہوتی
نہ رو اے بلبل ناشاد مجھ کمبخت کے آگے
کہ تابِ ضبط اب دکھے ہوئے دل سے نہیں ہوتی
شبِ فرقت یہ کہہ کر آسماں سے مر گیا کوئی
سحر اب اس طرح ہو گی اگر ایسے نہیں ہوتی
قسم کھاتے ہو میرے سامنے وعدے پہ آنے کی
چلو بیٹھو وفا داروں کی یہ صورت نہیں ہوتی
بجا ہے آپ بزمِ عدو سے اٹھ کے آ جاتے
اگر نالے نہ کرتا میں تو ساری شب وہیں ہوتی
ترے کوچے کے باہر یہ سمجھ کر جان دیتا ہوں
کہ مرتا ہے جہاں کوئی وہیں تربت نہیں ہوتی
شبِ مہتاب بھی تاریک ہو جاتی ہے آنکھوں میں
قمر جب میرے گھر وہ چاند سی صورت نہیں ہوتی
قمر جلالوی

بگولوں سے ہماری قبر پہچانی نہیں جاتی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 88
نشاں کیونکر مٹا دیں یہ پریشانی نہیں جاتی
بگولوں سے ہماری قبر پہچانی نہیں جاتی
خدائی کی ہے یہ ضد اے بت یہ نادانی نہیں جاتی
زبردستی کی منوائی ہوئی مانی نہیں جاتی
ہزاروں بار مانی حسن نے ان کی وفاداری
مگر اہلِ محبت ہیں کہ قربانی نہیں جاتی
سحر کے وقت منہ کلیوں نے کھولا ہے پئے شبنم
ہوا ٹھنڈی ہے مگر پیاس بے پانی نہیں جاتی
قمر کل ان کے ہونے سے ستارے کتنے روشن تھے
وہی یہ رات ہے جو آج پہچانی نہیں جاتی
قمر جلالوی

توبہ مری پھرے گی کہاں بھیگتی ہوئی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 87
بارش میں عہد توڑ کے گر مئے کشی ہوئی
توبہ مری پھرے گی کہاں بھیگتی ہوئی
پیش آئے لاکھ رنج اگر اک خوشی ہوئی
پروردگار یہ بھی کوئی زندگی ہوئی
اچھا تو دونوں وقت ملے کو سئے حضور
پھر بھی مریض غم کی اگر زندگی ہوئی
اے عندلیب اپنے نشیمن کی خیر مانگ
بجلی گئی ہے سوئے چمن دیکھتی ہوئی
دیکھو چراغِ قبر اسے کیا جواب دے
آئے گی شامِ ہجر مجھے پوچھتی ہوئی
قاصد انھیں کو جا کہ دیا تھا ہمارا خط
وہ مل گئے تھے، ان سے کوئی بات بھی ہوئی
جب تک کہ تیری بزم میں چلتا رہے گا جام
ساقی رہے گی گردشِ دوراں رکی ہوئی
مانا کہ ان سے رات کا وعدہ ہے اے قمر
کیسے وہ آسکیں گے اگر چاندنی ہوئی
قمر جلالوی

وہاں فریاد کرتا ہوں نہیں ہوتا جہاں کوئی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 86
یہ نا ممکن ہو تیرا ستم مجھ سے عیاں کوئی
وہاں فریاد کرتا ہوں نہیں ہوتا جہاں کوئی
شکایت وہ نہ کرنے دیں یہ سب کہنے کی باتیں ہیں
سرِ محشر کسی کی روک سکتا ہے زباں کوئی
عبث ہے حشر کا وعدہ ملے بھی تم تو کیا حاصل
یہ سنتے ہیں کہ پہچانا نہیں جاتا وہاں کوئی
انھیں دیرو حرم میں جب کبھی آواز دیتا ہوں
پکار اٹھتی ہے خاموشی نہیں رہتا یہاں کوئی
لحد میں چین دم بھر کو کسی پہلو نہیں ملتا
قمر ہوتا ہے کیا زیرِ زمیں بھی آسماں کوئی
قمر جلالوی

عیاں سورج ہوا وقتِ سحر آہستہ آہستہ

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 85
ہٹی زلف ان کے چہرے سے مگر آہستہ آہستہ
عیاں سورج ہوا وقتِ سحر آہستہ آہستہ
چٹک کر دی صدا غنچہ نے شاخِ گل کی جنبش پر
یہ گلشن ہے ذرا بادِ سحر آہستہ آہستہ
قفس میں دیکھ کر بازو اسیر آپس میں کہتے ہیں
بہارِ گل تک آ جائیں گے پر آہستہ آہستہ
کوئی چھپ جائے گا بیمارِ شامِ ہجر کا مرنا
پہنچ جائے گی ان تک بھی خبر آہستہ آہستہ
غمِ تبدیلی گلشن کہاں تک پھر یہ گلشن ہے
قفس بھی ہو تو بن جاتا ہے گھر آہستہ آہستہ
ہمارے باغباں نے کہہ دیا گلچیں کے شکوے پر
نئے اشجار بھی دیں گے ثمر آہستہ آہستہ
الٰہی کو نسا وقت آگیا بیمارِ فرقت پر
کہ اٹھ کر چل دیے سب چارہ گر آہستہ آہستہ
نہ جانے کیوں نہ آیا ورنہ اب تک کب کا آ جاتا
اگر چلتا نامہ بر وہاں سے آہستہ آہستہ
خفا بھی ہیں ارادہ بھی ہے شاید بات کرنے کا
وہ چل نکلیں ہیں مجھ کو دیکھ کر آہستہ آہستہ
جوانی آگئی دل چھیدنے کی بڑھ گئیں مشقیں
چلانا آگیا تیرِ نظر آہستہ آہستہ
جسے اب دیکھ کر اک جان پڑتی ہے محبت میں
یہی بن جائے گی قاتل نظر آہستہ آہستہ
ابھی تک یاد ہے کل کی شبِ غم اور تنہائی
پھر اس پر چاند کا ڈھلنا قمر آہستہ آہستہ
قمر جلالوی

کافر لگے ہوئے ہیں مسلماں کے ساتھ ساتھ

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 84
گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ
کافر لگے ہوئے ہیں مسلماں کے ساتھ ساتھ
سامان خاک آیا تھا انساں کے ساتھ ساتھ
صرف ایک روح تھی تنِ عریاں کے ساتھ ساتھ
اے ناخدا وہ حکمِ خدا تھا جو بچ گئی
کشتی کو اب تو چھوڑ دے دے طوفاں کے ساتھ ساتھ
اے باغباں گلوں پہ ہی بجلی نہیں گری
ہم بھی لٹے ہیں تیرے گلستاں کے ساتھ ساتھ
جب لطف ہو جنوں تو کہیں زنداں سے لے اڑے
وہ ڈھونڈتے پھریں مجھے درباں کے ساتھ ساتھ
دو چار ٹانکے اور لگے ہاتھ بخیر گر
دامن بھی کچھ پھٹا ہے گریباں کے ساتھ ساتھ
تم میرا خوں چھپا تو رہے ہو خبر بھی ہے
دو دو فرشتے رہتے ہیں انساں کے ساتھ ساتھ
اہلِ قفس کا اور تو کچھ بس نہ چل سکا
آہیں بھریں نسیمِ گلستاں کے ساتھ ساتھ
دیوانے شاد ہیں کہ وہ آئے ہیں دیکھنے
تقدیر کھل گئے درِ زنداں کے ساتھ ساتھ
واعظ مٹے گا تجھ سے غمِ روزگار کیا
ساغر چلے گا گردشِ دوراں کے ساتھ ساتھ
اک شمع کیا کوئی شبِ فرقت نہیں قمر
تارے بھی چھپ گئے ہیں مہِ تاباں کے ساتھ ساتھ
قمر جلالوی

وہ اگر آئے بھی تو میں دوپہر سمجھا نہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 83
بے خودی میں ان کے وعدے معتبر سمجھا نہیں
وہ اگر آئے بھی تو میں دوپہر سمجھا نہیں
اس نے کس جملے کو سن کر کہہ دیا تجھ سے کہ خیر
نامہ بر میں یہ جوابِ مختصر سمجھا نہیں
اس قفس کو چھوڑ دوں کیونکر کہ جس کے واسطے
میں نے اے صیاد اپنے گھر کو گھر سمجھا نہیں
تہمتیں ہیں مجھ پہ گمرآ ہی کی گستاخی معاف
خضر سا رہبر تمہاری رہگزر سمجھا نہیں
ہے مرض وہ کون سا جس کا نہیں ہوتا علاج
بس یہ کہئیے دردِ دل کو چارہ گر سمجھا نہیں
داغِ دل اس سے نہ پوچھا حالِ شامِ غم کے ساتھ
تم کو صورت سے وہ شاید اے قمر سمجھا نہیں
قمر جلالوی

عشق کو حسن ساز گار نہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 82
دل انھیں کیا دیا قرار نہیں
عشق کو حسن ساز گار نہیں
دل کے اوپر نگاہِ یار نہیں
تیر منت کشِ شکار نہیں
اب انھیں انتظار ہے میرا
جب مجھے ان کا انتظار نہیں
شکوۂ بزمِ غیر ان سے عبث
اب انھیں اپنا اعتبار نہیں
منتظرِ شام کے رہو نہ قمر
ان کے آنے کا اعتبار نہیں
قمر جلالوی

تم خود ہی منانے آؤ گے سرکار وہ دن بھی دور نہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 81
کیوں روٹھ کے مجھ سے کہتے ہو ملنا تجھ سے منظور نہیں
تم خود ہی منانے آؤ گے سرکار وہ دن بھی دور نہیں
تم روز جفا و جور کرو، نالے نہ سنو، تسکین نہ دو
ہم اس دنیا میں رہتے ہیں شکووں کا جہاں دستور نہیں
واپس جانا معیوب سا ہے جب میت کے ساتھ آئے ہو
دو چار قدم کی بات ہے بس، ایسی کوئی منزل دور نہیں
آزاد ہیں ہم تو اے زاہد ارمان و تمنا کیا جانیں
جنت کا تصور کون کرے جب دل میں خیالِ حور نہیں
میں شام سے لے جر تا بہ سحر دل میں یہ کہتا رہتا ہوں
ہے چاند بے شک نور قمر لیکن ان کا سا نور نہیں
قمر جلالوی

