سخن پر ہمیں اپنے رونا پڑے گا
یہ دفتر کسی دن ڈبونا پڑے گا
ہوئے تم نہ سیدھے جوانی میں حالیؔ
مگر اب مری جان ہونا پڑے گا
سخن پر ہمیں اپنے رونا پڑے گا
یہ دفتر کسی دن ڈبونا پڑے گا
ہوئے تم نہ سیدھے جوانی میں حالیؔ
مگر اب مری جان ہونا پڑے گا
قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرا
اک بندۂ نا فرماں ہے حمد سرا تیرا
گو سب سے مقدم ہے حق تیرا ادا کرنا
بندے سے مگر ہو گا حق کیونکہ ادا تیرا
محرم بھی ہے ایسا ہی جیسا کہ ہے نامحرم
کچھ کہہ نہ سکا جس پر یاں بھید کھلا تیرا
جچتا نہیں نظروں میں یاں خلعت سلطانی
کملی میں مگن اپنی رہتا ہے گدا تیرا
عظمت تری مانے بن کچھ بن نہیں آتی یاں
ہیں خیرہ و سرکش بھی دم بھرتے سدا تیرا
تو ہی نظر آتا ہے ہر شے پر محیط ان کو
جو رنج و مصیبت میں کرتے ہیں گلا تیرا
نشہ میں وہ احساں کے سرشار ہیں اور بیخود
جو شکر نہیں کرتے نعمت پہ ادا تیرا
آفاق میں پھیلے گی کب تک نہ مہک تیری
گھر گھر لئے پھرتی ہے پیغام صبا تیرا
ہر بول ترا دل سے ٹکرا کے گزرتا ہے
کچھ رنگ بیاں حالیؔ ہے سب سے جدا تیرا
اے شباب شاد مانی الوداع
آ لگا حالیؔ کنارے پر جہاز
الوداع اے زندگانی الوداع
گوری سووے سیچ پہ مکھ پر ڈارے کیس
چل خسرو گھر آپنے سانجھ بھئی چوندیس
کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا
آیا کتا، کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا
خسرو دریا پریم کا الٹی وا کی دھار
جو اترا سو ڈوب گیا، جو ڈوبا اس پار
گوشت کیوں نہ کھایا
؎ڈوم کیوں نہ گایا
۔۔۔
؎ڈوم یعنی گانا
جواب: گلا نہ تھا
ستار کیوں نہ بجا
عورت کیوں نہ نہائی
جواب: پردہ نہ تھا
دہی کیوں نہ جما
نوکر کیوں نہ رکھا
جواب: ضامن نہ تھا
جوتا کیوں نہ پہنا
سنبوسہ کیوں نہ کھایا
جواب: تلا نہ تھا
انار کیوں نہ چکھا؟
وزیر کیوں نہ رکھا؟
جواب: دانا/دانہ نہ تھا
وہ آوے تب شادی ہووے
اس بن دوجا اور نہ کوئے
میٹھے لاگیں وا کے بول
اے سکھی ساجن نا سکھی ڈھول
ونچی اٹاری پلنگ بچھایو
میں سوئی میرے سر پر آیو
کھل گئی انکھیاں بھئی انند
اے سکھی ساجن نہ سکھی چند ؎
؎چاند
سگری رین چھتیں پر راکھا
رنگ روب سب وا کا چاکھا
بھور بھئی جب دیا اتار
اے سکھی ساجن نا سکھی ہار
سگری رین موہے سنگ جاگا
بھور بھئی تو بچھڑن لاگا
اس کے بچھڑے پھاٹت ہِیا
اے سکھی ساجن نا سکھی دیا
سرپ سلونا سب گن نیکا
وا بن سب جگ لاگے پھیکا
وا کے سر پر ہووے گون
اے سکھی ساجن نا سکھی نون؎
۔۔۔
؎ نون یعنی نمک
بن ٹھن کے سنگھار کرے
دھر منہ ہر منہ پیار کرے
بیار سے موپے دیت ہے جان
اے سکھی ساجن نا سکھی پان
انگوں موری لپٹا رہے
رنگ روپ کا سب رس پئے
میں بھر جنم نہ وا کو چھوڑا
اے سکھی ساجن نا سکھی چوڑا
آپ ہلے اور موہے ہلاوے
وا کا ہلنا مورے من بھاوے
ہل ہل کے وہ ہوا نسنکھا
اے سکھی ساجن نا سکھی پنکھا
یک نار ترور سے اتری ماسوں جنم نہ ہایو
باپ کا نام جو وا سے پوچھو آدھو نام بتایو
آدھون نام بتایو خسرو کون دیس کی بولی
وا کا نام جو پوچھا میں نے اپنے نام نبولی
جواب: ؟
گانٹھ گٹھیلا رنگ رنگیلا ایک پرکھ ہم دیکھا
مرد استری اس کو رکھیں اس کا کیا کہوں لیکھا
جواب: ؟
نر ناری کی جوڑی ڈٹھی جب بولے تب لاگے مٹِھی
اک نہائے اک تاپن ہارا چل خسرو کر کوچ نقارہ
جواب: نقارہ