زمرہ جات کے محفوظات: افسانہ

یزید

سن سینتالیس کے ہنگامے آئے اور گزر گئے۔ بالکل اسی طرح جس موسم میں خلافِ معمول چند دن خراب آئیں اور چلے جائیں۔ یہ نہیں کہ کریم داد، مولا کی مرضی سمجھ کر خاموش بیٹھا رہا۔ اس نے اس طوفان کا مردانہ وار مقابلہ کیا تھا۔ مخالف قوتوں کے ساتھ وہ کئی بار بھڑا تھا۔ شکست دینے کے لیے نہیں، صرف مقابلہ کرنے کے لیے نہیں۔ اس کو معلوم تھا کہ دشمنوں کی طاقت بہت زیادہ ہے۔ مگر ہتھیار ڈال دینا وہ اپنی ہی نہیں ہر مرد کی توہین سمجھتا تھا۔ سچ پوچھیے تو اس کے متعلق یہ صرف دوسروں کا خیال تھا اُن کا، جنہوں نے اسے وحشی نما انسانوں سے بڑی جاں بازی سے لڑتے دیکھا تھا۔ ورنہ اگر کریم داد سے اس بارے میں پوچھا جاتا، کہ مخالف قوتوں کے مقابلے میں ہتھیار ڈالنا کیا وہ اپنی یا مرد کی توہین سمجھتا ہے۔ تو وہ یقیناً سوچ میں پڑ جاتا۔ جیسے آپ نے اُس سے حساب کا کوئی بہت ہی مشکل سوال کردیا ہے۔ کریم داد، جمع، تفریق اور ضرب تقسیم سے بالکل بے نیاز تھا۔ سن سینتالیس کے ہنگامے آئے اور گزر گئے۔ لوگوں نے بیٹھ کر حساب لگانا شروع کیا کہ کتنا جانی نقصان ہوا، کتنا مالی، مگر کریم داد اس سے بالکل الگ تھلگ رہا۔ اس کو صرف اتنا معلوم تھا کہ اس کا باپ رحیم داد اس جنگ میں کام آیا ہے۔ اس کی لاش خود کریم داد نے اپنے کندھوں پر اٹھائی تھی۔ اور ایک کنوئیں کے پاس گڑھا کھود کر دفنائی تھی۔ گاؤں میں اور بھی کئی وارداتیں ہوئی تھیں سینکڑوں جوان اور بوڑھے قتل ہوئے تھے، کئی لڑکیاں غائب ہو گئی تھیں۔ کچھ بہت ہی ظالمانہ طریقے پربے آبرو ہوئی تھی۔ جس کے بھی یہ زخم آئے تھے، روتا تھا، اپنے پھوٹے نصیبوں پر اور دشمنوں کی بے رحمی پر، مگر کریم داد کی آنکھ سے ایک آنسو بھی نہ نکلا۔ اپنے باپ رحیم داد کی شہ زوری پر اسے ناز تھا۔ جب وہ پچیس تیس، برچھیوں اور کلہاڑیوں سے مسلح بلوائیوں کا مقابلہ کرتے کرتے نڈھال ہو کر گر پڑا تھا، اور کریم د اد کو اس کی موت کی خبر ملی تھی تو اس نے اس کی روح کو مخاطب کرکے صرف اتنا کہا تھا۔

’’یار تم نے یہ ٹھیک نہ کیا۔ میں نے تم سے کہا تھا کہ ایک ہتھیار اپنے پاس ضرور رکھا کرو۔ ‘‘

اور اس نے رحیم داد کی لاش اٹھا کر، کنویں کے پاس گڑھا کھود کر دفنا دی تھی اور اس کے پاس کھڑے ہو کر فاتحہ کے طور پر صرف یہ چند الفاظ کہے ہوئے

’’گناہ ثواب کا حساب خدا جانتا ہے۔ اچھا تجھے بہشت نصیب ہو!‘‘

رحیم داد جو نہ صرف اس کا باپ تھا بلکہ ایک بہت بڑا دوست بھی تھا بلوائیوں نے بڑی بے دردی سے قتل کیا تھا۔ لوگ جب اس کی افسوسناک موت کا ذکر کرتے تھے تو قاتلوں کو بڑی گالیاں دیتے تھے، مگر کریم داد خاموش رہتا تھا۔ اس کی کئی کھڑی فصلیں تباہ ہوئی تھیں۔ دو مکان جل کر راکھ ہو گئے تھے۔ مگر اُس نے اپنے ان نقصانوں کا کبھی حساب نہیں لگایا تھا۔ وہ کبھی کبھی صرف اتنا کہا کرتا تھا۔

’’جوکچھ ہوا ہے۔ ہماری اپنی غلطی سے ہوا ہے۔ ‘‘

اور جب کوئی اس سے اس غلطی کے متعلق استفسار کرتا تووہ خاموش رہتا۔ گاؤں کے لوگ ابھی سوگ میں مصروف تھے کہ کریم داد نے شادی کرلی۔ اسی مٹیار جیناں کے ساتھ جس پر ایک عرصے سے اس کی نگاہ تھی۔ جیناں سوگوار تھی۔ اس کا شہتیر جیسا کڑیل جوان بھائی بلووں میں مارا گیا تھا۔ ماں، باپ کی موت کے بعد ایک صرف وہی اس کا سہارا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جیناں کو کریم داد سے بے پناہ محبت تھی، مگر بھائی کی موت کے غم نے یہ محبت اس کے دل میں سیاہ پوش کردی تھی، اب ہر وقت اس کی سدا مسکراتی آنکھیں نمناک رہتی تھیں۔ کریم داد کو رونے دھونے سے بہت چڑ تھی۔ وہ جیناں کو جب بھی سوگ زدہ حالت میں دیکھتا تو دل ہی دل میں بہت کڑھتا۔ مگر وہ اس سے اس بارے میں کچھ کہتا نہیں تھا، یہ سوچ کر کہ عورت ذات ہے۔ ممکن ہے اس کے دل کو اور بھی دکھ پہنچے، مگر ایک روز اس سے نہ رہا گیا۔ کھیت میں اس نے جیناں کو پکڑ لیا اور کہا۔

’’مردوں کو کفنائے دفنائے پورا ایک سال ہو گیا ہے اب تو وہ بھی اس سوگ سے گھبرا گئے ہوں گے۔ چھوڑ میری جان! ابھی زندگی میں جانے اور کتنی موتیں دیکھنی ہیں۔ کچھ آنسو تو اپنی آنکھوں میں جمع رہنے دیں۔ ‘‘

جیناں کو اس کی یہ باتیں بہت ناگوار معلوم ہوئی تھیں۔ مگر وہ اس سے محبت کرتی تھی۔ اس لیے اکیلے میں اس نے کئی گھنٹے سوچ سوچ کر اس کی ان باتوں میں معنی پیدا کیے اور آخر خود کو یہ سمجھنے پر آمادہ کرلیا کہ کریم داد جو کچھ کہتا ہے ٹھیک ہے۔ ! شادی کا سوال آیا تو بڑے بوڑھوں نے مخالفت کی۔ مگر یہ مخالفت بہت ہی کمزور تھی۔ وہ لوگ سوگ منا منا کر اتنے نحیف ہو گئے تھے کہ ایسے معاملوں میں سو فیصدی کامیاب ہونے والی مخالفتوں پر بھی زیادہ دیر تک نہ جمے رہ سکے۔ چنانچہ کریم داد کابیاہ ہو گیا۔ باجے گاجے آئے، ہر رسم ادا ہوئی اور کریم داد اپنی محبوبہ جیناں کودلہن بنا کر گھر لے آیا۔ فسادات کے بعد قریب قریب ایک برس سے سارا گاؤں قبرستان سا بنا تھا۔ جب کریم داد کی برات چلی اور خوب دھوم دھڑکا ہوا تو گاؤں میں کئی آدمی سہم سہم گئے۔ ان کو ایسا محسوس ہوا کہ یہ کریم داد کی نہیں، کسی بھوت پریت کی برات ہے۔ کریم داد کے دوستوں نے جب اُس کو یہ بات بتائی تو وہ خوب ہنسا۔ ہنستے ہنستے ہی اس نے ایک روز اس کا ذکر اپنی نئی نویلی دلہن سے کہا تو وہ ڈر کے مارے کانپ اٹھی۔ کریم داد نے جیناں کی سُوہے چوڑے والی کلائی اپنے ہاتھ میں لی، اور کہا۔

’’یہ بھوت تو اب ساری عمر تمہارے ساتھ چمٹا رہے گا۔ رحمان سائیں کی جھاڑ پھونک بھی اتار نہیں سکے گی۔ ‘‘

جیناں نے اپنی مہندی میں رچی ہوئی انگلی دانتوں تلے دبا کر اور ذرا شرما کر صرف اتنا کہنا۔

’’کیمے، تجھے تو کسی سے بھی ڈر نہیں لگتا۔ ‘‘

کریم داد نے اپنی ہلکی ہلکی سیاہی مائل بھوری مونچھوں پر زبان کی نوک پھیری اور مسکرادیا۔

’’ڈر بھی کوئی لگنے کی چیز ہے!‘‘

جیناں کا غم اب بہت حد تک دورہوچکا تھا۔ وہ ماں بننے والی تھی۔ کریم داد اس کی جوانی کا نکھار دیکھتا تو بہت خوش ہوتا اور جیناں سے کہتا۔

’’خدا کی قسم جیناں، توپہلے کبھی اتنی خوبصورت نہیں تھی۔ اگر تواتنی خوبصورت اپنے ہونے والے بچے کے لیے بنی ہے تو میری اس سے لڑائی ہو جائیگی۔ ‘‘

یہ سن کر جیناں شرما کر اپنا ٹھلیا سا پیٹ چادرسے چھپا لیتی۔ کریم داد ہنستا اور اسے چھیڑتا۔

’’چھپاتی کیوں ہو اس چور کو۔ میں کیا جانتا نہیں کہ یہ سب بناؤ سنگھار صرف تم نے اسی سؤر کے بچے کے لیے کیا ہے۔ ‘‘

جیناں ایک دم سنجیدہ ہو جاتی۔

’’کیوں گالی دیتے ہو اپنے کو؟‘‘

کریم داد کی سیاہی مائل بھوری مونچھیں ہنسی سے تھرتھرانے لگتیں۔

’’کریم داد بہت بڑا سؤر ہے۔ ‘‘

چھوٹی عید آئی۔ بڑی عید آئی، کریم داد نے یہ دونوں تہوار بڑے ٹھاٹ سے منائے۔ بڑی عید سے بارہ روز پہلے اس کے گاؤں پربلوائیوں نے حملہ کیا تھا اور اس کا باپ رحیم داد اور جیناں کا بھائی فضل الٰہی قتل ہوئے تھے، جیناں ان دونوں کی موت کو یاد کرکے بہت روتی تھی! مگر کریم داد کی صدموں کو یاد نہ رکھنے والی طبیعت کی موجودگی میں اتنا غم نہ کرسکی، جتنا اسے اپنی طبیعت کے مطابق کرنا چاہیے تھا۔ جیناں کبھی سوچتی تھی تو اس کو بڑا تعجب ہوتا تھا کہ وہ اتنی جلدی اپنی زندگی کا اتنا بڑا صدمہ کیسے بھولتی جارہی ہے۔ ماں باپ کی موت اس کو قطعاً یاد نہیں تھی۔ فضل الٰہی اس سے چھ سال بڑا تھا۔ وہی اس کا باپ تھا وہی اس کی ماں اور وہی اس کا بھائی۔ جیناں اچھی طرح جانتی تھی کہ صرف اسی کی خاطر اس نے شادی نہیں کی۔ اور یہ تو سارے گاؤں کو معلوم تھا کہ جیناں ہی کی عصمت بچانے کے لیے اس نے اپنی جان دی تھی۔ اس کی موت جیناں کی زندگی کا یقیناً بہت ہی بڑا حادثہ تھا۔ ایک قیامت تھی، جو بڑی عید سے ٹھیک بارہ روز پہلے اس پر یکا یک ٹوٹ پڑی تھی۔ اب وہ اس کے بارے میں سوچتی تھی تو اس کو بڑی حیرت ہوتی تھی کہ وہ اسکے اثرات سے کتنی دور ہوتی جارہی ہے۔ محرم قریب آیا تو جیناں نے کریم داد سے اپنی پہلی فرمائش کا اظہار کیا اسے گھوڑا اور تعزیئے دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ اپنی سہیلیوں سے وہ ان کے متعلق بہت کچھ سن چکی تھی۔ چنانچہ اس نے کریم داد سے کہا۔

’’میں ٹھیک ہوئی تولے چلو گے مجھے گھوڑا دکھانے؟‘‘

کریم داد نے مسکرا کر جواب دیا۔

’’تم ٹھیک نہ بھی ہوئیں تو لے چلوں گا۔ اس سؤر کے بچے کو بھی!‘‘

جیناں کو یہ گالی بہت ہی بُری لگتی تھی۔ چنانچہ وہ اکثر بگڑ جاتی تھی۔ مگر کریم داد کی گفتگو کا انداز کچھ ایسا پرخلوص تھا کہ جیناں کی تلخی فوراً ہی ایک ناقابل بیان مٹھاس میں تبدیل ہو جاتی تھی اور وہ سوچتی کہ سؤر کے بچے میں کتنا پیار کوٹ کوٹ کے بھرا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کی جنگ کی افواہیں ایک عرصے سے اڑ رہی تھی۔ اصل میں تو پاکستان بنتے ہی بات گویا ایک طور پر طے ہو گئی تھی کہ جنگ ہو گی۔ اور ضرور ہو گی۔ کب ہو گی، اس کے متعلق گاؤں میں کسی کو معلوم نہیں تھا۔ کریم داد سے جب کوئی اس کے متعلق سوال کرتا، تو وہ یہ مختصر سا جواب دیتا۔

’’جب ہونی ہو گی ہو جائے گی۔ فضول سوچنے سے کیا فائدہ!‘‘

جیناں جب اس ہونے والی لڑائی بھڑائی کے متعلق سنتی، تو اس کے اوسان خطا ہوجاتے تھے۔ وہ طبعاً بہت ہی امن پسند تھی۔ معمولی تُوتُو میں میں سے بھی سخت گھبراتی تھی۔ اس کے علاوہ گزشتہ بلووں میں نے اس نے کئی کشت و خون دیکھے تھے اور انہی میں اس کا پیارا بھائی فضل الٰہی کام آیا تھا۔ بے حد سہم کر وہ کریم داد سے صرف اتنا کہتی۔

’’کیمے، کیا ہو گا!‘‘

کریم داد مسکرا دیتا۔

’’مجھے یا معلوم۔ لڑکا ہو گا لڑکی۔ ‘‘

یہ سن کر جیناں بہت ہی زچ بچ ہوتی مگر فوراً ہی کریم داد کی دوسری باتوں میں لگ کر ہونے والی جنگ کے متعلق سب کچھ بھول جاتی۔ کریم داد طاقت ور تھا، نڈر تھا، جیناں سے اس کو بے حد محبت تھی۔ بندوق خریدنے کے بعد وہ تھوڑے ہی عرصے میں نشانے کا بہت پکا ہو گیا تھا۔ یہ سب باتیں جیناں کو حوصلہ دلاتی تھیں، مگر اس کے باوجود ترنجنوں میں جب وہ اپنی کسی خوف زدہ ہمجولی سے جنگ کے بارے میں گاؤں کے آدمیوں کی اڑائی ہوئی ہولناک افواہیں سنتی، تو ایک دم سُن سی ہو جاتی۔ بختو دائی جو ہر روز جیناں کو دیکھنے آتی تھی۔ ایک دن یہ خبر لائی کہ ہندوستان والے دریا بند کرنے والے ہیں۔ جیناں اس کا مطلب نہ سمجھی۔ وضاحت کے لیے اس نے بختو دائی سے پوچھا۔

’’دریا بند کرنے والے ہیں؟۔ کون سے دریا بند کرنے والے ہیں۔ ‘‘

بختو دائی نے جواب دیا۔

’’وہ جو ہمارے کھیتوں کو پانی دیتے ہیں۔ ‘‘

جیناں نے کچھ دیر سوچا اور ہنس کر کہا۔

’’موسی تم بھی کیا پاگلوں کی سی باتیں کرتی ہو، دریا کون بند کرسکتا ہے۔ وہ بھی کوئی موریاں ہیں۔ ‘‘

بختو نے جیناں کے پیٹ پر ہولے ہولے مالش کرتے ہوئے کہا۔

’’بی بی مجھے معلوم نہیں۔ جو کچھ میں نے سنا تمہیں بتا دیا۔ یہ بات اب تو اخباروں میں بھی آگئی ہے۔ ‘‘

’’کون سی بات؟‘‘

جیناں کو یقین نہیں آتا تھا۔ بختو نے اپنے جھریوں والے ہاتھوں سے جیناں کا پیٹ ٹٹولتے ہوئے کہا۔

’’یہی دریا بند کرنے والی‘‘

پھر اس نے جیناں کے پیٹ پر اس کی قمیض کھینچی اور اٹھ کربڑے ماہرانہ انداز میں کہا۔

’’اللہ خیر رکھے تو بچہ آج سے پورے دس روز کے بعد ہو جانا چاہیے!‘‘

کریم داد گھر آیا، تو سب سے پہلے جیناں نے اس سے دریاؤں کے متعلق پوچھا۔ اس نے پہلے بات ٹالنی چاہی، پر جب جیناں نے کئی بار اپنا سوال دہرایا تو کریم داد نے کہا۔

’’ہاں کچھ ایسا ہی سنا ہے۔ ‘‘

جیناں نے پوچھا۔

’’کیا؟‘‘

’’یہی کہ ہندوستان والے ہمارے دریا بند کردیں گے۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

کریم داد نے جواب دیا۔

’’کہ ہماری فصلیں تباہ ہو جائیں۔ ‘‘

یہ سن کر جیناں کو یقین ہو گیا کہ دریا بند کیے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ نہایت بے چارگی کے عالم میں اس نے صرف اتنا کہا۔

’’کتنے ظالم ہیں یہ لوگ۔ ‘‘

کریم داد اس دفعہ کچھ دیر کے بعد مسکرایا۔

’’ہٹاؤ اس کو۔ یہ بتاؤ موسی بختو آئی تھی۔ ‘‘

جیناں نے بے دلی سے جواب دیا۔

’’آئی تھی!‘‘

’’کیا کہتی تھی؟‘‘

’’کہتی تھی آج سے پورے دس روز کے بعد بچہ ہو جائے گا۔ ‘‘

کریم داد نے زور کا نعرہ لگایا۔

’’زندہ باد۔ ‘‘

جیناں نے اسے پسند نہ کیا اور بڑبڑائی۔

’’تمہیں خوشی سوجھتی ہے جانے یہاں۔ کیسی کربلا آنے والی ہے۔ ‘‘

کریم داد چوپال چلا گیا۔ وہاں قریب قریب سب مرد جمع تھے۔ چودھری نتھو کو گھیرے، اس سے دریا بند کرنے والی خبر کے متعلق باتیں پوچھ رہے تھے، کوئی پنڈت نہرو کو پیٹ بھر کے گالیاں دے رہا تھا۔ کوئی بددعائیں مانگ رہا تھا۔ کوئی یہ ماننے ہی سے یکسر منکر تھا کہ دریاؤں کا رخ بدلا جاسکتا ہے۔ کچھ ایسے بھی تھے جن کا یہ خیال تھا کہ جو کچھ ہونے والا ہے وہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔ اسے ٹالنے کے لیے سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ مل کرمسجد میں دعا مانگی جائے۔ کریم داد ایک کونے میں خاموش بیٹھا سنتا رہا۔ ہندوستان والوں کو گالیاں دینے میں چودھری نتھو سب سے پیش پیش تھا۔ کریم داد کچھ اس طرح بار بار اپنی نشست بدل رہا تھا جیسے اسے بہت کوفت ہورہی ہے۔ سب بک زبان ہوکریہ کہہ رہے تھے۔ کہ دریا بند کرنا بہت ہی اوچھاہتھیار ہے۔ انتہائی کمینہ پن ہے۔ رذالت ہے۔ عظیم ترین ظلم ہے۔ بدترین گناہ ہے۔ یزیدپن ہے۔ کریم داد دو تین مرتبہ اس طرح کھانسا جیسے وہ کچھ کہنے کے لیے خود کو تیار کررہا ہے۔ چودھری نتھو کے منہ سے جب ایک اور لہر موٹی موٹی گالیوں کی اٹھی تو کریم داد چیخ پڑا۔

