زمرہ جات کے محفوظات: اساتذہ

بھول تو ہم کو گئے ہو یہ تمھیں یاد رہے

دیوان اول غزل 536
مر ہی جاویں گے بہت ہجر میں ناشاد رہے
بھول تو ہم کو گئے ہو یہ تمھیں یاد رہے
ہم سے دیوانے رہیں شہر میں سبحان اللہ
دشت میں قیس رہے کوہ میں فرہاد رہے
کچھ بھی نسبت نہ تھی جب دیر سے تب کیا تھا شیخ
ہم حرم میں بھی رہے تو ترے داماد رہے
دور اتنی تو نہیں شام اجل دوری میں
تا سحر ایسی ہی جو زاری و فریاد رہے
سر تو کٹوا ہی چکے میر تڑپ سے تو بچیں
جو ٹک اک پائوں رکھے چھاتی پہ جلاد رہے
میر تقی میر

شور سے جیسے بان جاتا ہے

دیوان اول غزل 535
نالہ تا آسمان جاتا ہے
شور سے جیسے بان جاتا ہے
دل عجب جاے ہے ولیکن مفت
ہاتھ سے یہ مکان جاتا ہے
گاہے آتا ہوں آپ میں سو بھی
جیسے کوئی میہمان جاتا ہے
کیا خرابی ہے میکدے کی سہل
محتسب اک جہان جاتا ہے
جب سرراہ آوے ہے وہ شوخ
ایک عالم کا جان جاتا ہے
اس سخن ناشنو سے کیا کہیے
غیر کی بات مان جاتا ہے
عشق کے داغ کا عبث ہے علاج
کوئی اب یہ نشان جاتا ہے
گو وہ ہرجائی آئے اپنی اور
سو طرف ہی گمان جاتا ہے
میر تو عمر طبعی کو پہنچا
عشق میں جوں جوان جاتا ہے
میر تقی میر

بھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے

دیوان اول غزل 534
تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گے
بھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے
اب کے بگڑے گی اگر ان سے تو اس شہر سے جا
کسو ویرانے میں تکیہ ہی بنا بیٹھیں گے
معرکہ گرم تو ٹک ہونے دو خونریزی کا
پہلے تلوار کے نیچے ہمیں جا بیٹھیں گے
ہو گا ایسا بھی کوئی روز کہ مجلس سے کبھو
ہم تو ایک آدھ گھڑی اٹھ کے جدا بیٹھیں گے
جا نہ اظہار محبت پہ ہوسناکوں کی
وقت کے وقت یہ سب منھ کو چھپا بیٹھیں گے
دیکھیں وہ غیرت خورشید کہاں جاتا ہے
اب سر راہ دم صبح سے آ بیٹھیں گے
بھیڑ ٹلتی ہی نہیں آگے سے اس ظالم کے
گردنیں یار کسی روز کٹا بیٹھیں گے
کب تلک گلیوں میں سودائی سے پھرتے رہیے
دل کو اس زلف مسلسل سے لگا بیٹھیں گے
شعلہ افشاں اگر ایسی ہی رہی آہ تو میر
گھر کو ہم اپنے کسو رات جلا بیٹھیں گے
میر تقی میر

کیا آرزو تھی ہم کو کہ بیمار ہو گئے

دیوان اول غزل 533
تجھ بن خراب و خستہ زبوں خوار ہو گئے
کیا آرزو تھی ہم کو کہ بیمار ہو گئے
خوبی بخت دیکھ کہ خوبان بے وفا
بے ہیچ میرے درپئے آزار ہو گئے
ہم نے بھی سیر کی تھی چمن کی پر اے نسیم
اٹھتے ہی آشیاں سے گرفتار ہو گئے
وہ تو گلے لگا ہوا سوتا تھا خواب میں
بخت اپنے سو گئے کہ جو بیدار ہو گئے
اپنی یگانگی ہی کیا کرتے ہیں بیاں
اغیار رو سیاہ بہت یار ہو گئے
لائی تھی شیخوں پر بھی خرابی تری نگاہ
بے طالعی سے اپنی وے ہشیار ہو گئے
کیسے ہیں وے کہ جیتے ہیں صد سال ہم تو میر
اس چار دن کی زیست میں بیزار ہو گئے
میر تقی میر

ہمارے چہرے کے اوپر بھی رنگ تھا آگے

دیوان اول غزل 532
قرار دل کا یہ کاہے کو ڈھنگ تھا آگے
ہمارے چہرے کے اوپر بھی رنگ تھا آگے
اٹھائیں تیرے لیے بد زبانیاں ان کی
جنھوں کی ہم کو خوشامد سے ننگ تھا آگے
ہماری آہوں سے سینے پہ ہو گیا بازار
ہر ایک زخم کا کوچہ جو تنگ تھا آگے
رہا تھا شمع سے مجلس میں دوش کتنا فرق
کہ جل بجھے تھے یہ ہم پر پتنگ تھا آگے
کیا خراب تغافل نے اس کے ورنہ میر
ہر ایک بات پہ دشنام و سنگ تھا آگے
میر تقی میر

پھر دل ستم رسیدہ اک ظلم کر رہا ہے

دیوان اول غزل 531
طاقت نہیں ہے جی میں نے اب جگر رہا ہے
پھر دل ستم رسیدہ اک ظلم کر رہا ہے
مارا ہے کس کو ظالم اس بے سلیقگی سے
دامن تمام تیرا لوہو میں بھر رہا ہے
پہنچا تھا تیغ کھینچے مجھ تک جو بولے دشمن
کیا مارتا ہے اس کو یہ آپھی مر رہا ہے
آنے کہا ہے میرے خوش قد نے رات گذرے
ہنگامۂ قیامت اب صبح پر رہا ہے
چل ہم نشیں کہ دیکھیں آوارہ میر کو ٹک
خانہ خراب وہ بھی آج اپنے گھر رہا ہے
میر تقی میر

امید عیادت پر بیمار رہا کیجے

دیوان اول غزل 530
تاچند ترے غم میں یوں زار رہا کیجے
امید عیادت پر بیمار رہا کیجے
نے اب ہے جگرکاوی نے سینہ خراشی ہے
کچھ جی میں یہ آئے ہے بیکار رہا کیجے
کیفیت چشماں اب معلوم ہوئی اس کی
یہ مست ہیں وہ خونی ہشیار رہا کیجے
دل جائو تو اب جائو ہو خوں تو جگر ہووے
اک جان ہے کس کس کے غمخوار رہا کیجے
ہے زیست کوئی یہ بھی جو میر کرے ہے تو
ہر آن میں مرنے کو تیار رہا کیجے
میر تقی میر

ہم تو بشر ہیں اس جا پر جلتے ہیں ملک کے

دیوان اول غزل 529
مشکل ہے ہونا روکش رخسار کی جھلک کے
ہم تو بشر ہیں اس جا پر جلتے ہیں ملک کے
مرتا ہے کیوں تو ناحق یاری برادری پر
دنیا کے سارے ناتے ہیں جیتے جی تلک کے
کہتے ہیں گور میں بھی ہیں تین روز بھاری
جاویں کدھر الٰہی مارے ہوئے فلک کے
لاتے نہیں نظر میں غلطانی گہر کو
ہم معتقد ہیں اپنے آنسو ہی کی ڈھلک کے
کل اک مژہ نچوڑے طوفان نوح آیا
فکر فشار میں ہوں میر آج ہر پلک کے
میر تقی میر

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

دیوان اول غزل 528
شش جہت سے اس میں ظالم بوے خوں کی راہ ہے
تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے
ایک نبھنے کا نہیں مژگاں تلک بوجھل ہیں سب
کاروان لخت دل ہر اشک کے ہمراہ ہے
ہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئے
یہ دوسالہ دختر رز کس قدر شتاہ ہے
پابرہنہ خاک سر میں موپریشاں سینہ چاک
حال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دلخواہ ہے
اس جنوں پر میر کوئی بھی پھرے ہے شہر میں
جادئہ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے
میر تقی میر

ایک ایک سخت بات پہ برسوں اڑے رہے

دیوان اول غزل 527
جب تک کڑی اٹھائی گئی ہم کڑے رہے
ایک ایک سخت بات پہ برسوں اڑے رہے
اب کیا کریں نہ صبر ہے دل کو نہ جی میں تاب
کل اس گلی میں آٹھ پہر غش پڑے رہے
وہ گل کو خوب کہتی تھی میں اس کے رو کے تیں
بلبل سے آج باغ میں جھگڑے بڑے رہے
فرہاد و قیس ساتھ کے سب کب کے چل بسے
دیکھیں نباہ کیونکے ہو اب ہم چھڑے رہے
کس کے تئیں نصیب گل فاتحہ ہوئے
ہم سے ہزاروں اس کی گلی میں گڑے رہے
برسوں تلک نہ آنکھ ملی ہم سے یار کی
پھر گوکہ ہم بصورت ظاہر اڑے رہے
یعنی کہ اپنے عشق کے حیران کار میر
دیوار کے سے نقش در اوپر کھڑے رہے
میر تقی میر

ّسینکڑوں ہم خوں گرفتہ ہیں وہ قاتل ایک ہے

دیوان اول غزل 526
کیا مرے سرورواں کا کوئی مائل ایک ہے
ّسینکڑوں ہم خوں گرفتہ ہیں وہ قاتل ایک ہے
راہ سب کو ہے خدا سے جان اگر پہنچا ہے تو
ہوں طریقے مختلف کتنے ہی منزل ایک ہے
اس مرے بت نے سبھوں کو حق سے توڑ اپنا کیا
کام میں اپنے بھی وہ معبود باطل ایک ہے
کیا عرب میں کیا عجم میں ایک لیلیٰ کا ہے شور
مختلف ہوں گو عبارات ان کا محمل ایک ہے
ایک سے ہے خرمن غم دانۂ اشک ایک سے
دیدہ و دل الغرض دونوں کا حاصل ایک ہے
اس شکار افگن کے کوچے سے نہیں جاتا ہے ظلم
ایک اگر جی سے گیا تو نیم بسمل ایک ہے
چشم و ابرو ناز و خوبی زلف و کاکل خال و خط
دیکھیے کیا ہو بلائیں اتنی ہیں دل ایک ہے
کام کچھ دنیا کی آسانی میں ہو تو میر کر
مردن دشوار بھی درپیش منزل ایک ہے
میر تقی میر

درد بے اختیار اٹھتا ہے

دیوان اول غزل 525
جب کہ پہلو سے یار اٹھتا ہے
درد بے اختیار اٹھتا ہے
اب تلک بھی مزار مجنوں سے
ناتواں اک غبار اٹھتا ہے
ہے بگولا غبار کس کا میر
کہ جو ہو بے قرار اٹھتا ہے
میر تقی میر

جو میں ہر اک مژہ دیکھوں کہ یہ تر ہے کہ یہ نم ہے

دیوان اول غزل 524
توجہ تیری اے حیرت مری آنکھوں پہ کیا کم ہے
جو میں ہر اک مژہ دیکھوں کہ یہ تر ہے کہ یہ نم ہے
کرے ہے مو پریشاں غم وفا تو تعزیہ تو لے
حیا کر حق صحبت کی کہ اس بیکس کا ماتم ہے
دورنگی دہر کی پیدا ہے یاں سے دل اٹھا اپنا
کسو کے گھر میں شادی ہے کہیں ہنگامۂ غم ہے
کہیں آشفتگاں سے میر مقصد ہووے ہے حاصل
جو زلفیں اس کی درہم ہیں مرا بھی کام برہم ہے
میر تقی میر

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

دیوان اول غزل 523
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
جن کی خاطر کی استخواں شکنی
سو ہم ان کے نشان تیر ہوئے
نہیں آتے کسو کی آنکھوں میں
ہو کے عاشق بہت حقیر ہوئے
آگے یہ بے ادائیاں کب تھیں
ان دنوں تم بہت شریر ہوئے
اپنے روتے ہی روتے صحرا کے
گوشے گوشے میں آب گیر ہوئے
ایسی ہستی عدم میں داخل ہے
نے جواں ہم نہ طفل شیر ہوئے
ایک دم تھی نمود بود اپنی
یا سفیدی کی یا اخیر ہوئے
یعنی مانند صبح دنیا میں
ہم جو پیدا ہوئے سو پیر ہوئے
مت مل اہل دول کے لڑکوں سے
میر جی ان سے مل فقیر ہوئے
میر تقی میر

خمیازہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریں گے

دیوان اول غزل 522
بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گے
خمیازہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریں گے
رونا یہی ہے مجھ کو تیری جفا سے ہر دم
یہ دل دماغ دونوں کب تک وفا کریں گے
ہے دین سر کا دینا گردن پہ اپنی خوباں
جیتے ہیں تو تمھارا یہ قرض ادا کریں گے
درویش ہیں ہم آخر دو اک نگہ کی رخصت
گوشے میں بیٹھے پیارے تم کو دعا کریں گے
آخر تو روزے آئے دو چار روز ہم بھی
ترسابچوں میں جا کر دارو پیا کریں گے
کچھ تو کہے گا ہم کو خاموش دیکھ کر وہ
اس بات کے لیے اب چپ ہی رہا کریں گے
عالم مرے ہے تجھ پر آئی اگر قیامت
تیری گلی کے ہر سو محشر ہوا کریں گے
دامان دشت سوکھا ابروں کی بے تہی سے
جنگل میں رونے کو اب ہم بھی چلا کریں گے
لائی تری گلی تک آوارگی ہماری
ذلت کی اپنی اب ہم عزت کیا کریں گے
احوال میر کیونکر آخر ہو ایک شب میں
اک عمر ہم یہ قصہ تم سے کہا کریں گے
میر تقی میر

اس کتے نے کرکے دلیری صید حرم کو مارا ہے

دیوان اول غزل 521
غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے
اس کتے نے کرکے دلیری صید حرم کو مارا ہے
باغ کو تجھ بن اپنے بھائیں آتش دی ہے بہاراں نے
ہر غنچہ اخگر ہے ہم کو ہر گل ایک انگارا ہے
جب تجھ بن لگتا ہے تڑپنے جائے ہے نکلا ہاتھوں سے
ہے جو گرہ سینے میں اس کو دل کہیے یا پارہ ہے
راہ حدیث جو ٹک بھی نکلے کون سکھائے ہم کو پھر
روے سخن پر کس کو دے وہ شوخ بڑا عیارہ ہے
کام اس کا ہے خوں افشانی ہر دم تیری فرقت میں
چشم کو میری آکر دیکھ اب لوہو کا فوارہ ہے
بال کھلے وہ شب کو شاید بستر ناز پہ سوتا تھا
آئی نسیم صبح جو ایدھر پھیلا عنبر سارا ہے
کس دن دامن کھینچ کے ان نے یار سے اپنا کام لیا
مدت گذری دیکھتے ہم کو میر بھی اک ناکارہ ہے
میر تقی میر

رہ سکے ہے تو تو رہ یاں ہم چلے

دیوان اول غزل 520
ہم تو اس کے ظلم سے ہمدم چلے
رہ سکے ہے تو تو رہ یاں ہم چلے
ٹوٹے جوں لالہ ستاں سے ایک پھول
ہم لے یاں سے داغ یک عالم چلے
جبنش ابرو تو واں رہتی نہیں
کب تلک تلوار یاں ہر دم چلے
نم جگر کے آیا آخر ہو گئے
اشک خونیں کچھ مژہ پر جم چلے
دیکھیے بخت زبوں کیا کیا دکھائے
تم تو خوباں ہم سے ہو برہم چلے
بھاگنے پر بیٹھے تھے گویا غزال
تیری آنکھیں دیکھتے ہی رم چلے
مجھ سے ناشائستہ کیا دیکھا کہ میر
آتے آتے کچھ جو آنسو تھم چلے
میر تقی میر

ہماری بیکسی پر زار باراں دیر روتا ہے

دیوان اول غزل 519
گذار ابر اب بھی جب کبھو ایدھر کو ہوتا ہے
ہماری بیکسی پر زار باراں دیر روتا ہے
ہوا مذکور نام اس کا کہ آنسو بہ چلے منھ پر
ہمارے کام سارے دیدۂ تر ہی ڈبوتا ہے
بجا ہے سینہ کوبی سنگ سے دل خون ہوتے ہیں
جو ہمدم ایسے جاتے ہیں تو ماتم سخت ہوتا ہے
نہ کی نشوونما کامل نہ کام اپنا کیا حاصل
فلک کوئی بھی دل سے تخم کو بے وقت بوتا ہے
ہلانا ابروئوں کا لے ہے زیر تیغ عاشق کو
پلک کا مارنا برچھی کلیجے میں چبھوتا ہے
کہاں اے رشک آب زندگی ہے تو کہ یاں تجھ بن
ہر اک پاکیزہ گوہر جی سے اپنے ہاتھ دھوتا ہے
لگا مردے کو میرے دیکھ کر وہ ناسمجھ کہنے
جوانی کی ہے نیند اس کو کہ اس غفلت سے سوتا ہے
پریشاں گرد سا گاہے جو مل جاتا ہے صحرا میں
اسی کی جستجو میں خضر بھی اوقات کھوتا ہے
نہ رکھو کان نظم شاعران حال پر اتنے
چلو ٹک میر کو سننے کہ موتی سے پروتا ہے
میر تقی میر

توانائی کا منھ دیکھا نہیں ان نے کہ کیسا ہے

دیوان اول غزل 518
ترا اے ناتوانی جو کوئی عالم میں رسوا ہے
توانائی کا منھ دیکھا نہیں ان نے کہ کیسا ہے
نیاز ناتواں کیا ناز سرو قد سے بر آوے
مثل مشہور ہے یہ تو کہ دست زور بالا ہے
ابھی اک عمر رونا ہے نہ کھوئو اشک آنکھو تم
کرو کچھ سوجھتا اپنا تو بہتر ہے کہ دنیا ہے
کیا اے سایۂ دیوار تونے مجھ سے رو پنہاں
مرے اب دھوپ میں جلنے ہی کا آثار پیدا ہے
بھلے کو اپنے سب دوڑے ہیں یہ اپنا برا چاہے
چلن اس دل کا تم دیکھو تو دنیا سے نرالا ہے
رہو ٹک دور ہی پھرنے دو کوچوں میں مجھے لڑکو
کروگے تنگ اسے تم اور تو نزدیک صحرا ہے
گلہ سن پیچش کاکل کا مجھ سے یوں لگا کہنے
تو اپنی فصد کر جلدی کہ تجھ کو میر سودا ہے
میر تقی میر

ہم تو اے ہم نفساں دیر خبردار ہوئے

دیوان اول غزل 517
خوش سر انجام تھے وے جلد جو ہشیار ہوئے
ہم تو اے ہم نفساں دیر خبردار ہوئے
بے قراری سے دل زار کی آزار ہوئے
خواہش اس حد کو کھنچی آہ کہ بیمار ہوئے
جنس دل دونوں جہاں جس کی بہا تھی اس کا
یک نگہ مول ہوا تم نہ خریدار ہوئے
عشق وہ ہے کہ جو تھے خلوتی منزل قدس
وے بھی رسواے سر کوچہ و بازار ہوئے
سیر گلزار مبارک ہو صبا کو ہم تو
ایک پرواز نہ کی تھی کہ گرفتار ہوئے
اس ستمگار کے کوچے کے ہواداروں میں
نام فردوس کا ہم لے کے گنہگار ہوئے
وعدۂ حشر تو موہوم نہ سمجھے ہم آہ
کس توقع پہ ترے طالب دیدار ہوئے
سستی بخت تو ٹک دیکھ کہ اس چاہت پر
معتمد غیر ہوئے ہم نہ وفادار ہوئے
میر صاحب سے خدا جانے ہوئی کیا تقصیر
جس سے اس ظلم نمایاں کے سزاوار ہوئے
میر تقی میر

پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے

دیوان اول غزل 516
اب کرکے فراموش تو ناشاد کروگے
پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے
زنہار اگر خستہ دلاں بے ستوں جائو
ٹک پاس ہنرمندی فرہاد کروگے
غیروں پہ اگر کھینچوگے شمشیر تو خوباں
اک اور مری جان پہ بیداد کروگے
جاگہ نہیں یاں رویئے جس پر نہ کھڑے ہو
کچھ شور ہی شر پر تو مجھے یاد کروگے
اس دشت میں اے راہرواں ہر قدم اوپر
مانند جرس نالہ و فریاد کروگے
گر دیکھوگے تم طرز کلام اس کی نظر کر
اے اہل سخن میر کو استاد کروگے
میر تقی میر

قرباں ترے ہر عضو پہ نازک بدنی ہے

دیوان اول غزل 515
مشہور چمن میں تری گل پیرہنی ہے
قرباں ترے ہر عضو پہ نازک بدنی ہے
عریانی آشفتہ کہاں جائے پس از مرگ
کشتہ ہے ترا اور یہی بے کفنی ہے
سمجھے ہے نہ پروانہ نہ تھامے ہے زباں شمع
وہ سوختنی ہے تو یہ گردن زدنی ہے
لیتا ہی نکلتا ہے مرا لخت جگر اشک
آنسو نہیں گویا کہ یہ ہیرے کی کنی ہے
بلبل کی کف خاک بھی اب ہو گی پریشاں
جامے کا ترے رنگ ستمگر چمنی ہے
کچھ تو ابھر اے صورت شیریں کہ دکھائوں
فرہاد کے ذمے بھی عجب کوہ کنی ہے
ہوں گرم سفر شام غریباں سے خوشی ہوں
اے صبح وطن تو تو مجھے بے وطنی ہے
ہر چند گدا ہوں میں ترے عشق میں لیکن
ان بوالہوسوں میں کوئی مجھ سا بھی غنی ہے
ہر اشک مرا ہے در شہوار سے بہتر
ہر لخت جگر رشک عقیق یمنی ہے
بگڑی ہے نپٹ میر طپش اور جگر میں
شاید کہ مرے جی ہی پر اب آن بنی ہے
میر تقی میر

تری تلاش میں اک دل کدھر کدھر کریے

دیوان اول غزل 514
حرم کو جایئے یا دیر میں بسر کریے
تری تلاش میں اک دل کدھر کدھر کریے
کٹے ہے دیکھیے یوں عمر کب تلک اپنی
کہ سنیے نام ترا اور چشم تر کریے
وہ مست ناز تو مچلا ہے کیا جتایئے حال
جو بے خبر ہو بھلا اس کے تیں خبر کریے
ہوا ہے دن تو جدائی کا سو تعب سے شام
شب فراق کس امید پر سحر کریے
جہاں کا دید بجز ماتم نظارہ نہیں
کہ دیدنی ہی نہیں جس پہ یاں نظر کریے
جیوں سے جاتے ہیں ناچار آہ کیا کیا لوگ
کبھو تو جانب عشاق بھی گذر کریے
ستم اٹھانے کی طاقت نہیں ہے اب اس کو
جو دل میں آوے تو ٹک رحم میر پر کریے
میر تقی میر

پر اس کے جی میں ہم سے کیا جانیے کہ کیا ہے

دیوان اول غزل 513
اپنا شعار پوچھو تو مہرباں وفا ہے
پر اس کے جی میں ہم سے کیا جانیے کہ کیا ہے
مت پوچھ میری اس کی شام و سحر کی صحبت
اس طرف سے ہے گالی اس طرف سے دعا ہے
بالیں پہ میری آکر ٹک دیکھ شوق دیدار
سارے بدن کا جی اب آنکھوں میں آرہا ہے
بے اس کے رک کے مرتے گرمی عشق میں تو
کرتے ہیں آہ جب تک تب تک ہی کچھ ہوا ہے
شکوہ ہے رونے کا یہ بے گانگی سے تیری
مژگان تر وگرنہ آنکھوں میں آشنا ہے
مت کر زمین دل میں تخم امید ضائع
بوٹا جو یاں اگا ہے سو اگتے ہی جلا ہے
شرمندہ ہوتے ہیں گے خورشید و ماہ دونوں
خوبی نے تیرے منھ کی ظالم قراں کیا ہے
اے شمع بزم عاشق روشن ہے یہ کہ تجھ بن
آنکھوں میں میری عالم تاریک ہو گیا ہے
جیتے ہی جی تلک ہیں سارے علاقے سو تو
عاشق ترا مجرد فارغ ہی ہو چکا ہے
آزردگی عبث کیوں تشہیر و قتل و ایذا
فرمایئے تو وہ کچھ جو کچھ کہ مدعا ہے
صد سحر و یک رقیمہ خط میر جی کا دیکھا
قاصد نہیں چلا ہے جادو مگر چلا ہے
میر تقی میر

سواد بر مجنوں تو چراگاہ غزالاں ہے

دیوان اول غزل 512
گذار خوش نگاہاں جس میں ہے میرا بیاباں ہے
سواد بر مجنوں تو چراگاہ غزالاں ہے
کرے ہے خندئہ دنداں نما تو میں بھی روئوں گا
چمکتی زور ہے بجلی مقرر آج باراں ہے
چمن پر نوحہ و زاری سے کس گل کا یہ ماتم ہے
جو شبنم ہے تو گریاں ہے جو بلبل ہے تو نالاں ہے
ہر اک مژگاں پہ میری اشک کے قطرے جھمکتے ہیں
تماشا مفت خوباں ہے لب دریا چراغاں ہے
کیا تھا جابجا رنگیں لہو تجھ ہجر میں رو کر
گریباں میر کا دیکھا مگر گلچیں کا داماں ہے
میر تقی میر