مگر حضور زمانے کا اعتبار نہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 80
کسی کو دل مجھے دینا تو ناگوار نہیں
مگر حضور زمانے کا اعتبار نہیں
وہ آئیں فاتحہ پڑھنے اب اعتبار تو نہیں
کہ رات ہو گئی دیکھا ہوا مزار نہیں
کفن ہٹا کر وہ منہ بار بار دیکھتے ہیں
ابھی انھیں مرے مرنے کا اعتبار نہیں
قمر جلالوی

کیوں مجھے جرأتِ گفتار دئیے دیتے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 79
حکم بے سوچے جو سرکار دئیے دیتے ہیں
کیوں مجھے جرأتِ گفتار دئیے دیتے ہیں
خانہ بربادوں کو سائے میں بٹھانے کے لئے
آپ گرتی ہوئے دیوار دئیے دیتے ہیں
عشق اور ابروئے خمدار کا اس دل کے سپرد
آپ تو دیوانے کو تلوار دئیے دیتے ہیں
آپ اک پھول بھی دیں گے تو اس احسان کے ساتھ
جیسے گلزار کا گلزار دئیے دیتے ہیں
قمر جلالوی

نہ جب مشکل سمجھتے تھے نہ اب شکل سمجھتے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 78
ہم اہلِ عشق آساں عشق کی منزل سمجھتے ہیں
نہ جب مشکل سمجھتے تھے نہ اب شکل سمجھتے ہیں
ہم اس مشکل سے بچنا ناخدا مشکل سمجھتے ہیں
ادھر طوفان ہوتا ہے جدھر ساحل سمجھتے ہیں
یہ کہہ دے دل کی مجبوری ہمیں اٹھنے نہیں دیتی
اشارے ورنہ ہم اے بانیِ محفل سمجھتے ہیں
تعلق جب نہیں ہے آپ کی محفل میں کیوں آؤں
مجھے سرکار کیا پروانۂ محفل سمجھتے ہیں
ہماری وضع داری ہے جو ہم خاموش ہیں ورنہ
یہ رہزن ہی جنھیں ہم رہبرِ منزل سمجھتے ہیں
قمر جلالوی

ایک گھر برق کو ہر سال دیا کرتے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 77
کیا کوئی باغ میں ہم مفت رہا کرتے ہیں
ایک گھر برق کو ہر سال دیا کرتے ہیں
رخ اِدھر آنکھ ادھر آپ یہ کیا کرتے ہیں
پھر نہ کہنا مرے تیر خطا کرتے ہیں
اب تو پردے کو اٹھا دو مری لاش اٹھتی ہے
دیکھو اس وقت میں منہ دیکھ لیا کرتے ہیں
تیرے بیمار کی حالت نہیں دیکھی جاتی
اب تو احباب بھی مرنے کی دعا کرتے ہیں
صبحِ فرقت بھی قمر آنکھ کے آنسو رکے
یہ وہ تارے ہیں جو دن میں بھی گرا کرتے ہیں
قمر جلالوی

غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 76
کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی اللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں
بے وجہ نہ جانے کیوں ضد ہے، انکو شبِ فرقت والوں سے
وہ رات بڑھا دینے کے لئے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں
پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینیِ حسن کو بڑھنے دو
سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں
کچھ حسن و عشق میں فرق نہیں، ہے بھی تو فقط رسوائی کا
تم ہو کہ گوارا کر نہ سکے ہم ہیں کہ گوارا کرتے ہیں
تاروں کی بہاروں میں بھی قمر تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو دیکھ کانٹوں میں ہنس ہنس کے گذارا کرتے ہیں
قمر جلالوی

وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 75
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں
وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں
اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں
تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں
رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے
تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں
وہ ہنس کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے
یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں
نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانی
کہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے جاتے ہیں
قمر افشاں چنی ہے رخ پہ اس نے اس سلیقے سے
ستارے آسماں سے دیکھنے کو آئے جاتے ہیں
قمر جلالوی

یہ وہیں ہیں لوگ شاید جو فریب کھا گئے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 74
سرِ شام تجھ سے ملنے ترے در پہ آ گئے ہیں
یہ وہیں ہیں لوگ شاید جو فریب کھا گئے ہیں
میں اگر قفس سے چھوٹا تو چلے گی باغباں سے
جہاں میرا آشیاں تھا وہاں پھول آ گئے ہیں
کوئی ان سے جا کہ کہہ دے سرِ بام پھر تجلی
جنہیں کر چکے ہو بے خود انھیں ہوش آ گئے ہیں
یہ پتہ بتا رہے ہیں رہِ عشق کے بگولے
کہ ہزاروں تم سے پہلے یہاں خاک اڑا گئے ہیں
شبِ ہجرِ شمع گل ہے مجھے اس سے کیا تعلق
قمر آسماں کے تارے کہاں منہ چھپا گئے ہیں
قمر جلالوی

اگر حضور نے کہہ دیا کل خدا ہوں میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 73
بجا ہے حکم کی تعمیل مانتا ہوں میں
اگر حضور نے کہہ دیا کل خدا ہوں میں
پڑے گا اور بھی کیا وقت میری کشتی پر
کہ ناخدا نہیں کہتا کہ ناخدا ہوں میں
تمھارے تیرِ نظر نے غریب کی نہ سنی
ہزار دل نے پکارا کہ بے خطا ہوں میں
سمجھ رہا ہوں قمر راہزن بجھا دے گا
چراغِ راہ ہوں رستے میں جل رہا ہوں میں
قمر جلالوی

گرے بجلی چمن پر آگ لگ جائے نشیمن میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 72
ہمیں کیا جبکہ رہنا ہی منظور نہیں گلشن میں
گرے بجلی چمن پر آگ لگ جائے نشیمن میں
جنوں میں بھی یہاں تک ہے کسی کا پاسِ رسوائی
گریباں پھاڑتا ہوں اور رکھ لیتا ہوں دامن میں
ہمارا گھر جلا کہ تجھ کو کیا ملے گا اے بجلی
زیادہ سے زیادہ چار تنکے ہیں نشیمن میں
قمر جن کو بڑے مجھ سے وفاداری کے دعوے تھے
وہی احباب تنہا چھوڑ کر جاتے ہیں مدفن میں
قمر جلالوی

ہوتے ہیں ابتدا ہی سے کانٹے گلاب میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 71
بنتا نہیں ہے حسن ستمگر شباب میں
ہوتے ہیں ابتدا ہی سے کانٹے گلاب میں
جلوے ہوئے نہ جذب رخِ بے نقاب میں
کرنیں سمٹ کے آ نہ سکیں آفتاب میں
بچپن میں یہ سوال قیامت کب آئے گی
بندہ نواز آپ کے عہدِ شباب میں
صیاد آج میرے نشیمن کی خیر ہو
بجلی قفس پہ ٹوٹتی دیکھی ہے خواب میں
آغازِ شوق دید میں اتنی خطا ہوئی
انجام پر نگاہ نہ کی اضطراب میں
اب چھپ رہے ہو سامنے آ کر خبر بھی ہے
تصویر کھنچ گئی نگہِ انتخاب میں
کشتی کسی غریب کی ڈوبی ضرور ہے
آنسو دکھائے دیتا ہے چشمِ حباب میں
محشر میں ایک اشکِ ندامت نے دھو دیئے
جتنے گناہ تھے مری فردِ حساب میں
اس وقت تک رہے گی قیامت رکی ہوئی
جب تک رہے گا آپ کا چہرہ نقاب میں
ایسے میں وہ ہوں، باغ ہو، ساقی ہو اے قمر
لگ جائیں چار چاند شبِ ماہتاب میں
قمر جلالوی

اک تماشا بن کے آ بیٹھا ہوں کوئے یار میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 70
چھوڑ کر گھر بار اپنا حسرتِ دیدار میں
اک تماشا بن کے آ بیٹھا ہوں کوئے یار میں
دم نکل جائے گا حسرت نہ دیکھ اے نا خدا
اب مری قسمت پہ کشتی چھوڑ دے منجدھار میں
دیکھ بھی آ بات کہنے کے لئے ہو جائے گی
صرف گنتی کی ہیں سانسیں اب ترے بیمار میں
فصلِ گل میں کس قدر منحوس ہے رونا مرا
میں نے جب نالے کئے بجلی گری گلزار میں
جل گیا میرا نشیمن یہ تو میں نے سن لیا
باغباں تو خیریت سے ہے صبا گلزار میں
قمر جلالوی

سب پھول ہی نہیں کانٹے بھی تھے چمن میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 69
صبر آگیا یہ کہہ کر دل سے غمِ وطن میں
سب پھول ہی نہیں کانٹے بھی تھے چمن میں
بلبل ہے گلستاں میں پروانہ انجمن میں
سب اپنے اپنے گھر ہیں اک ہم نہیں وطن میں
صیاد باغباں کی ہم سے کبھی نہ کھٹکی
جیسے رہے قفس میں ویسے رہے چمن میں
دامانِ آسماں کو تاروں سے کیا تعلق
ٹانکے لگے ہوئے ہیں بوسیدہ پیرہن میں
سنتے ہیں اب وہاں بھی چھائی ہوئی ہے ظلمت
ہم تو چراغ جلتے چھوڑ آئے تھے وطن میں
کچھ اتنے مختلف ہیں احباب جب اور اب کے
ہوتا ہے فرق جتنا رہبر میں راہزن میں
صیاد آج کل میں شاید قفس بدل دے
خوشبو بتا رہی ہے پھول آ گئے چمن میں
اے باغباں تجھے بھی اتنی خبر تو ہو گی
جب ہم چمن میں آئے کچھ بھی نہ تھا چمن میں
سونی پڑی ہے محفل، محفل میں جا کے بیٹھو
آتے نہیں پتنگے بے شمع انجمن میں
دیدار آخری پر روئے قمر وہ کیا کیا
یاد آئیں گی وفائیں منہ دیکھ کر کفن میں
قمر جلالوی

