زمرہ جات کے محفوظات: آزاد نظم

ایک دوست کے نام

لڑکی!

یہ لمحے بادل ہیں

گزر گئے تو ہاتھ کبھی نہیں آئیں گے

ان کے لمس کو پیتی جا

قطرہ قطرہ بھیگتی جا

بھیگتی جا تُو جب تک اِن میں نم ہے

اور تیرے اندر کی مٹی پیاسی ہے

مُجھ سے پوچھ

کہ بارش کوواپس آنے کا رستہ کبھی نہ یاد ہُوا

بال سُکھانے کے موسم اَن پڑھ ہوتے ہیں

پروین شاکر

ایک بُری عورت

ایک بُری عورت

وہ اگرچہ مطربہ ہے

لیکن اُس کے دامِ صورت سے زیادہ

شہر اُس کے جسم کا اسیر ہے

وہ آگ میں گلاب گوندھ کر کمالِ آزری سے پہلوی تراش پانے والا جسم

جس کو آفتاب کی کرن جہاں سے چُومتی ہے

رنگ کی پھوار پھوٹتی ہے!

ا س کے حسنِ بے پناہ کی چمک

کسی قدیم لوک داستان کے جمال کی طرح

تمام عُمر لاشعور کو اسیرِ رنگ رکھتی ہے!

گئے زمانوں میں کسی پری کو مُڑکے دیکھنے سے لوگ

باقی عُمر قیدِ سنگ کاٹتے تھے

یاںِ__سزائے باز دید آگ ہے!

یہ آزمائشِ شکیبِ ناصحاں و امتحانِ زُہدِ واعظاں

دریچۂ مُراد کھول کر ذرا جُھکے

تو شہرِ عاشقاں کے سارے سبز خط

خدائے تن سے،

شب عذار ہونے کی دُعا کریں

جواں لُہو کا ذکر کیا

یہ آتشہ تو

پیرِ سال خوردہ کو صبح خیز کر دے

شہر اس کی دلکشی کے بوجھ سے چٹخ رہا ہے

کیا عجیب حُسن ہے،

کہ جس سے ڈر کے مائیں اپنی کوکھ جائیوں کو،

کوڑھ صورتی کی بد دُعائیں دے رہی ہیں

کنواریاں تو کیا

کہ کھیلی کھائی عورتیں بھی جس کے سائے سے پناہ مانگتی ہیں

بیاہتا دِلوں میں اس کا حُسن خوف بن کے یوں دھڑکتا ہے

کہ گھر کے مرد شام تک نہ لوٹ آئیں تو

وفاشعار بیبیاں دُعائے نور پڑھنے لگتی ہیں !

کوئی برس نہیں گیا

کہ اس کے قرب کی سزا میں

شہر کے سبہی قدر داں

نہ قامتِ صلیب کی قبا ہُوئے

وہ نہر جس پہ ہر سحر یہ خوش جمال بال دھونے جاتی ہے

اُسے فقیہِ شہر نے نجس قرار دے دیا

تمام نیک مرد اس سے خوف کھاتے ہیں

اگر بکارِ خسروی

کبھی کسی کو اس کی راندۂ جہاں گلی سے ہوکے جانا ہو

تو سب کلاہ دار،

اپنی عصمتیں بچائے یوں نکلتے ہیں ،

کہ جیسے اس گلی کی ساری کھڑکیاں

زنانِ مصر کی طرح سے

اُن کے پچھلے دامنوں کو کھینچنے لگی ہیں

یہ گئی اماوسوں کا ذکر ہے

کہ ایک شام گھر کو لوٹتے ہُوئے میں راستہ بھٹک گئی

مری تلاش مجھ کو جنگلوں میں لا کے تھک گئی

میں راہ کھوجتی ہی رہ گئی

اس ابتلا میں چاند سبز چشم ہو چکا تھا

جگنوؤں سے اُمید باندھتی

مہیب شب ہر اس بن کے جسم و جاں پہ یوں اُتر رہی تھی

جیسے میرے روئیں روئیں میں

کسی بلا کا ہاتھ سرسرا رہا ہو

زندگی میں ۔۔۔ خامشی سے اِتنا ڈر کبھی نہیں لگا!

کوئی پرند پاؤں بھی بدلتا تھا تو نبض ڈوب جاتی تھی

میں ایک آسماں چشیدہ پیڑ کے سیہ تنے سے سرٹکائے

تازہ پتّے کی طرح لرز رہی تھی

ناگہاں کسی گھنیری شاخ کو ہٹا کے

روشنی کے دو الاؤ یوں دہک اُٹھے

کہ ان کی آنچ میرے ناخنون تک آ رہی تھی

ایک جست۔۔۔

اور قریب تھا کہ ہانپتی ہُوئی بلا

مری رگ گلو میں اپنے دانت گاڑتی

کہ دفعتاً کسی درخت کے عقب میں چوڑیاں بجیں

لباس شب کی سلوٹوں میں چرمرائے زرد پتّوں کی ہری کہانیاں لیے

وصالِ تشنہ کا گلال آنکھ میں

لبوں پہ ورم ، گال پر خراش

سنبلیں کُھلے ہُوئے دراز گیسوؤں میں آنکھ مارتا ہُوا گُلاب

اور چھلی ہُوئی سپید کہنیوں میں اوس اور دُھول کی ملی جلی ہنسی لیے

وہی بلا ، وہی نجس، وہی بدن دریدہ فاحشہ

تڑپ کے آئی___اور__

میرے اور بھیڑیے کے درمیان ڈٹ گئی

پروین شاکر

ایک اداس نظم

یہ حسین شام اپنی

ابھی جس میں گھل رہی ہے

ترے پیرہن کی خوشبو

ابھی جس میں کھل رہے ہیں

میرے خواب کے شگوفے

ذرا دیر کا ہے منظر!

ذرا دیر میں افق پہ

کھلے گا کوئی ستارہ

تری سمت دیکھ کر وہ

کرے گا کوئی اشارہ

ترے دل کو آئیگا پھر

کسی یاد کا بلاوا

کوئی قصۂ جدائی

کوئی کار نا مکمل

کوئی خواب نا شگفتہ

کوئی بات کہنے والی

کسی اور آدمی سے !

ہمیں چاہیے تھا ملنا

کسی عہد مہرباں میں

کسی خواب کے یقیں میں

کسی اور آسماں میں

کسی اور سر زمیں میں !

پروین شاکر

ایسا نہیں ہونے دینا

میری بستی سے پرے بھی میرے دشمن ہوں گے

پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا

آشنا ہاتھ ہی اکثر میری جانب لپکے

میرے سینے میں میرا اپنا ہی خنجر اترا

پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضا

پھر وہی عام وہ ہی اہل رِیا کی باتیں

نعرہ حبِ وطن مالِ تجارت کی طرح

جنسِ ارزاں کی طرح دین خدا کی باتیں

اس سے پہلے بھی تو ایسی ہی گھڑی آئی تھی

صبح وحشت کی طرح شام غریباں کی طرح

اس سے پہلے بھی تو عہد و پیمانِ وفا ٹوٹے تھے

شیشۂ دل کی طرح آئینۂ جاں کی طرح

پھر کہاں ہیں مری ہونٹوں پہ دعاؤں کے دئے

پھر کہاں شبنمی چہروں پہ رفاقت کی وِداع

صندلی پاؤں سے مستانہ روی روٹھ گئی

ململی ہاتھوں پہ جل بجھ گیا انگارِ حنا

دل نشیں آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویا

شاخِ بازو کے لئے زلف کا بادل رویا

مثلِ پیراہنِ گل پھر سے بدن چاک ہوئے

جیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیر

اس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا ندیم

نوکِ دشتاں سے کھنچی تھی میری مٹی کی لکیر

آج ایسا نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا

اے میری سوختہ جانوں، میرے پیارے لوگو

اب کے گر زلزلے آئے تو قیامت ہو گی

میرے دلگیر، میرے درد کے مارے لوگو

کیسی غاصب، کسی ظالم، کسی قاتل کے لیے

خود کو تقسیم نہ کرنا میرے پیارے لوگو

نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا

پروین شاکر

اے عشق جنوں پیشہ

عمروں کی مسافت سے

تھک ہار گئے آخر

سب عہد اذیّت کے

بیکار گئے آخر

اغیار کی بانہوں میں

دلدار گئے آخر

رو کر تری قسمت کو

غمخوار گئے آخر

یوں زندگی گزرے گی

تا چند وفا کیشا

وہ وادیِ الفت تھی

یا کوہ الَم جو تھا

سب مدِّ مقابل تھے

خسرو تھا کہ جم جو تھا

ہر راہ میں ٹپکا ہے

خونابہ بہم جو تھا

رستوں میں لُٹایا ہے

وہ بیش کہ کم جو تھا

نے رنجِ شکستِ دل

نے جان کا اندیشہ

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کچھ اہلِ ریا بھی تو

ہمراہ ہمارے تھے

رہرو تھے کہ رہزن تھے

جو روپ بھی دھارے تھے

کچھ سہل طلب بھی تھے

وہ بھی ہمیں پیارے تھے

اپنے تھے کہ بیگانے

ہم خوش تھے کہ سارے تھے

سو زخم تھے نَس نَس میں

گھائل تھے رگ و ریشہ

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جو جسم کا ایندھن تھا

گلنار کیا ہم نے

وہ زہر کہ امرت تھا

جی بھر کے پیا ہم نے

سو زخم ابھر آئے

جب دل کو سیا ہم نے

کیا کیا نہ مَحبّت کی

کیا کیا نہ جیا ہم نے

لو کوچ کیا گھر سے

لو جوگ لیا ہم نے

جو کچھ تھا دیا ہم نے

اور دل سے کہا ہم نے

رکنا نہیں درویشا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یوں ہے کہ سفر اپنا

تھا خواب نہ افسانہ

آنکھوں میں ابھی تک ہے

فردا کا پری خانہ

صد شکر سلامت ہے

پندارِ فقیرانہ

اس شہرِ خموشی میں

پھر نعرۂ مستانہ

اے ہمّتِ مردانہ

صد خارہ و یک تیشہ

اے عشق جنوں پیشہ

اے عشق جنوں پیشہ

پروین شاکر

اے دل ان آنکھوں پر نہ جا

اے دل ان آنکھوں پر نہ جا

جن میں وفورِ رنج سے

کچھ دیر کو تیرے لیئے

آنسو اگر لہرا گئے

یہ چند لمحوں کی چمک

جو تجھ کو پاگل کر گئ!

ان جگنوؤں کے نور سے

چمکی ہے کب وہ زندگی

جس کے مقدر میں رہی

صبحِ طلب سے تیرگی

کس سوچ میں گم سم ہے تو

اے بے خبر! ناداں نہ بن

تیری فسردہ روح کو

چاہت کے کانٹوں کی طلب

اور اس کے دامن میں ‌فقط

ہمدردیوں کے پھول ہیں

پروین شاکر

اوتھیلو

اپنے فون پہ اپنا نمبر

بار بار ڈائل کرتی ہوں

سوچ رہی ہوں

کب تک اُس کا ٹیلی فون انگیج رہے گا

دل کُڑھتا ہے

اِتنی اِتنی دیر تلک

وہ کس سے باتیں کرتا ہے

پروین شاکر

آنے والی کل کا دُکھ

مِری نظر میں اُبھر رہا ہے

وہ ایک لمحہ

کہ جب کسی کی حسین زُلفوں کی نرم چھاؤں میں آنکھ مُوندے

گئے دنوں کا خیال کر کے

تم ایک لمحے کو کھو سے جاؤ گے اور شاید

نہ چاہ کر بھی اُداس ہو گے

تو کوئی شیریں نوایہ پُوچھے گی

’’میری جاں ! تم کو کیا ہُوا ہے؟

یہ کس تصور میں کھو گئے ہو؟

تمھارے ہونٹوں پہ صبح کی اوّلیں کرن کی طرح سے اُبھرے گی مُسکراہٹ

تم اُس کے رُخسار تھپتھپا کے

کہو گے اُس سے

میں ایک لڑکی کو سوچتا تھا

عجیب لڑکی تھی۔۔۔کِتنی پاگل!‘‘

تُمھاری ساتھی کی خُوبصورت جبیں پہ کوئی شکن بنے گی

تو تم بڑے پیار سے ہنسو گے

کہو گے اُس سے

’’ارے وہ لڑکی

وہ میرے جذبات کی حماقت

وہ اس قدر بے وقوف لڑکی

مرے لیے کب کی مر چکی ہے!

پھر اپنی ساتھی کی نرم زُلفوں میں اُنگلیاں پھیرتے ہوئے تم

کہو گے اُس سے

چلو، نئے آنے والی کل میں

ہم اپنے ماضی کو دفن کریں

پروین شاکر

اندیشہ ہائے دُور دراز

اُداس شام دریچوں میں مُسکراتی ہے

ہَوا بھی،دھیمے سُروں میں ،کوئی اُداس گیت

مرے قریب سے گُزرے تو گنگناتی ہے

مری طرح سے شفق بھی کسی کی سوچ میں ہے

میں اپنے کمرے میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں

مری نگاہ دھندلکوں میں اُلجھی جاتی ہے

نہ رنگ ہے،نہ کرن ہے،نہ روشنی، نہ چراغ

نہ تیرا ذکر، نہ تیرا پتہ، نہ تیرا سُراغ

ہَوا سے ،خشک کتابوں کے اُڑ رہے ہیں ورق

مگرمیں بُھول چُکی ہُوں تمام ان کے سبق

اُبھر رہا ہے تخیلُ میں بس ترا چہرہ

میں اپنی پلکیں جھپکتی ہوں اُس کو دیکھتی ہوں

میں اس کو دیکھتی ہوں اور ڈر کے سوچتی ہوں

کہ کل یہ چہرہ کسی اور ہاتھ میں پہنچے

تو میرے ہاتھوں کی لکھی ہُوئی کوئی تحریر

جو اِن خطوط میں روشن ہے آگ کی مانند

نہ ان ذہین نگاہوں کی زد میں آ جائے!

پروین شاکر

آنچل اور بادبان

ساحل پر اِک تنہا لڑکی

سرد ہَوا کے بازو تھامے

گیلی ریت پر گُھوم رہی ہے

جانے کس کو ڈھونڈ رہی ہے

بِن کاجل، بیکل آنکھوں سے

کھلے سمندر کے سینے پر

فراٹے بھرتی کشتی کے بادبان کے لہرانے کو

کس حیرت سے دیکھ رہی ہے!

کس حسرت سے اپنا آنچل مَسل رہی ہے!

پروین شاکر

امَر

ہم میں بھی نہیں وہ روشنی اب

اور تم بھی تمام جل بُجھے ہو

دونوں سے بچھڑ گئی ہیں کرنیں

ویران ہیں شہرِ دل کی راتیں

اب خواب ہیں چاندنی کی باتیں

جنگل میں ٹھہر گئی ہیں شامیں

پروین شاکر

الوداعیہ

وہ جا چکا ہے

مگر جدائی سے قبل کا

ایک نرم لمحہ

ٹھہر گیا ہے

مِری ہتھیلی کی پشت پر

زِندگی میں

پہلی کا چاند بن کر !