سپہر نیلی کا یہ سائبان جل جاوے

دیوان اول غزل 511
کروں جو آہ زمین و زمان جل جاوے
سپہر نیلی کا یہ سائبان جل جاوے
دی آگ دل کو محبت نے جب سے پھرتا ہوں
میں جس طرح کسو کا خانمان جل جاوے
دوا پذیر نہیں اے طبیب تپ غم کی
بدن میں ٹک رہے تو استخوان جل جاوے
نہ آوے سوز جگر منھ پہ شمع ساں اے کاش
بیان کرنے سے آگے زبان جل جاوے
ہمارے نالے بھی آتش ہی کے ہیں پرکالے
سنے تو بلبل نالاں کی جان جل جاوے
ہزار حیف کہ دل خار و خس سے باندھے کوئی
خزاں میں برق گرے آشیان جل جاوے
متاع سینہ سب آتش ہے فائدہ کس کا
خیال یہ ہے مبادا دکان جل جاوے
نہ پوچھ کچھ لب ترسا بچے کی کیفیت
کہوں تو دختر رز کی فلان جل جاوے
نہ بول میر سے مظلوم عشق ہے وہ غریب
مبادا آہ کرے سب جہان جل جاوے
میر تقی میر

تم نے حقوق دوستی کے سب ادا کیے

دیوان اول غزل 510
لگوائے پتھرے اور برا بھی کہا کیے
تم نے حقوق دوستی کے سب ادا کیے
کھینچا تھا آہ شعلہ فشاں نے جگر سے سر
برسوں تئیں پڑے ہوئے جنگل جلا کیے
غنچے نے ساری طرز ہماری ہی اخذ کی
ہم جو چمن میں برسوں گرفتہ رہا کیے
تدبیر عشق میں بھی نہ کرتے قصور یار
جو اس مرض میں ہوتے بھلے ہم دوا کیے
جوں نے نہ تیرے کشتے کے لب سے رہی فغاں
ہر چند بند بند بھی اس کے جدا کیے
کیا حرف دل نشیں ہو مرا جیسے خط مدام
اغیار روسیاہ ترے منھ لگا کیے
پھر شام آشنا نہ کبھو نکلے گل رخاں
ہر صبح ان سے برسوں تئیں ہم ملا کیے
بے عیب ذات ہے گی خدا ہی کی اے بتاں
تم لوگ خوبرو جو کیے بے وفا کیے
اک خاک سی اڑے ہے منھ اوپر وگرنہ میر
اس چشم گریہ ناک سے دریا بہا کیے
میر تقی میر

اس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے

دیوان اول غزل 509
جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوے
اس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے
تلوار کا بھی مارا خدا رکھے ہے ظالم
یہ تو ہو کوئی گور غریباں میں در آوے
میخانہ وہ منظر ہے کہ ہر صبح جہاں شیخ
دیوار پہ خورشید کا مستی سے سر آوے
کیا جانیں وے مرغان گرفتار چمن کو
جن تک کہ بصد ناز نسیم سحر آوے
تو صبح قدم رنجہ کرے ٹک تو ہے ورنہ
کس واسطے عاشق کی شب غم بسر آوے
ہر سو سر تسلیم رکھے صید حرم ہیں
وہ صید فگن تیغ بکف تا کدھر آوے
دیواروں سے سر مارتے پھرنے کا گیا وقت
اب تو ہی مگر آپ کبھو در سے در آوے
واعظ نہیں کیفیت میخانہ سے آگاہ
یک جرعہ بدل ورنہ یہ مندیل دھر آوے
صناع ہیں سب خوار ازاں جملہ ہوں میں بھی
ہے عیب بڑا اس میں جسے کچھ ہنر آوے
اے وہ کہ تو بیٹھا ہے سر راہ پہ زنہار
کہیو جو کبھو میر بلاکش ادھر آوے
مت دشت محبت میں قدم رکھ کہ خضر کو
ہر گام پہ اس رہ میں سفر سے حذر آوے
میر تقی میر

اللہ کی قدرت کا تماشا نظر آوے

دیوان اول غزل 508
برقعے کو اٹھا چہرے سے وہ بت اگر آوے
اللہ کی قدرت کا تماشا نظر آوے
اے ناقۂ لیلیٰ دو قدم راہ غلط کر
مجنون زخود رفتہ کبھو راہ پر آوے
ٹک بعد مرے میرے طرف داروں کنے تو
کوئی بھیجیو ظالم کہ تسلی تو کر آوے
کیا ظرف ہے گردون تنک حوصلہ کا جو
آشوب فغاں کے مرے عہدے سے بر آوے
ممکن نہیں آرام دے بیتابی جگر کی
جب تک نہ پلک پر کوئی ٹکڑا نظر آوے
مت ممتحن باغ ہو اے غیرت گلزار
گل کیا کہ جسے آگے ترے بات کر آوے
کھلنے میں ترے منھ کے کلی پھاڑے گریباں
ہلنے میں ترے ہونٹوں کے گل برگ تر آوے
ہم آپ سے جاتے رہے ہیں ذوق خبر میں
اے جان بلب آمدہ رہ تا خبر آوے
کہتے ہیں ترے کوچے سے میر آنے کہے ہے
جب جانیے وہ خانہ خراب اپنے گھر آوے
ہے جی میں غزل در غزل اے طبع یہ کہیے
شاید کہ نظیرؔی کے بھی عہدے سے بر آوے
میر تقی میر

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

دیوان اول غزل 507
یارب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے
مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے
زنداں میں پھنسے طوق پڑے قید میں مر جائے
پر دام محبت میں گرفتار نہ ہووے
اس واسطے کانپوں ہوں کہ ہے آہ نپٹ سرد
یہ بائو کلیجے کے کہیں پار نہ ہووے
صد نالۂ جانکاہ ہیں وابستہ چمن سے
کوئی بال شکستہ پس دیوار نہ ہووے
پژمردہ بہت ہے گل گلزار ہمارا
شرمندئہ یک گوشۂ دستار نہ ہووے
مانگے ہے دعا خلق تجھے دیکھ کے ظالم
یارب کسو کو اس سے سروکار نہ ہووے
کس شکل سے احوال کہوں اب میں الٰہی
صورت سے مری جس میں وہ بیزار نہ ہووے
ہوں دوست جو کہتا ہوں سن اے جان کے دشمن
بہتر تو تجھے ترک ہے تا خوار نہ ہووے
خوباں برے ہوتے ہیں اگرچہ ہیں نکورو
بے جرم کہیں ان کا گنہگار نہ ہووے
باندھے نہ پھرے خون پر اپنی تو کمر کو
یہ جان سبک تن پہ ترے بار نہ ہووے
چلتا ہے رہ عشق ہی اس پر بھی چلے تو
پر ایک قدم چل کہیں زنہار نہ ہووے
صحراے محبت ہے قدم دیکھ کے رکھ میر
یہ سیر سر کوچہ و بازار نہ ہووے
میر تقی میر

کتنے اک اشک ہوئے جمع کہ طوفان ہوئے

دیوان اول غزل 506
جوش دل آئے بہم دیدئہ گریان ہوئے
کتنے اک اشک ہوئے جمع کہ طوفان ہوئے
کیا چھپیں شہر محبت میں ترے خانہ خراب
گھر کے گھر ان کے ہیں اس بستی میں ویران ہوئے
کس نے لی رخصت پرواز پس از مرگ نسیم
مشت پر باغ میں آتے ہی پریشان ہوئے
سبزہ و لالہ و گل ابر و ہوا ہے مے دے
ساقی ہم توبہ کے کرنے سے پشیمان ہوئے
دیکھتے پھرتے ہیں منھ سب کا سحر آئینے
جلوہ گر ہو کہ یہ تجھ بن بہت حیران ہوئے
دعوی خوش دہنی گرچہ اسے تھا لیکن
دیکھ کر منھ کو ترے گل کے تئیں کان ہوئے
جام خوں بن نہیں ملتا ہے ہمیں صبح کو آب
جب سے اس چرخ سیہ کاسہ کے مہمان ہوئے
اپنے جی ہی نے نہ چاہا کہ پئیں آب حیات
یوں تو ہم میر اسی چشمے پہ بے جان ہوئے
میر تقی میر

تکلف برطرف بے مہر ہے یاری کو کیا جانے

دیوان اول غزل 505
نہیں وہ قید الفت میں گرفتاری کو کیا جانے
تکلف برطرف بے مہر ہے یاری کو کیا جانے
وہی اک مندرس نالہ مبارک مرغ گلشن کو
وہ اس ترکیب نو کی نالہ و زاری کو کیا جانے
پڑے آسودگان خاک چونکو شور محشر سے
مرا جو کوئی بے خود ہے وہ ہشیاری کو کیا جانے
ستم ہے تیری خوے خشمگیں پر ٹک بھی دلجوئی
دل آزاری کی باتیں کر تو دلداری کو کیا جانے
گلہ اپنی جفا کا سن کے مت آزردہ ہو ظالم
نہیں تہمت ہے تجھ پر تو جفا کاری کو کیا جانے
پریشاں فوج فوج لخت دل نکلے ہے آنکھوں سے
نپٹ ناداں ہے………………
ترا ابرام اس کی سادگی پر میر میں مانا
بھلا ایسا جو ناداں ہو وہ عیاری کو کیا جانے
میر تقی میر

دود جگر سے میرے یہ چھت سب سیاہ ہے

دیوان اول غزل 504
نیلا نہیں سپہر تجھے اشتباہ ہے
دود جگر سے میرے یہ چھت سب سیاہ ہے
ابر و بہار و بادہ سبھوں میں ہے اتفاق
ساقی جو تو بھی مل چلے تو واہ واہ ہے
سرمے سے ایسی آنکھیں تمھاری نہیں لگیں
احوال پر ہمارے تمھیں کب نگاہ ہے
کس کس طرح سے ہاتھ نچاتا ہے وعظ میں
دیکھا جو شیخ شہر عجب دستگاہ ہے
ہے روے عجز میر تری خاک راہ پر
یعنی کہ کام اس کا کچھ اب رو براہ ہے
میر تقی میر

پر نہ اتنا بھی کہ ڈوبے شہر کم کم رویئے

دیوان اول غزل 503
خوب ہے اے ابر اک شب آئو باہم رویئے
پر نہ اتنا بھی کہ ڈوبے شہر کم کم رویئے
وقت خوش دیکھا نہ اک دم سے زیادہ دہر میں
خندئہ صبح چمن پر مثل شبنم رویئے
شادی و غم میں جہاں کی ایک سے دس کا ہے فرق
عید کے دن ہنسیے تو دس دن محرم رویئے
دیکھا ماتم خانۂ عالم کو ہم مانند ابر
ہرجگہ پر جی میں یوں آیا دمادم رویئے
ہو جدا فردوس سے یعنی گلی سے یار کی
مدتوں تک کیجیے غم مثل آدم رویئے
اب سے یوں کریے مقرر اٹھیے جب کہسار سے
وادی مجنوں پہ بھی اے ابر اک دم رویئے
عشق میں تقریب گریہ گو نہیں درکار میر
ایک مدت صبر ہی کا رکھیے ماتم رویئے
میر تقی میر

بڑی کلول ٹلی ہے جان پر سے

دیوان اول غزل 502
ہمیں غش آگیا تھا وہ بدن دیکھ
بڑی کلول ٹلی ہے جان پر سے
لیا دل اس مخطط رو نے میرا
اٹھالوں میں اسے قرآن پر سے
کہاں ہیں آدمی عالم میں پیدا
خدائی صدقے کی انسان پر سے
تفنگ اس کی چلی آواز پر لیک
گئی ہے میر گولی کان پر سے
میر تقی میر

دل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے

دیوان اول غزل 500
رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے
دل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے
پاس ناموس عشق تھا ورنہ
کتنے آنسو پلک تک آئے تھے
وہی سمجھا نہ ورنہ ہم نے تو
زخم چھاتی کے سب دکھائے تھے
اب جہاں آفتاب میں ہم ہیں
یاں کبھو سرو و گل کے سائے تھے
کچھ نہ سمجھے کہ تجھ سے یاروں نے
کس توقع پہ دل لگائے تھے
فرصت زندگی سے مت پوچھو
سانس بھی ہم نہ لینے پائے تھے
میر صاحب رلا گئے سب کو
کل وے تشریف یاں بھی لائے تھے
میر تقی میر

اک نظر گل دیکھنے کے بھی ہمیں لالے پڑے

دیوان اول غزل 499
اس اسیری کے نہ کوئی اے صبا پالے پڑے
اک نظر گل دیکھنے کے بھی ہمیں لالے پڑے
حسن کو بھی عشق نے آخر کیا حلقہ بگوش
رفتہ رفتہ دلبروں کے کان میں بالے پڑے
مت نگاہ مست کو تکلیف کر ساقی زیاد
ہر طرف تو ہیں گلی کوچوں میں متوالے پڑے
کیونکے طے ہو دشت شوق آخر کو مانند سر شک
میرے پائوں میں تو پہلے ہی قدم چھالے پڑے
جوش مارا اشک خونیں نے مرے دل سے زبس
گھر میں ہمسایوں کے شب لوہو کے پرنالے پڑے
ہیں بعینہ ویسے جوں پردہ کرے ہے عنکبوت
روتے روتے بسکہ میری آنکھوں میں جالے پڑے
گرمجوشی سے مرے گریے کی شب آنکھوں کی راہ
گوشۂ دامن میں میر آتش کے پرکالے پڑے
میر تقی میر

