زمرہ جات کے محفوظات: اساتذہ

یہ بلا آسمان پر آئی

دیوان اول غزل 436
آہ میری زبان پر آئی
یہ بلا آسمان پر آئی
عالم جاں سے تو نہیں آیا
ایک آفت جہان پر آئی
پیری آفت ہے پھر نہ تھا گویا
یہ بلا جس جوان پر آئی
ہم بھی حاضر ہیں کھینچیے شمشیر
طبع گر امتحان پر آئی
تب ٹھکانے لگی ہماری خاک
جب ترے آستان پر آئی
آتش رنگ گل سے کیا کہیے
برق تھی آشیان پر آئی
طاقت دل برنگ نکہت گل
پھیر اپنے مکان پر آئی
ہو جہاں میر اور غم اس کا
جس سے عالم کی جان پر آئی
میر تقی میر

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

دیوان اول غزل 435
ہے غزل میر یہ شفائیؔ کی
ہم نے بھی طبع آزمائی کی
اس کے ایفاے عہد تک نہ جیے
عمر نے ہم سے بے وفائی کی
وصل کے دن کی آرزو ہی رہی
شب نہ آخر ہوئی جدائی کی
اسی تقریب اس گلی میں رہے
منتیں ہیں شکستہ پائی کی
دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر
آہ نے آہ نارسائی کی
کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس
ہم نے دیدار کی گدائی کی
زور و زر کچھ نہ تھا تو بارے میر
کس بھروسے پر آشنائی کی
میر تقی میر

نظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کی

دیوان اول غزل 434
یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کی
نظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کی
سحر پاے گل بے خودی ہم کو آئی
کہ اس سست پیماں میں بو تھی کسو کی
یہ سرگشتہ جب تک رہا اس چمن میں
برنگ صبا جستجو تھی کسو کی
نہ ٹھہری ٹک اک جان بر لب رسیدہ
ہمیں مدعا گفتگو تھی کسو کی
جلایا شب اک شعلۂ دل نے ہم کو
کہ اس تند سرکش میں خو تھی کسو کی
نہ تھے تجھ سے نازک میانان گلشن
بہت تو کمر جیسے مو تھی کسو کی
دم مرگ دشوار دی جان ان نے
مگر میر کو آرزو تھی کسو کی
میر تقی میر

اس کی ہوا میں ہم پہ تو بیداد ہو گئی

دیوان اول غزل 433
آخر ہماری خاک بھی برباد ہو گئی
اس کی ہوا میں ہم پہ تو بیداد ہو گئی
مدت ہوئی نہ خط ہے نہ پیغام ہے مگر
اک رسم تھی وفا کی پر افتاد ہو گئی
دل کس قدر شگفتہ ہوا تھا کہ رات میر
آئی جو بات لب پہ سو فریاد ہو گئی
میر تقی میر

یعنی طاقت آزمائی ہوچکی

دیوان اول غزل 432
تاب دل صرف جدائی ہوچکی
یعنی طاقت آزمائی ہوچکی
چھوٹتا کب ہے اسیر خوش زباں
جیتے جی اپنی رہائی ہوچکی
آگے ہو مسجد کے نکلی اس کی راہ
شیخ سے اب پارسائی ہوچکی
درمیاں ایسا نہیں اب آئینہ
میرے اس کے اب صفائی ہوچکی
ایک بوسہ مانگتے لڑنے لگے
اتنے ہی میں آشنائی ہوچکی
بیچ میں ہم ہی نہ ہوں تو لطف کیا
رحم کر اب بے وفائی ہوچکی
آج پھر تھا بے حمیت میر واں
کل لڑائی سی لڑائی ہوچکی
میر تقی میر

اس زمانے میں گئی ہے برکت غم سے بھی

دیوان اول غزل 431
دل کو تسکین نہیں اشک دمادم سے بھی
اس زمانے میں گئی ہے برکت غم سے بھی
ہم نشیں کیا کہوں اس رشک مہ تاباں بن
صبح عید اپنی ہے بدتر شب ماتم سے بھی
کاش اے جان المناک نکل جاوے تو
اب تو دیکھا نہیں جاتا یہ ستم ہم سے بھی
آخرکار محبت میں نہ نکلا کچھ کام
سینہ چاک و دل پژمردہ مژہ نم سے بھی
آہ ہر غیر سے تاچند کہوں جی کی بات
عشق کا راز تو کہتے نہیں محرم سے بھی
دوری کوچہ میں اے غیرت فردوس تری
کام گذرا ہے مرا گریۂ آدم سے بھی
ہمت اپنی ہی تھی یہ میر کہ جوں مرغ خیال
اک پرافشانی میں گذرے سرعالم سے بھی
میر تقی میر

جی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ

دیوان اول غزل 429
کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ
جی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ
رات مجلس میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے
جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ
مر گئے پر بھی کھلی رہ گئیں آنکھیں اپنی
کون اس طرح موا حسرت دیدار کے ساتھ
شوق کا کام کھنچا دور کہ اب مہر مثال
چشم مشتاق لگی جائے ہے طومار کے ساتھ
راہ اس شوخ کی عاشق سے نہیں رک سکتی
جان جاتی ہے چلی خوبی رفتار کے ساتھ
وے دن اب سالتے ہیں راتوں کو برسوں گذرے
جن دنوں دیر رہا کرتے تھے ہم یار کے ساتھ
ذکر گل کیا ہے صبا اب کہ خزاں میں ہم نے
دل کو ناچار لگایا ہے خس و خار کے ساتھ
کس کو ہر دم ہے لہو رونے کا ہجراں میں دماغ
دل کو اک ربط سا ہے دیدئہ خونبار کے ساتھ
میری اس شوخ سے صحبت ہے بعینہ ویسی
جیسے بن جائے کسو سادے کو عیار کے ساتھ
دیکھیے کس کو شہادت سے سر افراز کریں
لاگ تو سب کو ہے اس شوخ کی تلوار کے ساتھ
بے کلی اس کی نہ ظاہر تھی جو تو اے بلبل
دم کش میر ہوئی اس لب و گفتار کے ساتھ
میر تقی میر

تو بھی ہم غافلوں نے آ کے کیا کیا کیا کچھ

دیوان اول غزل 428
ہم سے کچھ آگے زمانے میں ہوا کیا کیا کچھ
تو بھی ہم غافلوں نے آ کے کیا کیا کیا کچھ
دل جگر جان یہ بھسمنت ہوئے سینے میں
گھر کو آتش دی محبت نے جلا کیا کیا کچھ
کیا کہوں تجھ سے کہ کیا دیکھا ہے تجھ میں میں نے
عشوہ و غمزہ و انداز و ادا کیا کیا کچھ
دل گیا ہوش گیا صبر گیا جی بھی گیا
شغل میں غم کے ترے ہم سے گیا کیا کیا کچھ
آہ مت پوچھ ستمگار کہ تجھ سے تھی ہمیں
چشم لطف و کرم و مہر و وفا کیا کیا کچھ
نام ہیں خستہ و آوارہ و بدنام مرے
ایک عالم نے غرض مجھ کو کہا کیا کیا کچھ
طرفہ صحبت ہے کہ سنتا نہیں تو ایک مری
واسطے تیرے سنا میں نے سنا کیا کیا کچھ
حسرت وصل و غم ہجر و خیال رخ دوست
مر گیا میں پہ مرے جی میں رہا کیا کیا کچھ
درد دل زخم جگر کلفت غم داغ فراق
آہ عالم سے مرے ساتھ چلا کیا کیا کچھ
چشم نمناک و دل پر جگر صد پارہ
دولت عشق سے ہم پاس بھی تھا کیا کیا کچھ
تجھ کو کیا بننے بگڑنے سے زمانے کے کہ یاں
خاک کن کن کی ہوئی صرف بنا کیا کیا کچھ
قبلہ و کعبہ خداوند و ملاذ و مشفق
مضطرب ہو کے اسے میں نے لکھا کیا کیا کچھ
پر کہوں کیا رقم شوق کی اپنے تاثیر
ہر سر حرف پہ وہ کہنے لگا کیا کیا کچھ
ایک محروم چلے میر ہمیں عالم سے
ورنہ عالم کو زمانے نے دیا کیا کیا کچھ
میر تقی میر

کچھ سنی سوختگاں تم خبر پروانہ

دیوان اول غزل 427
کہتے ہیں اڑ بھی گئے جل کے پر پروانہ
کچھ سنی سوختگاں تم خبر پروانہ
سعی اتنی یہ ضروری ہے اٹھے بزم سلگ
اے جگر تفتگی بے اثر پروانہ
کس گنہ کا ہے پس از مرگ یہ عذر جاں سوز
پائوں پر شمع کے پاتے ہیں سر پروانہ
آ پڑا آگ میں اے شمع یہیں سے تو سمجھ
کس قدر داغ ہوا تھا جگر پروانہ
بزم دنیا کی تو دل سوزی سنی ہو گی میر
کس طرح شام ہوئی یاں سحر پروانہ
میر تقی میر

ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ

دیوان اول غزل 426
جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ
ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ
اب کیسا چاک چاک ہو دل اس کے ہجر میں
گتھواں تو لخت دل سے نکلتی ہے میری آہ
شام شب وصال ہوئی یاں کہ اس طرف
ہونے لگا طلوع ہی خورشید رو سیاہ
گذرا میں اس سلوک سے دیکھا نہ کر مجھے
برچھی سی لاگ جا ہے جگر میں تری نگاہ
دامان و جیب چاک خرابی و خستگی
ان سے ترے فراق میں ہم نے کیا نباہ
بیتابیوں کو سونپ نہ دینا کہیں مجھے
اے صبر میں نے آن کے لی ہے تری پناہ
خوں بستہ بارے رہنے لگی اب تو یہ مژہ
آنسو کی بوند جس سے ٹپکتی تھی گاہ گاہ
گل سے شگفتہ داغ دکھاتا ہوں تیرے تیں
گر موافقت کرے ہے تنک مجھ سے سال و ماہ
گر منع مجھ کو کرتے ہیں تیری گلی سے لوگ
کیونکر نہ جائوں مجھ کو تو مرنا ہے خوامخواہ
ناحق الجھ پڑا ہے یہ مجھ سے طریق عشق
جاتا تھا میر میں تو چلا اپنی راہ راہ
میر تقی میر

زمین میکدہ یک دست ہے گی آب زدہ

دیوان اول غزل 425
جو ہوشیار ہو سو آج ہو شراب زدہ
زمین میکدہ یک دست ہے گی آب زدہ
بنے یہ کیونکے ملے تو ہی یا ہمیں سمجھیں
ہم اضطراب زدہ اور تو حجاب زدہ
کرے ہے جس کو ملامت جہاں وہ میں ہی ہوں
اجل رسیدہ جفا دیدہ اضطراب زدہ
جدا ہو رخ سے تری زلف میں نہ کیوں دل جائے
پناہ لیتے ہیں سائے کی آفتاب زدہ
لگا نہ ایک بھی میر اس کی بیت ابرو کو
اگرچہ شعر تھے سب میرے انتخاب زدہ
میر تقی میر

کیا پوچھتے ہو الحمدللہ

دیوان اول غزل 424
اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ
کیا پوچھتے ہو الحمدللہ
مر جائو کوئی پروا نہیں ہے
کتنا ہے مغرور اللہ اللہ
پیر مغاں سے بے اعتقادی
استغفر اللہ استغفر اللہ
کہتے ہیں اس کے تو منھ لگے گا
ہو یوں ہی یارب جوں ہے یہ افواہ
حضرت سے اس کی جانا کہاں ہے
اب مر رہے گا یاں بندہ درگاہ
سب عقل کھوئے ہے راہ محبت
ہو خضر دل میں کیسا ہی گمراہ
مجرم ہوئے ہم دل دے کے ورنہ
کس کو کسو سے ہوتی نہیں چاہ
کیا کیا نہ ریجھیں تم نے پچائیں
اچھا رجھایا اے مہرباں آہ
گذرے ہے دیکھیں کیونکر ہماری
اس بے وفا سے نے رسم نے راہ
تھی خواہش دل رکھنا حمائل
گردن میں اس کی ہر گاہ و بیگاہ
اس پر کہ تھا وہ شہ رگ سے اقرب
ہرگز نہ پہنچا یہ دست کوتاہ
ہے ماسوا کیا جو میر کہیے
آگاہ سارے اس سے ہیں آگاہ
جلوے ہیں اس کے شانیں ہیں اس کی
کیا روز کیا خور کیا رات کیا ماہ
ظاہر کہ باطن اول کہ آخر
اللہ اللہ اللہ اللہ
میر تقی میر