پروین شاکر

اُلجھن

رات ابھی تنہائی کی پہلی دہلیز پہ ہے

اور میری جانب اپنے ہاتھ بڑھاتی ہے

سوچ رہی ہوں

ان کو تھاموں

زینہ زینہ سناٹوں کے تہہ خانوں میں اُتروں

یا اپنے کمرے میں ٹھہروں

چاند مری کھڑکی پر دستک دیتا ہے

پروین شاکر

اعتراف

جانے کب تک تری تصویر نگاہوں میں رہی

ہو گئی رات ترے عکس کو تکتے تکتے

میں نے پھر تیرے تصّور کے کسی لمحے میں

تیری تصویر پہ لب رکھ دیئے آہستہ سے !

پروین شاکر

آشیر باد

پھر مسیحائی دستگیر ہُوئی

چُن رہی ہے تمھارے اشکوں کو

کِس محبت سے یہ نئی لڑکی

میرے ہاتھوں کی کم سخن نرمی

دُکھ تمھارے نہ بانٹ پائی مگر

اس کے ہاتھوں کی مہربانی کو

میری کم ساز آرزو کی دُعا

اور یہ بھی کہ اس کی چارہ گری

عمر بھر ایسے سر اُٹھا کے چلے

میری صُورت کبھی نہ کہلائے

زخم پر ایک وقت کی پٹّی

پروین شاکر

اِسم

بہت پیار سے

بعد مّدت کے

جب سے کسی شخص نے چاند کہ کر بُلایا

تب سے

اندھیروں کی خُوگر نِگاہوں کو

ہر روشنی اچھی لگنے لگی !

پروین شاکر

اُس وقت

جب آنکھ میں شام اُترے

پلکوں پہ شفق پُھولے

کاجل کی طرح ،میری

آنکھوں کو دھنک چُھولے

اُس وقت کوئی اس کو

آنکھوں سے مری دیکھے

پلکوں سے مری چُومے!

پروین شاکر

اس کے مسیحا کے لیے ایک نظم

اجنبی!

کبھی زندگی میں اگر اکیلا ہو

اور درد حد سے گزر جائے

آنکھیں تری

با ت بے بات رو پڑیں

تب کوئی اجنبی

تیر ی تنہائی کے چاند کا نرم ہالہ بنے

تیری قامت کا سایہ بنے

تیرے زخموں کا سایہ بنے

تیری پلکوں سے شبنم چُنے

تیرے دُکھ کا مسیحا بنے!

پروین شاکر

آزمائش

ڈیڑھ برس کے بعد

اچانک

وقت نے اپنا آئینہ پن دِکھلایا

بچھڑے ہوؤں کو مدِّ مقابل لے آیا

بہتی ہَوا کے عکس بنانے والا ساحر

گونگی تصویروں کو اب آواز بھی دے!

پروین شاکر

احساس

گہرے نیلم پانی میں

پُھول بدن لہریں لیتے تھے

ہَوا کے شبنم ہاتھ انھیں چُھو جاتے تو

پور پور میں خنکی تیرنے لگتی تھی

شوخ سی کوئی موج شرارت کرتی تو

نازک جسموں ،نازک احساسات کے مالک لوگ

شاخِ گلاب کی صُورت کانپ اُٹھتے تھے!

اُوپر وسط اپریل کا سُورج

انگارے برساتا تھا

ایسی تمازت!

آنکھیں پگھلی جاتی تھی!

لیکن دِل کا پُھول کِھلا تھا

جسم کے اندر رات کی رانی مہک رہی تھی

رُوح محبت کی بارش میں بھیگ رہی تھی

گیلی ریت اگرچہ دُھوپ کی حدت پاکر

جسموں کو جھلسانے لگی تھی

پھر بھی چہروں پہ لکھا تھا

ریت کے ہر ذرے کی چُبھن میں

فصلِ بہار کے پہلے گُلابوں کی ٹھنڈک ہے

پروین شاکر

احتیاط

سوتے میں بھی

چہرے کو آنچل سے چُھپائے رہتی ہوں

ڈر لگتا ہے

پلکوں کی ہلکی سی لرزش

ہونٹوں کی موہوم سی جنبش

گالوں پر وہ رہ رہ کے اُترنے والی دھنک

لہومیں چاند رچاتی اِس ننھی سی خوشی کا نام نہ لے لے

نیند میں آئی ہُوئی مُسکان

کِسی سے دل کی بات نہ کہہ دے

پروین شاکر

اِحتساب

ہواِ_جو گندم کی پہلی خوشبو کے لمس سے لے کے

کڑوے بارُود کی مہک تک

زمیں کے ہمراہ رقص میں تھی

گماں یہ ہوتا ہے

اس رفاقت سے تھک چکی ہے

اور اپنی پازیب اُتار کر

اجنبی زمینوں کی سرد بانہوں میں سورہی ہے

فضا میں سنّاٹا دم بخود ہے

ہوا کی خفگی ہی بے سبب ہے

کہ ابِن آدم نے اپنے نیپام سے بھی بڑھ کر

کوئی نیا بم بنا لیا ہے؟

پروین شاکر

اجنبی

کھوئی کھوئی آنکھیں

بکھرے بال

شکن آلود قبا

لُٹا لُٹا انسان !

سائے کی طرح سے میرے ساتھ رہا کرتا لیکن

کِسی جگہ مل جائے تو

گبھرا کر مُڑ جاتا ہے

اور پھر دور سے جا کر مجھ کو تکنے لگتا ہے

کون ہے یہ

پروین شاکر

آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی!

رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی

میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی

میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی

میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی

زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی

تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے

تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے

تیری بانہیں ،ترا پہلو ہے ابھی میرے لیے

سب سے بڑھ کر، مری جاں !تو ہے ابھی میرے لیے

زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی

آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی!

آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہو گا

عشق حیراں ہے سرِ شہرِ سبا کی ہو گا

میرے قاتل! ترا اندازِ جفا کیا ہو گا!

آج کی شب تو بہت کچھ ہے ، مگر کل کے لیے

ایک اندیشہ بے نام ہے اور کچھ بھی نہیں

دیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد

رنگِ اُمید کِھلے گا کہ بکھر جائے گا!

وقت پرواز کرے گا کہ ٹھہر جائے گا!

جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا

خواب کا شہر رہے گا کہ اُجڑ جائے گا!

پروین شاکر

اتنے اچھے موسم میں

اتنے اچھے موسم میں

روٹھنا نہیں اچھا

ہار جیت کی باتیں

کل پہ ہم اُٹھا رکھیں

آج دوستی کر لیں !!!

پروین شاکر

اِتنا معلوم ہے!

اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز

سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہو گا

میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہ رنگ وبُو میں

روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہ وگا

اور جب اُس نے وہاں مُجھ کو نہ پایا ہو گا!؟

آپ کو عِلم ہے، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟

میری ہر دوست سے اُس نے یہی پُوچھا ہو گا

کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہُوئی ہے آخر

خُود سے اِس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہو گا

کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا

آپ ہی آپ کئی بار وہ رُوٹھا ہو گا

وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن

سیڑھیاں چڑھتے ہُوئے اُس نے یہ سوچا ہو گا

راہداری میں ، ہرے لان میں ،پُھولوں کے قریب

اُس نے ہر سمت مُجھے آن کے ڈھونڈا ہو گا

نام بُھولے سے جو میرا کہیں آیا ہو گا

غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہو گا

ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہو گا

بات کرتے ہُوئے سو بار وہ بُھولا ہو گا

یہ جو لڑکی نئی آئی ہے،کہیں وہ تو نہیں

اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہو گا

جانِ محفل ہے، مگر آج، فقط میرے بغیر

ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہو گا

کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہُوئی ہو گی اُسے

اُس نے بے ساختہ پھر مُجھ کو پُکارا ہو گا

چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پاکر

دوستوں کو بھی کسی عُذر سے روکا ہو گا

یاد کر کے مجھے، نَم ہو گئی ہوں گی پلکیں

’’آنکھ میں پڑ گیا کچھ‘‘ کہہ کے یہ ٹالا ہو گا

اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہو گئی پناہ

ہر سطر میں مرا چہرہ اُبھر آیا ہو گا

جب ملی ہوئی اسے میری علالت کی خبر

اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہو گا

سوچ کہ یہ، کہ بہل جائے پریشانی دل

یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہو گا!

اتفاقاً مجھے اُس شام مری دوست ملی

مَیں نے پُوچھا کہ سنو۔آئے تھے وہ۔کیسے تھے؟

مُجھ کو پُوچھا تھا؟مُجھے ڈُھونڈا تھا چاروں جانب؟

اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنسی دی

اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے

کیا کہا اُس نے ۔۔ مُجھے یاد نہیں ہے لیکن

اِتنا معلوم ہے ،خوابوں کا بھرم ٹُوٹ گیا

پروین شاکر

اِتنا دھیان رکھنا

اُجلے آج کی سّچائی کو

مَیلی کل کی دُھندلاہٹ میں

کیا اوروں کی صُورت تم بھی پرکھو گے ؟

خیر___تمھاری مرضی

لیکن اِتنا دھیا ن میں رکھنا

سُور ج پر بھی رات کی ہم آغوشی کا الزام رہا ہے

پروین شاکر

اپنی زمین کے لیے ایک نظم

خواب،آنکھوں کی عبادت ہیں

گئی رات کے سناٹے میں

اپنے ہونے کا یقیں بھی ہیں

گُل و نغمہ کا اثبات بھی ہیں

خواب کے رنگ دھنگ سے بڑھ کر

کبھی پلکوں پہ ستارہ،کبھی آنکھوں میں سحاب

کبھی رُخسار پہ لالہ،کبھی ہونٹوں پہ گلاب

کبھی زخموں کا،کبھی خندۂ گل کا موسم

کبھی تنہائی کا چاند اور کبھی پچھلے پہر کی شبنم

خواب،جو تجزیۂ ذات ہوئے

ان کو جب فرد کی نیندوں کی نفی کر کے لکھا جائے

تو اک قوم کا ناقابل تردید تشخص بن جائیں !

وہ خزاں زاد تھا

اور بنتِ بہار

اُس کی آنکھوں کے لیے خوابِ حیات

اپنے اس خواب کی تقدیس بچانے کے لئے

وہ اماوس کی گھنی راتوں میں

رت جگا کرتا رہا

اورایسے،کہ نیا موسمِ گُل آیاتوسب نے دیکھا

جھلملاتے ہُوئے اِک تارے کی اُنگلی تھامے

چاند پرچم پہ اُتر آیا ہے

سنگریزوں میں گلاب اُگتے ہیں

شہرِ آذر میں اذاں گونجتی ہے

خوشبو آزاد ہے

جنگل کی ہَوا بن کے سفر کرتی ہے

نئی مٹی کا،نئی خواب زمینوں کا سفر

یہ سفر____رقصِ زمیں ،رقصِ ہَوا،رقصِ محبت ہے

جواَب لمحہ موجود تک آ پہنچاہے

پروین شاکر

اب کس کا جشن مناتے ہو

اب کس کا جشن مناتے ہو، اس دیس کا جو تقسیم ہوا

اب کس کے گیت سناتے ہو، اس تن من کا جو دونیم ہوا

اس خواب کا جو ریزہ ریزہ ان آنکھوں کی تقدیر ہوا

اس نام کا جو ٹکڑا ٹکڑا گلیوں میں بے توقیر ہوا

اس پرچم کا جس کی حرمت بازاروں میں نیلام ہوئی

اس مٹی کا جس کی حرمت منسوب عدو کے نام ہوئی

اس جنگ کو جو تم ہار چکے، اس رسم کا جو جاری بھی نہیں

اس زخم کا جو سینے پہ نہ تھا، اس جان کا جو واری بھی نہیں

اس خون کا جو بدقسمت تھا راہوں میں بہا یا تن میں رہا

اس پھول کا جو بے قیمت تھا، آنگن میں کھلا یا بن میں رہا

اس مشرق کا جس کو تم نے نیزے کی انی، مرہم سمجھا

اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا، کم سمجھا

ان معصوموں کا جن کے لہو سے تم نے فروزاں راتیں کیں

یا ان مظلوموں کا جس سے خنجر کی زباں میں باتیں کیں

اس مریم کا جس کی عفت لٹتی ہے بھرے بازاروں میں

اس عیسیٰ کا جو قاتل ہے اور شامل ہے غم خواروں میں

ان نوحہ گروں کا جس نے ہمیں خود قتل کیا خود روتے ہیں

ایسے بھی کہیں دم ساز ہوئے، ایسے جلاد بھی ہوتے ہیں

ان بھوکے ننگے ڈھانچوں کا جو رقص سر بازار کریں

یا ان ظالم قزاقوں کا جو بھیس بدل کر وار کریں

یا ان جھوٹے اقراروں کا جو آج تلک ایفا نہ ہوئے

یا ان بے بس لاچاروں کا جو اور بھی دکھ کا نشانہ ہوئے

اس شاہی کا جو دست بدست آئی ہے تمہارے حصے میں

کیوں ننگ وطن کی بات کرو، کیا رکھا ہے اس قصے میں

آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو، ہونٹوں میں وفا کے بول لیے

پروین شاکر

لہو سے بھری اس سڑک پر

خدایا لہو سے بھری اس سڑک پر

مرا دل مری پہلی پہچان کو ڈھونڈتا ہے

لہو سے بھری اس سڑک پر

خدایا لہو سے بھری اس سڑک پر

تڑپتی، بلکتی ہوئی میری فریاد

کٹتے ، سسکتے ہوئے دل سے اُٹھتی صدائیں

مری زخمی چیخیں

کوئی آج سنتا نہیں ہے

مرے ساتھ دم توڑتی میری معصوم خواہش کی

بجھتی نگاہوں میں خوابوں کی، رنگوں کی آواز

سنتا نہیں ہے کوئی آج لیکن

کہیں وقت کے اگلے اندھے پڑاؤ پہ

اِس جلتی دھرتی کی راکھ

ان فضاؤں میں اُڑنے لگے گی

کسی تُند ریلے کے

سرکش بہاؤ میں سب

ٹوٹ کر بہتا ہو گا

تو لہروں ، ہواؤں میں میری

صدا بھی ملے گی …

گلناز کوثر

یہ وہ دھرتی نہیں ہے

نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے

نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے جہاں میرا بچپن

مرا تتلیوں ، پھولوں ، رنگوں سے لبریز بچپن

کسی شاہزادی کی رنگیں کہانی کی حیرت میں گم تھا

نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے

جہاں میری آنکھوں …

بہت خواب بُنتی ہوئی میری شفاف آنکھوں

میں اوّل جوانی کا احساس ہلکورے لینے لگا تھا

وہ گوشہ جہاں بیٹھ کر میں نے پہروں

کتابیں پڑھی تھیں

درختوں پہ، پھولوں پہ، چڑیوں پہ

نظمیں کہی تھیں

نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے

جہاں میرے دل پر

مرے کورے ، معصوم دل پر

کسی شرمگیں اُجلی ساعت نے

اِسم محبت لکھا تھا

جہاں زندگی کو برس در برس

میں نے کھل کر جیا تھا

گلناز کوثر

سانحہ کراچی کی وڈیو فوٹیج دیکھ کر

خدایا …

مری زندگی میں

یہ خونخوار لمحہ

اذیت بھری لہر

کٹتی رگیں

جیسے میرا لہو

اس کے بہتے لہو میں

دھڑکنے لگا ہو

وہ دلدوز چیخیں

کہیں میرے

سوکھے گلے میں

اٹکنے لگی ہیں

مری ٹوٹتی سانس نے

آخری بار

بے رحم سی اس سڑک کو

چھوا ہے

مری زرد ، بجھتی نگاہوں

میں بس ڈولتی ایک حیرت

خدایا …

نہیں …

گلناز کوثر

دِیا وہ بجھ گیا ہے

ہواؤ … !!!