پامال ہو گئے تو نہ جانا کہ کیا ہوئے

دیوان اول غزل 498
یاں سرکشاں جو صاحب تاج و لوا ہوئے
پامال ہو گئے تو نہ جانا کہ کیا ہوئے
دیکھی نہ ایک چشمک گل بھی چمن میں آہ
ہم آخر بہار قفس سے رہا ہوئے
پچھتائوگے بہت جو گئے ہم جہان سے
آدم کی قدر ہوتی ہے ظاہر جدا ہوئے
تجھ بن دماغ صحبت اہل چمن نہ تھا
گل وا ہوئے ہزار ولے ہم نہ وا ہوئے
سر دے کے میر ہم نے فراغت کی عشق میں
ذمے ہمارے بوجھ تھا بارے ادا ہوئے
میر تقی میر

ملتجی ناچار ہوا چاہیے

دیوان اول غزل 497
غیر سے اب یار ہوا چاہیے
ملتجی ناچار ہوا چاہیے
جس کے تئیں ڈھونڈوں ہوں وہ سب میں ہے
کس کا طلبگار ہوا چاہیے
تاکہ وہ ٹک آن کے پوچھے کبھو
اس لیے بیمار ہوا چاہیے
زلف کسو کی ہو کہ ہو خال و خط
دل کو گرفتار ہوا چاہیے
تیغ بلند اس کی ہوئی بوالہوس
مرنے کو تیار ہوا چاہیے
مصطبۂ بے خودی ہے یہ جہاں
جلد خبردار ہوا چاہیے
مول ہے بازار کا ہستی کے یہ
دل کے خریدار ہوا چاہیے
کچھ نہیں خورشید صفت سرکشی
سایۂ دیوار ہوا چاہیے
کر نہ تعلق کہ یہ منزل نہیں
آہ سبک بار ہوا چاہیے
گو سفری اب نہیں ظاہر میں میر
عاقبت کار ہوا چاہیے
میر تقی میر

یاں سلیماں کے مقابل مور ہے

دیوان اول غزل 496
مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہے
یاں سلیماں کے مقابل مور ہے
مر گئے پر بھی ہے صولت فقر کی
چشم شیر اپنا چراغ گور ہے
جب سے کاغذباد کا ہے شوق اسے
ایک عالم اس کے اوپر ڈور ہے
رہنمائی شیخ سے مت چشم رکھ
وائے وہ جس کا عصاکش کور ہے
لے ہی جاتی ہے زر گل کو اڑا
صبح کی بھی بائو بادی چور ہے
دل کھنچے جاتے ہیں سارے اس طرف
کیونکے کہیے حق ہماری اور ہے
تھا بلا ہنگامہ آرا میر بھی
اب تلک گلیوں میں اس کا شور ہے
میر تقی میر

نہ نکلا کبھو عہدئہ مور سے

دیوان اول غزل 495
ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سے
نہ نکلا کبھو عہدئہ مور سے
بہت دور کوئی رہا ہے مگر
کہ فریاد میں ہے جرس شور سے
مری خاک تفتہ پر اے ابرتر
قسم ہے تجھے ٹک برس زور سے
ترے دل جلے کو رکھا جس گھڑی
دھواں سا اٹھا کچھ لب گور سے
نہ پوچھو کہ بے اعتباری سے میں
ہوا اس گلی میں بتر چور سے
نہیں سوجھتا کچھ جو اس بن ہمیں
بغیر اس کے رہتے ہیں ہم کور سے
جو ہو میر بھی اس گلی میں صبا
بہت پوچھیو تو مری اور سے
میر تقی میر

پھر عمر چاہیے گی اس کو بحال آتے

دیوان اول غزل 494
تجھ سے دوچار ہو گا جو کوئی راہ جاتے
پھر عمر چاہیے گی اس کو بحال آتے
گر دل کی بے قراری ہوتی یہی جو اب ہے
تو ہم ستم رسیدہ کاہے کو جینے پاتے
وے دن گئے کہ اٹھ کر جاتے تھے اس گلی میں
اب سعی چاہیے ہے بالیں سے سر اٹھاتے
کب تھی ہمیں تمنا اے ضعف یہ کہ تڑپیں
پر زیر تیغ اس کی ہم ٹک تو سر ہلاتے
گر جانتے کہ یوں ہی برباد جائیں گے تو
کاہے کو خاک میں ہم اپنے تئیں ملاتے
شاید کہ خون دل کا پہنچا ہے وقت آخر
تھم جاتے ہیں کچھ آنسو راتوں کو آتے آتے
اس سمت کو پلٹتی تیری نگہ تو ساقی
حال خراب مجلس ہم شیخ کو دکھاتے
جی دینا دل دہی سے بہتر تھا صدمراتب
اے کاش جان دیتے ہم بھی نہ دل لگاتے
شب کوتہ اور قصہ ان کا دراز ورنہ
احوال میر صاحب ہم تجھ کو سب سناتے
میر تقی میر

اس پردے ہی میں خوباں ہم کو سلا رکھیں گے

دیوان اول غزل 493
آنکھیں لڑا لڑا کر کب تک لگا رکھیں گے
اس پردے ہی میں خوباں ہم کو سلا رکھیں گے
فکر دہن میں اس کی کچھ بن نہ آئی آخر
اب یہ خیال ہم بھی دل سے اٹھا رکھیں گے
مشت نمک کو میں نے بیکار کم رکھا ہے
چھاتی کے زخم میرے مدت مزہ رکھیں گے
سبزان شہر اکثر درپے ہیں آبرو کے
اب زہر پاس اپنے ہم بھی منگا رکھیں گے
آنکھوں میں دلبروں کی مطلق نہیں مروت
یہ پاس آشنائی منظور کیا رکھیں گے
جیتے ہیں جب تلک ہم آنکھیں بھی لڑتیاں ہیں
دیکھیں تو جور خوباں کب تک روا رکھیں گے
اب چاند بھی لگا ہے تیرے سے جلوے کرنے
شبہاے ماہ چندے تجھ کو چھپا رکھیں گے
مژگان و چشم و ابرو سب ہیں ستم کے مائل
ان آفتوں سے دل ہم کیونکر بچا رکھیں گے
دیوان میر صاحب ہر اک کی ہے بغل میں
دو چار شعر ان کے ہم بھی لکھا رکھیں گے
میر تقی میر

ہر ہر قدم کے اوپر پتھر جگر کریں گے

دیوان اول غزل 492
تیری گلی سے جب ہم عزم سفر کریں گے
ہر ہر قدم کے اوپر پتھر جگر کریں گے
آزردہ خاطروں سے کیا فائدہ سخن کا
تم حرف سر کروگے ہم گریہ سر کریں گے
عذر گناہ خوباں بدتر گنہ سے ہو گا
کرتے ہوئے تلافی بے لطف تر کریں گے
سر جائے گا ولیکن آنکھیں ادھر ہی ہوں گی
کیا تیری تیغ سے ہم قطع نظر کریں گے
اپنی خبر بھی ہم کو اب دیر پہنچتی ہے
کیا جانے یار اس کو کب تک خبر کریں گے
گر دل کی تاب و طاقت یہ ہے تو ہم نشیں ہم
شام غم جدائی کیونکر سحر کریں گے
یہ ظلم بے نہایت دیکھو تو خوبرویاں
کہتے ہیں جو ستم ہے ہم تجھ ہی پر کریں گے
اپنے بھی جی ہے آخر انصاف کر کہ کب تک
تو یہ ستم کرے گا ہم درگذر کریں گے
صناع طرفہ ہیں ہم عالم میں ریختے کے
جو میر جی لگے گا تو سب ہنر کریں گے
میر تقی میر

دکھلائی دے جہاں تک میدان ہورہا ہے

دیوان اول غزل 491
بے یار شہر دل کا ویران ہورہا ہے
دکھلائی دے جہاں تک میدان ہورہا ہے
اس منزل جہاں کے باشندے رفتنی ہیں
ہر اک کے ہاں سفر کا سامان ہورہا ہے
اچھا لگا ہے شاید آنکھوں میں یار اپنی
آئینہ دیکھ کر کچھ حیران ہورہا ہے
ٹک زیر طاق نیلی وسواس سے رہا کر
مدت سے گرنے پر یہ ایوان ہورہا ہے
گل دیکھ کر چمن میں تجھ کو کھلا ہی جا ہے
یعنی ہزار جی سے قربان ہورہا ہے
حال زبون اپنا پوشیدہ کچھ نہ تھا تو
سنتا نہ تھا کہ یہ صید بے جان ہورہا ہے
ظالم ادھر کی سدھ لے جوں شمع صبح گاہی
ایک آدھ دم کا عاشق مہمان ہورہا ہے
قرباں گہ محبت وہ جا ہے جس میں ہر سو
دشوار جان دینا آسان ہورہا ہے
ہر شب گلی میں اس کی روتے تو رہتے ہو تم
اک روز میر صاحب طوفان ہورہا ہے
میر تقی میر

ایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے

دیوان اول غزل 490
دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے
ایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے
عشق و مے خواری نبھے ہے کوئی درویشی کے بیچ
اس طرح کے خرج لاحاصل کو دولت چاہیے
عاقبت فرہاد مر کر کام اپنا کر گیا
آدمی ہووے کسی پیشے میں جرأت چاہیے
ہو طرف مجھ پہلواں شاعر کا کب عاجز سخن
سامنے ہونے کو صاحب فن کے قدرت چاہیے
عشق میں وصل و جدائی سے نہیں کچھ گفتگو
قرب و بعد اس جا برابر ہے محبت چاہیے
نازکی کو عشق میں کیا دخل ہے اے بوالہوس
یاں صعوبت کھینچنے کو جی میں طاقت چاہیے
تنگ مت ہو ابتداے عاشقی میں اس قدر
خیریت ہے میر صاحب دل سلامت چاہیے
میر تقی میر

پس ہم نہ برا مانیں تو کون برا مانے

دیوان اول غزل 489
اب ظلم ہے اس خاطر تا غیر بھلا مانے
پس ہم نہ برا مانیں تو کون برا مانے
سرمایۂ صد آفت دیدار کی خواہش ہے
دل کی تو سمجھ لیجے گر چشم کہا مانے
مسدود ہی اے قاصد بہتر ہے رہ نامہ
کیا کیا نہ لکھیں ہم تو جو یار لکھا مانے
ٹک حال شکستہ کی سننے ہی میں سب کچھ ہے
پر وہ تو سخن رس ہے اس بات کو کیا مانے
بے طاقتی دل نے سائل بھی کیا ہم کو
پر میر فقیروں کی یاں کون صدا مانے
میر تقی میر

گلوں نے جن کی خاطر خرقے ڈالے

دیوان اول غزل 488
قیامت ہیں یہ چسپاں جامے والے
گلوں نے جن کی خاطر خرقے ڈالے
وہ کالا چور ہے خال رخ یار
کہ سو آنکھوں میں دل ہو تو چرالے
نہیں اٹھتا دل محزوں کا ماتم
خدا ہی اس مصیبت سے نکالے
کہاں تک دور بیٹھے بیٹھے کہیے
کبھو تو پاس ہم کو بھی بلالے
دلا بازی نہ کر ان گیسوئوں سے
نہیں آساں کھلانے سانپ کالے
طپش نے دل جگر کی مار ڈالا
بغل میں دشمن اپنے ہم نے پالے
نہ مہکے بوے گل اے کاش یک چند
ابھی زخم جگر سارے ہیں آلے
کسے قید قفس میں یاد گل کی
پڑے ہیں اب تو جینے ہی کے لالے
ستایا میر غم کش کو کنھوں نے
کہ پھر اب عرش تک جاتے ہیں نالے
میر تقی میر

عمر رفتہ کی یہ نشانی ہے

دیوان اول غزل 487
اب جو اک حسرت جوانی ہے
عمر رفتہ کی یہ نشانی ہے
رشک یوسف ہے آہ وقت عزیز
عمر اک بار کاروانی ہے
گریہ ہر وقت کا نہیں بے ہیچ
دل میں کوئی غم نہانی ہے
ہم قفس زاد قیدی ہیں ورنہ
تاچمن ایک پرفشانی ہے
اس کی شمشیر تیز سے ہمدم
مر رہیں گے جو زندگانی ہے
غم و رنج و الم نکویاں سے
سب تمھاری ہی مہربانی ہے
خاک تھی موجزن جہاں میں اور
ہم کو دھوکا یہ تھا کہ پانی ہے
یاں ہوئے میر تم برابر خاک
واں وہی ناز و سرگرانی ہے
میر تقی میر