پر ہوسکے تو پیارے ٹک دل کا آشنا رہ

دیوان اول غزل 423
جی چاہے مل کسو سے یا سب سے تو جدا رہ
پر ہوسکے تو پیارے ٹک دل کا آشنا رہ
کل بے تکلفی میں لطف اس بدن کا دیکھا
نکلا نہ کر قبا سے اے گل بس اب ڈھپا رہ
عاشق غیور جی دے اور اس طرف نہ دیکھے
وہ آنکھ جو چھپاوے تو تو بھی ٹک کھنچا رہ
پہنچیں گے آگے دیکھیں کس درجہ کو ابھی تو
اس ماہ چاردہ کا سن دس ہے یا کہ بارہ
کھینچا کرے ہے ہر دم کیا تیغ بوالہوس پر
اس ناسزاے خوں کے اتنا نہ سر چڑھا رہ
مستظہر محبت تھا کوہکن وگرنہ
یہ بوجھ کس سے اٹھتا ایک اور ایک گیارہ
ہر مشت خاک یاں کی چاہے ہے اک تامل
بن سوچے راہ مت چل ہر گام پر کھڑا رہ
شاید کہ سربلندی ہووے نصیب تیرے
جوں گرد راہ سب کے پائوں سے تو لگا رہ
اس خط سبز نے کچھ رویت نہ رکھی تیری
کیا ایسی زندگانی جا خضر زہر کھا رہ
حد سے زیادہ واعظ یہ کودنا اچھلنا
کاہے کو جاتے ہیں ہم اے خرس اب بندھا رہ
میں تو ہیں وہم دونوں کیا ہے خیال تجھ کو
جھاڑ آستین مجھ سے ہاتھ آپ سے اٹھا رہ
جیسے خیال مفلس جاتا ہے سو جگہ تو
مجھ بے نوا کے بھی گھر ایک آدھ رات آ رہ
دوڑے بہت ولیکن مطلب کو کون پہنچا
آئندہ تو بھی ہم سا ہوکر شکستہ پا رہ
جب ہوش میں تو آیا اودھر ہی جاتے پایا
اس سے تو میر چندے اس کوچے ہی میں جا رہ
میر تقی میر

شیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ

دیوان اول غزل 422
دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ
شیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ
شیشہ بازی تو تنک دیکھنے آ آنکھوں کی
ہر پلک پر مرے اشکوں سے رواں ہے شیشہ
روسفیدی ہے نقاب رخ شور مستی
ریش قاضی کے سبب پنبہ دہاں ہے شیشہ
منزل مستی کو پہنچے ہے انھیں سے عالم
نشۂ مے بلد و سنگ نشاں ہے شیشہ
درمیاں حلقۂ مستاں کے شب اس کی جا تھی
دور ساغر میں مگر پیر مغاں ہے شیشہ
جاکے پوچھا جو میں یہ کارگہ مینا میں
دل کی صورت کا بھی اے شیشہ گراں ہے شیشہ
کہنے لاگے کہ کدھر پھرتا ہے بہکا اے مست
ہر طرح کا جو تو دیکھے ہے کہ یاں ہے شیشہ
دل ہی سارے تھے پہ اک وقت میں جو کرکے گداز
شکل شیشے کی بنائے ہیں کہاں ہے شیشہ
جھک گیا دیکھ کے میں میر اسے مجلس میں
چشم بد دور طرحدار جواں ہے شیشہ
میر تقی میر

وہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ

دیوان اول غزل 421
ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ
وہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ
آگ تھے ابتداے عشق میں ہم
اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ
بود آدم نمود شبنم ہے
ایک دو دم میں پھر ہوا ہے یہ
شکر اس کی جفا کا ہو نہ سکا
دل سے اپنے ہمیں گلہ ہے یہ
شور سے اپنے حشر ہے پردہ
یوں نہیں جانتا کہ کیا ہے یہ
بس ہوا ناز ہو چکا اغماض
ہر گھڑی ہم سے کیا ادا ہے یہ
نعشیں اٹھتی ہیں آج یاروں کی
آن بیٹھو تو خوش نما ہے یہ
دیکھ بے دم مجھے لگا کہنے
ہے تو مردہ سا پر بلا ہے یہ
میں تو چپ ہوں وہ ہونٹ چاٹے ہے
کیا کہوں ریجھنے کی جا ہے یہ
ہے رے بیگانگی کبھو ان نے
نہ کہا یہ کہ آشنا ہے یہ
تیغ پر ہاتھ دم بہ دم کب تک
اک لگا چک کہ مدعا ہے یہ
میر کو کیوں نہ مغتنم جانے
اگلے لوگوں میں اک رہا ہے یہ
میر تقی میر

دلیل اس کی نمایاں ہے مری آنکھیں ہیں خوں بستہ

دیوان اول غزل 420
جگر لوہو کو ترسے ہے میں سچ کہتا ہوں دل خستہ
دلیل اس کی نمایاں ہے مری آنکھیں ہیں خوں بستہ
چمن میں دل خراش آواز آتی ہے چلی شاید
پس دیوار گلشن نالہ کش ہے کوئی پر بستہ
جگر سوزاں و دل بریاں برہنہ پا و سرقرباں
تجاوز کیا کروں اس سے کہ ان ہی کا ہوں وابستہ
ترے کوچے میں یکسر عاشقوں کے خارمژگاں ہیں
جو تو گھر سے کبھو نکلے تو رکھیو پائوں آہستہ
مرے آگے نہیں ہنستا تو آ اک صلح کرتا ہوں
بھلا میں روئوں دو دریا تبسم کر تو یک پستہ
تعجب ہے مجھے یہ سرو کو آزاد کہتے ہیں
سراپا دل کی صورت جس کی ہو وہ کیا ہو وارستہ
تری گل گشت کی خاطر بنا ہے باغ داغوں سے
پرطائوس سینہ ہے تمامی دست گلدستہ
بجا ہے گر فلک پر فخر سے پھینکے کلاہ اپنی
کہے جو اس زمیں میں میر یک مصراع برجستہ
میر تقی میر

ہم بے گنہ اس کے ہیں گنہگار ہمیشہ

دیوان اول غزل 419
سو ظلم کے رہتے ہیں سزاوار ہمیشہ
ہم بے گنہ اس کے ہیں گنہگار ہمیشہ
ایک آن گذر جائے تو کہنے میں کچھ آوے
درپیش ہے یاں مردن دشوار ہمیشہ
دشمن کو نہ کیوں شرب مدام آوے میسر
رہتی ہے ادھر ہی نگہ یار ہمیشہ
یوسف سے کئی آن کے تیرے سر بازار
بک جاتے ہیں باتوں میں خریدار ہمیشہ
ہے دامن گل چین چمن جیب ہمارا
دنیا میں رہے دیدئہ خوں بار ہمیشہ
جو بن ترے دیکھے موا دوزخ میں ہے یعنی
رہتی ہے اسے حسرت دیدار ہمیشہ
جینا ہے تو بے طاقتی و بے خودی ہے میر
مردہ ہے غرض عشق کا بیمار ہمیشہ
میر تقی میر

مجروح دل کو میرے کانٹوں میں مت گھسیٹو

دیوان اول غزل 417
لائق نہیں تمھارے مژگان خوش نگاہاں
مجروح دل کو میرے کانٹوں میں مت گھسیٹو
میر تقی میر

خانہ بہ خانہ در بہ در شہر بہ شہر کو بہ کو

دیوان اول غزل 416
جیسے نسیم ہر سحر تیری کروں ہوں جستجو
خانہ بہ خانہ در بہ در شہر بہ شہر کو بہ کو
میر تقی میر

دل بھر رہا ہے خوب ہی روئوں گا دیکھیو

دیوان اول غزل 415
نور نظر کو کھوکے میں سوئوں گا دیکھیو
دل بھر رہا ہے خوب ہی روئوں گا دیکھیو
میر تقی میر

جو کچھ کہ تم سے ہوسکے تقصیر مت کرو

دیوان اول غزل 413
اس بے گنہ کے قتل میں اب دیر مت کرو
جو کچھ کہ تم سے ہوسکے تقصیر مت کرو
ایفاے عہد قتل تو تم کرکے سچے ہو
اتنے بھی خلف وعدہ سے دلگیر مت کرو
میر تقی میر

ٹک اک خاطر خواب صیاد کیجو

دیوان اول غزل 412
نہ آ دام میں مرغ فریاد کیجو
ٹک اک خاطر خواب صیاد کیجو
یہ تہمت بڑی ہے کہ مر گئی ہے شیریں
تحمل ٹک اے مرگ فرہاد کیجو
غم گل میں مرتا ہوں اے ہم صفیرو
چمن میں جو جائو مجھے یاد کیجو
رہائی مری مدعی ضعف سے ہے
تو صیاد مجھ کو نہ آزاد کیجو
مرے روبرو آئینہ لے کے ظالم
دم واپسیں میں تو تو شاد کیجو
جدا تن سے کرتے ہی پامال کرنا
یہ احساں مرے سر پہ جلاد کیجو
میر تقی میر

وہی دور ہو تو وہی پھر نہ آ تو

دیوان اول غزل 411
وہی مجھ پہ غصہ وہی یاں سے جاتو
وہی دور ہو تو وہی پھر نہ آ تو
مرے اس کے وعدہ ملاقات کا ہے
کوئی روز اے عمر کیجو وفا تو
بہت پوچھیو دل کو میری طرف سے
اگر جائے اس کی گلی میں صبا تو
سفینہ مرا ورطۂ غم سے نکلے
جو ٹک ناخدائی کرے اے خدا تو
سب اسباب ہجراں میں مرنے ہی کے تھے
بھلا میر کیونکر کے جیتا رہا تو
میر تقی میر

نومیدیاں ہیں کتنی ہی مہمان آرزو

دیوان اول غزل 410
آنکھوں سے دل تلک ہیں چنے خوان آرزو
نومیدیاں ہیں کتنی ہی مہمان آرزو
یک چشم اس طرف بھی تو کافر کہ تو ہی ہے
دین نگاہ حسرت و ایمان آرزو
آیا تو اور رنگ رخ یاس چل بسا
جانے لگا تو چلنے لگی جان آرزو
اس مجہلے کو سیر کروں کب تلک کہ ہے
دست ہزار حسرت و دامان آرزو
پامال یاس آہ کہاں تک رہوں گا میر
سرمشق کیوں کیا تھا میں دیوان آرزو
میر تقی میر

اب کار شوق اپنا پہنچا ہے یاں تلک تو

دیوان اول غزل 409
اجرت میں نامہ کی ہم دیتے ہیں جاں تلک تو
اب کار شوق اپنا پہنچا ہے یاں تلک تو
آغشتہ میرے خوں سے اے کاش جاکے پہنچے
کوئی پر شکستہ ٹک گلستاں تلک تو
واماندگی نے مارا اثناے رہ میں ہم کو
معلوم ہے پہنچنا اب کارواں تلک تو
افسانہ غم کا لب تک آیا ہے مدتوں میں
سو جائیو نہ پیارے اس داستاں تلک تو
آوارہ خاک میری ہو کس قدر الٰہی
پہنچوں غبار ہوکر میں آسماں تلک تو
آنکھوں میں اشک حسرت اور لب پہ شیون آیا
اے حرف شوق تو بھی آیا زباں تلک تو
اے کاش خاک ہی ہم رہتے کہ میر اس میں
ہوتی ہمیں رسائی اس آستاں تلک تو
میر تقی میر

عشق کیسا جس میں اتنی روسیاہی بھی نہ ہو

دیوان اول غزل 408
کیا ہے گر بدنامی و حالت تباہی بھی نہ ہو
عشق کیسا جس میں اتنی روسیاہی بھی نہ ہو
لطف کیا آزردہ ہوکر آپ سے ملنے کے بیچ
ٹک تری جانب سے جب تک عذر خواہی بھی نہ ہو
چاہتا ہے جی کہ ہم تو ایک جا تنہا ملیں
ناز بے جا بھی نہ ہووے کم نگاہی بھی نہ ہو
مجمع ترکاں ہے کوئی دیکھیو جاکر کہیں
جس کا میں کشتہ ہوں اس میں وہ سپاہی بھی نہ ہو
مجھ کو آوارہ جو رکھتا ہے مگر چاہے ہے چرخ
ماتم آسائش غفراں پناہی بھی نہ ہو
نازبرداری تری کرتے تھے اک امید پر
راستی ہم سے نہیں تو کج کلاہی بھی نہ ہو
یہ دعا کی تھی تجھے کن نے کہ بہر قتل میر
محضر خونیں پہ تیرے اک گواہی بھی نہ ہو
میر تقی میر

کیا آفت آگئی مرے اس دل کی تاب کو

دیوان اول غزل 407
فرصت نہیں تنک بھی کہیں اضطراب کو
کیا آفت آگئی مرے اس دل کی تاب کو
میری ہی چشم تر کی کرامات ہے یہ سب
پھرتا تھا ورنہ ابر تو محتاج آب کو
گذری ہے شب خیال میں خوباں کے جاگتے
آنکھیں لگا کے اس سے میں ترسوں ہوں خواب کو
خط آگیا پر اس کا تغافل نہ کم ہوا
قاصد مرا خراب پھرے ہے جواب کو
تیور میں جب سے دیکھے ہیں ساقی خمار کے
پیتا ہوں رکھ کے آنکھوں پہ جام شراب کو
اب تو نقاب منھ پہ لے ظالم کہ شب ہوئی
شرمندہ سارے دن تو کیا آفتاب کو
کہنے سے میر اور بھی ہوتا ہے مضطرب
سمجھائوں کب تک اس دل خانہ خراب کو
میر تقی میر

ایک دم چھوڑ دو یوں ہی مجھے اب مت پوچھو

دیوان اول غزل 406
محرماں بے دمی کا میری سبب مت پوچھو
ایک دم چھوڑ دو یوں ہی مجھے اب مت پوچھو
گریۂ شمع کا اے ہم نفساں میں تھا حریف
گذری ہے رات کی صحبت بھی عجب مت پوچھو
سر پر شور سے میرے نہ کرو کوئی سوال
حشر تھے داخل خدام ادب مت پوچھو
لب پہ شیون مژہ پر خون و نگہ میں اک یاس
دن گیا ہجر کا جس ڈھنگ سے شب مت پوچھو
میرصاحب نئی یہ طرز ہو اس کی تو کہوں
موجب آزردگی کا وجہ غضب مت پوچھو
میر تقی میر