بس اے ظہورِ جلوہ اب دم نہیں کسی میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 68
برباد طور بھی ہے موسیٰؑ ہیں بے خودی میں
بس اے ظہورِ جلوہ اب دم نہیں کسی میں
آنسو بھر آئے ان کی پرسش پہ جاں کنی میں
اب اور کیا بتاتے ان کی روا روی میں
جا تو رہے ہو موسیٰ دیدار کی خوشی میں
اوپر نظر نہ اٹھے بس خیر ہے اسی میں
اب تک ہے یاد دے کر دل ان کو دل لگی میں
رونا پڑا تھا برسوں مجھ کو ہنسی ہنسی میں
قیدِ قفس میں مجھ سے ارماں کا پوچھنا کیا
صیاد اب تو جو کچھ آئے تری خوشی میں
کوزے میں بھر گیا ہے جیسے تمام دریا
یوں اس نے بن سنور کر دیکھا ہے آرسی میں
ہر صبح آ کے گلچیں گلشن کو دیکھتا ہے
یہ وقت بھی ہے نازک پھولوں کی زندگی میں
دیکھیں قمر کچھ افشاں اس مہ جبیں کے رخ پر
کتنے حسین تارے ہوتے ہیں چاندنی میں
قمر جلالوی

ہمسایہ سو رہا ہے بے فکر اپنے گھر میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 67
دل کو خبر نہیں ہے اور درد ہے جگر میں
ہمسایہ سو رہا ہے بے فکر اپنے گھر میں
اتنا سبک نہ کیجئے احباب کی نظر میں
اٹھتی ہے میری میت بیٹھے ہیں آپ گھر میں
رسوائیوں کا ڈر بھی میری قضا کا غم ہے
میت سے کچھ الگ ہیں آنسو ہیں چشمِ تر میں
حالانکہ اور بھی تھے نغمہ طرازِ گلشن
اک میں کھٹک رہا تھا صیاد کی نظر میں
دیکھا جو صبح فرقت اترا سا منہ قمر کا
بولے کہ ہو گیا ہے کیا حال رات بھر میں
قمر جلالوی

آج گر صحرا میں ہوں کل خانۂ زنجیر میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 66
ایک جا رہنا نہیں لکھا میری تقدیر میں
آج گر صحرا میں ہوں کل خانۂ زنجیر میں
اقربا نا خوش وہ بزمِ دشمنِ بے پیر میں
موت ہی لکھی ہی کیا بیمار کی تقدیر میں
بات کر میری لحد پر غیر ہی سے بات کر
یہ سنا ہے پھول جھڑتے ہیں تری تقریر میں
سیکھ اب میری نظر سے حسن کی زیبائشیں
سینکڑوں رنگینیاں بھر دیں تری تصویر میں
پاسِ آدابِ اسیری تیرے دیوانے کو ہے
ورنہ یہ زنجیر کچھ زنجیر ہے زنجیر میں
ڈھونڈتا پھرتا ہوں ان کو وہ قمر ملتے نہیں
شام کی رنگینیوں میں، صبح کی تنویر میں
قمر جلالوی

رونقِ گل ہے وہیں تک کہ رہے خاروں میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 65
بیٹھیے شوق سے دشمن کی طرف داروں میں
رونقِ گل ہے وہیں تک کہ رہے خاروں میں
آنکھ نرگس سے لڑاتے ہو جو گلزاروں میں
کیوں لیئے پھرتے ہو بیمار کو بیماروں میں
عشق نے قدر کی نظروں سے نہ جب تک دیکھا
حسن بکتا ہی پھرا مصر کے بازاروں میں
دل کی ہمت ہے جو ہے جنبشِ ابرو پہ نثار
ورنہ کون آتا ہے چلتی ہوئی تلواروں میں
جو پر رحمتِ معبود جو دیکھی سرِ حشر
آملے حضرتِ واعظ بھی گنہ گاروں میں
جب وہ آتے ہیں تو مدھم سے پڑ جاتے ہیں چراغ
چاند سی روشنی ہو جاتی ہے کم تاروں میں
وہ بھی کیا دن تھے کہ قسمت کا ستارہ تھا بلند
اے قمر رات گزر جاتی تھی مہ پاروں میں
قمر جلالوی

اگر گریباں پہ ہاتھ جاتا تمھیں سناتے ہزار باتیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 64
تمھاری رسوائیوں کے ڈر سے نہ کیں جنوں آشکار باتیں
اگر گریباں پہ ہاتھ جاتا تمھیں سناتے ہزار باتیں
مری محبت سے جلنے والے لگاتے ہیں دو چار باتیں
یقین کس کس کا تم کرو گے ہزار منہ ہیں ہزار باتیں
شراب منہ تک رہی ہے تیرا، نہ شیخ کرنا گوار باتیں
کوئی قیامت ابھی رکھی ہے یہ چھوڑ دے میرے یار باتیں
یہ بات دیگر ہے شکوہ ہائے ستم پر تم مسکرا رہے ہو
مگر نگاہیں بتا رہیں ہیں کہ ہو گئیں نا گوار باتیں
قمر شبِ انتظار ہم نے سحرا انھیں وحشتوں میں کر دی
کبھی چراغوں سے چار باتیں کبھی ستاروں سے چار باتیں
قمر جلالوی

وسعتیں ایک ایک ذرے کی بیاباں ہو گئیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 63
منزلیں غربت میں مجھ کو آفتِ جاں ہو گئیں
وسعتیں ایک ایک ذرے کی بیاباں ہو گئیں
چارہ گر کیونکر نکالے دل میں پنہاں ہو گئیں
ٹوٹ کر نوکیں ترے تیروں کی ارماں ہو گئیں
کیا کروں جو آہیں رسوائی کا ساماں ہو گئیں
مشکلیں ایسی مجھے کیوں دیں جو آساں ہو گئیں
ہم نفس صیاد کی عادت کو میں سمجھتا نہ تھا
بھول کر نظریں مری سوئے گلستاں ہو گئیں
آشیاں اپنا اٹھاتے ہیں سلام اے باغباں
بجلیاں اب دشمنِ جانِ گلستاں ہو گئیں
میری حسرت کی نظر سے رازِ الفت کھل گیا
آرزوئیں اشک بن بن کر نمایا ہو گئیں
کیا نہیں معلوم کون آیا عیادت کے لئے
اسی بند آنکھیں تری بیمارِ ہجراں ہو گئیں
بلبلِ ناشاد ہی منحوس نالے بند کر
پھول غارت ہو گئے برباد کلیں ہو گئیں
وہ اٹھی عاشق کی میت لے مبارک ہو تجھے
اب تو پوری حسرتیں او دشمنِ جاں ہو گئیں
کائناتِ دل ہی کیا تھی چار بوندیں خون کی
دو غذائے غم ہوئیں دو نذرِ پیکاں ہو گئیں
آسماں پر ڈھونڈتا ہوں ان دعاؤں کو قمر
صبح کو جو ڈوبتے تاروں میں پنہاں ہو گئیں
قمر جلالوی

حسن اتنا سوچ لے دو بیکسوں کی یاد ہوں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 62
ہم خیالِ قیس ہوں ہم مشربِ فرہاد ہوں
حسن اتنا سوچ لے دو بیکسوں کی یاد ہوں
پاشکستہ، دل حزیں، شوریدہ سر، برباد ہوں
سر سے لے کر پاؤں تک فریاد ہی فریاد ہوں
حالِ گلشن کیا ہے اے نوواردِ کنجِ قفس
میں مدت سے اسیرِ خانۂ صیاد ہوں
خیریت سن لی گل و غنچے کی لیکن اے صبا
یاد ہیں مجھ کو تو سب میں بھی کسی کو یاد ہوں
تم سرِ محفل جو چھیڑو گے مجھے پچھتاؤ گے
جس کو سن سکتا نہیں کوئی میں وہ فریاد ہوں
تجھ سے میں واقف تو تھا گندم نما اوجَو فروش
فطرتاً کھانا پڑا دھکا کہ آدم زاد ہوں
گُلشنِ عالم میں اپنوں وے تو اچھے غیر ہیں
پھول ہیں بھولے، ہوئے کانٹوں کو لیکن یاد ہوں
قید میں صیاد کی پھر بھی ہیں نغمے رات دن
اس قدر پابندیوں پر کس قدر آزاد ہوں
بولنے کی دیر ہے میری ہر اک تصویر ہیں
میں زمانے کا ہوں مانی وقت کا بہزاد ہوں
صفحۂ ہستی سے کیا دنیا مٹائے گی مجھے
میں کوئے نقش و نگار مانی و بہزاد ہوں
فصلِ گل آنے کی کیا خوشیاں نشیمن جب نہ ہو
باغ کا مالک ہوں لیکن خانماں برباد ہوں
میں نے دانستہ چھپائے تھے ترے جور و ستم
تو نے یہ سمجھا کہ میں نا واقفِ فریاد ہوں
کیا پتہ پوچھو ہو میرا نام روشن ہے قمر
جس جگہ تاروں کی بستی ہے وہاں آباد ہوں
تم نے دیکھا تھا قمر کو بزم میں وقتِ سحر
جس کا منہ اترا ہوا تھا میں وہی ناشاد ہوں
قمر جلالوی

خدا رکھے تجھے قاتل رہے دنیا میں تو برسوں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 61
نہ طے کرتا تو رہتا قصۂ تیغوں گلوں برسوں
خدا رکھے تجھے قاتل رہے دنیا میں تو برسوں
خدا کی شان واعظ بھی ہجوِئے مئے کرے مجھ سے
کہ جس نے ایک اک ساغر پہ توڑا ہے وضو برسوں
بہارِ گل میں نکلے خوب ارماں دشتِ وحشت کے
رفو گر نے کیا دامن کی کلیوں پر رفو برسوں
قفس کی راحتوں نے یاد گلشن کی بھلا ڈالی
نہ کی صیاد کے گھر آشیاں کی آرزو برسوں
قفس میں خواب جب دیکھ کوئی دیکھا بہاروں کا
دماغِ اہلِ گلشن میں رہی گلشن کی بو برسوں
قمر یہ کیا خبر تھی وہ ہمارے دل میں رہتے ہیں
رہی جن کے لیئے دیر و حرم میں جستجو برسوں
قمر جلالوی

نہ جانے چھوڑ دے مجھ کو مری حیات کہاں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 60
میں ڈھونڈ لوں تجھے میری بس کی بات کہاں
نہ جانے چھوڑ دے مجھ کو مری حیات کہاں
قفس میں یاد نہ کر آشیاں کی آزادی
وہ اپنا گھر تھا یہاں اپنے گھر کی بات کہاں
شباب آنے سے تجھ سے عبث امیدِ وفا
رہے گی تیرے زمانے میں کائنات کہاں
تلاش کرنے کو آئے گا کون صحرا میں
مرے جنوں کے ہیں ایسے تعلقات کہاں
قمر وہ رات کو بہرِ عیادت آئیں گے
مگر مریض کی قسمت میں آج، رات کہاں
قمر جلالوی

