بارش نے
جب سے مجھ کو پا زیب پہنائی ہے
میں رقص میں ہوں
اور اتنی خوش ہوں
اپنے پاؤں کی بد رنگی کو
دیکھ دیکھ کے بھول رہی ہو
پَر پھیلائے
بھیگے ہُوئے جنگل میں مسلسل ناچ رہی ہوں
بارش نے
جب سے مجھ کو پا زیب پہنائی ہے
میں رقص میں ہوں
اور اتنی خوش ہوں
اپنے پاؤں کی بد رنگی کو
دیکھ دیکھ کے بھول رہی ہو
پَر پھیلائے
بھیگے ہُوئے جنگل میں مسلسل ناچ رہی ہوں
معاف کر مری مستی خدائے عز و جل
کہ میرے ہاتھ میں ساغر ہے میرے لب پہ غزل
کریم ہے تو مری لغزشوں کو پیار سے دیکھ
رحیم ہے تو سزا و جزا کی حد سے نکل
ہے دوستی تو مجھے اذن میزبانی دے
تو آسمان سے اتر اور مری زمین پہ چل
بہت عزیز ہے مجھ کو یہ خاکداں میرا
یہ کوہسار یہ قلزم یہ دشت یہ دلدل
مرے جہاں میں زمان و مکان و لیل و نہار
ترے جہاں میں ازل ہے ابد ہے نہ آج نہ کل
تو اپنے عرش پہ شاداں ہے سو خوشی تیری
میں اپنے فرش پہ نازاں ہوں اے نگار ازل
مجھے نہ جنت گم گشتہ کی بشارت دے
کہ مجھ کو یاد ابھی تک ہے ہجرت اول
ترے کرم سے یہاں بھی مجھے میسر ہے
جو زاہدوں کی عبادت میں ڈالتا ہے خلل
وہ تو کہ عقدہ کشا و مسب اللا سباب
یہ میں کہ آپ معمہ ہوں آپ اپنا ہی حل
میں آپ اپنا ہی ہابیل اپنا ہی قابیل
مری ہی ذات ہے مقتول و قاتل و مقتل
برس برس کی طرح تھا نفس نفس میرا
صدی صدی کی طرح کاٹتا رہا پل پل
ترا وجود ہے لاریب اشرف و اعلیٰ
جو سچ کہوں تو نہیں میں بھی ارذل و اسفل
یہ واقعہ ہے کہ شاعر وہ دیکھ سکتا ہے
رہے جو تیرے فرشتوں کی آنکھ سے اوجھل
یہی قلم ہے جو دکھ کی رتوں میں بخشتا ہے
دلوں کو پیار کا مرہم سکون کا صندل
یہی قلم ہے کہ جس کے ہنر سے نکلے ہیں
رہ حیات کے خم ہوں کہ زلف یار کے بل
یہی قلم ہے کہ جس کی عطا سے مجھ کو ملے
یہ چاہتوں کے شگوفے محبتوں کے کنول
تمام سینہ فگاروں کو یاد میرے سخن
ہر ایک غیرت مریم کے لب پہ میری غزل
اسی نے سہل کئے مجھ پہ زندگی کے عذاب
وہ عہد سنگ زنی تھا کہ دور تیغ اجل
اسی نے مجھ کو سجھائی ہے راہ اہل صفا
اسی نے مجھ سے کہا ہے پل صراط پہ چل
اسی نے مجھ چٹانوں کے حوصلے بخشے
وہ کربلائے فنا تھی کہ کار گاہ جدل
اسی نے مجھ سے کہا اسم اہل صدق امر
اسی نے مجھ سے کہا سچ کا فیصلہ ہے اٹل
اسی کے فیض سے آتش کدے ہوئے گلزار
اسی کے لطف سے ہر زشت بن گیا اجمل
اسی نے مجھ سے کہا جو ملا بہت کچھ ہے
اسی نے مجھ سے کہا جو نہیں ہے ہاتھ نہ مل
اسی نے مجھ سے قناعت کا بوریا بخشا
اسی کے ہاتھ سے دست دراز طمع ہے شل
اسی نے مجھ سے کہا بیعتِ یزید نہ کر
اسی نے مجھ سے کہا مسلک حسین پہ چل
اسی نے مجھ سے کہا زہر کا پیالہ اٹھا
اسی نے مجھ سے کہا، جو کہا ہے اس سے نہ ٹل
اسی نے مجھ سے کہا عاجزی سے مات نہ کھا
اسی نے مجھ سے کہا مصلحت کی چال نہ چل
اسی نے مجھ سے کہا غیرت سخن کو نہ بیچ
کہ خون دل کے شرف کو نہ اشرفی سے بدل
اسی نے مجھ کو عنایت کیا ید بیضا
اسی نے مجھ سے کہا سحر سامری سے نکل
اذیتوں میں بھی بخشی مجھے وہ نعمت صبر
کہ میرے دل میں گرہ ہے نہ ماتھے پہ بل
تری عطا کے سبب یا میری انا کے سبب
کسی دعا کا ہے موقع نہ التجا کا محل
کچھ اور دیر ابھی حسرت وصال میں رہ
کچھ اور دیر آتش فراق میں جل
سو تجھ سا ہے کوئی خالق نہ مجھ سی ہے مخلوق
نہ کوئی تیرا ہی ثانی نہ میرا کوئی بدل
فراز تو بھی جنوں میں کدھر گیا ہے نکل
ترا دیار محبت تری نگار غزل
میں وہ لڑکی ہوں
جس کو پہلی رات
کوئی گھونگھٹ اُٹھا کے یہ کہہ دے۔
میرا سب کُچھ ترا ہے ، دِل کے سوا
زندگی کے لیے
اب تمھارا رویہ ،اچانک بہت صلح جُو ہو گیا ہے
(سمندر کی سرکش ہواؤں کو
جُوئے شبستاں کی آہستہ گامی مبارک!)
یہ اچھا شگن ہے
ہوا کے مقابل
اگر پُھول آئے
تو پھر پنکھڑی پنکھڑی
اُجلے بادل کے خوابوں کی صُورت بِکھر جائے گی
سو ایسے میں ،جھکنے میں ہی خیر ہے!
بارشِ سنگ میں
خواب کے شیش محل کو کب تک بچائے رکھیں
اِتنے ہاتھوں میں پتھر ہیں
کوئی تو لگ جائے گا
اور پھر
گُھپ اندھیرے میں کب تک نظر کرچیاں ان کی ڈھونڈے
کیا یہ بہتر نہ ہو گا
کہ ایسی قیامت سے پہلے ہی
ان شیش محلوں کو ہم
مصلحت کی چمکتی ہوئی ریت میں دفن کر دیں
اور پھر خواب بُنتی ہُوئی آنکھ سے معذرت کر لیں !
سو تم نے بھی اب
ایک ہاری ہُوئی قوم کے رہنما کی طرح
اپنے ہتھیار دُشمن کے قدموں میں رکھ کر
نئی دوستی کا لرزتا ہُوا ہاتھ اس کی طرف پھر بڑھایا ہے
اور میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے
کہ ہتھیار دینے کی اس رسم میں
کیا کروں
تمھاری چمکدار ،متروکہ تلوارکو
بڑھ کے چُوموں
کہ اپنے گلے پر رکھوں ؟
بہت حسین ہیں تیری عقیدتوں کے گلاب
حسین تر ہے مگر ہر گلِ خیال ترا
ہم ایک درد کے رشتے میں منسلک دونوں
تجھے عزیز مرا فن مجھے جما ل ترا
مگر تجھے نہیں معلوم قربتوں کے الم
تری نگاہ مجھے فاصلوں سے چاہتی ہے
تجھے خبر نہیں شاید کہ خلوتوں میں مری
لہو اگلتی ہوئی زندگی کراہتی ہے
تجھے خبر نہیں شاید کہ ہم وہاں ہیں جہاں
یہ فن نہیں ہے اذیت ہے زندگی بھر کی
یہاں گلوئے جنوں پر کمند پڑتی ہے
یہاں قلم کی زباں پر ہے نوک خنجر کی
ننّھی لڑکی
ساحل کے اِتنے نزدیک
ریت سے اپنے گھر نہ بنا
کوئی سرکش موج اِدھر آئی ،تو
تیرے گھر کی بنیادیں تک بہہ جائیں گی
اور پھر اُن کی یاد میں تُو
ساری عُمر اُداس رہے گی
ننھے سے اک ریستوران کے اندر
میں اور میری نیشنلسٹ کولیگز
کیٹس کی نظموں جیسے دل آویز دھند لکے میں بیٹھی
سُوپ کے پیالے سے اُٹھتی ، خوش لمس مہک کو
تن کی سیرابی میں بدلتا دیکھ رہی تھیں
باتیں ’’ہوا نہیں پڑھ سکتی‘‘، تاج محل، میسور کے ریشم
اور بنارس کی ساری کے ذکر سے جھِلمل کرتی
پاک و ہند سیاست تک آ نکلیں
پینسٹھ__اُس کے بعد اکہتّر__جنگی قیدی
امرتسر کا ٹی وی____
پاکستان کلچر__محاذِ نو__خطرے کی گھنٹی۔۔
میری جوشیلی کولیگز
اس حملے پر بہت خفا تھیں
میں نے کُچھ کہنا چاہا تو
اُن کے منہ یوں بگڑ گئے تھے
جیسے سُوپ کے بدلے اُنھیں کونین کا رس پینے کو ملا ہو
ریستوران کے مالک کی ہنس مُکھ بیوی بھی
میری طرف شاکی نظروں سے دیکھ رہی تھی
(شاید سنہ باسٹھ کا کوئی تِیر ابھی تک اُس کے دل میں ترازو تھا!)
ریستوران کے نروز میں جیسے
ہائی بلڈ پریشر انساں کے جسم کی جیسی جھلاّہٹ در آئی تھی
یہ کیفیت کچھ لمحے رہتی
تو ہمارے ذہنوں کی شریانیں پھٹ جاتیں
لیکن اُس پل ، آرکسٹراخاموش ہُوا
اور لتا کی رس ٹپکاتی، شہد آگیں آواز ، کچھ ایسے اُبھری
جیسے حبس زدہ کمرے میں
دریا کے رُخ والی کھڑکی کھلنے لگی ہو!
میں نے دیکھا
جسموں اور چہروں کے تناؤ پر
ان دیکھے ہاتھوں کی ٹھندک
پیار کی شبنم چھڑک رہی تھی
مسخ شدہ چہرے جیسے پھر سنور رہے تھے
میری نیشنلسٹ کولیگز
ہاتھوں کے پیالوں میں اپنی ٹھوڑیاں رکھے
ساکت و جامد بیٹھی تھیں
گیت کا جادو بول رہا تھا!
میز کے نیچے
ریستوران کے مالک کی ہنس مُکھ بیوی کے
نرم گلابی پاؤں بھی
گیت کی ہمراہی میں تھرک رہے تھے!
مشترکہ دشمن کی بیٹی
مشترکہ محبوب کی صورت
اُجلے ریشم لہجوں کی بانہیں پھیلائے
ہمیں سمیٹے
ناچ رہی تھی!
’’پتھر کی زباں ‘‘ کی شاعرہ نے
اک محفلِ شعر و شاعری میں
جب نظم سُناتے مُجھ کو دیکھا
کُچھ سوچ کے دل میں ،مُسکرائی!
جب میز پر ہم مِلے تو اُس نے
بڑھ کر مرے ہاتھ ایسے تھامے
جیسے مجھے کھوجتی ہو کب سے
پھر مجھ سے کہا کہ۔۔۔۔آج،پروین!
جب شعر سناتے تم کو دیکھا
میں خود کو بہت یہ یاد آئی!
وہ وقت،کہ جب تمھاری صُورت
میں بھی یونہی شعر کہہ رہی تھی
لکھتی تھی اِس طرح کی نظمیں
پر اب تو وہ ساری نظمیں ،غزلیں
گزرے ہُوئے خواب کی ہیں باتیں !
میں سب کو ڈِس اون کر چکی ہوں !