کس دِیے کی لَو پہ تم نے

ہاتھ رکھا ہے

سسکتے ، ڈولتے ، تاریک منظر کو

ہماری نم گزیدہ آنکھ نے مشکل سنبھالا ہے

یہ کیا کہ ننھے جھونکے نے

شبستاں پھونک ڈالا ہے

دِیا وہ جس کے در سے

روشنی جب دان میں ملتی

تو حرفوں کے سیہ اندھیر رستوں سے

اُجالے پھوٹ پڑتے تھے

دِیا وہ بجھ گیا ہے

دِیا وہ بجھ گیا ہے اور دھواں

اِک سیدھی ، سوکھی شاخ کے جیسے

چٹختا ہے

ذرا سوچو

دھویں کی شاخ سے

بل کھا کے ٹوٹے

ننھے مرغولے کا جیون

کتنا ہوتا ہے

تو ہم بھی روشنی کے سارے چہرے

کاغذوں کے خالی خاکوں میں

سجا کر بھول جائیں گے

مگر پھر یوں کسی تاریک شب میں

جب کوئی روشن ستارہ

ٹوٹ جائے گا

ہمیں یہ دھند میں رکھا

دِیا بھی

یاد آئے گا …

گلناز کوثر

کیا رکھا ہے

چھوڑو کیا رکھا ہے … اب یہ چھوٹی چھوٹی

چبھنے والی … نوکیلی سی باتیں

تم کیا ڈھونڈ رہے ہو

نہیں یہاں اب کچھ بھی نہیں ہے

سچ کہتے ہو درد بڑا تھا

لیکن اب تو کچھ بھی نہیں ہے

آخری منظر کیا دیکھا تھا

اندھی رُت اور گہرے سائے

ارے ذرا نرمی سے

نازک پھول سا لمحہ

کیا ہے جو اَب شاخ سے ٹوٹ کے گرنے لگا ہے

پھول تو پھول ہے … لیکن دل کچھ بھول رہا ہے

پلکوں کے پردوں کے پیچھے … کیا ہے … کیا ہے

آہ … یہاں اب کچھ بھی نہیں ہے

تم جو کل آتے تو … لیکن

سچ کہتے ہو

خاک اُڑاتے کمرے میں رکھا بھی کیا ہے

یونہی خالی بیٹھے بیٹھے دیر ہوئی ہے

دیکھو سورج ڈھلنے لگا ہے

کہاں چلو گے

شہر میں چاروں جانب سورج ڈھلنے لگا ہے

لیکن تم کیا دیکھ رہے ہو

دیر ہوئی ہے

میرے پتھر قدموں کے نیچے یہ دھرتی

رُکی ہوئی ہے

ہاں پر تم کہہ کر تو دیکھو

لیکن چھوڑو … کیا رکھا ہے

بس تم ہنستی کھیلتی ، چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے رہو گے

سورج ڈھلتے ڈھلتے آخر ڈھل جائے گا

اور پرے دو پیڑ ہیولے بن جائیں گے …

گلناز کوثر

رات کے بعد …

وقت کی سرمئی نگاہوں میں

گُھل رہی ہیں بڑی خموشی سے

رات کی ڈوبتی ہوئی سانسیں

اُلجھے اُلجھے ہوئے مرے دل سے

دُھل رہی ہیں نشاط کی گھڑیاں

کھڑکیوں سے پرے لرزتی ہے

چاپ اِک ملگجے اُجالے کی

گرم کمرے سے رات کی مہماں

دل رُبا ساعتیں پلٹتی ہیں

سازِ جاں تھک کے سو گیا ہے کہیں

تھم چکی کب سے آرزوئے حیات

دیر سے چُپ، اُداس ، رنجیدہ

پھر کسی سوچ سے گریزاں ہوں

ڈوبتا چاند اِک تسلسل سے

ذہن کے آہنی دریچوں پر

سہمے سہمے خیال دھرتا ہے

اور بکھرا ہوا یہ شب خانہ

مجھ سے ڈھیروں سوال کرتا ہے …

گلناز کوثر

شام اترتی رہی

چپ کھڑی سامنے والی دِیوار پر

سانولے سرد ہاتھوں سے

رخنوں میں دبکی حرارت کھرچتی،

سبک ، سرمئی پیرہن کو لیے

کیاریوں کے شفق رنگ منظر نگلتی

کھُلے آنگنوں اور ستونوں ، درختوں

دریچوں پہ

گہرے سیہ رنگ خوابوں کی دستک لیے

جھانکتی ، تاکتی بند دروازوں ،درزوں سے ہوتی ہوئی

میز پر چائے کے خالی مگ سے اُلجھتی ، سرکتی

کسی گم شدہ سوچ کے زرد مرغولوں کو

تھپتھپاتی ہوئی

شام اُترتی رہی

ایک بے جان چہرے پہ

خالی نگاہوں کے خاکوں کو چھوتی، لرزتی

کسی خوف کی ان چھوئی ساعتوں سے

ذرا کانپتی ، کپکپاتی

بہت دیر سے بند دھڑکن پہ بے سُود

آہٹ کو دھرتی ہوئی

شام اترتی رہی

گلناز کوثر

سالگرہ

تن کی مٹی

اور بھی کومل

اُلجھے سلجھے

ریشم میں

چاندی کے ڈورے

اور نمایاں

اور بھی گہری

سوچ کی سلوٹ

نینوں میں

سپنوں کا سایہ

ہلکا ، مدھم

اندر پھیلا

درد کا بادل

اور بھی میلا

اور بھی گہرا

چلتے چلتے

دُور کہیں اِک

منظر پگھلا

تارا نکلا

وقت کے ہاتھ سے

دھیرے دھیرے

ایک برس کا

سکہ پھسلا

شام اترتی رہی

گلناز کوثر

بم دھماکہ

سرما کی بے رحم فضا میں

سرخ لہو نے بہتے بہتے

حیرانی سے

تپتی ہوئی اس خاک کو دیکھا

ابھی تو میں ان نیلی، گرم رگوں میں

کیسے دوڑ رہا تھا

بجھتی ہوئی اِک سانس کی لَو نے

اپنے ننھے جیون کی

اس آخری تیز، کٹیلی ہچکی کو جھٹکا

دوخالی نظریں

دُور دھویں کے پار

کہیں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں

ابھی ابھی تو نیلا امبر

باہیں کھولے تنا کھڑا تھا

مُندی مُندی سی دھوپ

یہاں کونے میں آ کر لیٹ گئی تھی

پھر کس نے اس جیتے جاگتے

منظر میں یہ آگ بھری ہے

کالی فضا میں اُڑتے ریشے

آدھی اُدھڑی بے بس لاشیں

سرخ لہو نے حیرانی سے

جلے ہوئے منظر کو دیکھا

آخری تیز، کٹیلی ہچکی

ٹوٹ رہی تھی …

گلناز کوثر

خاک زادوں کے بس میں کہاں

اِس سے پہلے تو ہر سُو جھلستی ہوئی زندگی

ظلمتوں کے بدن میں دھڑکتی تھی اور دُور گرتی تھیں

سہمے ہوئے وقت کے تھال پر سسکیاں

اُٹھ رہا تھا کہیں ضبط گر آنکھ کی پُتلیوں سے دھواں

کانپتی تھی زمیں، زرد تھا آسماں

اور فضاؤں پہ چھایا ہوا خوف کا سائباں

اس سے پہلے کہیں گُل مہکتے نہ تھے، دل چہکتے نہ تھے

اور بھٹکتے تھے صحرا نوردوں کے بے سمت و در کارواں، الاماں، الاماں

پھر مگر اِس تپکتے ہوئے آسماں کے تلے ایک جھونکا چلا

ایک جھونکا چلا تو بدلنے لگا ہے سماں

چھٹ گئیں ظلمتیں، مٹ گیا گدلی ، بے رنگ آنکھوں سے سہمے ہوئے

خوف کا ہر نشاں …

خاک زادوں کے بس میں کہاں

چھو سکیں رفعت بندگی

کہہ سکیں حرف بھی ذات ارفع کے شایان شاں، لڑکھڑاتی زباں

ہم خطاکار، بے دست، بھٹکے ہوئے

خاک زادوں کے بس میں کہاں

ریگ زاروں پہ کُھل کے برستی ہوئی … رحمتوں کا بیاں

خاک زادوں کے بس میں کہاں

گلناز کوثر

رات ہر بار لیے

رات ہر بار لیے

خوف کے خالی پیکر

خوں مرا مانگنے

بے خوف چلی آتی ہے

اور جلتی ہوئی آنکھوں کے

تحیر کے تلے

ایک سناٹا

بہت شور کیا کرتا ہے

کچھ تو کٹتا ہے،

تڑپتا ہے

بہاتا ہے لہو

اور کھل جاتے ہیں

ریشوں کے پرانے بخیے

رات ہر بار مری

جاگتی پلکیں چُن کر

اندھے ، گمنام دریچوں پہ

سجا جاتی ہے

اور دھندلائے ہوئے

گرد زدہ رستوں میں

ایک آہٹ کا سرا ہے

کہ نہیں ملتا ہے

آسماں گیلی چٹانوں پہ

ٹکا ئے چہرہ

سسکیاں لیتا ہے

سہمے ہوئے بچے کی طرح

اور دریچوں پہ دھری

کانپتی پلکیں میری

گل زمینوں کے نئے

خواب بُنا کرتی ہیں

گلناز کوثر

شام

سرخ سفینہ ڈوب گیا ہے

دھیرے دھیرے

دور اُفق پر

سرخ سفینہ ڈوب گیا ہے

نارنجی بل کھاتی لہریں

کب سے ساکت پیڑوں پر

دم توڑ چکی ہیں

پنچھی کب کے لوٹ گئے ہیں

گہرے نیلے مرغولوں نے

سرد فضا کو گھیر لیا ہے

تنہائی کا گم صم سایا

سناٹے میں گونج رہا ہے

سینے میں اِک پیاس کا صحرا

جاگ اُٹھا ہے

دیر سے پچھلی یاد کے جھونکے

دل کی خالی دِیواروں کو

چھید رہے ہیں

سانس کا ریشم الجھ گیا ہے

اور کسی بے چین گھڑی نے

رات کا رستہ روک لیا ہے

بنجر آنکھ میں شام کا منظر

ٹھہر گیا ہے …

گلناز کوثر

عافیت

اسی میں عافیت ہے ہم

صبح سے شام تک پتلے ورق

ان پتلیوں میں گاڑتے جائیں

اُچٹتی کوری تحریریں

ادق حرفوں کو دہرائیں

سویرے سے ہی اپنے خالی چہرے پر

کسی بھی تمتماتے جوش کو کس کے چڑھائیں

اور لکڑی سے بنے تختے کے نیچے ٹانگیں جوڑیں

سر جھکائیں

اجنبی بے صوت سی دنیا میں کھو جائیں

اسی میں عافیت ہے جو وہ کہتے ہیں

ہم اپنے آپ کی جانب

کبھی بھی لوٹ نہ پائیں …

گلناز کوثر

قوس

قوس پھوٹی ہے یوں

شاعر وقت کے دست تخلیق سے

جیسے تپتے ، جھلستے تھپیڑوں کے

آنچل سے لپٹی ہوئی

دھیمے احساس کی نرم کونپل کہ جو

سر اُٹھاتے ہی موسم کا رُخ پھیر دے

جذب کے ایک مدھم بہاؤ پہ احساس کی ڈولتی ناؤ

اور وقت کی تال پر رقص کرتی ہوئی

اپسرا کے بدن سے اُمڈتی ہوئی کوئی انمٹ ادا

قوس پھوٹی ہے یوں

جیسے سانسوں کی تازہ حرارت تلے

پھر سے سہمے ہوئے دل دھڑکنے لگیں

خواب پلکوں کے گیلے کناروں پہ

چپکے سے آ کے بسیرا کریں

تو نگاہوں میں پھر سے وہی

زندگی کی چمک جاگ اُٹھے

کھو گئی جو زمانے کے اس پھیر میں

قوس تیرے مرے جذب کی ترجماں

خواہشوں کا بیاں

آرزو کی زباں

دوستو ہم تو لمحوں کی دیوار پر

شام سرما کی ڈھلتی ہوئی دھوپ ہیں

جانے کل ہوں نہ ہوں

پر ہماری سبک چاہتوں کے نشاں

قوس کے زندہ حرفوں میں سمٹے ہوئے

دُور تک جائیں گے

آنے والے زمانوں کے احساس کا

رنگ کہلائیں گے!!!