جی ہی جانے ہے آہ مت پوچھو

دیوان اول غزل 405
اس کی طرز نگاہ مت پوچھو
جی ہی جانے ہے آہ مت پوچھو
کہیں پہنچوگے بے رہی میں بھی
گمرہاں یوں یہ راہ مت پوچھو
نوگرفتار دام زلف اس کا
ہے یہی رو سیاہ مت پوچھو
ہیں گی برگشتہ وے صف مژگاں
پھر گئی ہے سپاہ مت پوچھو
تھا کرم پر اسی کے شرب مدام
میرے اعمال آہ مت پوچھو
تم بھی اے مالکان روز جزا
بخش دو اب گناہ مت پوچھو
میر عاشق کو کچھ کہے ہی بنے
خواہ وہ پوچھو خواہ مت پوچھو
میر تقی میر

ٹکڑے ٹکڑے ہوا جاتا ہے جگر مت پوچھو

دیوان اول غزل 404
نالۂ شب نے کیا ہے جو اثر مت پوچھو
ٹکڑے ٹکڑے ہوا جاتا ہے جگر مت پوچھو
پوچھتے کیا ہو مرے دل کا تم احوال کہ ہے
جیسے بیمار اجل روز بتر مت پوچھو
مرنے میں بند زباں ہونا اشارت ہے ندیم
یعنی ہے دور کا درپیش سفر مت پوچھو
کیا پھرے وہ وطن آوارہ گیا اب سو گیا
دل گم کردہ کی کچھ خیر خبر مت پوچھو
لذت زہر غم فرقت دلداراں سے
ہووے منھ میں جنھوں کے شہد و شکر مت پوچھو
دل خراشی و جگر چاکی و سینہ کاوی
اپنے ناحق میں ہیں سب اور ہنر مت پوچھو
جوں توں کر حال دل اک بار تو میں عرض کیا
میر صاحب جی بس اب بار دگر مت پوچھو
میر تقی میر

اس ستم کشتہ پہ جو گذری جفا مت پوچھو

دیوان اول غزل 403
حال دل میر کا اے اہل وفا مت پوچھو
اس ستم کشتہ پہ جو گذری جفا مت پوچھو
صبح سے اور بھی پاتا ہوں اسے شام کو تند
کام کرتی ہے جو کچھ میری دعا مت پوچھو
استخواں توڑے مرے اس کی گلی کے سگ نے
جس خرابی سے میں واں رات رہا مت پوچھو
ہوش و صبر و خرد و دین و حواس و دل و تاب
اس کے ایک آنے میں کیا کیا نہ گیا مت پوچھو
اشتعالک کی محبت نے کہ دربست پھنکا
شہر دل کیا کہوں کس طور جلا مت پوچھو
وقت قتل آرزوے دل جو لگے پوچھنے لوگ
میں اشارت کی ادھر ان نے کہا مت پوچھو
خواہ مارا انھیں نے میر کو خواہ آپ موا
جانے دو یارو جو ہونا تھا ہوا مت پوچھو
میر تقی میر

دیکھا کریں ہیں ساتھ ترے یار ایک دو

دیوان اول غزل 402
کرتے بیاں جو ہوتے خریدار ایک دو
دیکھا کریں ہیں ساتھ ترے یار ایک دو
قید حیات قید کوئی سخت ہے کہ روز
مر رہتے ہیں گے اس کے گرفتار ایک دو
کس کس پہ اس کو ہووے نظر یاں ہر ایک شب
جی دیں ہیں اس کی چشم کے بیمار ایک دو
تو تو دوچار ہوکے گیا کب کا یاں ہنوز
گذریں ہیں اپنی جان سے ناچار ایک دو
ابروے تیغ زن کی تمھارے تو کیا چلی
کردے ہے جس کا لاگتے ہی وار ایک دو
ٹک چشم میں بھی سرمے کا دنبالہ کھینچیے
اس مست کے بھی ہاتھ میں تلوار ایک دو
کیا کیا عزیز دوست ملے میر خاک میں
کچھ اس گلی میں ہم ہی نہیں خوار ایک دو
میر تقی میر

کوئی تو چاہیے جی بھی نیاز کرنے کو

دیوان اول غزل 401
جو میں نہ ہوں تو کرو ترک ناز کرنے کو
کوئی تو چاہیے جی بھی نیاز کرنے کو
نہ دیکھو غنچۂ نرگس کی اور کھلتے میں
جو دیکھو اس کی مژہ نیم باز کرنے کو
نہ سوئے نیند بھر اس تنگنا میں تا نہ موئے
کہ آہ جا نہ تھی پا کے دراز کرنے کو
جو بے دماغی یہی ہے تو بن چکی اپنی
دماغ چاہیے ہر اک سے ساز کرنے کو
وہ گرم ناز ہو تو خلق پر ترحم کر
پکارے آپ اجل احتراز کرنے کو
جو آنسو آویں تو پی جا کہ تا رہے پردہ
بلا ہے چشم تر افشاے راز کرنے کو
سمند ناز سے تیرے بہت ہے عرصہ تنگ
تنک تو ترک کر اس ترک تاز کرنے کو
بسان زر ہے مرا جسم زار سارا زرد
اثر تمام ہے دل کے گداز کرنے کو
ہنوز لڑکے ہو تم قدر میری کیا جانو
شعور چاہیے ہے امتیاز کرنے کو
اگرچہ گل بھی نمود اس کے رنگ کرتا ہے
ولیک چاہیے ہے منھ بھی ناز کرنے کو
زیادہ حد سے تھی تابوت میر پر کثرت
ہوا نہ وقت مساعد نماز کرنے کو
میر تقی میر

لے گئی ہیں دور تڑپیں سایۂ دیوار کو

دیوان اول غزل 400
دیکھتا ہوں دھوپ ہی میں جلنے کے آثار کو
لے گئی ہیں دور تڑپیں سایۂ دیوار کو
باب صحت ہے وگرنہ کون کہتا ہے طبیب
جلد اٹھائو میرے دروازے سے اس بیمار کو
حشر پہ موقوف تھا سو تو نظر آیا نہ یاں
کیا بلا درپیش آئی وعدئہ دیدار کو
وے جو مست بے خودی ہیں عیش کرتے ہیں مدام
میکدے میں دہر کے مشکل ہے ٹک ہشیار کو
نقش شیریں یادگار کوہکن ہے اس میں خوب
ورنہ کیا ہے بے ستوں دیکھا ہے میں کہسار کو
کس قدر الجھیں ہیں میرے تار دامن کے کہ اب
پائوں میں گڑ کر نہیں چبھنے کی فرصت خار کو
ہے غبار میر اس کے رہگذر میں یک طرف
کیا ہوا دامن کشاں آتے بھی یاں تک یار کو
میر تقی میر

کچھ ہم نے کی ہے ایسی ہی تقصیر کیوں نہ ہو

دیوان اول غزل 399
ہر دم وہ شوخ دست بہ شمشیر کیوں نہ ہو
کچھ ہم نے کی ہے ایسی ہی تقصیر کیوں نہ ہو
اب تو جگر کو ہم نے بلا کا ہدف کیا
انداز اس نگاہ کا پھر تیر کیوں نہ ہو
جاتا تو ہے کہیں کو تو اے کاروان مصر
کنعاں ہی کی طرف کو یہ شب گیر کیوں نہ ہو
حیراں ہیں اس قدر کہ اگر اب کے جایئے
پھر منھ ترا نہ دیکھیے تصویر کیوں نہ ہو
تونے تو رفتہ رفتہ کیا ہم کو ننگ خلق
وحشت دلا کہاں تئیں زنجیر کیوں نہ ہو
جوں گل کسو شگفتہ طبیعت کا ہے نشاں
غنچہ بھی کوئی خاطردل گیر کیوں نہ ہو
ہووے ہزار وحشت اسے تو بھی یار ہے
اغیار تیرے ساتھ جو ہوں میر کیوں نہ ہو
میر تقی میر

ویسا ہے پھول فرض کیا حور کیوں نہ ہو

دیوان اول غزل 398
ایسا ہے ماہ گو کہ وہ سب نور کیوں نہ ہو
ویسا ہے پھول فرض کیا حور کیوں نہ ہو
کھویا ہمارے ہاتھ سے آئینے نے اسے
ایسا جو پاوے آپ کو مغرور کیوں نہ ہو
حق برطرف ہے منکر دیدار یار کے
جو شخص ہووے آنکھوں سے معذور کیوں نہ ہو
گیسوے مشک بو کو اسے ضد ہے کھولنا
پھر زخم دل فگاروں کا ناسور کیوں نہ ہو
صورت تو تیری صفحۂ خاطر پہ نقش ہے
ظاہر میں اب ہزار تو مستور کیوں نہ ہو
صافی شست سے ہے غرض مشق تیر سے
سینہ کسو کا خانۂ زنبور کیوں نہ ہو
مجنوں جو دشت گرد تھا ہم شہر گرد ہیں
آوارگی ہماری بھی مذکور کیوں نہ ہو
تلوار کھینچتا ہے وہ اکثر نشے کے بیچ
زخمی جو اس کے ہاتھ کا ہو چور کیوں نہ ہو
خالی نہیں بغل کوئی دیوان سے مرے
افسانہ عشق کا ہے یہ مشہور کیوں نہ ہو
مجھ کو تو یہ قبول ہوا عشق میں کہ میر
پاس اس کے جب گیا تو کہا دور کیوں نہ ہو
میر تقی میر

ناسور چشم ہو مژہ خوں بار کیوں نہ ہو

دیوان اول غزل 397
عاشق ہوئے تو گو غم بسیار کیوں نہ ہو
ناسور چشم ہو مژہ خوں بار کیوں نہ ہو
کامل ہو اشتیاق تو اتنا نہیں ہے دور
حشر دگر پہ وعدئہ دیدار کیوں نہ ہو
گل گشت کا بھی لطف دل خوش سے ہے نسیم
پیش نظر وگرنہ چمن زار کیوں نہ ہو
مخصوص دل ہے کیا مرض عشق جاں گداز
اے کاش اس کو اور کچھ آزار کیوں نہ ہو
آوے جو کوئی آئینہ بازار دہر میں
بارے متاع دل کا خریدار کیوں نہ ہو
مقصود درد دل ہے نہ اسلام ہے نہ کفر
پھر ہر گلے میں سجہ و زنار کیوں نہ ہو
شاید کہ آوے پرسش احوال کو کبھو
عاشق بھلا سا ہووے تو بیمار کیوں نہ ہو
تلوار کے تلے بھی ہیں آنکھیں تری ادھر
تو اس ستم کا میر سزاوار کیوں نہ ہو
میر تقی میر

آئینہ ہو تو قابل دیدار کیوں نہ ہو

دیوان اول غزل 396
دل صاف ہو تو جلوہ گہ یار کیوں نہ ہو
آئینہ ہو تو قابل دیدار کیوں نہ ہو
عالم تمام اس کا گرفتار کیوں نہ ہو
وہ ناز پیشہ ایک ہے عیار کیوں نہ ہو
مستغنیانہ تو جو کرے پہلے ہی سلوک
عاشق کو فکر عاقبت کار کیوں نہ ہو
رحمت غضب میں نسبت برق و سحاب ہے
جس کو شعور ہو تو گنہگار کیوں نہ ہو
دشمن تو اک طرف کہ سبب رشک کا ہے یاں
در کا شگاف و رخنۂ دیوار کیوں نہ ہو
آیات حق ہیں سارے یہ ذرات کائنات
انکار تجھ کو ہووے سو اقرار کیوں نہ ہو
ہر دم کی تازہ مرگ جدائی سے تنگ ہوں
ہونا جو کچھ ہے آہ سو یک بار کیوں نہ ہو
موے سفید ہم کو کہے ہے کہ غافلاں
اب صبح ہونے آئی ہے بیدار کیوں نہ ہو
نزدیک اپنے ہم نے تو سب کر رکھا ہے سہل
پھر میر اس میں مردن دشوار کیوں نہ ہو
میر تقی میر

ہم فراموش ہوؤں کو بھی کبھو یاد کرو

ؤدیوان اول غزل 395
کون کہتا ہے نہ غیروں پہ تم امداد کرو
ہم فراموش ہوؤں کو بھی کبھو یاد کرو
ہیں کہاں مجھ سے وفا پیشہ نہ بیداد کرو
نہ کرو ایسا کہ پھر میرے تئیں یاد کرو
ایسے ہم پیشہ کہاں ہوتے ہیں اے غم زدگاں
مرگ مجنوں پہ کڑھو ماتم فرہاد کرو
اے اسیران تہ دام نہ تڑپو اتنا
تا نہ بدنام کہیں چنگل صیاد کرو
گوکہ حیرانی دیدار ہے اے آہ و سرشک
کوئی روشن کرو آنکھیں کوئی دل شاد کرو
زاہداں دیتے نشاں ان بتوں کا ڈرتا ہوں
توڑ کر کعبہ کہیں دیر نہ آباد کرو
کیا ہوا ہے ابھی تو ہستی ہی کو بھولے ہو
آخرکار محبت کو ٹک اک یاد کرو
اول عشق ہی میں میر جی تم رونے لگے
خاک ابھی منھ کو ملو نالہ و فریاد کرو
میر تقی میر

جنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو

دیوان اول غزل 394
شیخ جی آئو مصلیٰ گرو جام کرو
جنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو
فرش مستاں کرو سجادئہ بے تہ کے تئیں
مے کی تعظیم کرو شیشے کا اکرام کرو
دامن پاک کو آلودہ رکھو بادے سے
آپ کو مغبچوں کے قابل دشنام کرو
نیک نامی و تقاوت کو دعا جلد کہو
دین و دل پیش کش سادئہ خود کام کرو
ننگ و ناموس سے اب گذرو جوانوں کی طرح
پر فشانی کرو اور ساقی سے ابرام کرو
خوب اگر جرعۂ مے نوش نہیں کرسکتے
خاطر جمع مے آشام سے یہ کام کرو
اٹھ کھڑے ہو جو جھکے گردن میناے شراب
خدمت بادہ گساراں ہی سر انجام کرو
مطرب آکر جو کرے چنگ نوازی تو تم
پیرہن مستوں کی تقلید سے انعام کرو
خنکی اتنی بھی تو لازم نہیں اس موسم میں
پاس جوش گل و دل گرمی ایام کرو
سایۂ گل میں لب جو پہ گلابی رکھو
ہاتھ میں جام کو لو آپ کو بدنام کرو
آہ تا چند رہو خانقہ و مسجد میں
ایک تو صبح گلستان میں بھی شام کرو
رات تو ساری گئی سنتے پریشاں گوئی
میر جی کوئی گھڑی تم بھی تو آرام کرو
میر تقی میر

قد قامت یہ کچھ ہے تمھارا لیکن قہر قیامت ہو

دیوان اول غزل 393
مت پوچھو کچھ اپنی باتیں کہیے تو تم کو ندامت ہو
قد قامت یہ کچھ ہے تمھارا لیکن قہر قیامت ہو
ربط اخلاص اے دیدہ و دل بھی دنیا میں ایک سے ہوتا ہے
لگ پڑتے ہو جس سے تس سے تم بھی کوئی ملامت ہو
آج سحر ہوتے ہی کچھ خورشید ترے منھ آن چڑھا
روک سکے ہے کون اسے سر جس کے ایسی شامت ہو
چاہ کا دعویٰ سب کرتے ہیں مانیے کیونکر بے آثار
اشک کی سرخی زردی منھ کی عشق کی کچھ تو علامت ہو
سرو و گل اچھے ہیں دونوں رونق ہیں گلزار کی ایک
چاہیے رو اس کا سا رو ہو قامت ویسا قامت ہو
مل بیٹھے اس نائی کے سے کوئی گھڑی جو زاہد تو
جتنے بال ہیں سارے سر میں ویسی ہی اس کی حجامت ہو
ہو جو ارادہ یاں رہنے کا رہ سکیے تو رہیے آپ
ہم تو چلے جاتے ہیں ہر دم کس کو قصد اقامت ہو
کس مدت سے دوری میں تیری خاک رہ سے برابر ہوں
کریے رنجہ قدم ٹک مجھ تک جو کچھ پاس قدامت ہو
منھ پر اس کی تیغ ستم کے سیدھا جانا ٹھہرا ہے
جینا پھر کج دار و مریز اس طور میں ہو ٹک یا مت ہو
شور و شغب کو راتوں کے ہمسائے تمھارے کیا روویں
ایسے فتنے کتنے اٹھیں گے میر جی تم جو سلامت ہو
میر تقی میر

اور رسوائی کا اندیشہ جدا رکھتا ہو

دیوان اول غزل 392
وہی جانے جو حیا کشتہ وفا رکھتا ہو
اور رسوائی کا اندیشہ جدا رکھتا ہو
کام لے یار سے جو جذب رسا رکھتا ہو
یا کوئی آئینہ ساں دست دعا رکھتا ہو
عشق کو نفع نہ بیتابی کرے ہے نہ شکیب
کریے تدبیر جو یہ درد دوا رکھتا ہو
میں نے آئینہ صفت در نہ کیا بند غرض
اس کو مشکل ہے جو آنکھوں میں حیا رکھتا ہو
ہائے اس زخمی شمشیر محبت کا جگر
درد کو اپنے جو ناچار چھپا رکھتا ہو
اس سے تشبیہ تو دیتے ہیں یہ ناشاعر لیک
سیب کچھ اس ذقن آگے جو مزہ رکھتا ہو
آوے ہے پہلے قدم سر ہی کا جانا درپیش
دیکھتا ہو جو رہ عشق میں پا رکھتا ہو
ایسے تو حال کے کہنے سے بھلی خاموشی
کہیے اس سے جو کوئی اپنا کہا رکھتا ہو
کیا کرے وصل سے مایوس دل آزردہ جو
زخم ہی یار کا چھاتی سے لگا رکھتا ہو
کب تلک اس کے اسیران بلا خانہ خراب
ظلم کی تازہ جو ہر روز بنا رکھتا ہو
ایک دم کھول کے زلفوں کی کمندوں کے تئیں
مدتوں تک دل عاشق کو لگا رکھتا ہو
گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میر
اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو
میر تقی میر

آنکھ اٹھاکر جب دیکھے ہیں اوروں میں ہنستے جاتے ہو

دیوان اول غزل 391
ہم سے تو تم کو ضد سی پڑی ہے خواہ نخواہ رلاتے ہو
آنکھ اٹھاکر جب دیکھے ہیں اوروں میں ہنستے جاتے ہو
جب ملنے کا سوال کروں ہوں زلف و رخ دکھلاتے ہو
برسوں مجھ کو یوں ہی گذرے صبح و شام بتاتے ہو
بکھری رہیں ہیں منھ پر زلفیں آنکھ نہیں کھل سکتی ہے
کیونکے چھپے مے خواری شب جب ایسے رات کے ماتے ہو
سرو تہ و بالا ہوتا ہے درہم برہم شاخ گل
ناز سے قد کش ہوکے چمن میں ایک بلا تم لاتے ہو
صبح سے یاں پھر جان و دل پر روز قیامت رہتی ہے
رات کبھو آ رہتے ہو تو یہ دن ہم کو دکھلاتے ہو
جن نے تم کو نہ دیکھا ہووے اس سے آنکھیں مارو تم
ایک نگاہ مفتن کر تم سو سو فتنے اٹھاتے ہو
چشم تو ہے اک دید کی جا پر کب تکلیف کے لائق ہے
دل جو ہے دلچسپ مکاں تم اس میں کب کب آتے ہو
راحت پہنچی ٹک تم سے تو رنج اٹھایا برسوں تک
سر سہلاتے ہو جو کبھو تو بھیجا بھی کھا جاتے ہو
ہو کے گداے کوے محبت زور صدا یہ نکالی ہے
اب تو میر جی راتوں کو تم ہر در پر چلاتے ہو
میر تقی میر

پھر مر بھی جایئے تو کسو کو خبر نہ ہو

دیوان اول غزل 390
نالہ مرا اگر سبب شور و شر نہ ہو
پھر مر بھی جایئے تو کسو کو خبر نہ ہو
دل پر ہوا سو آہ کے صدمے سے ہو چکا
ڈرتا ہوں یہ کہ اب کہیں ٹکڑے جگر نہ ہو
برچھی سی پار عرش کے گذری نہ عاقبت
آہ سحر میں میری کہاں تک اثر نہ ہو
سمجھا ہوں تیری آنکھ چھپانے سے خوش نگاہ
مدنظر یہ ہے کہ کسی کی نظر نہ ہو
کھینچے ہے دل کو زلف سے گاہے نگہ سے گاہ
حیراں نہ ہووے کوئی تو اس طرز پر نہ ہو
سو دل سے بھی نہ کام چلے اس کے عشق میں
اک دل رکھوں ہوں میں تو کدھر ہو کدھر نہ ہو
جس راہ ہو کے آج میں پہنچا ہوں تجھ تلک
کافر کا بھی گذار الٰہی ادھر نہ ہو
یک جا نہ دیکھی آنکھوں سے ایسی تمام راہ
جس میں بجائے نقش قدم چشم تر نہ ہو
ہر یک قدم پہ لوگ ڈرانے لگے مجھے
ہاں یاں کسو شہیدمحبت کا سر نہ ہو
چلیو سنبھل کے سب یہ شہیدان عشق ہیں
تیرا گذار تاکہ کسو نعش پر نہ ہو
دامن کشاں ہی جا کہ طپش پر طپش ہے دفن
زنہار کوئی صدمے سے زیر و زبر نہ ہو
مضطر ہو اختیار کی وہ شکل دل میں میں
اس راہ ہو کے جائوں یہ صورت جدھر نہ ہو
لیکن عبث نگاہ جہاں کریے اس طرف
امکان کیا کہ خون مرے تا کمر نہ ہو
حیراں ہوں میں کہ ایسی یہ مشہد ہے کون سی
مجھ سے خراب حال کو جس کی خبر نہ ہو
آتا ہے یہ قیاس میں اب تجھ کو دیکھ کر
ظالم جفاشعار ترا رہگذر نہ ہو
اٹھ جائے رسم نالہ و آہ و فغان سب
اس تیرہ روزگار میں تو میر اگر نہ ہو
میر تقی میر

معشوق کا ہے حسن اگر دل نواز ہو

دیوان اول غزل 389
خوبی یہی نہیں ہے کہ انداز و ناز ہو
معشوق کا ہے حسن اگر دل نواز ہو
سجدے کا کیا مضائقہ محراب تیغ میں
پر یہ تو ہو کہ نعش پہ میری نماز ہو
اک دم تو ہم میں تیغ کو تو بے دریغ کھینچ
تا عشق میں ہوس میں تنک امتیاز ہو
نزدیک سوز سینہ سے رکھ اپنے قلب کو
وہ دل ہی کیمیا ہے جو گرم گداز ہو
ہے فرق ہی میں خیر نہ کر آرزوے وصل
مل بیٹھیے جو اس سے تو شکوہ دراز ہو
جوں توں کے اس کی چاہ کا پردہ کیا ہے میں
اے چشم گریہ ناک نہ افشاے راز ہو
جوں چشم بسملی نہ مندی آوے گی نظر
جو آنکھ میرے خونی کے چہرے پہ باز ہو
ہم سے تو غیرعجز کبھو کچھ بنا نہ میر
خوش حال وہ فقیر کہ جو بے نیاز ہو
میر تقی میر

اوروں سے مل کے پیارے کچھ اور ہو گیا تو

دیوان اول غزل 388
ویسا کہاں ہے ہم سے جیسا کہ آگے تھا تو
اوروں سے مل کے پیارے کچھ اور ہو گیا تو
چالیں تمام بے ڈھب باتیں فریب ہیں سب
حاصل کہ اے شکر لب اب وہ نہیں رہا تو
جاتے نہیں اٹھائے یہ شور ہرسحر کے
یا اب چمن میں بلبل ہم ہی رہیں گے یا تو
آ ابر ایک دو دم آپس میں رکھیں صحبت
کڑھنے کو ہوں میں آندھی رونے کو ہے بلا تو
تقریب پر بھی تو تو پہلو تہی کرے ہے
دس بار عید آئی کب کب گلے ملا تو
تیرے دہن سے اس کو نسبت ہو کچھ تو کہیے
گل گو کرے ہے دعویٰ خاطر میں کچھ نہ لا تو
دل کیونکے راست آوے دعواے آشنائی
دریاے حسن وہ مہ کشتی بہ کف گدا تو
ہر فرد یاس ابھی سے دفتر ہے تجھ گلے کا
ہے قہر جب کہ ہو گا حرفوں سے آشنا تو
عالم ہے شوق کشتہ خلقت ہے تیری رفتہ
جانوں کی آرزو تو آنکھوں کا مدعا تو
منھ کریے جس طرف کو سو ہی تری طرف ہے
پر کچھ نہیں ہے پیدا کیدھر ہے اے خدا تو
آتی بخود نہیں ہے باد بہار اب تک
دو گام تھا چمن میں ٹک ناز سے چلا تو
کم میری اور آنا کم آنکھ کا ملانا
کرنے سے یہ ادائیں ہے مدعا کہ جا تو
گفت و شنود اکثر میرے ترے رہے ہے
ظالم معاف رکھیو میرا کہا سنا تو
کہہ سانجھ کے موئے کو اے میر روئیں کب تک
جیسے چراغ مفلس اک دم میں جل بجھا تو
میر تقی میر

رات جاتی ہے اسی غم میں کہ فردا کیا ہو

دیوان اول غزل 387
دن گذرتا ہے مجھے فکر ہی میں تا کیا ہو
رات جاتی ہے اسی غم میں کہ فردا کیا ہو
سب ہیں دیدار کے مشتاق پر اس سے غافل
حشر برپا ہو کہ فتنہ اٹھے آیا کیا ہو
خاک حسرت زدگاں پر تو گذر بے وسواس
ان ستم کشتوں سے اب عرض تمنا کیا ہو
گر بہشت آوے تو آنکھوں میں مری پھیکی لگے
جن نے دیکھا ہو تجھے محو تماشا کیا ہو
شوق جاتا ہے ہمیں یار کے کوچے کو لیے
جاکے معلوم ہو کیا جانیے اس جا کیا ہو
ایک رونا ہی نہیں آہ و غم و نالہ و درد
ہجر میں زندگی کرنے کے تئیں کیا کیا ہو
خاک میں لوٹوں کہ لوہو میں نہائوں میں میر
یار مستغنی ہے اس کو مری پروا کیا ہو
میر تقی میر