شہر تو شہر بدل جائیں گے ویرانے تک

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 59
ہم کو ہم خاک نشینوں کا خیال آنے تک
شہر تو شہر بدل جائیں گے ویرانے تک
دیکھیے محفلِ ساقی کا نتیجہ کیا ہوا
بات شیشے کی پہنچنے لگی پیمانے تک
صبح ہوئی نہیں اے عشق یہ کیسی شب ہے
قیس و فرہاد کے دہرا لئے افسانے تک
پھر نہ طوفان اٹھیں گے نہ گرے گی بجلی
یہ حوادث ہیں غریبوں ہی کے مٹ جانے تک
میں نے ہر چند بلا ٹالنی چآ ہی لیکن
شیخ نے ساتھ نہ چھوڑا مرا میخانے تک
وہ بھی کیا دن تھے گھر سے کہیں جاتے ہی نہ تھے
اور گئے بھی تو فقط شام کو میخانے تک
میں وہاں کیسے حقیقت کو سلامت رکھوں
جس جگہ رد و بدل ہو گئے افسانے تک
باغباں فصلِ بہار آنے کا وعدہ تو قبول
اور اگر ہم نے رہے فصلِ بہار آنے تک
اور تو کیا کہیں اے شیخ تری ہمت پر
کوئی کافر ہی گیا ہو ترے میخانے تک
اے قمر شام کا وعدہ ہے وہ آتے ہوں گے
شام کہلاتی ہے تاروں کے نکل آنے تک
قمر جلالوی

نغمہ ہو جاتا ہے بے کیف اگر ساز نہ ہو

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 58
آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو
نغمہ ہو جاتا ہے بے کیف اگر ساز نہ ہو
میں نے منزل کے لیے راہ بدل دی ورنہ
روک لے دیر جو کعبہ خلل انداز نہ ہو
مرتے مرتے بھی کہا کچھ نہ مریض غم نے
پاس یہ تھا کہ مسیحا کا عیاں راز نہ ہو
ساقیا جام ہے ٹوٹے گا صدا آئے گی
یہ مرا دل تو نہیں ہے کہ جو آواز نہ ہو
اے دعائے دلِ مجبور وہاں جا تو سہی
لوٹ آنا درِ مقبول اگر باز نہ ہو
کیا ہو انجامِ شب ہجر خدا ہی جانے
اے قمر شام سے تاروں کا جو آغاز نہ ہو
قمر جلالوی

اے نا خدا کہیں یہ فریبِ نظر نہ ہو

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 57
ممکن ہے کوئی موج ہو ساحل ادھر نہ ہو
اے نا خدا کہیں یہ فریبِ نظر نہ ہو
یہ تو نہیں آہ میں کچھ بھی اثر نہ ہو
ممکن آج رات کوئی اپنے گھر نہ ہو
تاروں کی سیر دیکھ رہے ہیں نقاب سے
ڈر بھی رہے ہیں مجھ پہ قمر کی نظر نہ ہو
قمر جلالوی

تو اے بتِ کافر نہ خدا ہے نہ خدا ہو

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 56
سجدے ترے کہنے سے میں کر لوں بھی تو کیا ہو
تو اے بتِ کافر نہ خدا ہے نہ خدا ہو
غنچے کے چٹکنے پہ نہ گلشن میں خفا ہو
ممکن ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہو
کھا اس کی قسم جو نہ تجھے دیکھ چکا ہو
تیرے تو فرشتوں سے بھی وعدہ نہ وفا ہو
انسان کسی فطرت پہ تو قائم ہو کم از کم
اچھا ہو تو اچھا ہو برا ہو تو برا ہو
اس حشر میں کچھ داد نہ فریاد کسی کی
جو حشر کے ظالم ترے کوچے سے اٹھا ہو
اترا کہ یہ رفتارِ جوانی نہیں اچھی
چال ایسی چلا کرتے ہیں جیسے کہ ہوا ہو
میخانے میں جب ہم سے فقیروں کو نہ پوچھا
یہ کہتے ہوئے چل دیئے ساقی کا بھلا ہو
اللہ رے او دشمنِ اظہارِ محبت
وہ درد دیا ہے جو کسی سے نہ دوا ہو
تنہا وہ مری قبر پہ ہیں چاکِ گریباں
جیسے کسی صحرا میں کوئی پھول کھلا ہو
منصور سے کہتی ہے یہی دارِ محبت
اس کی یہ سزا ہے جو گنہگارِ وفا ہو
جب لطف ہو اللہ ستم والوں سے پوچھے
تو یاس کی نظروں سے مجھے دیکھ رہا ہو
فرماتے ہیں وہ سن کے شبِ غم کی شکایت
کس نے یہ کہا تھا کہ قمر تم ہمیں چا ہو
قمر جلالوی

ظالم تری لگائی ہوئی کو بجھائے کون

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 55
سوزِ غمِ فراق سے دل کو بچائے کون
ظالم تری لگائی ہوئی کو بجھائے کون
مٹی مریضِ غم کی ٹھکانے لگائے کون
دنیا تو ان کے ساتھ ہے میت اٹھائے کون
تیور چڑھا کے پوچھ رہے ہیں وہ حالِ دل
رودادِ غم تو یاد ہے لیکن سنائے کون
ہم آج کہہ رہے ہیں یہاں داستانِ قیس
کل دیکھئے ہمارا فسانہ سنائے کون
اے ناخدا، خدا پہ مجھے چھوڑ کر تو دیکھ
ساحل پہ کون جا کے لگے ڈوب جائے کون
رسوا کرے گی دیکھ کے دنیا مجھے قمر
اس چاندنی میں ان کو بلانے کو جائے کون
قمر جلالوی

جاؤ بس اب مل چکے کشتی سے تم ساحل سے ہم

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 54
چھوٹ سکتے ہیں نہیں طوفاں کی شکل سے ہم
جاؤ بس اب مل چکے کشتی سے تم ساحل سے ہم
جا رہے ہیں راہ میں کہتے ہوئے یوں دل سے ہم
تو نہ رہ جانا کہیں اٹھیں اگر محفل سے ہم
وہ سبق آئیں ہیں لے کر اضطرابِ دل سے ہم
یاد رکھیں گے کہ اٹھتے تھے تری محفل سے ہم
اب نہ آوازِ جرس ہے اور نہ گردِ کارواں
یا تو منزل رہ گئی یا رہ گئے منزل سے ہم
روکتا تھا نا خدا کشتی کہ طوفاں آگیا
تم جہاں پر ہو بس اتنی دور تھے ساحل سے ہم
شکریہ اے قمر تک پہنچانے والو شکریہ
اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم
لاکھ کوشش کی مگر پھر بھی نکل کر ہی رہے
گھر سے یوسفؑ خلد سے آدمؑ تری محفل سے ہم
ڈب جانے کی خبر لائی تھیں موجیں تم نہ تھے
یہ گوآ ہی بھی دلا دیں گے لبِ ساحل سے ہم
شام کی باتیں سحر تک خواب میں دیکھا کیے
جیسے سچ مچ اٹھ رہے ہیں آپ کی محفل سے ہم
کیسی دریا کی شکایت کیسا طوفاں گلہ
اپنی کشتی آپ لے کر آئے تھے ساحل سے ہم
جور میں رازِ کرم طرزِ کرم میں رازِ جور
آپ کی نظروں کو سمجھے ہیں بڑی مشکل سے ہم
وہ نہیں تو اے قمر ان کی نشانی ہی سہی
داغِ فرقت کو لگائے پھر رہے ہیں دل سے ہم
قمر جلالوی

راہبر تو لوٹ لے شکوہ کریں منزل سے ہم

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 53
متفق کیونکر ہوں ایسے مشورے پر دل سے ہم
راہبر تو لوٹ لے شکوہ کریں منزل سے ہم
راہبر کا ہو بھلا پہلے ہی گھر لٹو دئیے
لوٹ کر جائیں تو جائیں بھی کہاں منزل سے ہم
شمع گل کر دینے والے ہو گئی روشن یہ بات
ٹھوکریں کھاتے ہوئے نکلیں تری محفل سے ہم
ہم کو دریا برد کرنے والے وہ دن یاد کر
تجھ کو طوفاں میں بچانے آئے تھے ساحل سے ہم
یہ نہیں کہتے کہ دولت رات میں لٹ جائے گی
ہم پہ احساں ہے کہ سوتے ہیں بڑی مشکل سے ہم
ہی نہ کہئیے غم ہوا کشتی کا یوں فرمائیے
اک تماشہ تھا جسے دیکھا کیے ساحل سے ہم
اب تو قتلِ عام اس صورت سے روکا جائے گا
بڑھ کے خنجر چھین کیں گے پنجۂ قاتل سے ہم
رسمِ حسن و عشق میں ہوتی ہیں کیا پابندیاں
آپ پوچھیں شمع سے پروانۂ محفل سے ہم
کس خطا پر خوں کیئے اے مالکِ روزِ جزا
تو اگر کہہ دے تو اتنا پوچھ لیں قاتل سے ہم
موجِ طوفاں سے بچا لانے پہ اتنا خوش نہ ہو
اور اگر اے ناخدا ٹکرا گئے ساحل سے ہم
نام تو اپنا چھپا سکتے ہیں لیکن کیا کریں
اے قمر مجبور ہو جاتے ہیں داغِ دل سے ہم
قمر جلالوی