’’گالی نہ دے چودھری کسی کو۔ ‘‘

ماں کی ایک بہت بڑی گالی چودھری نتھو کے حلق میں پھنسی کی پھنسی رہ گئی، اس نے پلٹ کر ایک عجیب انداز سے کریم داد کی طرف دیکھا جو سر پر اپنا صافہ ٹھیک کررہا تھا۔

’’کیا کہا؟‘‘

کریم داد نے آہستہ مگر مضبوط آواز میں کہا۔

’’میں نے کہا گالی نہ دے کسی کو۔ ‘‘

حلق میں پھنسی ہوئی ماں کی گالی بڑے زور سے باہر نکال کر چودھری نتھو نے بڑے تیکھے لہجے میں کریم داد سے کہا۔

’’کسی کو؟ کیا لگتے ہیں۔ وہ تمہارے؟‘‘

اس کے بعد وہ چوپال میں جمع شدہ آدمیوں سے مخاطب ہوا۔

’’سنا تم لوگوں نے۔ کہتا ہے گالی نہ دو کسی کو۔ پوچھو اس سے وہ کیا لگتے ہیں اس کے؟‘‘

کریم داد نے بڑے تحمل سے جواب دیا۔

’’میرے کیا لگتے ہیں؟۔ میرے دشمن لگتے ہیں۔ ‘‘

چودھری کے حلق سے پھٹا پھٹا سا قہقہہ بلند ہوا۔ اس قدر زور سے کہ اس کی مونچھوں کے بال بکھر گئے۔

’’سنا تم لوگوں نے۔ دشمن لگتے ہیں۔ اور دشمن کو پیار کرنا چاہیے۔ کیوں برخوردار؟‘‘

کریم داد نے بڑے برخوردانہ انداز میں جواب دیا۔

’’نہیں چودھری۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پیار کرنا چاہیے۔ میں نے صرف یہ کہا ہے کہ گالی نہیں دینی چاہیے۔ ‘‘

کریم داد کے ساتھ ہی اس کا لنگوٹیا دوست میراں بخش بیٹھا تھا۔ اس نے پوچھا۔

’’کیوں؟‘‘

کریم داد صرف میراں بخش سے مخاطب ہوا۔

’’کیا فائدہ ہے یار۔ وہ پانی بند کرکے تمہاری زمینیں بنجر بنانا چاہتے ہیں۔ اور تم انھیں گالی دے کہ یہ سمجھتے ہو کہ حساب بیباق ہوا۔ یہ کہاں کی عقلمندی ہے۔ گالی تو اس وقت دی جاتی ہے۔ جب اور کوئی جواب پاس نہ ہو۔ ‘‘

میراں بخش نے پوچھا۔

’’تمہارے پاس جواب ہے؟‘‘

کریم داد نے تھوڑے توقف کے بعد کہا۔

’’سوال میرا نہیں۔ ہزاروں اور لاکھوں آدمیوں کا ہے۔ اکیلا میرا جواب سب کا جواب نہیں ہوسکتا۔ ایسے معاملوں میں سوچ سمجھ کر ہی کوئی پختہ جواب تیار کیا جاسکتا ہے۔ وہ ایک دن میں دریاؤں کا رخ نہیں بدل سکتے۔ کئی سال لگیں گے۔ لیکن یہاں تو تم لوگ گالیاں دے کر ایک منٹ میں اپنی بھڑاس نکال باہر کررہے ہو۔ ‘‘

پھر اس نے میراں بخش کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور بڑے خلوص کے ساتھ کہا۔

’’میں تو اتنا جانتا ہوں یار کہ ہندوستان کو کمینہ، رذیل اور ظالم کہنا بھی غلط ہے۔ ‘‘

میراں بخش کے بجائے چودھری نتھو چلایا۔

’’لو اور سنو؟‘‘

کریم داد، میراں بخش ہی سے مخاطب ہوا۔

’’دشمن سے میرے بھائی رحم و کرم کی توقع رکھنا بے وقوفی ہے۔ لڑائی شروع اور یہ رونا رویا جائے کہ دشمن بڑے بور کی رفلیں استعمال کررہا ہے۔ ہم چھوٹے بم گراتے ہیں، وہ بڑے گراتا ہے۔ تو اپنے ایمان سے کہو یہ شکایت بھی کوئی شکایت ہے۔ چھوٹا چاقو بھی مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور بڑا چاقو بھی۔ کیا میں جھوٹ کہتا ہوں۔ ‘‘

میراں بخش کی بجائے چودھری نتھو نے سوچنا شروع کیا۔ مگرفوراً ہی جھنجھلا گیا۔

’’لیکن سوال یہ ہے کہ وہ پانی بند کررہے ہیں۔ ہمیں بھوکا اور پیاسا مارنا چاہتے ہیں۔ ‘‘

کریم داد نے میراں بخش کے کاندھے سے اپنا ہاتھ علیحدہ کیا اور چودھری نتھو سے مخاطب ہوا۔

’’چودھری جب کسی کو دشمن کہہ دیا تو پھر یہ گِلا کیسا کہ وہ ہمیں بھوکا پیاسا مارنا چاہتا ہے۔ وہ تمہیں بھوکا پیاسا نہیں مارے گا۔ تمہاری ہری بھری زمینیں ویران اور بنجر نہیں بنائے گا تو کیا وہ تمہارے لیے پلاؤ کی دیگیں اور شربت کے مٹکے وہاں سے بھیجے گا۔ تمہاری سیر، تفریح کے لیے یہاں باغ بغیچے لگائے گا۔ ‘‘

چودھری نتھو بھنا گیا۔

’’یہ تُو کیا بکواس کررہا ہے؟‘‘

میراں بخش نے بھی ہولے سے کریم داد سے پوچھا۔

’’ہاں یار یہ کیا بکواس ہے؟‘‘

’’بکواس نہیں ہے میراں بخشا۔ ‘‘

کریم داد نے سمجھانے کے انداز میں میراں بخش سے کہا۔

’’تو ذرا سوچ تو سہی کہ لڑائی میں دونوں فریق ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے لیے کیا کچھ نہیں کرتے، پہلوان جب لنگر لنگوٹ کس کے اکھاڑے میں اتر آئے تو اسے ہر داؤ استعمال کرنے کا حق ہوتا ہے۔ ‘‘

میراں بخش نے اپنا گھٹا ہوا سر ہلایا۔

’’یہ تو ٹھیک ہے!‘‘

کریم داد مسکرایا۔

’’تو پھر دریا بند کرنا بھی ٹھیک ہے۔ ہمارے لیے یہ ظلم ہے، مگر ان کے لیے روا ہے۔ ‘‘

’’روا کیا ہے۔ جب تیری جِیب پیاس کے مارے لٹک کر زمین تک آجائے گی تو میں پھر پوچھوں گا کہ ظلم روا ہے یا ناروا۔ جب تیرے بال بچے اناج کے ایک ایک دانے کو ترسیں گے توپھر بھی یہ کہنا کہ دریا بند کرنا بالکل ٹھیک تھا۔ ‘‘

کریم داد نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور کہا۔

’’میں جب بھی کہوں گا چودھری۔ تم یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ صرف وہ ہمارا دشمن ہے۔ کیا ہم اس کے دشمن نہیں۔ اگر ہمارے اختیار میں ہوتا، تو ہم نے بھی اس کا دانہ پانی بند کیا ہوتا۔ لیکن اب کہ وہ کرسکتا ہے، اور کرنے والا ہے تو ہم ضرور اس کا کوئی توڑ سوچیں گے۔ بیکار گالیاں دینے سے کیا ہوتا ہے۔ دشمن تمہارے لیے دودھ کی نہریں جاری نہیں کرے گا چودھری نتھو۔ اس سے اگر ہوسکا تو وہ تمہارے پانی کی ہر بوند میں زہر ملادے گا، تم اسے ظلم کہو گے، وحشیانہ پن کہو گے اس لیے کہ مارنے کا یہ طریقہ تمہیں پسند نہیں۔ عجیب سی بات ہے کہ لڑائی شروع کرنے سے پہلے دشمن سے نکاح کی سی شرطیں بندھوائی جائیں۔ اس سے کہا جائے کہ دیکھو مجھے بھوکا پیاسا نہ مارنا، بندوق سے اور وہ بھی اتنے بور کی بندوق سے، البتہ تم مجھے شوق سے ہلاک کرسکتے ہو۔ اصل بکواس تو یہ ہے۔ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچو۔ ‘‘

چودھری نتھو جھنجھلاہٹ کی آخری حد تک پہنچ گیا۔

’’برف لا کے رکھ میرے دل پر۔ ‘‘

’’یہ بھی میں ہی لاؤں۔ ‘‘

یہ کہہ کر کریم داد ہنسا۔ میراں بخش کے کاندھے پر تھپکی دے کر اٹھا اور چوپال سے چلا گیا۔ گھر کی ڈیوڑھی میں داخل ہو ہی رہا تھا کہ اندر سے بختو دائی باہر نکلی۔ کریم داد کو دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر پوپلی مسکراہٹ پیدا ہوئی۔

’’مبارک ہو کیمے۔ چاند سا بیٹا ہوا ہے، اب کوئی اچھا سا نام سوچ اس کا؟‘‘

’’نام؟‘‘

کریم داد نے ایک لحظے کے لیے سوچا۔

’’یزید۔ یزید!‘‘

بختو دائی کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ کریم داد نعرے لگاتا اندر گھر میں داخل ہوا۔ جیناں چارپائی پر لیٹی تھی۔ پہلے سے کسی قدر زرد، اس کے پہلومیں ایک گل گوتھنا سا بچہ چپڑچپڑانگوٹھا چوس رہا تھا۔ کریم داد نے اس کی طرف پیار بھری فخریہ نظروں سے دیکھا اور اس کے ایک گال کو انگلی سے چھیڑتے ہوئے کہا۔

’’اوئے میرے یزید!‘‘

جیناں کے منہ سے ہلکی سی متعجب چیخ نکلی۔

’’یزید؟‘‘

کریم داد نے غور سے اپنے بیٹے کا ناک نقشہ دیکھتے ہوئے کہا۔

’’ہاں یزید۔ یہ اس کا نام ہے۔ ‘‘

جیناں کی آواز بہت نحیف ہو گئی۔

’’یہ تم کیا کہہ رہے ہوکیمے؟۔ یزید‘‘

کریم داد مسکرایا۔

’’کیا ہے اس میں؟ نام ہی تو ہے!‘‘

جیناں صرف اس قدر کہہ سکی۔

’’مگر کس کا نام؟‘‘

کریم داد نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

’’ضروری نہیں کہ یہ بھی وہی یزید ہو۔ اُس نے دریا کا پانی بند کیا تھا۔ یہ کھولے گا!‘‘

4اکتوبر1951ء

سعادت حسن منٹو

ہرنام کور

نہال سنگھ کو بہت ہی الجھن ہورہی تھی۔ سیاہ و سفید اور پتلی مونچھوں کا ایک گچھا اپنے منہ میں چوستے ہوئے وہ برابر دو ڈھائی گھنٹے سے اپنے جوان بیٹے بہادر کی بابت سوچ رہا تھا۔ نہال سنگھ کی ادھیڑ مگر تیز آنکھوں کے سامنے وہ کھلا میدان تھا جس پر وہ بچپن میں بنٹوں سے کبڈی تک تمام کھیل کھیل چکا تھا۔ کسی زمانے میں وہ گاؤں کا سب سے نڈر اور جیالا جوان تھا۔ کماد اور مکئی کے کھیتوں میں نے اس کئی ہٹیلی مٹیاروں کو کلائی کے ایک ہی جھٹکے سے اپنی مرضی کا تابع بنایا۔ تھوک پھینکتا تھا تو پندرہ گز دور جا کے گرتی تھی۔ کیا رنگیلا سجیلا جوان تھا۔ لہریا پگڑی باندھ کر اور ہاتھ میں چھوی لے کر جب میلے ٹیلے کو نکلتا تو بڑے بوڑھے پکار اٹھتے۔

’’کسی کو سندر جاٹ دیکھنا ہے تو سردار نہال سنگھ کو دیکھ لے۔ ‘‘

سندر جاٹ تو ڈاکو تھا۔ بہت بڑا ڈاکو جس کے گانے ابھی تک لوگوں کی زبان پر تھے لیکن نہال سنگھ ڈاکو نہیں تھا۔ اس کی جوانی میں دراصل کرپان کی سی تیزی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ عورتیں اس پر مرتی تھیں۔ ہرنام کور کا قصہ تو ابھی گاؤں میں مشہور تھا کہ اس بجلی نے کیسے ایک دفعہ سردار نہال سنگھ کو قریب قریب بھسم کر ڈالا تھا۔ نہال سنگھ نے ہرنام کور کے متعلق سوچا تو ایک لحظے کے لیے اس کی ادھیڑ ہڈیوں میں بیتی ہوئی جوانی کڑکڑا اٹھی۔ کیا پتلی چھمک جیسی نار تھی۔ چھوٹے چھوٹے لال ہونٹ جن کو وہ ہر وقت چوستی رہتی۔ ایک روز جب کہ بیریوں کے بیر پکے ہوئے تھے۔ سردار نہال سنگھ سے اس کی مڈبھیڑ ہو گئی۔ وہ زمین پر گرے ہوئے بیر چن رہی تھی اور اپنے چھوٹے چھوٹے لال ہونٹ چوس رہی تھی۔ نہال سنگھ نے آوازہ کسا۔ کیہڑے یار دا تتا ددھ پیتا۔ سڑگیاّں لال بُلّیاں؟ ہرنام کور نے پتھر اٹھایا اور تان کر اس کو مارا۔ نہال سنگھ نے چوٹ کی پروا نہ کی اور آگے بڑھ کر اس کی کلائی پکڑ لی۔ لیکن وہ بجلی کی سی تیزی سے مچھی کی طرح تڑپ کر الگ ہو گئی اور یہ جا وہ جا۔ نہال سگھ کو جیسے کسی نے چاروں شانے چت گرادیا۔ شکست کا یہ احساس اور بھی زیادہ ہو گیا۔ جب یہ بات سارے گاؤں میں پھیل گئی۔ نہال سنگھ خاموش رہا۔ اس نے دوستوں دشمنوں سب کی باتیں سنیں پر جواب نہ دیا۔ تیسرے روز دوسری بار اس کی مڈبھیڑ گوردوارہ صاحب سے کچھ دور بڑکی گھنی چھاؤں میں ہوئی۔ ہر نام کور اینٹ پر بیٹھی اپنی گرگابی کو کیلیں اندر ٹھونک رہی تھی۔ نہال سنگھ کو پاس دیکھ کر وہ بدکی۔ پر اب کے اس کوئی پیش نہ چلی۔ شام کو جب لوگوں نے نہال سنگھ کو بہت خوش خوش اونچے سروں میں۔ فی ہر نام کورے، اونارے۔ گاتے سنا تو ان کو معلوم ہو گیا۔ کون سا قلعہ سر ہوا ہے۔ لیکن دوسرے روز نہال سنگھ زنا بالجبر کے الزام میں گرفتار ہوا اور تھوڑی سی مقدمے بازی کے بعد اسے چھ سال کی سزا ہو گئی۔ چھ سال کے بجائے نہال سنگھ کو ساڑھے سات کی قید بھگتنی پڑی۔ کیونکہ جیل میں اسکا دو دفعہ جھگڑا ہو گیا تھا۔ لیکن نہال سنگھ کو اس کی کچھ پروا نہ تھی۔ قید کاٹ کر جب گاؤں روانہ ہوا اور ریل کی پٹڑی طے کرکے مختلف پگڈنڈیوں سے ہوا ہوا گوردوارے کے پاس سے گزر کر بڑکے گھنے درخت کے قریب پہنچا تو اس نے کیا دیکھا کہ ہرنام کور کھڑی ہے۔ اور اپنے ہونٹ چوس رہی ہے۔ اس سے پیشتر کہ نہال سنگھ کچھ سوچنے یا کہنے پائے۔ وہ آگے بڑھی اور اس کی چوڑی چھاتی کے ساتھ چمٹ گئی۔ نہال سنگھ نے اس کو اپنی گود میں اٹھا لیا اور گاؤں کے بجائے کسی دوسری طرف چل دیا۔ ہر نام کور نے پوچھا۔

’’کہاں جارہے ہو؟‘‘

نہال سنگھ نے نعرہ لگایا۔

’’جو بولے سو نہال ست سری اکال۔ ‘‘

دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ نہال سنگھ نے ہرنام کور سے شادی کرلی اور چالیس کوس کے فاصلے پر دوسرے گاؤں میں آباد ہو گیا۔ یہاں بڑی منتوں سے چھ برس کے بعد بہادر پیدا ہوا اور بیساکھی کے روز جب کہ وہ ابھی پورے ڈھائی مہینے کا بھی نہیں ہوا تھا۔ ہر نام کور کے ماتا نکلی اور وہ مر گئی۔ نہال سنگھ نے بہادر کی پرورش اپنی بیوہ بہن کے سپرد کردی جس کی چار لڑکیاں تھیں چھوٹی چھوٹی۔ جب بہادر آٹھ برس کا ہوا تو نہال سنگھ اسے اپنے پاس لے آیا۔ چار برس ہو چلے تھے کہ بہادر اپنے باپ کی نگرانی میں تھا۔ شکل صورت میں وہ بالکل اپنی ماں جیسا تھا اسی طرح دبلا پتلا اور نازک۔ کبھی کبھی اپنے پتلے پتلے لال لال ہونٹ چوستا تو نہال سنگھ اپنی آنکھیں بند کرلیتا۔ نہال سنگھ کو بہادر سے بہت محبت تھی۔ چار برس اس نے بڑے چاؤ سے نہلایا دھلایا۔ ہر روز دہی سے خود اس کے کیس دھوتا۔ اسے کھلاتا۔ باہر سیر کے لیے لے جاتا۔ کہانیاں سناتا۔ ورزش کراتا مگربہادر کو ان چیزوں سے کوئی رغبت نہ تھی۔ وہ ہمیشہ اداس رہتا۔ نہال سنگھ نے سوچا اتنی دیر اپنی پھوپھی کے پاس جو رہا ہے۔ اس لیے اداس ہے۔ چنانچہ پھر اس کو اپنی بہن کے پاس بھیج دیا اور خود فوج میں بھرتی ہو کر لام پر چلا گیا۔ چار برس اور گزر گئے۔ لڑائی بند ہوئی اور نہال سنگھ جب واپس آیا تو وہ پچاس برس کے بجائے ساٹھ باسٹھ برس کا لگتا تھا۔ اس لیے اس نے جاپانیوں کی قید میں ایسے دکھ جھیلے تھے کہ سن کر آدمی کے رونگٹے کھڑے ہوتے تھے۔ اب بہادر کی عمر نہال سنگھ کے حساب کے مطابق سولہ کے لگ بھگ تھی مگر وہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا چار برس پہلے تھا۔ دبلا پتلا۔ لیکن خوبصورت۔ نہال سنگھ نے سوچا کہ اس کی بہن نے بہادر کی پرورش دل سے نہیں کی۔ اپنی چار لڑکیوں کا دھیان رکھا جو بچھیریوں کی طرح ہر وقت آنگن میں کڈکڑے لگاتی رہتی ہیں۔ چنانچہ جھگڑا ہوا اور وہ بہادر کو وہاں سے اپنے گاؤں لے گیا۔ لام پر جانے سے اس کے کھیت کھلیان اور گھر بار کا ستیاناس ہو گیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے نہال سنگھ نے ادھر دھیان دیا اور بہت ہی تھوڑے عرصہ میں سب ٹھیک ٹھاک کرلیا اس کے بعد اس نے بہادر کی طرف توجہ دی۔ اس کے لیے ایک بھوری بھینس خریدی۔ مگر نہال سنگھ کو اس بات کا دکھ ہی رہا کہ بہادر کو دودھ، دہی اور مکھن سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جانے کیسی اوٹ پٹانگ چیزیں اسے بھاتی تھیں۔ کئی دفعہ نہال سنگھ کو غصہ آیا مگر وہ پی گیا۔ اس لیے کہ اسے اپنے لڑکے سے بے انتہا محبت تھی۔ حالانکہ بہادر کی پرورش زیادہ تر اس کی پھوپھی نے کی تھی مگر اس کی بگڑی ہوئی عادتیں دیکھ کر لوگ یہی کہتے تھے کہ نہال سنگھ کے لاڈ پیار نے اسے خراب کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہم عمر نوجوانوں کی طرح محنت مشقت نہیں کرتا۔ گو نہال سنگھ کی ہرگز خواہش نہیں تھی کہ اس کا لڑکا مزدوروں کی طرح کھیتوں میں کام کرے اور صبح سے لے کر دن ڈھلنے تک ہل چلائے۔ واہگوروجی کی کرپا سے اس کے پاس بہت کچھ تھا۔ زمینیں تھیں۔ جن سے کافی آمدن ہو جاتی تھی۔ سرکار سے جو اب پنشن مل رہی تھی۔ وہ الگ تھی۔ لیکن پھر بھی اس کی خواہش تھی۔ دلی خواہش تھی کہ بہادر کچھ کرے۔ کیا؟ یہ نہال سنگھ نہیں بتا سکتا تھا۔ چنانچہ کئی بار اس نے سوچا کہ وہ بہادر سے کیا چاہتا ہے۔ مگر ہر بار بجائے اس کے کہ اسے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملتا۔ اس کی بیتی ہوئی جوانی کے دن ایک ایک کرکے اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگتے اور وہ بہادر کو بھول کر اس گزرے ہوئے زمانے کی یادوں میں کھو جاتا۔ لام سے آئے نہال سنگھ کو دو برس ہو چلے تھے۔ بہادر کی عمر اب اٹھارہ کے لگ بھگ تھی۔ اٹھارہ برس کا مطلب یہ ہے کہ بھرپور جوانی۔ نہال سنگھ جب یہ سوچتا تو جھنجھلا جاتا۔ چنانچہ ایسے وقتوں میں کئی دفعہ اس نے اپنا سر جھٹک کر بہادر کو ڈانٹا۔

