زمرہ جات کے محفوظات: اصناف

ابجی ڈُ ڈُو

’’مجھے مت ستائیے۔ خدا کی قسم، میں آپ سے کہتی ہوں، مجھے مت ستائیے‘‘

’’تم بہت ظلم کررہی ہو آج کل!‘‘

’’جی ہاں بہت ظلم کررہی ہوں‘‘

’’یہ تو کوئی جواب نہیں‘‘

’’میری طرف سے صاف جواب ہے اور یہ میں آپ سے کئی دفعہ کہہ چکی ہوں‘‘

’’آج میں کچھ نہیں سنوں گا‘‘

’’مجھے مت ستائیے۔ خدا کی قسم، میں آپ سے سچ کہتی ہوں، مجھے مت ستائیے میں چلانا شروع کردوں گی۔ ‘‘

’’آہستہ بولو۔ بچیاں جاگ پڑیں گی‘‘

’’آپ تو بچیوں کے ڈھیر لگانا چاہتے ہیں۔ ‘‘

’’تم ہمیشہ مجھے یہی طعنہ دیتی ہو۔ ‘‘

’’آپ کو کچھ خیال تو ہونا چاہیے۔ میں تنگ آچکی ہوں۔ ‘‘

’’درست ہے۔ لیکن۔ ‘‘

’’لیکن ویکن کچھ نہیں!‘‘

’’تمہیں میرا کچھ خیال نہیں۔ اصل میں اب تم مجھ سے محبت نہیں کرتیں۔ آج سے آٹھ برس پہلے جو بات تھی وہ اب نہیں رہی۔ تمہیں اب میری ذات سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ ‘‘

’’جی ہاں‘‘

’’وہ کیا دن تھے جب ہماری شادی ہوئی تھی۔ تمہیں میری ہربات کا کتنا خیال رہتا تھا۔ ہم باہم کس قدر شیر و شکر تھے۔ مگر اب تم کبھی سونے کا بہانہ کردیتی ہو۔ کبھی تھکاوٹ کا عذر پیش کردیتی اور کبھی دونوں کان بند کرلیتی ہو۔ کچھ سنتی ہی نہیں۔ ‘‘

’’میں کچھ سننے کے لیے تیار نہیں!‘‘

’’تم ظلم کی آخری حد تک پہنچ گئی۔ ‘‘

’’مجھے سونے دیجیے۔ ‘‘

’’سو جائیے۔ مگر میں ساری رات کروٹیں بدلتا رہوں گا۔ آپ کی بلا سے!‘‘

’’آہستہ بولیے۔ ساتھ ہمسائے بھی ہیں‘‘

’’ہوا کریں‘‘

’’آپ کو تو کچھ خیال ہی نہیں۔ سنیں گے تو کیا کہیں گے۔ ‘‘

’’کہیں گے کہ اس غریب آدمی کو کیسی کڑی بیوی ملی ہے۔ ‘‘

’’اوہ ہو‘‘

’’آہستہ بولو۔ دیکھو بچی جاگ پڑی!‘‘

’’اللہ اللہ۔ اللہ جی اللہ۔ اللہ اللہ۔ اللہ جی اللہ۔ سو جاؤ بیٹے سو جاؤ۔ اللہ، اللہ۔ اللہ جی اللہ۔ خدا کی قسم آپ بہت تنگ کرتے ہیں، دن بھر کی تھکی ماندی کو سونے تو دیجیے!‘‘

’’اللہ، اللہ۔ اللہ جی، اللہ۔ اللہ اللہ۔ اللہ جی اللہ۔ تمہیں اچھی طرح سلانا بھی نہیں آتا۔ ‘‘

’’آپ کو تو آتا ہے نا۔ سارا دن آپ گھرمیں رہ کر یہی تو کرتے رہتے ہیں‘‘

’’بھئی میں سارا دن گھر میں کیسے رہ سکتا ہوں۔ جب فرصت ملتی ہے آجاتا ہوں اور تمہارا ہاتھ بٹا دیتا ہوں۔ ‘‘

’’میرا ہاتھ بٹانے کی آپ کو کوئی ضرورت نہیں۔ آپ مہربانی کرکے گھر سے باہر اپنے دوستوں ہی کے ساتھ گلچھڑے اڑایا کریں۔ ‘‘

’’گل چھڑے؟‘‘

’’میں زیادہ باتیں نہیں کرنا چاہتی‘‘

’’اچھا دیکھو، میری ایک بات کا جواب دو۔ ‘‘

’’خدا کے لیے مجھے تنگ نہ کیجیے۔ ‘‘

’’کمال ہے میں کہاں جاؤں‘‘

’’جہاں آپ کے سینگ سمائیں چلے جائیے‘‘

’’لو اب ہمارے سینگ بھی ہو گئے‘‘

’’آپ چپ نہیں کریں گے‘‘

’’نہیں۔ میں آج بولتا ہی رہوں گا۔ خود سوؤں گا نہ تمہیں سونے دونگا‘‘

’’سچ کہتی ہوں، میں پاگل ہو جاؤں گی۔ لوگو یہ کیسا آدمی ہے۔ کچھ سمجھتا ہی نہیں۔ بس ہر وقت۔ ہر وقت۔ ہر وقت۔ ‘‘

’’تم ضرور تمام بچیوں کو جگا کر رہو گی۔ ‘‘

’’نہ پیدا کی ہوتیں اتنی!‘‘

’’پیدا کرنے والا میں تو نہیں ہوں۔ یہ تو اللہ کی دین ہے۔ اللہ، اللہ۔ اللہ جی، اللہ، اللہ۔ اللہ جی، اللہ۔ ‘‘

’’بچی کو اب میں نے جگایا تھا؟‘‘

’’مجھے افسوس ہے!‘‘

’’افسوس ہے، کہہ دیا۔ چلو چھٹی ہوئی۔ گلا پھاڑ پھاڑ کرچلائے چلے جا رہے ہیں۔ ہمسائیگی کا کچھ خیال ہی نہیں لوگ کیا کہیں گے اسکی پروا ہی نہیں۔ خدا کی قسم میں عنقریب ہی دیوانی ہو جاؤں گی!‘‘

’’دیوانے ہوں تمہارے دشمن‘‘

’’میری جان کے دشمن تو آپ ہیں‘‘

’’تو خدا مجھے دیوانہ کرے‘‘

’’وہ تو آپ ہیں!‘‘

’’میں دیوانہ ہوں، مگر تمہارا‘‘

’’اب جونچلے نہ بگھاریئے‘‘

’’تم تو نہ یوں مانتی ہو نہ ووں‘‘

’’میں سونا چاہتی ہوں‘‘

’’سو جاؤ، میں پڑا بکواس کرتا رہوں گا‘‘

’’یہ بکواس کیا اشد ضروری ہے‘‘

’’ہے تو سہی۔ ذرا ادھر دیکھو۔ ‘‘

’’میں کہتی ہوں، مجھے تنگ نہ کیجیے۔ میں رو دوں گی‘‘

’’تمہارے دل میں اتنی نفرت کیوں پیدا ہو گئی۔ میری ساری زندگی تمہارے لیے ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ مجھ سے کوئی خطا ہوئی ہو تو بتا دو۔ ‘‘

’’آپ کی تین خطائیں یہ سامنے پلنگ پر پڑی ہیں‘‘

’’یہ تمہارے کوسنے کبھی ختم نہیں ہوں گے‘‘

’’آپ کی ہٹ کب ختم ہو گی؟‘‘

’’لو بابا میں تم سے کچھ نہیں کہتا۔ سو جاؤ۔ میں نیچے چلا جاتا ہوں۔ ‘‘

’’کہاں؟‘‘

’’جہنم میں‘‘

’’یہ کیا پاگل پن ہے۔ نیچے اتنے مچھر ہیں، پنکھا بھی نہیں۔ سچ کہتی ہوں، آپ بالکل پاگل ہیں۔ میں نہیں جانے دونگی آپ کو‘‘

’’میں یہاں کیا کروں گا۔ مچھر ہیں پنکھا نہیں ہے، ٹھیک ہے۔ میں نے زندگی کے بُرے دن بھی گزارے بھی ہیں۔ تن آسان نہیں ہوں۔ سو جاؤں گا صوفے پر‘‘

’’سارا وقت جاگتے رہیں گے‘‘

’’تمہاری بلا سے‘

’’میں نہیں جانے دوں گی آپ کو۔ بات کا بتنگڑ بنا دیتے ہیں‘‘

’’میں مر نہیں جاؤں گا۔ مجھے جانے دو‘‘

’’کیسی باتیں منہ سے نکالتے ہیں!۔ خبردار جو آپ گئے!‘‘

’’مجھے یہاں نیند نہیں آئے گی‘‘

’’نہ آئے‘‘

’’یہ عجیب منطق ہے۔ میں کوئی لڑجھگڑ کر تو نہیں جارہا‘‘

’’لڑائی جھگڑا کیا ابھی باقی ہے۔ خدا کی قسم آپ کبھی کبھی بالکل بچوں کی سی باتیں کرتے ہیں۔ اب یہ خبط سر میں سمایا ہے کہ میں نیچے گرمی اور مچھروں میں جا کر سوؤں گا۔ کوئی اور ہوتی تو پاگل ہو جاتی۔ ‘‘

’’تمہیں میرا بڑا خیال ہے‘‘

’’اچھا بابا نہیں ہے۔ آپ چاہتے کیا ہیں؟‘‘

’’اب سیدھے راستے پر آئی ہو‘‘

’’چلیے ہٹیے۔ میں کوئی راستہ واستہ نہیں جانتی۔ منہ دھوکے رکھیے اپنا‘‘

’’منہ صبح دھویا جاتا ہے۔ لو، اب من جاؤ‘‘

’’توبہ!‘‘

’’ساڑھی پر وہ بورڈر لگ کر آگیا؟‘‘

’’نہیں!‘‘

’’عجب الو کا پٹھا ہے درزی۔ کہہ رہا تھا آج ضرور پہنچا دے گا۔ ‘‘

’’لے کر آیا تھا، مگر میں نے واپس کردی۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’ایک دو جگہ جھول تھے۔ ‘‘

’’اوہ۔ اچھا، میں نے کہا، کل

’’برسات‘‘

دیکھنے چلیں گے۔ میں نے پاس کا بندوبست کرلیا ہے۔ ‘‘

’’کتنے آدمیوں کا؟‘‘

’’دو کا۔ کیوں؟‘‘

’’باجی بھی جانا چاہتی تھیں۔ ‘‘

’’ہٹاؤ باجی کو پہلے ہم دیکھیں گے پھر اس کو دکھا دیں گے۔ پہلے ہفتے میں پاس بڑی مشکل سے ملتے ہیں۔ چاندنی رات میں تمہارا بدن کتنا چمک رہا ہے‘‘

’’مجھے تو اس چاندنی سے نفرت ہے۔ کم بخت آنکھوں میں گھستی ہے۔ سونے نہیں دیتی‘‘

’’تمہیں تو بس ہر وقت سونے ہی کی پڑی رہتی ہے‘‘

’’آپ کو بچیوں کی دیکھ بھال کرنا پڑے تو پھر پتا چلے۔ آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔ ایک کے کپڑے بدلو، تو دوسری کے میلے ہو جاتے ہیں۔ ایک کو سلاؤ، دوسری جاگ پڑتی ہے، تیسری نعمت خانے کی غارتگری میں مصروف ہوتی ہے۔ ‘‘

’’دو نوکر گھر میں موجود ہیں‘‘

’’نوکر کچھ نہیں کرتے‘‘

’’لے آؤں، نیچے سے؟‘‘

’’جلدی جائیے رونا شروع کردیگی‘‘

’’جاتا ہوں!‘‘

’’میں نے کہا، سنئے۔ آگ جلا کر ذرا کنکنا کرکیجیے گا دودھ‘‘

’’اچھا، اچھا۔ سن لیا ہے!‘‘

13جون1950ء

سعادت حسن منٹو

اب اور کہنے کی ضرورت نہیں

یہ دنیا بھی عجیب و غریب ہے۔ خاص کر آج کا زمانہ۔ قانون کو جس طرح فریب دیا جاتا ہے ٗ اس کے متعلق شاید آپ کو زیادہ علم نہ ہو۔ آج کل قانون ایک بے معنی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ ادھر کوئی نیا قانون بنتا ہے ٗ اُدھر یار لوگ اس کا توڑ سوچ لیتے ہیں ٗ اس کے علاوہ اپنے بچاؤ کی کئی صورتیں پیدا کر لیتے ہیں۔ کسی اخبار پر آفت آنی ہو تو آیا کرے، اس کا مالک محفوظ و مامون رہے گا ٗ اس لیے کہ پرنٹ لائن میں کسی قصائی یا دھوبی کا نام بحیثیت پرنٹر پبلشر اور ایڈیٹر کے درج ہو گا۔ اگر اخبار میں کوئی ایسی تحریر چھپ گئی جس پر گورنمنٹ کو اعتراض ہو تو اصل مالک کے بجائے وہ دھوبی یا قصائی گرفت میں آ جائے گا۔ اس کو جرمانہ ہو گا یا قید۔ جرمانہ تو ظاہر ہے اخبار کا مالک ادا کر دے گا، مگر قید تو وہ ادا نہیں کرسکتا۔ لیکن ان دو پارٹیوں کے درمیان اس قسم کا معاہدہ ہوتا ہے کہ اگر قید ہوئی تو وہ اس کے گھر اتنے روپے ماہوار پہنچا دیا کرئے گا۔ ایسے معاہدے میں خلاف ورزی بہت کم ہوتی ہے۔ جو لوگ ناجائز طور پر شراب بیچتے ہیں، ان کے پاس دو تین آدمی ایسے ضرور موجود ہوتے ہیں جن کا صرف یہ کام ہے کہ اگر پولیس چھاپہ مارے تو وہ گرفتار ہو جائیں اور چند ماہ کی قید کاٹ کر واپس آ جائیں اس کا معاوضہ ان کو معقول مل جاتا ہے۔ چھاپہ مارنے والے بھی پہلے ہی سے مطلع کر دیتے ہیں کہ ہم آرہے ہیں ٗ تم اپنا انتظام کر لو۔ چنانچہ فوراً انتظام کر لیا جاتا ہے ٗ یعنی مالک غائب غلہ ہو جاتا ہے اور وہ کرائے کے آدمی گرفتار ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک قسم کی ملازمت ہے لیکن دنیا میں جتنی ملازمتیں ہیں کچھ اسی قسم کی ہوتی ہیں۔ میں جب امین پہلوان سے ملا تو وہ تین مہینے کی قید کاٹ کر واپس آیا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا :

’’امین ! اس دفعہ کیسے جیل میں گئے؟‘‘

امین مسکرایا:

’’اپنے کاروبار کے سلسلے میں‘‘

’’کیا کاروبار تھا؟‘‘

’’جو رہا، وہ ہے‘‘

’’بھئی بتاؤ تو۔ ‘‘

’’بتانے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں مگر خواہ مخواہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔ ‘‘

میں نے تھوڑے سے توقف کے بعد اس سے کہا۔ ‘‘

امین ! تمہیں آئے دن جیل میں جانا کیا پسند ہے؟‘‘

امین پہلوان مسکرایا:

’’جناب۔ پسند اور نا پسند کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لوگ مجھے پہلوان کہتے ہیں ٗ حالانکہ میں نے آج تک اکھاڑے کی شکل نہیں دیکھی۔ اَن پڑھ ہوں۔ کوئی اور ہنر بھی مجھے نہیں آتا۔ بس ٗ جیل جانا آتا ہے۔ وہاں میں خوش رہتا ہوں۔ مجھے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ آپ ہر روز دفتر جاتے ہیں۔ کیا وہ جیل نہیں۔ ‘‘

میں لاجواب ہو گیا:

’’تم ٹھیک کہتے ہو۔ امین لیکن دفتر جانے والوں کا معاملہ دوسرا ہے۔ لوگ انہیں بُری نگاہوں سے نہیں دیکھتے۔ ‘‘

’’کیوں نہیں دیکھتے ! ضلع کچہری کے جتنے مُنشی اور کلرک ہیں‘ انہیں کون اچھی نظر سے دیکھتا ہے۔ رشوتیں لیتے ہیں۔ جھوٹ بولتے ہیں اور پرلے درجے کے مکار ہوتے ہیں۔ مجھ میں ایسا کوئی عیب نہیں۔ میں اپنی روزی بڑی ایمانداری سے کماتا ہوں۔ ‘‘

میں نے اس سے پوچھا۔

’’کس طرح؟‘‘

اس نے جواب دیا :

’’اس طرح کہ اگر کسی کا کام کرتا ہوں اور قید کاٹتا ہوں جیل میں محنت مشقت کرتا ہوں اور بعد میں اس شخص سے جس کی خاطر میں نے سزا بھگتی تھی ٗ مجھے دو تین سو روپیہ ملتا ہے تو یہ میرا معاوضہ ہے ٗ اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ میں رشوت تو نہیں لیتا۔ حلال کی کمائی کھاتا ہوں۔ لوگ مجھے غنڈا سمجھتے ہیں۔ بڑا خطرناک غنڈا۔ لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ میں نے آج تک کسی کے تھپڑ بھی نہیں مارا۔ میری لائن بالکل الگ ہے۔ ‘‘

اس کی لائن واقعی دوسروں سے الگ تھی۔ مجھے حیرت تھی کہ تین چار مرتبہ قید کاٹنے کے باوجود اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ وہ بڑا سنجیدہ مگر گنوار قسم کا آدمی تھا جس کو کسی کی پروا نہیں تھی۔ قید کاٹنے کے بعد جب بھی آتا تو اس کا وزن کم از کم دس پاؤنڈ زیادہ ہوتا۔ ایک دن میں نے اس سے پُوچھا۔

’’امین کیا وہاں کا کھانا تمہیں راس آتا ہے؟‘‘

اس نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا :

’’کھانا کیسا بھی ہو ٗ اس کو راس کرنا آدمی کا اپنا کام ہے۔ مجھے دال سے نفرت تھی ٗ لیکن جب پہلی مرتبہ مجھے وہاں کنکروں بھری دال دی گئی اور ریت ملی روٹی تو میں نے کہا۔ امین یار۔ یہ سب سے اچھا کھانا ہے، کھا ٗ ڈنڑ پیل اور خدا کا شکر بجا لا۔ چنانچہ میں ایک دو روز ہی میں عادی ہو گیا۔ مشقت کرتا ٗ کھانا کھاتا اور یوں محسوس کرتا جیسے میں نے گنجے کے ہوٹل سے پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہے۔ ‘‘

میں نے ایک دن اس سے پوچھا :

’’تم نے کبھی کسی عورت سے بھی محبت کی ہے؟‘‘

اس نے اپنے دونوں کان پکڑے۔

’’خدا بچائے اس محبت سے‘ مجھے صرف اپنی ماں سے محبت ہے۔ ‘‘

میں نے اس سے پوچھا:

’’تمہاری ماں زندہ ہے؟‘‘

’’جی ہاں۔ خدا کے فضل و کرم سے۔ بہت بوڑھی ہے لیکن آپ کی دعا سے اس کا سایہ میرے سر پر دیر تک قائم رہے گا اور وہ تو ہر وقت میرے لیے دعائیں مانگتی رہتی ہے کہ خدا مجھے نیکی کی ہدایت کرے۔ ‘‘

میں نے اُس سے کہا :

’’خدا تمہاری ماں کو سلامت رکھے ! پر میں نے یہ پوچھا تھا کہ تمہیں کسی عورت سے محبت ہوئی یا نہیں دیکھو ٗ جھوٹ نہیں بولنا !‘‘

امین پہلوان نے بڑے تیز لہجے میں کہا :

’’میں نے اپنی زندگی میں آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ میں نے کسی عورت سے محبت نہیں کی۔ ‘‘

میں نے پوچھا :

’’کیوں‘‘

اس نے جواب دیا :

’’اس لیے کہ مجھے اس سے دلچسپی ہی نہیں۔ ‘‘

میں خاموش ہو رہا۔ تیسرے روز اس کی ماں پر فالج گرا اور وہ راہئ ملکِ عدم ہوئی۔ امین پہلوان کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا۔ وہ سوگوار ٗ مغموم اور دل شکستہ بیٹھا تھا کہ شہر کے ایک رئیس کی طرف سے اسے بلاوا آیا۔ وہ اپنی عزیز ماں کی میّت چھوڑ کر اس کے پاس گیا اور اس سے پوچھا : کیوں میاں صاحب ٗ آپ نے مجھے کیوں بلایا ہے؟‘‘

میاں صاحب نے کہا :

’’تمہیں کیوں بلایا جاتا ہے۔ ایک خاص کام ہے‘‘

امین نے جس کے دل و دماغ میں اپنی ماں کا کفن دفن تیر رہا تھا‘ پوچھا:

’’حضور یہ خاص کام کیا ہے؟‘‘

میاں صاحب نے سگریٹ سلگایا :

’’بلیک مارکیٹ کا قصہ ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آج میرے گودام پر چھاپہ مارا جائے گا سو میں نے سوچا کہ امین پہلوان بہترین آدمی ہے جو اسے نمٹا سکتا ہے۔ ‘‘

امین نے بڑے مغموم اور زخمی انداز میں کہا:

’’آپ فرمائیے ٗ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟‘‘

’’بھئی ٗ خدمت و دمت کی بات تم مت کرو۔ بس صرف اتنی سی بات ہے کہ جب چھاپہ پڑے تو گودام کے مالک تم ہو گے۔ گرفتار ہو جاؤ گے۔ زیادہ سے زیادہ جرمانہ پانچ ہزار روپے ہو گا اور ایک دو برس کی قید !‘‘

’’مجھے کیا ملے گا؟‘‘

’’جب وہاں سے رہا ہو کر آؤ گے تو معاملہ طے کر لیا جائے گا۔ ‘‘

امین نے میاں صاحب سے کہا :

’’حضور ٗ بہت دور کی بات ہے جرمانہ تو آپ ادا کر دیں گے، لیکن قید تو مجھے کاٹنی پڑے گی۔ آپ باقاعدہ سودا کریں۔ ‘‘

میاں صاحب مسکرائے :

’’تم سے آج تک میں نے کبھی وعدہ خلافی کی ہے۔ پچھلی دفعہ میں نے تم سے کام لیا اور تم کو تین مہینے کی قید ہوئی ٗ تو کیا میں نے جیل خانے میں ہر قسم کی سہولت بہم نہ پہنچائی۔ تم نے باہر آکر مجھ سے کہا کہ تمہیں وہاں کوئی تکلیف نہیں تھی۔ اگر تم کچھ عرصے کیلیے جیل چلے گئے تو وہاں تمہیں ہر آسائش ہو گی۔ ‘‘

امین نے کہا :

’’جی۔ یہ سب درست ہے۔ لیکن۔ ‘‘

’’لیکن کیا؟ امین کی آنکھوں میں آنسو آگئے :

’’میاں صاحب ! میری ماں مر گئی ہے۔ ‘‘

’’کب؟‘‘

’’آج صبح۔ ‘‘

میاں صاحب نے افسوس کا اظہار کیا :

’’کفنا دفنا دیا ہو گا۔ ‘‘

امین کی آنکھوں میں سے آنسو ٹپ ٹپ گِرنے لگے

’’میاں صاحب ابھی تو کچھ بھی نہیں ہوسکا۔ میرے پاس تو افیم کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔ ‘‘

میاں صاحب نے چند لمحات حالات پر غور کیا اور امین سے کہا :

’’تو ایسا کرو۔ میرا مطلب ہے کہ تجہیز و تکفین کا بندوبست میں ابھی کیے دیتا ہوں۔ تمہیں کسی قسم کا تردّد نہیں کرنا چاہیے۔ تم گودام پر جاؤ اور اپنی ڈیوٹی سنبھالو۔ ‘‘

امین نے اپنی میلی قمیص کی آستین سے آنسو پونچھے۔

’’لیکن میاں صاحب میں۔ میں اپنی ماں کے جنازے کو کندھا بھی نہ دوں!‘‘

میاں صاحب نے فلسفیانہ انداز میں کہا۔

’’یہ سب رسمی چیزیں ہیں، مرحومہ کو دفنانا ہے۔ سو یہ کام بڑی اچھی طرح سے ہو جائے گا تمہیں جنازے کے ساتھ جانے کی کیا ضرورت ہے۔ تمہارے ساتھ جانے سے مرحومہ کو کیا راحت پہنچے گی۔ وہ تو بے چاری اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہے۔ اس کے جنازے کے ساتھ کوئی بھی جائے۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ اصل میں تم لوگ جاہل ہو۔ میں اگر مر جاؤں تو مجھے کیا معلوم ہے کہ میرے جنازے میں کس کس عزیز اور دوست نے شرکت کی تھی۔ مجھے اگر جلا بھی دیا جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ میری لاش کو چیلوں اور گِدھوں کے حوالے کر دیا جائے تو مجھے اس کی کیا خبر ہو گی۔ تم زیادہ جذباتی نہ ہو ٗ دنیا میں سب سے ضروری چیز یہ ہے۔ کہ اپنی ذات کے متعلق سوچا جائے۔ میں پوچھتا ہوں، تمہاری کمائی کے ذرائع کیا ہیں۔ ‘‘

امین سوچنے لگا۔ چند لمحات اپنی بساط کے مطابق غور کرنے کے بعد اس نے جواب دیا

’’حضور ! میری کمائی کے ذرائع آپ کو معلوم ہیں، مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں۔ ‘‘

’’میں نے اس لیے پوچھا تھا کہ تمہیں میرا کام کرنے میں کیا حیل و حجت ہے۔ میں تمہاری ماں کی تجہیز و تکفین کا ابھی بندو بست کیے دیتا ہوں ٗ اور جب تم جیل سے واپس آؤ گے تو۔ ‘‘

امین پہلوان نے بڑے بینڈے انداز میں پوچھا۔

’’تو آپ میرا بھی بندو بست کر دیں گے۔ ‘‘

میاں صاحب بوکھلا گئے :

’’تم کیسی باتیں کرتے ہو امین پہلوان!‘‘

امین پہلوان نے ذرا درشت لہجے میں کہا :

’’امین پہلوان کی ایسی کی تیسی۔ آپ یہ بتائیے کہ مجھے کتنے روپے ملیں گے۔ میں ایک ہزار سے کم نہیں لوں گا۔ ‘‘

’’ایک ہزار تو بہت زیادہ ہیں۔ ‘‘

امین نے کہا :

’’زیادہ ہے یا کم۔ میں کچھ نہیں جانتا۔ میں جب قید کاٹ کر آؤں گا تو اپنی ماں کی قبر پختہ بناؤں گا ٗ سنگِ مر مر کی۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہے۔ ‘‘

میاں صاحب نے اس سے کہا

’’اچھا بھئی ٗ ایک ہزار ہی لے لینا۔ ‘‘

امین نے میاں صاحب سے کہا :

’’تو لائیے اتنے روپے دیجئے کہ میں کفن دفن کا انتظام کر لوں۔ اس کے بعد میں آپ کی خدمت کیلیے حاضر ہو جاؤں گا۔ ‘‘

میاں صاحب نے اپنی جیب سے بٹوا نکالا۔

’’لیکن تمہارا کیا بھروسا ہے !‘‘

امین کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کو کسی نے ماں بہن کی گالی دی ہے۔

’’میاں صاحب! آپ مجھے بے ایمان سمجھتے ہیں۔ بے ایمان آپ ہیں۔ اس لیے کہ اپنے فعلوں کا بوجھ میرے سر پر ڈال رہے ہیں۔ ‘‘

میاں صاحب موقع شناس تھے۔ انہوں نے سمجھا کہ امین بگڑ گیا ہے ٗ چنانچہ انہوں نے فوراً اپنی چرب زبانی سے رام کرنے کی کوشش کی لیکن امین پر کوئی اثر نہ ہوا۔ جب وہ گھر پہنچا تو دیکھا کہ غسّال اسکی ماں کو آخری غسل دے چکے ہیں۔ کفن بھی پہنایا جا چکا ہے۔ امین بہت متحیر ہوا کہ اس پر یہ مہربانی کس نے کی ہے۔ میاں صاحب نے۔ لیکن وہ تو سودا کرنا چاہتے تھے۔ اُس نے ایک آدمی سے جو تابوت کو سجانے کیلیے پھول گوندھ رہا تھا ٗ پوچھا

’’یہ کس آدمی نے اتنا اہتمام کیا ہے؟‘‘

پھول والے نے جواب دیا :

’’حضور! آپ کی بیوی نے۔ ‘‘

امین چکرا گیا۔ وہ اپنے شدید تعجب کا مظاہرہ کرتا مگر خاموش رہا۔ پھول والے سے صرف اتنا پوچھا۔

’’کہاں ہیں وہ۔ ‘‘

پھول والے نے جواب دیا :

’’جی اندر ہیں۔ آپ کا انتظار کررہی تھیں۔ ‘‘

امین اندر گیا۔ تو دیکھا کہ ایک نوجوان ٗ خوبصورت لڑکی اس کی چارپائی پر بیٹھی ہے۔ امین نے اس سے پوچھا۔

’’آپ کون ہیں۔ یہاں کیوں آئی ہیں‘‘

اُس لڑکی نے جواب دیا۔

’’میں آپ کی بیوی ہوں‘ یہاں کیوں آئی ہوں ٗ یہ آپ کا عجیب و غریب سوال ہے۔ ‘‘

امین نے اس سے پوچھا :

’’میری بیوی تو کوئی بھی نہیں۔ بتاؤ تم کون ہو۔ ‘‘

لڑکی مسکرائی :

’’میں۔ میاں۔ دین کی بیٹی ہوں۔ ان سے جو آپ کی گفتگو ہوئی ٗ میں نے سب سُنی۔ اور۔ اور۔ ‘‘

امین نے کہا :

’’اب اور کہنے کی ضرورت نہیں۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

آنکھیں

اس کے سارے جسم میں مجھے اس کی آنکھیں بہت پسند تھیں۔ یہ آنکھیں بالکل ایسی ہی تھیں جیسے اندھیری رات میں موٹر کارکی ہیڈ لائیٹس جن کو آدمی سب سے پہلے دیکھتا ہے۔ آپ یہ نہ سمجھیے گا کہ وہ بہت خوبصورت آنکھیں تھیں۔ ہرگز نہیں۔ میں خوبصورتی اور بدصورتی میں تمیز کرسکتا ہوں۔ لیکن معاف کیجیے گا، ان آنکھوں کے معاملے میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ وہ خوبصورت نہیں تھیں۔ لیکن اس کے باوجود ان میں بے پناہ کشش تھی۔ میری اور ان آنکھوں کی ملاقات ایک ہسپتال میں ہوئی۔ میں اس ہسپتال کا نام آپ کو بتانا نہیں چاہتا، اس لیے کہ اس سے میرے اس افسانے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ بس آپ یہی سمجھ لیجیے کہ ایک ہسپتال تھا، جس میں میرا ایک عزیز آپریشن کرانے کے بعد اپنی زندگی کے آخری سانس لے رہا تھا۔ یوں تو میں تیمار داری کا قائل نہیں، مریضوں کے پاس جا کر ان کو دم دلاسہ دینا بھی مجھے نہیں آتا۔ لیکن اپنی بیوی کے پیہم اصرار پر مجھے جانا پڑتا کہ میں اپنے مرنے والے عزیز کو اپنے خلوص اور محبت کا ثبوت دے سکوں۔ یقین مانیے کہ مجھے سخت کوفت ہورہی تھی۔ ہسپتال کے نام ہی سے مجھے نفرت ہے، معلوم نہیں کیوں۔ شاید اس لیے کہ ایک بار بمبئی میں اپنی بوڑھی ہمسائی کو جس کی کلائی میں موچ آگئی تھی، مجھے جے جے ہسپتال میں لے جانا پڑا تھا۔ وہاں کیوژوالٹی ڈیپارٹمنٹ میں مجھے کم از کم ڈھائی گھنٹے انتظار کرنا پڑا تھا۔ وہاں میں جس آدمی سے بھی ملا، لوہے کے مانند سرد اور بے حس تھا۔ میں ان آنکھوں کا ذکر کررہا تھا جو مجھے بے حد پسند تھیں۔ پسند کا معاملہ انفرادی حیثیت رکھتا ہے۔ بہت ممکن ہے اگر آپ یہ آنکھیں دیکھتے تو آپ کے دل و دماغ میں کوئی رد عمل پیدا نہ ہوتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ سے اگر ان کے بارے میں کوئی رائے طلب کی جاتی تو آپ کہہ دیتے۔

’’نہایت واہیات آنکھیں ہیں۔ ‘‘

لیکن جب میں نے اس لڑکی کو دیکھا تو سب سے پہلے مجھے اس کی آنکھوں نے اپنی طرف متوجہ کیا۔ وہ برقع پہنے ہوئے تھی، مگر نقاب اٹھا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں دوا کی بوتل تھی اور وہ جنرل وارڈ کے برآمدے میں ایک چھوٹے سے لڑکے کے ساتھ چلی آرہی تھی۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں جو بڑی تھیں، نہ چھوٹی، سیاہ تھیں نہ بھوری، نیلی تھیں نہ سبز، ایک عجیب قسم کی چمک پیدا ہوئی۔ میرے قدم رک گئے۔ وہ بھی ٹھہر گئی۔ اس نے اپنے ساتھی لڑکے کا ہاتھ پکڑا اور بوکھلائی ہوئی آواز میں کہا۔

’’تم سے چلا نہیں جاتا!‘‘

لڑکے نے اپنی کلائی چھڑائی اور تیزی سے کہا۔

’’چل تو رہا ہوں۔ تُو تو اندھی ہے!‘‘

میں نے یہ سنا تو اس لڑکی کی آنکھوں کی طرف دوبارہ دیکھا۔ اس کے سارے وجود میں صرف اس کی آنکھیں ہی تھیں جو پسند آئی تھیں۔ میں آگے بڑھا اور اس کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے مجھے پلکیں نہ جھپکنے والی آنکھوں سے دیکھا اور پوچھا۔

’’ایکسرے کہاں لیا جاتا ہے؟‘‘

اتفاق کی بات ہے کہ ان دنوں ایکسرے ڈیپارٹمنٹ میں میرا ایک دوست کام کررہا تھا، اور میں اسی سے ملنے کے لیے آیا تھا۔ میں نے اس لڑکی سے کہا۔

’’آؤ، میں تمہیں وہاں لے چلتا ہوں، میں بھی ادھر ہی جارہا ہوں۔ ‘‘

لڑکی نے اپنے ساتھی لڑکے کا ہاتھ پکڑا اور میرے ساتھ چل پڑی۔ میں نے ڈاکٹر صادق کا پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ ایکسرے لینے میں مصروف ہیں۔ دروازہ بند تھا اور باہر مریضوں کی بھیڑ لگی تھی۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے تیز و تند آواز آئی۔

’’کون ہے۔ دروازہ موت ٹھوکو!‘‘

لیکن میں نے پھر دستک دی۔ دروازہ کھلا اور ڈاکٹر صادق مجھے گالی دیتے دیتے رہ گی۔

’’اوہ تم ہو!‘‘

’’ہاں بھئی۔ میں تم سے ملنے آیا تھا۔ دفتر میں گیا تو معلوم ہوا کہ تم یہاں ہو۔ ‘‘

’’آجاؤ اندر‘‘

میں نے لڑکی کی طرف دیکھا اور اس سے کہا

’’آؤ۔ لیکن لڑکے کو باہر ہی رہنے دو!‘‘

ڈاکٹر صادق نے ہولے سے مجھ سے پوچھا۔

’’کون ہے یہ؟‘‘

میں نے جواب دیا۔

’’معلوم نہیں کون ہے۔ ایکسرے ڈیپارٹمنٹ کا پوچھ رہی تھی۔ میں نے کہا چلو، میں لیے چلتا ہوں۔ ‘‘

ڈاکٹر صادق نے دروازہ اور زیادہ کھول دیا۔ میں اور وہ لڑکی اندر داخل ہو گئے۔ چار پانچ مریض تھے۔ ڈاکٹر صادق نے جلدی جلدی ان کی سکریننگ کی اور انھیں رخصت کیا۔ اس کے بعد کمرے میں ہم صرف دو رہ گئے۔ میں اور وہ لڑکی۔ ڈاکٹر صادق نے مجھ سے پوچھا۔

’’انھیں کیا بیماری ہے؟‘‘

میں نے اس لڑکی سے پوچھا۔

’’کیا بیماری ہے تمہیں۔ ایکسرے کے لیے تم سے کس ڈاکٹر نے کہا تھا؟‘‘

اندھیرے کمرے میں لڑکی نے میری طرف دیکھا اور جواب دیا۔

’’مجھے معلوم نہیں کیا بیماری ہے۔ ہمارے محلے میں ایک ڈاکٹر ہے، اس نے کہا تھا کہ ایکسرے لو۔ ‘‘

ڈاکٹر صادق نے اس سے کہا کہ مشین کی طرف آئے۔ وہ آگے بڑھی تو بڑے زور کے ساتھ اس سے ٹکرا گئی۔ ڈاکٹر نے تیز لہجے میں اس سے کہا۔

’’کیا تمہیں سجھائی نہیں دیتا۔ ‘‘

لڑکی خاموش رہی۔ ڈاکٹر نے اس کا برقع اتارا اور اسکرین کے پیچھے کھڑا کردیا۔ پھر اس نے سوئچ اون کیا۔ میں نے شیشے میں دیکھا تو مجھے اس کی پسلیاں نظر آئیں۔ اس دل بھی ایک کونے میں کالے سے دھبے کی صورت میں دھڑک رہا تھا۔ ڈاکٹر صادق پانچ چھ منٹ تک اس کی پسلیوں اور ہڈیوں کو دیکھتا رہا۔ اس کے بعد اس نے سوئچ اوف کردیا اور روشنی کرکے مجھ سے مخاطب ہوا۔

’’چھاتی بالکل صاف ہے۔ ‘‘

لڑکی نے معلوم نہیں کیا سمجھا کہ اپنی چھاتیوں پر جو کافی بڑی بڑی تھیں، دوپٹے کو درست کیا اور برقع ڈھونڈنے لگی۔ برقع ایک کونے میں میز پر پڑا تھا۔ میں نے بڑھ کر اسے اٹھایا اور اسکے حوالے کردیا۔ ڈاکٹر صادق نے رپورٹ لکھی اور اس سے پوچھا۔

’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘

لڑکی نے برقع اوڑھتے ہوئے جواب دیا۔

’’جی میرا نام۔ میرا نام حنیفہ ہے۔ ‘‘

’’حنیفہ!‘‘

ڈاکٹر صادق نے اس کا نام پرچی پر لکھا اور اس کو دے دی۔

’’جاؤ، یہ اپنے ڈاکٹر کو دکھا دینا۔ ‘‘

لڑکی نے پرچی لی اور قمیض کے اندر اپنی انگیا میں اڑس لی۔ جب وہ باہر نکل تو میں غیر ارادی طور پر اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ لیکن مجھے اس کا پوری طرح احساس تھا کہ ڈاکٹر صادق نے مجھے شک کی نظروں سے دیکھا تھا۔ اسے جہاں تک میں سمجھتا ہوں، اس بات کا یقین تھا کہ اس لڑکی سے میرا تعلق ہے، حالانکہ جیسا آپ جانتے ہیں، ایسا کوئی معاملہ نہیں تھا۔ سوائے اس کے کہ مجھے اس کی آنکھیں پسند آگئی تھیں۔ میں اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ اس نے اپنے ساتھی لڑکی کی انگلی پکڑی ہوئی تھی۔ جب وہ تانگوں کے اڈے پر پہنچے تو میں نے حنیفہ سے پوچھا۔

’’تمہیں کہاں جانا ہے؟‘‘

اس نے ایک گلی کا نام لیا تو میں نے اس سے جھوٹ موٹ کہا۔

’’مجھے بھی ادھر ہی جانا ہے۔ میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑدوں گا۔ ‘‘

میں نے جب اس کا ہاتھ پکڑ کر تانگے میں بٹھایا تو مجھے محسوس ہوا کہ میری آنکھیں ایکس ریز کا شیشہ بن گئی ہیں۔ مجھے اس کا گوشت پوست دکھائی نہیں دیتا تھا۔ صرف ڈھانچہ نظر آتا تھا۔ لیکن اس کی آنکھیں۔ وہ بالکل ثابت و سالم تھیں، جن میں بے پناہ کشش تھی۔ میرا جی چاہتا تھا کہ اس کے ساتھ بیٹھوں لیکن یہ سوچ کر کوئی دیکھ لے گا، میں نے اس کے ساتھی لڑکے کو اس کے ساتھ بٹھا دیا اور آپ اگلی نشست پر بیٹھ گیا۔

’’میں۔ میں سعادت حسن منٹو ہوں۔ ‘‘

’’من ٹو۔ یہ من ٹو کیا ہوا؟‘‘

’’کشمیریوں کی ایک ذات ہے۔ ‘‘

’’ہم بھی کشمیری ہیں۔ ‘‘

’’اچھا!‘‘

’’ہم کنگ وائیں ہیں۔ ‘‘

میں نے مڑ کر اس سے کہا۔

’’یہ تو بہت اونچی ذات ہے۔ ‘‘

وہ مسکرائی اور اس کی آنکھیں اور زیادہ پرکشش ہو گئیں۔ میں نے اپنی زندگی میں بے شمار خوبصورت آنکھیں دیکھی تھیں۔ لیکن وہ آنکھیں جو حنیفہ کے چہرے پر تھیں، بے حد پرکشش تھیں۔ معلوم نہیں ان میں کیا چیز تھی جو کشش کا باعث تھی۔ میں اس سے پیشتر عرض کرچکا ہوں کہ وہ قطعاً خوبصورت نہیں تھیں، لیکن اس کے باوجود میرے دل میں کھب رہی تھیں۔ میں نے جسارت سے کام لیا اور اس کے بالوں کی ایک لٹ کو جو اس کے ماتھے پر لٹک کر اس کی ایک آنکھ کو ڈھانپ رہی تھی، انگلی سے اٹھایا اور اسکے سر پر چسپاں کردی۔ اس نے برا نہ مانا۔ میں نے اور جسارت کی اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس پر بھی اس نے کوئی مزاحمت نہ کی اور اپنے ساتھی لڑکے سے مخاطب ہو۔

’’تم میرا ہاتھ کیوں دبا رہے ہو؟‘‘

میں نے فوراً اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور لڑکے سے پوچھا۔

’’تمہارا مکان کہاں ہے؟‘‘

لڑکے نے ہاتھ کا اشارہ کیا۔

’’اس بازار میں!‘‘

تانگے نے ادھر کا رخ کیا، بازار میں بہت بھیڑ تھی، ٹریفک بھی معمول سے زیادہ۔ تانگہ رک رک کر چل رہا تھا۔ سڑک میں چونکہ گڑھے تھے، اس لیے زور کے دھچکے لگ رہے تھے، بار بار اس کا سر میرے کندھوں سے ٹکراتا تھا اور میرا جی چاہتا تھا کہ اسے اپنے زانو پر رکھ لوں اور اس کی آنکھیں دیکھتا رہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد ان کا گھر آگیا۔ لڑکے نے تانگے والے سے رکنے کے لیے کہا۔ جب تانگہ رکا تو وہ نیچے اترا۔ حنیفہ بیٹھی رہی۔ میں نے اس سے کہا۔

’’تمہارا گھر آگیا ہے!‘‘

حنیفہ نے مڑ کر میری طرف عجیب و غریب آنکھوں سے دیکھا۔

’’بدرو کہاں ہے؟‘‘

میں نے اس سے پوچھا۔

’’کون بدرو؟‘‘

’’وہ لڑکا جو میرے ساتھ تھا۔ ‘‘

میں نے لڑکے کی طرف دیکھا جو تانگے کے پاس ہی تھا۔

’’یہ کھڑا تو ہے!‘‘

’’اچھا۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے بدرو سے کہا۔

’’بدرو! مجھے اتار تو دو۔ ‘‘

بدرو نے اس کا ہاتھ پکڑا اور بڑی مشکل سے نیچے اتارا۔ میں سخت متحیر تھا۔ پچھلی نشست پر جاتے ہوئے میں نے اس لڑکے سے پوچھا۔

’’کیا بات ہے

’’یہ خود نہیں اتر سکتیں؟‘‘

بدرو نے جواب دیا۔

’’جی نہیں۔ ان کی آنکھیں خراب ہیں۔ دکھائی نہیں دیتا۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

آمنہ

دُور تک دھان کے سنہرے کھیت پھیلے ہوئے تھے‘ جُمے کا نوجوان لڑکا بُندو کٹے ہوئے دھان کے پُولے اُٹھا رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ گا بھی رہا تھا۔ دھان کے پُولے دھر دھر کاندھے بھر بھر لائے کھیت سنہرا‘ دھن دولت رے بندو کا باپ جُما گاؤں میں بہت مقبول تھا۔ ہر شخص کو معلوم تھا کہ اس کو اپنی بیوی سے بہت پیار ہے‘ ان دونوں کا عشق گاؤں کے ہر شخص کو معلوم تھا‘ ان کے دو بچے تھے‘ ایک بندو‘ جس کی عمر تیرہ برس کے قریب تھی ‘ دوسرا چندو۔ سب خوش و خرم تھے مگر ایک روز اچانک جُمّے کی بیوی بیمار پڑ گئی‘ حالت بہت نازک ہو گئی‘ بہت علاج کیے‘ ٹونے ٹوٹکے آزمائے مگر اس کو کوئی افاقہ نہ ہوا۔ جب مرض مہلک شکل اختیار کر گیا تو اس نے اپنے شوہر سے نحیف لہجے میں کہا

’’تم مجھے کبوتری کہا کرتے تھے اور خود کو کبوتر۔ ہم دونوں نے دو بچے پیدا کیے۔ اب یہ تمہاری کبوتری مر رہی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے مرنے کے بعد تم کوئی اور کبوتری اپنے گھر لے آؤ‘‘

تھوڑی دیر کے بعد اس پر ہذیانی کیفیت طاری ہو گئی‘ جمّے کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور اس کی بیوی بولے چلی جا رہی تھی۔

’’تم اور کبوتری لے آؤ گے۔ وہ سوچے گی کہ جب تک میرے بچے زندہ ہیں تم اس سے محبت نہیں کرو گے۔ چنانچہ وہ ان کو ذبح کر کے کھا جائے گی‘‘

جمّے نے اپنی بیوی سے بڑے پیار کے ساتھ کہا

’’سکینہ! میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ زندگی بھر دوسری شادی نہیں کروں گا‘ مگر تمہارے دشمن مریں تم بہت جلد ٹھیک ہو جاؤ گی‘‘

سکینہ کے ہونٹوں پر مُردہ سی مسکراہٹ نمودار ہوئی‘ اس کے فوراً بعد اس کی رُوح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ جُمّا بہت رویا۔ جب اُس نے اپنے ہاتھوں سے اس کو دفن کیا تو اس کو ایسا محسوس ہوا کہ اُس نے اپنی زندگی منوں مٹی کے نیچے گاڑ دی ہے۔ اب وہ ہر وقت مغموم رہتا‘ کام کاج میں اسے کوئی دلچسپی نہ رہی‘ ایک دن اس کے ایک وفادار مزارعہ نے اُس سے کہا۔

’’سرکار! بہت دنوں سے میں آپ کی یہ حالت دیکھ رہا ہوں اور جی ہی جی میں کڑھتا رہا ہوں۔ آج مجھ سے نہیں رہا گیا تو آپ سے یہ عرض کرنے آیا ہوں کہ آپ اپنے بچوں کا بہت خیال رکھتے ہیں‘ اپنی زمینوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔ آپ کو اس کا علم بھی نہیں‘ کتنا نقصان ہو رہا ہے‘‘

جمّے نے بڑی بے توجہی سے کہا :

’’ہونے دو۔ مجھے کسی چیز کا ہوش نہیں‘‘

’’سرکار۔ آپ ہوش میں آئیے۔ چاروں طرف دشمن ہی دشمن ہیں‘ ایسا نہ ہو وہ آپ کی غفلت سے فائدہ اُٹھا کر آپ کی زمینوں پر قبضہ کر لیں‘ آپ سے مقدمہ بازی کیا ہو گی۔ میری تو یہی مخلصانہ رائے ہے کہ آپ دوسری شادی کر لیں۔ اس سے آپ کے غم کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا اور وہ آپ کے لڑکوں سے پیار محبت بھی کرے گی۔ جمّے کو بہت غصہ آیا

’’بکواس نہ کرو رمضانی ‘ تم سمجھتے نہیں کہ سوتیلی ماں کیا ہوتی ہے‘ اس کے علاوہ تم یہ بھی تو سوچو ‘ میری بیوی کی روح کو کتنا بڑا صدمہ پہنچے گا‘‘

بہت دنوں کے اصرار کے بعد آخر رمضانی اپنے آقا کو دوسری شادی پر رضامند کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ جب شادی ہو گئی تو اس نے اپنے لڑکوں کو ایک علیحدہ مکان میں بھیج دیا۔ ہر روز وہاں کئی کئی گھنٹے رہتا اور بندو اور چندو کی دلجوئی کرتا رہتا۔ نئی بیوی کو یہ بات بہت ناگوار گزری ‘ ایک بات اور بھی تھی کہ مکھن دودھ کا بیشتر حصہ ا س کے سوتیلے بیٹوں کے پاس چلا جاتا تھا۔ اس سے وہ بہت جلتی ‘ اس کا تو یہ مطلب تھا کہ گھر بار کے مالک وہی ہیں۔ ایک دن جمّا جب کھیتوں سے واپس آیا تو اس کی نئی بیوی زاروقطار رونے لگی‘ جمّے نے اس آہ و زاری کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا

’’تم مجھے اپنا نہیں سمجھتے۔ اسی لیے بچوں کو دوسرے مکان میں بھیج دیا۔ میں ان کی ماں ہوں‘ کوئی دشمن تو نہیں ہوں مجھے بہت دکھ ہوتا ہے جب میں سوچتی ہوں کہ بیچارے اکیلے رہتے ہیں‘‘

جُمّا ان باتوں سے بہت متاثر ہوا اور دوسرے ہی دن بُندو اور چندو کو لے آیا اور ان کو سوتیلی ماں کے حوالے کر دیا جس نے ان کو اتنے پیار محبت سے رکھا کہ آس پاس کے تمام لوگ اس کی تعریف میں رطب اللسان ہو گئے۔ نئی بیوی نے جب اپنے خاوند کے دل کو پوری طرح موہ لیا تو ایک دن ایک مزارعہ کو بلا کر اکیلے میں اس سے بڑے رازدارانہ لہجے میں کہا

’’میں تم سے ایک کام لینا چاہتی ہوں۔ بولو کرو گے‘‘

اس مزارعہ نے جس کا نام شبراتی تھا‘ ہاتھ جوڑ کر کہا :

