زمرہ جات کے محفوظات: آزاد نظم

خلوت میں جلوت

حَسن، اپنا ساتھی

جو اُس رات، نوروز کے ہاں

جمالِ عجم کے طِلسمات میں بہہ گیا تھا

پھر اِک بار مستی میں جلوت کو خلوت سمجھ کر

بڑی دیر تک رُوبرُو آئنے کے

کھڑا جُھولتا مُنہ چڑاتا رہا تھا،

وہ بّلور کی بے کراں جھیل کے دیو کو گالیاں دے کر ہنستا رہا تھا،

حَسن اپنی آنکھوں میں رقت کا سیلاب لا کر

زمستان کی اس شام کی تازہ مہمان سے

اُس شہرِ آشوبِ طہراں سے

کہتا چلا جا رہا تھا :

تُو میری بہن ہے،

تُو میری بہن ہے،

اُٹھ اے میری پیاری بہن میری زہرا!

ابھی رات کے دَر پردستک پڑے گی،

تجھے اپنے کاشانہ ءِ ناز میں چھوڑ آؤں!

اور اِس پر برافروختہ تھے،

پریشان تھے سب ہم!

جونہی اُس کو جعفر نے دیکھا نگاہیں بدل کر

وہ چِلّا کے بولا:

درندو

اسے چھوڑ دو،

اِس کے ہاتھوں میں

انگشتری کا نشان تک نہیں ہے!

حَسن مردِ میداں تو تھا ہی

مگر نارسائی کا احساس

مستی کے شباب لمحوں میں اُس سے

کراتا تھا اکثر

یہ عہدِ سلاطیں کے گزرے ہُوئے

شہسواروں کے عالم کی باتیں!

مگر جب سحر گاہ اُردو میں قرنا ہوئی

اور البرز کی چوٹیوں پر بکھرنے لگی پھر شعائیں

تو آنکھیں کھُلی رہ گئیں ساتھیوں کی،

حَسن کے رُخ و دست و بازو

خراشوں سے یوں نیلگوں ہو رہے تھے

کہ جیسے وہ جِنّوں کے نرغوں میں شب بھر رہا ہو

ہم سب کو جعفر پہ شک تھا

کہ شاید اُسی نے نکالا ہو یہ اپنے بدلے کا پہلُو!

مگر جب حسن اور جعفر نے

دونوں نے

کھائیں کئی بار قسمیں

تو ناچار لب دوختہ ہو گئے ہم

وہاں اب وہ جانِ عجم بھی نہ تھی

جس سے ہم پوچھ سکتے؛

ذرا اور کاوش سے پوچھا حَسن سے

تو بے ساختہ ہنس کر کہنے لگا : بس، مجھے کیا خبر ہو؟

اگر پوچھنا ہو تو زہرا سے پُوچھو

مری رات بھر کی بہن سے!

ن م راشد

خرابے

اک تمنا تھی کہ میں

اک نیا گھر، نئی منزل کہیں آباد کروں،

کہ مرا پہلا مکاں

جس کی تعمیر میں گزرے تھے مرے سات برس

اک کھنڈر بنتا چلا جاتا تھا۔

یہ تمنا تھی کہ شوریدہ سری

خشت اور سنگ کے انبار لگاتی ہی رہے

روز و شب ذہن میں بنتے ہی رہیں

دَر و دیوار کے خوش رنگ نقوش!

مجھ کو تخیل کے صحرا میں لیے پھرتا تھا

ایک آفت زدہ دیوانے کا جوش،

لے گئے میرے قدم آخرِ کار

ایک دن اپنے نئے گھر میں مجھے

خیر مقدم کو تھیں موجود جہاں

میری گل چہرہ کنیزیں، مرے دل شاد غلام،

دیکھ کر اپنی تمناؤں کی شادابی کو

میرے اندیشے کی دہلیز سے معدوم ہوئے

میرے ماضی کے سیہ تاب، الم ناک نشاں!

یہ مگر کیا تھا؟ خیالات تھے، اوہام تھے دیوانے کے

نہ وہ گل چہرہ کنیزیں تھیں، نہ دل شاد غلام

در و دیوار کے وہ نقش، نہ دیواریں تھیں

سنگ اور خشت کے ڈھیروں پہ تھا کائی کا نزول

اور وہ ڈھیر بھی موجود نہ تھے!

کھل گئے تھے کسی آئندہ کی بیداری میں

میرے خود ساختہ خواب

میں اُسی پہلے خرابے کے کنارے تھا نگوں

جس سے شیون کی شب و روز صدا آتی ہے!

کس لیے ہے مری محرومی کی حاسد اب بھی

کسی منحوس ستارے کی غضب ناک نگاہ

اور اِدھر بندہ ءِ بدبخت کی تنہائی کا یہ رنگ___ کہ وہ

اور بھی تیرہ و غمناک ہوئی جاتی ہے!

ن م راشد

حیلہ ساز

کئی تنہا برس گزرے

کہ اس وادی میں، ان سر سبز اونچے کوہساروں میں،

اٹھا لایا تھا میں اُس کو،

نظر آتا ہے گاڑی سے وہ سینے ٹوریم اب بھی

جہاں اُس سے ہوئی تھیں آخری باتیں:

تجھے اے جان، میرے بے وفائی کا ہے غم اب بھی؟

محبت اُس بھکارن سے؟

وہ بے شک خوبصورت تھی،

مگر اُس سے محبت، آہ نا ممکن!

محبت گوشت کے اُس کہنہ و فرسودہ پیکر سے؟

ہوسناکی؟

میں اک بوسے کا مجرم ہوں

فقط اک تجربہ منظور تھا مجھ کو

کہ آیا مفلسی کتنا گرا دیتی ہے انساں کو!

نہ آیا اعتماد اُس کو مری اس حیلہ سازی پر،

بس اپنی ناتواں، دلدوز آنکھوں سے

پہاڑوں اور اُن تندور سر افروختہ ؟؟؟ کو وہ تکتی رہی پیہم:

یہ دیکھو ایک اونچے پیڑ کا ٹہنا

پہاڑی میں بنا لی اس نے اپنی راہ یوں جیسے

چٹان اس کے لیے کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی!

زمانے بھر پہ تاریکی سی چھائی ہے

مگر وہ یاد کے روزن سے آتی ہے نظر اب بھی

مجھے بھولی نہیں وہ بے بسی اُس کی نگاہوں کی

اور اُس کی آخری باتیں ہیں یاد اب تک!

مگر میں اس لیے تازہ افق کی جستجو میں ہوں

کہ اُس کی یاد تک روپوش ہو جائے؟

ن م راشد

حَسَن کوزہ گر ۔ ۴

جہاں زاد، کیسے ہزاروں برس بعد

اِک شہرِ مدفون کی ہر گلی میں

مرے جام و مینا و گُلداں کے ریزے ملے ہیں

کہ جیسے وہ اِس شہرِ برباد کا حافظہ ہوں!

(حَسَن نام کا اِک جواں کوزہ گر ۔۔۔ اِک نئے شہر میں ۔۔۔۔

اپنے کوزے بناتا ہوا، عشق کرتا ہوا

اپنے ماضی کے تاروں میں ہم سے پرویا گیا ہے

ہمیں میں (کہ جیسے ہمیں ہوں) سمویا گیا ہے

کہ ہم تم وہ بارش کے قطرے تھے جو رات بھر سے،

(ہزاروں برس رینگتی رات بھر)

اِک دریچے کے شیشوں پہ گرتے ہوئے سانپ لہریں

بناتے رہے ہیں،

اور اب اس جگہ وقت کی صبح ہونے سے پہلے

یہ ہم اور یہ نوجواں کوزہ گر

ایک رویا میں پھر سے پروئے گئے ہیں! )

جہاں زاد ۔۔۔۔۔۔

یہ کیسا کہنہ پرستوں کا انبوہ

کوزوں کی لاشوں میں اُترا ہے

دیکھو!

یہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں

کبھی جام و مینا کی لِم تک نہ پہنچیں

یہی آج اس رنگ و روغن کی مخلوقِ بے جاں

کو پھر سے اُلٹنے پلٹنے لگے ہیں

یہ اِن کے تلے غم کی چنگاریاں پا سکیں گے

جو تاریخ کو کھا گئی تھیں؟

وہ طوفان، وہ آندھیاں پا سکیں گے

جو ہر چیخ کو کھا گئی تھیں؟

انہیں کیا خبر کِس دھنک سے مرے رنگ آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(مرے اور اِس نوجواں کُوزہ گر کے؟)

انہیں کیا خبر کون سی تتلیوں کے پروں سے؟

انہیں کیا خبر کون سے حُسن سے؟

کون سی ذات سے، کس خد و خال سے

میں نے کُوزوں کے چہرے اُتارے؟

یہ سب لوگ اپنے اسیروں میں ہیں

زمانہ، جہاں زاد، افسوں زدہ برج ہے

اور یہ لوگ اُس کے اسیروں میں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

جواں کوزہ گر ہنس رہا ہے!

یہ معصوم وحشی کہ اپنے ہی قامت سے ژولیدہ دامن

ہیں جویا کسی عظمتِ نارسا کے ۔۔۔۔۔۔۔

انہیں کیا خبر کیسا آسیبِ مبرم مرے غار سینے پہ تھا

جس نے مجھ سے (اور اِس کوزہ گر سے) کہا:

اے حَسَن کوزہ گر، جاگ

دردِ رسالت کا روزِ بشارت ترے جام و مینا

کی تشنہ لبی تک پہنچنے لگا ہے!

یہی وہ ندا، جس کے پیچھے حَسَن نام کا

یہ جواں کوزہ گر بھی

پیا پے رواں ہے زماں سے زماں تک،

خزاں سے خزاں تک!

جہاں زاد میں نے ۔۔۔۔۔ حَسَن کوزہ گر نے ۔۔۔۔۔۔۔۔

بیاباں بیاباں یہ دردِ رسالت سہا ہے

ہزاروں برس بعد یہ لوگ

ریزوں کو چُنتے ہوئے

جان سکتے ہیں کیسے

کہ میرے گِل و خاک کے رنگ و روغن

ترے نازک اعضا کے رنگوں سے مل کر

ابد کی صدا بن گئے تھے؟

میں اپنے مساموں سے، ہر پور سے،

تیری بانہوں کی پنائیاں

جذب کرتا رہا تھا

کہ ہر آنے والے کی آنکھوں کے معبد پہ جا کر چڑھاؤں ۔۔۔۔۔

یہ ریزوں کی تہذیب پا لیں تو پا لیں

حَسَن کوزہ گر کو کہاں لا سکیں گے؟

یہ اُس کے پسینے کے قطرے کہاں گن سکیں گے؟

یہ فن کی تجلی کا سایہ کہاں پا سکیں گے؟

جو بڑھتا گیا ہے زماں سے زماں تک

خزاں سے خزاں تک

جو ہر نوجواں کُوزہ گر کی نئی ذات میں

اور بڑھتا چلا جا رہا ہے!

وہ فن کی تجلی کا سایہ کہ جس کی بدولت

ہمہ عشق ہیں ہم

ہمہ کوُزہ گر ہم

ہمہ تن خبر ہم

خُدا کی طرح اپنے فن کے خُدا سر بسر ہم!

(آرزوئیں کبھی پایاب تو سَریاب کبھی،

تیرنے لگتے ہیں بے ہوشی کی آنکھوں میں کئی چہرے

جو دیکھے بھی نہ ہوں

کبھی دیکھے ہوں کسی نے تو سراغ اُن کا

کہاں سے پائے؟

کِس سے ایفا ہوئے اندوہ کے آداب کبھی

آرزوئیں کبھی پایاب تو سَریاب کبھی!)

یہ کوزوں کے لاشے، جو اِن کے لئے ہیں

کسی داستانِ فنا کے وغیرہ وغیرہ

ہماری اذاں ہیں، ہماری طلب کا نشاں ہیں

یہ اپنے سکوتِ اجل میں بھی یہ کہہ رہے ہیں:

وہ آنکھیں ہمیں ہیں جو اندر کھُلی ہیں

تمہیں دیکھتی ہیں، ہر ایک درد کو بھانپتی ہیں

ہر اِک حُسن کے راز کو جانتی ہیں

کہ ہم ایک سنسان حجرے کی اُس رات کی آرزو ہیں

جہاں ایک چہرہ، درختوں کی شاخوں کے مانند

اِک اور چہرے پہ جھُک کر، ہر انسان کے سینے میں

اِک برگِ گُل رکھ گیا تھا

اُسی شب کا دزدیدہ بوسہ ہمیں ہیں

ن م راشد

حَسَن کوزہ گر ۔ ۳

جہاں زاد،

وہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوت

جس میں ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہے

محیط جس طرح ہو دائرے کے گرد حلقہ زن

تمام رات تیرتے رہے تھے ہم

ہم ایک دوسرے کے جسم و جاں سے لگ کے

تیرتے رہے تھے ایک شاد کام خوف سے

کہ جیسے پانی آنسوؤں میں تیرتا رہے

ہم ایک دوسرے سے مطمئن زوالِ عمر کے خلاف

تیَرتے رہے

تو کہہ اٹھی؛ “حَسَن یہاں بھی کھینچ لائی

جاں کی تشنگی تجھے!“

(لو اپنی جاں کی تشنگی کو یاد کر رہا تھا مَیں

کہ میرا حلق آنسوؤں کی بے بہا سخاوتوں

سے شاد کام ہو گیا!)

مگر یہ وہم دل میں تَیرنے لگا کہ ہو نہ ہو

مرا بدن کہیں حلب کے حوض ہی میں رہ گیاِ__

نہیں، مجھے دوئی کا واہمہ نہیں

کہ اب بھی ربطِ جسم و جاں کا اعتبار ہے مجھے

یہی وہ اعتبار تھا

کہ جس نے مجھ کو آپ میں سمو دیاِ__

مَیں سب سے پہلے “آپ“ ہُوں

اگر ہمیں ہوںِ__ تُو ہو او مَیں ہوںِ__ پھر بھی مَیں

ہر ایک شے سے پہلے آپ ہوں!

اگر مَیں زندہ ہوں تو کیسے “آپ“ سے دغا کروں؟

کہ تیری جیسی عورتیں، جہاں زاد،

ایسی الجھنیں ہیں

جن کو آج تک کوئی نہیں “سلجھ“ سکا

جو مَیں کہوں کہ مَیں “سلجھ“ سکا تو سر بسر

فریب اپنے آپ سے!

کہ عورتوں کی وہ ساخت ہے وہ طنز اپنے آپ پر

جواب جس کا ہم نہیںِ___

(لبیب کون ہے؟ تمام رات جس کا ذکر

تیرے لب پہ تھاِ___

وہ کون تیرے گیسوؤں کو کھینچتا رہا

لبوں کو نوچتا رہا

جو مَیں کبھی نہ کر سکا

نہیں یہ سچ ہےِ___میں ہوں یا لبیب ہو

رقیب ہو تو کس لیے تری خود آگہی کی بے ریا نشاطِ ناب کا

جو صدا نوا و یک نوا خرامِ صبح کی طرح

لبیب ہر نوائے سازگار کی نفی سہی!)

مگر ہمارا رابطہ وصالِ آب و گِل نہیں، نہ تھا کبھی

وجودِ آدمی سے آب و گِل سدا بروں رہے

نہ ہر وصالِ آب و گِل سے کوئی جام یا سبو ہی نہ بن سکا

جو اِن کا ایک واہمہ ہی بن سکے تو بن سکے!

جہاں زاد،

ایک تو اور ایک وہ اور ایک مَیں

یہ تین زاویے کسی مثلثِ قدیم کے

ہمیشہ گھومتے رہے

کہ جیسے میرا چاک گھومتا رہا

مگر نہ اپنے آپ کا کوئی سراغ پا سکےِ___

مثلثِ قدیم کو مَیں توڑ دوں، جو تو کہے، مگر نہیں

جو سحر مجھ پہ چاک کا وہی ہے اِس مثلثِ قدیم کا

نگاہیں میرے چاک کی جو مجھ کو دیکھتی ہیں

گھومتے ہوئے

سبو و جام پر ترا بدن، ترا ہی رنگ، تیری نازکی

برس پڑی

وہ کیمیا گری ترے جمال کی برس پڑی

مَیں سَیلِ نُورِ اندروں سے دھُل گیا!

مرے دروں کی خلق یوں گلی گلی نکل پڑی

کہ جیسے صبح کی اذاں سنائی دی!

تمام کوزے بنتے بنتے “تُو“ ہی بن کے رہ گئے

نشاط اِس وصالِ رہ گزر کی ناگہاں مجھے نگل گئیِ__

یہی پیالہ و صراحی و سبو کا مرحلہ ہے وہ

کہ جب خمیرِ آب و گِل سے وہ جدا ہوئے

تو اُن کو سمتِ راہِ نَو کی کامرانیاں ملیںِ___

(مَیں ایک غریب کوزہ گر

یہ انتہائے معرفت

یہ ہر پیالہ و صراحی و سبو کی انتہائے معرفت

مجھے ہو اس کی کیا خبرِ؟)

جہاں زاد،

انتظار آج بھی مجھے ہی کیوں وہی مگر

جو نو برس کے دورِ نا سزا میں تھا؟

اب انتظار آنسوؤں کے دجلہ کا

نہ گمرہی کی رات کا

(شبِ گُنہ کی لذّتوں کا اتنا ذکر کر چکا

وہ خود گناہ بن گئیں!)

حلب کی کارواں سرا کے حوض کا، نہ موت کا

نہ اپنی اس شکست خوردہ ذات کا

اِک انتظارِ بے زماں کا تار ہے بندھا ہوا!

کبھی جو چند ثانیے زمانِ بے زماں میں آکے رک گئے

تو وقت کا یہ بار میرے سر سے بھی اُتر گیا

تمام رفتہ و گزشتہ صورتوں، تمام حادثوں

کے سست قافلے

مِرے دروں میں جاگ اُٹھے

مرے دروں میں اِک جہانِ بازیافتہ کی ریل پیل جاگ اُٹھی

بہشت جیسے جاگ آُٹھے خدا کے لا شعور میں!

مَیں جاگ اٹھا غنودگی کی ریت پر پڑا ہُوا

غنودگی کی ریت پر پڑے ہوئے وہ کوزے جو

___مرے وجود سے بروں____

تمام ریزہ ریزہ ہو کے رہ گئے تھے

میرے اپنے آپ سے فراق میں،

وہ پھر سے ایک کُل بنے (کسی نوائے ساز گار کی طرح)

وہ پھر سے ایک رقصِ بے زماں بنے

وہ روئتِ ازل بنے!

ن م راشد

حَسَن کوزہ گر ۔ ۲

اے جہاں زاد،

نشاط اس شبِ بے راہ روی کی

میں کہاں تک بھولوں؟

زورِ مَے تھا، کہ مرے ہاتھ کی لرزش تھی

کہ اس رات کوئی جام گرا ٹوٹ گیاِ____

تجھے حیرت نہ ہوئی!

کہ ترے گھر کے دریچوں کے کئ شیشوں پر

اس سے پہلے کی بھی درزیں تھیں بہتِ_

تجھے حیرت نہ ہوئی!

اے جہاں زاد،

میں کوزوں کی طرف، اپنے تغاروں کی طرف

اب جو بغداد سے لوٹا ہوں،

تو مَیں سوچتا ہوںِ____

سوچتا ہوں: تو مرے سامنے آئینہ رہی

سرِ بازار، دریچے میں، سرِبسترِ سنجاب کبھی

تو مرے سامنے آئینہ رہی،

جس میں کچھ بھی نظر آیا نہ مجھے

اپنی ہی صورت کے سوا

اپنی تنہائیِ جانکاہ کی دہشت کے سوا!

لکھ رہا ہوں تجھے خط

اور وہ آئینہ مرے ہاتھ میں ہے

اِس میں کچھ بھی نظر آتا نہیں

اب ایک ہی صورت کے سوا!

لکھ رہا ہوں تجھے خط

اور مجھے لکھنا بھی کہاں آتا ہے؟

لوح آئینہ پہ اشکوں کی پھواروں ہی سے

خط کیوں نہ لکھوں؟

اے جہاں زاد،

نشاط اس شبِ بے راہ روی کی

مجھے پھر لائے گی؟

وقت کیا چیز ہے تو جانتی ہے؟

وقت اِک ایسا پتنگا ہے

جو دیواروں پہ آئینوں پہ،

پیمانوں پہ شیشوں پہ،

مرے جام و سبو، میرے تغاروں پہ

سدا رینگتا ہے

رینگتے وقت کے مانند کبھی

لوٹ آئے گا حَسَن کوزہ گرِ سوختہ جاں بھی شاید!

اب جو لوٹا ہوں جہاں زاد،

تو میں سوچتا ہوں:

شاید اس جھونپڑے کی چھت پہ یہ مکڑی مری محرومی کی___

جسے تنتی چلی جاتی ہے، وہ جالا تو نہیں ہوں مَیں بھی؟

یہ سیہ جھونپڑا مَیں جس میں پڑا سوچتا ہوں

میرے افلاس کے روندے ہوئے اجداد کی

بس ایک نشانی ہے یہی

ان کے فن، ان کی معیشت کی کہانی ہے یہی

مَیں جو لوٹا ہوں تو وہ سوختہ بخت

آکے مجھے دیکھتی ہے

دیر تک دیکھتی رہ جاتی ہے

میرے اس جھونپڑے میں کچھ بھی نہیںِ___

کھیل اِک سادہ محبّت کا

شب و روز کے اِس بڑھتے ہوئے کھوکلے پن میں جو کبھی

کھیلتے ہیں

کبھی رو لیتے ہیں مل کر، کبھی گا لیتے ہیں،

اور مل کر کبھی ہنس لیتے ہیں

دل کے جینے کے بہانے کے سواِ__

حرف سرحد ہیں، جہاں زاد، معانی سرحد

عشق سرحد ہے، جوانی سرحد

اشک سرحد ہیں، تبسّم کی روانی سرحد

دل کے جینے کے بہانے کے سوا اور نہیںِ___

(دردِ محرومی کی،

تنہائی کی سرحد بھی کہیں ہے کہ نہیں؟)

میرے اِس جھونپڑے میں کتنی ہی خوشبوئیں ہیں

جو مرے گرد سدا رینگتی ہیں

اسی اِک رات کی خوشبو کی طرح رینگتی ہیںِ___

در و دیوار سے لپٹی ہوئی اِس گرد کی خوشبو بھی ہے

میرے افلاس کی، تنہائی کی،

یادوں، تمنّاؤں کی خوشبو ئیں بھی،

پھر بھی اِس جھونپڑے میں کچھ بھی نہیںِ__

یہ مرا جھونپڑا تاریک ہے، گندہ ہے، پراگندہ ہے

ہاں، کبھی دور درختوں سے پرندوں کے صدا آتی ہے

کبھی انجیروں کے، زیتونوں کے باغوں کی مہک آتی ہے

تو مَیں جی اٹھتا ہوں

تو مَیں کہتا ہوں کہ لو آج نہا کر نکلا!

ورنہ اِس گھر میں کوئی سیج نہیں، عطر نہیں ہے،

کوئی پنکھا بھی نہیں،

تجھے جس عشق کی خو ہے

مجھے اس عشق کا یارا بھی نہیں!

تو ہنسے گی، اے جہاں زاد، عجب بات

کہ جذبات کا حاتم بھی مَیں

اور اشیا کا پرستار بھی مَیں

اور ثروت جو نہیں اس کا طلب گار بھی مَیں!

تو جو ہنستی رہی اس رات تذبذب پہ مرے

میری دو رنگی پہ پھر سے ہنس دے!

عشق سے کس نے مگر پایا ہے کچھ اپنے سوا؟

اے جہاں زاد،

ہے ہر عشق سوال ایسا کہ عاشق کے سوا

اس کا نہیں کوئی جواب

یہی کافی ہے کہ باطن کے صدا گونج اٹھے!