گلناز کوثر

کیوں آئے ہو

کیوں آئے ہو

بجھتے ہوئے تاروں کی

چھاؤں میں دھیرے دھیرے

گیت سناتے

خواب جگاتے

لفظوں سے تصویر بناتے

ابھی پرانے درد کا ماتم بپا ہے

دِل میں

شور بہت ہے

جان بھی الجھی ہے

کچھ منظر پگھلانے میں

جیون کا بوسیدہ ریشم

سلجھانے میں

پچھلی یاد بھلانے میں

کیوں آئے ہو

نینوں میں تاروں کو سجائے

پھول اُٹھائے

من دہکائے

وقت کہاں باقی ہے

چاند کے بجھنے میں،

ڈھل جانے میں

خواب ڈھونڈنے جانا پڑے گا

ذہن کے مردہ خانے میں …

گلناز کوثر

تِیتری تُو نے کیا بات کی

تِیتری …

تُو نے کیا بات کی

اَدھ کِھلی پنکھڑی کا نویلا بدن

یک بیک چونک کر کپکپانے لگا

رات سے پھول کے

نرم بستر پہ مدہوش

شبنم کے قطرے

جواں سال پتوں کی ڈھلوان پر سے

لُڑھکنے لگے …

غُل مچاتے پرندے

ٹھٹک کر

بڑی دیر تک

گول ، حیران آنکھیں گھماتے رہے

اُجلے جھونکے

لچکتے ، لپکتے ہوئے

اجنبی پیڑ کے

سبز آنچل میں

چہرہ چھپانے لگے

تِیتری …

تُو نے ایسی بھی کیا بات کی

اِک عجب سنسنی سی

ہواؤں کے ہونٹوں پہ

ٹھہری رہی

اور چمن کا چمن

خوف کے کالے، خاموش

پنجوں میں جکڑا رہا

پر اِدھر

ایک معصوم ، سہما ہوا

زرد غنچہ

بڑی دیر تک

مسکراتا رہا …

گلناز کوثر

لوٹ آؤ

رُکو دوست … کہاں چلے

سرما کی نرم دھوپ کو پیڑوں پر کھیلتا نہ دیکھو گے

رنگ بدلتے پیڑ ، دھوپ ، بارش اور کہرے سے کبھی خالی نہ ہوں گے

تمہارا پسندیدہ گیت تمہارے لیپ ٹاپ پر بجتا رہے گا

تمہارے سر پھرے دوست نفاست سے سجے تمہارے کمرے کو

بکھیرنے کے لیے ہر دم تیار رہیں گے

قہقہے گونجتے رہیں گے

چائے کے کپ بجتے رہیں گے

سب کچھ ویسا ہی رہے گا

جیسا کہ تم چاہتے رہے ہو

بس تم ان سب کو ایک آخری موقع دو

اپنی خوابوں ، کتابوں سے بھری دنیا میں

لوٹ آؤ …

گلناز کوثر

کلاس فیلو

بڑی مدتوں میں ملے ہیں تو

مجھے یوں لگا تجھے دیکھ کر

کہیں ڈھلتی شام کی اوٹ سے

ابھی جھانکتی ہے کرن کوئی

ابھی خیمہ زن ہیں

مرے وجود میں راحتیں

مہ و سال کے

کسی پھیر میں

جو گنوائیں میں نے

وہ لذتیں

مجھے یوں لگا

وہی ذائقے

مرے دل میں پھر سے مہک اُٹھے

کسی تمتماتے خیال سے

مرے سرد جمتے لہو میں

نغمے لہک اُٹھے

مرے جسم کے

سبھی برف زار دہک اُٹھے

مجھے یوں لگا

ابھی دوڑ کر

تُو کہے گی آؤ

گداز لمحوں سے

پیڑ کی

کسی شاخ پر

کوئی خواب لکھیں

بہار کا یونہی گنگنائیں

حسین سا کوئی گیت

فصل خزاں کے آنے میں

دیر ہے

ابھی دیر ہے …

گلناز کوثر

بہ جانب دل حزیں

یہ سن رسیدہ مکڑیوں

کے کُلبلاتے قافلے

لچکتے ، رینگتے ، لپکتے

آ رہے ہیں دُور سے

کراری سبز پُتلیاں

اِک آنچ سے تپی ہوئی

لبوں میں تیز دھار کے

مہین بے قرار تار

بڑھے ہیں کیسے شوق سے

بُنیں گے آج واہموں کے

دل نشیں حسین جال

سو گرد بے حساب سے

اُٹھے گی آج پھر صدا

وہ اپنی خلدِ بے رخی میں

تا بہ سر گڑا ہوا

تُو آگ میں گھرا ہوا

توُخاک پر پڑا ہوا

اسے کوئی سُنے گا کیا؟

گلناز کوثر

تمہاری آنکھوں کے لیے ایک نظم

کھوئی کھوئی سبک تتلیاں

دھیرے دھیرے بہت کپکپاتے ہوئے

اور لرزتے ہوئے

اُجلے حیراں کٹوروں کے نمناک گوشوں کو

چھُوتی ہیں … ڈرتی ہیں … ڈر کے پلٹتی ہیں

بے تاب … دھڑ دھڑ دھڑکتی ہوئی

جھالروں کے تلے

لمحہ لمحہ سلگتی ہوئی … بدلیاں

کھوجتی ہیں نئے آسماں … تتلیاں

کھوئی کھوئی، پریشان، گُم صُ، بھٹکتی ہوئی

قطرہ قطرہ پگھلتی ہوئی کرچیاں

وقت کی راکھ سے

ادھ بُنے خواب چُنتی ہیں

چپکے سے لکھتی ہیں … سہمی ہوئی … درد کی داستاں

اُلجھی اُلجھی ہوئی بے زباں تتلیاں

سوچتی ہیں بہت

کچھ بھی کہتی نہیں

ڈوبتی ہیں، اُبھرتی ہیں

برفاب ساحل پہ ٹوٹی ہوئی … کشتیاں

تیز سرکش ہواؤں کے دھارے پہ بہتی ہوئی

پر شکستہ، بہت ہولے ہولے سنبھلتی ہوئی … تتلیاں

چوری چوری اُترتی ہیں گمنام رستوں پہ

کب سے بھڑکتے ہوئے اِک الاؤ کو چھوتی ہیں

جلتے ہوئے سرد، بے چین دل پر مرے

ہاتھ رکھتی ہیں پر

کچھ بھی کہتی نہیں

دھیرے دھیرے … بہت کپکپاتے ہوئے

اور لرزتے ہوئے

کھوئی کھوئی سبک تتلیاں

گلناز کوثر

سوکھا پتا

ہریالی کی قید میں اکثر

یوں لگتا ہے

میں بھی سوکھا پتا ہوتا

ہوا کی ہلکی سی تھپکی پر

زنداں کا دروازہ کھلتا

دھوپ کے اُجلے منظر

میرا تن سہلاتے

رنگ مہکتی ، کچی مٹی کا میری بھی

روح میں گُھلتا

ہوا کی مدھم لہروں پر

ہلکورے لیتا بہتا جاتا

سوکھی چٹخی آنکھیں کوئی

خواب نہ بُنتیں

مُرجھانے کا، جھڑ جانے کا

دل میں کوئی خوف نہ ہوتا

ننھی ننھی جگمگ آنکھیں،

مڑی مڑی سی پلکیں

چھوٹے چھوٹے پاؤں

حیرانی سے بڑھتے میری جانب

اور میں بہتا جاتا

آتے جاتے قدموں کی

آوازیں سنتا

قدموں کی آوازیں

جیسے دَھڑ دَھڑ کوئی

دھرتی کُوٹے

اور پھر وہ آوازیں

جن میں سُر گاتے ہوں

یا کچھ جھجکی ، گرتی پڑتی ،

مدھم چاپیں

دن بھر جاگتی گلیوں میں

یوں خاک اُڑاتا

رات گئے پھر سُونی، ویراں

سڑکوں پر آوارہ پھرتا

اور پیڑوں کی اوٹ میں

ملنے والوں کی سرگوشی سنتا

ہریالی کی قید میں اکثر

یوں لگتا ہے

آزادی کا اِک دن

ساری عمر کی قید سے

اچھا ہوتا

میں بھی سوکھا پتا ہوتا …

گلناز کوثر

ابھی کچھ دن

اداسی آج بھی …

بے صَوت حرفوں کے

گھنے جنگل سے

خاموشی کی بس اِک

کنکری چُن کر

ہمارے دِل کے

ساکت ساحلوں پر

پھینک جائے گی

دُبکتی چاندنی

آنکھیں نہ کھولے گی

سُلگتی موج سے اب بھی

تلاطم کی کوئی صورت

نہ نکلے گی

ابھی کچھ دن اُجالے دھند کے

صحرا سے گزریں گے

پرندے اپنے دم سادھے رہیں گے

گھونسلوں کے در نہ کھولیں گے

ابھی کچھ دن …

ابھی کچھ اور دن ہم بھی

کسی سے کچھ نہ بولیں گے …

گلناز کوثر

پاگل عورت کے لیے ایک نظم ؎

انجانی بے درد مسافر

بارہ برسوں سے سڑکوں پہ بھٹک رہی ہے

جیسے ہوش کے آخری لمحے

اُس نے سفر کی ٹھانی ہو

پھر اِک اندھی بہری منزل

اُس کی آنکھ سے چپک گئی ہو

پھر اِک گم صم گونگا رستہ

اُس کے پیڑ سے لپٹ گیا ہو

پھر اِک پتھر جیسا وعدہ

اُس کی رُوح پہ آن دھرا ہو

اور وعدے کی سل پر جیسے

بارہ برس کی گرد کے نیچے

سہما سا اِک خواب پڑا ہو

روکھے سوکھے بالوں میں اب

وقت کی چاندی پھیل رہی ہے

بوسیدہ کپڑوں کی درزیں

روزن بنتی جاتی ہیں

لیکن دھول بھری آنکھوں سے

آس کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں

لیکن میل بھرے ہاتھوں نے

زادِ سفر کو تھام رکھا ہے

اور خالی دل سوچ رہا ہے

آج تو اُس کو آنا ہو گا …

(بارہ طویل برسوں تک لاہور کی سڑکوں پر مال روڈ، جی پی او اور سکرٹریٹ کے بس سٹاپس پر اکثر ایک پاگل عورت کاندھے پر بیگ لٹکائے انتظار میں کھڑی نظر آیا کرتی تھی … سنا ہے شاید کالج کے زمانے میں اسے کسی ایسے لڑکے سے محبت ہوئی جس سے شادی ممکن نہ تھی … نتیجتاً دونوں نے گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کیا … کسی بس سٹاپ پر ملنا طے تھا مگر لڑکا نہیں آیا … اور وہ بھی لوٹ کر گھر نہیں گئی … بارہ برسوں نے اس عورت کے ظاہری حلیے کو کافی حد تک بدل دیا لیکن آنکھوں میں ٹھہرا انتظار ویسے کا ویسا ہی رہا ۔)

