زمرہ جات کے محفوظات: اساتذہ

کبھی کبھی تو۔۔۔

کبھی کبھی تو خوداندوزی کی کیفیت میں، جب

میرا کاسۂ سر ٹھوڑی تک اس میرے سینے میں دھنس جاتا ہے

اور جب میری گردن ہل بھی نہیں سکتی، اور ایسے میں جب

اس دنیا کی بابت میرا جھوٹا سچاعلم مری آنکھوں سے اس دنیا کی جانب

جھانکتا ہے تو

مجھ میں اک فوقیّت کا احساس ابھرتا ہے اور میں کس نفرت سے ان سب

لوگوں کو ٹکٹکی باندھ کے دیکھتا ہوں جو

میرے جھوٹے سچے علم اور میری جھوٹی سچی فوقیّت کا ماخذ ہیں

اوروں کے بھیدوں اور ان بھیدوں کے عیبوں سے آگاہی کیسی فوقیت

ہے جس میں

میرا دل اک کبریائی سے بھر جاتا ہے

اور میں اپنے آپ سے غافل ہو جاتا ہوں

اس اک آگاہی میں کیسی کیسی غفلتیں اور بےعلمیاں ہیں، یہ کس کو خبر ہے

لیکن وہ جو اک کیفیّت ہے، جب کاسۂ سر اس طرح سے تھوڑی تک سینے

کے خول میں دھنس جاتا ہے

اور جب گردن ہل بھی نہیں سکتی اور آنکھیں ٹکٹکی باندھ کے

اپنے شکار کی جانب گھورتی ہیں، اک وہ کیفیت تو بندے کے خدا ہونے کی گھڑی ہوتی ہے

ساری گراوٹیں اس جھوٹی فوقیت سے اگتی ہیں

پھر بھی دنیا تو صرف ان لوگوں سے ڈرتی ہےنا جن کی گراوٹیں دوسروں

کے عیبوں کو جانتی ہیں

کون مجھے پہچانے گا؟ کہنے کو تو سب کے دلوں کے دروں خانے میں میرا

صدق گزر رکھتا ہے

مجید امجد

دکھیاری ماؤں نے ۔۔۔

دکھیاری ماؤں نے اپنے دبلے آنسوؤں میں پالا اپنے جن بیٹوں کو

ان بیٹوں کی عفتوں پر سورج بھی پلکیں بچھا دیتے ہیں

جب بھی لہو میں مقدس مٹی کی یہ طینت گھلتی ہے تو کیسی کیسی

سلسبیلیں ہیں جو ان نینوں میں اُمڈ آتی ہیں

لیکن کون ان سادہ سادہ دنیاؤں کی سنے گا

جو ان پلکوں کے سایوں میں حدِ افق تک بالیدہ ہیں

لیکن ان کی کون سنے گا

آگے تو ہر جا ایسی آنکھیں ہیں جن کے پردوں کے پیچھے

ایسے ایسے خدا اَب گھورتے ہیں، سب مجھ جیسے خدا اورسب تجھ جیسے خدا

جو کالی لمبی جریبوں سے اپنے جثوں اور اپنی کبریائی کو ناپ کر

آنے والی تقدیروں کا زائچہ کھینچنے کے عادی ہیں

ہم، جن کی آنکھوں پہ ہمارے ضمیروں کے خمیازوں کا پردہ ہے

کب ان سلسبیلوں کو دیکھیں گے، کب دیکھیں گے ان سلسبیلوں کو

جن پر آسمانوں کے دِل بھی پسیجے ہوئے ہیں

مجید امجد

اس دنیا نے اَب تک۔۔۔

اس دنیا نے اَب تک ہم کو ہمارے جس بھی دکھاوے سے پہچانا

ہم نے اس کی پرستش کی ہے

اور اب اس کی حفاظت کرتے کرتے اس کی حقیقت کو بھی کھو بیٹھے ہیں

سچ تو تھا ہی نہیں کچھ پہلے سے، اور جھوٹ کی جو اک صورت تھی وہ بھی

نہ رہی اب

اب تو دنیا سے چھپ چھپ کر ان دیسوں میں ہم پھرتے ہیں

جن میں کوئی ہمیں پہچاننے والا نہیں ہے

اب تو نہ اپنے سامنے آ سکتے ہیں۔۔۔ اپنا دکھاوا ہی ہم پر ہنستا ہے

اور نہ غیروں ہی کے آگے اپنے اصلی روپ کو لا سکتے ہیں

۔۔۔خیر سے بغیر اس اپنے دکھاوے کے ہم ہیں ہی کیا!

اب انجانے دیسوں میں پھرتے پھرتے اپنے دکھ یاد آئے ہیں

اب ان دکھوں میں جینا، اب اس نامحرم اور مونس دھوپ میں پھرنا

اپنے خلاف عمل کرنا ہے ۔۔۔ اپنے دکھاوے کو جھٹلانا ہے

اپنے لیکھ پہ اب پچھتانا ہی اچھا جس میں سب سچی پہچانیں ہیں

اک یہ روپ ہی جس کی ذلت کی عزتیں اک جیسی ہیں، ہماری نظروں میں بھی اور

غیروں کی نظروں میں بھی!

مجید امجد

اندر روحوں میں۔۔۔

اندر روحوں میں جو اک روشن روشن قوت ہے، وہ تو ہماری ہے اور بےتسخیر ہے

یوں ہی سمجھ لیں

پھر بھی لاکھ بچائیں اپنے دلوں کو، دھبا تو پڑ ہی جاتا ہے

یہ نورانی قوت تو مٹی کے رابطوں سے ہے

چھتیں رکوعوں کی، ڈھالیں سجدوں کی، اور دعاؤں کے سب قلعے

کوئی تمہارے حلق پہ جب مٹی کا انگوٹھا رکھ کر کچھ کہتا ہے

تو سب قلعے گر پڑتے ہیں

چڑیا اپنی پیاس بجھانے سمندر کے ساحل پر آتی ہے تو اپنی ننھی چونچ میں

کتنا پانی پی لیتی ہے!

نیکی بھی تو سمندر ہے جو سب روحوں میں روشن روشن اور مواج ہے

ہم کتنا پانی پی لیں گے اس سے؟

لاکھ بچائیں، دھبا تو پڑ ہی جاتا ہے دل پر

ان پہ سلام کہ جن کے قدموں کی مٹی سے دونوں جہانوں

کی تقدیسیں ہیں

مجید امجد

لمبی دھوپ کے۔۔۔

لمبی دھوپ کے ڈھلنے پر اب مدتوں کے بعد ایک یہ دن آیا ہے

دن جو ایسے دنوں کی یاد دلاتا ہے جو سدا ہمارے ساتھ ہیں

اس کہرے میں، اس جاڑے میں

امڈے ہوئے ان ریزہ ریزہ بادلوں میں وہ سب نزدیکیاں ہیں جو

میرے وجود کا طلسم رہی ہیں

ورنہ کتنے دور ہیں دکھ جو صدیوں کا حصہ ہیں

کتنی دور ہے موت جو ان سب بستیوں پر چھائی ہے، ان سب ہستیوں کا

حصہ ہے

اس لمحے تو دکھ اور موت کی ان نزدیکیوں میں بھی زیادہ قریب ہے

وہ غافل کر دینے والی بے حس زندگی

اور وہ زندہ رکھنے والی جابرغفلت

جو اس میرے وجود کا طلسم ہے

اس ٹھنڈک میں یہ اک دھیمی دھیمی سی مانوس تمازت

ساری بھولیں، سارے خیال، اس کی کونپلیں

میرے گھر میں آم کے پیڑ کے نیچے تو خندق ہے، اب کے کھاد اس کو کیسے ڈالیں گے؟

کب آئیں گے آنے والے دِن اور بور اور کونپلیں؟

کبھی نہ آنے والی رتوں کے دھیان کہ جن پر آج تو نظریں جم جاتی ہیں

اور میں سوچتا بھی نہیں، کیا کوئی کل بھی آئے گا؟

ساری ندامتیں بھول گیا ہوں

اور وہ سب نزدیکیاں جن کو میں نے اَب تک اتنی دوری سے دیکھا ہے

آج تو وہ سب میرے سامنے ہیں، اس جاڑے میں مدت کے بعد آنے

والے اس کہرے میں

مجید امجد

باہر اک دریا۔۔۔

باہر اک دریا پیلی آنکھوں کا لہراتا ہے

آنکھیں، جن میں پتوں کا پانی رس رس آتا ہے

ہم کو دیکھ کے

اب ایسے میں کس کس بوجھ کو سر سے جھٹکیں

دل میں نیکیاں دہل دہل جائیں اور اپنے گن ڈھارس نہ بنیں

ہر جانب سے ذہنوں میں امڈی ہوئی کالی حرصیں

اپنے برچھے تان کے دھیرے دھیرے گھات میں

ہم کو دیکھ کے

اب ایسے میں کون بتائے، کن جتنوں سے ہم نے اپنی دبلی پسلیوں کے نیچے ان

اپنے دِلوں میں سنبھال کے رکھی ہیں یہ اتنی اذیت دینے والی سب تسکینیں

جن کے باعث

ہم پتوں کے پانیوں سے بھری ہوئی ان صدہا آنکھوں کے سامنے ڈرتے بھی ہیں

اور اس ڈر میں جینے کا دکھ خوشی خوشی سے سہتے بھی ہیں

مجید امجد

میلی میلی نگاہوں۔۔۔

میلی میلی نگاہوں کی اس بھیڑ کے اندر اور بھی گھس کر دیکھو

قاتل جبڑوں کے جڑتے دندانوں میں شاید اک رخنہ امن کا بھی ہو

اپنے بچاؤ میں اس سے زیادہ کیسے بچے رہو گے

پہلے ہی سے اس دیوار تک ہٹے ہوئے ہو جس کے آگے ۔۔۔ آگ ہے …

ان شعلوں کے چلتے آروں کے اندر ہی کوئی رخنہ امن کا ڈھونڈو

یہ مامن تو۔۔۔ تمہارے دلوں کے کسی گوشے میں جدا نہیں ہے

یہ مامن تو۔۔۔ تمہاری دنیاؤں کے کسی گوشے میں جدا نہیں ہے

اندر بھی، باہر بھی، ایک ہی لشکر ہے جس کی دو ٹکڑیاں

جنگ میں ہیں آپس میں تمہارے دلوں کی سرحد پر، جس کے اندر کی جانب

اتنی دور تک

تم کو پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔۔۔

اس جمگھٹ میں اب اک بار تو ہلّا بول کے اپنے دلوں کے اندر کا اک وہ

گوشہ امن کا اپنے واسطے ڈھونڈو

جس پر زندگی کے لشکر کی دو باہم متحارب ٹکڑیوں کا مشترکہ قبضہ رہا ہے

اب تک۔۔۔

مجید امجد

جنگی قیدی کے نام

وہاں جہاں مشکلوں سے آزاد گلشنوں کی ہوائیں پہنچیں

وہیں کہیں دور ادھر تمہاری دکھوں بھری کال کوٹھڑی تک

ہمارے ٹوٹے ہوئے دلوں کی صدائیں پہنچیں

دعائیں پہنچیں

وفائیں پہنچیں

مجید امجد

8 جنوری 1972

ان سالوں میں

سیہ قتالوں میں

چلی ہیں جتنی تلواریں بنگالوں میں

ان کے زخم اتنے گہرے ہیں روحوں کے پاتالوں میں

صدیوں تک روئیں گی قسمتیں۔۔۔ جکڑی ہوئی جنجالوں میں

ظالم آنکھوں والے خداؤں کی ان چالوں میں

دکھوں، وبالوں میں

قحطوں، کالوں میں

کالی تہذیبوں کی رات آئی ہے اجالوں میں

اور اب ان زخموں کے اندمالوں میں، اپنے اپنے خیالوں میں

چلنے لگی ہیں کروڑوں جبڑوں تھوتھنیوں میں زبانیں

جیبھیں جٹی ہوئی بےمصرف قیلوں قالوں میں

کوئی تو میری بےزبانی کے معنی ڈھونڈے ان حالوں کے حوالوں میں۔۔۔

مجید امجد

چیونٹیوں کے ان قافلوں۔۔۔

چیونٹیوں کے ان قافلوں کے اندر میں وہ مناد ہوں

جس کی آنکھوں میں جب آتی آندھیوں اور طوفانوں کی اک خبر ابھرتی ہے

تو ان آندھیوں اور طوفانوں کی آواز کو قافلے سن نہیں سکتے

لیکن میرے دِل کا خوف، جو میرے علم کی عادت ہے

ان قافلوں کے حق میں اک ڈھال ہے

تقدیروں کی یہ خبریں اور ان کے سب دکھ میرے لیے ہیں

لیکن کس نے میری خبروں کو میری آواز کے پیکر میں دیکھا ہے

کس نے سنی ہے جاننے والی یہ آواز جو سب کے سروں پر ڈھال ہے

سدا جییں ان صحنوں میں یہ دھیرے دھیرے رینگنے والی ننھی ننھی جیتی لکیریں

جن کے ذرا ذرا سے الجھاوے ہی اُن کے کڑے مسائل ہیں

ان دکھوں سے بھی بڑھ کر

جو آسمانوں کے علموں نے مجھ کو سونپے ہیں

مجید امجد

سب کچھ ریت۔۔۔

سب کچھ ریت ۔۔۔ سرکتی ریت۔۔۔

ریت کہ جس کی ابھی ابھی قائم اور ابھی ابھی مسمار تہیں۔۔۔ تقدیروں کے

پلٹاوے ہیں

جل تھل۔۔۔ اتھل پتھل سب۔۔۔ جیسے ریت کی سطحوں پر کچھ مٹتی سلوٹیں

کیسی ہے یہ بھوری اور بھسمنت اور بھربھری ریت

جس کے ذرا ذرا سے ہر ذرّے میں پہاڑوں کا دل ہے

ابھی ابھی ان ذرّوں میں اک دھڑکن تڑپی تھی

ابھی ابھی اک سلطنت ڈوبی ہے

ابھی ابھی ریتوں کی سلوٹوں کا اک کنگرہ ٹوٹا ہے

سب کچھ ریت۔۔۔ سرکتی ریت۔۔۔

مجید امجد

ریڈیو پر اک قیدی …

ریڈیو پر اک قیدی مجھ سے کہتا ہے:

’’میں سلامت ہوں

سنتے ہو۔۔۔ میں زندہ ہوں!‘‘

بھائی ۔۔۔ تو یہ کس سے مخاطب ہے۔۔۔

ہم کب زندہ ہیں؟

اپنی اس چمکیلی زندگی کے لیے تیری مقدس زندگی کا یوں سودا کر کے

کب کے مر بھی چکے ہم

ہم اس قبرستان میں ہیں…

۔۔۔ہم اب اپنی قبروں سے باہر بھی نہیں جھانکتے

ہم کیا جانیں، کس طرح ان پر باہر تیری دکھی پکاروں کے یہ ماتمی دیے روشن ہیں

جن کے اجالوں میں اب دنیا ان لوحوں پہ ہمارے ناموں کو پہچان رہی ہے

مجید امجد

21 دسمبر 1971

رات آئی ہے، اَب تو تمہارے چمکتے چہروں سے بھی ڈر لگتا ہے

اے میرے آنگن میں کھلنے والے سفید گلاب کے پھولو

شام سے تم بھی میرے کمرے کے گلدان میں آ جاؤ ۔۔۔ ورنہ راتوں کو

آسمانوں پر اڑنے والے بارودی عفریت اس چاندنی میں جب

چمک تمہارے چہروں کی دیکھیں گے

تو میرے ہونے پر جل جل جائیں گے اور جھپٹ جھپٹ کر

موت ک تپتے دھمکتے گڑھوں سے بھر بھر دیں گے اس آنگن کو

اب تو تمہارا ہونا اک خدشہ ہے

اب تو تمہارا ہونا۔۔۔ سب کی موت ہے

شاخ سے ٹوٹ کے میرے خود آگاہ خیالوں کے گلدان میں اَب آ جاؤ

۔۔۔اور یوں مت سہمو۔۔۔ کل پھر یہ ٹہنیاں پھوٹیں گی۔۔۔ کل پھر سے پھوٹیں گی

سب ٹہنیاں

آتی صبحوں میں پھر ہم سب مل کے کھلیں گے اس پھلواڑی میں۔۔۔

مجید امجد

ہم تو سدا۔۔۔

’’ہم تو سدا تمہاری پلکوں کے نزدیک رہے ہیں‘‘۔۔۔ آنسو ہم سے کہتے ہیں۔۔۔

’’تمہیں تو تھے جن کی آنکھوں پہ تمہارے بھرے بھرے پھیپھڑوں کے

ٹھنڈے ٹھنڈے دخان تھے

اور تم ہم سے ہو گئے تھے کچھ اتنے بے نسبت

اتنے بے نسبت کہ تم اپنے لہو کو پانی نہیں سمجھتے تھے۔۔۔‘‘

آنسو سچ کہتے ہیں، ہم اب سمجھے ہیں

اب ہم روئے ہیں تو آنسو ہم پر ہنستے ہیں

بہہ گئے نا ہم سب کے لہو پانی کی طرح اس اپنے دیس میں

اس اپنے گھر میں…

آج ہم اپنے جیالے بیٹوں کو روتے ہیں تو

آنسو ہم پر ہنستے ہیں

اس مٹی کے وہ بیٹے ہم نے قیمت ہی نہ جانی جن کے چہروں کی

اور ہم بھرے بھرے

پھیپھڑوں کے

ٹھنڈے ٹھنڈے دخانوں کے پیچھے

یہی سمجھتے رہے کہ ہمارا لہو تو گاڑھا ہے

لیکن ہم بھی اور ہماری عظمت بھی، اب سب کچھ پانی پانی ہے

اب ہم روئے ہیں تو آنسو ہماری آنکھوں میں ہم پر ہنستے ہیں

مجید امجد

اے قوم

پھولوں میں سانس لے کہ برستے بموں میں جی

اب اپنی زندگی کے مقدس غموں میں جی

وہ مائیں جن کے لال لہو میں نہا گئے

صدیوں اَب ان کے آنسوؤں، اکھڑے دموں میں جی

جب تک نہ تیری فتح کی فجریں طلوع ہوں

بارود سے اٹی ہوئی ان شبنموں میں جی

ان آبناؤں سے ابھر، ان ساحلوں پہ لڑ

ان جنگلوں میں جاگ اور ان دمدموں میں جی

پیڑوں سے مورچے میں جو تجھ کو سنائی دیں

آزاد ہم صفیروں کے ان زمزموں میں جی

بندوقوں کو بیانِ غمِ دل کا اذن دے

اک آگ بن کے پوربوں اور پچھموں میں جی

مجید امجد

سائرن بھی، اذان بھی، ہم بھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 114
جنگ بھی، تیرا دھیان بھی، ہم بھی
سائرن بھی، اذان بھی، ہم بھی
سب تری ہی اماں میں شب بیدار
مورچے بھی، مکان بھی، ہم بھی
تیری منشاؤں کے محاذ پہ ہیں
چھاؤنی کے جوان بھی، ہم بھی
دیکھنے والے، یہ نظارہ بھی دیکھ
عزم بھی، امتحان بھی، ہم بھی
اک عجب اعتماد سینوں میں
فتح کا یہ نشان بھی، ہم بھی
تو بھی اور تیری نصرتوں کے ساتھ
شہر میں ٹکا خان بھی، ہم بھی
مجید امجد

مصطفیٰ زیدی

اے وہ جس نے اپنی صدا میں اپنی بقا کو ڈھونڈا

اے وہ جس کی صدا کو بہا لے گئیں کڑکتی کالی آندھیاں خونی ویرانوں کی

مجھ بے دست و پا کا دل دُکھتا ہے، جانے اک وہ کیسی گھڑی تھی

اس دن، ساتوں آسمانوں کی گرتی چھتوں کے نیچے

تو نے جب اپنے جی میں اپنے آخری سانس کی ٹھنڈی چاپ سنی تھی

جانے تو نے ذرا سے اس وقفے میں کیا کیا سوچا ہو گا

اب میں کیسے تجھے بتاؤں

اب بھی ہست کا صحرا اسی طرح خود موج ہے

اب بھی تیرے دل کا منور ذرّہ تیری مٹی سے باغی ہے

کون اب تجھ سے پوچھے

تو نے اپنےغموں کےغم میں خیالوں کے جواب ڈھونڈے تھے

کیا وہ سب اس مٹی سے باہر تھے

جس مٹی کو تیرے ذہن نے اپنے وجود سے جھٹک دیا تھا؟

کس کے پاس جواب ہے اس کا؟

کون بتائے، کس دنیا کے کن ظلموں نے لوٹ لیں۔۔۔

سدا چمکنے والی تیری وہ مشفق آنکھیں اور تیرا انس بھرا وہ چہرا

اور وہ ذہن کہ جس کے طوفانوں میں تو نے عمر بسر کی موت کے ساحل تک

صدیوں تک بھیگی پلکوں سے دنیا چنے گی

موت کے ساحل پر بکھرے ہوئے روشن ذرّے تیری صداؤں کے

مجید امجد

بندے جب تو۔۔۔

بندے، جب تو اپنی سوچ میں کوشاں ہوتا ہے اس زندگی کے لیے

جس کی خاطر تیری روح ڈکارتی ہے تیرے دل کی دھڑکن میں

ٹھنڈے میٹھے پانی

سانس میں روغنی باس۔۔۔ اور

اینٹوں کی عشرت میں نئی قمیصوں کی طنّاز کریزیں

اور اس اپنی سوچ میں کوشاں رہنے پر جب تیری آنکھیں

نئے نئے چمکیلے دکھوں سے بھر جاتی ہیں

تجھے خبر ہے تب تو کتنا قریب آ جاتا ہے اس دِن کے

جس کی روشنیوں پر تیرے دل کے اندھیروں کا سایہ ہے

اور۔۔۔ اس دن کے آگے کیا ہے؟ تجھ کو بتاؤں

تو دیکھے تو آگے تجھ کو زمانے کا وہ ان دیکھا دور دکھائی دے گا

میں نے اپنی عمر میں جس کو مرتے ہوئے دیکھا تھا

کیا تو انھی دنوں کی زنجیروں کو پھر سے پہن لینے پر آمادہ ہے؟

کیسے کیسے خیال مرے دِل میں آتے ہیں

لرزا دینے والے دھیان ان دنوں کے جب لاکھوں لوگوں نے اندھیری

رات کا کالا آٹا

اپنے آنسوؤں میں گوندھا تھا

کالے آٹے ۔۔۔ کالے پانی۔۔۔

نہیں نہیں ۔۔۔ میرا یہ بدن تو میرا بدن ہے جو اس مٹی ہی کے لیے تھا

لیکن۔۔۔ میرا دل۔۔۔ میرا دل تو تیرے سینے کے لیے ہے

مجید امجد

ان کے دلوں کے اندر۔۔۔

ان کے دلوں کے اندر تو نہیں، لیکن ان کے مکانوں کے اندر تو دیکھو

کتنی ویرانی۔۔۔ جس سے ان کے دل بے وقعت ہیں ۔۔۔

کتنی ویرانی۔۔۔ جس سے ان کے چمکیلے آنگنوں کی رونق ہے۔۔۔

چھوٹے بڑے لوگ ان شہروں کے اپنے چھوٹے بڑے مکانوں میں سب اک جیسے ہیں

دیواروں سے پھسل کر آنگنوں کی ڈھلوان تکونوں تک جو دھوپ اتری ہے

سب زردی ہے چہروں کی ان شہر والوں کے

اپنے آپ سے اکتائی ہوئی سب عاجز خوشیاں ہیں جو چہروں اور آنگنوں پر پھیلی ہیں

باہر ۔۔۔ کھوکھلے قہقہے، جن میں ٹین کی روحیں بجتی ہیں۔۔۔

اندر ۔۔۔ کچھ ۔۔۔ کاٹھ کی راحتیں، دیمک کے جبڑوں میں۔۔۔

مجید امجد

سب کچھ جھکی جھکی۔۔۔

سب کچھ جھکی جھکی ان جھونپڑیوں والے میرے دِل کے گاؤں میں ہے

جو میری ان پلکوں کی چھاؤں میں ہے

جب یہ پلکیں میرے دل کی جانب جھکتی ہیں

باہر لاکھوں زندگیوں کے قبیلے

بازو جھٹک جھٹک کر کوسنے والی نفرتیں

کالے جنگل، جن کی جڑیں سب میرے سینے میں ہیں

باہرمینہ برسا ہے

باہر چھتناروں کے دھلے دھلے پہناوے، گیلی گیلی دھرتی اور چمکیلی سڑکیں

اور اندر میرے کمرے میں دیواریں مجھ سے کہتی ہیں:

’’۔۔۔ آج ہمارے پاس بھی بیٹھو۔۔۔

ہم نے تو دیا تمہیں یہ دل، یہ گاؤں، کہ جو اس لمحے تمہاری ان پلکوں کی

چھاؤں میں ہے‘‘

مجید امجد

اب تو دن تھے

اب تو دن تھے

یہی تو دن تھے

دن جو اک شخص کے حق میں جدا جدا تقدیر ہیں

جانے میرے دنوں کا فیصلہ کیا ہو میرے حق میں

لیکن پھر بھی یہی تو وہ دن ہیں جن کی پتھریلی تھاہ میں مل جاتی ہے

غواصوں کو

دولت

دولت بھی ایسے حرفوں کی۔۔۔ جن کے سانچوں میں اسموں کے ابد ڈھلتے ہیں

اب تو دن تھے

پھر تو۔۔۔

پھر تو یہ ذلت تک بھی باقی نہ رہے گی جس میں میری آسائش مجھ کو زندہ رکھتی ہے

اب تو دن تھے، میرے دل میں بسنے والی بڑی پرانی بے دلی

تو اک بار تو میرے قلم کو اپنے بھید عطا کر دیتی

پھر تو ریت کی چادر ابھرے گی اور ڈھانپ دے گی ان زخموں کو جو

تیری مردہ مسکراہٹ نے مجھے بخشے ہیں

مجید امجد

آنکھیں ہیں جو۔۔۔

آنکھیں ہیں جو مجھ پہ گڑی ہیں

چہرے ہیں جو میری جانب جھکے ہوئے ہیں

آنکھیں، جن کو دیکھ کے میرے دل کے تختے دھڑکنے لگ جاتے ہیں

چہرے، جن کے آگے میری روح کے بادباں ڈول جاتے ہیں

آنکھیں گردابوں کی

چہرے طوفانوں کے

اور یہ موجیں

یہ دشمن آنکھوں والے عفریتوں اور ان کے چکراتے وجودوں کے پیچاک، ابھرتے،

بڑھتے، میری سمت امڈتے

سب کچھ ایک ذرا سی جنبش ان سرشار ہواؤں کی جو

ازل سے ابد تک بہتی ہیں اور جن کی لگامیں

ایسے ہاتھوں میں ہیں جن کی ہتھیلیوں پر یہ سارے سفینے ہیں روحوں کے

بجتے تختے۔۔۔ ڈولتے بادبان… اور ڈر اس کا جس کا سہارا ہے

مجید امجد

اپنی بابت۔۔۔

اپنی بابت تو ہم تم یہ جانتے ہیں کہ ہماری منزلت اور ہمارے منصب

مٹی کے رشتے ہیں

لیکن، میں کہتا ہوں: یہ جو سارے ادارے، یہ جو ساری تنظیمیں اور تملیکیں ہیں

یہ سب جگہیں کتنی تکریموں والی ہیں

جو بھی قوت کے ان سرچشموں پر قوت حاصل کر لے

اس کے بس میں ہے ان دنوں میں وہ تقدیریں بھر دے

جن میں لاکھوں انسانوں کے ضمیروں کی خوشیاں مضمر ہیں

لیکن، اَب ان جگہوں پر جن لوگوں کے پنجے ہیں

کیسے ان کے ارادوں کے قبضے ان کی سانسوں پر کسے ہوئے ہیں

اور کتنے آسودہ ہیں وہ اپنے عزمِ ستم پر ۔۔۔

بندے، جانے وہ دن کب آئے گا

جب یہ لوگ بھی جانیں گے کہ سبھی یہ ان کے منصب مٹی کے رشتے ہیں

وہ دن جس کے تقدس کے آگے ہم نے تو ہمیشہ اپنے آپ کو بے قوت پایا ہے

مجید امجد

جب اک بے حق۔۔۔

جب اک بے حق استحقاق کے بل پر ۔۔۔ راحت کی اک دنیا

جینے والی روحوں کے عفریتوں کے حصے میں آ جاتی ہے

تو اک مشکل ابھرتی ہے: عمروں میں ان خوشیوں کا دور آتا ہے

جن کے تقدس کو زندہ رہنے والی سب اچھی قدروں نے تسلیم کیا ہے

ایسے میں اب آخر کوئی کتنا بھی سچا ہو، کیوں وہ الجھے ان لوگوں سے

جن کی اک اک سانس محافظ ہے ان کی جھوٹی راحت کے اس قلعے کی

آخر دنیا تو یہی کہتی آئی ہے، یہ راحت اک وہ حق ہے جو سب دستوروں

کا ثمر ہے

اک وہ حق جس کی خاطر ہر فرد اپنے ہونے کی میٹھی سزا چکھتا ہے

سب کچھ بھول کے اپنی ہستی کی سرمستی میں جیتا ہے

لیکن اپنے حق کے جواز کی بابت کچھ سوچے تو اس کی سوچ میں سیسہ بھر جاتا ہے

اس کی آنکھوں اور چہرے پر اک ٹھنڈی ٹھنڈی پتھریلی چمک بکھر جاتی ہے

کون اس حق سے الجھ سکتا ہے، کون اسے جھٹلا سکتا ہے

میں نے دیکھی ہے جو کچھ اس حق سے ٹکرانے والی حجت کی سزا ہے

میں کہتا ہوں، پھر بھی دِل کو چیرنے والا اپنا یہ دکھ اچھا اس راحت سے

جس میں اس دنیا کو سہارا دینے والی غمگیں نیکیاں سب گہنا جاتی ہیں

مجید امجد

میں کس جگ مگ میں۔۔۔

میں کس جگ مگ میں تھا اب تک۔۔۔

کہاں تھا اب تک اک یہ خیال کہ جس کی روشنی میں آج اپنی بابت سوچا ہے تو

خود کو اک ظلمت کی منزل میں پایا ہے۔۔۔

جو بھی اچھائی ہے، مجھ تک آتے آتے میرا عیب ہے

رستے جہاں تک سب آ کر ملتے ہیں، منزل ظلمت کی ہے میں جس میں ہوں

میں۔۔۔ جو اپنی بے سر و سامانی میں تیرے ذکر کا اہل نہیں ہوں۔۔۔

اندیشوں سے بھرا ہوا یہ سر تو کھڑکھڑاتی ہوئی مٹی کا اک ٹھیکرا ہے جو

تیرے قدموں پر جھک جائے تو بھی

تیری جلالت کا رتبہ نہیں بڑھتا، جو پہلے ہی اوجِ مراتب پر ہے

وہ سب رستے تیرے علم میں ہیں جو

میرے دل کی ظلمت پر آ کرملتے ہیں

اور جو تیری صداقت کے سرچشموں سے پھوٹے تھے

صدہا سمتوں سے آنے والے ان رستوں کے پیچھے

روشنیوں کے ابد ہیں

جن کی اوٹ میں آگے ظلمت کی منزل ہے، میں جس میں ہوں

باقی سب دنیا اب بھی اس جگ مگ میں ہے، جس سے ابھی ابھی میں

باہر آیا ہوں

مجید امجد

کہنے کو تو۔۔۔

کہنے کو تو ہم سب جانے کیا کچھ ہیں ۔۔۔۔

جتنے ذریعے خیر کے ہیں، ہم ان کی جانب کہنے کو تو بڑھتے ہیں

کس کا کلیجہ ہے دنیا کی دیکھتی آنکھوں کے آگے

اپنے دل کی بدی کی سمت بڑھے

لیکن تم نے دیکھا، جب بھی چکناچور ضمیروں والے سماجوں میں

کوئی خیر کی منزل سامنے آتی ہے

تم نے دیکھا، کیسی کیسی اپاہج نیکیاں اپنے بجتے جبڑوں کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں

دیکھنے میں تو اتنے سیدھے صراطوں پر چلنے والی۔۔۔

اور جب ان کی آنکھوں کے رستے ان کے دلوں میں گزر کر دیکھو تو

اندر۔۔۔

اندر۔۔۔ گھات لگائے ان کے ضمیروں میں مضمر ہیں وہ سب تیز نگاہوں والے

کالے ارادے، جو موقع پا کر

خیر کی ہرمنزل پہ جھپٹتے ہیں

روحوں میں جم جانے والے سیسے کی خاطر۔۔۔

مجید امجد

ننھے کی نوبیں آنکھوں۔۔۔

ننھے کی نوبیں آنکھوں میں تارا

اپنے اندر ساری دنیا کے عکس اب بھی اسی طرح لے کر آتا ہے

جیسے کروڑوں برس پہلے کے بچے

بچے انسانوں کے، بچے جانوروں کے، سب لے کر آتے تھے

اپنی آنکھ کے تل میں

اب بھی کوئی چڑیا چشمہ نہیں لگاتی

اب بھی نوبیں آنکھوں والی کھلنڈری ننھی ننھی نئی نویلی نسلیں

دیکھتے دیکھتے دور ان بھرے چوراہوں پر سے

صدہا پہیوں کے جنباں رخنوں کے اندر، اپنے چلتے پیڈلوں، ڈولتے

ہینڈلوں کے ساتھ

کس تیزی سے گزر جاتی ہیں

میرا دل میری عینک کے منفی ہندسوں والے شیشوں کے پیچھے حیران ہے

میں جو بمشکل بہتے ہجوموں کے ساحل پر اپنے اوسانوں کو سنبھالے ہوئے ہوں

کون اس جانب دیکھے گا

جس جانب میں ہوں

جس جانب سب نے جانا ہے

مجید امجد

میرے سفر میں۔۔۔

میرے سفر میں اک اک دن کا سورج اک اک دیس تھا

ان دیسوں کے اک اک باسی کے دل سے گزرا ہوں

میں نے دیکھا ان کے دلوں کے آنگن سونے کے تھے

ان کی مگن آنکھوں میں ڈورے سونے کے تھے

اک اک صبح کو ان کی سواری کے لیے آتی تھی سورج کی رتھ، سونے کی

لیکن آج یہ جس پر میری نظر رکی ہے، کون ہے یہ مٹی کا پتلا ان سڑکوں پر

جس کو دیکھ کے میرے جی میں بھر گئے ہیں وہ آنسو

آنسو جن کے سبب سے سونے کے وہ سب زنگار جو میرے عقیدوں پر

تھے، اترگئے ہیں

اور اَب یہاں کھڑا ہے، میرے سامنے، ننگے پاؤں وہ مٹی کا پتلا کیچڑ میں

کرنوں کے کیچڑ میں

اک وہ جس سے اس کے دیس کے سارے سورج ہم نے چھین لیے ہیں

اور میری نظروں کے سامنے اپنے کرموں کے کیچڑ میں لتھڑی ہوئی نظر آتی ہیں

ساری ملتیں جو اب تک ان دنوں کے دیسوں میں آئی ہیں

میرے سینے کے اندر اک چھوٹا سا کوٹھا گر پڑتا ہے اور

اک چھوٹے سے خیال کی دنیا ان میری آنکھوں میں امڈ آتی ہے

اور میرا دل مجھ سے پوچھتا ہے

جانے ہم اپنی روحوں میں کب اس سورج کو

ابھرا ہوا دیکھیں گے

وہ سورج جو اب تک کبھی نہیں ڈوبا

مجید امجد

اور وہ بھی اک کیسی۔۔۔

اور وہ بھی اک کیسی محویت تھی جس میں سدا صدہا آنکھوں نے اٹھائے

اپنے نازک پردوں پر بوجھ اس موسیقی کے جو روحوں میں لہرا جاتی ہے

اور پھر اک وہ محویت بھی دین تھی کیسی کیسی آسودہ شاموں کی

ان گلیوں میں کیسے کیسے لوگ تھے، جو یوں اپنے دلوں کے گمانوں میں جیتے تھے

اک لمحے میں ابد کو دیکھنے کا احساس، عجب اک مستی تھی وہ

جس کے گمانوں میں جیتے تھے

ان کو اس کی خبر نہیں تھی، یہ گہری محویت

موجِ ابد کی رو سے کٹ کر گرا ہوا وہ ساکت لمحہ ہے جس کے ٹھہراؤ میں

رک جاتے ہیں

وہ سب ذکر کہ جن کو جاری ہی رہنا ہے

باہر دیکھو، اس دوار حقیقت کی جوکھم میں جو بھی پڑا اس کی آنکھوں میں تو بھر بھر گیا بوجھ

اس ذکر کا جو مٹی میں مل کے بھی مٹی نہیں ہوتا

سنبھلو۔۔۔ سوچو۔۔۔ تم کس محویت میں محو ہو لوگو

اپنے ذہن سے خود کو جھٹک کر، اپنے باہر دیکھو

مجید امجد

تو وہ پیاسی توجہ۔۔۔

تو وہ پیاسی توجہ سدا رہی تھی کبھی جو میری طرف ہی

کیا دن تھے، تیرے ہونے میں سپنے تھے میری خوشیوں کے

اور اب میرے دل کے متّصل ہیں وہ فاصلے، جن کا کنارا دور اُدھر تیرے دل کی حد تک ہے

اور یہ فاصلہ بھی تو ہے اس زندگی میں اک موت کا رابطہ

اب اس موت میں جینے سے کیا حاصل

اس لمحے تو ساری دنیا میرے دل کے

اک لا حاصل سے احساس کا حصہ ہے اور

یہ سب کچھ تو شاید۔۔۔

خود اپنی ہی طرف میری وہ توجہ ہے جو اب کے ہوئی ہے

اب جب سارے فاصلے زندگیوں کا فیصلہ بھی کر چکے ہیں

مجید امجد

پچھلے برس ۔۔۔

پچھلے برس جب یہ دن آئے تھے ۔۔۔ دن جو اس سال اَب بھی آئے ہیں ۔۔۔

جب یہ بادل، جب یہ کہرا، جب یہ سرد ہوائیں ۔۔۔ جب یہ سب کچھ تھا

جو اب کے برس ہے

تب تو میرے ساتھ اک اپنے آپ کے گم ہو جانے کی آگاہی بھی تھی

تب تو اس پگڈنڈی پر بادل بھی دھول تھے، جس میں میرے پاؤں کھبے ہوئے تھے

تب تو میں اور یہ بستی اور یہ پگڈنڈی ۔۔۔ بادل ہی بادل تھے

آج اس پگڈنڈی پر چلتے ہوئے وہ اک دن یاد آتا ہے

اس دن بادل میرا پہناوا تھے

میں جب میلی سی اک صبح کی تنہائی میں ادھر سے پچھلے برس گزرا تھا

آج بھی بادل ۔۔۔ گیلی گیلی تہوں میں ڈھیر دھوئیں کے ۔۔۔ ادھر ادھر ہر سو ہیں

ڈھیر دھوئیں کے، قوسوں سے قوسوں تک، پیڑوں پر، کھیتوں میں، کچی دیواروں پر

صرف اک میرا دل ان سے خالی ہے

کیسے کیسے ابد۔۔۔ جو بیت گئے ہیں

مجید امجد

دنیا تیرے اندر۔۔۔

دُنیا تیرے اندر سچائی کی وہ سب طاقت ہے جو کروڑوں جینے والے

جاننے والے ذرّوں سے مل کر بنتی ہے

جانے تیرے اندر کیسی کیسی رمزوں کی طاقت ہے

اتنی طاقت ہے تیرے پاس اور تو کتنی بےہمت ہے!