صحبت رکھے گلوں سے اتنا دماغ کس کو

دیوان اول غزل 386
اچھی لگے ہے تجھ بن گل گشت باغ کس کو
صحبت رکھے گلوں سے اتنا دماغ کس کو
بے سوز داغ دل پر گر جی جلے بجا ہے
اچھا لگے ہے اپنا گھر بے چراغ کس کو
صد چشم داغ وا ہیں دل پر مرے میں وہ ہوں
دکھلا رہا ہے لالہ تو اپنا داغ کس کو
گل چین عیش ہوتے ہم بھی چمن میں جاکر
آہ و فغاں سے اپنی لیکن فراغ کس کو
کر شکر چشم پر خوں اے مست درد الفت
دیتے ہیں سرخ مے سے بھر کر ایاغ کس کو
اس کی بلا سے جو ہم اے میر گم بھی ہوویں
ہم سے غریب کا ہو فکر سراغ کس کو
میر تقی میر

رکھے خدا جہاں میں دل بے قرار کو

دیوان اول غزل 385
آرام ہوچکا مرے جسم نزار کو
رکھے خدا جہاں میں دل بے قرار کو
پانی پہ جیسے غنچۂ لالہ پھرے بہا
دیکھا میں آنسوئوں میں دل داغدار کو
برسا تو میرے دیدئہ خوں بار کے حضور
پر اب تک انفعال ہے ابربہار کو
ہنستا ہی میں پھروں جو مرا کچھ ہو اختیار
پر کیا کروں میں دیدئہ بے اختیار کو
آیا جہاں میں دوست بھی ہوتے ہیں یک دگر
مجھ سے جو دشمنی ہی رہی میرے یار کو
سو باریوں تو غیروں سے کرتے ہو ہنس کے بات
کچھ منھ بنا رہو ہو ہماری ہی بار کو
سر گشتگی سوائے نہ دیکھا جہاں میں کچھ
اک عمر خضر سیر کیا اس دیار کو
کس کس کی خاک اب کی ملانی ہے خاک میں
جاتی ہے پھر نسیم اسی رہگذار کو
اے وہ کوئی جو آج پیے ہے شراب عیش
خاطر میں رکھیو کل کے بھی رنج و خمار کو
خوباں کا کیا جگر جو کریں مجھ کو اپنا صید
پہچانتا ہے سب کوئی تیرے شکار کو
جیتے جی فکر خوب ہے ورنہ یہ بدبلا
رکھے گا حشر تک تہ و بالا مزار کو
گر ساتھ لے گڑا تو دل مضطرب تو میر
آرام ہوچکا ترے مشت غبار کو
میر تقی میر

آرزو ہے کہ تم ادھر دیکھو

دیوان اول غزل 384
گرچہ کب دیکھتے ہو پر دیکھو
آرزو ہے کہ تم ادھر دیکھو
عشق کیا کیا ہمیں دکھاتا ہے
آہ تم بھی تو اک نظر دیکھو
یوں عرق جلوہ گر ہے اس منھ پر
جس طرح اوس پھول پر دیکھو
ہر خراش جبیں جراحت ہے
ناخن شوق کا ہنر دیکھو
تھی ہمیں آرزو لب خنداں
سو عوض اس کے چشم تر دیکھو
رنگ رفتہ بھی دل کو کھینچے ہے
ایک شب اور یاں سحر دیکھو
دل ہوا ہے طرف محبت کا
خون کے قطرے کا جگر دیکھو
پہنچے ہیں ہم قریب مرنے کے
یعنی جاتے ہیں دور اگر دیکھو
لطف مجھ میں بھی ہیں ہزاروں میر
دیدنی ہوں جو سوچ کر دیکھو
میر تقی میر

کیا جانے منھ سے نکلے نالے کے کیا سماں ہو

دیوان اول غزل 383
اے چرخ مت حریف اندوہ بے کساں ہو
کیا جانے منھ سے نکلے نالے کے کیا سماں ہو
کب تک گرہ رہے گا سینے میں دل کے مانند
اے اشک شوق اک دم رخسار پر رواں ہو
ہم دور ماندگاں کی منزل رساں مگر اب
یا ہو صدا جرس کی یا گرد کارواں ہو
مسند نشین ہو گر عرصہ ہے تنگ اس پر
آسودہ وہ کسو کا جو خاک آستاں ہو
تاچند کوچہ گردی جیسے صبا زمیں پر
اے آہ صبح گاہی آشوب آسماں ہو
گر ذوق سیر ہے تو آوارہ اس چمن میں
مانند عندلیب گم کردہ آشیاں ہو
یہ جان تو کہ ہے اک آوارہ دست بردل
خاک چمن کے اوپر برگ خزاں جہاں ہو
کیا ہے حباب ساں یاں آ دیکھ اپنی آنکھوں
گر پیرہن میں میرے میرا تجھے گماں ہو
از خویش رفتہ ہر دم رہتے ہیں ہم جو اس بن
کہتے ہیں لوگ اکثر اس وقت تم کہاں ہو
پتھر سے توڑ ڈالوں آئینے کو ابھی میں
گر روے خوبصورت تیرا نہ درمیاں ہو
اس تیغ زن سے کہیو قاصد مری طرف سے
اب تک بھی نیم جاں ہوں گر قصد امتحاں ہو
کل بت کدے میں ہم نے دھولیں لگائیاں ہیں
کعبے میں آج زاہد گو ہم پہ سرگراں ہو
ہمسایہ اس چمن کے کتنے شکستہ پر ہیں
اتنے لیے کہ شاید اک بائو گل فشاں ہو
میر اس کو جان کر تو بے شبہ ملیو رہ پر
صحرا میں جو نمد مو بیٹھا کوئی جواں ہو
میر تقی میر

پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو

دیوان اول غزل 382
مباد کینے پہ اس بت کی طبع آئی ہو
پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو
مدد نہ اتنی بھی کی بخت ناموافق نے
کہ مدعی سے اسے ایک دن لڑائی ہو
ہنوز طفل ہے وہ ظلم پیشہ کیا جانے
لگاوے تیغ سلیقے سے جو لگائی ہو
لبوں سے تیرے تھا آگے ہی لعل سرخ و زرد
قسم ہے میں نے اگر بات بھی چلائی ہو
خدا کرے کہ نصیب اپنے ہو نہ آزادی
کدھر کے ہو جے جو بے بال و پر رہائی ہو
مزے کو عشق کی ذلت کے جانتا ہے وہی
کسو کی جن نے کبھو لات مکی کھائی ہو
اس آفتاب سے تو فیض سب کو پہنچے ہے
یقین ہے کہ کچھ اپنی ہی نارسائی ہو
کبھو ہے چھیڑ کبھو گالی ہے کبھو چشمک
بیان کریے جو ایک اس کی بے ادائی ہو
دیار حسن میں غالب کہ خستہ جانوں نے
دوا کے واسطے بھی مہر ٹک نہ پائی ہو
ہزار مرتبہ بہتر ہے بادشاہی سے
اگر نصیب ترے کوچے کی گدائی ہو
جو کوئی دم ہو تو لوہو سا پی کے رہ جائوں
غموں کی دل میں بھلا کب تلک سمائی ہو
مغاں سے راہ تو ہوجائے رفتہ رفتہ شیخ
ترا بھی قصد اگر ترک پارسائی ہو
کہیں تو ہیں کہ عبث میر نے دیا جی کو
خدا ہی جانے کہ کیا جی میں اس کے آئی ہو
میر تقی میر

ہاں کہو اعتماد ہے ہم کو

دیوان اول غزل 381
کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو
ہاں کہو اعتماد ہے ہم کو
شوق ہی شوق ہے نہیں معلوم
اس سے کیا دل نہاد ہے ہم کو
خط سے نکلے ہے بے وفائی حسن
اس قدر تو سواد ہے ہم کو
آہ کس ڈھب سے رویئے کم کم
شوق حد سے زیاد ہے ہم کو
شیخ و پیرمغاں کی خدمت میں
دل سے اک اعتقاد ہے ہم کو
سادگی دیکھ عشق میں اس کے
خواہش جان شاد ہے ہم کو
بدگمانی ہے جس سے تس سے آہ
قصد شورو فساد ہے ہم کو
دوستی ایک سے بھی تجھ کو نہیں
اور سب سے عناد ہے ہم کو
نامرادانہ زیست کرتا تھا
میر کا طور یاد ہے ہم کو
میر تقی میر

ہم تو ہوں بدگمان جو قاصد رسول ہو

دیوان اول غزل 380
خط لکھ کے کوئی سادہ نہ اس کو ملول ہو
ہم تو ہوں بدگمان جو قاصد رسول ہو
چاہوں تو بھرکے کولی اٹھا لوں ابھی تمھیں
کیسے ہی بھاری ہو مرے آگے تو پھول ہو
سرمہ جو نور بخشے ہے آنکھوں کو خلق کی
شاید کہ راہ یار کی ہی خاک دھول ہو
جاویں نثار ہونے کو ہم کس بساط پر
اک نیم جاں رکھیں ہیں سو وہ جب قبول ہو
ہم ان دنوں میں لگ نہیں پڑتے ہیں صبح و شام
ورنہ دعا کریں تو جو چاہیں حصول ہو
دل لے کے لونڈے دلی کے کب کا پچا گئے
اب ان سے کھائی پی ہوئی شے کیا وصول ہو
ناکام اس لیے ہو کہ چاہو ہو سب کچھ آج
تم بھی تو میر صاحب و قبلہ عجول ہو
میر تقی میر

کہتا ہے ترا سایہ پری سے کہ ہے کیا تو

دیوان اول غزل 379
قد کھینچے ہے جس وقت تو ہے طرفہ بلا تو
کہتا ہے ترا سایہ پری سے کہ ہے کیا تو
گر اپنی روش راہ چلا یار تو اے کبک
رہ جائے گا دیوار گلستاں سے لگا تو
بے گل نہیں بلبل تجھے بھی چین پہ دیکھیں
مر رہتے ہیں ہم ایک طرف باغ میں یا تو
خوش رو ہے بہت اے گل تر تو بھی ولیکن
انصاف ہے منھ تیرے ہی ویسا ہے بھلا تو
کیا جانیے اے گوہر مقصد تو کہاں ہے
ہم خاک میں بھی مل گئے لیکن نہ ملا تو
اس جینے سے اب دل کو اٹھا بیٹھیں گے ہم بھی
ہے تجھ کو قسم ظلم سے مت ہاتھ اٹھا تو
منظر میں بدن کے بھی یہ اک طرفہ مکاں تھا
افسوس کہ ٹک دل میں ہمارے نہ رہا تو
تھے چاک گریبان گلستاں میں گلوں کے
نکلا ہے مگر کھولے ہوئے بند قبا تو
بے ہوشی سی آتی ہے تجھے اس کی گلی میں
گر ہوسکے اے میر تو اس راہ نہ جا تو
میر تقی میر

کہ بھر جھولی نہ یاں سے لے گئی گل ہاے حرماں کو

دیوان اول غزل 378
نسیم مصر کب آئی سواد شہر کنعاں کو
کہ بھر جھولی نہ یاں سے لے گئی گل ہاے حرماں کو
زبان نوحہ گر ہوں میں قضا نے کیا ملایا تھا
مری طینت میں یارب سودئہ دل ہاے نالاں کو
کوئی کانٹا سررہ کا ہماری خاک پر بس ہے
گل گلزار کیا درکار ہے گور غریباں کو
یہ کیا جانوں ہوا سینے میں کیا اس دل کو اب ناصح
سحر خوں بستہ تو دیکھا تھا میں نے اپنی مژگاں کو
گل و سنبل ہیں نیرنگ قضا مت سرسری گذرے
کہ بگڑے زلف و رخ کیا کیا بناتے اس گلستاں کو
صداے آہ جیسے تیرجی کے پار ہوتی ہے
کسو بیدرد نے کھینچا کسو کے دل سے پیکاں کو
کریں بال ملک فرش رہ اس ساعت کہ محشر میں
لہو ڈوبا کفن لاویں شہید ناز خوباں کو
کیا سیر اس خرابے کا بہت اب چل کے سو رہیے
کسو دیوار کے سائے میں منھ پر لے کے داماں کو
بہاے سہل پر دیتے ہیں کس محبوب کو کف سے
قلم اس جرم پر کرنا ہے دست گل فروشاں کو
تری ہی جستجو میں گم ہوا ہے کہہ کہاں کھویا
جگر خوں گشتہ دل آزردہ میر اس خانہ ویراں کو
میر تقی میر