’’پتھر کی زباں ‘‘کی شاعرہ کے
چنبیلی سے نرم ہاتھ تھامے
’’خوشبو‘‘کی سفیر سوچتی تھی
در پیش ہواؤں کے سفر میں
پل پل کی رفیقِ راہ۔۔میرے
اندر کی یہ سادہ لوح ایلس
حیرت کی جمیل وادیوں سے
وحشت کے مہیب جنگلوں میں
آئے گی۔۔۔۔تو اُس کا پُھول لہجہ
کیا جب بھی صبا نفس رہے گا!؟
وہ خود کو ڈس اون کرسکے گی!؟
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں
مجھ میں لوگوں کو خوش رکھنے کا ملکہ
اتنا کم کیوں ہے
۔کچھ لفظوں سے۔کچھ میرے لہجے سے خفا ہیں
پہلے میری ماں میری مصروفیت سے
نالاں رہتی تھی
اب یہی گلہ مجھ سے میرے بیٹے کو ہے
رزق کی اندھی دوڑ میں رشتے کتنے پیچھے رہ جاتے ہیں
جبکہ صورتِ حال تو یہ ہے
میرا گھر میرے عورت ہونے کی
مجبوری کا پورا لطف اٹھاتا ہے
ہر صبح میرے شانوں پر زمہ داری کا بوجھا لیکن
پہلے سے بھاری ہوتا ہے
پھر بھی میری پشت پہ نا اہلی کا کوب
روز بروز نمایاں ہوتا جاتا ہے
پھر میرا دفتر ہے
جہاں تقرر کی پہلی ہی شرط کے طور پہ
خود داری کا استعفی دائر کرنا تھا
میں پتھر بنجر زمینوں میں پھول اگانے کی کوشش کرتی ہوں
کبھی ہریالی دکھ جاتی ہے
ورنہ
پتھر
بارش سے اکثر ناراض ہی رہتے ہیں
مرا قبیلہ
میرے حرف میں روشنی ڈھونڈ نکالتا ہے
لیکن مجھ کو
اچھی طرح معلوم ہے
کس کی نظریں لفظ پہ ہیں
اور کس کی خالق پر
سارے دائرے میرے پاووءں سے چھوٹے ہیں
لیکن وقت کا وحشی ناچ
کسی مقام نہیں رکتا
رقص کی لے ہر لمحہ تیز ہوئی جاتی ہے
یا تو میں کچھ اور ہوں
یا پھر یہ میرا سیارہ نہیں ہے۔۔۔
مری دُعا ترے رخشِ صبا خرام کے نام!
کہ میں نے اپنی محبت سپرد کی ہے تجھے
سو دیکھ!میری امانت سنبھال کے رکھنا
اسے بہار کی نرماہٹوں نے پالا ہے
سو اس کو گرم ہوا سے بہت بچا رکھنا
یہ گُل عذار نہیں آشنائے سختی گل
یہ ساتھ ہو تو بہت احتیاط سے چلنا
مزاج اس کا ہَواؤں کی طرح سرکش ہے
سو اس کی جنبشِ ابرو کو دیکھتے رہنا
نہیں ، یہ سُننے کا عادی نہیں رہا ہے کبھی
سو اس کی بات ، وہ کیسی ہو، مانتے رہنا
اطاعت اس کی بہر گام اَب ہے تیرا کام!
ہَوا کے ساتھ اُسے یہ پیام بھی پہنچے
کہ خوش نصیب ہے تو اس کا ہمسفر ٹھہرا
میں تیرہ بخت تھی، اس سے بچھڑ گئی کب کی
بھٹک رہی ہوں گھنے جنگل میں اب تنہا
تو اس کے لمس سے ہر روز زندگی پائے
میں اُس کے ہجر میں ہر رات لمسِ مرگ چکھوں
ترے گلے میں وہ ہر روز باہیں ڈالتا ہے
مرے بدن کو وہ حلقہ مگر نصیب نہیں
وہ تیرے جسم سے کتنا قریب ہوتا ہے
مگر میں اُس کے بدن کی مہک کہاں ڈھونڈوں
کہ اُس کے شہر کی پاگل ہوائیںِ__ میرے گھر
نجانے کون سی گلیوں سے ہوکے آتی ہے
کہ وہ مہک کہیں رستے میں چھوٹ جاتی ہے
اُسی کی یاد میں ہوتی ہے اب تو صبح وشام
ہَوا کے ہاتھ اُسے یہ پیام بھی پہنچے
کہ تیری عُمر خُدائے ازل دراز کرے
جو خواب بھی تری آنکھوں میں ہو،وہ پورا ہو
کہ تیرے ساتھ نے اُس کو بہت خوشی دی ہے
وہ اپنے سارے رفیقوں میں سربلند ہُوا!
شکستہ دل تھا مگر آج ارجمند ہُوا
غریبِ شہر کو جینے کا آسرا تو دیا
بہت اُداس تھا، تُو نے اُسے ہنسا تو دیا
(میں کس زباں میں ،بتا،تجھ کو شکریہ لکھوں )
دُعا یہ ہے کہ تجھے ہر خوشی میسر ہو!
اِسی طرح سے کبھی تو بھی سر اُٹھا کے چلے
کبھی تجھے بھی کوئی بھیجے تہنیت کا پیام!
ہَوا کے ساتھ اُسے یہ پیام بھی پہنچے
کہ اپنے آقا کے ہمراہ سیر کو نکلے
تواسپِ تازی،کسی دِن زقند ایسی بھرے
کہ اُڑ کے میرے نگر،میرے شہر آ پہنچے
تمام عُمر دعائیں رہیں گی اُس کے نام!
مرے غنیم نے مجھکو پیام بھیجا ہے
کہ حلقہ زن ہیں میرے گرد لشکری اُسکے
فصیل شہر کے ہر برج، ہر منارے پر
کماں بدست ستادہ ہیں عسکری اُسکے
وہ برقِ لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش
وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
بچھا دیا گیا بارود اسکے پانی میں
وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی
سبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئے
سپردِ دار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے
تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امام
امیدِ لطف پہ ایوانِ کج کلاہ میں ہیں
معززینِ عدالت حلف اٹھانے کو
مثال سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں
تم اہلِ حرف کے پندار کے ثنا گر تھے
وہ آسمانِ ہنر کے نجوم سامنے ہیں
بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا
گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے ہیں
قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو
تمھارے ساتھ ہے کون؟آس پاس تو دیکھو
تو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو
تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو
وگرنہ اب کہ نشانہ کمان داروں کا
بس ایک تم ہو، تو غیرت کو راہ میں رکھ دو
یہ شرط نامہ جو دیکھا، تو ایلچی سے کہا
اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے
تو یہ جواب ہے میرا مرے عدو کے لیے
کہ مجھکو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ
اسے ہے سطوتِ شمشیر پہ گھمنڈ بہت
اسے شکوہِ قلم کا نہیں ہے اندازہ
مرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے
مرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
مرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
مرا قلم نہیں اس دزدِ نیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
مرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی
جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
مرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
جو اپنے چہرے پہ دوہرا نقاب رکھتا ہے
مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں یا سلامت رہوں ، یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
مرے قلم کا سفر رائگاں نہ جائے گا
ہوائیں
دستکوں میں میرا نام لے رہی ہیں
میں ،کواڑ کیسے کھولوں
میرے دونوں ہاتھ پُشت کی طرف بندھے ہُوئے ہیں
عجب پُراسرار سی فضا تھی
ہَوا میں لوبان و عود عنبر کی آسمانی مہک رچی ہوئی تھی
سپید، مخروطی،مومی شمعیں
عجیب نا قابلِ بیاں مذہبی تیقن سے جل رہی تھیں
کہ جیسے آبی قباؤں میں کچھ اُداس ،معصوم لڑکیاں
دونوں ہاتھ اٹھائے
دُعا میں مصروف ہوں
اور اُن کی چنبیلی سی اُنگلیوں کی لو تھرتھرا رہی ہو!
دریچوں میں ،طاقچوں میں
ننھے چراغ یوں جھلملا رہے تھے
کہ جیسے نو زائیدہ فرشتے
زمین کو دیکھ کر
تعجب سے اپنی پلکیں جھپک رہے ہوں !
کتابِ الہام کی تلاوت
سروشِ جبریل کے تصور کی جیسے تجسیم کر رہی تھی!
میں ہلکے رنگوں کے اک دوپٹے میں اپنی زیبائشیں چھپائے
ترے بہت ہی قریب،
سر کو جُھکائے بیٹھی تھی
اور تو اپنے سادہ ملبوس میں مرے پاس تھا
مگر ہم ،ایک اور دُنیا میں کھو چکے تھے
زمین کی خواہشیں دھنک پر ہی رہ گئی تھیں
وجود،تتلی کے پَر کی صُورت،لطیف ہو کر
ہَوا میں پرواز کر رہا تھا!
ہمیں بزرگوں نے یہ بتایا،کہ آج کی رات
آسمانوں میں زندگی اور موت کے فیصلے بھی انجام پا رہے ہیں
دُعاؤں کی باریابیوں کا یہی سمے ہے!
سو ہم نے اپنے دیے جلا کر
حیاتِ تازہ کی آرزو کی
محبتوں کی ہمیشگی کی دُعائیں مانگیں !
میں آج اپنے اکیلے گھر میں
ہَوا کے رُخ پر چراغ ہاتھوں میں لے کر بیٹھی
خدا کے اُس فیصلے کا مفہوم سوچتی ہوں
(کہ جس کی تکمیل میں یہ دیکھا
بدن تو زندہ ہے میرا اب تک
مگر مری رُوح مر چکی ہے)
میں آج جا کر سمجھ سکی ہوں
کہ آج سے ایک سال پہلے
ترا جلایا ہُوا دیا جَلد کیوں بُجھا تھا
یہ جو دفعتاً اُدھر سے
گلُ مہر کی شاخ کو ہٹاکر
اُبھرا ہے اُفق پہ چاند میرا
اس چاند کا حُسن تو وہی ہے
پھر وہی نرم ہوا
وہی آہستہ سفر موجِ صبا
گھر کے دروازے پہ ننھی سی ہتھیلی رکھے
منتظر ہے
کہ کِسی سمت سے آواز کی خوشبو آئے
سبز بیلوں کے خنک سائے سے کنگن کی کھنک
سُرخ پُھولوں کی سجل چھاؤں سے پائل کی جھنک
کوئی آواز۔۔۔بنامِ موسم!
اور پھر موجِ ہوا،موجۂ خُوشبو کی وہ البیلی سکھی
کچی عمروں کے نئے جذبوں کی سر شاری سے پاگل برکھا
دھانی آنچل میں شفق ریز،سلونا چہرہ
کاسنی چُنری،بدن بھیگا ہوا
پشت پر گیلے ،مگر آگ لگاتے گیسو
بھوری آنکھوں میں دمکتا ہُوا گہرا کجرا
رقص کرتی ہوئی، رِم جھم کے مُدھر تال کے زیرو بم پر
جُھومتی ،نقرئی پازیب بجاتی ہوئی آنگن میں اُتر آئی ہے
تھام کر ہاتھ یہ کہتی ہے
مرے ساتھ چلو!
لڑکیاں
شیشوں کے شفاف دریچوں پہ گرائے ہُوئے سب پردوں کو
اپنے کمروں میں اکیلی بیٹھی ہے
کیٹس کے ’’اوڈس‘‘پڑھاکرتی ہیں
کتنا مصروف سکوں چہروں پہ چھایا ہے۔۔مگر
جھانک کے دیکھیں
توآنکھوں کو نظر آئے،کہ ہر مُوئے بدن
گوش برساز ہے!
ذہن بیتے ہُوئے موسم کی مہک ڈھونڈتا ہے
آنکھ کھوئے ہُوئے خوابوں کا پتہ چاہتی ہے
دل ،بڑے کرب سے
دروازوں سے ٹکراتے ہوئے نرم رِم جھم کے مُدھر گیت کے اس سُرکو بُلانے کی سعی کرتا ہے
جو گئے لمحوں کی بارش میں کہیں ڈوب گیا
وہ ایک لڑکی
کہ جس سے شاید میں ایک پل بھی نہیں ملی ہوں
میں اُس کے چہرے کو جانتی ہوں
کہ اُس کا چہرہ
تُمھاری نظموں ،تُمھارے گیتوں کی چلمنوں سے اُبھر رہا ہے
یقین جانو
مُجھے یہ چہرہ تُمھارے اپنے وُجود سے بھی عزیز تر ہے
کہ اُ س کی آنکھوں میں
چاہتوں کے وہی سمندر چُھپے ہیں
جو میری اپنی آنکھوں میں موجزن ہیں
وہ تم کو اِک دیوتا بنا کر،مِری طرح پُوجتی رہی ہے
اُس ایک لڑکی کا جسم
خُود میرا ہی بدن ہے
وہ ایک لڑکی____
جو میرے اپنے گئے جنم کی مَدھُر صدا ہے
بال بال موتی چمکائے
روم روم مہکار
مانگ سیندور کی سندرتا سے
چمکے چندن وار
جوڑے میں جوہی کی بینی
بانہہ میں ہار سنگھار
کان میں جگ مگ بالی پتّہ
گلے میں جگنو ، ہار
صندل ایسی پیشانی پر
بندیا لائی بہار
سبز کٹارا سی آنکھوں میں
کجرے کی دو دھار
گالوں کی سُرخی میں جھلکے
ہر دے کا اقرار
ہونٹ پہ کچھ پُھولوں کی لالی
کُچھ ساجن کے کار
کَساہوا کیسری شلوکا
چُنری دھاری دار
ہاتھوں کی اِک اِک چُوڑی میں
موہن کی جھنکار
سہج چلے ، پھر بھی پائل میں
بولے پی کا پیار
اپنا آپ درپن میں دیکھے
اور شرمائے نار
نار کے رُوپ کو انگ لگائے
دھڑک رہا سنسار
میں کچی نیند میں ہوں
اور اپنے نیم خوابیدہ تنفس میں اترتی
چاندنی کی چاپ سنتی ہوں
گماں ہے
آج بھی شاید
میرے ماتھے پہ تیرے لب
ستارے ثبت کرتے ہیں
اے خدا
میری آواز سے ساحری چھین کر
تو نے سانپوں کی بستی میں کیوں مجھ کو پیدا کیا
کیا کیا دکھ دل نے پائے
ننھی سی خوشی کے بدلے
ہاں کون سے غم نہ کھائے
تھوڑی سی ہنسی کے بدلے
زخموں کا کون شمار کرے
یادوں کا کیسے حصار کرے
اور جینا پھر سے عذاب کرے
اس وقت کا کون حساب کرے
وہ وقت جو تجھ بن بیت گیا !
