زمرہ جات کے محفوظات: اصناف

دیباچہ

ایک زمانہ ہوا جب غالب نے لکھا تھا کہ جو آنکھ قطرے میں دجلہ نہیں دیکھ سکتی دیدہ بینا نہیں بچوں کا کھیل ہے۔اگر غالب ہمارے ہم عصر ہوتے تو غالبا کوئی نہ کوئی ناقد ضرور پکار اٹھتا کہ غالب نے بچوں کے کھیل کی تو ہین کی ہے یا یہ کہ غالب ادب میں پروپگینڈا کے حامی معلوم ہوتے ہیں۔ شاعر کی آنکھ قطرے میں دجلہ دیکھنے کی تلقین کرنا صریح پروپگینڈا ہے۔اس کی آنکھ کو تو محض حسن سے غرض ہے اور حسن اگر قطرے میں دکھائی دے جائے تو وہ قطرہ دجلہ کا ہو یا گلی کی بدرو کا، شاعر کو اس سے کیا سروکار یہ دجلہ دیکھنا دکھانا حکیم فلسفی یا سیاستداں کا کام ہو گا شاعر کا کام نہیں ہے۔اگر ان حضرات کا کہنا صحیح ہوتا تو آبروئے شیوہ اہل ہنر، رہتی یا جاتی، اہل ہنر کا کام یقینا بہت سہل ہو جاتا، لیکن خوش قسمتی یا بد قسمتی سے فن سخن (یا کوئی اور فن)بچوں کا کھیل نہیں ہے۔اس کے لیے تو غالب کا دیدہ بینا بھی کافی نہیں۔اس لیے کافی نہیں کہ شاعر یا ادیب کو قطرے میں دجلہ دیکھنا ہی نہیں دکھانا ہی ہوتا ہے۔مزید برآں اگر غالب کے دجلہ سے زندگی اور موجودات کا نظام مراد لیا جائے تو ادیب خود بھی اسی دجلہ کا ایک قطرہ ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے ان گنت قطروں سے مل کر اس دریا کے رخ، اس کے بہاؤ، اس کی ہیت اور اس کی منزل کے تعین کی ذمہ داری بھی ادیب کے سر آن پڑتی ہے۔

یوں کہیے کہ شاعر کا کام محض مشاہدہ ہی نہیں، مجاہدہ بھی اس پر فرض ہے۔گردو پیش کے مضطرب قطروں میں دجلہ کا مشاہدہ اس کی بینائی پر ہے، اسے دوسروں کو دکھانا اس کی فنی دسترس پر، اس کے بہاؤ میں دخل انداز ہونا اس کے شوق کی صلابت اور لہو کی حرارت پر۔اور یہ تینوں کام مسلسل کاوش اور جد و جہد چاہتے ہیں۔

نظام زندگی کسی حوض کا ٹھہرا ہوا سنگ بستہ مقید پانی نہیں ہے، جسے تماشائی کی ایک غلط انداز نگاہ احاطہ کرسکے۔ دور دراز، اوجھل دشوار گزار پہاڑیوں میں برفیں پگھلتی ہیں، چشمے ابلتے ہیں، ندی نالے پتھروں کو چیر کر، چٹانوں کو کاٹ کر آپس میں ہمکنار ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی کتنا بڑھتا، گھاٹیوں، وادیوں، جنگلوں اور میدانوں میں سمٹتا اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔جس دیدہ بینا نے انسانی تاریخ میں زندگی کے یہ نقوش و مراحل نہیں دیکھے اس نے دجلہ کا کیا دیکھا ہے۔پھر شاعر کی نگاہ ان گزشتہ اور حالیہ مقامات تک پہنچ بھی گئی لیکن ان کی منظر کشی میں نطق و لب نے یاوری نہ کی یا اگلی منزل تک پہنچنے کے لیے جسم و جاں جہد وطلب پہ راضی نہ ہوئے تو بھی شاعر اپنے فن سے پوری طرح سرخرو نہیں ہے۔

غالبا اس طویل و عریض استعارے کو روز مرہ الفاظ میں بیان کرنا غیر ضروری ہے۔مجھے کہنا صرف یہ تھا کہ حیات انسانی کی اجتماعی جد و جہد کا ادراک، اور اس جدو جہد میں حسب توفیق شرکت، زندگی کا تقاضا ہی نہیں فن کا بھی تقاضا ہے۔

فن اسی زندگی کا ایک جزو اور فنی جدو جہد اسی جد و جہد کا ایک پہلو ہے۔یہ تقاضا ہمیشہ قائم رہتا ہے اس لیے طالب فن کے مجاہدے کا کوئی نروان نہیں، اس کا فن ایک دائمی کوشش ہے اور مستقل کاوش۔اس کوشش میں کامرانی یا ناکامی تو اپنی اپنی توفیق اور استطاعت پر ہے لیکن کوشش میں مصروف رہنا بہر طور ممکن بھی ہے اور لازم بھی۔یہ چند صفحات بھی اسی نوع کی ایک کوشش ہیں۔ممکن ہے کہ فن کی عظیم ذمہ داریوں سے عہد بر آہونے کی کوشش کے مظاہرے میں بھی نمائش یا تعلی اور خود پسندی کا ایک پہلو نکلتا ہو لیکن کوشش کیسی بھی حقیر کیوں نہ ہو زندگی سے یا فن سے فرار اور شرمساری پر فائق ہے۔

اس مجموعے کی ابتدائی تین نظمیں نقش فریادی کی آخری اشاعت میں شامل ہیں۔یہ تکرار اس لیے کی گئی ہے کہ اسلوب اور خیال کے اعتبار سے یہ نظمیں نقش فریادی کی نسبت اس مجموعہ سے زیادہ ہم آہنگ ہیں۔

فیض احمد فیض

سنٹرل جیل، حیدرآباد(سندھ)

فیض احمد فیض

فیض احمد فیض ۔ قطعات

فیض احمد فیض ۔ قطعات
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے
**
دل رہین غم جہاں ہے آج
ہر نفس تشنۂ فغاں ہے آج
سخت ویراں ہے محفل ہستی
اے غم دوست! تو کہاں ہے آج

**

وقف حرمان و یاس رہتا ہے
دل ہے اکثر اداس رہتا ہے
تم تو غم دے کے بھول جاتے ہو
مجھ کو احساں کا پاس رہتا ہے
**
فضائے دل پر اداسی بکھرتی جاتی ہے
فسردگی ہے کہ جاں تک اترتی جاتی ہے
فریب زیست سے قدرت کا مدعا معلوم
یہ ہوش ہے کہ جوانی گزرتی جاتی ہے
متفرق اشعار
فیض احمد فیض

قریب ان کے آنے کے دن آرہے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 42
نصیب آزمانے کے دن آرہے ہیں
قریب ان کے آنے کے دن آرہے ہیں
جو دل سے کہا ہے، جو دل سے سنا ہے
سب ان کو سنانے کے دن آرہے ہیں
ابھی سے دل و جاں سر راہ رکھ دو
کہ لٹنے لٹانے کے دن آرہے ہیں
ٹپکنے لگی ان نگاہوں سے مستی
نگاہیں چرانے کے دن آرہے ہیں
صبا پھر ہمیں پوچھتی پھر رہی ہے
چمن کو سجانے کے دن آرہے ہیں
چلو فیض پھر سے کہیں دل لگائیں
سنا ہے ٹھکانے کے دن آرہے ہیں
فیض احمد فیض

شاہراہ

ایک افسردہ شاہراہ ہے دراز

دور افق پر نظر جمائے ہوئے

سرد مٹی پہ اپنے سینے کے

سرمگیں حسن کو بچھائے ہوئے

جس طرح کوئی غمزدہ عورت

اپنے ویراں کدے میں محو خیال

وصل محبوب کے تصور میں

مو بمو چور، عضو عضو نڈھال

فیض احمد فیض

ہم لوگ

دل کے ایواں میں لیے گل شدہ شمعوں کی قطار

نور خورشید سے سہمے ہوئے اکتائے ہوئے

حسن محبوب کے سیال تصور کی طرح

اپنی تاریکی کو بھینچے ہوئے لپٹائے ہوئے

غایت سود و زیاں، صورت آغاز و مآل

وہی بے سود تجسس، وہی بے کار سوال

مضمحل ساعت امروز کی بے رنگی سے

یاد ماضی سے غمیں ، دہشت فردا سے نڈھال

تشنہ افکار جو تسکین نہیں پاتے ہیں

سوختہ اشک جو آنکھوں میں نہیں آتے ہیں

اک کڑا درد کہ جو گیت میں ڈھلتا ہی نہیں

دل کے تاریک شگافوں سے نکلتا ہی نہیں

اور اک الجھی ہوئی موہوم سی درماں کی تلاش

دشت و زنداں کی ہوس، چاک گریباں کی تلاش

فیض احمد فیض

موضوع سخن

گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام

دھل کے نکلے گی ابھی چشمہ مہتاب سے رات

اور۔۔مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گی

اور۔۔ان ہاتھوں سے مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہات

ان کا آنچل ہے کہ رخسار کہ پیراہن ہے

کچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیں

جانے اس زلف کی موہوم گھنی چھاؤں میں

ٹمٹماتا ہے وہ آویزہ ابھی تک کہ نہیں

آج پھر حسن دلآرا کی وہی دھج ہو گی

وہی خوابیدہ سی آنکھیں وہی کاجل کی لکیر

رنگ رخسار پہ ہلکا سا وہ غازے کا غبار

صندلی ہاتھ پہ دھندلی سی حنا کی تحریر

اپنے افکار کی اشعار کی دنیا ہے یہی

جان مضموں ہے یہی شاہد معنی ہے یہی

آج تک سرخ و سیہ صدیوں کے سائے کے تلے

آدم و حوا کی اولاد پہ کیا گزری ہے

موت اور زیست کی روزانہ صف آرائی میں

ہم پہ کیا گزرے گی، اجداد پہ کیا گزری ہے؟

ان دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوق

کیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہے

یہ حسیں کھیت، پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا

کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہ ے

یہ ہر اک سمت پراسرار کڑی دیواریں

جل بجھے جن میں ہزاروں کی جوانی کے چراغ

یہ ہر اک گام پہ ان خوابوں کی مقتل گاہیں

جن کے پرتو سے چراغاں ہیں ہزاروں کے دماغ

یہ بھی ہیں ایسے کئی اور بھی مضموں ہونگے

لیکن اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹ

ہائے اس جسم کے کمبخت دلآویز خطوط

آپ ہی کہیے کہیں ایسے بھی افسوں ہونگے

اپنا موضوع سخن ان کے سوا اور نہیں

طبع شاعر کا وطن ان کے سوا اور نہیں

فیض احمد فیض

مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 38
کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسن دو عالم سے
مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی
کئی بار اس کی خاطر ذرے ذرے کا جگر چیرا
مگر یہ چشم حیراں، جس کی حیرانی نہیں جاتی
نہیں جاتی متاع لعل و گوہر کی گراں یابی
متاع غیرت و ایماں کی ارزانی نہیں جاتی
مری چشم تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے
بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی
سر خسرو سے نازکجکلاہی چھن بھی جاتا ہے
کلاہ خسروی سے بوئے سلطانی نہیں جاتی
بجز دیوانگی واں اور چارہ ہی کہو کیا ہے
جہاں عقل و خرد کی ایک بھی مانی نہیں جاتی
فیض احمد فیض

اقبال

آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیر

آیا اور اپنی دھن میں غزلخواں گزر گیا

سنسان راہیں خلق سے آباد ہو گئیں

ویران مے کدوں کا نصیبہ سنور گیا

تھیں چند ہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیں

پر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیا

اب دور جاچکا ہے شاہ گدانما

اور پھر سے اپنے دیس کی راہیں اداس ہیں

چند اک کو یاد ہے کوئی اس کی ادائے خاص

دو اک نگاہیں چند عزیزوں کے پاس ہیں

پر اس کا گیت سب کے دلوں میں مقیم ہے

اور اس کی لے سے سینکڑوں لذت شناس ہیں

اس گیت کے تمام محاسن ہیں لازوال

اس کا وفور اس کا خروش اس کا سوز و ساز

یہ گیت مثل شعلہ جوالہ تند و تیز

اس کی لپک سے باد فنا کا جگر گداز

جیسے چراغ وحشت صر صر سے بے خطر

یا شمع بزم صبح کی آمد سے بے خبر

فیض احمد فیض

پھر نور سحر دست و گریباں ہے سحر سے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 36
پھر لوٹا ہے خورشید جہانتاب سفر سے
پھر نور سحر دست و گریباں ہے سحر سے
پھر آگ بھڑکنے لگی ہر ساز طرب میں
پھر شعلے لپکنے لگے ہر دیدہ تر سے
پھر نکلا ہے دیوانہ کوئی پھونک کے گھر کو
کچھ کہتی ہے ہر راہ ہر اک راہگزر سے
وہ رنگ ہے امسال گلستاں کی فضا کا
اوجھل ہوئی دیوار قفس حد نظر سے
ساغر تو کھنکت ہیں شراب آئے نہ آئے
بادل تو گرجتے ہیں گھٹا برسے نہ برسے
پاپوش کی کیا فکر ہے، دستار سنبھالو
پایاب ہے جو موج گزرجائے گی سر سے
فیض احمد فیض

بول

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول، زباں اب تک تیری ہے

تیرا ستواں جسم ہے تیرا

بول کہ جاں اب تک تیری ہے

دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں

تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن

کھلنے لگے قفلوں کے دہانے

پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن

بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے

جسم و زیاں کی موت سے پہلے

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک

بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

فیض احمد فیض

کتے

یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے

کہ بخشا گیا جن کو ذوق گدائی

زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا

جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی

نہ آرام شب کو نہ راحت سویرے

غلاظت میں گھر، نالیوں میں بسیرے

جو بگڑیں تو اک دوسرے سے لڑادو

ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھادو

یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے

یہ فاقوں سے اکتا کے مرجانے والے

یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے

تو انسان سب سرکشی بھول جائے

یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنالیں

یہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبالیں

کوئی ان کو احساس ذلت دلادے

کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلادے

فیض احمد فیض

آؤ کہ حسن ماہ سے دل کو جلائیں ہم

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 33
آؤ کہ مرگ سوز محبت منائیں ہم
آؤ کہ حسن ماہ سے دل کو جلائیں ہم
خوش ہوں فراق قامت و رخسار یار سے
سرو و گل و سمن سے نظر کو ستائیں ہم
ویرانی حیات کو ویران تر کریں
لے ناصح آج تیرا کہا مان جائیں ہم
پھر اوٹ لے کے دامن ابر بہار کی
دل کو منائیں ہم کبھی آنسو بہائیں ہم
سلجھائیں بے دلی سے یہ الجھے ہوئے سوال
واں جائیں یا نہ جائیں، نہ جائیں کہ جائیں ہم
پھر دل کو پاس ضبط کی تلقین کر چکیں
اور امتحان ضبط سے پھر جی چرائیں ہم
آؤ کہ آج ختم ہوئی داستان عشق
اب ختم عاشقی کے فسانے سنائیں ہم
فیض احمد فیض

چند روز اور مری جان!

چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز

ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم

اور کچھ دیر ستم سہہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں

اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم

جسم پر قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں

فکر محبوس ہے گفتار پہ تعزیریں ہیں

اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

لیکن اب ظلم کی معیاد کے دن تھوڑے ہیں

اک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں

عرصہ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں

ہم کو رہنا ہے پہ یونہی تو نہیں رہنا ہے

اجنبی ہاتھوں کا بے نام گرانبار ستم

آج سہنا ہے ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے

یہ ترے حسن سے لپٹی ہوئی آلام کی گرد

اپنی دو روزہ جوانی کی شکستوں کا شمار

چاندنی راتوں کا بے کار دہکتا ہوا درد

دل کی بے سود تڑپ،جسم کی مایوس پکار

چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز

فیض احمد فیض

جانے کس کس کو آج رو بیٹھے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 31
پھر حریف بہار ہو بیٹھے
جانے کس کس کو آج رو بیٹھے
تھی، مگر اتنی رائگاں بھی نہ تھی
آج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے
تیرے در تک پہنچ کے لوٹ آئے
عشق کی آبرو ڈبو بیٹھے
ساری دنیا سے دور ہوجائے
جو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے
نہ گئی تیری بے رخی نہ گئی
ہم تری آرزو بھی کھو بیٹھے
فیض ہوتا رہے جو ہونا ہے
شعر لکھتے رہا کرو بیٹھے
فیض احمد فیض

وہ مضمحل حیا جو کسی کی نظر میں ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 30
کچھ دن سے انتظار سوال دگر میں ہے
وہ مضمحل حیا جو کسی کی نظر میں ہے
سیکھی یہیں مرے دل کافر نے بندگی
رب کریم ہے تو تری رہگزر میں ہے
ماضی میں جو مزا مری شام و سحر میں تھا
اب وہ فقط تصور شام و سحر میں ہے
کیا جانے کس کو کس سے ہے داد کی طلب
وہ غم جو میرے دل میں ہے تیری نظر میں ہے
فیض احمد فیض

دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 29
راز الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
وہ مرے ہوکے بھی مرے نہ ہوئے
ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
آج ان کی نظر میں کچھ ہم نے
سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا
فیض تکمیل غم بھی ہو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا
فیض احمد فیض

رقیب سے

آکہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے

جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا

جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے

دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر

اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے

کارواں گزرے ہیں جن سے اسی رعنائی کے

جس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے

تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں

اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے

تجھ پہ بھی برسا ہے اس بام سے مہتاب کا نور

جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے

تونے دیکھی ہے وہ پیشانی، وہ رخسار، وہ ہونٹ

زندگی جن کے تصور میں لٹادی ہم نے

تجھ پہ اٹحی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں

تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے

ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کے

اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں

ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے

جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھانہ سکوں

عاجزی سیکھی، غریبوں کی حمایت سیکھی

یاس و حرمان کے دکھ درد کے معنی سیکھے

زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا

سرد آہوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے

جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بے کس جن کے

اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سوجاتے ہیں

ناتوانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب

بازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں

جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت

شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے

آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ

اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے

فیض احمد فیض

وہ مجھ سے روٹھے تو تھے لیکن اس قدر بھی نہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 27
وفا سے وعدہ نہیں، وعدہ دگر بھی نہیں
وہ مجھ سے روٹھے تو تھے لیکن اس قدر بھی نہیں
برس رہی ہے حریم ہوس میں دولت حسن
گدائے عشق کے کاسے میں اک نظر بھی نہیں
نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں
اک ایسی راہ پہ جو تیری رہگزر بھی نہیں
نگاہ شوق سر بزم بے حجاب نہ ہو
وہ بے خبر ہی سہی اتنے بے خبر بھی نہیں
یہ عہد ترک محبت ہے کس لیے آخر
سکون قلب ادھر بھی نہیں، ادھر بھی نہیں
فیض احمد فیض

سوچ

کیوں میرا دل شاد نہیں ہے

کیوں خاموش رہا کرتا ہوں

چھوڑو میری رام کہانی

میں جیسا بھی ہوں اچھا ہوں

میرا دل غمگیں ہے تو کیا

غمگیں یہ دنیا ہے ساری

یہ دکھ تیرا ہے نہ میرا

ہم سب کی جاگیر ہے پیاری

تو گر میری بھی ہوجائے

دنیا کے غم یونہی رہیں گے

پاپ کے پھندے،ظلم کے بندھن

اپنے کہے سے کٹ نہ سکیں گے

غم ہر حالت میں مہلک ہے

اپنا ہو یا اور کسی کا

رونا دھونا جی کو جلانا

یوں بھی ہمارا، یوں بھی ہمارا

کیوں نہ جہاں کا غم اپنالیں

بعد میں سب تدبیریں سوچیں

بعد میں سکھ کے سپنے دیکھیں

سپنوں کی تعبیریں سوچیں

بے فکرے دھن دولت والے

یہ آخر کیوں خوش رہتے ہیں

ان کا سکھ آپس میں بانٹیں

یہ بھی آخر ہم جیسے ہیں

ہم نے مانا جنگ کڑی ہے

سر پھوٹیں گے، خون بہے گا

خون میں غم بھی بہہ جائیں گے

ہم نہ رہیں، غم بھی نہ رہے گا

فیض احمد فیض

وہ جارہا ہے کوئی شب غم گزار کے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 25
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جارہا ہے کوئی شب غم گزار کے
ویراں ہے میکدہ، خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
دنیا نے تیری یاد سے بے گانہ کردیا
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیض
مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے
فیض احمد فیض

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات

تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہ ے

تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوجائے

یوں نہ تھا، میں فقط چاہا تھا یوں ہوجائے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم

ریشم و اطلس و کمخواب سے بنوائے ہوئے

جابجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم

خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے

جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے

پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کجیے

اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجیے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

فیض احمد فیض

میرے ندیم

خیال و شعر کی دنیا میں جان تھی جن سے

فضائے فکر و عمل ارغوان تھی جن سے

وہ جن کے نور سے شاداب تھے مہ و انجم

جنون عشق کی ہمت جوان تھی جن سے

وہ آرزوئیں کہاں سو گئی ہیں میرے ندیم؟

وہ ناصبور نگاہیں، وہ منتظر راہیں

وہ پاس ضبط سے دل میں دبی ہوئی آہیں

وہ انتظار کی راتیں طویل تیرہ و تار

وہ نیم خواب شبستاں، وہ مخملیں باہیں

کہانیاں تھیں، کہیں کھو گئی ہیں میرے ندیم

مچل رہا ہے رگ زندگی میں خون بہار

الجھ رہے ہیں پرانے غموں سے روح کے تار

چلو کہ چل کے چراغاں کریں دیار حبیب

ہیں انتظار میں اگلی محبتوں کے مزار

محبتیں جو فنا ہو گئی ہیں میرے ندیم

فیض احمد فیض

ایک منظر

بام و در خامشی کے بوجھ سے چور

آسمانوں سے جوئے درد نہاں

چاند کا دکھ بھرا فسانہ نور

شاہراہوں کی خاک میں غلطاں

خواب گاہوں میں نیم تاریکی

مضمحل لے رباب ہستی کی

ہلکے ہلکے سروں میں نوحہ کناں

فیض احمد فیض

دست قدرت کو بے اثر کردے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
چشم میگوں ذرا ادھر کردے
دست قدرت کو بے اثر کردے
تیز ہے آج درد دل ساقی
تلخی مے کو تیز تر کردے
جوش وحشت ہے تشنہ کام ابھی
چاک دامن کو تاجگر کردے
میری قسمت سے کھیلنے والے
مجھ کو قسمت سے بے خبر کردے
لٹ رہی ہے مری متاع نیاز
کاش وہ اس طرف نظر کردے
فیض تکمیل آرزو معلوم
ہوسکے تو یونہی بسر کردے
فیض احمد فیض

ایک رہگزر پر

وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاں

وہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاں

ہزار فتنے تہ پائے ناز، خاک نشیں

ہر اک نگاہ خمار شباب سے رنگیں

شباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیں

وقار، جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں

ادائے لغزش پا پر قیامتیں قرباں

بیاض رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباں

سیاہ زلفوں میں وارفتہ نکہتوں کا ہجوم

طویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوم

وہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اترائے

زبان شعر کو تعریف کرتے شرم آئے

وہ ہونٹ فیض سے جن کے بہار لالہ فروش

بہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بدوش

گداز جسم، قبا جس پہ سج کے ناز کرے

دراز قد جسے سرو سہی نماز کرے

غرض وہ حسن جو محتاج وصف و نام نہیں

وہ حسن جس کا تصور بشر کا کام نہیں

کسی زمانے میں اس رہگزر سے گزرا تھا

بصد غرور و تجمل، ادھر سے گزرا تھا

اور اب یہ راہگزر بھی ہے دلفریب و حسیں

ہے اس کی خاک میں کیف شراب و شعر مکیں

ہوا میں شوخی رفتار کی ادائیں ہیں

فضا میں نرمی گفتار کی صدائیں ہیں

غرض وہ حسن اب اس کا جزو منظر ہے

نیاز عشق کو اک سجدہ گہ میسر ہے

فیض احمد فیض

ضبط کا حوصلہ نہیں باقی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 19
ہمت التجا نہیں باقی
ضبط کا حوصلہ نہیں باقی
اک تری دید چھن گئی مجھ سے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی
اپنی مشق ستم سے ہاتھ نہ کھینچ
میں نہیں یا وفا نہیں باقی
تیری چشم الم نواز کی خیر
دل میں کوئی گلا نہیں باقی
ہوچکا ختم عہد ہجرو وصال
زندگی میں مزا نہیں باقی
فیض احمد فیض

آج کی رات

آج کی رات ساز درد نہ چھیڑ

دکھ سے بھرپور دن تمام ہوئے

اور کل کی خبر کسے معلوم؟

دوش و فردا کی مٹ چکی ہیں حدود

ہو نہ ہو اب سحر کسے معلوم

زندگی ہیچ! لیکن آج کی رات

ایزدیت ہے ممکن آج کی رات

آج کی رات ساز درد نہ چھیڑ

اب نہ دہرا فسانہ ہائے الم

اپنی قسمت پہ سوگوار نہ ہو

فکر فردا اتاردے دل سے

عمر رفتہ پہ اشکبار نہ ہو

عہد غم کی حکایتیں مت پوچھ

ہوچکیں اب شکایتیں مت پوچھ

آج کی رات ساز درد نہ چھیڑ

فیض احمد فیض

یاس

بربط دل کے تار ٹوٹ گئے

ہیں زمیں بوس راحتوں کے محل

مٹ گئے قصہ ہائے فکر و عمل

بزم ہستی کے جام پھوٹ گئے

چھن گیا کیف کوثر و تسنیم

زحمت گریہ و بکا بے سود

شکوۂ بخت نارسا بے سود

ہوچکا ختم رحمتوں کا نزول

بند ہے مدتوں سے باب قبول

بے نیاز دعا ہے رب کریم

بجھ گئی شمع آرزوئے جمیل

یاد باقی ہے بے کسی کی دلیل

انتظار فضول رہنے دے

راز الفت نباہنے والے

بار غم سے کراہنے والے

کاوش بے حصول رہنے دے

فیض احمد فیض

سرود

موت اپنی ، نہ عمل اپنا، نہ جینا اپنا

کھوگیا شورش گیتی میں قرینہ اپنا

ناخدا دور، ہوا تیز، قریں کم نہنگ

وقت ہے پھینک دے لہروں میں سفینہ اپنا

عرصۂ دہر کے ہنگامے تہ خواب سہی

گرم رکھ آتش پیکار سے سینہ اپنا

ساقیا رنج نہ کر جاگ اٹھے گی محفل

اور کچھ دیر اٹھا رکھتے ہیں پینا اپنا

بیش قیمت ہیں یہ غمہائے محبت مت بھول

ظلمت یاس کو مت سونپ خزینہ اپنا

فیض احمد فیض

تین منظر

تصور

شوخیاں مضطر نگاہ دیدۂ سرشار میں

عشرتیں خوابیدہ رنگ غازۂ رخسار میں

سرخ ہونٹوں پر تبسم کی ضیائیں جس طرح

یاسمن کے پھول ڈوبے ہوں مئے گلنار میں

سامنا

چھنتی ہوئی نظروں سے جذبات کی دنیائیں

بے خوابیاں، افسانے، مہتاب ، تمنائیں

کچھ الجھی ہوئی باتیں، کچھ بہکے ہوئے نغمے

کچھ اشک جو آنکھوں سے بے وجہ چھلک جائیں

رخصت

فسردہ رخ، لبوں پر اک نیاز آمیز خاموشی

تبسم مضمحل تھا مرمریں ہاتھوں میں لرزش تھی

وہ کیسی بے کسی تھی تیری پر تمکیں نگاہوں میں

وہ کیا دکھ تھا تری سہمی ہوئی خاموش آہوں میں

فیض احمد فیض

حسن اور موت

جو پھول سارے گلستاں میں سب سے اچھا ہو

فروغ نور ہو جس سے فضائے رنگیں میں

خزاں کے جور و ستم کو نہ جس نے دیکھا ہو

بہار نے جسے خون جگر سے پالا ہو

وہ ایک پھول سماتا ہے چشم گلچیں میں

ہزار پھولوں سے آباد باغ ہستی ہے

اجل کی آنکھ فقط ایک کو ترستی ہے

کئی دلوں کی امیدوں کا جو سہارا ہو

فضائے دہر کی آلودگی سے بالا ہو

جہاں میں آ کے ابھی جس نے کچھ نہ دیکھا ہو

نہ قحط عیش و مسرت نہ غم کی ارزانی

کنار رحمت حق میں اسے سلاتی ہے

سکوت شب میں فرشتوں کی مرثیہ خوانی

طواف کرنے کو صبح بہار آتی ہے

صبا چڑھانے کو جنت کے پھول لاتی ہے

فیض احمد فیض

تہہ نجوم

تہ نجوم، کہیں چاندنی کے دامن میں

ہجوم شوق سے اک دل ہے بے قرار ابھی

خمار خواب سے لبریز احمریں آنکھیں

سفید رخ پہ پریشان عنبریں آنکھیں

چھلک رہی ہے جوانی ہر اک بن مو سے

رواں ہو برگ گل تر سے جیسے سیل شمیم

ضیا ئے مہ میں دمکتا ہے رنگ پیراہن

ادائے عجز سے آنچل اڑا رہی ہے نسیم

دراز قد کی لچک سے گداز پیدا ہے

ادائے ناز سے رنگ نیاز پیدا ہے

اداس آنکھوں میں خاموش التجائیں ہیں

دل حزیں میں کئی جاں بلب دعائیں ہیں

تہ نجوم کہیں چاندنی کے دامن میں

کسی کا حسن ہے مصروف انتظار ابھی

کہیں خیال کے آبادکردہ گلشن میں

ہے ایک گل کہ ہے ناواقف بہار ابھی

فیض احمد فیض

انتظار

گزر رہے ہیں شب و روز تم نہیں آتیں

ریاض زیست ہے آزردۂ بہار ابھی

مرے خیال کی دنیا ہے سوگوار ابھی

جو حسرتیں ترے غم کی کفیل ہیں پیاری

ابھی تلک مری تنہائیوں میں بستی ہیں

طویل راتیں ابھی تک طویل ہیں پیاری

اداس آنکھیں تری دید کو ترستی ہیں

بہار حسن پہ پابندیٔ جفا کب تک

یہ آزمائش صبر گریز پا کب تک

قسم تمہاری بہت غم اٹھا چکا ہوں میں

غلط تھا وعدۂ صبر و شکیب آجاؤ

قرار خاطر بے تاب تھک گیا ہوں میں

فیض احمد فیض

جو ان کی مختصر روداد بھی صبر آزما سمجھے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 11
وہ عہد غم کی کاہش ہائے بے حاصل کو کیا سمجھے
جو ان کی مختصر روداد بھی صبر آزما سمجھے
یہاں دلبستگی، واں برہمی، کیا جانیے کیوں ہے؟
نہ ہم اپنی نظر سمجھے نہ ہم ان کی ادا سمجھے
فریب آرزو کی سہل انگاری نہیں جاتی
ہم اپنے دل کی دھڑکن کو تری آواز پا سمجھے
تمہاری ہر نظر سے منسلک ہے رشتۂ ہستی
مگر یہ دور کی باتیں کوئی نادان کیا سمجھے
نہ پوچھو عہد الفت کی، بس اک خوا ب پریشاں تھا
نہ دل کو راہ پر لائے نہ دل کا مدعا سمجھے
فیض احمد فیض