میں جو آزادی کی اِک انگڑائی بھر کر اتنے کالے چنگلوں سے نکلا ہوں

مجھ پر تیری آنکھوں کے انگارے کیوں ہنستے ہیں؟

میں جو اپنے ساتھ اتنے لمبے عرصے سے جنگ میں ہوں اور میں جو

اپنے آپ سے صلح پہ اب بھی کچھ آمادہ نہیں ہوں

تیرے لبوں پر میرے لیے اتنی زہریلی شفقت والے بول یہ کیوں ہیں؟

تیری اپنے ساتھ جو جنگ تھی تو نے ہار بھی دی اور مجھ کو اس حالت میں

دیکھ کے

اب جو طمانیت تیرے اندر سے چھلک کر تیری آنکھوں اور چہرے پر

بکھر گئی ہے

مجھ کو دیکھ کے، مجھ پر اپنی فوقیت کا یہ احساس کہ جو تیرے دل

میں امڈا ہے

کیا سب اسی لیے تھیں وہ رمزیں جن کی طاقت تیرے بس میں ہے؟

یہ میری نادانی ہے نا، اپنے آپ سے اب بھی جنگ میں ہوں اور اب

بھی اپنی گراوٹ سے لڑتا ہوں

دنیا تیری جامد عظمت مجھ کو دیکھ کے آج اس قہقہے میں کیوں پھڑپھڑاتی ہے؟

اس سے زیادہ بھلائی تیرے ساتھ میں کیا کر سکتا ہوں؟

مجید امجد

طغیان

میرے اپنے ظلم اور میرے اپنے کفر کے آگے، مجھ میں یہ جو عاجزیاں ہیں

ان سے ملوث ہے میری ہستی

میں نے چاہا تھا ان عاجزیوں کی جگہ پر اک سنگین طمانیّت کو اپنے سینے میں رکھ

لوں جس میں نئی نئی کڑواہٹ کی خوشیاں ہوں

میں نے کچھ یہ مہم سر کر بھی لی تھی

لیکن چلتے چلتے ذرا سا ایک خیال آیا ہے

پھر کالی سی اک برگشتگی میرے ذہن میں چکرائی ہے

اور میری پلکوں کی ڈوریاں ڈھلک گئی ہیں

میرے مردہ دنوں کی کھوپڑیوں سے ظلم اور کفر کی میٹھی نظروں نے پھر سے

میری جانب جھانکا ہے

بیتے دنوں والا یہ چہرہ۔۔۔

اس چہرے کو، اس چہرے کی آنکھوں کو، میں بھلا بھی چکا تھا

ان آنکھوں کو اپنے جذب اور اپنی کشش کا علم ہے، اور ان کے اس علم کے آگے

اب پھر میری خودآگاہی ماند ہے

اس طغیان کے آگے اب پھرعاجز ہوں

اب پھر، بصد خوشی اس اپنی عاجزی کے آگے بےبس ہوں

مجھ سے پوچھو۔۔۔ اپنی غرقابی کے اس احساس کی سطحیں بھی کتنی دلکش ہیں

مجید امجد

جب اطوار وطیرہ بن جاتے ہیں۔۔۔

جب اطوار وطیرہ بن جاتے ہیں

اور لوگوں کے عمل میں جب اک رسم کا رس گدلا جاتا ہے

تب روحوں کو چیرنے والے تقاضے

ہوتے ہوتے، اپنے اعادے کےاندر ہی خود اپنی تکذیب میں مٹ جاتے ہیں

اور اچھے عملوں کی تعمیلوں میں اچھے عمل دھندلا جاتے ہیں

اور وہ سارے ظلم جنم لیتے ہیں، جو ہم روز روا رکھتے ہیں

کون بتائے، کتنے ظلم ہیں

جو ان معمولی معمولی باتوں کے معمول میں یوں ہم سے سرزد ہوتے ہیں

جیسے پتلیاں آنکھوں میں بےبس ہو ہو کر اپنے آپ پہ جم جائیں، جب

تھکے تھکے دل کے پیچھے اپنی کچھ اوچھی سوچیں، چلتے چلتے

آستینیں الٹا دیں

جیسے دل کو سیدھی راہ پہ لانے کا عندیہ

بےدھیانی میں، داڑھ تلے پس جائے

جیسے جی کو دُکھانے والی چیزیں سامنے آ آ کر

بےحس نظروں کا روزینہ بن جائیں

مجید امجد

کندن

اپنے اندر جو کندن ہے اس کا لشکارا تو سدا ہماری آنکھوں میں جیتا ہے

سدا ہمارے ذہن میں اک چمکیلی راحت کے لالچ کو اکساتا ہے

لوگ، جب اپنے مطلبوں کی خاطر یوں عجز کی باتیں کر کے ہم کو عاجز کر دیتے ہیں

تو ایسے میں ہمارے اندر جو کندن ہے، ہماری آنکھوں میں آ کر

ایک لجاجت بھری ہنسی ہنستا ہے

اسی ہنسی کے پیچھے تحفظ کا اک ان دیکھا پنجہ بھی جھپٹتا ہے اور

نظر نہ آنے والا ایک تصرف کا جبڑا بھی غراتا ہے

یہ سنگین و ملائم رمز مروّت کی، سارے مفہوم ادا کر دیتی ہے ۔۔۔ اور

اسی کے پردے میں، گہرے بھیدوں کے اندر، زندگیوں کی حفاظت کرنے والی

خودغرضی جیتی ہے

اس سچّے لشکارے والے کھوٹے کندن کی ضو

سدا ہماری آنکھوں میں جیتی ہے

اور اس پر ہم کتنے خوش ہیں

مجید امجد

ان سب لاکھوں کُروں۔۔۔

ان سب لاکھوں کُروں، زمینوں کے اوپر لمبی سی قوس میں، یہ بلوریں جھرنا

جس کا ایک کنارا، دور، ان چھتناروں کے پیچھے، روشنیوں کی

ہمیشگیوں میں ڈوب رہا ہے

جس کا دھارا میرے سر پر چھت ہے

اور میں اس پھیلاؤ کے نیچے

کبھی نہ گرنے والی، گرتی گرتی چھت کے نیچے

ریزہ ریزہ کرنوں کے انبار کے نیچے

اپنے آپ میں سوچوں

ایسی شامیں تو جگ جگ ہیں

آگے تو جانے کیا کچھ ہے

لیکن ان سب ہوتے امروں کے ریلے میں

کہیں کسی امکان۔۔۔ ذرا سے اک امکان۔۔۔ کی اوٹ ایسی بھی تو ہو

جس میں سمٹ سکے یہ میلی میلی سی چھت

اور یہ اترے پلستر والی بوسیدہ دیواریں

جن کی کھڑکیاں میرے دل کی طرف کھلتی ہیں

مجید امجد

جانے اصلی صورت۔۔۔

جانے اصلی صورت کیا ہو، ذہن کی اس اک روکی

جس کے ساتھ بہا کی میری سوچ اور میری عمر اور میری دنیا

بہتے بہتے یوں تو جب بھی دیکھا، میرا دل اک وہ قوت تھی

جس کے آگے پہاڑ بھی تنکا تھے، یہ سب کچھ تو تھا

لیکن سدا یہی میں سمجھا

اک یہ دراڑ جو میرے پیہِ دماغ میں ہے، کون اس کو پھلانگ سکے گا

اک یہ دراڑ کہ جس کے ادھر ٹھٹک کر رہ جاتے ہیں سارے خیال اور سارے ارادے

جس کے ادھر میری ذلت ہے

جس کے ادھر میں اک بےبس قوت ہوں

اک یہ دراڑ کہ جس کے ورے وہ مقدس آگ ہے جس کی لو میں کلیوں کی برکھا ہے

اک یہ دراڑ جو میرے پیہِ دماغ میں ہے، کب اس کو پاٹ سکوں گا

اپنی حدوں کی حد سے آگے کب یہ قدم اٹھے گا

آگے، جہاں وہ سرشاری ہے جس کی کشید بھی اس میرے ہی ذہن میں ہوتی ہے

مجید امجد

جاگا ہوں تو۔۔۔

جاگا ہوں تو جاگتی آنکھیں کہنے لگی ہیں: ’’یہ سب سپنے اپنے ہیں‘‘

جیسے میں ہی تو ہوں اپنے ہر سپنے میں

میں ہی تو ہوں اپنی جاگرتی میں

نیندوں کے اندر بھی، نیندوں کے باہر بھی، جو جو سمے گزرتے ہیں وہ میرے

ذہن میں سب ڈھلتے ہیں

دنیا کا ہر اک دن میرے ذہن میں ڈھل کر اک اور دن ہے

جیسا آج کا دن تھا

رات کو نیندوں میں کچھ اچھے اچھے لوگ ملے تھے، انھی چھتوں کے نیچے

جن کی دیواریں اب کب کی گر بھی چکی ہیں

دن کو میرے جاگنے میں کچھ اور ہی میلی میلی روحیں میرے ساتھ رہی ہیں

روحیں جن کی اونچی چھتوں کے نیچے میرے وجود کی دیواریں ہیں

کیسے کیسے نگر ہیں جو تیرے روز و شب کے پھیرے میں پڑتے ہیں

کیسی کیسی اقلیمیں ہیں میرے دل کے کوٹھے کے اندر، جو ڈھے بھی چکا ہے

آج تو جب سے جاگا ہوں، اپنی بابت اتنا کچھ سمجھ سکا ہوں

کالی گلیوں کی دھوپ اپنے چہرے پر مل کر یہ دنیا والوں سے ملنے والا

مر بھی چکا اب، اپنی نیندوں میں جینے کی خاطر

مجید امجد

کب کے مٹی۔۔۔

کب کے مٹی کی نیندوں میں سو بھی چکے وہ

میری نیندوں میں اب جاگنے والے

ابھی ابھی تو میری دنیا سوئی ہوئی تھی

ان کی جاگتی آنکھوں کے پہرے میں

ابھی ابھی وہ یہیں کہیں تھے، میرے خوابوں کی عمروں میں

ابھی ابھی اُن کے مٹیالے ابد کی ایک ذرا سی ڈالی گھلی تھی

ان میری آنکھوں میں

اور دکھائی دیے تھے، میری خودبیں بینائی میں

وہ سب ٹھنڈے ٹھنڈے سکھ جو

ان کے دلوں کا انس اور پیار تھے، میرے حق میں

ابھی ابھی تو اس میری بےفہمی کی فہمید میں تھا یہ سب کچھ

اور اب میرے جاگنے میں سب کھو گئے وہ میری نیندوں میں جاگنے والے

مجید امجد

دکھ کی جھپٹ میں ۔۔۔

دُکھ کی جھپٹ میں آئے ہوئے دل

اب کہتے ہو

اس دن دکھ کی جھپٹ میں آئے کچھ لوگوں کی فریادوں کو

قرب اس موجودگی کا حاصل تھا

جس کے ہونے کو اس دن تم نے ہی دیکھا اور نہ ان لوگوں نے

اے دل، اب ان لوگوں کی منزل میں آ کر تم سمجھے ہو

ورنہ تم کہتے تھے، ان کی کون سنے گا

اور خود ان کو بھی یہ خبرنہیں تھی، اس دن کس کے قرب میں تھے وہ

اب کہتے ہو ۔۔۔ اب، جب

تم یہ دیکھتے ہو کہ تمہاری ان فریادوں سے باہر ہے وہ موجودگی

اب تو ان کی تلاش کرو جو اک دن اس کے قرب میں تھے اور

جن کو اس کے قرب کا علم تھا

مجید امجد

حرص

اوروں کی کیا کہیے، خود میرا دل بھی انگاروں کا مطبخ ہے

سدا مری آنکھوں میں اک وہ کشش دہکتی ہے جو

سب کو اپنی جانب کھینچ کے میرے وار کی زد میں لے آتی ہے

سب کچھ میری طلب کی تشنگیوں کے دہانے پر ہے

انگاروں کے اس مطبخ میں گرنے کو ہے

گاڑھا، لجز لہو، اک وہ کیلوس جو انگاروں کا استحالہ ہے

اس میرے دل کی کالی قوت ہے، میں جس کے بس میں ہوں

یہ قوت مجھ سے کہتی ہے

دیکھ، مرے انگارے میری تڑپ کا انگ ہیں، اب کچھ تو ان کی خاطر بھی

اور انگارے اگلتی سانسوں کے ساتھ اب میں

اس دنیا کے اندر اپنے شکار کی تلاش میں

اک اک روح کی گھات میں

اک اک روح کے سامنے سوالی بن کے کھڑا ہوں

میرے دل میں انگاروں کے دندانے پیہم جڑتے اور کھلتے ہیں

باہر کسی کرم کی بناوٹ میں ہونٹ ایک انوکھا ٹھہرا ٹھہرا ٹیڑھا زاویہ سا ہیں

کون مجھے اب پہچانے گا

کس طرح ہنس ہنس کر مجھ سے

ملتی ہے دنیا، بدبخت!

مجید امجد

اچھے آدمی۔۔۔

اتنی اچھی صفتیں بھی تو نے اپنا لیں، اچھے آدمی

اور ان صفتوں کی سب تقدیسیں بھی سچی

اور ایمان کی اک وہ زرہ بھی اچھی

جس کو پہن کر تیرا دل اتنا مضبوط اور اتنا طاقتور ہے

اس دنیا اور اس دنیا کی سیاہ ہوائیں سب اس سے ٹکرا کے پلٹ

جاتی ہیں

اس ٹکراؤ میں تیرا سینہ خم نہیں کھاتا

اور اس فتح پر شرمائی ہوئی اک عظمت تیری آنکھوں میں بھر جاتی ہے

اور سانسوں کی کھچی لگاموں کے اندر اک رکا رکا موّاج سمندر

تیرے دل میں امڈ آتا ہے

اس سے زیادہ اور تجھے کیا چاہیے، بندے

چاہے تو ہر اس سچائی کو اپنی نظروں سے گرا دے

جو تیرے پندارمیں کم رفعت ہے

اس سے زیادہ تو اَب حجم نہیں بڑھ سکتا، اس شفاف چٹان کا، جو

اس تیرے سینے میں ہے

اپنی جگہ تو ایک الوہی سی یہ شکم سیری اچھی ہے۔۔۔ لیکن، اچھے آدمی

آخر کوئی خلا تو روح کی خالی بھی رکھ، ہم جیسوں کی افتادوں کے حق میں

مجید امجد

گداگر

چلتے چلتے رک کر، جھک کر، ادھر ادھر بے بس بے بس نظروں سے

دیکھنے والے

کبڑی پیٹھ اور پتھرائی ہوئی آنکھوں والے

بوڑھے بھک منگے، اس اپنی حیرانی کے فریضے میں تو واقعی تو کتنا

حیران نظر آتا ہے

جانے کس کے ارادے کی رمزیں اس تیری بے بسی کی قوت ہیں

پتھریلی روحوں کے صنم کدے میں جانے کون یہ کاسہ بدست کھڑا ہے

تجھ کو دیکھ کے میرا جی اس سے ڈرتا ہے

تیرے ڈرے ہوئے پیکر میں جس کی بےخوفی جیتی ہے

کسی دھیرج سے دھڑکتا ہو گا اس کا قلب کہ تو جس کا قالب ہے

اتنے سکون میں اس کے جتنے قصد ہیں، میں ان سے

ڈرتا ہوں

تیرے وجود کو یہ بےکل پن دے کر کس بےدردی سے وہ

دِلوں میں سچی ہمدردی کے درد جگاتا ہے ۔۔۔ اور

ہم کو ترساں دیکھ کے شاید خوش ہوتا ہے!

ابھی ابھی تو، یہیں کہیں تو میری غفلت میں تھا

اب کہتا ہوں، مجھ کو میری آگاہی میں کب یہ بھیک ملے گی

مجید امجد

دروازے کے پھول

صبح کی دھوپ ان پھولوں کا دفتر تھی، جس میں

روز ان کی اک مسکراہٹ کی حاضری لگتی

شام کے سائے ان کی نیندوں کا آنگن تھے

صبح کو ہم اپنے اپنے کاموں پر جاتے تو اس سبز سڑک کے موڑ پہ

تازہ دم پھولوں کے رنگ برنگے تختے ہم سے کہتے:

’’کرنوں کا یہ دھن سب کا ہے، سب کا، اس میں

جیو، جیو، سب مل کر! سنگت سے ہے رنگت‘‘

پھر جب دن کی روشنیاں تھکتیں

تو اس موڑ پہ نیندیں اوڑھ کے سہمے ہوئے وہ پھول یہ ہم سے کہتے:

’’سب کا بیری ہے یہ اندھیرا

جلد اپنے اپنے اینٹوں سے چنے ہوئے سپنوں میں پہنچو

اچھا، کل کو ملیں گے، کل کو کھیلیں گے!‘‘

لیکن اب وہ تختے اجڑ گئے اور اب اس کوٹھی کے دروازے پر چکنی بجری ہے

اور تھرکتے چمکیلے پہیے ہیں

صاحب، تم نے تو اتنا بھی نہ دیکھا

یہ سب پھول تو خوشیاں تھیں، محنت کش خوشیاں

اور یہ لاکھوں کا حصہ تھیں

تم نے تو اتنا بھی نہ سوچا

اے رے ہم لوگوں کی راحتِ حق کی خاطر لڑنے والے وکیلِ جلیل!

مجید امجد

نئے لوگو!

کچھ ایسی ہی آگیں میرے آگے بھی تھیں

میرے گرد بھی آپس میں جکڑی ہوئی جلتی لپٹوں کے کچھ ایسے ہی جنگلے تھے

جن سے باہر دور ادھر وہ پھول نظر آتے تھے جن پر میرے چہرے کی زردی تھی

میں بھی کہتا تھا ۔۔۔ اور میں اب بھی کہتا ہوں۔۔۔

اک دن شعلوں کی یہ باڑ بجھے گی

اک دن اس پھلواڑی تک ہم بھی پہنچیں گے جس کی بہاریں ہماری روحوں

کے اندر ڈھلتی ہیں

اور میں تو اب بھی آپس میں الجھی ہوئی لپٹوں کے اس جنگلے میں ہوں

جس میں تم ہو

فرق اتنا ہے، تم نے ابھی یہ آگیں ہی دیکھی ہیں

تم نے ابھی جلتی جالیوں سے باہر نہیں جھانکا

ابھی تو ان شعلوں کی نوکیں تمہارے سینے میں پیوست ہوئی ہیں

اور تمہارے ذہن میں تازہ لہو نے غصہ بھری اک چٹکی لی ہے

لیکن میں کہتا ہوں، اک یہ ترنگ ہی توسب کچھ ہے

جو باقی رہتی ہے۔۔۔ اور جو تمہارے پاس ہے!

ورنہ تو میں اور تم اور سب آدمی باری باری انھی چتاؤں میں جل جل جائیں گے

جن کی لپٹیں ہمارے گرد اک جنگلا ہیں ۔۔۔

مجید امجد

اپنے بس میں۔۔۔

اپنے بس میں تو بس اتنا کچھ تھا۔۔۔ اور وہ بھی، سب تیری خاطر

اس دل نے اپنائی، عمر بسر کرنے کی اک یہ نہج بھی، تیری خاطر

اپنی انا کی بھینٹ

تری خاطر تھی

نطق پہ مہریں تھیں سب تیری خاطر

تیرہ ضمیروں سے گزرا ہوں، گلیوں کی دیوار سے لگ کر، تیری خاطر

نخوت کے بازار میں میرے جسم پہ ٹھنڈی ہوا کی ردا بھی، تیری خاطر

شام کو جب ان دو شہروں کو ملانے والی لمبی، سیدھی، دہری سڑک پر

اتنے دیوں کی دوگانہ صفیں اک ساتھ جلی ہیں

اُن کی نیلی نیلی پیلی پیلی لووں کو اپنے جی میں اتار کے

آنکھیں میچ کے تجھ کو یاد کیا ہے، تیری خاطر

اے وہ، میرا سر جس کے نادیدہ پنجے میں ہے

جس کی انگلیاں میری کنپٹیوں میں گڑی ہوئی ہیں، جانے میری ہی کس

کیفیت میں، مجھے پٹخ دینے کو

اب میں کیسے پلٹ کر تیری جانب دیکھوں، اَب میں کیسے تجھے بتاؤں

اب بھی گرم ہے راکھ… مرے قدموں کے نیچے۔۔۔ میرے

دل کے بجھے ہوئے سورج کی!

مجید امجد

موٹر ڈیلرز

ان کی کنپٹیوں کے نیچے

کالی لمبی قلمیں

ان کے رخساروں کے بھرے بھرے بھرپور غدودوں تک تھیں

تھوڑے تھوڑے وقفوں سے وہ زرد گلاسوں کو ہونٹوں سے الگ کرتے۔۔۔

اور پھر دھیمی دھیمی باتیں کرتے

اپنی نئی نئی داشتاؤں کی

جن کے نام اور جن کے نرخ اس دن ہی اخباروں میں چھپے تھے

مجید امجد

عذاب

اپنے ثواب میں نیکی اپنے عذاب سے غافل رہ جائے تو

چھن جاتی ہیں جینے کی سب خوشیاں

ٹوٹ کے رہ جاتا ہے بھروسا اپنا اس نیکی پر

گھل جاتی ہے اپنے آپ سے نفرت میں اپنی ہر اچھائی

اپنے قلب کو اب کوئی چاہے جس قالب میں بھی ڈھالے

اب سب پچھتاوے ٹیسیں ہیں

اب دنیا کی آخری حد تک پھیلے ہوئے ان بادلوں کے نیچے یوں

پلکیں جھکا کر اپنے غموں کی پرستش بے مصروف ہے

باہر اب صرف آنکھیں دیکھتی ہیں۔۔۔ اور

باقی سارے بدن تیزابوں کے تالابوں میں تحلیل ہیں

آنکھیں دیکھتی ہیں۔۔۔ اور اس سے زیادہ کیا دیکھیں گی

سارے خداؤں نے منہ پھیر لیے ہیں

مجید امجد

دل کا چھالا

پہلے آنکھ میں کڑوی سی اک لہر

اور پھر اک جرم

اور پھر یہ سب دکھ

سب دکھ، اس اک پاپ کی جنتا

سارے عذاب ضمیروں کو کجلانے والے

گہری کلنک بھری دکھتی ریکھائیں جن کے الجھاووں میں عمریں بٹ جاتی ہیں

اک ہونی کے کتنے جنموں میں اس پاپ کا لمبا پھیرا پڑتا ہے

دُنیا کو دکھ سے بھر دیتا ہے

اچھا تھا جب دل کا چھالا پھوٹا تھا، ہم اپنے قدموں میں رک جاتے

مجید امجد

جلسہ

آج سحردم میں نے بھی رک کر وہ جلسہ دیکھا

پکی سڑک کے ساتھ، ذخیرے میں، ٹوٹی سوکھی شاخوں کے

چھدرے چھدرے سائبانوں کے نیچے

شیشم کے گنجان درختوں کے آپس میں جڑے تنے، سب

اس جلسے میں کھڑے تھے!

ایک گزرتے جھونکے کی جھنکار ذخیرے میں لرزاں تھی

’’آس پاس کی کالی رسموں کے سب کھیت ہرے ہیں

اور یہ پانی تمہاری باری کا تھا

اب کے بادل دریاؤں پر جا کر برسے

ان سے تمہارا بھی توعہدنامہ تھا

اب کیا ہو گا؟۔۔۔

چلتے آروں کےآگے چرتے گرتے جسمو

پاتالوں میں گڑ جاؤ ورنہ‘‘

اس تیکھی حجت میں اتنی سچائی تھی

جثّے ان پیڑوں کے سب اک ساتھ ہلے غصّے میں ۔۔۔

اور میری آنکھوں میں پھر گئے دکھ اک ایسے خیال کے، جس کی ثقافت

جانے کب سے اپنا مسکن ڈھونڈ رہی ہے!

مجید امجد

دامنِ دل

سدا رہے یہ دھلا دھلا اور ستھرا ستھرا

زندہ

اپنے وجود کی اصلیت سے منور

اس پر میل نہ رہنے پائے

اس کو گتھ دے

اس کو سل پہ پٹخ دے

اس کو توڑ مروڑ نچوڑ دے، کس دے

اس کو جھٹک دے

اس کی گیلی شکنیں چن لے

اس کو سچے سُکھ میں سُکھا!

مجید امجد

ہر سال ان صبحوں۔۔۔

ہر سال ان صبحوں کے سفر میں ۔۔۔ اک دن ایسا بھی آتا ہے

جب پل بھر کو ذرا سرک جاتے ہیں میری کھڑکی کے آگے سے گھومتے گھومتے

سات کروڑ کُرے، اور سورج کے پیلے پھولوں والی پھلواڑی سے اک پتی اڑ کر

میرے میز پر آ گرتی ہے!

ان جنباں جہتوں میں ساکن!