گلناز کوثر

ستارہ

ستارہ سر شام پھر بند کھڑکی کے پیچھے

پرانے درختوں کی ناکارہ شاخوں پہ سجنے لگا تھا

بہت ننھے روزن سے کرنوں کا ہالہ

کسی ویراں ، آسیب تن سے

اُلجھنے لگا تھا

ستارہ رُوپہلے شبستاں کے منظر سے

آنکھیں چرائے

لُٹے گھر کے تنہا و تاریک کمرے کی

بوسیدہ کھڑکی پہ

کرنیں بچھائے

بہت خشک وحشت بھری

اُس کی بے بس نگاہوں کو چھونے لگا تھا

وہ روزن سے پھوٹی ہوئی

تیز کرنوں سے بچتا بچاتا

اسی اُونچی دِیوار کے ایک کونے میں

بیٹھا رہا تھا

وہ بیٹھا رہا تھا

وہ اپنے بہت میلے ہاتھوں کی

ادھڑی رگوں کو چھپائے

پریشاں نگاہوں سے

کرنوں کے ہالے کو

تکتا رہا تھا

ستارہ کہیں بند کھڑکی کے پیچھے

بہت منتظر تھا

گلناز کوثر

ڈر لگتا ہے

تم کیسے سمجھو گے

لیکن

ہم نے تو

دیکھا ہے

جیون بھر کا حاصل

ایک یہی لمحہ ہے

پل ہے

تارے جیسا

جھلمل جھلمل،

شیتل،کومل

ورنہ اس بے کار

سفر میں رکھا کیا ہے

وقت کے سینے پر

بے مقصد بہتے جاؤ

ہچکولے اور تنہا کشتی

ہاں تو …

ایک یہی پل ہے جو

لیکن …

جیسے …

ہاں پر تم

کیا جان سکو گے؟

کیسی کیسی گانٹھیں

دھول، نکیلے پتھر

ہچکولے اور تنہا کشتی

کومل پل بھی

جھوٹ نہیں ہے

اس سے پہلے

لمحے کے

چھونے سے پہلے

تم تو نہیں سمجھو گے لیکن

آؤ کہیں چھپ جائیں

کتنا ڈر لگتا ہے …

گلناز کوثر

میں نہیں ہوں مگر

میں نہیں ہوں مگر

اب بھی کھلتے ہیں کھڑکی کے دائیں طرف

پھول بل کھائی، اُلجھی ہوئی بیل پر

زندگی کے اہم فیصلے کی گھڑی سے الجھتے ہوئے

میں کھرچتا رہا تھا یہ روغن

جمی ہے یہاں آج تک

ننھے دھبے میں اِک بے کلی میرے احساس کی

اور قالین پر میری پیالی سے چھلکی ہوئی

چائے کا اِک پرانا نشاں

اب بھی تکتا ہے مٹیالی آنکھوں سے

چھت کی طرف

آج بھی ہیں پڑی شیلف پر

جو کتابیں خریدی تھیں

میں نے بہت پیار سے

آج بھی ہیں جڑے

کاغذوں کے حسیں آئینوں میں

مری سوکھی پوروں سے پھوٹے ہوئے

کالے حرفوں کے چہرے عجب شان سے

میں تو حیران ہوں …

مجھ سے منسوب ہر ایک شے

جوں کی توں ہے تو کیا ایک میں ہی تھا جو

ایک میں ہی تھا پانی کے سینے پہ رکھا ہوا نقش جو

پل دو پل کو بنا اور مٹ بھی گیا …

گلناز کوثر

ڈھلمل قطرہ

بارش کب سے تھمی ہوئی ہے

سرد ہوا سے ٹھٹھری بیلیں

سن سن کرتی دیواروں سے چپک رہی ہیں

پیپل کا یہ پیڑ پرانا

پیڑ کے چوڑے چوڑے پتے

تیز ہوا سے تھراتے ہیں

اور پھر پچھلی جانب جھک کر

لہراتے ہیں

اور اِدھر اِک ننھا پتا

حیراں حیراں ، ساکت، گم صم

تیز ہوا کے آگے کیسی خاموشی سے

ڈٹا کھڑا ہے

جھومتے اور لہراتے چوڑے پتو

تم جو غور کر و تو

اِس کی چونچ پہ

بارش کا اک ڈھلمل قطرہ

رُکا ہوا ہے …

گلناز کوثر

سنبل

سنبل اُجلے شانوں والی کومل تتلی

پیڑوں کی شاخوں سے ہاتھ چھڑا کے یوں نکلی ہے جیسے

برف کے گالے

رات کی خوابیدہ پلکوں پر

بے آواز اُتر آتے ہیں

جھونکوں کے رتھ پر سے دنیا

کیسی سندر دِکھتی ہے

کھیتوں کے یہ ہرے سمندر

شیتل جھرنے

کھَن کھَن کرتے پیتل کی چمکیلی

گاگر جیسی دھرتی

پر دیکھو یہ جگمگ سونے جیسی دھرتی

مٹی کے بے صورت لَوندوں

خاک کے بے مایہ تودوں سے

اٹی پڑی ہے

سنبل

اُجلے شانوں والی کومل تتلی

کل تک جو آوارہ جھونکوں کی باہوں میں

ڈول رہی تھی

اب اس سڑک کنارے خاک سے اٹی پڑی ہے

سنبل ریشم کی شہزادی

میرے دل میں

دو کومل لچکیلے ہاتھوں

کا اِک لمس جگا جاتی ہے

پر یہ گدلے ، بے مایہ، بے صورت لَوندے

پر یہ میرے تن کی خاک اُڑاتی دھرتی …

گلناز کوثر

رقص گریہ

ابھی ابھی تو کھُلا تھا اِک بھید آئینوں پر

لرزتی شبنم کے پاؤں ٹھہرے ہی تھے گلوں پر

ابھی کہیں گہری شام کا اِک حسین جھونکا

سجل سی خوشبو کو رمز نغمہ سکھا رہا تھا

ابھی تو خوابوں کادر بھی دل پر نہیں کھلا تھا

ابھی تو ٹوٹے ہوئے کھلونوں کا بکس

یونہی دھرا ہوا تھا

ستم گروں نے یہ کیا کیا ہے

کہ آرزو کی سجیلی موجوں کو

رقص گریہ سکھا دیا ہے

وہ دل وفا کا دیا تھا جس کو

چراغ محفل بنا دیا ہے …

گلناز کوثر

یاد رُکتی نہیں

یاد رُکتی نہیں

ٹوٹتی ہے بجھی آنکھ سے

قطرۂ آب بن کر پھسلتی ہے

رخسار کی نرم ڈھلوان پر

سسکیوں کی صدا سے

اُلجھتی ہے

گاتی ہے

دل کے حسیں تار کو

چھیڑتی ہے

مچلتے ، سلگتے ہوئے

گرم جذبوں کو چھوتی ہے دھیرے سے

لیکن کبھی یاد رُکتی نہیں

مجھ سے کہتی ہے

چھو لو مجھے ، تھام لو ،

میں کہیں گُم زمانوں کے اندھے تسلسل

سے لپٹی ہوئی

ایک زنجیر ہوں

اور میں حیرت سے تکتی ہوں

کیسے مرے سرد پہلو میں

ہر پل دھڑکتی ہے

بہتی ہے سانسوں کے دھارے میں

رہتی ہے جیون سفر میں مرے ساتھ

میں جو کبھی رُک بھی جاؤں مگر

یاد رُکتی نہیں

سرسراتی ہے پتوں کے پیچھے

حسیں چاند کی اوٹ سے

جھانکتی ہے ، جھلکتی ہے

شبنم کی شفاف بوندوں میں

جھونکوں کی باہوں میں

ہلکورے لیتی ہوئی

ڈولتی ہے ، مچلتی ہے

چھو لے گی جیسے

کسی ان کہی کو

مچلتے ہوئے درد کے

ایک سیلاب میں

بہتی جاتی ہے ان دیکھے

برفیلے رستوں پہ

پلکوں کے پیچھے

کہیں جھلملاتی ہے

بجھتی ہوئی راکھ سے

اِک دھواں بن کے اٹھتی ہے

اور تیرتی ہے کہیں

ڈبڈبائی ہوئی آنکھ کے پانیوں میں

سلگتی ہوئی پتلیوں کے تلے

ڈگمگاتی ہے

دُکھ کی کوئی موج

اندھا تلاطم ہو

طوفاں ہو، جھکتی نہیں

یاد رُکتی نہیں …

گلناز کوثر

بارش

یہ بوندیں ہتھیلی پر

رہ رہ کے لرزتی ہیں

تھم تھم کے مچلتی ہیں

اور آہنی ریکھائیں

گم نام حرارت سے

جلتی ہیں ، سنبھلتی ہیں

چپ چاپ پگھلتی ہیں

نمناک فضاؤں کے

حیران دریچوں سے

کرنیں سی جھلکتی ہیں

کچھ کہہ کے دبے قدموں

یکبار پلٹتی ہیں

آوازوں کے جنگل سے

کچھ کانچ بھری کلیاں

کچھ سر بفلک شاخیں

کھڑکی کے بدن تک بھی

مشکل سے پہنچتی ہیں

آوازوں کے جنگل سے

خاموشی کی بیلیں جو

اِک دل سے نکلتی ہیں

اِک دل میں اترتی ہیں

گلناز کوثر

رات کے دو …پہر

لڑکھڑائی ہوئی رات کے دو …پہر

جیسے بیکار لمحوں کی

اُجلی گزرگاہ سے

آج گزرے نہیں

جھینگروں کی سَنن سَن کے آگے

کسی یاد کا قافلہ

جیسے ٹھہرا نہیں

چاند بس دو فریبی سی

شاخوں کی باہوں میں

ہلکورے لیتا رہا

اور تارے کسی

غیر ممکن تصور کو تکتے رہے

دھیمی سرگوشیوں سے بھرے

سبز پتے یوں جیسے ہلے ہی نہیں

لمبی ویران سڑکوں پہ

جھونکوں کی آہٹ کا کچھ

شائبہ تک نہ تھا

اور کھوئی ہوئی

سوچ کے کارواں

دل کی خالی فصیلوں پہ

اُترے نہیں

رات کے دو … پہر

زندگی کی کسی رہ سے

گزرے نہیں …

گلناز کوثر

اِقرار

کہو جب ایک ڈولتی پکار نے

دبیز آسمان کی

خموش، خشک سلوٹوں کو چُھو لیا

گھنیری سبز شاخ سرد رات کی منڈیر پر

جو جُھک گئی

تو کائنات رُک گئی

کبھی کسی اُداس دل کی

دھڑکنیں مچل گئیں

تو کیسی اندھے فیصلوں کی ساعتیں

بھی آہنی گرفت سے پھسل گئیں

کہو سمے کی آنکھ میں رُکے ہوئے

لہو نے سرسراتے سوکھے بادلوں سے کیا کہا

کہ حبس رات میں کہیں سے جھوم کر گھٹا چلی

گھٹا چلی تو دیر سے

تپکتے گرد راستے مہک اُٹھے

وہ حرف تھے کہ تتلیوں کے قافلے

رُکے کسی اجاڑ زرد پیڑ پر

سسکتے سرد راستوں سے

اِک کرن گزر گئی

تو رنگ پھیلتے رہے

تو رنگ پھیلتے رہے تھے دیر تک

ہواؤں میں ، فضاؤں میں

کوئی صدا رُکی رہی

کہو وہ کوئی

گنگناتے ساز تھے

کہ روشنی کے سلسلے

کہ پتھروں سے پھوٹنے لگی تھی

کوئی آبجُو

وہ رنگ تھے کہ پھول تھے

کہ چاندنی کی نرم لَو

کہو کہو …

گلناز کوثر

اسے میں بھول جاؤں گی

کسی کی یاد کا چہرہ

مرے ویران گھر کی ادھ کھلی کھڑ کی سے

جو مجھ کو بلاتا ہے

سمے کی آنکھ سے ٹوٹا ہوا تارا

جو اکثر رات کی پلکوں کے پیچھے جھلملاتا ہے

اُسے میں بھول جاؤں گی

ملائم کاسنی لمحہ

کہیں بیتے زمانوں سے نکل کر مسکراتا ہے

کوئی بھولا ہوا نغمہ فضا میں چپکے چپکے پھیل جاتا ہے

بہت دن سے کسی امید کا سایہ

کٹھن راہوں میں میرے ساتھ آتا ہے

اسے میں بھول جاؤں گی

پرانی ڈائری کی شوخ تحریروں میں

جو اِک نام باقی ہے

کسی منظر کی خوشبو میں رچی

جو راحتِ گمنام باقی ہے

ادھورے نقش کی تکمیل کا

جتنا بھی ، جو بھی کام باقی ہے

یہ جتنے دید کے لمحے

یہ جتنی شام باقی ہے

اسے میں بھول جاؤں گی

کسی کی یاد کا چہرہ

اسے میں بھول جاؤں گی

اسے میں بھول جاؤں گی

میں اکثر سوچتی تو ہوں

مگر وہ یاد کا چہرہ

مگر وہ ادھ کھلی کھڑکی

گلناز کوثر

کوئی نہیں ہے

ادھر آج کوئی نہیں ہے

تھکا ہارا منظر

یونہی بے خیالی سے

بہتے ہوئے وقت کو

دیکھتا ہے

کبھی کوئی لمحہ

بہاؤ میں اٹکے ہوئے

خشک پتے کو چھو کر

ذرا دیر تھمتا ہے تو

جاگتی ہے کہیں کوئی دھڑکن

مگر وہم ہے یہ

ادھر آج کوئی نہیں ہے

دسمبر کی ساکت فضا میں

فقط سرسراتا ہے بے سمت، الجھا ہوا

اِک بہاؤیا پھر ایک جانب دھرا

یہ تھکا ہارا منظر

گلناز کوثر

کون رُکے گا

دیکھو دُور ہرے بھرے

اُن پیڑوں کے چمکیلے پتے

ہولے ہولے ،

لچک لچک کر

اُچک اُچک کر

کوری اُجلی کرنوں کو

تکتے ہیں

کیسے حیرانی سے

چاہو تو چھو لو

ان نازک پتوں کی

آغوش میں

ایسا پھول کھلا ہے

دیکھو تو یہ سارا منظر

کتنا بھلا ہے

تمہیں پتہ ہے؟

منظر کے پیچھے

اِک منظر

چھپا ہوا ہے

جیسے نیچے بہنے والی

گدلی نہر میں

گھومتی لہریں

جنگلی گھاس کی نوکیں

چھدرے پیڑوں میں

اِک حبس بھری خاموشی

مریل کرنیں

اُونچی گھاس کے اندر

سڑتے ہوئے پانی میں

کچھ بے صورت پودے

ہمیں پتہ ہے

کون اُن اُجلے پیڑوں کو

دیکھے گا

اور پھر کون جھکے گا

گھاس کی تیز نکیلی دھار کے پیچھے

اِن بے صورت پودوں

کو تکنے کی خاطر

آخر کون رُکے گا؟

گلناز کوثر

درد

سرسراہٹ ہے

نہ آہٹ ہے

نہ ہلچل ،

نہ چبھن

درد چپ چاپ

کسی دھیمی ندی کے جیسے

سانس لیتی ہوئی

گانٹھوں میں

اُتر آیا ہے

کتنے برسوں کی

ریاضت سے

ہنر مندی سے

ایسے بکھرے ہوئے

ریشوں کو سمیٹا ہے مگر

اور ہر بار

ہر اِک بار

بہت جتنوں سے

جسم کو جان سے

جوڑا ہے مگر

گانٹھ در گانٹھ

کہیں سانس کی کٹتی ڈوری

کب سے تھامے ہوئے

بیٹھے ہیں مگر

آج نہیں …

یا کہیں درد تھمے

اور سکوں مل جائے

یا کوئی گانٹھ کھلے

اور قرار آ جائے …

گلناز کوثر

سن رائیگاں

وہی رنجشیں، وہی رغبتیں

وہی سلسلہ کسی یاد کا

وہی راستے ، وہی فاصلے

وہی رفتگان گریز پا

کبھی جذب و شوق کے درمیاں

کبھی رنج و درد کے امتحاں

وہی رنگ و رقص حیات و جاں

وہی ابتلا، وہی مبتلا

کسی رات چاند کو پا لیا

تو اُداس گھر کو سجا لیا

کسی شام دردِ فراق نے

یونہی دل سے ہاتھ اُٹھا لیا

پس حرف اب بھی رُکی رہی

مرے دل کی سہمی ہوئی ندا

وہی التفات کی التجا

وہی بے نوا ، وہی بے صدا

اُسی التماس کے ماسوا

سن رائیگاں سے ملا ہے کیا …

گلناز کوثر

قیدی چڑیاں

سائیکل کے پیچھے

اِک پنجرے میں چکراتی

نازک چڑیو

صبح کے گم صم سناٹے میں

کیسا شور اُٹھاتی ہو

اُونگھتے اور ٹھٹھرتے

رہ گیروں کے دل میں

چیخ چیخ کر

برسوں سے سوئے ، سمٹے

اِک درد کا تار ہلاتی ہو

چڑیو! ایسے ہُمک ہُمک کر

غُل کرتی تو ہو پر دیکھو

ان کانوں میں

لوؤں تلک سیسہ بہتا ہے

اور پلکوں کے پیچھے پتھر

اور قدموں کے نیچے تختے

ہر دم ڈولتے رہتے ہیں

تم تو پنجرے میں بھی اپنے

پر پھیلائے رکھتی ہو

تم اچھی ہو

کم سے کم

اِک ہوک اُٹھائے رکھتی ہو …

گلناز کوثر

ایندھن

ایک ٹھٹھرتی صبح کا منظر

کہرے کی وادی سے چل کر

شہر کے برفیلے چہرے پر …

آن رُکا ہے

سرد ہوائیں

پیڑوں کی گیلی باہوں سے

پھوٹ رہی ہیں

ایسے عالم میں کم سن ، محنت کش لڑکی

ناکافی کپڑوں میں سُکڑی بیٹھی ہے

قدموں میں تنکوں کی ڈھیری

ڈھیری پر اٹھلاتے شعلے

اکڑے ہاتھوں کو اِک بوند حرارت دیں گے

پر یہ سَن سَن کرتا لمحہ

پل دو پل میں تھم جائے گا

قطرہ قطرہ خون رگوں میں جم جائے گا

ایک ٹھٹھرتی صبح کا منظر

شب خانے کی اس کھڑکی سے دیکھ رہی ہوں

سوچ رہی ہوں

میرے اپنے کمرے میں بھی

صدیوں سے برفیلا موسم رُکا ہوا

جمی ہوئی اک سوچ کی ڈھیری

برسوں سے حرفوں کا ایندھن نگل رہی ہے

سوچ رہی ہوں

جمی ہوئی ڈھیری سے چنگاری نہ نکلی

تو بھی کیا ہے

یہ انبار کتابوں کے ایندھن کی خاطر

کم سن لڑکی کو دے ڈالوں

گلناز کوثر

کیا لگتا ہے

دیکھو کیا لگتا ہے

جیسے کبھی کبھی

ان ہری بھری آنکھوں کے پیچھے

جالا بننے لگتا ہے

کچھ کڑوے منظر

پتھر کی پتلی پر یونہی

پھدک پھدک کر

رہ جاتے ہیں

کیا لگتا ہے

آخر کسی بھی شے سے

میری کیا نسبت ہے

جیسے دو ٹانگوں پر چلنے والے پُتلے

جن کا چہرہ

میرے اپنے چہرے سے

ملتا جُلتا ہے

اس سے علاوہ کیا ہے

جو اِک دھیرے دھیرے

بننے والے

جالے کے اس پار سے

دل کو چھونے لگا ہے …

گلناز کوثر

عید

بھیڑ میں مکانوں کی

ایک بند دروازہ

سُونے سُونے آنگن میں

ڈھیر سوکھے پتوں کا

خشک پیڑ سے لپٹی

بے حساب تنہائی

سرد، خالی کمروں میں

سانس لیتا سناٹا

منتظر ہیں مدت سے

بے پناہ شدت سے