اُس نے میرے ہاتھ میں باندھا
اُجلا کنگن بیلے کا
پہلے پیار سے تھامی کلائی
بعد اُس کے ہولے ہولے پہنایا
گہنا پُھولوں کا
پھر جُھک کر ہاتھ کوچُوم لیا!
پُھول تو آخر پُھول ہی تھے
مُرجھا ہی گئے
لیکن میری راتیں ان کی خوشبو سے اب تک روشن ہیں
بانہوں پر وہ لمس ابھی تک تازہ ہے
(اخِ صنوبر پر اِک چاند دِمکتا ہے)
پُھول کا کنگن
پیار کا بندھن
اَب تک میری یاد کے ہاتھ سے لپٹاہُوا ہے
یہ جھکی جھکی آنکھیں
یہ رُکا رُکا لہجہ
لب پہ بار بار آ کے
ٹوٹتا ہُوا فقرہ
گرد میں اٹی پلکیں
دُھوپ سے تپا چہرہ
سر جُھکائے آیا ہے
ایک عمر کا بُھولا
دل ہزار کہتا ہے
ہاتھ تھام لُوں اس کا
چُوم لُوں یہ پیشانی
لَوٹنے نہ دُوں تنہا
کوئی دل سے کہتا ہے
سارے حرف جُھوٹے ہیں
اعتبار مت کرنا!
اعتبار مت کرنا
ہونٹ بے بات ہنسے
زُلف بے وجہ کُھلی
خواب دکھلا کہ مجھے
نیند کس سمت چلی
خُوشبو لہرائی میرے کان میں سرگوشی کی
اپنی شرمیلی ہنسی میں نے سُنی
اور پھر جان گئی
میری آنکھوں میں تیرے نام کا تارا چمکا !!!
خوش پوش مسافروں کے آگے
ننّھا سا وہ کم لباس بچہ
کِس شانِ انا سے چل رہا تھا
سُورج کی تمازت کے باوصف
سائے کی تلاس تھی__نہ اس کو
دردکار تھیں نقرئی پناہیں
جیبوں پہ نگاہ تھی نہ رُخ پر
سکّوں سے وہ بے نیاز آنکھیں
کُچھ اور ہی ڈھونڈنے چلی تھیں
اُس کو تو مسافروں سے بڑھ کر
سایوں سے لگاؤں ہو گیا تھا
اپنے نئے کھیل میں مگن وہ
لوگوں کے بہت قریب جا کر
میلی ، بے رنگ اُنگلیوں سے
سایوں کو مزے سے گن رہا تھا
دلدل سے اُگا ہُوا وہ بچہ
خوشبو کا حساب کر رہا تھا
کُہرے میں پلا ہُوا وہ کیڑا
کرنوں کا شمار کر رہا تھا
کس نے اُسے گنتیاں سکھائیں
جس نے کبھی زندگی میں اپنی
اسکول کی شکل تک نہ دیکھی
اُستاد کا نام تک نہ جانا
سچ یہ ہے کہ سورجوں کو چاہے
بادل کا کفن بھی دے کے رکھیں
کب روشنیاں ہوئی ہیں زنجیر!
تنویر کا ہاتھ کِس نے تھاما!
کونوں کے قدم کہاں رُکے ہیں !
میرے شانوں پہ سر رکھ کر
آج
کسی کی یاد میں وہ جی بھر کہ رویا !!!
کتنی دیر تک
املتاس کے پیڑ کے نیچے
بیٹھ کر ہم نے باتیں کیں
کچھ یاد نہیں
بس اتنا اندازہ ہے
چاند ہماری پشت سے ہو کر
آنکھوں تک آپہنچا !!!
یہاں پہ وہ لڑکی سو رہی ہے
کہ جسکی آنکھوں نے نیند سے خواب مول لے کر
وصال کی عمر رتجگے میں گزار دی تھی
عجیب تھا انتظار اسکا
کہ جس نے تقدیر کے تنک حوصلہ مہاجن کے ساتھ
بس اک دریچۂنیم با ز کے سکھ پہ
شہر کا شہر رہن کروا دیا تھا
لیکن وہ ایک تارہ
کہ جس کی کرنوں کے مان پر
چاند سے حریفانہ کشمکش تھی
جب اس کے ماتھے پہ کھلنے والا ہوا
تو اس پل
سپیدۂصبح بھی نمودار ہو چکا تھا
فراق کا لمحہ آ چکا تھا۔۔۔
کانچ کی سُرخ چوڑی
میرے ہاتھ میں
آج ایسے کھنکنے لگی
جیسے کل رات شبنم سے لکھی ہوئی
ترے ہاتھوں کی شوخیوں کو
ہواؤں نے سَر دے دیا ہو ۔۔۔
جیسے کوئلے کے نطفے سے جنم لیا ہو
ایک جہنمی درجۂ حرارت پر رہتے ہوئے
اُس کا کام
دہکتی بھٹی میں کوئلے جھونکتے رہنا تھا
اُس کے بدلے
اُس کو اُجرت بھی زیادہ ملتی تھی
اور خوراک بھی خصوصی
اور ایک وقت میں چار گھنٹے سے زیادہ کام نہیں لیا جاتا تھا
لیکن شاید اس کو یہ نہیں معلوم
کہ خود کشی کے اس معاہدے پر
اُس نے
بقائمی ہوش و حواس دستخط کئے ہیں
اس بھٹی کا ایندھن دَراصل وہ خود ہے!
پُھول ہی پُھول ہیں
تا بہ حدِ نظر
آتشی، آسمانی، گُلابی
کاسنی، چمپئی،ارغوانی
کتنے مشتاق ہاتھوں نے، کتنی،
یاسمین یاسمن اُنگلیوں نے
اِ س طرح سے سجایا،سنواراانھیں
اور پھر دادِ اہلِ نظر اور تحسینِ چشمِ نگاراں ملی
یہ نہ سوچا کسی نے،کہ گُل نے
شاخ سے ٹُوٹ کر
حسن کے اس سفر میں
کِس طرح کی اذیت اُٹھائی!
ہم کہ شاعر ہیںِ__نوکِ قلم سے
فِکر کے پُھول مہکا رہے ہیں ،
اپنی سوچوں کی تابندگی سے
عارضِ وقت چمکا رہے ہیں
ایک وقت ایسا بھی ا رہا ہے
جب کہ دیوان اپنے
آبنوس اور مرمر کے شیلفوں میں پتھر کی مانند سج جائیں گے
یاسمن یاسمن اُنگلیاں
شعر کے لمس سے بے خبر
ان کو ترتیب دیں گی
نرگسی نرگسی کتنی آنکھیں
حُسنِ ترتیب کی داد دیں گی
اس حقیقت سے نا آشنا___
حُسنِ تخلیق کے اس سفر میں
ہم نے کیسی اذیت اُٹھائی !
چند خط روز لِکھا کرتے تھے
دُوسرے تیسرے ، تم فون بھی کر لیتے تھے
اور اب یہ ، کہ تمھاری خبریں
صرف اخبار سے مل پاتی ہیں
پت جھڑ کے موسم میں تجھ کو
کون سے پُھول کا تحفہ بھیجوں
میر ا آنگن خالی ہے
لیکن میری آنکھوں میں
نیک دُعاؤں کی شبنم ہے
شبنم کا ہرتارہ
تیراآنچل تھام کے کہتا ہے
خوشبو،گیت ہَوا،پانی اور رنگ کو چاہنے والی لڑکی!
جلدی سے اچھی ہو جا
صبحِ بہار کی آنکھیں کب سے
تیری نرم ہنسی کا رستہ دیکھ رہی ہیں !
آئینہ
لڑکی سرکوجُھکائے بیٹھی
کافی کے پیالے میں چمچہ ہلا رہی ہے
لڑکا،حیرت اور محبت کی شدت سے پاگل
لانبی پلکوں کے لرزیدہ سایوں کو
اپنی آنکھ سے چُوم رہا ہے
دونوں میری نظر بچا کر
اک دُوجے کو دیکھتے ہیں ہنس دیتے ہیں !
میں دونوں سے دُور
دریچے کے نزدیک
اپنی ہتھیلی پراپنا چہرہ رکھے
کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہی ہوں
سوچ رہی ہوں
گئے دنوں میں ہم بھی یونہی ہنستے تھ
میں کیوں اُس کو فون کروں !