تب اتنے میں سات کروڑ کُرے، پھر پاتالوں سے ابھر کر، اور کھڑکی کے سامنے آ کر

دھوپ کی اس چوکور سی ٹکڑی کو گہنا دیتے ہیں

آنے والے برس تک

اس کمرے تک واپس آنے میں مجھ کو اک دن، اس کو ایک برس لگتا ہے

آج بھی اک ایسا ہی دن ہے

ابھی ابھی اک آڑی ترچھی روشن سیڑھی، صدہا زاویوں کی، پل بھر کو جھک آئی تھی

اس کھڑکی تک

ایک لرزتی ہوئی موجودگی اس سیڑھی سے، ابھی ابھی، اس کمرے میں اتری تھی

برس برس ہونے کے پرتو کی یہ ایک پرت اس میز پہ دم بھر یوں ڈھلتی ہے

جانے باہر اس ہونی کے ہست میں کیا کیا کچھ ہے

آج یہ اپنے پاؤں تو پاتالوں میں گڑے ہوئے ہیں

مجید امجد

گدلے پانی۔۔۔

جو بھی بہتے دریا سے اپنا چلّو بھر لے، یہ دریا اس کا ہے

اپنی سب پاکیزگیوں کے ساتھ اس کا ہے

چاہے اس پانی میں جیسے بھی جوہر ہوں

اچھے برے جوہر، جو دریا کی سیال حقیقت میں اک ساتھ پنپ کر

بجھ کر، تپ کر، یوں ظاہرہیں، سب طاہر ہیں

جس کی پیاس کو اس پانی پر حق ہو

اسے بھلا کیوں شک ہو کہ ان قطروں میں مقیّد ہیں، وہ جوہر جو جیّد ہیں

دل میں پانی کی ٹھنڈک یہ کہتی ہے کہ طلب کا جو حاصل بھی ہے طیب ہے

ٹھنڈک پانے والا اسی یقین کے بل پر

اپنے گمان میں خوشیوں کی اس موج سے اپنی روح کے جوہڑ بھر لیتا ہے

جس کی چھلک اس کی آنکھوں کے ڈوروں تک آتی ہے

کتنے چہروں پر ہے اپنے آپ میں کافی ہونے کی اک یہ کیفیت

ان قدروں کی اچھی سی اک دین کہ جن کے مقدس دریا

سب گدلے ہیں!

مجید امجد

اے وہ جس کے لبوں۔۔۔

اے وہ جس کے لبوں کی دعائیں میری زباں تک بھی پہنچی ہیں

اک پستک کے حوالے سے جو

دین تھی ایسے ہاتھوں کی، میں جن کو تھام کے اک دن خواب میں

علم کے سینہ یاب سمندر سے گزرا تھا

آج اس زہریلے پانی کے بھنور میں اپنے پاس یہی

اکھڑے اکھڑے بوسیدہ سے ورق ہیں

اور یہ مٹے مٹے سے لفظ کہ جن پر تیرے ہونٹوں کی مہریں ہیں

تیرے ہونٹوں کے دہرائے ہوئے یہ لفظ مرے ہونٹوں پر جب آتے ہیں

تو اس بھنور میں میرا دل بس سوچتا ہے اک تیری بابت

تیری بابت، تیرے زمانے، تیرے دنوں کی بابت

تو اور بٹے ہوئے رسوں جیسے وہ بازو

ٹکڑے ٹکڑے، اکڑے اکڑے سے وہ تیرے ہات کڑکتی پتواروں پر

— اور وہ تیرے تھکے تھکے سے چہرے پر ان تھک تسکینیں

جیسے دریا سب تیرے ہیں

جیسے لہروں سے لڑنے والے بازو سب تیرے ہیں

مجید امجد

مورتی

کہاں ہے اب وہ جو برسوں پہلے اس ممٹی پر دنیا کے نرغے میں اک مورت تھی

اک مورت، خوابوں کے بچپن جس کی پرستش کرتے تھے

کہاں ہے اب وہ بےکل پلکوں والی پگلی سی اک سچائی

جو اس جھوٹی دنیا کو جھٹلانے آئی تھی

اس مٹی کے نیچے اب بھی اٹل حصاروں سے حجت کرنے والے اس جھونکے کے

پیوند ہماری ان سانسوں میں ہیں

لیکن جانے کہاں ہے اب وہ پگلی سی اک سچائی

یونہی کھنکتے کھنکتے قہقہوں والی ناداں عمریں کالی نیندوں میں کھو جاتی ہیں

کیسی ہیں یہ نیندیں، جن کے سمندر دلوں کے جزیروں کو ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں

کیسے ہیں یہ ان نیندوں میں تیرنے والے، پلٹ پلٹ کر آنے والے خواب

۔۔۔ خواب

جن کا بچپن کبھی نہیں ڈھلتا!

مجید امجد

پہلی سے پہلے

دن تو ایک سے ہوتے ہیں سب

لہو رگوں میں جب بہتا ہو

لیکن جانے اَب کے میرے ذہن میں یہ چنگاری سی کیسی چٹکی ہے

اب کے مہینے کے آخر میں یہ جو دن آئے ہیں

کچھ یوں لگے ہیں جیسے

انھی دنوں میں میرے وجود کے ذرّے کے لیے سب سورج چمکے ہوں

سب سورج

سب گردشیں

سب تاریخیں

سارے زوال، جو تہذیبوں کے سایوں میں، انسانوں کو روٹی کے ٹکڑے کے لیے

ترساتے آئے ہیں

سارے خیال جو آنے والوں اچھے دنوں کا دھن ہیں

اور جو موت کی وادی سے ہو کر ذہنوں میں آتے ہیں

مجید امجد

آج تو جاتے جاتے۔۔۔

آج تو جاتے جاتے اس نے مجھے اک ہامی بھرنے والے پیار سے دیکھا

بڑے اقرار سے دیکھا

اس اک آن میں میرے سان گمان میں بھی یہ با ت نہ تھی: یہ سب کچھ تھا

امکان میں

لیکن اس نے تو میری سانسوں کا ادھوراپن پہچان کے، سب کچھ جان کے بھی

یوں مجھے دیے للچاوے اپنی اک مسکان کے جس میں

ہارے ہوئے خود اس کے من کا سنبھالا بھی تھا

اور مجھ جیسے ترسے ہوئے پہ ترس کھانے کی کسک بھی

جاتے جاتے اس کے دل میں جانے کیا بات آئی ہو گی

۔۔۔ اور اک میں تھا

۔۔۔ اور اس دن اک میں تھا جس کے لیے ان کبھی نہ ملنے والی

سب اچھی اچھی خوشیوں میں کبھی نہ ملنے والے سب اچھے اچھے دکھ تھے

مجید امجد

کون ایسا ہو گا۔۔۔

کون ایسا ہو گا جو سب کے دلوں کی ٹھنڈک کا رسیا ہو

ایسے شخص کے من میں آئی ہوئی اک بات تو وہ جھونکا ہے

جو اک ساتھ زمانے بھر میں پھول کھلا دیتا ہے

اور یہ بات کہیں باہر سے تو نہیں آتی

یہ تو دل پر ایک گرہ ہے، جس کا کساؤ کبھی بھی کم نہیں ہوتا

جو بھی اسے محسوس کرے، یہ چوٹ سدا اس کے دل پر ہے

جب بھی کوئی اسے اپنی سانسوں میں ڈھونڈے

اس کی آنکھوں میں بھر جائیں وہ سیال شبیہیں

جن کے دکھ اور جن کے جتن ان بستیوں کے گہنے ہیں

جن کی خوشیوں کے لیے جینا ان بھیدوں میں جینا ہے جو

ازلوں سے ان ذرّوں کی جنبش ہیں

کون ایسا ہو گا جو اپنے دل کی کسک تک پہنچے

اور پھر ایک قدم خود پیچھے ہٹ کر

اپنی پہنچ کو اوروں کے لیے برتے، سب کے دلوں کی ٹھنڈک کے لیے برتے

کون ایسا ہے اس دنیا میں؟

کتنے خطرے دلوں کو دلوں سے ہیں۔۔۔ سوچوں تو میرا دل دُکھتا ہے!

گنگ زبانوں، بولتی آنکھوں والے چہرے قدم قدم پر مجھ سے جب یہ پوچھتے ہیں:

’’کون ایسا ہے؟ ہم کس سے پوچھیں؟‘‘

تو میرا دل دُکھتا ہے ۔۔۔ اور میرے سینے میں بھیدوں کا سب دھن

خاکستر ہو جاتا ہے

مجید امجد

شایرتیرے کرم۔۔۔

شاید تیرے کرم کا اور ہی کچھ منشا ہو

یا اب جو میری حالت ہے، شاید اس میں

امر اک تیری قدرت کا ہو میرے حق میں

لیکن جس تکلیف میں میں ہوں، اس کے ہوتے ہوئے میرا دل تو باور نہیں کرتا

میرا دل تو بس اتنا کچھ مانے، بس اتنا کچھ جانے

تو چاہے تو ہر پانسے کو پلٹ سکتا ہے

عینِ کرم میں

عینِ غضب میں

میں تو اپنے خطروں، اپنی آرزوؤں میں بٹا ہوا اک وہ ذرہ ہوں

جس کے ذرا سے دل کو

ذرا سا ارماں ہے، ان امنوں کا جو تیرے چمنوں میں ہیں

مجید امجد

بندے تو یہ کب مانے گا۔۔۔

بندے تو یہ کب مانے گا، پھر بھی تیرے چہرے کی بھسماہٹ میں جو کچھ

میں نے دیکھا ہے، تجھ سے کہہ دوں

یہ تیراچہرہ! بس بھربھرا سا اور اس پر گزرے دنوں کے چکٹ سے

جیسے راکھ، اور اس کے مسام، اور کالا زرد لہو، اور سب کچھ

میلا میلا سا دکھ

تو جس کو پہلے سے جانتا ہے، وہ رمز اک تجھ سے کہہ دوں

میرا اندازہ ہے، عمر کی اس منزل پہ اگر تو اپنی ان بےچارگیوں پر

جبرکرے تو

یوں تیری آنکھوں میں لپک لپک کے نہ آئے

وہ شعلہ جو تیری روح میں بجھنے کو ہے

تو سمجھے گا، یہ سب شاید تیرے دل کی گلی سڑی سازش ہے

میں یہ تو جانوں، اس سازش کا سب ساز و سامان باہر سے آتا ہے

بندے، یہ تو دنیا ہے جو لوگوں سے کہتی ہے: ’’میری طرف آنکھیں

چمکا چمکا کر دیکھو‘‘

مرنے والا جاتے جاتے اس دھوکے میں آ جاتا ہے

اس دھوکے میں آنے والے کو اک یہ راحت ہے، اپنے آپ کو دھوکا

دے سکتا ہے

اپنی جانب آنے والی موت سے آنکھیں پھیر کے پل بھر اپنی بھول میں جی سکتا ہے

اور وہ ۔۔۔ تیری طرح ۔۔۔ آنکھیں چمکا چمکا کرسدا چمکنے والے چہروں کو

یوں حسرت سے تکتا ہے

بندے، اپنی آنکھوں میں اک یہ گدرائی ہوئی للچاہٹ لے کر مت پھر

اس دنیا میں

تیرے دل کے گڑھے میں تیری لحد کچھ اور بھی گہری ہو جائے گی

مجید امجد

فصلِ گل

تم نے میٹھے مٹروں کی ڈالی سے ڈرتے ڈرتے

تتلی جیسی ایک کلی کو توڑ کے سونگھا ۔۔۔ سوچا

اور پھر آنکھیں میچ کے اپنے آپ میں، خود ہی خود، کُملا گئے تم

اپنے پاگل پن میں اپنے آپ سے روٹھی ہوئی یہ خوشیاں تو سب مندے

کی باتیں ہیں

آخر ہم بھی تو ہیں

کتنا مال ہے اس دنیا کا جس کا بوجھ ہماری پلکوں پر ہے

اور یہ پلکیں ہیں جو پھر بھی تنی ہوئی ہیں

تم اک بار ہماری آنکھوں سے بھی تو دیکھو

اس پرگنے کی اک اک کیاری میں ہر پنکھڑی سونے کی ٹکلی ہے

اب کے ہم نے پہلے تو یہ پگھلی ہوئی سب اشرفیاں اپنی آڑھت میں سمیٹیں

اور پھر ان کی اصلی اوسوں کے ساتھ ان کے ٹرک بھر بھر کے بھیجے

میلے میں، جو اب کے پھولوں کی رت میں آیا ہے

سچ پوچھو تو بڑا لگا اب کے اپنا سیزن پھولوں کا

جانے تم کیوں سب چیزوں کو اپنی روح کے تہہ خانوں میں بھر لیتے ہو

ذرا اس اپنے دل کی کلی کو توڑ کے اپنی نوٹوں والی جیب میں رکھ لو

اور پھر مزے مزے سے پھرو اس پھلواڑی میں

ورنہ ان زرخیز بہاروں میں کُملا جاؤ گے

مجید امجد

دنوں کے اس آشوب۔۔۔

دنوں کے اس آشوب کے ساتھ اک تیرے ذکر کا امن بھی جس کو مل جائے

اس کی خاطر ساری مٹھاسیں تیرے نام میں ہیں

تو ہی جس کی خاطر چاہے اپنے نام میں اپنی کشش رکھ دے

تیرے امر، تری منشائیں جس کے بھی حصے میں آ جائیں

نہیں تو باقی کیا ہے، مٹی میں مل جانے والی عمریں، مجھ جیسی

میں، جس کے دل کی موت میں اک یہ ڈھارس جیتی ہے

شاید یوں ہو، سب کچھ تیرے کرم کی رمزیں ہوں

میرا ایسے ایسے گمانوں میں گم رہنا بھی شاید تیرے کرم کی رمزیں ہوں

اِیسے اِیسے گمان

شاید تو

خود ہی اپنے آپ کو میرے دل سے بھلوا دیتا ہے

اور پھر خود ہی میری بھول پہ مجھ سے خفا ہو جاتا ہے

یوں دھتکارا ہوا میں جا گرتا ہوں، لوہے کی گردن والی ان کاٹھ کی روحوں میں

جن کے آسیبوں سے بچنے کی کوشش پھر مجھ کو تیرے امروں میں لے آتی ہے

اور میری سانسوں میں پھر سے وہ تسبیحیں گرداں ہو جاتی ہیں، جن میں تیرے نام کے دانے ہیں

اے وہ جس کے نام کے میٹھے ورد میں ازلوں سے وارد ہیں

سارے زمانے، سارے ابد

مجید امجد

اپنے دل میں ڈر۔۔۔

اپنے دل میں ڈر ہو تو یہ بادل کس کو لبھا سکتے ہیں

اپنے دل میں ڈر ہو تو سب رُتیں ڈراؤنی لگتی ہیں اوراپنی طرف ہی گردن

جھک جاتی ہے

یہ تو اپنا حوصلہ تھا

اتنے اندیشوں میں بھی

نظریں اپنی جانب نہیں اٹّھیں اور اس گھنگھور گھنے کہرے میں جا ڈوبی ہیں

اور اَب میری ساری دنیا اس کہرے میں نہائی ہوئی ہریاول کا حصہ ہے

میری خوشیاں بھی اور ڈر بھی

اور اسی رستے پر میں نے۔۔۔ لوہے کے حلقوں میں ۔۔۔

اک قیدی کو دیکھا

آہن چہرہ سپاہی کی جرسی کا رنگ اس قیدی کے رخ پر تھا

ہر اندیشہ تو اک کنڈی ہے جو دل کو اپنی جانب کھینچ کے رکھتی ہے اور وہ

آدمی بھی

کھچا ہوا تھا اپنے دل کے خوف کی جانب، جس کی کوئی رُت نہیں ہوتی

میں بھی اپنے اندیشوں کا قیدی ہوں، لیکن اس قیدی کے اندیشے تو

اک میرے سوا، سب کے ہیں

اک وہی اپنے اپنے دکھ کی کنڈی

جس کے کھچاؤ سے اک اک گردن اپنی جانب جھکی ہوئی ہے

ایسے میں اَب کون گھٹاؤں بھری اس صبحِ بہاراں کو دیکھے گا

جو ان بور لدے اندیشوں پر یوں جھکی ہوئی ہے آموں کے باغوں میں

مری روح کے سامنے

مجید امجد

اپنے لیکھ یہی تھے۔۔۔

اپنے لیکھ یہی تھے، منوا

ورنہ میرا سچ تو سب کا علم ہے اور سب پر ظاہر ہے

میرا سچ تو ہے اس پنجر میں جینے والی اک بےبس آگاہی، جس کو سب

نے پرکھا ہے

میری سچائی کو سمجھنے والے، میرے سچ کے حق میں سچ ہوتے

تو یوں ان کے دلوں میں اک اک قبر نہ ہوتی میرے آنے والے دنوں کی

جیسا کچھ بھی ان کا گمان ان آنے والے دنوں کے بارے میں ہے

پھر میرا دل کیوں نہ دکھے جب میں یہ دیکھوں

میری سچائی کو سمجھنے والے

میری بابت اپنے علم کو جھٹلانے کی کوشش میں، ہر گری ہوئی رفعت کو اپناتے ہیں

پہلے میرے ہونے کو اپنے دل میں دفنا دیتے ہیں

اور پھرمیرے سامنے آ کرمیرے سچ پہ ترس کھاتے ہیں

اور یوں مجھ کو جتاتے ہیں کہ انہیں سب علم ہے، میرا سچ دم توڑ چکا ہے

میری سچائی کو سمجھنے والے بھی جب یوں کہتے ہوں

کون اس وار کو سہہ سکتا ہے

میرے دِل میں میرے سچ کے قدم اکھڑنے لگے ہیں

اب کوئی تو اک اور جھوٹی سچی ڈھارس، منوا

آخر جینا تو ہے

اور جینے کے جتنوں میں زخمی چیونٹی کی بےبس آگاہی بھی عقلِ کل ہے!