اے جہاں زاد

مرے گوشہء باطن کی صدا ہی تھی

مرے فن کی ٹھٹھرتی ہوئی صدیوں

کے کنارے گونجی

تیری آنکھوں کے سمندر کا کنارا ہی تھا

صدیوں کا کنارا نکلا

یہ سمندر جو مری ذات کا آئینہ ہے

یہ سمندر جو مرے کوزوں کے بگڑے ہوئے،

بنتے ہوئے سیماؤں کا آئینہ ہے

یہ سمندر جو ہر اِک فن کا

ہر اِک فن کے پرستار کا

آئینہ ہے

ن م راشد

حَسَن کوزہ گر ۔ ۱

جہاں زاد، نیچے گلی میں ترے در کے آگے

یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!

تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطّار یوسف

کی دکّان پر میں نے دیکھا

تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی

تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں

جہاں زاد، نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!

یہ وہ دور تھا جس میں میں نے

کبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانب

پلٹ کر نہ دیکھا

وہ کوزے مرے دست چابک کے پتلے

گل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاں

وہ سر گوشیوں میں یہ کہتے

حسن کوزہ گر اب کہاں ھے

وہ ہم سے خود اپنے عمل سے

خداوند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!

جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزرا

کہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرے

تغاروں میں مٹی

کبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میں

سنگ بستہ پڑی تھی

صراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں

مری ہیچ مایہ معیشت کے، اظہار فن کے سہارے

شکستہ پڑے تھے

میں خود، میں حسن کوزہ گر پا بہ گِل خاک بر سر برہنہ

سر چاک ژولیدہ مو، سر بزانو

کسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کے

گل و لا سے خوابوں کے سیّال کوزے بناتا رہا تھا

جہاں زاد، نو سال پہلے

تو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھی

کہ میں نے، حسن کوزہ گر نے

تری قاف کی سی افق تاب آنکھوں

میں دیکھی ھے وہ تابناکی

کہ جس سے مرے جسم و جاں، ابرو مہتاب کا

رہگزر بن گئے تھے

جہاں زاد بغداد کی خواب گوں رات

وہ رود دجلہ کا ساحل

وہ کشتی وہ ملّاح کی بند آنکھیں

کسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیے

ایک ہی رات وہ کہربا تھی

کہ جس سے ابھی تک ھے پیوست اسکا وجود

اس کی جاں اس کا پیکر

مگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلا

حسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!

جہاں زاد اس دور میں روز، ہر روز

وہ سوختہ بخت آکر

مجھے دیکھتی چاک پر پا بہ گِل سر بزانو

تو شانوں سے مجھ کو ہلاتی

(وہی چاک جو سالہا سال جینے کا تنہا سہارا رہا تھا!)

وہ شانوں سے مجھ کو ہلاتی

حسن کوزہ گر ہوش میں آ

حسن اپنے ویران گھر پر نظر کر

یہ بچّوں کے تنّور کیونکر بھریں گے

حسن، اے محبّت کے مارے

محبّت امیروں کی بازی،

حسن، اپنے دیوار و در پر نظر کر

مرے کان میں یہ نوائے حزیں یوں تھی جیسے

کسی ڈوبتے شخص کو زیرگرداب کوئی پکارے!

وہ اشکوں کے انبار پھولوں کے انبار تھے ہاں

مگر میں حسن کوزہ گر شہر اوہام کے ان

خرابوں کا مجذوب تھا جن

میں کوئی صدا کوئی جنبش

کسی مرغ پرّاں کا سایہ

کسی زندگی کا نشاں تک نہیں تھا!

جہاں زاد، میں آج تیری گلی میں

یہاں رات کی سرد گوں تیرگی میں

ترے در کے آگے کھڑا ہوں

سرد مو پریشاں

دریچے سے وہ قاف کی سی طلسمی نگاہیں

مجھے آج پھر جھانکتی ہیں

زمانہ، جہاں زاد وہ چاک ہے جس پہ مینا و جام و سبو

اور فانوس و گلداں

کے مانند بنتے بگڑتے ہیں انساں

میں انساں ہوں لیکن

یہ نو سال جو غم کے قالب میں گزرے!

حسن کوزہ گر آج اک تودہِخاک ہے جس

میں نم کا اثر تک نہیں ہے

جہاں زاد بازار میں صبح عطّار یوسف

کی دکّان پر تیری آنکھیں

پھر اک بار کچھ کہہ گئی ہیں

ان آنکھوں کی تابندہ شوخی

سے اٹھی ہے پھر تودہ خاک میں نم کی ہلکی سی لرزش

یہی شاید اس خاک کو گِل بنا دے!

تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ھے جہاں زاد لیکن

تو چاھے تو بن جاؤں میں پھر

وہی کوزہ گر جس کے کوزے

تھے ھر کاخ و کو اور ہر شہر و قریہ کی نازش

تھے جن سے امیر و گدا کے مساکن درخشاں

تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ہے جہاں زاد لیکن

تو چاھے تو میں پھر پلٹ جاؤں ان اپنے مہجور کوزوں کی جانب

گل و لا کے سوکھے تغاروں کی جانب

معیشت کے اظہارِ فن کے سہاروں کی جانب

کہ میں اس گل و لا سے ، اس رنگ و روغن

سے پھر وہ شرارے نکالوں کہ جن سے

دلوں کے خرابے ھوں روشن!

ن م راشد

حزنِ انسان (افلاطونی عشق پر ایک طنز)

جسم اور روح میں آہنگ نہیں،

لذت اندوز دلآویزیِ موہوم ہے تو

خستہ ءِ کشمکشِ فکر و عمل!

تجھ کو ہے حسرتِ اظہارِ شباب

اور اظہار سے معذور بھی ہے

جسم نیکی کے خیالات سے مفرور بھی ہے

اس قدر سادہ و معصوم ہے تو

پھر بھی نیکی ہی کیے جاتی ہے

کہ دل و جسم کے آہنگ سے محروم ہے تُو

جسم ہے روح کی عظمت کے لیے زینہ ءِ نُور

منبعِ کیف و سرور!

نارسا آج بھی ہے شوقِ پرستارِ جمال

اور انساں ہے کہ ہے جادہ کشِ راہِ طویل

(روحِ یونان پہ سلام!)

اِک زمستاں کی حسیں رات کا ہنگامِ تپاک

اُس کی لذّات سے آگاہ ہے کون؟

عشق ہے تیرے لیے نغمہ ءِ خام

کہ دل و جسم کے آہنگ سے محروم ہے تُو!

جسم اور روح کے آہنگ سے محروم ہے تُو!

ورنہ شب ہائے زمستاں ابھی بے کار نہیں

اور نہ بے سود ہیں ایامِ بہار!

آہ انساں کہ ہے وہموں کا پرستار ابھی

حسن بے چارے کو دھوکا سا دیے جاتا ہے

ذوقِ تقدیس پہ مجبور کیے جاتا ہے!

ٹوٹ جائیں گے کسی روز مزامیر کے تار

مسکرا دے کہ ہے تابندہ ابھی تیرا شباب

ہے یہی حضرتِ یزداں کے تمسخر کا جواب!

ن م راشد

حرفِ ناگفتہ

حرفِ ناگفتہ کے آزار سے ہشیار رہو

کوئے و برزن کو،

دروبام کو،

شعلوں کی زباں چاٹتی ہو،

وہ دہن بستہ و لب دوختہ ہو

ایسے گنہ گار سے ہشیار رہو!

شحنہء شہر ہو، یا بندہء سلطاں ہو

اگر تم سے کہے: لب نہ ہلاؤ

لب ہلاؤ، نہیں، لب ہی نہ ہلاؤ

دست و بازو بھی ہلاؤ،

دست و بازو کو زبان و لبِ گفتار بناؤ

ایسا کہرام مچاؤ کہ سدا یاد رہے،

اہلِ دربار کے اطوار سے ہشیار رہو!

اِن کے لمحات کے آفاق نہیں –

حرفِ ناگفتہ سے جو لحظہ گزر جائے

شبِ وقت کا پایاں ہے وہی!

ہائے وہ زہر جو صدیوں کے رگ و پے میں سما جائے

کہ جس کا کوئی تریاق نہیں!

آج اِس زہر کے بڑھتے ہوئے

آثار سے ہشیار رہو

حرفِ ناگفتہ کے آزار سے ہشیار رہو!

ن م راشد

چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سے

چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سے

کئ لذّتوں کا ستم لئے

جو سمندروں کے فسوں میں ہیں

مرا ذہن ہے وہ صنم لیے

وہی ریگ زار ہے سامنے

وہی ریگ زار کہ جس میں عشق کے آئینے

کسی دست غیب سے ٹوٹ کر

رہ تار جاں میں بکھر گئے!

ابھی آ رہا ہوں سمندروں کی مہک لیے

وہ تھپک لیے جو سمندروں کی نسیم میں

ہے ہزار رنگ سے خواب ہائے خنک لیے

چلا آرہا ہوں سمندروں کا نمک لیے

یہ برہنگی عظیم تیری دکھاؤں میں

(جو گدا گری کا بہانہ ہے)

کوئی راہرو ہو تو اس سے راہ کی داستاں

میں سنوں، فسانہ سمندروں کا سناؤں میں

(کہ سمندروں کا فسانہ عشق کی گسترش کا فسانہ ہے)

یہ برہنگی جسے دیکھ کر بڑہیں دست و پا، نہ کھلے زباں

نہ خیال ہی میں رہے تواں

تو وہ ریگ زار کہ جیسے رہزن پیر ہو

جسے تاب راہزنی نہ ہو

کہ مثال طائر نیم جاں

جسے یاد بال و پری نہ ہو

کسی راہرو سے امّید رحم و کرم لیے

میں بھرا ہوا ہوں سمندروں کے جلال سے

چلا آرہا ہوں میں ساحلوں کا حشم لیے

ھے ابھی انہی کی طرف مرا درِدل کھلا

کہ نسیم خندہ کو رہ ملے

مری تیرگی کو نگہ ملے

وہ سرور و سوز صدف ابھی مجھے یاد ہے

ابھی چاٹتی ہے سمندروں کی زباں مجھے

مرے پاؤں چھو کے نکل گئ کوئی موج ساز بکف ابھی

وہ حلاوتیں مرے ہست و بود میں بھر گئ

وہ جزیرے جن کے افق ہجوم سحر سے دید بہار تھے

وہ پرندے اپنی طلب میں جو سر کار تھے

وہ پرندے جن کی صفیر میں تھیں رسالتیں

ابھی اس صفیر کی جلوتیں مرے خوں میں ہیں

ابھی ذہن ہے وہ صنم لیے

جو سمندروں کے فسوں میں ہے

چلا آ رھا ہوں سمندروں کے جمال سے

صدف و کنار کا غم لیے

ن م راشد

جہاں ابھی رات ہے ۔۔

جہاں ابھی رات ہے، ہوا کے سوا

کوئی زندہ تو نہیں ہے

ابھی ہَوا ساحلوں کے بے تاب ہمہموں سے

گزر کے اپنی طلب کے سونے

چہار راہوں میں رک گئی ہے ۔۔

اگر وہ چاہے،

تو دُودِ ماضی کے بام و دیوار پھاند جائے

(وہ دست و پا کے پرانے زخموں

کی ریزشِ خوں سے ڈر رہی ہے)

ہوا کشوں کی نگہ سے بچ کر

اگر وہ چاہے،

غموں کی بے صرفہ کھڑکیوں کے

سیاہ شیشوں کو توڑ ڈالے

دلوں کی افسردہ جلوتوں کا سراغ پا لے

(وہ ناتوانوں کے زورِ بازو کے

رازِ پنہاں سے کانپتی ہے)

اگر وہ چاہے،

شگافِ در سے

(جو رات بھر سے

ہماری بے التفاتیوں سے

کھلے رہے ہیں)

ہمارے صحنوں کو روند ڈالے

ہمارے صحنوں کے چار گوشوں میں پھیل جائے

(مگر وہ ہر صحن کی اداسی کو بھانپتی ہے)

جہاں ابھی رات ہے، وہاں ہم ۔۔

وہا ں ابھی لوگ

بہتے پانی کو بوڑھے دانتوں سے کاٹتے ہیں

اور ایسے روتے ہیں خواب میں

جیسے ایک بے جان جسد سے لگ کے

وہ سو رہے ہوں!

ہوا کو اس کی خبر نہیں ہے

ہوا کا ان ہول کے پلوں پر

گزر نہیں ہے!

جہاں ابھی رات ہے، وہاں ہم ۔۔

وہاں ابھی لوگ

آرزؤں کے نرد بانوں پہ چل رہے ہیں

قدم قدم پر پھسل رہے ہیں

کہ جیسے صحرا سمندروں میں پھسل رہا ہو!

جہاں ابھی رات ہے

ہوا کے سوا کوئی پردہ در نہیں ہے ۔۔

مگر ہوا جب طلب کی راہوں کو چھوڑ کر پھر

ہمارے دیوار و در پہ جھپٹی

ہمیں پھر اپنی برہنگی کا یقین ہو گا

اور اپنے جسموں کے چاک ہم

رات کی سیاہی میں دیکھتے ہی

بہت ہنسیں گے!

ن م راشد

جرأتِ پرواز

بجھ گئی شمع ضیا پوشِ جوانی میری!

آج تک کی ہے کئی بار محبت میں نے

اشکوں اور آہوں سے لبریز ہیں رومان مرے

ہو گئی ختم کہانی میری!

مٹ گئے میری تمناؤں کے پروانے بھی

خوفِ ناکامی و رسوائی سے

حسن کے شیوہ ءِ خود رائی سے

دلِ بے چارہ کی مجبوری و تنہائی سے!

میرے سینے ہی میں پیچاں رہیں آہیں میری

کر سکیں روح کو عریاں نہ نگاہیں میری!

ایک بار اور محبت کر لوں

سعیِ ناکام سہی

اور اک زہر بھرا جام سہی

میرا یا میری تمناؤں کا انجام سہی

ایک سودا ہی سہی، آرزوئے خام سہی

ایک بار اور محبت کر لوں؟

ایک انسان سے الفت کر لوں؟

میرے ترکش میں ہے اک تیر ابھی

مجھ کو ہے جرأتِ تدبیر ابھی

بر سرِ جنگ ہے تقدیر ابھی

اور تقدیر پہ پھیلانے کو اک دام سہی؟

مجھ کو اک بار وہی کوہ کنی کرنے دو

اور وہی کاہ بر آوردن بھی___؟

یا تو جی اٹھوں گا اس جرأتِ پرواز سے میں

اور کر دے گی وفا زندہ ءِ جاوید مجھے

خود بتا دے گی رہِ جادہ ءِ امید مجھے

رفعتِ منزلِ ناہید مجھے

یا اُتر جاؤں گا میں یاس کے ویرانوں میں

اور تباہی کے نہاں خانوں میں

تاکہ ہو جائے مہیا آخر

آخری حدِ تنزل ہی کی ایک دید مجھے

جس جگہ تیرگیاں خواب میں ہیں

اور جہاں سوتے ہیں اہریمن بھی

تاکہ ہو جاؤں اسی طرح شناسا آخر

نور کی منزلِ آغاز سے میں

اپنی اس جرأتِ پرواز سے میں

ن م راشد

تمنّا کے تار

۔۔۔ تمنّا کے ژولیدہ تار،

گرہ در گرہ ہیں تمنّا کے نادیدہ تار

۔۔۔ ستاروں سے اترے ہیں کچھ لوگ رات

وہ کہتے ہیں:

’’اپنی تمنّا کے ژولیدہ تاروں کو سلجھاؤ،

سلجھاؤ اپنی تمنا کے ژولیدہ تار،

ستاروں کی کرنوں کے مانند سلجھاؤ

مبادہ ستاروں سے برسیں وہ تیر

کہ رہ جائے باقی تمنّا نہ تار!‘‘

۔۔۔ تمنّا کے ژولیدہ تار ۔۔۔

ستاروں سے اترے ہوئے راہگیر،

کہ ہے نور ہی نور جن کا خمیر،

تمنّا سے واقف نہیں ۔۔ نہ اُن پر عیاں

تمنّا کے تاروں کی ژولیدگی ہی کا راز!

تمنّا ہمارے جہاں کی، جہانِ فنا کی متاعِ عزیز

مگر یہ ستاروں سے اترے ہوئے لوگ

سر رشتہ ءِ ناگزیرِ ابد میں اسیر!

۔۔۔ ہم اُن سے یہ کہتے ہیں:

’’اے اہلِ مرّیخ ۔۔۔‘‘

(جانے وہ کن کن ستاروں سے ہیں!)

ادب سے خوشامد سے کہتے ہیں:

’’اے محترم اہلِ مرّیخ،

کیا تم نہیں دیکھتے ان تمنّا کے ژولیدہ تاروں کے رنگ؟‘‘

مگر ان کو شاید کہ رنگوں سے رغبت نہیں

کہ رنگوں کی اُن کو فراست نہیں!

ہے رنگوں کے بارے میں ان کا خیال اور ۔۔۔

اُن کا فراق و وصال اور ۔۔۔

اُن کے مہ و سال اور ۔۔۔۔

۔۔۔ بڑی سادگی سے یہ کہتے ہیں ہم:

’’محترم اہلِ مرّیخ، دیکھے نہیں

کبھی تم نے ژولیدہ باہوں کے رنگ؟

محبت میں سر خوش نگاہوں کے رنگ؟

گناہوں کے رنگ؟ ۔۔۔۔‘‘

ن م راشد

تماشا گہہِ لالہ زار

تماشا گہہِ لالہ زار،

’’تیاتر‘‘ پہ میری نگاہیں جمی تھیں

مرے کان ’’موزیک‘‘ کے زیر و بم پر لگے تھے،

مگر میرا دل پھر بھی کرتا رہا تھا

عرب اور عجم کے غموں کا شمار

تماشا گہہِ لالہ زار!

تماشا گہہِ لالہ زار،

اب ایراں کہاں ہے؟

یہ عشقی کا شہکار۔۔ ’’ایران کی رستخیز!‘‘

اب ایراں ہے اک نوحہ گر پیرِ زال

ہے مدت سے افسردہ جس کا جمال،

مدائن کی ویرانیوں پر عجم اشک ریز،

وہ نوشیرواں اور زردشت اور دار یوش،

وہ فرہاد شیریں، وہ کیخسرو و کیقباد

ہم اک داستاں ہیں وہ کردار تھے داستاں کے!

ہم اک کارواں ہیں وہ سالار تھے کارواں کے!

تہہِ خاک جن کے مزار

تماشا گہہِ لالہ زار!

تماشا گہہِ لالہ زار،

مگر نوحہ خوانی کی یہ سر گرانی کہاں تک؟

کہ منزل ہے دشوار غم سے غمِ جاوداں تک!

وہ سب تھے کشادہ دل و ہوش مند و پرستارِ ربِّ کریم

وہ سب خیر کے راہ داں، رہ شناس

ہمیں آج محسن کُش و نا سپاس!

وہ شاہنشہانِ عظیم

وہ پندارِ رفتہ کا جاہ و جلالِ قدیم

ہماری ہزیمت کے سب بے بہا تار و پو تھے،

فنا ان کی تقدیر، ہم اُن کی تقدیر کے نوحہ گر ہیں،

اسی کی تمنّا میں پھر سوگوار

تماشا گہہِ لالہ زار!

تماشا گہہِ لالہ زار،

عروسِ جواں سالِ فردا، حجابوں میں مستور

گرسنہ نگہ، زود کاروں سے رنجور

مگر اب ہمارے نئے خواب کابوسِ ماضی نہیں ہیں،

ہمارے نئے خواب ہیں، آدمِ نو کے خواب

جہانِ تگ و دو کے خواب!

جہانِ تگ و دو، مدائن نہیں،

کاخِ فغفور و کسریٰ نہیں

یہ اُس آدمِ نو کا ماویٰ نہیں

نئی بستیاں اور نئے شہر یار

تماشا گہہِ لالہ زار!

ن م راشد

تعارف

اجل، ان سے مل،

کہ یہ سادہ دل

نہ اہلِ صلوٰۃ اور نہ اہلِ شراب،

نہ اہلِ ادب اور نہ اہلِ حساب،

نہ اہلِ کتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ اہلِ کتاب اور نہ اہلِ مشین

نہ اہلِ خلا اور نہ اہلِ زمین

فقط بے یقین

اجل، ان سے مت کر حجاب

اجل، ان سے مل!

بڑھو تُم بھی آگے بڑھو،

اجل سے ملو،

بڑھو، نو تونگر گداؤ

نہ کشکولِ دریوزہ گردی چھپاؤ

تمہیں زندگی سے کوئی ربط باقی نہیں

اجل سے ہنسو اور اجل کو ہنساؤ!

بڑھو، بندگانِ زمانہ بڑھو بندگانِ درم

اجل، یہ سب انسان منفی ہیں،

منفی زیادہ ہیں، انسان کم

ہو اِن پر نگاہِ کرم!

ن م راشد

تصوّف

ہم تصوّف کے خرابوں کے مکیں

وقت کے طولِ المناک کے پروردہ ہیں

ایک تاریک ازل، نورِ ابد سے خالی!

ہم جو صدیوں سے چلے ہیں

تو سمجھتے ہیں کہ ساحل پایا

اپنی دن رات کی پاکوبی کا حاصل پایا

ہم تصوّف کے نہاں خانوں میں بسنے والے

اپنی پامالی کے افسانوں پہ ہنسنے والے

ہم سمجھتے ہیں نشانِ سرِ منزل پایا

ن م راشد

تسلسل کے صحرا میں

تسلسل کے صحرا میں ریگ و ہوا، پاؤں کی چاپ

سمت و صدا

تغیر کا تنہا نشاں؛

تسلسل کے صحرائے جاں سوختہ میں

صدائیں بدلتے مہ و سال

ہوائیں گزرتے خدوخال

تنہا نشانِ فراق و وصال

تسلسل کے صحرا میں

اک ریت ٹیلے کی آہستہ آہستہ ریزش

کسی گھاس کے نامکمل جزیرے میں اک جاں بلب

طائرِ شب کی لرزش

کسی راہ بھٹکے عرب کی سحر گاہ حمد و ثنا

تسلسل کے بے اعتنا رات دن میں تغیر کا

تنہا نشاں۔۔۔ محبت کا تنہا نشاں!

صبا ہو کہ صرصر کہ بادِ نسیم

درختوں کی ژولیدہ زلفوں میں بازی کناں

اور ذرّوں کے تپتے ہوئے سرخ ہونٹوں

سے بوسہ ربا

جب گزرتی ہے، بیدار ہوتے ہیں اس کی صدا

سے بدلتے ہوئے حادثوں کے نئے سلسلے

نئے حادثے جن کے دم سے تسلسل کا رویا یقیں

نئے حادثے جن کے لطف و کرم کی نہایت نہیں!

تسلسل کے صحرا میں میرا گزر کل ہوا

تو یادیں نگاہوں کے آگے گزرتے ہوئے رہگزر

بن گئیں:

پہاڑوں پہ پانی کے باریک دھارے

فرازوں سے اترے، بہت دور تک دشت و در

میں مچلتے رہے، پھر سمندر کی جانب بڑھے

اور طوفاں بنے،

اُن کی تاریک راتیں سحر بن گئیں!

ازل کے درختوں میں سیبوں کے رسیا

ہمارے جہاں دیدہ آبا

درختوں سے اُترے، بہت دُور تک دشت و در

میں بھٹکتے رہے، پھر وہ شہروں کی جانب بڑھے

اور انساں بنے، ہر طرف نور باراں بنے

وہ سمت و صدا جو سفر

کا نشاں تھیں

وہی منتہائے سفر بن گئیں!

