زمرہ جات کے محفوظات: اساتذہ

جس کوچے میں وہ بت صد بدنام نہیں رکھتا

دیوان اول غزل 36
ایسی گلی اک شہر اسلام نہیں رکھتا
جس کوچے میں وہ بت صد بدنام نہیں رکھتا
آزار نہ دے اپنے کانوں کے تئیں اے گل
آغاز مرے غم کا انجام نہیں رکھتا
ناکامی صد حسرت خوش لگتی نہیں ورنہ
اب جی سے گذر جانا کچھ کام نہیں رکھتا
ہو خشک تو بہتر ہے وہ ہاتھ بہاراں میں
مانند نئے نرگس جو جام نہیں رکھتا
بن اس کی ہم آغوشی بیتاب نہیں اب ہے
مدت سے بغل میں دل آرام نہیں رکھتا
میں داڑھی تری واعظ مسجد ہی میں منڈواتا
پر کیا کروں ساتھ اپنے حجام نہیں رکھتا
وہ مفلس ان آنکھوں سے کیونکر کے بسر آوے
جو اپنی گرہ میں اک بادام نہیں رکھتا
کیا بات کروں اس سے مل جائے جو وہ میں تو
اس ناکسی سے روے دشنام نہیں رکھتا
یوں تو رہ و رسم اس کو اس شہر میں سب سے ہے
اک میر ہی سے خط و پیغام نہیں رکھتا
میر تقی میر

خاک افتادہ ہوں میں بھی اک فقیر اللہ کا

دیوان اول غزل 35
مت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمال راہ کا
خاک افتادہ ہوں میں بھی اک فقیر اللہ کا
سینکڑوں طرحیں نکالیں یار کے آنے کی لیک
عذر ہی جا ہے چلا اس کے دل ناخواہ کا
گر کوئی پیرمغاں مجھ کو کرے تو دیکھے پھر
میکدہ سارے کا سارا صرف ہے اللہ کا
کاش تیرے غم رسیدوں کو بلاویں حشر میں
ظلم ہے یک خلق پرآشوب ان کی آہ کا
جو سنا ہشیار اس میخانے میں تھا بے خبر
شوق ہی باقی رہا ہم کو دل آگاہ کا
باندھ مت رونے کا تار اے ناقباحت فہم چشم
اس سے پایا جائے ہے سر رشتہ جی کی چاہ کا
شیخ مت کر ذکر ہر ساعت قیامت کا کہ ہے
عرصۂ محشر نمونہ اس کی بازی گاہ کا
شہر میں کس منھ سے آوے سامنے تیرے کہ شوخ
جھائیوں سے بھر رہا ہے سارا چہرہ ماہ کا
سرفرو لاتی نہیں ہمت مری ہر اک کے پاس
ہوں گداے آستاں میں میر حضرت شاہ کا
میر تقی میر

قافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا

دیوان اول غزل 34
کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا
قافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا
بے کسی مدت تلک برسا کی اپنی گور پر
جو ہماری خاک پر سے ہوکے گذرا رو گیا
کچھ خطرناکی طریق عشق میں پنہاں نہیں
کھپ گیا وہ راہرو اس راہ ہوکر جوگیا
مدعا جو ہے سو وہ پایا نہیں جاتا کہیں
ایک عالم جستجو میں جی کو اپنے کھو گیا
میر ہر یک موج میں ہے زلف ہی کا سا دماغ
جب سے وہ دریا پہ آکر بال اپنے دھو گیا
میر تقی میر

غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا

دیوان اول غزل 33
اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا
غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں
کب درمیاں سے وعدئہ دیدار جائے گا
چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا
بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا
دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو
جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا
آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا
زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا
باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا
لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب
اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر
کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا
کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میر
اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا
میر تقی میر

اک مغبچہ اتار کے عمامہ لے گیا

دیوان اول غزل 32
مفت آبروے زاہد علامہ لے گیا
اک مغبچہ اتار کے عمامہ لے گیا
داغ فراق و حسرت وصل آرزوے شوق
میں ساتھ زیر خاک بھی ہنگامہ لے گیا
پہنچا نہ پہنچا آہ گیا سو گیا غریب
وہ مرغ نامہ بر جو مرا نامہ لے گیا
اس راہزن کے ڈھنگوں سے دیوے خدا پناہ
اک مرتبہ جو میر جی کا جامہ لے گیا
میر تقی میر

فرق نکلا بہت جو باس کیا

دیوان اول غزل 31
گل کو محبوب ہم قیاس کیا
فرق نکلا بہت جو باس کیا
دل نے ہم کو مثال آئینہ
ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن
شوق نے ہم کو بے حواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے
قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے
ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کو دھنتی رہی
کیا پتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں
سو ترے ظلم نے نراس کیا
دیکھا ڈھہتا ہے جن نے خانہ بنا
زیر افلاک سست اساس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں
میر کو تم عبث اداس کیا
میر تقی میر

یا تو بیگانے ہی رہیے ہوجیے یا آشنا

دیوان اول غزل 30
کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنا
یا تو بیگانے ہی رہیے ہوجیے یا آشنا
پائمال صد جفا ناحق نہ ہو اے عندلیب
سبزئہ بیگانہ بھی تھا اس چمن کا آشنا
کون سے یہ بحرخوبی کی پریشاں زلف ہے
آتی ہے آنکھوں میں میری موج دریا آشنا
رونا ہی آتا ہے ہم کو دل ہوا جب سے جدا
جاے رونے ہی کی ہے جاوے جب ایسا آشنا
ناسمجھ ہے تو جو میری قدر نئیں کرتا کہ شوخ
کم بہت ملتا ہے پھر دلخواہ اتنا آشنا
بلبلیں پائیز میں کہتی تھیں ہوتا کاشکے
یک مژہ رنگ فراری اس چمن کا آشنا
کو گل و لالہ کہاں سنبل سمن ہم نسترن
خاک سے یکساں ہوئے ہیں ہائے کیا کیا آشنا
کیا کروں کس سے کہوں اتنا ہی بیگانہ ہے یار
سارے عالم میں نہیں پاتے کسی کا آشنا
جس سے میں چاہی وساطت ان نے یہ مجھ سے کہا
ہم تو کہتے گر میاں ہم سے وہ ہوتا آشنا
یوں سنا جا ہے کہ کرتا ہے سفر کا عزم جزم
ساتھ اب بیگانہ وضعوں کے ہمارا آشنا
شعر صائبؔ کا مناسب ہے ہماری اور سے
سامنے اس کے پڑھے گر یہ کوئی جا آشنا
تابجاں ما ہمرہیم و تا بمنزل دیگراں
فرق باشد جان ما از آشنا تا آشنا
داغ ہے تاباں علیہ الرحمہ کا چھاتی پہ میر
ہو نجات اس کو بچارا ہم سے بھی تھا آشنا
میر تقی میر

مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا

دیوان اول غزل 29
دل میں بھرا زبسکہ خیال شراب تھا
مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا
موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو
جانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم
صحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا
ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں
جس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا
دل جو نہ تھا تو رات زخودرفتگی میں میر
گہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا
میر تقی میر

آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا

دیوان اول غزل 28
شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا
آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا
کثرت میں درد و غم کی نہ نکلی کوئی طپش
کوچہ جگر کے زخم کا شاید کہ تنگ تھا
لایا مرے مزار پہ اس کو یہ جذب عشق
جس بے وفا کو نام سے بھی میرے ننگ تھا
دیکھا ہے صید گہ میں ترے صید کا جگر
باآنکہ چھن رہا تھا پہ ذوق خدنگ تھا
دل سے مرے لگا نہ ترا دل ہزار حیف
یہ شیشہ ایک عمر سے مشتاق سنگ تھا
مت کر عجب جو میر ترے غم میں مر گیا
جینے کا اس مریض کے کوئی بھی ڈھنگ تھا
میر تقی میر

جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا

دیوان اول غزل 27
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا
جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا
جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار
ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا
کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا
رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر
اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر
کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم
قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے
تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک
مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے
فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا
عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں
رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میر کا
میر تقی میر

دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

دیوان اول غزل 26
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
قسم جو کھایئے تو طالع زلیخا کی
عزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا
خراب رہتے تھے مسجد کے آگے میخانے
نگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا
وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھی
نہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا
مزا دکھا دیں گے بے رحمی کا تری صیاد
گر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میر
پہ میرے شور نے روے زمیں تمام لیا
میر تقی میر

القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا

دیوان اول غزل 25
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا
القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید
خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے
جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو
یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے
پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی
ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا
اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے
وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو
احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے اس کو
سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر
طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے
ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو
اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے
ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا
سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے
اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بدزباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری
کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی
گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میر سے کیا کوئی نظر پڑا ہے
چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
میر تقی میر

اس دل نے ہم کو آخر یوں خاک میں ملایا

دیوان اول غزل 24
مارا زمیں میں گاڑا تب اس کو صبر آیا
اس دل نے ہم کو آخر یوں خاک میں ملایا
اس گل زمیں سے اب تک اگتے ہیں سرو مائل
مستی میں جھکتے جس پر تیرا پڑا ہے سایا
یکساں ہے قتل گہ اور اس کی گلی تو مجھ کو
واں خاک میں میں لوٹا یاں لوہو میں نہایا
پوجے سے اور پتھر ہوتے ہیں یہ صنم تو
اب کس طرح اطاعت ان کی کروں خدایا
تا چرخ نالہ پہنچا لیکن اثر نہ دیکھا
کرنے سے اب دعا کے میں ہاتھ ہی اٹھایا
تیرا ہی منھ تکے ہے کیا جانیے کہ نوخط
کیا باغ سبز تونے آئینے کو دکھایا
شادابی و لطافت ہرگز ہوئی نہ اس میں
تیری مسوں پہ گرچہ سبزے نے زہر کھایا
آخر کو مر گئے ہیں اس کی ہی جستجو میں
جی کے تئیں بھی کھویا لیکن اسے نہ پایا
لگتی نہیں ہے دارو ہیں سب طبیب حیراں
اک روگ میں بساہا جی کو کہاں لگایا
کہہ ہیچ اس کے منھ کو جی میں ڈرا یہاں تو
بارے وہ شوخ اپنی خاطر میں کچھ نہ لایا
ہونا تھا مجلس آرا گر غیر کا تجھے تو
مانند شمع مجھ کو کاہے کے تیں جلایا
تھی یہ کہاں کی یاری آئینہ رو کہ تونے
دیکھا جو میر کو تو بے ہیچ منھ بنایا
میر تقی میر

القصہ میر کو ہم بے اختیار پایا

دیوان اول غزل 23
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا
القصہ میر کو ہم بے اختیار پایا
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے
افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
چیتے جو ضعف ہوکر زخم رسا سے اس کے
سینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا
شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں
آخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا
اتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھوکے روتے
جیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا
کیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھا
جس نے جہاں میں آکر کچھ اعتبار پایا
آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میر سے شب
واں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا
میر تقی میر

تا بہ روح الامیں شکار ہوا

دیوان اول غزل 22
سنیو جب وہ کبھو سوار ہوا
تا بہ روح الامیں شکار ہوا
اس فریبندہ کو نہ سمجھے آہ
ہم نے جانا کہ ہم سے یار ہوا
نالہ ہم خاکساروں کا آخر
خاطر عرش کا غبار ہوا
جو نہ کہنا تھا سو بھی میں نے کہا
دل کی بے طاقتی سے خوار ہوا
پھر گیا ہے زمانہ کیا کہ مجھے
ہوتے خوار ایک روزگار ہوا
مر چلے بے قرار ہوکر ہم
اب تو تیرے تئیں قرار ہوا
وہ جو خنجر بکف نظر آیا
میر سو جان سے نثار ہوا
میر تقی میر

نکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا

دیوان اول غزل 21
مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا
نکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا
پیدا ہے کہ پنہاں تھی آتش نفسی میری
میں ضبط نہ کرتا تو سب شہر یہ جل جاتا
میں گریۂ خونیں کو روکے ہی رہا ورنہ
اک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتا
بن پوچھے کرم سے وہ جو بخش نہ دیتا تو
پرسش میں ہماری ہی دن حشر کا ڈھل جاتا
استادہ جہاں میں تھا میدان محبت میں
واں رستم اگر آتا تو دیکھ کے ٹل جاتا
وہ سیر کا وادی کے مائل نہ ہوا ورنہ
آنکھوں کو غزالوں کی پائوں تلے مل جاتا
بے تاب و تواں یوں میں کا ہے کو تلف ہوتا
یاقوتی ترے لب کی ملتی تو سنبھل جاتا
اس سیم بدن کو تھی کب تاب تعب اتنی
وہ چاندنی میں شب کی ہوتا تو پگھل جاتا
مارا گیا تب گذرا بوسے سے ترے لب کے
کیا میر بھی لڑکا تھا باتوں میں بہل جاتا
میر تقی میر

برقع سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا

دیوان اول غزل 20
گل شرم سے بہ جائے گا گلشن میں ہوکر آب سا
برقع سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا
گل برگ کا یہ رنگ ہے مرجاں کا ایسا ڈھنگ ہے
دیکھو نہ جھمکے ہے پڑا وہ ہونٹ لعل ناب سا
وہ مایۂ جاں تو کہیں پیدا نہیں جوں کیمیا
میں شوق کی افراط سے بیتاب ہوں سیماب سا
دل تاب ہی لایا نہ ٹک تا یاد رہتا ہم نشیں
اب عیش روز وصل کا ہے جی میں بھولا خواب سا
سناہٹے میں جان کے ہوش و حواس و دم نہ تھا
اسباب سارا لے گیا آیا تھا اک سیلاب سا
ہم سرکشی سے مدتوں مسجد سے بچ بچ کر چلے
اب سجدے ہی میں گذرے ہے قد جو ہوا محراب سا
تھی عشق کی وہ ابتدا جو موج سی اٹھی کبھو
اب دیدئہ تر کو جو تم دیکھو تو ہے گرداب سا
بہکے جو ہم مست آگئے سو بار مسجد سے اٹھا
واعظ کو مارے خوف کے کل لگ گیا جلاب سا
رکھ ہاتھ دل پر میر کے دریافت کر کیا حال ہے
رہتا ہے اکثر یہ جواں کچھ ان دنوں بیتاب سا
میر تقی میر