مجید امجد

کوہستانی جانوروں۔۔۔

کوہستانی جانوروں برفانوں کی سمور

اس سرما میں تو۔۔۔

اس کم سن فسطائیت کے گورے جسم پہ اب بھی ویسی ہی ہے

جیسی تھی منقوش عباؤں والے گزرے دنوں میں

تب بھی اس مٹی کے دل میں اپنے ہونے کا ڈر ویسا ہی تھا، جیسا اب ہے

ظلم کی اس بازی میں میرا خوف، اس لمبے عرصے کی شطرنجی پر

جانے کن تقدیروں کا پانسہ ہے

جانے اس اک ڈر کی بھی کتنی کڑیاں ہیں، جو سب کی سب میرے لیے ہیں

اور جن کی نسبت سے میری سچی باتیں بھی بےمصرف ہو جاتی ہیں

ورنہ میں تو سچے دل سے چاہوں، کاش اس کھٹ کھٹ چلتی، فربہ فربہ

گوشت کی گتھلی کے ساتھ اک ایسی کم وزنی بھی پروان چڑھے جو

اس مٹی کے ذرّوں کی طینت میں بٹی ہوئی ہے

لیکن زرد سمور میں لپٹا ہوا یہ مٹاپا

اس نے تو اب کس بھی لیے اپنے دل پر قبضے چاندی کے

اس نے تو اَب چھت بھی لیں سب اپنی سوچیں

اب تو اس کے ایک قدم کی پہنچ ہیں مجھ جیسوں کی صدہا عمریں

شاید میری مٹی اسی طرح سے اور ہزار برس ان کالی سرد ہواؤں میں تھرتھر

کانپے گی

روندے جانے کا ڈر اس کو روندے گا۔۔۔

مجید امجد

کل کچھ لڑکے…

کل کچھ لڑکے آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے

ہم تو سب کچھ جانیں

سب کچھ، جس کو دنیا جانے، لیکن منہ سے نہ مانے

ری ری ری، ہم سب کچھ جانیں، کیا ہیں خوشیوں کے یہ سارے دکھاوے

یہ سب گھاتیں

میلی میلی گلیوں میں یہ لگتی اکھڑتی قناتیں

چہل پہل کے اک دو دن اور اک دو راتیں

گھی اور گڑ کے قوام سے بوجھل باتیں

سارے لوگ، اک جیسی ذاتیں

باہر، باہر، بڑے گھمنڈ اور بڑی تمکینیں

باہر باہر، خوشیوں کے سات آسمان اور سات زمینیں

اندر اندر، اتی اتی سی جاگیروں کی تسکینیں

اور وہ سب کچھ بھی ۔۔۔ ری ری ری! اچھا، اچھا، ہم نہیں کہتے!

اپنے چہرے ڈھانپ کے چلنے والی یہ سب قدریں اور ان کی تقدیسیں

یوں ہی ہم پر دانت نہ پیسیں

اچھا، اچھا، لو ہم منہ سے کچھ نہیں کہتے

گو ہم سب کچھ جانیں، سب کچھ جانیں

مجید امجد

سبھوں نے مل مل لیں۔۔۔

سبھوں نے مل مل لیں اپنے چہروں پر

مٹیاں اپنی عمروں کی ۔۔۔ اور یوں جو جو شکلیں نتھری ہیں

ان سے ہی اَب ان کی پہچانیں ہیں

عمروں کی اس مٹی میں کرموں کے خمیر کی ابھرن ہیں یہ شکلیں

اپنی اپنی گزرانوں میں مسخ شدہ یہ چہرے فساد ہیں ان احوالوں کا

جن سے ہم سب گزرے ہیں

اک اک شخص کی شکل اس کی اپنی مشکل ہے

کاش اپنی اپنی مشکل کو سمجھ سکتے یہ لوگ کہ جن کی شکلیں

جن کے کرموں کے پھل

ان کی نظروں سے اوجھل ہیں

جن کی اصل مخفی شکلیں تو خود ان کی روحوں کے آئینوں میں بھی ان کے آگے

نہیں اترتیں

جن کی اصلی شکلیں تو حصہ ہیں اس اک بڑی بھری تصویر کا جس کو

ساری دنیا اس نفرت سے دیکھ رہی ہے!

مجید امجد

کہاں سفینے ۔۔۔

کہاں سفینے اس خود موج سمندر میں ان روحوں جیسے

روحیں جن کے خیال سے میں جیتا ہوں

جب دریا چڑھتا ہے اور جب اس کی کوئی سیہ سی لہر اچانک

میرے دل کے ٹھنڈے پانیوں کو اپنے گھیرے میں لے لیتی ہے

تو میں سب پتواریں چھوڑ کے، بے بس ہو کے، اتر جاتا ہوں

ان ہوتے امروں کی منشاؤں میں

اور اس اک وقفے میں، ڈرتے ڈرتے

جلدی سے بھر لیتا ہوں، اپنی آنکھوں کی کشتیوں میں، ان سب لوگوں کو

جن کے خیال سے میں جیتا ہوں

تب میری پلکوں کے سایوں میں یہ روحیں، سب اک ساتھ، اکٹھی

کشاں کشاں، اس کوشش کے محور میں آ جانے کا جتن کرتی ہیں

جس کی کشش سے سب دریا چڑھتے ہیں

کہاں سفینے اس خود موج سمندر میں ان روحوں جیسے

روحیں جو میرے جی میں جیتی ہیں۔۔۔

مجید امجد

سب کو برابر کا حصہ۔۔۔

سب کو برابر کا حصہ ملتا ہے اس میعاد سے جس کو

دن کہتے ہیں

سب کے سروں پر

سورج کی تقدیرِ سفر، یکساں لمبی پٹڑی ہے

کسی کے آگے دن کا قد نہیں گھٹتا

کسی کی خاطر دن کی حد نہیں بڑھتی

سب دن اور سب کے دن کٹ جاتے ہیں

سب گزرے دن، سب کے گزرے دن سب اک جیسے ہیں

کھوئی ہوئی اس اک پونجی میں سب سانجھی ہیں

تیرے دن، جو تیری آنکھوں کی ٹھنڈک میں گزرے

میرے دن، جو میرے دل سے نہ گزرے

آج وہ کیا ہیں، کسی خلا کے خانے، خالی خالی خانے

دیکھیں تو سہی، کھولیں تو سہی، ان خانوں کو

مجید امجد

مینا

جب تو ان کے گھر کے صحن میں اک مینا تھی، چاندی کے پنجرے میں

تجھ کو وہ دن اچھے لگتے تھے نا

تب تو تجھ کو اس کی خبر بھی نہیں تھی، تیرے آب و دانے میں کیا ہے

تجھ کو خبر بھی نہیں تھی۔۔۔

تب تیرا چوگا تو انگوروں کے رس میں گندھا ہوا نمکیلا بھیجا تھا

ان جلتی آنکھوں والی بے تن کھوپڑیوں کا

جن کے مہین خلیوں میں اک وہ چنگاری چٹکی تھی جو سرِ بقا ہے!

تجھ کو وہ دن اچھے لگتے تھے نا

اور اب بھی تجھ کو وہ دن یاد آتے ہیں نا۔۔۔اب بھی

اب جب تلواروں کی نوکیں تیرے گلے پر رکھ کر تجھ کو پیار بھری نفرت

سے یوں چمکارنے والے

اپنے جسموں کی مٹی میں خوابِ فنا ہیں

میری باتیں سن کر مجھ کو ٹک ٹک دیکھنے والی، چوکورآنکھوں والی مینا

ہاں وہ قاتل اچھے تھے نا

اب تجھ کو وہ دن یاد آتے ہیں نا

اب اس وادی کی بھرپور گھنی سبز لتا میں اڑنا اوریوں راتب چننا کتنا

مشکل ہے!

اب یوں اڑنے میں تیرے پر دُکھتے ہیں نا، مینا!

مجید امجد

اور اب یہ اک سنبھلا سنبھلا۔۔۔

اور اب یہ اک سنبھلا سنبھلا، تھکا تھکا سا شخص

اب بھی جس کے جھریوں والے چہرے پر اک پیلی سوچ کا بچپن ہے

ساری عمر اس کی

اپنی اس اک دھن کو بڑھاوا دینے میں گزری:

’’مگن مگن بیٹھیں…

چاندی کی چھت کے نیچے

اس قرنوں کے بچھونے پر

مگ مگن بیٹھیں!

چنیں خود اپنے خیالوں کے کنکر

یہ کنکر مل کر بن جائیں گے لوحیں

لوحیں جن کو دنیا اک دن پوجے گی۔۔۔

اور اب یہ اک شخص

اک جانب کو اس کے قد کا جھکاؤ

اور اسی جانب کے بوٹ کی ایڑی گھسی ہوئی

اور اسی جانب کا کوٹ کا پلو مڑا ہوا، اک جامد بازو کے نیچے

اور وہ خود ساکت

اس کے گرد ہزاروں تیز ہراساں قدموں کا اک لہراتا جنگل

اور وہ ان قدموں کے سفر میں تنہا

جاتے جاتے کسی نے پوچھا: ’’بھائی کیسے ہو؟‘‘

اس کی آنکھوں میں بچپن لوٹ آیا

ہنس کے وہ کہنے لگا:

’’تم تو مجھے پہچانتے ہو، تم جانتے ہو جو زینہ تمھارے دل سے میرے دل تک ہے

تم میرے دل تک آ سکتے ہو

آؤ گے؟

آؤ، بیٹھ کے اپنے خیالوں کے کنکر رولیں

یہ کنکر مل کر بن جائیں گے لوحیں

لوحیں جن کو دنیا اک دن پوجے گی

اور پھر اک دن امڈ پڑے گا زمانہ ہماری طرف‘‘

اور وہ اک لمبے رستے کی شطرنجی پہ اکیلا کھڑا تھا

اور جو قدم اس نے ابھی آگے کو بڑھانا تھا اس ایک قدم کا کرب

اس کے بھربھرے سے چہرے کے میلے مساموں تک رس آیا تھا اور اس کا ماتھا چاندی کا تھا

مجید امجد

تم کیا جانو۔۔۔

تم کیا جانو، مجھ سے پوچھو، میں اس مٹی کی سوکھی پتلی تہہ پر کھیلا ہوں

اس مٹی کی تہہ کے نیچے گدلا گاڑھی گہرا پانی ہے سیلانی سیلابوں کا

پھر وہ دن بھی تھے کچھ بڑے البیلے اور تب علم بھی مجھ کو نہ تھا ان دنوں کا جب

ہر ذرہ سورج بن جاتا ہے

ہر سو مٹی کی اس سوکھی پتلی تہہ پر لوگ نرالے دنوں کی خوشی میں چوکڑیاں بھرتے پھرتے تھے

میری طرح سب کالے ذرے چمکیلے خوابوں میں گم تھے

اور کچھ میں بھی تھا اک ایسی دنیا میں، جس میں سارے لوگ اک جیسے تھے

تم کیا جانو، کن جتنوں سے اب میں ان وقتوں کے سارے کھتان اور ساری دلدلیں

پھاند کے اس دنیا تک پہنچا ہوں، جس میں اب میرے سوا سب کچھ ہے!

تم کیا جانو، تم تو آج اک مجھ سے نفرت کرنے والی شفقت اپنی آنکھوں میں بھر کر آئے ہو

یہ نفرت تو اک مزمن بےعلمی ہے

اور یہ شفقت بھی تو خودافروز دلوں کی اک متعدی بیماری ہے

میری ساری دعائیں تم پہ تصدق، کیا تم یوں میری بے مائیگیوں کا مول چکا سکتے ہو

دیکھو، تم خود مٹی کی اس سوکھی پتلی سی تہہ پر اور کروڑوں آدمیوں کے ساتھ کھڑے ہو

جس کے نیچے سیلانی سیلابوں کا پانی ہے!

مجید امجد

گستاپو

باتوں باتوں میں وہ لوگو ں کے ذہنوں سے کوڑا کرکٹ چن لیتا ہے

لوگوں کے ذہنوں سے، اوروں کے بارے میں، ایسی ایسی باتیں چن لیتا ہے

جو دنیا والوں کی کھلی باچھوں میں سفر کرتی ہیں

یہ باتیں اس کی دانست کا سرمایہ ہیں

یہ سرمایہ ایک گھمنڈ ہے کڑواہٹ کا

اس کے رخ پر بکھرا ہوا ہے وہ سب لوہا، جو اس کے دل کا لہجہ ہے

اس کے باہم بھنچے ہوئے ہونٹوں کا دباؤ جب اس کی آنکھوں کو چمکا دیتا ہے

عرش کے محلوں میں فرشتے اپنی شمعیں بجھا دیتے ہیں

میری طرف آج اس نے یوں دیکھا ہے

جیسے میں بھی اس کے غرور کا اک لقمہ ہوں، اس کی دانستوں میں

آخر اس کے پاس اک علم ہے میری بابت

آخر کل ہی تو وہ آسمانوں پر جا کر

اپنے ذہن کی چوپتری پر

آنے والے برے دنوں کا ٹیوا اتار کے لے آیا ہے

مجید امجد

ننھی بھولی۔۔۔

ننھی، بھولی، میلے میلے گالوں والی، بے سدھ سی اک بچی

تیری جانب دیکھ رہی ہے، دیکھ اس کی آنکھیں تیری توجہ کی پیاسی ہیں

اس کی نازک، بے حس ٹھوڑی کو اپنی انگلی کی سنہری پور سے مس تو کر، اور

اس سے اتنا تو پوچھ: ’’اچھی بلو! تو کیوں چپ ہے؟‘‘

اور جب وہ منھ پھیر کے اپنی آنکھیں اپنے ہی چہرے پہ جھکا لے

تو ہی بڑھ کر اس کے ماتھے کو اپنے ہونٹوں سے لگا لے، ہاں ایسے ہی

کیوں، اس جھنجھیلوے نے تجھ سے کہا کیا؟

یہ کیا؟ تیری آنکھیں بھیگ گئیں کیوں؟

اس نے تجھ سے کہا کیا؟

ساتوں آسمانوں کے مالک

اتنے پتلے دل والے مالک! ہم بھی روز اس چہرے کی کتھا سنتے ہیں

ہم تو کڑا کر لیتے ہیں اپنا جی، ایسے موقعوں پر!

