زمرہ جات کے محفوظات: دستِ صبا

سب کچھ نثارِ راہِ وفا کر چکے ہیں ہم

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 41
قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم
سب کچھ نثارِ راہِ وفا کر چکے ہیں ہم
کچھ امتحانِ دستِ جفا کر چکے ہیں ہم
کچھ اُن کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم
اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی
قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم
دیکھیں ہے کون کون، ضرورت نہیں رہی
کوئے ستم میں سب کو خفا کر چکے ہیں ہم
اب اپنا اختیار ہے چاہیں جہاں چلیں
رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم
ان کی نظر میں، کیا کریں پھیکا ہے اب بھی رنگ
جتنا لہو تھا صرفِ قبا کر چکے ہیں ہم
کچھ اپنے دل کی خو کا بھی شکرانہ چاہیے
سو بار اُن کی خُو کا گِلا کر چکے ہیں ہم
فیض احمد فیض

جب چاہا کر لیا ہے کنجِ قفس بہاراں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 40
یادِ غزال چشماں، ذکرِ سمن عذاراں
جب چاہا کر لیا ہے کنجِ قفس بہاراں
آنکھوں میں درد مندی، ہونٹوں پہ عذر خواہی
جانانہ وارآئی شامِ فراقِ یاراں
ناموسِ جان و دل کی بازی لگی تھی ورنہ
آساں نہ تھی کچھ ایسی راہِ وفا شعاراں
مجرم ہو خواہ کوئی، رہتا ہے ناصحوں کا
روئے سخن ہمیشہ سوئے جگر فگاراں
ہے اب بھی وقت زاہد، ترمیمِ زہد کر لے
سوئے حرم چلا ہے انبوہِ بادہ خواراں
شاید قریب پہنچی صبحِ وصال ہمدم
موجِ صبا لیے ہے خوشبوئے خوش کناراں
ہے اپنی کشتِ ویراں، سرسبز اس یقیں سے
آئیں گے اس طرف بھی اک روز ابرو باراں
آئے گی فیض اک دن بادِ بہار لے کر
تسلیمِ مے فروشاں، پیغامِ مے گساراں
فیض احمد فیض

یاد

دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں، لرزاں ہیں

تیری آواز کے سائے، ترے ہونٹوں کے سراب

دشتِ تنہائی میں، دوری کے خس و خاک تلے

کھل رہے ہیں، ترے پہلو کے سمن اور گلاب

اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ

اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدہم مدہم

دورافق پار چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ

گر رہی ہے تری دلدار نظر کی شبنم

اس قدر پیار سے، اے جانِ جہاں، رکھا ہے

دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہات

یوں گماں ہوتا ہے، گرچہ ہے ابھی صبح فراق

ڈھل گیا ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات

فیض احمد فیض

زنداں کی ایک صبح

رات باقی تھی ابھی جب سرِ بالیں آکر

چاند نے مجھ سے کہا۔۔۔“جاگ سحر آئی ہے

جاگ اس شب جو مئے خواب ترا حصہ تھی

جام کے لب سے تہ جام اتر آئی ہے“

عکسِ جاناں کو ودع کرکے اُٹھی میری نظر

شب کے ٹھہرے ہوئے پانی کی سیہ چادر پر

جابجا رقص میں آنے لگے چاندی کے بھنور

چاند کے ہاتھ سے تاروں کے کنول گر گر کر

ڈوبتے، تیرتے، مرجھاتے رہے، کھلتے رہے

رات اور صبح بہت دیر گلے ملتے رہے

صحنِ زنداں میں رفیقوں کے سنہرے چہرے

سطحِ ظلمت سے دمکتے ہوئے ابھرے کم کم

نیند کی اوس نے ان چہروں سے دھو ڈالا تھا

دیس کا درد، فراقِ رخِ محبوب کا غم

دور نوبت ہوئی، پھرنے لگے بیزار قدم

زرد فاقوں کے ستائے ہوئے پہرے والے

اہلِ زنداں کے غضبناک ، خروشاں نالے

جن کی باہوں میں پھرا کرتے ہیں باہیں ڈالے

لذتِ خواب سے مخمور ہوائیں جاگیں

جیل کی زہر بھری چور صدائیں جاگیں

دور دروازہ کھلا کوئی، کوئی بند ہوا

دور مچلی کوئی زنجیر ، مچل کر روئی

دور اُترا کسی تالے کے جگر میں خنجر

سر پٹکنے لگا رہ رہ کے دریچہ کوئی

گویا پھر خواب سے بیدار ہوئے دشمنِ جاں

سنگ و فولاد سے ڈھالے ہوئے جناتِ گراں

جن کے چنگل میں شب و روز ہیں فریاد کناں

میرے بیکار شب و روز کی نازک پریاں

اپنے شہپور کی رہ دیکھ رہی ہیں یہ اسیر

جس کے ترکش میں ہیں امید کے جلتے ہوئے تیر

(ناتمام)

فیض احمد فیض

زنداں کی ایک شام

شام کے پیچ و خم ستاروں سے

زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات

یوں صبا پاس سے گزرتی ہے

جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات

صحنِ زنداں کے بے وطن اشجار

سرنگوں ،محو ہیں بنائے میں

دامنِ آسماں پہ نقش و نگار

شانہء بام پر دمکتا ہے!