پتھر تلے کا ہاتھ ہی اپنا نکالتا

دیوان اول غزل 19
فرہاد ہاتھ تیشے پہ ٹک رہ کے ڈالتا
پتھر تلے کا ہاتھ ہی اپنا نکالتا
بگڑا اگر وہ شوخ تو سنیو کہ رہ گیا
خورشید اپنی تیغ و سپر ہی سنبھالتا
یہ سر تبھی سے گوے ہے میدان عشق کا
پھرتا تھا جن دنوں میں تو گیندیں اچھالتا
بن سر کے پھوڑے بنتی نہ تھی کوہکن کے تیں
خسرو سے سنگ سینہ کو کس طور ٹالتا
چھاتی سے ایک بار لگاتا جو وہ تو میر
برسوں یہ زخم سینے کا ہم کو نہ سالتا
میر تقی میر

گل اک چمن میں دیدئہ بے نور ہو گیا

دیوان اول غزل 18
آگے جمال یار کے معذور ہو گیا
گل اک چمن میں دیدئہ بے نور ہو گیا
اک چشم منتظر ہے کہ دیکھے ہے کب سے راہ
جوں زخم تیری دوری میں ناسور ہو گیا
قسمت تو دیکھ شیخ کو جب لہر آئی تب
دروازہ شیرہ خانے کا معمور ہو گیا
پہنچا قریب مرگ کے وہ صید ناقبول
جو تیری صیدگاہ سے ٹک دور ہو گیا
دیکھا یہ ناونوش کہ نیش فراق سے
سینہ تمام خانۂ زنبور ہو گیا
اس ماہ چاردہ کا چھپے عشق کیونکے آہ
اب تو تمام شہر میں مشہور ہو گیا
شاید کسو کے دل کو لگی اس گلی میں چوٹ
میری بغل میں شیشۂ دل چور ہو گیا
لاشہ مرا تسلی نہ زیر زمیں ہوا
جب تک نہ آن کر وہ سر گور ہو گیا
دیکھا جو میں نے یار تو وہ میر ہی نہیں
تیرے غم فراق میں رنجور ہو گیا
میر تقی میر

اپنی زنجیر پا ہی کا غل تھا

دیوان اول غزل 17
جب جنوں سے ہمیں توسل تھا
اپنی زنجیر پا ہی کا غل تھا
بسترا تھا چمن میں جوں بلبل
نالہ سرمایۂ توکل تھا
یک نگہ کو وفا نہ کی گویا
موسم گل صفیر بلبل تھا
ان نے پہچان کر ہمیں مارا
منھ نہ کرنا ادھر تجاہل تھا
شہر میں جو نظر پڑا اس کا
کشتۂ ناز یا تغافل تھا
اب تو دل کو نہ تاب ہے نہ قرار
یاد ایام جب تحمل تھا
جا پھنسا دام زلف میں آخر
دل نہایت ہی بے تامل تھا
یوں گئی قد کے خم ہوئے جیسے
عمر اک رہرو سر پل تھا
خوب دریافت جو کیا ہم نے
وقت خوش میر نکہت گل تھا
میر تقی میر

شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا

دیوان اول غزل 16
حال دل میر کا رو رو کے سب اے ماہ سنا
شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا
نابلد ہو کے رہ عشق میں پہنچوں تو کہیں
ہمرہ خضر کو یاں کہتے ہیں گمراہ سنا
کوئی ان طوروں سے گذرے ہے ترے غم میں مری
گاہ تونے نہ سنا حال مرا گاہ سنا
خواب غفلت میں ہیں یاں سب تو عبث جاگا میر
بے خبر دیکھا انھیں میں جنھیں آگاہ سنا
میر تقی میر

آپڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا

دیوان اول غزل 15
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا
آپڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ
ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا
بدرساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ
ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا
کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں
بیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا
گرمی اس آتش کے پرکالے سے رکھے چشم تب
جب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا
ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کی
کاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا
سوکھتے ہی آنسوئوں کے نور آنکھوں کا گیا
بجھ ہی جاتے ہیں دیے جس وقت سب روغن جلا
شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سے
دوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا
آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میر
دے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا
میر تقی میر

جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا

دیوان اول غزل 14
بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا
جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا
پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایا
اپنے کیے کا ان نے ثمرہ شتاب دیکھا
دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہے
تیرے بلاکشوں کا ہم نے حساب دیکھا
آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدت
اس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا
یوں خاک میں ملا یاں اس بن کہ کچھ نہ پوچھو
اس ظلم دیدہ دل کا ہم اضطراب دیکھا
واعظ زبون مت کہہ میخانے کو کہ اس جا
پیراہن نکویاں رہن شراب دیکھا
لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے ہو
ہے خیر میر صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا
میر تقی میر

سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا

دیوان اول غزل 13
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا
سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
الجھائو پڑ گیا جو ہمیں اس کے عشق میں
دل سا عزیز جان کا جنجال ہو گیا
کیا امتداد مدت ہجراں بیاں کروں
ساعت ہوئی قیامت و مہ سال ہو گیا
دعویٰ کیا تھا گل نے ترے رخ سے باغ میں
سیلی لگی صبا کی سو منھ لال ہو گیا
قامت خمیدہ رنگ شکستہ بدن نزار
تیرا تو میر غم میں عجب حال ہو گیا
میر تقی میر

حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا

دیوان اول غزل 12
منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا
حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
تھے برے مغبچوں کے تیور لیک
شیخ میخانے سے بھلا کھسکا
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب
ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
بحر کم ظرف ہے بسان حباب
کاسہ لیس اب ہوا ہے تو جس کا
فیض اے ابر چشم تر سے اٹھا
آج دامن وسیع ہے اس کا
تاب کس کو جو حال میر سنے
حال ہی اور کچھ ہے مجلس کا
میر تقی میر

کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

دیوان اول غزل 11
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
شرمندہ ترے رخ سے ہے رخسار پری کا
چلتا نہیں کچھ آگے ترے کبک دری کا
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی
اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا
ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا
انصاف طلب ہے تری بے داد گری کا
اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو
آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا
صد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گذرے
مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا
اس رنگ سے جھمکے ہے پلک پر کہ کہے تو
ٹکڑا ہے مرا اشک عقیق جگری کا
کل سیر کیا ہم نے سمندر کو بھی جاکر
تھا دست نگر پنجۂ مژگاں کی تری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کار گہ شیشہ گری کا
ٹک میر جگر سوختہ کی جلد خبر لے
کیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا
میر تقی میر

ہم خاک کے آسودوں کو آرام نہ آیا

دیوان اول غزل 10
تا گور کے اوپر وہ گل اندام نہ آیا
ہم خاک کے آسودوں کو آرام نہ آیا
بے ہوش مئے عشق ہوں کیا میرا بھروسا
آیا جو بخود صبح تو میں شام نہ آیا
کس دل سے ترا تیر نگہ پار نہ گذرا
کس جان کو یہ مرگ کا پیغام نہ آیا
دیکھا نہ اسے دور سے بھی منتظروں نے
وہ رشک مہ عید لب بام نہ آیا
سو بار بیاباں میں گیا محمل لیلیٰ
مجنوں کی طرف ناقہ کوئی گام نہ آیا
اب کے جو ترے کوچے سے جائوں گا تو سنیو
پھر جیتے جی اس راہ وہ بدنام نہ آیا
نے خون ہو آنکھوں سے بہا ٹک نہ ہوا داغ
اپنا تو یہ دل میر کسو کام نہ آیا
میر تقی میر

وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا

دیوان اول غزل 9
دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا
وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا
وعدہ تو کیا اس سے دم صبح کا لیکن
اس دم تئیں مجھ میں بھی اگر جان رہے گا
منعم نے بنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایا
پر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا
چھوٹوں کہیں ایذا سے لگا ایک ہی جلاد
تاحشر مرے سر پہ یہ احسان رہے گا
چمٹے رہیں گے دشت محبت میں سر و تیغ
محشر تئیں خالی نہ یہ میدان رہے گا
جانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہرگز
تاحشر جہاں میں مرا دیوان رہے گا
دل دینے کی ایسی حرکت ان نے نہیں کی
جب تک جیے گا میر پشیمان رہے گا
میر تقی میر

جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا

دیوان اول غزل 8
چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا
جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا
فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کر
برنگ سبزئہ نورستہ پائمال کیا
رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقی
سو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا
مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدم
نہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا
بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کو
چمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا
جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف
کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تونے
جو کچھ کہ میر کا اس عاشقی نے حال کیا
میر تقی میر

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

دیوان اول غزل 7
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا
حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی
ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں
بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا
سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی
کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا
کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام
کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا
شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا میخانے میں
جبہ خرقہ کرتا ٹوپی مستی میں انعام کیا
کاش اب برقع منھ سے اٹھا دے ورنہ پھر کیا حاصل ہے
آنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا
یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا
صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی
رخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا
ساعد سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لاکر چھوڑ دیے
بھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیال خام کیا
کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سے
استغنا کی چوگنی ان نے جوں جوں میں ابرام کیا
ایسے آہوے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا
میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا
میر تقی میر

کہ ہمسائگاں پر ترحم کیا

دیوان اول غزل 6
شب ہجر میں کم تظلم کیا
کہ ہمسائگاں پر ترحم کیا
کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
زمانے نے مجھ جرعہ کش کو ندان
کیا خاک و خشت سر خم کیا
جگر ہی میں یک قطرہ خوں ہے سرشک
پلک تک گیا تو تلاطم کیا
کسو وقت پاتے نہیں گھر اسے
بہت میر نے آپ کو گم کیا
میر تقی میر

چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا

دیوان اول غزل 5
اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
امیدوار وعدئہ دیدار مر چلے
آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا
کب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیں
کچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا
اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیں
معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا
بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل
اے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف
اے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا
تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میر پر
کیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا
میر تقی میر

دامن تر کا مرے دریا ہی کا سا پھیر تھا

دیوان اول غزل 4
جامۂ مستی عشق اپنا مگر کم گھیر تھا
دامن تر کا مرے دریا ہی کا سا پھیر تھا
دیر میں کعبے گیا میں خانقہ سے اب کی بار
راہ سے میخانے کی اس راہ میں کچھ پھیر تھا
بلبلوں نے کیا گل افشاں میر کا مرقد کیا
دور سے آیا نظر تو پھولوں کا اک ڈھیر تھا
میر تقی میر

یاددہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا

دیوان اول غزل 3
نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا
یاددہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا
لطف اگر یہ ہے بتاں صندل پیشانی کا
حسن کیا صبح کے پھر چہرئہ نورانی کا
کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے
حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا
درہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میں
سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا
جان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں کیا کیا
تنگ احوال ہے اس یوسف زندانی کا
کھیل لڑکوں کا سمجھتے تھے محبت کے تئیں
ہے بڑا حیف ہمیں اپنی بھی نادانی کا
وہ بھی جانے کہ لہو رو کے لکھا ہے مکتوب
ہم نے سر نامہ کیا کاغذ افشانی کا
اس کا منھ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں
نقش کا سا ہے سماں میری بھی حیرانی کا
بت پرستی کو تو اسلام نہیں کہتے ہیں
معتقد کون ہے میر ایسی مسلمانی کا
میر تقی میر

آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

دیوان اول غزل 2
کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا
آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا
کس رات نظر کی ہے سوے چشمک انجم
آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا
آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن
ہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا
اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ
جو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا
جانا نہیں کچھ جز غزل آکر کے جہاں میں
کل میرے تصرف میں یہی قطعہ زمیں تھا
نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کا
جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیرنگیں تھا
مسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سے
کل تک تو یہی میر خرابات نشیں تھا
میر تقی میر

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

دیوان اول غزل 1
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا
پیدا ہر ایک نالے سے شورنشور تھا
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم
یک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا
مجلس میں رات ایک ترے پر توے بغیر
کیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا
اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوا
دیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا
منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا
اس رند کی بھی رات گذر گئی جو عور تھا
ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر
اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا
کل پائوں ایک کاسۂ سر پر جو آگیا
یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر
میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا
تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میر
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنے قصور تھا
میر تقی میر

اپنے طغیان کی سزا یہ خیال

مجید امجد ۔ غزل نمبر 193
نئی صبحوں کی سیر کا یہ خیال
اپنے طغیان کی سزا یہ خیال
میّتوں کو لحد میں کلپائے
ہو سکے سجدہ اک ادا، یہ خیال
سب کی روحیں تھیں ریت کے بربط
اک مری زیست میں جیا یہ خیال
اتنے رنگوں میں یہ گلاب کے پھول
اتنے رنگوں میں موت کا یہ خیال
ابر ہیں امجد اور یہ جنتِ برگ
دیکھ سمتوں کو ربط کا یہ خیال
وفات کے بعد نامکمل شکل میں ملی
مجید امجد

سنا ہے میں نے

سنا ہے میں نے کہ شعری ؎۱ تمھاری سمتِ سفر

بساطِ گل پہ بچھی برف کی سلوں میں ہے

تمھارا قافلۂ شوق جاگزیں اب کے

کنارِ کوہ پہ نیلم کے ساحلوں میں ہے

تمھیں تلاش ہے جس عالمِ مسرت کی

وہ سبز کنجوں نہ گل پوش منزلوں میں ہے

تمھارے بعد مجید امجد اور انجم ؎ ۲ نے

بسا لیا وہ سوات ان کے جو دلوں میں ہے

لذیذ پانی پیا، سیب کھائے، شعر پڑھے

اک ایسا دن کہاں دنیا کی محفلوں میں ہے

ہماری روح کی سیف الملوک جھیل کے پاس

ہمارا تذکرہ جنت شمائلوں میں ہے

کبھی کبھی جو ہمارے دلوں میں جھانکتا ہے

کہاں وہ لمحہ زمانے کے محملوں میں ہے

(نوٹ: یہ قطعہ ارتجالاً لکھا گیا تھا۔)

؎۱ مجید امجد کے نہایت عزیز دوست جن کا قیام جھنگ میں تھا۔ انتقال ہو چکا ہے۔

؎۲ پروفیسر تقی انجم، سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج جھنگ