بعد از وقت

دل کو احساس سے دو چار نہ کردینا تھا

ساز خوابیدہ کو بیدار نہ کردینا تھا

اپنے معصوم تبسم کی فراوانی کو

وسعت دید پہ گلبار نہ کردینا تھا

شوق مجبور کو بس ایک جھلک دکھلا کر

واقف لذت تکرار نہ کردینا تھا

چشم مشتاق کی خاموش تمناؤں کو

یک بیک مائل گفتار نہ کردینا تھا

جلوۂ حسن کو مستور ہی رہنے دیتے

جلوہ حسن کو مستور ہی رہنے دیتے

فیض احمد فیض

مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو

مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو

ابھی تک دل میں تیرے عشق کی قندیل روشن ہے

تری جلووں سے بزم زندگی جنت بدامن ہے

مری روح اب بھی تنہائی میں تجھ کو یاد کرتی ہے

ہر اک تاز نفس میں آرزو بیدار ہے اب بھی

ہر اک بے رنگ ساعت منتظر ہے تیری آمد کی

نگاہیں بچھ رہی ہیں راستہ زرکار ہے اب بھی

مگر جان حزیں صدمے سہے گی آخرش کب تک

تری بے مہریوں پر جان دے گی آخرش کب تک

تری آواز میں سوئی ہوئی شیرینیاں آخر

مرے دل کی فسردہ خلوتوں میں جانہ پائیں گی

یہ اشکوں کی فراوانی سے دھندلائی ہوئی آنکھیں

تری رعنائیوں کی تمکنت کو بھول جائیں گی

پکاریں گے تجھے تو اب کوئی لذت نہ پائیں گے

گلو میں تیری الفت کے ترانے سوکھ جائیں گے

مبادا یاد ہائے عہد ماضی محو ہوجائیں

یہ پارینہ فسانے موج ہائے غم میں کھو جائیں

مرے دل کی تہوں سے تیری صورت دھل کے بہہ جائے

حریم عشق کی شمع درخشاں بجھ کے رہ جائے

مبادا اجنبی دنیا کی ظلمت گھیر لے تجھ کو

مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو

فیض احمد فیض

حسینۂ خیال سے

مجھے دے دے

رسیلے ہونٹ، معصومانہ پیشانی حسیں آنکھیں

کہ میں اک بار پھر رنگینیوں میں غرق ہوجاؤں

مری ہستی کو تیری اک نظر آغو ش میں لے لے

ہمیشہ کے لیے اس دام میں محفوظ ہوجاؤں

ضیائے حسن سے ظلمات دنیا میں نہ پھر آؤں

گزشتہ حسرتوں کے داغ میرے دل سے دھل جائیں

میں آنے والے غم کی فکر سے آزاد ہوجاؤں

مرے ماضی و مستقبل سراسر محو ہوجائیں

مجھے دو اک نظر اک جاودانی سی نظر دے دے

(براؤننگ)

فیض احمد فیض

کافروں کی نماز ہوجائے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 7
ہر حقیقت مجاز ہوجائے
کافروں کی نماز ہوجائے
دل رہین نیاز ہوجائے
بے کسی کارساز ہوجائے
جنت چارہ ساز کون کرے؟
درد جب جاں نواز ہوجائے
عشق دل میں رہے تو رسوا ہو
لب پہ آئے تو راز ہوجائے
لطف کا انتظار کرتا ہوں
جور تا حد ناز ہوجائے
عمر بے سود کٹ رہی ہے فیض
کاش افشائے راز ہوجائے
فیض احمد فیض

آخری خط

وہ وقت مری جان بہت دور نہیں ہے

جب دور سے رک جائیں گی سب زیست کی راہیں

اور حد سے گزر جائے گا اندوہ نہانی

تھک جائیں گی ترسی ہوئی ناکام نگاہیں

چھن جائیں گے مجھ سے مرے آنسو مری آہیں

چھن جائے گی مجھ سے مری بے کار جوانی

شاید مری الفت کو بہت یاد کروگی

اپنے دل معصوم کو ناشاد کروگی

آؤ گی مری گور پہ تم اشک بہانے

نوخیز بہاروں کے حسیں پھول چڑھانے

شاید مری تربت کو بھی ٹھکراکے چلو گی

شاید مری بے سود وفاؤں پہ ہنسوگی

اس وضع کرم کا بھی تمہیں پاس نہ ہو گا

لیکن دل ناکام کو احساس نہ ہو گا

القصہ مآل غم الفت پہ ہنسو تم

یا اشک بہاتی رہو، فریاد کرو تم

ماضی پہ ندامت ہو تمہیں یا کہ مسرت

خاموش پڑا سوئے گا واماندۂ الفت

فیض احمد فیض

حسن مجبور انتظار نہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 5
عشق منت کش قرار نہیں
حسن مجبور انتظار نہیں
تیری رنجش کی انتہا معلوم
حسرتوں کا مری شمار نہیں
اپنی نظریں بکھیر دے ساقی
مے باندازۂ خمار نہیں
زیر لب ہے ابھی تبسم دوست
منتشر جلوۂ بہار نہیں
اپنی تکمیل کررہا ہوں میں
ورنہ تجھ سے تو مجھ کو پیار نہیں
چارۂ انتظار کون کرے
تیری نفرت بھی استوار نہیں
فیض زندہ رہیں وہ ہیں تو سہی
کیا ہوا گر وفا شعار نہیں
فیض احمد فیض

سرود شبانہ

کم ہے اک کیف میں فضائے حیات

خامشی سجدۂ نیاز میں ہے

حسن معصوم خواب ناز میں ہے

اے کہ تو رنگ و بو کا طوفاں ہے

اے کہ تو جلوہ گر بہار میں ہے

زندگی تیرے اختیار میں ہے

پھول لاکھوں برس نہیں رہتے

دو گھڑی اور ہے بہار شباب

آکہ کچھ دل کی سن سنا لیں ہم

میری تنہائیوں پہ شام رہے

حسرت دید ناتمام رہے

دل میں بے تاب ہے صدائے حیات

آنکھ کو ہر نثار کرتی ہے

آسماں پر اداس ہیں تارے

چاندنی انتظار کرتی ہے

آکہ تھوڑا سا پیار کرلیں ہم

زندگی زر نگار کرلیں ہم

فیض احمد فیض

انجام

ہیں لبریز آہوں سے ٹھنڈی ہوائیں

اداسی میں ڈوبی ہوئی ہیں گھٹائیں

محبت کی دنیا پہ شام آچکی ہے

سیہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں

مچلتی ہیں سینے میں لاکھ آرزوئیں

تڑپتی ہیں آنکھوں یں لاکھ التجائیں

تغافل کے آغوش میں سورہے ہیں

تمہارے ستم اور میری وفائیں

مگر پھر بھی اے میرے معصوم قاتل

تمہیں پیار کرتی ہیں میری دعائیں

فیض احمد فیض

انتہائے کار

پندار کے خوگر کو

ناکام بھی دیکھوگے

آغاز سے واقف ہو

انجام بھی دیکھوگے

رنگینیٔ دنیا سے

مایوس سا ہوجانا

دکھتا ہوا دل لے کر

تنہائی میں کھو جانا

ترسی ہوئی نظروں کو

حسرت سے جھکا لینا

فریاد کے ٹکڑوں کو

آہوں میں چھپالینا

راتوں کی خموشی میں

چھپ کر کبھی رو لینا

مجبور جوانی کے

ملبوس کو دھو لینا

جذبات کی وسعت کو

سجدوں سے بسا لینا

بھولی ہوئی یادوں کو

سینے سے لگا لینا

فیض احمد فیض

عشق منت کش فسون نیاز

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 1
حسن مرہون جوش بادۂ ناز
عشق منت کش فسون نیاز
دل کا ہر تار لرزش پیہم
جاں کا ہر رشتہ وقف سوز و گداز
سوزش درد ددل کسے معلوم
کون جانے کسی کے عشق کا راز
میری خاموشیوں میں لرزاں ہے
میرے نالوں کی گمشدہ آواز
ہوچکا عشق! اب ہوس ہی سہی
کیا کریں فرض ہے ادائے نماز
تو ہے اور اک تغافل پیہم
میں ہوں اور انتظار بے انداز
خوف ناکامیٔ امید ہے فیض
ورنہ دل توڑدے طلسم مجاز
فیض احمد فیض

خدا وہ وقت نہ لائے۔۔۔

خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو

سکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہوجائے

تری مسرت پیہم تمام ہوجائے

تری حیات تجھے تلخ جام ہوجائے

غموں سے آئینۂ دل گداز ہو تیرا

ہجوم یاس سے بیتاب ہو کے رہ جائے

وفور درد سے سیماب ہو کے رہ جائے

ترا شباب فقط خواب ہوکے رہ جائے

غرور حسن سراپا نیاز ہو تیرا

طویل راتوں میں تو بھی قرار کو ترسے

تری نگاہ کسی غمگسار کو ترسے

خزاں رسیدہ تمنا بہار کو ترسے

کوئی جیبں نہ تری سنگ آستاں پہ جھکے

کہ جنس عجز و عقیدت سے تجھ کو شاد کرے

فریب وعدۂ فردا پہ اعتماد کرے

خدا وہ وقت نہ لائے کہ تجھ کو یاد آئے

وہ دل کہ تیرے لیے بے قرار اب بھی ہے

وہ آنکھ جس کو ترا انتظار اب بھی ہے

فیض احمد فیض

اپنے طغیان کی سزا یہ خیال

مجید امجد ۔ غزل نمبر 193
نئی صبحوں کی سیر کا یہ خیال
اپنے طغیان کی سزا یہ خیال
میّتوں کو لحد میں کلپائے
ہو سکے سجدہ اک ادا، یہ خیال
سب کی روحیں تھیں ریت کے بربط
اک مری زیست میں جیا یہ خیال
اتنے رنگوں میں یہ گلاب کے پھول
اتنے رنگوں میں موت کا یہ خیال
ابر ہیں امجد اور یہ جنتِ برگ
دیکھ سمتوں کو ربط کا یہ خیال
وفات کے بعد نامکمل شکل میں ملی
مجید امجد

سنا ہے میں نے

سنا ہے میں نے کہ شعری ؎۱ تمھاری سمتِ سفر

بساطِ گل پہ بچھی برف کی سلوں میں ہے

تمھارا قافلۂ شوق جاگزیں اب کے

کنارِ کوہ پہ نیلم کے ساحلوں میں ہے

تمھیں تلاش ہے جس عالمِ مسرت کی

وہ سبز کنجوں نہ گل پوش منزلوں میں ہے

تمھارے بعد مجید امجد اور انجم ؎ ۲ نے

بسا لیا وہ سوات ان کے جو دلوں میں ہے

لذیذ پانی پیا، سیب کھائے، شعر پڑھے

اک ایسا دن کہاں دنیا کی محفلوں میں ہے

ہماری روح کی سیف الملوک جھیل کے پاس

ہمارا تذکرہ جنت شمائلوں میں ہے

کبھی کبھی جو ہمارے دلوں میں جھانکتا ہے

کہاں وہ لمحہ زمانے کے محملوں میں ہے

(نوٹ: یہ قطعہ ارتجالاً لکھا گیا تھا۔)

؎۱ مجید امجد کے نہایت عزیز دوست جن کا قیام جھنگ میں تھا۔ انتقال ہو چکا ہے۔

؎۲ پروفیسر تقی انجم، سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج جھنگ

مجید امجد

یہ دن، یہ تیرے شگفتہ دنوں کا آخری دن

یہ دن، یہ تیرے شگفتہ دنوں کا آخری دن

کہ جس کے ساتھ ہوئے ختم لاکھ دورِ زماں

چناب چین وہ دنیا، یہ عصر راوی رو

کبھی نہ ٹوٹنے والی رفاقتوں کے جہاں

وہ سب روابطِ دیرینہ یاد آتے ہیں

ترا خلوص، تری دوستی، ترے احساں

مسرتوں میں لہکتے ہرے بھرے ایام

قدم قدم پہ ترا لطفِ خاص ہمدمِ جاں

اور اب یہ تیرگیاں۔۔۔ اب کہاں تلاش کریں

وہ شخص پیکرِ صدق اور وہ فرد فیض رساں

رہِ عدم کے مسافر، ذرا پلٹ کے تو دیکھ

گرفتہ جاں ہے ترے غم میں بزمِ ہم نفساں

ترے کرم کی بہاروں میں سوگوار ہیں، دیکھ

ترے چمن کے گل و سرو و لالہ و ریحاں

امڈ امڈ کے سدا گزرے گی غموں کی یہ موج

دلوں کی بستیوں سے تا بہ ساحلِ دوراں

ابھی ابھی وہ یہیں تھا۔۔۔ زمانہ سوچے گا

انھی گلوں میں ہیں اس کے تبسموں کے نشاں

ابھی ابھی انھی کنجوں میں اس کے سائے تھے

ابھی ابھی تو وہ تھا ان برآمدوں میں یہاں

کوئی یقین کرے گا، اک ایسی عظمت بھی

کبھی تھی حصۂ دنیا، کبھی تھی جزوِ جہاں

ہمی نے دیکھا ہے اس کو، ہمیں خبر ہے وہ شخص

دلوں کی روشنیاں تھا، دلوں کی زندگیاں

ہمیں خبر ہے، بڑے حلم و آبرو والے

ترا مقام کسی اور کو نصیب کہاں

زمانہ سوچے گا، وہ ایک کون تھا تجھ سا

جو ان دیاروں سے گزرا تھا یوں گہر افشاں

اور اب جو تو نہیں، کچھ بھی نہیں، نہ ہم نہ حیات

ہر ایک سمت اندھیرا، ہر ایک سمت خزاں

جگہ جگہ تری موجودگی کو پاتے ہیں

ہمارے دردِ فراواں، ہمارے اشکِ رواں

ترے لیے جھکے مینائے کوثر و تسنیم

ترے لیے کھلیں درہائے روضۂ رضواں

مجید امجد

ہے میرے ساتھ تو اب ختم قرنِ آخر بھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 190
چمن تو ہیں نئی صبحوں کے دائمی، پھر بھی
ہے میرے ساتھ تو اب ختم قرنِ آخر بھی
مری ہی عمر تھی جو میں نے رائیگاں سمجھی
کسی کے پاس نہ تھا ایک سانس وافر بھی
خود اپنے غیب میں بن باس بھی ملا مجھ کو
میں اس جہان کے ہر سانحے میں حاضر بھی
ہیں یہ کھنچاؤ جو چہروں پہ آب و ناں کے لیے
انھی کا حصہ ہے میرا سکونِ خاطر بھی
میں اس جواز میں نادم بھی اپنے صدق پہ ہوں
میں اس گنہ میں ہوں اپنی خطا سے منکر بھی
یہ کس کے اذن سے ہیں اور یہ کیا زمانے ہیں
جو زندگی میں مرے ساتھ ہیں مسافر بھی
ہیں تیری گھات میں امجد جو آسمانوں کے ذہن
ذرا بہ پاسِ وفا ان کے دام میں گر بھی
مجید امجد