مہرباں چاندنی کا دستِ جمیل

خاک میں گھل گئی ہے آبِ نجوم

نور میں گھل گیا ہے عرش کا نیل

سبز گوشوں میں نیلگوں سائے

لہلہاتے ہیں جس طرح دل میں

موجِ دردِ فراقِ یار آئے

دل سے پیہم خیال کہتا ہے

اتنی شیریں ہے زندگی اس پل

ظلم کا زہر گھولنے والے

کامراں ہو سکیں گے آج نہ کل

جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں

وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا

چاند کو گل کریں تو ہم جانیں

فیض احمد فیض

آشنا شکل ہر حسیں کی ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 36
تیری صورت جو دلنشیں کی ہے
آشنا شکل ہر حسیں کی ہے
حسن سے دل لگا کے ہستی کی
ہرگھڑی ہم نے آتشیں کی ہے
صبحِ گل ہو کہ شامِ مے خانہ
مدح اس روئے نازنیں کی ہے
شیخ سے بے ہراس ملتے ہیں
ہم نے توبہ ابھی نہیں کی ہے
ذکر دوزخ، بیانِ حور و قصور
بات گویا یہیں کہیں کی ہے
اشک تو کچھ بھی رنگ لا نہ سکے
خوں سے تر آج آستیں کی ہے
کیسے مانیں حرم کے سہل پسند
رسم جو عاشقوں کے دیں کی ہے
فیض اوجِ خیال سے ہم نے
آسماں سندھ کی زمیں کی ہے
فیض احمد فیض

پھر آج کوئے بتاں کا ارادہ رکھتے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 35
کسی گماں پہ توقع زیادہ رکھتے ہیں
پھر آج کوئے بتاں کا ارادہ رکھتے ہیں
بہار آئے گی جب آئے گی، یہ شرط نہیں
کہ تشنہ کام رہیں گرچہ بادہ رکھتے ہیں
تری نظر کا گلہ کیا؟ جو ہے گلہ دل کا
تو ہم سے ہے، کہ تمنا زیادہ رکھتے ہیں
نہیں شراب سے رنگیں تو غرقِ خوں ہیں کہ ہم
خیالِ وضعِ قمیص و لبادہ رکھتے ہیں
غمِ جہاں ہو، غمِ یار ہو کہ تیر ستم
جو آئے، آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں
جوابِ واعظِ چابک زباں میں فیض ہمیں
یہی بہت ہیں جو دو حرفِ سادہ رکھتے ہیں
نذرِ غالب
فیض احمد فیض

اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 34
آئے کچھ ابر، کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
بامِ مینا سے ماہتاب اُترے
دستِ ساقی میں، آفتاب آئے
ہر رگِ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے
عمر کے ہر ورق پہ دل کو نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے
جل اُٹھے بزم غیر کے دروبام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے
اس طرح اپنی خامشی گونجی
گویا ہر سمت سے جواب آئے
فیض تھی راہ سربسر منزل
ہم جہاں پہنچے، کامیاب آئے
فیض احمد فیض

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

موتی ہو کہ شیشہ، جام کہ دُر

جو ٹوٹ گیا، سو ٹوٹ گیا

کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے

جو ٹوٹ گیا ، سو چھوٹ گیا

تم ناحق ٹکڑے چن چن کر

دامن میں چھپائے بیٹھے ہو

شیشوں کامسیحا کوئی نہیں

کیا آس لگائے بیٹھے ہو

شاید کہ انہی ٹکڑوں میں کہیں

وہ ساغرِ دل ہے جس میں کبھی

صد ناز سے اُترا کرتی تھی

صہبائے غمِ جاناں کی پری

پھر دنیا والوں نے تم سے

یہ ساغر لے کر پھوڑ دیا

جو مے تھی بہادی مٹی میں

مہمان کا شہپر توڑ دیا

یہ رنگیں ریزے ہیں شاید

اُن شوخ بلوریں سپنوں کے

تم مست جوانی میں جن سے

خلوت کو سجایا کرتے تھے

ناداری، دفتر، بھوک اور غم

ان سپنوں سے ٹکراتے رہے

بے رحم تھا چومکھ پتھراو

یہ کانچ کے ڈھانچے کیا کرتے

یا شاید ان ذروں میں کہیں

موتی ہے تمہاری عزت کا

وہ جس سے تمہارے عجز پہ بھی

شمشاد قدوں نے رشک کیا

اس مال کی دھن میں پھرتے تھے

تاجر بھی بہت، رہزن بھی کئی

ہے چورنگر، یاں مفلس کی

گرجان بچی تو آن گئی

یہ ساغر، شیشے، لعل و گہر

سالم ہوں تو قیمت پاتے ہیں

یوں ٹکڑے ٹکڑے ہوں، تو فقط

چبھتے ہیں، لہو رُلواتے ہیں

تم ناحق شیشے چن چن کر!