ساتھ لیے داغ جگر جائیں گے

دیوان اول غزل 486
شمع صفت جب کبھو مر جائیں گے
ساتھ لیے داغ جگر جائیں گے
تند نہ ہو ہم تو موئے پھرتے ہیں
کیا تری ان باتوں سے ڈر جائیں گے
کھل گئے رخسار اگر یار کے
شمس و قمر جی سے اتر جائیں گے
خالی نہ چھوڑیں گے ہم اپنی جگہ
گر یہی رونا ہے تو بھر جائیں گے
راہ دم تیغ پہ ہو کیوں نہ میر
جی پہ رکھیں گے تو گذر جائیں گے
میر تقی میر

یہ نمائش سراب کی سی ہے

دیوان اول غزل 485
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
چشم دل کھول اس بھی عالم پر
یاں کی اوقات خواب کی سی ہے
بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے
نقطۂ خال سے ترا ابرو
بیت اک انتخاب کی سی ہے
میں جو بولا کہا کہ یہ آواز
اسی خانہ خراب کی سی ہے
آتش غم میں دل بھنا شاید
دیر سے بو کباب کی سی ہے
دیکھیے ابر کی طرح اب کے
میری چشم پر آب کی سی ہے
میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
میر تقی میر

جان کے دینے کو جگر چاہیے

دیوان اول غزل 484
عشق میں نے خوف و خطر چاہیے
جان کے دینے کو جگر چاہیے
قابل آغوش ستم دیدگاں
اشک سا پاکیزہ گہر چاہیے
حال یہ پہنچا ہے کہ اب ضعف سے
اٹھتے پلک ایک پہر چاہیے
کم ہے شناساے زر داغ دل
اس کے پرکھنے کو نظر چاہیے
سینکڑوں مرتے ہیں سدا پھر بھی یاں
واقعہ اک شام و سحر چاہیے
عشق کے آثار ہیں اے بوالہوس
داغ بہ دل دست بسر چاہیے
شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے
جیسے جرس پارہ گلو کیا کروں
نالہ و افغاں میں اثر چاہیے
خوف قیامت کا یہی ہے کہ میر
ہم کو جیا بار دگر چاہیے
میر تقی میر

بو گئی کچھ دماغ میں گل کے

دیوان اول غزل 483
ڈھب ہیں تیرے سے باغ میں گل کے
بو گئی کچھ دماغ میں گل کے
جاے روغن دیا کرے ہے عشق
خون بلبل چراغ میں گل کے
دل تسلی نہیں صبا ورنہ
جلوے سب ہیں گے داغ میں گل کے
اس حدیقے کے عیش پر مت جا
مے نہیں ہے ایاغ میں گل کے
سیر کر میر اس چمن کی شتاب
ہے خزاں بھی سراغ میں گل کے
میر تقی میر

گل اک دل ہے جس میں تری چاہ ہے

دیوان اول غزل 482
چمن یار تیرا ہواخواہ ہے
گل اک دل ہے جس میں تری چاہ ہے
سراپا میں اس کے نظر کرکے تم
جہاں دیکھو اللہ اللہ ہے
تری آہ کس سے خبر پایئے
وہی بے خبر ہے جو آگاہ ہے
مرے لب پہ رکھ کان آواز سن
کہ اب تک بھی یک ناتواں آہ ہے
گذر سر سے تب عشق کی راہ چل
کہ ہر گام یاں اک خطر گاہ ہے
کبھو وادی عشق دکھلایئے
بہت خضر بھی دل میں گمراہ ہے
جہاں سے تو رخت اقامت کو باندھ
یہ منزل نہیں بے خبر راہ ہے
نہ شرمندہ کر اپنے منھ سے مجھے
کہا میں نے کب یہ کہ تو ماہ ہے
یہ وہ کارواں گاہ دلکش ہے میر
کہ پھر یاں سے حسرت ہی ہمراہ ہے
میر تقی میر

کہ ہمراہ صبا ٹک سیر کرتے پھر ہوا ہوتے

دیوان اول غزل 481
برنگ بوے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے
کہ ہمراہ صبا ٹک سیر کرتے پھر ہوا ہوتے
سراپا آرزو ہونے نے بندہ کردیا ہم کو
وگرنہ ہم خدا تھے گر دل بے مدعا ہوتے
فلک اے کاش ہم کو خاک ہی رکھتا کہ اس میں ہم
غبار راہ ہوتے یا کسو کی خاک پا ہوتے
الٰہی کیسے ہوتے ہیں جنھیں ہے بندگی خواہش
ہمیں تو شرم دامن گیر ہوتی ہے خدا ہوتے
تو ہے کس ناحیے سے اے دیار عشق کیا جانوں
ترے باشندگاں ہم کاش سارے بے وفا ہوتے
اب ایسے ہیں کہ صانع کے مزاج اوپر بہم پہنچے
جو خاطر خواہ اپنے ہم ہوئے ہوتے تو کیا ہوتے
کہیں جو کچھ ملامت گر بجا ہے میر کیا جانیں
انھیں معلوم تب ہوتا کہ ویسے سے جدا ہوتے
میر تقی میر

آخر ہیں تری آنکھوں کے ہم دیکھنے والے

دیوان اول غزل 480
کس طور ہمیں کوئی فریبندہ لبھالے
آخر ہیں تری آنکھوں کے ہم دیکھنے والے
سو ظلم اٹھائے تو کبھو دور سے دیکھا
ہرگز نہ ہوا یہ کہ ہمیں پاس بلا لے
اس شوخ کی سرتیز پلک ہیں کہ وہ کانٹا
گڑ جائے اگر آنکھ میں سر دل سے نکالے
عشق ان کو ہے جو یار کو اپنے دم رفتن
کرتے نہیں غیرت سے خدا کے بھی حوالے
وے دن گئے جو ضبط کی طاقت تھی ہمیں بھی
اب دیدئہ خوں بار نہیں جاتے سنبھالے
احوال بہت تنگ ہے اے کاش محبت
اب دست تلطف کو مرے سر سے اٹھالے
دعواے قیامت کا مرے خوف اسے کیا
اک لطف میں وہ مجھ سے تنک رو کو منالے
کہتے ہیں حجاب رخ دلدار ہے ہستی
دیکھیں گے اگر یوں ہے بھلا جان بھی جا لے
میر اس سے نہ مل آہ کہ ڈرتے ہیں مبادا
بیباک ہے وہ شوخ کہیں مار نہ ڈالے
میر تقی میر

موند لیں آنکھیں ادھر سے تم نے پیارے دیکھیے

دیوان اول غزل 479
زندگی ہوتی ہے اپنی غم کے مارے دیکھیے
موند لیں آنکھیں ادھر سے تم نے پیارے دیکھیے
لخت دل کب تک الٰہی چشم سے ٹپکا کریں
خاک میں تا چند ایسے لعل پارے دیکھیے
ہو چکا روز جزا اب اے شہیدان وفا
چونکتے ہیں خون خفتہ کب تمھارے دیکھیے
راہ دور عشق میں اب تو رکھا ہم نے قدم
رفتہ رفتہ پیش کیا آتا ہے بارے دیکھیے
سینۂ مجروح بھی قابل ہوا ہے سیر کے
ایک دن تو آن کر یہ زخم سارے دیکھیے
خنجر بیداد کو کیا دیکھتے ہو دمبدم
چشم سے انصاف کی سینے ہمارے دیکھیے
ایک خوں ہو بہ گیا دو روتے ہی روتے گئے
دیدہ و دل ہو گئے ہیں سب کنارے دیکھیے
شست و شو کا اس کی پانی جمع ہوکر مہ بنا
اور منھ دھونے کے چھینٹوں سے ستارے دیکھیے
رہ گئے سوتے کے سوتے کارواں جاتا رہا
ہم تو میر اس رہ کے خوابیدہ ہیں ہارے دیکھیے
میر تقی میر

دل ساکنان باغ کے تجھ سے اٹک گئے

دیوان اول غزل 478
کبکوں نے تیری چال جو دیکھی ٹھٹھک گئے
دل ساکنان باغ کے تجھ سے اٹک گئے
اندوہ وصل و ہجر نے عالم کھپا دیا
ان دو ہی منزلوں میں بہت یار تھک گئے
مطلق اثر نہ اس کے دل نرم میں کیا
ہر چند نالہ ہاے حزیں عرش تک گئے
افراط گریہ سے ہوئیں آبادیاں خراب
سیلاب میرے اشک کے اژدر بھی بھک گئے
وے مے گسار ظرف جنھیں خم کشی کے تھے
بھر کر نگاہ تونے جو کی ووہیں چھک گئے
چند اے سپہر چھاتی ہماری جلا کرے
اب داغ کھاتے کھاتے کلیجے تو پک گئے
عشاق پر جو وے صف مژگاں پھریں تو میر
جوں اشک کتنے چو گئے کتنے ٹپک گئے
میر تقی میر

کہ بل دے باندھتے ہیں پیچ پگڑی کے بھی بالوں سے

دیوان اول غزل 477
رہا ہونا نہیں امکان ان ترکیب والوں سے
کہ بل دے باندھتے ہیں پیچ پگڑی کے بھی بالوں سے
تجھے نسبت جو دیتے ہیں شرار و برق و شعلے سے
تسلی کرتے ہیں ناچار شاعر ان مثالوں سے
بلا کا شکر کر اے دل کہ اب معلوم ہوتی ہے
حقیقت عافیت کی اس گلی کے رہنے والوں سے
نہیں اے ہم نفس اب جی میں طاقت دوری گل کی
جگر ٹکڑے ہوا جاتا ہے آخر شب کے نالوں سے
نہیں خالی اثر سے تصفیہ دل کا محبت میں
کہ آئینے کو ربط خاص ہے صاحب جمالوں سے
کہاں یہ قامت دلکش کہاں پاکیزگی ایسی
ملے ہیں ہم بہت گلزار کے نازک نہالوں سے
ہدف اس کا ہوئے مدت ہوئی سینے کو پر اب تک
گتھا نکلے ہے لخت دل مرا تیروں کے بھالوں سے
ہوا پیرانہ سر عاشق ہو زاہد مضحکہ سب کا
کہن سالی میں ملتا ہے کوئی بھی خورد سالوں سے
رگ گل کوئی کہتا ہے کوئی اے میر مو اس کو
کمر اس شوخ کی بندھتی نہیں ان خوش خیالوں سے
میر تقی میر

یہی بات ہم چاہتے تھے خدا سے

دیوان اول غزل 476
گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سے
یہی بات ہم چاہتے تھے خدا سے
وہ اپنی ہی خوبی پہ رہتا ہے نازاں
مرو یا جیو کوئی اس کی بلا سے
کوئی ہم سے کھلتے ہیں بند اس قبا کے
یہ عقدے کھلیں گے کسو کی دعا سے
پشیمان توبہ سے ہو گا عدم میں
کہ غافل چلا شیخ لطف ہوا سے
نہ رکھی مری خاک بھی اس گلی میں
کدورت مجھے ہے نہایت صبا سے
جگر سوے مژگاں کھنچا جائے ہے کچھ
مگر دیدئہ تر ہیں لوہو کے پیاسے
اگر چشم ہے تو وہی عین حق ہے
تعصب تجھے ہے عجب ماسوا سے
طبیب سبک عقل ہرگز نہ سمجھا
ہوا درد عشق آہ دونا دوا سے
ٹک اے مدعی چشم انصاف وا کر
کہ بیٹھے ہیں یہ قافیے کس ادا سے
نہ شکوہ شکایت نہ حرف و حکایت
کہو میر جی آج کیوں ہو خفا سے
میر تقی میر

پردہ اٹھا تو لڑیاں آنکھیں ہماری ہم سے

دیوان اول غزل 475
کب سے نظر لگی تھی دروازئہ حرم سے
پردہ اٹھا تو لڑیاں آنکھیں ہماری ہم سے
صورت گر اجل کا کیا ہاتھ تھا کہے تو
کھینچی وہ تیغ ابرو فولاد کے قلم سے
سوزش گئی نہ دل کی رونے سے روز و شب کے
جلتا ہوں اور دریا بہتے ہیں چشم نم سے
طاعت کا وقت گذرا مستی میں آب رز کی
اب چشم داشت اس کے یاں ہے فقط کرم سے
کڑھیے نہ رویئے تو اوقات کیونکے گذرے
رہتا ہے مشغلہ سا بارے غم و الم سے
مشہور ہے سماجت میری کہ تیغ برسی
پر میں نہ سر اٹھایا ہرگز ترے قدم سے
بات احتیاط سے کر ضائع نہ کر نفس کو
بالیدگی دل ہے مانند شیشہ دم سے
کیا کیا تعب اٹھائے کیا کیا عذاب دیکھے
تب دل ہوا ہے اتنا خوگر ترے ستم سے
ہستی میں ہم نے آکر آسودگی نہ دیکھی
کھلتیں نہ کاش آنکھیں خواب خوش عدم سے
پامال کرکے ہم کو پچھتائوگے بہت تم
کمیاب ہیں جہاں میں سر دینے والے ہم سے
دل دو ہو میر صاحب اس بدمعاش کو تم
خاطر تو جمع کرلو ٹک قول سے قسم سے
میر تقی میر