تسلسل کے صحرا میں ریگ و ہوا، پاؤں کی چاپ

سمت و صدا

تسلسل کا رازِ نہاں، تغیر کا تنہا نشاں

محبت کا تنہا نشاں

ن م راشد

پہلی کرن

کوئی مجھ کو دُور زمان و مکاں سے نکلنے کی صورت بتا دو

کوئی یہ سجھا دو کہ حاصل ہے کیا ہستیِ رائیگاں سے؟

کہ غیروں کی تہذیب کی استواری کی خاطر

عبث بن رہا ہہے ہمارا لہو مومیائی

میں اُس قوم کا فرد ہوں جس کے حصے میں محنت ہی محنت ہے، نانِ

شبینہ نہیں ہے

اور اس پر بھی یہ قوم دل شاد ہے شوکتِ باستاں سے

اور اب بھی ہے امیدِ فردا کسی ساحرِ بے نشاں سے

مری جاں، شب و روز کی اس مشقت سے تنگ آ گیا ہوں

میں اس خشت کوبی سے اُکتا گیا ہوں

کہاں ہیں وہ دنیا کی تزئین کی آرزوئیں

جنھوں نے تجھے مجھ سے وابستہ تر کر دیا تھا؟

تری چھاتیوں کی جوئے شیر کیوں زہر کا اک سمندر نہ بن جائے

جسے پی کے سو جائے ننھی سی جاں

جو اِک چھپکلی بن کے چمٹی ہوئی ہے تیرے سینہ ءِ مہرباں سے

جو واقف نہیں تیرے دردِ نہاں سے؟

اسے بھی تو ذلت کی پایندگی کے لیے آلہ ءِ کار بننا پڑے گا

بہت ہے کہ ہم اپنے ابا کی آسودہ کوشی کی پاداش میں

آج بے دست و پا ہیں

اس آئیندہ نسلوں کی زنجیر پا کو تو ہم توڑ ڈالیں

مگر اے مری تیرہ راتوں کی ساتھی

یہ شہنائیاں سُن رہی ہو؟

یہ شاید کسی نے مسرت کی پہلی کرن دیکھ پائی

نہیں، اس دریچے کے باہر تو جھانکو

خدا کا جنازہ لیے جا رہے ہیں فرشتے

اُسی ساحرِ بے نشاں کا

جو مغرب کا آقا تھا مشرق کا آقا نہیں تھا

یہ انسان کی برتری کے نئے دور کے شادیانے ہیں، سُن لو

یہی ہے نئے دور کا پرتوِ اولیں بھی

اٹھو اور ہم بھی زمانے کی تازہ ولادت کے اس جشن میں

مل کے دھومیں مچائیں

شعاعوں کے طوفاں میں بے محابا نہائیں

ن م راشد

پرانی سے نئی پود تک

رات جب باغ کے ہونٹوں پہ تبسّم نہ رہا

رات جب باغ کی آنکھوں میں

تماشا کا تکلّم نہ رہا

غنچے کہنے لگے:

’’رکنا ہے ہمیں باغ میں ’’لا سال‘‘ ابھی‘‘

صبح جب آئی تو لا سال کے

جاں کاہ معمّا کا فسوں بھی ٹوٹا!

صبح کے نام سے اب غنچے بہت ڈرتے ہیں

صبح کے ہاتھ میں

جرّاح کے نشتر سے بہت ڈرتے ہیں

وہ جو غنچوں کے مہ و سال کی کوتاہی میں

ایک لمحہ تھا بہت ہی روشن

وہی اب ان کے پگھلتے ہوئے جسموں میں

گُلِ تازہ کے بہروپ میں

کِن زخموں سے دل گیر ہے، آشفتہ ہے!

رات میں خواب بھی تھے

خوابوں کی تعبیر بھی تھی

صبح سے غنچے بہت ڈرتے ہیں!

غنچے خوش تھے کہ یہ پھول

ہوبہو اُن کے خد و خال لیے

اُن کا رنگ، ان کی طلب،

ان کے پر و بال لیے

اُن کے خاموش تبسّم ہی کی پنہائی میں ۔۔

کیا خبر تھی انہیں وہ کیسے سمندر سے

ہوئے ہیں خالی!

جیسے اک ٹوٹے ہوئے دانت سے

یہ ساری چٹانیں اٹھیں

جیسے اک بھولے ہوئے قہقہے سے

سارے ستارے اُبھرے

جیسے اک دانہ ءِ انگور سے

افسانوں کا سیلاب اُٹھا

جیسے اِک بوسے کے منشور سے

دریا جاگے

اور اک درد کی فریاد سے

انساں پھیلے

اُنھیں (اُن غنچوں کو) امید تھی

وہ پھول بھی اُن کے مانند

ان کی خودفہمی کی جویائی سے

پیدا ہوں گے

اُن کے اُس وعدہ ءِ مبرم ہی کا

ایفا ہوں گے

پھول جو اپنے ہی وہموں کے تکبّر کے سوا

کچھ بھی نہیں

اُن کی (اُن غنچوں کی)

دلگیر صدا سنتے ہیں،

ہنس دیتے ہیں!

ن م راشد

بے کراں رات کے سناٹے میں

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

بے کراں رات کے سناٹے میں

جذبہ ءِ شوق سے ہو جاتے ہیں اعضا مدہوش

اور لذت کی گراں باری سے

ذہن بن جاتا ہے دلدل کسی ویرانے کی

اور کہیں اس کے قریب

نیند، آغازِ زمستاں کے پرندے کی طرح

خوف دل میں کسی موہوم شکاری کا لیے

اپنے پر تولتی ہے، چیختی ہے

بے کراں رات کے سناٹے میں!

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

آرزوئیں ترے سینے کے کہستانوں میں

ظلم سہتے ہوئے حبشی کی طرح رینگتی ہیں!

ایک لمحے کے لیے دل میں خیال آتا ہے

تُو مری جان نہیں

بلکہ ساحل کے کسی شہر کی دوشیزہ ہے

اور ترے ملک کے دشمن کا سپاہی ہوں میں

ایک مدت سے جسے ایسی کوئی شب نہ ملی

کہ ذرا روح کو اپنی وہ سبک بار کرے!

بے پنہ عیش کے ہیجان کا ارماں لے کر

اپنے دستے سے کئی روز سے مفرور ہوں میں!

یہ مرے دل میں خیال آتا ہے

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

بے کراں رات کے سناٹے میں!

ن م راشد

بے مہری کے تابستانوں میں

بے مہری، بے گانہ پن کے تابستانوں میں

ہر سو منڈلانے لگتے ہیں زنبورِ اوہام

اور ساتھ اپنے اک ابدیت لاتے ہیں

شہروں پر خلوت کی شب چھا جاتی ہے

غم کی صرصر تھرّاتی ہے ویرانی میں

اونچے طاقتور پیڑوں کے گرنے کی آوازیں آتی ہیں

میدانوں میں!

بے مہری بے گانہ پن کے تابستانوں میں

جس دم منڈلانے لگتے ہیں زنبورِ اوہام

جب ہم اپنی روحوں کو

لا ڈالتے ہیں یوں غیریت کے دو راہوں میں

روحیں رہ جاتی ہیں جسموں کے نم دیدہ پیراہن

یا جسموں کے بوسیدہ اترن

ہر بے مہری کے ہنگام!

کیا یہ کہنا جھوٹ تھا، اے جاں:

انساں سب سے بیش بہا ہے،

کیوں اُس کی رسوائی ہو

بے بصری کے بازاروں کی بے مایہ دکانوں میں؟ ۔۔۔

کیا یہ کہنا جھوٹ تھا، اے جاں:

ہم سب فرد ہیں، ہم پر اپنی ذات سے بڑھ کر

کس آمر کی دارائی ہو؟ ۔۔۔

کیا یہ کہنا جھوٹ تھا، اے جاں:

۔۔۔ ہم سب ہست ہیں، ہم کیوں جاں دیں

مذہب اور سیاست کے نابودوں پر؟

موہوموں کی فوقیت دیں

آگاہی کی آنکھوں سے، موجودوں پر؟

بے مہری کے زنبور گئے تو

ذہنِ اوہامِ باطن کی

شوریدہ فصیلوں سے نکلے

غم کے آسیب ایذا کے

نادیدہ وسیلوں سے نکلے

پھر ہم لحنِ آب و زمیں کی

قندیلوں سے سرشار ہوئے

ہم نے دیکھا، ہم تم گویا تاک سے پُر ہیں

ہم تم اس خورشید سے پر ہیں

آہنگِ حرف و معنی کے

ذرّے جس کے دامن میں

ہم تم شیوہ ءِ باراں سے پر ہیں

آہنگِ حرف و معنی کے

نغمے جس کے دامن میں

ہم دریا سے پُر ہیں

ہم ساحل سے پر ہیں

ہم موجوں سے پر ہیں

ہم ایک بشارت سے پر ہیں!

ن م راشد

بے صدا صبح پلٹ آئی ہے

بے صدا صبح پلٹ آئی ہے،

ہیں ابھی رہگزرِ خواب میں اندیشے

گداؤں کی قطار

سرنِگوں، خیرہ نگاہ، تیرہ گلیم

گزرے لمحات کا انبار لگائے

شب کی دریوزہ گری کا حاصل!

بے صدا صبح پلٹ آئی ہے

ریزشِ آب سرِ برگ سنائی دی ہے

اور درختوں پہ ہے رنگوں کی پکار

کتنے زنبور مرے کمرے میں در آئے ہیں

نوشِ جاں! بزمِ سحر گاہ کی ہو

ایک ہنگامہ پلٹ آیا ہے!

(خواب کا چہرہ ءِ زیبا کبھی لوٹ آئے گا

لبِ خنداں بھی پلٹ آئیں گے!)

عشق ہو، کام ہو، یا وقت ہو یا رنگ ہو

خود اپنے تعاقب میں رواں

اپنی ہی پہنائی تک

کیسے اِک دائرہ بن جاتا ہے

تاک کی شاخ سے تا لرزشِ مَے

لرزشِ مَے سے تمناّؤں کی رعنائی تک

اور تمنّاؤں کی گلریزی سے

صبحِ انگور کی دارائی تک

کیسے اِک دائرہ بن جاتا ہے

بے صدا صبح پلٹ آئی ہے،

پاؤں کی چاپ لباسوں کی صریر

اور بڑھتی ہوئی کوچوں کی نفیر

نوشِ جاں! کام کا ہنگامہ

یہی عشق بھی ہے، چہرہ ءِ زیبا بھی یہی

یہی پھولوں کا پر و بال بھی ہے

رنگِ لب ہائے مہ و سال بھی ہے!

ن م راشد

بے سُرا الاپ

وہ صحن جن سے پلٹ گئی تھی

دھنک کی خوشبو

وہاں ابھی تک درخت اپنی برہنگی میں

پکارتے ہیں۔۔

پکارتے ہیں:

’’دھنک کی خوشبو

وہ خواب لا دے

کہ جن سے بھر جائیں رات بھر میں

سبو ہمارے‘‘

وہ چاند، کل شب،

جسے ہم اپنے دلوں کے پیالوں

میں قطرہ قطرہ

انڈیلتے رہ گئے تھے، اُس کو

ہنسی ہنسی میں

ابھی کوئی شخص، لمحہ پہلے،

چڑھا کے پیالہ پٹک گیا ہے ۔۔

یہ دیکھتے ہی

گلی کا ملّا بہت ہی رویا:

’’خلا سے کچھ عرش کی خبر بھی؟‘‘

(نفی میں کیسے نفی کا جویا!)

’’وہ چاند کے آر پار۔۔ گویا ۔۔

کہیں نہیں تھا؟

عجیب! گویا کہیں نہیں تھا!‘‘

وہ صحن جن سے پلٹ گئی ہے

دھنک کی خوشبو

وہ اُن میں فردا کی نا رسائی کے اشک

چپ چاپ بو رہا ہے ۔۔۔

وہ ہنس رہا ہے:

’’اگر زمیں گھومتی ہے، کیونکر

یہ لوگ صحنوں کو لوٹ آئے سحر سے پہلے

کوئی پرندہ نہ راہ بھولا سفر سے پہلے؟‘‘

وہ صحن جن سے پلٹ گئی تھی

دھنک کی خوشبو

خلا سے آتی ہوئی صدائیں

اب اُن کے دیوار و بام کو

تھپتھپا رہی ہیں،

ہمارے بوڑھے نزار چہروں پہ لطمہ زن ہیں

کہ رات کے دل فریب رویا

ہمارے سینوں میں

بے سُرا الاپ بن کر

اٹک گئے ہیں!

ن م راشد

بے چارگی

میں دیوارِ جہنم کے تلے

ہر دوپہر، مفرور طالب علم کے مانند

آ کر بیٹھتا ہوں اور دزدیدہ تماشا

اس کی پراسرار و شوق انگیز جلوت کا

کسی رخنے سے کرتا ہوں!

معرّی جامِ خوں در دست، لرزاں

اور متبنّیٰ کسی بے آب ریگستاں

میں تشنہ لب سراسیمہ

یزید اِک قلّہ ءِ تنہا پر اپنی آگ میں سوزاں

ابوجہل اژدہا بن کر

خجالت کے شجر کی شاخ پر غلطاں

بہأاللہ کے جسمِ ناتواں کا ہر

رواں اِک نشترِ خنداں

زلیخا، ایک چرخِ نور و رنگ آرا

سے پابستہ

وہیں پہیم رواں، گرداں

ژواں، حلّاج، سرمد

چرسی انسان کی طرح ژولیدہ مو، عریاں

مگر رقصاں

ستالن، مارکس، لینن روئے آسودہ

مگر نارس تمنّاؤں کے سوز و کرب سے شمع تہِ داماں

یہ سب منظور ہے یارب

کہ اس میں ہے وہ ہاؤ ہو، وہ ہنگامہ وہ سیمابی

کہ پائی جس سے ایسی سیمیائی صورتوں نے

روحِ خلاّقی کی بے تابی

مگر میرے خدا، میرے محمدؐ کے خدا مجھ سے

غلام احمد کی برفانی نگاہوں کی

یہ دل سوزی سے محرومی

یہ بے نوری یہ سنگینی

بس اب دیکھی نہیں جاتی

غلام احمد کی یہ نا مردمی دیکھی نہیں جاتی

نیویارک ۔ 16، دسمبر 1953

ن م راشد

بے پر و بال

جب کسی سلطنتِ گم شدہ کے خواب

کبھی اشک، کبھی قہقہہ بن کر دلِ رہرو کو لبھاتے جائیں،

(نیم شب کون ہے آوارہ دعاؤں کی طرح

لو چلے آتے ہیں وہ عقدہ کشاؤں کی طرح)

اور وہ راہروِ سادہ کسی اشک، کسی قہقہے کی تہہ میں

سینہ خاک نشینوں کی نوا سُن نہ سکے ۔۔۔

ہم ہیں وہ جن پہ نظر ڈالی ہے سلطانوں نے

ہیں کہاں اور گدا ہم سے گداؤں کی طرح؟

جن سے ہیں آج بھی گلیوں کے شبستاں روشن

کسی جبّار کے کوَڑوں کی صدا سن نہ سکے

(بندگی کام ہے اور بندہ ءِ دولت ہم ہیں ۔۔۔)

منہ پہ اوڑھے ہوئے دستور کا کوتہ دامن

(تُو خداوند ہے کرامر خداؤں کی طرح)

اور اجڑے ہوئے سینوں کا خلا سن نہ سکے

سنسناتے ہوئے ارمانوں کے جن میں ۔۔۔

(شبِ تنہائی در و بام ڈراتے ہیں مجھے

دل میں اندیشے اترتے ہیں بلاؤں کی طرح

ہم سے کیوں خانہ خرابی کا سبب پوچھتے ہو؟

کس نے اس دور میں ڈالی ہے جفاؤں کی طرح)

گو زمانے کا ہر اک نقش، ہر اک چیز سرِ رہگزرِ باد سہی

یاد اِک وہم سہی، یاد تمناؤں کی فریاد سہی

سر سے ڈھل جائے کہیں راحتِ رفتہ کا خمار

شامِ دارائی کا آسودہ غبار؟

جب کسی سلطنتِ گم شدہ کے خواب

کبھی اشک، کبھی قہقہہ بن کر دلِ رہرو کو لبھاتے جائیں

وہ کبھی سرخیِ دامن میں

کبھی شوقِ سلاسل میں

کبھی عشق کی للکار میں لوٹ آتے ہیں

بے پر و بالیِ انساں کی شبِ تار میں لوٹ آتے ہیں

جی کے آزار میں لوٹ آتے ہیں

ن م راشد

بیکراں رات کے سنّاٹے میں

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

بیکراں رات کے سنّاٹے میں

جذبہء شوق سے ہو جاتے ہیں اعضا مدہوش

اور لذّت کی گراں باری سے

ذہن بن جاتا ہے دلدل کسی ویرانے کی

اور کہیں اس کے قریب

نیند، آغازِ زمستاں کے پرندے کی طرح

خوف دل میں کسی موہوم شکاری کے لیے

اپنے پر تولتی ہے، چیختی ہے

بیکراں رات کے سنّاٹے میں!

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

آرزوئیں ترے سینے کے کہستانوں میں

ظلم سہتے ہوئے حبشی کی طرح رینگتی ہیں!

ایک لمحے کے لیے دل میں خیال آتا ہے

تو مری جان نہیں

بلکہ ساحل کے کسی شہر کی دوشیزہ ہے

اور ترے ملک کے دشمن کا سپاہی ہوں مَیں

ایک مدّت سے جسے ایسی کوئی شب نہ ملی

کہ ذرا روح کو اپنی وہ سبک بار کرے!

بے پناہ عیش کے ہیجان کا ارماں لے کر

اپنے دستے سے کئی روز سے مفرور ہوں مَیں!

یہ مرے دل میں خیال آتا ہے

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

بیکراں رات کے سنّاٹے میں!

ن م راشد

بوئے آدم زاد

۔۔۔ بوئے آدم زاد آئی ہے کہاں سے ناگہاں؟

دیو اس جنگلے کے سنّاٹے میں ہیں

ہو گئے زنجیر پا خود اُن کے قدموں کے نشاں!

۔۔یہ وہی جنگل ہے جس کے مرغزاروں میں سدا

چاندنی راتوں میں وہ بے خوف و غم رقصاں رہے

آج اسی جنگل میں اُن کے پاؤں شل ہیں ہاتھ سرد

اُن کی آنکھیں نور سے محروم، پتھرائی ہوئی

ایک ہی جھونکے سے اُن کا رنگ زرد

ایسے دیووں کے لیے بس ایک ہی جھونکا بہت

کون ہے بابِ نبرد؟

۔۔۔ ایک سایہ دیکھتا ہے چھپ کے ماہ و سال کی شاخوں سے آج

دیکھتا ہے بے صدا، ژولیدہ شاخوں سے انہیں

ہو گئے ہیں کیسے اُ س کی بُو سے ابتر حال دیو

بن گئے ہیں موم کی تمثال دیو!

۔۔۔ ہاں اتر آئے گا آدم زاد ان شاخوں سے رات

حوصلے دیووں کے مات!

ن م راشد

برزخ

ن م راشد

سنہ 1955

شاعر:

اے مِری رُوح تجھے

اب یہ برزخ کے شب و روز کہاں راس آئیں

عشق بپھرا ھوُ دریا ھے، ھوس خاک سیاہ

دست و بازوُ نہ سفینہ کہ یہ دریا ھو عبوُر

اور اس خاکِ سیاہ پر تو نشان کفِ پا تک نہیں

اُجڑے بے برگ درختوں سے فقط کاسہء سر آویزاں

کِسی سفّاک تباھی کی اَلمناک کہانی بن کر!

اے مِری رُوح، جُدائی سے حَزیں رُوح مِری

تجھے برزخ کے شب و روز کہاں راس آئیں؟

رُوح:

میرا ماوےٰ نہ جہنم، مِرا مَلجا نہ بہشت

برزخ اُن دونوں پر اِک خندہء تضحیک تو ھے

ایک برزخ ھے جہاں جوروستم، جودوکرم کچھ بھی نہیں

اس میں وہ نفس کی صَرصَر بھی نہیں

جسم کے طوُفاں بھی نہیں

مُبتلا جن میں ھم انسان سدا رھتے ھیں

ھم سیہ بخت زمیں پر ھوں، فلک پر ھوں کہیں

ایک برزخ ھے جہاں مَخمل و دیبا کی آسُودگی ھے

خوابِ سرما کی سی آسُودگی ھے

ن م راشد

بادل (سانیٹ)

چھائے ہوئے ہیں چار طرف پارہ ہائے ابر

آغوش میں لیے ہوئے دنیائے آب و رنگ

میرے لیے ہے اُن کی گرج میں سرودِ چنگ

پیغامِ انبساط ہے مجھ کو صدائے ابر

اٹھی ہے ہلکے ہلکے سروں میں نوائے ابر

اور قطر ہائے آب بجاتے ہیں جلترنگ

گہرائیوں میں روح کی جاگی ہے ہر امنگ

دل میں اُتر رہے ہیں مرے نغمہائے ابر

مدت سے لٹ چکے تھے تمنا کے بار و برگ

چھایا ہوا تھا روح پہ گویا سکوتِ مرگ

چھوڑا ہے آج زیست کو خوابِ جمود نے

ان بادلوں سے تازہ ہوئی ہے حیات پھر

میرے لیے جوان ہے یہ کائنات پھر

شاداب کر دیا ہے دل اُن کے سرود نے!

ن م راشد

بات کر

بات کر مجھ سے

مجھے چہرہ دکھا میرا کہ ہے

تیری آنکھوں کی تمازت ہی سے وہ جھلسا ہوا

بات کر مجھ سے

مرے رخ سے ہٹا پردہ

کہ جس پر ہے ریا کاری کے رنگوں کی دھنک

پھیلی ہوئی

وہ دھنک جو آرزو مندی کا آیئنہ نہیں

بامداد شوق کا زینہ نہیں!

(تو نے دیکھا تھا کہ کل میں (اک گداگر

صبح کی دیوار کے سائے تلے

ٹھٹھرا ہوا پایا گیا

تیری آنکھیں، تیرے لب تکتے رہے

ان کی گرمی پر یقیں کیسے مجھے آتا کہ میں

اپنے دل کے حادثوں کی تہہ میں تھا

یادوں سے غزلایا ہوا!

بات کر مجھ سے

کہ اب شب کے سحر بننے میں

کوئی فاصلہ باقی نہیں

بات کر مجھ سے کہ تیری بات

خطّ نسخ ہو بر روئے مرگ

اب اتر جا چشم و گوش و لب کے پار

اجڑے شہروں کی گزرگاہوں پہ

آوازوں کی قندیلیں اتار

راز کی لہریں

ابھر آئیں قطار اندر قطار!

ن م راشد

اے وطن اے جان

اے وطن، اے جان

تیری انگبیں بھی اور خاکستر بھی میں

میں نے یہ سیکھا ریاضی سے ادب بہتر بھی ہے برتر بھی ہے

خاک چھانی میں نے دانش گاہ کی

اور دانش گاہ میں بے دست و پا درویش حُسن و فہم کے جویا ملے

جن کو تھی میری طرح ہر دستگیری کی طلب

دستگیری کی تمنّا سالہا جارہی رہی

لیکن اپنے علم و دانش کا ثمر اس کے سوا کچھ بھی نہ تھا

سر تہی نقلی خدا تھے خیر و قوّت کا نشاں

اور انساں، اہلِ دل انساں شریر و ناتواں

اے وطن ترکے میں پائے تُو نے وہ خانہ بدوش

جن کو تھی کہنہ سرابوں کی تلاش

اور خود ذہنوں میں اُن کے تھے سراب

جس سے پسپائی کی ہمت بھی کبھی ان میں نہ تھی

اے وطن کچھ اہلِ دیں نے اور کچھ انساں پرستوں نے تجھے اِنشا کیا

عالمِ سکرات سے پیدا کیا

تاکہ تیرے دم سے لوٹ آئے جہاں میں عفّتِ انساں کا دَور!