’’سرکار! آپ مائی باپ ہیں۔ جان تک حاضر ہے‘‘

نئی بیوی نے کہا

’’دیکھو ‘ کل دریا کے پاس بہت بڑا میلہ لگ رہا ہے۔ میں اپنے سوتیلے بچوں کو تمہارے ساتھ بھیجوں گی‘ ان کو کشتی کی سیر کرانا اور کسی نہ کسی طرح جب کوئی اور دیکھتا نہ ہو انھیں گہرے پانی میں ڈبو دینا‘‘

شبراتی کی ذہنیت غلامانہ تھی‘ اس کے علاوہ اس کو بہت بڑے انعام کا لالچ دیا گیا تھا۔ وہ دوسرے روز بندو اور چندو کو اپنے ساتھ لے گیا۔ انھیں کشتی میں بٹھایا ‘’اس کو خود کھینا شروع کیا‘ دریا میں دور تک چلا گیا‘ جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں تھا۔ اس نے چاہا کہ انھیں دھکا دے کر ڈبو دے مگر ایک دم اس کا ضمیر جاگ اُٹھا‘ اس نے سوچا ان بچوں کا کیا قصور ہے۔ سوائے اس کے کہ ان کی اپنی ماں مر چکی ہے اور اب یہ سوتیلی ماں کے رحم و کرم پر ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ میں انھیں کسی شخص کے حوالے کر دوں اور سوتیلی ماں سے جا کر کہہ دوں کہ دونوں ڈُوب چکے ہیں۔ دریا کے دوسرے کنارے اُتر کر اُس نے بندو اور چندو کو ایک تاجر کے حوالے کر دیا۔ جس نے ان کو ملازم رکھ لیا۔ بڑا لڑکا بندو کھیل کود کا عادی‘ محنت مشقت سے بہت گھبراتا تھا۔ تاجر کے ہاں سے بھاگ نکلا اور پیدل چل کر دوسرے شہر میں پہنچا مگر وہاں اسے ایک دولت مند آدمی کے ہاں جس کا نام قلندر بیگ تھا‘ پناہ لینا پڑی۔ قلندر بیگ نیک دل آدمی تھا‘ اس نے چاہا کہ بندو کو اپنے ہاں نوکر رکھ لے‘ چنانچہ اُس نے اُس سے پوچھا :

’’برخوردار! کیا تنخواہ لو گے‘‘

بندو نے جواب دیا :

’’جناب میں تنخواہ نہیں لوں گا‘‘

قلندر بیگ کو کسی قدر حیرت ہوئی‘ لڑکا شکل و صورت کا اچھا تھا‘ اس میں گنوار پن بھی نہیں تھا‘ اُس نے پُوچھا

’’تم کس خاندان کے ہو۔ کس شہر کے باشندے ہو؟‘‘

بندو نے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا اور خاموش رہا ‘ پھر رونے لگا۔ قلندر بیگ نے اس سے مزید استفسار کرنا مناسب نہ سمجھا ‘ جب بندو کو اس کے یہاں رہتے ہوئے کافی عرصہ گزر گیا تو قلندر بیگ اس کی خوش اطواری سے بہت متاثر ہوا۔ ایک دن اُس نے اپنی بیوی سے کہا بندو مجھے بہت پسند ہے۔ میں تو سوچتا ہوں اس سے اپنی ایک لڑکی بیاہ دُوں۔ ‘‘

بیوی کو اپنے خاوند کی یہ بات بُری لگی لیکن آخر اس نے کہا :

’’آپ سے اس کے خاندان کے متعلق تو دریافت کیجیے‘‘

قلندر بیگ نے کہا

’’میں نے ایک مرتبہ اس سے اس کے خاندان کے متعلق پوچھا تو وہ زاروقطار رونے لگا۔

’’پھر میں نے اس موضوع پر اس سے کبھی گفتگو نہیں کی‘‘

بندو کئی برس قلندر بیگ کے ہاں رہا‘ جب بیس برس کا ہو گیا تو قلندر بیگ نے اپنا سارا کاروبار اس کے سپرد کر دیا۔ کافی عرصہ گزر گیا‘ ایک دن بندو نے بڑے ادب سے اپنے آقا سے درخواست کی

’’دریا کے اُس پار دُور جو ایک گاؤں ہے وہاں میں چھوٹا مکان بنوانا چاہتا ہوں۔ کیا مجھے آپ اتنا روپیہ مرحمت فرما سکتے ہیں کہ میری یہ خواہش پوری ہو جائے‘‘

قلندر مسکرایا

’’تم جتنا روپیہ چاہو لے سکتے ہو بیٹا۔ لیکن یہ بتاؤ کہ تم دریا پار اتنی دُور مکان کیوں بنوانا چاہتے ہو۔ بندو نے جواب دیا

’’یہ راز آپ پر عنقریب کھل جائے گا‘‘

بندو اور چندو کا باپ اپنے بیٹوں کے فراق میں گُھل گُھل کے مر چکا تھا‘ مزارعوں کی بڑی ابتر حالت تھی اس لیے کہ زمینوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی بھی نہ تھا۔ بندو‘ بہت سا روپیہ لے کر اپنے گاؤں پہنچا ‘ ایک پکّا مکان بنوایا اور مزارعوں کو خوشحال کر دیا۔ بندو کا بھائی چندو جس شخص کے ہاں ملازم ہوا تھا اس نے اُس کو بیٹا بنا لیا تھا‘ ایک دفعہ وہ خطرناک طور پر بیمار پڑ گیا تو اس شخص کی بیوی نے جس کا نام صمد خان تھا‘ اپنی بیٹی آمنہ سے کہا کہ وہ اس کی تیمار داری کرے۔ آمنہ بڑی نازک اندام حسین لڑکی تھی‘ دن رات اُس نے چندو کی خدمت کی‘ آخر وہ صحت مند ہو گیا‘ تیمار داری کے اس دور میں وہ کچھ اس طرح گھل مل گئے کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہو گئی۔ مگر چندو سوچتا تھا کہ آمنہ ایک دولت مند کی لڑکی ہے اور ہ محض کنگلا۔ ان کا آپس میں کیا جوڑ ہے‘ اس کے والد بھلا کب ان کی شادی پر راضی ہوں گے لیکن آمنہ کو کسی قدر یقین تھا کہ اس کے والدین راضی ہو جائیں گے ‘ اس لیے کہ وہ چندو کو بڑی اچھی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ ایک دن چندو گائے بھینسوں کے ریوڑ کو جوہڑ پر پانی پلا رہا تھا کہ آمنہ دوڑتی ہوئی آئی اُس کی سانس پھولی ہوئی تھی‘ ننھا سا سینہ دھڑک رہا تھا اُس نے خوش خوش چندو سے کہا

’’ایک اچھی خبر لائی ہوں‘ آج میری ماں اور باپ میری شادی کی بات کر رہے تھے۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ تم بڑے اچھے لڑکے ہو‘ اس لیے تمھیں میرے ساتھ بیاہ دینا چاہیے‘‘

چندو اس قدر خوش ہوا کہ اس نے آمنہ کو اُٹھا کر ناچنا شروع کر دیا۔ُان دونوں کی شادی ہو گئی‘ ایک سال کے بعد ان کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام جمیل رکھا گیا۔ جب بندو اپنے گاؤں میں اچھی طرح جم گیا تو اس نے بھائی کا پتہ لیا۔ جا کے اُس سے ملا‘ دونوں بہت خوش ہوئے۔ بندو نے اس سے کہا اب اﷲ کا فضل ہے چلو میرے ساتھ اور دیوانی سنبھالو‘ میں چاہتا ہوں تمہاری شادی اپنی سالی سے کرا دوں۔ بڑی پیاری لڑکی ہے‘‘

چندو نے اس کو بتایا کہ وہ پہلے ہی شادی شدہ ہے‘ سارے حالات سُن کر بندو نے اس کو سمجھایا۔ قلندر بیگ بیحد دولتمند آدمی ہے‘ اس کی لڑکی سے شادی کر لو۔ ساری عمر عیش کرو گے۔ آمنہ کے باپ کے پاس کیا پڑا ہے‘‘

چندو اپنے بھائی کی یہ باتیں سُن کر لالچ میں آ گیا‘ اور دولت مند آمنہ کو چھوڑ دیا۔ طلاق نامہ کسی کے ہاتھ بھجوا دیا اور اس سے ملے بغیر چلا گیا۔ چند روز کے بعد ہی بندو نے اپنے بھائی کی شادی قلندر بیگ کی چھوٹی لڑکی سے کرا دی‘ آمنہ حیران و پریشان تھی کہ اس کا پیارا چندو ایک دم کہاں غائب ہو گیا لیکن اُس کو یقین تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتاہے۔ ایک دن ضرور واپس آ جائے گا۔ بڑی دیر اُس نے اُس کی واپسی کا انتظار کیا اور اس کی یاد میں آنسو بہاتی رہی۔ جب وہ نہ آیا تو آمنہ کے باپ نے جمیل کو ساتھ لیا اور بندو کے گاؤں پہنچا‘ اس کی ملاقات چندو سے ہوئی۔ وہ دولت کے نشے میں سب کو بھول چکا تھا۔ آمنہ کے باپ نے اُس کی بڑی منت سماجت کی اور اس سے کہا

’’اور کچھ نہیں تو اپنے اس کمسن بیٹے کا خیال کرو‘ تمہارے بغیر اس بچے کی زندگی کیا ہے؟‘‘

چندو نے یہ کورا جواب دیا

’’میں اپنی دولت اور عزت اس بچے کے لیے چھوڑ سکتا ہوں؟۔ جاؤ اسے لے جاؤ اور میری نظروں سے دُور کر دو‘‘

جب آمنہ کے باپ نے اور زیادہ منت سماجت کی تو چندو نے اس بڈّھے کو دھکّے دے کر باہر نکلوا دیا۔ ساتھ ہی اپنے بچے کو بھی۔ بوڑھا باپ غم و اندوہ سے چور گھر پہنچا اور آمنہ کو ساری داستان سُنا دی۔ آمنہ کو اس قدر صدمہ پہنچا کہ پاگل ہو گئی۔ چندو پر پے در پے اتنے مصائب آئے کہ اس کی ساری دولت اجڑ گئی‘ بھائی نے بھی آنکھیں پھیر لیں۔ بیوی لڑ جھگڑ کر اپنے میکے چلی گئی‘ اب اُس کو آمنہ یاد آئی‘ وہ اُس سے ملنے کے لیے گیا‘ اس کا بیٹا جمیل‘ ہڈیوں کا ڈھانچہ‘ اُس سے گھر کے باہر ملا‘ اُس نے اُس کو پیار کیا اور آمنہ کے متعلق اس سے پوچھا۔ جمیل نے اُس سے کہا

’’آؤ تمھیں بتاتا ہوں‘ میری ماں آج کل کہاں رہتی ہے‘‘

وہ اُسے دُور لے گیا اور ایک قبر کی طرف اشارہ کر کے

’’یہاں رہتی ہے آمنہ امّاں‘‘

۱۶، مئی ۱۹۵۴ء

سعادت حسن منٹو

آم

خزانے کے تمام کلرک جانتے تھے کہ منشی کریم بخش کی رسائی بڑے صاحب تک بھی ہے۔ چنانچہ وہ سب اس کی عزت کرتے تھے۔ ہر مہینے پنشن کے کاغذ بھرنے اور روپیہ لینے کے لیے جب وہ خزانے میں آتا تو اس کا کام اسی وجہ سے جلد جلد کردیا جاتا تھا۔ پچاس روپے اس کو اپنی تیس سالہ خدمات کے عوض ہر مہینے سرکار کی طرف سے ملتے تھے۔ ہر مہینے دس دس کے پانچ نوٹ وہ اپنے خفیف طور پر کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پکڑتا اور اپنے پرانے وضع کے لمبے کوٹ کی اندرونی جیب میں رکھ لیتا۔ چشمے میں خزانچی کی طرف تشکر بھری نظروں سے دیکھتا اور یہ کہہ کر

’’اگر زندگی ہوئی تو اگلے مہینے پھر سلام کرنے کے لیے حاضر ہوں گا‘‘

بڑے صاحب کے کمرے کی طرف چلا جاتا۔ آٹھ برس سے اس کا یہی دستور تھا۔ خزانے کے قریب قریب ہر کلرک کو معلوم تھا کہ منشی کریم بخش جو مطالبات خفیفہ کی کچہری میں کبھی محافظ دفتر ہوا کرتا تھا بے حد وضعدار، شریف الطبع اور حلیم آدمی ہے۔ منشی کریم بخش واقعی ان صفات کا مالک تھا۔ کچہری میں اپنی طویل ملازمت کے دوران میں افسران بالا نے ہمیشہ اس کی تعریف کی ہے۔ بعض منصفوں کو تو منشی کریم بخش سے محبت ہو گئی تھی۔ اس کے خلوص کا ہر شخص قائل تھا۔ اس وقت منشی کریم بخش کی عمر پینسٹھ سے کچھ اوپر تھی۔ بڑھاپے میں آدمی عموماً کم گو اور حلیم ہو جاتا ہے مگر وہ جوانی میں بھی ایسی ہی طبیعت کا مالک تھا۔ دوسروں کی خدمت کرنے کا شوق اس عمر میں بھی ویسے کا ویسا ہی قائم تھا۔ خزانے کا بڑا افسر منشی کریم بخش کے ایک مربی اور مہربان جج کا لڑکا تھا۔ جج صاحب کی وفات پر اسے بہت صدمہ ہوا تھا اب وہ ہر مہینے ان کے لڑکے کو سلام کرنے کی غرض سے ضرور ملتا تھا۔ اس سے اُسے بہت تسکین ہوتی تھی۔ منشی کریم بخش انھیں چھوٹے جج صاحب کہا کرتا تھا۔ پنشن کے پچاس روپے جیب میں ڈال کروہ برآمدہ طے کرتا اور چق لگے کمرے کے پاس جا کر اپنی آمد کی اطلاع کراتا۔ چھوٹے جج صاحب اس کو زیادہ دیر تک باہر کھڑا نہ رکھتے، فوراً اندر بلا لیتے اور سب کام چھوڑ کر اس سے باتیں شروع کردیتے۔

’’تشریف رکھیے منشی صاحب۔ فرمائیے مزاج کیسا ہے۔ ‘‘

’’اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ آپکی دعا سے بڑے مزے میں گزررہی ہے، میرے لائق کوئی خدمت؟‘‘

’’آپ مجھے کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو فرمائیے۔ خدمت گزاری تو بندے کا کام ہے۔ ‘‘

’’آپ کی بڑی نوازش ہے۔ ‘‘

اس قسم کی رسمی گفتگو کے بعد منشی کریم جج صاحب کی مہربانیوں کا ذکر چھیڑ دیتا۔ ان کے بلند کردار کی وضاحت بڑے فدویانہ انداز میں کرتا اور بار بار کہتا۔

’’اللہ بخشے مرحوم فرشتہ خصلت انسان تھے۔ خدا ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ ‘‘

منشی کریم بخش کے لہجے میں خوشامد وغیرہ کی ذرّہ بھر ملاوٹ نہیں ہوتی تھی۔ وہ جو کچھ کہتا تھا۔ محسوس کرکے کہتا تھا۔ اس کے متعلق جج صاحب کے لڑکے کوجو اب خزانے کے بڑے افسر تھے اچھی طرح معلوم تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کو عزت کے ساتھ اپنے پاس بٹھاتے تھے اور دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہتے تھے۔ ہر مہینے دوسری باتوں کے علاوہ منشی کریم بخش کے آم کے باغوں کا ذکر بھی آتا تھا۔ موسم آنے پر جج صاحب کے لڑکے کی کوٹھی پر آموں کا ایک ٹوکرا پہنچ جاتا تھا۔ منشی کریم بخش کو خوش کرنے کے لیے وہ ہر مہینے اس کو یاد دہانی کرا دیتے تھے۔

’’منشی صاحب، دیکھے اس موسم پر آموں کا ٹوکرا بھیجنا نہ بھولیے گا۔ پچھلی بار آپ نے جو آم بھیجے تھے اس میں تو صرف دو میرے حصے میں آئے تھے۔ ‘‘

کبھی یہ تین ہوجاتے تھے، کبھی چار اور کبھی صرف ایک ہی رہ جاتا تھا۔ منشی کریم بخش یہ سُن کر بہت خوش ہوتاتھا۔

’’حضور ایسا کبھی ہو سکتا ہے۔ جونہی فصل تیار ہوئی میں فوراً ہی آپ کی خدمت میں ٹوکرا لے کر حاضر ہو جاؤں گا۔ دو کہیے دو حاضر کردوں۔ یہ باغ کس کے ہیں۔ آپ ہی کے تو ہیں۔ ‘‘

کبھی کبھی چھوٹے جج صاحب پوچھ لیا کرتے تھے۔

’’منشی جی آپ کے باغ کہاں ہیں؟‘‘

دنیا نگر میں حضور۔ زیادہ نہیں ہیں صرف دو ہیں۔ اس میں سے ایک تو میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو دے رکھا ہے جو ان دونوں کا انتظام وغیرہ کرتا ہے۔ مئی کی پنشن لینے کے لیے منشی کریم بخش جون کی دوسری تاریخ کو خزانے گیا دس دس کے پانچ نوٹ اپنے خفیف طور پر کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کوٹ کی اندرونی جیب میں رکھ کر اس نے چھوٹے جج صاحب کے کمرہ کا رخ کیا۔ حسبِ معمول ان دونوں میں وہی رسمی باتیں ہُوئیں۔ آخر میں آموں کا ذکر بھی آیا۔ جس پر منشی کریم بخش نے کہا۔

’’دنیا نگر سے چٹھی آئی ہے کہ ابھی آموں کے منہ پر چیپ نہیں آیا۔ جونہی چیپ آگیا اور فصل پک کر تیار ہو گئی میں فوراً پہلا ٹوکرا لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں گا۔ چھوٹے جج صاحب! اس دفعہ ایسے تحفہ آم ہوں گے کہ آپ کی طبیعت خوش ہو جائے گی۔ ملائی اور شہد کے گھونٹ نہ ہُوئے تو میرا ذمہ۔ میں نے لکھ دیا ہے کہ چھوٹے جج صاحب کے لیے ایک ٹوکرا خاص طور پر بھروا دیا جائے اور سواری گاڑی سے بھیجا جائے تاکہ جلدی اور احتیاط سے پہنچے۔ دس پندرہ روز آپ کو اور انتظار کرنا پڑے گا۔ ‘‘

چھوٹے جج صاحب نے شکریہ ادا کیا۔ منشی کریم بخش نے اپنی چھتری اُٹھائی اور خوش خوش گھر واپس آگیا۔ گھر میں اس کی بیوی اور بڑی لڑکی تھی۔ بیاہ کے دوسرے سال جس کا خاوند مر گیا تھا۔ منشی کریم بخش کی اور کوئی اولاد نہیں تھی مگر اس مختصر سے کنبے کے باوجود پچاس روپوں میں اس کا گزر بہت ہی مشکل سے ہوتا تھا۔ اسی تنگی کے باعث اس کی بیوی کے تمام زیور ان آٹھ برسوں میں آہستہ آہستہ بِک گئے تھے۔ منشی کریم بخش فضول خرچ نہیں تھا۔ اس کی بیوی اور وہ بڑے کفایت شعار تھے مگر اس کفایت شعاری کے باوصف تنخواہ میں سے ایک پیسہ بھی ان کے پاس نہ بچتا تھا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ منشی کریم بخش چند آدمیوں کی خدمت کرنے میں بے حد مسرت محسوس کرتا تھا ان چند خاص الخاص آدمیوں کی خدمت گزاری میں جن سے اسے دلی عقیدت تھی۔ ان خاص آدمیوں میں سے ایک تو جج صاحب کے لڑکے تھے۔ دوسرے ایک اور افسر تھے جوریٹائر ہو کر اپنی زندگی کا بقایا حصہ ایک بہت بڑی کوٹھی میں گزار رہے تھے۔ ان سے منشی کریم بخش کی ملاقات ہر روز صبح سویرے کمپنی باغ میں ہوتی تھی۔ باغ کی سیر کے دوران میں منشی کریم بخش ان سے ہر روز پچھلے دن کی خبریں سنتا تھا۔ کبھی کبھی جب وہ بیتے ہوئے دنوں کے تار چھیڑ دیتا تو ڈپٹی سپریٹنڈنٹ صاحب اپنی بہادری کے قصّے سنانا شروع کردیتے تھے کہ کس طرح انھوں نے لائل پور کے جنگلی علاقے میں ایک خونخوار قاتل کو پستول، خنجر دکھائے بغیر گرفتار کیا اور کس طرح ان کے رعب سے ایک ڈاکو سارا مال چھوڑ کر بھاگ گیا۔ کبھی کبھی منشی کریم بخش کے آم کے باغوں کا بھی ذکر آجاتا تھا۔ منشی صاحب کہیے۔ اب کی دفعہ فضل کیسی رہے گی۔

’’پھر چلتے چلتے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ صاحب یہ بھی کہتے۔ پچھلے سال آپ نے جو آم بھجوائے تھے بہت ہی اچھے تھے بے حد لذیذ تھے۔ ‘‘

’’انشاء اللہ خدا کے حکم سے اب کی دفعہ بھی ایسے ہی آم حاضر کروں گا۔ ایک ہی بوٹے کے ہوں گے۔ ویسے ہی لذیذ، بلکہ پہلے سے کچھ بڑھ چڑھ کر ہی ہوں گے۔ ‘‘

اس آدمی کو بھی منشی کریم بخش ہر سال موسم پر ایک ٹوکرا بھیجتا تھا۔ کوٹھی میں ٹوکرا نوکروں کے حوالے کرکے جب وہ ڈپٹی صاحب سے ملتا اور وہ اس کا شکریہ ادا کرتے تو منشی کریم بخش نہایت انکساری سے کام لیتے ہوئے کہتا

’’ڈپٹی صاحب آپ کیوں مجھے شرمندہ کرتے ہیں۔ اپنے باغ ہیں۔ اگر ایک ٹوکرا یہاں لے آیا تو کیا ہو گیا۔ بازار سے آپ ایک چھوڑ کئی ٹوکرے منگوا سکتے ہیں۔ یہ آم چونکہ اپنے باغ کے ہیں اور باغ میں صرف ایک بوٹا ہے جس کے سب د انے گھلاوٹ خوشبو اور مٹھاس میں ایک جیسے ہیں اس لیے یہ چند تحفے کے طور پر لے آیا۔ ‘‘

آم دینے کے بعد جب وہ کوٹھی سے باہر نکلتا تو اس کے چہرے پر تمتماہٹ ہوتی تھی ایک عجیب قسم کی روحانی تسکین اسے محسوس ہوتی تھی جو کئی دنوں تک اس کو مسرور رکھتی تھی۔ منشی کریم بخش اکہرے جسم کا آدمی تھا۔ بڑھاپے نے اس کے بدن کو ڈھیلا کردیا تھا۔ مگر یہ ڈھیلا پن بدصورت معلوم نہیں ہوتا تھا۔ اس کے پتلے پتلے ہاتھوں کی پھولی ہوئی رگیں سر کا خفیف سا ارتعاش اور چہرے کی گہری لکیریں اس کی متانت و سنجیدگی میں اضافہ کرتی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بڑھاپے نے اس کو نکھار دیا ہے۔ کپڑے بھی وہ صاف ستھرے پہنتا تھا جس سے یہ نکھار ابھر آتا تھا۔ اس کے چہرے کا رنگ سفیدی مائل زرد تھا۔ پتلے پتلے ہونٹ جو دانت نکل جانے کے بعد اندر کی طرف سمٹے رہتے تھے، ہلکے سرخ تھے، خون کی اس کمی کے باعث اس کے چہرے پر ایسی صفائی پیدا ہو گئی تھی جو اچھی طرح منہ دھونے کے بعد تھوڑی دیر تک قائم رہا کرتی ہے۔ وہ کمزور ضرور تھا، پینسٹھ برس کی عمر میں کون کمزور نہیں ہو جاتا مگر اس کمزوری کے باوجود اس میں کئی کئی میل پیدل چلنے کی ہمت تھی۔ خاص طور پر جب آموں کا موسم آتا تو وہ ڈپٹی صاحب اور چھوٹے جج صاحب کو آموں کے ٹوکرے بھیجنے کے لیے اتنی دوڑ دھوپ کرتا تھا کہ بیس پچیس برس کے جوان آدمی بھی کیا کریں گے۔ بڑے اہتمام سے ٹوکرے کھولے جاتے تھے۔ ان کا گھاس پھوس الگ کیا جاتا تھا۔ داغی یا گلے سڑے دانے الگ کیے جاتے تھے۔ اور صاف ستھرے آم نئے ٹوکروں میں گن کر ڈالے جاتے تھے۔ منشی کریم بخش ایک بار پھر اطمینان کرنے کی خاطر ان کو گن لیتا تھا تاکہ بعد میں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔ آم نکالتے اور ٹوکروں میں ڈالتے وقت منشی کریم بخش کی بہن اور اسکی بیوی کے منہ میں پانی بھر آتا۔ مگر وہ دونوں خاموش رہتیں۔ بڑے بڑے رس بھرے خوبصورت آموں کا ڈھیر دیکھ کر جب ان میں سے کوئی یہ کہے بغیر نہ رہ سکتی۔

’’کیا ہرج ہے اگر اس ٹوکرے میں سے دو آم نکال لیے جائیں۔ ‘‘

تو منشی کریم بخش سے یہ جواب ملتا۔

’’اور آجائیں گے اتنا بیتاب ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ ‘‘

یہ سن کر وہ دونوں چپ ہو جاتیں اور اپنا کام کرتی رہتیں۔ جب منشی کریم بخش کے گھر میں آموں کے ٹوکرے آتے تھے تو گلی کے سارے آدمیوں کو اس کی خبر لگ جاتی تھی۔ عبداللہ نیچہ بند کا لڑکا جو کبوتر پالنے کا شوقین تھا دوسرے روز ہی آدھمکتا تھا اور منشی کریم بخش کی بیوی سے کہتا تھا۔

’’خالہ میں گھاس لینے کے لیے آیا ہوں۔ کل خالو جان آموں کے دو ٹوکرے لائے تھے ان میں سے جتنی گھاس نکلی ہو مجھے دے دیجیے۔ ہمسائی نوراں جس نے کئی مرغیاں پال رکھی تھیں، اسی روز شام کو ملنے آجاتی تھی اور اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد کہا کرتی تھی۔ پچھلے برس جو تم نے مجھے ایک ٹوکرہ دیا تھا بالکل ٹوٹ گیا ہے۔ اب کے بھی ایک ٹوکرہ دیدو تو بڑی مہربانی ہو گی۔ ‘‘

دونوں ٹوکرے اور ان کی گھاس یوں چلی جاتی۔ حسب معمول اس دفعہ بھی آموں کے دو ٹوکرے آئے گلے سڑنے دانے الگ کیے گئے جو اچھے تھے ان کو منشی کریم بخش نے اپنی نگرانی میں گنوا کر نئے ٹوکروں میں رکھوایا۔ بارہ بجے پہلے پہل یہ کام ختم ہو گیا۔ چنانچہ دونوں ٹوکرے غسل خانے میں ٹھنڈی جگہ رکھ دیے گئے تاکہ آم خراب نہ ہو جائیں۔ ادھرسے مطمئن ہو کر دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد منشی کریم بخش کمرے میں چارپائی پر لیٹ گیا۔ جون کے آخری دن تھے۔ اس قدر گرمی تھی کہ دیواریں توے کی طرح تپ رہی تھیں۔ وہ گرمیوں میں عام طور پر غسل خانے کے اندر ٹھنڈے فرش پر چٹائی بچھا کر لیٹا کرتا تھا۔ یہاں موری کے رستے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بھی آجاتی تھی لیکن اب کے اس میں دو بڑے بڑے ٹوکرے پڑے تھے۔ اس کو گرم کمرے ہی میں جو بالکل تنور بنا ہوا تھا چھ بجے تک وقت گزارنا تھا۔ ہر سال گرمیوں کے موسم میں جب آموں کے یہ ٹوکرے آتے اسے ایک دن آگ کے بستر پر گزارنا پڑتا تھا مگر وہ اس تکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرلیتا تھا۔ قریباً پانچ گھنٹے تک چھوٹا سا پنکھا بار بار پانی میں تر کرکے جھلتا رہتا۔ انتہائی کوشش کرتا کہ نیند آجائے مگر ایک پل کے لیے بھی اسے آرام نصیب نہ ہوتا۔ جون کی گرمی اور ضدی قسم کی مکھیاں کسے سونے دیتی ہیں۔ آموں کے ٹوکرے غسل خانے میں رکھوا کر جب وہ گرم کمرے میں لیٹا تو پنکھا جھلتے جھلتے ایک دم اس کا سر چکرایا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا۔ پھر اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کا سانس اکھڑ رہا ہے اور وہ سارے کا سارا گہرائیوں میں اتر رہا ہے اس قسم کے دورے اسے کئی بار پڑ چکے تھے اس لیے کہ اس کا دل کمزور تھا مگر ایسا زبردست دورہ پہلے کبھی نہیں پڑا تھا۔ سانس لینے میں اس کو بڑی دقت محسوس ہونے لگی، سر بہت زور سے چکرانے لگا۔ گھبرا کر اس نے آواز دی اور اپنی بیوی کو بلایا۔ یہ آواز سن کر اس کی بیوی اور بہن دونوں دوڑی دوڑی اندر آئیں دونوں جانتی تھیں کہ اسے اس قسم کے دورے کیوں پڑتے ہیں۔ فوراً ہی اس کی بہن نے عبداللہ نیچہ بند کے لڑکے کو بلایا اور اس سے کہا کہ ڈاکٹر کو بلا لائے تاکہ وہ طاقت کی سوئی لگا دے۔ لیکن چند منٹوں ہی میں منشی کریم بخش کی حالت بہت زیادہ بگڑ گئی۔ اس کا دل ڈوبنے لگا۔ بیقراری اس قدر بڑھ گئی کہ وہ چارپائی پر مچھلی کی طرح تڑپنے لگا۔ اس کی بیوی اور بہن نے یہ دیکھ کرشور برپا کردیا۔ جس کے باعث اس کے پاس کئی آدمی جمع ہو گئے۔ بہت کوشش کی گئی، اس کی حالت ٹھیک ہو جائے لیکن کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ ڈاکٹر بلانے کے لیے تین چار آدمی دوڑائے گئے تھے لیکن اس سے پہلے کہ ان میں سے کوئی واپس آئے منشی کریم بخش زندگی کے آخری سانس لینے لگا۔ بڑی مشکل سے کروٹ بدل کر اس نے عبداللہ نیچہ بند کو جو اس کے پاس ہی بیٹھا تھا اپنی طرف متوجہ کیا اور ڈُوبتی ہُوئی آواز میں کہا۔ تم سب لوگ باہر چلے جاؤ۔

’’میں اپنی بیوی سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ ‘‘

سب لوگ باہر چلے گئے اس کی بیوی اور لڑکی دونوں اندر داخل ہوئیں رو رو کر ان کا بُرا حال ہو رہا تھا۔ منشی کریم بخش نے اشارے سے اپنی بیوی کو پاس بُلایا اور کہا۔

’’دونوں ٹوکرے آج شام ہی ڈپٹی صاحب اور چھوٹے جج صاحب کی کوٹھی پر ضرور پہنچ جانے چاہئیں۔ پڑے پڑے خراب ہو جائیں گے۔ ‘‘

اِدھر اُدھر دیکھ کر اس نے بڑے دھیمے لہجے میں کہا۔

’’دیکھو تمہیں میری قسم ہے میری موت کے بعد بھی کسی کو آموں کا راز معلوم نہ ہو۔ کسی سے نہ کہنا کہ یہ آم ہم بازارسے خرید کر لوگوں کو بھیجتے تھے۔ کوئی پوچھے تو یہی کہنا کہ دنیا نگر میں ہمارے باغ ہیں۔ بس۔ اور دیکھو جب میں مر جاؤں تو چھوٹے جج صاحب اور ڈپٹی صاحب کو ضرور اطلاع بھیج دینا۔ ‘‘

چند لمحات کے بعد مشنی کریم بخش مر گیا، اس کی موت سے ڈپٹی صاحب اور چھوٹے صاحب کو لوگوں نے مطلع کردیا۔ مگر دونوں چند ناگزیر مجبوریوں کے باعث جنازے میں شامل نہ ہوسکے۔

سعادت حسن منٹو

آصف نے کہا۔

’’کام چور نوکر تو قریب قریب سبھی ہوتے ہیں۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر باقاعدہ چور ہوتے ہیں‘‘

اور اس نے اپنے ایک نئے نوکر کی داستان سنائی جو بے حد مستعد تھا۔ اس قدرمستعد کہ بعض اوقات آصف کے آواز نہ دینے پربھی بھاگا بھاگا آتا تھا اور اس سے پوچھتا۔

’’کیوں صاحب آپ نے بلایا مجھے؟‘‘

آصف نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’مجھے نوکروں میں اس قدرپھرتی، چالاکی اور مستعدی پسند نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب راجہ صاحب نے مجھ سے کہا کہ آسو تم بہت خوش قسمت ہو کہ بیٹھے بٹھائے تمہیں ایسا نوکر مل گیا تو۔ ‘‘

راجہ غلام علی نے بات کاٹ کرکہا۔

’’بخدا مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کم بخت چور ہو گا!‘‘

آصف راجہ سے مخاطب ہوا۔

’’میرا اپنا اندازہ یہ تھا کہ وہ یا تو چور ہے یا پہنچا ہوا ولی۔ اس کے بین بین وہ کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ میں نے راجہ صاحب سے کہا، قبلہ اگر آپ اس نوکر کو ایک ایسا دفینہ سمجھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے مجھے مل گیا ہے تومیں آپ کی دوستی کی خاطر قربانی کرنے کے لیے تیار ہوں۔ آپ بڑے شوق سے یہ سوغات اپنے گھرلے جاسکتے ہیں۔ ‘‘

راجہ نے کہا۔

’’میں نے انکار نہیں کیا تھا۔ ‘‘

’’درست ہے!‘‘

آصف مسکرایا۔

’’غلطی میری تھی، اگر میں نے اس وقت وہ نعمت غیر مترقبہ آپ کو سونپ دی ہوتی تو جیسا کہ آپ کو معلوم ہے مجھے چالیس روپے اور ایک عدد ریلوے پاس کا داغِ مفارقت برداشت نہ کرنا پڑتا۔ ‘‘

راجہ ہم سے مخاطب ہوا۔

’’آصف سے ذرا ساری داستان سنو۔ کافی دلچسپ ہے!‘‘

آصف نے کہا

’’معاف فرمائیے۔ مجھے یہ داستان غم سناتے کوئی فرحت حاصل نہیں ہوتی۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ مجھ سے مخاطب ہوا۔

’’بات یہ ہے منٹو۔ کہ چغد پن اصل میں میں نے کیا۔ وہ بہت چالاک تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں لیکن اپنی ہوشیاری مجھے کافی اعتماد تھا۔ صبح سویرے اٹھ کر جب میں نے میز کی ٹرے دیکھی تو اس میں خلاف معمول میرا ریلوے پاس نہیں تھا۔ اس کے خانے میں دس دس کے چار نوٹ تھے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ ساتھ ہی غائب تھے۔ نوکر میری توقع کے مطابق موجود تھا۔ چنانچہ میں نے اِدھر اُدھر تلاش شروع کی۔ میز کے نچلے دراز میں پاس مع روپوؤں کے فائلوں کے نیچے موجود تھا۔ میں نے اُسے وہیں رکھ دیا۔ یہ تم سمجھ سکتے ہو کیوں؟‘‘

میں نے ا ثبات میں سرہلایا۔

’’بہت اچھی طرح۔ ‘‘

راجہ مسکرانے لگا۔ آصف نے اس کی طرف دیکھا۔

’’راجہ صاحب مسکرا رہے ہیں۔ اس لیے کہ میں نے خود کو چغد ثابت کیا۔ لیکن واقعہ یہ ہے۔ ‘‘

وہ مجھ سے مخاطب ہوا

’’بات یہ ہوئی منٹو کہ میں نے ایک پلان بنایا۔ یہ تو صاف ظاہر تھا کہ اس نوکر نے جس کا نام مومن تھا کس نیت سے وہ روپے فائلوں کے نیچے چھپائے تھے۔ اور ناشتے سے فارغ ہوکر وہ بڑے اطمینان سے اپنا کام کرنا چاہتا تھا اور میں بھی اسے بڑے اطمینان سے رنگے ہاتھوں پکڑنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ یہ پلان یہ تھا کہ میں حسب معمول نہانے کے لیے غسل خانے میں جاؤں اور تھوڑا سا دروازہ کھلا رکھوں اور اسے دیکھتا رہوں۔ غسل خانے سے اس کمرے پر جس میں وہ میز پڑا تھا بڑی آسانی سے نگاہ رکھی جاسکتی تھی۔ یہ پلان اس قدر واضح اور مکمل تھا کہ میں نے دل ہی دل میں اس مردِ مومن کو گرفتار کرکے بعد میں اپنی روایتی گناہ بخش طبیعت کے باعث اسے چھوڑ بھی دیا تھا۔ ‘‘

راجہ ہنسا۔ آصف بھی ہنسا۔

’’ہاں تو منٹو میں نہانے کے لیے غسل خانے میں چلا گیا۔ دروازہ پلان کے مطابق میں نے تھوڑا سا کھلا رکھا۔ مگر نہانے میں کچھ ایسا مشغول ہوا کہ سب کچھ بھول گیا۔ معلوم نہیں غسل خانے میں آدمی کام کی باتیں بھول کر کیوں ایسی دنیا میں کھو جاتا ہے جہاں اور سب کچھ ہوتا ہے مگرکوئی غسل خانہ نہیں ہوتا!‘‘

میں نے مسکرا کرکہا۔

’’فقرہ خوبصورت ہے، گو کچھ معنی نہیں رکھتا۔ ‘‘

آصف نے ذرا تیزی سے کہا۔

’’کیوں معنی نہیں رکھتا۔ اگر غسل خانے کے بجائے میں پینٹری میں گیا ہوتا یا دوسرے کمرے کو میں نے اپنا محاذ بنایا ہوتا تو یقیناً اپنے مجوزہ آپریشن میں کامیاب رہتا۔ بخدا مجھے تو اس دن سے نفرت ہو گئی ہے دنیا کے تمام غسل خانوں سے۔ ‘‘

راجہ مسکرایا۔

’’آج کل آپ غسل آفتابی فرماتے ہیں۔ ‘‘

آصف بھی مسکرایا۔

’’غسل آبی ہو، آفتابی ہو یا مہتابی۔ مجھے سب سے نفرت ہو گئی ہے۔ تو اس دن سے تیمم پر گزارہ کررہاہوں۔ باہر نکل کر کنگھی کرتے ہوئے جب مجھے اپنا پلان یاد آیا تو دوڑ کر دوسرے کمرے میں گیا۔ فائلوں کے نیچے پاس غائب تھا۔ خدا کی قسم منٹو مجھے ان چالیس روپوں کا افسوس نہیں تھا۔ صدمہ اس بات کا تھا کہ سارا پلان غسل خانے کی بدولت غارت ہو گیا۔ اور پاس ضائع ہو گیا۔ خواجہ ظہیر جو اس وقت تک خاموش تھا بولا

’’آصف صاحب نے اس روز جھنجھلاہٹ میں ٹکٹ کے بغیر سفر کیا اور دھر لیے گئے۔ واپسی پر آپ کا ارادہ تھا کہ چار پانچ دوستوں سمیت انتقام لینے کے لیے ٹکٹ کے بغیر سفر کریں مگر آپ کی روایتی دور اندیشی کام آگئی اور آپ اس خطرناک عزم سے باز رہے۔ ‘‘

راجہ نے سگرٹ سلگایا اور اپنے موٹے موٹے گدگدے گالوں پر ہاتھ پھیر کر ایک لمبی داستان سنانے کے لیے خود کو تیار کرتے ہوئے کہنا شروع کیا۔

’’چور نوکروں کا ذکر آیا ہے تو مجھے ایک دلچسپ واقعہ یاد آگیا۔ ‘‘

میں نے ان کی بات کاٹی

’’اتفاق کی بات ہے کہ یہ دلچسپ واقعہ آپ اتنی مرتبہ اس قدر غیر دلچسپ طریقے پربیان فرما چکے ہیں کہ اب اس غریب کی ساری وقوعیت ختم ہو چکی ہے۔ اور دلچسپی۔ ‘‘

راجہ کے گال تھرتھرائے

’’چلو ہٹاؤ۔ ‘‘

خواجہ ظہیر نے مجھ سے اجازت لی

’’اگر آپ اجازت دیں تو میں ایک واقعہ سناؤں۔ ممکن ہے آپ کو اس میں دلچسپی کا کوئی پہلو مل جائے۔ ‘‘

خواجہ ظہیر عام طور پر شیطان کی آنت کی طرح لمبی ہونیوالی گفتگو میں حصہ نہیں لیا کرتا تھا اور اپنا وہی تجربہ معرض بیان میں لایا کرتا تھا۔ جو اس پر کافی اثر انداز ہوا ہے۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا

’’آپ تکلف سے کام نہ لیں خواجہ صاحب۔ بے تکلف ارشاد فرمائیں۔ ‘‘

خواجہ ظہیر نے قدرے تکلف سے کہنا شروع کیا

’’دس روپے کی چوری بظاہر بالکل معمولی چوری ہے۔ گھر میں آئے دن نوکرایسی چوریوں کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ میں دہلی میں تھا۔ فتح پور میں میرا مکان تھا۔ میرا خیال ہے بمبئے جاتے ہوئے آپ ایک دفعہ وہاں ٹھہرے بھی تھے۔ ‘‘

میں نے جواب دیا

’’جی ہاں۔ ٹھہرا کیا تھا پورے دس روز قیام کیا تھا۔ ‘‘

’’تو آپ نے غلام قادر کو ضرور دیکھا ہو گا۔ ادھیڑ عمر کا تھا۔ بڑی بڑی مونچھیں۔ ‘‘

مجھے یاد آگیا۔

’’جی ہاں۔ جی ہاں میں اب اسکی تصویر اپنی آنکھوں کے سامنے لاسکتا ہوں۔ مگر وہ تو۔ وہ تو اچھا خاصا۔ میرا مطلب ہے ایماندار آدمی معلوم ہوتا تھا۔ ‘‘

خواجہ ظہیر نے کہا

’’میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ آپ سارا واقعہ سن لیجیے اس لیے آپ یقیناً کوئی نہ کوئی نتیجہ برآمد کرلیں گے۔ واقعہ یوں ہے۔ میری بیوی کی عادت ہے کہ جب میں تنخواہ لاکر اس کے حوالے کرتا ہوں تو اس میں سے کچھ روپے نکال کر کسی کپڑے کی تہہ میں رکھ دیتی ہے یا کسی الماری کے کسی کونے میں چھپا دیتی ہے اور بھول جاتی ہے۔ ‘‘

راجہ نے مسکراکر کہا۔

’’آپ تو عیش کرتے ہوں گے؟‘‘

خواجہ ظہیر نے راجہ سے مختصراً

’’جی نہیں‘‘

کہا اور مجھ سے مخاطب ہوا۔

’’وہ بھولتی نہیں۔ دل میں یہ فرض کرلیتی ہے کہ بھول گئی ہے۔ اس کو پس انداز کرنے کا صرف یہی ایک طریقہ آتا ہے۔ ‘‘

آصف نے میری طرف دیکھا۔

’’منٹو۔ یوں کہیں خواجہ صاحب کہ ان کی بیگم صاحبہ پس انداز کا ترجمہ کردیتی ہیں۔ ‘‘

خواجہ ظہیر مسکرایا۔

’’جی ہاں۔ کچھ ایسا ہی سمجھیے۔ تو قصہ یہ ہے کہ ایک دفعہ اس نے دس کا ایک نوٹ بک شیلف کے نیچے رکھ دیا اور بھول گئی۔ ‘‘

’’اپنے نہ بھولنے والے انداز میں‘‘

آصف نے اپنا سگریٹ سلگایا اور ظہیر کو پیش کیا۔ ظہیر نے سگریٹ لے کرشکریہ ادا کیا اور واقعہ کی تفصیل بیان کرنے لگا۔

’’اپنے نہ بھولنے والے انداز میں وہ دس روپے کے اس نوٹ کو بھول چکی تھی۔ د وہ کس پوزیشن میں پڑا ہے، کب سے پڑا ہے یہ اس کو اچھی طرح یاد تھا۔ اس لیے جب وہ غائب ہوا تو اس نے مجھ سے اس کے بارے میں استفسار کیا۔ آصف نے ازراہِ مذاق پوچھا

’’کیا وہ ہر روز صبح اٹھ کر کونے کھدرے دیکھ لیا کرتی ہیں جہاں انھوں نے حسب توفیق کچھ نہ کچھ بھولا ہوتا ہے؟‘‘

ظہیر نے جواب دیا۔

’’ہر روز صبح اٹھ کرنہیں۔ لیکن دن میں ایک مرتبہ سرسری طور پر دیکھ لیا کرتی ہیں۔ چنانچہ جب ان کو اس نوٹ کی گمشدگی کا علم ہوا تو سب سے پہلے اُن کو مجھ پر شبہ ہوا۔ ‘‘

راجہ نے پوچھا۔

’’آپ کبھی کبھی خود کو یہ دھوکا دینے کے لیے آپ نے ایسی چوری کی ہے جس کا علم آپ کی بیگم صاحب کو۔ آپ۔ آپ خود کو یہ دھوکا۔ ‘‘

منٹو صاحب نے فقرے کو صحیح اور با مطلب کرنے کی کوشش کی۔ مگر ناکام رہا۔

’’منٹو۔ تم سمجھ گئے نا میرا مطلب؟‘‘

میرے بجائے خواجہ ظہیر نے جواب دیا۔

’’ایسی چوریاں کون خاوند نہیں کرتا۔ کبھی کبھی بوقت ضرورت اس جرم کا ارتکاب کرنا ہی پڑتا ہے۔ لیکن اتفاق کی بات ہے کہ اس موقعہ اس کا شبہ غلط تھا۔ مجھے ضرورت تھی اس لیے کہ ایک دوست کو سینما لے جانا تھا۔ لیکن میں نے وہ نوٹ اٹھا کر پھر اس خیال سے وہیں رکھ دیا تھا کہ دو تین روز کے بعد اس کی شدید ضرورت پڑنے والی تھی۔ میں نے چنانچہ اپنی بیوی کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ مجھے اس نوٹ کی چوری کا کوئی علم نہیں۔ ‘‘

راجہ نے پوچھا

’’ان کو یقین آگیا؟‘‘

’’جی نہیں‘‘

آصف نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا

’’وہ بیوی ہی نہیں جسے خاوند کی بات پر یقین آجائے۔ لیکن پھر بھی میں نے اپنی سی کوشش کی اور بالآخر اس کو یقین دلانے میں کامیاب ہو گیا کہ وہ نوٹ میں نے نہیں چرایا تھا۔ اب یہ سوال پیدا ہوا کہ چوری اگر میں نے نہیں کی تو کس نے کی تھی۔ کیونکہ یہ تو مسلمہ امر تھا کہ نوٹ خود بخود غائب نہیں ہوا۔ چرایا گیا ہے اور دو اور دوچار بنانے سے یہ بھی معلوم ہو گیا تھا کہ میرے دفتر جانے کے بعد کسی نے اس پر ہاتھ صاف کیا ہے کیونکہ دفتر جاتے ہوئے میں نے اسے چرانے کا خیال کیا تھا۔ اور اسے کسی دوسرے وقت پر اٹھا دیا تھا۔ ‘‘

راجہ مسکرایا۔

’’بزرگوں نے وہ ٹھیک کہا ہے۔ آج کا کام کل پر نہ چھوڑو۔ ‘‘

خواجہ ظہیر نے راجہ کی بات سنی مگر بزرگوں کے اس کہے کے متعلق اپنے خیال کا اظہار نہ کیا

’’گھر میں دو نوکر تھے، ایک ملازم قادر۔ دوسرا صادق۔ صادق دو دن سے چھٹی پر تھا۔ اس کی ماں بیمار تھی۔ بس ایک غلام قادر ہی تھا جس پر شک کیا جاسکتا تھا۔ مگر۔ ‘‘

اس نے براہ راست مجھ سے مخاطب ہو کرکہا۔

’’جیسا کہ آپ نے ابھی ابھی فرمایا تھا وہ اچھا خاصا ایمان دار آدمی معلوم ہوتا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ہم اپنے شک کا اظہار کیسے کریں۔ نوکروں کو ڈانٹنے ڈپٹنے، مارنے پیٹنے اور ملازمت سے برطرف کرنے کا کام میرے ذمے ہے۔ ‘‘

راجہ نے ازراہ مذاق کہا۔

’’بڑا اہم پورٹ فولیو آپ کے ذمے ہے۔ ‘‘

’’جی ہاں، بہت اہم۔ لیکن بڑا نازک۔ وہ ملازم خود رکھتی ہیں لیکن برطرفی مجھ سے کراتی ہیں‘‘

یہ کہہ کر خواجہ ظہیر مسکرایا۔ راجہ صاحب کے گال بھی مسکرائے

’’جس کا کام اسی کو ساجھے۔ کوئی اور کرے تو خدا معلوم کیا باجے‘‘

آصف نے کہا

’’ڈنکا‘‘

’’ڈنکا ہی ہو گا۔ ‘‘

جلدی سے کہہ کر وہ خواجہ ظہیر سے مخاطب ہوا

’’آپ ذرا جلدی اپنی داستان ختم کیجیے۔ مجھے اپنی ڈنکا کے ساتھ ایک جگہ جانا ہے۔ ‘‘

آصف بے تحاشا ہنسا۔

’’اپنی ڈنکا کے ساتھ؟‘‘

راجہ کے گال بوکھلا گئے۔

’’آئی ایم سوری۔ اپنی بیوی کے ساتھ!‘‘

سب ہنسنے لگے۔ میں نے خواجہ ظہیر سے کہا۔

’’راجہ صاحب کو اپنی بیوی کے ساتھ جانا ہے۔ اس لیے آپ یہ داستان جلدی ختم کردیجیے تاکہ یہ راستے میں اسے سنا سکیں!‘‘