نکالا سر سے میرے جاے مو خار مغیلاں کو

دیوان اول غزل 377
فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کو
نکالا سر سے میرے جاے مو خار مغیلاں کو
وہ ظالم بھی تو سمجھے کہہ رکھا ہے ہم نے یاراں کو
کہ گورستان سے گاڑیں جدا ہم اہل ہجراں کو
نہیں یہ بید مجنوں گردش گردون گرداں نے
بنایا ہے شجر کیا جانیے کس مو پریشاں کو
ہوئے تھے جیسے مرجاتے پر اب تو سخت حسرت ہے
کیا دشوار نادانی سے ہم نے کار آساں کو
کہیں نسل آدمی کی اٹھ نہ جاوے اس زمانے میں
کہ موتی آب حیواں جانتے ہیں آب انساں کو
تجھے گر چشم عبرت ہے تو آندھی اور بگولے سے
تماشا کر غبار افشانی خاک عزیزاں کو
لباس مرد میداں جوہر ذاتی کفایت ہے
نہیں پرواے پوشش معرکے میں تیغ عریاں کو
ہواے ابر میں گرمی نہیں جو تو نہ ہو ساقی
دم افسردہ کردے منجمد رشحات باراں کو
جلیں ہیں کب کی مژگاں آنسوئوں کی گرم جوشی سے
اس آب چشم کی جوشش نے آتش دی نیستاں کو
وہ کافر عشق کا ہے دل کہ میری بھی رگ جاں تک
سدا زنار ہی تسبیح ہے اس نامسلماں کو
غرور ناز سے آنکھیں نہ کھولیں اس جفا جونے
ملا پائوں تلے جب تک نہ چشم صد غزالاں کو
نہ سی چشم طمع خوان فلک پر خام دستی سے
کہ جام خون دے ہے ہر سحر یہ اپنے مہماں کو
زبس صرف جنوں میرے ہوا آہن عجب مت کر
نہ ہو گر حلقۂ در خانۂ زنجیر سازاں کو
بنے ناواقف شادی اگر ہم بزم عشرت میں
دہان زخم دل سمجھے جو دیکھا روے خنداں کو
نہیں ریگ رواں مجنوں کے دل کی بے قراری نے
کیا ہے مضطرب ہر ذرئہ گرد بیاباں کو
کسی کے واسطے رسواے عالم ہو پہ جی میں رکھ
کہ مارا جائے جو ظاہر کرے اس راز پنہاں کو
گری پڑتی ہے بجلی ہی تبھی سے خرمن گل پر
ٹک اک ہنس میرے رونے پر کہ دیکھے تیرے دنداں کو
غرور ناز قاتل کو لیے جا ہے کوئی پوچھے
چلا تو سونپ کر کس کے تئیں اس صید بے جاں کو
وہ تخم سوختہ تھے ہم کہ سرسبزی نہ کی حاصل
ملایا خاک میں دانہ نمط حسرت سے دہقاں کو
ہوا ہوں غنچۂ پژمردہ آخر فصل کا تجھ بن
نہ دے برباد حسرت کشتۂ سردرگریباں کو
غم و اندوہ و بیتابی الم بے طاقتی حرماں
کہوں اے ہم نشیں تاچند غم ہاے فراواں کو
گل وسرو وسمن گر جائیں گے مت سیرگلشن کر
ملا مت خاک میں ان باغ کے رعنا جواناں کو
بہت روئے جو ہم یہ آستیں رکھ منھ پہ اے بجلی
نہ چشم کم سے دیکھ اس یادگارچشم گریاں کو
مزاج اس وقت ہے اک مطلع تازہ پہ کچھ مائل
کہ بے فکرسخن بنتی نہیں ہرگز سخنداں کو
میر تقی میر

پر ساکنوں میں واں کے کوئی آدمی نہیں

دیوان اول غزل 371
فردوس سے کچھ اس کی گلی میں کمی نہیں
پر ساکنوں میں واں کے کوئی آدمی نہیں
میر تقی میر

اندھیری رات ہے برسات ہے جگنو چمکتے ہیں

دیوان اول غزل 370
تری زلف سیہ کی یاد میں آنسو جھمکتے ہیں
اندھیری رات ہے برسات ہے جگنو چمکتے ہیں
میر تقی میر

سب کو دعویٰ ہے ولے ایک میں یہ جان نہیں

دیوان اول غزل 369
عشق کرنے کو جگر چاہیے آسان نہیں
سب کو دعویٰ ہے ولے ایک میں یہ جان نہیں
غارت دیں میں نگہ خصمی ایماں میں ادا
تجھ کو کافر نہ کہے جو وہ مسلمان نہیں
سرسری ملیے بتوں سے جو نہ ہوتاب جفا
عشق کا ذائقہ کچھ داخل ایمان نہیں
ایک بے درد تجھے پاس نہیں عاشق کا
ورنہ عالم میں کسے خاطرمہمان نہیں
کیونکے غم سرزدہ ہر لحظہ نہ آوے دل میں
گھر ہے درویش کا یاں در نہیں دربان نہیں
ہم نشیں آہ نہ تکلیف شکیبائی کر
عشق میں صبر و تحمل ہو یہ امکان نہیں
کس طرح منزل مقصود پہ پہنچیں گے میر
سفر دور ہے اور ہم کنے سامان نہیں
میر تقی میر

ترے غم کو اکیلا چھوڑ کر پیارے کہاں جائوں

دیوان اول غزل 368
ہمیشہ دل میں کہتا ہوں یہاں جائوں وہاں جائوں
ترے غم کو اکیلا چھوڑ کر پیارے کہاں جائوں
لگی آتی ہے واں تک تیرے دامن کی ہوا اڑ کے
میں یہ مشت غبار اپنا چھپانے کو جہاں جائوں
ادھر صحراے بیتابی ادھر مشہد ہے اے قاتل
جو فرماوے تو واں جائوں جو فرماوے تو یاں جائوں
اگر جیتا رہا اے زلف تو میں میر ہوں سنیو
بلاے ناگہانی کے سر اوپر ناگہاں جائوں
میر تقی میر

پر وفا کا برا کیا تونیں

دیوان اول غزل 367
مجھ کو مارا بھلا کیا تونیں
پر وفا کا برا کیا تونیں
حسرتیں اس کی سر پٹکتی ہیں
مرگ فرہاد کیا کیا تونیں
اس کے جور و جفا کی کیا تقصیر
جو کیا سو وفا کیا تونیں
یہ چمن ہے قفس سے پر اے ضعف
مجھ کو بے دست و پا کیا تونیں
کل ہی پڑتی نہیں ہے تجھ بن آج
میر کو کیا بلا کیا تونیں
وہ جو کہتا تھا تو ہی کریو قتل
میر کا سو کہا کیا تونیں
میر تقی میر

پر تمامی عتاب ہیں دونوں

دیوان اول غزل 366
لب ترے لعل ناب ہیں دونوں
پر تمامی عتاب ہیں دونوں
رونا آنکھوں کا رویئے کب تک
پھوٹنے ہی کے باب ہیں دونوں
ہے تکلف نقاب وے رخسار
کیا چھپیں آفتاب ہیں دونوں
تن کے معمورے میں یہی دل و چشم
گھر تھے دو سو خراب ہیں دونوں
کچھ نہ پوچھو کہ آتش غم سے
جگر و دل کباب ہیں دونوں
سو جگہ اس کی آنکھیں پڑتی ہیں
جیسے مست شراب ہیں دونوں
پائوں میں وہ نشہ طلب کا نہیں
اب تو سرمست خواب ہیں دونوں
ایک سب آگ ایک سب پانی
دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں
بحث کاہے کو لعل و مرجاں سے
اس کے لب ہی جواب ہیں دونوں
آگے دریا تھے دیدۂ تر میر
اب جو دیکھو سراب ہیں دونوں
میر تقی میر

ہوئے ہیں دل جگر بھی سامنے رستم ہیں یہ دونوں

دیوان اول غزل 365
تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوں
ہوئے ہیں دل جگر بھی سامنے رستم ہیں یہ دونوں
نہ کچھ کاغذ میں ہے تہ نے قلم کو درد نالوں کا
لکھوں کیا عشق کے حالات نامحرم ہیں یہ دونوں
لہو آنکھوں سے بہتے وقت رکھ لیتا ہوں ہاتھوں کو
جراحت ہیں اگر وے دونوں تو مرہم ہیں یہ دونوں
کسو چشمے پہ دریا کے دیا اوپر نظر رکھیے
ہمارے دیدئہ نم دیدہ کیا کچھ کم ہیں یہ دونوں
لب جاں بخش اس کے مار ہی رکھتے ہیں عاشق کو
اگرچہ آب حیواں ہیں ولیکن سم ہیں یہ دونوں
نہیں ابرو ہی مائل جھک رہی ہے تیغ بھی ایدھر
ہمارے کشت و خوں میں متفق باہم ہیں یہ دونوں
کھلے سینے کے داغوں پر ٹھہر رہتے ہیں کچھ آنسو
چمن میں مہر ورزی کے گل و شبنم ہیں یہ دونوں
کبھو دل رکنے لگتا ہے جگر گاہے تڑپتا ہے
غم ہجراں میں چھاتی کے ہماری جم ہیں یہ دونوں
خدا جانے کہ دنیا میں ملیں اس سے کہ عقبیٰ میں
مکاں تو میر صاحب شہرئہ عالم ہیں یہ دونوں
میر تقی میر

گوش گل سے لگتے تھے جاکے سو وہ موسم نہیں

دیوان اول غزل 364
نالۂ قید قفس سے چھوٹ اب اک دم نہیں
گوش گل سے لگتے تھے جاکے سو وہ موسم نہیں
ہم پہ کھینچی تیغ تو غیروں کو ٹک لگنے نہ دے
وے اگر ہوویں گے اس کے درمیاں تو ہم نہیں
بت برہمن کوئی نامحرم نہیں اللہ کا
ہے حرم میں شیخ لیکن میر وہ محرم نہیں
میر تقی میر

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

دیوان اول غزل 363
گذر جان سے اور ڈر کچھ نہیں
رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں
ہے اب کام دل جس پہ موقوف تو
وہ نالہ کہ جس میں اثر کچھ نہیں
ہوا مائل اس سرو کا دل مرا
بجز جور جس سے ثمر کچھ نہیں
نہ کر اپنے محووں کا ہرگز سراغ
گئے گذرے بس اب خبر کچھ نہیں
تری ہوچکی خشک مژگاں کی سب
لہو اب جگر میں مگر کچھ نہیں
حیا سے نہیں پشت پا پر وہ چشم
مرا حال مدنظر کچھ نہیں
کروں کیونکے انکارعشق آہ میں
یہ رونا بھلا کیا ہے گر کچھ نہیں
کمر اس کی رشک رگ جاں ہے میر
غرض اس سے باریک تر کچھ نہیں
میر تقی میر

تو بھی ہم دل کو مار رکھتے ہیں

دیوان اول غزل 362
آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں
تو بھی ہم دل کو مار رکھتے ہیں
برق کم حوصلہ ہے ہم بھی تو
دلک بے قرار رکھتے ہیں
غیر ہی مورد عنایت ہے
ہم بھی تو تم سے پیار رکھتے ہیں
نہ نگہ نے پیام نے وعدہ
نام کو ہم بھی یار رکھتے ہیں
ہم سے خوش زمزمہ کہاں یوں تو
لب و لہجہ ہزار رکھتے ہیں
چوٹٹے دل کے ہیں بتاں مشہور
بس یہی اعتبار رکھتے ہیں
پھر بھی کرتے ہیں میرصاحب عشق
ہیں جواں اختیار رکھتے ہیں
میر تقی میر

اس چرخ نے کیاں ہیں ہم سے بہت ادائیں

دیوان اول غزل 361
کیا ظلم کیا تعدی کیا جور کیا جفائیں
اس چرخ نے کیاں ہیں ہم سے بہت ادائیں
دیکھا کہاں وہ نسخہ اک روگ میں بساہا
جی بھر کبھو نہ پنپا بہتیری کیں دوائیں
اک رنگ گل نے رہنا یاں یوں نہیں کیا ہے
اس گلشن جہاں میں ہیں مختلف ہوائیں
ہے فرش عرش تک بھی قلب حزیں کا اپنے
اس تنگ گھر میں ہم نے دیکھی ہیں کیا فضائیں
چہرے کے زخم ناخن کے سے کہاں کہ گویا
گھر سے نکلتے ہی ہم تلواریں منھ پہ کھائیں
شب نالہ آسماں تک جی سخت کرکے پہنچا
تھیں نیم کشتۂ یاس اکثر مری دعائیں
روکش تو ہو ترا پر آئینے میں کہاں یہ
رعنائیاں ادائیں رنگینیاں صفائیں
ہے امر سہل چاہت لیکن نباہ مشکل
پتھر کرے جگر کو تب تو کرے وفائیں
ناز بتان سادہ ہے اللہ اللہ اے میر
ہم خط سے مٹ گئے پر ان کے نہیں ہے بھائیں
میر تقی میر

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

دیوان اول غزل 360
دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں
وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں
مثل عنقا مجھے تم دور سے سن لو ورنہ
ننگ ہستی ہوں مری جاے بجز نام نہیں
خطر راہ وفا بلکہ بہت دور کھنچا
عمر گذری کہ بہم نامہ و پیغام نہیں
راز پوشی محبت کے تئیں چاہیے ضبط
سو تو بیتابی دل بن مجھے آرام نہیں
بے قراری جو کوئی دیکھے ہے سو کہتا ہے
کچھ تو ہے میر کہ اک دم تجھے آرام نہیں
میر تقی میر