ساقیا راس آ گئے ہیں تیرے میخانے کو ہم

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 52
دیکھتے ہیں رقص میں دن رات پیمانے کو ہم
ساقیا راس آ گئے ہیں تیرے میخانے کو ہم
لے کے اپنے ساتھ اک خاموش دیوانے کو ہم
جا رہے ہیں حضرتِ ناصح کو سمجھانے کو ہم
یاد رکھیں گے تمھاری بزم میں آنے کو ہم
بیٹھنے کے واسطے اغیار اٹھ جانے کو ہم
حسن مجبورِ ستم ہے عشق مجبورِ وفا
شمع کو سمجھائیں یا سمجھائیں پروانے کو ہم
رکھ کے تنکے ڈر رہے ہیں کیا کہے گا باغباں
دیکھتے ہیں آشیاں کی شاخ جھک جانے کو ہم
الجھنیں طولِ شبِ فرقت کی آگے آ گئیں
جب کبھی بیٹھے کسی کی زلف سلجھانے کو ہم
راستے میں رات کو مڈ بھیڑ ساقی کچھ نا پوچھ
مڑ رہے تھے شیخ جی مسجد کو بت خانے کو ہم
شیخ جی ہوتا ہے اپنا کام اپنے ہاتھ سے
اپنی مسجد کو سنبھالیں آپ بت خانے کو ہم
دو گھڑی کے واسطے تکلیف غیروں کو نہ دے
خود ہی بیٹھے ہیں تری محفل سے اٹھ جانے کو ہم
آپ قاتل سے مسیحا بن گئے اچھا ہوا
ورنہ اپنی زندگی سمجھے تھے مر جانے کو ہم
سن کہ شکوہ حشر میں کہتے ہوئے شرماتے نہیں
تم ستم کرتے پھرو دنیا پہ شرمانے کو ہم
اے قمر ڈر تو یہ اغیار دیکھیں گے انھیں
چاندنی شب میں بلا لائیں بلا لانے کو ہم
قمر جلالوی

اپنی توبہ توڑ دیں یا توڑ دیں پیمانہ ہم

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 51
کچھ تو کہہ دے کیا کریں اے ساقیِ مے خانہ ہم
اپنی توبہ توڑ دیں یا توڑ دیں پیمانہ ہم
دل عجب شے ہے یہ پھر کہتے ہیں آزادانہ ہم
چاہے جب کعبہ بنا لیں چاہے جب بت خانہ ہم
داستانِ غم پہ وہ کہتے ہیں یوں ہے یوں نہیں
بھول جاتے ہیں جو دانستہ کہیں افسانہ ہم
اپنے در سے آ جائے ساقی ہمیں خالی نہ پھیر
مے کدے کی خیر ہو آتے نہیں روزانہ ہم
مسکرا دیتا ہے ہر تارا ہماری یاد پر
بھول جاتے ہیں قمر اپنا اگر افسانہ ہم
قمر جلالوی

شمع رو دے گی مگر نہ لے گی پروانے کا نام

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 50
حسن سے رسوا نہ ہو گا اپنے دیوانے کا نام
شمع رو دے گی مگر نہ لے گی پروانے کا نام
ہو گئی توبہ کو اک مدت کسے اب یاد ہے
اصطلاحاً ہم نے کیا رکھا تھا پیمانے کا نام
میتِ پروانہ بے گور و کفن دیکھا کئے
اہلِ محفل نے لیا لیکن نہ دفنانے کا نام
یہ بھی ہے کوئی عیادت دو گھڑی بیٹھے نہ وہ
حال پوچھا چل دیے گھر کر گئے آنے کا نام
لاکھ دیوانے کھلائیں گل چمن کہہ دے گا کون
عارضی پھولوں سے بدلے گا نہ ویرانے کا نام
ان کو کوسے دے رہے، ہو خود، ہیں جو جینے سے تنگ
زندگی رکھا ہے جن لوگوں نے مر جانے کا نام
اِس ہوا میں قوتِ پرواز سے آگے نہ بڑھ
ہے قفس آزادیوں کی حد گزر جانے کا نام
قمر جلالوی

بند ہوتا نہیں کھل کر کبھی دروازۂ گل

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 49
ہے سخاوت میں مجھے اتنا اندازۂ گل
بند ہوتا نہیں کھل کر کبھی دروازۂ گل
برق پر پھول پنسے برق نشیمن پہ گری
میرے تنکوں کو بھگتنا پڑا خمیازۂ گل
خیر گلشن میں اڑا تھا مری وحشت کا مذاق
اب وہ آوازۂ بلبل ہو کہ آوازۂ گل
کوششیں کرتی ہوئی پھرتی گلشن میں نسیم
جمع ہوتا نہیں بھکرا ہو شیرازۂ گل
اے صبا کس کی یہ سازش تھی کہ نکہت نکلی
تو نے کھولا تھا کہ خود کھل گیا دروازۂ گل
زینتِ گل ہے قمر ان کی صبا رفتاری
پاؤ سے گر اڑی بھی تو بنی غازۂ گل
قمر جلالوی

اے سرو آ تجھے بھی دلا دوں ہزار پھول

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 48
سب نے کیے ہیں باغ میں ان پر نثار پھول
اے سرو آ تجھے بھی دلا دوں ہزار پھول
لاتا نہیں کوئی مری تربت پہ چار پھول
نا پیدا ایسے ہو گئے پروردگار پھول
جاتی نہیں شباب میں بھی کم سِنی کی بو
ہاروں میں ان کے چار ہیں کلیاں تو چار پھول
کب حلق کٹ گیا مجھے معلوم بھی نہیں
قاتل کچھ ایسی ہو گئے خنجر کی دھار پھول
یہ ہو نہ ہو مزار کسی مضطرب کا ہے
جب سے چڑھے ہیں قبر پہ ہیں بے قرار پھول
یا رب یہ ہار ٹوٹ گیا کس کا راہ میں
اڑ اڑ کے آ رہے ہیں جو سوئے مزار پھول
او محوِ بزمِ غیر تجھے کچھ خبر بھی ہے
گلشن میں کر رہے ہیں ترا انتظار پھول
اتنے ہوئے ہیں جمع مری قبر پر قمر
تاروں کی طرح ہو نہیں سکتے شمار پھول
قمر جلالوی

کہ جس طرح کسی کافر کو ہو اذاں سے گریز

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 47
خدا کی شان تجھے یوں مری فغاں سے گریز
کہ جس طرح کسی کافر کو ہو اذاں سے گریز
وہ چاہے سجدہ کیا ہو نہ دیر و کعبہ میں
مگر ہوا نہ کبھی تیرے آستاں سے گریز
دلِ شکستہ سے جا رہی ہے ان کی یاد
مکیں کو جیسے ہو ٹوٹے ہوئے مکاں سے گریز
جہاں بھی چاہیں وہاں شوق سے شریک ہوں آپ
مگر حضور ذرا بزمِ دشمناں سے گریز
کچھ اس میں سازشِ بادِ خلاف تھی ورنہ
مرے ریاض کے تنکے اور آشیاں سے گریز
خطا معاف وہ دیوانگی کا عالم تھا
جسے حور سمجھتے ہیں آستاں سے گریز
خطا بہار میں کچھ باغباں کی ہو تو کہوں
مرے نصیب میں لکھا تھا گلستاں سے گریز
جہاں وہ چاہیں قمر شوق سے ہمیں رکھیں
زمیں سے ہم کو گریز اور نہ آسماں سے گریز
قمر جلالوی

حال تھا جو حضرتِ آدم کا جنت کے بغیر

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 46
اب وہ عالم ہے مرا اس بزمِ عشرت کے بغیر
حال تھا جو حضرتِ آدم کا جنت کے بغیر
اصل کی امید ہے بے کار فرقت کے بغیر
آدم راحت نہیں پاتا مصیبت کے بغیر
مجھ کو شکوہ ہے ستم کا تم کو انکارِ ستم
فیصلہ یہ ہو نہیں سکتا قیامت کے بغیر
دے دعا مجھ کو کہ تیرا نام دنیا بھر میں ہے
حسن کی شہرت نہیں ہوتی محبت کے بغیر
حضرتِ ناصح بجا ارشاد، گستاخی معاف
آپ سمجھاتے تو ہیں لیکن محبت کے بغیر
یہ سمجھ کر دل میں رکھا ہے تمھارے تیر کو
کوئی شے قائم نہیں رہتی حفاظت کے بغیر
راستے میں وہ اگر مل بھی گئے تقدیر سے
ل دیے منہ پھیر کر صاحب سلامت کے بغیر
سن رہا ہوں طعنہ اخیار لیکن کیا کروں
میں تری محفل میں آیا ہوں اجازت کے بغیر
دل ہی پر موقوف کیا او نا شناسِ دردِ دل!
کوئی بھی تڑپا نہیں کرتا اذیت کے بغیر
قمر جلالوی

کہ ایسی بھیڑ میں جاؤ گے پیشِ حق کہاں ہو کر

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 45
یہ کہہ کر حشر میں وہ رو دیا کچھ بد گماں ہو کر
کہ ایسی بھیڑ میں جاؤ گے پیشِ حق کہاں ہو کر
یہ بچپن ہے جو پیش آتے ہو مجھ سے مہرباں ہو کر
نگاہیں کہہ رہیں ہیں آنکھ بدلو گے جواں ہو کر
کیا دستِ جنوں کو پیرہن نے جا بجا رسوا
گلی کوچوں میں دامن اڑ رہے ہیں دھجیاں ہو کر
چلا تھا توڑ کر زنجیر کو جب تیرا سودائی
خیالِ حلقۂ گیسو نے روکا بیڑیاں ہو کر
خدا رکھے تمھیں رنگِ حنا سے اتنا ڈرتے ہو
ابھی تو سینکڑوں کے خوں بہانے ہیں جواں ہو کر
خرامِ راز میں پنہاں نہ جانے کیسے محشر ہیں
وہیں اِک حشر ہوتا ہے نکلتے ہوں جہاں ہو کر
پریشاں بال، آنسو آنکھ میں، اتری ہوئی صورت
نصیبِ دشمناں ایسے میں آئے ہو کہاں ہو کر
قمر دل کو بچا کر لے گئے تھے تیر مژگاں سے
مگر ترچھی نگاہیں کام آئیں برچھیاں ہو کر
قمر جلالوی

میں تو تہِ مزار ہوں تم تو ہو مزار پر

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 44
کیونکر رکھو گے ہاتھ دلِ بے قرار پر
میں تو تہِ مزار ہوں تم تو ہو مزار پر
یہ دیکھنے، قفس میں بنی کیا ہزار پر
نکہت چلی ہے دوشِ نسیم بہار پر
گر یہ ہی جور و ظلم رہے خاکسار پر
منہ ڈھک کے روئے گا تو کسی دن مزار پر
ابرو چڑھے ہوئے ہیں دلِ بے قرار پر
دو دو کھنچی ہوئی ہیں کمانیں شکار پر
رہ رہ گئی ہیں ضعف سے وحشت میں حسرتیں
رک رک گیا ہے دستِ جنوں تار تار پر
شاید چمن میں فصلِ بہاری قریب ہے
گرتے ہیں بازوؤں سے مرے بار بار پر
یاد آئے تم کو اور پھر آئے مری وفا
تم آؤ رونے اور پھر آؤ مزار پر
کس نے کئے یہ جور، حضور آپ نے کئے
کس پر ہوئے یہ جور، دلِ بے قرار پر
سمجھا تھا اے قمر یہ تجلی انھیں کی ہے
میں چونک اٹھا جو چاندنی آئی مزار پر
قمر جلالوی