’’نام تیرا میں نے بہادر رکھا ہے۔ کبھی بہادری تو دکھا۔ ‘‘

اور بہادر ہونٹ چوس کر مسکرا دیتا۔ نہال سنگھ نے ایک دفعہ سوچا کہ بہادر کی شادی کردے۔ چنانچہ اس نے اِدھر اُدھر کئی لڑکیاں دیکھیں۔ اپنے دوستوں سے بات چیت بھی کی۔ مگر جب اسے جوانی یاد آئی تو اس نے فیصلہ کرلیا کہ نہیں، بہادر میری طرح اپنی شادی آپ کرے گا۔ کب کرے گا۔ یہ اس کو معلوم نہیں تھا۔ اس لیے کہ بہادر میں ابھی تک اس نے وہ چمک نہیں دیکھی تھی۔ جس سے وہ اندازہ لگاتا کہ اس کی جوانی کس مرحلے میں ہے۔ لیکن بہادر خوبصورت تھا۔ سندر جاٹ نہیں تھا۔ لیکن سندر ضرور تھا۔ بڑی بڑی کالی آنکھیں، پتلے پتلے لال ہونٹ، ستواں ناک، پتلی کمر۔ کالے بھونرا ایسے کیس مگر بال بہت ہی مہین۔ گاؤں کی جوان لڑکیاں دور سے اسے گھور گھور کے دیکھتیں۔ آپس میں کانا پھوسی کرتیں مگر وہ ان کی طرف دھیان نہ دیتا۔ بہت سوچ بچار کے بعد نہال سنگھ اس نتیجے پر پہنچا۔ شاید بہادر کو یہ تمام لڑکیاں پسند نہیں اور یہ خیال آتے ہی اس کی آنکھوں کے سامنے ہرنام کور کی تصویر آگئی۔ بہت دیر تک وہ اسے دیکھتا رہا۔ اس کے بعد اس کو ہٹا کر اس نے گاؤں کی لڑکیاں لیں۔ ایک ایک کرکے وہ ان تمام کو اپنی آنکھوں کے سامنے لایا مگر ہر نام کور کے مقابلے میں کوئی بھی پوری نہ اتری۔ نہال سنگھ کی آنکھیں تمتما اٹھیں۔

’’بہادر میرا بیٹا ہے۔ ایسی ویسیوں کی طرف تو وہ آنکھ اٹھا بھی نہیں دیکھے گا۔ ‘‘

دن گزرتے گئے۔ بیریوں کے بیر کئی دفعہ پکے۔ مکئی کے بوٹے کھیتوں میں کئی دفعہ نہال سنگھ کے قد کے برابر جوان ہوئے۔ کئی ساون آئے مگر بہادر کی یاری کسی کے ساتھ نہ لگی اور نہال سنگھ کی الجھن پھر بڑھنے لگی۔ تھک ہار کر نہال سنگھ دل میں ایک آخری فیصلہ کرکے بہادر کی شادی کے متعلق سوچ ہی رہا تھا کہ ایک گڑ بڑ شروع ہو گئی۔ بھانت بھانت کی خبریں گاؤں میں دوڑنے لگیں۔ کوئی کہتا انگریز جارہا ہے۔ کوئی کہتا روسیوں کا راج آنے والا ہے۔ ایک خبر لاتا کانگرس جیت گئی ہے۔ دوسرا کہتا نہیں ریڈیو میں آیا ہے کہ ملک بٹ جائے گا۔ جتنے منہ، اتنی باتیں۔ نہال سنگھ کا تو دماغ چکرا گیا۔ اسے ان خبروں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ سچ پوچھئے تو اسے اس جنگ سے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جس میں وہ پورے چار برس شامل رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ آرام سے بہادر کی شادی ہو جائے اور گھرمیں اس کی بہو آجائے۔ لیکن ایک دم جانے کیا ہوا۔ خبر آئی کہ ملک بٹ گیا ہے۔ ہندو مسلمان الگ الگ ہو گئے ہیں بس پھر کیا تھا چاروں طرف بھگدڑ سی مچ گئی۔ چل چلاؤ شروع ہو گیا اور پھر سننے میں آیا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارے جارہے ہیں۔ سینکڑوں لڑکیاں اغواء کی جارہی ہیں۔ لاکھوں کا مال لوٹا جارہا ہے۔ کچھ دن گزر گئے تو پکی سڑک پر قافلوں کا آنا جانا شروع ہوا۔ گاؤں والوں کو جب معلوم ہوا تو میلے کا سماں پیدا ہو گیا۔ لوگ سو سو، دو دو سو کی ٹولیاں بنا کر جاتے۔ جب لوٹتے تو ان کے ساتھ کئی چیزیں ہوتیں۔ گائے، بھینس، بکریاں، گھوڑے، ٹرنک، بستر اور جوان لڑکیاں۔ کئی دنوں سے یہ سلسلہ جاری تھا۔ گاؤں کا ہر جوان کوئی نہ کوئی کارنامہ دکھا چکا تھا حتیٰ کہ کھیا کا ناٹا اور کبڑا لڑکا دریام سنگھ بھی۔ اس کی پیٹھ پر بڑا کوہان تھا۔ ٹانگیں ٹیڑھی تھیں، مگر یہ بھی چار روز ہوئے پکی سڑک پر سے گزرنے والے ایک قافلے پر حملہ کرکے ایک جوان لڑکی اٹھا لایا تھا۔ نہال سنگھ نے اس لڑکی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ خوبصورت تھی۔ بہت ہی خوبصورت تھی۔ لیکن نہال سنگھ نے سوچا کہ ہرنام کور جتنی خوبصورت نہیں ہے۔ گاؤں میں کئی دنوں سے خوب چہل پہل تھی۔ چاروں طرف جوان شراب کے نشے میں دھت بولیاں گاتے پھرتے تھے۔ کوئی لڑکی بھاگ نکلتی تو سب اس کے پیچھے شور مچاتے دوڑتے کبھی لوٹے ہوئے مال پر جھگڑا ہو جاتا تو نوبت مرنے مارنے پر آجاتی۔ چیخ و پکار تو ہرگھڑی سنائی دیتی تھی۔ غرضیکہ بڑا مزیدار ہنگامہ تھا۔ لیکن بہادر خاموش گھر میں بیٹھا رہتا۔ شروع شروع میں تو نہال سنگھ بہادر کی اس خاموشی کے متعلق بالکل غافل رہا۔ لیکن جب ہنگامہ اور زیادہ بڑھ گیا اور لوگوں نے مذاقیہ لہجے میں اس سے کہنا شروع کیا

’’کیوں سردار نہال سیاں، تیرے بہادر نے سنا ہے بڑی بہادریاں دکھائی ہیں؟‘‘

تو وہ پانی پانی ہو گیا۔ چوپال پر ایک شام کو یرقان کے مارے ہوئے حلوائی بشیشر نے دون کی پھینکی اور نہال سنگھ سے کہا۔

’’دو تو میرا گنڈا سنگھ لایا ہے۔ ایک میں لایا ہوں بند بوتل، اور یہ کہتے ہوئے بشیشر نے زبان سے پٹاخے کی آواز پیدا کی جیسے بوتل میں سے کاگ اڑتا ہے۔

’’نصیبوں والا ہی کھولتا ہے ایسی بند بوتلیں سردار نہال سیاں۔ ‘‘

نہال سنگھ کا جی جل گیا۔ کیا تھا بشیشر اور کیا تھا گنڈا سنگھ؟ ایک یرقان کا مارا ہوا، دوسرا تپ دق کا۔ مگر جب نہال سنگھ نے ٹھنڈے دل سے سوچا تو اس کو بہت دکھ ہوا۔ کیونکہ جو کچھ بشیشر نے کہا حقیقت تھی۔ بشیشر اور اس کا لڑکا گنڈا سنگھ کیسے بھی تھے۔ مگر تین جوان لڑکیاں، ان کے گھر میں واقعی موجود تھیں اور چونکہ بشیشر کا گھر اس کے پڑوس میں تھا۔ اس لیے کئی دنوں سے نہال سنگھ ان تینوں لڑکیاں کے مسلسل رونے کی آواز سن رہا تھا۔ گوردوارے کے پاس ایک روز دو جواں باتیں کررہے تھے اور ہنس رہے تھے۔

’’نہال سنگھ کے بارے میں تو بڑی باتیں مشہور ہیں۔ ‘‘

’’ارے چھوڑ۔ بہادر تو چوڑیاں پہن کر گھر میں بیٹھا ہے۔ ‘‘

نہال سنگھ سے اب نہ رہا گیا۔ گھر پہنچ کر اس نے بہادر کو بہت غیرت دلائی اور کہا۔

’’تو نے سنا لوگ کیا کہتے پھرتے ہیں۔ چوڑیاں پہن کر گھر میں بیٹھا ہے تو۔ قسم واہگوروجی کی، تیری عمر کا تھا توسینکڑوں لڑکیاں میری ان ٹانگوں۔ ‘‘

نہال سنگھ ایک دم خاموش ہو گیا۔ کیونکہ شرم کے مارے بہادر کا چہرہ لال ہو گیا تھا۔ باہر نکل کر وہ دیر تک سوچتا چلا گیا اور سوچتا سوچتا کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گیا۔ اس کی ادھیڑ مگر تیز آنکھوں کے سامنے وہ کُھلا میدان تھا۔ جس پر برنٹوں سے لے کر کبڈی تک تمام کھیل کھیل چکا تھا۔ بہت دیر تک نہال سنگھ اس نتیجے پر پہنچا کہ بہادر شرمیلا ہے اور یہ شرمیلا پن اس میں غلط پرورش کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ اس نے دل ہی دل میں اپنی بہن کو بہت گالیاں دیں اور فیصلہ کیا کہ بہادر کے شرمیلے پن کو کسی نہ کسی طرح توڑا جائے اور اس کے لیے نہال سنگھ کے ذہن میں ایک ہی ترکیب آئی۔ خبر آئی کہ رات کو کچی سڑک پر سے ایک قافلہ گزرنے والا ہے۔ اندھیری رات تھی۔ جب گاؤں سے ایک ٹولی اس قافلے پر حملہ کرنے کیلیے نکلی تو نہال سنگھ بھی ٹھا ٹھا باندھ کر ان کے ساتھ ہولیا۔ حملہ ہوا۔ قافلے والے نہتے تھے۔ پھر بھی تھوڑی سی جھپٹ ہوئی۔ لیکن فوراً ہی قافلے والے اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ حملہ کرنیوالی ٹولی نے اس افراتفری سے فائدہ اٹھایا اور لوٹ مار شروع کردی۔ لیکن نہال سنگھ کو مال و دولت کی خواہش نہیں تھی۔ وہ کسی اور ہی چیز کی تاک میں تھا۔ سخت اندھیرا تھا گو گاؤں والوں نے مشعلیں روشن کی تھیں مگر بھاگ دوڑ اور لوٹ کھسوٹ میں بہت سی بجھ گئی تھیں۔ نہال سنگھ نے اندھیرے میں کئی عورتوں کے سائے دوڑتے دیکھے مگر فیصلہ نہ کرسکا کہ ان میں سے کس پر ہاتھ ڈالے۔ جب کافی دیر ہو گئی اور لوگوں کی چیخ و پکار مدھم پڑنے لگی تو نہال سنگھ نے بے چینی کے عالم میں ادھر ادھر دوڑنا شروع کیا۔ ایک دم تیزی سے ایک سایہ بغل میں گٹھڑی دبائے اس کے سامنے سے گزرا۔ نہال سنگھ نے اس کا تعاقب کیا۔ جب پاس پہنچا تو اس نے دیکھا کہ لڑکی ہے اور جوان۔ نہال سنگھ نے فوراً اپنے گاڑھے کی چادر نکالی اور اس پر جال کی طرح پھینکی۔ وہ پھنس گئی۔ نہال سنگھ نے اسے کاندھوں پر اٹھا لیا اور ایک ایسے راستے سے گھر کا رخ کیا کہ اسے کوئی دیکھ نہ لے۔ مگر گھر پہنچاتو بتی گُل تھی۔ بہادر اندر کوٹھری میں سو رہا تھا۔ نہال سنگھ نے اسے جگانا مناسب خیال نہ کیا۔ کواڑ کھولا۔ چادر میں سے لڑکی نکال کر اندر دھکیل، باہر سے کنڈی چڑھا دی۔ پھر زور زور سے کواڑ پیٹے۔ تاکہ بہادر جاگ پڑے۔ جب نہال سنگھ نے مکان کے باہر کھٹیا بچھائی۔ اور بہادر اور اس لڑکی کی مڈبھیڑ کی کپکپاہٹ پیدا کرنے والی باتیں سوچنے کیلیے لیٹنے لگا تو اس نے دیکھا کہ بہادر کی کوٹھڑی کے روشن دانوں میں دیے کی روشنی ٹمٹما رہی ہے۔ نہال سنگھ اچھل پڑا۔ اور ایک لحظے کیلیے محسوس کیا کہ وہ جوان ہے۔ کماد کے کھیتوں میں مٹیاروں کو کلائی سے پکڑنے والا نوجوان۔ ساری رات نہال سنگھ جاگتا رہا اور طرح طرح کی باتیں سوچتا رہا۔ صبح جب مُرغ بولنے لگے تو وہ اٹھ کر کوٹھڑی میں جانے لگا۔ مگر ڈیوڑھی سے لوٹ آیا۔ اس نے سوچا کہ دونوں تھک کر سو چکے ہوں گے اور ہوسکتا ہے۔ نہال سنگھ کے بدن پر جھرجھری سی دوڑ گئی اور وہ کھاٹ پر بیٹھ کر مونچھوں کے بال منہ میں ڈال کر چوسنے اور مسکرانے لگا۔ جب دن چڑھ گیا اور دھوپ نکل آئی تو اس نے اندرجا کر کنڈی کھولی۔ سٹرپٹر کی آوازیں سی آئیں۔ کواڑ کھولے تو اس نے دیکھا کہ لڑکی چارپائی پر کیسری دوپٹہ اوڑھے بیٹھی ہے۔ پیٹھ اس کی طرف تھی۔ جس پر یہ موٹی کالی چٹیا سانپ کی طرح لٹک رہی تھی۔ جب نہال سنگھ نے کوٹھڑی کے اندر قدم رکھا تو لڑکی نے پاؤں اوپر اٹھا لیے اور سمٹ کربیٹھ گئی۔ طاق میں دیا ابھی تک جل رہا تھا۔ نہال سنگھ نے پھونک مار کر اسے بجھایا اور دفعتہً اسے بہادر کا خیال آیا۔ بہادر کہاں ہے؟۔ اس نے کوٹھڑی میں اِدھر اُدھر نظر دوڑائی مگر وہ کہیں نظر نہ آیا۔ دوقدم آگے بڑھ کر اس نے لڑکی سے پوچھا۔

’’بہادر کہاں ہے؟‘‘

لڑکی نے کوئی جواب نہ دیا۔ ایک دم سٹرپٹرسی ہوئی اور چارپائی کے نیچے سے ایک اور لڑکی نکلی۔ نہال سنگھ ہکّا بکّا رہ گیا۔ لیکن اس نے دیکھا۔ اس کی حیرت زدہ آنکھوں نے دیکھا کہ جو لڑکی چارپائی سے نکل کربجلی کی سی تیزی کے ساتھ باہر دوڑ گئی تھی۔ اس کے داڑھی تھی، منڈی ہوئی داڑھی۔ نہال سنگھ چارپائی کی طرف بڑھا لڑکی جو کہ اس پر بیٹھی تھی اور زیادہ سمٹ گئی مگر نہال سنگھ نے ہاتھ کے ایک جھٹکے سے اس کا منہ اپنی طرف کیا۔ ایک چیخ نہال سنگھ کے حلق سے نکلی اور دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔

’’ہرنام کور!‘‘

زنانہ لباس، سیدھی مانگ، کالی چٹیا۔ اور بہادر ہونٹ بھی چوس رہا تھا۔

سعادت حسن منٹو

ہتک

دن بھر کی تھکی ماندی وہ ابھی ابھی اپنے بستر پر لیٹی تھی اور لیٹتے ہی سو گئی۔ میونسپل کمیٹی کا داروغہ صفائی، جسے وہ سیٹھ جی کے نام سے پکارا کرتی تھی۔ ابھی ابھی اس کی ہڈیاں پسلیاں جھنجھوڑ کر شراب کے نشے میں چُور، گھر واپس گیا تھا۔ وہ رات کو یہیں پر ٹھہر جاتا مگر اسے اپنی دھرم پتنی کا بہت خیال تھا۔ جو اس سے بے حد پریم کرتی تھی۔ وہ روپے جو اس نے اپنی جسمانی مشقت کے بدلے اس داروغہ سے وصول کیے تھے، اس کی چست اور تھوک بھری چولی کے نیچے سے اوپر کو ابھرے ہوئے تھے۔ کبھی کبھی سانس کے اتار چڑھاؤ سے چاندی کے یہ سکے کھنکھنانے لگتے۔ اور اس کی کھنکھناہٹ اس کے دل کی غیر آہنگ دھڑکنوں میں گھل مل جاتی۔ ایسا معلوم ہوتا کہ ان سکّوں کی چاندی پگھل کر اس کے دل کے خون میں ٹپک رہی ہے! اس کا سینہ اندر سے تپ رہا تھا۔ یہ گرمی کچھ تو اس برانڈی کے باعث تھی جس کا ادّھا داروغہ اپنے ساتھ لایا تھا۔ اور کچھ اس