مجید امجد

یہ دن، یہ تیرے شگفتہ دنوں کا آخری دن

یہ دن، یہ تیرے شگفتہ دنوں کا آخری دن

کہ جس کے ساتھ ہوئے ختم لاکھ دورِ زماں

چناب چین وہ دنیا، یہ عصر راوی رو

کبھی نہ ٹوٹنے والی رفاقتوں کے جہاں

وہ سب روابطِ دیرینہ یاد آتے ہیں

ترا خلوص، تری دوستی، ترے احساں

مسرتوں میں لہکتے ہرے بھرے ایام

قدم قدم پہ ترا لطفِ خاص ہمدمِ جاں

اور اب یہ تیرگیاں۔۔۔ اب کہاں تلاش کریں

وہ شخص پیکرِ صدق اور وہ فرد فیض رساں

رہِ عدم کے مسافر، ذرا پلٹ کے تو دیکھ

گرفتہ جاں ہے ترے غم میں بزمِ ہم نفساں

ترے کرم کی بہاروں میں سوگوار ہیں، دیکھ

ترے چمن کے گل و سرو و لالہ و ریحاں

امڈ امڈ کے سدا گزرے گی غموں کی یہ موج

دلوں کی بستیوں سے تا بہ ساحلِ دوراں

ابھی ابھی وہ یہیں تھا۔۔۔ زمانہ سوچے گا

انھی گلوں میں ہیں اس کے تبسموں کے نشاں

ابھی ابھی انھی کنجوں میں اس کے سائے تھے

ابھی ابھی تو وہ تھا ان برآمدوں میں یہاں

کوئی یقین کرے گا، اک ایسی عظمت بھی

کبھی تھی حصۂ دنیا، کبھی تھی جزوِ جہاں

ہمی نے دیکھا ہے اس کو، ہمیں خبر ہے وہ شخص

دلوں کی روشنیاں تھا، دلوں کی زندگیاں

ہمیں خبر ہے، بڑے حلم و آبرو والے

ترا مقام کسی اور کو نصیب کہاں

زمانہ سوچے گا، وہ ایک کون تھا تجھ سا

جو ان دیاروں سے گزرا تھا یوں گہر افشاں

اور اب جو تو نہیں، کچھ بھی نہیں، نہ ہم نہ حیات

ہر ایک سمت اندھیرا، ہر ایک سمت خزاں

جگہ جگہ تری موجودگی کو پاتے ہیں

ہمارے دردِ فراواں، ہمارے اشکِ رواں

ترے لیے جھکے مینائے کوثر و تسنیم

ترے لیے کھلیں درہائے روضۂ رضواں

مجید امجد

ہے میرے ساتھ تو اب ختم قرنِ آخر بھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 190
چمن تو ہیں نئی صبحوں کے دائمی، پھر بھی
ہے میرے ساتھ تو اب ختم قرنِ آخر بھی
مری ہی عمر تھی جو میں نے رائیگاں سمجھی
کسی کے پاس نہ تھا ایک سانس وافر بھی
خود اپنے غیب میں بن باس بھی ملا مجھ کو
میں اس جہان کے ہر سانحے میں حاضر بھی
ہیں یہ کھنچاؤ جو چہروں پہ آب و ناں کے لیے
انھی کا حصہ ہے میرا سکونِ خاطر بھی
میں اس جواز میں نادم بھی اپنے صدق پہ ہوں
میں اس گنہ میں ہوں اپنی خطا سے منکر بھی
یہ کس کے اذن سے ہیں اور یہ کیا زمانے ہیں
جو زندگی میں مرے ساتھ ہیں مسافر بھی
ہیں تیری گھات میں امجد جو آسمانوں کے ذہن
ذرا بہ پاسِ وفا ان کے دام میں گر بھی
مجید امجد

دور ایک بانسری پہ یہ دھن: ’پھر کب آؤ گے؟‘

مجید امجد ۔ غزل نمبر 189
صبحوں کی وادیوں میں گلوں کے پڑاؤ تھے
دور ایک بانسری پہ یہ دھن: ’پھر کب آؤ گے؟‘
اک بات رہ گئی کہ جو دل میں نہ لب پہ تھی
اس اک سخن کے وقت کے سینے پہ گھاؤ تھے
کھلتی کلی کھلی کسی تاکید سے نہیں
ان سے وہ ربط ہے جو الگ ہے لگاؤ سے
عیب اپنی خوبیوں کے چنے اپنے غیب میں
جب کھنکھنائے قہقہوں میں من گھناؤنے
کاغذ کے پانیوں سے جو ابھرے تو دور تک
پتھر کی ایک لہر پہ تختے تھے ناؤ کے
کیا رو تھی جو نشیبِ افق سے مری طرف
تیری پلٹ پلٹ کے ندی کے بہاؤ سے
امجد جہاں بھی ہوں میں، سب اس کے دیار ہیں
کنجن سہاؤنے ہوں کہ جھنگڑ ڈوراؤنے
مجید امجد

صحّت کا ایک پہلو مریضانہ چاہیے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 188
ہر وقت فکرِ مرگِ غریبانہ چاہیے
صحّت کا ایک پہلو مریضانہ چاہیے
دنیائے بے طریق میں جس سمت بھی چلو
رستے میں اک سلامِ رفیقانہ چاہیے
آنکھوں میں امڈے روح کی نزدیکیوں کے ساتھ
ایسا بھی ایک دور کا یارانہ چاہیے
کیا پستیوں کی ذلتیں، کیا عظمتوں کے فوز
اپنے لیے عذاب جداگانہ چاہیے
اب دردِ شش بھی سانس کی کوشش میں ہے شریک
اب کیا ہو، اب تو نیند کو آ جانا چاہیے
روشن ترائیوں سے اترتی ہوا میں آج
دو چار گام لغزشِ مستانہ چاہیے
امجد ان اشکبار زمانوں کے واسطے
اک ساعتِ بہار کا نذرانہ چاہیے
مجید امجد

خرید لوں میں یہ نقلی دوا، جو تو چاہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 187
بنے یہ زہر ہی وجہِ شفا، جو تو چاہے
خرید لوں میں یہ نقلی دوا، جو تو چاہے
یہ زرد پنکھڑیاں جن پر کہ حرف حرف ہوں میں
ہوائے شام میں مہکیں ذرا، جو تو چاہے
تجھے تو علم ہے، کیوں میں نے اس طرح چاہا
جو تو نے یوں نہیں چاہا تو کیا، جو تو چاہے
جب ایک سانس گھسے، ساتھ ایک نوٹ پسے
نظامِ زر کی حسیں آسیا، جو تو چاہے
بس اک تری ہی شکم سیر روح ہے آزاد
اب اے اسیرِ کمندِ ہوا، جو تو چاہے
ذرا شکوہِ دو عالم کے گنبدوں میں لرز
پھر اس کے بعد ترا فیصلہ، جو تو چاہے
سلام ان پہ، تہہِ تیغ بھی جنھوں نے کہا
جو تیرا حکم، جو تیری رضا، جو تو چاہے
جو تیرے باغ میں مزدوریاں کریں امجد
کھلیں وہ پھول بھی اک مرتبہ، جو تو چاہے
مجید امجد

خود ہی لڑے بھنور سے! کیوں زحمت کی؟ ہم جو بیٹھے تھے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 186
پھر تو سب ہمدرد بہت افسوس کے ساتھ یہ کہتے تھے
خود ہی لڑے بھنور سے! کیوں زحمت کی؟ ہم جو بیٹھے تھے
دلوں کے علموں سے وہ اجالا تھا، ہر چہرہ کالا تھا
یوں تو کس نے اپنے بھید کسی کو نہیں بتائے تھے
ماتھے جب سجدوں سے اٹھے تو صفوں صفوں جو فرشتے تھے
سب اس شہر کے تھے اور ہم ان سب کے جاننے والے تھے
اہلِ حضور کی بات نہ پوچھو، کبھی کبھی ان کے دن بھی
سوزِ صفا کی اک صفراوی اکتاہٹ میں کٹتے تھے
قالینوں پر بیٹھ کے عظمت والے سوگ میں جب روئے
دیمک لگے ضمیر اس عزتِ غم پر کیا اترائے تھے
جن کی جیبھ کے کنڈل میں تھا نیشِ عقرب کا پیوند
لکھا ہے، ان بدسخنوں کی قوم پہ اژدر برسے تھے
جن کے لہو سے نکھر رہی ہیں یہ سرسبز ہمیشگیاں
ازلوں سے وہ صادق جذبوں، طیب رزقوں والے تھے
مجید امجد

اک یہ ملک، اور رزق اور گیت اور خوشیاں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 185
مل کر سب تعمیر کریں اک ارماں
اک یہ ملک، اور رزق اور گیت اور خوشیاں
جیتی مٹی! تیرے نام کی ٹھنڈک
میرے اک اک گرم آنسو میں پنہاں
گلی کوئی بےنام، مکاں میں بےنمبر
ہے آباد مرا گھر، کنعاں کنعاں
شفق دھلی میزوں کے گرد وہ چہرے
آنکھیں جن میں جییں کسی کے پیماں
دور سے دیکھو، اونچا پل اس شہر کا
پانیوں پر اک لوہے کی یہ کہکشاں
ذکر کا اک پل اس کمرے میں گراں اور
اک بےمصرف سال کا چلّہ ارزاں
لوحیں طاق پہ ہیں اور ان کے نوشتے
تقدیروں میں تڑپنے والے طوفاں
دنیا اک دائم آباد محلہ
اس اینٹوں کے ابد میں سائے انساں
مجید امجد

اور ہمارے وجود۔۔۔

اور ہمارے وجود، ہمارے خیال، ہماری عاجزیاں… سب اس کے لیے ہیں

جس کو ان کی ضرورت بھی نہیں، اپنی منشاؤں میں۔۔۔ اپنے فیصلوں کے وقت

سدا، زمانوں زمانوں، تہذیبوں تہذیبوں، کیسے کیسے تمرد والے قہقہے

اس کو بھلا دینے میں ابھرے ہیں جو ہمارے نسیانوں میں ہمیشہ سے اک جیتی یاد ہے

اپنے آپ کو دیکھوں تو خود بھی اپنے گمانوں کے بارے میں کیسے خیال رکھتا ہوں

میری حد تک فرق اتنا ہے

مجھ کو بھی اوروں کے جھوٹ نے روند ڈالا ہے

اب میں کس پر جھپٹوں، اس سچائی کے بل پر جو مجھ میں ہے اور جس کو جھٹلانے میں

لگی رہی ہیں میرے لہو کی گردشیں

کچھ ہو۔۔۔ اس کے ہست کا اجرا یا اس کے عندیے کی قطعّیت

کچھ ہو ۔۔۔ ہر حالت میں اس کو پسند ہے صرف اک وہ سچائی

جو سب سے پہلے مٹی کے اک پتلے کے دل میں سہمی ہوئی اتری تھی

اک ہی سچا انسان اس کے سامنے رہا ہے، ہر عالم میں، لاکھوں تیرتی ڈوبتی

تہذیبوں کے درمیان

مجید امجد

اے دل اب تو۔۔۔

اے دل، اب تو کچھ ڈر

اپنے یقینوں سے ڈر

اپنے نہ ڈرنے سے ڈر

اب تو تو نے اپنے سپنوں میں خود سن لیے ایسے ایسے بول

ان سنے ۔۔۔ سہانے

چلتی مشین گنوں سے چھدے ہوئے وہ بول، اک ان جانی بولی میں

بول، کہ جو مرنے والوں کی آخری کراہوں میں دم بھر کو جیے تھے

جب چوبی کھمبوں سے

بندھے ہوئے اعضا اس کڑے کساؤ میں آزادی سے تڑپ بھی نہیں سکے تھے

اور کھمبوں سے ڈھلک گئے تھے

گولیوں سے دھنکے ہوئے

ریزہ ریزہ

خوں چکاں!

اور ۔۔۔ وہ ان کے آخری مختصر، بول سہانے

اَن جانے وطنوں کے ترانوں کے وہ ٹوٹتے جڑے ماترے

اپنے اختیاروں میں اتنے بےبس اور اپنے اطمینانوں میں اتنے بےکل

وہ سب اتنے مقدس حرف جو خواب میں ان سب تصویروں کے ساتھ ابھرے تھے

خواب میں کتنے اچھے لگے تھے۔۔۔ اور اب جاگنے میں تجھ کو اپنے آپ پہ حیرت کیوں ہے

اب وہ پنکھڑیاں اس عجلت سے جھٹک بھی دیں تو نے اپنے دامن سے

اے دل، کچھ ڈر

اے دل، کچھ دیکھ

کتنے قیمتی، کتنے نازک ہیں یہ رابطے جن سے نظام ان تیری ٹک ٹک چلتی راحتوں کے

قائم ہیں ۔۔۔

مجید امجد

اے ری صبح۔۔۔

اے ری صبح کی اجلی زرق برق گزرگاہوں پر چیختی، اڑتی، بےبس خوشبو

یہ نفرت کی دولت تجھ کو بھی تو خرید سکتی ہے

تو نے یہ تو دیکھا ہوتا، تیرا نظر نہ آنے والا بدن کن کن بدنوں پہ لباس ہے

تجھ سے اور کیا ہو سکتا تھا

اس طرح اب جن پیرہنوں نے تجھ کو جھٹک دیا ہے

تو نے ان کی سجل کریزوں پر یوں ٹوٹ کے گرنا ہی تھا

کیسی ہیں یہ سپردگیاں جن میں سچ کی رمزوں کی پسپائی ہے

تو نے یہ تو دیکھا ہوتا، تو جن شستہ پہناووں پر یوں لہلوٹ ہے

ان سے ڈھکے ہوئے جثّوں میں پل پل کیسے تریڑے پڑتے ہیں اس زرد لہو کے

جو کالے رزقوں سے کشید ہوتا ہے

اے اس دنیا کی اچھائیوں کے تت ست میں پنپنے والی روحوں کی روح

کبھی تو تو ان باغوں سے بھی گزرتی

جہاں وہ مہکتے پھول نہیں کھلتے جو دوزخوں کی ٹھنڈک ہیں

مجید امجد

کیا قیمت۔۔۔

کیا قیمت اس مٹی کی جو اب مٹی بھی نہیں ہے

آنسوؤں کے پانی سے نمک کا مالیدہ ہے

لاکھوں رُتیں گلابوں کی اس میں کافور ہیں

اس مٹی میں سونے والے نام سدا باقی ہیں دنیا والوں کے حرفوں کے حنوط سے

اس کی اک ڈھیری پر آنکھیں میچ کے ہاتھ اٹھاؤ تو دھیان ایسے ایسے خیالوں

کی جانب جاتے ہیں

جن سے دونوں جہاں زندہ ہیں

لیکن ہائے وہ مٹی جو اب مٹی میں مٹی بھی نہیں ہے

جس پر صدیوں کے گارے کی تہیں ہیں

دیکھو تو یہ مٹی کہاں نہیں ہے، کہاں کہاں یہ ہاتھ اٹھیں گے

کس کو خبر ان ٹھیکریوں سے ڈھکی ہوئی ڈھلوان کے نیچے

ان آہن ریزوں سے چنی ہوئی بنیاد کے نیچے

کس کس سونے والے کے کچے مسکن کی ڈاٹ ہے جس میں دیے ابد کے ٹمٹماتے ہیں

کہاں کہاں یہ ہاتھ اٹھیں گے

چلتے چلتے ذرا ٹھٹک کر سوچو تو، اک جھونکے میں لپٹ ہے ایسے ایسے

خیالوں کی جن سے یہ دونوں جہاں زندہ ہیں

مجید امجد

ہر جانب ہیں۔۔۔

ہر جا نب ہیں دلوں ضمیروں میں کالے طوفانوں والے لفظ۔ ہزاروں گھنی بھنووں کے نیچے

گھات میں

اب تو میرے لبوں تک آ بھی، حرفِ زندہ

ہر جانب گلیوں کے دلدلی تالابوں میں، بےستر، ہراساں کھڑی ہیں روحیں

قدم کھبے ہیں نیلے کیچڑ میں، اور ان کی ڈوبتی نظروں میں اک بار ذرا تیری تھی ان کی زندگی

ابھی ابھی، اک پل کو

اور اب پھر کالے طوفانوں والے لفظ ان کے لیے جانے کیا کیا سندیسے لائے ہیں

ان کو زندہ رکھیو، حرفِ زندہ!