دشمن اُس خواہش پہ خندہ زن رہے اور دوست اس پر بدگماں

اے وطن اے جان تُو نے دوست اور دشمن کا دل توڑا نہیں

ہم ریاضی اور ادب کو بھول کر

سیم و زر کی آز کے ریلے میں یوں بہتے رہے

جیسے ان بپھری ہوئی امواج کا ساحل نہ ہو

اُس یقیں کا اس عمل کا اس محبت کا یہی حاصل تھا کیا؟

اے وطن، اے جان ہر اک پل پہ تو استادہ ہے

بن گیا تیری گزرگاہ اک نیا دورِ عبور

یوں تو ہے ہر دورِ نَو بھی ایک فرسودہ خیال

حرف اور معنی کا جال!

آج لیکن اے وطن، اے جاں تجھے

اور بھی پہلے سے بڑھ کر حرف و معنی کے نئے آہنگ کی ہے جستجو

پھر ریاضی اور ادب کے ربطِ باہم کی طلب ہے رُوبرو!

ن م راشد

اے غزال شب!

اے غزال شب،

تری پیاس کیسے بجھاؤں میں

کہ دکھاؤں میں وہ سراب جو مری جاں میں ہے؟

وہ سراب ساحرِ خوف ہے

جو سحر سے شام کے رہ گزر میں فریبِ رہرو سادہ ہے

وہ سراب زادہ، سراب گر، کہ ہزار صورتِ نوبنو

میں قدم قدم پہ ستادہ ہے،

وہ جو غالب و ہمہ گیر دشتِ گماں میں ہے

مرے دل میں جیسے یقین بن کے سما گیا

مرے ہست و بود پہ چھا گیا!

اے غزالِ شب،

اُسی فتنہ کار سے چھپ گئے

مرے دیر و زود بھی خواب میں

مرے نزد و دُور بھی حجاب میں

وہ حجاب کیسے اٹھاؤں میں جو کشیدہ قالبِ دل میں ہے

کہ میں دیکھ پاؤں درونِ جاں

جہاں خوف و غم کا نشاں نہیں

جہاں یہ سرابِ رواں نہیں،

اے غزالِ شب!

ن م راشد

اے سمندر

اے سمندر،

پیکرِ شب، جسم، آوازیں

رگوں میں دوڑتا پھرتا لہو

پتھروں پر سے گزرتے

رقص کی خاطر اذاں دیتے گئے

اور میں، مرتے درختوں میں نہاں

سنتا رہا ۔۔

ان درختوں میں مرا اک ہاتھ

عہدِ رفتہ کے سینے پہ ہے

دوسرا، اِک شہرِ آیندہ میں ہے

جویائے راہ ۔۔۔۔

شہر، جس میں آرزو کی مے انڈیلی جائے گی

زندگی سے رنگ کھیلا جائے گا!

اے سمندر

اے سمندر،

آنے والے دن کو یہ تشویش ہے

رات کا کابوس جو دن کے نکلتے ہی

ہوا ہو جائے گی

کون دے گا اُس کے ژولیدہ سوالوں کا جواب؟

کس کرن کی نوک؟

کن پھولوں کا خواب؟

اے سمندر،

میں گنوں گا دانہ دانہ تیرے آنسو

جن میں آنے والا جشنِ وصل ناآسودہ ہے

جن میں فردائے عروسی کے لیے

کرنوں کے ہار

شہرِ آیندہ کی روحِ بے زماں

چنتی رہی ۔۔

میں ہی دوں گا جشن میں دعوت تجھے

استراحت تیری لہروں کے سوا

کس شے میں ہے؟

رات اِس ساحل پہ غرّاتے رہے

غم زدہ لمحات کے ترسے ہوئے کتوں کی نظریں

چاند پر پڑتی رہیں

اُن کی عَو عَو دور تک لپکی رہی!

اے سمندر،

آج کیونکر، ابر کے اوراقِ کہنہ

بازوئے دیرینہ ءِ امید پر اڑتے رہے

دور سے لائے نرالی داستاں!

چاند کی ٹوٹی ہوئی کشتی کی بانہوں پر رواں!

شہرِ آیندہ کے دست و پا کے رنگ

جیسے جاں دینے پہ سب آمادہ ہوں

دست و پا میں جاگ اٹھے

راگ کے مانند،

میں بھی دست و پا میں جاگ اٹھا!

اے سمندر،

کل کے جشنِ نو کی موج

شہرِ آیندہ کی بینائی کی حد تک آ گئی۔۔

اب گھروں سے،

جن میں راندہ روز و شب

چار دیواری نہیں،

مرد و زن نکلیں گے

ہاتھوں میں اُٹھائے برگ و بار

جن کو چھو لینے سے لوٹ آئے گی رو گرداں بہار!

اے سمندر۔۔

ن م راشد

ایک شہر

یہ سب سے نیا، اور سب سے بڑا اور نایاب شہر

یہاں آکے رکتے ہیں سارے جہاں کے جہاز

یہاں ہفت اقلیم کے ایلچی آ کے گزرتے ہیں

درآمد برآمد کے لاریب چشموں سے شاداب شہر

یہ گلہائے شبوں کی مہکوں سے، محفل کی شمعوں سے، شب تاب شہر

یہ اک بستر خواب شہر

دیبا و سنجاب شہر

یہاں ہیں عوام اپنے فرماں روا کی محبت میں سرشار

بطبیب دلی، قید و بند سلاسل کے ارماں کے ہاتھوں گرفتار

دیوانہ وار

یہاں فکر و اظہار کی حریت کی وہ دولت لٹائی گئی

کہ اب سیم و زر اور لعل و گہر کی بجائے

بس الفاظ و معنی سے

اہل قلم کے، خطیبوں کے، اُجڑے خزانے ہیں معمور

خیالات کا ہے صنم خانہ نقش گر میں وفور

مغنی کے پیچھے فقط چند شوریدہ سر بے شعور

مسافت یہاں صدر سے تابہ نعلین بس ایک دو گام

یہاں میزباں اور مہماں ہیں، ایک ہی شہد کے جام سے شاد کام

کہ یہ شہر ہے، عدل و انصاف میں

اور مساوات میں

اور اخوت میں

مانند حمام

یہاں تخت و پیہم ہوں یا کلاہ گلیم

ہے سب کا وہی ایک رب کریم

ن م راشد

ایک زمزمے کا ہاتھ

ابھرا تھا جو آواز کے نابود سے

اک زمزمے کا ہاتھ

اس ہاتھ کی جھنکار

نئے شہروں کا، تہذیبوں کا

الہام بنے گی

وہ ہاتھ نہ تھا دھات کے اک معبدِ کہنہ

سے چرایا ہوا، تاریخ میں لتھڑا ہوا

اک ہاتھ

وہ ہاتھ خداوندستمگر کا نہیں تھا

وہ ہاتھ گدا پیشہ پیمبر کا نہیں تھا

اس ہاتھ میں [تم دیکھتے ہو]

شمع کی لرزش ہے جوکہتی ہے کہ:

’’آؤ،

شاہراہ پہ بکھرے ہوئے اوراق اٹھاؤ

اس ہاتھ سے لکّھو!‘‘

کہتی ہے کہ :’’آؤ

ہم تم کونئے زینوں کے،

آئینوں کے، باغوں کے

چراغوں کے، محلوں کے، ستونوں کے

نئے خواب دکھائیں

وہ پھول جو صحراؤں میں شبنم سے جدا

[خود سے جدا]

ہانپتے ہیں، ان کے

نئے صحنوں میں انبار لگائیں

الجھے ہوئے لمحات جوافکار

کی دیواروں سے آویختہ ہیں

ان سے نئے ہار بنائیں

سینوں میں اتر جائیں،

پھرافسردہ تمنائیں جلائیں‘‘

کہتی ہے کہ:

’’دو وقت کی روٹی کا سہارا ہے یہی ہاتھ

جینے کا اشارہ ہے یہی ہاتھ

اس ہاتھ سے پھرجام اٹھائیں

پھرکھولیں کسی صبح کی کرنوں کے دریچے،

اس ہاتھ سے آتی ہوئی خوشبوؤں کو

آداب بجا لائیں!‘‘

کہتی ہے کہ:

’’افسوس کی دہلیز پر

اک عشقِ کہن سال پڑا ہے

اس عشق کے سوکھے ہوئے چہرے

پہ ڈھلکتے ہوئے آنسو

اس ہاتھ سے پونچھیں

یہ ہاتھ ہے وہ ہاتھ

جوسورج سے گرا ہے

ہم سامنے اس کے

جھک جائیں دعا میں

کہ یہی زندگی و مرگ کی ہردھوپ میں

ہر چھاؤں میں

الفاظ و معانی کے نئے وصل

کاپیغام بنے گا

ہر بوسے کا الہام بنے گا!‘‘

ن م راشد

ایک رات

یاد ہے اک رات زیرِ آسمانِ نیلگوں

یاد ہے مجھ کو وہ تابستاں کی رات!

چاند کی کرنوں کا بے پایاں فسوں___ پھیلا ہوا

سرمدی آہنگ برساتا ہوا___ ہر چار سُو!

اور مرے پہلو میں تُو___!

میرے دل میں یہ خیال آنے لگا:

غم کا بحرِ بے کراں ہے یہ جہاں

میری محبوبہ کا جسم اک ناؤ ہے

سطحِ شور انگیز پر اس کی رواں

ایک ساحل، ایک انجانے جزیرے کی طرف

اُس کو آہستہ لیے جاتا ہوں میں

دل میں یہ جاں سوز وہم

یہ کہیں غم کی چٹانوں سے نہ لگ کر ٹوٹ جائے!

یاد ہے مجھ کو وہ تابستاں کی رات

تیرے دل میں راز کی ایک کائنات

تیری خاموشی میں طوفانوں کا غوغائے عظیم

سرخوشِ اظہار تیری ہر نگاہ

تیرے مژگاں کے تلے گہرے خیال

بے بسی کی نیند میں الجھے ہوئے!

تیرا چہرہ آبگوں ہونے کو تھا

دفعتاً، پھر جیسے یاد آ جائے اک گم گشتہ بات

تیرے سینے کے سمن زاروں میں اٹھیں لرزشیں

میرے انگاروں کو بے تابانہ لینے کے لیے

اپنی نکہت، اپنی مستی مجھ کو دینے کے لیے

غم کے بحرِ بے کراں میں ہو گیا پیدا سکوں

یاد ہے وہ رات زیرِ آسمانِ نیلگوں

یاد ہے مجھ کو وہ تابستاں کی رات!

ن م راشد

ایک دنِ__لارنس باغ میں

بیٹھا ہوا ہوں صبح سے لارنس باغ میں

افکار کا ہجوم ہے میرے دماغ میں

چھایا ہوا ہے چار طرف باغ میں سکوت

تنہائیوں کی گود میں لپٹا ہوا ہوں میں

اشجار بار بار ڈراتے ہیں بن کے بھوت

جب دیکھتا ہوں اُن کی طرف کانپتا ہوں میں

بیٹھا ہوا ہوں صبح سے لارنس باغ میں!

لارنس باغ! کیف و لطافت کے خلد زار

وہ موسمِ نشاط! وہ ایامِ نو بہار

بھولے ہوئے مناظرِ رنگیں بہار کے

افکار بن کے روح میں میری اُتر گئے

وہ مست گیت موسمِ عشرت فشار کے

گہرائیوں کو دل کی غم آباد کر گئے

لارنس باغ! کیف و لطافت کے خلد زار

ہے آسماں پہ کالی گھٹاؤں کا اِزدِحام

ہونے لگی ہے وقت سے پہلے ہی آج شام

دنیا کی آنکھ نیند سے جس وقت جھک گئی

جب کائنات کھو گئی اسرارِ خواب میں

سینے میں جوئے اشک ہے میرے رُکی ہوئی

جا کر اُسے بہاؤں گا کُنجِ گلاب میں

ہے آسماں پہ کالی گھٹاؤں کا اِزدِحام

افکار کا ہجوم ہے میرے دماغ میں

بیٹھا ہوا ہوں صبح سے لارنس باغ میں!

ن م راشد

ایک اور شہر

خود فہمی کا ارماں ہے تاریکی میں روپوش،

تاریکی خود بے چشم و گوش!

اک بے پایاں عجلت راہوں کی الوند!

سینوں میں دل یوں جیسے چشمِ آزِ صیّاد

تازہ خوں کے پیاسے افرنگی مردانِ راد

خود دیوِآہن کے مانند!

دریا کے دو ساحل ہیں اور دونوں ہی ناپید

شر ہے دستِ سیہ اور خیر کا حامل روئے سفید!

اک بارِ مژگاں، اک لبِ خند!

سب پیمانے بے صرفہ جب سیم و زر میزان

جب ذوقِ عمل کا سرچشمہ بے معنی ہذیان

جب دہشت ہر لمحہ جاں کند!

یہ سب افقی انسان ہیں، یہ ان کے سماوی شہر

کیا پھر ان کی کمیں میں وقت کے طوفاں کی اِک لہر؟

کیا سب ویرانی کے دلبند؟

ن م راشد

ایران میں اجنبی

من وسلویٰ

’’خدائے برتر،

یہ دار یوشِ بزرگ کی سر زمیں،

یہ نو شیروانِ عادل کی داد گاہیں،

تصوف و حکمت و ادب کے نگار خانے،

یہ کیوں سیہ پوست دشمنوں کے وجود سے

آج پھر اُبلتے ہوئے سے ناسور بن رہے ہیں؟‘‘

ہم اِس کے مجرم نہیں ہیں، جانِ عجم نہیں ہیں،

وہ پہلا انگریز

جس نے ہندوستان کے ساحل پہ

لا کے رکھی تھی جنسِ سوداگری

یہ اس کا گناہ ہے

جو تیرے وطن کی

زمین گل پوش کو

ہم اپنے سیاہ قدموں سے روندتے ہیں!

یہ شہر اپنا وطن نہیں ہے،

مگر فرنگی کی رہزنی نے

اسی سے ناچار ہم کو وابستہ کر دیا ہے،

ہم اِس کی تہذیب کی بلندی کی چھپکلی بن کے رہ گئے ہیں،

وہ راہزن جو یہ سوچتا ہے:

’’کہ ایشیا ہے کوئی عقیم و امیر بیوہ

جو اپنی دولت کی بے پناہی سے مبتلا اک فشار میں ہے،

اور اُس کا آغوشِ آرزو مند وا مرے انتظار میں ہے،

اور ایشیائی،

قدیم خواجہ سراؤں کی اک نژادِ کاہل،

اجل کی راہوں پہ تیز گامی سے جارہے ہیں‘‘

مگر یہ ہندی

گرسنہ و پا برہنہ ہندی

جو سالکِ راہ ہیں

مگر راہ و رسمِ منزل سے بے خبر ہیں،

گھروں کو ویران کر کے،

لاکھوں صعوبتیں سہہ کے

اور اپنا لہو بہا کر

اگر کبھی سوچتے ہیں کچھ تو یہی،

کہ شاید انہی کے بازو

نجات دلوا سکیں گے مشرق کو

غیر کے بے پناہ بپھرے ہوئے ستم سے___

یہ سوچتے ہیں:

یہ حادثہ ہی کہ جس نے پھینکا ہے

لا کے ان کو ترے وطن میں

وہ آنچ بن جائے،

جس سے پھُنک جائے،

وہ جراثیم کا اکھاڑہ،

جہاں سے ہر بار جنگ کی بوئے تند اُٹھتی ہے

اور دنیا میں پھیلتی ہے!___

میں جانتا ہوں

مرے بہت سے رفیق

اپنی اداس، بیکار زندگی کے

دراز و تاریک فاصلوں میں

کبھی کبھی بھیڑیوں کے مانند

آ نکلتے ہیں، را ہگزاروں پہ

جستجو میں کسی کے دو ’’ساقِ صندلیں‘‘ کی!

کبھی دریچوں کی اوٹ میں

ناتواں پتنگوں کی پھڑپھڑاہٹ پہ

ہوش سے بے نیاز ہو کر وہ ٹوٹتے ہیں؛

وہ دستِ سائل

جو سامنے اُن کے پھیلتا ہے

اس آرزو میں

کہ اُن کی بخشش سے

پارہ ءِ نان، من و سلویٰ کا روپ بھر لے،

وہی کبھی اپنی نازکی سے

وہ رہ سجھاتا ہے

جس کی منزل پہ شوق کی تشنگی نہیں ہے!

تو اِن مناظر کو دیکھتی ہے!

تو سوچتی ہے:

____یہ سنگدل، اپنی بزدلی سے

فرنگیوں کی محبتِ ناروا کی زنجیر میں بندھے ہیں

اِنہی کے دم سے یہ شہر ابلتا ہوا سا ناسور بن رہا ہے____!

محبتِ ناروا نہیں ہے،

بس ایک زنجیر،

ایک ہی آہنی کمندِ عظیم

پھیلی ہوئی ہے،

مشرق کے اک کنارے سے دوسرے کنارے تک،

مرے وطن سے ترے وطن تک،

بس ایک ہی عنکبوت کا جال ہے کہ جس میں

ہم ایشیائی اسیر ہو کر تڑپ رہے ہیں!

مغول کی صبح خوں فشاں سے

فرنگ کی شامِ جاں ستاں تک!

تڑپ رہے ہیں

بس ایک ہی دردِ لا دوا میں،

اور اپنے آلامِ جاں گزا کے

اس اشتراکِ گراں بہانے بھی

ہم کو اک دوسرے سے اب تک

قریب ہونے نہیں دیا ہے!

ن م راشد

انقلابی

مورخ، مزاروں کے بستر کا بارِ گراں

عروس اُس کی نارس تمناؤں کے سوز سے

آہ بر لب

جدائی کی دہلیز پر، زلف در خاک، نوحہ کناں

یہ ہنگام تھا، جب ترے دل نے اس غمزدہ سے

کہا، لاؤ اب لاؤ دریوزہ ءِ غمزہ ءِ جانستاں

مگر خواہشیں اشہبِ باد پیما نہیں

جو ہوں بھی تو کیا

کو جولاں گہ ءِ وقت میں کس نے پایا ہے

کس کا نشاں؟

یہ تاریخ کے ساتھ چشمک کا ہنگام تھا؟

یہ مانا تجھے یہ گوارا نہ تھا

کہ تاریخ دانوں کے دامِ محبت میں پھنس کر

اندھیروں کی روحِ رواں کو اجالا کہیں

مگر پھر بھی تاریخ کے ساتھ

چشمک کا یہ کون ہنگام تھا؟

جو آنکھوں میں اُس وقت آنسو نہ ہوتے

تو یہ مضطرب جاں،

یہ ہر تازہ و نو بنو رنگ کی دلربا

تری اس پذیرائیِ چشم و لب سے

وفا کے سنہرے جزیروں کی شہزاد ہوتی

ترے ساتھ منزل بمنزل رواں و دواں

اسے اپنے ہی زلف و گیسو کے دامِ ازل سے

رہائی تو ملتی

مگر تُو نے دیکھا بھی تھا

دیوِ تاتار کا حجرہ ءِ تار

جس کی طرف تو اسے کر رہا تھا اشارے

جہاں بام و دیوار میں کوئی روزن نہیں ہے

جہاں چار سُو باد و طوفاں کے مارے ہوئے راہگیروں

کے بے انتہا استخواں ایسے بکھرے پڑے ہیں

ابد تک نہ آنکھوں میں آنسو، نہ لب پر فغاں؟

ن م راشد

انسان

الٰہی تیری دنیا جس میں ہم انسان رہتے ہیں

غریبوں، جاہلوں، مُردوں کی، بیماروں کی دنیا ہے

یہ دنیا بے کسوں کی اور لاچاروں کی دنیا ہے

ہم اپنی بے بسی پر رات دن حیران رہتے ہیں!

ہماری زندگی اک داستاں ہے ناتوانی کی

بنا لی اے خدا اپنے لیے تقدیر بھی تُو نے

اور انسانوں سے لے لی جرأت تدبیر بھی تُو نے

یہ داد اچھی ملی ہے ہم کو اپنی بے زبانی کی!

اسی غور و تجسس میں کئی راتیں گزری ہیں

میں اکثر چیخ اُٹھتا ہوں بنی آدم کی ذلّت پر

جنوں سا ہو گیا ہے مجھ کو احساسِ بضاعت پر

ہماری بھی نہیں افسوس، جو چیزیں ’’ہماری‘‘ ہیں!

کسی سے دور یہ اندوہِ پنہاں ہو نہیں سکتا!

خدا سے بھی علاجِ دردِ انساں ہو نہیں سکتا!

ن م راشد

اندھا کباڑی

شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ھوئے

پا شکستہ سر بریدہ خواب

جن سے شہر والے بے خبر!

گھومتا ہوں شہر کے گوشوں میں روز و شب

کہ ان کو جمع کر لوں

دل کی بھٹی میں تپاؤں

جس سے چھٹ جائے پرانا میل

ان کے دست و پا پھر سے ابھر آئیں

چمک اٹھیں لب و رخسار و گردن

جیسے نو آراستہ دولھوں کے دل کی حسرتیں

پھر سے ان خوابوں کو سمت رہ ملے!

’’خواب لے لو خواب‘‘

صبح ہوتے ہی چوک میں جا کر لگاتا ہوں صدا

’’خواب اصلی ہیں کہ نقلی‘‘

یوں پرکھتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑھ کر

خواب داں کوئی نہ ہو!

خواب گر میں بھی نہیں

صورت گر ثانی ہوں بس

ہاں مگر میری معیشت کا سہارا خواب ہیں!

شام ھو جاتی ہے

میں پھر سے لگاتا ہوں صدا

’’مفت لے لو مفت، یہ سونے کے خواب ‘‘

’’مفت‘‘ سن کر اور ڈر جاتے ہیں لوگ

اور چپکے سے سرک جاتے ہیں لوگ

’’دیکھنا یہ مفت کہتا ہے‘‘

کوئی دھوکا نہ ہو!

ایسا کوئی شعبدہ پنہاں نہ ہو

گھر پہنچ کر ٹوٹ جائیں

یا پگھل جائیں یہ خواب

بھک سے اڑ جائیں کہیں

یا ہم پہ کوئی سحر کر ڈالیں یہ خواب

جی نہیں کس کام کے؟

ایسے کباڑی کے یہ خواب

ایسے نابینا کباڑی کے یہ خواب!

رات ہو جاتی ہے

خوابوں کے پلندے سر پہ رکھ کر

منہ بسورے لوٹتا ہوں

رات بھر پھر بڑبڑاتا ہوں

’’یہ لے لو خواب‘‘

اور لے لو مجھ سے ان کے دام بھی

خواب لے لو، خواب

میرے خواب

خواب میرے خواب

خو ا ا ا ا ب

ان کے د ا ا ا ا م بھی ی ی ی

ن م راشد

انتقام

اُس کا چہرہ، اُس کے خدوخال یاد آتے نہیں

اک شبستاں یاد ہے

اک برہنہ جسم آتشداں کے پاس

فرش پر قالین، قالینوں کی سیج

دھات اور پتھر کے بت

گوشہء دیوار میں ہنستے ہوئے!

اور آتشداں میں انگاروں‌کا شور

اُن بتوں کی بے حِسی پر خشمگیں؛

اُجلی اُجلی اونچی دیواروں پہ عکس

اُن فرنگی حاکموں کی یادگار

جن کی تلواروں نے رکھا تھا یہاں

سنگِ بنیادِ فرنگ!

اُس کا چہرہ اُس کے خدوخال یاد آتے نہیں

اک برہنہ جسم اب تک یاد ہے

اجنبی عورت کا جسم،

میرے ‘ہونٹوں‘ نے لیا تھا رات بھر

جس سے اربابِ وطن کی بے بسی کا انتقام

وہ برہنہ جسم اب تک یاد ہے!