اُس کے بھی تو علم میں ہو گا
کل شب
موسم کی پہلی بارش تھی
اپنے سر د کمرے میں
میں اُداس بیٹھی ہوں
نیم وا دریچوں سے
کاش میرے پَر ہوتے
نَم ہوائیں آتی ہیں
تیرے پاس اُڑ آتی
میرے جسم کو چُھو کر
کاش میں ہَوا ہوتی
آگ سی لگاتی ہیں
تجھ کو چُھو کے لوٹ آتی
تیرا نام لے لے کر
میں نہیں مگر کُچھ بھی
مُجھ کو گدگداتی ہیں
سنگ دِل رواجوں کے
آہنی حصاروں میں
عمر قید کی ملزم
صرف ایک لڑکی ہوں
تیری ہم رقص کے نام
رقص کرتے ہوئے
جس کے شانوں پہ تُو نے ابھی سر رکھا ہے
کبھی میں بھی اُس کی پناہوں میں تھی
فرق یہ ہے کہ میں
رات سے قبل تنہا ہُوئی
اور تُو صبح تک
اس فریبِ تحفظ میں کھوئی رہے گی
پس شہرِ چارہ گراں
نرم آبی قباؤں میں ملبوس کُچھ نوجواں
اپنے اپنے فرائض کی تکمیل میں
مثلِ موجِ صبا ،پھر رہے ہیں
آنسوؤں کا مداوا
دُکھوں کی مسیحائی
زخمِ ہُنر کی پذیرائی کرتے ہُوئے
پُھول چہرہ،فرشتہ قبا،زندگی رنگ،شبنم زباں ،چاندنی لمس،عیسیٰ نفس چارہ گر مجھ کو بے طرح اچھے لگے
جی یہ چاہا کہ اُن کے لیے کُچھ لکھوں
اُن کے چہروں کی یہ مہرباں چاندنی
اُن کی آنکھوں کی یہ نرم دل روشنی
ان کے لہجوں کی غم خوار تابندگی
ان کے ہونٹوں کی دلدار پیاری ہنسی
یوں ہی روشن رہے، جگمگاتی رہے
زندگی اُن کے ہمراہ ہنستی رہے
یہ دُعا میرے ہونٹوں پہ لیکن اُدھوری رہی
دفعتاً جانے کس سمت سے
ایک انساں کا زخمی بدن ا گیا
خُوں میں ڈوبا ہُوا،کرب آلُود چہرہ
مرے ذہن پر اس طرح چھا گیا
میری پلکوں کی مانند لہجہ بھی نم ہو گیا
گفتگو کی قبا بھی لُہو رنگ ہونے لگی
مگر جو مسیحا مِرے سامنے تھا
کھڑا مُسکراتا رہا
سلسلہ اُس کی باتوں کا چلتا رہا
اُس کی آنکھوں میں ہلکا سا بھی دُکھ نہ تھا
بلکہ وہ
میری افسردگی دیکھ کر ہنس دیا___:
’’بی بی ! اس طرح تو روز ہوتا ہے
کوئی کہاں تک پریشان ہو
کون اوروں کے دُکھ مول لے
روز کی بات ہے
چھوڑیے بھی اسے۔آئیں باتیں کریں !‘‘
میری آنکھیں تقدس کے پیکر کو حیرت سے تکنے لگیں
میں فرشتوں کے پرسے تراشے ہُوئے
نرم آبی لبادے میں ملبوس انسان کو دیکھتی رہ گئی
مجھ کو لوگوں نے سمجھایا۔۔’’دیکھو۔۔سُنو۔۔
یہ مسیحا ہیں ،ان کے لیے موت بھی
عام سا واقعہ ہے،قیامت نہیں !‘‘
چارہ سازی کی منزل مبارک انھیں
پر یہاں تک یہ جس راہ سے آئے ہیں
اُس میں ،ہر موڑ پر
ان کے دِل کے پیروں تلے آئے ہیں
نرم حسّاس دل کے عوض،چارہ سازی خریدی گئی
اور یہ قیمت بہت ہی بڑی ہے۔۔بہت ہی بڑی
سحاب تھا کہ ستارہ، گریز پا ہی لگا
وہ اپنی ذات کے ہر رنگ میں ہَوا ہی لگا
میں ایسے شخص کی معصومیت پہ کیا لکھوں
جو مجھ کو اپنی خطاؤں میں بھی بھلا ہی لگا
زباں سے چُپ ہے مگر آنکھ بات کرتی ہے
نظر اُٹھائی ہے جب بھی تو بولتا ہی لگا
جو خواب دینے پہ قادر تھا، میری نظروں میں
عذاب دیتے ہُوئے بھی مجھے خدا ہی لگا
نہ میرے لُطف پہ حیراں نہ اپنی اُلجھن پر
مُجھے یہ شخص تو ہر شخص سے جُدا ہی لگا
اپنی بود و باش نہ پُوچھو
ہم سب بے توقیر ہوئے
کون گریباں چاک نہیں ہے
ہم ہوئے تم ہوئے میر ہوئے
سہمی سہمی دیواروں میں
سایوں جیسے رہتے ہیں
اس گھر میں آسیب بسا ہے
عامل کامل کہتے ہیں
دیکھنے والوں نے دیکھا ہے
اک شب جب شب خون پڑا
گلیوں میں بارود کی بُو تھی
کلیوں پر سب خون پڑا
اب کے غیر نہیں تھا کوئی
گھر والے دشمن نکلے
جن کو برسوں دودھ پلایا
ان ناگوں کے پھن نکلے
رکھوالوں کی نیت بدلی
گھر کے مالک بن بیٹھے
جو غاصب تھے محسن کُش تھے
صوفی سالک بن بیٹھے
جو آواز جہاں سے اُٹھی
اس پر تیر تبر برسے
ایسے ہونٹ سلے لوگوں کے
سرگوشی کو بھی ترسے
گلی گلی میں بندی خانے
چوک چوک میں مقتل ہیں
جلادوں سے بھی بڑھ چڑھ کر
منصف وحشی پاگل ہیں
کتنے بے گنہوں کے گلے پر
روز کمندیں پڑتی ہیں
بُوڑھے بچے گھروں سے غائب
بیبیاں جیل میں سڑتی ہیں
اس کے ناخن کھینچ لئے ہیں
اس کے بدن کو داغ دیا
گھر گھر قبریں در در لاشیں
بجھا ہر ایک چراغ دیا
ماؤں کے ہونٹوں پر ہیں نوحے
اور بہنیں کُرلاتی ہیں
رات کی تاریکی میں ہوائیں
کیسے سندیسے لاتی ہیں
قاتل اور درباری اس کے
اپنی ہٹ پر قائم ہیں
ہم سب چور لُٹیرے ڈاکو
ہم سب کے سب مجرم ہیں
ہمیں میں کوئی صبح سویرے
کھیت میں مُردہ پایا گیا
ہمیں سا دہشت گرد تھا کوئی
چھُپ کے جسے دفنایا گیا
سارا شہر ہے مُردہ خانہ
کون اس بھید کو جانے گا
ہم سارے لا وارث لاشیں
کون ہمیں پہچانے گا
بارہا مجھ سے کہا دل نے کہ اے شعبدہ گر
تو کہ الفاظ سے اصنام گری کرتا ہے
کبھی اس حسنِ دل آرا کی بھی تصویر بنا
جو تری سوچ کے خاکوں میں لہو بھرتا ہے
بارہا دل نے یہ آواز سنی اور چاہا
مان لوں مجھ سے جو وجدان میرا کہتا ہے
لیکن اس عجز سے ہارا میرے فن کا جادو
چاند کو چاند سے بڑھ کر کوئی کیا کہتا ہے
ترا کہنا ہے
’’مجھ کو خالقِ کون و مکاں نے
کِتنی ڈھیروں نعمتیں دی ہیں
مری آنکھوں میں گہری شام کا دامن کشاں جادو
مری باتوں میں اُجلے موسموں کی گُل فشاں خوشبو
مرے لہجے کی نرمی موجۂ گل نے تراشی ہے
مرے الفاظ پر قوسِ قزح کی رنگ پاشی ہے
مرے ہونٹوں میں ڈیزی کے گلابی پُھولوں کی رنگت
مرے رُخسار پر گلنار شاموں کی جواں حِدّت
مرے ہاتھوں میں پنکھڑیوں کی شبنم لمس نرمی ہے
مرے بالوں میں برساتوں کی راتیں اپنا رستہ بُھول جاتی ہیں
میں جب دھیمے سُروں میں گیت گاتی ہوں
تو ساحل کی ہوائیں
اَدھ کھلے ہونٹوں میں ،پیاسے گیت لے کر
سایہ گُل میں سمٹ کر بیٹھ جاتی ہیں
مرا فن سوچ کو تصویر دیتا ہے
میں حرفوں کو نیا چہرہ
تو چہروں کو حروفِ نوکا رشتہ نذر کرتی ہوں
زباں تخلیق کرتی ہوں ۔‘‘
ترا کہنا مجھے تسلیم ہے
میں مانتی ہوں
اُس نے میری ذات کو بے حد نوازا ہے
خدائے برگ و گل کے سامنے
میں بھی دُعا میں ہوں ،سراپا شکر ہوں
اُس نے مجھے اِتنا بہت کُچھ دے دیا، لیکن
تجھے دے دے تو میں جانوں
وسعتوں سے سدا اُس کا ناتا رہا تھا
کُھلے آسمانوں
کُھلے پانیوں
اور کُھلے بازؤوں سے ہمیشہ محبت رہی تھی
ہَوا،آگ،پانی،کرن اور خوشبو
وہ سارے عناصر جو پھیلیں تو ہر دو جہاں اپنی بانہوں میں لے لیں
سد ا اُس کے ساتھی رہے تھے
وہ جنگل کی اَلھڑ ہوا کی طرح راستوں کے تعین سے آزاد تھی
وہ تو تخلیقِ فطرت تھی
پر خُوبصورت سے شوکیس میں قید کر دی گئی تھی
قفس رنگ ماحول کے حبس میں سانس روکے ہُوئے تھی
کہ اِک دم جو تازہ ہَوا کی طرح
اِک نویدِ سفر آئی۔تو
ایک لمحے کو آزاد ہونے کی وحشی تمنا میں ۔وہ
ایک بچے کی صُورت مچلنے لگی
شہر سے دُور
ماں کی محبت کی مانند
بے لوث،بے انتہا مہرباں دوست اُس کے لیے منتظر تھا
نرم موجیں کُھلے بازؤوں اس کی جانب بڑھیں
اور وہ بھی ہوا کی طرح بھاگتی ہی گئی
اور پھر چند لمحوں میں دُنیا نے دیکھا
سمندر کی بیٹی سمندر کی بانہوں میں سمٹی ہُوئی تھی!
آنے والی رُتوں کے آنچل میں
کوئی ساعت سعید کیا ہو گی
رات کے وقت رنگ کیا پہنوں
روشنی کی کلید کیا ہو گی
جبکہ بادل کی اوٹ لازم ہو
جانتی ہوں ،کہ دید کیا ہو گی
زردموسم کی خشک ٹہنی سے
کونپلوں کی اُمید کیا ہو گی
چاند کے پاس بھی سُنانے کو
اب کے کوئی نوید کیا ہو گی
گُل نہ ہو گا تو جشنِ خوشبو کیا
تم نہ ہو گے تو عید کیا ہو گی
بارش کا اِکقطرہ آکر
میری پلک سے اُلجھا
اور آنکھوں میں ڈُوب گیا
ہاں ، یہ موسم تو وہ ہے
کہ جس میں نظر چُپ رہے
اور بدن بات کرتا رہے
اُس کے ہاتھوں کے شبنم پیالوں میں
چہرہ میرا
پھول کی طرح ہلکورے لیتا رہے
پنکھڑی پنکھڑی
اُس کے بوسوں کی بارش میں
پیہم نِکھرتی رہے
زندگی اس جنوں خیز بارش کے شانوں پر سر کو رکھے
رقص کرتی رہے!
وہ سایہ دار شجر
جو مجھ سے دُور ، بہت دُور ہے، مگر اُس کی
لطیف چھاؤں
سجل، نرم چاندنی کی طرح
مرے وجود،مری شخصیت پہ چھائی ہے!
وہ ماں کی بانہوں کی مانند مہرباں شاخیں
جو ہر عذاب میں مُجھ کو سمیٹ لیتی ہیں
وہ ایک مشفقِ دیرینہ کی دُعا کی طرح
شریر جھونکوں سے پتوں کی نرم سرگوشی
کلام کرنے کا لہجہ مُجھے سکھاتی ہے
وہ دوستوں کی حسیں مُسکراہٹوں کی طرح
شفق عذار،دھنک پیرہن شگوفے،جو
مُجھے زمیں سے محبت کا درس دیتے ہیں !
اُداسیوں کی کسی جانگذار ساعت میں
میں اُس کی شاخ پہ سر رکھ کے جب بھی روئی ہوں
تو میری پلکوں نے محسوس کر لیا فوراً
بہت ہی نرم سی اِک پنکھڑی کا شیریں لمس!
(نِمی تھی آنکھ میں لیکن مَیں مُسکرائی ہوں !)
کڑی دھوپ ہے
تو پھر برگ برگ ہے شبنم
تپاں ہوں لہجے
تو پھر پُھول پُھول ہے ریشم
ہرے ہوں زخم
تو سب کونپلوں کا رَس مرہم!
وہ ایک خوشبو
جو میرے وجود کے اندر
صداقتوں کی طرح زینہ زینہ اُتری ہے
کرن کرن مری سوچوں میں جگمگاتی ہے
(مُجھے قبول،کہ وجداں نہیں یہ چاند مرا یہ روشنی مجھے ادراک دے رہی ہے مگر!)
وہ ایک جھونکا
جو اُس شہرِ گُل سے آیا تھا
اَب اُس کے ساتھ بہت دُور جاچکی ہُوں میں
میں ایک ننھی سی بچی ہوں ،اور خموشی سے
بس اُس کی اُنگلیاں تھامے،اور آنکھیں بند کیے
جہاں جہاں لیے جاتا ہے،جا رہی ہوں میں !
وہ سایہ دار شجر
جو دن میں میرے لیے ماں کا نرم آنچل ہے
وہ رات میں ،مرے آنگن پہ ٹھہرنے والا
شفیق ،نرم زباں ،مہرباں بادل ہے
مرے دریچوں میں جب چاندنی نہیں آتی
جو بے چراغ کوئی شب اُترنے لگتی ہے
تو میری آنکھیں کرن کے شجر کو سوچتی ہیں
دبیز پردے نگاہوں سے ہٹنے لگتے ہیں
ہزار چاند ،سرِشاخ گُل اُبھرتے ہیں
یہی وہ دن تھا
جب آج سے چار سال پہلے
اسی روش پر،بنفشی بیلوں کے نرم سائے میں ہم ملے تھے
وہ لمحہ جبکہ ہمارے جسموں کو اپنے ہونے کا
حیرت آمیز،راحت افزا،نشاطِ اثبات مل سکا تھا
ہماری رُوحوں نے اپنا اپنا ،نیا سنہری جنم لیا تھا
وہ ایک لمحہ
ہماری روحوں کو اپنے دستِ جمال سے چُھو رہا ہے اب تک نظر کو شاداب کر رہا ہے
بدن کو مہتاب کر رہا ہے
ہم اس کے مقروض ہو چکے ہیں !