مدتوں سے بے یاد ہے تو میرے نسیانوں میں، اے حرفِ زندہ

اب تو میرے لبوں پر آ بھی

اب ۔۔۔ جب میرے دیکھتے دیکھتے کالے طوفانوں والے لفظوں کا آبی فرش اک

بچھ بچھ گیا ہے، دور افق کے پیچھے، کہیں ان پانیوں تک جن پر اک ناخدا پیغمبر کی دعاؤں

کے بجرے تیرے تھے

میرے نسیانوں میں جہندہ، حرفِ زندہ

تیرے معنوں میں موّاج ہیں وہ سب علم جو روحوں کو کھیتے ہیں اس اک گھاٹ کی سمت

جہاں امید اور خوف کے ڈانڈے مل جاتے ہیں

اب تو ساری دنیا میں سے جس اک شخص کو ڈوبنا ہے، وہ میں ہوں

اب تو ساری دنیا میں وہ شخص جو تیر کے بچ نکلے گا، میں ہوں

مجید امجد

یہ ایک صبح تو ہے سیرِ بوستاں کے لیے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 179
بچا کے رکھا ہے جس کو غروبِ جاں کے لیے
یہ ایک صبح تو ہے سیرِ بوستاں کے لیے
چلیں کہیں تو سیہ دل زمانوں میں ہوں گی
فراغتیں بھی اس اک صدقِ رائیگاں کے لیے
لکھے ہیں لوحوں پہ جو مردہ لفظ، ان میں جییں
اس اپنی زیست کے اسرار کے بیاں کے لیے
پکارتی رہی ہنسی، بھٹک گئے ریوڑ
نئے گیاہ، نئے چشمۂ رواں کے لیے
سحر کو نکلا ہوں مینہ میں اکیلا کس کے لیے؟
درخت، ابر، ہوا، بوئے ہمرہاں کے لیے
سوادِ نور سے دیکھیں تو تب سراغ ملے
کہ کس مقام کی ظلمت ہے کس جہاں کے لیے
تو روشنی کے ملیدے میں رزق کی خاطر
میں روشنائی کے گودے میں آب و ناں کے لیے
ترس رہے ہیں سدا خشت خشت لمحوں کے دیس
جو میرے دل میں ہے اس شہرِ بےمکاں کے لیے
یہ نین، جلتی لووں، جیتی نیکیوں والے
گھنے بہشتوں کا سایہ ہیں ارضِ جاں کے لیے
ضمیرِ خاک میں خفتہ ہے میرا دل امجد
کہ نیند مجھ کو ملی خوابِ رفتگاں کے لیے
مجید امجد

کچھ دن پہلے۔۔۔

کچھ دن پہلے کی بارش کے بعد… اب گیلی فضائیں سوکھ کے تڑخنے لگی ہیں

دھول کے ہلکے ہلکے آسمان جھکے ہوئے ہیں پانیوں پر جو

بھرے ہوئے ہیں دھان کی اک کیاری میں، پکی سڑک کے ساتھ ساتھ

سورج گرد کے پیچھے چھپا ہوا ہے

کیسا دن ہے

صرف اک ٹھنڈے سے جھونکے کی کمی ہے جس کا گزر ان آسمانوں میں ہے نہ

خیالوں میں

پکی سڑک پر صدہا پہیے گردش میں ہیں، کالے رزقوں کی سمت، آگ لگی آوازوں کے ساتھ

۔۔۔ اور

اک میں سوچتا ہوں، ہر سو، ہر شے پر، گرد کی تہہ کیوں ہے، موت پر بھی

اور زندگی پر بھی۔۔۔

دل کہتا ہے:

شاید مینہ پھر بھی برسے گا

مجید امجد

مطلب تو ہے وہی ۔۔۔

مطلب تو ہے وہی ۔۔۔ تم چاہے برف کے بلاکوں سے اک بھرے ہوئے رہڑے کو کھینچو۔۔۔

(سامنے پل کی چڑھائی ہے، ہاں، دیکھ کے، بوٹ نہ پھسلیں۔۔۔

اور اب تھم کے، آگے رستہ صاف ہے، عینک کے گیلے شیشوں کو پونچھو ۔۔۔ چلو ۔۔۔ چلو)

یا اک ڈسک پہ جھک کے لفظ تراشو، اپنے دل کی چٹان کو توڑ کے

دونوں صورتیں، ایک ہی بات

تمھیں تو اک اَن دیکھے تازیانے کی بےآواز آواز پر

عدل کی چکی پیسنی ہے اور عدل کی چکی میں خود بھی پسنا ہے

اس چکی سے گرتا گرم سنہرے آٹے کا جھرنا تو جانے کس کس کیفیت میں گندھے گا

اپنے جتنوں میں تم جن رتنوں کو ڈھونڈ رہے ہو، جانے کن پتنوں کے پار ملیں گے

اس دوران میں کُرے پھسلتے رہیں گے

جسموں کی سوجی ہوئی لہروں کا فرش اس دریا پر ٹوٹتا جڑتا رہے گا

کہیں کناری دار آنچل کے بیضوی چوکھٹے میں اک چہرہ

اک لب بستہ چہرہ

اپنے آپ یہ اپنی آنکھیں جھکاتے

سوچے گا: تم اس کی جانب کب دیکھو گے!

اور کہیں ظلموں کی زد میں دکھ کی اک چیخ

اپنے دردوں میں بہہ جائے گی یہ جان کے: تم امداد کو آ نہ سکو گے

ہاں۔۔۔ تو ۔۔۔ ڈر گئے نا تم ۔۔۔ تم اور کر بھی کیا سکتے تھے

اک یہ ڈر ہی تو وہ تمھاری قوت ہے، تم جس پہ بھروسا کر سکتے ہو

اک بار اور اپنی پوری قوت سے توجہ

ورنہ برف کے لفظوں میں سب آگ پگھل جائے گی

مجید امجد

میرے دل میں ۔۔۔

میرے دل میں غم کے دشنے کی دھار اتری ہے

دل کا اک ٹکڑا دل سے کٹ کر گرنے کو ہے

ایسے میں اک مونس سچائی ہنستی ہوئی میرے سامنے آتی ہے

اور میں اک ہاتھ سے اپنے دل کے گرتے ہوئے ٹکڑے کو دل پر جوڑ کے، کس کے

گہرے کرب کی لذت میں مسکا کر

دوسرے ہاتھ سے اس کو بڑھ کے سلام کرتا ہوں

پھر میں دیکھتا ہوں، دنیا والوں کی ملاقاتوں میں ہمیشہ

ہر سچائی کا اک ہاتھ تو صرفِ مصافحہ ہوتا ہے

اور دوسرا ہاتھ اتنی ہی مضبوطی سے اپنے دل کی گرتی ہوئی اک پھانک کو

دل کے ساتھ دبائے ہوئے ہوتا ہے

سچی بات جو دل کو لبھاتی ہے، اک دل سے دوسرے دل تک کس مشکل سے

سفر کرتی ہے

اتنی برکتوں والے مکر کی بھی کیا بات ہے

مجید امجد

صبح ہوئی ہے۔۔۔

صبح ہوئی ہے، صبح جو نیندوں میں جینے والی اک موت سے جاگ اٹھنے کی انگڑائی ہے

سونے والو، تمہاری خاک آلودہ لمبی نیندیں میری اک اک شب کی

نیند کی ہمیشگیاں ہیں

سونے والو، جیسی تمہارے وقتوں میں تھی، اب بھی اسی طرح سے ہے یہ دنیا

صبحیں ۔۔۔ اور ان کے بعد آتی شاموں کے کالے جھونکے جن کے دامن میں

موت ہے نیندوں میں ابدائی ہوئی

اور گلی کی ٹوٹی سلاخوں والی نالی تک آ کر جب اک بوڑھے نے

اپنے کھوکھلے پوپلے سے جبڑے کو عصا کے خم پر رکھ کے جنازہ برداروں سے پوچھا:

’’کون تھا؟‘‘ ۔۔۔ تو گدرایا ہوا اک ماتمی بولا:

’’کوئی مہلت مند تھا، ہم تو کاندھا دینے چل پڑے اس کے ساتھ، کہ وہ سو برس جیا تھا‘‘

اور اک بےآب آنسو کی سسکی جب

بھرے محلے کے دروازوں اور منڈیروں سے گزری تو موت کی لذت سے

سب چہرے تمتما اٹھے

یہ سب اپنے خواب ہیں، سونے والو

خواب ہمارے جن میں تمہاری دنیا جاگتی ہے، اے سونے والو!

ہر روز ان صبحوں میں، اک اک شب کی موت کے ڈھلنے پر، اک اَن دیکھے

طائر کے گیت میں

مرنے والوں کے یہ بول ابھرتے ہیں: ’’جیہو ۔۔۔ جیورے ۔۔۔ جیو جیورے۔۔۔!‘‘

سونے والو، تمہیں خبر ہے

اپنی ان نیندوں سے جاگ کے جب میں تمہارے دھیان میں جیتا ہوں تو

تمہاری نیندوں میں کفنائے ہوئے ارمان

مرے جینے میں جاگتے ہیں

مجید امجد

میں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 174
اور اَب یہ کہتا ہوں، یہ جرم تو روا رکھتا
میں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا
خیال صبحوں، کرن ساحلوں کی اوٹ سدا
میں موتیوں جڑی بنسی کی لے جگا رکھتا
جب آسماں پہ خداؤں کے لفظ ٹکراتے
میں اپنی سوچ کی بےحرف لو جلا رکھتا
ہوا کے سایوں میں، ہجر اور ہجرتوں کے وہ خواب
میں اپنے دل میں وہ سب منزلیں سجا رکھتا
انھی حدوں تک ابھرتی یہ لہر جس میں ہوں میں
اگر میں سب یہ سمندر بھی وقت کا رکھتا
پلٹ پڑا ہوں شعاعوں کے چیتھڑے اوڑھے
نشیبِ زینۂ ایام پر عصا رکھتا
یہ کون ہے جو مری زندگی میں آ آ کر
ہے مجھ میں کھوئے مرے جی کو ڈھونڈھتا، رکھتا
غموں کے سبز تبسم سے کنج مہکے ہیں
سمے کے سم کے ثمر ہیں، میں اور کیا رکھتا
کسی خیال میں ہوں یا کسی خلا میں ہوں
کہاں ہوں، کوئی جہاں تو مرا پتا رکھتا
جو شکوہ اب ہے، یہی ابتدا میں تھا امجد
کریم تھا، مری کوشش میں انتہا رکھتا
مجید امجد