خس کم جہاں پاک غمِ آشیاں سے دور

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 43
فکریں تمام ہو گئیں برقِ تپاں سے دور
خس کم جہاں پاک غمِ آشیاں سے دور
مژگاں کہاں ہیں ابروئے چشمِ بتاں سے دور
یہ تیر وہ ہیں جو نہیں ہوتے کماں سے دور
یادِ شباب یوں ہے دلِ ناتواں سے دور
جیسے کوئی غریب مسافر مکاں سے دور
دیر و حرم میں شیخ و برہمن سے پوچھ لے
سجدے اگر کئے ہوں ترے آستاں سے دور
اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہوں کسے راہ میں غبار
کوئی شکستہ پا تو نہیں کارواں سے دور
جب گھر سے چل کھڑے ہوئے پھر پوچھنا ہی کیا
منزل کہاں ہے پاس پڑے گی کہاں سے دور
ہو جاؤ آج کل کے وعدے سے منحرف
یہ بھی نہیں حضور تمھاری زباں سے دور
خوشبو کا ساتھ چھٹ نہ سکا تا حیات گل
لے بھی گئی شمیم تو کیا گلستاں سے دور
شعلے نظر نہ آئے یہ کہنے کی بات ہے
اتنا تو آشیانہ تھا باغباں سے دور
دیر و حرم سے ان کا برابر ہے فاصلہ
جتنے یہاں سے دور ہیں اتنے وہاں سے دور
صیاد یہ جلے ہوئے تنکے کہاں ہیں
بجلی اگر گری ہے میرے آشیاں سے دور
مجھ پر ہی اے قمر نہیں پابندیِ فلک
تارے بھی جا سکے نہ حدِ آسماں سے دور
قمر جلالوی

پھر سوچ لو باقی تو نہیں کوئی ستم اور

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 42
مجھ پر ہے یہ نزع کا عالم اور
پھر سوچ لو باقی تو نہیں کوئی ستم اور
ہے وعدہ خلافی کے علاوہ بھی ستم اور
گر تم نہ خفا ہو تو بتا دیں تمھیں ہم اور
یہ مئے ہے ذرا سوچ لے اے شیخِ حرم اور
تو پہلے پہل پیتا ہے کم اور ارے کم اور
وہ پوچھتے ہیں دیکھئے یہ طرفہ ستم اور
کس کس نے ستایا ہے تجھے ایک تو ہم اور
وہ دیکھ لو احباب لیے جاتے ہیں میت
لو کھاؤ مریضِ غم فرقت کی قسم اور
اب قبر بھی کیا دور ہے جاتے ہو جو واپس
جب اتنے چلے آئے ہو دو چار قدم اور
قاصد یہ جواب ان کا ہے کس طرح یقین ہو
تو اور بیاں کرتا ہے خط میں ہے رقم اور
موسیٰؑ سے ضرور آج کوئی بات ہوئی ہے
جاتے میں قدم اور تھے آتے میں قدم اور
تربت میں رکے ہیں کہ کمر سیدھی تو کر لیں
منزل ہے بہت دور کی لے لیں ذرا دم اور
یہ بات ابھی کل کی ہے جو کچھ تھے ہمیں تھے
اللہ تری شان کہ اب ہو گئے ہم اور
بے وقت عیادت کا نتیجہ یہی ہو گا
دوچار گھڑی کے لیے رک جائے گا دم اور
اچھا ہوا میں رک گیا آ کر تہِ تربت
پھر آگے قیامت تھی جو بڑھ جاتے قدم اور
ہوتا قمر کثرت و وحدت میں بڑا فرق
بت خانے بہت سے ہیں نہیں ہے تو حرم اور
قمر جلالوی

خدا کرے کے سمجھ لے مری زباں صیاد

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 41
کہا تو ہے کہ قفس میں نہیں اماں صیاد
خدا کرے کے سمجھ لے مری زباں صیاد
قفس سے ہٹ کے ذرا سن مری فغاں صیاد
لرز رہی ہے ترے سامنے زباں صیاد
بہارِ گل میں مجھے تو کہیں چین نہیں
مرے خلاف وہاں باغباں یہاں صیاد
جو پر کتر دیے دنیا میں ہو گی رسوائی
پر اڑ کے جائیں گے جانے کہاں کہاں صیاد
قفس میں کانپ رہا ہوں کہیں فریب نہ ہو
بہارِ گل میں ہوا ہے جو مہرباں صیاد
میں کوئی دم کا ہوں مہمان تیلیاں نہ بدل
کہ جائے گی تری محنت یہ رائیگاں صیاد
تری نظر پہ ترانے تری نظر پہ فغاں
ملے گا تجھ کو نہ مجھ سا مزاج داں صیاد
جفائے چرخ پہ چھوڑا تھا آشیاں میں نے
ترے قفس میں بھی سر پہ ہے آسماں صیاد
قمر کی روشنی میں کیسے پھول کھلتے ہیں
مگر وہ چاندنی راتیں یہاں کہاں صیاد
قمر جلالوی

جب تم یہ کہو ہم کو نہیں عہدِ وفا یاد

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 40
بس اتنا کہہ دو کہ دلائیں تمھیں کیا یاد
جب تم یہ کہو ہم کو نہیں عہدِ وفا یاد
بیمار تجھے نزؑ میں وہ بت ہی رہا یاد
کافر کو بھی آ جاتا ہے ایسے میں خدا یاد
جب تک رہا بیمار میں دم تم کو کیا یاد
تھی اور کسے دردِ محبت کی دوا یاد
قمر جلالوی

میرے آنے تک تھا سارا گلستاں اچھی طرح

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 39
پھول سب اچھی طرح تھے باغباں اچھی طرح
میرے آنے تک تھا سارا گلستاں اچھی طرح
ان کے دھوکے میں نہ دے آنا کس ی دشمن کو خط
یاد کر نامہ بر نام و نشان اچھی طرح
کیا کہا یہ تو نے اے صیاد تنکا تک نہیں
چھوڑ کر آیا ہوں اپنا آشیاں اچھی طرح
پھر خدا جانے رہائی ہو قفس سے یا نہ ہو
دیکھ لوں صیاد اپنا آشیاں اچھی طرح
صبح کو آئی تھی گلشن میں دبے پاؤں نسیم
دیکھ لے نا غنچہ و گل باغباں اچھی طرح
دیکھیئے قسمت کہ ان کو شام سے نیند آ گئی
وہ نہ سننے پائیں میری داستاں اچھی طرح
دیکھ کر مجھ کو اتر آئے قمر وہ بام سے
دیکھنے پائیں نہ سیرِ آسمان اچھی طرح
قمر جلالوی

تم کہیں بھول نہ جاؤ مرے گھر کی صورت

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 38
دیکھو پھر دیکھ لو دیوار کی دَر کی صورت
تم کہیں بھول نہ جاؤ مرے گھر کی صورت
خیر ہو آپ کے بیمارِ شبِ فرقت کی
آج اتری نظر آتی ہے سحر کی صورت
اے کلی اپنی طرف دیکھ کہ خاموش ہے کیوں
کل کو ہو جائے گی تو بھی گلِ تر کی صورت
جام خالی ہوئے محفل میں ہمارے آگے
ہم بھرے بیٹھے رہے دیدۂ تر کی صورت
پوچھتا ہوں ترے حالات بتاتے ہی نہیں
غیر کہتے نہیں مجھ سے ترےِدر کی صورت
اس نے قدموں میں بھی رکھا سرِمحفل نہ ہمیں
جس کہ ہم ساتھ رہے گردِ سفر کی صورت
رات کی رات مجھے بزم میں رہنے دیجئے
آپ دیکھیں گے سحر کو نہ قمر کی صورت
قمر جلالوی

مدتیں گزریں نہیں آتے وہ چلمن کے قریب

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 37
گر پڑی ہے جب سے بجلی دشتِ ایمن کے قریب
مدتیں گزریں نہیں آتے وہ چلمن کے قریب
میرا گھر جلنا لکھا تھا ورنہ تھی پھولوں پہ اداس
ہر طرف پانی ہی پانی تھا نشیمن کے قریب
اب سے ذرا فاصلے پر ہے حدِ دستِ جنوں
آ گیا چاکِ گریباں بڑھ کے دامن کے قریب
وہ تو یوں کہیئے سرِ محشر خیال آ ہی گیا
ہاتھ جا پہنچا تھا ورنہ ان کے دامن کے قریب
میں قفس سے چھٹ کے جب آیا تو اتنا فرق تھا
برق تھی گلشن کے اندر میں تھا گلشن کے قریب
کیا کہی گی اے قمر تاروں کی دنیا دیکھ کر
چاندنی شب میں وہ کیوں روتے ہیں مدفن کے قریب
قمر جلالوی

اک نشیمن تھا سو وہ بجلی کے کام آ ہی گیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 36
اب مجھے دشمن سے کیا جب زیرِ دام آ ہی گیا
اک نشیمن تھا سو وہ بجلی کے کام آ ہی گیا
سن مآلِ سوزِ الفت جب یہ نام آ ہی گیا
شمع آخر جل بجھی پروانہ کام آ ہی گیا
طالبِ دیدار کا اصرار کام آ ہی گیا
سامنے کوئی بحسنِ انتظام آ ہی گیا
ہم نہ کہتے تھے کہ صبح شام کے وعدے نہ کر
اک مریضِ غم قریبِ صبح شام آ ہی گیا
کوششِ منزل سے تو اچھی رہی دیوانگی
چلتے پھرتے ان سے ملنے کا مقام آ ہی گیا
رازِ الفت مرنے والے نے چھپایا تو بہت
دم نکلتے وقت لب پر ان کا نام آ ہی گیا
کر دیا مشہور پردے میں تجھے زحمت نہ دی
آج کا ہونا ہمارا تیرے کام آ ہی گیا
جب اٹھا ساقی تو واعظ کی نہ کچھ بھی چل سکی
میری قسمت کی طرح گردش میں جام آ ہی گیا
حسن کو بھی عشق کی ضد رکھنی پڑتی ہے کبھی
طور پر موسیٰ سے ملنے کا پیام آ ہی گیا
دیر تک بابِ حرم پر رک کے اک مجبورِ عشق
سوئے بت خانہ خدا کا لے کے نام آ ہی گیا
رات بھر مانگی دعا ان کے نہ جانے کی قمر
صبح کا تارہ مگر لے کر پیام آ ہی گیا
قمر جلالوی