دامن میں چھپائے بیٹھے ہو

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

کیا آس لگائے بیٹھے ہو

یادوں کے گریبانوں کے رفو

پر دل کی گزر کب ہوتی ہے

اک بخیہ اُدھیڑا، ایک سیا

یوں عمر بسر کب ہوتی ہے

اس کارگہِ ہستی میں جہاں

یہ ساغر، شیشے ڈھلتے ہیں

ہر شے کا بدل مل سکتا ہے

سب دامن پُر ہو سکتے ہیں

جو ہاتھ بڑھے ، یاور ہے یہاں

جو آنکھ اُٹھے، وہ بختاور

یاں دھن دولت کا انت نہیں

ہوں گھات میں ڈاکو لاکھ ، مگر

کب لوٹ چھپٹ سے ہستی کی

دوکانیں خالی ہوتی ہیں

یا پربت پربت ہیرے ہیں

یاں ساگر ساگر موتی ہیں

کچھ لوگ ہیں جو اس دولت پر

پردے لٹکائے پھرتے ہیں

ہر پربت کو، ہر ساگر کو

نیلام چڑھاتے پھرتے ہیں

کچھ وہ بھی ہیں جو لڑ بھِڑ کر

یہ پردے نوچ گراتے ہیں

ہستی کے اُٹھائی گیروں کی

ہر چال اُلجھائے جاتے ہیں

ان دونوں میں رَن پڑتا ہے

نِت بستی بستی نگر نگر

ہر بستے گھر کے سینے میں

ہر چلتی راہ کے ماتھے پر

یہ کالک بھرتے پھرتے ہیں

وہ جوت جگاتے رہتے ہیں

یہ آگ لگاتے پھرتے ہیں

وہ آگ بجھاتے رہتے ہیں

سب ساغر، شیشے، لعل و گوہر

اس بازی میں بَد جاتے ہیں

اُٹھو سب خالی ہاتھوں کو

اِس رَن سے بلاوے آتے ہیں

فیض احمد فیض

جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 32
اب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے
آج تک شیخ کے اکرام میں جو شے تھی حرام
اب وہی دشمنِ دیں ، راحتِ جاں ٹھہری ہے
ہے خبر گرم کہ پھرتا ہے گریزاں ناصح
گفتگو آج سرِ کوئے بتاں ٹھہری ہے
ہے وہی عارضِ لیلیٰ ، وہی شیریں کا دہن
نگہِ شوق گھڑی بھر کو جہاں ٹھہری ہے
وصل کی شب تھی تو کس درجہ سبک گزری تھی
ہجر کی شب ہے تو کیا سخت گراں ٹھہری ہے
بکھری اک بار تو ہاتھ آئی ہے کب موجِ شمیم
دل سے نکلی ہے تو کب لب پہ فغاں ٹھہری ہے
دستِ صیاد بھی عاجز ، ہے کفِ گلچیں بھی
بوئے گل ٹھہری نہ بلبل کی زباں ٹھہری ہے
آتے آتے یونہی دم بھر کو رکی ہو گی بہار
جاتے جاتے یونہی پل بھر کو خزاں ٹھہری ہے
ہم نے جو طرزِ فغاں کی ہے قفس میں ایجاد
فیض گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹھہری ہے
فیض احمد فیض

نثار میں تیری گلیوں کے

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے

جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے

نظر چُرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے

ہے اہلِ دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد

؎۱ کہ سنگ و خشت مقیّد ہیں اور سگ آزاد

بہت ہے ظلم کہ دستِ بہانہ جُو کے لیے

جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں

بنے ہیں اہلِ ہوس، مدعی بھی منصف بھی

کسیے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں

ترے فراق میں یوں صبح و شام کرتے ہیں

بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے

کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہو گی

چمک اُٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے

کہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہو گی

غرض تصورِ شام و سحر میں جیتے ہیں

گرفتِ سایہء دیوار و در میں جیتے ہیں

یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق

نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی

یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول

نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی

اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے

ترے فراق میں ہم دل بُرا نہیں کرتے

گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے

یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں

گر آج اَوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا

یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں

جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں

علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں

؎۱ سنگ ہارا بستند و سگاں را کشادند (شیخ سعدی)

فیض احمد فیض

اگست 1952ء

روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں

گلشن میں چاک چند گریباں ہوئے تو ہیں

اب بھی خزاں کا راج ہے لیکن کہیں کہیں

گوشے رہِ چمن میں غزلخواں ہوے تو ہیں

ٹھہری ہوئی ہے شب کی سیاہی وہیں مگر

کچھ کچھ سحر کے رنگ پَر افشاں ہوے تو ہیں

ان میں لہو جلا ہو ہمارا، کہ جان و دل

محفل میں کچھ چراغ فروزاں ہوئے تو ہیں

ہاں کج کرو کلاہ کہ سب کچھ لٹا کے ہم

اب بے نیازِ گردشِ دوراں ہوئے تو ہیں

اہلِ قفس کی صبحِ چمن میں کھلے گی آنکھ

بادِ صبا سے وعدہ و پیماں ہوئے تو ہیں

ہے دشت اب بھی دشت، مگر خونِ پا سے فیض

سیراب چند خارِ مغیلاں ہوئے تو ہیں

فیض احمد فیض

جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 29
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں
ایک اک کرکے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن
میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں
رقصِ مے تیز کرو، ساز کی لے تیز کرو
سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آتے ہیں
کچھ ہمیں کو نہیں احسان اُٹھانے کا دماغ
وہ تو جب آتے ہیں، مائل بہ کرم آتے ہیں
اور کچھ دیر نہ گزرے شبِ فرقت سے کہو
دل بھی کم دکھتا ہے، وہ یاد بھی کم آتے ہیں
فیض احمد فیض

ایرانی طلبا کے نام

جو امن اور آزادی کی جدوجہد میں کام آئے

یہ کون سخی ہیں

جن کے لہوکی

اشرفیاں، چھن چھن، چھن چھن،

دھرتی کے پیہم پیاسے

کشکول میں ڈھلتی جاتی ہیں

کشکول کو بھرتی ہیں

یہ کون جواں ہیں ارضِ عجم

یہ لکھ لُٹ

جن کے جسموں کی

بھرپور جوانی کا کندن

یوں خاک میں ریزہ ریزہ ہے

یوں کوچہ کوچہ بکھرا ہے

اے ارضِ عجم، اے ارضِ عجم

کیوں نوچ کے ہنس ہنس پھینک دئے

ان آنکھوں نے اپنے نیلم

ان ہونٹوں نے اپنے مرجاں

ان ہاتوں کی“ بے کل چاندی

کس کام آئی، کس ہاتھ لگی؟“

“اے پوچھنے والے پردیسی!