دور ایک بانسری پہ یہ دھن: ’پھر کب آؤ گے؟‘

مجید امجد ۔ غزل نمبر 189
صبحوں کی وادیوں میں گلوں کے پڑاؤ تھے
دور ایک بانسری پہ یہ دھن: ’پھر کب آؤ گے؟‘
اک بات رہ گئی کہ جو دل میں نہ لب پہ تھی
اس اک سخن کے وقت کے سینے پہ گھاؤ تھے
کھلتی کلی کھلی کسی تاکید سے نہیں
ان سے وہ ربط ہے جو الگ ہے لگاؤ سے
عیب اپنی خوبیوں کے چنے اپنے غیب میں
جب کھنکھنائے قہقہوں میں من گھناؤنے
کاغذ کے پانیوں سے جو ابھرے تو دور تک
پتھر کی ایک لہر پہ تختے تھے ناؤ کے
کیا رو تھی جو نشیبِ افق سے مری طرف
تیری پلٹ پلٹ کے ندی کے بہاؤ سے
امجد جہاں بھی ہوں میں، سب اس کے دیار ہیں
کنجن سہاؤنے ہوں کہ جھنگڑ ڈوراؤنے
مجید امجد

صحّت کا ایک پہلو مریضانہ چاہیے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 188
ہر وقت فکرِ مرگِ غریبانہ چاہیے
صحّت کا ایک پہلو مریضانہ چاہیے
دنیائے بے طریق میں جس سمت بھی چلو
رستے میں اک سلامِ رفیقانہ چاہیے
آنکھوں میں امڈے روح کی نزدیکیوں کے ساتھ
ایسا بھی ایک دور کا یارانہ چاہیے
کیا پستیوں کی ذلتیں، کیا عظمتوں کے فوز
اپنے لیے عذاب جداگانہ چاہیے
اب دردِ شش بھی سانس کی کوشش میں ہے شریک
اب کیا ہو، اب تو نیند کو آ جانا چاہیے
روشن ترائیوں سے اترتی ہوا میں آج
دو چار گام لغزشِ مستانہ چاہیے
امجد ان اشکبار زمانوں کے واسطے
اک ساعتِ بہار کا نذرانہ چاہیے
مجید امجد

خرید لوں میں یہ نقلی دوا، جو تو چاہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 187
بنے یہ زہر ہی وجہِ شفا، جو تو چاہے
خرید لوں میں یہ نقلی دوا، جو تو چاہے
یہ زرد پنکھڑیاں جن پر کہ حرف حرف ہوں میں
ہوائے شام میں مہکیں ذرا، جو تو چاہے
تجھے تو علم ہے، کیوں میں نے اس طرح چاہا
جو تو نے یوں نہیں چاہا تو کیا، جو تو چاہے
جب ایک سانس گھسے، ساتھ ایک نوٹ پسے
نظامِ زر کی حسیں آسیا، جو تو چاہے
بس اک تری ہی شکم سیر روح ہے آزاد
اب اے اسیرِ کمندِ ہوا، جو تو چاہے
ذرا شکوہِ دو عالم کے گنبدوں میں لرز
پھر اس کے بعد ترا فیصلہ، جو تو چاہے
سلام ان پہ، تہہِ تیغ بھی جنھوں نے کہا
جو تیرا حکم، جو تیری رضا، جو تو چاہے
جو تیرے باغ میں مزدوریاں کریں امجد
کھلیں وہ پھول بھی اک مرتبہ، جو تو چاہے
مجید امجد

خود ہی لڑے بھنور سے! کیوں زحمت کی؟ ہم جو بیٹھے تھے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 186
پھر تو سب ہمدرد بہت افسوس کے ساتھ یہ کہتے تھے
خود ہی لڑے بھنور سے! کیوں زحمت کی؟ ہم جو بیٹھے تھے
دلوں کے علموں سے وہ اجالا تھا، ہر چہرہ کالا تھا
یوں تو کس نے اپنے بھید کسی کو نہیں بتائے تھے
ماتھے جب سجدوں سے اٹھے تو صفوں صفوں جو فرشتے تھے
سب اس شہر کے تھے اور ہم ان سب کے جاننے والے تھے
اہلِ حضور کی بات نہ پوچھو، کبھی کبھی ان کے دن بھی
سوزِ صفا کی اک صفراوی اکتاہٹ میں کٹتے تھے
قالینوں پر بیٹھ کے عظمت والے سوگ میں جب روئے
دیمک لگے ضمیر اس عزتِ غم پر کیا اترائے تھے
جن کی جیبھ کے کنڈل میں تھا نیشِ عقرب کا پیوند
لکھا ہے، ان بدسخنوں کی قوم پہ اژدر برسے تھے
جن کے لہو سے نکھر رہی ہیں یہ سرسبز ہمیشگیاں
ازلوں سے وہ صادق جذبوں، طیب رزقوں والے تھے
مجید امجد

اک یہ ملک، اور رزق اور گیت اور خوشیاں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 185
مل کر سب تعمیر کریں اک ارماں
اک یہ ملک، اور رزق اور گیت اور خوشیاں
جیتی مٹی! تیرے نام کی ٹھنڈک
میرے اک اک گرم آنسو میں پنہاں
گلی کوئی بےنام، مکاں میں بےنمبر
ہے آباد مرا گھر، کنعاں کنعاں
شفق دھلی میزوں کے گرد وہ چہرے
آنکھیں جن میں جییں کسی کے پیماں
دور سے دیکھو، اونچا پل اس شہر کا
پانیوں پر اک لوہے کی یہ کہکشاں
ذکر کا اک پل اس کمرے میں گراں اور
اک بےمصرف سال کا چلّہ ارزاں
لوحیں طاق پہ ہیں اور ان کے نوشتے
تقدیروں میں تڑپنے والے طوفاں
دنیا اک دائم آباد محلہ
اس اینٹوں کے ابد میں سائے انساں
مجید امجد

اور ہمارے وجود۔۔۔

اور ہمارے وجود، ہمارے خیال، ہماری عاجزیاں… سب اس کے لیے ہیں

جس کو ان کی ضرورت بھی نہیں، اپنی منشاؤں میں۔۔۔ اپنے فیصلوں کے وقت

سدا، زمانوں زمانوں، تہذیبوں تہذیبوں، کیسے کیسے تمرد والے قہقہے

اس کو بھلا دینے میں ابھرے ہیں جو ہمارے نسیانوں میں ہمیشہ سے اک جیتی یاد ہے

اپنے آپ کو دیکھوں تو خود بھی اپنے گمانوں کے بارے میں کیسے خیال رکھتا ہوں

میری حد تک فرق اتنا ہے

مجھ کو بھی اوروں کے جھوٹ نے روند ڈالا ہے

اب میں کس پر جھپٹوں، اس سچائی کے بل پر جو مجھ میں ہے اور جس کو جھٹلانے میں

لگی رہی ہیں میرے لہو کی گردشیں

کچھ ہو۔۔۔ اس کے ہست کا اجرا یا اس کے عندیے کی قطعّیت

کچھ ہو ۔۔۔ ہر حالت میں اس کو پسند ہے صرف اک وہ سچائی

جو سب سے پہلے مٹی کے اک پتلے کے دل میں سہمی ہوئی اتری تھی

اک ہی سچا انسان اس کے سامنے رہا ہے، ہر عالم میں، لاکھوں تیرتی ڈوبتی

تہذیبوں کے درمیان

مجید امجد

اے دل اب تو۔۔۔

اے دل، اب تو کچھ ڈر

اپنے یقینوں سے ڈر

اپنے نہ ڈرنے سے ڈر

اب تو تو نے اپنے سپنوں میں خود سن لیے ایسے ایسے بول

ان سنے ۔۔۔ سہانے

چلتی مشین گنوں سے چھدے ہوئے وہ بول، اک ان جانی بولی میں

بول، کہ جو مرنے والوں کی آخری کراہوں میں دم بھر کو جیے تھے

جب چوبی کھمبوں سے

بندھے ہوئے اعضا اس کڑے کساؤ میں آزادی سے تڑپ بھی نہیں سکے تھے

اور کھمبوں سے ڈھلک گئے تھے

گولیوں سے دھنکے ہوئے

ریزہ ریزہ

خوں چکاں!

اور ۔۔۔ وہ ان کے آخری مختصر، بول سہانے

اَن جانے وطنوں کے ترانوں کے وہ ٹوٹتے جڑے ماترے

اپنے اختیاروں میں اتنے بےبس اور اپنے اطمینانوں میں اتنے بےکل

وہ سب اتنے مقدس حرف جو خواب میں ان سب تصویروں کے ساتھ ابھرے تھے

خواب میں کتنے اچھے لگے تھے۔۔۔ اور اب جاگنے میں تجھ کو اپنے آپ پہ حیرت کیوں ہے

اب وہ پنکھڑیاں اس عجلت سے جھٹک بھی دیں تو نے اپنے دامن سے

اے دل، کچھ ڈر

اے دل، کچھ دیکھ

کتنے قیمتی، کتنے نازک ہیں یہ رابطے جن سے نظام ان تیری ٹک ٹک چلتی راحتوں کے

قائم ہیں ۔۔۔

مجید امجد

اے ری صبح۔۔۔

اے ری صبح کی اجلی زرق برق گزرگاہوں پر چیختی، اڑتی، بےبس خوشبو

یہ نفرت کی دولت تجھ کو بھی تو خرید سکتی ہے

تو نے یہ تو دیکھا ہوتا، تیرا نظر نہ آنے والا بدن کن کن بدنوں پہ لباس ہے

تجھ سے اور کیا ہو سکتا تھا

اس طرح اب جن پیرہنوں نے تجھ کو جھٹک دیا ہے

تو نے ان کی سجل کریزوں پر یوں ٹوٹ کے گرنا ہی تھا

کیسی ہیں یہ سپردگیاں جن میں سچ کی رمزوں کی پسپائی ہے

تو نے یہ تو دیکھا ہوتا، تو جن شستہ پہناووں پر یوں لہلوٹ ہے

ان سے ڈھکے ہوئے جثّوں میں پل پل کیسے تریڑے پڑتے ہیں اس زرد لہو کے

جو کالے رزقوں سے کشید ہوتا ہے

اے اس دنیا کی اچھائیوں کے تت ست میں پنپنے والی روحوں کی روح

کبھی تو تو ان باغوں سے بھی گزرتی

جہاں وہ مہکتے پھول نہیں کھلتے جو دوزخوں کی ٹھنڈک ہیں

مجید امجد

کیا قیمت۔۔۔

کیا قیمت اس مٹی کی جو اب مٹی بھی نہیں ہے

آنسوؤں کے پانی سے نمک کا مالیدہ ہے

لاکھوں رُتیں گلابوں کی اس میں کافور ہیں

اس مٹی میں سونے والے نام سدا باقی ہیں دنیا والوں کے حرفوں کے حنوط سے

اس کی اک ڈھیری پر آنکھیں میچ کے ہاتھ اٹھاؤ تو دھیان ایسے ایسے خیالوں

کی جانب جاتے ہیں

جن سے دونوں جہاں زندہ ہیں

لیکن ہائے وہ مٹی جو اب مٹی میں مٹی بھی نہیں ہے

جس پر صدیوں کے گارے کی تہیں ہیں

دیکھو تو یہ مٹی کہاں نہیں ہے، کہاں کہاں یہ ہاتھ اٹھیں گے

کس کو خبر ان ٹھیکریوں سے ڈھکی ہوئی ڈھلوان کے نیچے

ان آہن ریزوں سے چنی ہوئی بنیاد کے نیچے

کس کس سونے والے کے کچے مسکن کی ڈاٹ ہے جس میں دیے ابد کے ٹمٹماتے ہیں

کہاں کہاں یہ ہاتھ اٹھیں گے

چلتے چلتے ذرا ٹھٹک کر سوچو تو، اک جھونکے میں لپٹ ہے ایسے ایسے

خیالوں کی جن سے یہ دونوں جہاں زندہ ہیں

مجید امجد

ہر جانب ہیں۔۔۔

ہر جا نب ہیں دلوں ضمیروں میں کالے طوفانوں والے لفظ۔ ہزاروں گھنی بھنووں کے نیچے

گھات میں

اب تو میرے لبوں تک آ بھی، حرفِ زندہ

ہر جانب گلیوں کے دلدلی تالابوں میں، بےستر، ہراساں کھڑی ہیں روحیں

قدم کھبے ہیں نیلے کیچڑ میں، اور ان کی ڈوبتی نظروں میں اک بار ذرا تیری تھی ان کی زندگی

ابھی ابھی، اک پل کو

اور اب پھر کالے طوفانوں والے لفظ ان کے لیے جانے کیا کیا سندیسے لائے ہیں

ان کو زندہ رکھیو، حرفِ زندہ!