شمع روشن ہو گئی پھولوں کا ہار آ ہی گیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 35
تم چلے آئے تو رونق پر مزار آ ہی گیا
شمع روشن ہو گئی پھولوں کا ہار آ ہی گیا
ہم نہ کہتے تھے ہنسی میں غیر سے وعدہ نہ کر
دیکھنے والوں کو آخر اعتبار آ ہی گیا
کہتے تھے اہلِ قفس گلشن کا اب لیں گے نہ نام
باتوں باتوں میں مگر ذکرِ بہار آ ہی گیا
کتنا سمجھایا تھا تجھ کو دیکھ بڑھ جائے گی بات
فیصلہ آخر کو پیشِ کردگار آ ہی گیا
گو بظاہر میرے افسانے پہ وہ ہنستے رہے
آنکھ میں آنسو مگر بے اختیار آ ہی گیا
گو مری صورت سے نفرت تھی مگر مرنے کے بعد
جب مری تصویر دیکھی ان کو پیار آ ہی گیا
اے قمر قسمت چمک اٹھی اندھیری رات میں
چاندنی چھپتے ہی کوئی پردہ دار آ ہی گیا
قمر جلالوی

تھا کماں تک تیر دل میں آ کے ارماں ہو گیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 34
کیا سے کیا یہ او دشمن جاں تیرا پیکاں ہو گیا
تھا کماں تک تیر دل میں آ کے ارماں ہو گیا
باغباں کیوں سست ہے غنچہ و گل کی دعا
اک مرے جانے سے کیا خالی گلستان ہو گیا
کیا خبر تھی یہ بلائیں سامنے آ جائیں گی
میری شامت مائلِ زلفِ پریشاں ہو گیا
کچھ گلوں کو ہیں نہیں میری اسیری کا الم
سوکھ کر کانٹا ہر اک خارِ گلستاں ہو گیا
ہیں یہ بت خانے میں بیٹھا کر رہا کیا قمر
ہم تو سنتے تھے تجھے ظالم مسلماں ہو گیا
قمر جلالوی

وہ نہانے کیا چلے آئے تماشا ہو گیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 33
پیشِ ساحل اِک ہجومِ موجِ دریا ہو گیا
وہ نہانے کیا چلے آئے تماشا ہو گیا
کاٹنی ہی کیا شبِ ہستی سَرائے دہر میں
اِک ذرا سی آنکھ جھپکائی سویرا ہو گیا
کچھ مری خاموشیاں ان کی سمجھ میں آ گئیں
کچھ میری آنکھوں سے اظہارِ تمنا ہو گیا
نزع کے عالم میں قاصد لے کے جب آیا جواب
ڈوبنے والوں کو تنکے کا سہارا ہو گیا
آپنے سر پر موجِ طوفاں بڑھا کہ لیتی ہے قدم
میرا بیڑا قابلِ تعظیمِ دریا ہو گیا
دیکھ لینا یہ ستم اک دن مٹا دیں گے مجھے
تم یہ کہتے ہوے رہ جاؤ گے کیا ہو گیا
ساحلِ امید وعدہ اب تو چھوڑو اے قمر
غرقِ بحرِ آسماں ایک ایک تارا ہو گیا
قمر جلالوی

اے بتِ خاموش کیا سچ مچ کا پتھر ہو گیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 32
اب تو منہ سے بول مجھ کو دیکھ دن بھر ہو گیا
اے بتِ خاموش کیا سچ مچ کا پتھر ہو گیا
اب تو چپ ہو باغ میں نالوں سے محشر ہو گیا
یہ بھی اے بلبل کوئی صیاد کا گھر ہو گیا
التماسِ قتل پر کہتے ہو فرصت ہی نہیں
اب تمہیں اتنا غرور اللہ اکبر ہو گیا
محفلِ دشمن میں جو گزری وہ میرے دل سے پوچھ
ہر اشارہ جنبشِ ابرو کا خنجر ہو گیا
آشیانے کا کیا بتائیں کیا پتہ خانہ بدوش
چار تنکے رکھ لئے جس شاخ پر گھر ہو گیا
حرس تو دیکھ فلک بھی مجھ پہ کرتا ہے ظلم
کوئی پوچھے تو بھی کیا ان کے برابر ہو گیا
سوختہ دل میں نہ ملتا تیر کا خوں اے قمر
یہ بھی کچھ مہماں کی قسمت سے میسر ہو گیا
قمر جلالوی

جامِ حیات ایک ہی قطرے میں بھر گیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 31
آنسو کسی کا دیکھ کہ بیمار مر گیا
جامِ حیات ایک ہی قطرے میں بھر گیا
چھوڑو وفا کا نام وفادار مر گیا
تم جس ہوا میں ہو وہ زمانہ بدل گیا
صیاد دیکھ لی کششِ موش بہار کی
اڑ اڑ کے باغ میں مرا ایک ایک پر گیا
دیکھا نہ تم نے آنک اٹھا کر بزم میں
آنسو تو میں نے تھا نظر سے اتر گیا
وقت آگیا ہے یار کے وعدے کا اے قمر
دیکھو وہ آسمان ستاروں سے بھر گیا
قمر جلالوی

سوچتا ہوں کون کون آیا گیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 30
ڈھونڈنے پر بھی نہ دل پایا گیا
سوچتا ہوں کون کون آیا گیا
بت کے میں مدتوں کھائے فریب
بارہا کعبہ میں بہکایا گیا
ناصحا میں یہ نا سمجھا آج تک
کیا سمجھ کر مجھ کو سمجھایا گیا
قمر جلالوی

آج تک پچھتا رہے ہیں اور پچھتائیں گے کیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 29
توبہ کیجئے اب فریبِ دوستی کھائیں گے کیا
آج تک پچھتا رہے ہیں اور پچھتائیں گے کیا
خود سمجھے ذبح ہونے والے سمجھائیں گے کیا
بات پہنچے کی کہاں تک آپ کہلائیں گے کیا
بزمِ کثرت میں یہ کیوں ہوتا ہے ان کا انتظار
پردۂ وحدت سے باہر ہم نکل آئیں گے کیا
کل بہار آئے گی یہ سن کر قفس بدلو نہ تم
رات بھر میں قیدیوں کے پر نکل آئیں گے کیا
اے دلِ مضطر انھیں باتوں سے چھوٹا تھا چمن
اب ترے نالے قفس سے بھی نکلوائیں گے کیا
اے قفس والو رہائی کی تمنا ہے فضول
فصلِ گل آنے سے پہلے پر نہ کٹ جائیں گے کیا
شامِ غم جل جل کے مثلِ شمع ہو جاؤں گا ختم
صبح کو احباب آئیں گے تو تو دفنائیں گے کیا
جانتا ہوں پھونک دے گا تیرے گھر کو باغباں
آشیاں کے پاس والے پھول رہ جائیں گے کیا
ان کی محفل میں چلا آیا ہے دشمن خیر ہو
مثلِ آدم ہم بھی جنت سے نکل جائیں گے کیا
ناخدا موجوں میں کشتی ہے تو ہم کو نہ دیکھ
جن کو طوفانوں نے پالا ہے وہ گھبرائیں گے کیا
تو نے طوفاں دیکھتے ہی کیوں نگاہیں پھیر لیں
ناخدا یہ اہل کشتی ڈوب ہی جائیں گے کیا
کیوں یہ بیرونِ چمن جلتے ہوئے تنکے گئے
میرے گھر کی دنیا بھر میں پھیلائیں گے کیا
کوئی تو مونوس رہے گا اے قمر شامِ فراق
شمع گل ہو گی تو یہ تارے بھی چھپ جائیں گے کیا
قمر جلالوی

لیکن میں تشنہ لب کا وہی تشنہ لب رہا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 28
گو دورِ جام بزم میں تا ختمِ شب رہا
لیکن میں تشنہ لب کا وہی تشنہ لب رہا
پروانہ میری طرح مصیبت میں کب رہا
بس رات بھر جلا تری محفل میں جب رہا
ساقی کی بزم میں یہ نظامِ ادب رہا
جس نے اٹھائی آنکھ وہی تشنہ لب رہا
سرکار پوچھتے ہیں کہ خفا ہو کے حالِ دل
بندہ نواز میں تو بتانے سے ادب رہا
بحر جہاں میں ساحل خاموش بن کے دیکھ
موجیں پڑیں گی پاؤں جو تو تشنہ لب رہا
وہ چودھویں کا چاند نہ آیا نظر قمر
میں اشتیاقِ دید میں تا ختمِ شب رہا
قمر جلالوی

قمر خدا کی قسم وہ بھی کیا زمانہ تھا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 27
بنا بلائے حسینوں کا آنا جانا تھا
قمر خدا کی قسم وہ بھی کیا زمانہ تھا
قفس میں رو دیے یہ کہہ کر ذکرِ گلشن پر
کبھی چمن میں ہمارا بھی آشیانہ تھا
نہ روکیے مجھے نالوں سے کہ اب محشر ہے
یہ میرا وقت ہے وہ آپ کا زمانہ تھا
نہ کہتے تھے کہ نہ دے دیکھ دل حسینوں کو
قمر یہ اس کی سزا ہے جو تو نہ مانا تھا
قمر جلالوی

یہ خبر ہی نہ تھی طور جل جائے گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 26
موسیٰؑ سمجھے تھے ارماں نکل جائے گا
یہ خبر ہی نہ تھی طور جل جائے گا
میری بالیں پہ رونے سے کیا فائدہ
کی مری موت کس وقت ٹل جائے گا
کیا عیادت کو اس وقت آؤ گے تم
جب ہمارا جنازہ نکل جائے گا
کم سنی میں ہی کہتی تھی تیری نظر
تو جواں ہو کے آنکھیں بدل جائے گا
سب کو دنیا سے جانا ہے اک دن قمر
رہ گیا آج کوئی تو کل جائے گا
قمر جلالوی