یہ طفل و جواں

اُس نور کے نورس موتی ہیں

اُس آگ کی کچی کلیاں ہیں

جس میٹھے نور اور کڑوی آگ

سے ظلم کی اندھی رات میں پھوٹا

صبحِ بغاوت کا گلشن

اور صبح ہوئی من من، تن تن

ان جسموں کا چاندی سونا

ان چہروں کے نیلم، مرجاں،

جگ مگ جگ مگ، رُخشاں رُخشاں

جو دیکھنا چاہے پردیسی

پاس آئے دیکھے جی بھر کر

یہ زیست کی رانی کا جھومر

یہ امن کی دیوی کا کنگن!“

فیض احمد فیض

نوحہ

مجھ کو شکوہ ہے مرے بھائی کہ تم جانتے ہوئے

لے گئے ساتھ مری عمرِ گزشتہ کی کتاب

اس میں تو میری بہت قیمتی تصویریں تھیں

اس میں بچپن تھا مرا، اور مرا عہدِ شباب

اس کے بدلے مجھے تم دے گئے جاتے جاتے

اپنے غم کا یہ دمکتا ہوا خوں رنگ گلاب

کیا کروں بھائی ، یہ اعزاز میں کیونکر پہنوں

مجھ سے لے لو مری سب چاک قمیصوں کا حساب

آخری بار ہے، لو مان لو اک یہ بھی سوال

آج تک تم سے میں لوٹا نہیں مایوسِ جواب

آکے لے جاو تم اپنا یہ دمکتا ہوا پھول

مجھ کو لوٹا دو مری عمرِ گزشتہ کی کتاب

فیض احمد فیض

موسمِ گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 26
رنگ پیرہن کا خوشبو ، زلف لہرانے کا نام
موسمِ گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام
دوستو ، اُس چشم و لب کی کچھ کہو جس کے بغیر
گلستاں کی بات رنگیں ہے، نہ میخانے کا نام
پھر نظر میں پھول مہکے، دل میں پھر شمعیں جلیں
پھر تصور نے لیا اُس بزم میں جانے کا نام
دلبری ٹھہرا زبانِ خلق کھلوانے کا نام
اب نہیں لیتے پری رُو زلف بکھرانے کا نام
اب کسی لیلیٰ کو بھی اقرارِ محبوبی نہیں
ان دنوں بدنام ہے ہر ایک دیوانے کا نام
محتسب کی خیر، اونچا ہے اسی کے فیض سے
رند کا ، ساقی کا، مے کا، خُم کا ،پیمانے کانام
ہم سے کہتے ہیں چمن والے، غریبانِ چمن
تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام
فیض اُن کو ہے تقاضائے وفا ہم سے جنہیں
آشنا کے نام سے پیارا ہے بیگانے کا نام
فیض احمد فیض

وہ اِک خلش کہ جسے تیرا نام کہتے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 25
وہیں ہے دل کے قرائن تمام کہتے ہیں
وہ اِک خلش کہ جسے تیرا نام کہتے ہیں
تم آرہے ہو کہ بجتی ہیں میری زنجیریں
نہ جانے کیا مرے دیوار و بام کہتے ہیں
یہی کنارِ فلک کا سیہ تریں گوشہ
یہی ہے مطلعِ ماہِ تمام کہتے ہیں
پیو کہ مفت لگا دی ہے خونِ دل کی کشید
گراں ہے اب کے مئے لالہ فام کہتے ہیں
فقیہہِ شہر سے مے کا جواز کیا پوچھیں
کہ چاندنی کو بھی حضرت حرام کہتے ہیں
نوائے مرغ کو کہتے ہیں اب زیانِ چمن
کھلے نہ پھول ، اسے انتظام کہتے ہیں
کہو تو ہم بھی چلیں فیض، اب نہیں سِردار
وہ فرقِ مرتبہء خاص و عام ، کہتے ہیں
فیض احمد فیض

علاجِ درد ترے درد مند کیا کرتے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 24
گرانیِ شبِ ہجراں دو چند کیا کرتے
علاجِ درد ترے درد مند کیا کرتے
وہیں لگی ہے جو نازک مقام تھے دل کے
یہ فرق دستِ عدو کے گزند کیا کرتے
جگہ جگہ پہ تھے ناصح تو کُو بکُو دلبر
اِنہیں پسند، اُنہیں ناپسند کیا کرتے
ہمیں نے روک لیا پنجہء جنوں ورنہ
ہمیں اسیر یہ کوتہ کمند کیا کرتے
جنہیں خبر تھی کہ شرطِ نواگری کیا ہے
وہ خوش نوا گلہء قید و بند کیا کرتے
گلوئے عشق کو دار و رسن پہنچ نہ سکے
تو لوٹ آئے ترے سر بلند ، کیا کرتے !
فیض احمد فیض