خواجہ مسکرایا۔

’’بہت بہتر۔ ‘‘

پھر تھوڑی دیر رک کر اس نے کہنا شروع کیا۔

’’معاملہ بہت ٹیڑھا تھا۔ غلام قادر کو ملازم ہوئے صرف ایک مہینہ ہوا تھا۔ اس دوران میں اس نے مجھے اور میری بیوی کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دیاتھا۔ بڑا اطاعت گزار قسم کا آدمی تھا۔ ان دنوں سخت گرمیوں کے باعث برف کی بہت قلت تھی۔ ملتی تھی تو آٹھ آنے سیر مگر غلام قادر دو آنے کی اتنی ساری لے آتا تھا۔ صادق کو بہت تاؤ آتا تھا۔ جب میری بیوی اس سے کہتی کہ دیکھو غلام قادر کتنا اچھا ہے۔ تم تو اول درجے کے چور ہو تو وہ بھنا جاتا اور اسے گالیاں دیتا کہ وہ یہ سب کچھ اسے نکلوانے کے لیے کرتا ہے۔ جب پہلی مرتبہ وہ دو آنے کی توقع سے بہت زیادہ برف لایا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اتنی سستی تم کہاں سے لے آئے، تو اس نے جواب دیا کہ صاحب برف والا اپنی دکان بڑھا رہا تھا جتنی بچی تھی، سب کی سب اس نے مجھے دے دی۔ جواب معقول تھا۔ لیکن دوسرے روز وہ پھر دو آنے کی اتنی ہی برف لایا اور قریب قریب ہر روز لاتا رہا، کیونکہ میری بیوی نے اب سودا سلف لانے کا کام اسی کے سپرد کردیا تھا۔ اس کو میرے لڑکے سے بہت محبت تھی۔ ہر دوسرے تیسرے دن اس کو چاکلیٹ وغیرہ لے دیتا تھا۔ دو تین مرتبہ وہ میری بیوی کے لیے چنگیر بھر بھر کے موتیے کے پھول بھی لایا۔ اس پر چوری کا شک ہو سکتاتھا، لیکن مشکل یہ تھی کہ اس کا اظہار کیسے کیا جائے اور اس کی تصدیق کیونکر ہو۔ میں طبعاً بہت نرم ہوں، لیکن بیوی کی خاطر مجھے اکثر نوکروں کوڈانٹ ڈپٹ کرنی پڑتی ہے۔ جب چوری کا پتہ لگانے کے لیے مجھے بار بار اکسایا گیا تو میں نے ایک دن غلام قادر سے پوچھ گچھ کا تہیہ کرلیا۔ ‘‘

خواجہ نے ڈبیا سے ایک سگریٹ نکالا۔ راجہ نے گھڑی میں وقت دیکھا اور کہا

’’اللہ بیوی سے بچائے۔ ‘‘

خواجہ نے سگریٹ سلگایا۔

’’چنانچہ میں نے اُس کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہا، دیکھو غلام قادر وہ دس روپے کا نوٹ جو تم نے بک شیلف کے نیچے سے اٹھایا تھا۔ واپس کردو۔ ‘‘

راجہ نے کہا۔

’’یہ طریقہ خوب تھا۔ ‘‘

خواجہ ظہیر نے راجہ کی بات کی طرف دھیان نہ دیا۔

’’اس نے کسی قدر گھبرا کر جواب دیا۔ صاحب کون سا دس روپے کا نوٹ۔ مجھے بالکل معلوم نہیں۔ اس پر میں نے اس کو ڈ انٹا۔ مگر وہ پھر بھی نہ بولا۔ جب میں نے محسوس کیا کہ مجھے شکست ہورہی ہے تو میں نے زور کا ایک تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔ یہ اس کی توقع کے خلاف تھا۔ ایک دو سیکنڈ کے لیے چنانچہ وہ بالکل مبہوت ہو گیا۔ میں نے ایک اور جڑ دیا اور بڑے سنگین لہجے میں اس سے کہا۔ دیکھو غلام قادرتم نے اگر سچ نہ بولا تو میں پولیس کے حوالے کردوں گا۔ اس نے جواب دیا۔ صاحب میں نے چوری نہیں کی۔ آپ مجھے پولیس کے حوالے کردیجیے!‘‘

راجہ نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

’’بڑا پکا چور تھا۔ ‘‘

خواجہ ظہیر نے نفی میں اپنا سر ہلایا۔

’’جی نہیں۔ وہ پکا چور تھا نہ کچا۔ میں نے جب دیکھا کہ میرا وار خالی گیا ہے تو بڑی پریشانی ہوئی۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ اس سے کیا کہوں۔ میں نے آغاز ہی انتہا سے کیا تھا۔ اب کیا کرتا۔ دو بڑے زناٹے کے تھپر میں نے اس کو مارے تھے۔ وہ بے گناہ بھی ہو سکتا تھا۔ مجھے بہت افسوس ہوا۔ چنانچہ میں نے صدق دل سے معافی مانگی۔ اور کہا دیکھو غلام قادر۔ مجھ سے زیادتی ہوئی ہے لیکن بات یہ ہے کہ وہ دس روپے کا نوٹ غائب ضرور ہوا ہے۔ میں نے اٹھایا نہیں۔ تم انکار کرتے ہو۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ یا تو ہم دونوں سچے ہیں یا دونوں جھوٹے۔ بیگم صاحبہ تمہارا کہنا مان لیں گی۔ لیکن مجھ پر ان کا شک بہت مضبوط ہو جائیگا۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری نیت تھی وہ نوٹ اٹھانے کی۔ بلکہ میں نے اٹھایا بھی تھا مگر پھر وہیں رکھ دیا تھا کہ جب بہت اشد ضرورت ہو گی تو لے لوں گا۔ ‘‘

میں اسی جذباتی رو میں کچھ اور بھی کہنے والا تھا کہ غلام قادر مضبوط لہجے میں بولا۔

’’وہ نوٹ میں نے اٹھایا تھا صاحب۔ ایک لحظے کے لیے میں چکرا گیا۔ ‘‘

راجہ نے کہا۔

’’بات چکرانے ہی والی تھی!‘‘

خواجہ ظہیر نے سگریٹ فرش پر پھینک کر بوٹ کے تلے سے بجھایا۔

’’جی ہاں۔ میں نے غلام قادر کی طرف دیکھا اور حیرت سے پوچھا، تم نے۔ تم نے یہ چوری کیوں کی؟۔ غلام قادر نے جواب دیا۔ کیا کرتا صاحب۔ بیگم صاحبہ نے تنخواہ نہیں دی۔ کہتی تھیں کہ میں ہمیشہ نوکر کی ایک مہینے کی تنخواہ دبا کر رکھا کرتی ہوں تاکہ وہ بھاگ نہ جائے۔ اور۔ اور۔ اس نے رُک رُک کر کہا۔ مجھے عادت ہے۔ مالکوں کی خدمت کرنے کی۔ ان کے سوا میرا کون ہوتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میلے جھاڑن سے ان کو پونچھتے ہوئے وہ کمرے سے چلا گیا۔ ‘‘

راجہ نے پوچھا۔

’’پھر کیا ہوا؟‘‘

خواجہ ظہیر نے افسوس بھرے لہجے میں کہا۔

’’کچھ نہیں۔ وہ گھر ہی سے چلا گیا تھا!‘‘

13 اکتوبر1951ء

سعادت حسن منٹو

آرٹسٹ لوگ

جمیلہ کو پہلی بار محمود نے باغ جناح میں دیکھا۔ وہ اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ چہل قدمی کررہی تھی۔ سب نے کالے برقعے پہنے تھے۔ مگر نقابیں اُلٹی ہوئی تھیں۔ محمود سوچنے لگا۔ یہ کس قسم کا پردہ ہے کہ برقع اوڑھا ہوا ہے۔ مگر چہرہ ننگا ہے۔ آخری اس پردے کا مطلب کیا؟۔ محمود جمیلہ کے حسن سے بہت متاثر ہوا۔ وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ ہنستی کھیلتی جارہی تھی۔ محمود اُس کے پیچھے چلنے لگا۔ اُس کو اس بات کا قطعاً ہوش نہیں تھا کہ وہ ایک غیر اخلاقی حرکت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اُس نے سینکڑوں مرتبہ جمیلہ کو گھور گھور کے دیکھا۔ اس کے علاوہ ایک دو بار اُس کو اپنی آنکھوں سے اشارے بھی کیے۔ مگر جمیلہ نے اسے درخور اعتنانہ سمجھا اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ اُس کی سہیلیاں بھی کافی خوبصورت تھیں۔ مگر محمود نے اُس میں ایک ایسی کشش پائی جو لوہے کے ساتھ مقناطیس کی ہوتی ہے۔ وہ اس کے ساتھ چمٹ کر رہ گیا۔ ایک جگہ اُس نے جرأت سے کام لے کر جمیلہ سے کہا۔

’’حضور اپنا نقاب تو سنبھالیے۔ ہوا میں اُڑ رہا ہے۔ ‘‘

جمیلہ نے یہ سُن کر شور مچانا شروع کر دیا۔ اس پر پولیس کے دو سپاہی جو اس وقت باغ میں ڈیوٹی پر تھے، دوڑتے آئے۔ اور جمیلہ سے پوچھا۔

’’بہن کیا بات ہے ؟‘‘

جمیلہ نے محمود کی طرف دیکھا جو سہما کھڑا تھا اور کہا

’’یہ لڑکا مجھ سے چھیڑ خانی کررہا تھا۔ جب سے میں اس باغ میں داخل ہوئی ہوں، یہ میرا پیچھا کررہا ہے۔ سپاہیوں نے محمود کا سرسری جائزہ لیا اور اس کو گرفتار کر کے حوالات میں داخل کر دیا۔ لیکن اُس کی ضمانت ہو گئی۔ اب مقدمہ شروع ہوا۔ اس کی روئداد میں جانے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے کہ یہ تفصیل طلب ہے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ محمود کا جرم ثابت ہو گیااور اُسے دو ماہ قید با مشقت کی سزا مل گئی۔ اُس کے والدین نادار تھے۔ اس لیے وہ سیشن کی عدالت میں اپیل نہ کرسکے۔ محمود سخت پریشان تھا کہ آخر اس کا قصور کیا ہے۔ اس کو اگر ایک لڑکی پسند آ گئی تھی اور اُس نے اُس سے چند باتیں کرنا چاہیں تو یہ کیا جرم ہے، جس کی پاداش میں وہ دو ماہ قید با مشقت بھگت رہا ہے۔ جیل خانے میں وہ کئی مرتبہ بچوں کی طرح رویا۔ اس کو مصوری کا شوق تھا، لیکن اس سے وہاں چکی پسوائی جاتی تھی۔ ابھی اُسے جیل خانے میں آئے بیس روز ہی ہوئے تھے کہ اُسے بتایا گیا کہ اُس کی ملاقات آئی ہے۔ محمود نے سوچا کہ یہ ملاقاتی کون ہے؟ اُس کے والد تو اُس سے سخت ناراض تھے۔ والدہ اپاہج تھیں اور کوئی رشتے دار بھی نہیں تھے۔ سپاہی اسے دروازے کے پاس لے گیا جو آہنی سلاخوں کا بنا ہوا تھا۔ ان سلاخوں کے پیچھے اُس نے دیکھا کہ جمیلہ کھڑی ہے۔ وہ بہت حیرت زدہ ہوا۔ اُس نے سمجھا کہ شاید کسی اور کو دیکھنے آئی ہو گی۔ مگر جمیلہ نے سلاخوں کے پاس آ کر اُس سے کہا

’’میں آپ سے ملنے آئی ہوں‘‘

محمود کی حیرت میں اور بھی اضافہ ہو گیا

’’مجھ سے۔ ‘‘

’’جی ہاں۔ میں معافی مانگنے آئی ہوں کہ میں نے جلد بازی کی۔ جس کی وجہ سے آپ کو یہاں آنا پڑا۔ ‘‘

محمود مسکرایا۔

’’ہائے اس زُودِ پشیماں کا پشیماں ہونا۔ ‘‘

جمیلہ نے کہا۔

’’یہ غالبؔ ہے۔ ؟‘‘

’’جی ہاں۔ غالبؔ کے سوا اور کون ہوسکتا ہے جو انسان کے جذبات کی۔ ترجمانی کرسکے۔ میں نے آپ کو معاف کر دیا۔ لیکن میں یہاں آپ کی کوئی خدمت نہیں کرسکتا۔ اس لیے کہ یہ میرا گھر نہیں ہے سرکار کا ہے۔ اس کے لیے میں معافی کا خواستگار ہوں۔ ‘‘

جمیلہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

’’میں آپ کی خادمہ ہوں۔ ‘‘

چند منٹ ان کے درمیان اور باتیں ہوئیں، جو محبت کے عہد و پیمان تھیں۔ جمیلہ نے اُس کو صابن کی ایک ٹکیہ دی۔ مٹھائی بھی پیش کی اس کے بعد وہ ہر پندرہ دن کے بعد محمود سے ملاقات کرنے کے لیے آتی رہی۔ اس دوران میں ان دونوں کی محبت استوار ہو گئی۔ جمیلہ نے محمود کو ایک روز بتایا۔

’’مجھے موسیقی سیکھنے کا شوق ہے۔ آج کل میں خاں صاحب سلام علی خاں سے سبق لے رہی ہوں‘‘

محمود نے اُس سے کہا۔

’’مجھے مصوری کا شوق ہے۔ مجھے یہاں جیل خانے میں اور کوئی تکلیف نہیں۔ مشقت سے میں گھبراتا نہیں۔ لیکن میری طبیعت جس فن کی طرف مائل ہے اُس کی تسکین نہیں ہوتی۔ یہاں کوئی رنگ ہے نہ روغن ہے۔ کوئی کاغذ ہے نہ پنسل۔ بس چکی پیستے رہو۔ ‘‘

جمیلہ کی آنکھیں پھر آنسو بہانے لگیں۔

’’بس اب تھوڑے ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔ آپ باہر آئیں۔ تو سب کچھ ہو جائے گا۔ محمود دو ماہ کی قید کاٹنے کے بعد باہر آیا تو جمیلہ دروازے پر موجود تھی۔ اس کالے برقعے میں جو اب بھوسلا ہو گیا تھا اور جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔ دونوں آرٹسٹ تھے۔ اس لیے انھوں نے فیصلہ کیا کہ شادی کر لیں۔ چنانچہ شادی ہو گئی۔ جمیلہ کے ماں باپ کچھ اثاثہ چھوڑگئے تھے اس سے انھوں نے ایک چھوٹا سا مکان بنایا اور پُر مسرت زندگی بسر کرنے لگے۔ محمود ایک آرٹ سٹوڈیو میں جانے لگا تاکہ اپنی مصوری کا شوق پورا کرے۔ جمیلہ خاں صاحب سلام علی خاں سے پھر تعلیم حاصل کرنے لگی۔ ایک برس تک وہ دونوں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ محمود مصوری سیکھتا رہا اور جمیلہ موسیقی۔ اس کے بعد سارا اثاثہ ختم ہو گیا اور نوبت فاقوں پر آگئی۔ لیکن دونوں آرٹ شیدائی تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ فاقے کرنے والے ہی صحیح طور پر اپنے آرٹ کی معراج تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنی اس مفلسی کے زمانے میں بھی خوش تھے۔ ایک دن جمیلہ نے اپنے شوہر کو یہ مژدہ سنایا کہ اسے ایک امیر گھرانے میں موسیقی سکھانے کی ٹیوشن مل رہی ہے۔ محمود نے یہ سُن کر اُس سے کہا۔

’’نہیں ٹیوشن ویوشن بکواس ہے۔ ہم لوگ آرٹسٹ ہیں‘‘

اس کی بیوی نے بڑے پیار کے ساتھ کہا

’’لیکن میری جان گزارہ کیسے ہو گا؟‘‘

محمود نے اپنے پھوسڑے نکلے ہوئے کوٹ کا کالر بڑے امیرانہ انداز میں درست کرتے ہوئے جواب دیا۔

’’آرٹسٹ کو ان فضول باتوں کا خیال نہیں رکھنا چاہیے۔ ہم آرٹ کے لیے زندہ رہتے ہیں۔ آرٹ ہمارے لیے زندہ نہیں رہتا‘‘

جمیلہ یہ سن کر خوش ہوئی،

’’لیکن میری جان آپ مصوری سیکھ رہے ہیں۔ آپ کو ہر مہینے فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس کا بندوبست بھی تو کچھ ہونا چاہیے۔ پھر کھانا پینا ہے۔ اس کا خرچ علیحدہ ہے۔ ‘‘

’’میں نے فی الحال موسیقی کی تعلیم لینا چھوڑ دی ہے۔ جب حالات موافق ہوں گے تو دیکھا جائے گا۔ ‘‘

دوسرے دن جمیلہ گھر آئی تو اُس کے پرس میں پندرہ روپے تھے جو اُس نے اپنے خاوند کے حوالے کر دئیے اور کہا

’’میں نے آج سے ٹیوشن شروع کر دی ہے، یہ پندرہ روپے مجھے پیشگی ملے ہیں۔ آپ مصوری کا فن سیکھنے کا کام جاری رکھیں‘‘

محمود کے مردانہ جذبات کو بڑی ٹھیس لگی۔

’’میں نہیں چاہتا کہ تم ملازمت کرو۔ ملازمت مجھے کرنا چاہیے۔ ‘‘

جمیلہ نے خاص انداز میں کہا۔

’’ہائے۔ میں آپ کی غیر ہوں۔ میں نے اگر کہیں تھوڑی دیر کے لیے ملازمت کر لی ہے تو اس میں ہرج ہی کیا ہے۔ بہت اچھے لوگ ہیں۔ جس لڑکی کو میں موسیقی کی تعلیم دیتی ہوں، بہت پیاری اور ذہین ہے۔ ‘‘

یہ سُن کر محمود خاموش ہو گیا۔ اس نے مزید گفتگو نہ کی۔ دوسرے ہفتے کے بعد وہ پچیس روپے لے کر آیا اور اپنی بیوی سے کہا

’’میں نے آج اپنی ایک تصویر بیچی ہے خریدار نے اُسے بہت پسند کیا۔ لیکن خسیس تھا۔ صرف پچیس روپے دئیے۔ اب اُمید ہے کہ میری تصویروں کے لیے مارکیٹ چل نکلے گی۔ جمیلہ مسکرائی۔ تو پھر کافی امیر آدمی ہو جائیں گے‘‘

محمود نے اُس سے کہا

’’جب میری تصویریں بکنا شروع ہو جائیں گی تو میں تمھیں ٹیوشن نہیں کرنے دُوں گا۔ ‘‘

جمیلہ نے اپنے خاوند کی ٹائی کی گرہ درست کی اور بڑے پیار سے کہا

’’آپ میرے مالک ہیں جو بھی حکم دیں گے مجھے تسلیم ہو گا۔ دونوں بہت خوش تھے اس لیے کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ محمود نے جمیلہ سے کہا۔

’’اب تم کچھ فکر نہ کرو۔ میرا کام چل نکلا ہے۔ چار تصویریں کل پرسوں تک بک جائیں گی اور اچھے دام وصول ہو جائیں گے۔ پھر تم اپنی موسیقی کی تعلیم جاری رکھ سکو گی۔ ‘‘

ایک دن جمیلہ جب شام کو گھر آئی تو اُس کے سر کے بالوں میں دُھنکی ہوئی رُوئی کا غبار اس طرح جما تھا جیسے کسی ادھیڑ عمر آدمی کی داڑھی میں سفید بال۔ محمود نے اُس سے استفسار کیا۔

’’یہ تم نے اپنے بالوں کی کیا حالت بنا رکھی ہے۔ موسیقی سکھانے جاتی ہو یا کسی جننگ فیکٹری میں کام کرتی ہو‘‘

جمیلہ نے، جو محمود کی نئی رضائی کی پرانی روئی کو دُھنک رہی تھی مسکرا کر کہا۔

’’ہم آرٹسٹ لوگ ہیں۔ ہمیں کسی بات کا ہوش بھی نہیں رہتا۔ ‘‘

محمود نے حقے کی نے منہ میں لے کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور کہا۔

’’ہوش واقعی نہیں رہتا‘‘

جمیلہ نے محمود کے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کرنا شروع کی۔

’’یہ دُھنکی ہوئی رُوئی کا غبار آپ کے سر میں کیسے آگیا ؟‘‘

۔ محمود نے حقے کا ایک کش لگایا۔

’’جیسا کہ تمہارے سر میں موجود ہے۔ ہم دونوں ایک ہی جننگ فیکٹری میں کام کرتے ہیں صرف آرٹ کی خاطر۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

آخری سیلوٹ

یہ کشمیر کی لڑائی بھی عجیب وغریب تھی۔ صوبیدار رب نواز کا دماغ ایسی بندوق بن گیا تھا۔ جنگ کا گھوڑا خراب ہو گیا ہو۔ پچھلی بڑی جنگ میں وہ کئی محاذوں پر لڑ چکا تھا۔ مارنا اور مرنا جانتا تھا۔ چھوٹے بڑے افسروں کی نظروں میں اس کی بڑی توقیر تھی، اس لیے کہ وہ بڑا بہادر، نڈر اور سمجھدار سپاہی تھا۔ پلاٹون کمانڈر مشکل کام ہمیشہ اسے ہی سونپتے تھے اور وہ ان سے عہدہ برآ ہوتا تھا۔ مگر اس لڑائی کا ڈھنگ ہی نرالا تھا۔ دل میں بڑا ولولہ، بڑا جوش تھا۔ بھوک پیاس سے بے پروا صرف ایک ہی لگن تھی، دشمن کا صفایا کردینے کی، مگر جب اس سے سامنا ہوتا، تو جانی پہچانی صورتیں نظر آتیں۔ بعض دوست دکھائی دیتے، بڑے بغلی قسم کے دوست، جو پچھلی لڑائی میں اس کے دوش بدوش، اتحادیوں کے دشمنوں سے لڑے تھے، پر اب جان کے پیاسے بنے ہوئے تھے۔ صوبیدار رب نواز سوچتا تھا کہ یہ سب خواب تو نہیں۔ پچھلی بڑی جنگ کا اعلان۔ بھرتی، قدر آور چھاتیوں کی پیمائش، پی ٹی، چاند ماری اور پھر محاذ۔ ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر، آخر جنگ کا خاتمہ۔ پھر ایک دم پاکستان کا قیام اور ساتھ ہی کشمیر کی لڑائی۔ اوپر تلے کتنی چیزیں۔ رب نواز سوچتا تھا کہ کرنے والے نے یہ سب کچھ سوچ سمجھ کر کیا ہے تاکہ دوسرے بوکھلا جائیں اور سمجھ نہ سکیں۔ ورنہ یہ بھی کوئی بات تھی کہ اتنی جلدی اتنے بڑے انقلاب برپا ہو جائیں۔ اتنی بات تو صوبیدار رب نواز کی سمجھ میں آتی تھی کہ وہ کشمیر حاصل کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ کشمیر کیوں حاصل کرنا ہے، یہ بھی وہ اچھی طرح سمجھتا تھا اس لیے کہ پاکستان کی بقاء کے لیے اس کا الحاق اشد ضروری ہے، مگر نشانہ باندھتے ہوئے اسے جب کوئی جانی پہچانی شکل نظر آجاتی تھی تو وہ کچھ دیر کے لیے بھول جاتا تھا کہ وہ کس غرض کے لیے لڑرہا ہے، کس مقصد کے لیے اس نے بندوق اٹھائی ہے۔ اور وہ یہ غالباً اسی لیے بھولتا تھا کہ اسے بار بار خود کو یاد کرانا پڑتھا کہ اب کی وہ صرف تنخواہ زمین کے مربعوں اور تمغوں کے لیے نہیں بلکہ اپنے وطن کی خاطر لڑ رہا ہے۔ یہ وطن پہلے بھی اس کا وطن تھا، وہ اسی علاقے کا رہنے والا تھا جو اب پاکستان کا ایک حصہ بن گیا تھا۔ اب اسے اپنے اسی ہم وطن کے خلاف لڑنا تھا جو کبھی اس کا ہمسایہ ہوتا تھا، جس کے خاندان سے اس کے خاندان کے پشت ہا پشت کے دیرینہ مراسم تھے۔ اب اس کا وطن وہ تھا جس کا پانی تک بھی اس نے کبھی نہیں پیا تھا، پر اب اسکی خاطر، ایک دم اس کے کاندھے پر بندوق رکھ کر یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ جاؤ، یہ جگہ جہاں تم نے ابھی اپنے گھر کے لیے دو اینٹیں بھی نہیں چنیں، جس کی ہوا اور جس کے پانی کا مزا ابھی تک تمہارے منہ میں ٹھیک طور پر نہیں بیٹھا، تمہارا وطن ہے۔ جاؤ اس کی خاطر پاکستان سے لڑو۔ اس پاکستان سے جس کے عین دل میں تم نے اپنی عمر کے اتنے برس گزارے ہیں۔ رب نواز سوچتا تھا کہ یہی دل ان مسلمان فوجیوں کا ہے جو ہندوستان میں اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔ وہاں ان سے سب کچھ چھین لیا گیا تھا یہاں آکر انھیں اور توکچھ نہیں ملا۔ البتہ بندوقیں ملی گئی ہیں۔ اسی وزن کی، اسی شکل کی، اسی مار کے اور چھاپ کی۔ پہلے سب مل کر ایک ایسے دشمن سے لڑتے تھے جن کو انھوں نے پیٹ اور انعام و اکرام کی خاطر اپنا دشمن یقین کرلیا تھا۔ اب وہ خود دو حصوں میں بٹ گئے تھے۔ پہلے سب ہندوستانی فوجی کہلاتے تھے۔ اب ایک پاکستانی تھا اور دوسرا ہندوستانی۔ ادھر ہندوستان میں مسلمان ہندوستانی فوجی تھے۔ رب نواز جب ان کے متعلق سوچتا تو اس کے دماغ میں ایک عجیب گڑبڑ سی پیدا ہو جاتی۔ اور جب وہ کشمیر کے متعلق سوچتا تو اس کا دماغ بالکل جواب دے جاتا۔ پاکستانی فوجی کشمیر کے لیے لڑ رہے تھے یا کشمیر کے مسلمانوں کے لیے؟ اگر انھیں کشمیر کے مسلمانوں ہی کے لیے لڑایا جاتا تھا تو حیدر آباد، اور جونا گڑھ کے مسلمانوں کے لیے کیوں انھیں لڑنے کے لیے نہیں کہا جاتا تھا۔ اور اگر یہ جنگ ٹھیٹ اسلامی جنگ تھی تو دنیا میں دوسرے اسلامی ملک ہیں وہ اس میں کیوں حصہ نہیں لیتے۔ رب نوازاب بہت سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ یہ باریک باریک باتیں فوجی کو بالکل نہیں سوچنا چاہئیں۔ اس کی عقل موٹی ہونی چاہیے۔ کیونکہ موٹی عقل والا ہی اچھا سپاہی ہو سکتا ہے، مگر فطرت سے مجبور کبھی کبھی وہ چور دماغ سے ان پر غور کر ہی لیتا تھا اور بعد میں اپنی اس حرکت پر خوب ہنستا تھا۔ دریائے کشن گنگا کے کنارے اس سڑک کے لیے جو مظفر آباد سے کرن جاتی ہے۔ کچھ عرصے سے لڑائی ہورہی تھی۔ عجیب وغریب لڑائی تھی۔ رات کو بعض اوقات آس پاس کی پہاڑیاں فائروں کے بجائے گندی گندی گالیوں سے گونج اٹھتی تھیں۔ ایک مرتبہ صوبیدار رب نواز اپنی پلاٹوں کے جوانوں کے ساتھ شب خون مارنے کے لیے تیار ہو رہا تھا کہ دور نیچے ایک کھائی سے گالیوں کا شور اٹھا۔ پہلے تو وہ گھبرا گیا۔ ایسا لگتا تھا کہ بہت سے بھوت مل کر ناچ رہے ہیں۔ اور زور زور کے قہقہے لگا رہے ہیں۔ وہ بڑبڑایا۔

’’خنریز کی دُم۔ یہ کیا ہورہا ہے۔ ‘‘

ایک جوان نے گونجتی ہوئی آوازوں سے مخاطب ہو کر یہ بڑی گالی دی اور رب نواز سے کہا۔

’’صوبیدار صاحب گالیاں دے رہے ہیں۔ اپنی ماں کے یار۔ ‘‘

رب نواز یہ گالیاں سن رہا تھا جو بہت اکسانے والی تھیں۔ اس کے جی میں آئی کہ بزن بول دے مگر ایسا کرنا غلطی تھی، چنانچہ وہ خاموش رہا۔ کچھ دیر جوان بھی چپ رہے، مگر جب پانی سر سے گزر گیا تو انھوں نے بھی گلا پھاڑ پھاڑ کے گالیاں لڑھکانا شروع کردیں۔ رب نواز کے لیے اس قسم کی لڑائی بالکل نئی چیز تھی۔ اس نے جوانوں کو دو تین مرتبہ خاموش رہنے کے لیے کہا، مگر گالیاں ہی کچھ ایسی تھیں کہ جواب دیے بنا انسان سے نہیں رہا جاتا تھا۔ دشمن کے سپاہی نظر سے اوجھل تھے۔ رات کو تو خیر اندھیرا تھا، مگر وہ دن کو بھی نظر نہیں آتے تھے۔ صرف ان کی گالیاں نیچے پہاڑی کے قدموں سے اٹھتی تھیں اور پتھروں کے ساتھ ٹکڑا ٹکڑا کر ہوا میں حل ہو جاتی تھیں۔ رب نواز کی پلاٹون کے جوان جب ان گالیوں کا جواب دیتے تھے تو اس کو ایسا لگتا تھا کہ وہ نیچے نہیں جاتیں، اوپرکو اڑ جاتی ہیں۔ اس سے اس کو خاصی کوفت ہوتی تھی۔ چنانچہ اس نے جھنجھلا کر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ رب نواز کو وہاں کی پہاڑیوں میں ایک عجیب بات نظر آئی تھی۔ چڑھائی کی طرف کوئی پہاڑی درختوں اور بوٹوں سے لدی پھندی ہوتی تھی اور اترائی کی طرف گنجی۔ کشمیری ہتو کے سرکی طرح۔ کسی کی چڑھائی کا حصہ گنجا ہوتا تھا اور اترائی کی طرف درخت ہی درخت ہوتے تھے۔ چیز کے لیے لمبے تناور درخت۔ جن کے بٹے ہوئے دھاگے جیسے پتوں پر فوجی بوٹ پھسل پھسل جاتے تھے۔ جس پہاڑی پر صوبیدار رب نواز کی پلاٹون تھی، اس کی اترائی درختوں اور جھاڑیوں سے بے نیاز تھی۔ ظاہر ہے کہ حملہ بہت ہی خطرناک تھا مگر سب جوان حملے کے لیے بخوشی تیار تھے۔ گالیوں کا انتقام لینے کے لیے وہ بے تاب تھے۔ حملہ ہوا اور کامیاب رہا۔ دو جوان مارے گئے۔ چار زخمی ہوئے۔ دشمن کے تین آدمی کھیت رہے۔ باقی رسد کا کچھ سامان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ صوبیدار رب نواز اور اس کے جوانوں کو اس بات کا بڑا دکھ تھا کہ دشمن کا کوئی زندہ سپاہی ان کے ہاتھ نہ آیا جس کو وہ خاطر خواہ گالیوں کا مزا چکھاتے۔ مگر یہ مورچہ فتح کرنے سے وہ ایک بڑی اہم پہاڑی پر قابض ہو گئے تھے۔ وائرلیس کے ذریعے سے صوبیدار رب نواز نے پلاٹون کمانڈر میجر اسلم کو فوراً ہی اپنے حملے کے اس نتیجے سے مطلع کردیا تھا اور شاباش وصول کرلی تھی۔ قریب قریب ہر پہاڑی کی چوٹی پر پانی کا ایک تالاب سا ہوتا تھا۔ اس پہاڑی پربھی تالاب تھا، مگر دوسری پہاڑیوں کے تالابوں کے مقابلے میں زیادہ بڑا۔ اس کا پانی بھی بہت صاف اور شفاف تھا۔ گوموسم سخت سرد تھا، مگر سب نہائے۔ دانت بجتے رہے مگر انھوں نے کوئی پرواہ نہ کی۔ وہ ابھی اس شغل میں مصروف تھے کہ فائر کی آواز آئی۔ سب ننگے ہی لیٹ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد صوبیدار رب نواز خاں نے دور بین لگا کر نیچے دھلوانوں پر نظر دوڑائی، مگر اسے دشمن کے چھپنے کی جگہ کا پتا نہ چلا۔ اس کے دیکھتے دیکھتے ایک اور فائر ہوا۔ دور اترائی کے فوراً بعد ایک نسبتاً چھوٹی پہاڑی کی داڑھی سے اسے دھواں اٹھتا نظر آیا۔ اس نے فوراً ہی اپنے جوانوں کو فائر کا حکم دیا۔ ادھر سے دھڑا دھڑ فائر ہوئے۔ ادھر سے بھی جواباً گولیاں چلنے لگیں۔ صوبیدار رب نواز نے دوربین سے دشمن کی پوزیشن کا بغور مطالعہ کیا۔ وہ غالباً بڑے بڑے پتھروں کے پیچھے محفوظ تھے۔ مگر یہ محافظ دیوار بہت ہی چھوٹی تھی۔ زیادہ دیر تک وہ جمے نہیں رہ سکتے تھے۔ ان میں سے جو بھی اِدھر اُدھر ہٹتا، اس کا صوبیدار رب نواز کی زد میں آنا یقینی تھا۔ تھوڑی دیر فائر ہوتے رہے۔ اس کے بعد رب نواز نے اپنے جوانوں کو منع کردیا کہ وہ گولیاں ضائع نہ کریں صرف تاک میں رہیں۔ جونہی دشمن کا کوئی سپاہی پتھروں کی دیوار سے نکل کر ادھر یا ادھر جانے کی کوشش کرے اس کو اڑا دیں۔ یہ حکم دے کراس نے اپنے الف ننگے بدن کی طرف دیکھا اور بڑبڑایا۔

’’خنریز کی دُم۔ کپڑوں کے بغیر آدمی حیوان معلوم ہوتا ہے۔ ‘‘

لمبے لمبے وقفوں کے بعد دشمن کی طرف سے اِکا دُکا فائر ہوتا رہا۔ یہاں سے اس کا جواب کبھی کبھی دے دیا جاتا۔ یہ کھیل پورے دو دن جاری رہا۔ موسم یک لخت بہت سرد ہو گیا۔ اس قدر سرد کہ دن کو بھی خون منجمد ہونے لگتا تھا، چنانچہ صوبیدار رب نواز نے چائے کے دور شروع کرادیے۔ ہر وقت آگ پر کیتلی دھری رہتی۔ جونہی سردی زیادہ ستاتی ایک دور اس گرم گرم مشروب کا ہو جاتا۔ ویسے دشمن پر برابر نگاہ تھی۔ ایک ہٹتا تو دوسرا اس کی جگہ دوربین لے کر بیٹھ جاتا۔ ہڈیوں تک اتر جانے والی سرد ہوا چل رہی تھی۔ جب اس جوان نے جو پہرے دار تھا، بتایا کہ پتھروں کی دیوار کے پیچھے کچھ گڑبڑ ہورہی ہے۔ صوبیدار رب نواز نے اس سے دوربین لی اور غور سے دیکھا۔ اسے حرکت نظر نہ آئی لیکن فوراً ہی ایک آواز بلند ہوئی اور دیر تک اس کی گونج آس پاس کی پہاڑیوں کے ساتھ ٹکراتی رہی۔ رب نواز اس کا مطلب نہ سمجھا۔ اس کے جواب میں اُس نے اپنی بندوق داغ دی۔ اس کی گونج دبی تو پھر ادھر سے آواز بلند ہوئی، جو صاف طور پر ان سے مخاطب تھی۔ رب نواز چلایا۔

’’خنزیر کی دُم۔ بول کیا کہتا ہے تو! فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ رب نواز کے الفاظ دشمن تک پہنچ گئے، کیونکہ وہاں سے کسی نے کہا۔

’’گالی نہ دے بھائی۔ ‘‘

رب نواز نے اپنے جوانوں کی طرف دیکھا اور بڑے جھنجھلائے ہوئے تعجب کے ساتھ کہا۔

’’بھائی؟۔ ‘‘

پھر وہ اپنے منہ کے آگے دونوں ہاتھوں کا بھونپو بنا کر چلایا۔

’’بھائی ہو گا تیری ماں کا جنا۔ یہاں سب تیری ماں کے یار ہیں!‘‘

ایک دم اُدھر سے ایک زخمی آواز بلند ہوئی۔

’’رب نواز!‘‘

رب نواز کانپ گیا۔ یہ آواز آس پاس کی پہاڑیوں سے سر پھوڑتی رہی اور مختلف انداز میں، رب نواز۔ رب نواز، دہراتی بالآخر خون منجمد کردینے والی سرد ہوا کے ساتھ جانے کہاں اڑ گئی۔ رب نواز بہت دیر کے بعد چونکا۔

’’یہ کون تھا۔ ‘‘

پھر وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔

’’خنزیر کی دم!‘‘

اس کو اتنا معلوم تھا ٹیٹوال کے محاذ پر سپاہیوں کی اکثریت 6/9 رجمنٹ کی ہے۔ وہ بھی اسی رجمنٹ میں تھا۔ مگر یہ آواز تھی کس کی؟ وہ ایسے بیشمار آدمیوں کو جانتا تھا۔ جو کبھی اس کے عزیز ترین دوست تھے۔ کچھ ایسے بھی جن سے اس کی دشمنی تھی، چند ذاتی اغراض کی بناء پر۔ لیکن یہ کون تھا جس نے اس کی گالی کا بُرا مان کر اسے چیخ کر پکارا تھا۔ رب نواز نے دور بین لگا کر دیکھا، مگر پہاڑی کی ہلتی ہوئی چھدری داڑھی میں اسے کوئی نظر نہ آیا۔ دونوں ہاتھوں کا بھونپو بنا کر اس نے زور سے اپنی آواز ادھر پھینکی۔

’’یہ کون تھا؟۔ رب نواب بول رہا ہے۔ رب نواز۔ رب نواز۔ ‘‘

یہ رب نواز، بھی کچھ دیر تک پہاڑیوں کے ساتھ ٹکراتا رہا۔ رب نواز بڑبڑایا۔

’’خنزیر کی دُم!‘‘

فوراً ہی ادھر سے آواز بلند ہوئی۔

’’میں ہوں۔ میں ہوں رام سنگھ!‘‘

رب نواز یہ سن کر یوں اچھلا جیسے وہ چھلانگ لگا کر دوسری طرف جانا چاہتاہے۔ پہلے اس نے اپنے آپ سے کہا۔

’’رام سنگھ؟‘‘

پھر حلق پھاڑ کے چلایا۔

’’رام سنگھ؟۔ اوے رام سنگھا۔ خنزیر کی دُم!‘‘

’’خنزیر کی دم‘‘

ابھی پہاڑیوں کے ساتھ ٹکرا ٹکرا کر پوری طرح گم نہیں ہوئی تھی کہ رام سنگھ کی پھٹی پھٹی آواز بلند ہوئی۔

’’اوے کمہار کے کھوتے!‘‘

رب نواز پھوں پھوں کرنے لگا۔ جوانوں کی طرف رعب دار نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ بڑبڑایا۔

’’بکتا ہے۔ خنزیر کی دُم!‘‘

پھر اس نے رام سنگھ کو جواب دیا۔

’’اوئے باباٹل کے کڑاہ پرشاد۔ اوئے خنزیر کے جھٹکے۔ ‘‘

رام سنگھ بے تحاشا قہقہے لگانے لگا۔ رب نواز بھی زور زور سے ہنسنے لگا۔ پہاڑیاں یہ آوازیں بڑے کھلنڈرے انداز میں ایک دوسرے کی طرف اچھالتی رہیں۔ صوبیدار رب نواز کے جو ان خاموش تھے۔ جب ہنسی کا دور ختم ہوا تو ادھر سے رام سنگھ کی آواز بلند ہوئی۔

’’دیکھو یار۔ ہمیں چائے پینی ہے!‘‘

رب نواز بولا۔

’’پیو۔ عیش کرو۔ ‘‘

رام سنگھ چلایا۔

’’اوئے عیش کس طرح کریں۔ سامان تو ہمارا اُدھر پڑا ہے۔ ‘‘

رب نواز نے پوچھا۔

’’کدھر۔ ‘‘

رام سنگھ کی آواز آئی۔

’’اُدھر۔ جدھر تمہارا فائرہمیں اڑا سکتا ہے۔ ‘‘

رب نواز ہنسا۔

’’تو کیا چاہتے ہو تم۔ خنزیر کی دُم!‘‘

رام سنگھ بولا۔

’’ہمیں سامان لے آنے دے۔ ‘‘

’’لے آ!‘‘

یہ کہہ کر اس نے اپنے جوانوں کی طرف دیکھا۔ رام سنگھ کی تشویش بھری آواز بلند ہوئی۔

’’تو اڑا دے گا، کمہار کے کھوتے!‘‘

رب نواز نے بھنا کر کہا۔

’’بک نہیں اوئے سنتوکھ سر کے کچھوے۔ ‘‘

رام سنگھ ہنسا۔

’’قسم کھا نہیں مارے گا!‘‘

رب نواز نے پوچھا۔

’’کس کی قسم کھاؤں!‘‘

رام سنگھ نے کہا۔

’’کسی کی بھی کھالے!‘‘

رب نواز ہنسا۔

’’اوئے جا۔ منگوالے اپنا سامان۔ ‘‘

چند لمحات خاموش رہی۔ دور بین ایک جوان کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے معنی خیز نظروں سے صوبیدار رب نواز کی طرف دیکھا۔ بندوق چلانے ہی والا تھا کہ رب نواز نے اسے منع کیا۔

’’نہیں۔ نہیں!‘‘

پھر اس نے دور بین لے کر خود ہی دیکھا۔ ایک آدمی ڈرتے ڈرتے پنجوں کے بل پتھروں کے عقب سے نکل کر جارہا تھا۔ تھوڑی دور اس طرح چل کر وہ اٹھا اور تیزی سے بھاگا۔ اور کچھ دور جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ دو منٹ کے بعد واپس آیا تو اس کے دونوں ہاتھوں میں کچھ سامان تھا۔ ایک لحظے کے لیے وہ رکا۔ پھر تیزی سے اوجھل ہوا تو رب نواز نے اپنی بندوق چلا دی۔ تڑاخ کے ساتھ ہی رب نواز کا قہقہہ بلند ہوا۔ یہ دونوں آوازیں مل کر کچھ دیر جھنجھناتی رہیں۔ پھر رام سنگھ کی آواز آئی

’’تھینک یو۔ ‘‘

’’نو مینشن۔ ‘‘

رب نواز نے یہ کہہ کر جوانوں کی طرف دیکھا۔

’’ایک راؤنڈ ہو جائے۔ ‘‘

تفریح کے طور پر دونوں طرف سے گولیاں چلنے لگیں۔ پھر خاموشی ہو گئی۔ رب نواز نے دور بین لگا کر دیکھا۔ پہاڑی کی داڑھی میں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ وہ پکارا۔

’’چائے تیار کرلی رام سنگھا؟‘‘

جواب آیا۔

’’ابھی کہاں اوئے کمہار کے کھوتے!‘‘

رب نواز ذات کا کمہار تھا۔ جب کوئی اس کی طرف اشارہ کرتا تھا توغصے سے اس کا خون کھولنے لگتا تھا۔ ایک صرف رام سنگھ کے منہ سے وہ اسے برداشت کرلیتا تھا اس لیے کہ وہ اس کا بے تکلف دوست تھا۔ ایک ہی گاؤں میں وہ پل کر جوان ہوئے تھے۔ دونوں کی عمر میں صرف چند دن کا فرق تھا۔ دونوں کے باپ، پھر ان کے باپ بھی ایک دوسرے کے دوست تھے۔ ایک ہی اسکول میں پرائمری تک پڑھتے تھے اور ایک ہی دن فوج میں بھرتی ہوئے تھے اور پچھلی بڑی جنگ میں کئی محاذوں پر اکٹھے لڑے تھے۔ رب نواز اپنے جوانوں کی نظروں میں خود کو خفیف محسوس کرکے بڑبڑایا

’’خنزیر کی دم۔ اب بھی باز نہیں آتا۔ ‘‘

پھر وہ رام سنگھ سے مخاطب ہوا۔

’’بک نہیں اوئے کھوتے کی جُوں۔ ‘‘

رام سنگھ کا قہقہہ بلند ہوا۔ رب نواز نے ایسے ہی شست باندھی ہوئی تھی۔ تفریحاً اس نے لبلبی دبا دی۔ تڑاخ کے ساتھ ہی ایک فلک شگاف چیخ بلند ہوئی۔ رب نواز نے فوراً دور بین لگائی اور دیکھا کہ ایک آدمی، نہیں، رام سنگھ پیٹ پکڑے، پتھروں کی دیواروں سے ذرا ہٹ کر دوہرا ہوا اور گر پڑا۔ رب نواز زور سے چیخا۔

’’رام سنگھ!‘‘

اور اچھل کر کھڑا ہو گیا، اُدھر سے بیک وقت تین چار فائر ہوئے۔ ایک گولی رب نواز کا دایاں بازو چاٹتی ہوئی نکل گئی۔ فوراً ہی وہ اوندھے منہ زمین پرگر پڑا۔ اب دونوں طرف سے فائر شروع ہو گئے۔ ادھر کچھ سپاہیوں نے گڑ بڑ سے فائدہ اٹھا کر پتھروں کے عقب سے نکل کر بھاگنا چاہا۔ ادھر سے فائر جاری تھے۔ مگر نشانے پر کوئی نہ بیٹھا۔ رب نواز نے اپنے جوانوں کو اترنے کا حکم دیا۔ تین فوراً ہی مارے گئے، لیکن افتاں و خیزاں باقی جوان دوسری پہاڑی پرپہنچ گئے۔ رام سنگھ خون میں لت پت پتھریلی زمین پر پڑا کراہ رہا تھا۔ گولی اس کے پیٹ میں لگی تھی۔ رب نواز کو دیکھ کر اس کی آنکھیں تمتا اٹھیں۔ مسکرا کر اس نے کہا۔

’’اوئے کمہار کے کھوتے، یہ تُو نے کیا کیا۔ ‘‘

رب نواز، رام سنگھ کا زخم اپنے پیٹ میں محسوس کررہا تھا، لیکن وہ مسکرا کر اس پر جھکا اور دوزانو ہو کر اس کی پیٹی کھولنے لگا۔

’’خنزیرکی دم۔ ‘‘

تم سے کس نے باہر نکلنے کو کہا تھا۔ ‘‘

پیٹی اتارنے سے رام سنگھ کو سخت تکلف ہوئی۔ درد سے وہ چلا چلا پڑا۔ جب پیٹی اتر گئی اور رب نواز نے زخم کا معائنہ کیا جو بہت خطرناک تھا تورام سنگھ نے رب نواز کا ہاتھ دبا کرکہا۔

’’میں اپنا آپ دکھانے کے لیے باہر نکلا تھا کہ تُو نے۔ اوئے رب کے پُتر۔ فائر کردیا۔ ‘‘

رب نواز کا گلا رندھ گیا۔

’’قسم وحدہ لا شریک کی۔ میں نے ایسے ہی بندوق چلائی تھی۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ تُو کھوتے کا سنگھ باہر نکل رہا ہے۔ مجھے افسوس ہے!‘‘

رام سنگھ کا خون کافی بہہ نکلا تھا۔ رب نواز اور اس کے ساتھی کئی گھنٹوں کے بعد وہاں پہنچے تھے۔ اس عرصے تک تو ایک پوری مشک خون کی خالی ہو سکتی تھی۔ رب نواز کو حیرت تھی کہ اتنی دیر تک رام سنگھ زندہ رہ سکا ہے۔ اس کو امید نہیں تھی کہ وہ بچے گا۔ ہلانا جلانا غلط تھا، چنانچہ اس نے فوراً وائرلیس کے ذریعے سے پلاٹون کمانڈر سے درخواست کی کہ جلدی ایک ڈاکٹرروانہ کیا جائے۔ اس کا دوست رام سنگھ زخمی ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر کا وہاں تک پہنچنا اور پھر وقت پر پہنچنا بالکل محال تھا۔ رب نوازکو یقین تھا کہ رام سنگھ صرف چند گھڑیوں کا مہمان ہے۔ پھر بھی وائرلیس پر پیغام پہنچا کر اس نے مسکرا کر رام سنگھ سے کہا۔

’’ڈاکٹر آرہا ہے۔ کوئی فکر نہ کر!‘‘

رام سنگھ بڑی نحیف آواز میں سوچتے ہوئے بولا۔

’’فکر کسی بات کی نہیں۔ یہ بتا میرے کتنے جوان مارے ہیں تم لوگوں نے؟‘‘

رب نواز نے جواب دیا۔

’’صرف ایک!‘‘

رام سنگھ کی آواز اور زیادہ نحیف ہو گئی۔

’’تیرے کتنے مارے گئے؟‘‘

رب نواز نے جھوٹ بولا۔

’’چھ!‘‘

اور یہ کہہ کر اس نے معنی خیز نظروں سے اپنے جوانوں کی طرف دیکھا۔

’’چھ۔ چھ!‘‘

رام سنگھ نے ایک ایک آدمی اپنے دل میں گنا۔

’’میں زخمی ہوا تو وہ بہت بددل ہو گئے تھے۔ پر میں نے کہا۔ کھیل جاؤ اپنی اوردشمن کی جان سے۔ چھ۔ ٹھیک ہے!‘‘

وہ پھر ماضی کے دھندلکوں میں چلا گیا۔

’’رب نواز۔ یاد ہیں وہ دن تمہیں۔ ‘‘

اوررام سنگھ نے بیتے دن یاد کرنے شروع کردیے۔ کھیتوں کھلیانوں کی باتیں۔ اسکول کے قصے6/9 جاٹ رجمنٹ کی داستانیں۔ کمانڈنگ افسروں کے لطیفے اور باہر کے ملکوں میں اجنبی عورتوں سے معاشقے۔ ان کا ذکر کرتے ہوئے رام سنگھ کو کوئی بہت دلچسپ واقعہ یاد آگیا۔ ہنسنے لگا تو اس کے ٹیس اٹھی مگر اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے زخم سے اوپر ہی اوپر ہنس کر کہنے لگا۔

’’اوئے سؤر کے تل۔ یاد ہے تمہیں وہ مڈم۔ ‘‘

رب نواز نے پوچھا۔

’’کون؟‘‘

رام سنگھ نے کہا۔

’’وہ۔ اِٹلی کی۔ کیا نام رکھا تھا ہم نے اس کا۔ بڑی مارخور عورت تھی!‘‘

رب نواز کو فوراً ہی وہ عورت یاد آگئی۔

’’ہاں، ہاں۔ وہ۔ مڈم منیتا فنتو۔ پیسہ ختم، تماشا ختم۔ پر تجھ سے کبھی کبھی رعایت کردیتی تھی مسولینی کی بچی!‘‘