جن لفظوں میں۔۔۔

جن لفظوں میں ہمارے دلوں کی بیعتیں ہیں، کیا صرف وہ لفظ ہمارے کچھ بھی نہ کرنے

کا کفارہ بن سکتے ہیں؟

کی ا کچھ چیختے معنوں والی سطریں سہارا بن سکتی ہیں ان کا

جن کی آنکھوں میں اس دیس کی حد ویراں صحنوں تک ہے؟

کیسے یہ شعر اور کیا ان کی حقیقت؟

نا صاحب، اس اپنے لفظوں بھرے کنستر سے چلّو بھر کے بھیک کسی کو دے کر

ہم سے اپنے قرض نہیں اتریں گے

اور یہ قرض اب تک کس سے اور کب اترے ہیں

لاکھوں نصرت مند ہجوموں کی خنداں خنداں خونیں آنکھوں سے بھرے ہوئے

تاریخ کے چوراہوں پر

صاحبِ تخت خداوندوں کی کٹتی گردنیں بھی حل کر نہ سکیں یہ مسائل

اک سائل کے مسائل

اپنے اپنے عروجوں کی افتادگیوں میں ڈوب گئیں سب تہذیبیں، سب فلسفے۔۔۔

تو اَب یہ سب حرف، زبوروں میں جو مجلّد ہیں، کیا حاصل ان کا۔۔۔

جب تک میرا یہ دکھ خود میرے لہو کی دھڑکتی ٹکسالوں میں ڈھل کے دعاؤں بھری اس اک

میلی جھولی میں نہ کھنکے

جو رستے کے کنارے مرے قدموں پہ بچھی ہے

مجید امجد

ان کو جینے کی مہلت۔۔۔

ان کو جینے کی مہلت دے، جو تیرے بندوں کی خاطر جیتے ہیں

ورنہ ۔۔۔ تو ۔۔۔ اس نگری کا اک اک نگ کھوٹا ہے

۔۔۔کوئی نہیں جو ناتواں ذرّوں کا راکھی ہو

کون ان کا راکھی ہے، صرف ان کی یہی دو آنکھیں، جن کی نگہداری میں زندہ ہیں

یہ ناتواں ذرّے

ذرّے، جن میں عزتیں ٹمٹماتی ہیں اس اک گھر کی جس پر محجوب اندیشوں

کی چھت ہے

ان آنکھوں میں جلنے والے مقدس ارمانوں کو روشن رکھ

میں ان آنکھوں کے ارمانوں کے دکھ میں جیتا ہوں

یہ دکھ مجھ کو زندگی سے بھی عزیز ہے

ان کو جینے کی مہلت دے جن کے جیتے رہنے میں اس دکھ، اس غم کی عفت ہے

ان کے دن تھوڑے ہوں تو میری زندگی ان کو دے دے

اس ہونی کے ہونے تک تو۔۔۔ اپنے ہونے تک تو۔۔۔ میں ہوں

اس وقفے کو ایسی راحتوں سے بھر دے، کچھ ایسی راحتیں

جو میں ان دو نگہدار آنکھوں کو دے سکوں، حیائیں جن کی زندگی ہیں

مجید امجد

کیسے دن ہیں۔۔۔

کیسے دن ہیں! اب کے تو مجھ جیسی طاغی کو بھی، جس کی غفلت اتنی دوختہ چشم ہے

تو نے دکھائے

اپنے زمانے — جب وہ غیب کدوں سے چھلک کر پت جھڑ کی صبحوں میں جھلک

پڑتے ہیں

اپنے چشمے — جب ان میں بادل بہتے ہیں

اپنی جنتیں — جب وہ دوام کے بور سے لد جاتی ہیں

میں کب اس قابل تھا۔۔۔

دنیا میں کون اس قابل تھا

دیکھ لے، ان راہوں پر تیری دنیا کے لوگ اپنے قیمتی فرغلوں، میلے کمبلوں میں

ڈوبے ہوئے کتنے

بےنسبت پھرتے ہیں ان مست ہواؤں سے جو تیرے لاکھوں جہانوں کی

گردش کا ثمر ہیں

مجید امجد

پھر مجھ پر بوجھ۔۔۔

پھر مجھ پر بوجھ آ پڑتا ہے ان نظروں کا

جو دنیا میں واحد نظریں ہیں جو دنیا کی ہر شے میں مجھ کو دیکھتی ہیں ۔۔۔ اک مجھ کو

اور یوں مجھ کو دیکھنے میں ان آنکھوں کے آنسو حائل نہیں ہوتے، بلکہ پلٹ جاتے ہیں

پھر اس بوجھ کے نیچے میری اپاہج معرفتوں کا بازوبڑھ کے مرے دل کی کھڑکی کو

کھول دیتا ہے

جس کے کواڑوں سے پھر آ کر ٹکراتے ہیں

باہر زور سے چلنے والی غفلتوں کی آندھی کے تیز تیز جھونکے! وہ کھڑکی زور سے بند

ہو جاتی ہے اور

پھر ان سہمی ہوئی پتھریلی مستطیلوں سے ابل پڑتا ہے

اجلی اجلی زندگیوں کا دریا

جس کا پانی اتنا مہین ہے، سونے کے ذرے اس میں تیرتے صاف نظر آتے ہیں

جن میں میرے خیال بھٹک جاتے ہیں

سر سے سارے بوجھ اتر جاتے ہیں

بجلی کے پنکھے کی طوفانی جھنکارمیں

میرے چہرے پر ٹھنڈے جھونکے کی جھالریں بکھر جاتی ہیں

اور پھر یہ بھی نہیں میں سوچتا، میں کس جنت میں دوزخی ہوں

مجید امجد

جب صرف اپنی بابت۔۔۔

جب صرف اپنی بابت اپنے خیالوں کا اک دیا مرے من میں جلتا رہ جاتا ہے

جب باقی دنیا والوں کے دلوں میں جو جو اندیشے ہیں ان کے الاؤ مری نظروں

میں بجھ جاتے ہیں

تب تو یوں لگتا ہے جیسے کچھ دیواریں ہیں جو میرے چاروں جانب اٹھ آئی ہیں

میں جن میں زندہ چن دیا گیا ہوں

اور پھر دوسرے لمحے اس دیوار سے ٹیک لگا کر۔۔۔ اپنے آپ کو بھول کر

میں نے اپنی روح کے دریاؤں کو جب بھی سامنے پھیلے ہوئے خودموج سمندر کی

وسعت میں سمو دیا ہے

میری قبر کی جامد پسلیاں اِک غافل کر دینے والے سانس کی زد سے دھڑک اٹھی ہیں

لیکن اس اک بےبہا غفلت کو اپنانا بھی تو کتنا کٹھن ہے

پھر دیواریں میرے گرد اٹھ آتی ہیں اور۔۔۔

پھرخودآگہی کا دھندلا سا مقدس دیا مری ہستی کی قبر پر ٹمٹمانے لگتا ہے

مجید امجد

بات کرے بالک سے۔۔۔

بات کرے بالک سے۔۔۔ اور بولے رہ چلتوں سے

اک یہ ذرا کچھ ڈھلی ہوئی شوبھا والی کوملتا

اس کے ستے ستے بال اور پیلی مانگ سے کچھ سرکا ہوا آنچل

دکھی دکھی سی دِکھنے کی کوشش کا دکھ

اس کے چہرے کو چمکائے اور اس کے دل کو اک ڈھارس سی دے

بڑے یقینوں میں مڑ مڑ کر دیکھے، جیسے کچھ رستے میں بھول آئی ہو

مڑنے میں وہ بات کرے اپنے پیچھے چلتے بالک سے، لیکن بولے مجھ سے، میری جانب

اپنی بات اور اپنی نظر کو یک جا کر کے!

دیکھنے میں شاید میں اتنا بھلا مانس نہیں لگتا

مجید امجد

دو پہیوں کا جستی دستہ۔۔۔

دو پہیوں کا جستی دستہ تھام کے چلتے پھرتے میں نے

سدا اسی اک تول میں اک محسوس نہ ہونے والے چین سے

اس دنیا کو دیکھا

بڑھتے مڑتے، کالے بھنور سڑکوں کے

اور دورویہ وہ تختے پھولوں کے

پھول بلاتے بھی تھے اور میں رک بھی نہیں سکتا تھا

وہ دو پہیے ارض و سما تھے، وہ دو پہیے رک بھی نہیں سکتے تھے

پھولوں کے وہ دورویہ تختے ۔۔۔ اکثر ان کی بابت سوچا

کبھی تو آ کر باہم جڑتے چلے جائیں یہ تختے

ان پہیوں کے ساتھ ساتھ ان میرے قدموں کے نیچے

آگے۔۔۔ دور تک۔۔۔ جہاں بھنور ان سڑکوں کے مڑتے ہیں

مجید امجد

بستے رہے سب۔۔۔

بستے رہے سب تیرے بصرے، کوفے

اور نیزے پر بازاروں بازاروں گزرا

سر ۔۔۔ سرور کا

قید میں منزلوں منزلوں روئی

بیٹی ماہِ عرب کی!

اور ان شاموں کے نخلستانوں میں گھر گھر روشن رہے الاؤ

چھینٹے پہنچے تیری رضا کے ریاضوں تک خونِ شہدا کے

اور تیری دنیا کے دمشقوں میں بےداغ پھریں زرکار عبائیں

سامنے لہو بھرے طشتوں میں تھے مقتول گلابوں کے چہرے فرشوں پر

اور ظلموں کے درباروں میں آہن پوش ضمیروں کے دیدے بےنم تھے

مالک، تو ہی ان سب شقی جہانوں کے غوغا میں

ہمیں عطا کر

زیرِ لب ترتیلیں ان ناموں کی، جن پر تیرے لبوں کی مہریں ہیں

مجید امجد

دوسروں کے بھی علم۔۔۔

دوسروں کے بھی علم سے باہر ہیں

وہ سب وابستگیاں جو میرے علم کی سرشاری ہیں

میرے علم سے بھی باہر ہیں

وہ سب وابستگیاں جو دوسرے کے علموں میں عزیز ہیں

لیکن سب وابستگیاں۔۔۔ سب کی وابستگیاں ان روحوں سے ہیں

جو مٹی میں یکساں، یک منزل ہیں

اک اک قبر پہ جلنے والا دیا گو الگ الگ گھر سے آتا ہے

لیکن سارے دیوں کی روشنیاں مل کر مٹی کے اک ہی عالم میں جھلملاتی ہیں

ایک ہی عالم، اپنے غیبوں میں ہر سو حاضر، حاوی

جس کے الگ الگ ڈانڈے اک اک دل سے ملے ہوئے ہیں

آسمانوں کے پیچھے؟

کہیں مٹی کے نیچے؟

جانے کہاں بہتا ہے آنسوؤں میں لتھڑی ہوئی نسبتوں کا وہ دریا۔۔۔

جس کی اس اک رو کو ہی پہچانتا ہے ہر شخص جو صرف اس کے دل تک آتی ہے

وہ دریا جس کی طغیانیاں ناموجود زمانوں کے ساحل سے چھلک کے ہماری ان

پلکوں سے ٹپکتی ہیں تو

ہم کو ایک ایک دیا اک اک تربت پر الگ الگ جل اٹھتا نظر آتا ہے

سب علموں کی یہ تفریقیں ہیں، ورنہ آنسو کب جانب دار ہوئے ہیں

مجید امجد

اندر سے اک دُموی لہر۔۔۔

اندر سے اک دموی لہر ابھر کے جب ان کے چہرے کی وریدوں میں بھر جاتی ہے اور

جب اس امتلا میں لو گ اپنی گلابی آنکھوں کے بےحرف تبسم سے مجھ کو اپنے دل کی اک

تیکھی بات سناتے ہیں

تو میں کہتا ہوں: ’’مولا، تو نے دیکھا، میں تیری اک کیسی دنیا میں ہوں‘‘

پل بھر آنکھوں کے گوشوں تک آ کے پلٹتی پتلیاں، مجھ کو اچانک سامنے پا کر پہلے

تو دانستہ اچٹ جاتی ہیں

اور پھر دوسرے لمحے ہنستی آنکھوں کی جھیلوں میں تیر کے میری جانب جب کچھ اتنے

تپاک سے امڈ پرتی ہیں

تو میں کہتا ہوں: ’’مولا، تو نے دیکھا، میرے یہ اتنے صادق رابطے تیرے کیسے کیسے

بندوں سے ہیں‘‘

مجھ کو دیکھے بغیر جنھیں سب علم ہے، میں کس عالم میں ہوں، کچھ ایسی آنکھیں جب میری

جانب یوں تکتی ہیں

جیسے دنیا والے اک میّت کو اس کے مرے ہوئے ہونے کے وثوق میں تکتے ہیں

تو میں کہتا ہوں: ’’مولا! ان لوگوں کو میری زندگی کی بھی خبر دے‘‘

باہر گیلی گیلی سڑکوں پر، سرما کے ٹھنڈے محرم جھونکوں کے ساتھ، اس پامال سہانی دھوپ

میں تھوڑی دور چلا ہوں تو اب میرا دل کہتا ہے:

’’مولا، تیری معرفتیں تو انسانوں کے جمگھٹ میں تھیں، میں کیوں پڑا رہا اپنے ہی خیالوں کی

اس اندھیری کٹیا میں اب تک؟‘‘

مجید امجد

کالے بادل۔۔۔

کالے بادل! تیرے خوف میں ڈوب کے میرے دریا رک جاتے ہیں

کالے بادل! تیری رو کے ساتھ امڈتے اندیشوں کی بابت سوچوں یا ان چڑھتے

پانیوں کو دیکھوں

جن پر یہ میری ناؤ رواں ہے ایسے ساحلوں کی جانب جو

میری آنکھوں میں بسنے والے چہروں کی اقلیمیں ہیں

تیری پرچھائیں کی حقیقت سے ڈرنے میں اپنی حقیقت بھی

مجھ کو پرچھائیں نظر آتی ہے

مجھ اک سائے کے یہ خدشے اور تجھ ایک حقیقت کی یہ ہیبتیں

ایک سدیمی ضابطے کی تربیتیں ہیں، جس سے ان دنیاؤں کی نمو ہے

کالے بادل! میرے ڈر کو جانچ اور اپنے دخانوں ہی میں بکھر کے گزر جا

ان دریاؤں کو بہنے دے جن میں میرے خیالوں کے یہ دھارے لہراتے ہیں

دھوپ ان پانیوں پر کھیلے گی تو وہ جزیرے چمکیں گے جو میری آنکھوں میں

بسنے والے چہروں کی اقلیمیں ہیں

مجید امجد

اپنے دکھوں کی مستی میں۔۔۔

اپنے دکھوں کی مستی میں اک وہ خنداں چہرہ، جو میرے لیے خنداں تھا

اور وہ اپنی اک جنبش سے دونوں جہانوں کی سب زنجیروں کو جھٹک دینے والی بےکل پلکیں اور

وہ جذبیلی باغی آنکھیں، جو میری خاطر باغی تھیں

چاندنی میں کفنائے ہوئے ظلموں کی بستی کے ٹوٹے فرشوں پر

ان دو محرم سانسوں کے ادوار ۔۔۔ ان دو مونس قدموں کے زمانے

عجب ارادوں والی رات کے واقعے

جیتے واقعے

جن کے سامنے اپنے دل کی پسپائی کا میں شاہد ہوں

میں شاہد ہوں، جو کچھ بیتا اس سرکش مٹی کی طینت میں تھا

وہ سب کچھ اس طاغی دریا کی اک طغیانی تھی

دریا۔۔۔ جس نے صدیوں پہلے بھی اپنے رستے سے پلٹ کر اپنی ریت کی چادر پر

اک جلتی روح کی خاکستر کو جگہ دی

اک دنیا شاہد ہے، راکھ کی اس ڈھیری کے سامنے آج بھی

ارمانوں کی جبینیں جھک جھک جاتی ہیں، جس طرح میری روح ہمیشہ اس خنداں

چہرے کے دھیان میں جھکی ہے

جب سے میرے دِل کے دریاؤں نے رستے بدلے ہیں

مجید امجد

صدیوں تک۔۔۔

صدیوں تک، اقلیموں اقلیموں، زندہ رہتا ہے ایک ہی جسم

پگھلا ہوا، بےجسم ۔۔۔ اک جسم

اپنے چلن کے چولے میں

ایک یہی پیکر

جس میں روحیں آ آ کر اپنی میعادوں میں چکراتی ہیں، کھو جاتی ہیں

زندہ رہتا ہے صدیوں کے کبڑے گھروندوں میں

زندہ ہواؤں میں

اور جب اس کا زمانہ نیلے دھوؤں میں گہنا جاتا ہے

تو بھی اس کی زندگی لہک لہک جاتی ہے ان آنکھوں میں جو

گھنے گھنے باغوں کی طراوتوں سے بھر جاتی ہیں، جب تانبے کی دیواروں کے جنگل میں کہیں

شہنائی کی دھن بجتی ہے

کالے کھمبوں کی نوکیں جب آسمانوں کے سائبانوں کو چھید دیتی ہیں

تو بھی، سدا اک جیتی سوچ کے سانچے میں ڈھل جاتی ہیں سایوں کی عمریں

جب کالے بادل گھر گھر کر آتے ہیں

لوہے کی لچکیلی پٹڑیاں جب عفریتوں کے قدموں سے کڑکڑاتی ہیں

تو بھی، سدا اِک گہری سانس کی نزدیکی میں سما جاتی ہیں ترستی دوریاں

شام کو جب تاروں کے ابد جل اٹھتے ہیں

مجید امجد

خوردبینوں پہ جھکی۔۔۔

خوردبینوں پہ جھکی آنکھوں کی ٹکٹکی کے نیچے دنیا کے چمکیلے شیشے پر اپنے لہو کی چکٹ میں

کلبلاتے، بےکل جرثومو!