ن م راشد

اظہار اور رسائی

مو قلم، ساز، گل تازہ، تھرکتے پاؤں

بات کہنے کے بہانے ہیں بہت

آدمی کس سے مگر بات کرئے

بات جب حیلہء تقریب ملاقات نہ ہو

اور رسائی کہ ھمیشہ سے ھے کوتاہ کمند

بات کی غایت غایات نہ ہو!

ایک ذرّہ کف خاکستر کا

شرر جستہ کے مانند کبھی

کسی انجانی تمنّا کی خلش سے مسرور

اپنے سینے کے دہکتے ھوئے تنّور کی لو سے مجبور

ایک ذرّہ کہ ہمیشہ سے ھے خود سے مہجور،

کبھی نیرنگ صدا بن کے جھلک اٹھتا ہے

آب و رنگ و خط و محراب کا پیوند کبھی

اور بنتا ھے معانی کا خداوند کبھی

وہ خداوند جو پابستہ آنات نہ ہو!

اسے اک ذرّے کی تابانی سے

کسی سوئے ہوئے رقّاص کے دست و پا میں

کانپ اٹھتے ہیں مہ و سال کے نیلے گرداب

اسی اک ذرّے کی حیرانی سے

شعر بن جاتے ہیں اک کوزہ گر پیر کے خواب

اسے اک ذرّہ لا فانی سے

خشت بے مایہ کو ملتا ھے دوام

بام و در کو وہ سحر جس کی کبھی رات نہ ہو!

آدمی کس سے مگر بات کرئے

مو قلم، ساز، گل تازہ، تھرکتے پاؤں

آدمی سوچتا رہ جاتا ہے،

اس قدر بار کہاں، کس کے لیے، کیسے اٹھاؤں

اور پھر کس کے لیے بات کروں

ن م راشد

اظہار

کیسے میں بھی بھول جاؤں

زندگی سے اپنا ربطِ اوّلیں؟

ایک دور افتادہ قریے کے قریب

اک جنوں افروز شام

نہر پر شیشم کے اشجارِ بلند

چاندنی میں اُن کی شاخوں کے تلے

تیرے پیمانِ محبت کا وہ اظہارِ طویل!

روح کا اظہار تھے بوسے مرے

جیسے میری شاعری، میرا عمل!

روح کا اظہار کیسے بھول جاؤں؟

کیسے کر ڈالوں میں جسم و روح کو

آج بے آہنگ و نور؟

تُو کہ تھی اس وقت گمنامی کے غاروں میں نہاں

میرے ہونٹوں ہی نے دی تجھ کو نجات

اپنی راہوں پر اٹھا لایا تجھے

زندہ ءِ جاوید کر ڈالا تجھے

جیسے کوئی بت تراش

اپنے بت کو زندگی کے نور سے تاباں کرے

اس کو برگ و بار دینے کے لیے

اپنے جسم و روح کو عریاں کرے!

میرے بوسے روح کا اظہار تھے

روح جو اظہار ہی سے زندہ و تابندہ ہے

ہے اسی اظہار سے حاصل مجھے قربِ حیات،

روح کا اظہار کیسے بھول جاؤں؟

ن م راشد

اسرافیل کی موت

مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاؤ

وہ خداؤں کا مقرّب، وہ خداوندِکلام

صوت انسانی کی روحِجاوداں

آسمانوں کی ندائے بے کراں

آج ساکت مثلِ حرفِ ناتمام

مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاؤ!

آؤ، اسرافیل کے اس خوابِ بے ہنگام پر آنسو بہائیں

آرمیدہ ہے وہ یوں قرنا کے پاس

جیسے طوفاں نے کنارے پر اگل ڈالا اسے

ریگ ساحل پر، چمکتی دھوپ میں، چپ چاپ

اپنے صور کے پہلو میں وہ خوابیدہ ہے!

اس کی دستار، اس کے گیسو، اس کی ریش

کیسے خاک آلودہ ہیں!

تھے کبھی جن کی تہیں بود و نبود!

کیسے اس کا صور، اس کے لب سے دور،

اپنی چیخوں، اپنی فریادوں میں گم

جھلملا اٹھتے تھے جس سے دیر و زود!

مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاوء

وہ مجسّم ہمہمہ تھا، وہ مجسّم زمزمہ

وہ ازل سے تا ابد پھیلی ھوئی غیبی صداؤں کا نشاں!

مرگِ اسرافیل سے

حلقہ در حلقہ فرشتے نوحہ گر،

ابن آدم زلف در خاک و نزاز

حضرت یزداں کی آنکھیں غم سے تار

آسمانوں کی صفیر آتی نہیں

عالم لاہوت سے کوئی نفیر آتی نہیں!

مرگِ اسرافیل سے

اس جہاں پر بند آوازوں کا رزق

مطربوں کا رزق، اور سازوں کا رزق

اب مغنّی کس طرح گائے گا اور گائے کا کیا

سننے والوں کے دلوں کے تار چب!

اب کوئی رقاص کیا تھرکے گا، لہرائے گا کیا

بزم کے فرش و در و دیوار چپ!

اب خطیبِ شہر فرمائے گا کیا

مسجدوں کے آستان و گنبد و مینار چپ!

فِکر کا صیّاد اپنا دام پھیلائے گا کیا

طائرانِ منزل و کہسار چپ!

مرگِ اسرافیل ہے

گوش شنوا کی، لبِ گویا کی موت

چشمِبینا کی، دلِ دانا کی موت

تھی اسی کے دم سے درویشوں کی ساری ہاؤ ہو

اہل دل کی اہل دل سے گفتگو

اہل دل جو آج گوشہ گیر و سرمہ در گلو!

اب تنانا ہو بھی غائب اور یارب ہا بھی گم

اب گلی کوچوں کی ہر آوا بھی گم!

یہ ہمارا آخری ملجا بھی گم!

مرگِ اسرافیل سے،

اس جہاں کا وقت جیسے سو گیا، پتھرا گیا

جیسے کوئی ساری آوازوں کو یکسر کھا گیا،

ایسی تنہائی کہ حسن تام یاد آتا نہیں

ایسا سنّاٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیں!

مرگِ اسرافیل سے

دیکھتے رہ جائیں گے دنیا کے آمر بھی

زباں بندی کے خواب!

جس میں مجبوروں کی سرگوشی تو ہو

اس خداوندی کے خواب!

ن م راشد

اجنبی عورت

ایشیا کے دور افتادہ شبستانوں میں بھی

میرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں

کاش اک دیوارِ ظلم

میرے ان کے درمیاں حائل نہ ہو

یہ عماراتِ قدیم

یہ خیاباں، یہ چمن، یہ لالہ زار

چاندنی میں نوحہ خواں

اجنبی کے دستِ غارتگر سے ہیں

زندگی کے ان نہاں خانوں میں بھی

میرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں

کاش اک ’’دیوارِ رنگ‘‘

میرے ان کے درمیاں حائل نہ ہو

یہ سیہ پیکر برہنہ راہرو

یہ گھروں میں خوبصورت عورتوں کا زہرِخند

یہ گزرگاہوں پہ دیو آسا جواں

جن کی آنکھوں میں گرسنہ آرزوؤں کی لپک

مشتعل، بیاباک مزدوروں کا سیلاب عظیم

ارضِ مشرق، ایک مبہم خوف سے لرزاں ہوں میں

آج ہم کو جن تمناؤں کی حرمت کے سبب

دشمنوں کا سامنا مغرب کے میدانوں میں ہے

اُن کا مشرق میں نشاں تک بھی نہیں

ن م راشد

اتفاقات

آج، اس ساعتِ دزدیدہ و نایاب میں بھی،

جسم ہے خواب سے لذت کشِ خمیازہ ترا

تیرے مژگاں کے تلے نیند کی شبنم کا نزول

جس سے دھُل جانے کو ہے غازہ ترا

زندگی تیرے لیے رس بھرے خوابوں کا ہجوم

زندگی میرے لیے کاوشِ بیداری ہے؛

اتفاقات کو دیکھ

اس حسیں رات کو دیکھ

توڑ دے وہم کے جال

چھوڑ دے اپنے شبستانوں کو جانے کا خیال،

خوفِ موہوم تری روح پہ کیا طاری ہے!

اتنا بے صرفہ نہیں تیرا جمال

اس جنوں خیز حسیں رات کو دیکھ!

آج، اس ساعتِ دزدیدہ و نایاب میں بھی

تشنگی روح کی آسودہ نہ ہو

جب ترا جسم جوانی میں ہے نیسانِ بہار

رنگ و نگہت کا فشار!

پھول ہیں، گھاس ہے، اشجار ہیں، دیواریں ہیں

اور کچھ سائے کہ ہیں مختصر و تیرہ و تار،

تجھ کو کیا اس سے غرض ہے کہ خدا ہے کہ نہیں؟

دیکھ پتوں میں لرزتی ہوئی کرنوں کا نفوذ

سرسراتی ہوئی بڑھتی ہے رگوں میں جیسے

اوّلیں بادہ گساری میں نئی تند شراب

تجھ کو کیا اس سے غرض ہے کہ خدا ہے کہ نہیں

کہکشاں اپنی تمناؤں کا ہے راہگزار

کاش اس راہ پہ مل کر کبھی پرواز کریں،

اک نئی زیست کا در باز کریں!

آسماں دور ہے لیکن یہ زمیں ہے نزدیک

آ اِسی خاک کو ہم جلوہ گہِ راز کریں!

روحیں مل سکتی نہیں ہیں تو یہ لب ہی مل جائیں،

آ اِسی لذتِ جاوید کا آغاز کریں!

صبح جب باغ میں رس لینے کو زنبور آئے

اس کے بوسوں سے ہوں مدہوش سمن اور گلاب

شبنمی گھاس پہ دو پیکرِ یخ بستہ ملیں،

اور خدا ہے تو پشیماں ہو جائے!

ن م راشد

ابو لہب کی شادی

شب زفافِ ابو لہب تھی، مگر خدایا وہ کیسی شب تھی،

ابو لہب کی دلہن جب آئی تو سر پہ ایندھن، گلے میں

سانپوں کے ہار لائی، نہ اس کو مشاطّگی سے مطلب

نہ مانگ غازہ، نہ رنگ روغن، گلے میں سانپوں

کے ہار اس کے، تو سر پہ ایندھن!

خدایا کیسی شب زفافِ ابو لہب تھی!

یہ دیکھتے ھی ہجوم بپھرا، بھڑک اٹھے یوں غضب

کے شعلے، کہ جیسے ننگے بدن پہ جابر کے تازیانے!

جوان لڑکوں کی تالیاں تھیں، نہ صحن میں شوخ

لڑکیوں کے تھرکتے پاؤں تھرک رھے تھے،

نہ نغمہ باقی نہ شادیانے !

ابو لہب نے یہ رنگ دیکھا، لگام تھامی، لگائی

مہمیز، ابو لہب کی خبر نہ آئی!

ابو لہب کی خبر جو آئی، تو سالہا سال کا زمانہ

غبار بن کر بکھر چکا تھا!

ابو لہب اجنبی زمینوں کے لعل و گوہر سمیٹ کر

پھر وطن کو لوٹا، ہزار طرّار و تیز آنکھیں، پرانے

غرفوں سے جھانک اٹھیں، ہجوم، پیر و جواں کا

گہرا ہجوم، اپنے گھروں سے نکلا، ابو لہب کے جلوس

کو دیکھنے کو لپکا!

ابولہب!’’ اک شبِ زفافِ ابو لہب کا جلا‘‘

پھپھولا، خیال کی ریت کا بگولا، وہ عشق برباد

کا ہیولا، ہجوم میں سے پکار اٹھی: ’’ابو لہب!

تو وہی ہے جس کی دلہن جب آئی، تو سر پہ ایندھن

گلے میں سانپوں کے ہار لائی‘‘

ابو لہب ایک لمحہ ٹھٹکا، لگام تھامی، لگائی

مہمیز، ابو لہب کی خبر نہ آئی!

ن م راشد

آک اور حنا

کیسے بکھری پُھول نیند

کیسے شانوں پہ گِرا اِک چاند گیت،

جس سے میں ظاہر ھوُا

چاند گیت!

اُن گہری ندیوں کے فرازوں کی طرف

لے چل، جہاں

آک کے پہلو میں اُگتی ھے حِنا،

اُن درختوں کی طرف لے چل مجھے

جن کی جانب لوٹ آئے

راہ سے بھٹکے ھوُئے زنبوُر

چھتوں کی طرف

جن سے کرنا ھیں مجھے سرگوشیاں!

مجھ کو لے چل کشت زاروں کے

خزاں کجلائے چہروں کی طرف

جن پہ ماتم کی عنبریں کرنیں جھلک اُٹھی ھیں

گیت!

عشق جیسے روشنائی کا کوئی دھبہ تھا

پیراھن پہ ناگاہاں گِرا

میں نے اُس بپھری جوانی میں

وہ موسیقی کی سرشاری سُنی

میں نے خوشبوُؤں کی پُرباری سُنی

میں نے بازاروں میں گھبرائے ھجوُموں کا

وھی نغمہ، وھی شیون سُنا

جو ھر اِک زخمی سے کہتا ھے کہ :’’آ،

تیرا مزار اب میں ھی ھوُں،

میں وہ مطلع ھوُں جو اُجلا ھی سہی

نارس بھی ھے

میں وہ تصویرِ خداوندی ھوُں، دُھندلائی ھوئی

میں وہ دُنیا ھوُں کہ جس کے لَب نہیں!‘‘

لیکن اپنے زرد آج اور سُرخ کل کے درمیاں

تنگ دوراھے پہ اِک لمحہ بھی تھا

نارنج رنگ!

ھاں، اسی لمحے میں

کتنے راہ سے بھٹکے پرندے

ذہن کے بُرجوں پر آ بیٹھے کہ :’’ھم،

ھم میں کھو جا! ھم تجھے لے جائیں گے

اب اُس حِنا تک

اُگ رھی ھے، آک کے مسموُم پیمانوں کے پاس

اُن سے رس لیتی ھوُئی!‘‘

ن م راشد

آنکھیں کالے غم کی

اندھیرے میں یوں چمکیں آنکھیں کالے غم کی

جیسے وہ آیا ہو بھیس بدل کر آمر کا

آنے والے جابر کا!

سب کے کانوں میں بُن ڈالے مکڑی نے جالے

سب کے ہونٹوں پر تالے

سب کے دلوں میں بھالے!

اندھیرے میں یوں چمکے میلے دانت بھی غم کے

جیسے پچھلے دروازے سے آمر آ دھمکے

سر پر ابنِ آدم کے!

غم بھی آمر کے مانند اک دُم والا تارا

یا جلتا بجھتا شرارا،

جو رستے میں آیا سو مارا!

غم گرجا برسا، جیسے آمر گرجے برسے

خلقت سہمی دبکی تھی اک مبہم سے ڈر سے

خلقت نکلی پھر گھر سے!

بستی والے بول اٹھے! ’’اے مالک! اے باری!

کب تک ہم پہ رہے گا غم کا سایہ یوں بھاری،

کب ہو گا فرماں جاری؟‘‘

ن م راشد

آنکھوں کے جال

آہ تیری مدبھری آنکھوں کے جال

میز کی سطحِ درخشندہ کو دیکھ

کیسے پیمانوں کا عکسِ سیمگوں

اس کی بے اندازہ گہرائی میں ہے ڈوبا ہوا

جیسے میری روح، میری زندگی

تیری تابندہ سیہ آنکھوں میں ہے

مے کے پیمانے تو ہٹ سکتے ہیں یہ ہٹتی نہیں

قہوہ خانے کے شبستانوں کی خلوت گاہ میں

آج کی شب تیرا دزدانہ ورود

عشق کا ہیجان، آدھی رات اور تیرا شباب

تیری آنکھ اور میرا دل

عنکبوت اور اس کا بےچارہ شکار

تیرے ہاتھوں میں مگر لرزش ہے کیوں؟)

کیوں ترا پیمانہ ہونٹوں سے ترے ہٹتا نہیں

خام و نو آموز ہے تُو ساحرہ

کر رہی ہے اپنے فن کو آشکار

(اور اپنے آپ پر تجھ کو یقیں حاصل نہیں

پھر بھی ہے تیرے فسوں کے سامنے مجھ کو شکست

میرے تخیلات، میری شاعری بیکار ہیں

اپنے سر پر قمقموں کے نور کا سیلاب دیکھ

جس سے تیرے چہرے کا سایہ ترے سینے پہ ہے

اس طرح اندوہ میری زندگی پر سایہ ریز

تیری آنکھوں کی درخشانی سے ہے

سایہ ہٹ سکتا ہے، غم ہٹتا نہیں

آہ تیری مدبھری آنکھوں کے جال

دیکھ وہ دیوار پر تصویر دیکھ

یہ اگر چاہے کہ اس کا آفرینندہ کبھی

اس کے ہاتھوں میں ہو مغلوب و اسیر

کیسا بے معنی ہو یہ اس کا خیال

اس کو پھر اپنی ہزیمت کے سوا چارہ نہ ہو

تو مری تصویر تھی

میرے ہونٹوں نے تجھے پیدا کیا

آج لیکن میری مدہوشی کو دیکھ

میں کہ تھا خود آفرینندہ ترا

پابجولاں میرے جسم و روح تیرے سامنے

اور دل پر تیری آنکھوں کی گرفتِ ناگزیر

ساحری تیری خداوندی تیری

عکس کیسا بھی ہو فانی ہے مگر

یہ نگاہوں کا فسوں پایندہ ہے

ن م راشد

آگ کے پاس

پیرِ واماندہ کوئی

کوٹ پہ محنت کی سیاہی کے نشاں

نوجوان بیٹے کی گردن کی چمک دیکھتا ہوں

(اِک رقابت کی سیاہ لہر بہت تیز

مرے سینہ ءِ سوزاں سے گزر جاتی ہے)

جس طرح طاق پہ رکھے ہوئے گلداں کی

مس و سیم کے کاسوں کی چمک!

اور گلو الجھے ہوئے تاروں سے بھر جاتا ہے

کوئلے آگ میں جلتے ہوئے

کن یادوں کی کس رات میں

جل جاتے ہیں؟

کیا انہی کانوں کی یادوں میں جہاں

سال ہا سال یہ آسودہ رہے؟

انہی بے آب درختوں کے وہ جنگل

جنہیں پیرانہ سری بار ہوئی جاتی تھی؟

کوئلے لاکھوں برس دور کے خوابوں میں الجھ جاتے ہیں

آج شب بھی وہ بڑی دیر سے

گھر لوٹا ہے

اس کے الفاظ کو

ان رنگوں سے، آوازوں سے کیا ربط

جو اس غم زدہ گھر کے خس و خاشاک میں ہیں؟

اس کو اس میز پہ بکھری ہوئی

خوشبوؤں کے جنگل سے غرض؟

آج بھی اپنے عقیدے پہ بدستور

بضد قائم ہے!

وہ درختوں کے تنومند تنے

(اپنے آئندہ کے خوابوں میں اسیر)

گرد باد آ ہی گئے

ان کی رہائی کا وسیلہ بن کر

خود سے مہجورئ ناگاہ کا حیلہ بن کر

آئے اور چل بھی دیے

طولِ المناک کی دہلیز پہ

’’رخصت‘‘ کہہ کر

اور وہ لاکھوں برس سوچ میں

آیندہ کے موہوم میں خوابیدہ رہے!

میرے بیٹے، تجھے کچھ یاد بھی ہے

میں نے بھی شور مچایا تھا کبھی

خاک کے بگڑے ہوئے چہرے کے خلاف؟

لحنِ بے رنگ ہوا سن کے

مری جاں بھی پکار اٹھّی تھی؟

میں کبھی ایک انا اور کبھی دو کا سہارا لیتا

اپنی ساتھی سے میں کہہ اٹھتا کہ ’’جاگو، اے جان!

ہر انا تیرہ بیاباں میں

بھٹکتے ہوئے پتوں کا ہجوم!

میرا ڈر مجھ کو نگل جائے گا‘‘

میرے کانوں میں مرے کرب کی آواز

پلٹ آتی تھی

’’تجھے بے کار خداؤں پہ یقیں

اب بھی نہیں؟

اب بھی نہیں؟

آج بھی اپنے ہی الحاد کی کرسی میں

پڑا اونگھتا ہوں

نوجواں بیٹے کے الفاظ پہ چونک اٹھتا ہوں:

تو نے، بیٹے،

یہ عجب خواب سنایا ہے مجھے

اپنا یہ خواب کسی اور سے ہر گز نہ کہو!‘‘

کبھی آہستہ سے دروازہ جو کھلتا ہے تو ہنس دیتا ہوں

یہ بھی اس رات کی صر صر کی

نئی چال، نیا دھوکا ہے!

’’پھول یا پریاں بنانے کا کوئی نسخہ

مرے پاس نہیں ہے بیٹے

مجھے فرداؤں کے صحرا سے بھی

افسونِ روایت کی لہک آتی ہے

آگ میں کوئلے بجھنے کی تمنا نہ کرو

ان سے آیندہ کے مٹتے ہوئے آثار

ابھر آئیں گے

ان گزرتے ہوئے لمحات کی تنہائی میں

کیسا یہ خواب سنایا ہے مجھے تو نے ابھی

نہیں، ہر ایک سے،

ہر ایک سے یہ خواب کہو

اس سے جاگ اٹھتا ہے

سویا ہوا مجذوب

مری آگ کے پاس

ایسے مجذوب کو اک خواب بہت

خواب بہت۔۔۔۔۔ خواب بہت۔۔۔

ایسے ہر مست کو

اک خواب بہت!

ن م راشد

آرزو راہبہ ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔ آرزو راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیں

آرزو راہبہ ہے، عمر گزاری جس نے

انہی محروم ازل راہبوں، معبد کے نگہبانوں میں

ان مہ و سالِ یک آہنگ کے ایوانوں میں!

کیسے معبد پہ ہے تاریکی کا سایہ بھاری

روئے معبود سے ہیں خون کے دھارے جاری

۔۔۔۔۔۔۔۔ راہبہ رات کو معبد سے نکل آتی ہے

جھلملاتی ہوئی اک شمع لیے

لڑکھڑاتی ہوئی، فرش و در و دیوار سے ٹکراتی ہوئی!

دل میں کہتی ہے کہ اس شمع کی لو ہی شاید

دور معبد سے بہت دور چمکتے ہوئے انوار کی تمثیل بنے

آنے والی سحرِ نو یہی قندیل بنے

۔۔۔۔۔۔ آرزو راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیں

ہاں مگر راہبوں کو اس کی خبر ہو کیونکر

خود میں کھوئے ہوئے، سہمے ہوئے، سرگوشی سے ڈرتے ہوئے

راہبوں کو یہ خبر ہو کیونکر

کس لیے راہبہ ہے بےکس و تنہا و حزیں!

راہب استادہ ہیں مرمر کی سلوں کے مانند

بے کراں عجز کی جاں سوختہ ویرانی میں

جس میں اُگتے نہیں دل سوزئ انساں کے گلاب

راہبہ شمع لیے پھرتی ہے

یہ سمجھتی ہے کہ اس سے درِ معبد پہ کبھی

گھاس پر اوس جھلک اٹھے گی

سنگریزوں پہ کوئی چاپ سنائی دے گی!

ن م راشد

آئینہ حسّ و خبر سے عاری

آئینہ حسّ و خبر سے عاری،

اس کے نابود کو ہم ہست بنائیں کیسے؟

منحصر ہستِ تگا پوئے شب و روز پہ ہے

دلِ آئینہ کو آئینہ دکھائیں کیسے؟

دلِ آئینہ کی پہنائی بے کار پہ ہم روتے ہیں،

ایسی پہنائی کہ سبزہ ہے نمو سے محروم

گلِنو رستہ ہے بو سے محروم!

آدمی چشم و لب و گوش سے آراستہ ہیں

لطفِ ہنگامہ سے نورِمن و تو سے محروم!