سو آؤ اب اس عظیم لمحے کے نام کوئی دُعا کریں ہم
اُٹھائیں ہاتھ
اور محبتوں کی تمام تر شدتوں سے چاہیں
کہ جب بھی چھبیس جون کا آفتاب نکلے
تو ہم اُسے ایک ساتھ دیکھیں
کتنی دیر تک
املتاس کے پیڑ کے نیچے
بیٹھ کے ہم نے باتیں کیں
کچھ یاد نہیں
بس اتنا اندازہ ہے
چاند ہماری پشت سے ہو کر
آنکھوں تک آ پہنچا
گہری بھوری آنکھوں والا اک شہزادہ
دور دیس سے
چمکیلے مشکی گھوڑے پر ہوا سے باتیں کرتا
جَگر جَگر کرتی تلوار سے جنگل کاٹتا
دروازے سے لپٹی بیلیں پرے ہٹاتا
جنگل کی بانہوں میں جکڑے محل کے ہاتھ چھڑاتا
جب اندر آیا تو دیکھا
شہزادی کے جسم کی ساری سوئیاں زنگ آلودہ تھیں
رستہ دیکھنے والی آنکھیں سارے شکوے بھول چکی تھیں
زمیں پہ جب کسی نئے وجود نے جنم لیا
یقین ا گیا
خدا ابھی بشر سے بدگماں نہیں
مگر نئی کلی کا رنگ دیکھ کر
یہ واہمہ بھی جاگ اُٹھا
خدا بہار سے خفا ہے کیا؟
خدا خفا ہو یا نہ ہو
ہَوا ضرور بدگمان ہے!
یہ زرد رُو،دریدہ جاں
یہ پور پور استخواں
اماوسوں کی رات میں نہ لوریاں ،نہ پالنا
خزاں کے ہاتھ بچ سکیں نہ شوخیاں نہ بچپنا
نہ ان کا ذہن آگہی کے لمس کا شریک ہے
نہ ان کی آنکھ روشنی کے ذائقے سے آشنا!
ضِدوں کا وقت اور خود کو روکنا
شرارتوں کی عُمر اور سوچنا!
یہ سراُٹھائیں کیا،انھیں کسی پہ مان ہی نہیں
کسی کا پیار ان کے حوصلوں کی جان ہی نہیں
ہَوائیں خوشبوؤں کے تحفے دلدلوں کے پار لے گئیں
گھٹائیں بارشوں کے سب سندیس ندیوں کو دے گئیں
غزال اب بھی تشنہ کام ہی رہے
ہَوا سے صرف نامہ و پیام ہی رہے
وہی ہے تشنگی،وہی رُتوں کی کم نگاہیاں
وہی اکیلا پن،وہی سمے کی کج ادائیاں
ہَوا میں طائرانِ آہنی کا وصل(اگرچہ)خُوب ہے
(خلا سے لے کر چاند تک زمیں کہاں غروب ہے؟)
مگر زمیں کے اپنے چاند،آج بھی گہن میں ہیں
جبیں کے داغ کیا دُھلیں ،سیاہیاں کرن میں ہیں
صبا نفس حیات کا جمال بے نمو رہا!
ہوا گزیدہ پُھول کا لباس بے رفو رہا
ہمکتے کِھلکھلاتے بچے اب خیال و خواب ہو گئے
ہمارے اگلے
اپنی بے بضاعتی میں کیا عذاب گئے
یہ شب نصیب
جن کو بُھوک نے جنم دیا ہے
تشنگی نے دیکھ بھال کی
یہ کھوکھلی جڑیں
نئی رُتوں میں شاخسارِجاں کو
کیسی کونپلیں عطا کریں گی؟
(کرسکیں گی؟۔۔یہ بھی سوچنے کی بات ہے)
شدید موسموں پہ پلنے والے پیڑ
کتنے اُونچے جائیں گے؟
یہ بے ثمر درخت
اپنی چھاؤں کتنی دُور لائیں گے؟
جڑوں کی بانجھ کھوکھ میں نہ رنگ ہے ،نہ رُوپ ہے
نظر کی آخری حدوں تلک
فضا میں صرف دُھوپ ہے!
نوادرات ،سیم و زر،گئے زمانوں کی کہانیاں بھی
محترم ہیں
ان کو جمع کرنا نیک کام ہے
مگر یہ بچے زندگی ہیں
میوزیم کے افسران زندگی جمع کریں
اِسے پناہ دیں !
اسے نمود دیں !
اسے غرور دیں !
یہ بے اماں ۔۔یہ بے مکاں
یہ کم لباس، کم زباں
انھیں بھی راستوں میں نرم چھاؤں کی نوید ہو
ہرے بھرے لباس میں کبھی تو ان کی عید ہو
روزنا جرمن نژاد
اس کے ہونٹوں میں حرارت
جسم میں طوفاں
برہنہ پنڈلیوں میں آگ
نیت میں فساد
رنگ و نسل و قامت و قد
سرزمین و دین کے سب تفرقوں سے بے نیاز
ہر کسی سے بے تکلف، ایک حد تک دلنواز
وہ سبھی کی ہم پیالہ، ہم نفس
عمر شاید بیس سے اوپر برس یا دو برس
روزنا جرمن نژاد
اور دیکھنے والوں میں سب
اس کی آسودہ نگاہی، بے محابا میگساری کے سبب
پیکر تسلیم و سر تا پا طلب
ان میں ہر اک کی متاع کل
بہائے التفات نیم شب
روزنا جرمن نژاد
اور اس کا دل۔ ۔ ۔ زخموں سے چُور
اپنے ہمدردوں سے ہمسایوں سے دور
گھرکی دیواریں نہ دیواروں کے سایوں کا سرور
جنگ کے آتش کدے کا رزق کب سے بن چکا
ہر آہنی بازو کا خوں
ہر چاند سے چہرے کا نور
خلوتیں خاموش و ویراں
اور دہلیز پر اک مضطرب مرمر کا بت
ایستا وہ ہے بچشم ناصبور
کون ہے اپنوں میں باقی
تو سن راہ طلب کا شہسوار
ہر دریچے کا مقدر، انتظار
اجنبی مہمان کی دستک خواب
شاید خواب کی تعبیر بھی
چند لمحوں کی رفاقت جاوداں بھی
حسرت تعمیر بھی
الوداعی شام، آنسو، عہد و پیماں
مضطرب صیاد بھی، نخچیر بھی
کون کر سکتا ہے ورنہ ہجر کے کالے سمندر کو عبور
اجنبی مہماں کا اک حرف فوار
نومید چاہت کا غرور
روزنا اب اجنبی کے ملک میں خود اجنبی
پھر بھی چہرے پر اداسی ہے نہ آنکھوں میں تھکن
اجنبی کا ملک جس میں چار سو
تاریکیاں ہی خیمہ زن
سب کے سایوں سے بدن
روزنا مرمر کا بت
اور اس کے گرد
ناچتے سائے بہت
سب کے ہونٹوں پر وہی حرف وفا
ایک ہی سب کی صدا
وہ سبھی کی ہم پیالہ، ہم نفس
عمر شاید بیس سے اوپر برس یا دو برس
اس کی آنکھوں میں تجسس اور بس
آئینہ سے فرش پر
ٹوٹے بدن کا عکس،
آدھے چاند کی صورت لرزتا ہے
ہوا کے وائلن کی نرم موسیقی
خنک تاریکیوں میں
چاہنے والوں کی سرگوشی کی صورت بہہ رہی ہے
اور ہجومِ ناشناساں سے پرے
نسبتاً کم بولتی تنہائی میں
اجنبی ساتھی نے ، میرے دل کی ویرانی کا ماتھا چُوم کر
مجھ کو یوں تھاما ہُوا ہے
جیسے میرے سارے دُکھ اب اُس کے شانوں کے لیے ہیں !
دونوں آنکھیں بند کر کے
میں نے بھی اِن بازؤوں پر تھک کے سریوں رکھ دیا ہے
جیسے غربت میں اچانک چھاؤں پاکر راہ گم گشتہ مسافر پیڑ سے سر ٹیک دے!
خواب صورت روشنی
اور ساز کی دلدار لے
اُس کی سانسوں سے گُزر کر
میرے خوں کی گردشوں میں سبز تارے بو رہی ہے
رات کی آنکھوں کے ڈورے بھی گُلابی ہو رہے ہیں
اُس کے سینے سے لگی
میں کنول کے پُھول کی وارفتگی سے
سر خوشی کی جھیل پر آہستہ آہستہ قدم یوں رکھ رہی ہوں
جیسے میرے پاؤں کچّی نیندوں میں ہوں اور ذرا بھاری قدم رکھے تو پانی ٹوٹ جائے گا
شکستہ روح پر سے غم کے سارے پیرہن
ایک ایک کر کے اُترتے جا رہے ہیں
لمحہ لمحہ
میں زمیں سے دُور ہوتی جا رہی ہوں
اب ہَوا میں پاؤں ہیں
اب بادلوں پر
اب ستاروں کے قریب
اب ستاروں سے بھی اُوپر،…۔۔
اور اُوپر…۔۔اور اُوپر…۔۔اور۔۔۔۔۔۔
سبز موسم کی بے حد خنک رات تھی
چنبیلی کی خوشبو سے بوجھل ہُوا
دھیمے لہجوں میں سرگوشیاں کر رہی تھی
ریشمیں اوس میں بھیگ کر
رات کا نرم آنچل بدن سے لپٹنے لگا تھا
ہارسنگھار کی نرم خوشبو کا جادو
جواں رات کی سانس میں گُھل رہا تھا
چاندنی،رات کی گود میں سر رکھے ہنس رہی تھی
اور میں سبز موسم کی گلنار ٹھنڈک میں کھوئی ہُوئی
شاخ در شاخ
ایک تیتری کی طرح اُڑ رہی تھی
کبھی اپنی پرواز میں رُک کے نیچے جوآتی تو احساس ہوتا مجھے
شبنمی گھاس کا لمس پاؤں کو کتنا سکوں دے رہا ہے!
دفعتاً
میں نے ٹی ۔وی کی خبروں پہ موسم کی بابت سُنا
ترے شہر میں لُو چلی ہے
ایک سو آٹھ سے بھی زیادہ حرارت کا درجہ رہا ہے
مجھے یوں لگا
میرے چاروں طرف آگ ہی آگ ہے
ہوائیں جہنم سے آنے لگی ہیں
تمازت سے میرا بدن پُھنک رہا ہے
میں اُس شبنمی رُوح پرور فضا کو جھٹک کر
کچھ اس طرح کمرے میں اپنے چلی آئی
جیسے کہ اک لمحہ بھی اور رک جاؤں گی تو جھلس جاؤں گی!
پھر بڑی دیر تک،
تیرے تپتے ہُوئے جسم کو
اپنے آنچل سے جھلستی رہی
تیرے چہرے سے لپٹی ہُوئی گرد کو
اپنی پلکوں سے چُنتی رہی
رات کو سونے سے پہلے
اپنی شب خوابیوں کا لبادہ جو پہنا
تو دیکھا
مرے جسم پر آبلے پڑ چکے تھے!
لمحہ لمحہ وقت کی جھیل میں ڈُوب گیا
اب پانی میں اُتریں بھی تو پائیں کیا
طوفان جب آیا تو جھیل میں کُود پڑ
ا وہ لڑکا جو کشتی کھیلنے نکلا تھا
کتنی دیر تک اپنا آپ بچائے گی
ننھی سی اِک لہر کو موجوں نے گھیرا
اپنے خوابوں کی نازک پتواروں سے
تیر رہا ہے سطحِ آپ پہ اِک پتہ
ہلکی ہلکی لہریں نیلم پانی میں
دھیرے دھیرے ڈولے یاقوتی نیّا
شبنم کے رُخساروں پر سُورج کے ہونٹ
ٹھہرگیا ہے وصل کا اِک روشن لمحہ
چاند اُتر آیا ہے گہرے پانی میں
ذہن کے آئینے میں جیسے عکس ترا
کیسے ان لمحوں میں تیرے پاس آؤں
ساگر گہرا،رات اندھیری ،میں تنہا
ٹھہر کے دیکھے تو رُک جائے نبض ساعت کی
شبِ فراق کی قامت ہے کسقیامت کی
وہ رت جگے،وہ گئی رات تک سخن کاری
شبیں گزاری ہیں ہم نے بھی کُچھ ریاضت کی
وہ مجھ کو برف کے طوفاں میں کیسے چھوڑ گیا
ہَوائے سرد میں بھی جب مری حفاظت کی
سفر میں چاند کا ماتھا جہاں بھی دُھندلایا
تری نگاہ کی زیبائی نے قیادت کی!
ہَوا نے موسمِ باراں سے سازشیں کر لیں
مگر شجر کو خبر ہی نہیں شرارت کی
گئے موسم کے کسی لمحے میں
تُونے اِس طرح پُکارا تھا مُجھے
جیسے مَدھم کا بہت میٹھاسُر
رُوح کا کوئی سِرا چُھو جائے
جیسے شبنم کا اکیلا موتی
عارض برگِ حنا چُھو جائے
جیسے اِک موجِ ہَوا کی صورت
رات کی رانی سے کُچھ رات کہے
جیسے بچپن کی سہیلی میری
شوخ لہجے میں تری بات کہے!