’’بیوڑا‘‘

کا نتیجہ تھی جس کا سوڈا ختم ہونے پر دونوں نے پانی ملا کر پیا تھا۔ وہ ساگوان کے لمبے اور چوڑے پلنگ پر اوندھے منہ لیٹی تھی۔ اس کی باہیں جو کاندھوں تک ننگی تھیں، پتنگ کی اس کانپ کی طرح پھیلی ہوئی تھیں جو اوس میں بھیگ جانے کے باعث پتلے کاغذ سے جدا ہو جائے۔ دائیں بازو کی بغل میں شکن آلود گوشت ابھرا ہوا تھا۔ جو بار بار مونڈنے کے باعث نیلی رنگت اختیار کرگیا تھا۔ جیسے نُچی ہوئی مرغی کی کھال کا ایک ٹکڑا وہاں پر رکھ دیا گیا ہے۔ کمرہ بہت چھوٹا تھا جس میں بے شمار چیزیں بے ترتیبی کے ساتھ بکھری ہوئی تھیں۔ تین چار سوکھے سڑے چپل پلنگ کے نیچے پڑے تھے جن کے اوپر منہ رکھ کر ایک خارش زدہ کتا سورہا تھا۔ اور نیند میں کسی غیر مرئی چیز کا منہ چڑا رہا تھا۔ اس کتے کے بال جگہ جگہ سے خارش کے باعث اڑے ہوئے تھے۔ دور سے اگرکوئی اس کتے کو دیکھتا۔ تو سمجھتا کہ پیر پونچھنے والا پرانا ٹاٹ دوہرا کرکے زمین پررکھا ہے۔ اس طرف چھوٹے سے دیوار گیر پرسنگار کا سامان رکھا تھا۔ گالوں پر لگانے کی سرخی، ہونٹوں کی سرخ بتی، پاؤڈر، کنگھی اور لوہے کے پِن جو وہ غالباً اپنے جوڑے میں لگایا کرتی تھی۔ پاس ہی ایک لمبی کھونٹی کے ساتھ سبز طوطے کا پنجرہ لٹک رہا تھا۔ جو گردن کو اپنی پیٹھ کے بالوں میں چھپائے سو رہا تھا۔ پنجرہ کچے امرود کے ٹکڑوں اور گلے ہوئے سنگترے کے چھلکوں سے بھرا پڑا تھا۔ ان بدبودار ٹکڑوں پر چھوٹے چھوٹے کالے رنگ کے مچھر یا پتنگ اڑ رہے تھے۔ پلنگ کے پاس ہی بید کی ایک کرسی پڑی تھی۔ جس کی پشت سر ٹیکنے کے باعث بے حد میلی ہورہی تھی۔ اس کرسی کے دائیں ہاتھ کو ایک خوبصورت تپائی تھی جس پر ہِز ماسٹر زوائس کا پورٹ ایبل گرامو فون پڑا تھا، اس گراموفون پر منڈھے ہوئے کالے کپڑے کی بہت بُری حالت تھی۔ زنگ آلود سوئیاں تپائی کے علاوہ کمرے کے ہر کونے میں بکھری ہوئی تھیں۔ اس تپائی کے عین اوپر دیوار پر چار فریم لٹک رہے تھے۔ جن میں مختلف آدمیوں کی تصویریں جڑی تھیں۔ ان تصویروں سے ذرا ہٹ کر یعنی دروازے میں داخل ہوتے ہی بائیں طرف کی دیوار کے کونے میں گنیش جی کی شوخ رنگ کی تصویر جو تازہ اور سوکھے ہوئے پھولوں سے لدی ہوئی تھی۔ شاید یہ تصویر کپڑے کے کسی تھان سے اتار کر فریم میں جڑائی گئی تھی۔ اس تصویر کے ساتھ چھوٹے سے دیوار گیر پر جو کہ بے حد چکنا ہورہا تھا، تیل کی ایک پیالی دھری تھی۔ جو دِیے کو روشن کرنے کے لیے رکھی گئی تھی۔ پاس ہی دِیا پڑا تھا۔ جس کی لَو ہوا بند ہونے کے باعث ماتھے کے مانند سیدھی کھڑی تھی۔ اس دیوار گیر پر روئی کی چھوٹی بڑی مروڑیاں بھی پڑی تھیں۔ جب وہ بوہنی کرتی تھی تو دور سے گنیش جی کی اس مورتی سے روپے چھوا کر اور پھر اپنے ماتھے کے ساتھ لگا کر انھیں اپنی چولی میں رکھ لیا کرتی تھی۔ اس کی چھاتیاں چونکہ کافی ابھری ہوئی تھیں اس لیے وہ جتنے روپے بھی اپنی چولی میں رکھتی محفوظ پڑے رہتے تھے۔ البتہ کبھی کبھی جب مادھو پونے سے چھٹی لے کر آتا تو اسے اپنے کچھ روپے پلنگ کے پائے کے نیچے اس چھوٹے سے گڑھے میں چھپانا پڑتے تھے۔ جو اس نے خاص اس کام کی غرض سے کھودا تھا۔ مادھو سے روپے محفوظ رکھنے کا یہ طریقہ سو گندھی کورام لال دلال نے بتایا تھا۔ اس نے جب یہ سنا کہ مادھو پونے سے آکر سو گندھی پر دھاوے بولتا ہے تو کہا تھا۔

’’اس سالے کو تو نے کب سے یار بنایا ہے؟۔ یہ بڑی انوکھی عاشقی معشوقی ہے۔ ‘‘

’’ایک پیسہ اپنی جیب سے نکالتا نہیں اور تیرے ساتھ مزے اڑاتا رہتا ہے، مزے الگ رہے، تجھ سے کچھ لے بھی مرتا ہے۔ سوگندھی! مجھے کچھ دال میں کالا نظر آتا ہے۔ اس سالے میں کچھ بات ضرور ہے۔ جو تجھے بھا گیا ہے۔ سات سال۔ سے یہ دھندا کررہا ہوں۔ تم چھوکریوں کی ساری کمزوریاں جانتا ہوں۔ ‘‘

یہ کہہ کر رام لال دلال نے جو بمبئی شہر کے مختلف حصوں سے دس روپے سے لے کرسو روپے تک والی ایک سو بیس چھوکریوں کا دھندا کرتا تھا۔ سوگندھی کو بتایا۔

’’سالی اپنا دھن یوں نہ برباد کر۔ تیرے انگ پر سے یہ کپڑا بھی اتار کر لے جائے گا۔ وہ تیری ماں کا یار۔ اس پلنگ کے پائے کے نیچے چھوٹا سا گڑھا کھود کر اس میں سارے پیسے دبا دیا کر اور جب وہ یار آیا کرے تو اس سے کہا۔ تیری جان کی قسم مادھو، آج صبح سے ایک دھیلے کا منہ نہیں دیکھا۔ باہر والے سے کہہ کر ایک کپ چائے اور افلاطون بسکٹ تو منگا۔ بھوک سے میرے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔ سمجھیں! بہت نازک وقت آگیا ہے میری جان۔ اس سالی کانگرس نے شراب بند کرکے بازار بالکل مندا کردیا ہے۔ پر تجھے تو کہیں نہ کہیں سے پینے کو مل ہی جاتی ہے، بھگوان کی قسم، جب تیرے یہاں کبھی رات کی خالی کی ہوئی بوتل دیکھتا ہوں اور دارو کی باس سونگھتا ہوں تو جی چاہتا ہے تیری جون میں چلا جاؤں۔ ‘‘

سو گندھی کو اپنے جسم میں سب سے زیادہ اپنا سینہ پسند تھا۔ ایک بار جمنا نے اس سے کہا تھا۔

’’نیچے سے ان بمب کے گولوں کو باندھ کے رکھا کر، انگیا پہنے گی تو ان کی سختائی ٹھیک رہے گی۔ ‘‘

سو گندھی یہ سن کر ہنس دی۔

’’جمنا تو سب کو اپنے مری کا سمجھتی ہے۔ دس روپے میں لوگ تیری بوٹیاں توڑ کر چلے جاتے ہیں۔ تُو تو سمجھتی ہے کہ سب کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہو گا۔ کوئی موا لگائے تو ایسی ویسی جگہ ہاتھ۔ ارے ہاں، کل کی بات تجھے سناؤں رام لال رات کے دوبجے ایک پنجابی کو لایا۔ رات کا تیس روپے طے ہوا۔ جب سونے لگے تو میں نے بتی بجھا دی۔ ارے وہ تو ڈرنے لگا۔ سنتی ہو جمنا؟ تیری قسم اندھیرا ہوتے ہی اس کا سارا ٹھاٹھ کرکرا ہو گیا!۔ وہ ڈرگیا! میں نے کہا چلو چلو دیر کیوں کرتے ہو۔ تین بجنے والے ہیں، اب دن چڑھ آئے گا۔ بولا۔ روشنی کرو۔ روشنی کرو۔ میں نے کہا، یہ روشنی کیا ہوا۔ بولا لائٹ۔ لائٹ!۔ اس کی بھینچی ہوئی آواز سن کر مجھ سے ہنسی نہ رکی۔

’’بھئی میں تو لائٹ نہ کروں گی!‘‘

۔ اور یہ کہہ کر میں نے اس کی گوشت بھری ران کی چٹکی لی۔ تڑپ کر اٹھ بیٹھا اور لائٹ اون کردی میں نے جھٹ سے چادر اوڑھ لی، اور کہا، تجھے شرم نہیں آتی مردوے!‘‘

۔ وہ پلنگ پر آیا تو میں اٹھی اور لپک کر لائٹ بجھا دی!۔ وہ پھر گھبرانے لگا۔ تیری قسم بڑے مزے میں رات کٹی، کبھی اندھیرا کبھی اجالا، کبھی اجالا، کبھی اندھیرا۔ ٹرام کی کھڑکھڑ ہوئی تو پتلون و تلون پہن کر وہ اٹھ بھاگا۔ سالے نے تیس روپے سٹے میں جیتے ہوں گے۔ جو یوں مفت دے گیا۔ جمنا تو بالکل الھڑ ہے۔ بڑے بڑے گُر یاد ہیں مجھے ان لوگوں کے ٹھیک کرنے کے لیے!‘‘

سو گندھی کو واقعی بہت سے گر یاد تھے جو اس نے اپنی ایک دو سہیلیوں کو بتائے بھی تھے۔ عام طور پر وہ یہ گرسب کو بتایا کرتی تھی۔

’’اگر آدمی شریف ہو، زیادہ باتیں نہ کرنے والا ہو تو اس سے خوب شرارتیں کرو، ان گنت باتیں کرو۔ اسے چھیڑو ستاؤ، اس کے گدگدی کرو۔ اس سے کھیلو۔ اگر داڑھی رکھتا ہو تو اس میں انگلیوں سے کنگھی کرتے کرتے دو چار بال بھی نوچ لو پیٹ بڑا ہو تو تھپتھپاؤ۔ اس کو اتنی مہلت ہی نہ دو کہ اپنی مرضی کے مطابق کچھ کرنے پائے۔ وہ خوش خوش چلا جائے گا اور رقم بھی بچی رہے گی۔ ایسے مرد جو گُپ چُپ رہتے ہیں بڑے خطرناک ہوتے ہیں بہن۔ ہڈی پسلی توڑ دیتے ہیں اگر ان کا داؤ چل جائے۔ سوگندھی اتنی چالاک نہیں تھی جتنی خود کو ظاہرکرتی تھی۔ اس کے گاہک بہت کم تھے غایت درجہ جذباتی لڑکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام گر جو اسے یاد تھے اس کے دماغ سے پھسل کر اس کے پیٹ میں آجاتے تھے جس پر ایک بچہ پیدا کرنے کے باعث کئی لکیریں پڑ گئی تھیں۔ ان لکیروں کو پہلی مرتبہ دیکھ کر اسے ایسا لگا تھا کہ اس کے خارش زدہ کتے نے اپنے پنجے سے یہ نشان بنا دیے ہیں۔ سوگندھی دماغ میں زیادہ رہتی تھی لیکن جونہی کوئی نرم نازک بات۔ کوئی کومل بولی۔ اس سے کہتا تو جھٹ پگھل کر وہ اپنے جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل جاتی۔ گو مرد اور عورت کے جسمانی ملاپ کو اس کا دماغ بالکل فضول سمجھتا تھا۔ مگر اس کے جسم کے باقی اعضاء سب کے سب اس کے بہت بری طرح قائل تھے! وہ تھکن چاہتے تھے۔ ایسی تھکن جو انھیں جھنجھوڑ کر۔ اسے مارکر سلانے پر مجبور کردے!ایسی نیند جو تھک کر چور چور ہو جانے کے بعد آئے، کتنی مزیدار ہوتی ہے۔ وہ بے ہوشی جو مار کھا کر بند بند ڈھیلے ہو جانے پر طاری ہوتی ہے، کتنا آنند دیتی ہے!۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تم ہو اور کبھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نہیں اور اس ہونے اور نہ ہونے کے بیچ میں کبھی کبھی ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ تم ہوا میں بہت اونچی جگہ لٹکی ہوئی ہو۔ اوپر ہوا، نیچے ہوا، دائیں ہوا، بائیں ہوا، بس ہوا ہی ہوا ! اور پھر اس ہوا میں دم گھٹنا بھی ایک خاص مزا دیتا ہے۔ بچپن میں جب وہ آنکھ مچولی کھیلا کرتی تھی، اور اپنی ماں کا بڑا صندوق کھول کر اس میں چھپ جایا کرتی تھی، تو ناکافی ہوا میں دم گھٹنے کے ساتھ ساتھ پکڑے جانے کے خوف سے وہ تیز دھڑکن جو اس کے دل میں پیدا ہوجایا کرتی تھی کتنا مزا یاد کرتی تھی۔ سوگندھی چاہتی تھی کہ اپنی ساری زندگی کسی ایسے ہی صندوق میں چھپ کر گزار دے۔ جس کے باہر ڈھونڈنے والے پھرتے رہیں۔ کبھی کبھی اس کو ڈھونڈ نکالیں تاکہ وہ کبھی ان کو ڈھونڈنے کی کوشش کرے! یہ زندگی جو وہ پانچ برس سے گزاررہی تھی آنکھ مچولی ہی تو تھی!۔ کبھی وہ کسی کو ڈھونڈ لیتی تھی اور کبھی کوئی اسے ڈھونڈ لیتا تھا۔ بس یونہی اس کا جیون بیت رہا تھا۔ وہ خوش تھی اس لیے کہ اس کو خوش رہنا پڑتا تھا۔ ہر روز رات کو کوئی نہ کوئی مرد اس کے چوڑے ساگوانی پلنگ پر ہوتا تھا اور سوگندھی جس کو مردوں کے ٹھیک کرنے کے لیے بے شمار گُر یاد تھے۔ اس بات کا بار بار تہیہ کرنے پر بھی کہ وہ ان مردوں کی کوئی ایسی ویسی بات نہیں مانے گی۔ اور ان کے ساتھ بڑے روکھے پن کے ساتھ پیش آئے گی۔ ہمیشہ اپنے جذبات کے دھارے میں بہہ جایا کرتی تھی اور فقط ایک پیاسی عورت رہ جایا کرتی تھی! ہرروز رات کو اس کا پرانا یا نیا ملاقاتی اس سے کہا کرتا تھا۔

’’سوگندھی میں تجھ سے پریم کرتا ہوں۔ ‘‘

اور سوگندھی یہ جان بوجھ کر بھی کہ وہ جھوٹ بولتا ہے بس موم ہو جاتی تھی اور ایسا محسوس کرتی تھی جیسے سچ مچ اس سے پریم کیا جارہا ہے۔ پریم۔ کتنا سندر بول ہے! وہ چاہتی تھی، اس کو پگھلا کر اپنے سارے انگوں پر مل لے اس کی مالش کرے تاکہ یہ سارے کا سارا اس کے مساموں میں رچ جائے۔ یا پھر وہ خود اس کے اندر چلی جائے۔ سمٹ سمٹا کر اس کے اندر داخل ہو جائے اور اوپر سے ڈھکنا بند کردے۔ کبھی کبھی جب پریم کیے جانے کا جذبہ اُس کے اندر بہت شدت اختیار کرلیتا تو کئی بار اس کے جی میں آتا کہ اپنے پاس پڑے ہوئے آدمی کو گود ہی میں لے کر تھپتھپانا شروع کردے اور لوریاں دے کر اسے گود ہی میں سلا دے۔ پریم کر سکنے کی اہلیت اس کے اندر اس قدر زیادہ تھی کہ ہر اس مرد سے جو اس کے پاس آتا تھا۔ وہ محبت کرسکتی تھی۔ اور پھر اس کو نباہ بھی سکتی تھی۔ اب تک چار مردوں سے اپنا پریم نباہ ہی تو رہی تھی جن کی تصویریں اس کے سامنے دیوار پرلٹک رہی تھیں۔ ہروقت یہ احساس اس کے دل میں موجود رہتا تھا کہ وہ بہت اچھی ہے لیکن یہ اچھا پن مردوں میں کیوں نہیں ہوتا۔ یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ ایک بار آئینہ دیکھتے ہوئے بے اختیار اس کے منہ سے نکل گیا تھا۔

’’سو گندھی۔ تجھ سے زمانے نے اچھا سلوک نہیں کیا!‘‘

یہ زمانہ یعنی پانچ برسوں کے دن اور ان کی راتیں، اس کے جیون کے ہر تار کے ساتھ وابستہ تھا۔ گو اس زمانے سے اُس کو خوشی نصیب نہیں ہوئی تھی جس کی خواہش اس کے دل میں موجود تھی۔ تاہم وہ چاہتی تھی کہ یونہی اس کے دن بیتتے چلے جائیں، اسے کون سے محل کھڑے کرنا تھے جو روپے پیسے کا لالچ کرتی۔ دس روپے اس کا عام نرخ تھا جس میں سے ڈھائی روپے رام لال اپنی دلالی کے کاٹ لیتا تھا۔ ساڑے سات روپے اسے روز مل ہی جایا کرتے تھے جو اس کی اکیلی جان کے لیے کافی تھے۔ اور مادھو جب پونے سے بقول رام لال دلال، سوگندھی پر دھاوے بولنے کے لیے آتا تھا تو وہ دس پندرہ روپے خراج بھی ادا کرتی تھی! یہ خراج صرف اس بات کا تھا کہ سوگندھی کو اس سے کچھ وہ ہو گیا تھا۔ رام لال دلال ٹھیک کہتا تھا اس میں ایسی بات ضرور تھی جو سوگندھی کو بہت بھا گئی تھی۔ اب اس کو چھپانا کیا! بتا ہی کیوں نہیں دیں!۔ سوگندھی سے جب مادھو کی پہلی ملاقات ہوئی تو اس نے کہا تھا۔

’’تجھے لاج نہیں آتی اپنا بھاؤ کرتے! جانتی ہے تو میرے ساتھ کس چیز کا سودا کررہی ہے۔ اور میں تیرے پاس کیوں آیا ہوں؟۔ چھی چھی چھی۔ دس روپے اور جیسا کہ تو کہتی ہے ڈھائی روپے دلال کے، باقی رہے ساڑھے سات، رہے نا ساڑھے سات؟۔ اب ان ساڑھے سات روپوں پر تو مجھے ایسی چیز دینے کا وچن دیتی ہے جو تو دے ہی نہیں سکتی اور میں ایسی چیز لینے آیا۔ جو میں لے ہی نہیں سکتا۔ مجھے عورت چاہیے پر تجھے کیا اس وقت اسی گھڑی مرد چاہیے؟۔ مجھے تو کوئی عورت بھی بھا جائے گی پر کیا میں ستجھے جچتا ہوں!۔ تیرا میرا ناطہ ہی کیا ہے کچھ بھی نہیں۔ بس یہ دس روپے، جن میں سے ڈھائی روپے دلال میں چلے جائیں گے اور باقی ادھر ادھر بکھر جائیں گے، تیرے اورمیرے بیچ میں بج رہے ہیں۔ تو بھی ان کا بجنا سن رہی ہے اور میں بھی۔ تیرا من کچھ اور سوچتا ہے میرا من کچھ اور۔ کیوں نہ کوئی ایسی بات کریں کہ تجھے میری ضرورت ہو اور مجھے تیری۔ پُونے میں حوالدار ہوں، مہینے میں ایک بار آیا کروں گا۔ تین چار دن کے لیے۔ یہ دھندا چھوڑ۔ میں تجھے خرچ دے دیا کروں گا۔ کیا بھاڑا ہے اس کھولی کا۔ ؟‘‘

مادھو نے اور بھی بہت کچھ کہا تھا جس کا اثر سوگندھی پر اس قدر زیادہ ہوا تھا کہ وہ چند لمحات کے لیے خود کو حوالدارنی سمجھنے لگی تھی۔ باتیں کرنے کے بعد مادھو نے اس کے کمرے کی بکھری ہوئی چیزیں قرینے سے رکھی تھیں اور ننگی تصویریں جو سوگندھی نے اپنے سر ہانے لٹکا رکھی تھیں، بنا پوچھے گچھے پھاڑ دی تھیں اور کہا تھا۔