مے چھلک سکتی نہیں، اشک کے مانند یہاں

اور نشّے کی تجلّی بھی جھلک سکتی نہیں

نہ صفائے دلِ آئینہِگزرگاہِ خیال!

آئینہ حسّ و خبر سے عاری

اس کے نابود کو ہم ہست بنائیں کیسے؟

آئینہ ایسا سمندر ہے جسے

کر دیا دستِ فسوں گر نے ازل میں ساکن!

عکس پر عکس در آتا ہے یہ امّید لیے

اس کے دم ہی سے فسونِ دلِ تنہا ٹوٹے

یہ سکوتِ اجل آسا ٹوٹے!

آئینہ ایک پر اسرار جہاں میں اپنے

وقت کی اوس کے قطروں کی صدا سنتا ہے،

عکس کو دیکھتا ہے، اور زباں بند ہے وہ

شہر مدفون کے مانند ہے وہ!

اس کے نابود کو ہم ہست بنائیں کیسے؟

آئینہ حسّ و خبر سے عاری!

ن م راشد

آ لگی ہے ریت

آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ

سارے دروازوں کے ساتھ

سرخ اینٹوں کی چھتوں پر رینگتی ہے

نیلی نیلی کھڑکیوں سے جھانکتی ہے

ریت ۔۔ رُک جا

کھیل تہ کر لیں

سنہرے تاش کے پتّوں سے

درزوں، روزنوں کو بند کر لیں

ریت

رُک جا

سست برساتیں کہ جن پر دوڑپڑنا،

جن کو دانتوں میں چبا لینا

کوئی مشکل نہ تھا

تُو نے وہ ساری نگل ڈالی ہیں رات ۔۔

رات ہم ہنستے رہے، اے ریت

تو دیوانی بلّی تھی جو اپنی دم کے پیچھے

گھومتی جاتی تھی

اس کو چاٹتی جاتی تھی رات!

ریت کی اِک عمر ہے اِک وقت ہے

لیکن ہمیں

خود سے جدا کرتی چلی جاتی ہےریت

ناگہاں ہم سب پہ چھا جانے کی خاطر

یہ ہماری موت بن کر تازہ کر دیتی ہے

یادیں دُور کی (یا دیر کی)

ریت کو مٹھی میں لے کر دیکھتے ہیں

اپنے پوروں سے اِسے چھنتے ہوئے

ہم دیکھتے ہیں

اپنے پاؤں میں پھسلتے دیکھتے ہیں

ریت پر چلتے ہوئے

اپنے گیسو اِس سے اٹ جاتے ہیں

بھر جاتے ہیں پیراہن

ہمارے باطنوں کو چیرتی جاتی ہے ریت

پھیلتی جاتی ہے جسم و جاں کے ہر سُو

ہم پہ گھیرا ڈالتی جاتی ہے

ریت!

ریت اِک مثبت نفی تھی

ریت سرحد تھی کبھی

ریت عارف کی اذیّت کا بدل تھی

آنسوؤں کی غم کی پہنائی تھی ریت

اپنی جویائی تھی ریت

ریت میں ’’ہر کس‘‘ تھے ہم

دوسرا کوئی نہ تھا

ریت وہ دنیا تھی جس پر

دشمنوں کی مہر لگ سکتی نہ تھی

اِس کو اپنا تک کوئی سکتا نہ تھا ۔۔۔

ریت پر ہم سن رہے ہیں آج

پیرانہ سری کی، اپنی تنہائی

کی چاپ

دن کے ساحل پر اتر کر

آنے ولی رات کے تودے لگاتی جارہی ہے

ناگہاں کے بے نہایت کو اڑا لائی ہے

ریت

دِل کے سونے پن میں در آئی ہے

ریت!

ن م راشد

’’آپ‘‘ کے چہرے

’’آپ‘‘ ہم جس کے قصیدہ خواں ہیں

وصل البتّہ و لیکن کے سوا

اور نہیں

’’آپ‘‘ ہم مرثیہ خواں ہیں جس کے

ہجر البتّہ و لیکن کے سوا اور نہیں

’’آپ‘‘ دو چہروں کی ناگن کے سوا اور نہیں!

روز ’’البتّہ‘‘ مرے ساتھ

پرندوں کی سحر جاگتے ارمانوں

کے بستر سے اٹھا

سیر کی، غسل کیا

اور مرے ساتھ ہی صبحانہ کیا،

بے سرے گیت بھی گائے

یونہی ’’لیکن‘‘ بھی مرے ساتھ

کسی بوڑھے جہاں گرد کے مانند

لڑھکتا رہا، لنگڑاتا رہا

شام ہوتے ہی وہ ان خوف کے پتلوں کی طرح

جو زمانے سے، کسی شہر میں مدفون چلے آتے ہوں

ناگہاں نیندوں کی الماری میں پھر ڈھیر ہوئے

ان کے خرّانٹوں نے شب بھی مجھے سونے نہ دیا

’’آپ‘‘ البتّہ و لیکن کے سوا اور نہیں

بارہا ایک ہی وہ چہرہ وہ ’’البتّہ‘‘

جسے جانتے ہو

دن کی بیہودہ تگ و تاز میں،

یا شور کے ہنگامِمن و توئی میں

نوحہ گر ہوتا ہے ’’لیکن‘‘ پہ کہ موجود نہیں

بارہا ایک ہی وہ چہرہ وہ ’’لیکن‘‘

جسے پہچانتے ہو

اپنے سنّاٹے کے بالینوں پر

اپنی تنہائی کے آئینوں میں

آپ ہی جھولتا ہے

قہقہے چیختا ہے

اپنے البتہ کی حالت پہ کہ موجود نہیں

آؤ، البتّہ و لیکن کو

کہیں ڈھونڈ نکالیں پھر سے

ان کے بستر پہ نئے پھول بچھائیں

جب وہ وصل پہ آمادہ نظر آئیں

تو (ہم آپ) کسی گوشے میں چپ چاپ سرک جائیں!

ن م راشد

عمر گریزاں کے نام

عمر یوں مجھ سے گریزاں ہے کہ ہر گام پہ میں

اس کے دامن سے لپٹتا ہوں مناتا ہوں اسے

واسطہ دیتا ہوں محرومی و ناکامی کا

داستاں آبلہ پائی کی سناتا ہوں اسے

خواب ادھورے ہیں جو دُہراتا ہوں ان خوابوں کو

زخم پنہاں ہیں جو وہ زخم دکھاتا ہوں اسے

اس سے کہتا ہوں تمنّا کے لب و لہجے میں

اے مری جان مری لیلیٰ تابندہ جبیں

سنتا ہوں تو ہے پری پیکر و فرخندہ جمال

سنتا ہوں تو ہے مہ و مہر سے بھی بڑھ کے حسیں

یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں کہ ابھی تک میں نے

جاننا تجھ کو کجا پاس سے دیکھا بھی نہیں

صبح اُٹھ جاتا ہوں جب مرغ اذاں دیتے ہیں

اور روٹی کے تعاقب میں نکل جاتا ہوں

شام کو ڈھور پلٹتے ہیں چراگاہوں سے جب

شب گزاری کے لیے میں بھی پلٹ آتا ہوں

یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں مرا سرمایہ ابھی

خواب ہی خواب ہیں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

ملتوی کرتا رہا کل پہ تری دید کو میں

اور کرتا رہا اپنے لیے ہموار زمیں

آج لیتا ہوں جواں سوختہ راتوں کا حساب

جن کو چھوڑ آیا ہوں ماضی کے دھندلکے میں کہیں

صرف نقصان نظر آتا ہے اس سودے میں

قطرہ قطرہ جو کریں جمع تو دریا بن جائے

ذرّہ ذرّہ جو بہم کرتا تو صحرا ہوتا

اپنی نادانی سے انجام سے غافل ہو کر

میں نے دن رات کیے جمع خسارہ بیٹھا

جاننا تجھ کو کجا پاس سے دیکھا بھی نہیں

اے مری جان مری لیلیٰ تابندہ جبیں

یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں مرا سرمایہ ابھی

خواب ہی خواب ہیں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں!

اختر الایمان

اعتراف

چند لمحے جو ترے ساتھ گزارے میں نے

ان کی یاد ان کا تصور ابھی رخشندہ نہیں

تو ابھی چھائی نہیں مجھ پر، مری دنیا پر

خود ترا حسن مرے ذہن میں تابندہ نہیں

کیا خبر کل مجھے یکسر ہی بدل ڈالے تو

یوں ترا حسن، مرا شوق بھی پایندہ نہیں

دیکھ میں ہوش میں ہوں اے غم گیتی کے شعور

تیرے ملنے کی تمنّا لیے آنکھوں میں کہاں

اپنے ظلمت کدے اے جان، سنوارے میں نے

غم چشیدہ مرے جذبات میں جذبہ پنہاں

اب کہاں پہلے گزاریں کئی راتیں میں نے

جن میں افسانے کہے چاند سے افسانے سنے

اب کہاں، پہلے برس گزرے، کسی مہوش کی

چاہ میں کتنے ہی ہنگام سحر گیت بنے

اب مگر تاب کہاں مجھ میں یہ انگور کی بیل

خون چاہے گی رگ و پے میں سما جائے گی

اختر الایمان

پس منظر

کس کی یاد چمک اٹھی ہے، دھندلے خاکے ہوئے اُجاگر

یوں ہی چند پرانی قبریں کھود رہا ہوں تنہا بیٹھا

کہیں کسی کا ماس نہ ہڈی، کہیں کسی کا رُوپ نہ چھایا

کچھ کتبوں پر دھندلے دھندلے نام کھدے ہیں میں جیون بھر

ان کتبوں، ان قبروں ہی کو اپنے من کا بھید بنا کر

مستقبل اور حال کو چھوڑے، دُکھ سکھ سب میں لیے پھرا ہوں!

ماضی کی گھنگھور گھٹا میں چپکا بیٹھا سوچ رہا ہوں

کس کی یاد چمک اُٹھی ہے دھندلے خاکے ہوئے اُجاگر؟

بیٹھا قبریں کھود رہا ہوں، ہوک سی بن کر ایک اِک مورت

درد سا بن کر ایک اِک سایا، جاگ رہے ہیں، دور کہیں سے

آوازیں سی کچھ آتی ہیں، گزرے تھے اِک بار یہیں سے

اختر الایمان

پرانی فصیل

مری تنہائیاں مانوس ہیں تاریک راتوں سے

مرے رخنوں میں ہے اُلجھا ہوا اوقات کا دامن

مرے سائے میں حال و ماضی رُک کر سانس لیتے ہیں

زمانہ جب گزرتا ہے بدل لیتا ہے پیراہن

یہاں سرگوشیاں کرتی ہے ویرانی سے ویرانی

فسردہ شمع امید و تمنّا لو نہیں دیتی

یہاں کی تیرہ بختی پر کوئی رونے نہیں آتا

یہاں جو چیز ہے ساکن، کوئی کروٹ نہیں لیتی

یہاں اسرار ہیں، سرگوشیاں ہیں، بے نیازی ہے

یہاں مفلوج تر ہیں تیز تر بازو ہواؤں کے

یہاں بھٹکی ہوئی روحیں کبھی سر جوڑ لیتی ہیں

یہاں پر دفن ہیں گزری ہوئی تہذیب کے نقشے

اختر الایمان

لغزش

جب حنائی انگلیوں کی جنبشیں آتی ہیں یاد

جذب کر لیتا ہوں آنکھوں میں لہو کی بوند سی

اب مگر ماضی کی ہر شئے پر اندھیرا چھا گیا

اور ہی راہوں سے گزری جا رہی ہے زندگی

ذہن میں ابھرے ہوئے ہیں چند بے جاں سے نقوش

اور ان میں بھی نہیں ہے کوئی ربط باہمی

یہ بھیانک خواب کیوں مغلوب کرتے ہیں مجھے

دودھیا راتیں سحر کے جھٹپٹے میں کھو گئیں

اور تیری نرم بانہیں، مجھ سے اب ناآشنا

اور ہی گردن کے حلقے میں لپٹ کر سو گئیں

مسکرا اٹھتا ہوں اپنی سادگی پر میں کبھی

کس قدر تیزی سے یہ باتیں پرائی ہو گئیں!

اختر الایمان

چیخو

اتنا چلاّو کہ اِک شور سے بھر جائے فضا

گونج الفاظ کی کانوں میں دھُواں سا بن جائے

ایک دھنی روئی سی بن جائیں عقائد سارے

فلسفے، مذہب و اخلاق، سیاست، سارے

ایسے گتھ جائیں ہر اِک اپنی حقیقت کھو دے

ایسا اِک شور بپا کر دو کوئی بات بھی واضح نہ رہے

ذرہ جب ٹوٹا تھا تخلیق زمیں سے پہلے

ابتری پھیلی تھی، واضح نہ تھی کچھ بھی، ہر شے

اِک دھنی روئی کی مانند اُڑی پھرتی تھی

خود کو کم مایہ نہ سمجھو اٹھو توڑو یہ سکوت

پھر نئے دور کا آغاز ہو تاریکی سے!

اختر الایمان

اتفاق

دیار غیر میں کوئی جہاں نہ اپنا ہو

شدید کرب کی گھڑیاں گزار چکنے پر

کچھ اتفاق ہو ایسا کہ ایک شام کہیں

کسی اِک ایسی جگہ سے ہو یوں ہی میرا گزر

جہاں ہجوم گریزاں میں تم نظر آ جاؤ

اور ایک ایک کو حیرت سے دیکھتا رہ جائے!

اختر الایمان

درد کی حد سے پرے

درد کی حد سے پرے کوئی نہیں جا سکتا

درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں

ایک سنّاٹا ہے، احساس کی ادراک کی موت

یہ کرہ، گھومتی پھرتی یہ ستم کوش زمیں

خاک اور آب کا اِک گولا ہے بے رونق سا

آؤ چھپ جائیں، چلو موت کے ڈر سے بھاگیں

تم مری بانہوں میں، میں زلفوں میں چھپ جاؤں یہیں

اور اس درد کا اظہار کریں

زندگی جس سے عبارت ہے تمام

درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں

گرمی ءِ عشق، یہ بوسوں کی حرارت، یہ سگندھ

جو پسینہ میں ہے یہ جھرجھری جو تم نے ابھی

سینہ کو چھونے سے لی، سب یہ سمو لینے کی بھوک

جسم کے ٹوٹنے اِک نشہ میں گھل جانے کا رس

رنگ میں، نغموں میں اور لمس میں ڈھلنے کی ہوس

سال، صدیاں یہ قرن، ماہ، یہ لمحے، یہ نفس

کیف، بہجت، خوشی، تسکین، مسرت سب کچھ

سب یہ اس واسطے ہے درد ہے ساتھی ہر وقت

درد پیمانہ ہے ہر چیز کا اس دنیا میں

زیست اِک واہمہ ہے ذات کے ہونے کا گماں

درد کی حد سے پرے کچھ بھی نہیں جس کا نشاں

درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں

ایک سنّاٹا ہے احساس کی ادراک کی موت

درد کی حد سے پرے کچھ بھی نہیں جان کہیں

درد کی حد سے پرے کوئی گیا بھی تو نہیں!

اختر الایمان

ڈاسنہ اسٹیشن کا مسافر

کون سا اسٹیشن ہے؟

’ڈاسنہ ہے صاحب جی

آپ کو اُترنا ہے؟‘

’جی نہیں، نہیں ‘ لیکن

ڈاسنہ تو تھا ہی وہ

میرے ساتھ قیصر تھی

یہ بڑی بڑی آنکھیں

اِک تلاش میں کھوئی

رات بھر نہیں سوئی

جب میں اس کو پہنچانے

اس اُجاڑ بستی میں

ساتھ لے کے آیا تھا

میں نے ان سے پھر پوچھا

آپ مستقل شاید

ڈاسنہ میں رہتے ہیں؟

’’جی، یہاں پہ کچھ میری

سوت کی دُکانیں ہیں

کچھ طعام خانے ہیں‘‘

میں سنا کیا بیٹھا

بولتا رہا وہ شخص

’’کچھ زمین داری ہے

میرے باپ دادا نے

کچھ مکان چھوڑے تھے

ان کو بیچ کر میں نے

کاروبار کھولا ہے

اس حقیر بستی میں

کون آ کے رہتا تھا

لیکن اب یہی بستی

بمبئی ہے دلّی ہے

قیمتیں زمینوں کی

اتنی بڑھ گئی صاحب

’’جیسے خواب کی باتیں‘‘

اِک زمین ہی کیا ہے

کھانے پینے کی چیزیں

عام جینے کی چیزیں

بھاؤ دس گنے ہیں اب

بولتا رہا وہ شخص

’’اس قدر گرانی ہے

آگ لگ گئی جیسے

آسمان حد ہے بس‘‘

میں نے چونک کر پوچھا

آسماں محل تھا اِک

سیدوں کی بستی میں

’’آسماں ہی ہیں صاحب

اب محل کہاں ہو گا؟

ہنس پڑا یہ کہہ کر وہ

میرے ذہن میں اس کی

بات پے بہ پے گونجی

’’اب محل کہاں ہو گا‘‘

اس دیار میں شاید

قیصر اب نہیں رہتی

وہ بڑی بڑی آنکھیں

اب نہ دیکھ پاؤں گا

ملک کا یہ بٹوارا

لے گیا کہاں اس کو

ڈیوڑھی کا سنّاٹا

اور ہماری سرگوشی

مجھ سے کتنے چھوٹے ہو‘‘

میں نے کچھ کہا تھا پھر

اس نے کچھ کہا تھا پھر

ہے رقم کہاں وہ سب

درد کی گراں جانی

میری شعلہ افشانی

اس کی جلوہ سامانی

ہے رقم کہاں وہ اب

کرب زیست سب میرا

گفتگو کا ڈھب میرا

اس کا ہاتھ ہاتھوں میں

لے کے جب میں کہتا تھا

اب چھڑاؤ تو جانوں

رسم بے وفائی کو

آج معتبر مانوں

اس کو لے کے با ہوں میں

جھک کے اس کے چہرے پر

بھینچ کر کہا تھا یہ

بولو کیسے نکلو گی

میری دسترس سے تم

میرے اس قفس سے تم

بھورے بادلوں کا دل

دور اُڑتا جاتا ہے

پیڑ پر کہیں بیٹھا

اِک پرند گاتا ہے

’چل چل‘ اِک گلہری کی

کان میں کھٹکتی ہے

ریل چلنے لگتی ہے

راہ کے درختوں کی

چھاؤں ڈھلنے لگتی ہے

’مجھ سے کتنے چھوٹے ہو‘

اور مری گراں گوشی

ڈیوڑھی کا سنّاٹا

اور ہماری سرگوشی

ہے رقم کہاں وہ سب؟

دور اس پرندے نے

اپنا گیت دُہرایا

’آج ہم نے اپنا دل

خوں کیا ہوا دیکھا

گم کیا ہوا پایا‘‘

اختر الایمان

نشاۃ ثانیہ

موسموں کے بدلنے کا منظر تو پیچھے کہیں رہ گیا

کھیت کی مینڈ پر چھاؤں میں شیشموں کی

بھرے کنڈ میں!

جامنوں کے گھنے جھنڈ میں!

کوئلوں اور پپیہوں کی آواز کے شور میں

اُمڈے جذبات کے زور میں

وقت یوں بہہ گیا جیسے آنسو کا قطرہ تھا بے مایہ سا

قہقہہ تھا جو پھولوں کی خوشبو میں گھل مل گیا

کتنے کردار ہیں سامنے

ہنستے روتے ہوئے

زندگی کی کشاکش میں اُلجھے ہوئے

عشق کرتے ہوئے آہیں بھرتے ہوئے

جان راحت پہ ہر آن مرتے ہوئے

بے خبر ساری دنیا سے اِک دوسرے کو سنبھالے ہوئے

ہاتھوں کو چومتے بوسے آنکھوں کو دیتے ہوئے

بہتے جاتے ہیں موج رواں کی طرح

ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے

ایک دیکھی ہوئی فلم کا ایسا منظر ہے یہ

جس کے کردار اب گویا افسانہ ہیں

فلم بوسیدہ اتنی ہے چلتے ہوئے ٹوٹ جاتی ہے پھر جوڑتا ہوں اسے

جوڑ کر پھر چلاتا ہوں خوش ہوتا ہوں

گاہے روتا ہوں میں

اِک بہت خوب صورت سی رنگین تصویر ہے

کتنے لمحات میرے بھی اس فلم میں بند ہیں

وہ جو دھندلا سا چہرہ نظر آ رہا تھا تمھیں

پیڑ کی آڑ میں

وہ، جہاں سادہ کپڑوں میں

اِک مہ جبیں ہنس رہی ہے کھڑی

اس کے بائیں طرف میں ہوں وہ!

اتنی دلکش کہانی ہے جی چاہتا ہے کہ پھر سے بنا لوں

ہر وہ چہرے جو اس فلم کی جان ہیں

وہ کہاں ہیں؟

انہیں کس طرح؟

کیسے لاؤں گا میں؟

اختر الایمان

کہاں تک

ہر نئی راہ سے میں پوچھتا ہوں

اے مری صبح سفر شام حیات

تو مرا ساتھ کہاں تک دے گی؟

کیا ٹھہر جائے گی اِک موڑ پہ کچھ گام کے بعد

اور میں شام و سحر، جیسے ہیں گردش میں یوں ہی

سرگرانی بھی رہی چلتا رہوں گا پھر بھی

اے مری راہ نجات و ظلمات

تو مرا ساتھ کہاں تک دے گی؟

عظمت صبح اندھیروں نے نگل لی ہے مگر

قصر امید میں پھیلا ہے اُجالا پھر بھی

چاند گہنا گیا افکار کا، حالات زبوں، دہر ملول

گرد اس کے ہے مگر نور کا ہالہ پھر بھی

کون سے موڑ پہ چھوڑے گی مجھے کچھ تو بتا

اے مری گرمی ءِ جذبات کہاں تک جاؤں

میں ترے ساتھ کہاں تک جاؤں

تو مرا ساتھ کہاں تک دے گی؟

اختر الایمان

باز آمد

۔۔۔ ایک مونتاج

تتلیاں ناچتی ہیں

پھول سے پھول پہ یوں جاتی ہے

جیسے اک بات ہے جو

کان میں کہنی ہے، خاموشی سے

اور ہر پھول ہنسا پڑتا ہے سن کر یہ بات!