خیالاتِ بشر میں انقلاب آنے سے کیا ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 25
حرم کی راہ کو نقصان بت خانے سے کیا ہو گا
خیالاتِ بشر میں انقلاب آنے سے کیا ہو گا
کسے سمجھا رہے ہیں آپ سمجھانے سے کیا ہو گا
بجز صحرا نوردی اور دیوانے سے کیا ہو گا
ارے کافر سمجھ لے انقلاب آنے سے کیا ہو گا
بنا کعبہ سے بت خانہ تو بت خانے سے کیا ہو گا
نمازی سوئے مسجد جا رہے ہیں شیخ ابھی تھم جا
نکلتے کوئی دیکھے گا جو مے خانے سے کیا ہو گا
خدا آباد رکھے میکدہ یہ تو سمجھ ساقی
ہزاروں بادہ کش ہیں ایک پیمانے سے کیا ہو گا
تم اپنی ٹھوکریں کا ہے کو روکو دل کو کیوں مارو
ہمیں جب مٹ گئے تو قبر مٹ جانے سے کیا ہو گا
قمر جلالوی

خجل ہوئے پہ یہ توڑی قسم تو کیا ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 24
ہمارے بعد جو چھوڑے ستم تو کیا ہو گا
خجل ہوئے پہ یہ توڑی قسم تو کیا ہو گا
یہ سوچتا ہوں سر جھکاتے ہیں پئے سجدہ
سمٹ کے آ گئے دیرو حرم تو کیا ہو گا
یہ بزمِ غیر ہے کچھ آبروئے عشق کا پاس
تھمے نہ اشک اے چشمِ نم تو کیا ہو گا
قمر جلالوی

وہ الجھے ہی رہیں گے زلف میں شانہ تو کیا ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 23
اگر چھوٹا بھی اس سے آئینہ خانہ تو کیا ہو گا
وہ الجھے ہی رہیں گے زلف میں شانہ تو کیا ہو گا
بھلا اہلِ جنوں سے ترکِ ویرانہ تو کیا ہو گا
خبر آئے گی ان کی ان کا اب آنا تو کیا ہو گا
سنے جاؤ جہاں تک سن سکو جن نیند آئی گی
وہیں ہم چھوڑ دیں گے ختم افسانہ تو کیا ہو گا
اندھیری رات، زِنداں، پاؤں میں زنجیریں، تنہائی
اِس عالم میں نہ مر جائے گا دیوانہ تو کیا ہو گا
ابھی تو مطمئن ہو ظلم کا پردہ ہے خاموشی
اگر منہ سے بول اٹھا یہ دیوانہ تو کیا ہو گا
جنابِ شیخ ہم تو رند ہیں چلو سلامت ہے
جو تم نے توڑ ڈالا یہ پیمانہ تو کیا ہو گا
یہی ہے گر خوشی تو رات بھر گنتے رہو تارے
قمر اس چاندنی میں ان کا اب آنا تو کیا ہو گا
قمر جلالوی

کوئی طوفاں ہو گا ناخدا ساحل تو کیا ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 22
سکوں بہر محبت میں ہمیں حاصل تو کیا ہو گا
کوئی طوفاں ہو گا ناخدا ساحل تو کیا ہو گا
ترے کہنے سے تیرا نام بھی لوں گا محشر میں
مگر مجھ سے اگر پوچھا گیا قاتل تو کیا ہو گا
قفس سے چھوٹ کر صیاد دیکھ آئینگے گلشن بھی
ہمارا آشیاں رہنے کے اب قابل تو کیا ہو گا
سرِ محشر میں اپنے خون سے انکار تو کر دوں
مگر چھینٹے ہوئے تلوار پر قاتل تو کیا ہو گا
قمر کے نام سے شرمانے والے سیر تاروں کی
نکل آیا جو ایسے میں مہِ کامل تو کیا ہو گا
قمر جلالوی

اندھیرے میں نظر نہ آیا میخانہ تو کیا ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 21
ہوا شب کو عبث مئے کے لئے جانا تو کیا ہو گا
اندھیرے میں نظر نہ آیا میخانہ تو کیا ہو گا
چمن والو قفس کی قید بے میعاد ہوتی ہے
تمھیں آؤ تو آ جانا میرا آنا تو کیا ہو گا
گرا ہے جام خود ساقی سے اس پر حشر برپا ہے
مرے ہاتھوں سے چھوتے گا پیمانہ تو کیا ہو گا
جگہ تبدیل کرنے کو تو کر لوں ساقی میں
وہاں بھی آ سکا مجھ تک نہ پیمانہ تو کیا ہو گا
بہارِ گل بنے بیٹھے ہو تم غیروں کی محفل میں
کوئی ایسے میں ہو جائے دیوانہ تو کیا ہو گا
سرِ محشر مجھے دیکھا تو وہ دل میں یہ سوچیں گے
جو پہچانا تو کیا ہو گا نہ پہچانا تو کیا ہو گا
حفاظت کے لئے اجڑی ہوئی محفل میں بیٹھے ہیں
اڑا دی گر کسی نے خاکِ پروانہ تو کیا ہو گا
زباں تو بند کرواتے ہو تم اللہ کے آگے
کہا ہم نے اگر آنکھوں سے افسانہ تو کیا ہو گا
قمر اس اجنبی محفل میں تم جاتے تو ہو لیکن
وہاں تم کو کسی نے بھی نہ پہچانا تو کیا ہو گا
قمر جلالوی

جو بیڑا ڈوب چکا ہو وہ پار کیا ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 20
رہا الم سے دلِ داغ دار کیا ہو گا
جو بیڑا ڈوب چکا ہو وہ پار کیا ہو گا
جلا جلا گے پسِ مرگ کیا ملے گا تمھیں
بجھا بجھا کے چراغِ مزار کیا ہو گا
وہ خوب ناز سے انگڑائی لے کے چونکے ہیں
سحر قریب ہے پروردگار کیا ہو گا
اگر ملیں گے یہی پھل تری محبت میں
نہال پھر کوئی امید وار کیا ہو گا
قمر نثار ہو یہ سادگی بھی کیا کم ہے
گلے میں ڈال کے پھولوں کا ہار کیا ہو گا
قمر جلالوی

خدا معلوم و کس کس سے محوِ گفتگو ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 19
گِلہ بزمِ عدو میں کیونکر اس کے رو برو ہو گا
خدا معلوم و کس کس سے محوِ گفتگو ہو گا
بہار اپنی سمجھ کر اور ہنس لیں یہ چمن والے
بہت روئیں گے جب ظاہر فریبِ رنگ و بو ہو گا
گرے گی برق اے صیاد یہ میں بھی سمجھتا ہوں
مگر میرا قفس کب آشیاں کے رو برو ہو گا
بڑھے اور پھر بڑھے، ضد دیکھ لینا حشر میں قاتل
خدا کے سامنے خاموش ہم ہوں گے نہ تو ہو گا
سحر کو کیوں نگاہوں سے گرانے کو بلاتے ہو
مرے سرکار آئینہ تمھارے رو برو ہو گا
لگا بیٹھے ہیں اپنے پاؤں میں وہ شام سے مہندی
انھیں معلوم کیا کس کس کا خونِ آرزو ہو گا
گریباں کو تو سی دے گا رفو گر تارِ داماں سے
مگر چاکِ دلِ مجروح پھر کیونکر رفو ہو گا
چھپے گا خونِ ناحق کس طرح پیشِ خدا قاتل
ترے دامن پہ چھینٹے، آستینوں پر لہو ہو گا
قمر سے انتظامِ روشنی کو پوچھنے والے
چراغوں کی ضرورت کیا ہے جب محفل میں تو ہو گا
قمر جلالوی

یہاں ہو گی یہاں ہو گا، وہاں ہو گی وہاں ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 18
قیامت اب جہاں ہو گی ستم تیرا باں ہو گا
یہاں ہو گی یہاں ہو گا، وہاں ہو گی وہاں ہو گا
نہ گھبرا اے مریضِ عشق دونوں آنے والے ہیں
قضا بھی مہماں ہو گی وہ بت بھی مہماں ہو گا
بہار آخر ہے پی لی بیٹھ کر اے شیخ رندوں میں
یہ محفل پھر کہاں ہو گی یہ جلسہ پھر کہاں ہو گا
چمن میں توڑ ڈالی باغباں نے مجھ سے یہ کہہ کر
نہ شاخِ آشیاں ہو گی نہ تیرا آشیاں ہو گا
کدھر ڈھونڈے گا اپنے قافلے سے چھوٹنے والے
نہ گردِ کارواں ہو گی نہ شورِ کارواں ہو گا
مجھے معلوم ہے اپنی کہانی، ماجرا اپنا
نہ قاصد سے بیاں ہو گی نہ قاصد سے بیاں ہو گا
وہ چہرے سے سمجھ لیں گے مری حالت مرا ارماں
نہ محتاجِ بیاں ہو گی نہ محتاجِ بیں ہو گا
تم اپنے در پہ دیتے ہو اجازت دفنِ دشمن کی
مری تربت کہاں ہو گی مرا مرقد کہاں ہو گا
ابھی کیا ہے قمر ان ی ذرا نظریں تو پھرنے دو
زمیں نا مہرباں ہو گی فلک نا مہرباں ہو گا
قمر جلالوی

آؤ مل لو عید یہ موقع نہیں تکرار کا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 17
آج کے دن صاف ہو جاتا ہے دل اغیار کا
آؤ مل لو عید یہ موقع نہیں تکرار کا
رخ پہ گیسو ڈال کر کہنا بتِ عیار کا
وقت دونوں مل گئے منہ کھول دو بیمار کا
جاں کنی کا وقت ہے پھِرتی نہ دیکھو پتلیاں
تم ذرا ہٹ جاؤ دم نکلے گا اب بیمار کا
حرج ہی کیا ہے الگ بیٹھا ہوں محفل میں خموش
تم سمجھ لینا کہ یہ بھی نقش ہے دیوار کا
اس قفس والے کی قسمت قابل اِفسوس ہے
چھوٹ کر جو بھول جائے راستہ گلزار کا
بات رہ جائے گی دیکھ آؤ گھڑی بھر کے لیئے
لوگ کہتے ہی کے حال اچھا نہیں بیمار کا
کس طرح گزری شبِ فرقت قمر سے یہ نہ پوچھ
رات بھر ڈھونڈا ہے تارہ صبح کے آثار کا
قمر جلالوی