پر اُجاڑ سے گھر کے

بے چراغ آنگن میں

ٹوٹ کر شبستاں سے

عید کس طرح اترے

گلناز کوثر

نائٹ میئر

بہت کالی راتوں کے گرداب سے

ایک آہٹ نکل کر

دبے پاؤں بڑھتی ہے

کھڑکی سے لگ کر

کوئی اجنبی شکل رونے لگی ہے

مجھے وہم ہے

میں اگر اس کے رونے پہ

رونے لگوں تو

یہ فوراً پگھل کر مرے ساتھ

بہنے لگے گی

کوئی لجلجاتی ہوئی چیز

سہمے حلق سے اُترتی ہے

اور تھرتھراتی ہوئی سانس

جمنے لگی ہے

یہ پتھرائی دھڑکن کی

آواز ہے یا کوئی دھپ سے

بستر میں کُودا ہے

اور خرخراتی ہوئی ایک مدھم صدا

یہ صدا ہے کہ پھر میری سوئی

نگاہوں کو دھڑکا لگا ہے

لرزتی ہوئی رات کی آنکھ

کھلتی نہیں ہے

کسی طور پتھرائی ساعت

پگھلتی نہیں ہے

مجھے وہم ہے پھر اگر یہ

پگھلنے لگی تو مرے ساتھ

بہنے لگے گی

اُچٹتی ہوئی سسکیاں

لے رہا ہے کوئی

جیسے میں اپنے بستر میں

تنہا نہیں ہوں

ابھی میں نے چاہا تو ہے

چیخ کر اُٹھ پڑوں

پر کسی نے

مری سانس باندھی ہوئی ہے

مرے پاؤں جکڑے ہوئے ہیں

کوئی اجنبی چیز ہے جو

مرے ایسے بے جان تن کو

دُھنکنے لگی ہے

مری سانس رُکنے لگی ہے

گلناز کوثر

بس ایک بوند زندگی

سو چپ رہو، سو مان لو

وہ کہہ رہے ہیں تم سے گر

تمہاری نرم سانس

اُن کی زندگی پہ بوجھ ہے

تو اپنی سانس گھونٹ لو

ابھی تمہارے ان بُنے وجود میں

دھرا بھی کیا ہے

ننھی ننھی دھڑکنیں

چلیں تو کیا

رُکیں تو کیا

سو چپ رہو، سو مان لو

ٹھہر نہیں سکے گی

تیز آندھیوں کے سامنے

یہ جگنوئوں سی روشنی

اٹل چٹان فیصلوں کی زد میں

ایک پھوٹتی ہوئی کلی

پکارتے ، چنگھاڑتے کڑے بھنور

کی راہ میں

بس ایک بوند زندگی

مجھے پتہ ہے ظلم ہے

مگر تمہیں خبر نہیں

تمہیں ابھی سے کیا خبر

کسی بھی ظلم ، درد ، گھاؤ،

موت اور زندگی کے ذائقے

تمہاری نرم دھڑکنوں نے

کچھ بھی تو سہا نہیں

حسین تتلیاں ، بہار ، پھول ، پیڑ ،

چھاؤں ، دھوپ،

پتیوں کے ، پانیوں کے سلسلے

تمہاری کوری سانس نے

کسی کو بھی چھوا نہیں

سو چپ رہو، سو مان لو

یہی وہ چاہتے ہیں گر

تمہیں مٹانے کے سوا

کوئی بھی راستہ نہیں

تو اُن کی بات مان لو …

گلناز کوثر

کرسمس ٹری کو سجاتے ہوئے بچے سے

دِیے جل رہے ہیں

تمہاری چمکدار

ننھی نگاہوں میں

روشن ہے خوشیوں بھرا ایک لمحہ

دمکتی ہوئی نقرئی گیند ان سبز پتوں میں

ہلکی سی لرزاں ہے

جس کو ابھی چھو کے تم نے

الُوہی مسرت کے رنگین پل کو جیا ہے

مگر ننھے بچے

تمہیں یہ پتہ ہے

یہاں سے بہت دور

نیلے سمندر سے آگے

یہی ایک لمحہ ہے جس میں کسی نے

اُدھڑتے ہوئے جسم کے

کانپتے چند ریشوں سے

کیسے ابھی زہرِ جاں کو پیا ہے

دھڑکتی ہوئی سانس لیتی زمیں پر

تمہاری طرح کتنے روشن دِیے تھے

جنہیں چند سفاک ہاتھوں نے گُل کر دیا ہے

مری سوہنی دھرتی کی

شفاف پیالی میں قدرت نے جیسے

بس اک پل میں تازہ لہو بھر دیا ہے …

گلناز کوثر

شاعرِ وقت

جگمگاتے ہوئے خواب سب

تیری بے تاب پلکوں پہ سایہ کریں

حرف کی جھلملاتی ہوئی تتلیاں

تیری انمول پوروں کو چھو کر چلیں

پھوٹتی ہی رہیں

شاعرِ وقت تیرے کسی

نخلِ احساس سے کونپلیں

اپنی مٹی کی نمناک خوشبو میں

سمٹا ہوا

تُو مہکتا رہے

زندگی کے کسی بحر ظلمات میں

ایک دل کی طرح

تُو دھڑکتا رہے

شعر کہتا رہے

گیت لکھتا رہے

شعر کہتا رہے

گیت لکھتا رہے

گیت ایسے لکھے

کہ نہ صرف اس صدی کا ہی

حصہ بنے

شاعر وقت تُو

آنے والے زمانوں کا حصہ بنے

گلناز کوثر

چوراہے کا ڈھولچی

بے یقینی کے بے کل سمندر میں اُتری ہوئی

دو سیہ کشتیاں

موج در موج پھیلے ہوئے پانیوں میں

سلگتی ہوئی

دو عجب بستیاں

سُونی آنکھوں میں دو

ڈولتی پُتلیاں

ڈولتی پُتلیاں

عکس لہروں پہ محروم سی آس کا

خشک چہرے کی اُن سلوٹوں میں مچلتا ہوا

بے کراں انتظار

شہر کے اس حسیں موڑ پر

سانولی سوکھی ٹانگوں پہ رکھا ہوا

اک زمانے کا بار

خشک ہاتھوں میں تھامی ہوئی ایک امید

گاڑی کی آواز

جیسے کہیں

کوئی آ کے رُکا

اور تصور میں مہکی ہوئی

سوندھی روٹی کا چہرہ سا لہرا گیا

ڈھول پر تھاپ دیتے ہوئے کانپتے ہاتھ

اور اس طرف جھومتے لوگ آسودہ تن

رنگ اور روشنی میں نہائے بدن

کوئی کیسے سُنے

ڈھول کی تھاپ میں

لڑکھڑاتی، تڑپتی ہوئی سسکیاں

روشنی میں نہاتی ہوئی

بھوک سے بلبلاتی ہوئی

جان کی

آخری ہچکیاں

گلناز کوثر

یہی بہت ہے

یہی بہت ہے

آج وہ مدھم چاپیں

اس رستے سے اُبھری تھیں

تم جس پر

لحظہ بھر کو

رُک سے گئے ہو

پیڑ سے لپٹا جھونکا

گھاس میں اُلجھی خوشبو

اور دِیوار پہ

نادیدہ سا دھبہ

جس کو تم نے اپنی

پور پہ اب محسوس کیا ہے

جل تھل ایک ہوا ہو جس میں

ایسی مست، نرالی رُت کا

ذکر ہی کیا ہے

یہی بہت ہے

آسمان پر اُڑتا بادل

دھرتی کے شانوں کو

چھو کر

گزر گیا ہے …

گلناز کوثر

دو دِیے

ظلمت شب کی چشم پریشان میں

کسمساتے ہوئے

دو دِیے

ایک سہمے ہوئے طاق پر

ٹمٹماتے ہوئے

ملگجی ، ماند پڑتی ہوئی روشنی

زرد رُو ، بے اماں

ایستادہ ستوں سے

الجھتا ، لپٹتا

لرزتا دھواں

دو نگاہیں مگر

آنچ دیتی ہوئی

بے زباں سسکیاں

روح میں دفعتاً

تھرتھراتی ہوئی

سانس کی ڈوریاں

تیرتی ہیں کسی ڈبڈبائی ہوئی

آنکھ میں

دو لَویں … مستقل

اور کہیں تیز جھونکوں کی آہٹ پہ بھی

کانپ اٹھتا ہے دل …

گلناز کوثر

مردہ کبوتر

اُونچی شاخوں سے اُلجھی ہوئی ڈور

کچھ مردہ تنکوں کے

اندھے سہارے پہ

لٹکا ہوا یہ کبوتر

خدا جانے کب سے

ہواؤں کے دھارے پہ

بہنے لگا ہے

ادھ کھلے پر میں جکڑی ہوئی

ڈور کا یہ سرا ہی

کبوتر کا اس پیڑ سے

آخری واسطہ ہے

پر یہ ننھی خمیدہ سی گردن جھکائے

بڑی بے نیازی سے بس

ڈولتا جا رہا ہے

نیچے جلتی ہوئی اِک سڑک پر

وہ ہنگام ہستی ہے جس کو بھی دیکھو

وہی اپنے پیروں کے چھالے چھپائے

پریشاں نگاہوں میں خوابوں کی

بے تابیوں کو سجائے

کسی اندھی منزل کی جانب

بڑھا جا رہا ہے

جو دیکھو تو سانسوں کا تاوان

خلق خدا پر کڑا ہے

بصد شکر معصوم، ننھے سے دل کو

قرار آ گیا ہے …

گلناز کوثر

صبح بس میں …

ڈھیلے فیتوں والے نیلے سینڈلوں میں ننھے پیر

بیٹھے ہیں یہ سانولے قیدی بڑے چُپ چاپ سے

اِن سے کیا جانے ہوئی ایسی خطا

لازمی ہے اِن پہ گردش میں رہیں

جانے کیسے جُرم کی پاداش میں

پل دو پل کا یہ سفر اور چلچلاتی زندگی

اُونگھتے ہیں دو کبوتر بس ذرا سی دیر کو

ایک جھپکی اور صدیوں کی تھکن کے کارواں

صف بہ صف اترے چلے آتے ہیں سُونی راہ پر

جانتے ہیں بس ابھی رُک جائے گی

اور سڑکوں ،راستوں ، فٹ پاتھ پر

شام تک چلتے رہیں گے گردشوں کے سلسلے

پھر بھی خوابوں کو بلانے سے

یہ باز آتے نہیں …

گلناز کوثر

اجل کے لمحو

یہ کِشت اُلفت کی زرد مٹی

یہ سہمی شب کے اُداس تارے

سوال دستِ اجل کی جانب

ہزار حیرت سے تک رہے ہیں

ابھی لہو سے کسی بھی چہرے کا

نقش بننے میں دن پڑے تھے

زمیں کے آنچل سے بیج باندھے ہی تھے صبا نے

کہ جن سے زندہ دھڑکتی کونپل کو پھوٹنا تھا

سنہری ، نوخیز ، نرم کونپل

جو دلبری کے حسیں مناظر کا آئینہ تھی

جو چاند راتوں سے گزرے لمحوں کا نقش پا تھی

وہ ننھی ، معصوم ، بند پلکیں

کسی بھی روشن ، حسین ساعت

کسی بھی تیرہ ، اداس لمحے

سے بے خبر تھیں …

ادھورے ہونٹوں کی نغمہ گہ سے

نکلتی بے صوت ان صداؤں سے

گیت بننے میں

دن پڑے تھے

بہ نوکِ نشتر ہیں

آرزوئوں کے سارے ریشے

ستم نوازی کی داستاں بھی

بدن کی سلوٹ سے پھوٹتی

شاخِ بے اماں بھی

کہ جس پہ چاہت کے پھول آنے میں

دن پڑے تھے

اجل کے لمحو

بدن کی گٹھڑی سے

زندگی کا سراغ پانے

میں دن پڑے تھے

گلناز کوثر

شام سے ذرا پہلے

شام سے کہیں پہلے

اضطراب کی کلیاں

شاخِ جاں سے پھوٹی تھیں

آرزو کے ہرکارے

دلفریب بستی سے

رنگ اور مستی کے

سب پیام لائے تھے

شوق سے لدی ڈالی

جھوم جھوم چلتی تھی

کیسی اجنبی خواہش

خون میں مچلتی تھی

اور رگوں میں ہر لحظہ

اک فشار رہتا تھا

دُور کے مسافر کا

انتظار رہتا تھا

شام سے ذرا پہلے

صحن گل میں خوشبو نے

دھوم کیا مچائی تھی

سرخ سرخ پھولوں نے

دلگداز راہوں میں

آگ سی لگائی تھی

ڈھلتی دھوپ کا سایہ

شاخ سے لپٹنے کو

بے قرار رہتا تھا

اجنبی مسافر کا انتظار رہتا تھا

شام کے دریچوں سے

دلفریب بستی کا

رنگ اور مستی کا

کچھ نشاں نہیں ملتا

رخصتی کے سب منظر

در بہ در اترتے ہیں

ٹنڈ منڈ شاخوں پر

لمحے بین کرتے ہیں

شام ڈھلتی رہتی ہے

پھیلتے اندھیرے سے

چپکے چپکے کہتی ہے

دل نہ جانے کیوں ہر دم

سوگوار رہتا ہے

دُور کے مسافر کا

انتظار رہتا ہے

آفٹر بلاسٹ

نہیں نہیں

یہ جھوٹ ہے

دھڑک رہے تھے ہم یہاں

یہیں کہیں

یہیں کہیں پہ ان حسین پتیوں سے

کھیلتی رہی تھیں شوخ تتلیاں

اسی جگہ جھکی ہوئی تھی شاخ گل

کہ کھولتی ہو پیچ و خم

ہوائے مشک بار پر

ابھی ابھی تو بُن رہے تھے خواب ہم

حسین زندگی کے خواب

تیرتے تھے دیر تک

فضاؤں میں ، ہواؤں میں

یقیں نہ ہو

یقیں نہ ہو تو نیلگوں

ہوا کو چھو کے دیکھ لو

دھڑک رہے تھے ہم یہاں

یہیں کہیں …

گلناز کوثر

فون کال

دھوپ اور میں

یہاں دیر سے

یونہی چُپ

اوندھے لیٹے ہوئے

کہ اچانک ہوا اپنے ہاتھوں پہ

لائی ہے مانوس دستک

مہکتا ہوا دھیما لہجہ

بس اِک آن میں کھل اُٹھے

پھول سے خواب

خالی نگاہوں میں

اُترے ہیں رنگین منظر

کھنکتی ہوئی

ایک مدھم ہنسی

دل مرا رقص کرنے لگا

دل مرا رقص کرنے لگا

اور میں نے کہا

آج تو چھو ہی لوں گی

بہت نرم لفظوں میں

بہتے ہوئے ایک احساس کو

میں نے چاہا

بڑھی میں

مگر کچھ نہ تھا

گلناز کوثر

لائبریری میں

خاک آلود جلدوں میں رکھی ہوئی زرد رُو پُتلیاں

مجھ کو حیرت سے تکتی ہیں جیسے کہ میں

جیسے میں ان کے غرفوں میں اُمڈے ہوئے

خواب کا کوئی حصہ نہیں

پیلے اوراق کے مُردہ خانوں کے پیچھے

کہیں کوئی خواہش چھپی ہے …

جو … اب چاہنے پر مرے ہاتھ آتی نہیں

مجھ سے کہتی ہے اے اجنبی کون ہو

اب میں کیسے کہوں

میں انہی زرد آنکھوں سے دیکھے ہوئے

خواب کی ایک تعبیر ہوں

کیسے جوڑوں میں اوراق کے

کند حرفوں سے کوئی تعلق کہ میں تو فقط

میں فقط اک تسلسل کی

موجودہ کڑیوں سے اُلجھی ہوئی

کوئی تحریر ہوں

گلناز کوثر

سلِیپ ڈِس آرڈر

تو پھر سے سرد رات نے

پٹخ دیا ہے نیند کو

پھٹی پھٹی نگاہ میں

خمار کا

ذرا بھی شائبہ نہیں

نہ گرد خواب کا گماں

کسی خیال کا دھواں

یہ میں ہوں اور

وقت کی منڈیر سے

تھکے تھکے خموش پل

پھسل رہی ہیں ساعتیں

سکوتِ دل کو راحتیں

نہ رنج کی شکایتیں

سمیٹتی ہے رات کچھ

مسافتوں کی بے بسی

بہت سپاٹ زندگی

اُچاٹ دل میں خیمہ زن

کوئی ملال بھی نہیں

شب سیاہ کی نظر سے جھانکتا

کوئی سوال بھی نہیں

ملال کوئی ہے اگر

پسِ شعور

وقت کی صلیب پر

جھکا ہوا

سوال کوئی ہے اگر

برونِ سطح آب کو

ابھی سے اس کی کیا خبر …

ایک برزخ کھلا ہے مری روح میں

کیسا حیلہ کروں

رات کٹتی نہیں

ایک برزخ کھلا ہے مری روح میں

اندھی اُلفت کی بے تاب سی سرخوشی

دوڑتی ہے مرے جسم میں

بے بیاں وصل کی لذتیں

میرے احساس میں گل کھلاتی ہیں

شب کچھ ڈھلکتی ہے

اور ساتھ ہی

میری پلکیں بھی

خواب اور خواہش کی آغوش میں

ڈھلکی ڈھلکی سی ہیں

پر اچانک کہیں جاگتی ہے کوئی کپکپی

خوف کی زد میں آئے ہوئے

جان و دل

اِک کماں ایسے کھنچتے چلے جاتے ہیں

ایک سایہ کھرچتی ہوں اپنے بدن سے مگر

ایسا ممکن نہیں

کیسا حیلہ کروں

رات کٹتی نہیں

مجھ سے آ کے یہ کہتی ہے

اترو مری تیرگی میں جہاں

کوئی روزن نہیں

کوئی رستہ نہیں

ایک برزخ کھلا ہے مری روح میں

رات کٹتی نہیں

کیسا حیلہ کروں

گلناز کوثر

راہِ آشوب

رخت جاں باندھنے سے پہلے کچھ

بے نشاں، سرمئی مناظر نے

ڈبڈبائی اُداس آنکھوں سے

آخری بار مڑ کے دیکھا ہے

شام کی سرخ رُو حسیں دلہن

کاسنی رات کی پیالی میں

گھولتی جا رہی ہے رنگِ فراق

چل پڑے سست رو، تھکے ماندے

نیم خوابیدہ بادلوں کے مزار

اُن کے سائے میں اک دلِ ناسُود

لمبی، ویراں، کڑی مسافت سے

آرزو کی شکستگی سے چُور

ڈوب جائیں گے یونہی کچھ پل میں

پھر سے اِک دن کی روشنی کے سراغ

بادلوں کے سیہ مزاروں پر

ٹمٹمائیں گے ننھے ننھے چراغ

اور ہر بار کی طرح پھر سے

وقت کے تیرہ بخت سینے میں

گھُٹ کے رہ جائے گی صدائے نجات

راہِ آشوب سے تنِ خستہ

چاہ کر بھی کبھی نہ لوٹے گا …

گلناز کوثر

وہم نہیں ہے

ڈھلتے ڈھلتے

ایک رُوپہلے منظر نے کچھ سوچا …پلٹا

پگڈنڈی سنسان پڑی تھی

مٹیالی اور سرد ہوائیں

ہاتھ جھُلاتی شاخیں

رُوکھے سوکھے پتے

تنہا پیڑ پہ بیٹھے بیٹھے

چٹخ رہے تھے

ٹوٹ رہے تھے

خاک اُڑاتی پگڈنڈی پر

شام سمے کا دھندلا بادل

جھکنے لگا تھا

ڈھلتے ڈھلتے

ایک رُوپہلے منظر کی اُن بھید بھری

آنکھوں میں کوئی

جگنو چمکا …تارا ٹوٹا …وہم نہیں ہے

آج اُن کھوئی کھوئی

بوجھل آنکھوں میں

کوئی جگنو چمکا

تارا ٹوٹا

لحظہ بھر کو

وہم نہیں ہے …

گلناز کوثر

ایک سوال (رقیب سے)