دو عشق

۔ ١ ۔

تازہ ہیں ابھی یاد میں اے ساقیِ گلفام

وہ عکسِ رخِ یار سے لہکے ہوئے ایام

وہ پھول سی کھلتی ہوئی دیدار کی ساعت

وہ دل سا دھڑکتا ہوا امید کا ہنگام

امید کہ لو جاگا غمِ دل کا نصیبہ

لو شوق کی ترسی ہوئی شب ہو گئی آخر

لو ڈوب گئے درد کے بے خواب ستارے

اب چمکے گا بے صبر نگاہوں کا مقدر

اس بام سے نکلے گا ترے حسن کا خورشید

اُس کنج سے پھوٹے گی کرن رنگِ حنا کی

اس در سے بہے گا تری رفتار کا سیماب

اُس راہ پہ پھولے گی شفق تیری قبا کی

پھر دیکھے ہیں وہ ہجر کے تپتے ہوئے دن بھی

جب فکرِ دل و جاں میں فغاں بھول گئی ہے

ہر شب وہ سیہ بوجھ کہ دل بیٹھ گیا ہے

ہر صبح کی لو تیر سی سینے میں لگی ہے

تنہائی میں کیا کیا نہ تجھے یاد کیا ہے

کیا کیا نہ دلِ زار نے ڈھونڈی ہیں پناہیں

آنکھوں سے لگایا ہے کبھی دستِ صبا کو

ڈالی ہیں کبھی گردنِ مہتاب میں باہیں

۔ ٢ ۔

چاہا ہے اسی رنگ سے لیلائے وطن کو

تڑپا ہے اسی طور سے دل اس کی لگن میں

ڈھونڈی ہے یونہی شوق نے آسائشِ منزل

رخسار کے خم میں کبھی کاکل کی شکن میں

اُس جانِ جہاں کو بھی یونہی قلب و نظر نے

ہنس ہنس کے صدا دی، کبھی رو رو کے پکارا

پورے کیے سب حرفِ تمنا کے تقاضے

ہر درد کو اجیالا، ہر اک غم کو سنوارا

واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا

تنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جرس کی

خیریتِ جاں، راحتِ تن، صحتِ داماں

سب بھول گئیں مصلحتیں اہلِ ہوس کی

اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری

تنہا پسِ زنداں، کبھی رسوا سرِ بازار

گرجے ہیں بہت شیخ سرِ گوشہء منبر

کڑکے ہیں بہت اہلِ حکم برسرِ دربار

چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوکِ دشنام

چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت

اس عشق، نہ اُس عشق پہ نادم ہے مگر دل

ہر داغ ہے اس دل میں بجز داغِ ندامت

فیض احمد فیض

ذکرِ مرغانِ گرفتار کروں یا نہ کروں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 22
فکر دلداریء گلزار کروں یا نہ کروں
ذکرِ مرغانِ گرفتار کروں یا نہ کروں
قصہء سازشِ اغیار کہوں یانہ کہوں
شکوہء یارِ طرحدار کروں یا نہ کروں
جانے کیا وضع ہے اب رسمِ وفا کی اے دل
وضعِ دیرینہ پہ اصرار کروں یا نہ کروں
جانے کس رنگ میں تفسیر کریں اہلِ ہوس
مدحِ زلف و لب و رخسار کروں یا نہ کروں
یوں بہار آئی ہے امسال کہ گلشن میں صبا
پوچھتی ہے گزر اس بار کروں یا نہ کروں
گویا اس سوچ میں ہے دل میں لہو بھر کے گلاب
دامن و جیب کو گلنار کروں یا نہ کروں
ہے فقط مرغِ غزلخواں کہ جسے فکر نہیں
معتدل گرمیء گفتار کروں یا نہ کروں
نذرِ سودا
فیض احمد فیض

عشق کے دم قدم کی بات کرو

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
عجزِ اہل ستم کی بات کرو
عشق کے دم قدم کی بات کرو
بزمِ اہل طرب کو شرماو
بزمِ اصحابِ غم کی بات کرو
بزمِ ثروت کے خوش نشینوں سے
عظمتِ چشمِ نم کی بات کرو
ہے وہی بات یوں بھی اور یوں بھی
تم ستم یا کرم کی بات کرو
خیر، ہیں اہلِ دیر جیسے ہیں
آپ اہل حرم کی بات کرو
ہجر کی شب تو کٹ ہی جائے گی
روزِ وصلِ صنم کی بات کرو
جان جائیں گے جاننے والے
فیض، فرہاد و جم کی بات کرو
فیض احمد فیض

ترانہ

دربارِ وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گے

کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے ، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے

اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے

جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے

اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں

جو دریا جھوم کے اُٹھے ہیں، تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں، سر بھی بہت

چلتے بھی چلو، کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے

اے ظلم کے ماتو لب کھولو، چپ رہنے والو چپ کب تک

کچھ حشر تو ان سے اُٹھے گا۔ کچھ دور تو نالے جائیں گے

فیض احمد فیض

۔۔۔۔۔۔تمہارے حسن کے نام

سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام

بکھر گیا جو کبھی رنگِ پیرہن سرِ بام

نکھر گئی ہے کبھی صبح، دوپہر ، کبھی شام

کہیں جو قامت زیبا پہ سج گئی ہے قبا

چمن میں سرو و صنوبر سنور گئے ہیں تمام

بنی بساطِ غزل جب ڈبو لیے دل نے

تمہارے سایہء رخسار و لب میں ساغر و جام

سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام

تمہارے ہاتھ پہ ہے تابشِ حنا جب تک

جہاں میں باقی ہے دلداریء عروسِ سخن

تمہارا حسن جواں ہے تو مہرباں ہے فلک

تمہارا دم ہے تو دمساز ہے ہوائے وطن

اگر چہ تنگ ہیں اوقات ، سخت ہیں آلام

تمہاری یاد سے شریں ہے تلخیء ایام

سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام

فیض احمد فیض

شبِ فراق کے گیسو فضا میں لہرائے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 18
شفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارہء شام
شبِ فراق کے گیسو فضا میں لہرائے
کوئی پکارو کہ اک عمر ہونے آئی ہے
فلک کو قافلہء روز و شام ٹھہرائے
یہ ضد ہے یادِ حریفانِ بادہ پیما کی
کہ شب کو چاند نہ نکلے، نہ دن کو ابر آئے
صبا نے پھر درِ زنداں پہ آکے دی دستک
سحر قریب ہے، دل سے کہو نہ گھبرائے
فیض احمد فیض

عبائے شیخ و قبائے امیر و تاج شہی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 17
ہمارے دم سے ہے کوئے جنوں میں اب بھی خجل
عبائے شیخ و قبائے امیر و تاج شہی
ہمیں سے سنتِ منصور و قیس زندہ ہے
ہمیں سے باقی ہے گل دامنی و کجکلہی
فیض احمد فیض

کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 16
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
حدیثِ یار کے عنواں نکھرنے لگتے ہیں
تو ہر حریم میں گیسو سنورنے لگتے ہیں
ہر اجنبی ہمیں محرم دکھائی دیتا ہے
جو اب بھی تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں
صبا سے کرتے ہیں غربت نصیب ذکرِ وطن
تو چشمِ صبح میں آنسو اُبھرنے لگتے ہیں
وہ جب بھی کرتے ہیں اس نطق و لب کی بخیہ گری
فضا میں اور بھی نغمے بکھرنے لگتے ہیں
درِ قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتی ہے
تو فیض دل میں ستارے اترنے لگتے ہیں
فیض احمد فیض

تلاش میں ہے سحر، بار بار گزری ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 15
تم آئے ہو، نہ شبِ انتظار گزری ہے
تلاش میں ہے سحر، بار بار گزری ہے
جنوں میں جتنی بھی گزری، بکار گزری ہے
اگرچہ دل پہ خرابی ہزار گزری ہے
ہوئی ہے حضرتِ ناصح سے گفتگو جس شب
وہ شب ضرور سرِ کوئے یار گزری ہے
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے
نہ گل کھلے ہیں، نہ اُن سے ملے، نہ مے پی ہے
عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے
چمن میں غارتِ گلچیں سے جانے کیا گزری
قفس سے آج صبا بے قرار گزری ہے
فیض احمد فیض