کوئی ہم سے سیکھے وفاداریاں

دیوان اول غزل 359
موئے سہتے سہتے جفاکاریاں
کوئی ہم سے سیکھے وفاداریاں
ہماری تو گذری اسی طور عمر
یہی نالہ کرنا یہی زاریاں
فرشتہ جہاں کام کرتا نہ تھا
مری آہ نے برچھیاں ماریاں
گیا جان سے اک جہاں لیک شوخ
نہ تجھ سے گئیں یہ دل آزاریاں
کہاں تک یہ تکلیف مالا یطاق
ہوئیں مدتوں نازبرداریاں
خط و کاکل و زلف و انداز و ناز
ہوئیں دام رہ صدگرفتاریاں
کیا دردوغم نے مجھے ناامید
کہ مجنوں کو یہ ہی تھیں بیماریاں
تری آشنائی سے ہی حد ہوئی
بہت کی تھیں دنیا میں ہم یاریاں
نہ بھائی ہماری تو قدرت نہیں
کھنچیں میر تجھ سے ہی یہ خواریاں
میر تقی میر

دیتا ہے آگ رنگ ترا گلستاں کے تیں

دیوان اول غزل 358
تکلیف باغ کن نے کی تجھ خوش دہاں کے تیں
دیتا ہے آگ رنگ ترا گلستاں کے تیں
تنکا بھی اب رہا نہیں شرمندگی ہے جو
گر پڑ کے برق پاوے مرے آشیاں کے تیں
آئے عدم سے ہستی میں تس پر نہیں قرار
ہے ان مسافروں کا ارادہ کہاں کے تیں
سناہٹے سے باغ سے کچھ اٹھتے ہیں نسیم
مرغ چمن نے خوب متھا ہے فغاں کے تیں
بے رحم ٹک تو پائوں تو چھاتی پہ رکھے رہ
مارا بھی ہے کبھی تیں کسی خستہ جاں کے تیں
اک گردش اے فلک کہ ہو اثناے راہ سے
کنعاں کی اور راہ غلط کارواں کے تیں
تو اک زباں پہ چپکی نہیں رہتی عندلیب
رکھتا ہے منھ میں غنچۂ گل سو زباں کے تیں
دیکھے کہاں ہیں زلف تری مردمان شہر
سودا ہوا ہے کہنے لگے اس جواں کے تیں
ہم تو ہوئے تھے میر سے اس دن ہی ناامید
جس دن سنا کہ ان نے دیا دل بتاں کے تیں
میر تقی میر

نہ گلے سے میرے اترا کبھو قطرہ آب تجھ بن

دیوان اول غزل 357
یہ غلط کہ میں پیا ہوں قدح شراب تجھ بن
نہ گلے سے میرے اترا کبھو قطرہ آب تجھ بن
یہی بستی عاشقوں کی کبھو سیر کرنے چل تو
کہ محلے کے محلے پڑے ہیں خراب تجھ بن
میں لہو پیوں ہوں غم میں عوض شراب ساقی
شب میغ ہو گئی ہے شب ماہتاب تجھ بن
گئی عمر میری ساری جیسے شمع بائو کے بیچ
یہی رونا جلنا گلنا یہی اضطراب تجھ بن
سبھی آتشیں ہیں نالے سبھی زمہریری آہیں
مری جان پر رہا ہے غرض اک عذاب تجھ بن
ترے غم کا شکر نعمت کروں کیا اے مغبچے میں
نہ ہوا کہ میں نہ کھایا جگر کباب تجھ بن
نہیں جیتے جی تو ممکن ہمیں تجھ بغیر سونا
مگر آنکہ مر کے کیجے تہ خاک خواب تجھ بن
برے حال ہوکے مرتا جو درنگ میر کرتا
یہ بھلا ہوا ستمگر کہ موا شتاب تجھ بن
میر تقی میر

زمانہ ہووے مساعد تو روزگار کریں

دیوان اول غزل 356
نہ کیونکے شیخ توکل کو اختیار کریں
زمانہ ہووے مساعد تو روزگار کریں
گیا وہ زمزمۂ صبح فصل گل بلبل
دعا نہ پہنچے چمن تک ہم اب ہزار کریں
تمام صید سر تیر جمع ہیں لیکن
نصیب اس کے کہ جس کو ترا شکار کریں
تسلی تو ہو دل بے قرار خوباں سے
یہ کاش ملنے نہ ملنے کا کچھ قرار کریں
ہمیں تو نزع میں شرمندہ آ کے ان نے کیا
رہا ہے ایک رمق جی سو کیا نثار کریں
رہی سہی بھی گئی عمر تیرے پیچھے یار
یہ کہہ کہ آہ ترا کب تک انتظار کریں
کریں ہیں حادثے ہر روز وار آخر تو
سنان آہ دل شب کے ہم بھی پار کریں
یہ قتل غیر ہے کیا کام ہم نشیناں آج
جو دشمنی نہ کرے وہ تو اس کو یار کریں
ہوا ہوں خاک رہ اس واسطے کہ خوباں میر
گذار گور پہ میری بھی ایک بار کریں
میر تقی میر

یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں

دیوان اول غزل 355
خوش نہ آئی تمھاری چال ہمیں
یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں
حال کیا پوچھ پوچھ جاتے ہو
کبھو پاتے بھی ہو بحال ہمیں
وہ دہاں وہ کمر ہی ہے مقصود
اور کچھ اب نہیں خیال ہمیں
اس مہ چاردہ کی دوری نے
دس ہی دن میں کیا ہلال ہمیں
نظر آتے ہیں ہوتے جی کے وبال
حلقہ حلقہ تمھارے بال ہمیں
تنگی اس جا کی نقل کیا کریے
یاں سے واجب ہے انتقال ہمیں
صرف للہ خم کے خم کرتے
نہ کیا چرخ نے کلال ہمیں
مغ بچے مال مست ہم درویش
کون کرتا ہے مشت مال ہمیں
کب تک اس تنگنا میں کھینچئے رنج
یاں سے یارب تو ہی نکال ہمیں
ترک سبزان شہر کریے اب
بس بہت کر چکے نہال ہمیں
وجہ کیا ہے کہ میر منھ پہ ترے
نظر آتا ہے کچھ ملال ہمیں
میر تقی میر

یہیں آگے بہاریں ہو گئی ہیں

دیوان اول غزل 354
جہاں اب خارزاریں ہو گئی ہیں
یہیں آگے بہاریں ہو گئی ہیں
جنوں میں خشک ہو رگ ہاے گردن
گریباں کی سی تاریں ہو گئی ہیں
سنا جاتا ہے شہر عشق کے گرد
مزاریں ہی مزاریں ہو گئی ہیں
اسی دریاے خوبی کا ہے یہ شوق
کہ موجیں سب کناریں ہو گئی ہیں
انھیں گلیوں میں جب روتے تھے ہم میر
کئی دریا کی دھاریں ہو گئی ہیں
میر تقی میر

روز برسات کی ہوا ہے یاں

دیوان اول غزل 353
آہ اور اشک ہی سدا ہے یاں
روز برسات کی ہوا ہے یاں
جس جگہ ہو زمین تفتہ سمجھ
کہ کوئی دل جلا گڑا ہے یاں
گو کدورت سے وہ نہ دیوے رو
آرسی کی طرح صفا ہے یاں
ہر گھڑی دیکھتے جو ہو ایدھر
ایسا کہ تم نے آنکلا ہے یاں
رند مفلس جگر میں آہ نہیں
جان محزوں ہے اور کیا ہے یاں
کیسے کیسے مکان ہیں ستھرے
اک ازاں جملہ کربلا ہے یاں
اک سسکتا ہے ایک مرتا ہے
ہر طرف ظلم ہورہا ہے یاں
صد تمنا شہید ہیں یک جا
سینہ کوبی ہے تعزیہ ہے یاں
دیدنی ہے غرض یہ صحبت شوخ
روز و شب طرفہ ماجرا ہے یاں
خانۂ عاشقاں ہے جاے خوب
جاے رونے کی جا بہ جا ہے یاں
کوہ و صحرا بھی کر نہ جاے باش
آج تک کوئی بھی رہا ہے یاں
ہے خبر شرط میر سنتا ہے
تجھ سے آگے یہ کچھ ہوا ہے یاں
موت مجنوں کو بھی یہیں آئی
کوہکن کل ہی مر گیا ہے یاں
میر تقی میر

الٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میں

دیوان اول غزل 352
کہے ہے کوہکن کر فکر میری خستہ حالی میں
الٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میں
میں وہ پژمردہ سبزہ ہوں کہ ہوکر خاک سے سرزد
یکایک آگیا اس آسماں کی پائمالی میں
تو سچ کہہ رنگ پاں ہے یہ کہ خون عشق بازاں ہے
سخن رکھتے ہیں کتنے شخص تیرے لب کی لالی میں
برا کہنا بھی میرا خوش نہ آیا اس کو تو ورنہ
تسلی یہ دل ناشاد ہوتا ایک گالی میں
مرے استاد کو فردوس اعلیٰ میں ملے جاگہ
پڑھایا کچھ نہ غیر از عشق مجھ کو خورد سالی میں
خرابی عشق سے رہتی ہے دل پر اور نہیں رہتا
نہایت عیب ہے یہ اس دیار غم کے والی میں
نگاہ چشم پر خشم بتاں پر مت نظر رکھنا
ملا ہے زہر اے دل اس شراب پرتگالی میں
شراب خون بن تڑپوں سے دل لبریز رہتا ہے
بھرے ہیں سنگ ریزے میں نے اس میناے خالی میں
خلاف ان اور خوباں کے سدا یہ جی میں رہتا ہے
یہی تو میر اک خوبی ہے معشوق خیالی میں
میر تقی میر

عمر گذری پر نہ جانا میں کہ کیوں دل گیر ہوں

دیوان اول غزل 351
یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوں
عمر گذری پر نہ جانا میں کہ کیوں دل گیر ہوں
اتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحا
پند کے لائق نہیں میں قابل زنجیر ہوں
سرخ رہتی ہیں مری آنکھیں لہو رونے سے شیخ
مے اگر ثابت ہو مجھ پر واجب التعزیر ہوں
نے فلک پر راہ مجھ کو نے زمیں پر رو مجھے
ایسے کس محروم کا میں شور بے تاثیر ہوں
جوں کماں گرچہ خمیدہ ہوں پہ چھوٹا اور وہیں
اس کے کوچے کی طرف چلنے کو یارو تیر ہوں
جو مرے حصے میں آوے تیغ جمدھر سیل و کارد
یہ فضولی ہے کہ میں ہی کشتۂ شمشیر ہوں
کھول کر دیوان میرا دیکھ قدرت مدعی
گرچہ ہوں میں نوجواں پر شاعروں کا پیر ہوں
یوں سعادت ایک جمدھر مجھ کو بھی گذرانیے
منصفی کیجے تو میں تو محض بے تقصیر ہوں
اس قدر بے ننگ خبطوں کو نصیحت شیخ جی
باز آئو ورنہ اپنے نام کو میں میر ہوں
میر تقی میر

فریاد کریں کس سے کہاں جاکے پکاریں

دیوان اول غزل 350
کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گذاریں
فریاد کریں کس سے کہاں جاکے پکاریں
ہر دم کا بگڑنا تو کچھ اب چھوٹا ہے ان سے
شاید کسی ناکام کا بھی کام سنواریں
دل میں جو کبھو جوش غم اٹھتا ہے تو تا دیر
آنکھوں سے چلی جاتی ہیں دریا کی سی دھاریں
کیا ظلم ہے اس خونی عالم کی گلی میں
جب ہم گئے دوچار نئی دیکھیں مزاریں
جس جا کہ خس و خار کے اب ڈھیر لگے ہیں
یاں ہم نے انھیں آنکھوں سے دیکھیں ہیں بہاریں
کیونکر کے رہے شرم مری شہر میں جب آہ
ناموس کہاں اتریں جو دریا پہ ازاریں
وے ہونٹ کہ ہے شور مسیحائی کا جن کی
دم لیویں نہ دوچار کو تا جی سے نہ ماریں
منظور ہے کب سے سرشوریدہ کا دینا
چڑھ جائے نظر کوئی تو یہ بوجھ اتاریں
بالیں پہ سر اک عمر سے ہے دست طلب کا
جو ہے سو گدا کس کنے جا ہاتھ پساریں
ان لوگوں کے تو گرد نہ پھر سب ہیں لباسی
سوگز بھی جو یہ پھاڑیں تو اک گز بھی نہ واریں
ناچار ہو رخصت جو منگا بھیجی تو بولا
میں کیا کروں جو میر جی جاتے ہیں سدھاریں
میر تقی میر

مانا کیا خدا کی طرح ان بتاں کو میں

دیوان اول غزل 349
سمجھا تنک نہ اپنے تو سود و زیاں کو میں
مانا کیا خدا کی طرح ان بتاں کو میں
لاویں اسے بھی بعد مرے میری لاش پر
یہ کہہ رکھا ہے اپنے ہر اک مہرباں کو میں
گردش فلک کی کیا ہے جو دور قدح میں ہے
دیتا رہوں گا چرخ مدام آسماں کو میں
جی جاوے تو قبول ترا غم نہ جائیو
رکھتا نپٹ عزیز ہوں اس میہماں کو میں
عاشق ہے یا مریض ہے پوچھو تو میر سے
پاتا ہوں زرد روز بروز اس جواں کو میں
میر تقی میر