دھُوپ میں تیزی نہیں

ایسے آتا ہے ہر اِک جھونکا ہَوا کا جیسے

دست شفقت ہے بڑی عمر کی محبوبہ کا

اور مرے شانوں کو اس طرح ہلا جاتا ہے

جیسے میں نیند میں ہوں

عورتیں چرخے لئے بیٹھی ہیں

کچھ کپاس اوٹتی ہیں

کچھ سلائی کے کسی کام میں مصروف ہیں یوں

جیسے یہ کام ہے دراصل ہر اِک شے کی اساس

ایک سے ایک چہل کرتی ہے

کوئی کہتی ہے مری چوڑیاں کھنکیں تو کھنکاری مری ساس

کوئی کہتی ہے بھری چاندنی آتی نہیں راس

رات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کر

بات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کر

لذت وصل ہے آزار کوئی کہتی ہے

میں تو بن جاتی ہوں بیمار کوئی کہتی ہے

میں بھی گھس آتا ہوں اس شیش محل میں دیکھو

سب ہنسی روک کے کہتی ہیں نکالو اس کو

اِک پرندہ کسی اِک پیڑ کی ٹہنی پہ چہکتا ہے کہیں

ایک گاتا ہوا یوں جاتا ہے دھرتی سے فلک کی جانب

پوری قوت سے کوئی گیند اچھالے جیسے

اِک پھدکتا ہے سر شاخ پہ جس طرح کوئی

آمد فصل بہاری کی خوشی میں ناچے

گوندنی بوجھ سے اپنے ہی جھکی پڑتی ہے

نازنیں جیسے ہے کوئی یہ بھری محفل میں

اور کل ہاتھ ہوئے ہیں پیلے

کوئلیں کو کتی ہیں

جامنیں پکی ہیں آموں پہ بہار آئی ہے

ارغنوں بجتا ہے یکجائی کا

نیم کے پیڑوں میں، جھولے ہیں جدھر دیکھو ادھر

سانولی گاتی ہیں سب لڑکیاں آواز ملا کر ہر سو

اور اس آواز سے گونج اٹھی ہے بستی ساری

میں کبھی ایک کبھی دوسرے جھولے کے قریں جاتا ہوں

ایک ہی کم ہے وہی چہرہ نہیں

آخرش پوچھ ہی لیتا ہوں کسی سے بڑھ کر

کیوں حبیبہ نہیں آئی اب تک؟

کھلکھلا پڑتی ہیں سب لڑکیاں سن کر یہ نام

لو یہ سپنے میں ہیں، اِک کہتی ہے

باؤلی سپنا نہیں شہر سے آئے ہیں ابھی

دوسری ٹوکتی ہے

بات سے بات نکل چلتی ہے

ٹھاٹھ کی آئی تھی بارات چمیلی نے کہا

بینڈ باجا بھی تھا، دیپا بولی

اور دُلہن پہ ہوا کتنا بکھیر

کچھ نہ کچھ کہتی رہیں سب ہی مگر میں نے صرف

اتنا پوچھا وہ ندی بہتی ہے اب بھی کہ نہیں

جس سے وابستہ ہیں ہم اور یہ بستی ساری؟

کیوں نہیں بہتی چمیلی نے کہا

اور وہ برگد کا گھنا پیڑ کنارے اس کے؟

وہ بھی قائم ہے ابھی تک یوں ہی

وعدہ کر کے جو حبیبہ نہیں آتی تھی کبھی

آنکھیں دھوتا تھا ندی میں جا کر

اور برگد کی گھنی چھاؤں میں سو جاتا تھا

ماہ و سال آ کے چلے جاتے ہیں

فصل پک جاتی ہے کٹ جاتی ہے

کوئی روتا نہیں اس موقع پر

حلقہ در حلقہ نہ آہن کو تپا کر ڈھالیں

کوئی زنجیر نہ ہو!

زیست در زیست کا یہ سلسلہ باقی نہ رہے!

بھیڑ ہے بچوں کی چھوٹی سی گلی میں دیکھو

ایک نے گیند جو پھینکی تو لگی آ کے مجھے

میں نے جا پکڑا اسے، دیکھی ہوئی صورت تھی

کس کا ہے میں نے کسی سے پوچھا

یہ حبیبہ کا ہے، رمضانی قصائی بولا

بھولی صورت پہ ہنسی آ گئی اس کی مجھ کو

وہ بھی ہنسنے لگا، ہم دونوں یوں ہی ہنستے رہے

دیر تک ہنستے رہے

تتلیاں ناچتی ہیں

پھول سے پھول پہ یوں جاتی ہیں

جیسے اِک بات ہے جو

کان میں کہنی ہے خاموشی سے

اور ہر پھول ہنسا پڑتا ہے سن کر یہ بات!

اختر الایمان

اذیت پرست

میں بظاہر جو بہت سادہ ہوں بے حس نظر آتا ہوں تمھیں

ایسا دریا ہوں جہاں سطح کے نیچے چپ چاپ

موجیں شوریدہ ہیں، طوفان اٹھا کرتے ہیں

ٹھہرا پانی ہوں، مگر اس میں بھنور پڑتے ہیں

زخم سب اپنے چھپائے ہیں، ہنسی کے پیچھے

صرف اس واسطے شانوں پہ ردائے تہذیب

ڈالے رہتا ہوں کہ حیواں نہ کہے کوئی مجھے

وہ ثقافت جسے کہتے ہیں، اثاثہ، ورنہ

سالہا سال کی محنت ہے جو انسانوں کی

میرے اِک فعل سے غارت نہ کہیں ہو جائے

ورنہ تم سامنے آتی ہو تو سر سے پا تک

دوڑ جاتی ہے کبھی آگ سی تیزاب سا اک شعلہ سا

تم کو معلوم ہے اس دور میں میرے دن رات

صرف اس واسطے با معنی ہیں تم سامنے ہو

تم کو معلوم ہے یہ گردش ایام مجھے

کیوں بھلی لگتی ہے، کیوں دیکھ کے تم کو آنکھیں

مسکرا اٹھتی ہیں، میں شاد نظر آتا ہوں

میں جو اس پھیلی ہوئی دنیا میں یوں جیتا تھا

جیسے یہ بستی نہیں، شہر ہے اک لاشوں کا

جس میں انسان نہیں مردے ہیں کفن پہنے ہوئے

اور ان مردوں میں لب سوختہ، میں بھی ہوں کہیں

تم نے احساس دلایا نہیں، میں لاش نہیں

اپنی گفتار کی گرمی سے حرارت بخشی

منجمد خون کو دوڑا دیا شریانوں میں

کھینچ لائیں مجھے، تنہائی کی دنیا سے یہاں

میں الف لیلیٰ کا کردار نہیں ہوں کوئی

تم بھی افسانوی محبوبہ نہیں اور نہ تھیں

پھر روایاتی ستم کیوں کیا تم نے مجھ پر؟

خود ہی وارفتہ ہوئیں، کھینچ گئیں خود ہی ایسے

جیسے میں واقعی اِک لاش ہوں چلتی پھرتی

اب تمھیں دیکھ کے میں دل سے دعا کرتا ہوں

لاش بن جاؤں میں، سچ مچ ہی، یہ بیگانہ روی

یہ نیا طرزِ وفا، تم نے جو سیکھا ہے ابھی

کچے شیشے کی طرح ٹوٹ کے ریزہ ہو جائے

اور تم مجھ سے ہر اک خوف کو ٹھکراتے ہوئے

چیخ کر ایسے لپٹ جاؤ، کلیجہ پھٹ جائے!

اختر الایمان

بنتِ لمحات

تمھارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہے

اسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہ

غنیم نور کا حملہ کہو اندھیروں پر

دیار درد میں آمد کہو مسیحا کی

رواں دواں ہوئے خوشبو کے قافلے ہر سو

خلائے صبح میں گونجی سحر کی شہنائی

یہ ایک کہرہ سا، یہ دھند سی جو چھائی ہے

اس التہاب میں، اس سرمگیں اُجالے میں

سوا تمھارے مجھے کچھ نظر نہیں آتا

حیات نام ہے یادوں کا، تلخ اور شیریں

بھلا کسی نے کبھی رنگ و بو کو پکڑا ہے

شفق کو قید میں رکھا، صبا کو بند کیا

ہر ایک لمحہ گریزاں ہے جیسے دشمن ہے

نہ تم ملو گی نہ میں، ہم بھی دونوں لمحے ہیں

وہ لمحے جا کے جو واپس کبھی نہیں آتے!

اختر الایمان

بلاوا

نگر نگر کے دیس دیس کے پربت، ٹیلے اور بیاباں

ڈھونڈ رہے ہیں اب تک مجھ کو، کھیل رہے ہیں میرے ارماں

میرے سپنے، میرے آنسو، ان کی چھلنی چھاؤں میں جیسے

دھول میں بیٹھے کھیل رہے ہوں بالک باپ سے روٹھے روٹھے

دن کے اُجالے، سانجھ کی لالی، رات کے اندھیارے سے کوئی

مجھ کو آوازیں دیتا ہے، آؤ، آؤ، آؤ، آؤ

میری روح کی جوالا مجھ کو پھونک رہی ہے دھیرے دھیرے

میری آگ بھڑک اُٹھی ہے، کوئی بجھاؤ، کوئی بجھاؤ

میں بھٹکا بھٹکا پھرتا ہوں کھوج میں تیری جس نے مجھ کو

کتنی بار پکارا لیکن ڈھونڈ نہ پایا اب تک تجھ کو

میرے سنگی میرے ساتھی تیرے کارن چھوٹ گئے ہیں

تیرے کارن جگ سے میرے کتنے ناتے ٹوٹ گئے ہیں

میں ہوں ایسا پات ہوا میں پیڑ سے جو ٹوٹے اور سوچے

دھرتی میری گور ہے یا گھر، یہ نیلا آکاش جو سرپر

پھیلا پھیلا ہے اور اس کے سورج چاند ستارے مل کر

میرا دیپ جلا بھی دیں گے، یا سب کے سب رُوپ دکھا کر

ایک اِک کر کے کھو جائیں گے، جیسے میرے آنسو اکثر

پلکوں پر تھرتھرا کر تاریکی میں کھو جاتے ہیں

جیسے بالک مانگ مانگ کر نئے کھلونے سو جاتے ہیں!

اختر الایمان

شام ہوتی ہے

شام ہوتی ہے سحر ہوتی ہے یہ وقت رواں

جو کبھی سنگ گراں بن کے مرے سر پہ گرا

راہ میں آیا کبھی میری ہمالہ بن کر

جو کبھی عقدہ بنا ایسا کہ حل ہی نہ ہوا

اشک بن کر مری آنکھوں سے کبھی ٹپکا ہے

جو کبھی خونِ جگر بن کے مژہ پر آیا

آج بے واسطہ یوں گزرا چلا جاتا ہے

جیسے میں کشمکش زیست میں شامل ہی نہیں!

اختر الایمان

کوزہ گر

کہیں قومیت ہے کہیں ملک و ملّت کی زنجیر ہے

کہیں مذہبیت، کہیں حریت، ہر قدم پر عناں گیر ہے

اگر میں یہ پردہ ہٹا دوں جسے لفظ ماضی سے تعبیر کرتے رہے ہیں

اگر میں حدود زماں و مکاں سب مٹا دوں

اگر میں یہ دیواریں جتنی کھڑی ہیں گرا دوں

تو ہر قید اُٹھ جائے، یہ زندگی جو قفس ہے

یوں ہی دیکھتے دیکھتے تیلیاں سب بکھیر جائیں اس کی

اور انسان اپنے صحیح رُوپ میں ہر جگہ دے دکھائی

کسی غار کے منہ پہ بیٹھا، کسی سخت اُلجھن میں غلطاں

کہیں شعلہ دریافت کر نے کی خواہش میں پیچاں

کہیں زندگی کو نظام و تسلسل میں لانے کا خواہاں

جہاں کو حسیں دیکھنے کی تمنّا میں کوشاں

زمیں دور تک ایسے پھیلی ہوئی ہے

کشادہ کوئی خوانِ نعمت ہے جیسے

جہاں کوئی پہرہ نہیں کوئی تخصیص و تفریق انساں

یہ سب کی ہے سب کے لیے ہے یہاں سب ہیں مدعو!

میں اس شخص کو ڈھونڈتا ہوں جو بانیِ شر ہے

جو رشیوں، رسولوں کی محنت کو برباد کرتا رہا ہے

میں اس شخص کو ڈھونڈتا ہوں جو ہر دور میں بے محابا

نئے بھیس میں سامری بن کے آتا ہے اور موہتا ہے دلوں کو

اسے ڈھونڈتا ہوں میں جس نے ہر اِک خوان نعمت یہ پہرے لگائے

زمیں کو زمیں سے الگ کر دیا سیکڑوں نام دے کر

اجارہ کی بنیاد ڈالی، کیا جاری پروانہ ءِ راہ داری

بجائے حسیں اعلیٰ قدروں کے تاسیس عالم

رکھی مصلحت پر، مفادات پر، خود پرستی پہ ساری

اور انسان کو خام اشیا میں تبدیل کر کے

بہت پہلے اس سے کہ انسان انسان بنتا

اسے ایک شطرنج کا چوبی مہرہ بنا کر

مقابل کھڑا کر دیا ایک کو دوسرے کے

کہاں ہے وہ قوت وہ ہستی جو یوں عصر کی روح بن کر

فضاؤں کو مسموم کرتی ہے لاشوں سے بھر دیتی ہے خندقوں کو

میں للکارتا ہوں اسے وہ اگر اتنا ہی جادو گر ہے

تو سورج کو مشرق کے بدلے نکالے کبھی آ کے مغرب سے اِک لمحہ بھر کو

ہواؤں کی تاثیر بدلے پہاڑوں کو لاوے میں تبدیل کر دے

سمندر سکھا دے، ہر اِک جلتے صحرا کو زرخیز میداں بنا دے

اصول مشیت بدل دے، زمین آسمانوں کے سب سلسلے توڑ ڈالے

مگر میں اسے کیسے للکار سکتا ہوں، یہ تو خدا ہے

حیات و نمو کی وہ قوت، تغیر جو خود سامری ہے

یہ وہ کوزہ گر ہے جو خود مسخ کرتا ہے چہرے بنا کر

یہ وہ کوزہ گر ہے اسی ایک مٹّی کو ہر بار متھ کر

بنا کر نئے ظرف رکھتا ہے کچھ دیر شیشیوں کے پیچھے سجا کر

انہیں خود ہی پھر توڑ دیتا ہے سب ظرف کوزے قوانین اخلاق سارے

جہاں اتنی شکلیں بنائی بگاڑی ہیں یہ زندگی کا نیا بت بھی اِک دن

فراموش گاری کے اس ڈھیر میں پھینک دے گا جہاں ایسی کتنی ہی چیزیں پڑی ہیں

کہ یہ چاک تو چل رہا ہے یوں ہی آفرینش سے گردش میں ہے اور رہے گا!

اختر الایمان

یہ دور

نہ وہ زمیں ہے، نہ وہ آسماں، نہ وہ شب و روز

کبھی سمٹتی کبھی پھیلتی ہیں غم کی حدود

ٹھہر گئی ہے اِک ایسے مقام پر دنیا

جہاں نہ رات نہ دن ہے نہ بے کلی نہ جمود

پکارتے ہیں ستارے سنبھالتی ہے زمیں

ہر ایک شئے سے گریزاں ابھی ہے میرا وجود

میں سوچتا ہوں کہیں زندگی نہ بن جائے

خزاں بدوش بہاریں، خمار زہر آلود!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اسی طور سے گرداں ہوں زمانے میں، وہی

صبح ہے، شام ہے، گہنائی ہوئی راتیں ہیں

کوئی آغاز، نہ انجام، نہ منزل نہ سفر

سب وہی دوست ہیں، دہرائی ہوئی باتیں ہیں

چہرے اُترے ہوئے دن رات کی محنت کے سبب

سب وہی بغض و حسد، رشک و رقابت، شکوے

دام تزویر ہے، اُلجھاؤ کی سو گھاتیں ہیں

سب گلی کوچے وہی، لوگ وہی، موڑ وہی

یہ وہی سردی ہے، یہ گرمی، یہ برساتیں ہیں

زلف کی بات ہے یا زہر کہ سب ڈرتے ہیں

کوئی دل دار، نہ دل بر، نہ ملاقاتیں ہیں

کوئی بشاش ہنسی، جینے کی نوخیز اُمنگ

کچھ نہیں بس غم و اندوہ کی باراتیں ہیں

تنگ دامانی کا شکوہ ہے خدا سے ہر وقت

ہر مرض کے لیے نسخے میں مناجاتیں ہیں

جی اُلٹ جاتا ہے اس حبس مسلسل سے مرا

ذہن جاتا ہے کسی نازش خوبی کی طرف

یعنی وہ پرتو گل خانہ بر انداز چمن

ایک پروائی کا جھونکا سا گھنی بدلی سی

شاہد نکہت و انوار سحر، راحت من

رسم دلداری ہے اس سیم بدن کے دم سے

اور مرے دم سے ہے عشاق کا بے داغ چلن

۔۔۔۔۔۔۔

کس کے قدموں کی ہے یہ چاپ یقیناً ہے وہی

یہ یقیناً ہے وہی سرو چمن، بنت بہار

کوئی رُت آئے زمانہ نہیں بدلے گا اسے

جان من تم ہو؟ نہیں ! وہ لب و عارض وہ نکھار؟

نغمگی جسم کی، وہ لوچ سا نشہ سا مدام

ایک چلتا ہوا جادو سا نگاہوں کا قرار؟

سچ کہو تم ہی ہو؟ آتا نہیں آنکھوں کو یقیں؟

اختر الایمان

یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں

یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں تمام تیری حکایتیں ہیں

یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں یہ شعر تیری شکایتیں ہیں

میں سب تری نذر کر رہا ہوں ، یہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں

جو زندگی کے نئے سفر میں تجھے کسی روز یاد آئیں

تو ایک اک حرف جی اٹھے گا پہن کے انفاس کی قبائیں

اداس تنہائیوں کے لمحوں میں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیں

مجھے ترے درد کے علاوہ بھی اور دکھ تھے ، یہ جانتا ہوں

ہزار غم تھے جو زندگی کی تلاش میں تھے ، یہ جانتا ہوں

مجھے خبر ہے کہ تیرے آنچل میں درد کی ریت چھانتا ہوں

مگر ہر اک بار تجھ کو چھو کر یہ ریت رنگِ حنا بنی ہے

یہ زخم گلزار بن گئے ہیں یہ آہِ سوزاں گھٹا بنی ہے

یہ درد موجِ صبا ہوا ہے ، یہ آگ دل کی صدا بنی ہے

اور اب یہ ساری متاعِ ہستی، یہ پھول، یہ زخم سب ترے ہیں

یہ دکھ کے نوحے ، یہ سکھ کے نغمے ، جو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیں

جو تیری قربت، تری جدائی میں کٹ گئے روز و شب ترے ہیں

وہ تیرا شاعر، ترا مغنی، وہ جس کی باتیں عجیب سی تھیں

وہ جس کے انداز خسروانہ تھے اور ادائیں غریب سی تھیں

وہ جس کے جینے کی خواہشیں بھی خود اس کے اپنے نصیب سی تھیں

نہ پوچھ اس کا کہ وہ دوانہ بہت دنوں کا اجڑ چکا ہے

وہ کوہکن تو نہیں تھا لیکن کڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہے

وہ تھک چکا ہے اور اس کا تیشہ اسی کے سینے میں گڑ چکا ہے

پروین شاکر

ویسٹ لینڈ

ترے بغیر سرد موسموں کے خوشگوار دن اُداس ہیں

فضا میں دُکھ رچا ہُوا ہے!

ہَوا کوئی اُداس گیت گنگنا رہی ہے

پُھول کے لبوں پہ پیاس ہے

ایسا لگتا ہے

ہَوا کی آنکھیں روتے روتے خشک ہو گئی ہوں

صبا کے دونوں ہاتھ خالی ہیں

کہ شہر میں ترا کہیں پتہ نہیں

سانس لینا کِس قدر محال ہے!

اُداسیاںِ__اُداسیاں

تمام سبز سایہ دار پیڑوں نے

ترے بغیر وحشتوں میں اپنے پیرہن کو تار تار کر دیا ہے

اب کسی شجر کے جسم پر قبا نہیں

سُوکھے زرد پتے

کُو بہ کُو تری تلاش میں بھٹک رہے ہیں

اُداسیاںِ___اُداسیاں

مرے دریچوں میں گلابی دُھوپ روز جھانکتی ہے

مگر اب اس کی آنکھوں

وہ جگمگاہٹیں نہیں

جو تیرے وقت میں زمین کے صبیح ماتھے پر

سُورجوں کی کہکشاں سجانے آتی تھیں

زمین بھی مری طرح ہے!

ترے بغیر اس کی کوکھ سے اب بھی

کوئی گُلاب اُگ نہ پائے گا

زمین بانجھ ہو گئی ہے

اور مری رُوح کی بہار آفریں کوکھ بھی!

میری سوچ کے صدف میں

فن کے سچے موتی کس طرح جنم لیا کریں

کہ میں سراپا تشنگی ہوں

اور دُور دُور تک____وصالِ اَبر کی خیر نہیں !

میرے اور تیرے درمیان

پانچ پانیوں کے دیس میں

(کچے گھڑے بھی تو میری دسترس سے دُور ہیں )

میں شعر کس طرح کہوں

میری سوچ کے بدن کو،تُو،نمو تو دے

میں ترے بغیر’’ویسٹ لینڈ‘‘ ہوں !

پروین شاکر

وہی نرم لہجہ

وہی نرم لہجہ

جو اتنا ملائم ہے ، جیسے

دھنک گیت بن کر سماعت کو چُھونے لگی ہو

شفق نرم کومل سُروں میں کوئی پیار کی بات کہنے چلی ہو

کِس قدر!___رنگ و آہنگ کا کِس قدر خُوبصورت سفر!

وہی نرم لہجہ

کبھی اپنے مخصوص انداز میں مُجھ سے باتیں کرے گا

تو ایسا لگے

جیسے ریشم کے جُھولے پہ کوئی مدھر گیت ہلکورے لینے لگا ہو!

وہی نرم لہجہ

کسی شوخ لمحے میں اُس کی ہنسی بن کے بکھرے

تو ایسا لگے

جیسے قوسِ قزح نے کہیں پاس ہی اپنی پازیب چھنکائی ہو،

ہنسی کی وہ رِم جھم!

کہ جیسے بنفشی چمک دار بوندوں کے گھنگرو چھنکنے لگے ہوں !

کہ پھر

اس کی آواز کا لمس پا کے

ہواؤں کے ہاتھوں میں اَن دیکھے کنگن کھنکنے لگے ہوں !

وہی نرم لہجہ!

مُجھے چھیڑنے پر جب آئے تو ایسا لگے

جیسے ساون کی چنچل ہوا

سبز پتوں کے جھانجھن پہن

سُرخ پُھولوں کی پائل بجاتی ہُوئی

میرے رُخسار کو

گاہے گاہے شرارت سے چُھونے لگے

میں جو دیکھوں پلٹ کے، تو وہ

بھاگ جائے____مگر

دُور پیڑوں میں چُھپ کر ہنسے

اور پھر__ننھے بچوں کی مانند خوش ہوکے تالی بجانے لگے!

وہی نرم لہجہ!

کہ جس نے مرے زخمِ جاں پر ہمیشہ شگفتہ گلابوں کی شبنم رکھی ہے

بہاروں کے پہلے پرندے کی مانند ہے

جو سدا آنے والے نئے سُکھ کے موسم کا قاصد بنا ہے

اُسی نرم لہجے نے پھر مُجھ کو آواز دی ہے!