سرِ مقتل

کہاں ہے منزلِ راہِ تمنا ہم بھی دیکھیں گے

یہ شب ہم پر بھی گزرے گی، یہ فردا ہم بھی دیکھیں گے

ٹھہر اے دل، جمالِ روئے زیبا ہم بھی دیکھیں گے

ذرا صیقل تو ہولے تشنگی بادہ گساروں کی

دبا رکھیں گے کب تک جوشِ صہبا ہم بھی دیکھیں گے

اٹھا رکھیں گے کب تک جام و مینا ہم بھی دیکھیں گے

صلا آتو چکے محفل میں اُس کوئے ملامت سے

کسے روکے گا شورِ پندِ بے جا ہم بھی دیکھیں گے

کسے ہے جاکے لوٹ آنے کا یارا ہم بھی دیکھیں گے

چلے ہیں جان و ایماں آزمانےآج دل والے

وہ لائیں لشکرِ اغیار و اعدا ہم بھی دیکھیں گے

وہ آئیں تو سرِ مقتل،تماشا ہم بھی دیکھیں گے

یہ شب کی آخری ساعت گراں کیسی بھی ہو ہمدم

جو اس ساعت میں پنہاں ہے اجالا ہم بھی دیکھیں گے

جو فرقِ صبح پر چمکے گا تارا ہم بھی دیکھیں گے

فیض احمد فیض

طوق و دار کا موسم

روش روش ہے وہی انتظار کا موسم

نہیں ہے کوئی بھی موسم، بہار کا موسم

گراں ہے دل پہ غمِ روزگار کا موسم

ہے آزمائشِ حسنِ نگار کا موسم

خوشا نظارۂ رخسارِ یار کی ساعت

خوشا قرارِ دلِ بے قرار کا موسم

حدیثِ بادہ و ساقی نہیں تو کس مصرف

خرامِ ابرِ سرِ کوہسار کا موسم

نصیبِ صحبتِ یاراں نہیں تو کیا کیجے

یہ رقص سایہء سرو و چنار کا موسم

یہ دل کے داغ تو دکھتے تھی یوں بھی پر کم کم

کچھ اب کے اور ہے ہجرانِ یار کا موسم

یہی جنوں کا، یہی طوق و دار کا موسم

یہی ہے جبر، یہی اختیار کا موسم

قفس ہے بس میں تمہارے، تمہارے بس میں نہیں

چمن میں آتشِ گل کے نکھار کا موسم

صبا کی مست خرامی تہِ کمند نہیں

اسیرِ دام نہیں ہے بہار کا موسم

بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے

فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم

فیض احمد فیض

بیٹھے ہیں ذوی العدل گنہگار کھڑے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 11
پھر حشر کے ساماں ہوئے ایوانِ ہوس میں
بیٹھے ہیں ذوی العدل گنہگار کھڑے ہیں
ہاں جرمِ وفا دیکھیے کس کس پہ ہے ثابت
وہ سارے خطا کار سرِ دار کھڑے ہیں
فیض احمد فیض

شورشِ بربط و نَے

پہلی آواز

اب سعِی کا امکاں اور نہیں پرواز کا مضموں ہو بھی چکا

تاروں پہ کمندیں پھینک چکے، مہتاب پہ شب خوں ہو بھی چکا

اب اور کسی فردا کے لیے ان آنکھوں سے کیا پیماں کیجے

کس خواب کے جھوٹے افسوں سے تسکینِ دل ناداں کیجے

شیرینیء لب، خوشبوئے دہن، اب شوق کا عنواں کوئی نہیں

شادابیء دل، تفریحِ نظر، اب زیست کا درماں کوئی نہیں

جینے کے فسانے رہنے دو، اب ان میں الجھ کر کیا لیں گے

اک موت کا دھندا باقی ہے، جب چاہیں گے نپٹالیں گے

یہ تیرا کفن، وہ میرا کفن، یہ میری لحد، وہ تیری ہے

دوسری آواز

ہستی کی متاعِ بے پایاں ، جاگیر تری ہے نہ میری ہے

اس بزم میں اپنی مشعلِ دل، بسمل ہے تو کیا، رخشاں ہے تو کیا

یہ بزم چراغاں رہتی ہے، اک طاق اگر ویراں ہے تو کیا

افسردہ ہیں گر ایام ترے، بدلا نہیں مسلکِ شام و سحر

ٹھہرے نہیں موسمِ گل کے قدم ، قائم ہے جمالِ شمس و قمر

آباد ہے وادیء کاکل و لب، شاداب و حسیں گلگشتِ نظر

مقسوم ہے لذتِ دردِ جگر، موجود ہے نعمتِ دیدہء تر

اس دیدہء تر کا شکر کرو، اس ذوقِ نظر کا شکر کرو

اس شام و سحر کا شکر کرو، اس شمس و قمر کا شکر کرو

پہلی آواز

گر ہے یہی مسلکِ شمس و قمر ان شمس و قمر کا کیا ہو گا

رعنائیِ شب کا کیا ہو گا، اندازِ سحر کا کیا ہو گا

جب خونِ جگر برفاب بنا، جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں

اس دیدہء تر کا کیا ہو گا، اس ذوقِ نظر کا کیا ہو گا

جب شعر کے خیمے راکھ ہوئے، نغموں کی طنابیں ٹوٹ گئیں

یہ ساز کہاں سر پھوڑیں گے، اس کلکِ گہر کا کیا ہو گا

جب کنجِ قفس مسکن ٹھہرا، اور جیب و گریباں طوق و رسن

آئے کہ نہ آئے موسمِ گل، اس دردِ جگر کا کیا ہو گا

دوسری آواز

یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک، اس خوں میں حرارت ہے جب تک