رام سنگھ زور سے ہنسا۔ اور اس کے زخم سے جمے ہوئے خون کا ایک لوتھڑا باہر نکل آیا۔ سرسری طور پررب نواز نے جو پٹی باندھی تھی۔ وہ کھسک گئی تھی۔ اسے ٹھیک کرکے اس نے رام سنگھ سے کہا۔

’’اب خاموش رہو۔ ‘‘

رام کو بہت تیز بخار تھا۔ اس کا دماغ اس کے باعث بہت تیز ہو گیا تھا۔ بولنے کی طاقت نہیں تھی مگر بولے چلا جارہا تھا۔ کبھی کبھی رک جاتا۔ جیسے یہ دیکھ رہا ہے کہ ٹینکی میں کتنا پٹرول باقی ہے۔ کچھ دیر کے بعد اس پر ہذیانی کیفیت طاری ہو گئی، لیکن کچھ ایسے وقفے بھی آتے تھے کہ اس کے ہوش و حواس سلامت ہوتے تھے۔ انہی وقفوں میں اس نے ایک مرتبہ نواز سے سوال کیا۔

’’یارا سچو سچ بتاؤ، کیا تم لوگوں کو واقعی کشمیر چاہیے!‘‘

رب نواز نے پورے خلوص کے ساتھ کہا۔

’’ہاں، رام سنگھا!‘‘

رام سنگھ نے اپنا سر ہلایا۔

’’نہیں۔ میں نہیں مان سکتا۔ تمہیں ورغلایا گیا ہے۔ ‘‘

رب نواز نے اس کو یقین دلانے کے انداز میں کہا۔

’’تمہیں ورغلایا گیا ہے۔ قسم پنجتن پاک کی۔ ‘‘

رام سنگھ نے رب نواز کا ہاتھ پکڑ لیا۔

’’قسم نہ کھایارا۔ ٹھیک ہو گا۔ ‘‘

لیکن اس کا لہجہ صاف بتارہا تھا کہ اس کو رب نواز کی قسم کا یقین نہیں۔ دن ڈھلنے سے کچھ دیر پہلے پلاٹون کمانڈنٹ میجر اسلم آیا۔ اس کے ساتھ چند سپاہی تھے، مگر ڈاکٹر نہیں تھا۔ رام سنگھ بے ہوشی اور نزع کی حالت میں کچھ بڑبڑا رہا تھا۔ مگر آواز اس قدر کمزور اور شکستہ تھی کہ سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا۔ میجر اسلم بھی6/9 جاٹ رجمنٹ کا تھا اور رام سنگھ کو بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ رب نواز سے سارے حالات دریافت کرنے کے بعد اس نے رام سنگھ کو بلایا۔

’’رام سنگھ۔ رام سنگھ!‘‘

رام سنگھ نے اپنی آنکھیں کھولیں لیٹے لیٹے اٹینشن ہو کر اس نے سیلوٹ کیا۔ لیکن پھر آنکھیں کھول کر اس نے ایک لحظے کے لیے غور سے میجر اسلم کی طرف دیکھا۔ اس کا سیلوٹ کرنے والا اکڑا ہوا ہاتھ ایک دم گر پڑا۔ جھنجھلا کر اس نے بڑبڑانا شروع کیا۔

’’کچھ نہیں اوئے رام سیاں۔ بھول ہی گیا تو سؤر کے نلا۔ کہ یہ لڑائی۔ یہ لڑائی؟‘‘

رام سنگھ اپنی بات پوری نہ کرسکا۔ بند ہوتی ہوئی آنکھوں سے اس نے رب نواز کی طرف نیم سوالیہ انداز میں دیکھا اور سرد ہو گیا۔ 7اکتوبر1951ء

سعادت حسن منٹو

1919ء کی ایک بات

یہ1919ء کی بات ہے بھائی جان جب رولٹ ایکٹ کے خلاف سارے پنجاب میں ایجی ٹیشن ہورہی تھی۔ میں امرتسر کی بات کررہا ہوں۔ سرمائیکل اوڈوائر نے ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ماتحت گاندھی جی کا داخلہ پنجاب میں بندکردیا تھا۔ وہ ادھر آرہے تھے کہ پلوال کے مقام پر ان کو روک لیا گیا اور گرفتار کرکے واپس بمبئے بھیج دیا گیا۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں بھائی جان اگر انگریز یہ غلطی نہ کرتا تو جلیاں والا باغ کا حادثہ اس کی حکمرانی کی سیاہ تاریخ میں ایسے خونیں ورق کا اضافہ کبھی نہ کرتا۔ کیا مسلمان، کیا ہندو، کیا سکھ، سب کے دل میں گاندھی جی کی بے حد عزت تھی۔ سب انھیں مہاتما مانتے تھے۔ جب ان کی گرفتاری کی خبر لاہور پہنچی تو سارا کاروبار ایک دم بند ہو گیا۔ یہاں سے امرتسر والوں کو معلوم ہوا، چنانچہ یوں چٹکیوں میں مکمل ہڑتال ہو گئی۔ کہتے ہیں کہ نو اپریل کی شام کو ڈاکٹر ستیہ پال اور ڈاکٹر کچلو کی جلا وطنی کے احکام ڈپٹی کمشنر کو مل گئے تھے۔ وہ ان کی تعمیل کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس لیے کہ اس کے خیال کے مطابق امرتسر میں کسی ہیجان خیز بات کا خطرہ نہیں تھا۔ لوگ پرامن طریقے پر احتجاجی جلسے وغیرہ کرتے تھے۔ جن سے تشدد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میں اپنی آنکھوں دیکھا حال بیان کرتا ہوں۔ نوکو رام نومی تھا۔ جلوس نکلا مگر مجال ہے جو کسی نے حکام کی مرضی کے خلاف ایک قدم اٹھایا ہو، لیکن بھائی جان سرمائیکل عجب اوندھی کھوپری کا انسان تھا۔ اس نے ڈپٹی کمشنر کی ایک نہ سنی۔ اس پر بس یہی خوف سوار تھا کہ یہ لیڈر مہاتما گاندھی کے اشارے پر سامراج کا تختہ الٹنے کے در پے ہیں، اور جو ہڑتالیں ہورہی ہیں اور جلسے منعقد ہوتے ہیں ان کے پس پردہ یہی سازش کام کررہی ہے۔ ڈاکٹر کچلو اور ڈاکٹر ستیہ پال کی جلا وطنی کی خبر آناً فاناً شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ دل ہر شخص کا مکدر تھا۔ ہر وقت دھڑکا سا لگا رہتا تھا کہ کوئی بہت بڑا حادثہ برپا ہونے والا ہے، لیکن بھائی جان جوش بہت زیادہ تھا۔ کاروبار بند تھے۔ شہر قبرستان بنا ہوا تھا، پر اس قبرستان کی خاموشی میں بھی ایک شور تھا۔ جب ڈاکٹو کچلو اور ستیہ پال کی گرفتاری کی خبر آئی تو لوگ ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے ہوئے کہ مل کر ڈپٹی کمشنر بہادر کے پاس جائیں اور اپنے محبوب لیڈروں کی جلا وطنی کے احکام منسوخ کرانے کی درخواست کریں۔ مگر وہ زمانہ بھائی جان درخواستیں سننے کا نہیں تھا۔ سرمائیکل جیسا فرعون حاکمِ اعلیٰ تھا۔ اس نے درخواست سننا تو کجا لوگوں کے اس اجتماع ہی کو غیر قانونی قرار دیا۔ امرتسر۔ وہ امرتسر جو کبھی آزادی کی تحریک کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ جس کے سینے پر جلیاں والا باغ جیسا قابل فخرزخم تھا۔ آج کس حالت میں ہے؟۔ لیکن چھوڑیئے اس قصے کو۔ دل کو بہت دکھ ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس مقدس شہر میں جو کچھ آج سے پانچ برس پہلے ہوا اس کے ذمہ دار بھی انگریز ہیں۔ ہو گا بھائی جان، پر سچ پوچھئے تو اس لہو میں جو وہاں بہاہے ہمارے اپنے ہی ہاتھ رنگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ خیر!۔ ڈپٹی کمشنر صاحب کا بنگلہ سول لائنز میں تھا۔ ہر بڑا افسر اور ہر بڑا ٹوڈی شہر کے اس الگ تھلگ حصے میں رہتا تھا۔ آپ نے امرتسر دیکھا ہے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ شہر اور سول لائنز کو ملانے والا ایک پل ہے جس پر سے گزر کر آدمی ٹھنڈی سڑک پر پہنچتا ہے۔ جہاں حاکموں نے اپنے لیے یہ ارضی جنت بنائی ہوئی تھی۔ ہجوم جب ہال دروازے کے قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ پل پرگھڑ سوار گوروں کا پہرہ ہے۔ ہجوم بالکل نہ رکا اور بڑھتا گیا۔ بھائی جان میں اس میں شامل تھا۔ جوش کتنا تھا، میں بیان نہیں کرسکتا، لیکن سب نہتے تھے۔ کسی کے پاس ایک معمولی چھڑی تک بھی نہیں تھی۔ اصل میں وہ تو صرف اس غرض سے نکلے تھے کہ اجتماعی طور پر اپنی آواز حاکم شہر تک پہنچائیں اور اس سے درخواست کریں کہ ڈاکٹر کچلو اور ڈاکٹر ستیہ پال کو غیرمشروط طور پر رہا کردے۔ ہجوم پل کی طرف بڑھتا رہا۔ لوگ قریب پہنچے تو گوروں نے فائر شروع کردیے۔ اس سے بھگدڑ مچ گئی۔ وہ گنتی میں صرف بیس پچیس تھے اور ہجوم سینکڑوں پر مشتمل تھا، لیکن بھائی گولی کی دہشت بہت ہوتی ہے۔ ایسی افراتفری پھیلی کہ الاماں۔ کچھ گولیوں سے گھائل ہوئے اور کچھ بھگدڑ میں زخمی ہوء۔ دائیں ہاتھ کو گندا نالا تھا۔ دھکا لگا تو میں اس میں گر پڑا۔ گولیاں چلنی بند ہوئیں تو میں نے اٹھ کر دیکھا۔ ہجوم تتر بتر ہو چکا تھا۔ زخمی سڑک پر پڑے تھے اور پل پر گورے کھڑے ہنس رہے تھے۔ بھائی جان مجھے قطعاً یاد نہیں کہ اس وقت میری دماغی حالت کس قسم کی تھی۔ میرا خیال ہے کہ میرے ہوش و حواس پوری طرح سلامت نہیں تھے۔ گندے نالے میں گرتے وقت تو قطعاً مجھے ہوش نہیں تھا۔ جب باہر نکلا تو جو حادثہ وقوع پذیر ہوا تھا، اس کے خدوخال آہستہ آہستہ دماغ میں ابھرنے شروع ہوئے۔ دور شور کی آواز سنائی دے رہی تھی جیسے بہت سے لوگ غصے میں چیخ چلا رہے ہیں۔ میں گندا نالا عبور کرکے ظاہرا پیر کے تکیے سے ہوتا ہوا ہال دروازے کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ تیس چالیس نوجوان جوش میں بھرے پتھر اٹھا اٹھا کر دروازے کے گھڑیال پر مار رہے ہیں۔ اس کا شیشہ ٹوٹ کر سڑک پرگرا تو ایک لڑکے نے باقیوں سے کہا۔

’’چلو۔ ملکہ کا بت توڑیں!‘‘

دوسرے نے کہا۔

’’نہیں یار۔ کوتوالی کو آگ لگائیں!‘‘

تیسرے نے کہا۔

’’اور سارے بینکوں کو بھی!‘‘

چوتھے نے ان کو روکا۔

’’ٹھہرو۔ اس سے کیا فائدہ۔ چلو پل پر ان لوگوں کو ماریں۔ ‘‘

میں نے اس کو پہچان لیا۔ یہ تھیلا کنجر تھا۔ نام محمد طفیل تھا مگر تھیلا کنجر کے نام سے مشہور تھا۔ اس لیے کہ ایک طوائف کے بطن سے تھا۔ بڑا آوارہ گرد تھا۔ چھوٹی عمر ہی میں اس کو جوئے اور شراب نوشی کی لت پڑ گئی تھی۔ اس ک دو بہنیں شمشاد اور الماس اپنے وقت کی حسین ترین طوائفیں تھیں۔ شمشاد کا گلا بہت اچھا تھا۔ اس کا مجرا سننے کے لیے رئیس بڑی بڑی دور سے آتے تھے۔ دونوں اپنے بھائی کے کرتوتوں سے بہت نالاں تھیں۔ شہر میں مشہور تھا کہ انھوں نے ایک قسم کا اس کو عاق کر رکھا ہے۔ پھر بھی وہ کسی نہ کسی حیلے اپنی ضروریات کے لیے ان سے کچھ نہ کچھ وصول کر ہی لیتا تھا۔ ویسے وہ بہت خوش پوش رہتا تھا۔ اچھا کھاتا تھا، اچھا پیتا تھا۔ بڑا نفاست پسند تھا۔ بذلہ سنجی اور لطیفہ گوئی مزاج میں کوٹ کوٹ کے بھری تھی۔ میراثیوں اور بھانڈوں کے سوقیانہ پن سے بہت دور رہتا تھا۔ لمباقد، بھرے بھرے ہاتھ پاؤں، مضبوط کسرتی بدن۔ ناک نقشے کا بھی خاصا تھا۔ پرجوش لڑکوں نے اس کی بات نہ سنی اور ملکہ کے بت کی طرف چلنے لگے۔ اس نے پھر ان سے کہا۔

’’میں نے کہا مت ضائع کرو اپنا جوش۔ ادھر آؤ میرے ساتھ۔ چلو ان کو ماریں جنہوں نے ہمارے بے قصور آدمیوں کی جان لی ہے اور انھیں زخمی کیا ہے۔ خدا کی قسم ہم سب مل کر ان کی گردن مروڑ سکتے ہیں۔ چلو!‘‘

کچھ روانہ ہو چکے تھے۔ باقی رک گئے۔ تھیلا پل کی طرف بڑھا تو اس کے پیچھے چلنے لگے۔ میں نے سوچا کہ ماؤں کے یہ لال بیکار موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ فوارے کے پاس دبکا کھڑا تھا۔ وہیں میں نے تھیلے کو آواز دی اور کا۔

’’مت جاؤ یار۔ کیوں اپنی اور ان کی جان کے پیچھے پڑے ہو۔ ‘‘

تھیلے نے یہ سن کر ایک عجیب سا قہقہہ بلند کیا اور مجھ سے کہا۔

’’تھیلا صرف یہ بتانے چلا ہے کہ وہ گولیوں سے ڈرنے والا نہیں۔ ‘‘

پھر وہ اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوا۔

’’تم ڈرتے ہو تو واپس جاسکتے ہو۔ ‘‘

ایسے موقعوں پر بڑھے ہوئے قدم الٹے کیسے ہوسکتے ہیں۔ اور پھر وہ بھی اس وقت جب لیڈر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آگے آگے جارہا ہو۔ تھیلے نے قدم تیز کیے تو اس کے ساتھیوں کو بھی کرنے پڑے۔ ہال دروازے سے پل کا فاصلہ کچھ زیادہ نہیں۔ ہو گاکوئی ساٹھ ستر گز کے قریب۔ تھیلا سب سے آگے آگے تھا۔ جہاں سے پل کا دورویہ متوازی جنگلہ شروع ہوتا ہے، وہاں سے پندرہ بیس قدم کے فاصلے پر دو گھڑ سوار گورے کھڑے تھے۔ تھیلا نعرے لگاتا جب بنگلے کے آغاز کے پاس پہنچا تو فائر ہوا۔ میں سمجھا کہ وہ گر پڑا ہے۔ لیکن دیکھا کہ وہ اسی طرح۔ زندہ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے باقی ساتھی ڈر کے بھاگ اٹھے ہیں۔ مڑ کر اس نے پیچھے دیکھا اور چلایا۔

’’بھاگو نہیں۔ آؤ!‘‘

اس کا منہ میری طرف تھا کہ ایک اور فائر ہوا۔ پلٹ کر اس نے گوروں کی طرف دیکھا اور پیٹھ پر ہاتھ پھیرا۔ بھائی جان نظر تو مجھے کچھ نہیں آنا چاہیے تھا، مگر میں نے دیکھا کہ اس کی سفید بوسکی کی قمیض پر لال لال دھبے تھے۔ وہ اور تیزی سے بڑھا، جیسے زخمی شیر۔ ایک اور فائر ہوا۔ وہ لڑکھڑایا مگر ایک دم قدم مضبوط کرکے وہ گھر سوار گورے پر لپکا اور چشم زدن میں جانے کیا ہوا۔ گھوڑے کی پیٹھ خالی تھی۔ گورا زمین تھا اور تھیلا اس کے اوپر۔ دوسرے گورے نے جو قریب تھا اور پہلے بوکھلا گیا تھا، بِدکتے ہوئے گھوڑے کو روکا اور دھڑا دھڑ فائر شروع کردیے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا مجھے معلوم نہیں۔ میں وہاں فوارے کے پاس بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ بھائی جان جب مجھے ہوش آیا تو میں اپنے گھر میں تھا۔ چند پہچان کے آدمی مجھے وہاں سے اٹھا لائے تھے۔ ان کی زبانی معلوم ہوا کہ پل پر سے گولیاں کھا کر ہجوم مشتعل ہو گیا تھا۔ نتیجہ اس اشتعال کا یہ ہوا کہ ملکہ کے بت کو توڑنے کی کوشش کی گئی۔ ٹاؤن ہال اور تین بنکوں کو آگ لگی اور پانچ یا چھ یورپین مارے گئے۔ خوب لوٹ مچی۔ لوٹ کھسوٹ کا انگریز افسروں کو اتنا خیال نہیں تھا۔ پانچ یا چھ یورپین ہلاک ہوئے تھے اس کا بدلہ لینے کے لیے چنانچہ جلیاں والا باغ کا خونیں حادثہ رونما ہوا۔ ڈپٹی کمشنر بہادر نے شہر کی باگ دوڑ جنرل ڈائر کے سپرد کردی۔ چنانچہ جنرل صاحب نے بارہ اپریل کو فوجیوں کے ساتھ شہر کے مختلف بازاروں میں مارچ کیا اور درجنوں بے گناہ آدمی گرفتار کیے۔ تیرہ کو جلیاں والا باغ میں جلسہ ہوا۔ قریب قریب پچیس ہزار کا مجمع تھا۔ شام کے قریب جنرل ڈائر مسلح گوروں اور سکھوں کے ساتھ وہاں پہنچا اور نہتے آدمیوں پر گولیوں کی بارش شروع کردی۔ اس وقت تو کسی کو نقصان جان کا ٹھیک اندازہ نہیں تھا۔ بعد میں جب تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ ایک ہزار ہلاک ہوئے ہیں اور تین یا چار ہزار کے قریب زخمی۔ لیکن میں تھیلے کی بات کررہا تھا۔ بھائی جان آنکھوں دیکھی آپ کو بتا چکا ہوں۔ بے عیب ذات خدا کی ہے۔ مرحوم میں چاروں عیب شرعی تھے۔ ایک پیشہ طوائف کے بطن سے تھا مگر جیالا تھا۔ میں اب یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس ملعون گورے کی پہلی گولی بھی اس کے لگی تھی۔ آواز سن کر اس نے جب پلٹ کر اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا تھا، اور انھیں حوصلہ دلایا تھا جوش کی حالت میں اس کومعلوم نہیں ہوا تھا کہ اسکی چھاتی میں گرم گرم سیسہ اتر چکا ہے۔ دوسری گولی اس کی پیٹھ میں لگی۔ تیسری پھر سینے میں۔ میں نے دیکھا نہیں، پر سنا ہے جب تھیلے کی لاش گورے سے جدا کی گئی تو اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن میں اس بری طرح پیوست تھے کہ علیحدہ نہیں ہوتے تھے۔ گورا جہنم واصل ہو چکا تھا۔ دوسرے روز جب تھیلے کی لاش کفن دفن کے لیے اس کے گھر والوں کے سپرد کی گئی تو اس کا بدن گولیوں سے چھلنی ہورہا تھا۔ دوسرے گورے نے تو اپنا پورا پستول اس پر خالی کردیا تھا۔ میرا خیال ہے اس وقت مرحوم کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔ اس شیطان کے بچے نے صرف اس کے مردہ جسم پر چاند ماری کی تھی۔ کہتے ہیں جب تھیلے کی لاش محلے میں پہنچی تو کہرام مچ گیا۔ اپنی برادری میں وہ اتنا مقبول نہیں تھا، لیکن اس کی قیمہ قیمہ لاش دیکھ کر سب دھاڑیں مار مار کررونے لگے۔ اس کی بہنیں شمشاد اور الماس تو بے ہوش ہو گئیں۔ جب جنازہ اٹھا تو ان دونوں نے ایسے بین کیے کہ سننے والے لہو کے آنسو روتے رہے۔ بھائی جان، میں نے کہیں پڑھا تھا کہ فرانس کے انقلاب میں پہلی گولی وہاں کی ایک ٹکھیائی کے لگی تھی۔ مرحوم محمد طفیل ایک طوائف کا لڑکا تھا۔ انقلاب کی اس جدوجہد میں اس کے جو پہلی گولی لگی تھی دسویں تھی یا پچاسویں۔ اس کے متعلق کسی نے بھی تحقیق نہیں کی۔ شاید اس لیے کہ سوسائٹی میں اس غریب کا کوئی رتبہ نہیں تھا۔ میں تو سمجھتا ہوں پنجاب کے اس خونیں غسل میں نہانے والوں کی فہرست میں تھیلے کنجر کا نام و نشان تک بھی نہیں ہو گا۔ اور یہ بھی کوئی پتہ نہیں کہ ایسی کوئی فہرست تیار بھی ہوئی تھی۔ سخت ہنگامی دن تھے۔ فوجی حکومت کا دور دورہ تھا۔ وہ دیو جسے مارشل لاء کہتے ہیں۔ شہر کے گلی گلی کوچے کوچے میں ڈکارتا پھرتا تھا۔ بہت افراتفری کے عالم میں اس غریب کوجلدی جلدی یوں دفن کیا گیا جیسے اس کی موت اس کے سوگوار عزیزوں کا ایک سنگین جرم تھی جس کے نشانات وہ مٹا دینا چاہتے تھے۔ بس بھائی جان تھیلا مر گیا۔ تھیلا دفنا دیا گیا اور۔ اور‘‘

یہ کہہ کر میرا ہم سفر پہلی مرتبہ کچھ کہتے کہتے رکا اور خاموش ہو گیا۔ ٹرین دندناتی ہوئی جارہی تھی۔ پٹڑیوں کی کھٹا کھٹ نے یہ کہنا شروع کردیا۔

’’تھیلا مر گیا۔ تھیلا دفنا دیا گیا۔ تھیلا مر گیا۔ تھیلا دفنا دیاگیا۔ ‘‘

اس مرنے اور دفنانے کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں تھا، جیسے وہ اُدھر مرا اور اِدھر دفنادیا گیا۔ اور کھٹ کھٹ کے ساتھ ان الفاظ کی ہم آہنگی کچھ اس قدر جذبات سے عاری تھی کہ مجھے اپنے دماغ سے ان دونوں کو جدا کرنا پڑا۔ چنانچہ میں نے اپنے ہم سفر سے کہا۔

’’آپ کچھ اور بھی سنانے والے تھے؟‘‘

چونک کر اس نے میری طرف دیکھا۔

’’جی ہاں۔ اس داستان کا ایک افسوسناک حصہ باقی ہے۔ ‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کیا؟‘‘

اس نے کہنا شروع کیا۔

’’میں آپ سے عرض کر چکا ہوں کہ تھیلے کی دو بہنیں تھیں۔ شمشاد اور الماس۔ بہت خوبصورت تھیں۔ شمشاد لمبی تھی۔ پتلے پتلے نقش۔ غلافی آنکھیں۔ ٹھمری بہت خوب گاتی تھی۔ سنا ہے خاں صاحب فتح علی خاں سے تعلیم لیتی رہی تھی۔ دوسری الماس تھی۔ اس کے گلے میں سُر نہیں تھا، لیکن بتاوے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی۔ مجرا کرتی تھی تو ایسا لگتا تھا کہ اس کا انگ انگ بول رہا ہے۔ ہر بھاؤ میں ایک گھات ہوتی تھی۔ آنکھوں میں وہ جادو تھا جو ہر ایک کے سر پر چڑھ کے بولتا تھا۔ ‘‘

میرے ہم سفر نے تعریف و توصیف میں کچھ ضرورت سے زیادہ وقت لیا۔ مگر میں نے ٹوکنا مناسب نہ سمجھا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ خود اس لمبے چکر سے نکلا اور داستان کے افسوناک حصے کی طرف آیا۔

’’قصہ یہ ہے بھائی جان کہ ان آفت کی پرکالہ دو بہنوں کے حسن و جمال کا ذکر کسی خوشامدی نے فوجی افسروں سے کردیا۔ بلوے میں ایک میم۔ کیا نام تھا اس چڑیل کا؟۔ مس۔ مس شروڈماری گئی تھی۔ طے یہ ہوا کہ ان کو بلوایا جائے اور۔ اور۔ جی بھر کے انتقام لیا جائے۔ آپ سمجھ گئے نا بھائی جان؟‘‘

میں نے کہا۔

’’جی ہاں!‘‘

میرے ہم سفر نے ایک آہ بھری

’’ایسے نازک معاملوں میں طوائفیں اور کسبیاں بھی اپنی مائیں بہنیں ہوتی ہیں۔ مگر بھائی جان یہ ملک اپنی عزت و ناموس کو میرا خیال ہے پہچانتا ہی نہیں۔ جب اوپر سے علاقے کے تھانیدار کو آرڈر ملا تو وہ فوراً تیار ہو گیا۔ چنانچہ وہ خود شمشاد اور الماس کے مکان پر گیا اور کہا کہ صاحب لوگوں نے یاد کیا ہے۔ وہ تمہارا مجرا سننا چاہتے ہیں۔ بھائی کی قبر کی مٹی بھی ابھی تک خشک نہیں ہوئی تھی۔ اللہ کو پیارا ہوئے اس غریب کو صرف دو دن ہوئے تھے کہ یہ حاضری کا حکم صادر ہوا کہ آؤ ہمارے حضور ناچو۔ اذیت کا اس سے بڑھ کرپُر اذیت طریقہ کیا ہوسکتا ہے۔ ؟۔ مستبعد تمسخر کی ایسی مثال میرا خیال ہے شاید ہی کوئی اور مل سکے۔ کیا حکم دینے والوں کو اتنا خیال بھی نہ آیا کہ طوائف بھی غیرت مند ہوتی ہے؟۔ ہو سکتی ہے۔ کیوں نہیں ہوسکتی؟‘‘

اس نے اپنے آپ سے سوال کیا، لیکن مخاطب وہ مجھ سے تھا۔ میں نے کہا۔

’’ہوسکتی ہے!‘‘

’’جی ہاں‘‘

۔ تھیلا آخر ان کا بھائی تھا۔ اس نے کسی قمار خانے کی لڑائی بھڑائی میں اپنی جان نہیں دی تھی۔ وہ شراب پی کر دنگا فساد کرتے ہوئے ہلاک نہیں ہوا تھا۔ اس نے وطن کی راہ میں بڑے بہادرانہ طریقے پر شہادت کا جام پیا تھا۔ وہ ایک طوائف کے بطن سے تھا۔ لیکن وہ طوائف ماں تھی اور شمشاد اور الماس اسی کی بیٹیاں تھیں اور یہ تھیلے کی بہنیں تھیں۔ طوائفیں بعد میں تھیں۔ اور وہ تھیلے کی لاش دیکھ کر بے ہوش ہو گئی تھیں۔ جب اس کا جنازہ اٹھا تھا۔ تو انھوں نے ایسے بین کیے تھے کہ سن کر آدمی لہو روتا تھا۔ ‘‘

میں نے پوچھا۔

’’وہ گئیں؟‘‘

میرے ہم سفر نے اس کا جواب تھوڑے وقفے کے بعد افسردگی سے دیا۔

’’جی ہاں۔ جی ہاں گئیں۔ خوب سج بن کر۔ ‘‘

ایک دم اس کی افسردگی تیکھا پن اختیار کرگئی۔

’’سولہ سنگار کرکے اپنے بلانے والوں کے پاس گئیں۔ کہتے ہیں کہ خوب محفل جمی۔ دونوں بہنوں نے اپنے جوہر دکھائے۔ زرق برق پشوازوں میں ملبوس وہ کوہ قاف کی پریاں معلوم ہوتی تھیں۔ شراب کے دور چلتے رہے اور وہ ناچتی گاتی رہیں۔ یہ دونوں دور چلتے رہے۔ اور کہتے ہیں کہ۔ رات کے دو بجے ایک بڑے افسر کے اشارے پر محفل برخواست ہوئی۔ ‘‘

وہ اٹھ کھڑا ہو اور باہر بھاگتے ہوئے درختوں کو دیکھنے لگا۔ پہیوں اور پٹڑیوں کی آہنی گڑگڑاہٹ کی تال پراس کے آخری دو لفظ ناچنے لگے۔

’’برخواست ہوئی۔ برخواست ہوئی۔ ‘‘

میں نے اپنے دماغ میں انھیں، آہنی گڑگڑاہٹ سے نوچ کر علیحدہ کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔

’’پھرکیاہوا؟‘‘

بھاگتے ہوئے درختوں اور کھمبوں سے نظریں ہٹا کر اس نے بڑے مضبوط لہجے میں کہا۔

’’انھوں نے اپنی زرق برق پشوازیں نوچ ڈالیں اور الف ننگی ہو گئیں اور کہنے لگیں۔ لو دیکھ لو۔ ہم تھیلے کی بہنیں ہیں۔ اس شہید کی جس کے خوبصورت جسم کو تم نے صرف اس لیے اپنی گولیوں سے چھلنی چھلنی کیا تھا کہ اس میں وطن سے محبت کرنے والی روح تھی۔ ہم اسی کی خوبصورت بہنیں ہیں۔ آؤ، اپنی شہوت کے گرم گرم لوہے سے ہمارا خوشبوؤں میں بسا ہوا جسم داغدار کرو۔ مگر ایسا کرنے سے پہلے صرف ہمیں ایک بار اپنے منہ پر تھوک لینے دو۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ کچھ اس طرح کہ اور نہیں بولے گا۔ میں نے فوراً ہی پوچھا۔

’’پھر کیا ہوا؟‘‘

اس کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے۔

’’اُن کو۔ ان کو گولی سے اڑا دیا گیا۔ ‘‘

میں نے کچھ نہ کہا۔ گاڑی آہستہ ہوکر اسٹیشن پر رکی تو اس نے قلی بلا کر اپنا اسباب اٹھوایا۔ جب جانے لگا تومیں نے اس سے کہا۔

’’آپ نے جو داستان سنائی، اس کا انجام مجھے آپ کا خود ساختہ معلوم ہوتا ہے۔ ‘‘

ایک دم چونک کر اس نے میری طرف دیکھا۔

’’یہ آپ نے کیسے جانا؟‘‘

میں نے کہا۔

’’آپ کے لہجے میں ایک ناقابل بیان کرب تھا۔ ‘‘

میرے ہم سفر نے اپنے حلق کی تلخی تھوک کے ساتھ نگلتے ہوئے کہا۔

’’جی ہاں۔ اُن حرام۔ ‘‘

وہ گالی دیتے دیتے رک گیا۔ انھوں نے اپنے شہید بھائی کے نام پر بٹا لگا دیا۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ پلیٹ فارم پر اتر گیا۔ 11-12اکتوبر1951ء

سعادت حسن منٹو

یہ دروازہ کیسے کھُلا؟

یہ دروازہ کیسے کھُلا، کس نے کھولا؟

وہ کتبہ جو پتھر کی دیوار پر بے زباں سوچتا تھا

ابھی جاگ اٹھا ہے،

وہ دیوار بھولے ہوئے نقش گر کی کہانی

سنانے لگی ہے؛

نکیلے ستوں پر وہ صندوق، جس پر

سیہ رنگ ریشم میں لپٹا ہوا ایک کتے کا بت،

جس کی آنکھیں سنہری،

ابھی بھونک اُٹھا ہے؛

وہ لکڑی کی گائے کا سر

جس کے پیتل کے سینگوں میں بربط،

جو صدیوں سے بے جان تھا

جھنجھنانے لگا ہے؟

وہ ننھے سے جوتے جو عجلت میں اک دوسرے سے

الگ ہو گئے تھے؛

یکایک بہم مل کے، اترا کے چلنے لگے ہیں۔

وہ پایوں پہ رکھے ہوئے تین گلدان

جن پر بزرگوں کے پاکیزہ یا کم گنہ گار

جسموں کی وہ راکھ جو (اپنی تقدیرِ مبرم سے بچ کر)

فقط تِیرہ تر ہو گئی تھی،

اُسی میں چھپے کتنے دل

تلملانے لگے ہیں؟

یہ دروازہ کیسے کھلا؟ کس نے کھولا؟

ہمیں نے____

ابھی ہم نے دہلیز پر پاؤں رکھا نہ تھا

کواڑوں کو ہم نے چھوا تک نہ تھا

کیسے یکدم ہزاروں ہی بے تاب چہروں پہ

تارے چمکنے لگے

جیسے اُن کی مقدس کتابوں میں

جس آنے والی گھڑی کا حوالہ تھا

گویا یہی وہ گھڑی ہو!

ن م راشد

یہ خلا پُر نہ ہوا

ذہن خالی ہے

خلا نور سے، یا نغمے سے

یا نکہتِ گم راہ سے بھی

پُر نہ ہوا

ذہن خالی ہی رہا

یہ خلا حرفِ تسلی سے،

تبسم سے،

کسی آہ سے بھی پر نہ ہوا

اِک نفی لرزشِ پیہم میں سہی

جہدِ بے کار کے ماتم میں سہی

ہم جو نارس بھی ہیں، غم دیدہ بھی ہیں

اِس خلا کو

(اِسی دہلیر پہ سوئے ہوئے

سرمست گدا کے مانند)

کسی مینار کی تصویر سے،

یا رنگ کی جھنکار سے،

یا خوابوں کی خوشبوؤں سے

پُر کیوں نہ کریں؟

کہ اجل ہم سے بہت دُور

بہت دُور رہے؟

نہیں، ہم جانتے ہیں

ہم جو نارس بھی ہیں، غم دیدہ بھی ہیں

جانتے ہیں کہ خلا ہے وہ جسے موت نہیں

کِس لیے نُور سے، یا نغمے سے

یا حرفِ تسلّی سے اسے جسم بنائیں

اور پھر موت کی وارفتہ پذیرائی کریں؟

نئے ہنگاموں کی تجلیل کا در باز کریں

صبحِ تکمیل کا آغاز کریں؟

ن م راشد

ہونٹوں کالمس

تیرے رنگیں رس بھرے ہونٹوں کا لمس

جس سے میرا جسم طوفانوں کی جولاں گاہ ہے

جس سے میری زندگی، میرا عمل گمراہ ہے

میری ذات اور میرے شعر افسانہ ہیں!

تیرے رنگیں رس بھرے ہونٹوں کا لمس

اور پھر لمسِ طویل

جس سے ایسی زندگی کے دن مجھے آتے ہیں یاد

میں نے جو اب تک بسر کی ہی نہیں

اور اک ایسا مقام

آشنا جس کے نظاروں سے نہیں میری نگاہ!

تیرے اک لمسِ جنوں انگیز سے

کیسے کھل جاتی ہے کرنوں کے لیے اک شاہراہ

کیسے ہو جاتی ہے، ظلمت تیز گام،

کیسے جی اٹھتے ہیں آنے وا لے ایامِ جمیل!

تیرے رنگیں رس بھرے ہونٹوں کا لمس

جس کے آگے ہیچ جرعاتِ شراب

یہ سنہری پھل، یہ سیمیں پھول مانندِ سراب

سوزِ شمع و گردشِ پروانہ گویا داستاں

نغمہ ءِ سیارگاں، بے رنگ و آب

قطرہ ءِ بے مایہ طغیانِ شباب!

تیرے ان ہونٹوں کے لمسِ جنوں انگیز سے

چھا گیا ہے چار سُو

چاندنی راتوں کا نورِ بیکراں

کیف و مستی کا وفورِ جاوداں

چاندنی ہے اور میں اک تاک کے سائے تلے

اِستادہ ہوں

جانے دینے کے لیے آمادہ ہوں

میری ہستی ہے نحیف و بے ثبات

تاک کی ہر شاخ ہے آفاق گیر!

حملہ ءِ مرگ و خزاں سے بے نیاز

سامنے جس کے مری دنیا ہے، دنیائے مجاز

میرے جسم و روح جس کی وسعتوں کے سامنے

رفتہ رفتہ مائلِ حلّ و گداز!

ہاں مگر اتنا تو ہے،

میری دنیا کو مٹا کر ہو چلی ہے آشکار

اور دنیائیں مقام و وقت کی سرحد کے پار

جن کی تو ملکہ ہے میں ہوں شہریار!

تیرے رنگیں رس بھرے ہونٹوں کا لمس،

جس سے میری سلطنت تابندہ ہے

انتہائے وقت تک پائندہ ہے!

ن م راشد

ہمہ اوست

خیابانِ سعدی میں

روسی کتابوں کی دکان پر ہم کھڑے تھے

مجھے روس کے چیدہ صنعت گروں کے

نئے کارناموں کی اک عمر سے تشنگی تھی!

مجھے روسیوں کے سیاسی ہمہ اوست سے کوئی رغبت نہیں ہے

مگر ذرے ذرے میں

انساں کے جوہر کی تابندگی دیکھنے کی تمنا ہمیشہ رہی ہے!

اور اُس شام تو مرسدہ کی عروسی تھی،

اُس شوخ، دیوانی لڑکی کی خاطر

مجھے ایک نازک سی سوغات کی جستجو تھی

وہ میرا نیا دوست خالد

ذرا دور، تختے کے پیچھے کھڑی

اک تنومند لیکن فسوں کار،

قفقاز کی رہنے والی حسینہ سے شیر و شکر تھا!

یہ بھوکا مسافر،

جو دستے کے ساتھ

ایک خیمے میں، اک دور افتادہ صحرا میں

مدت سے عزلت گزیں تھا،

بڑی التجاؤں سے

اس حورش قفقاز سے کہہ رہا تھا:

نجانے کہاں سے ملا ہے

تمھاری زباں کو یہ شہد

اور لہجے کو مستی!

میں کیسے بتاؤں

میں کس درجہ دلدادہ ہوں روسیوں کا

مجھے اشتراکی تمدن سے کتنی محبت ہے،

کیسے بتاؤں!

یہ ممکن ہے تم مجھ کو روسی سکھا دو؟

کہ روسی ادیبوں کی سرچشمہ گاہوں کو میں دیکھتا چاہتا ہوں!

وہ پروردہ ءِ عشرہ بازی

کنکھیوں سے یوں دیکھتی تھی

کہ جیسے وہ اُن سرنِگوں آرزوؤں کو پہچانتی ہو،

جو کرتی ہیں اکثر یونہی رُو شناسی

کبھی دوستی کی تمنا،

کبھی علم کی پیاس بن کر!

وہ کولہے ہلاتی تھی، ہنستی تھی

اک سوچی سمجھی حسابی لگاوٹ سے،

جیسے وہ اُن خفیہ سرچشمہ گاہوں کے ہر راز کو جانتی ہو،

وہ تختے کے پیچھے کھڑی، قہقہے مارتی، لوٹتی تھی!

کہا میں نے خالد سے:

بہروپیے!

اس ولایت میں ضربِ مثل ہے

کہ اونٹوں کی سوداگری کی لگن ہو

تو گھر اُن کے قابل بناؤ___،

اور اس شہر میں یوں تو استانیاں اَن گنت ہیں

مگر اِس کی اُجرت بھلا تم کہاں دے سکو گے!

وہ پھر مضطرب ہو کے، بے اختیاری سے ہنسنے لگی تھی!

وہ بولی:

یہ سچ ہے

کہ اُجرت تو اک شاہی بھر کم نہ ہو گی،

مگر فوجیوں کا بھروسہ ہی کیا ہے،

بھلا تم کہاں باز آؤ گے

آخر زباں سیکھنے کے بہانے

خیانت کروگے!

وہ ہنستی ہوئی

اک نئے مشتری کی طرف ملتفت ہو گئی تھی!

تو خالد نے دیکھا

کہ رومان تو خاک میں مل چکا ہےِ__

اُسے کھینچ کر جب میں بازار میں لا رہا تھا،

لگاتار کرنے لگا وہ مقولوں میں باتیں:

زباں سیکھنی ہو تو عورت سے سیکھو!

جہاں بھر میں روسی ادب کا نہیں کوئی ثانی!

وہ قفقاز کی حور، مزدور عورت!

جو دنیا کے مزدور سب ایک ہوجائیں!

آغاز ہو اک نیا دورہ ءِ شادمانی

مرے دوستوں میں بہت اشتراکی ہیں،

جو ہر اک محبت میں مایوس ہو کر،

یونہی اک نئے دورہ ءِ شادمانی کی حسرت میں

کرتے ہیں دلجوئی اک دوسرے کی،

اور اب ایسی باتوں پہ میں

زیرِ لب بھی کبھی مسکراتا نہیں ہوں!

اور اُس شام جشنِ عروسی میں

حُسن و مَے و رقص و نغمہ کے طوفان بہتے رہے تھے،

فرنگی شرابیں تو عنقا تھیں

لیکن مَے ناب قزوین و خُلّارِ شیراز کے دَورِ پیہم سے،

رنگیں لباسوں سے،

خوشبو کی بے باک لہروں سے،

بے ساختہ قہقہوں، ہمہموں سے،

مزامیر کے زیر و بم سے،

وہ ہنگامہ برپا تھا،

محسوس ہوتا تھا

طہران کی آخری شب یہی ہے!

اچانک کہا مرسدہ نے:

تمھارا وہ ساتھی کہاں ہے؟

ابھی ایک صوفے پہ دیکھا تھا میں نے

اُسے سربزانو!

تو ہم کچھ پریشان سے ہو گئے

اور کمرہ بہ کمرہ اُسے ڈھونڈنے مل کے نکلے!

لو اِک گوشہ ءِ نیم روشن میں

وہ اشتراکی زمیں پر پڑا تھا

اُسے ہم بلایا کیے اور جھنجھوڑا کیے

وہ تو ساکت تھا، جامد تھا!

روسی ادیبوں کی سرچشمہ گاہوں کی اُس کو خبر ہو گئی تھی؟

ن م راشد

ہم کہ عشّاق نہیں ۔ ۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم کہ عشّاق نہیں ، اور کبھی تھے بھی نہیں

ہم تو عشّاق کے سائے بھی نہیں!

عشق اِک ترجمہ ءِ بوالہوسی ہے گویا

عشق اپنی ہی کمی ہے گویا!

اور اس ترجمے میں ذکرِ زر و سیم تو ہے

اپنے لمحاتِ گریزاں کا غم و بیم تو ہے

لیکن اس لمس کی لہروں کا کوئی ذکر نہیں

جس سے بول اٹھتے ہیں سوئے ہوئے الہام کے لب

جی سے جی اٹھتے ہیں ایّام کے لب!

۔۔۔۔۔۔۔ ہم وہ کمسن ہیں کہ بسم اللہ ہوئی ہو جن کی

محوِ حیرت کہ پکار اٹھے ہیں کس طرح حروف

کیسے کاغذ کی لکیروں میں صدا دوڑ گئی

اور صداؤں نے معانی کے خزینے کھولے!

یہ خبر ہم کو نہیں ہے لیکن

کہ معانی نے کئی اور بھی در باز کیے

خود سے انساں کے تکلّم کے قرینے کھولے!

خود کلامی کے یہ چشمے تو کسی وادیِ فرحاں میں نہ تھے

جو ہماری ازلی تشنہ لبی نے کھولے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم سرِ چشمہ نگوں سار کسی سوچ میں ہیں

سحر و شام ہے ہر لہر کی جمع و تفریق

جیسے اِک فہم ہو اعداد کے کم ہونے کا

جیسے پنہاں ہو کہیں سینے میں غم ہونے کا!

پارہ ءِ ناں کی تمنّا کہ در و بام کے سائے کا کرم

خلوتِ وصل کہ بزمِ مئے و نغمہ کا سرور

صورت و شعر کی توفیق کہ ذوقِ تخلیق

ان سے قائم تھا ہمیشہ کا بھرم ہونے کا!

اب در و بام کے سائے کا کرم بھی تو نہیں

آج ہونے کا بھرم بھی تو نہیں!

۔۔۔۔۔ آج کا دن بھی گزارا ہم نے ۔۔۔۔ اور ہر دن کی طرح

ہر سحر آتی ہے البتہ ءِ روشن لے کر

شام ڈھل جاتی ہے ظلمت گہِ لیکن کی طرح

ہر سحر آتی ہے امید کے مخزن لے کر

اور دن جاتا ہے نادار، کسی شہر کے محسن کی طرح!

۔۔۔۔۔۔۔ چار سو دائرے ہیں، دائرے ہیں، دائرے ہیں

حلقہ در حلقہ ہیں گفتار میں ہم

رقص و رفتار میں ہم

نغمہ و صورت و اشعار میں ہم

کھو گئے جستجوئے گیسوئے خم دار میں ہم!

عشقِ نارستہ کے ادبار میں ہم

دور سے ہم کبھی منزل کی جھلک دیکھتے ہیں

اور کبھی تیز ترک بڑھتے ہیں

تو بہت دور نہیں، اپنے ہی دنبال تلک بڑھتے ہیں

کھو گئے جیسے خمِ جادہ ءِ پرکار میں ہم!

۔۔۔۔ ‘آپ تک اپنی رسائی تھی کبھی’

آپ ۔۔۔۔۔۔ بھٹکے ہوئے راہی کا چراغ

آپ ۔۔۔۔۔ آئندہ پہنا کا سراغ

آپ ٹوٹے ہوئے ہاتھوں کی وہ گویائی تھی

جس سے شیریں کوئی آواز سرِ تاک نہیں

آج اس آپ کی للکار کہاں سے لائیں؟

اب وہ دانندہ ءِ اسرار کہاں سے لائیں؟

۔۔۔۔۔ آج وہ آپ، سیہ پوش اداکارہ ہے

ہے فقط سینے پہ لٹکائے سمن اور گلاب

مرگِ ناگاہِ سرِ عام سے اس کی ہیں شناسا ہم بھی

اعتراف اس کا مگر اس لیے ہم کرتے نہیں

کہ کہیں وقت پہ ہم رو نہ سکیں!

۔۔۔۔۔ آؤ صحراؤں کے وحشی بن جائیں

کہ ہمیں رقصِ برہنہ سے کوئی باک نہیں!

آگ سلگائیں اسی چوب کے انبار میں ہم

جس میں ہیں بکھرے ہوئے ماضیِ نمناک کے برگ

آگ سلگائیں زمستاں کے شبِ تار میں ہم

کچھ تو کم ہو یہ تمناؤں کی تنہائیِ مرگ!

آگ کے لمحہ ءِ آزاد کی لذّت کا سماں

اس سے بڑھ کر کوئی ہنگامِ طرب ناک نہیں

کیسے اس دشت کے سوکھے ہوئے اشجار جھلک اٹھے ہیں

کیسے رہ گیروں کے مٹتے ہوئے آثار جھلک اٹھے ہیں

کیسے یک بار جھلک اٹھے ہیں!

۔۔۔۔۔ ہاں مگر رقصِ برہنہ کے لئے نغمہ کہاں سے لائیں؟

دہل و تار کہاں سے لائیں؟

چنگ و تلوار کہاں سے لائیں؟

جب زباں سوکھ کے اِک غار سے آویختہ ہے

ذات اِک ایسا بیاباں ہے جہاں

نغمہ ءِ جاں کی صدا ریت میں آمیختہ ہے!

۔۔۔۔ دھُل گئے کیسے مگر دستِ حنا بندِ عروس

اجنبی شہر میں دھو آئے انہیں!

لوگ حیرت سے پکار اٹھے: یہ کیا لائے تم؟

وہی جو دولتِ نایاب تھی کھو آئے تم؟

ہم ہنسے، ہم نے کہا: دیوانو!

زینتیں اب بھی ہیں دیکھو تو سلامت اِس کی

کیا یہ کم ہے سرِ بازار یہ عریاں نہ ہوئی؟

لوگ بپھرے تو بہت، اِس کے سوا کہہ نہ سکے:

ہاں یہ سچ ہے سرِ بازار یہ عریاں نہ ہوئی

یہی کیا کم ہے کہ محفوظ ہے عفت اِس کی،

یہی کیا کم ہے کہ اتنا دَم ہے!

۔۔۔۔۔۔۔ ہاں، تقنّن ہو کہ رقت ہو کہ نفرت ہو کہ رحم

محو کرتے ہی چلے جاتے ہیں اک دوسرے کو ہرزہ سراؤں کی طرح!

درمیاں کیف و کمِ جسم کے ہم جھولتے ہیں

اور جذبات کی جنت میں در آ سکتے نہیں!

ہاں وہ جذبات جو باہم کبھی مہجور نہ ہوں

رہیں پیوست جو عشّاق کی باہوں کی طرح

ایسے جذباتِ طرح دار کہاں سے لائیں؟

۔۔۔۔۔۔۔ ہم کہ احساس سے خائف ہیں، سمجھتے ہیں مگر

اِن کا اظہار شبِ عہد نہ بن جائے کہیں

جس کے ایفا کی تمنا کی سحر ہو نہ سکے

روبرو فاصلہ در فاصلہ در فاصلہ ہے

اِس طرف پستیِ دل برف کے مانند گراں

اُس طرف گرمِ صلا حوصلہ ہے

دل بہ دریا زدن اک سو ہے تو اک سو کیا ہے؟

ایک گرداب کہ ڈوبیں تو کسی کو بھی خبر ہو نہ سکے!

اپنی ہی ذات کی سب مسخرگی ہے گویا؟

اپنے ہونے کی نفی ہے گویا؟

۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں، فطرت کہ ہمیشہ سے وہ معشوقِ تماشا جُو ہے

جس کے لب پر ہے صدا، تُو جو نہیں، اور سہی،

اور سہی، اور سہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتنے عشّاق سرِ راہ پڑے ہیں گویا

شبِ یک گانہ و سہ گانہ و نُہ گاہ کے بعد

(اپنی ہرسعی کو جو حاصلِ جاوید سمجھتے تھے کبھی!)

اُن کے لب پر نہ تبسّم نہ فغاں ہے باقی!

اُن کی آنکھوں میں فقط سّرِ نہاں ہے باقی!

ہم کہ عشّاق نہیں اور کبھی تھے بھی نہیں

ہمیں کھا جائیں نہ خود اپنے ہی سینوں کے سراب

لیتنی کنت تُراب!