دیکھو، تمہارے سروں پر گرداں خوردبینوں میں گھورتی آنکھیں تقدیروں کی

تم سے کیا کہتی ہیں، سنو تو۔۔۔

’’بھرے کُرے پر جڑجڑ جیتے کرمکو، تم کب تک سورج کی کرنوں کا میٹھا کیچڑ چاٹو گے۔۔۔

گیلا ریتلا سرد اندھیرا ہے آگے تو۔۔۔

آگے تو جو کچھ ہو ۔۔۔

لیکن آج تمہارے جڑے جڑے جسموں کی لپٹوں اور تمہاری گتھم گتھا روحوں کے گچھوں کے

اندر جب میرے دبلے سے دل نے اچانک

اپنے اکیلے پن میں اپنا رخ اپنی جانب دیکھا ہے تو تم میں ہوتے ہوئے بھی میرے دل کو تم پہ

ترس آیا ہے

آگے تو جو کچھ ہو۔۔۔

دنیا کے دھبے میں بھری ہوئی ہم سب بےچہرہ بےکل روحیں، ہم سب کلبلاتے جرثومے

آگے جو کچھ ہو۔۔۔ اِک بار تو خود پہ ترس کھا کر دیکھیں۔۔۔

شاید ہم کو دیکھنے کے لیے تقدیروں کو اپنی خوردبینوں کے زاویے بدلنے پڑیں۔۔۔

مجید امجد

آنے والے ساحلوں پر۔۔۔

آنے والے ساحلوں پر تو جانے کن قدروں کی میزانیں ہیں

لیکن ان سب بھرے جہازوں کو دیکھو، یہ قدآور مستول اور ممتلی بادبان۔۔۔

عرشے عرشے پر یہ بوجھل روحوں، چکنی آنکھوں والے مسافر ۔۔۔

کس نخوت سے، کن اطمینانوں میں تیرتے ہیں یہ بیڑے۔۔۔

جن میں لدے ہوئے یہ خزانے آنے والے ساحلوں پر سب مٹی کے دانے ہیں

اور اس ڈوبنے والے کو دیکھو۔۔۔ اک موج کے بل پر آخری بار ابھر کر

دور سے اس نے بادبانوں کی دھندلی قوس کو کس حسرت سے دیکھا۔۔۔

اور اس کے دل میں وہ دولت تھی، آنے والے ساحل جس کی قیمت ہیں ۔۔۔

اور ان جیتی ہانپتی سڑکوں کے پتھریلے سمندر۔۔۔ مڑتے اور لہراتے۔۔۔

اپنی منجدھاروں اور اپنے ساحلوں کو یوں روز اچھالتے ہیں میری نظروں کے سامنے

دنیاؤں اورعقباؤں کے اس سنگھم پر۔۔۔

اور میں خالی ہاتھوں سوچتا ہوں… کون ایسا ہے جو

ان سنگین تریڑوں کے جب پار اترے تو اس کے پاس وہ سامگری ہو

آنے والے گھاٹ پہ جس کا مول ہے

مجید امجد

برسوں عرصوں میں۔۔۔

برسوں عرصوں میں اب نیندوں میں جاگے ہیں

خواب، جو جاگتے دنوں کے آنسوؤں میں جیتے تھے

خواب، جو کل بیداری میں بھی اپنے نہیں تھے

جو اب نیندوں میں بھی اپنے نہیں ہیں

صرف یہ آنسو ہمیشہ سے اپنے تھے، جن میں ان خوابوں کی جوت جلی تھی

کسے خبر کیسی ہیں دوریوں کی یہ دنیائیں جو برسوں عرصوں ہمارے دلوں سے بعید رہتی ہیں

اور اچانک کبھی ہم اپنی زندگیوں کو ان کے چمکتے مدار میں پاتے ہیں پل بھر کو

پل بھر اتنے قریب تک آ کر پھر وہ دوریاں اپنے سدیمی سفر پر ہم سے دور اور دورتر ہو جاتی ہیں

اور ہمارے آنسوؤں میں ان کے عکسوں کی قربتیں بھی دھندلا جاتی ہیں۔۔۔

کیسے ہیں یہ انجمیں قافلے، جن کا پڑاؤ کبھی برسوں میں پل بھر کو روحوں کے

ساحلوں پر ہوتا ہے

تو وقتوں کے دریاؤں میں روشنیوں کے دودھ بہتے ہیں

اور پھر عمر بھر آنکھیں اپنے آنسوؤں میں ان تسکینوں کو ترستی رہ جاتی ہیں

مجید امجد

سب سینوں میں۔۔۔

سب سینوں میں یکساں بٹے ہوئے ہیں علم اک دوسرے کے سب احوالوں کے

اور سب سینے خالی ہیں ان دانستوں سے

جن میں یک جانی کی نشو و نما ہوتی ہے

اپنی اپنی اناؤں کے ان بےتسنیم بہشتوں میں سب الگ تھلگ ہیں

ان کے علموں کی ڈالی پر استفہاموں کا میوہ نہیں لگتا

سب نے اپنی دانستوں سے ابھرنے والے سوالوں کی جانب دروازے اپنے دلوں کے مقفل کر کے

چابیاں اب دوزخ کے پچھواڑے میں پھینک بھی دی ہیں

ایسے میں اَب کون سنے گا کسی کا شکوہ

اندر تو سینوں میں پہلے سے اتنا غوغا ہے اپنی ہی سانسوں کا

راکھ کے ذرّوں سے زر ریز ے نتھارنے والے اشک آلود خیالو!

کہو تمہیں کچھ سوجھا، اپنے غبار کی اوٹ میں

ہمیں تو پہلے ہی سے پتا تھا

مرنے سے پہلے لوگ اپنے جاننے والوں کےعملوں میں مرتے ہیں

مجید امجد

کبھی کبھی تو زندگیاں۔۔۔

کبھی کبھی تو زندگیاں کچھ اتنے وقت میں اپنی مرادیں حاصل کر لیتی ہیں

جتنے وقت میں لقمہ پلیٹ سے منہ میں پہنچتا ہے۔۔۔ اور

اکثر ایسی مرادوں کی تو پہنچ بھی لقموں تک ہوتی ہے

اور جب ایسی منزلیں بارور ہوتی ہیں تو شہر پنپتے ہیں اورگاؤں پھبکتے ہیں۔۔۔ اور

تہذیبوں کی منڈیوں میں ہرجانب قسطاسوں کی ٹیڑھی ڈنڈیاں، روز و شب تیزی تیزی سے

انسانوں کی جھولیوں میں رزقوں کی دھڑیاں الٹتی ہیں۔۔۔ اور

بھرے سماجوں میں شدھ تلقینوں کی ڈونڈیاں پیٹنے والے بھی اپنی اپنی پیغمبریوں کی

تنخواہیں پاتے ہیں۔۔۔

لیکن کس کو خبر ہے، ایسی بھی ہیں منزلیں جن تک جانے والے رستوں پر نہ دعا کا سایہ

ہے نہ قضا کا گڑھا ہے

کچھ ہے بھی تو بس اپنی سوچوں کی دھجیوں میں سمٹی ہوئی اک بےچارگی، جس کی بےصدا

ہوک میں عمریں ڈوب جاتی ہیں

اور قطبوں سے قطبوں تک اڑ اڑ کر جانے والے تھکے پروں کی کمانیں بھی تو

اک منزل پہ چمکتی آبناؤں کی سمت لچک جاتی ہیں ۔۔۔

لیکن ہائے وہ منزلیں، جن تک ہر سچائی رستہ ہے اور ہر سچائی موت کا جیتا نام ہے

مجید امجد

ہم تو اسی تمہارے سچ۔۔۔

ہم تو اسی تمہارے سچ کے کباڑ میں تمہارے ساتھ یہیں پر کُرم کُرم بستے ہیں

تم کیا جانو۔۔۔

اکھڑی ہوئی جڑوں والی دیواریں گرتے گرتے ماتھے جوڑ کے جس کونے میں ٹھٹک گئی تھیں

وہیں کہیں وہ چھوٹی سی میری دنیا تھی۔۔۔ یہ بسرام تو تیاگ میں مجھ کو ملا تھا۔۔۔

’’اور تمہیں کیا چاہیے۔۔۔ مزے مزے سے بیٹھ کے

اپنے دانت اَب کچکچاؤ تم اندھیروں سے اس بھرے ہوئے چھوٹے سے ڈبے میں

یہ چھت جس پر ڈھکنا ہے

چونک کے میں نے دیکھا، گلتے، بھربھرے کاغذ، اک میری نظم کے سارے حرف

اب ان کے جبڑوں میں تھے

اور تب میں نے سوچا، دھنسی پرانی لحدوں میں بل کھاتے کرمکوں کی خوشدامنیں

دیمکیں سچ کہتی ہیں

جو اس گدلی یکسوئی میں بیٹھ کے کالی روشنائی کے ریزوں کو یوں کُرم کُرم چبتی ہیں

لاکھ حرفوں میں علموں کا جو گودا تھا، اَب وہ ان دانتوں کی کترن ہے۔۔۔

تلواروں کی نوکوں سے لکھے ہوئے لفظوں کی صورت میں سرسراتی زنجیریں اب

ان آنتوں کی اترن ہیں

سارے لیکھک اپنی لکھتوں میں پس گئے ان جبڑوں کے بیچ۔۔۔ ان سب پر

دھوپ کفن تھی

دیمکیں سچ کہتی ہیں۔۔۔ واقعی باہر موت کی شرطوں پر جیتے ہیں جینے والے۔۔۔

اکثر میرے تعاقب میں آئی ہیں ان آنکھوں کی گردش کرتی کرگسی پتلیاں

آنکھیں جو یوں اپنی پلکوں پر میرے لفظوں کو تولنے میں میری نبضوں کے بقایوں کو بھی

گن لیتی ہیں

’’تم رہو ڈرتے عقباؤں سے۔۔۔ ہم سے جو پوچھو تو ہماری ہی سب گوتیں ہیں

جو آخرتوں کے گوشت کدوں میں، زعفرانی ڈوروں والی کافوری خلعتیں اوڑھ کے

مزے مزے سے مٹی چچوڑتی ہیں

تم پڑے یونہی ڈرتے رہو اے لمبی ٹانگوں والے انسانی مکوڑو۔۔۔‘‘

مجید امجد

لیکن سچ تو یہ ہے۔۔۔

لیکن سچ تو یہ ہے، صرف ہمیں جھٹلا سکتے ہیں اپنی جھوٹی سچائی کو

ورنہ اپنا حال تو یہ ہے، ظاہر کرنے کو تو یوں ظاہر کرنا جیسے ہم جیتے ہیں بس کچھ

ایسے خود مست یقینوں میں جو

صرف ہمیں کو اپنے بارے میں حاصل ہیں۔۔۔

لیکن اندر ہی اندر یہ باور کرنا ’’آنے والی اگلی سانس تو بڑی کٹھن ہو گی، جب تک

ہم اپنے اس بہروپ کو ترک نہیں کر دیتے‘‘

زندگیوں کے برتاووں میں اپنے جھوٹ سے ہم لوگوں کو دہلاتے ہیں

اور اپنے سچ سے خود سہمے ہوئے رہتے ہیں

ایسا کون ہے جس کی طلب دنیا میں بے بہروپ ہے

اور خودمست آنکھوں کی ساحر ٹکٹکی اور لب بستہ حلقوموں کی مخفی تلخی

کے پیچھے تو جانے کس کس مجبوری کا عمل ہے

کالی ریت کے جلتے صحراؤں میں شکم کی پیاس انہی خودمست آنکھوں کے روشن

روزنوں سے میٹھے چشموں کی چمک کو سونگھتی ہے

لوگ کسی کو کتنا ہی بےفکر تفکر والا سمجھیں، پر یہ تو اس کا دل ہے

جانتا ہے، میٹھے چشمے کتنے دور ہیں جو لوگوں کو اس کی آنکھوں میں لہراتے نظر آتے ہیں

مجید امجد

اور پھر اک دن۔۔۔

اور پھر اک دن میں اور تم جب ان اونچی نیچی دیواروں کے جھرمٹ میں اترے

جن میں کبھی ہماری روحوں کو زندہ چن دیا گیا تھا۔۔۔

اس وقت آنگن آنگن میں، ترچھی کرنوں نے

دھوپ کے کنگرے سایوں کی قاشوں میں ٹانک دیے تھے

دیکھا ہوا سا کوئی سماں پرانا اس دن ہم نے دیکھا

یوں لگتا تھا جیسے آسمانوں کی روشنیاں جھک کر اس اک قریے کو دیکھ رہی تھیں

اور ہمیں تب وہ دن یاد آئے جب موت ہماری زندگیوں سے گزر رہی تھی، ایسی ہی

صبحوں کی اوٹ میں

ہم ان زینہ بہ زینہ منڈیروں کے جھرمٹ میں تھے اور اس شہر کے لوگ

اب بھی گلیوں میں

خوانچے لگائے اپنی زندگیوں کو بیچ رہے تھے

اور پھر ہم نے سوچا، کون اچھا ہے، ہم جو مردہ چہروں سے جینے کی خواہش

پاتے ہیں، یا وہ جو

ہم کو زندہ دیکھ کے ہماری موت کو مان لیتے ہیں

ابھی ابھی تو میرے ساتھ تھے تم، اے گزرے ہوئے زمانوں کے خیالو! پھر کب لوٹو گے؟

اک دن پھر بھی تمہارے ساتھ اس خاک کے تختے تک جاؤں گا

جس سے ڈھکے ہوئے بے نور گڑھوں میں کچھ نادیدہ آنکھیں

ہم کو دیکھ کے اَب بھی ہنس ہنس اٹھتی نظر آتی ہیں

مجید امجد

اور یہ انساں۔۔۔

اور یہ انساں۔۔۔ جو مٹی کا اِک ذرّہ ہے۔۔۔ جو مٹی سے بھی کم تر ہے

اپنے لیے ڈھونڈے تو اُس کے سارے شرف سچی تمکینوں میں ہیں

لیکن کیا یہ تکریمیں ملتی ہیں

زر کی چمک سے؟

تہذیبوں کی چھب سے؟

سلطنتوں کی دھج سے؟

نہیں۔۔۔ نہیں تو!