کبھی تم سسکتی صداؤں کو سُن کر

بہت زرد، مدھم سی اُمید پر

درد کی گہری دلدل میں اترے؟

تپکتے ہوئے گرد رستوں

کٹھن، سرد لمحوں سے گزرے؟

دہکتی ہوئی رات کی کروٹوں میں

کسی خواب کی دھیمی دھن پر

سلگنے کی حسرت رہی ہو

کبھی ایک چبھتی ہوئی یاد دِل کو

حزیں کر گئی ہو

کسی سرپھرے جذب نے

اندھی راتوں میں پاگل کیا ہو؟

فقط ایک پل کے لیے

جیسے روتے ہوئے دل کو

دھڑکا لگا ہو

کبھی کالی راتوں کو

مدھم سُروں سے اُجالا

کبھی ٹوٹے بالوں، بچے سگرٹوں کو

چُنا اور سنبھالا

کبھی اُن نگاہوں کو تتلی لکھا ہو؟

کبھی اُن لبوں پر فسانہ کہا ہو؟

کڑی جان لیوا جدائی کا

بس ایک موسم سہا ہو

کبھی تم نے تھاما

بہت سہمے ہاتھوں کو

جیون کی

مشکل گھڑی میں

کسی ان کہی کو سنا ہو

گزرتے ہوئے وقت کی راکھ سے

کوئی موتی چُنا ہو

کبھی عمر بھر ایک رشتہ بُنا ہو

مگر پھر بھی اُتری ہیں

کیسی حسیں، دلربا ساعتیں

تُم پہ ساتوں جہاں مہرباں ہیں

اِدھر زخمی قدموں میں اب بھی

وہی درد کی بیڑیاں ہیں

وہی خشک صحرا،

وہی پیاسے، بھٹکے، بلکتے ہوئے

دل کی زخمی صدا ہے

میں حیران ہوں گر یہی ماجرا ہے

تو پھر مجھ سے میرا خدا ہی خفا ہے

گلناز کوثر

فیصلہ تو کرنا ہے

نم زدہ نگاہوں میں

آہنی لکیروں کے

ڈولتے ہوئے سائے

پھیلتے ہوئے منظر

ڈگمگاتے قدموں سے

ٹوٹتے ہوئے تختے

سرسراتی سانسوں میں

تھرتھراتے ہونٹوں پر

ان کہی کی آہٹ ہے

جسم کے سمندر کی

موج موج کٹتی ہے

اور لہو اُچھلتا ہے

اور لہو تو اُچھلے گا

دلگداز لمحے سے

وقت کی طنابوں کو

تھام کر گزرنا ہے

زندگی کٹھن ہو گی

زندگی سے لڑنا ہے

دیر سے سہی لیکن

فیصلہ تو کرنا ہے

گلناز کوثر

تجھے آخری بار جب میں نے دیکھا

تجھے آخری بار جب میں نے دیکھا

تو حیرت زدہ شام کی زرد کرنیں

کسی گمشدہ روشنی والے لمحے کو

پلٹا کے لانے کی دُھن میں

اندھیری گُپھا کو

بڑھی جا رہی تھیں

المناک پیڑوں کے سائے

سمٹ بھی چکے تھے

سبھی سلسلے، رسم وعدہ و رخصت

نمٹ بھی چکے تھے …

تجھے آخری بار جب میں نے دیکھا

تو لہرا کے اُٹھتے تھے گمنام جھونکے

بہت اُلجھی شاخوں پہ رکھا ہوا

بوجھ جھڑنے لگا تھا

کسی شوق رفتہ، کسی رنج تازہ کا

اُس شام کے سانولے، سرد چہرے پہ

کوئی نشاں تک نہیں تھا

وہ لمحہ تھا جب

اُس گراں بار، دیرینہ خواہش کا دل میں

گُماں تک نہیں تھا …

پھسلتی نگاہوں میں بے تابیوں کا

دھواں تک نہیں تھا

تجھے آخری بار جب میں نے دیکھا

تو معمول کی ایک ساعت تھی

پر یہ ابھی تک کہیں ان زمانوں

کی آغوش میں جھولتی ہے …

گلناز کوثر

یاد نہیں ہے

دھیرے دھیرے بہنے والی

ایک سلونی شام عجب تھی

اُلجھی سلجھی خاموشی کی

نرم تہوں میں

سلوٹ سلوٹ بھید چھپا تھا

سردیلی مخمور ہوا میں

میٹھا میٹھا لمس گھُلا تھا

دھیرے دھیرے

خواب کی گیلی ریت پہ اُترے

درد کے منظر پگھل رہے تھے

خواہش کے گمنام جزیرے

ساحل پر پھیلی خوشبو کے

مرغولوں کو نگل رہے تھے

دھیرے دھیرے

جانے کون سے موسم کے

دو پھول کھلے تھے

شہد بھری سرگوشی سن کر

جھکے جھکے سے

ہونٹ ہنسے تھے

بڑھنے لگا تھا ایک انوکھا

سَن سَن کرتا

بے کل نغمہ

یاد نہیں ہے

کہاں گرے تھے

میری بالی

اس کا چشمہ

گلناز کوثر

انتظار

بوڑھے پیپل پہ بیٹھی ہوئی

ملگجی شام نے

جھک کے انگڑائی لی

ڈگمگائی ہوا

سر اُٹھایا کسی مُردہ پتے نے

شاخوں سے چمٹی ہوئی

ننھی چڑیوں کا ہنگام

تھمنے لگا

تم نہیں آئے تھے

وقت چلتا رہا

قطرہ قطرہ ٹپکتی رہی چاندنی

اور گرتے رہے

چاند کی زرد آنکھوں سے

اُلجھی ہوئی آس کے پیلے سکے

پگھلتی ہوئی رات کے …دو …پہر

لمحہ لمحہ منڈیروں پہ جمتے رہے

کچھ سلگتے ہوئے سائے

یادوں کی گدلائی الگن پہ

لٹکے رہے

ایک آہٹ تھی کیا

بڑھ کے دیکھا مگر

تم نہیں آئے تھے

کرچیوں سے بھری

دو نگاہیں لگی ہی رہیں

موڑ کے اس طرف

اَن چھوئے، اَدھ کِھلے

خواب رکھے رہے

رات ڈھلنے لگی

تم نہیں آئے تھے

گلناز کوثر

سفر

تھکے تھکے سے پاؤں

دُور منزلوں کے سلسلے عجیب سے

وہ سامنے پڑاؤ بھی

مگر نہ جانے کیوں ہر ایک بار پھیلتے رہے ہیں

سامنے نگاہ کے

یہ رنگ ہیں کہ راستے

بڑھی ہے لہر کاٹتی ہے کلبلاتی ڈوریاں

یہ لہر درد کی ہے یا کچھ اور ہے

عجیب ہے

تھکے تھکے سے پاؤں

اندھے راستوں پہ بیکراں مسافتیں

بڑھاؤ ہمتیں، کوئی بھی گیت چھیڑ دو مگر رکو نہیں

کٹے پھٹے وجود کو کسی بھی تال پر چڑھاؤ

دھڑکنوں کو جوڑ لو

یہ گیت، تال، دھڑکنیں

یہ تیرگی کا، روشنی کا فرق اور فاصلہ عجیب ہے

یہ میں ہوں میری منحنی پکار سن کے

ڈولنے لگا ہے یہ جہان کہ رہا ہے وہم دیر سے

پکارتے رہے ہیں میرے ساتھ

میرے لوگ میرے ساتھ ہیں

کہ چل رہے ہیں گرد رنگ راستے

اُمڈ رہی ہیں بدلیاں

یہ گاڑھے گاڑھے بادلوں کے غول

گرد راستوں کا میل بھی عجیب ہے

میں قید ہوں کسی گھڑی کی پھیلتی خلاؤں میں

کہ تیرتا ہے وقت ڈولتا رہا ہے زندگی کے ساتھ ساتھ جسم کی گپھاؤں میں

عجیب ہے

یہ وقت، درد، راستہ

یہ جسم بھی یہ جان بھی

یہ زندگی کا سلسلہ

عجیب ہے …

گلناز کوثر

تپش

تپش ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے

رگوں میں لہو کی بلاخیز رفتار کیسے سنبھالے

بھلا ایسی مشکل گھڑی کون ٹالے

بہت تیز جلتی ہوئی ایک ساعت

مری سانس جُھلسا رہی ہے

کٹیلی گھڑی شام سے

بھولے بسرے زمانوں کا اندھا بدن

میرے سینے پہ دھرتی چلی جا رہی ہے

مرا جسم بے معنی حرفوں تلے

پگھلے لاوے بھرا ایک پتھر

مسلسل مری جان دہکا رہا ہے

مرا دل مگر کن زمانوں کی

ٹھنڈک کی جانب

کھنچا جا رہا ہے

سپیدی بھری، آخری، نرم ٹھنڈک

اُدھر ایک کونے میں چکرا رہی ہے

تپش ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے …

گلناز کوثر

حیاتِ رواں

بظاہر کہیں کوئی ہلچل نہیں ہے

حیاتِ رواں اپنے مرکز سے چمٹی ہوئی ہے

بہت عام، بیکار، اُلجھے دنوں کی

ملائم سی گٹھڑی میں رکھی ہوئی

یہ فقط ایک بے نام سی دوپہر ہے

ہوا چل رہی ہے

نہ جانے کہاں

گہرے بے چین بادل کے ٹکڑے

اُڑے جا رہے ہیں

پریشان سڑکوں پہ بہتے ہوئے زرد پتے

فضا میں بکھرتا ہوا کچھ غبارِ مسلسل

ذرا پل دو پل کو

بہت دُور پتوں پہ ہنستا ہوا

تیز سورج

مگر پھر چمکتی ہوئی اِک کرن پر

جھپٹتے ہوئے گدلے بادل

کھلے آسماں پر ٹھہرتے نہیں ہیں

ہوا چلتی رہتی ہے رُکتی نہیں ہے

درختوں پہ شاخیں

اِدھر سے اُدھر ڈولتی ہیں

اِدھر سے اُدھر

میری چشم تصور میں اڑتے ہوئے چند ٹکڑے

لپکتے، جھپکتے خیالات کے میلے بادل

کہیں سطح دل پر ٹھہرتے نہیں ہیں

بظاہر جہاں کوئی ہلچل نہیں ہے

مگر یہ غبارِ مسلسل اُڑائے چلی جا رہی ہے

ہوا چلتی رہتی ہے رُکتی نہیں ہے

حیاتِ رواں اپنے مرکز سے چمٹی ہوئی ہے

مگر ایک بے نام سی دوپہر کے

سکوت نہاں میں

عجب بے کلی ہے …

گلناز کوثر

شب ڈوب گئی

پھر گھور اماوس

رات میں کوئی

دِیپ جلا

اِک دِھیمے دِھیمے

سناٹے میں

پھول ہلا

کوئی بھید کھلا

اور بوسیدہ

دِیوار پہ بیٹھی

یاد ہنسی

اِک ہُوک اُٹھی

اِک پتا ٹوٹا

سَر سَر کرتی ٹہنی سے

اِک خواب گرا

اور کانچ کی

درزوں سے

کرنوں کا

جال اُٹھا

کچھ لمحے سرکے

تاروں کی

زنجیر ہلی

شب ڈوب گئی …

وہم ہے یا

وہم ہے یا کل رات تمہاری

گہری آنکھوں کے پیچھے

اک جال تنا تھا

درد کے دھاگے کھنچتے تھے

شفاف فضا میں

لمحہ بھر کو

مرغولہ سا چکراتا تھا

کرب کا بادل

سسکی لے کر اُٹھتا تھا

اور پتھر کی دِیوار کو چُھو کر

لوٹ آتا تھا

خالی خالی ہاتھوں کو

تکتے تھے …

اورتنہا لگتے تھے

وہم ہے …یا

کل رات

کوئی کرچی سی حیراں پور پہ آ کے

ٹھہر گئی تھی

سانسوں کی زنجیر سے کٹ کے

مدھم سی اِک ہچکی

بوجھل رات کے دل میں اُتر گئی تھی

دیکھو تو کل رات کا منظر

کمرے کی خاموش فضا میں

گڑا ہوا ہے

وہم ہے یا کچھ اور ہے

کیا ہے …

خمار اُترے گا تو کھلے گا

ابھی تو لہروں پہ

بہتے جاؤ

سلگتے رنگوں کے زاویوں سے

بھنور اُٹھاؤ

حیات کے دوسرے سرے سے

بس ایک لمبا سا کش لگاؤ

دھواں اُڑاؤ

ابھی تو گہرے سنہرے پانی میں

کھنکھناتی ہنسی ملاؤ

نشہ بڑھاؤ

دہکتے غنچوں پہ

سبز جھیلوں پہ نظم لکھو

ابھی بہاروں کے گیت گاؤ

خمار اُترے گا تو

بلاخیز ساعتوں کی خبر ملے گی

خزاں نصیبوں کے قافلوں سے