کچھ تو نذرانہ ءِ جاں ہم بھی لائیں

اپنے ہونے کا نشاں ہم بھی لائیں!

ن م راشد

ہم رات کی خوشبوؤں سے بوجھل اٹھے

صبح کے سینے میں نیزے ٹوٹے ،

اور ہم رات کی خوشبوؤں سے بوجھل اٹھے !

جسم کے ساحلِ آشفتہ پر اک عشق کا مارا ہوا

انسان ہے آسودہ، مرے دل میں ، سرِ ریگ تپاں

میں فقط اس کا قصیدہ خواں ہوں !

(ریت پر لیٹے ہوئے شخص کا آوازہ بلند!)

دور کی گندم و مے ، صندل و خس لایا ہے

تا ک کی شاخ پر اک قافلہ زنبوروں کا!

تاک کی شاخ بھی خوشبوؤں سے بوجھل اٹھی!

کیسے زنبور ہمیشہ سے تمنا کے خداؤں کے حضور

سر بسجدہ ہیں ، مگر مشعلِجاں لے کے ہر اک سمت رواں !

جونہی دن نکلے گا اور شہر

جواں میوہ فروشوں کی پکاروں سے چھلک اٹھے گا،

میں بھی ہر سو ترے مژگاں کے سفیروں کی طرح دوڑوں گا!

(دن نکل آیا تو شبنم کی رسالت کی صفیں تہہ ہوں گی

راستے دن کے سیہ جھوٹ سے لد جائیں گے

بھونکنا چھوڑ کے پھر کاٹنے لگ جائیں گے غم کے کتے

اور اس شہر کے دلشاد مسافر، جن پر

ان کے سائے سے بھی لرزہ طاری،

پیکرِ خواب کے مانند سر راہ پلٹ جائیں گے )

رات یوں چاہا مجھے تو نے کہ میں فرد نہیں

بلکہ آزادی کے دیوانوں کا جمگھٹ ہوں میں ؛

رات یوں چاہا تجھے میں نے کہ تو فرد نہ ہو

بلکہ آئندہ ستاروں کا ہجوم۔ ۔ ۔

صبح کے سینے میں نیزے ٹوٹے

اور ہم رات کی خوشبوؤں سے بوجھل اٹھے !

اب بھی اک جسم مرے جسم سے پیوستہ ہے

جیسے اس ریت پہ لیٹے ہوئے انسان کا قالب ہو یہی ۔۔

جسم، میں جس کا قصیدہ خواں ہوں ۔۔۔

دن نکل آئے گا زنبوروں کی سوغات گل و تاک

کی دہلیز پہ رکھی ہو گی،

وہ اٹھا لیں گے اسے چومیں گے

ایسی سوغات گل و تاک پہ کچھ بار نہیں!

انہی زنبوروں کی محنت کے پسینے سے درختوں کو ملی

تاب، کہ رویا دیکھیں

کسی دوشیزہ کا رویا جسے شیرینیِ لب بار ہو

(زیبائی جہاں بھی ہو سلام ۔۔۔

تیرے ہونٹوں کو دوام!)

رات کے باغوں کی خوشبوؤں کو چھو کر آئے،

زیست کی تازہ دمی، ہست کی ندرت لائے،

اُن کے اِک بوسے سے ہر لب میں نمو آئے گی

موت اس شہر سے دزدانہ پلٹ جائے گی

ن م راشد

ہم جسم

در پیش ہمیں

چشم و لب و گوش

کے پیرائے رہے ہیں

کل رات

جو ہم چاند میں

اس سبزے پہ

ان سایوں میں

غزلائے رہے ہیں

کس آس میں

کجلائے رہے ہیں؟

اس میں کو

جو ہم جسموں میں

محبوس ہے

آزاد کریں

کیسے ہم آزاد کریں؟

کون کرے؟ ہم؟

ہم جسم

ہم جسم کہ کل رات

اسی چاند میں

اس سبزے پہ

ان سایوں میں

خود اپنے کو

دہرائے رہے ہیں؟

کچھ روشنیاں

کرتی رہیں ہم سے

وہ سرگوشیاں

جو حرف سے

یا صوت سے

آزاد ہیں

کہہ سکتی ہیں

جو کتنی زبانوں میں

وہی بات، ہر اک رات

سدا جسم

جسے سننے کو

گوشائے رہے ہیں

ہم جسم بھی

کل رات کے

اک لمحے کو

دل بن کے

اسی بات سے

پھر سینوں میں

گرمائے رہے ہیں

اس میں کو

ہم آزاد کریں؟

رنگ کی، خوشبوؤں کی

اس ذات کو

دل بن کے

جسے ہم بھی

ہر اک رات

عزیزائے رہے ہیں؟

یا اپنے توہمات کی

زنجیروں میں

الجھائے رہے ہیں

اس ذات کو

جس ذات کے

ہم سائے رہے ہیں؟

ن م راشد

کیمیا گر

رضا شاہ!

تجھ پر سلام اجنبی کا!

سلام ایک ہندی سپاہی کا تجھ پر!

مجھے تو کہاں دیکھ سکتا ہے؟

تیری نگاہیں تو البرز کے پار اُفق پر لگی ہیں!

یہاں___ میں ترے بت کے نیچے

چمکتی ہوئی سیڑھیوں پر کھڑا ہوں!

سنا ہے کہ اُس انتہائی عقیدت کی خاطر

جو بخشی گئی تھی تجھے اپنی ذاتِ گرامی سے،

تو نے یہ بت

اپنی فرماں روائی میں

یورپ کے مشہور ہیکل تراشوں سے بنوا کے

اس چوک میں نصب کروا دیا تھا!

اسی سے ہویدا ہے یہ بھی

کہ ملت کی احساں شناسی پہ کتنا بھروسہ تھا تجھ کو!

رضا شاہ!

اے داریوش اور سیروس کے جانشیں

یہ قلم رو،

تجھے جس کی تزئین کی لو لگی تھی

جسے تو خدا کی اماں میں بھی دینا گوارا نہ کرتا،

یہی شہر یور کے الم زا حوادث کے بعد

آج قدموں میں تیرے پڑی ہے،

یہ بے جان لاشہ

جسے تین خونخوار کرگس

نئی اور بڑھتی ہوئی آز سے نوچتے جا رہے ہیں!

وطن اور ولی عہد کی والہانہ محبت،

ترے ہوش و فکر و عمل کے لیے،

کون سی چیز مہمیز کا کام دیتی تھی،

سب جانتے ہیں!

مگر تو وہ معما تھا جس کو

بنیاد سے کوئی مطلب نہ تھا

وہ تو زخموں کو آنکھوں سے روپوش کرنے میں،

چھت اور دیوار و در کی منبّت پہ گلگو نہ ملنے میں

دن رات بے انتہا تندہی سے لگا تھا!

یہ مشہور ہے

تو نے اک روز نادر کی تربت پہ جا کر

کہا تھا:

کہ نادر میں سب خوبیاں تھیں

مگر پیٹ کا اتنا ہلکا

کہ لوگ اس کے مقصود کو بھانپ لیتے!

یہ سچ ہے کہ نادر اگر نیم شب

صبح کے وحشت افزا ارادے کو ا فشا نہ کرنا

تو یوں قتل ہونے کی نوبت نہ آتی!

مگر وہ تری حد سے گزری ہوئی رازداری

کہ جس نے تجھے

اپنے افکار کے قید خانے میں

محصور سا کر دیا تھا،

____وہ زنداں جہاں گھوم پھر کر نگاہیں

فقط اپنا چہرہ دکھاتی تھیں تجھ کو

جہاں ہر عقیدے کو تو

اپنے الہام کے شیشہ ءِ کور میں دیکھتا تھا،

جہاں ایک چھوٹا سا روزن بھی ایسا نہ تھا،

جس میں ملت کے افکار کی ایک کرن کا گزر ہو!

اسی کا نتیجہ، کہ اک روز

کہنے کو باتیں بہت تھیں

مگر سننے والے کہیں بھی نہ تھے،

اور تجھے بھی تو کر ہو گئے تھے!

تجھے اس زمیں سے گئے دو برس ہو چکے ہیں

تری یاد تک مٹ چکی ہے دلوں سے

کبھی یاد کرتا ہے کوئی تو کہتا ہے،

وہ کیمیا گر

جو کرتا رہا سب سے وعدے

کہ لاؤں گا سونا بنا کر

مگر شہریوں کے مس و سیم تک

لے کے چلتا بنا؟

یہ طہران جو تیرے خوابوں میں

پاریس کا نقشِ ثانی تھا،

یوں تو یہاں رہگزاروں میں

بہتا ہے ہر شام سیما فروشوں کا سیلاب جاری،

یہاں رقص گاہوں میں اب بھی

بہت جھلملاتی ہیں محفل کی شمعیں،

یہاں رقص سے چور یا جام و بادہ سے مخمور ہو کر

وطن کے پجاری

بآہنگِ سنتور و تار و دف و نَے

لگاتے ہیں مل کر

وطن! اے وطن! کی صدائیں!

مگر کون جانے یہ کس کا وطن ہے؟

کہ پاریس بھی آج اُس کا ہیولا ہے بے چارگی میں

کہ اُس پر فقط برقِ خرمن گری تھی

اسے شعلہ ہائے نیستاں نگلتے چلے جا رہے ہیں!

ن م راشد

کونسی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟

لب بیاباں، بوسے بے جاں

کونسی الجھن کو سلجھاتے ھیں ہم؟

جسم کی یہ کار گاہیں

جن کا ہیزم آپ بن جاتے ہیں ہم!

نیم شب اور شہر خواب آلودہ، ہم سائے

کہ جیسے دزدِ شبِ گرداں کوئی!

شام سے تھے حسرتوں کے بندہ بے دام ہم

پی رھے تھے جام پر ہر جام ہم

یہ سمجھ کر، جرعہِپنہاں کوئی

شائد آخر، ابتدائے راز کا ایما بنے

مطلب آساں، حرف بے معنی

تبسّم کے حسابی زاو یے

متن کے سب حاشیے،

جن سے عیش خام کے نقش ریا بنتے رہے!

اور آخر بعُد جسموں میں سر مو بھی نہ تھا

جب دلوں کے درمیاں حائل تھے سنگیں فاصلے

قرب چشم و گوش سے ہم کونسی الجھن کو سلجھاتے رہے!

کونسی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟

شام کو جب اپنی غم گاہوں سے دزدانہ نکل آتے ہیں ہم!

زندگی کو تنگنائے تازہ تر کی جستجو

یا زوال عمر کا دیو سبک پا رو برو

یا انا کے دست و پا کو وسعتوں کی آرزو

کونسی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟

ن م راشد

کلام ہنس نہیں رہا

کلام ہنس نہیں رہا

کلام کس طرح ہنسے؟

ہمارے اِن پِٹے لطیفوں پر جو ہم اِسے

سنا چکے ہیں بار ہا

کلام کس طرح ہنسے

کلام اب پگھل رہا ہے رفتہ رفتہ

ان دلوں کی شمع کی طرح

جو جل چکے، جلا چکے ۔۔۔

کلام جس کا ذکر کر رہے ہیں ہم

عجیب بات ہے کلام بھی نہیں

مگر اِسے کلام کے سوا کہیں تو کیا کہیں؟

کہ اس کا اور کوئی نام بھی نہیں!

ہم اس پہ کچھ فدا نہیں مگر اِسے

جو رد کریں تو کیوں کریں؟

کہ یہ ہمارے جسم و جاں کو پالتا رہا

ہمارے ذہن و دل کو سالہا سے ڈھالتا رہا ۔۔۔

یہ اب بھی ڈھالتا ہے اور ڈھالتا رہے گا

اور ہم یہ چاہتے بھی ہیں!

کلام ایک قرب ہے،

ہمیشہ بُعد کو پکارتا رہا ۔۔۔

سمندروں کو دیکھتے ہو تم

وہ کس طرح سمندروں کے بُعد کو پکارتے ہیں رات دن؟

اسی لیے صدائے مرگ

سُن کے اپنے باطنِ نحیف میں

ہم آپ کر اُٹھے ہیں پھر سے ہستِ نو کی آرزو ۔۔۔

وہ رات جو کبھی سیاہ جنگلوں کو ۔۔۔

جنگلوں کی آنکھ سے چھپی ہوئی

مہورتوں کو چاٹتی رہی

وہ اب دلوں کو چاٹتی ہے، اُن دلوں

کو جن میں پھر سے جاگ اٹھی

حیاتِ نو کی آرزو ۔۔

وہ رات جس کے چاوشوں نے دیکھ پائے

وحشیِ قدیم کے نشانِ پا

جو شرق و غرب میں نکل پڑا ہے

چور کی دلاوری لیے ۔۔۔

ہم اپنے ماضیِ قریب کو مٹا تو دیں

۔۔۔ مٹانا چاہتے بھی ہیں مگر ۔۔۔

یہ دیکھتے ہو تم

خفیف سی صدا اٹھی، وہ ہانپنے لگے

وہ خوف ہانکنے لگے

وہ اپنے ناخنوں کے جنگلوں سے

ہم کو جھانکنے لگے؟

وہ رات جو سیاہ جنگلوں کو چاٹتی رہی

وہ آج ہم پہ ایسے آئی ہے کہ جیسے آئےرات

کمسنوں پہ جو کسی بڑے فِرج میں ناگہاں

اسیر ہو کے رہ گئے!

ہم آدمی کو پھر سے زندہ کر سکیں گے گیا؟

۔۔ ۔ مگر وہ مرحلے

فسانہ و فسوں کے صد ہزار مرحلے

جو راہ میں پھر آئیں گے؟

تباہی! یہ بتا کہ اور مرحلہ بھی ہے

کہ جس کو پار کر سکے گا آدمی؟

وہ دیکھ وحشیِ قدیم جو لہو سے

سوچتا رہا سدا

پھر آج رنگ و نور سے الجھ پڑا ۔۔۔

اُسی کا نغمہ ہے

جو سُن رہے ہیں ریڈیو سے ہم

دھرم دھما دھما دھرم دھما دھرم ۔۔۔

بتا وہ راستہ کہاں ہے جس سے پھر

جنوں کے خواب،

یا خرد کے خواب،

یا سکوں کے خواب

لوٹ آئیں گے

بتا وہ راستہ کہاں؟

ن م راشد

کشاکش

شبِ دو شینہ کے آثار کہیں بھی تو نہیں،

تیری آنکھوں میں، نہ ہونٹوں پہ، نہ رخساروں پر،

اڑ گئی اوس کی مانند ہر انگڑائی بھی!

اور ترا دل تو بس اک حجلہ ءِ تاریکی ہے،

جس میں کام آ نہیں سکتی مری بینائی بھی!

یہ تجسس مجھے کیوں ہے کہ سحر کے ہنگام

کون اٹھا ترے آغوش سے سرمست جوانی لے کر:

کیا وہ اس شہر کا سب سے بڑا سوداگر تھا؟

(تیرے پاؤں میں ہے زنجیر طلائی جس کی)

یا فرنگی کا گرانڈیل سپاہی تھا کوئی؟

(جن سے یہ شہر ابلتا ہوا ناسور بنا جاتا ہے)

یا کوئی دوست، شب و روز کی محنت کا شریک؟

(میرے ہی شوق نے ترغیب دلائی ہو جیسے!)

یہ تجسس مجھے کیوں ہے آخر،

جبکہ خود میرے لیے دور نہ تھا، دور نہیں،

کہ میں چاہوں تو ترے جسم کے خم خانوں کا محرم بن جاؤں؟

جس کی قسمت میں کوئی موجِ تبسم بھی نہ ہو،

قہقہوں کا اُسے ذخّار سمندر مل جائے،

مبتلا کیوں نہ وہ اوہام کے اس دام میں ہو،

کہ وہی ایک وہی ہے تری ہستی پہ محیط،

اور تُو عہدِ گزشتہ کی طرح

کارواں ہائے تمنا کی گزرگاہ نہیں!

شبِ دوشینہ کے آثار کہیں بھی تو نہیں،

تیری آنکھوں میں، نہ ہونٹوں پہ، نہ رخساروں پر،

اور نمودار بھی ہو جائیں تو کیا،

آگہی ہو بھی، تو حاصل نہیں کچھ اس کے سوا

کہ غمِ عشق چراغِ تہِ داماں ہو جائے،

زندگی اور پریشاں ہو جائے!

ن م راشد

ویران کشید گاہیں

مَری کی ویراں کشید گاہوں میں

جو شیشہ و جام ودستِ ساقی کی منزلوں سے

گزر کے جب بھی بڑھا ہے آگے

تو اُس کے اکثر غموں سے اُجڑے ہوئے دماغوں

کے تیرہ گوشے

اَنا کی شمعوں کی روشنی سے جھلک اٹھے ہیں!

میں اس فتیلے کے اس سرے پر،

کھڑا ہوں، مجذوب کی نظر سے

مَری کی ویراں کشید گاہوں میں جھانکتا ہوں!

میں کامگاری کے انتہائی سرور سے کانپنے لگا ہوں

جہان بھر کے عظیم سیاح دیر تک یہ خبر نہ لائے

کہ نیل،

جو بے شمار صدیوں سے،

مصر کے خشک ریگزاروں کو،

رنگ و نغمہ سے بھر رہا تھا

کہاں سے ہوتی تھی اس کی تقدیر کی روپہلی سحر ہویدا؟

میں آج ایسے ہی نیل کی وسعتوں

کی دہلیز پر کھڑا ہوں!

کھنڈر جو صبحِ ازل کی مانند

ایستادہ ہیں،

اِس یقیں سے،

کہ ابتدا ہی اگر ہیولائے انتہا ہے

تو انتہا بھی کبھی وہی نقطہ بن گئی ہے،

جہاں سے سالک، اوّلیں بار جادہ پیما!

کھنڈر جو صبحِ ازل کی مانند دیکھتے ہیں،

یہ دیکھ کر مضمحل نہیں ہیں،

کہ اُن کے آغوش کے فتیلے کی روشنی

سرد پڑ چکی ہے

وہ اس فتیلے کی

سرکشی کو بھی جانتے ہیں!

ن م راشد

وہی کشفِ ذات کی آرزو

مرا دل گرو، مری جاں گرو!

چلا آ کہ ہے مرا در کھلا

تو مرا نصیب ہے راہرو!

یہ ہوا، یہ برق، یہ رعد و ابر، یہ تیرگی

رہِ انتظار کی نارسی

مرے جان و دل پہ ہیں تو بتو

مرے میہماں ، مرے راہرو!

اے گریز پیا، تو سرابِ دشتِ خلا نہ بن

وہ نوا نہ بن جو فریبِ راہگزار ہو

وہ فسونِ ارض و سما نہ بن

جسے دل گرفتوں سے عار ہو!

جو تجھے بلاتی ہے پے بہ پے

وہ صدا جلاجلِ جاں کی ہے

وہ صدا مرورِ زماں کی ہے!

کسے اس صدا سے فرار ہو؟

مرا دل گرو، مری جاں گرو

تری کُن مکُن، تری رَو مرَو

مجھے بارِ جاں،

کہ میں حرف جس کی رواں ہے تو

تو کلام ہے، میں تری زباں

تو وہ شمع ہے کہ میں جس کی لو!

کسی نقش کار کا اِک نفس ۔۔۔

کئی صورتیں جو سدا سے تشنہ ءِ رنگ تھیں

ہوئیں وصل معنی سے بارور

کسی بت تراش کی اِک نگہ ۔۔۔

کئی سنگ اذیتِ یاس و مرگ

سے بچ گئے

ہوئے سمتِ راہ سے باخبر!

چلا آ کہ میری ندا میں بھی

وہی رویتِ ازلی کہ ہے

جسے یاد غایتِ رنگ و بُو

جسے یاد رازِ مئے و سبو

جسے یاد وعدہ ءِ تار و پو!

چلا آ کہ میری ندا میں بھی

اسی کشفِ ذات کی آرزو!

ن م راشد

وہ حرفِ تنہا

ہمارے اعضا جو آسماں کی طرف دعا کے لیے اٹھے ہیں

(تم آسماں کی طرف نہ دیکھو!)

مقامِ نازک پہ ضربِ کاری سے جاں بچانے کا ہے وسیلہ

کہ اپنی محرومیوں سے چھپنے کا ایک حیلہ؟

بزرگ و برتر خدا کبھی تو (بہشت برحق)

ہمیں خدا سے نجات دے گا

کہ ہم ہیں اس سر زمیں پہ جیسے وہ حرفِ تنہا،

(مگر وہ ایسا جہاں نہ ہو گا) خموش و گویا

جو آرزوئے وصالِ معنی میں جی رہا ہو

جو حرف و معنی کی یک دلی کو ترس گیا ہو!

ہمیں معرّی کے خواب دے دو

(کہ سب کو بخشیں بقدرِ ذوقِ نگہ تبسّم)

ہمیں معرّی کی روح کا اضطراب دے دو

(جہاں گناہوں کے حوصلے سے ملے تقدّس کے دکھ کا مرہم)

کہ اُس کی بے نور و تار آنکھیں

درونِ آدم کی تیرہ راتوں

کو چھیدتی تھیں

اُسی جہاں میں فراقِ جاں کاہِ حرف و معنی

کو دیکھتی تھیں

بہشت اس کے لیے وہ معصوم سادہ لوحوں کی عافیت تھا

جہاں وہ ننگے بدن پہ جابر کے تازیانوں سے بچ کے

راہِ فرار پائیں

وہ کفشِ پا تھا، کہ جس سے غربت کی ریگِ بریاں

سے روزِ فرصت قرار پائیں

کہ صُلبِ آدم کی، رحمِ حوّا کی عزلتوں میں

نہایت انتظار پائیں!

(بہشت صفرِ عظیم، لیکن ہمیں وہ گم گشتہ ہندسے ہیں

بغیر جن کے کوئی مساوات کیا بنے گی؟

وصالِ معنی سے حرف کی بات کیا بنے گی؟)

ہم اس زمیں پر ازل سے پیرانہ سر ہیں، مانا

مگر ابھی تک ہیں دل توانا

اور اپنی ژولیدہ کاریوں کے طفیل و دانا

ہمیں معرّی کے خواب دے دو

(بہشت میں بھی نشاط، یک رنگ ہو تو، غم ہے

ہو ایک سا جامِ شہد سب کے لیے تو سم ہے)

کہ ہم ابھی تک ہیں اس جہاں میں وہ حرفِ تنہا

(بہشت رکھ لو، ہمیں خود اپنا جواب دے دو!)

جسے تمنّاے وصلِ معنا ۔۔۔۔۔

ن م راشد

وادیِ پنہاں

وقت کے دریا میں اٹھی تھی ابھی پہلی ہی لہر

چند انسانوں نے لی اک وادیِ پنہاں کی راہ

مل گئی اُن کو وہاں

آغوشِ راحت میں پناہ

کر لیا تعمیر اک موسیقی و عشرت کا شہر،

مشرق و مغرب کے پار

زندگی اور موت کی فرسودہ شہ راہوں سے دور

جس جگہ سے آسماں کا قافلہ لیتا ہے نور

جس جگہ ہر صبح کو ملتا ہے ایمائے ظہور

اور بُنے جاتے ہیں راتوں کے لیے خوابوں کے جال

سیکھتی ہے جس جگہ پرواز حور

اور فرشتوں کو جہاں ملتا ہے آہنگِ سُرور

غم نصیب اہریمنوں کو گریہ و آہ و فغاں!

کاش بتلا دے کوئی

مجھ کو بھی اس وادیِ پنہاں کی راہ

مجھ کو اب تک جستجو ہے

زندگی کے تازہ جولاں گاہ کی

کیسی بیزاری سی ہے

زندگی کے کہنہ آہنگِ مسلسل سے مجھے

سر زمینِ زیست کی افسردہ محفل سے مجھے

دیکھ لے اک بار کاش

اس جہاں کا منظر رنگیں نگاہ

جس جگہ ہے قہقہوں کا اک درخشندہ وفور

جس جگہ سے آسماں کا قافلہ لیتا ہے نُور

جس کی رفعت دیکھ کر خود ہمتِ یزداں ہے چُور

جس جگہ ہے وقت اک تازہ سُرور

زندگی کا پیرہن ہے تار تار!

جس جگہ اہریمنوں کا بھی نہیں کچھ اختیار

مشرق و مغرب کے پار!

ن م راشد

نیاآدمی

نوا اور سازِ طرب۔۔۔۔

یہ سازِ طرب میں نوائے تمنا

نوائے تمنا پہ کوچے کے لڑکوں کے پتھر

یہ پتھرکی بارش پہ سازِ طرب کا سرور

نئی آگ، دل

دلِ ناتواں کی نئی آگ سب کاسرور

نئی آگ سب سے مقدس ہمیں

ہم اس آگ کوکس کی آنکھوں کے معبد

پہ جا کر چڑھائیں؟

نئی آگ کے کس کومعنی سجھائیں؟

نئی آگ ہرچشم و لب کاسرور

نئی آگ سب کا سرور

روایت، جنازہ

خدااپنے سورج کی چھتری کے نیچے کھڑا

نالہ کرتاہوا

جنازے کے ہمراہ چلتے ہوئے

گھر کے بے کار لوگوں کا شور و شغب

ریاکارلوگوں کو شور و شغب کا سرور

نئے آدمی کا نزول

اوراس پر غضب کا سرور

نئے آدمی کی اس آمد سے پہلے

مہینوں کے بھوکے کئی بھیڑیوں کی فغاں

(زمانے کی بارش میں بھیگے ہوئے بھیڑیے!)

نئے لفظ ومعنی کی بڑھتی ہوئی یک دلی

اور اس پر پرانے نئے بھیڑیوں کی فغاں

فغاں کا غضب اورغضب کا سرور

نئے آدمی کا ادب

ادب اورنیا آدمی

نئے آدمی کو طلب کا سرور

نئے آدمی کے گماں بھی یقیں

گماں جن کاپایاں نہیں۔۔۔۔

گمانوں میں دانش

برہنہ درختوں میں بادِنسیم

برہنہ درختوں کے دل چیرتی۔۔۔۔

نئے آدمی کا ادب

اورنئے آدمی کو ادب کا سرور

ن م راشد

نمرود کی خدائی

یہ قدسیوں کی زمیں

جہاں فلسفی نے دیکھا تھا، اپنے خوابِ سحر گہی میں،

ہوائے تازہ و کشتِ شاداب و چشمہ ءِ جانفروز کی آرزو کا پرتو!

یہیں مسافر پہنچ کے اب سوچنے لگا ہے:

وہ خواب کا بوس تو نہیں تھا؟

___وہ خواب کا بوس تو نہیں تھا؟

اے فلسفہ گو،

کہاں وہ رویائے آسمانی!

کہاں یہ نمرود کی خدائی!

تو جال بنتا رہا ہے، جن کے شکستہ تاروں سے اپنے موہوم فلسفے کے

ہم اُس یقیں سے، ہم اُس عمل سے، ہم اُس محبت سے،

آج مایوس ہو چکے ہیں!

کوئی یہ کس سے کہے کہ آخر

گواہ کس عدلِ بے بہا کے تھے عہدِ تاتار کے خرابے؟

عجم، وہ مرزِ طلسم و رنگ و خیال و نغمہ

عرب، وہ اقلیمِ شیر و شہد و شراب و خرما

فقط نوا سنج تھے در و بام کے زیاں کے،

جو اُن پہ گزری تھی

اُس سے بدتر دنوں کے ہم صید ناتواں ہیں!

کوئی یہ کس سے کہے:

در و بام،

آہن و چوب و سنگ و سیماں کے

حُسنِ پیوند کا فسوں تھے

بکھر گیا وہ فسوں تو کیا غم؟

اور ایسے پیوند سے امیدِ وفا کسے تھی!

شکستِ مینا و جام برحق،

شکستِ رنگ عذارِ محبوب بھی گوارا

مگر____یہاں تو کھنڈر دلوں کے،

(____یہ نوعِ انساں کی

کہکشاں سے بلند و برتر طلب کے اُجڑے ہوئے مدائن____)

شکستِ آہنگ حرف و معنی کے نوحہ گر ہیں!

ن م راشد

نارسائی

درختوں کی شاخوں کو اتنی خبر ہے

کہ ان کی جڑیں کھوکھلی ہو چلی ہیں،

مگر ان میں ہر شاخ بزدل ہے

یا مبتلا خود فریبی میں شاید

کہ ان کرم خردہ جڑوں سے

وہ اپنے لیے تازہ نم ڈھونڈتی ہے!

میں مہمان خانے کے سالون میں

ایک صوفے میں چپ چاپ دبکا ہوا تھا،

گرانی کے باعث وہاں دختران عجم تو نہ تھیں

ہاں کوئی بیس گز پر

فقط ایک چہرہ تھا جس کے

خد وخال کی چاشنی ارمنی تھی!

زمستاں کے دن تھے،

لگاتار ہوتی رہی تھی سر شام سے برفباری

دریچے کے باہر سپیدے کے انبار سے لگ گئے تھے

مگر برف کا رقص سیمیں تھا جاری،

وہ اپنے لباس حریری میں

پاؤں میں گلھاے نسریں کے زنگولے باندھے،

بدستور ایک بے صدا، سہل انگار سی تال پر ناچتی جا رہی تھی!

مگر رات ہوتے ہی چاروں طرف بے کراں خامشی چھا گئی تھی

خیاباں کے دو رویہ سرو و صنوبر کی شاخوں پہ

یخ کے گلولے، پرندے سے بن کر لٹکنے لگے تھے،

زمیں ان کے بکھرے ہوےبال و پر سے

کفّ آلود سا ساحل بنتی چلی جا رہی تھی!

میں اک گرم خانے کے پہلو میں صوفے پہ تنہا پڑا سوچتا تھا،

بخاری میں افسردہ ہوتے ہوے رقص کو گھورتا تھا،

اجازت ہے میں بھی ذرا سینک لوں ہاتھ اپنے

(زباں فارسی تھی تکلم کی شیرینیاں اصفہانی! )

تمہیں شوق شطرنج سے ہے ؟

(اٹھا لایا میں اپنے کمرے سے شطرنج جا کر )

بچو فیل____

اسپ سیاہ کا توخانہ نہیں یہِ___

بچاؤ وزیر____

اور لو یہ پیادے کی شہ لوِ_

اور اک اور شہ!

اور یہ آخری مات !

بس ناز تھا کیا اسی شاطری پر ؟

میں اچھا کھلاڑی نہیں ہوں

مگر آن بھر کی خجالت سے میں ہنس دیا تھا !

ابھی اور کھیلو گے ؟

لو اور بازیِ__

یہ اک اور بازی ۔۔۔

یونہی کھیلتے کھیلتے صبح ہونے لگی تھی !

موذن کی آواز اس شہر میں زیر لب ہو چکی ہے

سحر پھر بھی ہونے لگی تھی !!

وہ دروازے جو سال ہاسال سے بند تھے

آج وا ہو گئے تھے !

میں کرتا رہا ہند و ایراں کی باتیں :

اور اب عہد حاضر کے ضحاک سے۔۔۔

رستگاری کا رستہ یہی ہے

کہ ہم ایک ہو جایں ،ہم ایشیائی !

وہ زنجیر ، جس کے سرے سے بندھے تھے کبھی ہم

وہ اب سست پڑنے لگی ہے ،

تو آو کہ ہے وقت کا یہ تقاضا

کہ ہم ایک ہو جایں____ہم ایشیائی !

میں روسی حکایات کے ہرزہ گو نو جوانوں کے مانند یہ بے محل وعظ کرتا رہا تھا !

اسے صبحدم اس کی منزل پہ جب چھوڑ کر آ رہا تھا ،

وہ کہنے لگی :

اب سفینے پہ کوئی بھروسہ کرے کیا

سفینہ ہی جب ہو پر و بال طوفاں؟

یہاں بھی وہاں بھی وہی آسماں ہے ،

مگر اس زمیں سے خدایا رہائی

خدایا دہائی!!

ٹھکاناہے لوطی گری،رہزنی کا !

یہاں زندگی کی جڑیں کھوکھلی ہو چکی ہیں ،

فقط شاخساریں

ابھی اپنی افتاد کے حشر سے ہیں گریزاں !

یہ بچپن میں ،میں نے پڑھی تھی کہانی

کہا ساحرہ نے :کہ اےشہزادے

رہ جستجو میں

اگر اس لق و دق بیاباں میں

دیکھا پلٹ کر،

تو پتھر کا بت بن کے رہ جاے گا تو!

جہاں سب نگاہیں ہو ماضی کی جانب

وہاں راہرو ہیں فقط عازم نارسائی!

تو دن بھر یہی سوچ تھی

کیا ہمارے نصیبے میں افتاد ہے

کوئی رفعت نہیں ؟

کوئی منزل نہیں ہے ؟

ن م راشد

نئے گناہوں کے خوشے

ندی کنارے درخت

بلّور بن چکے ہیں

درخت، جن کی طناب شاخوں

پہ مرگِ ناگاہ کی صدا

رینگتی رہی تھی

درخت بلّور کی صلیبیں

لہو میں لتھڑے ہوئے زمانوں

میں گڑ گئی ہیں!

ہَوا جو فرماں کی پیروی میں

کبھی انھیں گدگدانے آئے

یہ اپنی افسوں زدہ نگاہوں سے دیکھتے ہیں

مگر ہوا کے لیے کبھی سر نہیں جھکاتے!

کہو، یہ سچ ہے

کہ اب بھی بارش میں اِن کے آنسو

سکوت بن کر پکارتے ہیں؟

نکلتے سورج کو دیکھتے ہی

یہ ستر اپنا، عیوب اپنے سنوارتے ہیں؟

نہیں ۔۔

روایت کی لوریوں نے

کلام کی روشنی کو اِن پر

سلا دیا ہے!

کہو یہ سچ ہے

کہ ان کی آنکھوں

کی بجلیاں اب بھی گھومتی ہیں؟

غروب ہوتے افق کے شہروں کے بام و در کو

سراب ہونٹوں سے چومتی ہیں

نہیں ۔۔

کہ الہام کی سخاوت کے ہاتھ

اِن تک رسا نہیں ہیں!

کہو، یہ سچ ہے

ابھی پرندے رسول بن کر

دلوں پر اِن کے

اِک آنے والے وصال کے خواب اتارتے ہیں؟

خیال جو دور دور سے وہ سمیٹ لائے

تمام اِن پر نثارتے ہیں؟

نہیں ۔۔

پرندوں کے ۔۔ اِن رسولوں کے ۔۔۔

خواب اپنے،

خیال اپنے،

غضب کے ٹھنڈے الاؤ میں جان

دے چکے ہیں!

تو شاید ایسا بھی ہو کِسی دن۔۔

کہ ہر نئے راہرو سے پہلے

نئی طلب کے فشار اِن کے

سمور جسموں کو چاک کر دیں!

تو شاید ایسا بھی ہو کسی دن ۔۔

نئے گناہوں کے تازہ خوشوں

سے کھیتیوں کے مشام بھر دیں

وہ خوشے جن سے تمام چہرے

طلوع ہوتے ہیں ہر تہجد کی لو سے پہلے

وہ خوشے جن سے تمام بوسے

نسیم کی دل نوازیِ نو بنو سے پہلے!

ن م راشد

میں کیا کہہ رہا تھا؟

میں تنہائی میں کر رہا تھا

پرندوں سے باتیں

میں یہ کہہ رہا تھا

پرندو، نئی حمد گاؤ

کہ وہ بول جو اک زمانے میں

بھونروں کی بانہوں پہ اڑتے ہوئے

باغ کے آخری موسموں تک پہنچتے تھے

اب راستوں میں جھلسنے لگے ہیں

نئی حمد گاؤ!

پرندے، لگاتار، لیکن

پرندے ہمیشہ سے اپنے ہی عاشق

سراسر وہی آسماں چیختے تھے!

میں یہ کہہ رہا تھا

گناہ گار دل!

کون جانے کہ کس ہاتھ نے

ہمیں اپنی یادوں کی لمبی قطاروں

کی زنجیر میں

کب سے بے دست و پا کر دیا ہے؟

وہ ماضی، کبھی ہانپتے تھے

جو گھوڑوں کے مانند

اب نافراموش گاڑی کے صحنوں میں

لنگڑا رہے ہیں!

میں یہ کہہ رہا تھا

مرے عشق کے سامنے

جنتری کے وقت

اب زیادہ نہ پلٹو

کہ یہ آئنوں کے طلسموں کی مانند

تاریخ کو بارہا رٹ چکی ہے،

مگر دل کا تنہا پیمبر

کبھی اپنی تکرار کا ہمہمہ گائے

ممکن نہیں

کبھی اپنی ہی گونج بن جائے

ممکن نہیں

وہی میرے دل کا پیمبر

کہ جس نے دیا ایسا روشن کیا

کہ راتوں کی نیندیں اچٹنے لگیں

وہ خود کو الٹ کر پلٹ کر پرکھنے لگیں

میں یہ کہہ رہا تھا

سناتی ہیں جب شہر میں بلیاں

اپنی جفتی کی معصوم باتیں

تو جنگل کے ہاتھی

(مقدس درختوں کے ریشوں میں الجھے ہوئے)

کیوں اگلتے ہین دن رات

آیات کی فربہی

کہ ان بلیوں کے گناہ گار، معصوم دل

سہم جائیں؟

میں یہ کہہ رہا تھا

درختو، ہواؤں کو تم کھیل جانو

تو جانو

مگر ہم نہیں جانتے بوڑھے سبزے

کی دعوت کو جاتے ہوئے

ذہن کی رہگزاروں میں کیسے

نئے دن کی دزدیدہ آہٹ کبھی سن سکیں گے؟

نہیں صرف پتھر ہی بے غم ہے پتھر کی ناتشنگی پر!

درختو، ہوا کتنی تیزی سے گزری

تمہارے برہنہ بدن سے

کہ اس میں روایات

سرگوشیاں کر رہی تھیں

درختو، بھلا کس لیے نام اپنا

کئی بار دہرا رہے ہو

یہ شیشم، یہ شم شی، یہ شی شی ی ی ی ۔۔۔

مگر تم کبھی شی ی ی ر ۔۔۔ بھی کہہ سکو گے؟

میں یہ کہہ رہا تھا

ن م راشد

میں اسے واقف الفت نہ کروں

سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ

میں ابھی اس کو شناسائے محبت نہ کروں

روح کو اس کی اسیرِغمِالفت نہ کروں

اس کو رسوا نہ کروں، وقفِ مصیبت نہ کروں

سوچتا ہوں کہ ابھی رنج سے آزاد ہے وہ

واقفِ درد نہیں، خوگرِآلام نہیں

سحر عیش میں اس کی اثرِشام نہیں

زندگی اس کے لیے زہر بھرا جام نہیں!

سوچتا ہوں کہ محبّت ہے جوانی کی خزاں

اس نے دیکھا نہیں دنیا میں بہاروں کے سوا

نکہت و نور سے لبریز نظاروں کے سوا

سبزہ زاروں کے سوا اور ستاروں کے سوا

سوچتا ھوں کہ غمِدل نہ سناؤں اس کو

سامنے اس کے کبھی راز کو عریاں نہ کرو

خلش دل سے اسے دست و گریباں نہ کروں

اس کے جذبات کو میں شعلہ بداماں نہ کروں

سوچتا ھوں کہ جلا دے گی محبّت اس کو

وہ محبت کی بھلا تاب کہاں لائے گی

خود تو وہ آتش جذبات میں جل جائے گی

اور دنیا کو اس انجام پہ تڑپائے گی

سوچتا ھوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ

میں اسے واقف الفت نہ کروںِ_____

ن م راشد

میں

میں وہ اقلیم کہ محروم چلی آتی ہے

آج تک دشت نوردوں سے جہاں گردوں سے

سالہا سال میں گر ہم نے رسائی پائی

کسی شے تک تو فقط اس کے نواحی دیکھے

اس کے پوشیدہ مناظر کے حواشی دیکھے

یا کوئی سلسلہ ءِ عکسِ رواں تھا اِس کا

ایک روئے گزراں تھا اس کا

کوہِ احساس پر آلام کے اشجار بلند

جن میں محرومئ دیرینہ سے شادابی ہے

برگ و باراں کا وہ پامال امیدیں جن سے

پرسی افشاں کی طرح خواہشیں آویزاں تھیں

کبھی ارمانوں کے آوارہ سراسیمہ طیّور

کسی نادیدہ شکاری کی صدا سے ڈر کر

ان کی شاخوں میں اماں پاتے ہیں سستاتے ہیں

اور پھر شوق کے صحراؤں کو اڑ جاتے ہیں

شوق کے گرم بیاباں کہ ہیں بے آب و گیاہ

ولولے جن میں بگولوں کی طرح گھومتے ہیں

اونگھتے ذرّوں کے تپتے ہوئے لب چومتے ہیں

دُور اس وادی سے اک منزلِ بے نام بھی ہے

کروٹیں لیتے ہیں جس میں انہی صحراؤں کے خواب

ان کہستانوں کی روحیں ۔۔ سرو رو بستہ ہیں

اولّیں نقش ہیں آوارہ پرندوں کے جہاں

خواہشوں اور امیدوں کے جنین

اور بگولوں کے ہیولے

کسی نقّاش کی حسرت میں ملول

میں وہ اقلیم کہ محروم چلی آتی ہے

آج تک دشت نوردوں سے جہاں گردوں سے

کون اس دشتِ گریزاں کی خبر لاتا ہے!

ن م راشد

میرے بھی ہیں کچھ خواب

اے عشق ازل گیر و ابد تاب، میرے بھی ہیں کچھ خواب

میرے بھی ہیں کچھ خواب!

اس دور سے، اس دور کے سوکھے ہوئے دریاؤں سے،

پھیلے ہوئے صحراؤں سے، اور شہروں کے ویرانوں سے

ویرانہ گروں سے میں حزیں اور اداس!

اے عشق ازل گیر و ابد تاب

میرے بھی ہیں کچھ خواب!

اے عشق ازل گیر و ابد تاب، میرے بھی ہیں کچھ خواب

میرے بھی ہیں کچھ خواب

وہ خواب کہ اسرار نہیں جن کے ہمیں آج بھی معلوم

وہ خواب جو آسودگیء مرتبہ و جاہ سے،

آلودگیء گرد سر راہ سے معصوم!

جو زیست کی بے ہودہ کشاکش سے بھی ہوتے نہیں معدوم

خود زیست کا مفہوم!

اے عشق ازل گیر و ابد تاب،

اے کاہن دانشور و عالی گہر و پیر

تو نے ہی بتائی ہمیں ہر خواب کی تعبیر

تو نے ہی سجھائی غم دلگیر کی تسخیر

ٹوٹی ترے ہاتھوں ہی سے ہر خوف کی زنجیر

اے عشق ازل گیر و ابد تاب، میرے بھی ہیں کچھ خواب

میرے بھی ہیں کچھ خواب!

اے عشق ازل گیر و ابد تاب،

کچھ خواب کہ مدفون ہیں اجداد کے خود ساختہ اسمار کے نیچے

اجڑے ہوئے مذہب کے بنا ریختہ اوہام کی دیوار کے نیچے

شیراز کے مجذوب تنک جام کے افکار کے نیچے

تہذیب نگوں سار کے آلام کے انبار کے نیچے!

کچھ خواب ہیں آزاد مگر بڑھتے ھوئے نور سے مرعوب

نے حوصلہءخوب ہے، نے ہمت نا خوب

گر ذات سے بڑھ کر نہیں کچھ بھی انھیں محبوب

ہیں آپ ہی اس ذات کے جاروب

ذات سے محجوب!

کچھ خواب ہیں جو گردش آلات سے جویندہء تمکین

ہے جن کے لیے بندگی قاضی حاجات سے اس دہر کی تزئین

کچھ جن کے لیے غم کی مساوات سے انسان کی تامین

کچھ خواب کہ جن کا ہوس جور ہے آئین

دنیا ہے نہ دین!

کچھ خواب ہیں پروردہء انوار، مگر ان کی سحر گم

جس آگ سے اٹھتا ہے محبّت کا خمیر، اس کے شرر گم

ہے کل کی خبر ان کو مگر جز کی خبر گم

یہ خواب ہیں وہ جن کے لیے مرتبہ دیدہءتر ہیچ

دل ہیچ ہے، سر اتنے برابر ہیں کہ سر ہیچ

عرض ہنر ہیچ!

اے عشق ازل گیر و ابد تاب

یہ خواب مرے خواب نہیں ہیں کہ مرے خواب ہیں کچھ اور

کچھ اور مرے خواب ہیں، کچھ اور مرا دور

خوابوں کے نئے دور میں، نے مور و ملخ، نے اسد و ثور

نے لذّت تسلیم کسی میں نہ کسی کو ہوس جور

سب کے نئے طور!

اے عشق ازل گیر و ابد تاب،

میرے بھی ہیں کچھ خواب!

ہر خواب کی سوگند!

ہر چند کہ وہ خواب ہیں سر بستہ و روبند

سینے میں‌چھپائے ہوئے گویائی دو شیزہء لب خند

ہر خواب میں اجسام سے افکار کا، مفہوم سے گفتار کا پیوند

عشّاق کے لب ہائے ازل تشنہ کی پیوستگیء شوق کے مانند

(اے لمحہ خورسند!)

اے عشق ازل گیر و ابد تاب، میرے بھی ہیں کچھ خواب

وہ خواب ہیں آزادی کامل کے نئے خواب

ہر سعئی جگر دوز کے حاصل نے نئے خواب

آدم کی ولادت کے نئے جشن پہ لہراتے جلاجل کے نئے خواب

اس خاک کی سطوت کی منازل کے نئے خواب

اے عشق ازل گیر و ابد تاب

میرے بھی ہیں کچھ خواب

میرے بھی ہیں کچھ خواب!

ن م راشد

مِیر ہو، مرزا ہو، میرا جی ہو

نارسا ہاتھ کی نمناکی ہے

ایک ہی چیخ ہے فرقت کے بیابانوں میں

ایک ہی طولِ المناکی ہے

ایک ہی رُوح جو بے حال ہے زندانوں میں

ایک ہی قید تمنا کی ہے

عہدِ رفتہ کے بہت خواب تمنا میں ہیں

اور کچھ واہمے آئندہ کے

پھر بھی اندیشہ وہ آئنہ ہے جس میں گویا

مِیر ہو، مرزا ہو، میرا جی ہو

کچھ نہیں دیکھتے ہیں

محورِ عشق کی خود مست حقیقت کے سوا

اپنے ہی بیم و رجا اپنی ہی صورت کے سوا

اپنے رنگ، اپنے بدن، اپنے ہی قامت کے سوا

اپنی تنہائی جانکاہ کی دہشت کے سوا!

دل خراشی و جگر چاکی و خوں افشانی

ہوں تو ناکام پہ ہوتے ہیں مجھے کام بہت

مدعا محوِ تماشائے شکستِ دل ہے

آئنہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے

چاند کے آنے پہ سائے آئے

سائے ہلتے ہوئے، گھُلتے ہوئے، کچھ بھوت سے بن جاتے ہیں۔۔۔۔

(مِیر ہو، مرزا ہو، میرا جی ہو

اپنی ہی ذات کی غربال میں چھَن جاتے ہیں!)

دل خراشیدہ ہو خوں دادہ رہے

آئنہ خانے کے ریزوں پہ ہم استادہ رہے

چاند کے آنے پہ سائے بہت آئے بھی

ہم بہت سایوں سے گھبرائے بھی

مِیر ہو، مرزا ہو، میرا جی ہو

آج جاں اِک نئے ہنگامے میں در آئی ہے

ماہِ بے سایہ کی دارائی ہے

یاد وہ عشرتِ خوں ناب کِسے؟

فرصتِ خواب کسے؟

ن م راشد

مہمان

میں اس شہر مہمان اترا

تو سینے میں غم اور آنکھوں میں آنسو کے طوفاں

جدائی سے ہر چیز، حسنِ ازل تک وہ پردہ

کہ جس کے ورا حیرتِ خیرگی تھی!

جدائی سے تو بھی حزیں

اور ترا زخم مجھ سے بھی گہرا تھا خوں دادہ تر تھا!

میں مبہم سی امید تو ساتھ لایا تھا لیکن

تو اک شاخسارِ شکستہ کے مانند بے آرزو!

۔۔۔ وہ بے آرزوئی کا گہرا خلا جس کو میں نے

کبھی ذہنِ بے مایہ جانا

کبھی خوف و نفرت کے عفریت کا سایہ جانا!

تجھے یاد محبوب کا نرم راحت سے لبریز بالش

تجھے یاد کمرے کے شام و پگا، جن میں تو نے

ستاروں کے خوشوں کی آواز دیکھی

بنفشے کے رنگوں کو تُو نے چکھا

اور بہشتی پرندوں کے نغموں کو چھوتی رہی

تجھے اس کی پرواز کی آخری رات بھی یاد تھی۔۔

لذت و غم سے بے خواب لمحے

جو صدیوں سے بھرپور، صدیوں کی

پہنائی بنتے چلے جا رہے تھے!

ادھر میں مہجور، افسردہ، تنہا

وہ شبنم کا قطرہ

جو صحرا میں نازل ہو لیکن

سمندر سے ملنے کا رویا لیے ہو!

میں افسردہ، مہجور، تنہا

کہ محبوب سے بُعد کو نور کے سالہا سال سے

ناپتا آ رہا تھا،

مگر نور کے سال اِک خطِّ پیمانہ بھی تو

نہیں بن سکے تھے!

نئی سر زمیں کے نئی اجنبی،

تجھے میں نے اک خواب پیما کی آنکھوں سے دیکھا

کہ اس روز تجھ کو عیاں دیکھنا

ایسا الحاد ہوتا

کہ جس کی سزا جسم و جہاں سہہ نہ سکتے!

مگر میرے دل نے کہا

اجنبی شہر کی خلوتِ بے نہایت میں تُو بھی

کسی روز بن کر رہے گی

ستم ہائے تازہ کی خواہش کا پرتو!

زخود رفتگی سے، اشاروں سے، ترغیب وا سے

تجھے میں بلاتا رہا تھا

تُو آہستہ، خاموش بڑھنے لگی تھی

کہ یادیں ابھی تک ترے دل میں یوں گونجتی تھیں

کہ ہم گوش بر لب سہی،

سُن نہ سکتے تھے اک دوسرے کی صدائیں

مگر جب ملے ہم تو ایسے ملے

وہ تری خود نگہداریاں کام آئیں

نہ میرا تذبذب مجھے راس آیا

ہم ایسے ملے جیسے صدیوں کے مہجور

آدم کے جشنِ ولادت کے مہجور

باہم ابد میں ملیں گے!