’’سوگندھی بھئی میں ایسی تصویریں یہاں نہیں رکھنے دوں گا۔ اور پانی کا یہ گھڑا۔ دیکھنا کتنا میلا ہے اور یہ۔ یہ چیتھڑے۔ یہ چندیاں۔ اف کتنی بُری باس آتی ہے، اٹھا کے باہر پھینک ان کو۔ اور تو نے اپنے بالوں کا ستیاناس کر رکھا ہے۔ اور۔ اور۔ ‘‘

تین گھنٹے کی بات چیت کے بعد سوگندھی اور مادھو آپس میں گھل مل گئے تھے اور سوگندھی کو تو ایسا محسوس ہوا تھا کہ برسوں سے حوالدار کو جانتی ہے، اس وقت تک کسی نے بھی کمرے میں بدبودار چیتھڑوں، میلے گھڑے اور ننگی تصویروں کی موجودگی کا خیال نہیں کیا تھا اور نہ کبھی کسی نے اس کو یہ محسوس کرنے کا موقع دیا تھا کہ اس کا ایک گھر ہے جس میں گھریلو پن آسکتا ہے۔ لوگ آتے تھے اور بستر تک غلاظت کو محسوس کیے بغیر چلے جاتے تھے۔ کوئی سوگندھی سے یہ نہیں کہتا تھا۔

’’دیکھ تو آج تیری ناک کتنی لال ہورہی ہے کہیں زکام نہ ہو جائے تجھے۔ ٹھہر میں تیرے واسطے دوا لاتا ہوں۔ ‘‘

مادھو کتنا اچھا تھا اس کی ہر بات باون تولہ اور پاؤ رتی کی تھی۔ کیا کھری کھری سنائی تھیں اس نے سو گندھی کو۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ اسے مادھو کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ان دونوں کا سمبندھ ہو گیا۔ مہینے میں ایک بار مادھو پُونے سے آتا تھا اور واپس جاتے ہوئے ہمیشہ سوگندھی سے کہا کرتا تھا۔

’’دیکھ سوگندھی! اگر تو نے پھر سے اپنا دھندا شروع کیا۔ تو بس تیری میری ٹوٹ جائے گی۔ اگر تو نے ایک بار بھی کسی مرد کو اپنے یہاں ٹھہرایا تو چٹیا سے پکڑ کر باہر نکال دوں گا۔ دیکھ اس مہینے کا خرچ میں تجھے پونا پہنچتے ہی منی آرڈر کردوں گا۔ ہاں کیا بھاڑا ہے اس کھولی کا۔ ‘‘

نہ مادھو نے کبھی پونا سے خرچ بھیجا تھا اور نہ سوگندھی نے اپنا دھندا بند کیا تھا۔ دونوں اچھی طرح جانتے تھے کہ کیا ہورہا ہے۔ نہ سوگندھی نے کبھی مادھو سے یہ کہا تھا کہ

’’تویہ کیا ٹرٹرکیا کرتا ہے، ایک پھوٹی کوڑی بھی دی ہے کبھی تو نے؟‘‘

اور نہ مادھو نے کبھی سو گندھی سے پوچھا تھا۔

’’یہ مال تیرے پاس کہاں سے آتا ہے جب کہ میں تجھے کچھ دیتا ہی نہیں‘‘

۔ دونوں جھوٹے تھے۔ دونوں ایک ملمع کی ہوئی زندگی بسر کررہے تھے۔ لیکن سوگندھی خوش تھی جس کو اصل سونا نہ ملے وہ ملمع کیے ہوئے گہنوں ہی پر راضی ہو جایا کرتا ہے۔ اس وقت سوگندھی تھکی ماندی سو رہی تھی۔ بجلی کا قمقمہ جسے اوف کرنا وہ بھول گئی تھی اس کے سر کے اوپر لٹک رہا تھا۔ اس کی تیز روشنی اس کی مندی ہوئی آنکھوں کے سامنے ٹکرا رہی تھی۔ مگروہ گہری نیند سو رہی تھی۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ رات کے دو بجے یہ کون آیا تھا؟ سوگندھی کے خواب آلود کانوں میں دستک بھنبھناہٹ بن کر پہنچی۔ دروازہ جب زور سے کھٹکھٹایا گیا تو چونک کر اٹھ بیٹھی۔ دو ملی جلی شرابوں اور دانتوں کے ریخوں میں پھنسے ہوئے مچھلی کے ریزوں نے اس کے منہ کے اندر ایسا لعاب پیدا کردیا تھا جو بے حد کسیلا اور لیسدار تھا۔ دھوتی کے پلّو سے اس نے یہ بدبو دار لعاب صاف کیا اور آنکھیں ملنے لگی۔ پلنگ پر وہ اکیلی تھی۔ جھک کر اس نے پلنگ کے نیچے دیکھا تو اس کا کتا سوکھے ہوئے چپلوں پر منہ رکھے سو رہا تھا اور نیند میں کسی غیر مرئی چیز کا منہ چڑ رہا تھا اور طوطا پیٹھ کے بالوں میں سر دیے سورہا تھا۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ سو گندھی بستر پر سے اٹھی۔ سردرد کے مارے پھٹا جارہا تھا۔ گھڑے سے پانی کا ایک ڈونگا نکال کر اس نے کُلی کی۔ اور دوسرا ڈونگا غٹا غٹ پی کر اس نے دروازے کا پٹ تھوڑا سا کھولا اور کہا۔

’’رام لال؟‘‘

رام لال جو باہر دستک دیتے ہوئے تھک گیا تھا۔ بھنا کر کہنے لگا۔

’’تجھے سانپ سونگھ گیا تھا یا کیا ہو گیا تھا۔ ایک کلاک(گھنٹے) سے باہر کھڑا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہوں کہاں مر گئی تھی؟‘‘

۔ پھر آواز دبا کر اس نے ہولے سے کہا۔

’’اندر کوئی ہے تو نہیں؟‘‘

جب سوگندھی نے کہا۔

’’نہیں۔ تو رام لال کی آواز پھر اونچی ہو گئی۔

’’تو دروازہ کیوں نہیں کھولتی؟۔ بھئی حد ہو گئی ہے کیا نیند پائی ہے۔ یوں ایک ایک چھوکری اتارنے میں دو دو گھنٹے سر کھپانا پڑے تو میں اپنا دھندا کرچکا۔ اب تو میرا منہ کیا دیکھتی ہے۔ جھٹ پٹ یہ دھوتی اتار کروہ پھولوں والی ساڑھی پہن، پوڈر ووڈر لگا اور چل میرے ساتھ۔ باہر موٹر میں ایک سیٹھ بیٹھے تیرا انتظار کررہے ہیں۔ چل چل ایک دم جلدی کر۔ ‘‘

سو گندھی آرام کرسی پر بیٹھ گئی اور رام لال آئینے کے سامنے اپنے بالوں میں کنگھی کرنے لگا۔ سوگندھی نے تپائی کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا اور بام کی شیشی اٹھا کر اس کا ڈھکنا کھولتے ہوئے کہا۔

’’رام لال آج میرا جی اچھا نہیں۔ ‘‘

رام لال نے کنگھی دیوار گیر پر رکھ دی اور مڑ کرکہا۔

’’تو پہلے ہی کہہ دیا ہوتا۔ ‘‘

سو گندھی نے ماتھے اور کنپٹیوں پر بام سے چھوتے ہوئے غلط فہمی دور کردی۔

’’وہ بات نہیں رام لال!۔ ایسے ہی میرا جی اچھا نہیں۔ بہت پی گئی۔ ‘‘

رام لال کے منہ میں پانی بھر آیا۔

’’تھوڑی بچی ہو تو لا۔ ذرا ہم بھی منہ کا مزا ٹھیک کرلیں۔ ‘‘

سو گندھی نے بام کی شیشی تپائی پر رکھ دی اور کہا۔

’’بچائی ہوتی تو یہ موا سر میں درد ہی کیوں ہوتا۔ دیکھ رام لال! وہ جو باہر موٹر میں بیٹھا ہے اسے اندر ہی لے آؤ۔ ‘‘

رام لال نے جواب دیا۔

’’نہیں بھئی وہ اندر نہیں آسکتے۔ جنٹلمین آدمی ہیں۔ وہ تو موٹر کو گلی کے باہر کھڑی کرتے ہوئے گھبراتے تھے۔ تو کپڑے وپڑے پہن لے اور ذرا گلی کے نکڑ تک چل۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ‘‘

ساڑھے سات روپے کا سودا تھا۔ سوگندھی اس حالت میں جب کہ اس کے سر میں شدت کا درد ہورہا تھا۔ کبھی قبول نہ کرتی مگر اسے روپوں کی سخت ضرورت تھی۔ اس کی ساتھ والی کھولی میں ایک مدراسی عورت رہتی تھی جس کا خاوند موٹر کے نیچے آکر مر گیا تھا۔ اس عورت کو اپنی جوان لڑکی سمیت وطن جانا تھا۔ لیکن اس کے پاس چونکہ کرایہ ہی نہیں تھا اس لیے وہ کسمپرسی کی حالت میں پڑی تھی۔ سوگندھی نے کل ہی اس کو ڈھارس دی تھی اور اس سے کہا تھا۔

’’بہن تو چنتا نہ کر۔ میرا مرد پُونے سے آنے ہی والا ہے میں اس سے کچھ روپے لے کرتیرے جانے کا بندوبست کردوں گی۔ ‘‘

مادھو پونا سے آنے والا تھا۔ مگر روپوں کا بندوبست تو سوگندھی ہی کو کرنا تھا۔ چنانچہ وہ اٹھی اور جلدی جلدی کپڑے تبدیل کرنے لگی۔ پانچ منٹوں میں اس نے دھوتی اتار کر پھولوں والی ساڑھی پہنی اور گالوں پر سرخ پوڈر لگا کر تیار ہو گئی۔ گھڑے کے ٹھنڈے پانی کا ایک اور ڈونگا پیا اور رام لال کے ساتھ ہولی۔ گلی جو کہ چھوٹے شہروں کے بازار سے بھی کچھ بڑی تھی۔ بالکل خاموش تھی گیس کے وہ لیمپ جو کھمبوں پر جڑے تھے پہلے کی نسبت بہت دھندلی روشنی دے رہے تھے۔ جنگ کے باعث ان کے شیشوں کو گدلا کردیا گیا تھا۔ اس اندھی روشنی میں گلی کے آخری سرے پر ایک موٹر نظر آرہی تھی۔ کمزور روشنی میں اس سیاہ رنگ کی موٹر کا سایہ سا نظر آنا اوررات کے پچھلے پہر کی بھیدوں بھری خاموشی۔ سو گندھی کو ایسا لگا کہ اسکے سر کا درد فضا پر بھی چھا گیا ہے۔ ایک کسیلا پن اُسے ہوا کے اندر بھی محسوس ہوتا تھا جیسے برانڈی اور بیوڑا کی باس سے وہ بوجھل ہورہی ہے۔ آگے بڑھ کر رام لال نے موٹر کے اندر بیٹھتے ہوئے آدمیوں سے کچھ کہا۔ اتنے میں جب سو گندھی موٹر کے پاس پہنچ گئی تو رام لال نے ایک طرف ہٹ کرکہا۔

’’لیجیے وہ آگئی۔ ‘‘

’’بڑی اچھی چھوکری ہے تھوڑے ہی دن ہوئے ہیں اسے دھندا شروع کیے۔ ‘‘

پھر سوگندھی سے مخاطب ہو کر کہا۔

’’سوگندھی، ادھر آؤ سیٹھ جی بلاتے ہیں۔ ‘‘

سوگندھی ساڑھی کا ایک کنارہ اپنی انگلی پر لپیٹتی ہوئی آگے بڑھی اور موٹر کے دروازے کے پاس کھڑی ہو گئی۔ سیٹھ صاحب نے بیٹری اس کے چہرے کے پاس روشن کی۔ ایک لمحے کے لیے اس روشنی نے سوگندھی کی خمار آلود آنکھوں میں چکا چوند پیدا کی۔ بٹن دبانے کی آواز پیدا ہوئی اور بجھ گئی۔ ساتھ ہی سیٹھ کے منہ سے

’’اونہہ‘‘

نکلا۔ پھر ایک موٹر کا انجن پھڑپھڑایا اور کار یہ جا وہ جا۔ سوگندھی کچھ سوچنے بھی نہ پائی تھی کہ موٹر چل دی۔ اس کی آنکھوں میں ابھی تک بیٹری کی تیز روشنی گھسی ہوئی تھی۔ وہ ٹھیک طرح سے سیٹھ کا چہرہ بھی تو نہ دیکھ سکی تھی۔ یہ آخر ہوا کیا تھا۔ اس

’’اونہہ‘‘

کا کیا مطلب تھا۔ جو ابھی تک اس کے کانوں میں بھنبھنا رہی تھی۔ کیا؟۔ کیا؟ رام لال دلال کی آواز سنائی دی۔

’’پسند نہیں کیا تجھے۔ دو گھنٹے مفت میں ہی برباد کیے۔ ‘‘

یہ سن کر سوگندھی کی ٹانگوں میں، اس کی بانہوں میں، اس کے ہاتھوں میں ایک زبردست حرکت کا ارادہ پیدا ہوا۔ کہاں تھی وہ موٹر۔ کہاں تھا وہ سیٹھ۔ تو

’’اونہہ‘‘

کا مطلب یہ تھا کہ اس نے مجھے پسند نہیں کیا۔ اُس کی۔ گالی اس کے پیٹ کے اندر اٹھی اور زبان کی نوک پر آکر رک گئی۔ وہ آخرگالی کسے دیتی، موٹر تو جا چکی تھی۔ اس کی دم کی سرخ بتی اس کے سامنے بازار کے اندھیارے میں ڈوب رہی تھی۔ اور سوگندھی کو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ یہ لال لال انگارہ

’’اونہہ‘‘

ہے جو اس کے سینے میں برمے کی طرح اترا چلا جارہا ہے۔ اس کے جی میں آئی کہ زور سے پکارے۔

’’او سیٹھ۔ ذرا موٹر روکنا اپنی۔ بس ایک منٹ کے لیے۔ وہ سنسان بازار میں کھڑی تھی۔ پھولوں والی ساڑھی جو وہ خاص خاص موقعوں پر پہنا کرتی تھی رات کے پچھلے پہر کی ہلکی ہلکی ہوا سے لہرا رہی تھی۔ یہ ساڑھی اور اس کی ریشمی سرسراہٹ سوگندھی کو کتنی بُری معلوم ہوتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ اس ساڑھی کے چیتھڑے اڑا دے۔ کیونکہ ساڑھی ہوا میں لہرا لہرا کر

’’اونہہ اونہہ‘ کررہی تھی۔ گالوں پر اس نے پوڈر لگایا تھا اور ہونٹوں پرسرخی۔ جب اسے خیال آیا کہ یہ سنگار اس نے اپنے آپ کو پسند کرانے کے واسطے کیا تھا تو شرم کے مارے اسے پسینہ آگیا۔ یہ شرمندگی دور کرنے کے لیے اس نے کچھ سوچا۔ میں نے اس موئے کو دکھانے کے لیے تھوڑی اپنے آپ کو سجایا تھا۔ یہ تو میری عادت ہے۔ میری کیا سب کی یہی عادت ہے۔ پر۔ پر۔ یہ رات کے دو بجے اور رام لال دلال اور۔ یہ بازار۔ اور وہ موٹر اور بیٹری کی چمک۔ یہ سوچتے ہی روشنی کے دھبے اس کی حدِ نگاہ تک فضا میں اِدھر اُدھر تیرنے لگے اور موٹر کے انجن کی پھڑپھڑاہٹ اُسے ہوا کے ہر جھونکے میں سنائی دینے لگی۔ اس کے ماتھے پر بام کا لیپ جو سنگار کرنے کے دوران میں بالکل ہلکا ہو گیا تھا۔ پسینہ آنے کے باعث اس کے مساموں میں داخل ہونے لگا۔ اور سوگندھی کو اپنا ماتھا کسی اور کا ماتھا معلوم ہوا۔ جب ہوا کا ایک جھونکا اس کے عرق آلود ماتھے کے پاس سے گزرا تو اسے ایسا لگا کہ سرد سردٹین کا ٹکڑا کاٹ کر اس کے ماتھے کے ساتھ چسپاں کردیا گیا ہے۔ سر میں درد ویسے کا ویسا موجود تھا مگر خیالات کی بھیڑ بھاڑ اور ان کے شور نے اس درد کو اپنے نیچے دبا رکھا تھا۔ سو گندھی نے کئی بار اس درد کو اپنے خیالات کے نیچے سے نکال کر اوپر لانا چاہا مگر ناکام رہی۔ وہ چاہتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح اس کا انگ انگ دُکھنے لگے، اس کے سر میں درد ہو، اس کی ٹانگوں میں درد ہو، اس کے پیٹ میں درد ہو، اس کی بانہوں میں درد ہو۔ ایسا درد کہ وہ صرف درد ہی کا خیال کرے اور سب کچھ بھول جائے۔ یہ سوچتے سوچتے اس کے دل میں کچھ ہوا۔ کیا یہ درد تھا؟۔ ایک لمحے کے لیے اس کا دل سکڑا اور پھر پھیل گیا۔ یہ کیا تھا؟۔ لعنت! یہ تو وہی

’’اونہہ‘‘

تھی جو اس کے دل کے اندر کبھی سکڑتی تھی اور کبھی پھیلتی تھی۔ گھر کی طرف سوگندھی کے قدم اٹھے ہی تھے کہ رک گئے اور وہ ٹھہر کر سوچنے لگی، رام لال دلّال کا خیال ہے کہ اسے میری شکل پسند نہیں آئی۔ شکل کا تو اس نے ذکر نہیں کیا۔ اس نے تو یہ کہا تھا

’’سوگندھی تجھے پسند نہیں کیا !‘‘

اُسے۔ اُسے۔ صرف میری شکل ہی پسند نہیں آئی تو کیا ہوا؟۔ مجھے بھی تو کئی آدمیوں کی شکل پسند نہیں آتی۔ وہ جو اماوس کی رات کو آیا تھا۔ کتنی بُری صورت تھی اس کی۔ کیا میں نے ناک بھوں نہیں چڑھائی تھی؟ جب وہ میرے ساتھ سونے لگا تھا تو مجھے گھن نہیں آئی تھی؟۔ کیامجھے ابکائی آتے آتے نہیں رک گئی تھی؟۔ ٹھیک ہے، پر سوگندھی۔ تو نے اسے دھتکارا نہیں تھا۔ تو نے اس کو ٹھکرایا نہیں تھا۔ اس موٹر والے سیٹھ نے تو تیرے منہ پر تھوکا ہے۔ اونہہ۔ اس

’’اونہہ‘‘

کا اور مطلب ہی کیا ہے؟۔ یہی کہ اس چھچھوندر کے سر میں چنبیلی کا تیل۔ اونہہ۔ یہ منہ اور مسور کی دال۔ ارے رام لال تو یہ چھپکلی کہاں سے پکڑ کرلے آیا ہے۔ اس لونڈیا کی اتنی تعریف کررہا ہے تو۔ دس روپے اور یہ عورت۔ خچّر کیا بُری ہے۔ سوگندھی سوچ رہی تھی اور اس کے پیر کے انگوٹھے سے لے کر سر کی چوٹی تک گرم لہریں دوڑ رہی تھیں۔ اس کو کبھی اپنے آپ پر غصہ آتا تھا، کبھی رام لال دلال پر جس نے رات کے دو بجے اسے بے آرام کیا۔ لیکن فوراً ہی دونوں کو بے قصور پا کر وہ سیٹھ کا خیال کرتی تھی۔ اس خیال کے آتے ہی اس کی آنکھیں، اس کے کان، اس کی بانہیں، اس کی ٹانگیں، اس کا سب کچھ مڑتا تھا کہ اس سیٹھ کو کہیں دیکھ پائے۔ اس کے اندر یہ خواہش بڑی شدت سے پیدا ہورہی تھی کہ جو کچھ ہوچکا ہے ایک بار پھر ہو۔ صرف ایک بار۔ وہ ہولے ہولے موٹر کی طرف بڑھے۔ موٹر کے اندر سے ایک ہاتھ بیٹری نکالے اور اس کے چہرے پرروشنی پھینکے۔