مدتوں سے بے یاد ہے تو میرے نسیانوں میں، اے حرفِ زندہ

اب تو میرے لبوں پر آ بھی

اب ۔۔۔ جب میرے دیکھتے دیکھتے کالے طوفانوں والے لفظوں کا آبی فرش اک

بچھ بچھ گیا ہے، دور افق کے پیچھے، کہیں ان پانیوں تک جن پر اک ناخدا پیغمبر کی دعاؤں

کے بجرے تیرے تھے

میرے نسیانوں میں جہندہ، حرفِ زندہ

تیرے معنوں میں موّاج ہیں وہ سب علم جو روحوں کو کھیتے ہیں اس اک گھاٹ کی سمت

جہاں امید اور خوف کے ڈانڈے مل جاتے ہیں

اب تو ساری دنیا میں سے جس اک شخص کو ڈوبنا ہے، وہ میں ہوں

اب تو ساری دنیا میں وہ شخص جو تیر کے بچ نکلے گا، میں ہوں

مجید امجد

یہ ایک صبح تو ہے سیرِ بوستاں کے لیے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 179
بچا کے رکھا ہے جس کو غروبِ جاں کے لیے
یہ ایک صبح تو ہے سیرِ بوستاں کے لیے
چلیں کہیں تو سیہ دل زمانوں میں ہوں گی
فراغتیں بھی اس اک صدقِ رائیگاں کے لیے
لکھے ہیں لوحوں پہ جو مردہ لفظ، ان میں جییں
اس اپنی زیست کے اسرار کے بیاں کے لیے
پکارتی رہی ہنسی، بھٹک گئے ریوڑ
نئے گیاہ، نئے چشمۂ رواں کے لیے
سحر کو نکلا ہوں مینہ میں اکیلا کس کے لیے؟
درخت، ابر، ہوا، بوئے ہمرہاں کے لیے
سوادِ نور سے دیکھیں تو تب سراغ ملے
کہ کس مقام کی ظلمت ہے کس جہاں کے لیے
تو روشنی کے ملیدے میں رزق کی خاطر
میں روشنائی کے گودے میں آب و ناں کے لیے
ترس رہے ہیں سدا خشت خشت لمحوں کے دیس
جو میرے دل میں ہے اس شہرِ بےمکاں کے لیے
یہ نین، جلتی لووں، جیتی نیکیوں والے
گھنے بہشتوں کا سایہ ہیں ارضِ جاں کے لیے
ضمیرِ خاک میں خفتہ ہے میرا دل امجد
کہ نیند مجھ کو ملی خوابِ رفتگاں کے لیے
مجید امجد

کچھ دن پہلے۔۔۔

کچھ دن پہلے کی بارش کے بعد… اب گیلی فضائیں سوکھ کے تڑخنے لگی ہیں

دھول کے ہلکے ہلکے آسمان جھکے ہوئے ہیں پانیوں پر جو

بھرے ہوئے ہیں دھان کی اک کیاری میں، پکی سڑک کے ساتھ ساتھ

سورج گرد کے پیچھے چھپا ہوا ہے

کیسا دن ہے

صرف اک ٹھنڈے سے جھونکے کی کمی ہے جس کا گزر ان آسمانوں میں ہے نہ

خیالوں میں

پکی سڑک پر صدہا پہیے گردش میں ہیں، کالے رزقوں کی سمت، آگ لگی آوازوں کے ساتھ

۔۔۔ اور

اک میں سوچتا ہوں، ہر سو، ہر شے پر، گرد کی تہہ کیوں ہے، موت پر بھی

اور زندگی پر بھی۔۔۔

دل کہتا ہے:

شاید مینہ پھر بھی برسے گا

مجید امجد

مطلب تو ہے وہی ۔۔۔

مطلب تو ہے وہی ۔۔۔ تم چاہے برف کے بلاکوں سے اک بھرے ہوئے رہڑے کو کھینچو۔۔۔

(سامنے پل کی چڑھائی ہے، ہاں، دیکھ کے، بوٹ نہ پھسلیں۔۔۔

اور اب تھم کے، آگے رستہ صاف ہے، عینک کے گیلے شیشوں کو پونچھو ۔۔۔ چلو ۔۔۔ چلو)

یا اک ڈسک پہ جھک کے لفظ تراشو، اپنے دل کی چٹان کو توڑ کے

دونوں صورتیں، ایک ہی بات

تمھیں تو اک اَن دیکھے تازیانے کی بےآواز آواز پر

عدل کی چکی پیسنی ہے اور عدل کی چکی میں خود بھی پسنا ہے

اس چکی سے گرتا گرم سنہرے آٹے کا جھرنا تو جانے کس کس کیفیت میں گندھے گا

اپنے جتنوں میں تم جن رتنوں کو ڈھونڈ رہے ہو، جانے کن پتنوں کے پار ملیں گے

اس دوران میں کُرے پھسلتے رہیں گے

جسموں کی سوجی ہوئی لہروں کا فرش اس دریا پر ٹوٹتا جڑتا رہے گا

کہیں کناری دار آنچل کے بیضوی چوکھٹے میں اک چہرہ

اک لب بستہ چہرہ

اپنے آپ یہ اپنی آنکھیں جھکاتے

سوچے گا: تم اس کی جانب کب دیکھو گے!

اور کہیں ظلموں کی زد میں دکھ کی اک چیخ

اپنے دردوں میں بہہ جائے گی یہ جان کے: تم امداد کو آ نہ سکو گے

ہاں۔۔۔ تو ۔۔۔ ڈر گئے نا تم ۔۔۔ تم اور کر بھی کیا سکتے تھے

اک یہ ڈر ہی تو وہ تمھاری قوت ہے، تم جس پہ بھروسا کر سکتے ہو

اک بار اور اپنی پوری قوت سے توجہ

ورنہ برف کے لفظوں میں سب آگ پگھل جائے گی

مجید امجد

میرے دل میں ۔۔۔

میرے دل میں غم کے دشنے کی دھار اتری ہے

دل کا اک ٹکڑا دل سے کٹ کر گرنے کو ہے

ایسے میں اک مونس سچائی ہنستی ہوئی میرے سامنے آتی ہے

اور میں اک ہاتھ سے اپنے دل کے گرتے ہوئے ٹکڑے کو دل پر جوڑ کے، کس کے

گہرے کرب کی لذت میں مسکا کر

دوسرے ہاتھ سے اس کو بڑھ کے سلام کرتا ہوں

پھر میں دیکھتا ہوں، دنیا والوں کی ملاقاتوں میں ہمیشہ

ہر سچائی کا اک ہاتھ تو صرفِ مصافحہ ہوتا ہے

اور دوسرا ہاتھ اتنی ہی مضبوطی سے اپنے دل کی گرتی ہوئی اک پھانک کو

دل کے ساتھ دبائے ہوئے ہوتا ہے

سچی بات جو دل کو لبھاتی ہے، اک دل سے دوسرے دل تک کس مشکل سے

سفر کرتی ہے

اتنی برکتوں والے مکر کی بھی کیا بات ہے

مجید امجد

صبح ہوئی ہے۔۔۔

صبح ہوئی ہے، صبح جو نیندوں میں جینے والی اک موت سے جاگ اٹھنے کی انگڑائی ہے

سونے والو، تمہاری خاک آلودہ لمبی نیندیں میری اک اک شب کی

نیند کی ہمیشگیاں ہیں

سونے والو، جیسی تمہارے وقتوں میں تھی، اب بھی اسی طرح سے ہے یہ دنیا

صبحیں ۔۔۔ اور ان کے بعد آتی شاموں کے کالے جھونکے جن کے دامن میں

موت ہے نیندوں میں ابدائی ہوئی

اور گلی کی ٹوٹی سلاخوں والی نالی تک آ کر جب اک بوڑھے نے

اپنے کھوکھلے پوپلے سے جبڑے کو عصا کے خم پر رکھ کے جنازہ برداروں سے پوچھا:

’’کون تھا؟‘‘ ۔۔۔ تو گدرایا ہوا اک ماتمی بولا:

’’کوئی مہلت مند تھا، ہم تو کاندھا دینے چل پڑے اس کے ساتھ، کہ وہ سو برس جیا تھا‘‘

اور اک بےآب آنسو کی سسکی جب

بھرے محلے کے دروازوں اور منڈیروں سے گزری تو موت کی لذت سے

سب چہرے تمتما اٹھے

یہ سب اپنے خواب ہیں، سونے والو

خواب ہمارے جن میں تمہاری دنیا جاگتی ہے، اے سونے والو!

ہر روز ان صبحوں میں، اک اک شب کی موت کے ڈھلنے پر، اک اَن دیکھے

طائر کے گیت میں

مرنے والوں کے یہ بول ابھرتے ہیں: ’’جیہو ۔۔۔ جیورے ۔۔۔ جیو جیورے۔۔۔!‘‘

سونے والو، تمہیں خبر ہے

اپنی ان نیندوں سے جاگ کے جب میں تمہارے دھیان میں جیتا ہوں تو

تمہاری نیندوں میں کفنائے ہوئے ارمان

مرے جینے میں جاگتے ہیں

مجید امجد

میں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 174
اور اَب یہ کہتا ہوں، یہ جرم تو روا رکھتا
میں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا
خیال صبحوں، کرن ساحلوں کی اوٹ سدا
میں موتیوں جڑی بنسی کی لے جگا رکھتا
جب آسماں پہ خداؤں کے لفظ ٹکراتے
میں اپنی سوچ کی بےحرف لو جلا رکھتا
ہوا کے سایوں میں، ہجر اور ہجرتوں کے وہ خواب
میں اپنے دل میں وہ سب منزلیں سجا رکھتا
انھی حدوں تک ابھرتی یہ لہر جس میں ہوں میں
اگر میں سب یہ سمندر بھی وقت کا رکھتا
پلٹ پڑا ہوں شعاعوں کے چیتھڑے اوڑھے
نشیبِ زینۂ ایام پر عصا رکھتا
یہ کون ہے جو مری زندگی میں آ آ کر
ہے مجھ میں کھوئے مرے جی کو ڈھونڈھتا، رکھتا
غموں کے سبز تبسم سے کنج مہکے ہیں
سمے کے سم کے ثمر ہیں، میں اور کیا رکھتا
کسی خیال میں ہوں یا کسی خلا میں ہوں
کہاں ہوں، کوئی جہاں تو مرا پتا رکھتا
جو شکوہ اب ہے، یہی ابتدا میں تھا امجد
کریم تھا، مری کوشش میں انتہا رکھتا
مجید امجد

جن لفظوں میں۔۔۔

جن لفظوں میں ہمارے دلوں کی بیعتیں ہیں، کیا صرف وہ لفظ ہمارے کچھ بھی نہ کرنے

کا کفارہ بن سکتے ہیں؟

کی ا کچھ چیختے معنوں والی سطریں سہارا بن سکتی ہیں ان کا

جن کی آنکھوں میں اس دیس کی حد ویراں صحنوں تک ہے؟

کیسے یہ شعر اور کیا ان کی حقیقت؟

نا صاحب، اس اپنے لفظوں بھرے کنستر سے چلّو بھر کے بھیک کسی کو دے کر

ہم سے اپنے قرض نہیں اتریں گے

اور یہ قرض اب تک کس سے اور کب اترے ہیں

لاکھوں نصرت مند ہجوموں کی خنداں خنداں خونیں آنکھوں سے بھرے ہوئے

تاریخ کے چوراہوں پر

صاحبِ تخت خداوندوں کی کٹتی گردنیں بھی حل کر نہ سکیں یہ مسائل

اک سائل کے مسائل

اپنے اپنے عروجوں کی افتادگیوں میں ڈوب گئیں سب تہذیبیں، سب فلسفے۔۔۔

تو اَب یہ سب حرف، زبوروں میں جو مجلّد ہیں، کیا حاصل ان کا۔۔۔

جب تک میرا یہ دکھ خود میرے لہو کی دھڑکتی ٹکسالوں میں ڈھل کے دعاؤں بھری اس اک

میلی جھولی میں نہ کھنکے

جو رستے کے کنارے مرے قدموں پہ بچھی ہے

مجید امجد

ان کو جینے کی مہلت۔۔۔

ان کو جینے کی مہلت دے، جو تیرے بندوں کی خاطر جیتے ہیں

ورنہ ۔۔۔ تو ۔۔۔ اس نگری کا اک اک نگ کھوٹا ہے

۔۔۔کوئی نہیں جو ناتواں ذرّوں کا راکھی ہو

کون ان کا راکھی ہے، صرف ان کی یہی دو آنکھیں، جن کی نگہداری میں زندہ ہیں

یہ ناتواں ذرّے

ذرّے، جن میں عزتیں ٹمٹماتی ہیں اس اک گھر کی جس پر محجوب اندیشوں

کی چھت ہے

ان آنکھوں میں جلنے والے مقدس ارمانوں کو روشن رکھ

میں ان آنکھوں کے ارمانوں کے دکھ میں جیتا ہوں

یہ دکھ مجھ کو زندگی سے بھی عزیز ہے

ان کو جینے کی مہلت دے جن کے جیتے رہنے میں اس دکھ، اس غم کی عفت ہے

ان کے دن تھوڑے ہوں تو میری زندگی ان کو دے دے

اس ہونی کے ہونے تک تو۔۔۔ اپنے ہونے تک تو۔۔۔ میں ہوں

اس وقفے کو ایسی راحتوں سے بھر دے، کچھ ایسی راحتیں

جو میں ان دو نگہدار آنکھوں کو دے سکوں، حیائیں جن کی زندگی ہیں

مجید امجد

کیسے دن ہیں۔۔۔

کیسے دن ہیں! اب کے تو مجھ جیسی طاغی کو بھی، جس کی غفلت اتنی دوختہ چشم ہے

تو نے دکھائے

اپنے زمانے — جب وہ غیب کدوں سے چھلک کر پت جھڑ کی صبحوں میں جھلک

پڑتے ہیں

اپنے چشمے — جب ان میں بادل بہتے ہیں

اپنی جنتیں — جب وہ دوام کے بور سے لد جاتی ہیں

میں کب اس قابل تھا۔۔۔

دنیا میں کون اس قابل تھا

دیکھ لے، ان راہوں پر تیری دنیا کے لوگ اپنے قیمتی فرغلوں، میلے کمبلوں میں

ڈوبے ہوئے کتنے

بےنسبت پھرتے ہیں ان مست ہواؤں سے جو تیرے لاکھوں جہانوں کی

گردش کا ثمر ہیں

مجید امجد

پھر مجھ پر بوجھ۔۔۔

پھر مجھ پر بوجھ آ پڑتا ہے ان نظروں کا

جو دنیا میں واحد نظریں ہیں جو دنیا کی ہر شے میں مجھ کو دیکھتی ہیں ۔۔۔ اک مجھ کو

اور یوں مجھ کو دیکھنے میں ان آنکھوں کے آنسو حائل نہیں ہوتے، بلکہ پلٹ جاتے ہیں

پھر اس بوجھ کے نیچے میری اپاہج معرفتوں کا بازوبڑھ کے مرے دل کی کھڑکی کو

کھول دیتا ہے

جس کے کواڑوں سے پھر آ کر ٹکراتے ہیں

باہر زور سے چلنے والی غفلتوں کی آندھی کے تیز تیز جھونکے! وہ کھڑکی زور سے بند

ہو جاتی ہے اور

پھر ان سہمی ہوئی پتھریلی مستطیلوں سے ابل پڑتا ہے

اجلی اجلی زندگیوں کا دریا

جس کا پانی اتنا مہین ہے، سونے کے ذرے اس میں تیرتے صاف نظر آتے ہیں

جن میں میرے خیال بھٹک جاتے ہیں

سر سے سارے بوجھ اتر جاتے ہیں

بجلی کے پنکھے کی طوفانی جھنکارمیں

میرے چہرے پر ٹھنڈے جھونکے کی جھالریں بکھر جاتی ہیں

اور پھر یہ بھی نہیں میں سوچتا، میں کس جنت میں دوزخی ہوں

مجید امجد

جب صرف اپنی بابت۔۔۔

جب صرف اپنی بابت اپنے خیالوں کا اک دیا مرے من میں جلتا رہ جاتا ہے

جب باقی دنیا والوں کے دلوں میں جو جو اندیشے ہیں ان کے الاؤ مری نظروں

میں بجھ جاتے ہیں

تب تو یوں لگتا ہے جیسے کچھ دیواریں ہیں جو میرے چاروں جانب اٹھ آئی ہیں

میں جن میں زندہ چن دیا گیا ہوں

اور پھر دوسرے لمحے اس دیوار سے ٹیک لگا کر۔۔۔ اپنے آپ کو بھول کر

میں نے اپنی روح کے دریاؤں کو جب بھی سامنے پھیلے ہوئے خودموج سمندر کی

وسعت میں سمو دیا ہے

میری قبر کی جامد پسلیاں اِک غافل کر دینے والے سانس کی زد سے دھڑک اٹھی ہیں

لیکن اس اک بےبہا غفلت کو اپنانا بھی تو کتنا کٹھن ہے

پھر دیواریں میرے گرد اٹھ آتی ہیں اور۔۔۔

پھرخودآگہی کا دھندلا سا مقدس دیا مری ہستی کی قبر پر ٹمٹمانے لگتا ہے

مجید امجد

بات کرے بالک سے۔۔۔

بات کرے بالک سے۔۔۔ اور بولے رہ چلتوں سے

اک یہ ذرا کچھ ڈھلی ہوئی شوبھا والی کوملتا

اس کے ستے ستے بال اور پیلی مانگ سے کچھ سرکا ہوا آنچل

دکھی دکھی سی دِکھنے کی کوشش کا دکھ

اس کے چہرے کو چمکائے اور اس کے دل کو اک ڈھارس سی دے

بڑے یقینوں میں مڑ مڑ کر دیکھے، جیسے کچھ رستے میں بھول آئی ہو

مڑنے میں وہ بات کرے اپنے پیچھے چلتے بالک سے، لیکن بولے مجھ سے، میری جانب

اپنی بات اور اپنی نظر کو یک جا کر کے!