مجید امجد

اس برتاؤ میں ہے سب برتا دنیا کی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 55
اک اچھائی میں سب کایا دنیا کی
اس برتاؤ میں ہے سب برتا دنیا کی
پھول تو سب اک جیسے ہیں سب مٹی کے
رُت کوئی بھی ہو دل کی یا دنیا کی
اس اک باڑ کے اندر سب کچھ اپنا ہے
باہر دنیا، کس کو پروا دنیا کی!
ان چمکیلے زینوں میں یہ خوش خوش لوگ
چہروں پر تسکینیں دنیا دنیا کی
اجلی کینچلیوں میں صاف تھرکتی ہے
ساری کوڑھ کلنکی مایا دنیا کی
پھر جب وقت بجھا تو ان پلکوں کے تلے
بہتے بہتے تھم گئی ندیا دنیا کی
جم گئے خود ہی اس دلدل میں، اور خود ہی
کریں شکایت، اہل دنیا، دنیا کی
دنیا کے ٹھکرائے ہوئے لوگوں کا کام
پہروں بیٹھے باتیں کرنا دنیا کی
دلوں پہ ظالم یکساں سچ کا پہرا ہے
کوئی تو جھوٹی ریت نبھا جا دنیا کی
مجید امجد

ہم تارے، چاند ستارے ہیں

ہم تارے ہیں

ہم تارے، راج دلارے ہیں

ہم تارے، چاند ستارے ہیں

خوش خصلت ہیں، خوش طینت ہیں

ہم اس پرچم کی زینت ہیں

ہم جگ مگ کرتے تارے ہیں

ہم تارے، چاند ستارے ہیں

ان پیلے سبز دیاروں میں

اس دنیا کے اندھیاروں میں

ہم روشنیوں کے سہارے ہیں

ہم تارے، چاند ستارے ہیں

ہم پھول اور باس اور ہریالی

ہم علم اور امن اور خوش حالی

ہم پاک وطن کے دلارے ہیں

ہم تارے، چاند ستارے ہیں

اس جیتے دیس میں جینا ہے

خوشیوں کا امرت پینا ہے

یہ باغ، یہ پھول ہمارے ہیں

ہم تارے، چاند ستارے ہیں

مجید امجد

دیوں کے جلنے سے۔۔۔

دیوں کے جلنے سے پہلے

شام کی دھندلی ٹھنڈک میں

گھنے درختوں کے پیچھے

کل جب تیرے نام کی زرد سیاہی طلوع ہوئی

اور پھر اس کے بعد

رفتہ رفتہ جب ہر جانب سے

تیرے ذکر کی اک رمزیلی تاریکی ابھری

تاریکی جو تیرے نور کا اک رخ ہے

تو اس دم اک جابر دانائی

روحوں کی ظلمات سے یوں گزری

جیسے اچانک رستہ روک کے کوئی کسی سے کہے:

’’ادھر، ہماری جانب بھی تو دیکھ!

ان مردہ قلبوں کے اندر بجھتے ہوئے بلبوں کی نگری میں پھرنے والے

ہم تو اندھیروں میں بھی تیرے ساتھ ہیں

ہم جو اندھیروں کے اس بھیس میں اپنی روشنیوں میں اجاگر ہوتے ہیں

مجید امجد

اپنی خوب سی اک خوبی۔۔۔

اپنی خوب سی ایک خوبی میں اس کے لیے اک مستی تھی

اور اپنی اس خوبی کے لچھن دیکھے اس نے، سب دنیا سے چھپ کر

اب وہ خوبی بھولا ہوا اک خوابِ خوباں ہے

لوگوں کے ذہنوں میں اس خوبی کی بابت اب اک میٹھی میٹھی نفرت ہے

پھر بھی کون اب ایسی باتوں کے بارے میں بات کرے

سب کی زبانیں چپ ہیں، سب کے دل اس علم پہ نادم ہیں

ساری معرفتیں اب بےبس ہیں

وہ مچھلی بس اک بار اس گندے پانی میں نہائی تھی

اور اب زریں طاق پہ اک شیشے کی صراحی میں لہراتی ہے

اب رنگیں صدفوں میں دھنسی ہوئی وہ سرخ مساموں والے گوشت کی گتھلی

بڑے بڑے لوگوں کی باتوں کے مفہوموں میں

تقدیروں کی کھسرپھسر سے بھرے ڈرائنگ روموں میں

تیرتی ہے، اتراتی ہے

مرغولوں کی باچھوں میں مسکاتی ہے

کیسی خوب سی وہ خوبی اس کو راس آئی ہے

تو کس دنیا سے ٹکرانے آیا ہے

تو کس جگ کی کایا بدلنے آیا ہے

کوڑھی اوگن ہار دِلا!

مجید امجد

گھور گھٹاؤں

گھور گھٹاؤں کے نیچے

پیڑوں کی لچکیلی باہیں

کونپلوں کے کنگن پہنے

جھک جھک کر

جھیل کے پانی پر سے چننے آئی ہیں

پیلے پیلے پتے اور بھورے بھورے بادل

جھیل کی جانب جھکی جھکی

رستے ہی میں جم گئیں شاخوں کی باہیں

جھیل سے کون اٹھا کر دے ان کو

پیلے پیلے پتے اور بھورے بھورے بادل

چاروں اور سے امڈی امڈی گہری چھاؤں، سہانی ہریاول

تھم گئی آ کر زنگ آلود سلاخوں والی اس کھڑکی کے پاس

جانے جھریوں والا کالا چمڑا میرے دل کا کب اس ٹھنڈک کو محسوس کرے

مجید امجد

اک جیون ہار ڈر سا ہے ترے دل کے لیے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 50
ان گنت امروں میں اور کیا ہے ترے دل کے لیے
اک جیون ہار ڈر سا ہے ترے دل کے لیے
رک کے اس دھارے میں کچھ سوچ اک یہ اچھا سا خیال
جو ترے حق میں ہے، کیسا ہے ترے دل کے لیے
اپنے جی میں جی، مگر اس یاد سے غافل نہ جی
جو کسی کے دل میں زندہ ہے ترے دل کے لیے
سب ضمیروں کے ثمر ہیں، پستیاں، سچائیاں
جانے تیرے ذہن میں کیا ہے ترے دل کے لیے
والہانہ رابطوں میں جبر کے پہلو بھی دیکھ
جو بھی دل ہے ایک پنجرا ہے ترے دل کے لیے
تو کہ اپنے ساتھ ہے اپنے بدن کے واسطے
کوئی تیرے ساتھ تنہا ہے ترے دل کے لیے
تیری پلکیں جھک گئیں امجد دیے جب یوں جلے
جانے کس کا ذکر چمکا ہے ترے دل کے لیے
مجید امجد

ورنہ تیرا وجود۔۔۔

ورنہ تیرا وجود تو سچ کے سمندر میں ہے مٹی کا وہ پشتہ

جس کے باطن کی جھوٹی خودبستگیاں ہی اس کو سنبھالے ہوئے ہیں

پھر وہ کون ہے جو خود اپنے فوق سے تجھ کو یہ توفیق عطا کرتا ہے

تیرا ہونا ڈوبنے والوں کی آنکھوں میں ڈھارس بھر دیتا ہے

ورنہ تو تو خود اس ریلے میں ہے اک پشتہ، بہہ جانے والا

پھر وہ کون ہے جو یوں تیری سمت اشارہ کر کے

طوفانوں میں گھری ہوئی روحوں کی بے پتوار نگاہوں سے کہتا ہے:

اس تنکے کا بازو تھام لو، شاید تم بچ جاؤ، ڈوبنے سے بچ جاؤ

بندے، جانے کتنے لوگ ہیں جن کو تیری آس پہ جینا آساں ہے

اور تو خود وہ پشتہ جس کی جڑوں کو بھنور کی درانتی پیہم کاٹ رہی ہے

تو کیا کر سکتا ہے بندے

تو خود اپنے باطن کی جھوٹی خودبستگیوں کے سہارے پر باقی ہے

باقی تو ہے اک یہ سچ کا سمندر جس کی لہریں ہیں تقدیریں

اور ان تقدیروں کے اچھے اچھے دکھاوے

جانے کتنی آنکھوں میں بس جاتے ہیں، تیری نسبت سے!

کتنی آنکھوں میں ہے اک یہ اداس توقع

کتنی آنکھیں جن میں ایک ہی دیکھنے والا تیری جانب دیکھ رہا ہے کب تو اس کی جانب دیکھے

مجید امجد

رکھیا اکھیاں

جھکی جھکی گھنگھور گھٹائیں

ساون، پھوار، ہوا، ہریاول

رس کی نیند میں جاگتی دنیا

کچھ تو بولو۔۔۔ تم کیوں ہنس دیں

پتھر کے چہرے پہ گڑی اکھیو ۔۔۔

دل کہتا ہے، اب کیا ہو گا:

ندی ٹیلوں تک لچکے گی

بہنے والے بہتے بہتے

اپنی ہونی میں ڈوبیں گے

کچھ تو بولو۔۔۔ تم کیوں ہنس دیں

مجھ پہ ترس کھانے والی اکھیو۔۔۔

تم جانو۔۔۔ یہ جھونکے کس کے

عندیے ہیں۔۔۔ اور یہ کن کن

تقدیروں کی برکھا میرے

ڈرے ہوئے جی میں اتری ہے

کچھ تو بولو۔۔۔ تم کیوں ہنس دیں

اپنے بھرم پہ لجائی ہوئی اکھیو۔۔۔

مجید امجد

یہ دو پہیے۔۔۔

یہ دو پہیے ارض و سما ہیں

اور اس اپنی عمر کی سب تسکینیں بچھی پڑی ہیں ان سڑکوں پر

دو پہیوں کے ارض و سما کا جستی دستہ تھام کے میں نے

چلتے چلتے اکثر سوچا ہے، یہ سڑکیں بھی کتنی اچھی ہیں

ان کے باعث میرے دھیان میں آ جاتے ہیں وہ سب اچھے اچھے کام

اور اچھی اچھی باتیں

جن کی خاطر میں نے

ارض و سما کے پہیوں کو اس نیلی پٹڑی پر گرداں رکھا ہے

اور، اک عمر کے بعد، اب یہ سمجھا ہوں: دھوپ کی لو میں تپتی ہوئی یہ بجریلی

سطحیں اچھی ہیں ان لوگوں سے

جو ان پر چلتے ہیں۔۔۔ جن کے غرور کی جھوٹی ٹھنڈک کبھی بھی ان کے دلوں میں

نہیں پگھلتی۔۔۔

چلتے چلتے اکثر میں نے سوچا ہے، میں کن لوگوں کی دنیا میں ہوں

یہ سب کیسے لوگ ہیں، جن کی آنکھوں میں پتھرائے ہوئے پچھتاوے کبھی کبھی کروٹ نہیں بدلتے

لوگ جو اپنے سوا ہر اک شے کی جانب بے رخ ہیں

کس نے دیکھا، میرا دل تو بچھا ہوا ہے ان سڑکوں پر، ان بے رخ قدموں کے نیچے

کس نے دیکھے پہیے ارض و سما کے چلتے ہوئے ان بجریلی سطحوں پر

کس نے پہچانے وہ ہاتھ کہ جن کے بس میں ان پہیوں کی گردش کا ہر رخ ہے

اپنی دھن میں چلتے رہیو

چلتے پہیوں میں چکراتی ہیں جھنکاریں چلتے کُروں کی

پیڈل روک کے دیکھو، زنجیروں کے دندانوں میں کتے بول اٹھتے ہیں

مجید امجد

وہ تلوار ابھی۔۔۔

وہ تلوار ابھی تو اک فولادی خواب ہے تیرے ذہن کی ان تھک کارگہوں میں

اک دن جب یہ اصیل اور جوہردار عمل پارے آپس میں جڑ کر

تیرے دل کی نیام میں ڈھل جائیں گے

پھر جب اک دن یہ تلوار چلے گی۔۔۔

لیکن اس دن کے آنے تک۔۔۔ ابھی تو کچھ دن۔۔۔

لاکھوں روگوں والی نگری میں مٹی کی اس پٹڑی پر

اپنے دامن میں کیچڑ کے ان پھولوں کو لے کر چلنا ہو گا

ابھی تو اور بہت کچھ ہو گا

نیلی ٹین کی یہ چھت کڑکے گی اور سہما سہما وجود پچک جائے گا

باہر جانے کتنی آنکھیں ہنسیں گی اور جبڑے کھنکیں گے

ایسے میں تو گہری بنیادوں والے اک سانس کے بل پر ہی تو

ان سب کالی دنیاؤں کے بوجھ کو اپنے سر سے جھٹک سکے گا۔۔۔

لیکن ابھی تو سب کچھ اک فولادی خواب ہے تیرے ذہن کی ان تھک کارگہوں میں

ابھی تو ہر ہونی ان ہونی نظر آتی ہے

ابھی تو سب کچھ ہو سکتا ہے ۔۔۔

شاید تو تھک بھی جائے

شاید اپنے جی کے اسی جیالے پن میں تو جی بھی لے

مجید امجد

اپنے یہ ارمان۔۔۔

اپنے یہ ارمان تو سب غرضیں ہیں، کھری بھی اور کھوٹی بھی

ان سب غرضوں کی دھن اس کی دھن ہے

اور ہمارے خیالوں کے اندر تو بھونروں کی روحوں کے بھنور ہیں

امڈ امڈ کر اپنی غرض کی سیدھ میں ہم آتے ہیں

جو بھی رستہ کاٹے اس کو ہم ڈستے ہیں

پھر جب من کی باتیں پوری ہوتی نظر نہیں آتیں

ذہن ہمارا دنیا والوں کے بھیدوں کو پرکھنے لگ جاتا ہے

اک یہ پرکھ ہی تو ہے جو یوں نفرت سکھلاتی ہے

اپنی محرومی لاکھوں شاخوں والی اک قدر ہے جس کی

سب سے مقدس ٹہنی پر نفرت کا پھل لگتا ہے

میرا جی تو بھر بھی چکا اس پھل سے

کب تک دیکھوں میں ٹیڑھی پلکوں سے ان لوگوں کو

میری دید سے جو غافل ہیں

کیوں نہ بہا دوں اک تنکے کی طرح اس دنیا کو اس ندی میں جو

تیری روح کے باغوں میں بہتی ہے

منوا، آج تو تو نے یہ کیا سوچا

سدا پھلیں یہ تیری میٹھی سوچیں، مورکھ منوا!