اب دل گرفتگی سے آزار کھینچتے ہیں

دیوان اول غزل 348
لیتے ہیں سانس یوں ہم جوں تار کھینچتے ہیں
اب دل گرفتگی سے آزار کھینچتے ہیں
سینہ سپر کیا تھا جن کے لیے بلا کا
وے بات بات میں اب تلوار کھینچتے ہیں
مجلس میں تیری ہم کو کب غیر خوش لگے ہے
ہم بیچ اپنے اس کے دیوار کھینچتے ہیں
بے طاقتی نے ہم کو چاروں طرف سے کھویا
تصدیع گھر میں بیٹھے ناچار کھینچتے ہیں
منصور کی حقیقت تم نے سنی ہی ہو گی
حق جو کہے ہے اس کو یاں دار کھینچتے ہیں
شکوہ کروں تو کس سے کیا شیخ کیا برہمن
ناز اس بلاے جاں کے سب یار کھینچتے ہیں
ناوک سے میر اس کے دل بستگی تھی مجھ کو
پیکاں جگر سے میرے دشوار کھینچتے ہیں
میر تقی میر

اور مطلق اب دماغ اپنا وفا کرتا نہیں

دیوان اول غزل 347
آہ وہ عاشق ستم ترک جفا کرتا نہیں
اور مطلق اب دماغ اپنا وفا کرتا نہیں
بات میں غیروں کو چپ کردوں ولیکن کیا کروں
وہ سخن نشنو تنک میرا کہا کرتا نہیں
روز بدتر جیسے بیمار اجل ہے دل کا حال
یہ سمجھ کر ہم نشیں اب میں دوا کرتا نہیں
گوئیا باب اجابت ہجر میں تیغا ہوا
ورنہ کس شب آپ کو میں بددعا کرتا نہیں
بیکسان عشق اس کے آہ کس کے پاس جائیں
گور بن کوئی صلا میں لب کو وا کرتا نہیں
چھوٹنا ممکن نہیں اپنا قفس کی قید سے
مرغ سیر آہنگ کو کوئی رہا کرتا نہیں
چرخ کی بھی کج ادائی ہم ہی پر جاتی ہے پیش
ناز کو اس سے تو اک دم بھی جدا کرتا نہیں
دیکھ اسے بے دید ہو آنکھوں نے کیا دیکھا بھلا
دل بھی بد کرتا ہے مجھ سے تو بھلا کرتا نہیں
کیونکے دیکھی جائے یہ بیگانہ وضعی مجھ سے شوخ
تو تو ایدھر یک نگاہ آشنا کرتا نہیں
کیا کہوں پہنچا کہاں تک میر اپنا کارشوق
یاں سے کس دن اک نیا قاصد چلا کرتا نہیں
میر تقی میر

مہلت ہمیں بسان شرر کم بہت ہے یاں

دیوان اول غزل 346
آجائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں
مہلت ہمیں بسان شرر کم بہت ہے یاں
یک لحظہ سینہ کوبی سے فرصت ہمیں نہیں
یعنی کہ دل کے جانے کا ماتم بہت ہے یاں
حاصل ہے کیا سواے ترائی کے دہر میں
اٹھ آسماں تلے سے کہ شبنم بہت ہے یاں
مائل بہ غیر ہونا تجھ ابرو کا عیب ہے
تھی زور یہ کماں ولے خم چم بہت ہے یاں
ہم رہروان راہ فنا دیر رہ چکے
وقفہ بسان صبح کوئی دم بہت ہے یاں
اس بت کدے میں معنی کا کس سے کریں سوال
آدم نہیں ہے صورت آدم بہت ہے یاں
عالم میں لوگ ملنے کی گوں اب نہیں رہے
ہر چند ایسا ویسا تو عالم بہت ہے یاں
ویسا چمن سے سادہ نکلتا نہیں کوئی
رنگینی ایک اور خم و چم بہت ہے یاں
اعجاز عیسوی سے نہیں بحث عشق میں
تیری ہی بات جان مجسم بہت ہے یاں
میرے ہلاک کرنے کا غم ہے عبث تمھیں
تم شاد زندگانی کرو غم بہت ہے یاں
دل مت لگا رخ عرق آلود یار سے
آئینے کو اٹھا کہ زمیں نم بہت ہے یاں
شاید کہ کام صبح تک اپنا کھنچے نہ میر
احوال آج شام سے درہم بہت ہے یاں
میر تقی میر

ورنہ یہ کنج قفس بیضۂ فولاد نہیں

دیوان اول غزل 345
ایک پرواز کو بھی رخصت صیاد نہیں
ورنہ یہ کنج قفس بیضۂ فولاد نہیں
شیخ عزلت تو تہ خاک بھی پہنچے گی بہم
مفت ہے سیر کہ یہ عالم ایجاد نہیں
داد لے چھوڑوں میں صیاد سے اپنی لیکن
ضعف سے میرے تئیں طاقت فریاد نہیں
کیوں ہی معذور بھی رکھ یوں تو سمجھ دل میں شیخ
یہ قدح خوار مرے قابل ارشاد نہیں
بے ستوں بھی ہے وہی اور وہی جوے شیر
تھا نمک شہرت شیریں کا سو فرہاد نہیں
کیا کہوں میر فراموش کیا ان نے تجھے
میں تو تقریب بھی کی پر تو اسے یاد نہیں
میر تقی میر

ولے کم ہیں بہت وے لوگ جن کو یار کہتے ہیں

دیوان اول غزل 344
تجھے بھی یار اپنا یوں تو ہم ہر بار کہتے ہیں
ولے کم ہیں بہت وے لوگ جن کو یار کہتے ہیں
جہاں کے مصطبے میں مست طافح ہی نظر آئے
نہ تھا اس دور میں آیا جسے ہشیار کہتے ہیں
سمجھ کر ذکر کر آسودگی کا مجھ سے اے ناصح
وہ میں ہی ہوں کہ جس کو عافیت بیزار کہتے ہیں
مسافر ہووے جی اس کا خراماں دیکھ کر تجھ کو
جسے میرے وطن میں کبک خوش رفتار کہتے ہیں
معاذ اللہ دخل کفر ہو اسلام میں کیوں ہی
غلط اور پوچ نامعقول بعضے یار کہتے ہیں
علم کو کب ہے وجہ تسمیہ لازم سمجھ دیکھو
سلیمانی میں کیا زنار ہے زنار کہتے ہیں
تری آنکھوں کو آئوں دیکھنے میں تو عجب مت کر
کہ بہتر ہے عیادت اور انھیں بیمار کہتے ہیں
عجب ہوتے ہیں شاعر بھی میں اس فرقے کا عاشق ہوں
کہ بے دھڑکے بھری مجلس میں یہ اسرار کہتے ہیں
مزے ان کے اڑا لیکن نہ یہ سمجھیں تو بہتر ہے
کہ خوباں بھی بہت اپنے تئیں عیار کہتے ہیں
سگ کو میر میں اس شیر حق کا ہوں کہ جس کو سب
نبیؐ کا خویش و بھائی حیدر کرار کہتے ہیں
میر تقی میر

مانند جام خالی گل سب جماہیاں ہیں

دیوان اول غزل 343
ساقی کی باغ پر جو کچھ کم نگاہیاں ہیں
مانند جام خالی گل سب جماہیاں ہیں
تیغ جفاے خوباں بے آب تھی کہ ہمدم
زخم بدن ہمارے تفسیدہ ماہیاں ہیں
مسجد سے میکدے پر کاش ابر روز برسے
واں رو سفیدیاں ہیں یاں روسیاہیاں ہیں
جس کی نظر پڑی ہیں ان نے مجھے بھی دیکھا
جب سے وہ شوخ آنکھیں میں نے سراہیاں ہیں
غالب تو یہ ہے زاہد رحمت سے دور ہووے
درکار واں گنہ ہیں یاں بے گناہیاں ہیں
یہ ناز و سرگرانی اللہ رے کہ ہر دم
نازک مزاجیاں ہیں یا کج کلاہیاں ہیں
شاہد لوں میر کس کو اہل محلہ سے میں
محضر پہ خوں کے میرے سب کی گواہیاں ہیں
میر تقی میر

ہم دل جلوں کی خاک جہاں میں کدھر نہیں

دیوان اول غزل 342
دامن پہ تیرے گرد کا کیونکر اثر نہیں
ہم دل جلوں کی خاک جہاں میں کدھر نہیں
اتنا رقیب خانہ برانداز سے سلوک
جب آنکلتے ہیں تو سنے ہیں کہ گھر نہیں
خون جگر تو کچھ نہ رہا تو ہی سب ہوا
بس اے سرشک آنکھیں تری کیا مگر نہیں
دامان و جیب و دیدہ و مژگان و آستیں
اب کون سا رہا ہے کہ ان میں سے تر نہیں
ہر نقش پا ہے شوخ ترا رشک یاسمن
کم گوشۂ چمن سے ترا رہگذر نہیں
کیوں الاماں کرے ہے دل شب گھڑی گھڑی
برچھی لگاتی آہ ہماری اگر نہیں
آتا ہی تیرے کوچے میں ہوتا جو میر یاں
کیا جانیے کدھر کو گیا کچھ خبر نہیں
میر تقی میر

شمع روشن کے منھ پہ نور نہیں

دیوان اول غزل 341
بزم میں جو ترا ظہور نہیں
شمع روشن کے منھ پہ نور نہیں
کتنی باتیں بنا کے لائوں ایک
یاد رہتی ترے حضور نہیں
خوب پہچانتا ہوں تیرے تئیں
اتنا بھی تو میں بے شعور نہیں
قتل ہی کر کہ اس میں راحت ہے
لازم اس کام میں مرور نہیں
فکر مت کر ہمارے جینے کا
تیرے نزدیک کچھ یہ دور نہیں
پھر جئیں گے جو تجھ سا ہے جاں بخش
ایسا جینا ہمیں ضرور نہیں
عام ہے یار کی تجلی میر
خاص موسیٰ و کوہ طور نہیں
میر تقی میر

کہ موئے قید میں دیوار بہ دیوار چمن

دیوان اول غزل 340
ایسے محروم گئے ہم تو گرفتار چمن
کہ موئے قید میں دیوار بہ دیوار چمن
سینے پر داغ کا احوال میں پوچھوں ہوں نسیم
یہ بھی تختہ کبھو ہووے گا سزاوار چمن
باغباں باغ اجارے ہی اگر دینا تھا
تھے زر داغ سے ہم بھی تو خریدار چمن
وے گنہگار ہمیں ہیں کہ جنھیں کہتے ہیں
عاشق زار چمن مرغ گرفتار چمن
خون ٹپکے ہے پڑا نوک سے ہر یک کی ہنوز
کس ستم دیدہ کی مژگاں ہیں تہ خار چمن
باغباں ہم سے خشونت سے نہ پیش آیا کر
عاقبت نالہ کشاں بھی تو ہیں درکار چمن
کم نہیں ہے دل پر داغ بھی اے مرغ اسیر
گل میں کیا ہے جو ہوا ہے تو طلبگار چمن
گل پر ایسی تو پڑی اوس خزاں میں کہ نسیم
سرد ہی ہو گئی واں گرمی بازار چمن
کیا جزا ٹھہرتی ہے دیکھیے کل حشر کو میر
داغ ہر ایک مرے دل پہ ہے خوں دار چمن
میر تقی میر

نہ چوب گل نے دم مارا نہ چھڑیاں بید کی ہلیاں

دیوان اول غزل 339
جنوں میرے کی باتیں دشت اور گلشن میں جب چلیاں
نہ چوب گل نے دم مارا نہ چھڑیاں بید کی ہلیاں
گریباں شور محشر کا اڑایا دھجیاں کرکر
فغاں پر ناز کرتا ہوں کہ بل بے تیری ہتھ بلیاں
تفاوت کچھ نہیں شیرین و شکر اور یوسف میں
سبھی معشوق اگر پوچھے کوئی مصری کی ہیں ڈلیاں
ترے غمزے نے جو رو ظلم سے آنکھیں غزالوں کی
بیاباں میں دکھا مجنوں کو پائوں کے تلے ملیاں
چمن کو آج مارا ہے یہاں تک رشک گل رو نے
کہ بلبل سر پٹکتی ہے نہیں منھ کھولتیں کلیاں
مری آہ سحر کی برچھیاں سختی کی تڑپوں پر
نگاہیں کرکے گر پڑتی ہیں بجلی کی بھی اچپلیاں
صنم کی زلف میں کوچہ ہے سربستہ ہر اک مو پر
نہ دیکھی ہوں گی تونے خضر یہ ظلمات میں گلیاں
دوانہ ہو گیا تو میر آخر ریختے کہہ کہہ
نہ کہتا تھا میں اے ظالم کہ یہ باتیں نہیں بھلیاں
میر تقی میر

دل زینہار دیکھ خبردار بہت ہیں

دیوان اول غزل 338
کچھ انکھڑیاں ہی اس کی نہیں اک بلا کہ بس
دل زینہار دیکھ خبردار بہت ہیں
بیگانہ خو رقیب سے وسواس کچھ نہ کر
فرماوے ٹک زباں سے تو پھر یار بہت ہیں
کوئی تو زمزمہ کرے میرا سا دل خراش
یوں تو قفس میں اور گرفتار بہت ہیں
میر تقی میر

یہ جرم ہے تو ایسے گنہگار بہت ہیں

دیوان اول غزل 337
تجھ عشق میں تو مرنے کو تیار بہت ہیں
یہ جرم ہے تو ایسے گنہگار بہت ہیں
اک زخم کو میں ریزئہ الماس سے چیرا
دل پر ابھی جراحت نوکار بہت ہیں
میر تقی میر