’’اونہہ‘‘

کی آواز آئے اور وہ۔ سوگندھی اندھا دھند اپنے دونوں پنجوں سے اس کا منہ نوچنا شروع کردے۔ وحشی بلی کی طرح جھپٹے اور۔ اور اپنی انگلیوں کے سارے ناخن جو اس نے موجودہ فیشن کے مطابق بڑھا رکھے تھے۔ اس سیٹھ کے گالوں میں گاڑ دے۔ بالوں سے پکڑ کر اسے باہر گھسیٹ لے اور دھڑا دھڑ مکے مارنا شروع کردے اور جب تھک جائے۔ جب تھک جائے تو رونا شروع کردے۔ رونے کا خیال سوگندھی کو صرف اس لیے آیا کہ اس کی آنکھوں میں غصے اور بے بسی کی شدت کے باعث تین چار بڑے بڑے آنسو بن رہے تھے۔ ایکا ایکی سوگندھی نے اپنی آنکھوں سے سوال کیا۔

’’تم روتی کیوں ہو؟ تمہیں کیا ہوا ہے کہ ٹپکنے لگی ہو؟۔ آنکھوں سے کیا ہوا سوال چند لمحات تک ان آنسوؤں میں تیرتا رہا جو اب پلکوں پر کانپ رہے تھے۔ سوگندھی ان آنسوؤں میں سے دیرتک اس خلا کو گھورتی رہی جدھر سیٹھ کی موٹر گئی تھی۔ پھڑپھڑپھڑ۔ یہ آواز کہاں سے آئی؟ سوگندھی نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا لیکن کسی کو نہ پایا۔ ارے یہ تو اس کا دل پھڑپھڑایا تھا۔ وہ سمجھی تھی موٹر کا انجن بولا ہے۔ اس کا دل۔ یہ کیا ہو گیا تھا اس کے دل کو! آج ہی روگ لگ گیا تھا اسے۔ اچھا بھلا چلتا چلتا ایک جگہ رک کر دھڑ دھڑ کیوں کرتا تھا۔ بالکل اسے گھسے ہوئے ریکارڈ کی طرح جو سوئی کے نیچے ایک جگہ آکے رک جاتا ہے۔ رات کٹی گِن گِن تارے کہتا کہتا تارے تارے کی رٹ لگا دیتا تھا۔ آسمان تاروں سے اٹا ہوا تھا۔ سوگندھی نے ان کی طرف دیکھا اور کہا کتنے سُندر ہیں۔ وہ چاہتی تھی کہ اپنا دھیان کسی اور طرف پلٹ دے۔ پر جب اس نے سندر کہا تو جھٹ سے یہ خیال اس کے دماغ میں کودا۔

’’یہ تارے سندر ہیں پر تو کتنی بھونڈی ہے۔ کیا بھول گئی ابھی ابھی تیری صورت کو پھٹکارا گیا ہے؟‘‘

سوگندھی بدصورت تو نہیں تھی۔ یہ خیال آتے ہی وہ تمام عکس ایک ایک کرکے اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگے۔ جو ان پانچ برسوں کے دوران میں وہ آئینے میں دیکھ چکی تھی۔ اس میں شک نہیں کہ اس کا رنگ روپ اب وہ نہیں رہا تھا۔ جو آج سے پانچ سال پہلے تھا جب کہ وہ تمام فکروں سے آزاد اپنے ماں باپ کے ساتھ رہا کرتی تھی۔ لیکن وہ بدصورت تو نہیں ہو گئی تھی۔ اس کی شکل و صورت ان عام عورتوں کی سی تھی جن کی طرف مرد گزرتے گزرتے گُھور کے دیکھ لیا کرتے ہیں۔ اس میں وہ تمام خوبیاں موجود تھیں جو سوگندھی کے خیال میں ہر مرد اس عورت میں ضروری سمجھتا ہے جس کے ساتھ اسے ایک دو راتیں بسر کرنا ہوتی ہیں۔ وہ جوان تھی، اس کے اعضا متناسب تھے۔ کبھی کبھی نہاتے وقت جب اس کی نگاہیں اپنی رانوں پر پڑتی تھیں۔ تو وہ خود ان کی گولائی اور گدگداہٹ کو پسند کیا کرتی تھی۔ وہ خوش خلق تھی۔ ان پانچ برسوں کے دوران میں شاید ہی کوئی آدمی اس سے ناخوش ہو کر گیا ہو۔ بڑی ملنسار تھی، بڑی رحمدل تھی۔ پچھلے دنوں جب کرسمس میں وہ کول پیٹھا میں رہا کرتی تھی، ایک نوجوان لڑکا اس کے پاس آیا تھا۔ صبح اٹھ کر جب اس نے دوسرے کمرے میں جا کر کھونٹی سے کوٹ اتارا تو بٹوہ غائب پایا۔ سوگندھی کا نوکر یہ بٹوہ لے اڑا تھا۔ بے چارہ بہت پریشان ہوا۔ چھٹیاں گزارنے کے لیے حیدر آباد سے بمبئی آیا تھا۔ اب اس کے پاس واپس جانے کے لیے دام نہ تھے۔ سوگندھی نے ترس کھا کر اسے اس کے دس روپے واپس دے دیے تھے۔

’’مجھ میں کیا برائی ہے؟‘‘

سوگندھی نے یہ سوال ہر اس چیز سے کیا جو اس کی آنکھوں کے سامنے تھی۔ گیس کے اندھے لیمپ، لوہے کے کھمبے، فٹ پاتھ کے چوکور پتھر اور سڑک کی اکھڑی ہوئی بجری۔ ان سب چیزوں کی طرف اس نے باری باری دیکھا، پھر آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائیں۔ جو اس کے اوپر جھکا ہوا تھا۔ مگرسوگندھی کو کوئی جواب نہ ملا۔ جواب اس کے اندرموجود تھا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ بُری نہیں اچھی ہے، پر وہ چاہتی تھی کہ کوئی اس کی تائید کرے۔ کوئی۔ کوئی۔ اس وقت اس کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر صرف اتنا کہہ دے۔

’’سوگندھی! کون کہتا ہے، تو بُری ہے، جو تجھے بُرا کہے وہ آپ بُرا ہے‘‘

۔ نہیں یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ کسی کا اتنا کہہ دینا کافی تھا۔

’’سوگندھی تو بہت اچھی ہے!‘‘

وہ سوچنے لگی کہ وہ کیوں چاہتی ہے کوئی اس کی تعریف کرے۔ اس سے پہلے اسے اس بات کی اتنی شدت سے ضرورت محسوس نہ ہوئی تھی۔ آج کیوں وہ بے جان چیزوں کو بھی ایسی نظروں سے دیکھتی ہے جیسے ان پر اپنے اچھے ہونے کا احساس طاری کرنا چاہتی ہے، اس کے جسم کا ذرہ ذرہ کیوں

’’ماں‘‘

بن رہا ہے۔ وہ ماں بن کر دھرتی کی ہر شے کو اپنی گود میں لینے کے لیے کیوں تیار ہورہی تھی؟۔ اس کا جی کیوں چاہتا تھا کہ سامنے والے گیس کے آہنی کھمبے کے ساتھ چمٹ جائے اور اس کے سرد لوہے پر اپنے گال رکھ دے۔ اپنے گرم گرم گال اور اس کی ساری سردی چُوس لے۔ تھوڑی دیر کے لیے اسے ایسا محسوس ہوا کہ گیس کے اندھے لیمپ، لوہے کے کھمبے، فٹ پاتھ کے چوکور پتھر اور ہر وہ شے جو رات کے سناٹے میں اس کے آس پاس تھی۔ ہمدردی کی نظروں سے اسے دیکھ رہی ہے اور اس کے اوپر جھکا ہوا آسمان بھی جو مٹیالے رنگ کی ایسی موٹی چادرمعلوم ہوتا تھا جس میں بے شمار سوراخ ہو رہے ہوں، اس کی باتیں سمجھتا تھا اور سوگندھی کو بھی ایسا لگتا تھا کہ وہ تاروں کا ٹمٹمانا سمجھتی ہے۔ لیکن اس کے اندر یہ کیا گڑ بڑ تھی؟۔ وہ کیوں اپنے اندر اس موسم کی فضا محسوس کرتی تھی جو بارش سے پہلے دیکھنے میں آیا کرتا ہے۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ اس کے جسم کا ہر مسام کھل جائے۔ اور جو کچھ اس کے اندر اُبل رہا ہے ان کے رستے باہر نکل جائے۔ پر یہ کیسے ہو۔ کیسے ہو؟ سوگندھی گلی کے نکڑ پر خط ڈالنے والے لال بھبکے کے پاس کھڑی تھی۔ ہوا کے تیز جھونکے سے اس بھبکے کی آہنی زبان جو اس کے کھلے ہوئے منہ میں لٹکتی رہتی ہے، لڑکھڑائی تو سوگندھی کی نگاہیں یک بیک اس کی طرف اٹھیں جدھر موٹر گئی تھی مگر اسے کچھ نظر نہ آیا۔ اسے کتنی زبردست آرزو تھی کہ موٹرپھر ایک بار آئے اور۔ اور۔

’’نہ آئے۔ بلاسے۔ میں اپنی جان کیوں بیکار ہلکان کروں۔ گھر چلتے ہیں اور آرام سے لمبی تان کر سوتے ہیں۔ ان جھگڑوں میں رکھا ہی کیا ہے۔ مفت کی دردسری ہی تو ہے۔ چل سوگندھی گھر چل۔ ٹھنڈے پانی کا ایک ڈونگا پی اور تھوڑا سا بام مل کر سو جا۔ فسٹ کلاس نیند آئے گی اور سب ٹھیک ہو جائے گا۔ سیٹھ اور اس کی موٹر کی ایسی تیسی۔ ‘‘

یہ سوچتے ہوئے سوگندھی کا بوجھ ہلکا ہو گیا۔ جیسے وہ کسی ٹھنڈے تالاب سے نہا دھو کر باہر نکلی ہے۔ جس طرح پوجا کرنے کے بعد اس کا جسم ہلکا ہو جاتا تھا، اسی طرح اب بھی ہلکا ہو گیا تھا۔ گھر کی طرف چلنے لگی تو خیالات کا بوجھ نہ ہونے کے باعث اس کے قدم کئی بارلڑکھڑائے۔ اپنے مکان کے پاس پہنچی تو ایک ٹیس کے ساتھ پھر تمام واقعہ اس کے دل میں اٹھا اور درد کی طرح اس کے روئیں روئیں پر چھا گیا۔ قدم پھر بوجھل ہو گئے اور وہ اس بات کو شدت کے ساتھ محسوس کرنے لگی کہ گھر سے بلا کر، باہر بازار میں منہ پرروشنی کا چانٹا مار کر ایک آدمی نے اس کی ابھی ابھی ہتک کی ہے۔ یہ خیال آیا تو اس نے اپنی پسلیوں پر کسی کے سخت انگوٹھے محسوس کیے جیسے کوئی اسے بھیڑ بکری کی طرح دبا دبا کردیکھ رہا ہے کہ آیا گوشت بھی ہے یا بال ہی بال ہیں۔ اس سیٹھ نے۔ پرماتما کرے۔ سوگندھی نے چاہا کہ اس کو بددعا دے، مگر سوچا، بددعا دینے سے کیا بنے گا۔ مزا تو جب تھا کہ وہ سامنے ہوتا اور وہ اس کے وجود کے ہر ذرّے پر لعنتیں لکھ دیتی۔ اس کے منہ پر کچھ ایسے الفاظ کہتی کہ زندگی بھر بے چین رہتا۔ کپڑے پھاڑ کر اس کے سامنے ننگی ہو جاتی اور کہتی۔

’’یہی لینے آیا تھا نا توُ؟۔ لے دام دیے بنا لے جا اسے۔ یہ جو کچھ میں ہوں، جو کچھ میرے اندر چھپاہوا ہے وہ تُو کیا، تیرا باپ بھی نہیں خرید سکتا۔ ‘‘

انتقام کے نئے نئے طریقے سوگندھی کے ذہن میں آرہے تھے۔ اگر اس سیٹھ سے ایک بار۔ صرف ایک بار۔ اس کی مڈبھیڑ ہو جائے تو یہ کرے۔ نہیں یہ نہیں۔ یہ کرے۔ یوں اس سے انتقام لے، نہیں یوں نہیں۔ لیکن جب سوگندھی سوچتی کہ سیٹھ سے اس کا دوبارہ ملنا محال ہے تو وہ اسے ایک چھوٹی سی گالی دینے ہی پر خود کو راضی کرلیتی۔ بس صرف ایک چھوٹی سی گالی، جو اس کی ناک پر چپکو مکھی کی طرح بیٹھ جائے اور ہمیشہ وہیں جمی رہے۔ اسی ادھیڑ بن میں وہ دوسری منزل پر اپنی کھولی کے پاس پہنچ گئی۔ چولی میں سے چابی نکال کرتالا کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو چابی ہوا ہی میں گھوم کر رہ گئی! کنڈے میں تالا نہیں تھا۔ سوگندھی نے کواڑ اندر کی طرف دبائے تو ہلکی سی چڑچڑاہٹ پیدا ہوئی۔ اندر سے کنڈی کھولی گئی اوردروازے نے جمائی لی، سوگندھی اندر داخل ہو گئی۔ مادھو مونچھوں میں ہنسا اور دروازہ بند کرکے سوگندھی سے کہنے لگا۔

’’آج تو نے میرا کہا مان ہی لیا۔ صبح کی سیر تندرستی کے لیے بڑی اچھی ہوتی ہے۔ ہر روز اس طرح صبح اٹھ کر گھومنے جایا کرے گی تو تیری ساری سستی دور ہو جائے گی اور وہ تیری کمر کا درد بھی غائب ہو جائے گا، جس کی بابت تو آئے دن شکایت کیا کرتی ہے۔ وکٹوریہ گارڈن تک ہو آئی ہو گی تو؟۔ کیوں؟‘‘

سوگندھی نے کوئی جواب نہ دیا اور نہ مادھو نے جواب کی خواہش ظاہر کی۔ دراصل جب مادھو بات کیا کرتا تھا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا تھا کہ سوگندھی ضرور اس میں حصہ لے اورسوگندھی جب کوئی بات کیا کرتی تھی یہ ضروری نہیں ہوتا تھا کہ مادھو اس میں حصہ لے۔ چونکہ کوئی بات کرنا ہوتی تھی۔ اس لیے وہ کہہ دیا کرتے تھے۔ مادھو بید کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ جس کی پشت پر اس کے تیل سے چپڑے ہوئے سر نے میل کا ایک بہت بڑا دھبہ بنا رکھا تھا۔ اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر اپنی مونچھوں پر انگلیاں پھیرنے لگا۔ سوگندھی پلنگ پر بیٹھ گئی۔ اور مادھو سے کہنے لگی۔

’’میں آج تیرا انتظار کررہی تھی۔ ‘‘

مادھو بڑا سٹپٹایا۔ انتظار؟۔

’’تجھے کیسے معلوم ہوا کہ میں آج آنے والا ہوں۔ ‘‘

سوگندھی کے بھنچے ہوئے لب کُھلے۔ ان پر ایک پیلی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

’’میں نے رات تجھے سپنے میں دیکھا تھا۔ اٹھی تو کوئی بھی نہ تھا۔ سوجی نے کہا، چلو کہیں باہر گھوم آئیں۔ اور۔ ‘‘

مادھو خوش ہوکر بولا۔

’’اورمیں آگیا۔ بھئی بڑے لوگوں کی باتیں بڑی پکی ہوتی ہیں۔ کسی نے ٹھیک کہا ہے، دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ تو نے یہ سپنا کب دیکھا تھا؟‘‘

سوگندھی نے جواب دیا۔

’’چار بجے کے قریب۔ ‘‘

مادھو کرسی سے اٹھ کر سوگندھی کے پاس بیٹھ گیا۔

’’اورمیں نے تجھے ٹھیک دو بجے سپنے میں دیکھا۔ جیسے تو پھولوں والی ساڑھی۔ ارے بالکل یہی ساڑھی پہنے میرے پاس کھڑی ہے تیرے ہاتھوں میں۔ کیا تھا تیرے ہاتھوں میں!۔ ہاں تیرے ہاتھوں میں روپوں سے بھری ہوئی تھیلی تھی۔ تو نے یہ تھیلی میری جھولی میں رکھ دی۔ اور کہا۔

’’مادھو تو چنتا کیوں کرتا ہے؟۔ لے یہ تھیلی۔ ارے تیرے میرے روپے کیا دو ہیں؟‘‘

۔ سوگندھی تیری جان کی قسم فوراً اٹھا اور ٹکٹ کٹا کر ادھر کا رخ کیا۔ کیا سناؤں بڑی پریشانی ہے!۔ بیٹھے بٹھائے ایک کیس ہو گیاہے اب بیس تیس روپے ہوں تو۔ انسپکٹر کی مٹھی گرم کرکے چھٹکارا ملے۔ تھک تو نہیں گئی تو؟ لیٹ جا میری طرف پیر کرکے لیٹ جا۔ ‘‘

سوگندھی لیٹ گئی۔ دونوں بانہوں کا تکیہ بنا کر وہ ان پر سر رکھ کر لیٹ گئی۔ اور اس لہجے میں جو اس کا اپنا نہیں تھا، مادھو سے کہنے لگی۔

’’مادھو یہ کس موئے نے تجھ پر کیس کیا ہے؟۔ بیل ویل کا ڈر ہو تو مجھ سے کہہ دے بیس تیس کیا سو پچاس بھی ایسے موقعوں پر پولیس کے ہاتھ میں تھما دیے جائیں تو فائدہ اپنا ہی ہے۔ جان بچی لاکھوں پائے۔ بس بس اب جانے دے۔ تھکن کچھ زیادہ نہیں ہے۔ مٹھی چاپی چھوڑ اور مجھے ساری بات سنا۔ کیس کا نام سنتے ہی میرا دل دھک دھک کرنے لگا ہے۔ واپس کب جائے گا تو؟‘‘

مادھو کو سوگندھی کے منہ سے شراب کی باس آئی تو اس نے یہ موقع اچھا سمجھا اور جھٹ سے کہا۔

’’دوپہرکی گاڑی سے واپس جانا پڑے گا۔ اگر شام تک سب انسپکٹر کو سو پچاس نہ تھمائے تو۔ زیادہ دینے کی ضرورت نہیں۔ میں سمجھتا ہوں پچاس میں کام چل جائے گا۔ ‘‘

’’پچاس!‘‘

یہ کہہ کر سوگندھی بڑے آرام سے اٹھی اور ان چار تصویروں کے پاس آہستہ آہستہ گئی۔ جو دیوار پر لٹک رہی تھیں۔ بائیں طرف سے تیسرے فریم میں مادھو کی تصویر تھی۔ بڑے بڑے پھولوں والے پردے کے آگے کرسی پر وہ دونوں رانوں پر اپنے ہاتھ رکھے بیٹھا تھا۔ ایک ہاتھ میں گلاب کا پھول تھا۔ پاس ہی تپائی پر دو موٹی موٹی کتابیں دھری تھیں۔ تصویر اترواتے وقت تصویر اتروانے کا خیال مادھو پر اس قدر غالب تھا کہ اس کی ہر شے تصویر سے باہر نکل نکل کرپکار رہی تھی۔

’’ہمارا فوٹو اترے گا۔ ہمارا فوٹو اترے گا!‘‘

کیمرے کی طرف مادھو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ فوٹو اترواتے وقت اسے بہت تکلیف ہورہی تھی۔ سوگندھی کھکھلا کر ہنس پڑی۔ اس کی ہنسی کچھ ایسی تیکھی اور نوکیلی تھی کہ مادھو کے سوئیاں سی چُبِھیں۔ پلنگ پر سے اٹھ کروہ سوگندھی کے پاس گیا۔

’’کس کی تصویر دیکھ کر تو اس قدر زور سے ہنسی ہے؟‘‘

سوگندھی نے بائیں ہاتھ کی پہلی تصویر کی طرف اشارہ کیا جو میونسپلٹی کے داروغہ ءِ صفائی کی تھی۔ ‘‘