میں نے شرما کر جُھکا لیں پلکیں
اِ ک عجب نشے کے احساس سے میری آنکھیں
خُود بخود بند ہُوئی جاتی تھیں
دیر تک خواب کے عالم میں رہی!
تیر ی آواز کہ اِک گونج بنی جس کے ساتھ
رُوح اَن دیکھے جزیروں میں سفرکرتی رہی
کبھی سمٹی،کبھی بکھری،کبھی مدہوش ہُوئی
چاند میں ، دشت میں ،شبنم میں ،سمندر میں رہی
نیلمیں ،ریشمیں دُنیا میں رہی!
آج لوگوں نے بتایا کہ اُنھوں نے دیکھا
اُسی لہجے اُسی انداز کے ساتھ
تیرے ہونٹوں پہ کسی اور کا نام!
سوچتی ہوں کہ ترے لہجے کی اس نرمی پر
جانے اُس لڑکی نے کیا سوچاہو!
خواب،مہتاب،گلاب اور شبنم
نیل ،آکاش،سحاب اور پُونم
چاندنی،رنگ،کرن نکہتِ گل کا موسم
گیت،خوشبو،لبِ جُو،تیرے بدن کا ریشم
یا ترے ساتھ ہی ،شیزان سے کافی پی کر
تجھ سے اٹھلا کے کہا ہو،کہ میری جان،چلو لے آئیں
روبی جیولزر کے ہاں سے کوئی تازہ نیلم
رات کی رانی کی خوشبو سے کوئی یہ کہہ دے
آج کی شب نہ مرے پاس آئے
آج تسکینِ مشامِ جاں کو
دل کے زخموں کی مہک کافی ہے
یہ مہک،آج سرِشام ہی جاگ اُٹھی ہے
اب یہ بھیگی ہُوئی بوجھل پلکیں
اور نمناک ،اُداس آنکھیں لیے
رت جگا ایسے منائے گی کہ خود بھی جاگے
اور پَل بھر کے لیے،میں بھی نہ سونے پاؤں
دیو مالائی فسانوں کی کسی منتظرِ موسمِ گل راجکماری کی خزاں بخت،دُکھی رُوح کی مانند
بھٹکنے کے لیے
کُو بہ کُو ابرِ پریشاں کی طرح جائے گی
دُور افتادہ سمندر کے کنارے بیٹھی
پہروں اُس سمت تکے گی جہاں سے اکثر
اُس کے گم گشتہ جزیروں کی ہَوا آتی ہے!
گئے موسم کی شناسا خوشبو
یوں رگ و پے میں اُترتی ہے
کہ جیسے کوئی چمکیلا،رُوپہلاسیال
جسم میں ایسے سرایت کر جائے
جیسے صحراؤں کی شریانوں میں پہلی بارش!
غیر محسوس سروشِ نکہت
ذہن کے ہاتھ میں وہ اِسم ہے
جس کی دستک
یاد کے بند دریچوں کوبڑی نرمی سے
ایسے کھولے گی کہ آنگن میرا
ہر دریچے کی الگ خوشبو سے
رنگ در رنگ چھلک جائے گا
یہ دلاویز خزانے میرے
میرے پیاروں کی عطا بھی ہیں
مرے دل کی کمائی بھی ہیں
ان کے ہوتے ہُوئے اوروں کی کیا ضرورت ہے
رات کی رانی کی خوشبو سے کوئی یہ کہدے
آج کی شب نہ میرے پاس آئے
’’جان !
مجھے افسوس ہے
تم سے ملنے،شاید اس ہفتے بھی نہ آسکوں گا
بڑی اہم مجبوری ہے!‘‘
جان!
تمھاری مجبوری کو
اب تو میں بھی سمجھنے لگی ہوں
شاید اس ہفتے بھی
تمھارے چیف کی بیوی تنہا ہو گی!
پرل کا نیچرل پنک،
ریولان ہینڈ لوشن،
الزبتھ آرڈرن کا بلش آن بھی،
میڈورا میں پھر نیل پالش کا کوئی نیا شیڈ آیا؟
مرے اس بنفشی دوپٹے سے ملتی ہُوئی
رائمل میں لپ اسٹک ملے گی؟
ہاں ،وہ ٹیولپ کا شیمپو بھی دیجئے گا،
یاد آیا
کچھ روز پہلے جو ٹیوزر لیا تھا،وہ بالکل ہی بیکار نکلا،
دُوسرا دیجئے گا!
ذرا بِل بنا دیجئے!
ارے! وہ جو کونے میں اک سینٹ رکھا ہُوا ہے
دکھائیں ذرا
اِسے ٹسٹ کر کے تو دیکھوں
(خدایا! خدایا:
یہ خوشبو تو اُس کی پسندیدہ خوشبو رہی ہے
سدا سے اس کے ملبوس سے پھوٹتی تھی!)
ذرا اس کی قیمت بتا دیں !
اِس قدر!!
اچھا ،یوں کیجئے
باقی چیزیں کبھی اور لے جاؤں گی
آج تو صرف اِ س سینٹ کو پیک کر دیجئے
بھولی چڑیا!
میرے کمرے میں ،کیا لینے آئی ہے؟
یہاں تو صرف کتابیں ہیں !
جو تجھ کو تیرے گھر کا نقشہ تو دے سکتی ہیں
لیکن
تِنکے لانے والے ساتھی
اِن کی پہنچ سے باہر ہیں !
(۲)
چڑیا پیاری،
میرے روشندان سے اپنے تنکے لے جا!
ایسا نہ ہو کہ
میرے گھر کی ویرانی کل
تیرے گھر کی آبادی کو کھا جائے!
تجھ پر میری مانگ کا سایہ پڑ جائے!
(۳)
گورّیا!
کیوں روتی ہے؟
آج تو تیرے گھر میں سُورج ہَوا کا قاصد بنا ہُوا ہے
کرنیں تیرے سب بچوں کی اُنگلی تھامے رقصاں تھیں
ننھے پہلی بار ہَوا سے گلے ملے تھے
اور ہَوا سے جو اِک بار گلے مل جاتا ہے
وہ گھر کب واپس آتا ہے!
(۴)
سجھے سجائے گھر کی تنہا چڑیا!
تیری تارہ سی آنکھوں کی ویرانی
پچھم جابسنے والے شہزادوں کی ماں کا دُکھ ہے
تجھ کو دیکھ کے اپنی ماں کو دیکھ رہی ہوں
سوچ رہی ہوں
ساری مائیں ایک مقدر کیوں لاتی ہیں ؟
گودیں پُھولوں والی!
آنگن پھر بھی خالی!
اس اکیلی چٹان نے
سمندر کے ہمراہ
تنہائی کا زہر اِتنا پیا ہے
کہ اس کا سنہرا بدن نیلا پڑنے لگاہے
ہرے لان سُرخ پُھولوں کی چھاؤں میں بیٹھی ہوئی
میں تجھے سوچتی ہوں
مری اُنگلیاں
سبز پتوں کی چُھوتی ہوئی
تیرے ہمراہ گزرے ہوئے موسموں کی مہک چُن رہی ہیں
وہ دلکش مہک
جو مرے ہونٹ پر آ کے ہلکی گلابی ہنسی بن گئی ہے!
دُور اپنے خیالوں میں گُم
شاخ در شاخ
اِک تیتری،خوشنما پَر سمیٹے ہُوئے،اُڑ رہی ہے
مُجھے ایسا محسوس ہونے لگاہے
جیسے مجھ کو بھی پَر مل گئے ہوں
میں رنگ میں دیکھتی تھی،خوشبو میں سوچتی تھی!
مجھے گماں تھا
کہ زندگی اُجلی خواہشوں کے چراغ لے کر
مرے دریچوں میں روشنی کی نوید بن کر اُتر رہی ہے
میں کُہر میں چاندنی پہن کر
بنفشی بادل کا ہاتھ تھامے
فضا میں پرواز کر رہی تھی
سماعتوں میں سحاب لہجوں کی بارشیں تھیں
بصارتوں میں گلاب چہروں کی روشنی تھی
ہوا کی ریشم رفاقتیں تھیں
صبا کی شبنم عنائتیں تھیں
حیات خوابوں کا سلسلہ تھیں !
کُھلیں جو آنکھیں توسارے منظر دھنک کے اس پار رہ گئے تھے
نہ رنگ میرے، نہ خُواب میرے
ہُوئے تو بس کچھ عذاب میرے
نہ چاند راتیں ،نہ پُھول باتیں
نہ نیل صبحیں ،نہ جھیل شامیں
نہ کوئی آہٹ،نہ کوئی دستک
حرف مفہوم کھو چکے تھے
علامتیں بانجھ ہو گئی تھیں
گلابی خوابوں کے پیرہن راکھ ہو چکے تھے
حقیقتوں کی برہنگی
اپنی ساری سفاکیوں کے ہمراہ
جسم و جاں پر اُتری جا رہی تھی
وہ مہرباں ،سایہ دار بادل
عذاب کی رُت میں چھوڑ کر مجھ کو جا چُکا تھا
زمین کی تیز دھوپ آنکھوں میں چُبھ رہی تھی
وہ لڑکی
جس کے چہرے پر سدااُداسی رہتی تھی
جس کے ہونٹ کبھی اخلاقاً بھی ہنستے تو
یوں لگتا تھا
اِک لمحہ بھی اور ہنسے تو
اُس کی آنکھیں رو دیں گی!
جو ،روزانہ،
اپنے وقت پہ کالج آتی
سب سے الگ اپنی دُنیا میں گُم رہتی
اپنے کھوئے ہُوئے لوگوں کی یاد میں کھوئی رہتی
وہ خاموش،اُداس سی لڑکی
میرا کہنا مان کے پکنک پر چل دی
میں نے دیکھا
میری سکھیوں کے ہمراہ
وہ پانی میں بیٹھی ہے
لہروں سے بھی کھیل رہی ہے
جانے کون سی بات ہُوئی ہے
سب کے ساتھ وہ ہنس دی ہے
اور اس لمحے
اُس کے ہونٹوں کے ہمراہ
اُس کی آنکھیں بھی ہنستی ہیں
چاندنی،
اُس دریچے کو چُھوکر
مرے نیم روشن جھروکے میں آئے ، نہ آئے
مگر
میری پلکوں کی تقدیر سے نیند چُنتی رہے
اور اُس آنکھ کے خواب بُنتی رہے
زباں غیر میں لِکھا ہے تُو نے خط مُجھ کو
بہت عجیب عبارت ، بڑی ادق تحریر
یہ سارے حرف مری حدِ فہم سے باہر
میں ایک لفظ بھی محسوس کر نہیں سکتی
میں ہفت خواں تو کبھی بھی نہ تھی۔مگر اس وقت
یہ صورت و رنگ، یہ آہنگ اجنبی ہی سہی
مجھے یہ لگتا ہے جیسے میں جانتی ہوں انھیں
(ازل سے میری سماعت ہے آشنا اِن سے!)
کہ تیری سوچ کی قربت نصیب ہے اِن کو
یہ وہ زباں ہے جسے تیرا لمس حاصل ہے
ترے قلم نے بڑے پیار سے لکھا ہے انھیں
رچی ہُوئی ہے ہر اک لفظ میں تری خوشبو
تری وفا کی مہک، تیرے پیار کی خوشبو
زبان کوئی بھی ہو خوشبو کی ۔وہ بھلی ہو گی
یوں لگتا ہے
جیسے میرے گرد و پیش کے لوگ
اک اور ہی بولی بولتے ہیں
وہ ویو لنتھ
جس پر میرا اور ان کا رابطہ قائم تھا
کسی اور کرّے میں چلی گئی ہے
یا میری لغت متروک ہوئی
مرے لفظ مجھے جس رستے پر لے جاتے ہیں
ان کی فرہنگ جدا ہے
میں لفظوں کی تقدیس کی خاطر چپ ہوں
اور میری ساری گفتگو
دیوار سے یا تنہائی سے اپنے سائے سے ممکن ہے
مجھے ڈر اُس پل سے لگتا ہے
جب خود میں سکڑتے سکڑتے
میں اپنےآپ سے باتیں کرنے والی
رابطہ رکھنے والی
فریکونسی بھی بھلا دونگی
اور اک دن
مے ڈے مے ڈے کرتی رہ جاؤں گی
اپنی پندار کی کرچیاں
چُن سکوں گی
شکستہ اُڑانوں کے ٹوٹے ہُوئے پر سیٹوں گی
تجھ کو بدن کی اجازت سے رُخصت کروں گی
کبھی اپنے بارے میں اِتنی خبرہی نہ رکھی تھی
ورنہ بچھڑے کی یہ رسم کب کی اُدا ہوچکی تھی
مرا حوصلہ
اپنے دل پر بہت قبل ہی منکشف ہو گیا ہوتا
لیکنِ یہاں
خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی
کُھلے پانیوں میں گِھری لڑکیاں
نرم لہروں کے چھینٹے اُڑاتی ہُوئی
بات بے بات ہنستیہُوئی
اپنے خوابوں کے شہزادوں کا تذکرہ کر رہی تھیں
جو خاموش تھیں
اُن کی آنکھوں میں بھی مُسکراہٹ کی تحریر تھی
اُن کے ہونٹوں کو بھی اَن کہے خواب کا ذائقہ چُومتا تھا!