ن م راشد

مکافات

رہی ہے حضرتِ یزداں سے دوستی میری

رہا ہے زہد سے یارانہ استوار مرا

گزر گئی ہے تقدس میں زندگی میری

دل اہرمن سے رہا ہے ستیزہ کار مرا

کبھی پہ روح نمایاں نہ ہو سکی میری

رہا ہے اپنی امنگوں پہ اختیار مرا

دبائے رکھا ہے سینے میں اپنی آہوں کو

وہیں دیا ہے شب و روز پیچ و تاب انھیں

زبانِ شوق بنایا نہیں نگاہوں کو

کیا نہیں کبھی وحشت میں بے نقاب انھیں

خیال ہی میں کیا پرورش گناہوں کو

کبھی کیا نہ جوانی سے بہرہ یاب انھیں

یہ مل رہی ہے مرے ضبط کی سزا مجھ کو

کہ ایک زہر سے لبریز ہے شباب مرا

اذیتوں سے بھری ہے ہر ا یک بیداری

مہیب و روح ستاں ہے ہر ایک بیداری

مہیب و روح ستاں ہے ہر ایک خواب مرا

الجھ رہی ہیں نوائیں مرے سرودوں کی

نشاطِ ضبط سے بے تاب ہے رباب مرا

مگر یہ ضبط مرے قہقہوں کا دشمن تھا

پیامِ مرگ جوانی تھا اجتناب مرا

لو آگئی ہیں وہ بن کر مہیب تصویریں

وہ آرزوئیں کہ جن کا کیا تھا خوں میں نے

لو آگئے ہیں وہی پیروانِ اہریمن

کیا تھا جن کو سیاست سے سرنگوں میں نے

کبھی نہ جان پہ دیکھا تھا یہ عذابِ الیم

کبھی نہیں اے مرے بختِ واژگوں میں نے

مگر یہ جتنی اذیت بھی دیں مجھے کم ہے

کیا ہے روح کو اپنی بہت زبوں میں نے

اسے نہ ہونے دیا میں نے ہم نوائے شباب

نہ اس پہ چلنے دیا شوق کا فسوں میں نے

اے کاش چھپ کے کہیں اک گناہ کر لیتا

حلاوتوں سے جوانی کو اپنی بھر لیتا

گناہ ایک بھی اب تک کیا نہ کیوں میں نے؟

ن م راشد

من وسلویٰ

خدائے برتر،

یہ دار یوشِ بزرگ کی سر زمیں،

یہ نو شیروانِ عادل کی داد گاہیں،

تصوف و حکمت و ادب کے نگار خانے،

یہ کیوں سیہ پوست دشمنوں کے وجود سے

آج پھر اُبلتے ہوئے سے ناسور بن رہے ہیں؟

ہم اِس کے مجرم نہیں ہیں، جانِ عجم نہیں ہیں،

وہ پہلا انگریز

جس نے ہندوستان کے ساحل پہ

لا کے رکھی تھی جنسِ سوداگری

یہ اس کا گناہ ہے

جو تیرے وطن کی

زمین گل پوش کو

ہم اپنے سیاہ قدموں سے روندتے ہیں!

یہ شہر اپنا وطن نہیں ہے،

مگر فرنگی کی رہزنی نے

اسی سے ناچار ہم کو وابستہ کر دیا ہے،

ہم اِس کی تہذیب کی بلندی کی چھپکلی بن کے رہ گئے ہیں،

وہ راہزن جو یہ سوچتا ہے:

کہ ایشیا ہے کوئی عقیم و امیر بیوہ

جو اپنی دولت کی بے پناہی سے مبتلا اک فشار میں ہے،

اور اُس کا آغوشِ آرزو مند وا مرے انتظار میں ہے،

اور ایشیائی،

قدیم خواجہ سراؤں کی اک نژادِ کاہل،

اجل کی راہوں پہ تیز گامی سے جارہے ہیں____

مگر یہ ہندی

گرسنہ و پا برہنہ ہندی

جو سالکِ راہ ہیں

مگر راہ و رسمِ منزل سے بے خبر ہیں،

گھروں کو ویران کر کے،

لاکھوں صعوبتیں سہہ کے

اور اپنا لہو بہا کر

اگر کبھی سوچتے ہیں کچھ تو یہی،

کہ شاید انہی کے بازو

نجات دلوا سکیں گے مشرق کو

غیر کے بے پناہ بپھرے ہوئے ستم سے___

یہ سوچتے ہیں:

یہ حادثہ ہی کہ جس نے پھینکا ہے

لا کے ان کو ترے وطن میں

وہ آنچ بن جائے،

جس سے پھُنک جائے،

وہ جراثیم کا اکھاڑہ،

جہاں سے ہر بار جنگ کی بوئے تند اُٹھتی ہے

اور دنیا میں پھیلتی ہے!___

میں جانتا ہوں

مرے بہت سے رفیق

اپنی اداس، بیکار زندگی کے

دراز و تاریک فاصلوں میں

کبھی کبھی بھیڑیوں کے مانند

آ نکلتے ہیں، را ہگزاروں پہ

جستجو میں کسی کے دو ساقِ صندلیں کی!

کبھی دریچوں کی اوٹ میں

ناتواں پتنگوں کی پھڑپھڑاہٹ پہ

ہوش سے بے نیاز ہو کر وہ ٹوٹتے ہیں؛

وہ دستِ سائل

جو سامنے اُن کے پھیلتا ہے

اس آرزو میں

کہ اُن کی بخشش سے

پارہ ءِ نان، من و سلویٰ کا روپ بھر لے،

وہی کبھی اپنی نازکی سے

وہ رہ سجھاتا ہے

جس کی منزل پہ شوق کی تشنگی نہیں ہے!

تو اِن مناظر کو دیکھتی ہے!

تو سوچتی ہے:

____یہ سنگدل، اپنی بزدلی سے

فرنگیوں کی محبتِ ناروا کی زنجیر میں بندھے ہیں

اِنہی کے دم سے یہ شہر ابلتا ہوا سا ناسور بن رہا ہے____!

محبتِ ناروا نہیں ہے،

بس ایک زنجیر،

ایک ہی آہنی کمندِ عظیم

پھیلی ہوئی ہے،

مشرق کے اک کنارے سے دوسرے کنارے تک،

مرے وطن سے ترے وطن تک،

بس ایک ہی عنکبوت کا جال ہے کہ جس میں

ہم ایشیائی اسیر ہو کر تڑپ رہے ہیں!

مغول کی صبح خوں فشاں سے

فرنگ کی شامِ جاں ستاں تک!

تڑپ رہے ہیں

بس ایک ہی دردِ لا دوا میں،

اور اپنے آلامِ جاں گزا کے

اس اشتراکِ گراں بہانے بھی

ہم کو اک دوسرے سے اب تک

قریب ہونے نہیں دیا ہے!

ن م راشد

مُسکراہٹیں

مُسکراہٹیں ہیں وہ کرم کہ جس کا ریشہ

استوارِ ازل میں ہے

ابد بھی جس کے ایک ایک پل میں ہے

کبھی ہیں سہوِ گفتگو

کبھی اشارہ ءِ خرد، کبھی شرارہ ءِ جنوں

کبھی ہیں رازِ اندروں

وہ مسکراہٹیں بھی ہیں کہ پارہ ہاے ناں بنیں

وہ مسکراہٹیں بھی ہیں کہ برگِ زر فشاں بنیں

کبود رنگ، زرد رنگ، نیل گُوں

کبھی ہیں پیشہ ور کا التہابِ خوں

کبھی ہیں رس، کبھی ہیں مَے

کبھی ہیں کارگر کا رنگِ خَے

کبھی ہیں سنگِ رہ

کبھی ہیں راہ کا نشاں

کبھی ہیں پشتِ پا پہ چور بن کے گامزن

کبھی فریبِ جستجو،

کبھی یہی فراقِ لب، کبھی یہی وصالِ جاں

مگر ہمیشہ سے وہی کرم

کہ جس کا ریشہ استوار ازل میں ہے!

ن م راشد

مریل گدھے

تلاش۔۔۔ کہنہ، گرسنہ پیکر

برہنہ، آوارہ، رہگزاروں میں پھرنے والی

تلاش۔۔۔۔ مریل گدھے کے مانند

کس دریچے سے آ لگی ہے؟

غموں کے برفان میں بھٹک کر

تلاش زخمی ہے

رات کے دل پر اُس کی دستک

بہت ہی بے جان پڑ رہی ہے

(گدھے بہت ہیں کہ جن کی آنکھوں

میں برف کے گالے لرز رہے ہیں)

ہوا کے ہاتھوں میں تازیانہ

تمام عشقوں کو راستے سے

(تلاش کو بھی)

بھگا رہی ہے

(تلاش کو عشق کہہ رہی ہے!)

یہ رات ایسی ہے

حرف جس میں لبوں سے نکلیں

تو برف بن کر،

وہ برف پارے کہ جن کے اندر

ہزار پتھرائی، ہجر راتیں،

ہزار پتھرائی ہجر راتوں کے بکھرے پنجر

دبے ہوئے ہوں۔۔۔۔۔۔

تلاش کیا کہہ رہی ہے؟

(دیکھو، مری کہانی میں رات کے تین بچ چکے ہیں

اگر میں بے وزن ہو چکی ہوں۔۔۔۔

اگر میں مریل گدھا ہوں

مجھ کو معاف کر دو۔۔۔۔)

تلاش ہی وہ ازل سے بوڑھا گدھا نہیں ہے

دھکیل کر جس کو برف گالے

گھروں کے دیوار و در کے نیچے

لِٹا رہے ہیں۔۔۔۔۔

گدھے بہت ہیں جہاں میں: (ماضی سے آنے والے

جہاز کا انتظار مثلاً ۔۔۔۔۔۔۔)

(اور ایسے مثلاً میں ثائے ساکن!)

یہ اجتماعی حکایتیں، ایّتیں، کشاکش،

یہ داڑھیوں کا، یہ گیسوؤں کا ہجوم مثلاً۔۔۔۔

یہ الوؤں کی، گدھوں کی عفت پہ نکتہ چینی۔۔۔۔۔

یہ بے سرے راگ ناقدوں کے۔۔۔۔۔۔

یہ بے یقینی۔۔۔۔۔

یہ ننگی رانیں، یہ عشق بازی کی دھوم مثلاً۔۔۔۔۔

تمام مریل گدھے ہیں۔۔۔۔

(مریل گدھے نہیں کیا؟)

دریچہ کھولو

کہ برف کی لے

نئے توانا گدھوں کی آواز

ساتھ لائے

تمہاری روحوں کے چیتھڑوں کو سفید کر دے!

ن م راشد

مری مور جاں

مری مور جاں،

مورِ کم مایہ جاں،

رات بھر، زیرِ دیوار، دیوار کے پاؤں میں

رینگتی، سانپ لہریں بناتی رہی تھی؛

مگر صبح ہونے سے پہلے

انہوں نے جو دروازہ کھولا

تو میں مردہ پایا گیا ۔۔

[مرے خواب زندہ بچے تھے!]

مجھے آنسوؤں کے کرم سے ہمیشہ عداوت رہی ہے

تو میں نے یہ پوچھا: عزیزو!

تمہیں اس کا خدشہ نہیں

کہ میرے زیاں سے، وہ آہنگِ حرف و معانی

نمودار ہو گا، مری مور جاں جس کی خاطر

سدا رینگتی، سانپ لہریں بناتی رہی ہے؟

تمہیں اس کا خدشہ نہیں،

کہ یہ خواب بھی،

جو مری موت پر تہ نشیں رہ گئے ہیں،

جنہیں تم ہزاروں برس تک

چھپاتے پھرو گے اساطیر کے روزنوں میں

محبت کے کافور کو چیر کر

عقیدت کی روئی کے تودوں سے ناگہ نکل کر

عجائب گھروں میں، ہزاروں برس بعد کے

زائروں کے لیے راحتِ جاں بنیں گے،

تمہیں اس کا خدشہ نہیں ہے۔۔۔۔؟

ہنسے، جیسے یہ بات میں نے

انہی کے دلوں سے چُرا لی!

وہ کہنے لگے: ہاں یہ خدشہ تو ہے،

آؤ، اس مرنے والے کو پھر سے جلا دیں

[مگر اس کے خوابوں کو نابود کر دیں !]

اسے رینگنے دیں

اسے سالہا سال تک رینگنے دیں

اور آئندہ نسلوں کی جانیں

غمِ آگہی سے بچا لیں!

ن م راشد

مری محبت جواں رہے گی

مثالِ خورشید و ماہ و انجم مری محبت جواں رہے گی

عروسِ فطرت کے حسنِ شاداب کی طرح جاوداں رہے گی

شعاعِ امید بن کے ہر وقت روح پر ضو فشاں رہے گی

شگفتہ و شادماں کرے گی، شگفتہ و شادماں رہے گی

مری محبت جواں رہے گی

کیا ہے جب سے غمِ محبت نے دیدہ ءِ التفات پیدا

نئے سے کیا ہوئی ہے گویا مرے لیے کائنات پیدا

ہوئی ہے میرے فسردہ پیکر میں آرزوئے حیات پیدا

یہ آرزو اب رگوں میں میری شراب بن کر رواں رہے گی

مری محبت جواں رہے گی!

مجھے محبت نے ذوقِ مثلِ رنگِ سحر دیا ہے

زمانہ بھر کی لطافتوں سے مری جوانی کو بھر دیا ہے

مرے گلستاں کو آشنائے بہارِ جاوید کر دیا ہے

مرے گلستاں میں رنگ و نکہت کی نزہتِ جاوداں رہے گی

مری محبت جواں رہے گی!

ن م راشد

مجھے وداع کر

مجھے وداع کر

اے میری ذات، مجھے وداع کر

وہ لوگ کیا کہیں گے، میری ذات،

لوگ جو ہزار سال سے

مرے کلام کو ترس گئے؟

مجھے وداع کر،

میں تیرے ساتھ

اپنے آپ کے سیاہ غار میں

بہت پناہ لے چُکا

میں اپنے ہاتھ پاؤں

دل کی آگ میں تپا چکا!

مجھے وداع کر

کہ آب و گِل کے آنسوؤں

کی بے صدائی سُن سکوں

حیات و مرگ کا سلامِ روستائی سن سکوں!

مجھے وداع کر

بہت ہی دیرِ______ دیر جیسی دیر ہو گئی ہے

کہ اب گھڑی میں بیسوی صدی کی رات بج چُکی ہے

شجر حجر وہ جانور وہ طائرانِ خستہ پر

ہزار سال سے جو نیچے ہال میں زمین پر

مکالمے میں جمع ہیں

وہ کیا کہیں گے؟ میں خداؤں کی طرحِ____

ازل کے بے وفاؤں کی طرح

پھر اپنے عہدِ ہمدمی سے پھر گیا؟

مجھے وداع کر، اے میری ذات

تو اپنے روزنوں کے پاس آکے دیکھ لے

کہ ذہنِ ناتمام کی مساحتوں میں پھر

ہر اس کی خزاں کے برگِ خشک یوں بکھر گئے

کہ جیسے شہرِ ہست میں

یہ نیستی کی گرد کی پکار ہوںِ___

لہو کی دلدلوں میں

حادثوں کے زمہریر اُتر گئے!

تو اپنے روزنوں کے پاس آکے دیکھ لے

کہ مشرقی افق پہ عارفوں کے خوابِ___

خوابِ قہوہ رنگ میںِ____

امید کا گزر نہیں

کہ مغربی افق پہ مرگِ رنگ و نور پر

کِسی کی آنکھ تر نہیں!

مجھے وداع کر

مگر نہ اپنے زینوں سے اُتر

کہ زینے جل رہے ہیں بے ہشی کی آگ میںِ___

مجھے وداع کر، مگر نہ سانس لے

کہ رہبرانِ نو

تری صدا کے سہم سے دبک نہ جائیں

کہ تُو سدا رسالتوں کا بار اُن پہ ڈالتی رہی

یہ بار اُن کا ہول ہے!

وہ دیکھ، روشنی کے دوسری طرف

خیالِ___ بھاگتے ہوئے

تمام اپنے آپ ہی کو چاٹتے ہوئے!

جہاں زمانہ تیز تیز گامزن

وہیں یہ سب زمانہ باز

اپنے کھیل میں مگن

جہاں یہ بام و دَر لپک رہے ہیں

بارشوں کے سمت

آرزو کی تشنگی لیے

وہیں گماں کے فاصلے ہیں راہزن!

مجھے وداع کر

کہ شہر کی فصیل کے تمام در ہیں وا ابھی

کہیں وہ لوگ سو نہ جائیں

بوریوں میں ریت کی طرحِ____

مجھے اے میرے ذات،

اپنے آپ سے نکل کے جانے دے

کہ اس زباں بریدہ کی پکارِ___ اِس کی ہاو ہُوِ__

گلی گلی سنائی دے

کہ شہرِ نو کے لوگ جانتے ہیں

(کاسہء گرسنگی لیے)

کہ اُن کے آب و نان کی جھلک ہے کون؟

مَیں اُن کے تشنہ باغچوں میں

اپنے وقت کے دُھلائے ہاتھ سے

نئے درخت اگاؤں گا

میَں اُن کے سیم و زر سےِ___ اُن کے جسم و جاں سےِ___

کولتار کی تہیں ہٹاؤں گا

تمام سنگ پارہ ہائے برف

اُن کے آستاں سے مَیں اٹھاؤں گا

انہی سے شہرِ نو کے راستے تمام بند ہیںِ___

مجھے وداع کر،

کہ اپنے آپ میں

مَیں اتنے خواب جی چکا

کہ حوصلہ نہیں

مَیں اتنی بار اپنے زخم آپ سی چُکا

کہ حوصلہ نہیںِ____

ن م راشد

مارِ سیاہ

سرِشام ہم یاسمن سے ملے تھے

وہ بت کی طرح بے زباں اور افسردہ،

اِک کہنہ و خستہ گھر میں،

ہمیں لے کے داخل ہوئی تھی!

کسی پیرہ زن نے ہمارا وہاں

شمعِ لرزاں لیے خیر مقدم کیا تھا،

مَے کم بہا اور خیام سے

میر ی اور دوستوں کی مدارات کی تھی!

مگر یاسمن کی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں

وہ بالیں پہ زلفِ سیہ میں

سپیدے کے داغوں کو مجھ سے چھپاتی رہی تھی؛

وہ پھر ہم سے مہمان خانے میں ملتی رہی تھی،

شکر اور قہوے کے ملفوفِ ارزاں

جو بازار میں انتہائی گراں تھے

وہ ہر بار ہم سے بصد معذرت لے کے جاتی رہی تھی!

خیاباں میں وہ مسکرا کر گزرتی،

تماشا گھروں اور تفریح گاہوں کی خلوت کو جلوت بناتی رہی تھی

ہم اس لطفِ آساں ربودہ پہ نازاں رہے تھے!

مگر کل سحر وہ دریچے کے نیچے

جہاں سیب کے اک شجر کے گلابی شگوفے

ابھی کھل رہے تھے

رکی اور کہنے لگی:

آج کے بعد تم یاسمن کو نہیں پا سکو گے

کہ مارِ سیہ بن کے اک اجنبی نے اُسے ڈس لیا ہے!

میں خود اجنبی ہوں

مگر سن کے یوں دم بخود ہو گیا تھا،

کہ جیسے مجھی کو وہ مارِ سیہ ڈس گیا ہو!

میں اُٹھا، خیاباں میں نکلا

اور اک کہنہ مسجد کی دیوار سے لگ کے

آنسو بہاتا رہا!

ن م راشد

گناہ اور محبت

گناہ:

گناہ کے تند و تیز شعلوں سے روح میری بھڑک رہی تھی

ہوس کی سنسان وادیوں میں مری جوانی بھٹک رہی تھی

مری جوانی کے دن گزرتے تھے وحشت آلود عشرتوں میں

مری جوانی کے میکدوں میں گناہ کی مَے چھلک رہی تھی

مرے حریمِ گناہ میں عشق دیوتا کا گزر نہیں تھا

مرے فریبِ وفا کے صحرا میں حورِ عصمت بھٹک رہی تھی

مجھے خسِ ناتواں کے مانند ذوقِ عصیاں بہا رہا تھا

گناہ کی موجِ فتنہ ساماں اُٹھا اُٹھا کر پٹک رہی تھی

شباب کے اوّلیں دنوں میں تباہ و افسردہ ہو چکے تھے

مرے گلستاں کے پھول، جن سے فضائے طفلی مہک رہی تھی

غرض جوانی میں اہرمن کے طرب کا سامان بن گیا مَیں

گنہ کی آلائشوں میں لتھڑا ہوا اک انسان بن گیا میں

محبت:

اور اب کہ تیری محبتِ سرمدی کا بادہ گسار ہوں میں

ہوس پرستی کی لذتِ بے ثبات سے شرمسار ہوں میں

مری بہیمانہ خواہشوں نے فرار کی راہ لی ہے دل سے

اور اُن کے بدلے اک آرزوئے سلیم سے ہمکنار ہوں میں

دلیلِ راہِ وفا بنی ہیں ضیائے الفت کی پاک کرنیں

پھر اپنے فردوسِ گمشدہ کی تلاش میں رہ سپار ہوں میں

ہوا ہوں بیدار کانپ کر اک مہیب خوابوں کے سلسلے سے

اور اب نمودِ سحر کی خاطر ستم کشِ انتظار ہوں میں

بہارِ تقدیسِ جاوداں کی مجھے پھر اک بار آرزو ہے

پھر ایک پاکیزہ زندگی کے لیے بہت بے قرار ہوں میں

مجھے محبت نے معصیت کے جہنموں سے بچا لیا ہے

مجھے جوانی کی تیرہ و تار پستیوں سے اٹھا لیا ہے

ن م راشد

گناہ

آج پھر آ ہی گیا

آج پھر روح پہ وہ چھا ہی گیا

دی مرے گھر پہ شکست آ کے مجھے!

ہوش آیا تو میں دہلیز پہ افتادہ تھا

خاک آلودہ و افسردہ و غمگین و نزار

پارہ پارہ تھے مری روح کے تار

آج وہ آ ہی گیا

روزنِ در سے لرزتے ہوئے دیکھا میں نے

خرم و شاد سرِ راہ اُسے جاتے ہوئے

سالہا سال سے مسدود تھا یارانہ مرا

اپنے ہی بادہ سے لبریز تھا پیمانہ مرا

اس کے لَوٹ آنے کا امکان نہ تھا

اس کے ملنے کا بھی ارمان نہ تھا

پھر بھی وہ آ ہی گیا

کون جانے کہ وہ شیطان نہ تھا

بے بسی میرے خداوند کی تھی!

ن م راشد

گماں کا ممکن ۔۔۔ جو تُو ہے میں ہوں

کریم سورج،

جو ٹھنڈے پتھر کو اپنی گولائی دے رہا ہے

جو اپنی ہمواری دے رہا ہے ۔۔۔۔۔

(وہ ٹھنڈا پتھر جو میرے مانند

بھورے سبزوں میں

دور ریگ و ہوا کی یادوں میں لوٹتا ہے)

جو بہتے پانی کو اپنی دریا دلی کی

سرشاری دے رہا ہے

۔۔۔ وہی مجھے جانتا نہیں

مگر مجھی کو یہ وہم شاید

کہ آپ اپنا ثبوت اپنا جواب ہوں میں!

مجھے وہ پہچانتا نہیں ہے

کہ میری دھیمی صدا

زمانے کی جھیل کے دوسرے کنارے سے آ رہی ہے

یہ جھیل وہ ہے کہ جس کے اوپر

ہزاروں انساں

افق کے متوازی چل رہے ہیں

افق کے متوازی چلنے والوں کو پار لاتی ہیں

وقت لہریں ۔۔۔۔

جنہیں تمنا، مگر، سماوی خرام کی ہو

انہی کو پاتال زمزموں کی صدا سناتی ہے

وقت لہریں

انہیں ڈبوتی ہیں وقت لہریں!

تمام ملاح اس صدا سے سدا ہراساں، سدا گریزاں

کہ جھیل میں اِک عمود کا چور چھپ کے بیٹھا ہے

اس کے گیسو افق کی چھت سے لٹک رہے ہیں

پکارتا ہے : اب آؤ، آؤ!

ازل سے میں منتظر تمہارا۔۔۔۔

میں گنبدوں کے تمام رازوں کو جانتا ہوں

درخت، مینار، برج، زینے مرے ہی ساتھی

مرے ہی متوازی چل رہے ہیں

میں ہر ہوائی جہاز کا آخری بسیرا

سمندروں پر جہاز رانوں کا میں کنارا

اب آؤ، آؤ!

تمہارے جیسے کئی فسانوں کو میں نے اُن کے

ابد کے آغوش میں اتارا۔

تمام ملاح اس کی آواز سے گریزاں

افق کی شاہراہِ مبتذل پر تمام سہمے ہوئے خراماں۔۔۔۔

مگر سماوی خرام والے

جو پست و بالا کے آستاں پر جمے ہوئے ہیں

عمود کے اس طناب ہی سے اتر رہے ہیں

اسی کو تھامے ہوئے بلندی پہ چڑھ رہے ہیں!

اسی طرح میں بھی ساتھ اَن کے اتر گیا ہوں

اور ایسے ساحل پر آ لگا ہوں

جہاں خدا کے نشانِ پا نے پناہ لی ہے

جہاں خدا کی ضعیف آنکھیں

ابھی سلامت بچی ہوئی ہیں

یہی سماوی خرام میرا نصیب نکلا

یہی سماوی خرام جو میری آرزو تھا ۔۔۔۔

مگر نجانے

وہ راستہ کیوں چنا تھا میں نے

کہ جس پہ خود سے وصال تک کا گماں نہیں ہے؟

وہ راستہ کیوں چنا تھا میں نے

جو رُک گیا ہے دلوں کے ابہام کے کنارے

وہی کنارا کہ جس کے آگے گماں کا ممکن

جو تُو ہے میں ہوں!

مگر یہ سچ ہے،

میں تجھ کو پانے کی (خود کو پانے کی) آرزو میں

نکل پڑا تھا

اُس ایک ممکن کی جستجو میں

جو تُو ہے میں ہوں

میں ایسے چہرے کو ڈھونڈتا تھا

جو تُو ہے میں ہوں

میں ایسی تصویر کے تعاقب میں گھومتا تھا

جو تُو ہے میں ہوں!

میں اس تعاقب میں

کتنے آغاز گن چکا ہوں

(میں اس سے ڈرتا ہوں جو یہ کہتا

ہے مجھ کو اب کوئی ڈر نہیں ہے)

میں اس تعاقب میں کتنی گلیوں سے،

کتنے چوکوں سے،

کتنے گونگے مجسموں سے ، گزر گیا ہوں

میں اِس تعاقب میں کتنے باغوں سے،

کتنی اندھی شراب راتوں سے

کتنی بانہوں سے،

کتنی چاہت کے کتنے بپھرے سمندروں سے

گزر گیا ہوں

میں کتنی ہوش و عمل کی شمعوں سے،

کتنے ایماں کے گنبدوں سے

گرز گیا ہوں

میں اِس تعاقب میں کتنے آغاز کتنے انجام گن چکا ہوں ۔۔۔

اب اس تعاقب میں کوئی در ہے

نہ کوئی آتا ہوا زمانہ

ہر ایک منزل جو رہ گئی ہے

فقط گزرتا ہوا زمانہ

تمام رستے، تمام بوجھے سوال، بے وزن ہو چکے ہیں

جواب، تاریخ روپ دھارے

بس اپنی تکرار کر رہے ہیں ۔۔۔

جواب ہم ہیں ۔۔۔ جواب ہم ہیں۔۔۔۔

ہمیں یقیں ہے جواب ہم ہیں ۔۔۔۔

یقیں کو کیسے یقیں سے دہرا رہے ہیں کیسے!

مگر وہ سب آپ اپنی ضد ہیں

تمام، جیسے گماں کا ممکن

جو تُو ہے میں ہوں !

تمام کُندے (تو جانتی ہے)

جو سطحِ دریا پہ ساتھ دریا کی تیرتے ہیں

یہ جانتے ہیں یہ حادثہ ہے،

کہ جس سے اِن کو،

(کسی کو) کوئی مفر نہیں ہے

تمام کُندے جو سطحِ دریا پہ تیرتے ہیں،

نہنگ بننا ۔۔ یہ اُن کی تقدیر میں نہیں ہے

(نہنگ کی ابتدا میں ہے اِک نہنگ شامل

نہنگ کا دل نہنگ کا دل!)

نہ اُن کی تقدیر میں ہے پھر سے درخت بننا

(درخت کی ابتدا میں ہے اک درخت شامل

درخت کا دل درخت کا دل!)

تمام کُندوں کے سامنے بند واپسی کی

تمام راہیں

وہ سطحِ دریا پہ جبر سے تیرتے ہیں

اب ان کا انجام گھاٹ ہیں جو

سدا سے آغوش وا کیے ہیں

اب اِن کا انجام وہ سفینے

ابھی نہیں جو سفینہ گر کے قیاس میں بھی

اب ان کا انجام

ایسے اوراق جن پہ حرفِ سیہ چھپے گا

اب اِن کا انجام وہ کتابیں۔۔۔

کہ جن کے قاری نہیں، نہ ہوں گے

اب اِن کا انجام ایسے صورت گروں کے پردے

ابھی نہیں جن کے کوئی چہرے

کہ اُن پہ آنسو کے رنگ اتریں،

اور ان میں آیندہ

اُن کے رویا کے نقش بھر دے!

غریب کُندوں کے سامنے بند واپسی کی

تمام راہیں

بقائے موہوم کے جو رستے کھلے ہیں اب تک

ہے اُن کے آگے گماں کا ممکن ۔۔۔۔

گماں کا ممکن، جو تُو ہے میں ہوں !

جو تُو ہے میں ہوں

ن م راشد

گزرگاہ

وقت کے پابند ہاتھ

راہوں کا غمگیں جواب

سنتے رہے،

سبزے کے تشنہ سراب

رات کادیوانہ خواب

تکتے رہے،

جیسے وہ جاسوس ہوں

جن کاہدف

آنکھ سے اوجھل کوئی

آفتاب!

وعدے کی سردی کی رات

(وعدے کی بے مہررات)

کیسی ہوائیں چلیں

دیدہ ودل نے مرے

کیسے طمانچے سہے!

کیسے ہر اک چاپ سے

خون پہ ضربیں پڑیں

کیسے رگیں دردکے

راگ سے بوجھل رہیں!

آہ وہ زیبا کلام

کھل اٹھیں

جس کے لیے بارہا

روح کی شب ہائے تار

اورپگھلتے رہے

جس کے لیے

ہجر کی برفوں کے خواب

آہ دہ زیباکلام

دورکاسایہ رہا

اورمیں سوچاکیا

جینے کی خاطر مگر

رینگتے سایوں سے وابستہ رہوں؟

بات کے پل پرکھڑا

پیاس سے خستہ رہوں؟

ن م راشد

گرد باد

ن م راشد

مجموعہ کلام لا انسان

غم کے دَندانے بہت!

گرد باد اِک موج پرّاں، گرد باد اِک ہمہمہ،

گرد باد اِک سایہ ھے،

گرد بادِ غم کے دَندانے بہت!

اس کی اِک آواز، اِک پُھنکار ویرانے بہت!

اس کی آوازوں میں بام و دَر بھی گُم

ریگِ بے مہری سے پُر سینوں کے پیمانے بہت!

شہرِ تنہا اور برہنہ شہر

جن کا کام جاری تھا ابھی،

جن کی صُبحوں میں اَذاں کا نام جاری تھا ابھی،

ایک ھی صُبحِ اَذاں، صُبحِ اجل!

جن کی جولانی کا دورِ جام جاری تھا ابھی،

ھاں اُنہی کی شاہراھوں کا ضمیر

بے صدائی میں اسیر

ھانپتا پھرتا ھے خوُں آلوُد دہلیزوں کے پاس

اُس کی دلجوئی کو دردِ دِل کے کاشانے بہت!

اور تمناؤں کے واماندہ شجر

حیرت آسا خامشی میں تن دہی سے اشک ریز:

گرد بادِ غم کے نقشِ پا کہاں!

اِس کا پائے لنگ ھو اس کا سہارا تابکے؟

اس کو ویرانی کا یارا تابکے؟

اس کے افسانے بہت!

ن م راشد

گداگر

جن گزرگاہوں پہ دیکھا ہے نگاہوں نے لُہو

یاسیہ عورت کی آنکھوں میں یہ سہم

کیا یہ اونچے شہر رہ جائیں گے بس شہروں کا وہم

مَیں گداگر اور مرا دریوزہ فہم!

راہ پیمائی عصا اور عافیت کوشی گدا کا لنگِ پا

آ رہی ہے ساحروں کی، شعبدہ سازوں کی صبح

تیز پا، گرداب آسا، ناچتی، بڑھتی ہوئی

اک نئے سدرہ کے نیچے، اِک نئے انساں کی ہُو

تا بہ کے روکیں گے ہم کو چار سُو؟

کیا کہیں گے اُس نئے انساں سے ہم

ہم تھے کُچھ انساں سے کم؟

رنگ پر کرتے تھے ہم بارانِ سنگ

تھی ہماری ساز و گُل سے، نغمہ و نکہت سے جنگ

آدمی زادے کے سائے سے بھی تنگ؟

ن م راشد

قافلہ بن کر گزر جاتے ہیں سب

قافلہ بن کر گزر جاتے ہیں سب

قصہ ہائے مصر و ہندوستان و ایران و عرب!

رہنے دے اب کھو نہیں باتوں میں وقت،

اب رہنے دے،

آج میں ہوں چند لمحوں کے لیے تیرے قریب،

سارے انسانوں سے بڑھ کر خوش نصیب!

چند لمحوں کے لیے آزاد ہوں

تیرے دل سے اخذ نور و نغمہ کرنے کے لیے

زندگی کی لذتوں سے سینہ بھرنے کے لیے

تیرے پیکر میں جو روحِ زیست ہے شعلہ فشاں

وہ دھڑکتی ہے مقام و وقت کی راہوں سے دور

بیگانہ ءِ مرگ و خزاں!

ایک دن جب تیرا پیکر خاک میں مل جائے گا

زندہ، تابندہ رہے گی اس کی گرمی، اُس کا نور

اپنے عہدِ رفتہ کے جاں سوز نغمے گائے گی

اور انسانوں کا دیوانہ بناتی جائے گی

رہنے دے اب کھو نہیں باتوں میں وقت

اب رہنے دے!

وقت کے اس مختصر لمحے کو دیکھ

تُو اگر چاہے تو یہ بھی جاوداں ہو جائے گا

پھیل کر خود بیکراں ہو جائے گا

مطمئن باتوں سے ہو سکتا ہے کون؟

روح کی سنگین تاریکی کو دھو سکتا ہے کون؟

دیکھ اس جذبات کے نشے کو دیکھ

تیرے سینے میں بھی اک لرزش سی پیدا ہو گئی!

زندگی کی لذتوں سے سینہ بھر لینے بھی دے

مجھ کو اپنی روح کی تکمیل کر لینے بھی دے!

ن م راشد

فطرت اور عہدِ نَو کا انسان (دو سانیٹ)

شام ہونے کو ہے اور تاریکیاں چھانے کو ہیں

آ مرے ننھے، مری جاں، آ مرے شہکار آ!

تجھ پہ صدقے خلد کے نغمات اور انوار آ

آ مرے ننھے! کہ پریاں رات کی آنے کو ہیں

ساری دنیا پر فسوں کا جال پھیلانے کو ہیں

تیری خاطر لا رہی ہیں لوریوں کے ہار آ

دل ترا کب تک نہ ہو گا کھیل سے بیزار آ

جب کھلونے بھی ترے نیندوں میں کھو جانے کو ہیں؟

کھیل میں کانٹوں سے ہے دامانِ صد پارا ترا

کاش تُو جانے کہ سامانِ طرب ارزاں نہیں

کون سی شے ہے جو وجہِ کاہش انساں نہیں

کس لیے رہتا ہے دل شیدائے نظارا ترا؟

آ کہ ہے راحت بھری آغوش وا تیرے لیے؟

آ کہ میری جان ہے غم آشنا تیرے لیے؟

انسان:

جانتا ہوں مادرِ فطرت! کہ میں آوارہ ہوں

طفلِ آوارہ ہوں لیکن سرکش و ناداں نہیں

میری اس آوارگی میں وحشتِ عصیاں نہیں

شوخ ہوں لیکن ابھی معصوم اور بیچارہ ہوں

تجھ کو کیا غم ہے اگر وارفتہ ءِ نظارہ ہوں؟

شکر ہے زندانیِ اہریمن و یزداں نہیں

ان سے بڑھ کر کچھ بھی وجہ ءِ کاہشِ انساں نہیں

میں مگر اُن کے افق سے دور ایک سیارہ ہوں!

شام ہونے کو ہے اور تاریکیاں چھانے کو ہیں

تُو بلاتی ہے مجھے راحت بھری آغوش میں

کھیل لوں تھوڑا سا آتا ہوں، ابھی آتا ہوں میں

اب تو دن کی آخری کرنیں بھی سو جانے کو ہیں

اور کھو جانے کو ہیں وہ بھی کنارِ دوش میں

بہہ چلی ہے روح نیندوں میں مری آتا ہوں میں!

ن م راشد

عہدِ وفا

تُو مرے عشق سے مایوس نہ ہو

کہ مرا عہدِ وفا ہے ابدی!

شمع کے سائے سے دیوار پہ محراب سی ہے

سالہا سال سے بدلا نہیں سائے کا مقام

شمع جلتی ہے تو سائے کو بھی حاصل ہے دوام

سائے کا عہدِ وفا ہے ابدی!

تُو مری شمع ہے، میں سایہ ترا

زندہ جب تک ہوں کہ سینے میں ترے روشنی ہے

کہ مرا عہدِ وفا ہے ابدی!

ایک پتنگا سرِ دیوار چلا جاتا ہے

خوف سے سہما ہوا، خطروں سے گھبرایا ہوا

اور سائے کی لکیروں کو سمجھتا ہے کہ ہیں

سرحدِ مرگ و حیات اس کے لیے!

ہاں یہی حال مرے دل کی تمناؤں کا ہے

پھر بھی تُو عشق سے مایوس نہ ہو

کہ مرا عہدِ وفا ہے ابدی!

زندگی ان کے لیے ریت نہیں، دھوپ نہیں

ریت پر دھوپ میں گر لیٹتے ہیں آ کے نہنگ

قعرِ دریا ہی سے وابستہ ہے پیمان ان کا

ان کو لے آتا ہے ساحل پہ تنوع کا خمار

اور پھر ریت میں اک لذتِ آسودگی ہے!

میں جو سر مست نہنگوں کی طرح

اپنے جذبات کی شوریدہ سری سے مجبور

مضطرب رہتا ہوں مدہوشی و عشرت کے لیے

اور تری سادہ پرستش کی بجائے

مرتا ہوں تیری ہم آغوشی کی لذت کے لیے

میرے جذبات کو تو پھر بھی حقارت سے نہ دیکھ

اور مرے عشق سے مایوس نہ ہو

کہ مرا عہدِ وفا ہے ابدی!

ن م راشد

عہدِ نَو کا انسان

جانتا ہوں مادرِ فطرت! کہ میں آوارہ ہوں

طفلِ آوارہ ہوں لیکن سرکش و ناداں نہیں

میری اس آوارگی میں وحشتِ عصیاں نہیں

شوخ ہوں لیکن ابھی معصوم اور بیچارہ ہوں

تجھ کو کیا غم ہے اگر وارفتہ ءِ نظارہ ہوں؟

شکر ہے زندانیِ اہریمن و یزداں نہیں

ان سے بڑھ کر کچھ بھی وجہِ کاہشِ انساں نہیں

میں مگر اُن کے افق سے دور ایک سیارہ ہوں!

شام ہونے کو ہے اور تاریکیاں چھانے کو ہیں

تُو بلاتی ہے مجھے راحت بھری آغوش میں

کھیل لوں تھوڑا سا آتا ہوں، ابھی آتا ہوں میں

اب تو دن کی آخری کرنیں بھی سو جانے کو ہیں

اور کھو جانے کو ہیں وہ بھی کنارِ دوش میں

بہہ چلی ہے روح نیندوں میں مری آتا ہوں میں!

ن م راشد

ظلمِ رنگ

یہ میں ہوں!

اور یہ میں ہوں!

یہ دو میں‌ ایک سیمِ‌نیلگوں کے ساتھ آویزاں

ہیں شرق وغرب کے مانند،

لیکن مِل نہیں سکتے!

صدائیں رنگ سے نا آشنا

اک تار ان کے درمیاں‌حائل!

مگر وہ ہاتھ جن کا بخت،

مشرق کے جواں سورج کی تابانی

کبھی اِن نرم و نازک، برف پروردہ حسیں باہوں

کو چھو جائیں،

محبّت کی کمیں‌گاہوں کو چھو جائیں

یہ ناممکن! یہ ناممکن!

کہ ظلمِ رنگ کی دیوار ان کے درمیاں حائل!

یہ میں‌ہوں!

انا کے زخم خوں آلودہ، ہر پردے میں،

ہر پوشاک میں‌عریاں،

یہ زخم ایسے ہیں‌جو اشکِ ریا سے سِل نہیں سکتے

کسی سوچے ہوئے حرفِ وفا سے سِل نہیں‌سکتے!

ن م راشد

طوفان اورکرن

شب تم اس قلعے کے ناجشن میں

موجودنہ تھے

(شادرہو!)

کیسی طوفان کی شوریدہ سری تھی، توبہ!

کس طرح پردے کیے چاک

گرائے فانوس

اورہردرزمیں غرّاتارہا!

ڈگمگاتے ہوئے مہمان

ضیافت کی صفوں سے گزرے

پاؤں تک رکھتے نہ تھے

دل کے قالینوں کے

رنگ وخط ومحراب کو

تکتے بھی نہ تھے!

آکے ٹھہری ہے لبِکاسہ ءِ جاں

یادکے جنگلِ افسردہ سے

بچتی ہوئی اک تازہ کرن

پرجھپکتی بھی نہیں

اور۔۔۔اُس آنکھ کوجوکاسہ ءِ جاں میں

وا ہے

ابھی تکتی بھی نہیں۔۔۔۔

(یہی وہ کاسہ ءِ جاں

جس میں جلائی ہیں گُلوں کی شمعیں،

جس میں سورنگ سے کل رات کے مانند

منائی ہیں خدائی راتیں!)

اے کرن،

شکرکہ ہم

ہجر کے زینوں پہ یا

وصل کے آئینوں پہ

جم جاتے نہیں!

اور۔۔۔بیکارہیولاؤں کے ساتھ

بہتی مالاؤں پہ تھم جاتے نہیں

جن میں نادیدہ ملاقات کی سرگوشی ہو

ایسے گوشوں میں بھی ہم جاتے نہیں!

کل تم اس قلعے کے ناجشن میں موجود نہ تھے

اورنہ تم سن ہی سکے

کیسی دوشیزہ وہ دستک تھی

جسے سن نہ سکے

اس کے مژگاں کی لب وچشم کی پیہم دستک!

ایسی دوشیزہ

کہ افلاس کے ناشہروں کی رہنے والی

وہ اترتی ہی گئی

زینوں سے

دیواروں سے

تاحدِّغبار

تم کہ تھے سیرنگاہ اپنے توہّم پہ سوار

اس کی آوازکہیں سن نہ سکے!

اب بھی وہ قلعہ ءِ عرفاں کے دریچے کے تلے

دیتی رہتی ہے دبی پیاس کی دستک شب وروز

اے کرن،

اس کے لیے قطرہ ءِ اشک!

اپنے نادیدہ اجالوں کی پھواروں سے

کوئی قطرہ ءِ اشک!

جس سے دھندلائے بدن

پھر سے نکھر کرنکلیں

خندہ ءِ نور سے بھرکرنکلیں!

ن م راشد

طلسمِ جاوداں

رہنے دے اب کھو نہیں باتوں میں وقت،

اب رہنے دے،

اپنی آنکھوں کے طلسمِ جاوداں میں بہنے دے

میری آنکھوں میں ہے وہ سحرِ عظیم

جو کئی صدیوں سے پیہم زندہ ہے

انتہائے وقت تک پایندہ ہے!

دیکھتی ہے جب کبھی آنکھیں اٹھا کر تو مجھے

قافلہ بن کر گزرتے ہیں نگہ کے سامنے

مصر و ہند و نجد و ایراں کے اساطیرِ قدیم:

کوئی شاہنشاہ تاج و تخت لٹواتا ہوا

دشت و صحرا میں کوئی شہزادہ آوارہ کہیں

سر کوئی جانباز کہساروں سے ٹکراتا ہوا

اپنی محبوبہ کی خاطر جان سے جاتا ہوا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

قافلہ بن کر گزر جاتے ہیں سب

قصہ ہائے مصر و ہندوستان و ایران و عرب!

رہنے دے اب کھو نہیں باتوں میں وقت،

اب رہنے دے،

آج میں ہوں چند لمحوں کے لیے تیرے قریب،

سارے انسانوں سے بڑھ کر خوش نصیب!

چند لمحوں کے لیے آزاد ہوں

تیرے دل سے اخذ نور و نغمہ کرنے کے لیے

زندگی کی لذتوں سے سینہ بھرنے کے لیے؛

تیرے پیکر میں جو روحِ زیست ہے شعلہ فشاں

وہ دھڑکتی ہے مقام و وقت کی راہوں سے دور

بیگانہ ءِ مرگ و خزاں!

ایک دن جب تیرا پیکر خاک میں مل جائے گا

زندہ، تابندہ رہے گی اس کی گرمی، اُس کا نور

اپنے عہدِ رفتہ کے جاں سوز نغمے گائے گی

اور انسانوں کا دیوانہ بناتی جائے گی

رہنے دے اب کھو نہیں باتوں میں وقت

اب رہنے دے!

وقت کے اس مختصر لمحے کو دیکھ

تُو اگر چاہے تو یہ بھی جاوداں ہو جائے گا

پھیل کر خود بیکراں ہو جائے گا

مطمئن باتوں سے ہو سکتا ہے کون؟

روح کی سنگین تاریکی کو دھو سکتا ہے کون؟

دیکھ اس جذبات کے نشے کو دیکھ

تیرے سینے میں بھی اک لرزش سی پیدا ہو گئی!

زندگی کی لذتوں سے سینہ بھر لینے بھی دے

مجھ کو اپنی روح کی تکمیل کر لینے بھی دے!

ن م راشد

طلسمِ ازل

مجھے پھر طلسمِ ازل نے

نئی صبح کے نور میں نیم وا،

شرم آگیں دریچے سے جھانکا!

میں اس شہر میں بھی،

جہاں کوئے و برزن میں بکھرے ہوئے

حُسن و رقص و مَے و نور و نغمہ

اُسی نقشِ صد رنگ کے خط و محراب ہیں، تار و پو ہیں،

کہ صدیوں سے جس کے لیے

نوعِ انساں کا دل، کان، آنکھیں،

سب آوارہ ءِ جستجو ہیں،

میں اس شہر میں تھا پریشان و تنہا!

یہاں زندگی ہے اک آہنگِ تازہ،

مسلسل، مگر پھر بھی تازہ

یہاں زندگی لمحہ لمحہ، نئے، دم بہ دم تیز تر

جوش سے گامزن ہے،

یہاں وہ سکوں، جس کے گہوارہ ءِ نرم و نازک

میں پلتے ہیں ہم ایشیائی

فقط دور ہی دور سے خندہ زن ہے،

مگر میں اسی شہر میں تھا پریشان و غمگین و تنہا!

پریشان و غمگین و تنہا

کہ ہم ایشیائی

جو صدیوں سے ہیں خوابِ تمکیں کے رسیا

یہ کہتے رہے ہیں:

ہمارا لہو زخمِ افرنگ کی مومیائی

ہمارے ہی دم سے جلالِ شہی، فرّہ ءِ کبریائی!

پریشان و غمگین و تنہا

کہ ہم تابکے اپنے اوہامِ کہنہ کے دلبند بن کر،

یونہی عافیت کی پُر اسرار لذت کے آغوش سے

زہرِ تقدیر پیتے رہیں گے

ابھی اور کَے سال دریوزہ گر بن کے جیتے رہیں گے!

اسی سوچ میں تھا کہ مجھ کو

طلسمِ ازل نے نئی صبح کے نور میں نیم وا،

شرم آگیں دریچے سے جھانکاِ___

مگر اس طرح، ایک چشمک میں جیسے

ہمالہ میں الوند کے سینہ ءِ آہنی سے

محبت کا اک بے کراں سیل بہنے لگا ہو

اور اس سیل میں سب ازل اور ابد مل گئے ہوں!

ن م راشد

طلب کے تلے

گُل و یاسمن کل سے نا آشنا،

کل سے بے اعتنا

گُل و یاسمن اپنے جسموں کی ہئیت میں فرد

مگر۔۔ کل سے ناآشنا، کل سے بے اعتنا

کسی مرگِ مبرم کا درد

اُن کے دل میں نہیں!

فقط اپنی تاریخ کے بے سر و پا طلب کے تلے

ہم دبے ہیں!

ہم اپنے وجودوں کی پنہاں تہیں

کھولتے تک نہیں

آرزو بولتے تک نہیں!

یہ تاریخ میری نہیں اور تیری نہیں

یہ تاریخ ہے ازدحامِ رواں

اُسی ازدحامِ رواں کی یہ تاریخ ہے،

یہ وہ چیخ ہے

جس کی تکراراپنے من و تُو میں ہے

وہ تکرار جو اپنی تہذیب کی ہُو میں ہے!

تجھے اس پہ حیرت نہیں

ہم اِس ازدحامِ رواں کے نشانِ قدم پر چلے جا رہے ہیں

بڑھے جا رہے ہیں

کہ ہم ظلمتِ شب میں تنہا

پڑے رہ نہ جائیں۔۔

بڑھے جا رہے ہیں،

نہ جینے کی خاطر

نہ اس سے فزوں زندہ رہنے کی خاطر

بڑھے جا رہے ہیں، کسی عیب سے

رہزنِ مرگ سے بچ نکلنے کی خاطر،

جدائی کی خاطر!

کسی فرد کے خوف سے بڑھ رہے ہیں

جو باطن کے ٹوٹے دریچوں کے پیچھے

شرارت سے ہنستا چلا جا رہا ہے

ن م راشد

شہرِ وجود اور مزار

یہ مزار،

سجدہ گزار جس پہ رہے ہیں ہم

یہ مزارِ تار۔۔۔۔ خبر نہیں

کسی صبحِ نو کا جلال ہے

کہ ہے رات کوئی دبی ہوئی؟

کسی آئنے کو سزا ملی، جو ازل سے

عقدہ ءِ نا کشا کا شکار تھا؟

کسی قہقہے کا مآل ہے

جو دوامِ ذات کی آرزو میں نزار تھا؟

یہ مزار خیرہ نگہ سہی،

یہ مزار، مہر بلب سہی،

جو نسیمِ خندہ چلے کبھی تو وہ در کھلیں

جو ہزار سال سے بند ہیں

وہ رسالتیں جو اسیر ہیں

یہ نوائے خندہ نما سنیں تو اُبل پڑیں!