اس کی۔ منشی پالٹی کے داروغہ کی۔ ذرا دیکھ تو اس کا تھوبڑا۔ کہتا تھا، ایک رانی مجھ پر عاشق ہو گئی تھی۔ اونہہ! یہ منہ اور مسور کی دال۔ یہ کہہ کرسوگندھی نے فریم کو اس زور سے کھینچا کہ دیوار میں سے کیل بھی پلستر سمیت اکھڑ آئی! مادھو کی حیرت ابھی دور نہ ہوئی تھی کہ سوگندھی نے فریم کو کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ دو منزلوں سے فریم نیچے زمین پر گرا اور کانچ ٹوٹنے کی جھنکار سنائی دی۔ سوگندھی نے اس جھنکار کے ساتھ کہا۔

’’رانی بھنگن کچرا اٹھانے آئے گی۔ تو میرے اس راجہ کو بھی ساتھ لے جائے گی۔ ‘‘

ایک بار پھر اسی نوکیلی اور تیکھی ہنسی کی پھوار سوگندھی کے ہونٹوں سے گرنا شروع ہوئی جیسے وہ ان پر چاقو یا چھری کی دھار تیز کررہی ہے۔ مادھو بڑی مشکل سے مسکرایا۔ پھر ہنسا۔

’’ہی ہی ہی۔ ‘‘

سوگندھی نے دوسرا فریم بھی نوچ لیا اور کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔

’’اس سالے کا یہاں کیا مطلب ہے؟۔ بھونڈی شکل کا کوئی آدمی یہاں نہیں رہے گا۔ کیوں مادھو؟‘‘

مادھو پھر بڑی مشکل سے مسکرایا اور پھر ہنسا۔

’’ہی ہی ہی۔ ‘‘

ایک ہاتھ سے سوگندھی نے پگڑی والے کی تصویر اتاری اور دوسرا ہاتھ اس فریم کی طرف بڑھایا جس میں مادھو کا فوٹو جڑا تھا۔ مادھو اپنی جگہ پر سمٹ گیا، جیسے ہاتھ اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایک سیکنڈ میں فریم کیل سمیت سوگندھی کے ہاتھ میں تھا۔ زور کا قہقہہ لگا کر اس نے

’’اونہہ‘‘

کی اور دونوں فریم ایک ساتھ کھڑکی میں سے باہر پھینک دیے۔ دو منزلوں سے جب فریم زمین پر گرے تو کانچ ٹوٹنے کی آواز آئی۔ تو مادھو کو ایسا معلوم ہوا کہ اس کے اندر کوئی چیز ٹوٹ گئی ہے۔ بڑی مشکل سے اس نے ہنس کر کہا۔

’’اچھا کیا؟۔ مجھے بھی یہ فوٹو پسند نہیں تھا۔ ‘‘

آہستہ آہستہ سوگندھی مادھو کے پاس آئی اور کہنے لگی۔

’’تجھے یہ فوٹو پسند نہیں تھا۔ پر میں پوچھتی ہوں تجھ میں ایسی کون سی چیز ہے جو کسی کو پسند آسکتی ہے۔ تیری پکوڑا ایسی ناک۔ یہ تیرا بالوں بھرا ماتھا۔ یہ تیرے سُوجے ہوئے نتھنے۔ یہ تیرے بڑھے ہوئے کان، یہ تیرے منہ کی باس، یہ تیرے بدن کا میل؟۔ تجھے اپنا فوٹو پسند نہیں تھا، اونہہ۔ پسند کیوں ہوتا، تیرے عیب جو چھپا رکھے تھے اس نے۔ آج کل زمانہ ہی ایسا ہے جو عیب چھپائے وہی بُرا۔ ‘‘

مادھو پیچھے ہٹتا گیا۔ آخر جب وہ دیوار کے ساتھ لگ گیا تو اس نے اپنی آواز میں زور پیدا کرکے کہا۔

’’دیکھ سوگندھی، مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تو نے پھر سے اپنا دھندا شروع کردیا ہے۔ اب میں تجھ سے آخری بار کہتا ہوں۔ ‘‘

سوگندھی نے اس سے آگے مادھو کے لہجے میں کہنا شروع کیا۔

’’اگر تو نے پھر سے دھندا شروع کیا تو بس تیری میری ٹوٹ جائے گی۔ اگر تو نے پھر کسی کو اپنے یہاں بلایا تو چٹیا سے پکڑ کر تجھے باہر نکال دوں گا۔ اس مہینے کا خرچ میں تجھے پُونا سے ہی منی آرڈر کردوں گا۔ ہاں کیا بھاڑا ہے اس کھولی کا؟‘‘

مادھو چکرا گیا۔ سوگندھی نے کہنا شروع کیا۔

’’میں بتاتی ہوں۔ پندرہ روپیہ بھاڑا ہے اس کھولی کا۔ اور دس روپیہ بھاڑا ہے میرا۔ اور جیسا تجھے معلوم ہے۔ ڈھائی روپے دلال کے۔ باقی رہے ساڑھے سات۔ ہے نا ساڑھے سات؟ ان ساڑھے سات روپیوں میں مَیں نے ایسی چیز دینے کا وچن دیا تھا جو میں دے ہی نہیں سکتی تھی۔ اور تو ایسی چیز لینے آیا تھا۔ جو تو لے ہی نہیں سکتا تھا۔ تیرا میرا ناتا ہی کیا تھا۔ کچھ بھی نہیں۔ بس یہ دس روپے تیرے اور میرے بیچ میں بج رہے تھے، سو ہم دونوں نے مل کر ایسی بات کی کہ تجھے میری ضرورت اور مجھے تیری۔ پہلے تیرے اور میرے بیچ میں دس روپے بجتے تھے، آج پچاس بج رہے ہیں۔ تو بھی ان کا بجنا سُن رہا ہے اور میں بھی ان کا بجنا سن رہی ہوں۔ یہ تونے اپنے بالوں کا کیا ستیاناس کر رکھا ہے؟‘‘

یہ کہہ کر سوگندھی نے مادھو کی ٹوپی انگلی سے ایک طرف اُڑا دی۔ یہ حرکت مادھو کو بہت ناگوار گزری۔ اس نے بڑے کڑے لہجے میں کہا۔

’’سوگندھی!‘‘

سوگندھی نے مادھو کی جیب سے رومال نکال کر سونگھا اور زمین پر پھینک دیا۔ یہ

’’چیتھڑے، یہ چندیاں۔ اف کتنی بُری باس آتی ہے، اٹھا کے باہر پھینک ان کو۔ ‘‘

مادھو چلایا۔

’’سوگندھی۔ ‘‘

سوگندھی نے تیز لہجے میں کہا۔

’’سوگندھی کے بچیّ تو آیا کس لیے ہے یہاں؟۔ تیری ماں رہتی ہے اس جگہ جو تجھے پچاس روپے دے گی؟ یا تو کوئی ایسا بڑا گبرو جوان ہے جو میں تجھ پر عاشق ہو گئی ہوں۔ کُتے، کمینے، مجھ پر رعب گانٹھتا ہے؟ میں تیری دبیل ہوں کیا؟۔ بھک منگے تو اپنے آپ کو سمجھ کیا بیٹھا ہے؟۔ میں کہتی ہوں تو ہے کون؟۔ چوریا گٹھ کترا؟۔ اس وقت تومیرے مکان میں کرنے کیا آیا ہے؟ بلاؤں پولیس کو۔ پُونے میں تجھ پر کیس ہو نہ ہو۔ یہاں توتجھ پر ایک کیس کھڑا کردوں۔ ‘‘

مادھو سہم گیا۔ دبے ہوئے لہجے میں وہ صرف اس قدر کہہ سکا۔

’’سوگندھی، تجھے کیا ہو گیا ہے؟‘‘

’’میری ماں کا سر۔ تو ہوتا کون ہے مجھ سے ایسے سوال کرنے والا۔ بھاگ یہاں سے، ورنہ۔ ‘‘

سوگندھی کی بلند آواز سن کر اس کا خارش زدہ کُتا جو سوکھے ہوئے چپلوں پر منہ رکھے سو رہا تھا۔ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور مادھو کی طرف منہ اٹھا کر بھونکنا شروع کردیا۔ کتے کے بھونکنے کے ساتھ ہی سوگندھی زور سے ہنسنے لگی۔ مادھو ڈر گیا۔ گری ہوئی ٹوپی اٹھانے کے لیے وہ جھکا تو سوگندھی کی گرج سنائی دی۔

’’خبردار۔ پڑی رہنے دے وہیں۔ تو جا، تیرے پُونہ پہنچتے ہی میں اس کو منی آرڈر کردوں گی۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ اور زور سے ہنسی اور ہنستی ہنستی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس کے خارش زدہ کتے نے بھونک بھونک کرمادھو کو کمرے سے باہر نکال دیا۔ سیڑھیاں اتار کر جب کتا اپنی ٹنڈ منڈدُم ہلاتاسوگندھی کے پاس آیا اور اس کے قدموں کے پاس بیٹھ کر کان پھڑپھڑانے لگا۔ تو سوگندھی چونکی۔ اس نے اپنے چاروں طرف ایک ہولناک سناٹا دیکھا۔ ایسا سناٹا جو اس نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ اُسے ایسا لگا کہ ہر شے خالی ہے۔ جیسے مسافروں سے لدی ہوئی ریل گاڑی سب اسٹیشنوں پر مسافر اتار کر اب لوہے کے شیڈ میں بالکل اکیلی کھڑی ہے۔ یہ خلا جو اچانک سوگندھی کے اندر پیدا ہو گیا تھا۔ اسے بہت تکلیف دے رہا تھا۔ اس نے کافی دیر تک اس خلا کو بھرنے کی کوشش کی۔ مگر بے سُود، وہ ایک ہی وقت میں بے شمار خیالات اپنے دماغ میں ٹھونستی تھی مگر بالکل چھلنی کا سا حساب تھا۔ ادھر دماغ کو پُر کرتی تھی۔ ادھر وہ خالی ہو جاتا تھا۔ بہت دیر تک وہ بید کی کرسی پر بیٹھی رہی۔ سوچ بچار کے بعد بھی جب اس کو اپنا دل پرچانے کا کوئی طریقہ نہ ملا تو اس نے اپنے خارش زدہ کُتّے کو گود میں اٹھایا اور ساگوان کے چوڑے پلنگ پر اسے پہلو میں لٹا کر سوگئی۔

سعادت حسن منٹو

ہارتا چلا گیا

لوگوں کو صرف جینے میں مزا آتا ہے۔ لیکن اسے جیت کر ہار دینے میں لطف آتا ہے۔ جیتنے میں اسے کبھی اتنی دقت محسوس نہیں ہوئی۔ لیکن ہارنے میں البتہ اسے کئی دفعہ کافی تگ و دو کرنا پڑی۔ شروع شروع میں بینک کی ملازمت کرتے ہوئے جب اسے خیال آیا کہ اس کے پاس بھی دولت کے انبار ہونے چاہئیں تو اس کے عزیز و اقارب اور دوستوں نے اس خیال کا مضحکہ اڑایا تھا مگر جب وہ بینک کی ملازمت چھوڑ کر بمبئی چلا گیا تو تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اس نے اپنے دوستوں اور عزیزوں کی روپے پیسے سے مدد کرنا شروع کردی۔ بمبئی میں اس کے لیے کئی میدان تھے مگر اس نے فلم کے میدان کو منتخب کیا۔ اس میں دولت تھی۔ شہرت تھی۔ اس میں چل پھر کر وہ دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹ سکتا تھا۔ اور دونوں ہی ہاتھوں سے لٹا بھی سکتا تھا۔ چنانچہ ابھی تک اسی میدان کا سپاہی ہے۔ لاکھوں نہیں کروڑوں روپیہ اس نے کمایا اور لٹا دیا۔ کمانے میں اتنی دیر نہ لگی۔ جتنی لٹانے میں۔ ایک فلم کے لیے گیت لکھے۔ لاکھ روپے دھروا لیے۔ لیکن ایک لاکھ روپوں کو رنڈیوں کے کوٹھوں پر، بھڑووں کی محفلوں میں، گھوڑ دوڑ کے میدانوں اور قمار خانوں میں ہارتے ہوئے اسے کافی دیر لگی۔ یک فلم بنایا۔ دس لاکھ کا منافع ہوا۔ اب اس رقم کو ادھر ادھر لٹانے کا سوال پیدا ہوا۔ چنانچہ اس نے اپنے ہر قدم میں لغزش پیدا کرلی۔ تین موٹریں خریدلیں۔ ایک نئی اور دو پرانی جن کے متعلق انھیں اچھی طرح علم تھا کہ بالکل ناکارہ ہیں۔ یہ اس کے گھر کے باہر گلنے سڑنے کے لیے رکھ دیں جو نئی تھی۔ اس کو گیراج میں بند کرادیا۔ اس بہانے سے کہ پٹرول نہیں ملتا۔ اس کے لیے ٹیکسی ٹھیک تھی۔ صبح لی۔ ایک میل کے بعد رکوا لی کسی قمار خانے میں چلے گئے۔ وہ اڑھائی ہزارروپے ہار کر دوسرے روز باہر نکلے ٹیکسی کھڑی تھی۔ اس میں بیٹھے اور گھر چلے گئے اور جان بوجھ کر کرایہ ادا کرنا بھول گئے۔ شام کو باہر نکلے اور ٹیکسی کھڑی دیکھ کر کہا۔

’’ارے نابکار، تو ابھی تک یہیں کھڑا ہے۔ چل میرے ساتھ دفتر۔ تجھے پیسے دلوادوں۔ دفتر پہنچ کر پھر کرایہ چکانا بھول گئے اور۔ اوپر تلے دو تین فلم کامیاب ہوئے جتنے ریکارڈ تھے سب ٹوٹ گئے۔ دولت کے انبار لگ گئے۔ شہرت آسمان تک جا پہنچی۔ جھنجھلا کر اس نے اوپر تلے دو تین ایسے فلم بنائے۔ جن کی ناکامی اپنی مثال آپ ہو کے رہ گئی۔ اپنی تباہی کے لیے کئی دوسروں کو بھی تباہ کردیا۔ لیکن فوراً ہی آستینیں چڑھائیں جو تباہ ہو گئے۔ ان کو حوصلہ دیا۔ اور ایک ایسا فلم تیار کردیا جو سونے کی کان ثابت ہوا۔ عورتوں کے معاملے میں بھی ان کی ہار جیت کا یہی چکر کار فرما رہا ہے۔ کسی محفل سے یا کسی کوٹھے پر سے ایک عورت اٹھائی۔ اس کو بنا سنوار کر شہرت کی اونچی گدی پر بیٹھا دیا اور اس کی ساری نسوانیت مسخر کرنے کے بعد اسے ایسے موقعے بہم پہنچائے کہ وہ کسی دوسرے کی رگدن میں اپنی بائیں حمائل کردے۔ بڑے بڑے سرمایہ داروں اور بڑے بڑے عشق پیشہ خوبصورت جوانوں سے مقابلہ ہوا۔ سردھڑ کی بازیاں لگیں۔ سیاست کی بساطیں بچھیں۔ لیکن وہ ان تمام خار دار جھاڑیوں میں ہاتھ ڈال کر اپنا پسندیدہ پھول نوچ کرلے آیا۔ دوسرے دن ہی اس کو اپنے کوٹ میں لگایا اور کسی رقیب کو موقع دے دیا کہ وہ جھپٹا مار کر لے جائے۔ ان دنوں جب وہ فارس روڈ کے ایک قمار خانے میں لگا تار دس روز سے جارہا تھا۔ اس پر ہارنے ہی کی دھن سوار تھی۔ یوں تو اس نے تازہ تازہ ایک بہت ہی خوبصورت ایکٹرس ہاری تھی اور دس لاکھ روپے ایک فلم میں تباہ کردیے تھے۔ مگر ان دو حادثوں سے اس کی طبیعت سیر نہیں ہوئی تھی۔ یہ دو چیزیں بہت ہی اچانک طور پر اس کے ہاتھ سے نکل گئی تھیں۔ اس کا اندازہ اس دفعہ غلط ثابت ہوا تھا چنانچہ یہی وجہ ہے کہ وہ روز فارس روڈ کے قمار خانے میں ناپ تول کر ایک مقررہ رقم ہار رہا تھا۔ ہر روز شام کو اپنی جیب میں دو سو روپے ڈال کروہ پون پل کا رخ کرتا۔ اس کی ٹیکسی ٹکھائیوں کی جنگلہ لگی دوکانوں کی قطار کے ساتھ ساتھ چلتی اور وہ جا کر بجلی کے ایک کھمبے کے پاس رک جاتی۔ اپنی ناک پر موٹے موٹے شیشوں والی عینک اچھی طرح جماتا۔ دھوتی کی لانگ ٹھیک کرتا اور ایک نظر دائیں جانب دیکھ کر جہاں لوہے کے جنگلے کے پیچھے ایک نہایت ہی بد شکل عورت ٹوٹا ہوا آئینہ رکھے سنگار میں مصروف ہوتی اوپر بیٹھک میں چلا جاتا۔ دس روز سے وہ متواتر فارس روڈ کے اس قمار خانے میں دو سو روپیہ ہارنے کے لیے آرہا تھا۔ کبھی تو یہ روپے دو تین ہاتھوں ہی میں ختم ہو جائے اور کبھی ان کو ہارتے ہارتے صبح ہو جاتی۔ گیارھویں روز بجلی کے کھمبے کے پاس جب ٹیکسی رکی تو اس نے اپنی ناک پر موٹے موٹے شیشوں پر والی عینک جما کر اور دھوتی کی لانگ ٹھیک کرکے ایک نظر دائیں جانب دیکھا تو اسے ایک دم محسوس ہوا کہ وہ دس روز سے اس بدشکل عورت کو دیکھ رہا ہے حسب دستور ٹوٹا ہوا آئینہ سامنے رکھے لکڑی کے تخت پر بیٹھی سنگار میں مصروف تھی۔ لوہے کے جنگلے کے پاس آکر اس نے غور سے اس ادھیڑ عمر کی عورت کو دیکھا۔ رنگ سیاہ، جلد چکنی، گالوں اور ٹھوڑی پر نیلے رنگ کے چھوٹے چھوٹے سوئی سے گندھے ہوئے دائرے جو چمڑی کی سیاہی میں قریب قریب جذب ہو گئے تھے۔ دانت بہت ہی بدنما، مسوڑھے پان اور تمباکو سے گلے ہوئے۔ اس نے سوچا اس عورت کے پاس کون آتا ہو گا؟۔ لوہے کے جنگلے کی طرف جب اس نے ایک قدم اور بڑھایا تو وہ بدشکل عورت مسکرائی۔ آئینہ ایک طرف رکھ کر اس نے بڑے ہی بھونڈے پن سے کہا۔

’’کیوں سیٹھ رہے گا؟‘‘

اس نے اور زیادہ غور سے اس عورت کی طرف دیکھا جسے اس عمر میں بھی امیدتھی کہ اس کے گاہک موجود ہیں۔ اس کو بہت حیرت ہوئی۔ چنانچہ اس نے پوچھا

’’بائی تمہاری کیا عمر ہو گی؟‘‘

یہ سن کر عورت کے جذبات کو دھکا سا لگا۔ منہ بسور کر اس نے مراٹھی زبان میں شاید گالی دی۔ اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ چنانچہ اس نے بڑے خلوص کے ساتھ اس سے کہا۔

’’بائی مجھے معاف کردو۔ میں نے ایسے ہی پوچھا تھا۔ لیکن میرے لیے بڑے اچنبھے کی بات ہے۔ ہر روز تم سج دھج کر یہاں بیٹھتی ہو۔ کیا تمہارے پاس کوئی آتا ہے؟‘‘

عورت نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے پھر اپنی غلطی محسوس کی اور اس نے بغیر کسی تجسس کے پوچھا۔