اس دل میں صداقت ہے جب تک، اس نطق میں طاقت ہے جب تک

ان طوق و سلاسل کو ہم تم، سکھلائیں گے شورشِ بربط و نَے

وہ شورش جس کے آگے زبوں ہنگامہء طبلِ قیصر و کَے

آزاد ہیں اپنے فکر و عمل بھرپور خزینہ ہمت کا

اک عمر ہے اپنی ہر ساعت، امروز ہے اپنا ہر فردا

یہ شام و سحر یہ شمس و قمر، یہ اختر و کوکب اپنے ہیں

یہ لوح و قلم، یہ طبل و علم، یہ مال و حشم سب اپنے ہیں

فیض احمد فیض

ٹھہر ٹھہر کے یہ ہوتا ہے آج دل کو گماں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 8
صبا کے ہاتھ میں نرمی ہے ان کے ہاتھوں کی
ٹھہر ٹھہر کے یہ ہوتا ہے آج دل کو گماں
وہ ہاتھ ڈھونڈ رہے ہیں بساطِ محفل میں
کہ دل کے داغ کہاں ہیں نشستِ درد کہاں
فیض احمد فیض

کہ جن دنوں سے مجھے تیرا انتظار نہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 7
نہ پوچھ جب سے ترا انتظار کتنا ہے
کہ جن دنوں سے مجھے تیرا انتظار نہیں
ترا ہی عکس ہے اُن اجنبی بہاروں میں
جو تیرے لب، ترے بازو، ترا کنار نہیں
فیض احمد فیض

لوح و قلم

ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

اسبابِ غمِ عشق بہم کرتے رہیں گے

ویرانئ دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے

ہاں تلخئ ایام ابھی اور بڑھے گی

ہاں اہلِ ستم، مشقِ ستم کرتے رہیں گے

منظور یہ تلخی، یہ ستم ہم کو گوارا

دم ہے تو مداوائے الم کرتے رہیں گے

مے خانہ سلامت ہے، تو ہم سرخئ مے سے

تزئینِ درو بامِ حرم کرتے رہیں گے

باقی ہے لہو دل میں تو ہر اشک سے پیدا

رنگِ لب و رخسارِ صنم کرتے رہیں گے

اک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک

اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

فیض احمد فیض

صبح آزادی اگست 47ء

یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر

چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل

کہیں تو ہو گا شبِ سست موج کا ساحل

کہیں تو جاکے رکے گا سفینہء غمِ دل

جواں لہو کی پراسرار شاہراہوں سے

چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے

دیارِ حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے

پکارتی رہیں، باہیں، بدن بلاتے ہیں

بہت عزیز تھی لیکن رخِ سحر کی لگن

بہت قریں تھا حسینانِ نور کا دامن

سبک سبک تھی تمنا، دبی دبی تھی تھکن

سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراقِ ظلمت و نور

سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصالِ منزل و گام

بدل چکا ہے بہت اہلِ درد کا دستور

نشاطِ وصل حلال و عذابِ ہجر حرام

جگر کی آگ، نظر کی امنگ، دل کی جلن

کسی پہ چارہء ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں

کہاں سے آئی نگارِ صبا، کدھر کو گئی

ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں

ابھی گرانیء شب میں کمی نہیں آئی

نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

فیض احمد فیض

مرے ہمدم، مرے دوست

گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست

گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکن

تیری آنکھوں کی اداسی، ترے سینے کی جلن

میری دلجوئی، مرے پیار سے مت جائے گی

گرمرا حرفِ تسلی وہ دوا ہو جس سے

جی اٹھے پھر ترا اُجڑا ہوا بے نور دماغ

تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ

تیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے

گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست!

روز و شب، شام و سحر میں تجھےبہلاتا رہوں

میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے، شیریں،

آبشاروں کے، بہاروں کے ، چمن زاروں کے گیت

آمدِ صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت

تجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوں

کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم

گرم ہاتھوں کی حرارت سے پگھل جاتے ہیں

کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوش

دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں

کس طرح عارضِ محبوب کا شفاف بلور

یک بیک بادہء احمر سے دہک جاتا ہے

کیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخِ گلاب

کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے

یونہی گاتا رہوں، گاتا رہوں تیری خاطر

گیت بنتا رہوں، بیٹھا رہوں تیری خاطر

یہ مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیں

نغمہ جراح نہیں، مونس و غم خوار سہی

گیت نشتر تو نہیں، مرہمِ آزار سہی

تیرے آزار کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا

اور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیں

اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں

ہاں مگر تیرے سوا، تیرے سوا، تیرے سوا

فیض احمد فیض

سیاسی لیڈر کے نام

سالہا سال یہ بے آسرا جکڑے ہوئے ہاتھ

رات کے سخت و سیہ سینے میں پیوست رہے

جس طرح تنکا سمندر سے ہو سر گرمِ ستیز

جس طرح تیتری کہسار پہ یلغار کرے

اور اب رات کے سنگین و سیہ سینے میں

اتنے گھاو ہیں کہ جس سمت نظر جاتی ہے

جابجا نور نے اک جال سا بن رکھا ہے

دور سے صبح کی دھڑکن کی صدا آتی ہے

تیرا سرمایہ، تری آس یہی ہاتھ تو ہیں

اور کچھ بھی تو نہیں پاس، یہی ہاتھ تو ہیں

تجھ کو منظور نہیں غلبہء ظلمت، لیکن

تجھ کو منظور ہے یہ ہاتھ قلم ہو جائیں

اور مشرق کی کمیں گہ میں دھڑکتا ہوا دن

رات کی آہنی میت کے تلے دب جائے!

فیض احمد فیض

اے دلِ بیتاب ٹھہر!