پھر کیوں مٹی کے اس ذرّے کو سجدہ کیا اک اک طاقت نے؟

کیا اس کی رفعت ہی کی یہ سب تسخیریں ہیں؟

میں بتلا دوں:

کیا اس کی قوت اور کیسی اس کی تسخیریں؟

میں بتلا دوں:

قاہر جذبوں کے آگے بے بس ہونے میں مٹی کا یہ ذرّہ

اپنے آپ میں

جب مٹی سے بھی کم تر ہو جاتا ہے، سننے والا اس کی سنتا ہے

سننے والا جس کی سنے، وہ تو اپنے مٹی ہونےمیں بھی انمول ہے

مجید امجد

دل تو دھڑکتے۔۔۔

دل تو دھڑکتے آگے بڑھتے قدموں کا اک سلسلہ ہے

دل کا قدم جو گزرتے وقت کی منزل طے کرتا ہے

ساتھ ہی، ایک ہی وقت میں، بیتے وقتوں کی جانب بھی بڑھتا ہے

دل پر وقت کی جو منزل ہے، طے نہیں ہوتی۔۔۔

بس اک انجانی سی آگہی ہے جس کی بیدارمسافت پر سب مرحلے

اک ساتھ اپنی گزرانوں کی نیندوں میں

جاگتے ہیں

بیٹھے بیٹھے آج اس کیفیت سے ڈر اٹھا ہوں، جس کو میں پہچانتا ہوں اورجس کی بابت

جانتاہوں، یہ کیفیت اس وقت ابھرے گی

آنے والے دِن جب گزرے دنوں کی منزل سے گزریں گے

گزرے ہوئے زمانوں کی منزل سے گزرنے والے۔۔۔ آنے والے دنوں کا

خیال آتے ہی

وقتوں کی کچھ سطحیں دل کے دھڑکتے قدموں کے نیچے سے سرک گئی ہیں

دل کو سہارا دینے والا اِک ڈر، من کو لبھانے والی ایک اداسی

جن کا کوئی ابد ہے اور نہ عدم ہے

پل بھر میری زیست کا حصہ رہے ہیں

گزرے دنوں کی خوشیاں آنے والے غموں کا جزو نظرآتی ہیں

مجید امجد

کل۔۔۔ جب۔۔۔

آخرتمہیں بھی سوجھی یوں ہم ڈرے ہوؤں سے ڈرنے کی

نا بھئی، اب ہم پھر نہ کہیں گے بات یہ جینے مرنے کی

ابھی سنی جو تم نے کتھا یہ موت کے مشکل لمحے کی

وہ تو جیتے جی، خود جی سے گزرتی سوچ کی کروٹ تھی

کاہے کو تم گھبرا گئے، یہ تو روپ تھا خود سے لگاوٹ کا

یونہی ذرا کچھ اپنے آپ سے روٹھ کے ہم نے دیکھا تھا

اچھا، مان لیا۔۔۔ ہیں زخم ان بھیدوں کے سب دُکھن بھرے

ہونے اور نہ ہونے کے اس الجھیڑے میں کون پڑے

چھوڑیں بھی وہ جھوٹی سچی بات۔۔۔ ذرا اب دنیا کو

اک نظر ہم اپنی شکم سیر آنکھوں سے بھی دیکھیں تو

تمہیں خبر ہے، تم سچے ہو، دنیا کی یہ انوکھی دھج

صرف اِک سورج سے ہے، وہ بھی تمہارے چہرے کا سورج

تم سچے ہو، جو کچھ بھی ہے جیتے دنوں کا میلا ہے

مٹی جسم ہے، مٹی نور ہے، مٹی وقت کا ریلا ہے

ہرے بھرے میدان، ابلتے قریے، باسمتی کی باس

سانسیں، عمریں، قدریں۔۔۔ سب کچھ سکے، پہیے، چربی، ماس

سب تقدیریں، سب ہنگامے، سب یہ مسائل بھنور بھنور

سب کچھ ایک خنک سا جھونکا، تمہارے رخ کے پسینے پر

اچھا، اب توخوش ہو۔۔۔ اَب بھی سنو تو میرا دل یہ کہے

بھائی، کل کیا ہو گا ۔۔۔ کل جب بیگھے خون میں بھیگ گئے

مجید امجد

عرشوں تک۔۔۔

عرشوں تک اونچے آدرش کے فیضانوں میں بھی

اسی طرح سے ہمیشہ ڈرتے رہے ہیں لوگ ان لوگوں سے جو

اپنے لمبے بازوؤں میں سب تدبیریں رکھتے ہیں

اور یہ کون بتائے، اس اک ڈر کے ناطے کتنے کچے ہیں، کتنے سچے ہیں

تدبیروں والوں کی گردنیں ہل نہیں سکتیں

لیکن ڈرے ہوئے لوگوں کی اک اک التجا کو اپنی پلکوں سے چن لیتی ہیں وہ آنکھیں جو

ان سب موٹی موٹی گردنوں، خودسر کھوپڑیوں سے جھانکتی ہیں، فاتح فاتح، نازاں نازاں

اور یوں طاغی روحوں کو عظمت کی غذا ملتی ہے

اور یوں ناتواں چیونٹیاں قدموں کے نیچے پسنے سے بچ جاتی ہیں

اور میں نے یہ دیکھا ہے روز ان خشت کدوں کے اندر اک اک ہمہماتے چھتے میں

جس میٹھے، مٹیالے شہد کی بانٹ ہے

اس کو نارسا عاجزیاں ان پھولوں سے حاصل کرنی ہیں جو

فرعونوں کے باغوں میں کھلتے ہیں

زینہ بہ زینہ، اک اک بام پہ بت اور ان کی لکھ لٹ آنکھیں، ہنستی، ارذل خوشیاں بانٹتی

روز و شب کی احتیاجوں میں۔۔۔ یوں ہی فرشوں کے دھندے چلتے ہیں

عرشوں تک اونچے آدرشوں کے سایوں میں

مجید امجد

تج دو کہ برت لو، دل تو یہی، چن لو کہ گنوا دو، دن تو یہی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 148
اک سانس کی مدھم لو تو یہی، اک پل تو یہی، اک چھن تو یہی
تج دو کہ برت لو، دل تو یہی، چن لو کہ گنوا دو، دن تو یہی
لرزاں ہے لہو کی خلیجوں میں، پیچاں ہے بدن کی نسیجوں میں
اک بجھتے ہوئے شعلے کا سفر، کچھ دن ہو اگر کچھ دن تو یہی
بل کھائے، دکھے، نظروں سے رِسے، سانسوں میں بہے، سوچوں میں جلے
بجھتے ہوئے اس شعلے کے جتن، ہے کچھ بھی اگر کچھ دن تو یہی
میں ذہن پہ اپنے گہری شکن، میں صدق میں اپنے بھٹکا ہوا
ان بندھنوں میں اک انگڑائی، منزل ہے جو کوئی کٹھن تو یہی
اس ڈھب سے جییں سینوں کے شرر، جھونکوں میں گھلیں، قدروں میں تلیں
کاوش ہے کوئی مشکل تو یہی، کوشش ہے کوئی ممکن تو یہی
پھر برف گری، اک گزری ہوئی پت جھڑ کی بہاریں یاد آئیں
اس رُت کی نچنت ہواؤں میں ہیں، کچھ ٹیسیں اتنی دکھن تو یہی
مجید امجد

مجھ کو ڈر نہیں۔۔۔

مجھ کو ڈر نہیں اس کا، آج اگر میں ڈرتا ہوں اس قہقہے سے جو میری اس آواز سے ٹکرایا ہے

یہ میری آواز جو اک اور شخص کے دل سے سدا ابھری ہے۔۔۔

آج اس خوف کا دن ابھرا ہے، اور کل بھی شاید یہ قہقہہ حاوی ہو گا اس آواز پہ جو میری آواز ہے

اور جو اک اور شخص کے دل سے سدا ابھری ہے

اور اس شخص کا دل تو گونجتا زمانہ ہے، اور میرے دل میں کبھی نہیں بیتا وہ دن جب

ان راہوں پر

اس کے تنہا ہاتھ میں مشعل کی لو اور اس کے تنہا قدموں میں زمانوں کی آہٹ

اک ساتھ بڑھی تھی میری جانب

آج اک قہقہے کی کالی قاتل برچھی، جو میرے دل کو کاٹ گئی ہے

اس آواز کے سینے میں پیوست ہے

آج اس قہقہے سے ڈرتا ہوں، لیکن آج کے اپنے ڈر سے میں نہیں ڈرتا

اک دن آئے گا جب وقت اپنی آواز میں جاگے گا، سب کالے قاتل قہقہوں پر حاوی

مجید امجد

تو تو سب کچھ

تو تو سب کچھ جانتا ہے، وہ کیسی کیسی شکستہ کمر توقیریں تھیں جن کی خاطر

تجھ سے طاغی ہو کر ڈوبا رہا ہوں

اس اک گہری ٹھنڈی سانس میں

جس کے چلتے آرے کی یہ دھار اب

میرے دل کو چیرنے لگی ہے

سب کچھ والے، سب کچھ تو تجھ سے تھا

اپنی روح کے اس خاکی سے دکھاوے کی خاطر، اک میں ہی

جھوٹے خیالوں کی یہ کچی تیلیاں جوڑ کے

اپنے گمانوں کے قلعے میں یوں اب تک دربند تھا

ورنہ ساری صولتیں تو اس نام کو حاصل تھیں جو تیرے ظاہر و مخفی وجود سے باہر

تیرا اسم ہے

سچی عزتوں والے، ان سب کائناتوں میں جو کچھ عیاں ہے اس سے بھی بڑھ کر

اظہر ہیں تیری عطائیں، جن کے ستر میں ناموس

ان سب ناموں کے جو سورج کے نیچے جلتے ہیں

یا جو مٹی کے اندر جیتے ہیں

مرے نجس، نکمے، ناری نام کو اپنے کرم کی رمزوں کے زمروں میں رکھنا

مجید امجد

بھولے ہوئے وہ لبھاوے۔۔۔

بھولے ہوئے وہ لبھاوے تب تو کتنے سچے کتنے کھرے تھے

تب تو اپنے وقت کی سچائی تھیں گزری ہوئی وہ جھوٹی خوشیاں

جو اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کے اک دن سیدھی اس میرے دل میں آئی تھیں

اب تو سچ مچ وہ خوشیاں جھوٹی لگتی ہیں، اب کہتا ہوں، کتنا بھولنہار تھا تب میں ۔۔۔

اب تو اور ہی جھوٹی سی اک اپنی سوجھ کی سچائی پر اتراتا ہوں

جانے اس کروٹ کو آگے چل کر میں اک بھول ہی سمجھوں

شاید سب یہ گزرنے والے دن ہوں دکھاوے ان سب آنے والے دنوں کے

دن اب جن کے لوبھ میں جینا ہو گا

دن جو میرے دل تک میرے جھوٹ کی سیڑھیاں ہیں

میری موت کی سچائی تک

مجید امجد

اور ان خارزاروں میں۔۔۔

اور ان خارزاروں میں چلتے چلتے خیال آتا ہے

سدا ہمارے دلوں میں چٹکنے والی کلیوں کی یہ بہاریں

جن صبحوں اور جن شاموں کا موسم ہیں

وہ دن آئیں گے تو۔۔۔

اور کانٹوں کی ٹوٹتی نوکیں ہمارے قدموں کے نیچے کڑکڑانے لگتی ہیں

اور سانسوں کی لہر میں لوہے کی سیال سی پتری جڑ جاتی ہے

اور زمین کی پیٹھ پر اپنا بوجھ بہت کم رہ جاتا ہے

اب تک ہم نے کیسے کیسے یقینوں کے ان نیلم جڑے پیالوں میں عمروں کا زہر پیا ہے

یوں کتنے دڑبوں میں آس کے چہروں پر اک مٹیالی سی دمک جیتی ہے

آسمانوں کو گونجتی پہنائی میں ہمارے نام کے ذرّے بکھر بکھر جاتے ہیں

کبھی نہ مرجھانے والے پھولوں کے ڈھیر ہمارے من میں

اور یہ سب کچھ۔۔۔

اور یہ سب کچھ ایسے وقت میں جب اپنے دامن میں پیتل کی اک پنکھڑی بھی نہیں ہوتی

مجید امجد

اب بھی آنکھیں۔۔۔

اب بھی آنکھیں ان کو ڈھونڈتی ہیں جو اب بھی آنکھوں میں بستے ہیں

ہر جانب بستے ہیں وہ ۔۔۔ ہم جن کا بھرم تھے جب وہ تھے

اب بھی ہمارے ساتھ ہیں ان کے دکھ، ہم جن کا مداوا تھے جب وہ تھے

اب تو ان کے رابطے

ہماری زندگیوں کے غیاب میں

جینے والے کشف ہیں

کون بتائے اپنے رازوں میں ہیں کتنی بیکراں۔۔۔ یہ بے فاصلہ دوریاں

جانے کن اقلیموں سے آتے ہیں خیالوں کے ہلکے ہلکے سے جھکولے

جو ۔۔۔ چپکے سے ۔۔۔ دھیرے دھیرے ۔۔۔ روحوں کے کنجوں میں سرسراتے ہیں

تو آنکھوں میں بھر بھر جاتی ہیں مٹی ان آستانوں کی۔۔۔

جن کے امٹ نشانوں کے سامنے

ان کے دعا کے ہاتھ ہمارے لیے اٹھے تھے

ان کی سانسوں میں جینے والے زمانے ہمارے دلوں میں جاگتے ہیں۔۔۔ اور اب بھی

ہماری آنکھوں میں بستے ہیں وہ، ہم جن کے ضمیروں میں تھے جب وہ تھے

مجید امجد

اس کو علم ہے۔۔۔

اس کو علم ہے، اب وہ ایک سیاہ گڑھے کے دہانے پر ہے

آگے … اک وہ گڑھا ہے اور اس کا وہ اگلا قدم ہے

اب بھی اس کی بےحس،بے دانت، اوچھی، مسترخی باچھیں ہنستی ہیں

اس کا دل نہیں ہنستا اور اس کی باچھیں ہیں جو ہنستی ہیں

یہ اک پُرتحقیر تلطّف دھار ہے اس تلوار کی جس کی زد اتنی کاری ہے

سب اس وار سے اپنی ذلت کی عظمت پاتے ہیں

اس خوش بخت کو علم ہے، اس کے دن تھوڑے ہیں

اس کو علم ہے، اس کا آخری وار اور اس کا اگلا قدم اک ساتھ پڑیں گے

آگے اک وہ گڑھا ہے اور اس کا وہ اگلا قدم ہے

اب ایسے میں جتنے سانس بھی ہیں اس گڑھے سے باہر

جس سے کبھی کوئی باہر نہیں نکلا

اس کی یہ کوشش ہے، وہ اس وقفے کے اندر بھر لے اپنی باچھوں میں

کچھ گھونٹ اور بھی

خوشیوں کے اس گاڑھے جوشاندے کے

جس میں مظلوموں کا لہو پکتا ہے

مجید امجد

باڑیوں میں مینہ۔۔۔

باڑیوں میں مینہ کا پانی، اور ان کے ساتھ ساتھ آگے تک

کیچڑ کیچڑ ڈھلوانوں کی نم مٹی پہ چمکتی ٹھیکریاں اور تنکے

جن میں کھبے کھبے سے نقش، ان قدموں کے جو

ادھر سے جیسے ابھی ابھی گزرے تھے، زمانوں کے اوجھل!