انہیں کیا کہیں

کہ جو اپنی آنکھ کے سیم و زر

کسی روگ میں، کسی حادثے میں

گنوا چکے؟

انہیں کیا کہیں

کہ جو اپنے ساتھ کوئی کرن

سحرِعدم سے نہ لا سکے؟

مگر ایک وہ

کہ ہزار شمعوں کے سیل میں

کبھی ایک بار جو گم ہوئے

خبر اپنی آپ نہ پا سکے!

کبھی گردِ رہ، کبھی مہر و ماہ پہ سوار تھے

وہ کہانیوں کے جوان۔۔ کیسے گزر گئے!

وہ گزر گئے ہمیں خاکِ بے کسی جان کر

نہ کبھی ہماری صدا سنی

وہ صدا کہ جس کی ہر ایک لے

کبھی شعلہ تھی، کبھی رنگ تھی

کبھی دل ہوئی، کبھی جان بنی!

وہ نمی، وہ خلوتِ ترش بو

جو اجالا ہوتے ہی

قحبہ گاہوں میں آپ پائیں

وہی خامشیِ دراز مو، وہی سائیں سائیں

کہ جو بنک خانوں کے آس پاس

تمام رات ہے رینگتی

وہی اس مزار کی خامشی

جو ہماری ہست پہ حکمراں

جو ہماری بُود پہ خندہ زن!

مگر آرزوئیں،

وہ سائے عہدِ گزشتہ کے،

کبھی واردات کے بال و پر

کبھی آنے والے دنوں کا پرتوِ زندہ تر

وہ ہوائیں ہیں کہ سدا سے

آگ کے رقصِ وحشی و بے زمام میں ہانپتی

کبھی گھر کے سارے شگاف و درز میں چیختی

کبھی چیختی ہیں پلک لگے

کبھی چیختی ہیں سحر گئے!

ابھی سامنے ہے وہ ثانیہ

جسے میرے خوابوں نے

شب کے ناخنِ تیز تر سے بچا لیا

اسی ثانیے میں وہ شیشے پیکر و جاں کے

پھر سے سمیٹ لوں

جو انہی ہواؤں کے زور سے

گرے اور ٹوٹ کے ماہ و سال کے رہ گزر

میں بکھر گئے

کہ نہیں ہیں اپنی بہا میں دیدہ ءِ تر سے کم

جو مدار، حدِّ نظر سے کم!

میں ہوں آرزو کا۔۔۔

امید بن کے جو دشت و در میں

بھٹک گئی۔۔۔۔

میں ہوں تشنگی کا

جو کناتِ آب کا خواب تھی

کہ چھلک گئی ۔۔۔۔

میں کشادگی کا ۔۔۔

جو تنگ نائے نگاہ و دل میں

اتر گئی ۔۔۔۔

میں ہوں یک دلی کا ۔۔

جو بستیوں کی چھتوں پہ

دودِ سیاہ بن کے بکھر گئی ۔۔۔

میں ہوں لحنِ آب کا،

رسمِ باد کا، وردِ خاک کا نغمہ خواں!

یہ بجا کہ ہست ہزار رنگ سے جلوہ گر

مگر اک حقیقتِ آخریں

یہی آستانہ ءِ مرگ ہے!

یہ بجا سہی

کبھی مرگ اپنی نفی بھی ہے

(وہی مرگ سال بہ سال آپ نے جی بھی ہے)

وہی ہولِ جاں کی کمی بھی ہے

یہی وہ نفی تھی کہ جس کے سایے میں

آپ (میرے مراقبے کی طرح)

برہنہ گزر گئے

یہ اسی کمی کی تھی ریل پیل

کہ آپ اپنی گرسنگی کی ندی

کے پار اتر گئے

کبھی آسماں و زمیں پہ (دورِ خزاں میں)

بوئے عبیر و گل کی سخاوتوں کی مثال

آپ بکھر گئے۔۔۔۔

ابھی تک (مرا یہ مشاہدہ ہے)

کہ اس مزار کے آس پاس

عبیر و گل کی لپٹ سے

زائروں، رہروؤں کے نصیب

جیسے دمک اٹھے

تو ہزار نام بس ایک نام کی گونج بن کے

جھلک اٹھے

تو تمام چہروں سے ایک آنکھ

تمام آنکھوں سے اک اشارہ

تمام لمحوں سے ایک لمحہ برس پڑا

تو پھر آنے والے ہزار قرنوں کی شاہراہیں

(جو راہ دیکھتے تھک گئی تھیں)

شرار بن کے چمک اٹھیں!

یہ بجا کہ مرگ ہے اک حقیقتِ آخریں

مگر ایک ایسی نگاہ بھی ہے

جو کسی کنوئیں میں دبی ہوئی

کسی پیرہ زن (کہ ہے مامتا میں رچی ہوئی)

کی طرح ہمیں

ہے ابد کی ساعتِ نا گزیر سے جھانکتی

تو اے زائرو،

کبھی نا وجود کی چوٹیوں سے اتر کے تم

اسی اک نگاہ میں کود جاؤ

نئی زندگی کا شباب پاؤ

نئے ابر و ماہ کے خواب پاؤ!

نہیں مرگ کو (کہ وہ پاک دامن و نیک ہے)

کسی زمزمے کو فسردہ کرنے سے کیا غرض؟

وہ تو زندہ لوگوں کے ہم قدم

وہ تو ان کے ساتھ

شراب و نان کی جستجو میں شریک ہے

وہ نسیم بن کے

گُلوں کے بیم و رجا میں

ان کی ہر آرزو میں شریک ہے

وہ ہماری لذتِ عشق میں،

وہ ہمارے شوقِ وصال میں،

وہ ہماری ہُو میں شریک ہے

کبھی کھیل کود میں ہوں جو ہم

تو ہمارے ساتھ حریف بن کے ہے کھیلتی

کبھی ہارتی کبھی جیتتی۔۔۔۔۔

کسی چوک میں کھڑے سوچتے ہوں

کدھر کو جائیں؟

تو وہ اپنی آنکھیں بچھا کے راہ دکھائے گی۔۔۔

جو کتاب خانے میں جا کے کوئی کتاب اٹھائیں

تو وہ پردہ ہائے حروف ہم سے ہٹائے گی،

وہ ہماری روز کی گفتگو میں شریک ہے!

تو، مرے وجود کے شہر

مجھ کو جگا بھی دو

مری آرزو کے درخت مجھ کو دکھا بھی دو

وہ گلی گلی جو گرا رہے ہیں دو رویہ

کتنے ہزار سال سے برگ و گل ۔۔۔۔

مجھے دیکھنے دو وہی سحر،

وہی دن کا چہرہ ءِ لازوال،

وہ دھوپ

جس سے ہماری جلد سیاہ تاب ازل سے ہے

مجھے اس جنوں کی رہِ خرام پہ لے چلو

نہیں جس کے ہاتھ میں مو قلم

نہیں واسطہ جسے رنگ سے

فقط ایک پارہ ءِ سنگ سے

ہے کمالِ نقش گرِ جنوں!

اے مرے وجود کے شہر

مجھ کو جگا بھی دو!

مرے ساتھ ایک ہجوم ہے

میں جہاں ہوں

زائروں کے ہجوم بھی ساتھ ہیں

کہ ہم آج

معنی و حرف کی شبِ وصلِ نو

کی برات ہیں!

ن م راشد

شہر میں صبح

مجھے فجر آئی ہے شہر میں

مگر آج شہر خموش ہے!

کوئی شہر ہے،

کسی ریگ زار سے جیسے اپنا وصال ہو!

نہ صدائے سگ ہے نہ پائے دزد کی چاپ ہے

نہ عصائے ہمّتِ پاسباں

نہ اذانِ فجر سنائی دے

اب وجد کی یاد، صلائے شہر،

نوائے دل

مرے ھم رکاب ہزار ایسی بلائیں ہیں!

(اے تمام لوگو!

کہ میں جنھیں کبھی جانتا تھا

کہاں ہو تم؟

تمہیں رات سونگھ گئی ہے کیا

کہ ہو دور قیدِ غنیم میں؟

جو نہیں‌ ہیں قیدِ غنیم میں

وہ پکار دیں!)

اسی اک خرابے کے سامنے

میں یہ بارِدوش اتار دوں

مجھے سنگ و خشت بتا رہے ہیں کہ کیا ہوا

مجھے گرد و خاک سنا رہے ہیں وہ داستاں

جو زوالِ جاں کا فسانہ ہے

ابھی بُوئے خوں ہے نسیم میں

تمہیں آن بھر میں‌خدا کی چیخ نے آلیا

وہ خدا کی چیخ

جو ہر صدا سے ہے زندہ تر

کہیں گونج کوئی سنائی دے

کوئی بھولی بھٹکی فغاں ملے،

میں پہنچ گیا ہوں تمہارے بستر خواب تک

کہ یہیں سے گم شدہ راستوں کا نشاں ملے!

ن م راشد

شرابی

آج بھی جی بھر کے پی آیا ہوں میں

دیکھتے ہی تیری آنکھیں شعلہ ساماں ہو گئیں!

شکر کر اے جاں کہ میں

ہوں درِ افرنگ کا ادنیٰ غلام

صدرِ اعظم یعنی دریوزہ گرِ اعظم نہیں،

ورنہ اک جامِ شرابِ ارغواں

کیا بجھا سکتا تھا میرے سینہ ءِ سوزاں کی آگ؟

غم سے مرجاتی نہ تُو

آج پی آتا جو میں

جامِ رنگیں کی بجائے

بے کسوں اور ناتوانوں کا لہو؟

شکر کر اے جاں کہ میں

ہوں درِ افرنگ کا ادنیٰ غلام!

اور بہتر عشق کے قابل نہیں!

ن م راشد

شبابِ گریزاں

مئے تازہ و ناب حاصل نہیں ہے

تو کر لوں گا دُردِ تہ جام پی کر گزارا!

مجھے ایک نورس کلی نے

یہ طعنہ دیا تھا:

تری عمر کا یہ تقاضا ہے

تو ایسے پھولوں کا بھونرا بنے

جن میں دوچار دن کی مہک رہ گئی ہو

یہ سچ ہے وہ تصویر،

جس کے سبھی رنگ دھندلا گئے ہوں

نئے رنگ اُس میں بھرے کون لا کر

نئے رنگ لائے کہاں سے ؟

ترے آسماں کا،

میں اک تازہ وارد ستارا سہی،

جانتا ہوں کہ، اس آسماں پر

بہت چاند، سورج، ستارے ابھر کر

جو اک بار ڈوبے تو ابھرے نہیں ہیں

فراموش گاری کے نیلے افق سے،

اُنہی کی طرح میں بھی

نا تجربہ کار انساں کی ہمت سے آگے بڑھا ہوں،

جو آگے بڑھا ہوں،

تو دل میں ہوس یہ نہیں ہے

کہ اب سے ہزاروں برس بعد کی داستانوں میں

زندہ ہو اک بار پھر نام میرا!

یہ شامِ دلآویز تو اک بہانہ ہے،

اک کوششِ ناتواں ہے

شبابِ گریزاں کو جاتے ہوئے روکنے کی

وگرنہ ہے کافی مجھے ایک پل کا سہارا،

ہوں اک تازہ وارد، مصیبت کا مارا

میں کر لوں گا دردِ تہ جام پی کر گزارا!

ن م راشد

شاعر کا ماضی

یہ شب ہائے گزشتہ کے جنوں انگیز افسانے

یہ آوارہ پریشاں زمزمے سازِ جوانی کے

یہ میری عشرتِ برباد کی بے باک تصویریں

یہ آئینے مرے شوریدہ آغازِ جوانی کے!

یہ اک رنگیں غزل لیلیٰ کی زلفوں کی ستائش میں

یہ تعریفیں سلیمیٰ کی فسوں پرور نگاہوں کی

یہ جذبے سے بھرا اظہار شیریں کی محبت کا

یہ ایک گزری کہانی آنسوؤں کی اور آہوں کی

کہاں ہو او مری لیلیِٰ___کہاں ہو او مری شیریں؟

سلیمیٰ تم بھی تھک کر رہ گئیں راہِ محبت میں؟

مرے عہدِ گزشتہ پر سکوتِ مرگ طاری ہے

مری شمعو، بجھی جاتی ہو کس طوفانِ ظلمت میں؟

مرے شعرو، مرے فردوسِ گم گشتہ کے نظّارو!

ابھی تک ہے دیارِ روح میں ایک روشنی تم سے

کہ میں حسن و محبت پر لٹانے کے لیے تم کو

اڑا لایا تھا جا کر محفلِ ماہتاب و انجم سے!

ن م راشد

شاعرِ درماندہ

زندگی تیرے لیے بسترِ سنجاب و سمور

اور میرے لیے افرنگ کی دریوزہ گری

عافیت کوشئ آبا کے طفیل،

میں ہوں درماندہ و بے چارہ ادیب

خستہء فکرِ معاش!

پارہء نانِ جویں کے لیے محتاج ہیں ہم

میں، مرے دوست، مرے سینکڑوں ارباب وطن

یعنی افرنگ کے گلزاروں کے پھول!

تجھے اک شاعر درماندہ کی امّید نہ تھی

مجھ سے جس روز ستارہ ترا وابستہ ہوا

تو سمجھتی تھی کہ اک روز مرا ذہن رسا

اور مرے علم و ہنر

بحر و بر سے تری زینت کو گہر لائیں گے!

مرے رستے میں جو حائل ہوں مرے تیرہ نصیب

کیوں دعائیں تری بے کار نہ جائیں

تیرے راتوں کے سجود اور نیاز

(اس کا باعث مرا الحاد بھی ہے !)

اے مری شمع شبستانِ وفا،

بھول جا میرے لیے

زندگی خواب کی آسودہ فراموشی ہے!

تجھے معلوم ہے مشرق کا خدا کوئی نہیں

اور اگر ہے، تو سرا پردہء نسیان میں ہے

تو مسرّت ہے مری، تو مری بیداری ہے

مجھے آغوش میں لے

دو انا مل کے جہاں سوز بنیں

اور جس عہد کی ہے تجھ کو دعاؤں میں تلاش

آپ ہی آپ ہویدا ہو جائے!

ن م راشد

شاخِ آہُو

وزیرِ معارف علی کیانی نے

شمشیرِ ایراں کا تازہ مقالہ پڑھا،

اور محسن فرح زاد کی تازہ تصنیف دیکھی،

جو طہران کے سب تماشا گھروں میں

کئی روز سے قہقہوں کے سمندر بہانے لگی تھی

تو وہ سر کھجانے لگا،

اور کہنے لگا:

لو اسے کہہ رہے ہیں،

علی کیانی کی تازہ جنایت!

بھلا کون سا ظلم ڈھایا ہے میں نے

جو بانو رضا بہبانی سے

اسی ہزار اور نو سو ریال

اپنا حق جان کر

راہداری کے بدلے لیے ہیں؟

خدائے توانا و برتر

وزارت ہے وہ دردِ سر

جس کا کوئی مداوا نہیں ہے!

رضا بہبانی ولایت سے

ڈگری طبابت کی لے کر،

جو لوٹے گی

کچھ تو کمائے گی،

پہلے سے بڑھ کر کمائے گی آخر

اور اِس پر یہ ایراں فروشی کے طعنے

یہ کہرام، اے مسخرے روزنامہ نگارو!

یہاں سات بچوں کے تنّور

ہر لحظہ فریاد کرتے ہوئے،

اور خانم کے

گلگونہ و غازہ و کفش و موزہ کے

یہ روز افزوں تقاضے،

ادھر یہ گرانی،

اِدھریہ وزارت کی کرسی

فقط شاخِ آہو!

تو اس پر علی کیانی نے سوچا،

اٹھایا قلم اور لِکھا:

جنابِ مدیرِ شہیر

آپ کی خدمتِ فائقہ کے عوض

دس ہزار اور چھ سو ریال

آپ کو صد ہزار احترامات کے ساتھ

تقدیم کرتا ہے بندہ!

یہ پر کالہ ءِ آتشیں چھوڑ کر

اور مقالہ و تصنیف کی یاد دل سے بھلا کر

لگا جھولنے اپنی کرسی میں آسودہ ہو کر

وزیرِ معارف علی کیانی!

ن م راشد

سومنات

نئے سرے سے غضب کی سج کر

عجوزہ ءِ سومنات نکلی،

مگر ستم پیشہ غزنوی

اپنے حجلہ ءِ خاک میں ہے خنداں____

وہ سوچتا ہے:

بھری جوانی سہاگ لوٹا تھا میں نے اس کا،

مگر مرا ہاتھ

اس کی روحِ عظیم پر بڑھ نہیں سکا تھا

اور اب فرنگی یہ کہہ رہا ہے:

کہ آؤ آؤ اس ہڈیوں کے ڈھانچے کو

جس کے مالک تمھیں ہو

ہم مل کے نورِ کمخواب سے سجائیں!

وہ جانتا ہے،

وہ نورِ کمخواب چین و ما چین میں نہیں ہے

کہ جس کی کرنوں میں

ایسا آہنگ ہو کہ گویا

وہی ہو ستار عیب بھی

اورپردہ ءِ ساز بھی وہی ہو!

عجوزہ ءِ سومنات کے اس جلوس میں ہیں

عقیم صدیوں کا علم لادے ہوئے برہمن

جو اک نئے سامراج کے خواب دیکھتے ہیں

اور اپنی توندوں کے بل پہ چلے ہوئے مہاجن

حصولِ دولت کی آرزو میں بہ جبر عریاں،

جو سامری کے فسوں کی قاتل حشیش پی کر

ہیں رہگزاروں میں آج پا کوب ومست و غلطاں

دف و دہل کی صدائے دلدوز پر خروشاں!

کسی جزیرے کی کور وادی کے

وحشیوں سے بھی بڑھ کے وحشی،

کہ اُن کے ہونٹوں سے خوں کی رالیں ٹپک رہی ہیں

اور اُن کے سینوں پہ کاسہ ءِ سر لٹک رہے ہیں

جو بن کے تاریخ کی زبانیں

سنا رہے ہیں فسانہ ءِ صد ہزار انساں!

اور اُن کے پیچھے لڑھکتے، لنگڑاتے آ رہے ہیں

کچھ اشتراکی،

کچھ اُن کے احساس شناس مُلّا

بجھا چکے ہیں جو اپنے سینے کی شمعِ ایقاں!

مگر سرِ راہ تک رہے ہیں

کبھی تو دہشت زدہ نگاہوں سے

اور کبھی یاسِ جاں گزا سے

غریب و افسردہ دل مسلماں،

جو سوچتے ہیں،

کہ اے خدا

آج اپنے آبا کی سر زمیں میں

ہم اجنبی ہیں،

ہدف ہیں نفرت کے ناوکِ تیز و جانستاں کے!

منو کے آئیں کا ظلم سہتے ہوئے ہریجن

کہ جن کا سایہ بھی برہمن کے لیے

ہے دزدِ شبِ زمستاں

وہ سوچتے ہیں:

کہیں یہ ممکن ہے:

بیچ ڈالے گا

ہم کو بردہ فروشِ افرنگ

اب اسی برہمن کے ہاتھوں

کہ جس کی صدیوں پرانے سیسے سے

آج بھی کور و کر ہیں سب ہم!

جو اَب بھی چاہے

تو روک لے ہم سے نورِ عرفاں!‘‘

ستم رسیدہ نحیف و دہقاں

بھی اس تماشے کو تک رہا ہے،

اُسے خبر بھی نہیں کہ آقا بدل رہے ہیں

وہ اس تماشے کو

طفلِ کمسن کی حیرتِ تابناک سے محض دیکھتا ہے!

جلوس وحشی کی آز سے

سب کو اپنی جانب بلا رہا ہے

کہ ربّہ ءِ سومنات کی بارگاہ میں آکے سرجھکاؤ!

مگر وہ حسِ ازل

جو حیواں کو بھی میسر ہے

سب تماشائیوں سے کہتی ہے:

اس سے آگے اجل ہے

بس مرگِ لم یزل ہے!

اسی لیے وہ کنارِ جادہ پر ایستادہ ہیں، دیکھتے ہیں!

ن م راشد

سوغات

زندگی ہیزمِ تنّورِ شکم ہی تو نہیں

پارہ ءِ نانِ شبینہ کا ستم ہی تو نہیں

ہوسِ دام و درم ہی تو نہیں

سیم و زر کی جو وہ سوغات جیسا لائی تھی

ہم سہی کاہ، مگر کاہ ربا ہو نہ سکی

دردمندوں کی خدائی ہو نہ سکی

آرزو ہدیہ ءِ اربابِ کرم ہی تو نہیں!

ہم نے مانا کہ ہیں جاروب کشِ قصرِ حرم

کچھ وہ احباب جو خاکسترِ زنداں نہ بنے

شبِ تاریکِ وفا کے مہِ تاباں نہ بنے

کچھ وہ ا حباب بھی ہیں جن کے لیے

حیلہ ءِ امن ہے خود ساختہ خوابوں کا فسوں

کچھ وہ احباب بھی ہیں، جن کے قدم

راہ پیما تو رہے، راہ شناسا نہ ہوئے

غم کے ماروں کا سہارا نہ ہوئے!

کچھ وہ مردانِ جنوں پیشہ بھی ہیں جن کے لیے

زندگی غیر کا بخشا ہوا سم ہی تو نہیں

آتشِ دَیر و حرم ہی تو نہیں!

ن م راشد

سمندر کی تہہ میں

ن م راشد

مجموعہ کلام گماں کا ممکن

سمندر کی تہہ میں

سمندر کی سنگین تہہ میں

ھے صندوق

صندوق میں ایک ڈبیا میں ڈبیا

میں ڈبیا

میں کتنے معانی کی صُبحیں

وہ صُبحیں کہ جن پر رسالت کے دَر بند

اپنی شعاعوں میں جکڑی ھوُئی

کتنی سہمی ھوُئی !

یہ صندوق کیوں کر گِرا؟

نہ جانے کِسی نے چُرایا؟

ھمارے ھی ھاتھوں سے پِھسلا؟

پِھسل کر گِرا؟

سمندر کی تہہ میں مگر کب؟

ھمیشہ سے پہلے

ھمیشہ سے بھی سالہا سال پہلے؟

اور اب تک ھے صندوق کے گِرد

لفظوں کی راتوں کا پہرا

وہ لفظوں کی راتیں

جو دیووں کی مانند

پانی کے لسداد دیووں کے مانند !

یہ لفظوں کی راتیں

سمندر کی تہہ میں تو بستی نہیں ھیں

مگر اپنے لاریب پہرے کی خاطر

وھیں رینگتی ھیں

شب و روز

صندوق کے چار سوُ رینگتی ھیں

سمندر کی تہہ میں !

بہت سوچتا ھوُں

کبھی یہ معانی کی پاکیزہ صُبحوں کی پریاں

رھائی کی اُمید میں

اپنے غوّاص جادوُگروں کی

صدائیں سُنیں گی؟

ن م راشد

سفرنامہ

اُسے ضد کہ نُور کے ناشتے میں

شریک ہوں!

ہمیں خوف تھا سحرِ ازل

کہ وہ خود پرست نہ روک لے

ہمیں اپنی راہِ دراز سے

کہیں کامرانیِ نَو کے عیش و سُرور میں

ہمیں روک لے

نہ خلا کے پہلے جہاز سے

جو زمیں کی سمت رحیل تھا!

ہمیں یہ خبر تھی بیان و حرف کی خُو اُسے

ہمیں یہ خبر تھی کہ اپنی صورتِ گلو اُسے

ہے ہر ایک شے سے عزیز تر

ہمیں اور کتنے ہی کام تھے (تمہیں یاد ہے؟)

ابھی پاسپورٹ لیے نہ تھے

ابھی ریزگاری کا انتظار تھا

سوٹ کیس بھی ہم نے بند کیے نہ تھے

اُسے ضد کہ نُور کے ناشتے میں شریک ہوں!

وہ تمام ناشتہ

اپنے آپ کی گفتگو میں لگا رہا

ہے مجھے زمیں کے لیے خلیفہ کی جستجو

کوئی نیک خُو

جو مرا ہی عکس ہو ہُو بہُو!

تو امیدواروں کے نام ہم نے لکھا دیے

اور اپنا نام بھی ساتھ اُن کے بڑھا دیا!

مری آرزو ہے شجر ہجر

مری راہ میں شب و روز

سجدہ گزار ہوں۔۔۔

مری آرزو ہے کہ خشک و تر

مری آرزو میں نزاز ہوں ۔۔۔

مری آرزو ہے کہ خیر و شر

مرے آستاں پہ نثار ہوں

مری آرزو۔۔۔ مری آرزو ۔۔۔

شجر و حجر تھے نہ خشک و تر

نہ ہمیں مستیِ خیر و شر

ہمیں کیا خبر؟

تو تمام ناشتہ چپ رہے

وہ جو گفتگو کا دھنی تھا

آپ ہی گفتگو میں لگا رہا!

بڑی بھاگ دوڑ میں

ہم جہاز پکڑ سکے

اسی انتشار میں کتنی چیزیں

ہماری عرش پہ رہ گئیں

وہ تمام عشق۔۔۔ وہ حوصلے

وہ مسرّتیں۔۔ وہ تمام خواب

جو سوٹ کیسوں میں بند تھے!

ن م راشد

سرگوشیاں

پھر آج شام گاہ سرِ راہگزر اُسے

دیکھا ہے اس کے دوشِ حسیں پر جھکے ہوئے!

یارو وہ ہرزہ گرد،

ہے کسبِ روزگار میں اپنا شریکِ کار،

راتوں کو اُس کی راہگزاروں پہ گردشیں

اور میکدوں میں چھپ کے مے آشامیِ طویل

رسوائیوں کی کوئی زمانے میں حد بھی ہے!

یہ غصہ رائیگاں ہے، ہمیں تو ہے یہ گلہ

وارفتہ کیوں اُسی کے لیے وہ عشوہ ساز

کیوں اتنی دلکشی بھی خدا نے نہ دی ہمیں

تسخیر اُس کا خندہ ءِ بے باک کرسکیں؟

اب تو کسی نوید کا امکان ہی نہیں

جب اُس کا، دل کی آرزوؤں کے حصول تک،

ایک اپنے یارِ غار سے ہے ربطِ شرمناک

اک رشتہ ءِ ذلیل

یہ اُس کی شاطری ہے، کہ ‘زلفِ عجم’ کا دام؟

کچھ بھی ہو، اس میں شائبہ ءِ شاعری نہیں

برسوں کا ایک ترسا ہوا شخص جان کر

پہچانتی ہے دور سے عورت کی بُو اُسے

اور کررہا ہے اس کا نصیبہ بھی یاوری!

اس رشکِ بے بسی سے مرے دوست، فائدہ؟

ہے کچھ تو اپنا زورِ گریباں کے چاک پر!

حاصل نہیں ہے ہم کو اگر وہ شرابِ ناب

تو بام ودر کی شہر میں کوئی کمی نہیں

دو ’پول‘ ایک پیکرِ یخ بستہ، ایک رات!

ن م راشد

ستارے (سانیٹ)

نکل کر جوئے نغمہ خلد زارِ ماہ و انجم سے

فضا کی وسعتوں میں ہے رواں آہستہ آہستہ

بہ سوئے نوحہ آبادِ جہاں آہستہ آہستہ

نکل کر آ رہی ہے اک گلستانِ ترنم سے!

ستارے اپنے میٹھے مد بھرے ہلکے تبسم سے

کیے جاتے ہیں فطرت کو جواں آہستہ آہستہ

سناتے ہیں اسے اک داستاں آہستہ آہستہ

دیارِ زندگی مدہوش ہے اُن کے تکلم سے

یہی عادت ہے روزِ اوّلیں سے ان ستاروں کی

چمکتے ہیں کہ دنیا میں مسرت کی حکومت ہو

چمکتے ہیں کہ انساں مسرت کی حکومت ہو

چمکتے ہیں کہ انساں فکرِ ہستی کو بھلا ڈالے

لیے ہے یہ تمنا کہ ہرکرن ان نور پاروں کی

کبھی یہ خاک داں گہوارہ ءِ حسن و لطافت ہو

کبھی انسان اپنی گم شدہ جنت کو پھر پالے!

ن م راشد

سپاہی

تُو مرے ساتھ کہاں جائے گی؟

۔۔۔ موت کا لمحہ ءِ مایوس نہیں،

قوم ابھی نیند میں ہے!

مصلحِ قوم نہیں ہوں کہ میں آہستہ چلوں

اور ڈروں قوم کہیں جاگ نہ جائے۔۔۔

میں تو اک عام سپاہی ہوں، مجھے

حکم ہے دوڑ کے منزل کے قدم لینے کا

اور اسی سعیِ جگر دوز میں جاں دینے کا

تُو مرے ساتھ مری جان، کہاں جائے گی؟

تُو مرے ساتھ کہاں جائے گی؟

راہ میں اونچے پہاڑ آئیں گے

دشتِ بے آب وگیاہ

اور کہیں رودِ عمیق

بے کراں، تیز و کف آلود و عظیم

اجڑے سنسان دیار

اور دشمن کے گرانڈیل جواں

جیسے کہسار پہ دیودار کے پیڑ

عزت و عفت و عصمت کے غنیم

ہر طرف خون کے سیلابِ رواں۔۔۔

اک سپاہی کے لیے خون کے نظاروں میں

جسم اور روح کی بالیدگی ہے

تُو مگر تاب کہاں لائے گی

تُو مرے ساتھ مری جان کہاں جائے گی؟

دم بدم بڑھتے چلے جاتے ہیں

سرِ میدان رفیق،

تُو مرے ساتھ مری جان کہاں جائے گی؟

عمر گزری ہے غلامی میں مری

اس سے اب تک مری پرواز میں کوتاہی ہے!

زمزمے اپنی محبت کے نہ چھیڑ

اس سے اے جان پر وبال میں آتا ہے جمود

میں نہ جاؤں گا تو دشمن کو شکست

آسمانوں سے بھلا آئے گی؟

دیکھ خونخوار درندوں کے وہ غول

میرے محبوب وطن کو یہ نگل جائیں گے؟

ان سے ٹکرانے بھی دے

جنگِ آزادی میں کام آنے بھی دے

تُو مرے ساتھ مری جان کہاں جائے گی؟

ن م راشد

سپاھی

ن م راشد

مجموعہ کلام ماورا

توُ مِرے ساتھ کہاں جائے گی؟

موت کا لمحہء مایوس نہیں،

قوم ابھی نیند میں ھے!

مصلحِ قوم نہیں ھوُں کہ میں آہستہ چلوُں

اور ڈروُں قوم کہیں جاگ نہ جائے

میں تو اِ عام سپاھی ھوُں، مجھے

حُکم ھے دوڑ کے منزل کے قدم لینے کا

اور اِسی سعیء جگر دوز میں جاں دینے کا

توُ مِرے ساتھ مِری جان، کہاں جائے گی؟

توُ مِرے ساتھ کہاں جائے گی؟

راہ میں اُونچے پہاڑ آئیں گے

دشتِ بے آب و گیاہ

اور کہیں رودِ عمیق

بے کراں، تیز و کَف آلوُد و عظیم

اُجڑے سُنسان دیار

اور دُشمن کے گرانڈیل جواں

جیسے کہسار پہ دیودار کے پیڑ

عِزّت و عِفت و عصمت کے غنیم

ھر طرف خوُن کے سیلاب رواں

اِک سپاھی کے لیے خوُن کے نظاروں میں

جسم اور روُح کی بالیدگی ھے

توُ مگر تاب کہاں لائے گی

توُ مِرے ساتھ مِری جان کہاں جائے گی؟

دَم بدم بڑھتے چلے جاتے ھیں

سرِ میدان رفیق،

توُ مِرے ساتھ مِری جان کہاں جائے گی؟

عُر گُزری ھے غلامی میں مِری

اس سے اَب تک مِری پرواز میں کوتاھی ھے!

زمزمے اپنی محبّت کے نہ چھیڑ

اس سے اے جان، پر و بال میں آتا ھے جموُد

میں نہ جاؤں گا تو دُشمن کو شکست

آسمانوں سے بَھلا آئے گی؟

دیکھ خوُنخوار درندوں کے وہ غول

میرے محبوُب وطن کو یہ نِگل جائیں گے

ان سے ٹکرانے بھی دے

جنگِ آزادی میں کام آنے بھی دے

توُ مِرے ساتھ مِری جان کہاں جائے گی؟

ن م راشد

سبا ویراں

سلیماں سر بزانو اور سبا ویراں

سبا ویراں، سبا آسیب کا مسکن

سب آلام کا انبارِ بے پایاں!

گیاہ و سبزہ وگُل سے جہاں خالی

ہوائیں تشنہ ءِ باراں،

طیور اِس دشت کے منقار زیرِ پر

تو سرمہ در گلو انساں

سلیماں سر بزانو اور سبا ویراں!

سلیماں سر بزانو، تُرش رو، غمگیں، پریشاں مُو

جہانگیری، جہانبانی، فقط طرارہ ءِ آہو،

محبت شعلہ ءِ پرّاں، ہوس بوئے گُلِ بے بُو

ز رازِ دہرِ کمتر گو!

سبا ویراں کہ اب تک اس زمیں پر ہیں

کسی عیار کے غارت گروں کے نقشِ پا باقی

سبا باقی، نہ مہروئے سبا باقی!

سلیماں سر بہ زانو،

اب کہاں سے قاصدِ فرخندہ پَے آئے؟

کہاں سے، کس سبو سے کا سہ ءِ پیری میں مَے آئے؟

ن م راشد

سایہ

کسی خواب آلودہ سائے کا پیکر

کہاں تک ترے گوش شِنوا، تری چشمِ بینا، ترے قلبِ دانا

کا ملجا و ماویٰ بنے گا؟

تجھے آج سائے کے ہونٹوں سے حکمت کی باتیں گوارا،

تجھے آج سائے کے آغوش میں شعر و نغمہ کی راتیں گوارا،

گوارا ہیں اُس زندگی سے کہ جس میں کئی کارواں راہ پیما رہے ہیں!

مگر کل ترے لب پہ پہلی سی آہوں کی لپٹیں اٹھیں گی،

ترا دل اُنہی کاروانوں کو ڈھونڈے گا،

اُن کو پکارے گا،

جو جسم کی چشمہ گاہوں پر رکتے ہیں آ کر

جنھیں سیریِ جاں کی پوشیدہ راہوں کی ساری خبر ہے!

یہ تسلیم، سائے نے تجھ کو

وہ پہنائیاں دیں

افق سے بلند اور بالا

جو تیری نگاہوں کے مرئی حجابوں میں پنہاں رہی تھیں،

وہ اسرار تجھ پر ہویدا کیے، جن کا ارماں

فلاطوں سے اقبال تک سب کے سینوں کی دولت رہا ہے؛

وہ اشعار تجھ کو سنائے، جو حاصل ہیں ورجل سے لے کر

سبک مایہ راشد کے سوز و دروں کا

کہ تُو بھول جائے وہ صرصر، وہ گرداب جن میں

تری زندگی واژگوں تھی،

تری زندگی خاک و خوں تھی!

تُو اسرار و اشعار سنتی رہی ہے،

مگر دل ہی دل میں تُو ہنستی رہی ہے

تو سیّال پیکر سے، سائے سے، غم کے کنائے سے کیا پا سکے گی؟

جب اس کے ورا، اس سے زندہ توانا بدن

رنگ و لذت کے مخزن، ہزاروں

تمنا کے مامن ہزاروں!

کبھی خواب آلودہ سائے کی مہجور و غم دیدہ آنکھیں

ترے خشک مژگاں کو رنجور و نم دیدہ کرتی رہی ہیں

تو پھر بھی تُو ہنستی رہی ہے!

ن م راشد

سالگرہ کی رات

آج دروازے کھُلے رہنے دو

یاد کی آگ دہک اٹھی ہے

شاید اس رات ہمارے شہدا آ جائیں

آج دروازے کھلے رہنے دو

جانتے ہو کبھی تنہا نہیں چلتے ہیں شہید؟

میں نے دریا کے کنارے جو پرے دیکھے ہیں

جو چراغوں کی لویں دیکھی ہیں

وہ لویں بولتی تھیں زندہ زبانوں کی طرح

میں نے سرحد پہ وہ نغمات سنے ہیں کہ جنہیں

کون گائے گا شہیدوں کے سوا؟

میں نے ہونٹوں پہ تبسّم کی نئی تیز چمک دیکھی ہے

نور جس کا تھا حلاوت سے شرابور

اذانوں کی طرح!

ابھی سرحد سے میں لوٹا ہوں ابھی،

مَیں ابھی ہانپ رہا ہوں مجھے دم لینے دو

راز وہ اُن کی نگاہوں میں نظر آیا ہے

جو ہمہ گیر تھا نادیدہ زمانوں کی طرح!

یاد کی آگ دہک اٹھی ہے

سب تمنّاؤں کے شہروں میں دہک اٹھی ہے

آج دروازے کھلے رہنے دو

شاید اس رات ہمارے شہدا آ جائیں!

وقت کے پاؤں الجھ جاتے ہیں آواز کی زنجیروں سے

اُن کی جھنکار سے خود وقت جھنک اٹھتا ہے

نغمہ مرتا ہے کبھی، نالہ بھی مرتا ہے کبھی؟

سنسناہٹ کبھی جاتی ہے محبت کے بجھے تیروں سے؟

میں نے دریا کے کنارے انہیں یوں دیکھا ہے ۔۔

میں نے جس آن میں دیکھا ہے انہیں

شاید اس رات،

اس شام ہی،

دروازوں پہ دستک دیں گے!

شہدا اتنے سبک پا ہیں کہ جب آئیں گے

نہ کسی سوئے پرندے کو خبر تک ہو گی

نہ درختوں سے کسی شاخ کے گرنے کی صدا گونجے گی

پھڑپھڑاہٹ کسی زنبور کی بھی کم ہی سنائی دے گی

آج دروازے کھلے رہنے دو!

ابھی سرحد سے میں لوٹا ہوں ابھی

پار جو گزرے گی اس کا ہمیں غم ہی کیوں ہو؟

پار کیا گزرے گی، معلوم نہیں ۔۔

ایک شب جس میں

پریشانیِ آلام سے روحوں پہ گرانی طاری

روحیں سنسان، یتیم

اُن پہ ہمیشہ کی جفائیں بھاری

بوئے کافور اگر بستے گھروں سے جاری

بے پناہ خوف میں رویائےشکستہ کی فغاں اٹھے گی

بجھتی شمعوں کا دھواں اٹھے گا ۔۔۔

پار جو گزرے گی معلوم نہیں ۔۔

اپنے دروازے کھُلے رہنے دو

ن م راشد

زوال

آہ پایندہ نہیں،

درد و لذت کا یہ ہنگامِ جلیل!

پھر کئی بار ابھی آئیں گے لمحاتِ جنوں

اس سے شدت میں فزوں، اس سے طویل

پھر بھی پائندہ نہیں!

آپ ہی آپ کسی روز ٹھہر جائے گا

تیرے جذبات کا دریائے رواں

تجھے معلوم نہیں،

کس طرح وقت کی امواج ہیں سرگرمِ خرام؟

تیرے سینے کا درخشندہ جمال

کر دیا جائے گا بیگانہ ءِ نور

نکہت و رنگ سے محرومِ دوام!

تجھے معلوم نہیں؟

اس دریچے میں سے دیکھ

خشک، بے برگ، المناک د رختوں کا سماں

کیسا دل دوز سکوت!

زیرِ لب نالہ کشِ جورِ خزاں

چودھویں رات کا مہتابِ جواں!

ان کے اس پار سے ہے نزد طلوع؛

تجھے معلوم نہیں،

ایک دن تیرا جنوں خیز شباب

تیرے اعضا کا جمال

کر دیا جائے گا اس طرح سے محرومِ فسوں؟

اور پھر چاند کے مانند محبت کے خیال

سارے اس عہد کے گزرے ہوئے خواب

تیرے ماضی کے افق پر سے ہویدا ہوں گے

تجھے معلوم نہیں!

ن م راشد

زندگی، جوانی، عشق، حسن

م___

مری ندیم کھلی ہے مری نگاہ کہاں

ہے کس طرف کو مری زیست کا سفینہ رواں

وطن کے بحر سے دور، اُس کے ساحلوں سے دور؟

ہے میری چار طرف بحرِ شعلہ گوں کیسا؟

ہے میرے سینے میں ایک ورطہ ءِ جنوں کیسا؟

مری ندیم کہاں ایسا شعلہ زار میں ہم

جہاں دماغ میں چھپتی ہوئی ضیائیں ہیں

مہیب نور میں لپٹی ہوئی فضائیں ہیں!

کہاں ہے آہ، مرا عہدِ رفتہ، میرا دیار

مرا سفینہ کنارے سے چل پڑا کیسے؟

یہ ہر طرف سے برستے ہیں ہم پہ کیسے شرار

ہماری راہ میں یہ آتشیں خلا کیسے؟

وہ سامنے کی زمیں ہے مگر جزیرہ ءِ عشق

جو دور سے نظر آتی ہے جگمگاتی ہوئی

کہ سر زمینِ عجم کے کہیں قریب ہیں ہم

ترے وطن کے نواحی میں اے حبیب ہیں ہم؟

یہ کیا طلسم ہے، کیا راز ہے، کہاں ہیں ہم؟

کہ ایک خواب میں بے مدعا رواں ہیں ہم؟

ع____

یہ ایک خواب ہے، بے مدعا رواں ہیں ہم

یہ ایک فسانہ ہے کردارِ داستاں ہیں ہم

ابھی یہاں سے بہت دور جہانِ عجم

تصورات میں جس خلد کے جواں ہیں ہم

وہ سامنے کی زمیں ہے مگر جزیرہ ءِ عشق

جو دور سے نظر آتی ہے جگمگاتی ہوئی

فضا پہ جس کی درخشاں ہے اک ستارہ ءِ نور

شعاعیں رقص میں ہیں زمزمے بہاتی ہوئی‘‘

م____

اگر یہاں سے بہت دور ہے جہانِ عجم

مری ندیم چل اس سرزمیں کی جانب چل

ع____

اُسی کی سمت رواں ہیں، سفینہ راں ہیں ہم

یہیں پہنچ کے ملے گی مگر نجات کہیں

ہمیں زمان ومکاں کے حدودِ سنگیں سے

نہ خیروشر ہے نہ یزداں واہرمن ہیں یہاں

کہ جاچکے ہیں وہ اس سرزمینِ رنگیں سے‘‘

م____

مری ندیم چل اس سرزمیں کی جانب چل!

ع____

اُسی کی سمت رواں ہیں، سفینہ راں ہیں ہم

یہاں عدم ہے نہ فکرِ وجود ہے گویا

یہاں حیات مجسم سرود ہے گویا

ن م راشد

زندگی میری سہ نیم

میں سہ نیم اور زندگی میری سہ نیم

دوست داری، عشق بازی، روزگار

زندگی میری سہ نیم!

دوستوں میں دوست کچھ ایسے بھی ہیں

جن سے وابستہ ہے جاں،

اور کچھ ایسے بھی ہیں، جو رات دن کے ہم پیالہ، ہم نوالہ

پھر بھی جیسے دشمنِ جانِ عزیز!

دوستی کچھ دشمنی اور دشمنی کچھ دوستی

دوستی میری سہ نیم!

عشق محبوبہ سے بھی ہے اور کتنی اور محبوباؤں سے،

ان میں کچھ ایسی بھی ہیں

جن سے وابستہ ہے جاں

اور کچھ ایسی بھی ہیں جو عطرِ بالیں، نورِ‌بستر

پھر بھی جیسے دشمنِ جانِ عزیز!

اِن میں کچھ نگرانِ دانہ اور کچھ نگرانِ دام

عشق میں‌کچھ سوز ہے، کچھ دل لگی، کچھ انتقام

عاشقی میری سہ نیم!

روزگار اِک پارہء نانِ جویں کا حیلہ ہے

گاہ یہ حیلہ ہی بن جاتا ہے دستورِ حیات

اور گاہے رشتہ ہائے جان و دل کو بھول کر

بن کے رہ جاتا ہے منظورِ حیات

پارہء ناں کی تمنّا بھی سہ نیم

میں سہ نیم اور زنگی میری سہ نیم!‌

ن م راشد

زندگی سے ڈرتے ہو؟

زندگی سے ڈرتے ہو؟

زندگی تو تم بھی ہو، زندگی تو ہم بھی ہیں!

آدمی سے ڈرتے ہو؟

آدمی تو تم بھی ہو، آدمی تو ہم بھی ہیں!

آدمی زباں بھی ہے، آدمی بیاں بھی ہے،

اس سے تم نہیں ڈرتے!

حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے، آدمی ھے وابستہ

آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ

اس سے تم نہیں ڈرتے!

ان کہی سے ڈرتے ہو

جو ابھی نہیں آئی، اس گھڑی سے ڈرتے ہو

اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو!

پہلے بھی تو گزرے ہیں،

دور نارسائی کے، بے ریا خدائی کے

پھر بھی یہ سمجھتے ہو، ہیچ آرزو مندی

یہ شب زباں بندی، ہے رہِخداوندی!

تم مگر یہ کیا جانو،

لب اگر نہیں ہلتے، ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں

ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں، راہ کا نشاں بن کر

نور کی زباں بن کر

ہاتھ بول اٹھتے ہیں، صبح کی اذاں بن کر

روشنی سے ڈرتے ہو؟

روشنی تو تم بھی ہو، روشنی تو ہم بھی ہیں،

روشنی سے ڈرتے ہو!

شہر کی فصیلوں پر

دیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخر

رات کا لبادہ بھی

چاک ہو گیا آخر، خاک ہو گیا آخر

اژدہامِانساں سے فرد کی نوا آئی

ذات کی صدا آئی

راہِ شوق میں جیسے، راہرو کا خوں لپکے

اک نیا جنوں لپکے!

آدمی چھلک اٹّھے

آدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھو

تم ابھی سے ڈرتے ہو؟

ن م راشد

زندگی اک پیرہ زن!

جمع کرتی ھے گلی کوچوں میں روز و شب پرانی دھجیاں!

تیز، غم انگیز، دیوانہ ہنسی سے خندہ زن

بال بکھرے، دانت میلے، پیرہن

دھجیوں کا ایک سونا اور نا پیدا کراں، تاریک بن!

لو ہوا کے ایک جھونکے سے اڑی ہیں ناگہاں

ہاتھ سے اس کے پرانے کاغذوں کی بالیاں

اور وہ آپے سے باہر ہو گئی

اس کی حالت اور ابتر ہو گئی

سہہ سکے گا کون یہ گہرا زیاں

اب ہوا سے ہار تھک کر جھک گئی ھے پیرہ زن

جھک گئی ہے پاؤں پر، جیسے دفینہ ہو وہاں!

زندگی، تو اپنے ماضی کے کنوئیں میں جھانک کر کیا پائے گی

اس پرانے اور زہریلی ہواؤں سے بھرے، سونے کنویں میں

جھانک کر اس کی خبر کیا لائے گی

اس کی تہہ میں سنگریزوں کے سوا کچھ بھی نہیں

جز صدا کچھ بھی نہیں!

ن م راشد

زنجیر

گوشہ ءِ زنجیر میں

اک نئی جنبش ہویدا ہو چلی،

سنگِ خارا ہی سہی، خارِ مغیلاں ہی سہی،

دشمنِ جاں، دشمنِ جاں ہی سہی،

دوست سے دست و گریباں ہی سہی

یہ بھی تو شبنم نہیں___

یہ بھی تو مخمل نہیں، دیبا نہیں، ریشم نہیں___

ہر جگہ پھر سینہ ءِ نخچیر میں

اک نیا ارماں، نئی امید پیدا ہو چلی،

حجلہ ءِ سیمیں سے تو بھی پیلہ ءِ ریشم نکل،

وہ حسیں اور دور افتادہ فرنگی عورتیں

تو نے جن کے حسنِ روز افزوں کی زینت کے لیے

سالہا بے دست و پا ہو کر بُنے ہیں تار ہائے سیم و زر

اُن کے مردوں کے لیے بھی آج اک سنگین جال

ہو سکے تو اپنے پیکر سے نکال!

شکر ہے دنبالہ ءِ زنجیر میں

اک نئی جنبش، نئی لرزش ہویدا ہو چلی

کوہساروں، ریگزاروں سے صدا آنے لگی:

ظلم پروردہ غلامو! بھاگ جاؤ

پردہ ءِ شب گیر میں اپنے سلاسل توڑ کر،

چار سُو چھائے ہوئے ظلمات کو اب چیر جاؤ

اور اس ہنگامِ باد آورد کو

حیلہ ءِ شب خوں بناؤ!

ن م راشد

زنجبیل کے آدمی

مجھے اپنے آپ سے آ رہی ہے لہو کی بُو

کبھی ذبح خانے کی تیز بُو

کبھی عورتوں کی ابلتی لاشوں کی تیز بُو

کبھی مرگھٹوں میں کباب ہوتے ہوئے سروں کی

دبیز بُو

وہ دبیز ایسی کہ آپ چاہیں تو

تیغِ تیز سے کاٹ دیں

مجھے اپنے آپ سے آ رہی ہے لہو کی بُو،

کہ مجھی کو قتل کیا ہو جیسے کسی نے

شہر کے چوک میں!