آئے جو ہم چمن میں ہوکر اسیر آئے

دیوان اول غزل 474
گل گشت کی ہوس تھی سو تو بگیر آئے
آئے جو ہم چمن میں ہوکر اسیر آئے
فرصت میں یک نفس کی کیا درد دل سنوگے
آئے تو تم ولیکن وقت اخیر آئے
دلی میں اب کے آکر ان یاروں کو نہ دیکھا
کچھ وے گئے شتابی کچھ ہم بھی دیر آئے
کیا خوبی اس چمن کی موقوف ہے کسو پر
گل گر گئے عدم کو مکھڑے نظیر آئے
شکوہ نہیں جو اس کو پروا نہ ہو ہماری
دروازے جس کے ہم سے کتنے فقیر آئے
عمر دراز کیونکر مختار خضر ہے یاں
ایک آدھ دن میں ہم تو جینے سے سیر آئے
نزدیک تھی قفس میں پرواز روح اپنی
غنچے ہو گلبنوں پر جب ہم صفیر آئے
یوں بیٹھے بیٹھے ناگہ گردن لگے ہلانے
سر شیخ جی کے گویا مجلس میں پیر آئے
قامت خمیدہ اپنی جیسے کماں تھی لیکن
قرباں گہ وفا میں مانند تیر آئے
بن جی دیے نہیں ہے امکان یاں سے جانا
بسمل گہ جہاں میں اب ہم تو میر آئے
میر تقی میر

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

دیوان اول غزل 473
کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے
سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے
ٹپکتے درد ہیں آنسو کی جاگہ
الٰہی چشم یا زخم کہن ہے
خبر لے پیر کنعاں کی کہ کچھ آج
نپٹ آوارہ بوے پیرہن ہے
نہیں دامن میں لالہ بے ستوں کے
کوئی دل داغ خون کوہکن ہے
شہادت گاہ ہے باغ زمانہ
کہ ہر گل اس میں اک خونیں کفن ہے
کروں کیا حسرت گل کو وگرنہ
دل پر داغ بھی اپنا چمن ہے
جو دے آرام ٹک آوارگی میر
تو شام غربت اک صبح وطن ہے
میر تقی میر

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

دیوان اول غزل 472
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے
خانۂ دل سے زینہار نہ جا
کوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے
نالہ سر کھینچتا ہے جب میرا
شور اک آسماں سے اٹھتا ہے
لڑتی ہے اس کی چشم شوخ جہاں
ایک آشوب واں سے اٹھتا ہے
سدھ لے گھر کی بھی شعلۂ آواز
دود کچھ آشیاں سے اٹھتا ہے
بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو
جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے
یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
عشق اک میر بھاری پتھر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
میر تقی میر

اس ماہرو کے آگے کیا تاب مشتری کی

دیوان اول غزل 471
کس حسن سے کہوں میں اس کی خوش اختری کی
اس ماہرو کے آگے کیا تاب مشتری کی
رکھنا نہ تھا قدم یاں جوں باد بے تامل
سیر اس جہاں کی رہرو پر تونے سرسری کی
شبہا بحال سگ میں اک عمر صرف کی ہے
مت پوچھ ان نے مجھ سے جو آدمی گری کی
پاے گل اس چمن میں چھوڑا گیا نہ ہم سے
سر پر ہمارے اب کے منت ہے بے پری کی
پیشہ تو ایک ہی تھا اس کا ہمارا لیکن
مجنوں کے طالعوں نے شہرت میں یاوری کی
گریے سے داغ سینہ تازہ ہوئے ہیں سارے
یہ کشت خشک تونے اے چشم پھر ہری کی
یہ دور تو موافق ہوتا نہیں مگر اب
رکھیے بناے تازہ اس چرخ چنبری کی
خوباں تمھاری خوبی تاچند نقل کریے
ہم رنجہ خاطروں کی کیا خوب دلبری کی
ہم سے جو میر اڑ کر افلاک چرخ میں ہیں
ان خاک میں ملوں کی کاہے کو ہمسری کی
میر تقی میر

پژمردہ اس کلی کے تئیں بھی ہوا لگی

دیوان اول غزل 470
اب دل کو آہ کرنی ہی صبح و مسا لگی
پژمردہ اس کلی کے تئیں بھی ہوا لگی
کیونکر بجھائوں آتش سوزان عشق کو
اب تو یہ آگ دل سے جگر کو بھی جا لگی
دل کو گئے ہی یاں سے بنے اب کہ ہر سحر
کوچے میں تیری زلف کے آنے صبا لگی
زلف سیاہ یار کی رہتی ہے چت چڑھی
یہ تازہ میرے جی کو کہاں کی بلا لگی
بیتابی و شکیب و سفر حاصل کلام
اس دل مریض غم کو نہ کوئی دوا لگی
ڈر مجھ نفس سے غیر کہ پھر جی ہی سے گیا
جس کو کسو ستم زدہ کی بد دعا لگی
لگ جائے چپ نہ تجھ کو تو تو کہیو عندلیب
گر بے کلی نے کی ہمیں تکلیف نالگی
تھا صیدناتواں میں ولے میرے خون سے
پائوں میں صید بندوں کے بھر کر حنا لگی
کشتے کا اس کے زخم نہ ظاہر ہوا کہ میر
کس جاے اس شہید کے تیغ جفا لگی
میر تقی میر

سجدہ اس آستاں کا کیا پھر وفات کی

دیوان اول غزل 469
غم سے یہ راہ میں نے نکالی نجات کی
سجدہ اس آستاں کا کیا پھر وفات کی
نسبت تو دیتے ہیں ترے لب سے پر ایک دن
ناموس یوں ہی جائے گی آب حیات کی
صد حرف زیر خاک تہ دل چلے گئے
مہلت نہ دی اجل نے ہمیں ایک بات کی
ہم تو ہی اس زمانے میں حیرت سے چپ نہیں
اب بات جاچکی ہے سبھی کائنات کی
پژمردہ اس کلی کے تئیں وا شدن سے کیا
آہ سحر نے دل پہ عبث التفات کی
حور و پری فرشتہ بشر مار ہی رکھا
دزدیدہ تیرے دیکھنے نے جس پہ گھات کی
اس لب شکر کے ہیں گے جہاں ذائقہ شناس
اس جا دعا پہنچتی نہیں ہے نبات کی
عرصہ ہے تنگ چال نکلتی نہیں ہے اور
جو چال پڑتی ہے سو وہ بازی کی مات کی
برقع اٹھا تھا یار کے منھ کا سو میر کل
سنتے ہیں آفتاب نے جوں توں کے رات کی
میر تقی میر

کسو سے کام نہیں رکھتی جنس آدم کی

دیوان اول غزل 468
بغیر دل کہ یہ قیمت ہے سارے عالم کی
کسو سے کام نہیں رکھتی جنس آدم کی
کوئی ہو محرم شوخی ترا تو میں پوچھوں
کہ بزم عیش جہاں کیا سمجھ کے برہم کی
ہمیں تو باغ کی تکلیف سے معاف رکھو
کہ سیر و گشت نہیں رسم اہل ماتم کی
تنک تو لطف سے کچھ کہہ کہ جاں بلب ہوں میں
رہی ہے بات مری جان اب کوئی دم کی
گذرنے کو تو کج و واکج اپنی گذرے ہے
جفا جو ان نے بہت کی تو کچھ وفا کم کی
گھرے ہیں درد و الم میں فراق کے ایسے
کہ صبح عید بھی یاں شام ہے محرم کی
قفس میں میر نہیں جوش داغ سینے پر
ہوس نکالی ہے ہم نے بھی گل کے موسم کی
میر تقی میر

دو دو بچن کے ہونے میں اک بات ہو گئی

دیوان اول غزل 467
کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئی
دو دو بچن کے ہونے میں اک بات ہو گئی
کن کن مصیبتوں سے ہوئی صبح شام ہجر
سو زلفیں ہی بناتے اسے رات ہو گئی
گردش نگاہ مست کی موقوف ساقیا
مسجد تو شیخ جی کی خرابات ہو گئی
ڈر ظلم سے کہ اس کی جزا بس شتاب ہے
آیا عمل میں یاں کہ مکافات ہو گئی
خورشید سا پیالۂ مے بے طلب دیا
پیر مغاں سے رات کرامات ہو گئی
کتنا خلاف وعدہ ہوا ہو گا وہ کہ یاں
نومیدی و امید مساوات ہو گئی
آ شیخ گفتگوے پریشاں پہ تو نہ جا
مستی میں اب تو قبلۂ حاجات ہو گئی
ٹک شہر سے نکل کے مرا گریہ سیر کر
گویا کہ کوہ و دشت پہ برسات ہو گئی
دیدار کی گرسنگی اپنی یہیں سے دیکھ
اک ہی نگاہ یاروں کی اوقات ہو گئی
اپنے تو ہونٹ بھی نہ ہلے اس کے روبرو
رنجش کی وجہ میر وہ کیا بات ہو گئی
میر تقی میر

اے عمر گذشتہ میں تری قدر نہ جانی

دیوان اول غزل 466
غفلت میں گئی آہ مری ساری جوانی
اے عمر گذشتہ میں تری قدر نہ جانی
تھی آبلۂ دل سے ہمیں تشنگی میں چشم
پھوٹا تو نہ آیا نظر اک بوند بھی پانی
مدت سے ہیں اک مشت پر آوارہ چمن میں
نکلی ہے یہ کس کی ہوس بال فشانی
بھاتی ہے مجھے اک طلب بوسہ میں یہ آن
لکنت سے الجھ جا کے اسے بات نہ آنی
کیا جانیے کیا کیا میں لکھوں شوق میں قاصد
پڑھنا نہ کرے خط کا کہیں اس پہ گرانی
تکلیف نہ کر نامہ کے لکھنے کی تو مجھ کو
آجائے جو کچھ جی میں ترے کہیو زبانی
یہ جان اگر بید مولہ کہیں دیکھے
باقی ہے کسو موے پریشاں کی نشانی
دیکھیں تو سہی کب تئیں نبھتی ہے یہ صحبت
ہم جی سے ترے دوست ہیں تو دشمن جانی
مجنوں بھی نہ رسواے جہاں ہوتا نہ وہ آپ
مکتب میں جو کم آتی پہ لیلیٰ تھی دوانی
اک شخص مجھی سا تھا کہ وہ تجھ پہ تھا عاشق
وہ اس کی وفاپیشگی وہ اس کی جوانی
یہ کہہ کے جو رویا تو لگا کہنے نہ کہہ میر
سنتا نہیں میں ظلم رسیدوں کی کہانی
میر تقی میر

بیٹھ جا چلنے ہار ہیں ہم بھی

دیوان اول غزل 465
آج کل بے قرار ہیں ہم بھی
بیٹھ جا چلنے ہار ہیں ہم بھی
آن میں کچھ ہیں آن میں کچھ ہیں
تحفۂ روزگار ہیں ہم بھی
منع گریہ نہ کر تو اے ناصح
اس میں بے اختیار ہیں ہم بھی
درپئے جان ہے قراول مرگ
کسو کے تو شکار ہیں ہم بھی
نالے کریو سمجھ کے اے بلبل
باغ میں یک کنار ہیں ہم بھی
مدعی کو شراب ہم کو زہر
عاقبت دوست دار ہیں ہم بھی
مضطرب گریہ ناک ہے یہ گل
برق ابر بہار ہیں ہم بھی
گر زخود رفتہ ہیں ترے نزدیک
اپنے تو یادگار ہیں ہم بھی
میر نام اک جواں سنا ہو گا
اسی عاشق کے یار ہیں ہم بھی
میر تقی میر

اپنی جگہ بہار میں کنج قفس رہی

دیوان اول غزل 464
اب کے بھی سیر باغ کی جی میں ہوس رہی
اپنی جگہ بہار میں کنج قفس رہی
میں پا شکستہ جا نہ سکا قافلے تلک
آتی اگرچہ دیر صداے جرس رہی
لطف قباے تنگ پہ گل کا بجا ہے ناز
دیکھی نہیں ہے ان نے تری چولی چس رہی
دن رات میری آنکھوں سے آنسو چلے گئے
برسات اب کے شہر میں سارے برس رہی
خالی شگفتگی سے جراحت نہیں کوئی
ہر زخم یاں ہے جیسے کلی ہو بکس رہی
دیوانگی کہاں کہ گریباں سے تنگ ہوں
گردن مری ہے طوق میں گویا کہ پھنس رہی
جوں صبح اس چمن میں نہ ہم کھل کے ہنس سکے
فرصت رہی جو میر بھی سو یک نفس رہی
میر تقی میر

نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری

دیوان اول غزل 463
رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری
نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری
برنگ صوت جرس تجھ سے دور ہوں تنہا
خبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری
ترے نہ آج کے آنے میں صبح کے مجھ پاس
ہزار جاے گئی طبع بدگماں میری
وہ نقش پاے ہوں میں مٹ گیا ہو جو رہ میں
نہ کچھ خبر ہے نہ سدھ ہے گی رہرواں میری
شب اس کے کوچے میں جاتا ہوں اس توقع پر
کہ ایک دوست ہے واں خواب پاسباں میری
اسی سے دور رہا اصل مدعا جو تھا
گئی یہ عمرعزیز آہ رائیگاں میری
ترے فراق میں جیسے خیال مفلس کا
گئی ہے فکر پریشاں کہاں کہاں میری
نہیں ہے تاب و تواں کی جدائی کا اندوہ
کہ ناتوانی بہت ہے مزاج داں میری
رہا میں در پس دیوار باغ مدت لیک
گئی گلوں کے نہ کانوں تلک فغاں میری
ہوا ہوں گریۂ خونیں کا جب سے دامن گیر
نہ آستین ہوئی پاک دوستاں میری
دیا دکھائی مجھے تو اسی کا جلوہ میر
پڑی جہان میں جاکر نظر جہاں میری
میر تقی میر

اکت لے کے آخر ادا کیا نکالی

دیوان اول غزل 462
ملا غیر سے جا جفا کیا نکالی
اکت لے کے آخر ادا کیا نکالی
طبیبوں نے تجویز کی مرگ عاشق
مناسب مرض کے دوا کیا نکالی
نہیں اس گذرگہ سے آتی ادھر اب
نئی راہ کوئی صبا کیا نکالی
دلا اس کے گیسو سے کیوں لگ چلا تو
یہ اک اپنے جی کی بلا کیا نکالی
رجھا ہی دیا واہ رے قدردانی
وفا کی ہماری جزا کیا نکالی
دم صبح جوں آفتاب آج ظالم
نکلتے ہی تیغ جفا کیا نکالی
لگے در بدر میر چلاتے پھرنے
گدا تو ہوئے پر صدا کیا نکالی
میر تقی میر

یاں دکانیں ہیں کئی چاک گریبانوں کی

دیوان اول غزل 461
ہے یہ بازار جنوں منڈی ہے دیوانوں کی
یاں دکانیں ہیں کئی چاک گریبانوں کی
کیونکے کہیے کہ اثر گریۂ مجنوں کو نہ تھا
گرد نمناک ہے اب تک بھی بیابانوں کی
یہ بگولہ تو نہیں دشت محبت میں سے
جمع ہو خاک اڑی کتنے پریشانوں کی
خانقہ کا تو نہ کر قصد ٹک اے خانہ خراب
یہی اک رہ گئی ہے بستی مسلمانوں کی
سیل اشکوں سے بہے صر صر آہوں سے اڑے
مجھ سے کیا کیا نہ خرابی ہوئی ویرانوں کی
دل و دیں کیسے کہ اس رہزن دلہا سے اب
یہ پڑی ہے کہ خدا خیر کرے جانوں کی
کتنے دل سوختہ ہم جمع ہیں اے غیرت شمع
کر قدم رنجہ کہ مجلس ہے یہ پروانوں کی
سرگذشتیں نہ مری سن کہ اچٹتی ہے نیند
خاصیت یہ ہے مری جان ان افسانوں کی
میکدے سے تو ابھی آیا ہے مسجد میں میر
ہو نہ لغزش کہیں مجلس ہے یہ بیگانوں کی
میر تقی میر

میں نے مر مر کے زندگانی کی

دیوان اول غزل 460
کیا کروں شرح خستہ جانی کی
میں نے مر مر کے زندگانی کی
حال بد گفتنی نہیں میرا
تم نے پوچھا تو مہربانی کی
سب کو جانا ہے یوں تو پر اے صبر
آتی ہے اک تری جوانی کی
تشنہ لب مر گئے ترے عاشق
نہ ملی ایک بوند پانی کی
بیت بحثی سمجھ کے کر بلبل
دھوم ہے میری خوش زبانی کی
جس سے کھوئی تھی نیند میر نے کل
ابتدا پھر وہی کہانی کی
میر تقی میر

صورت حال تجھے آپھی نظر آوے گی

دیوان اول غزل 459
میری پرسش پہ تری طبع اگر آوے گی
صورت حال تجھے آپھی نظر آوے گی
محو اس کا نہیں ایسا کہ جو چیتے گا شتاب
اس کے بے خود کی بہت دیر خبر آوے گی
کتنے پیغام چمن کو ہیں سو دل میں ہیں گرہ
کسو دن ہم تئیں بھی باد سحر آوے گی
ابر مت گور غریباں پہ برس غافل آہ
ان دل آزردوں کے جی میں بھی لہر آوے گی
میر میں جیتوں میں آئوں گا اسی دن جس دن
دل نہ تڑپے گا مرا چشم نہ بھر آوے گی
میر تقی میر

رشک سے جلتے ہیں یوسف کے خریدار کئی

دیوان اول غزل 458
گرم ہیں شور سے تجھ حسن کے بازار کئی
رشک سے جلتے ہیں یوسف کے خریدار کئی
کب تلک داغ دکھاوے گی اسیری مجھ کو
مر گئے ساتھ کے میرے تو گرفتار کئی
وے ہی چالاکیاں ہاتھوں کی ہیں جو اول تھیں
اب گریباں میں مرے رہ گئے ہیں تار کئی
خوف تنہائی نہیں کر تو جہاں سے تو سفر
ہر جگہ راہ عدم میں ملیں گے یار کئی
اضطراب و قلق و ضعف میں کس طور جیوں
جان واحد ہے مری اور ہیں آزار کئی
کیوں نہ ہوں خستہ بھلا میں کہ ستم کے تیرے
تیر ہیں پار کئی وار ہیں سوفار کئی
اپنے کوچے میں نکلیو تو سنبھالے دامن
یادگار مژۂ میر ہیں واں خار کئی
میر تقی میر

یار کے تیر جان لے جا بھی

دیوان اول غزل 457
چھن گیا سینہ بھی کلیجا بھی
یار کے تیر جان لے جا بھی
کیوں تری موت آئی ہے گی عزیز
سامنے سے مرے ارے جا بھی
حال کہہ چپ رہا جو میں بولا
کس کا قصہ تھا ہاں کہے جا بھی
میں کہا میر جاں بلب ہے شوخ
تونے کوئی خبر کو بھیجا بھی
کہنے لاگا نہ واہی بک اتنا
کیوں ہوا ہے سڑی ابے جا بھی
میر تقی میر

دیوانگی کسو کی بھی زنجیر پا نہ تھی

دیوان اول غزل 456
آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھی
دیوانگی کسو کی بھی زنجیر پا نہ تھی
بیگانہ سا لگے ہے چمن اب خزاں میں ہائے
ایسی گئی بہار مگر آشنا نہ تھی
کب تھا یہ شور نوحہ ترا عشق جب نہ تھا
دل تھا ہمارا آگے تو ماتم سرا نہ تھی
وہ اور کوئی ہو گی سحر جب ہوئی قبول
شرمندئہ اثر تو ہماری دعا نہ تھی
آگے بھی تیرے عشق سے کھینچے تھے درد و رنج
لیکن ہماری جان پر ایسی بلا نہ تھی
دیکھے دیار حسن کے میں کارواں بہت
لیکن کسو کے پاس متاع وفا نہ تھی
آئی پری سی پردئہ مینا سے جام تک
آنکھوں میں تیری دختر رز کیا حیا نہ تھی
اس وقت سے کیا ہے مجھے تو چراغ وقف
مخلوق جب جہاں میں نسیم و صبا نہ تھی
پژمردہ اس قدر ہیں کہ ہے شبہ ہم کو میر
تن میں ہمارے جان کبھو تھی بھی یا نہ تھی
میر تقی میر

بے قراری کو جانے تب کوئی

دیوان اول غزل 455
مجھ سا بیتاب ہووے جب کوئی
بے قراری کو جانے تب کوئی
ہاں خدا مغفرت کرے اس کو
صبر مرحوم تھا عجب کوئی
جان دے گو مسیح پر اس سے
بات کہتے ہیں تیرے لب کوئی
بعد میرے ہی ہو گیا سنسان
سونے پایا تھا ورنہ کب کوئی
اس کے کوچے میں حشر تھے مجھ تک
آہ و نالہ کرے نہ اب کوئی
ایک غم میں ہوں میں ہی عالم میں
یوں تو شاداں ہے اور سب کوئی
ناسمجھ یوں خفا بھی ہوتا ہے
مجھ سے مخلص سے بے سبب کوئی
اور محزوں بھی ہم سنے تھے ولے
میر سا ہوسکے ہے کب کوئی
کہ تلفظ طرب کا سن کے کہے
شخص ہو گا کہیں طرب کوئی
میر تقی میر

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

دیوان اول غزل 454
اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی
اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی
ان درس گہوں میں وہ آیا نہ نظر ہم کو
کیا نقل کروں خوبی اس چہرہ کتابی کی
بھنتے ہیں دل اک جانب سکتے ہیں جگر یک سو
ہے مجلس مشتاقاں دکان کبابی کی
تلخ اس لب مے گوں سے سب سنتے ہیں کس خاطر
تہ دار نہیں ہوتی گفتار شرابی کی
یک بو کشی بلبل ہے موجب صد مستی
پرزور ہے کیا دارو غنچے کی گلابی کی
اب سوز محبت سے سارے جو پھپھولے ہیں
ہے شکل مرے دل کی سب شیشہ حبابی کی
نشمردہ مرے منھ سے یاں حرف نہیں نکلا
جو بات کہ میں نے کی سو میر حسابی کی
میر تقی میر

عید آئی یاں ہمارے بر میں جامہ ماتمی

دیوان اول غزل 453
تو گلے ملتا نہیں ہم سے تو کیسی خرمی
عید آئی یاں ہمارے بر میں جامہ ماتمی
جی بھرا رہتا ہے اب آٹھوں پہر مانند ابر
سینکڑوں طوفاں بغل میں ہے یہ مژگاں ماتمی
حشر کو زیر و زبر ہو گا جہاں سچ ہے ولے
ہے قیامت شیخ جی اس کارگہ کی برہمی
تجھ سوا محبوب آتش طبع اے ساقی نہیں
ہو پرستاروں میں تیرے گر پری ہو آدمی
سامنے ہوجائیں اے ظالم تو دونوں ہیں برے
وہ دم شمشیر تیرا یہ ہماری بے دمی
اس قیامت جلوہ سے بہتیرے ہم سے جی اٹھیں
مر گئے تو مر گئے ہم اس کی کیا ہو گی کمی
کچھ پریشانی سی ہے سنبل کی جو الجھے ہے میر
یک جہاں برہم کرے زلفوں کی اس کی درہمی
میر تقی میر

اے مری موت تو بھلی آئی

دیوان اول غزل 452
ہو گئی شہر شہر رسوائی
اے مری موت تو بھلی آئی
یک بیاباں برنگ صوت جرس
مجھ پہ ہے بیکسی و تنہائی
نہ کھنچے تجھ سے ایک جا نقاش
اس کی تصویر وہ ہے ہرجائی
سر رکھوں اس کے پائوں پر لیکن
دست قدرت یہ میں کہاں پائی
میر جب سے گیا ہے دل تب سے
میں تو کچھ ہو گیا ہوں سودائی
میر تقی میر

شاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئی

دیوان اول غزل 451
کچھ موج ہوا پیچاں اے میر نظر آئی
شاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئی
دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
مغرور بہت تھے ہم آنسو کی سرایت پر
سو صبح کے ہونے کو تاثیر نظر آئی
گل بار کرے ہے گا اسباب سفر شاید
غنچے کی طرح بلبل دلگیر نظر آئی
اس کی تو دل آزاری بے ہیچ ہی تھی یارو
کچھ تم کو ہماری بھی تقصیر نظر آئی
میر تقی میر

صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

دیوان اول غزل 450
دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی
صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی
واشد کچھ آگے آہ سے ہوتی تھی دل کے تیں
اقلیم عاشقی کی ہوا اب بگڑ گئی
گرمی نے دل کی ہجر میں اس کے جلا دیا
شاید کہ احتیاط سے یہ تب بگڑ گئی
خط نے نکل کے نقش دلوں کے اٹھا دیے
صورت بتوں کی اچھی جو تھی سب بگڑ گئی
باہم سلوک تھا تو اٹھاتے تھے نرم گرم
کاہے کو میر کوئی دبے جب بگڑ گئی
میر تقی میر