مجید امجد

بندے

بندے

جب پلکوں کے جڑے جڑے گچھوں کے نیچے تیری آنکھوں میں اک لمبے گھیرے والے

عندیے کا ہلکا سا پھیرا پڑتا ہے۔۔۔

جب ایسے میں تیرے بھنچے ہوئے ہونٹوں پر ایک ارادے کا بوجھ آ پڑتا ہے

اور وہ ہونٹ آپس میں اور بھی دب جاتے ہیں

اور ٹھوڑی کے نیچے اطمینان کا اک لٹکاوا ابھر آتا ہے

تب تو تیرے گمان میں دنیا کے ہر ذرے پر تیرے چہرے کا سکہ ڈھل جاتا ہے

تب تو ڈرنے والے ڈر جاتے ہیں

اپنے غرور میں جینے والی مٹی کی اس اک مورت کو دیکھ کے

ڈرنے والے ڈر جاتے ہیں

اور میں اس تیری مورت کی بےعلمی سے ڈر جاتا ہوں

جس کو علم نہیں وہ کرنوں کی بوچھاڑ میں ہے اور ان جھالوں میں جھڑ جائے گی

اور یہ میرا ڈر ہی میری سب سے بڑی ڈھارس ہے، میری اس بےاطمینانی میں

تو میری اس ڈھارس سے ڈر، اپنے کالے ارادوں میں جینے والی مٹی کی مورت

مجید امجد

میری عمر اور میرے گھر۔۔۔

میری عمر اور میرے گھر سے باہر

اس دائم آباد محلے… اس اینٹوں کے ابد میں

وہ جو کچھ عمریں ہیں نیچی نیچی چھتوں کے نیچے۔۔۔

ان کی نمود اور ان کی نمو سے میری پلکوں میں ٹھنڈی ٹھنڈی سوجن ہے

ان کو دیکھ کے میں دنیا کو بوجھل بوجھل نظروں سے تکنے لگتا ہوں

کتنے اچھے تھے وہ میرے گزرے دن جو اب ان عمروں میں ہیں

جب یہ عمریں میرے گزرے دنوں سے گزر کر

اک دن میرے نہ ہونے میں ہوں گی

تو جانے میری بابت کیا سوچیں گی۔۔۔

اک یہ خیال آتے ہی میں نے اپنے گھر کی طرف دیکھا ہے

تو ان اینٹوں کی عمروں پر رشک آیا ہے

جیسے آج نقابوں میں یہ نظریں، بجلی کے ریشوں سے بنی ہوئی یہ خانے دار کمندیں

میری روح کو چھو کے پلٹ جاتی ہیں

ویسے ہی کل بھی شاید یہ نظریں اک بار اٹھیں ان اینٹوں کی جانب

اینٹوں کی یہ چادر جس کا اک پلو ہی باہر تیرے گا جب میرا پیکر

گارے کے گرداب میں ہو گا

پھر بھی آج تو سوکھے سوکھے حلق اور سوجی سوجی پلکوں سے

اس دنیا کو دیکھنے میں جو دکھ ہیں، جو ارمان ہیں، یہی تو عمروں کا حاصل ہیں

مجید امجد

زائر

ان کی جیبوں میں ہیں ارض و بقا کی کلیدیں

لیکن ان گچھوں کی ایک بھی چابی ان کے دل کے کالے تالے کو نہیں لگتی

اور وہ ننگے پیروں چل کر تیری چوکھٹ پر آتے ہیں

تیرے جلالت والے چتر کے آگے جھک جاتے ہیں

ان کی روح کے ایک پرانے گڑھے سے خلوص کا لاوا ابل پڑتا ہے

وہ روتے ہیں

تجھ سے مانگتے ہیں وہ سب کچھ، جس کو تو نے تیاگ دیا تھا

اور ادھر اک میں ہوں

کیسے مانگوں تجھ سے وہ دنیا جس کا سورج اک دن تیرے دل سے ابھرا تھا

اپنے پاس تو اس دنیا کی ٹکٹ کے پیسے بھی نہیں ہوتے

جس دن ہوں بھی، اس دن اپنا ارادہ بھی نہیں ہوتا

تیری نورانی مٹی سے باہر جو مٹی ہے

جانے اس مٹی میں کیسے کیسے کافر تیری محبت میں جیتے ہیں

تو نے دیکھا؟

مجید امجد

حضرت سید منظور حسین شاہ

میں نے اس کے ارادوں کا یہ سفر دیکھا ہے

ابھی ابھی وہ اس پُرنور حویلی میں تھا

جس کے گرد سنہرے گلابوں کے تختے تھے

اور اب وہ اس مٹی کے تابوت میں جا لیٹا ہے

میں نے دیکھا

اس نے اپنی اس اک عمر میں جتنی زندگیاں پائی تھیں

آج اس کی میّت کے ساتھ نہیں تھیں

وہ تو اب بھی سب کی سب اس دنیا میں ہیں

جو بھی چاہے ان کو چن لے اور آنکھوں سے لگا لے

مجید امجد

میٹنگ

ان کے جسموں کے پیچاک تو دیکھو

ان کے جسموں پر یہ زرہیں بھی تو دیکھو

سمٹے سمٹے لپیٹوں والی زرہیں

جن سے اپنے گمان میں وہ اپنی روحوں کی رکھوالی کرتے ہیں

سمٹے سمٹے لپیٹوں والی زرہیں

ان کی زرہیں تو ان کی سوچوں کے سمٹاوے ہیں

جن کے ذریعے

ہم پہ جھپٹنے سے پہلے وہ

اپنے آپ کو اپنی روح کے اک کونے میں سمیٹ لیا کرتے ہیں

اور پھر ان کے سب اعضا، سب عضلے

کسے کسے سے نظر آتے ہیں، جیسے رسّے

جیسے ابھی ابھی جب بٹے بٹے سے رسّوں کے یہ مٹّھے

کھل کر بکھریں گے تو اژدر بن جائیں گے

اس دن میں نے دیکھا جیسے

اک اک کرسی پر اک رسّوں کا مٹّھا بیٹھا ہو

مجید امجد

اے رے من ۔۔۔

اے رے من

تیرے بھی تو ہیں کیسے کیسے دکھاوے

آج تو میں نے بالکل واضح دیکھا۔۔۔ اس کا چہرہ

جسے وہ زندہ ہو۔۔۔

دھوپ میں ۔۔۔ چلتے چلتے ۔۔۔ میں نے دیکھا اس کا چہرہ ۔۔۔

چہرہ ۔۔۔ جیسے ہوا کی تہوں کا چھلکا۔۔۔

میں جس دھوپ میں تھا وہ دھوپ تھی اس کے گرد اک چھتری

جس کی چمک میں

چینہ چینہ چیچک سے وہ چہرہ ویسا ہی چترک تھا

جیسا دنیا میں تھا۔۔۔

اور وہ دانے اب بھی چمکتے چمکتے بھلے لگتے تھے

جانے اب وہ کس دنیا میں۔۔۔ کچی اینٹوں کی چھتری والے کون سے گھر میں

کن اندھیاروں میں ہو۔۔۔

وہ… جس کی بابت سوچوں تو سینے میں اک جھلی تپ جاتی ہے

وہ جو مٹی میں اب مٹی کا چھلکا ہے ۔۔۔

۔۔۔ مٹی جس پر بارش کے دانوں کے دھبے ہیں ۔۔۔

شاید تیرا ہی یہ پاگل پن تھا۔۔۔ کون اب اس کو دیکھ سکے گا

اے رے من

تیرے بھی تو ہیں کیسے کیسے دکھاوے

تجھ پر ہنسنے کو جی چاہا

ورنہ یوں کوئی یاد آئے تو آنسو کس سے رک سکتے ہیں

مجید امجد

مرے ہوئے اس اک ڈھانچے۔۔۔

مرے ہوئے اس اک ڈھانچے کے حق میں—

یہی تو ہے بس سارا غم اور سب اندوہ

یہی تو ہے اک دکھ کی صورت، ظاہر میں —

اور سارے مظاہر میں

سامنے والے دانتوں کے اندر کی طرف

جیبھ کی نوک مسوڑھوں کی سوجن کو اک دو بار چھوئے

بڑا کرم ہو اگر آنکھوں پر پلکیں بھی کچھ جھک آئیں

اشکوں کو تو دور سے آنا ہوتا ہے

اور ان کے آنے سے پہلے آپ کو جانے کی بھی جلدی ہے

تو بس اتنا کچھ ہی کافی ہے

اتنا کچھ ہی تو ہوتے ہیں سارے غم اور سارے سوگ

چہرے پر اک لمبی پیلاہٹ

اور ایسے میں جیبھ کی نوک مسوڑھوں سے یوں چپک چپک کے گرے

جیسے اک بے حرف آواز کہے

’’کتنا اچھا آدمی تھا۔۔۔ ‘‘

ذرا سے اپنے اس اک استحقاق کی خاطر آج تو میں نے مر کر بھی دیکھا

ایسا وقت جب آئے تو آپ اتنا کچھ تو کیجیے گا

اپنی اس

کم فرصت رنجوری کے باوصف

مجید امجد

گہرے بھیدوں والے

گہرے بھیدوں والے، تیرا سحر ہی مجھ کو بجھائے یہ اک بات۔۔۔

۔۔۔ بات ایک یہ بات کہ اپنے پاس ہے جو کچھ سب ہے تیری دین

اور پھر ۔۔۔ اک یہ برتا بھی تو تیری دین ہے جس پر ہم

اپنے آپ میں تل کر جیتے ہیں

کبھی کبھی تو اپنے آپ میں بھر جاتے ہیں ایک ہی ٹھنڈی سانس کے ساتھ

میلے من کی بھروائی

تو نے ہم کو سونپا بھی تو اک یہ کیسا کام

بیٹھے ہیں

آنکھیں روح کے بوجھ سے ابلی پڑتی ہیں

کہیں پپوٹوں میں ہے اپنے وجود کے ریزے کا اٹکاؤ سا

اب کیا ہو سکتا ہے، اپنے جواز کے آگے اپنی سب تردیدیں بے بس ہیں

اندر ہی اندر کوئی شے تالو سے ٹکرائی ہے

ہم کہتے ہیں: ’’اب تک ۔۔۔ ٹھیک ہے! ۔۔۔ آگے ۔۔۔ دیکھیں گے!‘‘

جانے یوں کن کن بھیدوں کی کٹھالی میں تو ہمیں پرکھتا ہے

جانے یہ بھی اک کیا بھید ہے، یہ جو میری بابت گمان کا ایک دکھاوا سا

میرے ذہن سے گزرا ہے!

مجید امجد

بہار کی چڑیا

اس کا سرما سارا گزرا دور کہیں اک دھوپ کے گھر میں ۔۔۔

سرما جو اس کا بچپن تھا۔۔۔

اب جب دن بدلے ہیں اور ہوا کی ردا سے برف کے ٹانکے ادھڑنے لگے ہیں

نئی رتوں کی یہ بنجارن بھی دیواروں سے ٹکراتی

آ نکلی ہے، اپنے منگیتر کے ساتھ، اس کمرے میں

اڑتی چہکتی گاتی

چوں چوں، چچ چچ

آہا، یہ بھی کیسا اک بسرام ہے، روزن جن میں خوشیاں پنکھ سمیٹ کے چہکیں

آنگن جن میں پھول اور ریزۂ زر کا ارزن

پل بھر تو اس طاق پہ بیٹھیں، چوں چوں، چچ چچ

لیکن اے ہے، کون ہے یہ اس شیش محلکے میں اس جیسی

کون ہے پہلے سے یہ بیرن

جھپٹ جھپٹ کر اس نے اس چہرے پر کالک مل دی

اور اب وہ اور اس کا منگیتر دونوں

گلے پھلا کر، کتنے تاؤ میں اس بےعکس آئینے کے آگے بیٹھے ہیں

باغی جو ہر دور میں اپنے سائے سے لڑنے آتے ہیں

مجید امجد

اے ری چڑیا

جانے اس روزن میں بیٹھے بیٹھے

تو کس دھیان میں تیری، چڑیا، اے ری چڑیا!

بیٹھے بیٹھے تو نے کتنی لاج سے دیکھا

پیتل کے اس اک تل کو جو تیری ناک میں ہے

اپنی پت پر یوں مت ریجھ، خبر ہے، باہر

اک اک ڈاین آنکھ کی پتلی تیری تاک میں ہے

تجھ کو یوں چمکارنے والوں میں ہے اک جگ تیرا بیری

چڑیا، اے ری چڑیا

بھولی، تو یوں اڑتی، پنکھ جھپکتی

یہاں کہاں آ ٹھہری، چڑیا، اے ری چڑیا

یہ تو میرے دل کا پنجرا ہے، تو اس میں

اپنی ٹوٹی پھوٹی خوشیاں ڈھونڈنے آئی ہے؟

پگلی، یہاں تو ہے ہیرے کی کنی کا چوگا

اور اک زخمی سانس اور پنجرے کی انگنائی ہے!

اڑ اور مہکی ہوئی بن بیلڑیوں میں

جاچن اپنی لے ری چڑیا، اے ری چڑیا!

مجید امجد

اُن لوگوں کے اندر ۔۔۔

ان لوگوں کے اندر جن کے اندر میں بھی ہوں

میرے برعکس، ایسے بھی

ہیں کچھ لوگ

جن کی باتوں کے کچھ سچے روپ ان کے حربے ہیں

لیکن یہ سچ ان کا نہیں ہوتا

یہ سچ اوروں سے چھینا ہوا ہوتا ہے

اپنے جھوٹ اور اپنی بدی کو چھپانے کی خاطر

وہ اوروں کی اک اک اچھائی کو ہتھیا لیتے ہیں

اور پھر اس ہتھیار کو لے کر جب وہ چلتے ہیں

ساری دنیا ان سے ڈرتی ہے

یہ بھی کیسا زمانہ ہے

جب اچھوں کی سب اچھائیاں، بروں کے ہاتھوں میں حربے ہیں

سچے لوگ اگر جیوٹ ہوں، کون ان کے منہ آئے گا

جھوٹ کے اس تالاب کے سب کچھوے

اپنے اپنے خول میں، اپنے اپنے کالے ضمیروں میں

چھپ جائیں گے

مجید امجد

چھٹی کے دن

چھٹی کے دن گھر سے تو وہ اس کارن نکلا تھا

ذرا گلی کے ہٹّی والے سے کچھ سودا سلف خریدے

اور پھر آ کر ترشے ہوئے کرداروں کے میلے میں گھومے ۔۔۔

اس میلے میں وہ سب کچھ تھا

اس میلے کے باہر تو وہ اپنے آپ سے بھی چھپتا تھا

میں بھی اس میلے کے باہر اس سے پہلی بار ملا تھا

اس کے سان گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی، یوں میں اک دن، اتنے قریب سے

اس کی زمینی آنکھیں، اس کے نیلے چپٹے ہونٹ اور اس کے رخساروں کے

میلے ڈھیلے گول مسام بھی دیکھ سکوں گا

لیکن وہ نہیں جھجکا

میں ہی اس کے اصلی روپ کو دیکھ کے سہم گیا تھا

اُس کے گرد تو اک وہ مکر کا ہالا ہی اچھا تھا

یہ سوچا اور اس سے رخصت چاہی

اس دن شام کو پھر میلے میں اس سے ملا میں۔۔۔

میں نے اس کو پایا سارے حربوں سے مسلح

چہرے پر اکسائے ہوئے کچھ ایسے تیور

جیسے وہ بس کاٹھ کی روٹی اور پرنور خیالوں پر زندہ ہو

مجید امجد

جدھر جدھر بھی۔۔۔

جدھر جدھر بھی دیکھو۔۔۔

ہر سو پھول ہیں، کانٹے ہیں، کرنیں ہیں، اندھیارا ہے

پھر یہ سب کچھ ۔۔۔ اک اک راحت، اک اک جھنجھٹ ۔۔۔ آپس میں گڈمڈ ہے،

اور یہ سب کچھ مجھ کو گھیرے ہوئے ہے

ہر دم ایک عجیب پریشانی ہے جس کے باعث

اپنے جی میں لہو کے پسینوں کی ٹھنڈک ہے

کتنے اچھے ہیں یہ سب الجھیڑے

سمے کی رو میں دھب دھب چلتے دھندے

کتنی بھلی ہے اک یہ بےمصرف سی مصروفیت

ذہن پہ اک یہ پردہ جس کے اوجھل ہیں وہ باتیں

جن کا دھیان بھی مجھ کو سب خوشیوں سے نا خوش کر سکتا ہے

دھیان ان کا جن کے قدموں کے نیچے میرے باطن کی مٹی ہے

اک دن یہ مٹی ان کے قدموں کے نیچے سے سرک گئی ۔۔۔ تو۔۔۔

مجید امجد

دُور، اُدھر۔۔۔

دُور، اُدھر اس سامنے والے رستے سے جب

آپس میں ٹکراتی آوازوں کی لہر اچھل کر میری جانب والے رستے تک آئی

بیچ میں نیچے پانی تھا ۔۔۔

بیچ میں نیچے اک میدان اور اس میں گھاس اور پودے اور سب کچھ پانی میں تھا

ٹھنڈی رات کے سائے تھے

سامنے والے اس رستے سے آوازوں کی گونج جب اچھلی، نیچے پانی تھا

رات کے سایوں میں اس پانی پر اک چوٹ سی پڑتی تھی

تیزی سے اِک آہٹ ڈبکی بھرتی تیر کے بڑھتی تھی

گیلے گیلے پہناووں کو جھٹکتی کیچڑ میں تھپ تھپ چلتی تھی

مجید امجد

ایک صبح۔۔۔ سٹیڈیم ہوٹل میں

یوں تو اس چوکور تپائی کی اس سادہ سی بیٹھک میں کیا رکھا ہے

لکڑی کی اک عام سی شے ہے، پڑی ہے

یوں تو اس پر رکھے ہوئے گلدان میں کیا رکھا ہے

پیلے پیلے سے کچھ تازہ پھول ضرورہیں اس میں

پھول تو گلدانوں میں ہوتے ہی ہیں

اور پھر اس چوکور تپائی پہ گرنے والا ہوا کا ترچھا جھرنا

جس میں دھوپ کی نازک سی جھلکی سونے کا رنگ بکھیر گئی ہے

خیر، یہ دھوپ کی رنگت بھی تو جگہ جگہ ہے

لیکن یہ سب چیزیں، اور یہ چاروں خالی کرسیاں، اور یہ سب کچھ، مل کر

ایک عجیب آسودہ سی ترتیب ہے، ساکت ساکت

میرا ذہن کچھ اتنا الجھا ہوا ہے، مجھ کو چیزوں کی ترتیب اچھی لگتی ہے

جانے کون یہاں آ کر بیٹھے گا ۔۔۔

سب کچھ اک آنے والے اچھے سمے کا ان ہونا پن ہے!

مجید امجد