دیکھنے میں شاید میں اتنا بھلا مانس نہیں لگتا

مجید امجد

دو پہیوں کا جستی دستہ۔۔۔

دو پہیوں کا جستی دستہ تھام کے چلتے پھرتے میں نے

سدا اسی اک تول میں اک محسوس نہ ہونے والے چین سے

اس دنیا کو دیکھا

بڑھتے مڑتے، کالے بھنور سڑکوں کے

اور دورویہ وہ تختے پھولوں کے

پھول بلاتے بھی تھے اور میں رک بھی نہیں سکتا تھا

وہ دو پہیے ارض و سما تھے، وہ دو پہیے رک بھی نہیں سکتے تھے

پھولوں کے وہ دورویہ تختے ۔۔۔ اکثر ان کی بابت سوچا

کبھی تو آ کر باہم جڑتے چلے جائیں یہ تختے

ان پہیوں کے ساتھ ساتھ ان میرے قدموں کے نیچے

آگے۔۔۔ دور تک۔۔۔ جہاں بھنور ان سڑکوں کے مڑتے ہیں

مجید امجد

بستے رہے سب۔۔۔

بستے رہے سب تیرے بصرے، کوفے

اور نیزے پر بازاروں بازاروں گزرا

سر ۔۔۔ سرور کا

قید میں منزلوں منزلوں روئی

بیٹی ماہِ عرب کی!

اور ان شاموں کے نخلستانوں میں گھر گھر روشن رہے الاؤ

چھینٹے پہنچے تیری رضا کے ریاضوں تک خونِ شہدا کے

اور تیری دنیا کے دمشقوں میں بےداغ پھریں زرکار عبائیں

سامنے لہو بھرے طشتوں میں تھے مقتول گلابوں کے چہرے فرشوں پر

اور ظلموں کے درباروں میں آہن پوش ضمیروں کے دیدے بےنم تھے

مالک، تو ہی ان سب شقی جہانوں کے غوغا میں

ہمیں عطا کر

زیرِ لب ترتیلیں ان ناموں کی، جن پر تیرے لبوں کی مہریں ہیں

مجید امجد

دوسروں کے بھی علم۔۔۔

دوسروں کے بھی علم سے باہر ہیں

وہ سب وابستگیاں جو میرے علم کی سرشاری ہیں

میرے علم سے بھی باہر ہیں

وہ سب وابستگیاں جو دوسرے کے علموں میں عزیز ہیں

لیکن سب وابستگیاں۔۔۔ سب کی وابستگیاں ان روحوں سے ہیں

جو مٹی میں یکساں، یک منزل ہیں

اک اک قبر پہ جلنے والا دیا گو الگ الگ گھر سے آتا ہے

لیکن سارے دیوں کی روشنیاں مل کر مٹی کے اک ہی عالم میں جھلملاتی ہیں

ایک ہی عالم، اپنے غیبوں میں ہر سو حاضر، حاوی

جس کے الگ الگ ڈانڈے اک اک دل سے ملے ہوئے ہیں

آسمانوں کے پیچھے؟

کہیں مٹی کے نیچے؟

جانے کہاں بہتا ہے آنسوؤں میں لتھڑی ہوئی نسبتوں کا وہ دریا۔۔۔

جس کی اس اک رو کو ہی پہچانتا ہے ہر شخص جو صرف اس کے دل تک آتی ہے

وہ دریا جس کی طغیانیاں ناموجود زمانوں کے ساحل سے چھلک کے ہماری ان

پلکوں سے ٹپکتی ہیں تو

ہم کو ایک ایک دیا اک اک تربت پر الگ الگ جل اٹھتا نظر آتا ہے

سب علموں کی یہ تفریقیں ہیں، ورنہ آنسو کب جانب دار ہوئے ہیں

مجید امجد

اندر سے اک دُموی لہر۔۔۔

اندر سے اک دموی لہر ابھر کے جب ان کے چہرے کی وریدوں میں بھر جاتی ہے اور

جب اس امتلا میں لو گ اپنی گلابی آنکھوں کے بےحرف تبسم سے مجھ کو اپنے دل کی اک

تیکھی بات سناتے ہیں

تو میں کہتا ہوں: ’’مولا، تو نے دیکھا، میں تیری اک کیسی دنیا میں ہوں‘‘

پل بھر آنکھوں کے گوشوں تک آ کے پلٹتی پتلیاں، مجھ کو اچانک سامنے پا کر پہلے

تو دانستہ اچٹ جاتی ہیں

اور پھر دوسرے لمحے ہنستی آنکھوں کی جھیلوں میں تیر کے میری جانب جب کچھ اتنے

تپاک سے امڈ پرتی ہیں

تو میں کہتا ہوں: ’’مولا، تو نے دیکھا، میرے یہ اتنے صادق رابطے تیرے کیسے کیسے

بندوں سے ہیں‘‘

مجھ کو دیکھے بغیر جنھیں سب علم ہے، میں کس عالم میں ہوں، کچھ ایسی آنکھیں جب میری

جانب یوں تکتی ہیں

جیسے دنیا والے اک میّت کو اس کے مرے ہوئے ہونے کے وثوق میں تکتے ہیں

تو میں کہتا ہوں: ’’مولا! ان لوگوں کو میری زندگی کی بھی خبر دے‘‘

باہر گیلی گیلی سڑکوں پر، سرما کے ٹھنڈے محرم جھونکوں کے ساتھ، اس پامال سہانی دھوپ

میں تھوڑی دور چلا ہوں تو اب میرا دل کہتا ہے:

’’مولا، تیری معرفتیں تو انسانوں کے جمگھٹ میں تھیں، میں کیوں پڑا رہا اپنے ہی خیالوں کی

اس اندھیری کٹیا میں اب تک؟‘‘

مجید امجد

کالے بادل۔۔۔

کالے بادل! تیرے خوف میں ڈوب کے میرے دریا رک جاتے ہیں

کالے بادل! تیری رو کے ساتھ امڈتے اندیشوں کی بابت سوچوں یا ان چڑھتے

پانیوں کو دیکھوں

جن پر یہ میری ناؤ رواں ہے ایسے ساحلوں کی جانب جو

میری آنکھوں میں بسنے والے چہروں کی اقلیمیں ہیں

تیری پرچھائیں کی حقیقت سے ڈرنے میں اپنی حقیقت بھی

مجھ کو پرچھائیں نظر آتی ہے

مجھ اک سائے کے یہ خدشے اور تجھ ایک حقیقت کی یہ ہیبتیں

ایک سدیمی ضابطے کی تربیتیں ہیں، جس سے ان دنیاؤں کی نمو ہے

کالے بادل! میرے ڈر کو جانچ اور اپنے دخانوں ہی میں بکھر کے گزر جا

ان دریاؤں کو بہنے دے جن میں میرے خیالوں کے یہ دھارے لہراتے ہیں

دھوپ ان پانیوں پر کھیلے گی تو وہ جزیرے چمکیں گے جو میری آنکھوں میں

بسنے والے چہروں کی اقلیمیں ہیں

مجید امجد

اپنے دکھوں کی مستی میں۔۔۔

اپنے دکھوں کی مستی میں اک وہ خنداں چہرہ، جو میرے لیے خنداں تھا

اور وہ اپنی اک جنبش سے دونوں جہانوں کی سب زنجیروں کو جھٹک دینے والی بےکل پلکیں اور

وہ جذبیلی باغی آنکھیں، جو میری خاطر باغی تھیں

چاندنی میں کفنائے ہوئے ظلموں کی بستی کے ٹوٹے فرشوں پر

ان دو محرم سانسوں کے ادوار ۔۔۔ ان دو مونس قدموں کے زمانے

عجب ارادوں والی رات کے واقعے

جیتے واقعے

جن کے سامنے اپنے دل کی پسپائی کا میں شاہد ہوں

میں شاہد ہوں، جو کچھ بیتا اس سرکش مٹی کی طینت میں تھا

وہ سب کچھ اس طاغی دریا کی اک طغیانی تھی

دریا۔۔۔ جس نے صدیوں پہلے بھی اپنے رستے سے پلٹ کر اپنی ریت کی چادر پر

اک جلتی روح کی خاکستر کو جگہ دی

اک دنیا شاہد ہے، راکھ کی اس ڈھیری کے سامنے آج بھی

ارمانوں کی جبینیں جھک جھک جاتی ہیں، جس طرح میری روح ہمیشہ اس خنداں

چہرے کے دھیان میں جھکی ہے

جب سے میرے دِل کے دریاؤں نے رستے بدلے ہیں

مجید امجد

صدیوں تک۔۔۔

صدیوں تک، اقلیموں اقلیموں، زندہ رہتا ہے ایک ہی جسم

پگھلا ہوا، بےجسم ۔۔۔ اک جسم

اپنے چلن کے چولے میں

ایک یہی پیکر

جس میں روحیں آ آ کر اپنی میعادوں میں چکراتی ہیں، کھو جاتی ہیں

زندہ رہتا ہے صدیوں کے کبڑے گھروندوں میں

زندہ ہواؤں میں

اور جب اس کا زمانہ نیلے دھوؤں میں گہنا جاتا ہے

تو بھی اس کی زندگی لہک لہک جاتی ہے ان آنکھوں میں جو

گھنے گھنے باغوں کی طراوتوں سے بھر جاتی ہیں، جب تانبے کی دیواروں کے جنگل میں کہیں

شہنائی کی دھن بجتی ہے

کالے کھمبوں کی نوکیں جب آسمانوں کے سائبانوں کو چھید دیتی ہیں

تو بھی، سدا اک جیتی سوچ کے سانچے میں ڈھل جاتی ہیں سایوں کی عمریں

جب کالے بادل گھر گھر کر آتے ہیں

لوہے کی لچکیلی پٹڑیاں جب عفریتوں کے قدموں سے کڑکڑاتی ہیں

تو بھی، سدا اِک گہری سانس کی نزدیکی میں سما جاتی ہیں ترستی دوریاں

شام کو جب تاروں کے ابد جل اٹھتے ہیں

مجید امجد

خوردبینوں پہ جھکی۔۔۔

خوردبینوں پہ جھکی آنکھوں کی ٹکٹکی کے نیچے دنیا کے چمکیلے شیشے پر اپنے لہو کی چکٹ میں

کلبلاتے، بےکل جرثومو!

دیکھو، تمہارے سروں پر گرداں خوردبینوں میں گھورتی آنکھیں تقدیروں کی

تم سے کیا کہتی ہیں، سنو تو۔۔۔

’’بھرے کُرے پر جڑجڑ جیتے کرمکو، تم کب تک سورج کی کرنوں کا میٹھا کیچڑ چاٹو گے۔۔۔

گیلا ریتلا سرد اندھیرا ہے آگے تو۔۔۔

آگے تو جو کچھ ہو ۔۔۔

لیکن آج تمہارے جڑے جڑے جسموں کی لپٹوں اور تمہاری گتھم گتھا روحوں کے گچھوں کے

اندر جب میرے دبلے سے دل نے اچانک

اپنے اکیلے پن میں اپنا رخ اپنی جانب دیکھا ہے تو تم میں ہوتے ہوئے بھی میرے دل کو تم پہ

ترس آیا ہے

آگے تو جو کچھ ہو۔۔۔

دنیا کے دھبے میں بھری ہوئی ہم سب بےچہرہ بےکل روحیں، ہم سب کلبلاتے جرثومے

آگے جو کچھ ہو۔۔۔ اِک بار تو خود پہ ترس کھا کر دیکھیں۔۔۔

شاید ہم کو دیکھنے کے لیے تقدیروں کو اپنی خوردبینوں کے زاویے بدلنے پڑیں۔۔۔

مجید امجد

آنے والے ساحلوں پر۔۔۔

آنے والے ساحلوں پر تو جانے کن قدروں کی میزانیں ہیں

لیکن ان سب بھرے جہازوں کو دیکھو، یہ قدآور مستول اور ممتلی بادبان۔۔۔

عرشے عرشے پر یہ بوجھل روحوں، چکنی آنکھوں والے مسافر ۔۔۔

کس نخوت سے، کن اطمینانوں میں تیرتے ہیں یہ بیڑے۔۔۔

جن میں لدے ہوئے یہ خزانے آنے والے ساحلوں پر سب مٹی کے دانے ہیں

اور اس ڈوبنے والے کو دیکھو۔۔۔ اک موج کے بل پر آخری بار ابھر کر

دور سے اس نے بادبانوں کی دھندلی قوس کو کس حسرت سے دیکھا۔۔۔

اور اس کے دل میں وہ دولت تھی، آنے والے ساحل جس کی قیمت ہیں ۔۔۔

اور ان جیتی ہانپتی سڑکوں کے پتھریلے سمندر۔۔۔ مڑتے اور لہراتے۔۔۔

اپنی منجدھاروں اور اپنے ساحلوں کو یوں روز اچھالتے ہیں میری نظروں کے سامنے

دنیاؤں اورعقباؤں کے اس سنگھم پر۔۔۔

اور میں خالی ہاتھوں سوچتا ہوں… کون ایسا ہے جو

ان سنگین تریڑوں کے جب پار اترے تو اس کے پاس وہ سامگری ہو

آنے والے گھاٹ پہ جس کا مول ہے

مجید امجد

برسوں عرصوں میں۔۔۔

برسوں عرصوں میں اب نیندوں میں جاگے ہیں

خواب، جو جاگتے دنوں کے آنسوؤں میں جیتے تھے

خواب، جو کل بیداری میں بھی اپنے نہیں تھے

جو اب نیندوں میں بھی اپنے نہیں ہیں

صرف یہ آنسو ہمیشہ سے اپنے تھے، جن میں ان خوابوں کی جوت جلی تھی

کسے خبر کیسی ہیں دوریوں کی یہ دنیائیں جو برسوں عرصوں ہمارے دلوں سے بعید رہتی ہیں

اور اچانک کبھی ہم اپنی زندگیوں کو ان کے چمکتے مدار میں پاتے ہیں پل بھر کو

پل بھر اتنے قریب تک آ کر پھر وہ دوریاں اپنے سدیمی سفر پر ہم سے دور اور دورتر ہو جاتی ہیں