(آنے والے نئے موسموں کے سبھی پیرہن نیلمیں ہو چکے تھے!)
دُور ساحل پہ بیٹھی ہُوئی ایک ننھی سی بچی
ہماری ہنسی اور موجوں کے آہنگ سے بے خبر
ریت سے ایک ننھا گھروندا بنانے میں مصروف تھی
اور میں سوچتی تھی
خدایا! یہ ہم لڑکیاں
کچی عُمروں سے ہی خواب کیوں دیکھنا چاہتی ہیں
(خواب کی حکمرانی میں کِتنا تسلسل ہے!)
عجیب طرز ملاقات اب کے بار رہی
تمھی تھے بدلے ہوئے یا مری نگاہیں تھیں !
تُمھاری نظروں سے لگتا تھا جیسے میری بجائے
تُمھارے گھر میں کوئی اور شخص آیا ہے
تُمھارے عہدے کی دینے تمھیں مُبارکباد
سو تم نے میرا سواگت اُسی طرح سے کیا
جو افسرانِ حکومت کے ایٹی کیٹ میں ہے!
تکلفاً مرے نزدیک آ کے بیٹھ گئے
پھر اہتمام سے موسم کا ذکر چھیڑ دیا
کُچھ اس کے بعد سیاست کی بات بھی نکلی
اَدب پہ بھی کوئی دوچار تبصرے فرمائے
مگر نہ تم نے ہمیشہ کی طرح یہ پُوچھا
کہ وقت کیسا گُزرتا ہے تیرا، جانِ حیات
پہاڑ دن کی اذیت میں کِتنی شدت ہے!
اُجاڑ رات کی تنہائی کیا قیامت ہے!
شبوں کی سُست روی کا تجھے بھی شکوہ ہے؟
غِم فراق کے قصے ،نشاطِ وصل کا ذکر
روایتاً ہی سہی، کوئی بات تو کرتے!
میں پذیرائی کے آداب سے واقف ہوں
مگر
اب کے برس ، میرے گھر
یا تو برسات آئے ،
یا مری تنہائی
گئے برس کی عید کا دن کیا اچھا تھا
چاند کو دیکھ کے اُس کا چہرہ دیکھا تھا!
فضا میں کیٹس کے لہجے کی نرماہٹ تھی
موسم اپنے رنگ میں فیض کا مصرعہ تھا
دُعا کے بے آواز، الوہی لمحوں میں
وہ لمحہ بھی کتنا دلکش تھا
ہاتھ اُٹھا کر جب آنکھوں ہی آنکھوں میں
اُس نے مُجھ کو اپنے رب سے مانگا تھا
پھر میرے چہرے کو ہاتھوں میں لے کر
کتنے پیار سے میرا ما تھا چُوما تھا
ہَوا! کچھ آج کی شب کا بھی احوال سُنا
کیا وہ اپنی چھت پر آج اکیلا تھا؟
یا کوئی میرے جیسی ساتھ تھی،اور اُس نے
چاند کو دیکھ کر اُس کا چہرہ دیکھا تھا!
ایک سے مُسافر ہیں
ایک سا مقدر ہے
میں زمین پر تنہا!
ور وہ آسمانوں میں
دُھوپ میں بارش دیکھ کر
حیرت کرنے والے !
شاید تو نے میری ہنسی کو
چُھو کر
کبھی نہیں دیکھا !
اب کے،دیوالی !
اُس کے گھر بھی
میرے نام کا دیا جلا
جو اپنے دروازوں پر ، میری دستک کو
ہَوا کا شور سمجھتا تھا
مِلن کی رُت کو بِرہ کی بھور سمجھتا تھا
سپنے تک میں چھُو کر مُجھ کو
خود کو چور سمجھتا تھا
چور نے مور کا جنم لیا ہے
سچّی ہار کے سندر بن میں ناچ رہا ہے
اس قدر دودھیا خوشنما ہنس کر
اپنی جانب لپکتے ہُوئے دیکھ کر مُسکرائی
مگر اس کی یہ مسکراہٹ ہنسی بننے سے قبل ہی چیخ میں ڈھل گئی
اُس کا انکار بے سُود
وحشت ، سراسیمگی ، اجنبی پھڑپھڑاہٹ میں گُم ہو گئی
آہ وزاری کے باوصف
مضبوط پَر اُس کا سارا بدن ڈھک چکے تھے!
اُجلی گردن میں وحشت زدہ چونچ اُتری چلی جا رہی تھی
اُس کے آنسو
سمندر میں شبنم کی مانند حل ہو گئے!
سِسکیاں
تُند موجوں کی آواز میں بے صدا ہو گئیں !
ہنس اپنے لُہو کی دہکتی ہُوئی وحشتیں
نیم بے ہوش خوشبو کے رس سے بجھاتا رہا
اورپھر اپنے پیاسے بدن کے مساموں پہ
بھیگی ہُوئی لذّتوں کی تھکن اوڑھ کر اُڑگیا!
جل پری
گہرے نیلے سمندر کی بیٹی
اپنی مفتوح و نا منتظر کوکھ میں
آسماں اور زمیں کے کہیں درمیاں رہنے والو ں کا
بے شجرہ و بے نسب ورثے کا بوجھ تھامے ہُوئے
آج تک رو رہی ہے!
شور مچاتی موجِ آب
ساحل سے ٹکرا کے جب واپس لوٹی تو
پاؤں کے نیچے جمی ہُوئی چمکیلی سنہری ریت
اچانک سرک گئی!
کچھ کچھ گہرے پانی میں
کھڑی ہُوئی لڑکی نے سوچا
یہ لمحہ کتنا جانا پہچانا لگتا ہے
جب ہوا
دھیمے لہجوں میں کُچھ گنگناتی ہُوئی
خواب آسا، سماعت کو چُھو جائے ، تو
کیا تمھیں کوئی گُزری ہُوئی بات یاد آئے گی؟
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا!
بجتے رہیں ہواؤں سے در، تم کو اس سے کیا!
تم موج موج مثل صبا گُھومتے رہو
کٹ جائیں میری سوچ کے پر ،تُم کو اس سے کیا
اوروں کا ہاتھ تھامو ، انھیں راستہ دکھاؤ
میں بُھول جاؤں اپنا ہی گھر ، تم کو اس سے کیا
ابرِ گریز پا کو برسنے سے کیا غرض
سیپی میں بن نہ پائے گُہر،تم کو اس سے کیا!
لے جائیں مجھ کو مالِ غنیمت کے ساتھ عدو
تم نے تو ڈال دی ہے سپر، تم کو اس سے کیا!
تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیے
تنہا کٹے کسی کا سفر ، تم کو اس سے کیا!
’’آپ کی شاعری صرف خوشبو ہے
دل میں اُترتی ہُوئی
رُوح پر شبنمی ہاتھ رکھتی ہُوئی
یہ مگر۔۔۔۔ذہن کو ہلکے سے چُھو کر گُزر جائے گی
آپ اِسے رنگ کا پیرہن دیجئے
کوئی آدرش اُونچا ،انوکھا عقیدہ،کوئی گنجلک فلسفہ
سخت ناقابلِ فہم الفاظ میں پیش کرنے کی کوشش کریں
آپ کی سوچ میں کچھ تو گہرائی ہو__!‘‘
آپ سچ کہہ رہے ہیں
مگر ۔۔دیکھیے نا۔۔۔ابھی میرا فن کچی عمروں میں ہے
(آپ اسے خواب ہی دیکھنے دیجئے
اتنی گھمبیر دانشوری میں نہ اُلجھائیے)
میں نہیں چاہتی۔۔کہ میرا فن
جواں ہونے سے قبل ہی بوڑھا ہو جائے
اور فلسفے کا عصا لے کے چلنے لگے
تُمھارا رویہ
مرے ساتھ ایسا رہا ہے
کہ جو
ایک کہنہ سیاسی مُدبر کا
کمسن صحافی کے ہمراہ ہوتا ہے ا۔
ہر حرف اپنے عواقب سے ہشیار
ہر نقط تولا ہوا
(مسئلہ فقرے بازی میں الجھا ہوا )
کوئی بات ایسی نہ ہوپائے ، جوبعد میں
اُس کے حق میں
خود اُس کی زباں سے چلایا ہُوا تیر بن جائے
(اور وہ پشیمان ہو)
سیہ راتوں کے آگے سُرخرو ہوں
چاند سے آنکھیں ملا کر بات کرتی ہوں
کہ میں نے عمر میں دیکھا ہے پہلی بار یہ منظر
مری نیندیں مرے خوابوں کے آگے سر اُٹھا کر چل رہی ہیں
دشتِ غُربت میں جس پیڑ نے
میرے تنہا مُسافر کی خاطر گھنی چھاؤں پھیلائی ہے
اُس کی شادابیوں کے لیے
میری سب اُنگلیاں
ہَوا میں دُعا لِکھ رہی ہیں !
میرا بدن لہو لہو
مرا وطن لہو لہو
مگر عظیم تر
یہ میری ارض پاک ہو گئی
اسی لہو سے
سرخرو
وطن کی خاک ہو گئی
مرا بدن لہو لہو
بجھا جو اک دیا یہاں
تو روشنی کے کارواں
رواں دواں رواں دواں
یہاں تلک کے ظلم کی
فصیل چاک ہو گئی
عظیم تر یہ ارض پاک ہو گئی
مرا بدن لہو لہو
غنیم کس گماں میں تھا
کہ اس نے وار کر دیا
اسے خبر نہ تھی ذرا
کہ جب بھی ہم بڑھے
تو پھر رکے نہیں
یہ سر اٹھے تو کٹ مرے
مگر جھکے نہیں
اسی ادا سے رزمگاہ تابناک ہو گئی
عظیم تر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ارض پاک ہو گئی
مرا بدن لہو لہو
مرا وطن لہو لہو
ہر ایک زخم فتح کا نشان ہے
وہی تو میری آبرو ہے آن ہے
جو زندگی وطن کی راہ میں ہلاک ہو گئی
عظیم تر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ارض پاک ہو گئی
میں نے اکثر تمہارے قصیدے لکھے
اور آج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں
پا بہ زنجیر یاروں سے نادم ہوں میں
اپنے گیتوں کی عظمت سے شرمندہ ہوں
سرحدوں نے کبھی جب پکارا تمہیں
آنسووں سے تمہیں الوداعیں کہیں
تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے
ہار کر بھی نہ جی سے اتارا تمہیں
جس جلال و رعونت سے وارد ہوئے
کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے
تیغ در دست و کف در دہاں آئے تھے
طوق در گردنوں پا بہ جولاں گئے
سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے
جن کا خوں منہ کو ملنے کو تم آئے تھے
مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے
یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے
انکی تقدیر تم کیا بدلتے مگر
انکی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے
جیسے برطانوی راج میں ڈوگرے
جیسے سفاک گورے تھے ویتنام میں
تم بھی ان سے ذرا مختلف تو نہیں
حق پرستوں پہ الزام انکے بھی تھے
وحشیوں سے چلن عام انکے بھی تھے
رائفلیں وردیاں نام انکے بھی تھے
آج سرحد سے پنجاب و مہران تک
تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
اتنی غارتگری کس کے ایما پر ہے
کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو
کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے
کس کے آگے ہو تم سرنگوں غازیو
آج شاعر پہ ہی قرض مٹی کا ہے
اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں۔
آج تم آئینہ ہو میرے سامنے
پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں
(نامکمل)
اتنے اچھے موسم میں
رُوٹھنا نہیں اچھا
ہار جیت کی باتیں
کل پہ ہم اُٹھا رکھیں
آج دوستی کر لیں !