گلاب لمحے گزر گئے تو پتہ چلے گا

اُجاڑ صحرا ہے زندگی کا

سفر کڑا ہے

خمار اُترے گا تو کھلے گا

الم زدہ، دلگداز لمحہ وہیں پڑا ہے

چاند بُجھ گیا لیکن

پورے چاند کی شب تھی

آج بھی شبستاں کے

راہ رو بھٹکتے تھے

چاندنی درختوں پر

نم گزیدہ جھونکوں کی

آہٹیں سجاتی تھی …

بہتے بہتے خوابیدہ

وقت کی نگاہیں جو

خواب کی ہتھیلی پر

اِک سوال بُنتی تھیں

اور تڑپ کے سردیلی

موج کپکپاتی تھی

دیر تک دریچوں سے

اِک صدا اُبھرتی تھی …

اِک صدا اُبھرتی تھی

اور ڈوب جاتی تھی

چاند بجھ گیا لیکن

بے نوا صداؤں کا

کھیل اب بھی جاری ہے

رات ڈھل گئی لیکن

دُور کے درختوں پر

درد کے ہیولوں کا

رقص اب بھی جاری ہے …

گلناز کوثر

رخصت

صبح کی دستک

وال کلاک نے

ٓآنکھیں ملتے ملتے سنی تھی

کمرے کے ساکت سینے میں

آخری منظر

قطرہ قطرہ پگھل رہا تھا

جلتی ہوئی سانسوں کے سائے

دیواروں سے لپٹے ہوئے تھے

میز کی چکنی سطح پہ رکھی

دو آوازیں پگھل رہی تھیں

دو خوابوں کی گیلی تلچھٹ

خالی گلاس میں جمی ہوئی تھی

وقت کی گٹھڑی سے کھسکائے

سارے لمحے

اِک اِک کر کے

بیت چکے تھے

چپ تھے دونوں

لیکن پھر بھی

سادہ سی خاموش نظر کے

پیچھے کہیں ہیجان چھپا تھا

سینے کی مدھم لرزش میں

مانو کوئی طوفان بپا تھا

رُوح کے اندر جیسے کوئی

جاتے لمحے کو

جتنوں سے روک رہا تھا

اور پھر اس نے رخصت چاہی

آخری پل کی آخری مہلت میں

جب بھری بھری نگہ سے

ایک ستارہ چھلک رہا تھا

میں نے بھی پھر رخصت چاہی

گلناز کوثر

مرے پڑاؤ سے پرے

رُکے ہوئے ہیں قافلے

کوئی لپک سی دُور سے

جگا رہی ہے خوف کے

پرانے زرد سلسلے

پکارتی ہیں اُس طرف سے

وحشتوں کی بدلیاں

بچی کھچی رفاقتوں کی

جھلملاتی تتلیاں

مرے پڑاؤ سے پرے

مری حدوں کے اُس طرف

بہت اندھیری رات میں

کھلی ہوئی ہیں غم گسار

ساعتوں کی ڈوریاں

الم نواز دھڑکنوں کے درمیاں

عجیب سی لکیر ہے

تو حاشیے کے اُس طرف

رُکی ہوئی،

جھکی ہوئی،

دُکھی ہوئی …

پکارتی ہے دُور سے

مجھے مرے وجود کی

صدا …!!! …نہیں

نہیں یہ میرا وہم ہے …

گلناز کوثر

دُھوپ اور دُھند

جیسے میں کوئی ساز ہوں جس کے تاروں کو

آتے لمحے اپنی اپنی

آسودہ یا ناآسودہ کیفیت میں

چھیڑیں اور گزر جائیں

یوں لگتا ہے

جیسے میں اپنے اِس گھور اکیلے پن میں

پیاس ہی پیاس کی بے آواز صدا سے لے کر

شوخ سُروں کے ہولی کھیلتے رنگوں تک

ایک رواں میلے کی اُڑتی دھول میں چلتا رہتا ہوں

(٢)

پی اور پی کر

یادجگا اُن نانوشیدہ گھونٹوں کی

جن کی چھوڑی ریت پہ تو محرومی کی فرماوش پر

آنسو اور لہو کے نم سے

شعر اُگاتا رہتا ہے

(٣)

کیا خواری اور کیا خودداری

دانے کی پستی سے لے کر اوجِ پرِ شہبازاں تک

طائر کو اڑتے رہنا ہے حدِ سفر کے امکاں تک

میں بی کیا ہوں،

جینا چاہوں تو جینے کے بدلے میں

سوچوں، رسموں اور وسیلوں پر فائز

مختاروں کی

سب شرطیں تسلیم کروں

(٤)

دیکھو جاناں!

دُور بگولا اڑتا ہے پیلی سہ پہر کے آنگن میں

گُم کردہ رونق کا ہلکا سایہ سا

جاتا لمحہ ڈالے آتے لمحے پرآؤ نا گلگشت پہ جائیں اِس مہلت کے رستے پر

جس میں سپنا پڑتا ہے

نیم فراموشی کی میچی آنکھوں سے

دیکھیں اور نہ دیکھیں دھوپ کے گالوں پر

چھینٹے سے مسکانوں کے

دیکھیں اور نہ دیکھیں، گہرے سبزے سے

چُنے ہیں جو طائر نے سوکھے خاروحس کاشانوں کے

(٥)

غیب کا کوئی چشمہ جیسے

جسم کے اندر بہتا ہے

جس کے گھٹنے بڑھنے میں من کی دھرتی کا

رنگ بدلتا رہتا ہے

جوہڑ سے ساگر تک کتنے روپوں میں

جو گن دھوپ تماشے کی

اِس بستی میں گیتوں کی مالائیں پہنے

زُلفیں کھولے، بڑی بڑی سی آنکھوں سے

ذرّے کے گھمبیر خلا میں جانے کیا کیا تکتی ہے

چشمے سے سیراب زمیں کو شاید پیاسا تکتی ہے

(٦)

ناسنجیدہ

بے احساس زمانے کے

جور سے بچنے کی خآطر

ااک فرار ضروری تھا

سو اُس نے آنکھیں پلٹا کر

اندر کے گلشن کی لمبی سیریں کیں

باہر کے نیلے رقبے میں چوبِ دشتِ تصّور سے

بے در، بے دیوار مکاں تعمیر کئے

اُس آوارہ گرد نے یوں تو

چاہا تھا تریاق ملے

جسم کے اندر پھیلے زہرِ اذّیت کا

قسمت دیکھیں، اس کو غم کے بدلے میں آفاق ملے

(٧)

سرما کے ننگے نگے پہناوے میں

جھُنڈ کھرے ہیں پیڑوں کے

جن کے پیچھے امبر کا بن نیلے پن میں پھیلا ہے

جانے یہ آہٹ سی کیا ہے

وقت میں وقت سے باہر کی

گہری چپ کے ٹھہراؤ میں

گونج کے اندر گونج کا محشر اٹھتا ہے

جیسے کوئی ناقہ سوارِ دشتِ سُوس بپا کر دے

امڈی دھوپ کے صحرا میں

شور اکیلے سائے کا

جیسے کوئی سانس بچائے بیٹھا ہو

بوڑھ کے نیچے ساکت سا

اندھیارے کی دھوھل اڑاتی

روشنیوں کی آندھی میں

(٨)

کیسے کھوئے کھوئے سے تم رہتے ہو

ناموجود کی دنیا میں

دیکھو! اِن آتی جاتی باراتوں کو

جن کے آگے آگے ست رنگے سہرے میں

آج کا دولہا چلتا ہے

جس پر وقت نچھاور کرتا جاتا ہے

چھن چھن گرتی نذریں رنج و راحت کی

اور جنہیں بچے موجود کی نگری کے

لُوٹ رہے ہیں روز کی افراتفری میں

(٩)

ہم تو مست ملنگ ہیں اپنے ساویں کے

جو کوئی بھی ہرا تکونا جھنڈالے کر

اِسے رستے سے گزرے گا

پیچھے پیچھے ہو لیں گے

اور اُڑا کر سر میں دھول دھمالوں کی

اپنی راہ ٹٹولیں گے

دل دربار کی چوکھٹ تک

(١٠)

ناں سائیں!

یہ مجھ سے نہ دیکھا جائے

منظر

خاک پہ گتے اور تڑپتے دست بریدہ کا

منظر

سنگ زنی سے پارہ پارہ ہوتے ننگے جسموں کا

میں کہ ارادے کو بے رشتہ کر نہ سکوں

اپنے عصر کے جذبوں سے

میرے حق میں دعا کرنا

میری لوحِ مقدر پر تو لکھی ہے

بخشش آدھے سجدے کی

اور بدلہ آدھی دوزخ کا

(١١)

میں اپنے اندر کے سچ کو

کند بنا کر اس کی دھار پہ دھیمی انگلی رکھتا ہوں

میں اپنی سچائی کو

قند بنا کر چکھتا ہوں

اُس کے سچے چہرے کو جھٹلا دیتا ہوں

پردے کی تہہ داری سے

میری جان کی روشنیوں میں زور ہی شاید اتنا ہے

دھندلی یا دھندلائی آنکھیں

میری یہ آبائی آنکھیں

نسلوں سے مامور ہیں مجھ کو پیہم زندہ رکھنے پر

(١٢)

جب سہ پہریں۔۔۔۔ پل پل اُڑتی کچی دھوپ کے پیراہن میں

رونق سے خالی جگہوں پر

جُھک کر اپنے میلے ہاتھوں سے

ردی کاغذ کے ٹکڑے اور سوکھے پتے چن چن کر

شانوں سے لٹکے جھولوں میں بھرتی ہیں

جب سڑکوں پر دھوپ کے چھوٹے چھوٹے گرم بگولوں میں

آنکھیں تنکا تنکا سی ہو جاتی ہے

اور منڈیروں سے آہستہ آہستہ

ایک اداسی شام کے کاسنی رنگوں میں

آہٹ آہٹ نیچے آنے لگتی ہے

جانے کیوں اس وقت گنواوے دن کے اوجھل ہونے کگا

جان کی گہری تہہ میں شور سا اٹھتا ہے

جیسے کوئی دھم سے گر کر پانی میں

ریزہ ریزہ کر دے اپنے سائے کو

(١٣)

میں نے اپنے گردوپیش میں۔۔۔۔

جو کچھ ہوتے دیکھا وہ مصنوعی تھا

اس سے سمجھوتہ کر لینا ایسے تھا جیسے کوئی

دنیا کے بازار میں جا کر

صدیوں کے دکھ کی میراث کو بیچ آئے

سودا کافی مہنگاتھا

سو میں نے جلوت میں رہنا چھوڑ دیا

اب میری اس خلوت میں

مجھ کو یاروں کے بھیجے گلدستے ملتے رہتے ہیں

جن سے اک متناسب خوشبو

سچ اور دنیاداری کی

اُڑ کر مجھ کو

گاہے اِترانے پر، گاہے خود سے رحم جتانے پر

اُکساتی ہے

(١٤)

دن کے زینے سے میں شب کی چھت پر روز اُترتا ہوں

جس کے لیپ میں تنکا تنکا

بکھراؤ سا چھوڑ گئی ہے چاندنی گزے برسوں کی

جس پر سیل جدائی کا

انت منڈیروں پر سے لے کر محرابِ افق تک

ٹھاٹھیں مارتا رہتا ہے

میں بے غفلت غافل سا رہنے والا

اپنی بینائی سے آگے کچھ بھی دیکھ نہیں سکتا

کیسے اِن میرے اوسان پہ ظاہر ہو

کیا ہوتا ہے

روز و شب کے آٹھ پہر سے باہر کے

سناٹے میں

آفتاب اقبال شمیم

گُمان کا رومان

نہیں! تم اپنے آنسو کو چھپا رکھو

اِسی سے چھِن کے سارے فاصلے،

سب روشنی، پوری ہوا شفاف ہوتی ہے

تناظر ہے ابد آباد کا جس میں

اُجالے کے مصور نے صلیب و دار و نہرِ خشک کا منظر بنایا ہے

زپاتا، چی گویرا اور ماؤ

ہار کر ہارے نہیں ہیں،

یہ پون چکتی پےہ دھاوا بولنے والے

سدا آتے رہیں گے

کیا کیا جائے یہ مشکیزہ پرانا جب سیا جائے

تو بخیوں سے ٹپکتا ہے

خرابی کارِ سوزن کی ہے

یا پھر چرخ پر کاتی ہوئی کرنوں کے دھاگے کی!

کہا جاتا ہے نابینا مغنی کو بشارت ہے

کلا کی روشنی مل جائے گی لیکن

زدِ مضراب سے اُس کو

ہزاروں تار سارنگی کے پہلے توڑنے ہوں گے

آفتاب اقبال شمیم