پروین شاکر

وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے

تمہاری پوروں کا لمس اب تک

مری کفِ دست پر ہے

اور میں سوچتا ہوں

وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے

وہ کہہ گئے تھے

کہ اب کے جو ہاتھ تیرے ہاتھوں کو چھو گئے ہیں

تمام ہونٹوں کے سارے لفظوں سے معتبر ہیں

وہ کہہ گئے تھے

تمہاری پوریں

جو میرے ہاتھوں کو چھو رہی تھیں

وہی تو قسمت تراش ہیں

اور اپنی قسمت کو

سارے لوگوں کی قسمتوں سے بلند جانو

ہماری مانو

تو اب کسی اور ہاتھ کو ہاتھ مت لگانا

میں اُس سمے سے

تمام ہاتھوں

وہ ہاتھ بھی

جن میں پھول شاخوں سے بڑھ کے لطف نمو اٹھائیں

وہ ہاتھ بھی جو سدا کے محروم تھے

اور ان کی ہتھیلیاں زخم زخم تھیں

اور وہ ہاتھ بھی جو چراغ جیسے تھے

اور رستے میں سنگ فرسنگ کی طرح جا بجا گڑھے تھے۔

وہ ہاتھ بھی جن کے ناخنوں کے نشان

معصوم گردنوں پر مثال طوق ستم پڑے تھے

تمام نا مہربان اور مہربان ہاتھوں سے

دست کش یوں رہا ہوں جیسے

یہ مٹھیاں میں نے کھول دیں تو

وہ ساری سچائیوں کے موتی

مسرتوں کے تمام جگنو

جو بے یقینی کے جنگلوں میں

یقین کا راستہ بناتے ہیں

روشنی کی لکیر کا قافلہ بناتے ہیں

میرے ہاتھوں سے روٹھ جائیں گے

پھر نہ تازہ ہوا چلے گی

نہ کوئی شمع صدا جلے گی

میں ضبط اور انتظار کے اس حصار میں مدتوں رہا ہوں

مگر جب اک شام

اور وہ پت جھڑ کی آخری شام تھی

ہوا اپنا آخری گیت گا رہی تھی

مرے بدن میں مرا لہو خشک ہو رہا تھا

تو مٹھیاں میں نے کھول دیں

اور میں نے دیکھا

کہ میرے ہاتھوں میں

کوئی جگنو

نہ کوئی موتی

ہتھیلیوں پر فقط مری نامراد آنکھیں دھری ہوئی تھیں

اور ان میں

قسمت کی سب لکیریں مٹی ہوئی تھیں۔

پروین شاکر

وہ صورت آشنا میرا

میں اُس کے سامنے

چپ رہ کے بھی یوں بات کرتی ہوں

کہ آنکھوں کا کوئی حرفِ بدن ناآشنا

آلودۂ پیکر نہیں ہوتا

خواہ موسم پہ مرا اظہار ہو

یا ٹیلی ویژن پر

وہ میرے لمحہ موجود کا دُکھ جان لیتا ہے

مجھے پہچان لیتا ہے

مری ہر بات کا چہرہ نہ چھوکر دیکھنے پر بھی

وہ صورت آشنا میرا

مرے لہجوں کے پس منظر سمجھتا ہے

پروین شاکر

وہ شام کیا تھی

وہ شام کیا تھی جب اس نے بڑی محبت سے

کہا کہ تو نے یہ سوچا بھی ہے کبھی احمد

خدا نے کتنی تجھے نعمتیں عطا کی ہیں

وہ بخششیں کہ ہیں بالا تر از شمار و عدد

یہ خال و خد یہ وجاہت یہ تندرست بدن

گرجتی گونجتی آواز استوار جسد

بسان لالۂ صحرا تپاں تپاں چہرہ

مثال نخل کہستاں دراز قامت و قد

پروین شاکر

وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں ؟

وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں

جنھیں اب تم چاہا کرتے ہو!

تم کہتے تھے

مری آنکھیں ، اِتنی اچھی، اِتنی سچی ہیں

اس حُسن اور سچائی کے سوا، دُنیا میں کوئی چیز نہیں

کیا اُن آنکھوں کو دیکھ کے بھی

تم فیض کا مصرعہ پڑھتے ہو؟

تم کہتے تھے

مری آنکھوں کی نیلاہٹ اتنی گہری ہے

’’مری روح اگر اِک بار اُتر جائے تو اس کی پور پور نیلم ہو جائے‘‘

مُجھے اتنا بتاؤ

آج تمھاری رُوح کا رنگ پیراہن کیا ہے

کیا وہ آنکھیں بھی سمندر ہیں ؟

یہ کالی بھوری آنکھیں

جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے

’’یوں لگتا ہے شام نے رات کے ہونٹ پہ اپنے ہونٹ رکھے ہیں ‘‘

کیا اُن آنکھوں کے رنگ میں بھی،یوں دونوں وقت مِلا کرتے ہیں ؟

کیا سُورج ڈُوبنے کا لمحہ،اُن آنکھوں میں بھی ٹھہر گیا

یا وہاں فقط مہتاب ترشتے رہتے ہیں ؟

مری پلکیں

جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے

اِن کی چھاؤں تمھارے جسم پہ اپنی شبنم پھیلا دے

تو گُزرتے خواب کے موسم لوٹ آئیں

کیا وہ پلکیں بھی ایسی ہیں

جنھیں دیکھ کے نیند آ جاتی ہو؟

تم کہتے تھے

مری آنکھیں یُونہی اچھی ہیں

’’ہاں کاجل کی دُھندلائی ہُوئی تحریر بھی ہو__تو

بات بہت دلکش ہو گی!‘‘

وہ آنکھیں بھی سنگھار تو کرتی ہوں گی

کیا اُن کا کاجل خُود ہی مِٹ جاتا ہے؟

کبھی یہ بھی ہُوا

کِسی لمحے تم سے رُوٹھ کے وہ آنکھیں رو دیں

اور تم نے اپنے ہاتھ سے اُن کے آنسو خُشک کیے

پھر جُھک کر اُن کو چُوم لیا

(کیا اُن کو بھی!!)

پروین شاکر

وحی

عجیب موسم تھا وہ بھی،جب کہ

عبادتیں کورچشم تھیں

اور عقیدتیں اپنی ساری بینائی کھو چکی تھیں

خُود اپنے ہاتھوں سے ترشے پتھر کو دیوتا کہہ کے

خیر و برکت کی تعمتیں لوگ مانگتے تھے!

مگر وہ اِک شخص

جو ابھی اپنے آپ پر بھی نہ منکشف تھا

عجیب اُلجھن میں مبتلا تھا

یہ وہ نہیں ہیں ،وہ کون ہو گا کا کربِ بے نام چکھ رہا تھا!

سواپنے ان نارسادُکھوں کی صلیب اُٹھائے

غموں کی نا یافت شہریت کو تلاش کرتے

وہ شہرِ آذر سے دُور

اپنے تمام لمحے

حرا کے غاروں کے خواب آساسکوت کو سونپنے لگا تھا

یہ سوچ کا اعتکاف بھی تھا

اور ایک اَن دیکھی رُوحِ کُل کے وجود کا اعتراف بھی تھا

وہ رات بھی ارتکاز کی ایک رات تھی

جبکہ لمحہ بھرکو

فضا پہ سناٹاچھا گیا

اور ہواؤں کی سانس رُک گئی تھی

ستارۂ شب کے دل کی دھڑکن ٹھہر گئی تھی

گریزپا ساعتیں تحیر زدہ تھیں

جیسے وجود کی نبض تھم گئی ہو!

یکایک اِک روشنی جمال و جلال کے سارے رنگ لے کر

فضا میں گونجی

’’پڑھو!‘‘

’’میں پڑھ نہیں سکوں گا!‘‘

’’پڑھو!‘‘

’’میں پڑھ نہیں سکوں گا!‘‘

’’پڑھو!‘‘

’’(مگر)میں کیا پڑھوں ؟‘‘

پڑھو___تم اپنے (عظیم)پروردگار کا نام لے کے

جو سب کو خلق کرتا ہے

جس نے انسان کو بنایا ہے منجمد خون سے

پڑھو(کہ) تمھارا پروردگار بے حد کریم ہے

(اور)جس نے تم کو قلم سے تعلیم دی

اُسی نے بتائیں انسان کو وہ باتیں

کہ جن کو وہ جانتا نہیں تھا……۔۔‘‘

فضائے بے نطق جیسے اِقراء کا ورد کرنے لگی تھی

وہ سارے الفاظ،جو

تیرگی کے سیلاب میں کہیں بہہ چکے تھے

پھر روشنی کی لہروں میں

واپسی کے سفر کا آغاز کر رہے تھے

دریچۂ بے خیال میں

آگہی کے سُورج اُتر رہے تھے

اس ایک پل میں

وہ میرا اُمی ّ

مدینۃ العلم بن چکا تھا

پروین شاکر

واٹر لُو

اُس کے کنول ہاتھوں کی خوشبو

کتنی سبز آنکھوں نے پینے کی خواہش کی تھی

کتنے چمکیلے بالوں نے

چُھوئے جانے کی آس میں خود کو، کیسا کیسا بکھرایا تھا

کتنے پُھول اُگانے والے پاؤں

اُس کی راہ میں اپنی آنکھیں بچھائے پھرتے تھے

لیکن وہ ہر خواب کے ہاتھ جھٹکتی ہُوئی

جنگل کی مغرور ہَوا کی صُورت

اپنی دُھن میں اُڑتی پھرتی

آجِ___مگر

سُورج نے کھڑکی سے جھانکا

تو اُس کی آنکھیں ،پلکیں جھپکنا بُھول گئیں

وہ مغرور سی، تیکھی لڑکی

عام سی آنکھوں ، عام سے بالوں والے

اِک اکھّڑ پردیسی کے آگے

دو زانو بیٹھی

اُس کے بوٹ کے تسمے باندھ رہی تھی

پروین شاکر

ہم اپنے خواب کیوں بیچیں

فقیرانہ روش رکھتے تھے

لیکن اس قدر نادار بھی کب تھے

کہ اپنے خواب بیچیں

ہم اپنے زخم آنکھوں میں لئے پھرتے تھے

لیکن رو کشِ بازار کب تھے

ہمارے ہاتھ خالی تھے

مگر ایسا نہیں پھر بھی

کہ ہم اپنی دریدہ دامنی

الفاظ کے جگنو

لئے گلیوں میں آوازہ لگاتے

“خواب لے لو خواب”

لوگو

اتنے کم پندار ہم کب تھے

ہم اپنے خواب کیوں بیچیں

کہ جن کو دیکھنے کی آرزو میں

ہم نے آنکھیں تک گنوا دی تھیں

کہ جن کی عاشقی میں

اور ہوا خواہی میں

ہر ترغیب کی شمعیں بجھا دی تھیں

چلو ہم بے‌نوا

محرومِ سقف و بام و در ٹھہرے

پر اپنے آسماں کی داستانیں

اور زمیں کے انجم و مہتاب کیوں بیچیں

خریدارو!

تم اپنے کاغذی انبار لائے ہو

ہوس کی منڈیوں سے درہم و دینار لائے ہو

تم ایسے دام تو ہر بار لائے ہو

مگر تم پر ہم اپنے حرف کے طاؤس

اپنے خون کے سرخاب کیوں بیچیں

ہمارے خواب بے‌وقعت سہی

تعبیر سے عاری سہی

پر دل‌زدوں کے خواب ہی تو ہیں

نہ یہ خوابِ زلیخا ہیں

کہ اپنی خواہشوں کے یوسفوں پر تہمتیں دھرتے

نہ یہ خوابِ عزیزِ مصر ہیں

تعبیر جن کی اس کے زندانی بیان کرتے

نہ یہ ان آمروں کے خواب

جو بے‌آسرا خلقِ خدا کو دار پر لائیں

نہ یہ غارت‌گروں کے خواب

جو اوروں کے خوابوں کو تہہ شمشیر کر جائیں

ہمارے خواب تو اہلِ صفا کے خواب ہیں

حرف و نوا کے خواب ہیں

مہجور دروازوں کے خواب

محصور آوازوں کے خواب

اور ہم یہ دولتِ نایاب کیوں بیچیں

ہم اپنے خواب کیوں بیچیں؟

پروین شاکر

نئی رات

گہن کو اپنے نوشتہ جان کے ، میں نے

روشنیوں سے سارے ناتے توڑ لیے تھے

رات کو اپنی سکھی مان کے

اپنے سارے دُکھ بس اُس سے کہہ کے

جی ہلکا کر لیتی تھی

شام ڈھلے ، تنہائی کے بازو پر سر رکھے سو جاتی

اور نیند کے بے آباد جزیروں میں تنہا

اک تھکی ہُوئی خوشبو کی طرح بھٹکا کرتی!

آج بھی میں تنہا ہوں سفر میں

لیکن خود سے پُوچھ رہی ہوں

میرے وجود کے گرد یہ کیسا ہالہ ہے!

یوں لگتا ہے

چادرِ شب شانوں سے سرکتی جاتی ہے

چاند مرے آنچل میں ستارے ٹانک رہا ہے

آج کی رات

نیند پلکوں کی جھالر کو چُھوتی ہوئی

اوس میں اپنا آنچل بھگو کے

مرے دُکھتے ماتھے پہ رکھنے چلی ہے

مگر__آنکھ اور ذہن کے درمیاں

آج کی شب وہ کانٹے بچھے ہیں

کہ نیندوں کے آہستہ رَو، پھول پاؤں بھی چلنے سے معذور ہیں

ہر بُنِ مو میں اِک آنکھ اُگ آئی ہے

جس کی پلکیں نکلنے سے پہلے کہیں جھڑ چکی ہیں

اور اب ، رات بھر

روشنی اور کُھلی آنکھ کے درمیاں

نیند مصلوب ہوتی رہے گی!

پروین شاکر

نئی آنکھ کا پُرانا خواب

نئی آنکھ کا پُرانا خواب

آتش دان کے پاس

گُلابی حّدت کے ہالے میں سمٹ کر

تجھ سے باتیں کرتے ہوئے

کبھی کبھی تو ایسا لگاہے

جیسے اُوس میں بھیگی گھاس پہ

اُس کے بازو تھامے ہوئے

میں پھر نیند میں چلنے لگی ہوں !

پروین شاکر

نیا دُکھ

یہ دُکھ جو برف کا طوفان بن کے آیا ہے

پہاڑ والوں پہ کیسے عذاب لایا ہے

یہ زندہ رہنے کی خاطر ، اجازتوں کا دُکھ

بطور قرض کے حاصل ، محبتوں کا دُکھ

یہ غم کہ رات کی دہلیز اپنا گھر ہو گی

تمام عالمِ امکاں میں جب سحر ہو گی

یہ دُکھ کہ چھوڑ گئے انتہا پہ آکر ساتھ

سیاہ ہاتھوں پہ تقدیر لکھنے والے ہاتھ

مسافرانِ شبِ غم ، اسیرِ دار ہُوئے

جو رہنما تھے ، بِکے او ر شہر یار ہُوئے

پروین شاکر

نوحہ گر چُپ ہیں

نوحہ گر چُپ ہیں کہ روئیں بھی تو کِس کو روئیں

کوئی اس فصلِ ہلاکت میں سلامت بھی تو ہو

کون سا دل ہے کہ جس کے لئے آنکھیں کھولیں

کوئی بِسمل کسی شب خوں کی علامت بھی تو ہو

شُکر کی جا ہے کہ بے نام و نسب کے چہرے

مسندِ عدل کی بخشش کے سزاوار ہوئے

کتنی تکریم سے دفنائے گئے سوختہ تن

کتنے اعزاز کے حامِل یہ گنہگار ہوئے

یوں بھی اِس دور میں جینے کا کِسے تھا یارا

بے نوا بازوئے قاتِل سے گِلہ مند نہ ہوں

زندگی یوں بھی تو مُفلِس کی قبَا تھی لیکن

دلفگاروں کے کفن میں بھی تو پیوند نہ ہوں

ناوکِ ظِلّ الٰہی اجل آہنگ سہی

شُکر کی جا ہے کہ سَونے کی انی رکھتے ہیں

جاں گنوائی بھی تو کیا مَدفن و مَرقد تو ملا

شاہ جم جاہ طبیعت تو غنی رکھتے ہیں

پروین شاکر

نہ کوئی عہد، نہ پیمان

نہ کوئی عہد، نہ پیمان

نہ وعدہ ایسا

نہ تیرا حُسن ہی ایسا کوئی انگشت تراش

نہ میرے ہاتھ میں تاثیرِ زلیخائی ہے

رقص گہ ہے یہ جہاں اور نہ میں سِنڈریلا ہوں

نہ تُو شہزادہ ہے

ہم تو بس رزم گہِ ہستی میں

دو مبارز دِل ہیں

اِس تعلق کا کوئی رنگ اگر ہے تو حریفانہ ہے

ایک ہی تھال سے چُننی ہے ہمیں نانِ جویں

ایک ہی سانپ کے منہ سے ہمیں من چھیننا ہے

اور اس کشمکشِ رزق میں موہوم کشائش کی کلید

جس قدر میری قناعت میں ہے

اتنی تیری فیاضی میں

میں تیری چھاؤں میں پروان چڑھوں

اپنی آنکھوں پہ تیرے ہاتھ کا سایہ کر کے

تیرے ہمراہ میں سُرج کی تمازت دیکھوں

اس سے آگے نہیں سوچا دل نے

پھر بھی احوال یہ ہے

اِک بھروسہ ہے کہ دل سبز کئے رکھتا ہے

ایک دھڑکا ہے کہ خوں سرد کیئے رہتا ہے

پروین شاکر

ننھے دوست کے نام ایک نظم

گھنے درختوں کی سبز شاخوں پہ کِھلنے والے حسیں شگوفے!

سُنا ہے

تیرے گلاب چہرے کو برفباری کی رُت نے نرگس بنا دیا ہے

سوننھی کونپل!اُداس مت ہو

کہ تیرے رُخسار کی شفق کو

کبھی بھی دستِ شبِ زمستاں نہ چُھوئے پائے گا

اِس شفق میں محبتوں کا لُہو رواں ہے

عظیم گہری محبتوں کے صدف میں

اَبرِ بہار کی پہلی سانس ہے تو

جو ان جسموں کی مشترک دھڑکنوں کا پہلا جمیل نغمہ

جو ان راتوں کی کوکھ سے پھوٹتا ہُوا پہلا چاند ہے تُو

زمین اور آسماں کے سنگم پہ

زندگی کا نیا اُفق تُو

سواے مرے اَدھ کِھلے شگوفے!

تمام سچی محبتوں کے تمام گیتوں کی طرح تُو بھی اَمر رہے گا

وہ لمحہ آواز دے رہا ہے

جب ایسی ویران شاخساروں کے بے نمو جسم پر نئی کونپلیں اُگیں گی

شجر شجر کی برہنگی سبز پوش ہو گی

وہ ساعتیں راستے میں ہیں

جبکہ تیرے کم سِن بدن کی کچّی مہک کو

دستِ بہار کا لمس

وصفِ گویائی دے سکے گا،

یہ زرد رُت جلد بِیت جائے گی

سبز موسم قریب تر ہے

پروین شاکر

نن

وہ میری ہم سبق

زمین پر جو ایک آسمانی رُوح کی طرح سفر میں ہے

سفید پیرہن،گلے میں نقرئی صلیب

ہونٹ___مستقل دُعا!

میں اُس کو ایسے دیکھتی تھی جیسے ذرہ آفتاب کی طرف نظر اُٹھائے! پر____یہ کل کا ذکر ہے

کہ جب میں اپنے بازؤوں پہ سر رکھے

ترے لیے بہت اُداس تھی

تو وہ مرے قریب آئی

اور مجھ سے کیٹس کے لکھے ہُوئے کسی خیال تک رسائی چاہنے لگی

سو مَیں نے اُس کو شاعرِ جمال کی شریک خواب،فینی،کا پتہ دیا

مگر وہ میری بات سُن کے سادگی سے بولی:

’پیار کس کو کہتے ہیں ؟،

میں لمحہ بھر کو گُنگ رہ گئی!

دماغ سوچنے لگا

یہ کتنی بدنصیب ہے

جو چاہتوں کی لذتوں سے بے خبر ہے

میں نے اُس کی سمت پھر نگاہ کی

اور اُس سمے

مُجھے مری محبیتں تمام تر دُکھوں کے ساتھ یاد آ گئیں

محبتوں کے دُکھ___عظیم دُکھ!

مُجھے لگا

کہ جیسے ذرہ___آفتاب کے مقابلے میں بڑھ گیا

پروین شاکر

نِک نیم

تم مجھے گُڑیا کہتے ہو

ٹھیک ہی کہتے ہو ۔۔۔!!!

کھیلنے والے سب ہاتھوں کو میں گڑیا ہی لگتی ہوں

جو پہنا دو، مجھ پہ سجے گا

میرا کوئی رنگ نہیں

جس بّچے کے ہاتھ تھما دو

میری کسی سے جنگ نہیں

سوچتی جاگتی آنکھیں میری

جب چاہے بینائی لے لو

کُوک بھرو اور باتیں سن لو

یاں میری گویائی لے لو

مانگ بھرو، سیندور لگاؤ

پیار کرو، آنکھوں میں بساؤ

اور جب دل بھر جائے تو

دل سے اُٹھا کہ طاق پہ رکھ دو

تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو

ٹھیک ہی کہتے ہو

پروین شاکر

نظم

اب وہ کہتے ہیں تم کوئی چارہ کرو

جب کوئی عہد و پیماں سلامت نہیں

اب کسی کنج میں بے اماں شہر کی

کوئی دل کوئی داماں سلامت نہیں

تم نے دیکھا ہے سر سبز پیڑوں پہ اب

سارے برگ و ثمر خار و خس ہو گئے

اب کہاں خوبصورت پرندوں کی رت

جو نشیمن تھے اب وہ قفس ہو گئے

صحن گلزار خاشاک کا ڈھیر

اب درختوں کے تن پر قبائیں کہاں

سرو و شمشاد سے قمریاں اڑ گئیں

شاخ زیتون پر فاختائیں کہاں

شیخ منبر پہ نا معتبر ہو چکا

رند بدنام کوئے خرابات میں

فاصلہ ہو تو ہو فرق کچھ بھی نہیں

فتوہ دیں میں ہو اور کفر کی بات میں

اب تو سب رازداں ہمنوا نامہ بر

کوئے جانا ں کے سب آشنا جا چکے

کوئی زندہ گواہی بچی ہی نہیں

سب گنہگار سب پارسا جا چکے

اب کوئی کس طرح قم بہ اذنی کہے

اب کہ جب شہر کا شہر سنسان ہے

حرف عیسیٰ نہ صور اسرافیل ہے

حشر کا دن قیامت کا میدان ہے

مرگ انبوہ بھی جشن ساماں نہیں

اب کوئی قتل گاہوں میں جائے تو کیا

کب سے توقیر لالہ قبائی گئی

کوئی اپنے لہو میں نہائے تو کیا

پروین شاکر

ناٹک

رُت بدلی تو بھنوروں نے تتلی سے کہا

آج سے تم آزاد ہو

پروازوں کی ساری سمتیں تُمھارے نام ہُوئیں

جاؤ

جنگل کی مغرور ہوا کے ساتھ اُڑو

بادل کے ہمراہ ستارے چُھو آؤ

خوشبو کے بازو تھامو، اور رقص کرو

رقص کرو

کہ اس موسم کے سُورج کی کِرنوں کا تاج تُمھارے سر ہے

لہراؤ

کہ ان راتوں کا چاند، تمھاری پیشانی پر اپنے ہاتھ سے دُعا لکھے گا

گاؤ

ان لمحوں کی ہوائیں تم کو ، تمھارے گیتوں پر سنگیت دیں گی

پتّے کڑے بجائیں گے

اور پُھولوں کے ہاتھوں میں دف ہو گا!

تتلی ، معصومانہ حیرت سے سرشار

سیہ شاخوں کے حلقے سے نکلی

صدیوں کے جکڑے ہُوئے ریشم پَر پھیلائےِ_اور اُڑنے لگی

کُھلی فضا کا ذائقہ چکھا

نرم ہَوا کا گیت سُنا

اَن دیکھے کہساروں کی قامت ناپی

روشنیوں کا لمس پیا

خوشبو کے ہر رنگ کو چُھو کر دیکھا

لیکن رنگ ، ہَوا کا وجدان ادھورا تھا

کہ رقص کا موسم ٹھہر گیا

رُت بدلی

اور سُورج کی کِرنون کا تاج پگھلنے لگا

چاند کے ہاتھ، دُعا کے حرف ہی بُھول گئے

ہَوا کے لب برفیلےسموں میں نیلے پڑکر اپنی صدائیں کھو بیٹھے

پتّوں کی بانہوں کے سُر بے رنگ ہُوئے

اور تنہا رہ گئے پُھولوں کے ہاتھ

برف کی لہر کے ہاتھوں ، تتلی کو لَوٹ آنے کا پیغام گیا

بھنورے شبنم کی زنجیریں لے کر دوڑے

اور بے چین پَروں میں ان چکھی پروازوں کی آشفتہ پیاس جلا دی

اپنے کالے ناخونوں سے

تتلی کے پَر نوچ کے بولے___

احمق لڑکی

گھر واپس آ جاؤ

ناٹک ختم ہُوا!

(خواتین کا عالمی سال)

پروین شاکر