اور ہمارے آنسوؤں میں ان کے عکسوں کی قربتیں بھی دھندلا جاتی ہیں۔۔۔

کیسے ہیں یہ انجمیں قافلے، جن کا پڑاؤ کبھی برسوں میں پل بھر کو روحوں کے

ساحلوں پر ہوتا ہے

تو وقتوں کے دریاؤں میں روشنیوں کے دودھ بہتے ہیں

اور پھر عمر بھر آنکھیں اپنے آنسوؤں میں ان تسکینوں کو ترستی رہ جاتی ہیں

مجید امجد

سب سینوں میں۔۔۔

سب سینوں میں یکساں بٹے ہوئے ہیں علم اک دوسرے کے سب احوالوں کے

اور سب سینے خالی ہیں ان دانستوں سے

جن میں یک جانی کی نشو و نما ہوتی ہے

اپنی اپنی اناؤں کے ان بےتسنیم بہشتوں میں سب الگ تھلگ ہیں

ان کے علموں کی ڈالی پر استفہاموں کا میوہ نہیں لگتا

سب نے اپنی دانستوں سے ابھرنے والے سوالوں کی جانب دروازے اپنے دلوں کے مقفل کر کے

چابیاں اب دوزخ کے پچھواڑے میں پھینک بھی دی ہیں

ایسے میں اَب کون سنے گا کسی کا شکوہ

اندر تو سینوں میں پہلے سے اتنا غوغا ہے اپنی ہی سانسوں کا

راکھ کے ذرّوں سے زر ریز ے نتھارنے والے اشک آلود خیالو!

کہو تمہیں کچھ سوجھا، اپنے غبار کی اوٹ میں

ہمیں تو پہلے ہی سے پتا تھا

مرنے سے پہلے لوگ اپنے جاننے والوں کےعملوں میں مرتے ہیں

مجید امجد

کبھی کبھی تو زندگیاں۔۔۔

کبھی کبھی تو زندگیاں کچھ اتنے وقت میں اپنی مرادیں حاصل کر لیتی ہیں

جتنے وقت میں لقمہ پلیٹ سے منہ میں پہنچتا ہے۔۔۔ اور

اکثر ایسی مرادوں کی تو پہنچ بھی لقموں تک ہوتی ہے

اور جب ایسی منزلیں بارور ہوتی ہیں تو شہر پنپتے ہیں اورگاؤں پھبکتے ہیں۔۔۔ اور

تہذیبوں کی منڈیوں میں ہرجانب قسطاسوں کی ٹیڑھی ڈنڈیاں، روز و شب تیزی تیزی سے

انسانوں کی جھولیوں میں رزقوں کی دھڑیاں الٹتی ہیں۔۔۔ اور

بھرے سماجوں میں شدھ تلقینوں کی ڈونڈیاں پیٹنے والے بھی اپنی اپنی پیغمبریوں کی

تنخواہیں پاتے ہیں۔۔۔

لیکن کس کو خبر ہے، ایسی بھی ہیں منزلیں جن تک جانے والے رستوں پر نہ دعا کا سایہ

ہے نہ قضا کا گڑھا ہے

کچھ ہے بھی تو بس اپنی سوچوں کی دھجیوں میں سمٹی ہوئی اک بےچارگی، جس کی بےصدا

ہوک میں عمریں ڈوب جاتی ہیں

اور قطبوں سے قطبوں تک اڑ اڑ کر جانے والے تھکے پروں کی کمانیں بھی تو

اک منزل پہ چمکتی آبناؤں کی سمت لچک جاتی ہیں ۔۔۔

لیکن ہائے وہ منزلیں، جن تک ہر سچائی رستہ ہے اور ہر سچائی موت کا جیتا نام ہے

مجید امجد

ہم تو اسی تمہارے سچ۔۔۔

ہم تو اسی تمہارے سچ کے کباڑ میں تمہارے ساتھ یہیں پر کُرم کُرم بستے ہیں

تم کیا جانو۔۔۔

اکھڑی ہوئی جڑوں والی دیواریں گرتے گرتے ماتھے جوڑ کے جس کونے میں ٹھٹک گئی تھیں

وہیں کہیں وہ چھوٹی سی میری دنیا تھی۔۔۔ یہ بسرام تو تیاگ میں مجھ کو ملا تھا۔۔۔

’’اور تمہیں کیا چاہیے۔۔۔ مزے مزے سے بیٹھ کے

اپنے دانت اَب کچکچاؤ تم اندھیروں سے اس بھرے ہوئے چھوٹے سے ڈبے میں

یہ چھت جس پر ڈھکنا ہے

چونک کے میں نے دیکھا، گلتے، بھربھرے کاغذ، اک میری نظم کے سارے حرف

اب ان کے جبڑوں میں تھے

اور تب میں نے سوچا، دھنسی پرانی لحدوں میں بل کھاتے کرمکوں کی خوشدامنیں

دیمکیں سچ کہتی ہیں

جو اس گدلی یکسوئی میں بیٹھ کے کالی روشنائی کے ریزوں کو یوں کُرم کُرم چبتی ہیں

لاکھ حرفوں میں علموں کا جو گودا تھا، اَب وہ ان دانتوں کی کترن ہے۔۔۔

تلواروں کی نوکوں سے لکھے ہوئے لفظوں کی صورت میں سرسراتی زنجیریں اب

ان آنتوں کی اترن ہیں

سارے لیکھک اپنی لکھتوں میں پس گئے ان جبڑوں کے بیچ۔۔۔ ان سب پر

دھوپ کفن تھی

دیمکیں سچ کہتی ہیں۔۔۔ واقعی باہر موت کی شرطوں پر جیتے ہیں جینے والے۔۔۔

اکثر میرے تعاقب میں آئی ہیں ان آنکھوں کی گردش کرتی کرگسی پتلیاں

آنکھیں جو یوں اپنی پلکوں پر میرے لفظوں کو تولنے میں میری نبضوں کے بقایوں کو بھی

گن لیتی ہیں

’’تم رہو ڈرتے عقباؤں سے۔۔۔ ہم سے جو پوچھو تو ہماری ہی سب گوتیں ہیں

جو آخرتوں کے گوشت کدوں میں، زعفرانی ڈوروں والی کافوری خلعتیں اوڑھ کے

مزے مزے سے مٹی چچوڑتی ہیں

تم پڑے یونہی ڈرتے رہو اے لمبی ٹانگوں والے انسانی مکوڑو۔۔۔‘‘

مجید امجد

لیکن سچ تو یہ ہے۔۔۔

لیکن سچ تو یہ ہے، صرف ہمیں جھٹلا سکتے ہیں اپنی جھوٹی سچائی کو

ورنہ اپنا حال تو یہ ہے، ظاہر کرنے کو تو یوں ظاہر کرنا جیسے ہم جیتے ہیں بس کچھ

ایسے خود مست یقینوں میں جو

صرف ہمیں کو اپنے بارے میں حاصل ہیں۔۔۔

لیکن اندر ہی اندر یہ باور کرنا ’’آنے والی اگلی سانس تو بڑی کٹھن ہو گی، جب تک

ہم اپنے اس بہروپ کو ترک نہیں کر دیتے‘‘

زندگیوں کے برتاووں میں اپنے جھوٹ سے ہم لوگوں کو دہلاتے ہیں

اور اپنے سچ سے خود سہمے ہوئے رہتے ہیں

ایسا کون ہے جس کی طلب دنیا میں بے بہروپ ہے

اور خودمست آنکھوں کی ساحر ٹکٹکی اور لب بستہ حلقوموں کی مخفی تلخی

کے پیچھے تو جانے کس کس مجبوری کا عمل ہے

کالی ریت کے جلتے صحراؤں میں شکم کی پیاس انہی خودمست آنکھوں کے روشن

روزنوں سے میٹھے چشموں کی چمک کو سونگھتی ہے

لوگ کسی کو کتنا ہی بےفکر تفکر والا سمجھیں، پر یہ تو اس کا دل ہے

جانتا ہے، میٹھے چشمے کتنے دور ہیں جو لوگوں کو اس کی آنکھوں میں لہراتے نظر آتے ہیں

مجید امجد

اور پھر اک دن۔۔۔

اور پھر اک دن میں اور تم جب ان اونچی نیچی دیواروں کے جھرمٹ میں اترے

جن میں کبھی ہماری روحوں کو زندہ چن دیا گیا تھا۔۔۔

اس وقت آنگن آنگن میں، ترچھی کرنوں نے

دھوپ کے کنگرے سایوں کی قاشوں میں ٹانک دیے تھے

دیکھا ہوا سا کوئی سماں پرانا اس دن ہم نے دیکھا

یوں لگتا تھا جیسے آسمانوں کی روشنیاں جھک کر اس اک قریے کو دیکھ رہی تھیں

اور ہمیں تب وہ دن یاد آئے جب موت ہماری زندگیوں سے گزر رہی تھی، ایسی ہی

صبحوں کی اوٹ میں

ہم ان زینہ بہ زینہ منڈیروں کے جھرمٹ میں تھے اور اس شہر کے لوگ

اب بھی گلیوں میں

خوانچے لگائے اپنی زندگیوں کو بیچ رہے تھے

اور پھر ہم نے سوچا، کون اچھا ہے، ہم جو مردہ چہروں سے جینے کی خواہش

پاتے ہیں، یا وہ جو

ہم کو زندہ دیکھ کے ہماری موت کو مان لیتے ہیں

ابھی ابھی تو میرے ساتھ تھے تم، اے گزرے ہوئے زمانوں کے خیالو! پھر کب لوٹو گے؟

اک دن پھر بھی تمہارے ساتھ اس خاک کے تختے تک جاؤں گا

جس سے ڈھکے ہوئے بے نور گڑھوں میں کچھ نادیدہ آنکھیں

ہم کو دیکھ کے اَب بھی ہنس ہنس اٹھتی نظر آتی ہیں

مجید امجد

اور یہ انساں۔۔۔

اور یہ انساں۔۔۔ جو مٹی کا اِک ذرّہ ہے۔۔۔ جو مٹی سے بھی کم تر ہے

اپنے لیے ڈھونڈے تو اُس کے سارے شرف سچی تمکینوں میں ہیں

لیکن کیا یہ تکریمیں ملتی ہیں

زر کی چمک سے؟

تہذیبوں کی چھب سے؟

سلطنتوں کی دھج سے؟

نہیں۔۔۔ نہیں تو!

پھر کیوں مٹی کے اس ذرّے کو سجدہ کیا اک اک طاقت نے؟

کیا اس کی رفعت ہی کی یہ سب تسخیریں ہیں؟

میں بتلا دوں:

کیا اس کی قوت اور کیسی اس کی تسخیریں؟

میں بتلا دوں:

قاہر جذبوں کے آگے بے بس ہونے میں مٹی کا یہ ذرّہ

اپنے آپ میں

جب مٹی سے بھی کم تر ہو جاتا ہے، سننے والا اس کی سنتا ہے

سننے والا جس کی سنے، وہ تو اپنے مٹی ہونےمیں بھی انمول ہے

مجید امجد

دل تو دھڑکتے۔۔۔

دل تو دھڑکتے آگے بڑھتے قدموں کا اک سلسلہ ہے

دل کا قدم جو گزرتے وقت کی منزل طے کرتا ہے

ساتھ ہی، ایک ہی وقت میں، بیتے وقتوں کی جانب بھی بڑھتا ہے

دل پر وقت کی جو منزل ہے، طے نہیں ہوتی۔۔۔

بس اک انجانی سی آگہی ہے جس کی بیدارمسافت پر سب مرحلے

اک ساتھ اپنی گزرانوں کی نیندوں میں

جاگتے ہیں

بیٹھے بیٹھے آج اس کیفیت سے ڈر اٹھا ہوں، جس کو میں پہچانتا ہوں اورجس کی بابت

جانتاہوں، یہ کیفیت اس وقت ابھرے گی

آنے والے دِن جب گزرے دنوں کی منزل سے گزریں گے

گزرے ہوئے زمانوں کی منزل سے گزرنے والے۔۔۔ آنے والے دنوں کا

خیال آتے ہی

وقتوں کی کچھ سطحیں دل کے دھڑکتے قدموں کے نیچے سے سرک گئی ہیں

دل کو سہارا دینے والا اِک ڈر، من کو لبھانے والی ایک اداسی

جن کا کوئی ابد ہے اور نہ عدم ہے

پل بھر میری زیست کا حصہ رہے ہیں

گزرے دنوں کی خوشیاں آنے والے غموں کا جزو نظرآتی ہیں

مجید امجد

کل۔۔۔ جب۔۔۔

آخرتمہیں بھی سوجھی یوں ہم ڈرے ہوؤں سے ڈرنے کی

نا بھئی، اب ہم پھر نہ کہیں گے بات یہ جینے مرنے کی

ابھی سنی جو تم نے کتھا یہ موت کے مشکل لمحے کی

وہ تو جیتے جی، خود جی سے گزرتی سوچ کی کروٹ تھی

کاہے کو تم گھبرا گئے، یہ تو روپ تھا خود سے لگاوٹ کا

یونہی ذرا کچھ اپنے آپ سے روٹھ کے ہم نے دیکھا تھا

اچھا، مان لیا۔۔۔ ہیں زخم ان بھیدوں کے سب دُکھن بھرے

ہونے اور نہ ہونے کے اس الجھیڑے میں کون پڑے

چھوڑیں بھی وہ جھوٹی سچی بات۔۔۔ ذرا اب دنیا کو

اک نظر ہم اپنی شکم سیر آنکھوں سے بھی دیکھیں تو

تمہیں خبر ہے، تم سچے ہو، دنیا کی یہ انوکھی دھج

صرف اِک سورج سے ہے، وہ بھی تمہارے چہرے کا سورج

تم سچے ہو، جو کچھ بھی ہے جیتے دنوں کا میلا ہے

مٹی جسم ہے، مٹی نور ہے، مٹی وقت کا ریلا ہے

ہرے بھرے میدان، ابلتے قریے، باسمتی کی باس

سانسیں، عمریں، قدریں۔۔۔ سب کچھ سکے، پہیے، چربی، ماس

سب تقدیریں، سب ہنگامے، سب یہ مسائل بھنور بھنور

سب کچھ ایک خنک سا جھونکا، تمہارے رخ کے پسینے پر

اچھا، اب توخوش ہو۔۔۔ اَب بھی سنو تو میرا دل یہ کہے

بھائی، کل کیا ہو گا ۔۔۔ کل جب بیگھے خون میں بھیگ گئے

مجید امجد

عرشوں تک۔۔۔

عرشوں تک اونچے آدرش کے فیضانوں میں بھی

اسی طرح سے ہمیشہ ڈرتے رہے ہیں لوگ ان لوگوں سے جو

اپنے لمبے بازوؤں میں سب تدبیریں رکھتے ہیں

اور یہ کون بتائے، اس اک ڈر کے ناطے کتنے کچے ہیں، کتنے سچے ہیں

تدبیروں والوں کی گردنیں ہل نہیں سکتیں

لیکن ڈرے ہوئے لوگوں کی اک اک التجا کو اپنی پلکوں سے چن لیتی ہیں وہ آنکھیں جو

ان سب موٹی موٹی گردنوں، خودسر کھوپڑیوں سے جھانکتی ہیں، فاتح فاتح، نازاں نازاں

اور یوں طاغی روحوں کو عظمت کی غذا ملتی ہے

اور یوں ناتواں چیونٹیاں قدموں کے نیچے پسنے سے بچ جاتی ہیں

اور میں نے یہ دیکھا ہے روز ان خشت کدوں کے اندر اک اک ہمہماتے چھتے میں

جس میٹھے، مٹیالے شہد کی بانٹ ہے

اس کو نارسا عاجزیاں ان پھولوں سے حاصل کرنی ہیں جو

فرعونوں کے باغوں میں کھلتے ہیں

زینہ بہ زینہ، اک اک بام پہ بت اور ان کی لکھ لٹ آنکھیں، ہنستی، ارذل خوشیاں بانٹتی

روز و شب کی احتیاجوں میں۔۔۔ یوں ہی فرشوں کے دھندے چلتے ہیں

عرشوں تک اونچے آدرشوں کے سایوں میں

مجید امجد

تج دو کہ برت لو، دل تو یہی، چن لو کہ گنوا دو، دن تو یہی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 148
اک سانس کی مدھم لو تو یہی، اک پل تو یہی، اک چھن تو یہی
تج دو کہ برت لو، دل تو یہی، چن لو کہ گنوا دو، دن تو یہی
لرزاں ہے لہو کی خلیجوں میں، پیچاں ہے بدن کی نسیجوں میں
اک بجھتے ہوئے شعلے کا سفر، کچھ دن ہو اگر کچھ دن تو یہی
بل کھائے، دکھے، نظروں سے رِسے، سانسوں میں بہے، سوچوں میں جلے
بجھتے ہوئے اس شعلے کے جتن، ہے کچھ بھی اگر کچھ دن تو یہی
میں ذہن پہ اپنے گہری شکن، میں صدق میں اپنے بھٹکا ہوا
ان بندھنوں میں اک انگڑائی، منزل ہے جو کوئی کٹھن تو یہی
اس ڈھب سے جییں سینوں کے شرر، جھونکوں میں گھلیں، قدروں میں تلیں
کاوش ہے کوئی مشکل تو یہی، کوشش ہے کوئی ممکن تو یہی
پھر برف گری، اک گزری ہوئی پت جھڑ کی بہاریں یاد آئیں
اس رُت کی نچنت ہواؤں میں ہیں، کچھ ٹیسیں اتنی دکھن تو یہی
مجید امجد

مجھ کو ڈر نہیں۔۔۔

مجھ کو ڈر نہیں اس کا، آج اگر میں ڈرتا ہوں اس قہقہے سے جو میری اس آواز سے ٹکرایا ہے

یہ میری آواز جو اک اور شخص کے دل سے سدا ابھری ہے۔۔۔

آج اس خوف کا دن ابھرا ہے، اور کل بھی شاید یہ قہقہہ حاوی ہو گا اس آواز پہ جو میری آواز ہے

اور جو اک اور شخص کے دل سے سدا ابھری ہے

اور اس شخص کا دل تو گونجتا زمانہ ہے، اور میرے دل میں کبھی نہیں بیتا وہ دن جب

ان راہوں پر

اس کے تنہا ہاتھ میں مشعل کی لو اور اس کے تنہا قدموں میں زمانوں کی آہٹ

اک ساتھ بڑھی تھی میری جانب

آج اک قہقہے کی کالی قاتل برچھی، جو میرے دل کو کاٹ گئی ہے

اس آواز کے سینے میں پیوست ہے

آج اس قہقہے سے ڈرتا ہوں، لیکن آج کے اپنے ڈر سے میں نہیں ڈرتا

اک دن آئے گا جب وقت اپنی آواز میں جاگے گا، سب کالے قاتل قہقہوں پر حاوی

مجید امجد

تو تو سب کچھ

تو تو سب کچھ جانتا ہے، وہ کیسی کیسی شکستہ کمر توقیریں تھیں جن کی خاطر

تجھ سے طاغی ہو کر ڈوبا رہا ہوں

اس اک گہری ٹھنڈی سانس میں

جس کے چلتے آرے کی یہ دھار اب

میرے دل کو چیرنے لگی ہے

سب کچھ والے، سب کچھ تو تجھ سے تھا

اپنی روح کے اس خاکی سے دکھاوے کی خاطر، اک میں ہی

جھوٹے خیالوں کی یہ کچی تیلیاں جوڑ کے

اپنے گمانوں کے قلعے میں یوں اب تک دربند تھا

ورنہ ساری صولتیں تو اس نام کو حاصل تھیں جو تیرے ظاہر و مخفی وجود سے باہر

تیرا اسم ہے

سچی عزتوں والے، ان سب کائناتوں میں جو کچھ عیاں ہے اس سے بھی بڑھ کر

اظہر ہیں تیری عطائیں، جن کے ستر میں ناموس

ان سب ناموں کے جو سورج کے نیچے جلتے ہیں

یا جو مٹی کے اندر جیتے ہیں

مرے نجس، نکمے، ناری نام کو اپنے کرم کی رمزوں کے زمروں میں رکھنا

مجید امجد

بھولے ہوئے وہ لبھاوے۔۔۔

بھولے ہوئے وہ لبھاوے تب تو کتنے سچے کتنے کھرے تھے

تب تو اپنے وقت کی سچائی تھیں گزری ہوئی وہ جھوٹی خوشیاں

جو اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کے اک دن سیدھی اس میرے دل میں آئی تھیں

اب تو سچ مچ وہ خوشیاں جھوٹی لگتی ہیں، اب کہتا ہوں، کتنا بھولنہار تھا تب میں ۔۔۔

اب تو اور ہی جھوٹی سی اک اپنی سوجھ کی سچائی پر اتراتا ہوں

جانے اس کروٹ کو آگے چل کر میں اک بھول ہی سمجھوں

شاید سب یہ گزرنے والے دن ہوں دکھاوے ان سب آنے والے دنوں کے

دن اب جن کے لوبھ میں جینا ہو گا

دن جو میرے دل تک میرے جھوٹ کی سیڑھیاں ہیں

میری موت کی سچائی تک

مجید امجد

اور ان خارزاروں میں۔۔۔

اور ان خارزاروں میں چلتے چلتے خیال آتا ہے

سدا ہمارے دلوں میں چٹکنے والی کلیوں کی یہ بہاریں

جن صبحوں اور جن شاموں کا موسم ہیں

وہ دن آئیں گے تو۔۔۔

اور کانٹوں کی ٹوٹتی نوکیں ہمارے قدموں کے نیچے کڑکڑانے لگتی ہیں

اور سانسوں کی لہر میں لوہے کی سیال سی پتری جڑ جاتی ہے

اور زمین کی پیٹھ پر اپنا بوجھ بہت کم رہ جاتا ہے

اب تک ہم نے کیسے کیسے یقینوں کے ان نیلم جڑے پیالوں میں عمروں کا زہر پیا ہے

یوں کتنے دڑبوں میں آس کے چہروں پر اک مٹیالی سی دمک جیتی ہے

آسمانوں کو گونجتی پہنائی میں ہمارے نام کے ذرّے بکھر بکھر جاتے ہیں

کبھی نہ مرجھانے والے پھولوں کے ڈھیر ہمارے من میں

اور یہ سب کچھ۔۔۔

اور یہ سب کچھ ایسے وقت میں جب اپنے دامن میں پیتل کی اک پنکھڑی بھی نہیں ہوتی

مجید امجد

اب بھی آنکھیں۔۔۔

اب بھی آنکھیں ان کو ڈھونڈتی ہیں جو اب بھی آنکھوں میں بستے ہیں

ہر جانب بستے ہیں وہ ۔۔۔ ہم جن کا بھرم تھے جب وہ تھے

اب بھی ہمارے ساتھ ہیں ان کے دکھ، ہم جن کا مداوا تھے جب وہ تھے

اب تو ان کے رابطے

ہماری زندگیوں کے غیاب میں

جینے والے کشف ہیں

کون بتائے اپنے رازوں میں ہیں کتنی بیکراں۔۔۔ یہ بے فاصلہ دوریاں

جانے کن اقلیموں سے آتے ہیں خیالوں کے ہلکے ہلکے سے جھکولے

جو ۔۔۔ چپکے سے ۔۔۔ دھیرے دھیرے ۔۔۔ روحوں کے کنجوں میں سرسراتے ہیں

تو آنکھوں میں بھر بھر جاتی ہیں مٹی ان آستانوں کی۔۔۔

جن کے امٹ نشانوں کے سامنے

ان کے دعا کے ہاتھ ہمارے لیے اٹھے تھے

ان کی سانسوں میں جینے والے زمانے ہمارے دلوں میں جاگتے ہیں۔۔۔ اور اب بھی

ہماری آنکھوں میں بستے ہیں وہ، ہم جن کے ضمیروں میں تھے جب وہ تھے

مجید امجد

اس کو علم ہے۔۔۔

اس کو علم ہے، اب وہ ایک سیاہ گڑھے کے دہانے پر ہے

آگے … اک وہ گڑھا ہے اور اس کا وہ اگلا قدم ہے

اب بھی اس کی بےحس،بے دانت، اوچھی، مسترخی باچھیں ہنستی ہیں

اس کا دل نہیں ہنستا اور اس کی باچھیں ہیں جو ہنستی ہیں

یہ اک پُرتحقیر تلطّف دھار ہے اس تلوار کی جس کی زد اتنی کاری ہے

سب اس وار سے اپنی ذلت کی عظمت پاتے ہیں

اس خوش بخت کو علم ہے، اس کے دن تھوڑے ہیں

اس کو علم ہے، اس کا آخری وار اور اس کا اگلا قدم اک ساتھ پڑیں گے

آگے اک وہ گڑھا ہے اور اس کا وہ اگلا قدم ہے

اب ایسے میں جتنے سانس بھی ہیں اس گڑھے سے باہر

جس سے کبھی کوئی باہر نہیں نکلا

اس کی یہ کوشش ہے، وہ اس وقفے کے اندر بھر لے اپنی باچھوں میں

کچھ گھونٹ اور بھی

خوشیوں کے اس گاڑھے جوشاندے کے

جس میں مظلوموں کا لہو پکتا ہے

مجید امجد

باڑیوں میں مینہ۔۔۔

باڑیوں میں مینہ کا پانی، اور ان کے ساتھ ساتھ آگے تک

کیچڑ کیچڑ ڈھلوانوں کی نم مٹی پہ چمکتی ٹھیکریاں اور تنکے

جن میں کھبے کھبے سے نقش، ان قدموں کے جو

ادھر سے جیسے ابھی ابھی گزرے تھے، زمانوں کے اوجھل!

اب کوسوں خطّوں دور، ان اینٹوں کے گھیرے میں یوں بیٹھ کر سوچنا ان روحوں

کے بارے میں

گونگی، منہمک چیونٹیاں تھیں اپنے اپنے جتنوں میں

اپنی اپنی نارسائی میں

اب اس ٹھنڈی سانس کے قلعے میں یوں بیٹھ کر سوچنا۔۔۔

کتنی بڑی ہزیمت ہے ان آہنی خوشیوں کی جن کی نوکیلی باڑ سے

باہر ہیں ان روحوں کے وہ سب دکھ اور وہ سب

نیکیاں جو زینہ تھیں اس قلعے تک

آج اس ٹھنڈی سانس کے قلعے میں یہ آہنی خوشیاں سب کتنی بے امن ہیں

سارے امن تو ان نازک اندیشوں والی زندگیوں ہی میں تھے

جن کے نقشِ قدم کیچڑ کیچڑ ڈھلوانوں سے جیتی گلیوں تک جاتے تھے

مجید امجد

جس بھی روح کا۔۔۔

جس بھی روح کا گھونگھٹ سرکاؤ… نیچے اک

منفعت کا رخ اپنے اطمینانوں میں روشن ہے

ہم سمجھے تھے، گھرتے امڈتے بادلوں کے نیچے جب ٹھنڈی ہوا چلے گی

دن بدلیں گے۔۔۔

لیکن اب دیکھا ہے، گھنے گھنے سایوں کے نیچے

زندگیوں کی سلسبیلوں میں

ڈھکی ڈھکی جن نالیوں سے پانی آ آ کر گرتا ہے

سب زیرِ زمین نظاموں کی نیلی کڑیاں ہیں!

سب تملیکیں ہیں! سب تذلیلیں ہیں!

کون سہارا دے گا ان کو جن کے لیے سب کچھ اک کرب ہے

کون سہارا دے گا ان کو جن کا سہارا آسمانوں کے خلاؤں میں بکھرا ہوا

دھندلا دھندلا سا اک عکس ہے

میں ان عکسوں کا عکاس ہوں۔۔۔

مجید امجد

ان بے داغ ۔۔۔

ان بے داغ دبیز غلافوں کے عطروں میں یوں تو سب کچھ ہے

۔۔۔جن کو تمھاری آنکھیں چومتی ہیں

ان شفاف چمکتی دہلیزوں میں یوں تو سب کچھ ہے

۔۔۔جن پہ تمھارے سجدے بچھتے ہیں

پُرہیبت دیواروں، میناروں اور گنبدوں کے سایوں میں یوں تو سب کچھ ہے

۔۔۔جن میں داخل ہوتے ہی تمھاری سانسیں

ابد کے بوجھ کے نیچے رک رک جاتی ہیں

تقدیسوں کے اسیرو، تم یہ بھی تو سوچتے

اصل میں سب کچھ تو وہ برتاوے تھے جن کو عمروں کے اس ٹکڑے نے اپنایا جو اب

ان قبروں کی مقدس مٹی ہے

تم بھی اس اک پل کو جگمگا سکتے ہو

جس کا تمھاری عمر اک ٹکڑا ہے

ورنہ یوں ہی ان اپنی سچی سوچوں میں ٹھوکریں کھاؤ گے

مجید امجد