اب کوسوں خطّوں دور، ان اینٹوں کے گھیرے میں یوں بیٹھ کر سوچنا ان روحوں

کے بارے میں

گونگی، منہمک چیونٹیاں تھیں اپنے اپنے جتنوں میں

اپنی اپنی نارسائی میں

اب اس ٹھنڈی سانس کے قلعے میں یوں بیٹھ کر سوچنا۔۔۔

کتنی بڑی ہزیمت ہے ان آہنی خوشیوں کی جن کی نوکیلی باڑ سے

باہر ہیں ان روحوں کے وہ سب دکھ اور وہ سب

نیکیاں جو زینہ تھیں اس قلعے تک

آج اس ٹھنڈی سانس کے قلعے میں یہ آہنی خوشیاں سب کتنی بے امن ہیں

سارے امن تو ان نازک اندیشوں والی زندگیوں ہی میں تھے

جن کے نقشِ قدم کیچڑ کیچڑ ڈھلوانوں سے جیتی گلیوں تک جاتے تھے

مجید امجد

جس بھی روح کا۔۔۔

جس بھی روح کا گھونگھٹ سرکاؤ… نیچے اک

منفعت کا رخ اپنے اطمینانوں میں روشن ہے

ہم سمجھے تھے، گھرتے امڈتے بادلوں کے نیچے جب ٹھنڈی ہوا چلے گی

دن بدلیں گے۔۔۔

لیکن اب دیکھا ہے، گھنے گھنے سایوں کے نیچے

زندگیوں کی سلسبیلوں میں

ڈھکی ڈھکی جن نالیوں سے پانی آ آ کر گرتا ہے

سب زیرِ زمین نظاموں کی نیلی کڑیاں ہیں!

سب تملیکیں ہیں! سب تذلیلیں ہیں!

کون سہارا دے گا ان کو جن کے لیے سب کچھ اک کرب ہے

کون سہارا دے گا ان کو جن کا سہارا آسمانوں کے خلاؤں میں بکھرا ہوا

دھندلا دھندلا سا اک عکس ہے

میں ان عکسوں کا عکاس ہوں۔۔۔

مجید امجد

ان بے داغ ۔۔۔

ان بے داغ دبیز غلافوں کے عطروں میں یوں تو سب کچھ ہے

۔۔۔جن کو تمھاری آنکھیں چومتی ہیں

ان شفاف چمکتی دہلیزوں میں یوں تو سب کچھ ہے

۔۔۔جن پہ تمھارے سجدے بچھتے ہیں

پُرہیبت دیواروں، میناروں اور گنبدوں کے سایوں میں یوں تو سب کچھ ہے

۔۔۔جن میں داخل ہوتے ہی تمھاری سانسیں

ابد کے بوجھ کے نیچے رک رک جاتی ہیں

تقدیسوں کے اسیرو، تم یہ بھی تو سوچتے

اصل میں سب کچھ تو وہ برتاوے تھے جن کو عمروں کے اس ٹکڑے نے اپنایا جو اب

ان قبروں کی مقدس مٹی ہے

تم بھی اس اک پل کو جگمگا سکتے ہو

جس کا تمھاری عمر اک ٹکڑا ہے

ورنہ یوں ہی ان اپنی سچی سوچوں میں ٹھوکریں کھاؤ گے

مجید امجد

تیری نیندیں۔۔۔

تیری نیندیں جانتی ہیں ری منو ۔۔۔

تیری لمبی بے کھٹکا نیندیں جانتی ہیں کیا۔۔۔

تجھ کو تھپکنے والے ٹھنڈے ہاتھوں کے پیچھے یہ کس کا دل ہے؟

اور یہ جو نیندیں لانے والی کم سن صبحیں آئی ہیں

کتنے اندھیروں کے ساتھ اب اس اک دل میں ابھری ہیں؟

اک دل، تجھ کو تھپکنے والے ہاتھوں کا بازو

گندمی محنت زاروں، دھانی کاجواڑوں اور بے رزق دروں میں

لاکھوں ہاتھ پنگھوڑے جھلانے والے، اور ان کے پیچھے اک یہ دل

اک دل، ان ہاتھوں کا بازو۔۔۔

تجھ کو خبر ہے ری منو، تیری نیندوں کو دیکھ کر

آج تو یہ اک دل کن دنیاؤں میں جاگا ہے جو اس کی آخری دھڑکن سے بھی ورے ہیں

کالے سماج۔۔۔ بلکتے بچپن اور اپاہج عمریں

آج بھی اپنی دھڑکنوں میں یہ اک دل تیرے لیے کیا کر سکتا ہے

کل بھی وقت کا پیکر کیا کر سکے گا، یہ دل جس کا ٹوٹا ہوا بازو ہے

کاش ایسے دن بھی آئیں جب یہ دل تیرے جاگنے میں اک شاداں بہناپے کی

مسکانوں میں جاگے

مجید امجد

زندگیوں کے نازک۔۔۔

زندگیوں کے نازک نازک دکھی دکھی موڑوں پر جو جو لمحے آتے ہیں

اک دن اپنے سارے آنسوؤں سمیت، بھنچے ہونٹوں کے پیچھے، دلوں کی تاریکی

میں مر جاتے ہیں

اُن کو کیوں مرنا تھا؟

یہ جذبے تو اس اک سچائی سے پھوٹتے ہیں جو روحوں کا جوہر ہیں

لیکن یہ دل کیوں ان جذبوں کا مدفن ہے؟

پاؤں پھر بھی ڈگ مگ ڈولتے ہیں، گلیوں کی رسموں میں۔۔۔

مرنے والے ساتھی کے ماتھے کو چومنے والے تھرتھر کانپتے ہونٹ

یہ سب کچھ بھول کے

پھر بھی ان صحنوں کی ریتوں میں ہنستے بولتے جی جاتے ہیں

مند جانے والی آنکھیں مٹی میں سو گئیں، جینے والے اقراروں کے سامنے

بندے، تو ان آنکھوں میں ان سب اقراروں کا شاہد ہے

یہ کس سانحے کے پنجر نے تیرے دل کے مدفن میں کروٹ بدلی ہے؟

تو کیا سمجھا بندے؟

شاید سارے سچ تو اس سچائی میں ہیں جس کا کسی کے ساتھ اقرار نہیں

مجید امجد

دلوں کی ان فولادی ۔۔۔

دلوں کی ان فولادی بیٹھکوں میں کس تک ان مفہوموں کے سب معنی پہنچے ہیں

مفہوم ان حرفوں کے جن کی عبارت کھردرے کاغذ کے میلوں لمبے مسطر پر

روزانہ لاکھوں بھوکی آنکھوں کا ناشتہ ہے

کس کے فہم نے معنی جذب کیے ان سب حرفوں کے

جن کی کالی روشنائی سے لہو رستا ہے

کس نے ان حرفوں سے رستے لہو کو دیکھا

لہو۔۔۔ لہو ہم سب کا، دھانی دیسوں، گدلی آبناؤں میں

کس نے جانا

ان صبحوں میں، ان میزوں پر

ورق الٹتے ہی ہر روز اک خونیں عہد گزرتا ہے

مارملیڈ لگے توسوں کے درمیان ۔۔۔

ورق الٹ کر، لو وہ زوں زوں کرتے گھوم گئے پھر سب دل اپنے اپنے محور پر

اپنے اپنے اطمینانوں میں

اپنا دل تو دیکھے دنوں سے دکھنے لگا ہے

مجید امجد

اپنے آپ کو ۔۔۔

اپنے آپ کو بھولے ہوئے ہونے میں جب اس اپنی بھول کو بھی تم

بھولے رہو گے

تو ان پتھریلے فرشوں پر چلتے چلتے اچانک کبھی کبھی تم یوں محسوس کرو گے

جیسے گہری شاموں کی ہلکی سانسوں میں

جی اٹّھا ہے وہ سب کچھ جو غربِ غروب میں اتنے فاصلوں پر ہے

زمانوں سے بھی باہر

اور تم لوٹ آئے ہو خود اپنی یادوں میں اس کے ہمراہ

اپنے آپ کو بھولے ہوئے ہونے میں بھی۔۔۔

مجید امجد

ساتوں آسمانوں۔۔۔

ساتوں آسمانوں کے عکس اور کنکر آ آ کر گرتے ہیں خیالوں کے خانوں میں

یہ سب کچھ ان الگ الگ خانوں میں اک وہ یکجا مخفی قوت ہے جو

مجھ پر ظاہر تو نہیں لیکن جو یوں ہونے میں میری ہونی کے ساتھ ہے

میرے شعور کو ان کا علم نہیں ہوتا، میں پل پل جن جن وارداتوں میں بہہ جاتا ہوں

اور اپنے ہونے کی جس جس ہونی میں ہوتا ہوں۔۔۔

اور جب کوئی مجھے یوں سنبھالتا ہے جیسے وہ میرے ساتھ ہے

اک یہ خودآگاہ سی بےخبری جو میرے شعور کا جوہر بھی ہے

اور جو میرے شعور کے علم سے باہر بھی ہے

زندگی میں اک زندگی، آسمانوں سے آنے والی مٹی جس کی روح ہے

مجید امجد

پختہ وصفوں کے بل پر۔۔۔

پختہ وصفوں کے بل پر، بےحد قربانیوں کے بعد، اک ایسی منزل آتی ہے

جہاں پہنچ کر اس مقصد کی طمانیت ملتی ہے

جس کی بلندی ایک گراوٹ کی جانب بڑھتی ہے

اور اس لمبے سفر میں اک یہ گراوٹ بھی کیسی منزل ہے!

جہاں پہنچ کر انساں اپنے وصفوں سے واصف نہیں رہتا

لیکن دنیا والے اس کے پہلے وصفوں ہی کی بنا پر اس کی گراوٹ سے بے دل نہیں ہوتے

اک یہ کیسی منزل ہے جس تک جب کوئی پہنچتا ہے تو اس کے سوجے ہوئے پپوٹوں کے

نیچے اس کی آنکھوں میں پتلیاں کم حرکت کرتی ہیں

اس کی نظریں اپنی کامیابی پر رکی جمی رہتی ہیں

اور وہ بےنسبت ہو جاتا ہے، اس دنیا سے بھی جس کو اس کے سفر کی کہانی یاد ہے

کیسا یہ گھن ہے جو سینہ تان کے چلنے والی تقدیسوں کے پنجر میں سب جوہر چاٹ جاتا ہے

اور ہر جانب اونچے مقصدوں کے سنگین لبادے اوڑھ کے کھوکھلی روحیں

اکڑ اکڑ کے چلتی نظر آتی ہیں

کون انھیں پہچانے، سونے کی تہہ پانی میں ہے اور مٹی کا چہرہ باہر ان سطحوں پر

مجید امجد

اور وہ لوگ۔۔۔

اور وہ لوگ اپنے ناموں کے حرفوں میں اب بھی زندہ ہیں جب وہ نام ہماری زبانوں پر آتے ہیں

ہم۔۔۔ جو اپنی بقا میں موت کا سلسلہ ہیں

ہم سے اچھے ہیں وہ لوگ

پھول ہمارے باغوں میں جن کی قبروں کے لیے کھلتے ہیں

ہم جو گردش کرنے والے کُروں کے پاتالوں کی مٹی میں بے تذکرہ ذرّے ہیں

ہم ہی تو ہیں وہ جیتی مرتی روحیں، جن کے ہونے اور نہ ہونے کا یہ دائرہ ان ناموں کی

بقا کا دائرہ ہے

جن ناموں کے ذکر کی خاطر ہم بےتذکرہ ہیں

سب کچھ دیکھ کے

سب کچھ جانچ کے

اب بھی لمبی بےانت آنتیں یوں دن رات اس موجِ غرور کو کشید کرنے میں لگی ہیں

جن سے ہماری آنکھیں بھری ہوئی ہیں اور

اب بھی ہم ان ناموں سے بےنسبت ہیں جن کی بقا کی خاطر ہم بےتذکرہ ہیں

مجید امجد

سدا زمانوں کے اندر۔۔۔

سدا زمانوں کے اندر۔۔۔

ذہنوں میں بھی، اور زبانوں پر بھی، تیرے ہیں بے جسم وجودوں والے جو جو نام

اُن کے ابد کیسے ہیں، اور کیا ہیں

سب کچھ بس اتنا کہ ہم اب بھی ان ناموں کو دہرا کر اپنے جی کو گدلا کر لیتے ہیں

ورنہ یوں تو جانے کب سے طاقِ جہاں پہ ابد کے مرتبانوں میں ان کے مرتبے

پڑے پڑے سب گلتے ہیں

کبھی کبھی ان مرتبانوں سے ذرا ذرا سا دکھ چکھ کر ہم اپنی روح کا ذائقہ بدل لیتے ہیں

اور اپنے جی کو گدلا کر لیتے ہیں

لیکن اس سے ان جسموں کو اب کیا لابھ ہے جو خود تو اب مٹی ہیں اور جن کے نام

ہمارے ذہنوں میں بھی اور زبانوں پر بھی جاری ہیں

ان سے تو اچھا ہے گتھم گتھا بازاروں میں اس بھرپور طمانیت سے شاپنگ کرنے والا یہ اک شخص

کوئی ابد بھی جس کی قیمتی مٹی کا زنگار نہیں ہے

ایسے میں اب کون ان کو پہچانے، کون اب ان کے ابد کی حقیقت کو جانے

اک اک کر کے کاٹ گئے ظلموں کے ٹوکے جن کی عمروں کو، اک اک کر کے، اک اک کر کے

مجید امجد

ڈھلتے اندھیروں میں۔۔۔

ڈھلتے اندھیروں میں، کچی مٹی پر، کولتار کی سڑکوں پر، ہر جانب

وہی پرانی، کھدی ہوئی سی لکیریں پہیوں کی اور وہی پرانی گرد، عناد

اور جمگھٹ

وہ پرانی روندی ہوئی سی صبحیں۔۔۔

لیکن کہاں سے آئی ہیں یہ دل کے مساموں میں بھر جانے والی مہکاریں

اَن دیکھے پھولوں کی

کانوں کے پردے بجتے نظر آتے ہیں۔۔۔ تھمے ہوئے سب شور اور دل

کے پردے بجتے نظر آتے ہیں۔۔۔

ازلیں بھی ایسی ہی خوشبوؤں میں جاگی ہوں گی

شام کی سڑکیں، وہی پرانے چہرے

سارے دن کی تھکی ہوئی یہ عبودیت

اور بےمہرنگاہوں کے آواز ے ہر سو

سب لوگ اپنے دلوں کی دھرتی پر بےمامن، سب ان راہوں پر بےمنزل

یونہی جانے کب سے۔۔۔

اور بستی کی دیواروں کے ساتھ ساتھ اب کتنے سکون سے نہر میں پانی

دھیرے دھیرے چمکتا چمکتا رواں ہے۔۔۔ اب، جب رات کا سارا کالا بوجھ

ان گھنے گھنے پیڑوں پر آن جھکا ہے

دیواروں کے گھیرے میں اب یہ کیسی نیندیں سلگ اٹھی ہیں جن کے عبیری دھوئیں میں موت

اور زیست کی سرحدیں مل جاتی ہیں

ایک زمانہ ختم ہوا ہے ۔۔۔ اک دن گزرا ہے

مجید امجد