ابر بہار نے
پھول کا چہرہ
اپنے بنفشی ہاتھ میں لیکر
ایسے چوما
پھول کے سارے دکھ
خوشبو بن کر بہہ نکلے ہیں
سُورج ڈوباشام ہو گئی
تن میں چنبیلی پُھولی،
من میں آگ لگانے والے
میں کب تجھ کو بُھولی
کب تک آنکھ چراؤ گے؟
پردیسی ، کب آؤ گے؟
سانجھ کی چھاؤں میں تیری چھایا
ڈھونڈتی جائے داسی
بھرے ماگھ میں کھوجے تجھ کو
تن درشن کی پیاسی
جیون بھر ترساؤگے
پردیسی کب آؤ گے؟
بھیروں ٹھاٹھ نے انگ بتایا
وادی سُر___گندھار
سموا دی کو نکھادرنگ دے
شدھ مدھم سنگھار
تم کب تلک لگاؤ گے؟
پردیسی ،کب آؤ گے؟
ہاتھ کا پُھول ، گلے کی مالا
مانگ کا سُرخ سیندور
سب کے رنگ ہیں پھیکے پرانے
ساجن جب تک دُور
روپ نہ میرا سجاؤ گے؟
پردیسی ، کب آؤ گے؟
ہر آہٹ پر کھڑکی کھولی
ہر دستک پر آنکھ
چاند نہ میرے آنگن اترا
سپنے ہو گئے راکھ
ساری عمر جلاؤ گے؟
پردیسی ، کب آؤ گے؟
شِکن چُپ ہے
بدن خاموش ہے
گالوں پہ ویسی تمتماہٹ بھی نہیں ،لیکن،
میں گھر سے کیسے نکلوں گی،
ہَوا ،چخچل سہیلی کی طرح باہر کھڑی ہے
دیکھتے ہی مُسکرائے گی!
مجھے چُھوکر تری ہر بات پالے گی
تجھے مجھ سے چُرالے گی
زمانے بھر سے کہہ دے گی،میں تجھ سے مِل کے آئی ہوں !
ہَوا کی شوخیاں یہ
اور میرا بچپنا ایسا
کہ اپنے آپ سے بھی میں
تری خوشبو چُھپاتی پھر رہی ہوں
پسِ شہرِ گُل
سُرخ پتّھر کی دیوار پر
آ کے موجِ صبا
عُمر بھر دستکیں دے تو کیا
صرف یہ ہے کہ ہاتھ اُس کے تھک جائیں گے
سکھیاں میری
کُھلے سمندر بیچ کھڑی ہنستی ہیں
اور میں سب سے دُور،الگ ساحل پر بیٹھی
آتی جاتی لہروں کو گنتی ہوں
یا پھر
گِیلی ریت پہ تیرا نام لکھے جاتی ہوں
چاند کیا چُھپ گیا ہے
گھنے بادلوں کے کنارے
روپہلے ہُوئے جا رہے ہیں
لوگ کہتے ہیں ان دنوں چپ ہے
میرا قاتل_______
کہ اُس کے خنجر کو
دھونے والی کنیز
چُھپ چُھپ کر
اب لُہو کو زباں سے چاٹتی ہے!
پانی کے اِک قطرے میں
جب سُورج اُترے
رنگوں کی تصویر بنے
دھنک کی ساتوں قوسیں
اپنی بانہیں یُوں پھیلائیں
قطرے کے ننھے سے بدن میں
رنگوں کی دُنیا کِھنچ آئے!
میرا بھی اِک سورج ہے
جو میرا تَن چُھوکر مُجھ میں
قوسِ قزح کے پُھول اُگائے
ذرا بھی اُس نے زاویہ بدلا
اور مَیں ہو گئی
پانی کا اِک سادہ قطرہ
بے منظر،بے رنگ
گہرے پانی کی چادر پہ لیٹی ہُوئی جل پری
اپنے آئینہ تن کی عریانیوں کے تکلم سے ناآشنا
موجۂ زلفِ آب رواں سے لپٹ کر
ہواؤں کی سرگوشیاں سُنتے رہنے میں مشغول تھی!
ناگہاں
نیلگوں آسمانوں میں اُڑتے ہوئے دیوتا نے
زمیں پر جو دیکھا
تو پرواز ہی بُھول بیٹھا
نظر جیسے شل ہو گئی
اُڑنا چاہا____مگر
خواہشِ بے اماں نے بدن میں قیامت مچا دی
مگر وصل کیسے ہو ممکن
کہ وہ دیوتا___آسمانوں کا بیٹا ہُوا!
جل پری کا تعلّق زمیں سے
سو خواہش کے عفریت نے
آسماں اور زمیں کے کہیں درمیاں سرزمینوں کی مخلوق کا رُوپ دھارا
بہت کھولتی خواہشوں کے تلاطم سے سرشار نیچے اُترنے لگا
بارش نے زمین پر پاؤں دھرا
خوشبو کھنکی ، گھنگھرو چھنکا
لہرائی ہَوا ، بہکی برکھا
کیا جانیے کیا مٹّی سے کہا
در آئی شریر میں اِک ندیا
کس اور چلی ، دیّا دیّا!
کس گھاٹ لگوں رے پرویّا
سارا جگ جل اور میں نیّا
وہ پتھر پہ کِھلتے ہُوئے خُوبصورت بنفشے کا ننھا سا ایک پُھول بھی
جس کی سانسوں میں جنگل کی وحشی ہوائیں سمائی ہُوئی تھیں
اُس کے بے ساختہ حُسن کو دیکھ کر
اک مُسافر بڑے پیار سے توڑ کر،اپنے گھر لے گیا
اور پھر
اپنے دیوان خانے میں رکھے ہُوئے کانچ کے خُوبصورت سے گُل دان میں
اُس کو ایسے سجایا
کہ ہر آنے والے کی پہلی نظر اُس پہ پڑنے لگی
دادوتحسین کی بارش میں وہ بھیگتا ہی گیا
کوئی اُس سے کہے
گولڈ لیف اور شنبیل کی نرم شہری مہک سے
بنفشے کے ننھے شگوفے کا دَم گُھٹ رہا ہے
وہ جنگل کی تازہ ہَوا کو ترسنے لگاہے
بسنت بہار کی نرم ہنسی
آنگن میں چھلکی
بھیگ گئی مری ساری
پھر___پروا کی شوخی!
کیسے اپنا آپ سنبھالوں
آنچل سے تن ڈھانپوںِ__تو
زُلفیں کُھل جائیں
زُلف سمیٹوں
تن چھلکے گا
دُعاتو جانے کون سی تھی
ذہن میں نہیں
بس اِتنا یاد ہے
کہ دو ہتھیلیاں ملی ہُوئی تھیں
جن میں ایک میری تھی
اور اِک تمھاری!
ننّھا شگوفہ
شاخ سے ہاتھ چُھڑاکر
ہوا کی بات میں آکر
بارش کے میلے میں گیا
اور اپنے آپ سے بچھڑگیا
صبح کے وقت ، اذاں سے پہلے
اب سے بائیس برس قبل اُدھر
عمر میں پہلی دفعہ روئی تھی میں
کر ب میں ڈوبی ہُوئی چیخ کو سُن کر مری ماں ہنس دی تھی
مری آواز نے اُس کو شاید
اُس کے ہونے کا یقیں بخشا تھا
دُکھ کے اک لمبے سفر اور اذیّت کی کئی راتیں بسر کرنے پر
اُس نے تخلیق کیا تھا مجھ کو
میری تخلیق کے بعد اُس نے نئی زندگی پائی تھی جسے
آنسوؤں نے مرے بپتسمہ دیا!
ہر نئے سال کے چوبیس نومبر کی سحر
دُکھ کا اِک رنگ نیا لے کے مرے گھر اُتری
اور میں ہر رنگ کے شایان سواگت کے لیے
نذر کرتی رہی
کیا کیا تحفے!
کبھی آنگن کی ہر ی بیلوں کی ٹھنڈی چھایا
کبھی دیوار پہ اُگتے ہُوئے پُھولوں کا بنفشی سایا
کبھی آنکھوں کا کوئی طفلکِ معصوم
کبھی خوابوں کا کوئی شہزادہ کہ تھاقاف کا رہنے والا
کبھی نیندوں کے مسلسل کئی موسم
تو کبھی
جاگتے رہنے کی بے انت رُتیں !
(رس بھیگی ہُوئی برسات کی کاجل راتیں
چاندنی پی کے مچلتی ہُوئی پاگل راتیں !)
وقت نے مجھ سے کئی دان لیے
اُس کی بانہیں ، مری مضبوط پناہیں لے لیں
مجھ تک آتی ہُوئی اس سوچ کی راہیں لے لیں
حد تو یہ ہے کہ وہ بے فیض نگاہیں لے لیں
رنگ تو رنگ تھے ، خوشبوئے حنا تک لے لی
سایہ ابر کا کیا ذکر ، ردا تک لے لی
کانپتے ہونٹوں سے موہوم دُعا تک لے لی
ہر نئے سال کی اِک تازہ صلیب
میرے بے رنگ دریچوں میں گڑی
قرضِ زیبائی طلب کرتی رہی
اور میں تقدیر کی مشاطہ مجبور کی مانند ادھر
اپنے خوابوں سے لہو لے لے کر
دستِ قاتل کی حنا بندی میں مصروف رہی___
اور یہاں تک___کہ صلیبیں مری قامت سے بڑی ہونے لگیں !
ہاں کبھی نرم ہَوا نے بھی دریچوں پہ مرے ، دستک دی
اورخوشبو نے مرے کان میں سرگوشی کی
رنگ نے کھیل رچانے کوکہا بھی،لیکن
میرے اندر کی یہ تنہا لڑکی
رنگ و خوشبو کی سکھی نہ بن سکی
ہر نئی سالگرہ کی شمعیں
میرے ہونٹوں کی بجائے
شام کی سَرد ہَوا نے گل کیں
اور میں جاتی ہُوئی رُت کے شجر کی مانند
تنِ تنہا وتہی دست کھڑی
اپنے ویران کواڑوں سے ٹکائے سرکو
خود کو تقسیم کے نا دیدہ عمل میں سے گُزرتے ہُوئے بس دیکھا کی !
آج اکیسویں صلیبوں کو لہو دے کے خیال آتا ہے
اپنے بائیسویں مہمان کی کِس طرح پذیرائی کروں
آج تو آنکھ میں آنسو بھی نہیں !
ماں کی خاموش نگاہیں
مرے اندر کے شجر میں کسی کونپل کی مہک ڈھونڈتی ہیں
اپنے ہونے سے مرے ہونے کی مربوط حقیقت کا سفر چاہتی ہیں
خالی سیپی سے گُہر مانگتی ہیں
میں تو موتی کے لیے گہرے سمندر میں اُترنے کو بھی راضی ہوںِ_مگر
ایسی برسات کہاں سے لاؤں
جو مری رُوح کو بپتسمہ دے
زمین ہے
یا کہ کچّے رنگوں کی ساری پہنے
گھنے درختوں کے نیچے کوئی شریر لڑکی
شریر تر پانیوں سے اپنا بدن چُرائے___چُرا نہ پائے
سبز مدّھم روشنی میں سُرخ آنچل کی دھنک
سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک
بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن
سلوٹیں ملبوس پر،آنچل بھی کُچھ ڈھلکا ہُوا
گرمی رخسار سے دہکی ہُوئی ٹھنڈی ہوا
نرم زُلفوں سے مُلائم اُنگلیوں کی چھیڑ چھاڑ
سُرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکس
ریشمیں باہوں میں چُوڑی کی کبھی مدّھم کھنک
شرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی بات
دو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی اِک صدا
کانپتے ہونٹوں پہ تھی اللہ سے صرف اِک دُعا
کاش یہ لمحے ٹھہر جائیں ،ذرا
اب تو شہر میں لَوٹ آئے ہو
اب تو سب لمحے اپنے ہیں
کیا اب بھی کم فرصت ہو؟
ہاںِ_لمحوں کی تیز روی نے مجھ کو بھی سمجھایا ہے
دن کے شور میں اپنی صدا گم رہتی ہے
لیکن شام کا لہجہ تو سرگوشی ہے
جِم خانے کی گہر ی رات کی انگوری بانہوں میں آنے سے پہلے
جب وہسکی آنکھوں میں ستارے بھر دے
اورسرشاری
بُھولے بھٹکے رستوں کے وہ سارے چراغ جلا دے
جو تم ہوا سے لڑ کر روشن رکھّا کرتے تھے
کیا کوئی کرن__ننھّی سی کرن___میری ہو گی؟
اس نے اپنی ساری قیمتی چیزیں
اٹھا کر سنبھال لیں
سوائے میرے
ٹاٹ کے پردوں کے پیچھے سے
ایک بارہ تیرہ سالہ چہرہ جھانکا
وہ چہرہ
بہار کے پہلے پھول کی طرح تازہ تھا
اور آنکھیں
پہلی محبت کی طرح شفاف!
لیکن اس کے ہاتھ میں
ترکاری کاٹتے رہنے کی لکیریں تھیں
اور اُن لکیروں میں
برتن مانجھنے والی راکھ جمی تھی
اُس کے ہاتھ
اُس کے چہرے سے بیس سال بڑے تھے!