جو اپنے اچھے جی کو ایسی بلا لگائی

دیوان اول غزل 449
گیسو سے اس کے میں نے کیوں آنکھ جا لگائی
جو اپنے اچھے جی کو ایسی بلا لگائی
تھا دل جو پکا پھوڑا بسیاری الم سے
دکھتا گیا دو چنداں جوں جوں دوا لگائی
ذوق جراحت اس کا کس کو نہیں ہے لیکن
بخت اس کے جس کے ان نے تیغ جفا لگائی
دم بھی نہ لینے پایا پانی بھی پھر نہ مانگا
جس تشنہ لب کو ان نے تلوار آ لگائی
تھا صید ناتواں میں لیکن لہو سے میرے
پائوں پہ ان نے اپنے بھر کر حنا لگائی
بالعکس آج اس کے سارے سلوک دیکھے
کیا جانوں دشمنوں نے کل اس سے کیا لگائی
جو آنسو پی گیا میں آخر کو میر ان نے
چھاتی جلا جگر میں اک آگ جا لگائی
میر تقی میر

کیجیے کیا میر صاحب بندگی بے چارگی

دیوان اول غزل 448
لاعلاجی سے جو رہتی ہے مجھے آوارگی
کیجیے کیا میر صاحب بندگی بے چارگی
کیسی کیسی صحبتیں آنکھوں کے آگے سے گئیں
دیکھتے ہی دیکھتے کیا ہو گیا یکبارگی
روے گل پر روز و شب کس شوق سے رہتا ہے باز
رخنۂ دیوار ہے یا دیدئہ نظارگی
اشک خونیں آنکھ میں بھر لا کے پی جاتا ہوں میں
محتسب رکھتا ہے مجھ پر تہمت مے خوارگی
مت فریب سادگی کھا ان سیہ چشموں کا میر
ان کی آنکھوں سے ٹپکتی ہے بڑی عیارگی
میر تقی میر

کہ میری جان نے تن پر مرے گرانی کی

دیوان اول غزل 447
الم سے یاں تئیں میں مشق ناتوانی کی
کہ میری جان نے تن پر مرے گرانی کی
چمن کا نام سنا تھا ولے نہ دیکھا ہائے
جہاں میں ہم نے قفس ہی میں زندگانی کی
ملائی خوب مری خوں میں خاک بسمل گاہ
یہ تھوڑی منتیں ہیں مجھ پہ سخت جانی کی
بتنگ ہوں میں ترے اختلاط سے پیری
قسم ہے اپنی مجھے اس گئی جوانی کی
چلا ہے کھینچنے تصویر میرے بت کی آج
خدا کے واسطے صورت تو دیکھو مانی کی
تری گلی کے ہر اک سگ نے استخواں توڑے
ہماری لاش کی شب خوب پاسبانی کی
رکھے ہیں میر ترے منھ سے بے وفا خاطر
تری جفا کی تغافل کی بدگمانی کی
میر تقی میر

سر پر مرے کھڑی ہو شب شمع زور روئی

دیوان اول غزل 446
میں نے جو بیکسانہ مجلس میں جان کھوئی
سر پر مرے کھڑی ہو شب شمع زور روئی
آتی ہے شمع شب کو آگے ترے یہ کہہ کر
منھ کی گئی جو لوئی تو کیا کرے گا کوئی
بے طاقتی سے آگے کچھ پوچھتا بھی تھا سو
رونے نے ہر گھڑی کے وہ بات ہی ڈبوئی
بلبل کی بے کلی نے شب بے دماغ رکھا
سونے دیا نہ ہم کو ظالم نہ آپ سوئی
اس ظلم پیشہ کی یہ رسم قدیم ہے گی
غیروں پہ مہربانی یاروں سے کینہ جوئی
نوبت جو ہم سے گاہے آتی ہے گفتگو کی
منھ میں زباں نہیں ہے اس بد زباں کے گوئی
اس مہ کے جلوے سے کچھ تا میر یاد دیوے
اب کے گھروں میں ہم نے سب چاندنی ہے بوئی
میر تقی میر

غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی

دیوان اول غزل 445
خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی
غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی
نگاہ مست سے جب چشم نے اس کی اشارت کی
حلاوت مے کی اور بنیاد میخانے کی غارت کی
سحرگہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا
پڑے تھے باغ میں یک مشت پر اودھر اشارت کی
جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم
اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی
نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب مہ میں
گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی
نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھر اس کو کیا سوجھے
حقیقت کچھ نہ پوچھو پیرکنعاں کی بصارت کی
ترے کوچے کے شوق طوف میں جیسے بگولا تھا
بیاباں میں غبار میر کی ہم نے زیارت کی
میر تقی میر

ہے سزا تجھ پہ یہ گستاخ نظر کرنے کی

دیوان اول غزل 444
فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کی
ہے سزا تجھ پہ یہ گستاخ نظر کرنے کی
کہہ حدیث آنے کی اس کے جو کیا شادی مرگ
نامہ بر کیا چلی تھی ہم کو خبر کرنے کی
کیا جلی جاتی ہے خوبی ہی میں اپنی اے شمع
کہہ پتنگے کے بھی کچھ شام و سحر کرنے کی
اب کے برسات ہی کے ذمے تھا عالم کا وبال
میں تو کھائی تھی قسم چشم کے تر کرنے کی
پھول کچھ لیتے نہ نکلے تھے دل صد پارہ
طرز سیکھی ہے مرے ٹکڑے جگر کرنے کی
ان دنوں نکلے ہے آغشتہ بہ خوں راتوں کو
دھن ہے نالے کو کسو دل میں اثر کرنے کی
عشق میں تیرے گذرتی نہیں بن سر پٹکے
صورت اک یہ رہی ہے عمر بسر کرنے کی
کاروانی ہے جہاں عمر عزیز اپنی میر
رہ ہے درپیش سدا اس کو سفر کرنے کی
میر تقی میر

نگاہ چشم ادھر تونے کی قیامت کی

دیوان اول غزل 443
خبر نہ تھی تجھے کیا میرے دل کی طاقت کی
نگاہ چشم ادھر تونے کی قیامت کی
انھوں میں جوکہ ترے محو سجدہ رہتے ہیں
نہیں ہے قدر ہزاروں برس کی طاعت کی
اٹھائی ننگ سمجھ تم نے بات کے کہتے
وفا و مہر جو تھی رسم ایک مدت کی
رکھیں امید رہائی اسیر کاکل و زلف
مری تو باتیں ہیں زنجیر صرف الفت کی
رہے ہے کوئی خرابات چھوڑ مسجد میں
ہوا منائی اگر شیخ نے کرامت کی
سوال میں نے جو انجام زندگی سے کیا
قد خمیدہ نے سوے زمیں اشارت کی
نہ میری قدر کی اس سنگ دل نے میر کبھو
ہزار حیف کہ پتھر سے میں محبت کی
میر تقی میر

یوں پھونک کرکے خاک مری سب اڑا گئی

دیوان اول غزل 442
کیسے قدم سے اس کی گلی میں صبا گئی
یوں پھونک کرکے خاک مری سب اڑا گئی
کچھ تھی طپش جگر کی تو بارے مزاج داں
پر دل کی بے قراری مری جان کھا گئی
کس پاس جا کے بیٹھوں خرابے میں اب میں ہائے
مجنوں کو موت کیسی شتابی سے آگئی
کون اس ہوا میں زخمی نہیں میری آہ کا
بجلی رہی تھی سو بھی تو سینہ دکھا گئی
سودا جو اس کے سر سے گیا زلف یار کا
تو تو بڑی ہی میر کے سر سے بلا گئی
میر تقی میر

جلے دھوپ میں یاں تلک ہم کہ تب کی

دیوان اول غزل 441
گئی چھائوں اس تیغ کی سر سے جب کی
جلے دھوپ میں یاں تلک ہم کہ تب کی
پڑی خرمن گل پہ بجلی سی آخر
مرے خوش نگہ کی نگاہ اک غضب کی
کوئی بات نکلے ہے دشوار منھ سے
ٹک اک تو بھی تو سن کسی جاں بلب کی
تو شملہ جو رکھتا ہے خر ہے وگرنہ
ضرورت ہے کیا شیخ دم اک وجب کی
یکایک بھی آ سر پہ واماندگاں کے
بہت دیکھتے ہیں تری راہ کب کی
دماغ و جگر دل مخالف ہوئے ہیں
ہوئی متفق اب ادھر رائے سب کی
تجھے کیونکے ڈھونڈوں کہ سوتے ہی گذری
تری راہ میں اپنے پاے طلب کی
دل عرش سے گذرے ہے ضعف میں بھی
یہ زور آوری دیکھو زاری شب کی
عجب کچھ ہے گر میر آوے میسر
گلابی شراب اور غزل اپنے ڈھب کی
میر تقی میر

ہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھی

دیوان اول غزل 440
یکسو کشادہ روئی پرچیں نہیں جبیں بھی
ہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھی
آنسو تو تیرے دامن پونچھے ہے وقت گریہ
ہم نے نہ رکھی منھ پر اے ابر آستیں بھی
کرتا نہیں عبث تو پارہ گلو فغاں سے
گذرے ہے پار دل کے اک نالۂ حزیں بھی
ہوں احتضار میں میں آئینہ رو شتاب آ
جاتا ہے ورنہ غافل پھر دم تو واپسیں بھی
سینے سے تیر اس کا جی کو تو لیتا نکلا
پر ساتھوں ساتھ اس کے نکلی اک آفریں بھی
ہر شب تری گلی میں عالم کی جان جا ہے
آگے ہوا ہے اب تک ایسا ستم کہیں بھی
شوخی جلوہ اس کی تسکین کیونکے بخشے
آئینوں میں دلوں کے جو ہے بھی پھر نہیں بھی
گیسو ہی کچھ نہیں ہے سنبل کی آفت اس کا
ہیں برق خرمن گل رخسار آتشیں بھی
تکلیف نالہ مت کر اے درد دل کہ ہوں گے
رنجیدہ راہ چلتے آزردہ ہم نشیں بھی
کس کس کا داغ دیکھیں یارب غم بتاں میں
رخصت طلب ہے جاں بھی ایمان اور دیں بھی
زیر فلک جہاں ٹک آسودہ میر ہوتے
ایسا نظر نہ آیا اک قطعۂ زمیں بھی
میر تقی میر

طرح اس میں مجنوں کی سب پا گئی

دیوان اول غزل 439
ہمیں آمد میر کل بھا گئی
طرح اس میں مجنوں کی سب پا گئی
کہاں کا غبار آہ دل میں یہ تھا
مری خاک بدلی سی سب چھا گئی
کیا پاس بلبل خزاں نے نہ کچھ
گل و برگ بے درد پھیلا گئی
ہوئی سامنے یوں تو ایک ایک کے
ہمیں سے وہ کچھ آنکھ شرما گئی
جگر منھ تک آتے نہیں بولتے
غرض ہم بھی کرتے ہیں کیا کیا گئی
نہ ہم رہ کوئی ناکسی سے گیا
مری لاش تا گور تنہا گئی
گھٹا شمع ساں کیوں نہ جائوں چلا
تب غم جگر کو مرے کھا گئی
کوئی رہنے والی ہے جان عزیز
گئی گر نہ امروز فردا گئی
کیے دست و پا گم جو میر آگیا
وفا پیشہ مجلس اسے پا گئی
میر تقی میر

آخر کو گرو رکھا سجادئہ محرابی

دیوان اول غزل 438
کل میر نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابی
آخر کو گرو رکھا سجادئہ محرابی
جاگا ہے کہیں وہ بھی شب مرتکب مے ہو
یہ بات سجھاتی ہے ان آنکھوں کی بے خوابی
کیا شہر میں گنجائش مجھ بے سر و پا کو ہو
اب بڑھ گئے ہیں میرے اسباب کم اسبابی
دن رات مری چھاتی جلتی ہے محبت میں
کیا اور نہ تھی جاگہ یہ آگ جو یاں دابی
سو ملک پھرا لیکن پائی نہ وفا اک جا
جی کھا گئی ہے میرا اس جنس کی نایابی
خوں بستہ نہ کیوں پلکیں ہر لحظہ رہیں میری
جاتے نہیں آنکھوں سے لب یار کے عنابی
جنگل ہی ہرے تنہا رونے سے نہیں میرے
کوہوں کی کمر تک بھی جا پہنچی ہے سیرابی
تھے ماہ وشاں کل جو ان کوٹھوں پہ جلوے میں
ہے خاک سے آج ان کی ہر صحن میں مہتابی
کل میر جو یاں آیا طور اس کا بہت بھایا
وہ خشک لبی تس پر جامہ گلے میں آبی
میر تقی میر

بلکہ دی جان اور آہ نہ کی

دیوان اول غزل 437
بات شکوے کی ہم نے گاہ نہ کی
بلکہ دی جان اور آہ نہ کی
گل و آئینہ ماہ و خور کن نے
چشم اس چہرے پر سیاہ نہ کی
کعبے سو بار وہ گیا تو کیا
جس نے یاں ایک دل میں راہ نہ کی
واہ اے عشق اس ستمگر نے
جاں فشانی پہ میری واہ نہ کی
جس سے تھی چشم ہم کو کیا کیا میر
اس طرف ان نے اک نگاہ نہ کی
میر تقی میر