تیرگی ہے کہ امنڈتی ہی چلی آتی ہے

شب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جیسے

چل رہی ہے کچھ اس انداز سے نبضِ ہستی

دونوں عالم کا نشہ ٹوٹ رہا ہو جیسے

رات کا گرم لہو اور بھی بہ جانے دو

یہی تاریکی تو ہے غازہء رخسارِ سحر

صبح ہونے ہی کو ہے اے دلِ بیتاب ٹھہر

ابھی زنجیر چھنکتی ہے پسِ پردہء ساز

مطلق الحکم ہے شیرازہء اسباب ابھی

ساغرِ ناب میں آنسو بھی ڈھلک جاتے ہیں

لغزشِ پا میں ہے پابندئ آداب ابھی

اپنے دیوانوں کو دیوانہ تو بن لینے دو

اپنے میخانوں کو میخانہ تو بن لینے دو

جلد یہ سطوتِ اسباب بھی اُٹھ جائے گی

یہ گرانبارئ آداب بھی اُٹھ جائے گی

خواہ زنجیر چھنکتی ہی، چھنکتی ہی رہے

فیض احمد فیض

دیباچہ

ایک زمانہ ہوا جب غالب نے لکھا تھا کہ جو آنکھ قطرے میں دجلہ نہیں دیکھ سکتی دیدہ بینا نہیں بچوں کا کھیل ہے۔اگر غالب ہمارے ہم عصر ہوتے تو غالبا کوئی نہ کوئی ناقد ضرور پکار اٹھتا کہ غالب نے بچوں کے کھیل کی تو ہین کی ہے یا یہ کہ غالب ادب میں پروپگینڈا کے حامی معلوم ہوتے ہیں۔ شاعر کی آنکھ قطرے میں دجلہ دیکھنے کی تلقین کرنا صریح پروپگینڈا ہے۔اس کی آنکھ کو تو محض حسن سے غرض ہے اور حسن اگر قطرے میں دکھائی دے جائے تو وہ قطرہ دجلہ کا ہو یا گلی کی بدرو کا، شاعر کو اس سے کیا سروکار یہ دجلہ دیکھنا دکھانا حکیم فلسفی یا سیاستداں کا کام ہو گا شاعر کا کام نہیں ہے۔اگر ان حضرات کا کہنا صحیح ہوتا تو آبروئے شیوہ اہل ہنر، رہتی یا جاتی، اہل ہنر کا کام یقینا بہت سہل ہو جاتا، لیکن خوش قسمتی یا بد قسمتی سے فن سخن (یا کوئی اور فن)بچوں کا کھیل نہیں ہے۔اس کے لیے تو غالب کا دیدہ بینا بھی کافی نہیں۔اس لیے کافی نہیں کہ شاعر یا ادیب کو قطرے میں دجلہ دیکھنا ہی نہیں دکھانا ہی ہوتا ہے۔مزید برآں اگر غالب کے دجلہ سے زندگی اور موجودات کا نظام مراد لیا جائے تو ادیب خود بھی اسی دجلہ کا ایک قطرہ ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے ان گنت قطروں سے مل کر اس دریا کے رخ، اس کے بہاؤ، اس کی ہیت اور اس کی منزل کے تعین کی ذمہ داری بھی ادیب کے سر آن پڑتی ہے۔

یوں کہیے کہ شاعر کا کام محض مشاہدہ ہی نہیں، مجاہدہ بھی اس پر فرض ہے۔گردو پیش کے مضطرب قطروں میں دجلہ کا مشاہدہ اس کی بینائی پر ہے، اسے دوسروں کو دکھانا اس کی فنی دسترس پر، اس کے بہاؤ میں دخل انداز ہونا اس کے شوق کی صلابت اور لہو کی حرارت پر۔اور یہ تینوں کام مسلسل کاوش اور جد و جہد چاہتے ہیں۔

نظام زندگی کسی حوض کا ٹھہرا ہوا سنگ بستہ مقید پانی نہیں ہے، جسے تماشائی کی ایک غلط انداز نگاہ احاطہ کرسکے۔ دور دراز، اوجھل دشوار گزار پہاڑیوں میں برفیں پگھلتی ہیں، چشمے ابلتے ہیں، ندی نالے پتھروں کو چیر کر، چٹانوں کو کاٹ کر آپس میں ہمکنار ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی کتنا بڑھتا، گھاٹیوں، وادیوں، جنگلوں اور میدانوں میں سمٹتا اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔جس دیدہ بینا نے انسانی تاریخ میں زندگی کے یہ نقوش و مراحل نہیں دیکھے اس نے دجلہ کا کیا دیکھا ہے۔پھر شاعر کی نگاہ ان گزشتہ اور حالیہ مقامات تک پہنچ بھی گئی لیکن ان کی منظر کشی میں نطق و لب نے یاوری نہ کی یا اگلی منزل تک پہنچنے کے لیے جسم و جاں جہد وطلب پہ راضی نہ ہوئے تو بھی شاعر اپنے فن سے پوری طرح سرخرو نہیں ہے۔

غالبا اس طویل و عریض استعارے کو روز مرہ الفاظ میں بیان کرنا غیر ضروری ہے۔مجھے کہنا صرف یہ تھا کہ حیات انسانی کی اجتماعی جد و جہد کا ادراک، اور اس جدو جہد میں حسب توفیق شرکت، زندگی کا تقاضا ہی نہیں فن کا بھی تقاضا ہے۔

فن اسی زندگی کا ایک جزو اور فنی جدو جہد اسی جد و جہد کا ایک پہلو ہے۔یہ تقاضا ہمیشہ قائم رہتا ہے اس لیے طالب فن کے مجاہدے کا کوئی نروان نہیں، اس کا فن ایک دائمی کوشش ہے اور مستقل کاوش۔اس کوشش میں کامرانی یا ناکامی تو اپنی اپنی توفیق اور استطاعت پر ہے لیکن کوشش میں مصروف رہنا بہر طور ممکن بھی ہے اور لازم بھی۔یہ چند صفحات بھی اسی نوع کی ایک کوشش ہیں۔ممکن ہے کہ فن کی عظیم ذمہ داریوں سے عہد بر آہونے کی کوشش کے مظاہرے میں بھی نمائش یا تعلی اور خود پسندی کا ایک پہلو نکلتا ہو لیکن کوشش کیسی بھی حقیر کیوں نہ ہو زندگی سے یا فن سے فرار اور شرمساری پر فائق ہے۔

اس مجموعے کی ابتدائی تین نظمیں نقش فریادی کی آخری اشاعت میں شامل ہیں۔یہ تکرار اس لیے کی گئی ہے کہ اسلوب اور خیال کے اعتبار سے یہ نظمیں نقش فریادی کی نسبت اس مجموعہ سے زیادہ ہم آہنگ ہیں۔

فیض احمد فیض

سنٹرل جیل، حیدرآباد(سندھ)

فیض احمد فیض