یہی چوک تھا۔۔

یہی وہ مقام تھا، ناگہاں

کسی خوف سے میں جسد سے اپنے لپٹ گیا

(کہیں تھا بھی میرا جسد مگر؟)

مرے آنسوؤں کی لڑی زمیں پہ بکھر گئی

مری ہیک ہیک نہ تھم سکی ۔۔

کبھی سائے آ کے سکڑ گئے

کبھی اور بڑھتے چلے گئے

کہ وہ اپنے جبر کے محوروں کے سوا نہ تھے

کسی اور راہ سے باخبر؛

مری سسکیاں کسی بے صدائی کے ناگہاں میں

اتر گئیں ۔۔

ابھی چاند دفن تھا بادلوں کے مزار میں

وہیں میں نے نفسِ فریب کار کا سر، بدن

سے اڑا دیا

وہیں میں نے اپنی خودی کی پیرہ زنِ خمیدہ کمر

کی جان دبوچ لی

وہ کوئی برہنہ و مرگ رنگ صدا تھی

جس کا سراغ پا کے میں چل پڑا ۔۔۔

وہ صدا جو مسخرہ پن میں مجھ سے کبیر تر

وہ صدا جو مجھ سے شریر تر

کسی فلسفے میں رچی ہوئی وہ چڑیل ۔۔۔

احمق و تند و خو ۔۔

نئے ریگ زاروں میں، فاتحوں کے جہانِ پیر میں

گھومتی ہوئی سُو بہ سو

نئے استخوانوں کے آستانوں کی راہ جو ۔۔۔

(سرینوں کو ڈھانپو کہ اِن پر ابھی زندگی کی لکدکوب کے اُن ہزاروں

برس کے نشاں ہیں، جو گزرے نہیں ہیں، کہ ننگے سُرینوں کی دعوت

سے پڑتے رہے ہیں ہمیشہ سے اُن پر روایات کے بعد کے تازیانے

اور اُن کے سواُن جواں تر نکیلے دماغوں کی کرنوں کے نیزے، جو

معقول و منقول دونوں سے خود کو الگ کر چکے ہیں؛ سُرینوں کو

ڈھانپو کہ اب تک وہ کو دن بھی موجود ہیں جن کا ایماں ہے

غوغا و کشتارو امرد پرستی سے وہ بادشاہت ملے گی کہ جس کو وہ برباد

کرنے میں مختار ہوں گے ؛ یہ وہ لوگ ہیں جن کی جنت کے الٹے

چھپرکھٹ میں کابوس کی مکڑیاں اُن کی محرومیاں بُن رہی ہیں، وہ جنت

کہ جس میں کسالت کے دن رات نعروں کی رونق سے زندہ رہیں گے ۔۔)

کئی بار میں نے ۔۔ نکل کے چوک سے ۔۔ سعی کی

کی میں اپنی بھوتوں کی میلی وردی اتاروں

نئے بولتے ہوئے آدمی کے نئے الم میں شریک ہُوں

میں اسی کے حُسن میں، اُس کے فن میں، اُسی کے دم میں

شریک ہُوں

میں اُسی کے خوابوں، انھی کے معنیِ تہہ بہ تہہ میں

انھی کے بڑھتے ہوئے کرم میں شریک ہُوں ۔۔

وہ تمام چوہے ۔۔ وہ شاہ دولا کے ارجمند ۔۔

ہرایک بار اُچھل پڑے ۔۔ مرے خوف سے

مرے جسم و جاں پہ اُبل پڑے!

تو عجیب بات ہے، مَیں اگر

ہمہ تن نشاطِ غرور ہوں؟

شبِ انتقام کی آگ میں ہوں جلا ہوا؟

کہ فنا پرست کدورتوں میں رچا ہوا؟

سُنو! جنگ جوؤ، سپاہیو

مری آرزو کی شرافتوں کو دغا نہ دو

میں لڑھک کے دامنِ کوہ تک جو پہنچ گیا

تو یہ ڈر ہے ۔۔

زندہ چبا نہ لوں تمھیں ۔۔ کہ تم

ہو تمام شیرہ ءِ زنجبیل کے آدمی!

مری بے بسی پہ ہنسو گے تم تو ہنسا کرو ۔۔

میں دعا کروں گا:

خدائے رنگ و صدا و نُور

تُو اِن کے حال پہ رحم کر!

(خدا،

رنگِ نَو، نور و آوازِ نَو کے خدا!

خدا،

وحدتِ آب کے، عظمتِ باد کے

رازِ نَو کے خدا!

قلم کے خدا، سازِ نو کے خدا!

تبسّم کے اعجازِ نَو کے خدا!۔۔)

ن م راشد

زمانہ خدا ہے

زمانہ خدا ہے، اسے تم برا مت کہو

مگر تم نہیں دیکھتے ۔۔۔ زمانہ فقط ریسمانِ خیال

سبک مایہ، نازک، طویل

جدائی کی ارزاں سبیل

وہ صبحیں جو لاکھوں برس پیشتر تھیں

وہ شامیں جو لاکھوں برس بعد ہوں گی

انھیں تم نہیں دیکھتے، دیکھ سکتے نہیں

کہ موجود ہیں، اب بھی موجود ہیں وہ کہیں

مگر یہ نگاہوں کے آگے جو رسی تنی ہے

اسے دیکھ سکتے ہو، اور دیکھتے ہو

کہ یہ وہ عدم ہے

جسے ہست ہونے میں مدت لگے گی

ستاروں کے لمحے، ستاروں کے سال!

مرے صحن میں ایک کم سن بنفشے کا پودا ہے

طیّارہ کوئی کبھی اس کے سر پر سے گزرے

تو وہ مسکراتا ہے اور لہلہاتا ہے

گویا وہ طیارہ، اُس کی محبت میں

عہدِ وفا کے کسی جبرِ طاقت ربا ہی سے گزرا

وہ خوش اعتمادی سے کہتا ہے:

لو، دیکھو، کیسے اسی ایک رسی کے دونوں کناروں

سے ہم تم بندھے ہیں!

یہ رسی نہ ہو تو کہاں ہم میں تم میں

ہو پیدا یہ راہِ وصال؟

مگر ہجر کے ان وسیلوں کو وہ دیکھ سکتا نہیں

جو سراسر ازل سے ابد تک تنے ہیں!

جہاں یہ زمانہَ۔۔۔۔۔ ہنوزِ زمانہ

فقط اِک گرہ ہے!

ن م راشد

ریگِ دیروز

ہم محبت کے خرابوں کے مکیں

وقت کے طولِ المناک کے پروردہ ہیں

ایک تاریک ازل، نورِ ابد سے خالی!

ہم جو صدیوں سے چلے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ساحل پایا

اپنی تہذیب کی پاکوبی کا حاصل پایا!

ہم محبّت کے نہاں خانوں میں بسنے والے

اپنی پامالی کے افسانوں پہ ہنسنے والے

ہم سمجھتے ہیں نشانِ سرِ منزل پایا!

ہم محبت کے خرابوں کے مکیں

کنجِ ماضی میں ہیں باراں زدہ طائر کی طرح آسودہ

اور کبھی فتنہ ءِ ناگاہ سے ڈر کر چونکیں

تو رہیں سدِّ نگاہ نیند کے بھاری پردے

ہم محبت کے خرابوں کے مکیں!

ایسے تاریک خرابے کہ جہاں

دور سے تیز پلٹ جائیں ضیا کے آہو

ایک، بس ایک، صدا گونجتی ہے

شبِ آلام کی یا ہو! یا ہو!

ہم محبت کے خرابوں کے مکیں

ریگِ دیروز میں خوابوں کے شجر بوتے رہے

سایہ ناپید تھا، سائے کی تمنّا کے تلے سوتے رہے!

ن م راشد

رقص کی رات

رقص کی رات کسی غمزہ ءِ عریاں کی کرن

اس لیے بن نہ سکی راہِ تمنا کی دلیل

کہ ابھی دور کسی دیس میں اک ننھا چراغ

جس سے تنویر مرے سینہ ءِ غمناک میں ہے

ٹمٹماتا ہے اس اندیشے میں شاید کہ سحر ہو جائے

اور کوئی لوٹ کے آ ہی نہ سکے!

رقص کی رات کوئی دَورِ طرب

بن نہ سکتا تھا ستاروں کی خدائی گردش؟

محورِ حال بھی ہو، جادہ ءِ آئندہ بھی

اور دونوں میں وہ پیوستگیِ شوق بھی ہو

جو کبھی ساحل و دریا میں نہ تھی،

پھر بھی حائل رہے یوں بُعدِ عظیم

لب ہلیں اور سخن آغاز نہ ہو

ہاتھ بڑھ جائیں مگر لامسہ بے جان رہے؟

تجھے معلوم نہیں،

اب بھی ہر صبح دریچے میں سے یوں جھانکتا ہوں

جیسے ٹوٹے ہوئے تختے سے کوئی تِیرہ نصیب

سخت طوفان میں حسرت سے افق کو دیکھے:

____کاش ابھر آئے کہیں سے وہ سفینہ جو مجھے

اس غمِ مرگِ تہِ آب سے آزاد کرے____

رقص کی شب کی ملاقات سے اتنا تو ہوا

دامنِ زیست سے میں آج بھی وابستہ ہوں،

لیکن اس تختہ ءِ نازک سے یہ امید کہاں

کہ یہ چشم و لبِ ساحل کو کبھی چوم سکے!

ن م راشد

رقص

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میں

ڈر سے لرزاں ہوں کہیں ایسا نہ ہو

رقص گہ کے چور دروازے سے آ کر زندگی

ڈھونڈ لے مجھ کو، نشاں پا لے مرا

اور جرم عیش کرتے دیکھ لے!

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

رقص کی یہ گردشیں

ایک مبہم آسیا کے دور ہیں

کیسی سرگرمی سے غم کو روندتا ہوں میں!

جی میں کہتا ھوں کہ ہاں،

رقص گہ میں زندگی کے جھانکنے سے پیشتر

کلفتوں کا سنگریزہ ایک بھی رہنے نا پائے!

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

زندگی میرے لیے

ایک خونیں بھیڑ یے سے کم نہیں

اے حسین و اجنبی عورت اسی کے ڈر سے میں

ہو رہا ہوں لمحہ لمحہ اور بھی تیرے قریب

جانتا ھوں تو مری جاں بھی نہیں

تجھ سے ملنے کا پھر امکاں بھی نہیں

تو مری ان آرزوؤں کی مگر تمثیل ھے

جو رھیں مجھ سے گریزاں آج تک!

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

عہد پارینہ کا میں انساں نہیں

بندگی سے اس در و دیوار کی

ہو چکی ہیں خواہشیں بے سوز و رنگ و ناتواں

جسم سے تیرے لپٹ سکتا تو ہوں

زندگی پر میں جھپٹ سکتا نہیں!

اس لیے اب تھام لے

اے حسین و اجنبی عورت مجھے اب تھام لے!

ن م راشد

رفعت (سانیٹ)

کوئی دیتا ہے بہت دور سے آواز مجھے

چھپ کے بیٹھا ہے وہ شاید کسی سیارے میں

نغمہ و نور کے اک سرمدی گہوارے میں

دے اجازت جو تری چشمِ فسوں ساز مجھے

اور ہو جائے محبت پرِ پرواز مجھے

اڑ کے پہنچوں میں وہاں روح کے طیارے میں

سرعتِ نور سے یا آنکھ کے پلکارے میں

کہ فلک بھی نظر آتا ہے درباز مجھے!

سالہا سال مجھے ڈھونڈیں گے دنیا کے مکیں

دوربینیں بھی نشاں تک نہ مرا پائیں گی

اور نہ پیکر ہی مرا آئے گا پھر سوئے زمیں

عالمِ قدس سے آوازیں مری آئیں گی

بحر خمیازہ کش وقت کی امواجِ حسیں

اک سفینہ مرے نغموں سے بھرا لائیں گی!

ن م راشد

رخصت

ہے بھیگ چلی رات، پر افشاں ہے قمر بھی

ہے بارشِ کیف اور ہوا خواب اثر بھی

اب نیند سے جھکنے لگیں تاروں کی نگاہیں

نزدیک چلا آتا ہے ہنگامِ سحر بھی!

میں اور تم اس خواب سے بیزار ہیں دونوں

اس رات سرِ شام سے بیدار ہیں دونوں

ہاں آج مجھے دور کا در پیش سفر ہے

رخصت کے تصور سے حزیں قلب و جگر ہے

آنکھیں غمِ فرقت میں ہیں افسردہ و حیراں

اک سیلِ بلا خیز میں گم تار نظر آتا ہے

آشفتگیِ روح کی تمہید ہے یہ رات

اک حسرتِ جاوید کا پیغام سحر ہے

میں اور تم اس رات ہیں غمگین و پریشاں

اک سوزشِ پیہم میں گرفتار ہیں دونوں!

گہوارہ ءِ آلامِ خلش ریز ہے یہ رات

اندوہِ فراواں سے جنوں خیز ہے یہ رات

نالوں کے تسلسل سے ہیں معمور فضائیں

سرد آہوں سے، گرم اشکوں سے لبریز ہے یہ رات

رونے سے مگر روح تن آساں نہیں ہوتی

تسکینِ دل و دیدہ ءِ گریاں نہیں ہوتی!

میری طرح اے جان، جنوں کیش ہے تُو بھی

اک حسرتِ خونیں سے ہم آغوش ہے تُو بھی

سینے میں مرے جوشِ تلاطم سا بپا ہے!

پلکوں میں لیے محشرِ پُر جوش ہے تُو بھی

کل تک تری باتوں سے مری روح تھی شاداب

اور آج کس انداز سے خاموش ہے تو بھی

وارفتہ و آشفتہ و کاہیدہ ءِ غم ہیں

افسردہ مگر شورشِ پنہاں نہیں ہوتی

میں نالہ ءِ شب گیر کے مانند اٹھوں گا

فریادِ اثر گیر کے مانند اٹھوں گا

تو وقتِ سفر مجھ کو نہیں روک سکے گی

پہلو سے تیرے تیر کے مانند اٹھوں گا

گھبرا کے نکل جاؤں گا آغوش سے تیری

عشرت گہِ سر مست و ضیا پوش سے تیری!

ہوتا ہوں جدا تجھ سے بصد بیکسی و یاس

اے کاش، ٹھہر سکتا ابھی اور ترے پاس

مجھ سا کوئی ہو گا سیہ بخت جہاں میں

مجھ سا بھی کوئی ہو گا اسیرِ الم و یاس

مجبور ہوں، لاچار ہوں کچھ بس میں نہیں ہے

دامن کو مرے کھینچتا ہے ’’فرض‘‘ کا احساس

بس ہی میں نہیں ہے مرے لاچار ہوں مَیں بھی

تو جانتی ہے ورنہ وفا دار ہوں میں بھی!

ہو جاؤں گا مَیں تیرے طرب زار سے رخصت

اس عیش کی دنیائے ضیا بار سے رخصت

ہو جاؤں گا اک یادِ غم انگیز کو لے کر

اس خلد سے، اس مسکنِ انوار سے رخصت

تو ہو گی مگر بزمِ طرب باز نہ ہو گی

یہ ارضِ حسیں جلوہ گہِ راز نہ ہو گی

مَیں صبح نکل جاؤں گا تاروں کی ضیا میں

تُو دیکھتی رہ جائے گی سنسان فضا میں

کھو جاؤں گا اک کیف گہِ روح فزا میں

آغوش میں لے لے گی مجھے صبح درخشاں

او میرے مسافر، مرے شاعر، مرے راشدؔ

تُو مجھ کو پکارے گی خلش ریز نوا میں!

اُس وقت کہیں دور پہنچ جائے گا راشدؔ

مرہونِ سماعت تری آواز نہ ہو گی!

ن م راشد

رات عفریت سہی

رات عفریت سہی،

چار سو چھائے ہوئے موئے پریشاں جس کے

خون آلودہ نگاہ و لب و دنداں جس کے

ناخنِ تیز ہیں سوہانِ دِل و جاں جس کے

رات عفریت سہی،

شکرِ للہ کہ تابندہ ہے مہتاب ابھی

چند میناؤں میں باقی ہے مئے ناب ابھی

اور بے خواب مرے ساتھ ہیں احباب ابھی

رات عفریت سہی،

اسی عفریت نے سو بار ہزیمت پائی

اس کی بیداد سے انساں نے راحت پائی

جلوہ ءِ صبحِ طرب ناک کی دولت پائی

رات عفریت سہی،

آؤ احباب کہ پھر جشنِ سحر تازہ کریں

پھر تمناؤں کے عارض پہ نیا غازہ کریں

ابنِ آدم کا بلند آج پھر آوازہ کریں

13، فروری 1953ء

ن م راشد

رات شیطانی گئی

رات شیطانی گئی ۔۔۔

ہاں مگر تم مجھ کو الجھاؤنہیں

میں نے کچل ڈالے ہیں کتنے خوف

اِن پاکیزہ رانوں کے تلے

(کر رہا ہوں عشق سے دھوئی ہوئی

رانوں کی بات!)

رات شیطانی گئی تو کیا ہوا؟

لاؤ، جو کچھ بھی ہے لاؤ

یہ نہ پوچھو

راستہ کے گھونٹ باقی ہے ابھی

آج اپنے مختصر لمحے میں اپنے اُس خدا کو

رُوبرو لائیں گے ہم

اپنے ان ہاتھوں سے جو ڈھالا گیا۔۔۔

آج آمادہ ہیں پی ڈالیں لہو۔۔۔۔

اپنا لہو۔۔۔۔

تابکے اپنے لہو کی کم روائی تابکے؟

سادگی کو ہم کہیں گے پارسائی تابکے؟

دست ولب کی نارسائی تابکے؟

لاؤ، جو کچھ بھی ہے لاؤ

رات شیطانی گئی تو کیا ہوا؟

صَوت و رنگ و نور کا وہ رجز گاؤ

جو کبھی گاتے تھے تم

رات کے حجرے سے نکلو

اور اذانوں کی صدا سننے کی فرصت دو ہمیں۔۔۔

رات کے اس آخری قطرے سے جو اُبھری ہیں

اُن بکھری اذانوں کی صدا۔۔۔

رات۔۔۔شیطانی گئی تو کیا ہوا؟

ن م راشد

رات خیالوں میں گُم

پھول کی پتّی ٹھہر، رات کے دل پر ہے بار

رات خیالوں میں گُم

طائرِ جاں پر نہ مار،

رات خیالوں میں گُم

کونسی یادوں میں گُم ہے شبِ تاریدہ مُو؟

رنجِ مسافت کا طُول

(جس کی ہے تُو خود رسول!)

وقت کے چہرے کا رنگ؟

جو کبھی قرمز، کبھی زرد، کبھی لاجورد

(تو کہ سیاہی میں فرد

کوریِ میداں کی مرد!)

راہ کی مہماں سرا؟ (سانس سے پستاں ترے کیسے ہمکتے رہے!)

تاجروں کا قافلہ ، ایک نظر باز تھے

حیلوں سے تکتے رہے!

راہ کی مہماں سرا، خوف سے بستر بھی سنگ

وہم سے رویا بھی دنگ

نالہ ءِ درویش سے صبح کے پیکر پہ ضرب

(ختمِ تمنّا کا کرب!)

عشق کا افسانہ گو ہرزہ گری سے نڈھال

ظلم کی شاخوں سے ژولیدہ زمانوں کی فال

حاشیہ ءِ مرگ پر رہروؤں کے نشاں

ریت کے جالوں میں گم

ریت سوالوں میں گُم

رات خیالوں میں گُم!

(سر جو اٹھائے ذرا ہم تری دعوت منائیں

جشنِ ارادت رچائیں!)

کونسی یادوں میں گُم ہے شبِ تاریدہ مُو؟

ایک جزیرہ کہیں عیش وفا کا عدن!

سحر زدہ مر د و زن رقص کناں کُو بکُو

ننگے بدن، تشنہ جاں!

کہنے لگے: دہ خدا کا ہمیں فرماں یہی،

سرد رگوں میں ہو خوں، رقص کریں پھر بھی ہم

جشن ہے کیوں۔۔۔؟

بجھتے گئے سب چراغ، زندہ رہا اِک الاؤ

جس کی دہک سے زمیں اور ہوئی آتشیں

اور ہوئی عنبریں!

اور وہ تنہا دیار چاند سے بھی دُور دست

جس میں اذاں زیرِ لب جس میں فغاں غم سے پست

ایک ہی ہُو کا کھنڈر، جبرِ ریا راد بست

فکر کے مجذوب چُب، حرف کے دیوانے مست

(تجھ کو رہی نور بھر سطحِ خدا کی تلاش

جس کو کوئی چھو سکے: اب تو ہٹا آنکھ سے

بارِ جہاں کی سلیں!)

سطحِ خدا آئنہ اور رخ نیستی

محض ہیولائے ہست!

رات ذرا سر اٹھا، فرش سے چسپیدہ تو

جیسے کنویں سے نبات!

رات ذرا سر اٹھا، ہم کہ نہیں دشتِ صفر

ہم کہ عدم بھی نہیں!

سیر تری بے بہا اور ترا ہفت خواں

تاب میں کم بھی نہیں!

ہاتھ مگر شل ترے، تیرے قدم بھی نہیں!

اور اگر ہوں تو کیا؟

صبح کے بلّور پر کس کو میّسر ثبات؟

رات ذرا سر اٹھا

اور نہ کوتاہ کر اپنی مسافت کی راہ

کیوں ہے خیالوں میں گُم؟

کیسے خیالوں میں گُم؟

ن م راشد

دوری

ن م راشد

مجموعہ کلام ایران میں اجنبی

مُجھے موت آئے گی، مَر جاؤں گا میں

تُجھے موت آئے گی، مَر جائے گی توُ

وہ پہلی شبِ مہ شبِ ماہِ نیم بن جائے گی

جس طرح سازِ کُہنہ کے تارِ شکستہ کے دونوں سِرے

دو اُفق کے کناروں کے مانند

بس دُور ھی دُور سے تھرتھراتے ھیں اور پاس آتے نہیں ھیں

نہ وہ راز کی بات ھونٹوں پہ لاتے ھیں

جس نے مُغنّی کو دورِ زماں و مکاں سے نکالا تھا،

بخشی تھی خوابِ ابد سے رھائی!

یہ سچ ھے تو پھر کیوں

کوئی ایسی صوُرت، کوئی ایسا حِیلہ نہ تھا

جس سے ھم آنے والے زمانے کی آھٹ کو سُن کر

وھیں اُس کی یورش کو سینوں پہ یوُں روک لیتے:

کہ ھم تیری منزل نہیں، تیرا ملجا و ماویٰ نہیں ھیں

یہ سوچا تھا شاید

کہ خود پہلے اِس بُعد کے آفرینندہ بن جائیں گے

اب جو اِک بحرِ خمیازہ کش بن گیا ھے!

تو پھر اَزسرِ نو مسّرت سے، نورس نئی فاتحانہ مسّرت سے

پائیں گے بھوُلی ھوُئی زندگی کو

وھی خوُد فریبی، وھی اَشک شوئی کا ادنیٰ بہانہ!

مگر اَب وھی بُعد سرگوشیاں کر رھا ھے:

کہ توُ اپنی منزل کو واپس نہیں جا سکے گا،

نہیں جا سکے گا ۔۔۔۔۔۔۔

مُجھے موت آئے گی، مَر جاؤں گا میں،

تُجھے موت آئے گی، مَر جائے گی توُ

یہ عفریت پہلے ہزیمت اُٹھائے گا، مِٹ جائے گا!

ن م راشد

دوئی کی آبنا (کتاب ورژن)

ہمیں ہیں وہ کہ جن کی اِک نگاہ سے

صدا دوئی کی آبنا کے آرپار اتر گئی

وہ عشق جس کی عمر

آدمی سے بھی طویل تر

وہ محض اشتہانہیں

وہ محض کھیل بھی نہیں

وہ آب ونان کا رُکا ہوا سوال بھی نہیں

وہ اپنے ہی وجود کا حسد نہیں

جو موت نے بچھا رکھا ہو ایسا

ناگزیر جال بھی نہیں

یہ ہم،

جوحادثے کے لائے و گل سے یا

نصیب کے غبار سے نہیں اٹھے

ازل کے حافظے کے درد سے اٹھے

جوہوش کے شگاف سے۔۔۔۔

جواستوائے جسم وروح سے اٹھے۔۔۔۔

ہمیں ہیں وہ کہ جن کی اک نگاہ سے

صدا دوئی کی آبنا کے آرپار اتر گئی

۔۔۔۔اوراس صدا سے ایک ایسا مرحلہ برس پڑا

جوبے نیازِ بُعدتھا

جومشرقِ وجود تھا

وہ مرحلہ برس پڑا!

ہماری ایک جراْتِ نگاہ سے

تمام لوگ جاگ اٹھے

صداکی شمع ہاتھ میں لیے ہوئے

دوئی کی آبنا کے آرپارڈھونڈنے لگے

اُسی طلوع کی خبر

جووقت کی نئی کرن کے پھوٹتے ہی

ساحلَ نمود پر

کم التفات انگلیوں کے درمیاں پھسل گیا!

صدا پکارتی ہے پھر

وہی طلوع جس کوروچکے تھے تم

ابھی ابھی

دوئی کی آبنا کے ساحلوں کی مرگ ریت پر

جھلک اُٹھا!

ن م راشد

دوئی کی آبنا (پرانا ورژن)

ہمیں ہیں وہ کہ جن کی اک نگاہ سے

ٍصدا دوئی کی آبنا کے آر پار اُتر گئی

نہیں مجھے نہ کھاؤ تم

نہیں کہ میں غذا نہیں

مجھے نہ کھا سکو گے تم

میں آب و نان سے بندھا ہوا نہیں

میں اپنے آپ سے بھرا ہوا نہیں

ہیں میرے چار سو وہ آرزو کے تار

تارِ خار دار

جن کو کھا نہیں سکو گے تم

نہیں مجھے نہ کھاؤ تم

ابھی نہ کھا سکو گے تم!

یہ سانپ دیکھتے ہو کیا؟

تمہارے جسم و جاں میں کھا رہا ہے بل

تمام دن، تمام رات

(وہ سانپ جس سے سب سے پہلی مرتبہ بہشت میں ملے تھے تم)

کبھی یہ اپنے زہر ہی میں جل کے خاک ہو گیا

کبھی یہ اپنے آپ کو نگل کے پاک ہو گیا

کبھی یہ اپنے آپ ہی میں سو گیا

تو پھر کھلیں گے سب کے ہاتھ

اب کے پاؤں اس نئے الاپ کی طرف بڑھیں گے

جس سے ہر وصال کی نمود ہے

نہیں مجھے نہ کھاؤ تم

یہ جانتے نہیں ہو تم

نہنگ مچھلیوں کو کھا رہے تھے۔۔۔

کھا رہے تھے

آخر اک بڑا نہنگ رہ گیا

ہزار من کا اک بڑا نہنگ (اکیلی جان) زندہ رہ گیا

اور اپنے اس اکیلے پن سے تنگ آ کے

اپنے آپ ہی کو کھا گیا!!

کہ نان و آب سے بندھے ہوؤں کا۔۔۔

اپنے آپ سے بھرے ہوؤں کا۔۔۔۔۔

بس یہی مآل ہے

یہ آخری وصال ہے!

مگر وہ عشق۔۔۔ جس کی عُمر ہم سے بھی طویل تر

وہ محض اشتہا نہیں

وہ محض کھیل بھی نہیں

وہ آب و نان کا رکا ہوا سوال بھی نہیں

وہ اپنے ہی وجود کا حسد نہیں

جو موت نے بچھا رکھا ہو

ایسا نا گزیر جال بھی نہیں

یہ ہم

جو حادثے کے لائے گِل سے یا

نصیب کے غبار سے نہیں اٹھے

ازل کے حافظے کے درد سے اٹھے

جو ہوش کے شگاف سے

جو استوائے جسم و روح سے اٹھے

ہمیں نہ کھا سکو گے تم

ہمیں ہیں وہ کہ جن کی اک نگاہ سے

صدا دوئی کی آبنا کے آر پار اُتر گئی

اور اس صدا سے ایک ایسا مرحلہ برس پڑا

جو بے نیازِ بُعد تھا

جو مشرقِ وجود تھا

وہ مرحلہ برس پڑا

تو کس طرح کہوں کہ ہم

تمام آب و نان کا رکا ہوا سوال ہیں؟

تمام اپنی بھوک کا جواب ہیں؟

نہیں مجھے نہ کھاؤ تم

کہ ایک میری جرأت نگاہ سے

تمام لوگ جاگ اٹھے

صدا کی شمع ہاتھ میں لیے ہوئے

دوئی کی آبنا کے آر پار ڈھونڈھنے لگے

اُسے طلوع کی خبر

جو وقت کی نئی کرن کے پھوٹتے ہی، ساحلِ نمود پر

کم التفات انگلیوں کے درمیاں سے نا گہاں پھسل گیا

کہ وہ طلوع جس کو رو چکے تھے ہم

پھر آج ان کے ساحلوں کی ریت سے

جھلک اٹھے

ن م راشد

دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل

نغمہ در جاِ رقص برپا، خندہ بر لب

دل، تمنّاؤں کے بے پایاں الاؤ کے قریب!

دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل

ریگ کے دل شاد شہری، ریگ تُو

اور ریگ ہی تیری طلب

ریگ کی نکہت ترے پیکر میں، تیری جاں میں ہے!

ریگ صبحِ عید کے مانند زرتاب و جلیل،

ریگ صدیوں کا جمال،

جشنِ آدم پر بچھڑ کر ملنے والوں کا وصال،

شوق کے لمحات کے مانند آزاد و عظیم!

ریگ نغمہ زن

کہ ذرے ریگ زاروں کو وہ پازیبِ قدیم

جن پہ پڑ سکتا نہیں دستِ لئیم،

ریگِ صحرا زرگری کی ریگ کی لہروں سے دُور

چشمہ ءِ مکر و ریا شہروں سے دُور!

ریگ شب بیدار ہے، سنتی ہے ہر جابر کی چاپ

ریگ شب بیدار ہے، نگراں ہے مانندِ نقیب

دیکھتی ہے سایہ ءِ آمر کی چاپ

ریگ ہر عیّار، غارت گر کی موت

ریگ استبداد کے طغیاں کے شور و شر کی موت

ریگ جب اٹھتی ہے، اڑ جاتی ہے ہر فاتح کی نیند

ریگ کے نیزوں سے زخمی، سب شہنشاہوں کے خواب!

(ریگ، اے صحرا کی ریگ

مجھ کو اپنے جاگتے ذروں کے خوابوں کی

نئی تعبیر دے!)

ریگ کے ذرّو ، ابھرتی صبح تم،

آؤ صحرا کی حدوں تک آ گیا روزِ طرب

دل، مرے صحرا نوردِ پیرِ دل،

آ چوم ریگ!

ہے خیالوں کے پری زادوں سے بھی معصوم ریگ!

ریگ رقصاں، ماہ و سالِ نور تک رقصاں رہے

اس کا ابریشم ملائم، نرم خُو، خنداں رہے!

دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل

یہ تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ

راہ گم کردوں کی مشعل، اس کے لب پر’ آؤ، آؤ!‘

تیرے ماضی کے خزف ریزوں سے جاگی ہے یہ آگ

آگ کی قرمز زباں پر انبساطِ نو کے راگ

دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل،

سرگرانی کی شبِ رفتہ سے جاگ!

کچھ شرر آغوشِ صرصر میں ہیں گُم،

اور کچھ زینہ بہ زینہ شعلوں کے مینار پر چڑھتے ہوے

اور کچھ تہہ میں الاؤ کی ابھی

مضطرب، لیکن مذبذبِ طفل کمسن کی طرح!

آگ زینہ، آگ رنگوں کا خزینہ

آگ اُن لذّات کا سرچشمہ ہے

جس سے لیتا ہے غذا عشاق کے دل کا تپاک!

چوبِ خشک، انگور اس کی مے ہے آگ

سرسراتی ہے رگوں میں عید کے دن کی طرح!

آگ کا ہن، یاد سے اُتری ہوئی صدیوں کی یہ افسانہ خواں

آنے والے قرنہا کی داستانیں لب پہ ہیں

دل، مرا صحرا نوردِ پیر دل سن کر جواں!

آگ آزادی کا، دلشادی کا نام

آگ پیدائش کا، افزائش کا نام

آگ کے پھولوں میں نسریں، یاسمن، سنبل، شفیق و نسترن

آگ آرائش کا، زیبائش کا نام

آگ وہ تقدیس، دھُل جاتے ہیں جس سے سب گناہ

آگ انسانوں کی پہلی سانس کے مانند اِک ایسا کرم

عمر کا اِک طول بھی جس کا نہیں کافی جواب!

یہ تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہو

اس لق و دق میں نکل آئیں کہیں سے بھیڑیے

اس الاؤ کو سدا روشن رکھو!

(ریگِ صحرا کو بشارت ہو کہ زندہ ہے الاؤ،

بھیڑیوں کی چاپ تک آتی نہیں!)

آگ سے صحرا کا رشتہ ہے قدیم

آگ سے صحرا کے ٹیڑھے، رینگنے والے

گرہ آلود، ژولیدہ درخت

جاگتے ہیں نغمہ درجاں، رقص برپا، خندہ برلب

اور منا لیتے ہیں تنہائی میں جشنِ ماہتاب

ان کی شاخیں غیر مرئی طبل کی آواز پر دیتی ہیں تال

بیخ و بُن سے آنے لگتی ہے خداوندی جلاجل کی صدا!

آگ سے صحرا کا رشتہ ہے قدیم

رہروؤں، صحرانوردوں کے لیے ہے رہنما

کاروانوں کا سہارا بھی ہے آگ

اور صحراؤں کی تنہائی کو کم کرتی ہے آگ!

آگ کے چاروں طرف پشمینہ و دستار میں لپٹے ہوئے

افسانہ گو

جیسے گرد چشمِ مژگاں کا ہجوم

ان کے حیرتناک، دلکش تجربوں سے

جب دمک اُٹھتی ہے ریت

ذرّہ ذرّہ بجنے لگتا ہے مثالِ سازِجاں

گوش برآواز رہتے ہیں درخت

اور ہنس دیتے ہیں اپنی عارفانہ بے نیازی سے کبھی!

یہ تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہو

ریگ اپنی خلوتِ بے نور و خودبیں میں رہے

اپنی یکتائی کی تحسیں میں رہے

اس الاؤ کو سدا روشن رکھو!

یہ تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہو

ایشیا، افریقہ پہنائی کا نام

(بے کار پہنائی کا نام)

یوروپ اور امریکہ دارائی کا نام،

(تکرارِ دارائی کا نام!)

میرا دلِ صحرا نورد پیر دل

جاگ اٹھا ہے، مشرق و مغرب کی ایسی یک دلی

کے کاروانوں کا نیا رویا لیے،

یک دلی ایسی کہ ہو گی فہمِ انساں سے ورا

یک دلی ایسی کہ ہم سب کہہ اٹھیں:

اس قدر عجلت نہ کر

اژدہامِ گل نہ بن!

کہہ اٹھیں ہم :

تُو غمِ کُل تو نہ تھی

اب لذّتِ کل بھی نہ بن

روزِ آسائش کی بے دردی نہ بن

یک دلی بن، ایسا سنّاٹا نہ بن،

جس میں تابستاں کی دوپہروں کی

بے حاصل کسالت کے سوا کچھ بھی نہ ہو!

اس جفاگر یک دلی کے کارواں یوں آئیں گے

دستِ جادو گر سے جیسے پھوٹ نکلے ہوں طلسم،

عشقِ حاصل خیز سے، یا زورِ پیدائی سے جیسے ناگہاں

کھُل گئے ہوں مشرق و مغرب کے جسم،

۔۔ جسم، صدیوں کے عقیم!

کارواں فرخندہ پَے، اور اُن کا بار

کیسہ کیسہ تختِ جم اور تاجِ کَے

کوزہ کوزہ فرد کی سطوت کی مے

جامہ جامہ روز و شب محنت کا خَے

نغمہ نغمہ حریّت کی گرم لَے!

سالکو، فیروز بختو، آنے والے قافلو

شہر سے لوٹوگے تم تو پاؤ گے

ریت کی سرحد پہ جو روحِ ابد خوابیدہ تھی

جاگ اٹھی ہے، شکوہ ہائے نَے سے وہ

ریت کی تہہ میں جو شرمیلی سحر روئیدہ تھی

جاگ اٹھی ہے حریّت کی لَے سے وہ!

اتنی دوشیزہ تھی، اتنی مردِ نادیدہ تھی صبح

پوچھ سکتے تھے نہ اس کی عمر ہم!

درد سے ہنستی نہ تھی،

ذرّوں کی رعنائی پہ بھی ہنستی نہ تھی،

ایک محجوبانہ بے خبری میں ہنس دیتی تھی صبح!

اب مناتی ہے وہ صحرا کا جلال

جیسے عزّ و جل کے پاؤں کی یہی محراب ہو!

زیرِ محراب آ گئی ہو اس کو بیداری کی رات

خود جنابِ عزّ و جل سے جیسے امیدِ زفاف

(سارے ناکردہ گناہ اس کے معاف!)

صبحِ صحرا، شاد باد!

اے عروسِ عزّ و جل، فرخندہ رُو، تابندہ خُو

تُو اک ایسے حجرہ ءِ شب سے نکل کر آئی ہے

دستِ قاتل نے بہایا تھا جہاں ہر سیج پر

سینکڑوں تاروں کا رخشندہ لہو، پھولوں کے پاس!

صبحِ صحر، سر مرے زانو پہ رکھ کر داستاں

اُن تمنا کے شہیدوں کی نہ کہہ

ان کی نیمہ رس امنگوں، آرزوؤں کی نہ کہہ

جن سے ملنے کا کوئی امکاں نہیں

شہد تیرا جن کو نوشِ جاں نہیں!

آج بھی کچھ دُور، اس صحرا کے پار

دیو کی دیوار کے نیچے نسیم

روز و شب چلتی ہے مبہم خوف سے سہمی ہوئی

جس طرح شہروں کی راہوں پر یتیم

نغمہ بر لب تاکہ ان کی جاں کا سناٹا ہو دُور!

آج بھی اس ریگ کے ذروں میں ہیں

ایسے ذرّے، آپ ہی اپنے غنیم

آج بھی اس آگ کے شعلوں میں ہیں

وہ شرر جو اس کی تہہ میں پر بریدہ رہ گئے

مثلِ حرفِ ناشنیدہ رہ گئے!

صبحِ صحرا، اے عروسِ عزّ و جل

آ کہ ان کی داستاں دہرائیں ہم

ان کی عزّت، ان کی عظمت گائیں ہم

صبح، ریت اور آگ، ہم سب کا جلال!

یک دلی کے کارواں اُن کا جمال

آؤ!

اس تہلیل کے حلقے میں ہم مل جائیں

آؤ!

شاد باغ اپنی تمناؤں کا بے پایاں الاؤ!

ن م راشد

دل سوزی

یہ عشقِ پیچاں کے پھول پتے جو فرش پر یوں بکھر رہے ہیں

یہ مجھ کو تکلیف دے رہے ہیں، یہ مجھ کو غمگین کر رہے ہیں

انھیں یہاں سے اٹھا کے اک بار پھر اسی بیل پر لگا دو

وگرنہ مجھ کو بھی ان کے مانند خواب کی گود میں سلا دو!

خزاں زدہ اک شجر ہے، اُس پر ضیائے مہتاب کھیلتی ہے

اور اُس کی بے رنگ ٹہنیوں کو وہ اپنے طوفاں میں ریلتی ہے

کوئی بھی ایسی کرن نہیں جو پھر اس میں روحِ بہار بھر دے

تو کیوں نہ مہتاب کو بھی یا رب تو یونہی بے برگ و بار کر دے!

ندیم، آہستہ زمزموں کے سرودِ پیہم کو چھوڑ بھی دے

اُٹھا کے ان نازک آبگینوں کو پھینک دے اور توڑ بھی دے

وگرنہ اک آتشیں نوا سے تو پیکر و روح کو جلا دے

عدم کے دریائے بیکراں میں سفینہ ءِ زیست کو بہا دے!

ن م راشد

دستِ ستمگر

یہاں اس سرائے سرِپُل میں یوں تو،

رہی ہر ملاقات تنہائیِ سخت تر کا ہیولا،

مگر آج کی یہ جدائی

سپاہی کے دل کی کچھ ایسی جراحت ہے

جو اس کو بستر میں آسودہ رکھے گی، لیکن

کبھی اس کے ہونٹوں پہ

ہلکی سی موجِ تبسم بھی اٹھنے نہ دے گی!

خدا حافظ، اے گل عذارِ لہستان،

مبارک کہ تو آج دنیائے نو کو چلی ہے!

جہاں تیرا ہمسر تجھے آج لے جا رہا ہے،

لہستاں تو بےشک وہاں بھی نہ ہو گا،

مگر اس ولایت میں

جو حرّیت کیش جمہور کی آنکھ کا ہے درخشندہ تارا

تجھے بے حقیقت سہاروں سے،

غیروں کی خاطر شب و روز کی اس مشقّت سے،

کچھ تو ملے گی رہائی!

وہاں تجھ کو آہنگِ رنگ و زباں

کچھ تو تسکین دے گا،

اور اِس غم سے پامال ہجرت گزینوں کے

سہمے ہوئے قافلے سے

الگ ہو کے منزل کا دھوکا تو ہو گا!

یہ مانا کہ تو شاخسارِ شکستہ ہے

اور شاخسارِ شکستہ رہے گی؛

مگر اس نئی سرزمیں میں

تجھے سبز پتوں کی، شاداب پھولوں کی، امید پیدا تو ہو گی!

تجھے کیسے روندا گیا ہے،

تجھے دربدر کیسے راندا گیا ہے،

میں سب جانتا ہوں کہ شاکی ہے تو جس الم کی

وہ تنہا کسی کا نہیں ہے،

وہ بڑھتا ہوا

آج ذرّے سے عفریت بنتا چلا جا رہا ہے!

تو نازی نہ تھی،

تجھ کو فاشی تخیّل سے کوئی لگاؤ نہ تھا

بس ترا جرم یہ تھا، تجھے عافیت کی طلب تھی،

وطن کی محبت بھری سرزمیں کی

شبِ ماہ، بزمِ طرب، جام و مینا کی

منزل کی آسودگی کی طلب تھی،

طلب تھی سحرگاہ، محبوب کے گرم، راحت سے لبریز

بالش پہ خوابِ گراں کی!

اور اس جرم کی یہ سزا، (اے خدا)

سامنے تیری بے بس نگاہوں کے محبوب کی لاش،

پھر اجنبی قید میں

روس کے برف زاروں میں بیگار

روٹی کے شب ماندہ ٹکڑوں کی خاطر؟

اور اب سال بھر سے

یہ فوجی سراؤں میں خدمت گزاری

یہ دریوزہ کوشی،

یہ دو نیم، بے مدعا زندگی

جس کا ماضی تو ویران تھا،

آئندہ و حال بھی بے نشاں ہو چکے ہیں!

حقیقت کی دنیا تو ہے ہی،

مگر اک خیالوں کی، خوابوں کی دنیا بھی ہوتی ہے

جو آخرِ کار بنتی ہے تقدیر کا خطِ جادہ!

مگر یہ ستم کی نہایت،

کہ تیرے خیالوں پہ خوابوں پہ بھی

توبہ تو یاس کائی کے مانند جمنے لگی تھی!

کہاں بھول سکتا ہوں، اے عندلیبِ لہستاں

وہ نغمے، لہستاں کے دہقانی نغمے

جو فوجی سرائے کی بے کار شاموں میں

تیری زباں سے سنے ہیں ۔۔

وہ جن میں سیہ چشم ہندی کی خاطر

لہستاں کی عورت کا دل یوں دھڑکتا ہے

جیسے وہ ہندی کی مشکینہ رعنائیوں تک پہن کر رہے گا!

جنھیں سن کے محسوس ہوتا رہا ہے

کہ مغرب کی وہ روحِ شب گرد

جو پے بہ پے وسوستوں میں گھری ہے،

تعاقب کیا جا رہا ہے دبے پاؤں جس کا

اب آخر شبستانِ مشرق کے اجڑے ہوئے آشیانوں کے اوپر

لگاتار منڈلا رہی ہے!

اسی روحِ شب گرد کا

اک کنایہ ہے شاید

یہ ہجرت گزینوں کا بکھرا ہوا قافلہ بھی

جو دستِ ستمگر سے مغرب کی، مشرق کی پہنائیوں میں

بھٹکتا ہوا پھر رہا ہے!

خدا حافظ، اے ماہتابِ لہستاں!

یہ اِک سہارا ہے باقی ہمارے لیے بھی

کہ اس اجنبی سرزمیں میں

ہے یہ ساز و ساماں بھی گویا

ہوا کی گزرگاہ میں اک پرِکاہ!

بکھر جائے گا جلد

افسردہ حالوں کا، خانہ بدوشوں کا یہ قافلہ بھی

اور اِک بار پھر عافیت کی سحر

اس کا نقشِ کفِ پا بنے گی!

ن م راشد

دریچے کے قریب

جاگ اے شمعِ شبستانِ وصال

محفلِ خواب کے اس فرشِ طرب ناک سے جاگ!

لذتِ شب سے ترا جسم ابھی چور سہی

آ مری جان، مرے پاس دریچے کے قریب

دیکھ کس پیار سے انوارِ سحر چومتے ہیں

مسجدِ شہر کے میناروں کو

جن کی رفعت سے مجھے

اپنی برسوں کی تمنا کا خیال آتا ہے!

سیمگوں ہاتھوں سے اے جان ذرا

کھول مَے رنگ جنوں خیز آنکھیں!

اسی مینار کو دیکھ

صبح کے نور سے شاداب سہی

اسی مینار کے سائے تلے کچھ یاد بھی ہے

اپنے بیکار خدا کی مانند

اونگھتا ہے کسی تاریک نہاں خانے میں

ایک افلاس کا مارا ہوا ملّائے حزیں

ایک عفریت____ اُداس

تین سو سال کی ذلت کا نشاں

ایسی ذلت کہ نہیں جس کا مداوا کوئی!

دیکھ بازار میں لوگوں کا ہجوم

بے پناہ سَیل کے مانند رواں!

جیسے جنات بیابانوں میں

مشعلیں لے کر سرِ شام نکل آتے ہیں،

ان میں ہر شخص کے سینے کے کسی گوشے میں

ایک دلہن سی بنی بیٹھی ہے

ٹمٹماتی ہوئی ننھی سی خودی کی قندیل

لیکن اتنی بھی توانائی نہیں

بڑھ کے ان میں سے کوئی شعلہ ءِ جوّالہ بنے!

ان میں مفلس بھی ہیں بیمار بھی ہیں

زیرِ افلاک مگر ظلم سہے جاتے ہیں!

ایک بوڑھا سا تھکا ماندہ سا رہوار ہوں میں!

بھوک کا شاہ سوار

سخت گیر اور تنومند بھی ہے؛

میں بھی اس شہر کے لوگوں کی طرح

ہر شبِ عشق گزر جانے پر

بہرِ جمع خس و خاشاک نکل جاتا ہوں

چرخ گرداں ہے جہاں

شام کو پھر اسی کاشانے میں لوٹ آتا ہوں

بے بسی میری ذرا دیکھ کہ میں

مسجدِ شہر کے میناروں کو

اس دریچے میں سے پھر جھانکتا ہوں

جب انہیں عالمِ رخصت میں شفق چومتی ہے!

ن م راشد

در ویش

زمستان کی اس شام

نیچے خیابان میں،

میرے دریچے کے پائیں،

جہاں تِیرگی منجمند ہو گئی ہے

یہ بھاری یخ آلود قدموں کی آواز

کیا کہہ رہی ہے:

خداوند!

کیا آج کی رات بھی

تیری پلکوں کی سنگیں چٹانیں

نہیں ہٹ سکیں گی؟

خیابان تو ہے دور تک گہری ظلمت کا پاتال،

اور میں اس میں غوطہ زنی کر رہا ہوں

صداؤں کے معنی کی سینہ کشائی کی خاطر چلا ہوں!

یہ درویش،

جس کے اب وجد،

وہ صحرائے دیروز کی ریت پر

تھک کر مر جانے والے،

اس کی طرح تھے

تہی دست اور خاکِ تِیرہ میں غلطاں،

جو تسلیم کو بے نیازی بنا کر

ہمیشہ کی محرومیوں ہی کو اپنے لئے

بال و پَر جانتے تھے،

جنھیں تھی فروغِ گدائی کی خاطر

جلالِ شہی کی بقا بھی گوارا

جو لاشوں میں چلتے تھے

کہتے تھے لاشوں سے:

سوتے رہو!

صبح فردا کہیں بھی نہیں ہے!

وہ جن کے لئے حُریت کی نہایت یہی تھی

کی شاہوں کا اظہارِ شاہنشہی

حد سے بڑھنے نہ پائے!

بھلا حد کی کس کو خبر ہے؟

مگر آج کا یہ گدا،

یہ ہمیشہ کا محروم بھی

اُن اب و جد کے مانند

گو وقت کے شاطروں کی سیاست کا مارا ہوا ہے،

ستم یہ کہ اس کے لئے آج،

مُلّائے رومی کے،

مجذوبِ شیراز کے

زنگ آلود اوہام بھی

دستگیری کو حاضر نہیں ہیں!

خداوند!

کیا آج کی رات بھی

تیری پلکوں کی سنگیں چٹانیں

نہیں ہٹ سکیں گی؟

تجھے، اے زمانے کے روندے ہوئے،

آج یہ بات کہنے کی حاجت ہی کیوں ہو؟

تو خوش ہو

کہ تیرے لئے کھل گئی ہیں ہزاروں زبانیں

جو تیری زباں بن کے

شاہوں کے خوابیدہ محلوں کے چاورں طرف

شعلے بن کے لپٹتی جا رہی ہے!

سیاست نے سوچا ہے

تیری زبان بند کر دے،

سیاست کو یہ کیوں خبر ہو

کہ لب بند ہوں گے

تو کھل جائیں گے دست و بازو؟

وہ بھاری یخ آلود قدموں کی آواز

یک لخت خاموش کیوں ہو گئی ہے؟

نو آموز مشرق کے

نو خیز آئین کے تازیانو،

سکوتِ گدا سے

گدائی تو ساکت نہ ہو گی!

ن م راشد

داشتہ

میں ترے خندہ ءِ بے باک سے پہچان گیا

کہ تری روح کو کھاتا سا چلا جاتا ہے،

کھوکھلا کرتا چلا جاتا ہے، کوئی المِ زہرہ گداز

میں تو اس پہلی ملاقات میں یہ جان گیا!

آج یہ دیکھ کے حیرت نہ ہوئی

کہ تری آنکھوں سے چپ چاپ برسنے لگے اشکوں کے سحاب؛

اس پہ حیرت تو نہیں تھی، لیکن

کسی ویرانے میں سمٹے ہوئے خوابیدہ پرندے کی طرح

ایک مبہم سا خیال

دفعتاً ذہن کے گوشے میں ہوا بال فشاں:

کہ تجھے میری تمنا تو نہیں ہو سکتی

آج، لیکن مری باہوں کے سہارے کی تمنا ہے ضرور،

یہ ترے گریہ ءِ غمناک سے میں جان گیا

تجھ سے وابستگیِ شوق بھی ہے،

ہو چلی سینے میں بیدار وہ دل سوزی بھی

مجھ سے مہجورِ ازل جس پہ ہیں مجبورِ ازل!

نفسِ خود بیں کی تسلی کے لیے

وہ سہارا بھی تجھے دینے پہ آمادہ ہوں

تجھے اندوہ کی دلدل سے جو آزاد کرے

کوئی اندیشہ اگر ہے تو یہی

تیرے ان اشکوں میں اک لمحے کی نومیدی کا پرتو ہو تو کہیں،

اور جب وقت کی امواج کو ساحل مل جائے

یہ سہارا تری رسوائی کا اک اور بہانہ بن جائے!

جس طرح شہر کا وہ سب سے بڑا مردِ لئیم

جسم کی مزدِ شبانہ دے کر

بن کے رازق تری تذلیل کیے جاتا ہے

میں بھی باہوں کا سہارا دے کر____

تیری آئندہ کی توہین کا مجرم بن جاؤں!

ن م راشد