’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘

عورت جو پردہ ہٹا کر اندر جانے والی تھی رک گئی۔

’’گنگوبائی۔ ‘‘

’’گنگو بائی۔ تم ہر روز کتنا کما لیتی ہو؟‘‘

اس کے لہجے میں ہمدردی تھی۔ گنگو بائی لوہے کے سلاخوں کے پاس آگئی۔

’’چھ سات روپے۔ کبھی کچھ بھی نہیں۔ ‘‘

’’چھ سات روپے اور کبھی کچھ بھی نہیں۔ ‘‘

گنگو بائی کے یہ الفاظ دہراتے ہوئے ان دو سو روپوں کا خیال آیا جو اس کی جیب میں پڑے تھے اور جن کو وہ صرف ہار دینے کے لیے اپنے ساتھ لایا تھا۔ اسے معاً ایک خیال آیا۔

’’دیکھو گنگو بائی۔ تم روزانہ چھ سات روپے کماتی ہو۔ مجھ سے دس لے لیا کرو۔ ‘‘

’’رہنے کے؟‘‘

’’نہیں۔ لیکن تم یہی سمجھ لینا کہ میں رہنے کے دے رہا ہوں‘‘

یہ کہہ کر اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور دس روپے کا ایک نوٹ نکال کر سلاخوں میں سے اندر گزار دیا۔

’’یہ لو۔ ‘‘

گنگو بائی نے نوٹ لے لیا۔ لیکن اس کا چہرہ سوال بنا ہوا تھا۔

’’دیکھو گنگو بائی، میں تمہیں ہر روز اسی وقت دس روپے دے دیا کروں گا لیکن ایک شرط پر‘‘

’’سرت؟‘‘

’’شرط یہ ہے کہ دس روپے لینے کے عبد تم کھانا وانا کھا کر اندر سو جایا کرو۔ رات کو میں تمہاری بتی جلتی نہ دیکھوں۔ ‘‘

گنگو بائی کے ہونٹوں پر عجیب و غریب مسکراہٹ پیدا ہوئی۔

’’ہنسو نہیں۔ میں اپنے وچن کا پکار رہوں گا۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ اوپر قمار خانے میں چلا گیا۔ سیڑھیوں میں اس نے سوچا مجھے تو یہ روپے ہارنے ہی ہوتے ہیں۔ دو سو نہ سہی ایک سو نوے سہی۔ ‘‘

کئی دن گزر گئے۔ ہر روز حسبِ دستور اس کی ٹیکسی شام کے وقت بجلی کے کھمبے کے پاس رکتی۔ دروازہ کھول کروہ باہر نکلتا۔ موٹے شیشوں والی عینک میں سے دائیں جانب گنگو بائی کو آہنی سلاخوں کے پچیھے تخت پر بیٹھی دیکھتا۔ اپنی دھوتی کی لانگ ٹھیک کرتا جنگلے کے پاس پہنچتا اور دس روپے کا ایک نوٹ نکال کر گنگو بائی کو دے دیتا۔ گنگو بائی اس نوٹ کو ماتھے سے چھو کر سلام کرتی اور وہ ایک سو نوے ہارنے کے لیے اوپر کوٹھے پر چلا جاتا۔ اس دوران میں دو تین مرتبہ روپیہ ہارنے کے بعد جب وہ رات کو گیارہ بجے یا دو تین بجے نیچے اترا تو اس نے گنگو بائی کی دکان بند پائی۔ ایک دن حسبِ معمول دس روپے دے کر جب وہ کوٹھے پر گیا تو دس بجے ہی فارغ ہو گیا۔ تاش کے پتے کچھ ایسے پڑے کہ چند گھنٹوں ہی میں ایک سو نوے روپوں کا صفایا ہو گیا۔ کوٹھے سے نیچے اتر کر جب وہ ٹیکسی میں بیٹھنے لگا تو اس نے کیا دیکھا کہ گنگو بائی کی دکان کھلی ہے اور وہ لوہے کے جنگلے کے پیچھے تخت پر یوں بیٹھی ہے جیسے گاہکوں کا انتظار کررہی ہے ٹیکسی میں سے باہر نکل کروہ اس کی دکان کی طرف بڑھا۔ گنگو بائی نے اسے دیکھا تو گھبرا گئی لیکن وہ پاس پہنچ چکا تھا۔

’’گنگو بائی یہ کیا؟‘‘

گنگو بائی نے کوئی جواب نہ دیا۔

’’بہت افسوس ہے تم نے اپنے وچن پورا نہ کیا۔ میں نے تم سے کہا تھا۔ رات کو میں تمہاری بتی جلتی نہ دیکھوں۔ لیکن تم یہاں اس طرح بیٹھے ہو۔ ‘‘

اس کے لہجے میں دکھ تھا۔ گنگو بائی سوچ میں پڑ گئی۔

’’تم بہت بری ہو۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ واپس جانے لگا۔ گنگو بائی نے آواز دی۔

’’ٹھہرو سیٹھ۔ ‘‘

وہ ٹھہر گیا۔ گنگو بائی نے ہولے ہولے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کرتے ہوئے کہا۔

’’میں بہت بُری ہوں۔ پر یہاں چانگلی بھی کون ہے؟۔ سیٹھ تم دس روپے دے کر ایک کی بتی بجھاتے ہو۔ ذرا دیکھو تو کتنی بتیاں جل رہی ہں۔ ‘‘

اس نے ایک طرف ہٹ کر گلی کے ساتھ ساتھ دوڑتی ہوی جنگلہ لگی دکانوں کی طرف دیکھا۔ ایک نہ ختم ہونے والی قطار تھی اور بے شمار بتیاں رات کی کثیف فضا میں سُلگ رہی تھیں۔

’’کیا تم یہ سب بتیاں بجھا سکتے ہو؟‘‘

اس نے اپنی عینک کے موٹے موٹے شیشوں میں سے پہلے گنگو بائی کے سر پر لٹکتے ہوئے روشن بلب کو دیکھا۔ پھر گنگو بائی کے مٹمیلے چہرے کو اور گردن جھکا کر کہا۔

’’نہیں۔ گنگو بائی۔ نہیں۔ ‘‘

جب وہ ٹیکسی میں بیٹھا تو اس کی جیب کی طرح اس کا دل بھی خالی تھا۔ شیر آیا شیر آیا دوڑنا اونچے ٹیلے پر گڈریئے کا لڑکا کھڑا، دور گھنے جنگلوں کی طرف منہ کیے چلا رہا تھا۔

’’شیر آیا شیر آیا دوڑنا۔ ‘‘

بہت دیر تک وہ اپنا گلا پھاڑتا رہا۔ اس کی جوان بلند آواز بہت دیر تک فضاؤں میں گونجتی رہی۔ جب چلّا چلّا کر اس کا حلق سوکھ گیا تو بستی سے دو تین بڈھے لاٹھیاں ٹیکتے ہوئے آئے اور گڈریئے کے لڑکے کو کان سے پکڑ کر لے گئے۔ پنچائت بلائی گئی۔ بستی کے سارے عقلمند جمع ہوئے اور گڈریئے کے لڑکے کا مقدمہ شروع ہوا۔ فرد جرم یہ تھی کہ اس نے غلط خبر دی اور بستی کے امن میں خلل ڈالا۔ لڑکے نے کہا۔

’’میرے بزرگو، تم غلط سمجھتے ہو۔ شیر آیا نہیں تھا لیکن اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ آ نہیں سکتا؟‘‘

جواب ملا۔

’’وہ نہیں آسکتا۔ ‘‘

لڑکے نے پوچھا۔

’’کیوں؟‘‘

جواب ملا۔

’’محکمہ جنگلات کے افسر نے ہمیں چٹھی بھیجی تھی کہ شیر بڈھا ہو چکا ہے‘‘

لڑکے نے کہا۔

’’لیکن آپ کو یہ معلوم نہیں کہ اس نے تھوڑے ہی روز ہوئے کایا کلپ کرایا تھا۔ ‘‘

جواب ملا۔

’’یہ افواہ تھی۔ ہم نے محکمہ جنگلات سے پوچھا تھا اور ہمیں یہ جواب آیا تھا کہ کایا کلپ کرانے کی بجائے شیر نے تو اپنے سارے دانت نکلوا دیے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی زندگی کے بقایا دن اہنسا میں گزارنا چاہتا ہے۔ ‘‘

لڑکے نے بڑے جوش کے ساتھ کہا۔

’’میرے بزرگو، کیا یہ جواب جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ ‘‘

سب نے بیک زبان ہو کر کہا۔

’’قطعاً نہیں۔ ہمیں محکمہ جنگلات کے افسر پر پورا بھروسہ ہے۔ اس لیے کہ وہ سچ بولنے کا حلف اٹھا چکا ہے۔ ‘‘

لڑنے کے پوچھا۔

’’کیا یہ حلف جھوٹا نہیں ہوسکتا؟‘‘

جواب ملا۔

’’ہرگز نہیں۔ تم سازشی ہو، ففتھ کالمسٹ ہو، کمیونسٹ ہو، غدار ہو، ترقی پسند ہو۔ سعادت حسن منٹو ہو۔ لڑکا مسکرایا۔

’’خدا کا شکر ہے کہ میں وہ شیر نہیں جو آنے والا ہے۔ محکمہ جنگلات کا سچ بولنے والا افسر نہیں۔ میں۔ ‘‘

پنچائت کے ایک بوڑھے آدمی نے لڑکے کی بات کاٹ کر کہا۔

’’تم اسی گڈریئے کے لڑکے کی اولاد ہو جس کی کہانی سالہا سال سے اسکولوں کی ابتدائی جماعتوں میں پڑھائی جارہی ہے۔ تمہارا حشر بھی وہی ہو گا جو اس کا ہوا تھا۔ شیر آئے گا تو تمہاری ہی تِکا بوٹی اڑا دے گا۔ ‘‘

گڈریئے کا لڑکا مسکرایا۔

’’میں تو اس سے لڑوں گا۔ مجھے تو ہر گھڑی اس کے آنے کا کھٹکا لگا رہتا ہے۔ تم کیوں نہیں سمجھتے ہو کہ شیر آیا شیر آیا والی کہانی جو تم اپنے بچوں کو پڑھاتے ہو آج کی کہانی نہیں۔ آج کی کہانی میں تو شیر آیا شیر آیا کا مطلب یہ ہے کہ خبردار رہو۔ ہوشیار رہو۔ بہت ممکن ہے شیر کے بجائے کوئی گیدڑ ہی ادھر چلا آئے مگر اس حیوان کو بھی توروکنا چاہیے۔ ‘‘

سب لوگ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔

’’کتنے ڈر پوک ہو تم۔ گیدڑ سے ڈرتے ہو‘‘

گڈریئے کے لڑکے نے کہا۔

’’میں شیر اور گیدڑ دونوں سے نہیں ڈرتا۔ لیکن ان کی حیوانیت سے البتہ ضرور خائف رہتا ہوں اور اس حیوانیت کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو ہمیشہ تیار رکھتا ہوں۔ میرے بزرگو، اسکولوں میں سے وہ کتاب اٹھا لو۔ جس میں شیر آیا شیر آیا والی پرانی کہانی چھپی ہے۔ اس کی جگہ یہ نئی کہانی پڑھاؤ۔ ایک بڈھے نے کھانستے کھنکارتے ہوئے کہا۔

’’یہ لونڈا ہمیں گمراہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ ہمیں راہِ مستقیم سے ہٹانا چاہتا ہے۔ ‘‘

لڑکے نے مسکرا کر کہا۔

’’زندگی خطِ مستقیم نہیں ہے میرے بزرگو۔ ‘‘

دوسرے بڈھے نے فرطِ جذبات سے لرزتے ہوئے کہا۔

’’یہ ملحد ہے۔ یہ بے دین ہے، فتنہ پردازوں کا ایجنٹ ہے۔ اس کو فوراً زنداں میں ڈال دو۔ ‘‘

گڈریئے کے لڑکے کو زندان میں ڈال دیا گیا۔ اسی رات بستی میں شیر داخل ہوا۔ بھگدڑ مچ گئی۔ کچھ بستی چھوڑ کر بھاگ گئے۔ باقی شیر نے شکار کرلیے۔ مونچھوں کے ساتھ ہوا خون چوستا سب شیر زندان کے پاس سے گزرا تو اس نے مضبوط آہنی سلاخوں کے پیچھے گڈریئے کے لڑکے کو دیکھا اور دانت پیس کر رہ گیا۔ گڈریئے کا لڑکا مسکرایا۔

’’دوست یہ میرے بزرگوں کی غلطی ہے۔ ورنہ تم میرے لہو کا ذائقہ بھی چکھ لیتے۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

کھول دو

امرتسر سے اسپیشل ٹرین دوپہر دو بجے کو چلی اور آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچی۔ راستے میں کئی آدمی مارے گئے۔ متعدد زخمی ہوئے اور کچھ اِدھر اُدھر بھٹک گئے۔ صبح دس بجے۔ کیمپ کی ٹھنڈی زمین پر جب سراج الدین نے آنکھیں کھولیں اور اپنے چاروں طرف مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک متلاطم سمندر دیکھا تو اس کی سوچنے سمجھنے کی قوتیں اور بھی ضعیف ہو گئیں۔ وہ دیر تک گدلے آسمان کو ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا۔ یوں تو کیمپ میں ہر طرف شور برپا تھا۔ لیکن بوڑھے سراج الدین کے کان جیسے بند تھے۔ اسے کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔ کوئی اسے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ وہ کسی گہری فکر میں غرق ہے مگر ایسا نہیں تھا۔ اس کے ہوش و حواس شل تھے۔ اس کا سارا وجود خلا میں معلق تھا۔ گدلے آسمان کی طرف بغیر کسی ارادے کے دیکھتے دیکھتے سراج الدین کی نگاہیں سورج سے ٹکرائیں۔ تیز روشنی اس کے وجود کے رگ و ریشے میں اتر گئی اور وہ جاگ اٹھا۔ اوپر تلے اس کے دماغ پر کئی تصویریں دوڑ گئیں۔ لوٹ، آگ۔ بھاگم بھاگ۔ اسٹیشن۔ گولیاں۔ رات اور سکینہ۔ سراج الدین ایک دم اٹھ کھڑا ہوا اور پاگلوں کی طرح اس نے اپنے چاروں طرف پھیلے ہوئے انسانوں کے سمندر کو کھنگالنا شروع کیا۔ پورے تین گھنٹے وہ

’’سکینہ سکینہ‘‘

پکارتا کیمپ میں خاک چھانتا رہا۔ مگر اسے اپنی جوان اکلوتی بیٹی کا کوئی پتا نہ ملا۔ چاروں طرف ایک دھاندلی سی مچی تھی۔ کوئی اپنا بچہ ڈھونڈ رہا تھا۔ کوئی ماں۔ کوئی بیوی اور کوئی بیٹی۔ سراج الدین تھک ہار کر ایک طرف بیٹھ اور گیا اور حافظے پر زور دے کر سوچنے لگا کہ سکینہ اس سے کب اور کہاں جدا ہوئی۔ لیکن سوچتے سوچتے اس کا دماغ سکینہ کی ماں کی لاش پر جم جاتا۔ جس کی ساری انتڑیاں باہر نکلی ہوئی تھیں۔ اس سے آگے وہ اور کچھ نہ سوچ سکتا۔ سکینہ کی ماں مر چکی تھی۔ اس نے سراج الدین کی آنکھوں کے سامنے دم توڑا تھا۔ لیکن سکینہ کہاں تھی جس کے متعلق اس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا تھا

’’مجھے چھوڑو اور سکینہ کو لے کر جلدی یہاں سے بھاگ جاؤ۔ ‘‘

سکینہ اس کے ساتھ ہی تھی۔ دونوں ننگے پاؤں بھاگ رہے تھے۔ سکینہ کا دوپٹہ گر پڑا تھا۔ اسے اٹھانے کے لیے اس نے رکنا چاہا تھا مگر سکینہ نے چلا کر کہا تھا

’’ابا جی۔ چھوڑیئے۔ ‘‘

لیکن اس نے دوپٹہ اٹھا لیا تھا۔ یہ سوچتے سوچتے اس نے اپنے کوٹ کی ابھری ہوئی جیب کی طرف دیکھا اور اس میں ہاتھ ڈال کر ایک کپڑا نکالا۔ سکینہ کا وہی پٹہ تھا۔ لیکن سکینہ کہاں تھی؟ سراج الدین نے اپنے تھکے ہوئے دماغ پر بہت زور دیا مگر وہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکا۔ کیا وہ سکینہ کو اپنے ساتھ اسٹیشن تک لے آیا تھا؟۔ کیا وہ اس کے ساتھ ہی گاڑی میں سوار تھی؟۔ راستہ میں جب گاڑی روکی گئی تھی اور بلوائی اندر گھس آئے تھے تو کیا وہ بے ہوش ہو گیا تھا جو وہ سکینہ کو اٹھا کرلے گئے؟ سراج الدین کے دماغ میں سوال ہی سوال تھے، جواب کوئی بھی نہیں تھا۔ اس کو ہمدردی کی ضرورت تھی۔ لیکن چاروں طرف جتنے بھی انسان پھیلے ہوئے تھے سب کو ہمدردی کی ضرورت تھی۔ سراج الدین نے رونا چاہا۔ مگر آنکھوں نے اس کی مدد نہ کی۔ آنسو جانے کہاں غائب ہو گئے تھے۔ چھ روز کے بعد جب ہوش و حواس کسی قدر درست ہوئے تو سراج الدین ان لوگوں سے ملا جو اس کی مدد کرنے کے لیے تیار تھے۔ آٹھ نوجوان تھے۔ جن کے پاس لاری تھی، بندوقیں تھیں۔ سراج الدین نے ان کو لاکھ لاکھ دعائیں دیں اور سکینہ کا حلیہ بتایا۔

’’گورارنگ ہے اور بہت ہی خوبصورت ہے۔ مجھ پر نہیں اپنی ماں پر تھی۔ عمر سترہ برس کے قریب ہے۔ آنکھیں بڑی بڑی۔ بال سیاہ، دہنے گال پر موٹا سا تل۔ میری اکلوتی لڑکی ہے۔ ڈھونڈ لاؤ۔ تمہارا خدا بھلا کرے گا۔ ‘‘

رضا کار نوجوانوں نے بڑے جذبے کے ساتھ بوڑھے سراج الدین کو یقین دلایا کہ اگر اس کی بیٹی زندہ ہوئی تو چند ہی دنوں میں اس کے پاس ہو گی۔ آٹھوں نوجوان نے کوشش کی۔ جان ہتھیلیوں پر رکھ کر وہ امرتسر گئے۔ کئی عورتوں، کئی مردوں اور کئی بچوں کو نکال نکال کر انھوں نے محفوظ مقاموں پر پہنچایا۔ دس روز گزر گئے مگر انھیں سکینہ کہیں نہ ملی۔ ایک روز وہ اسی خدمت کے لیے لاری پر امرتسر جارہے تھے کہ چھ ہرٹہ کے پاس سڑک پر انھیں ایک لڑکی دکھائی دی۔ اری کی آواز سن کروہ بدکی اور بھاگنا شروع کردیا۔ رضا کاروں نے موٹر رکی اور سب کے سب اس کے پیچھے بھاگے۔ ایک کھیت میں انھوں نے لڑکی کو پکڑ لیا۔ دیکھا تو بہت خوبصورت تھی۔ دہنے گال پر موٹا تل تھا۔ ایک لڑکے نے اس سے کہا

’’گھبراؤ نہیں۔ کیا تمہارا نام سکینہ ہے؟‘‘

لڑکی کا رنگ اور بھی زرد ہو گیا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ لیکن جب تمام لڑکوں نے اسے دم دلاسا دیا تو اس کی وحشت دور ہوئی اور اس نے مان لیا کہ وہ سراج الدین کی بیٹی سکینہ ہے۔ آٹھ رضا کار نوجوانوں نے ہر طرح سکینہ کی دلجوئی کی۔ اسے کھانا کھلایا۔ دودھ پلایا اور لاری میں بٹھا دیا۔ ایک نے اپنا کو ٹ اتار کر اسے دے دیا۔ کیونکہ دوپٹہ نہ ہونے کے باعث وہ بہت الجھن محسوس کررہی تھی۔ اور بار بار بانھوں سے اپنے سینے کو ڈھانکنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھی۔ کئی دن گزر گئے۔ سراج الدین کو سکینہ کی کوئی خبر نہ ملی۔ وہ دن بھر مختلف کیمپوں اور دفتروں کے چکر کاٹتا رہتا۔ لیکن کہیں سے بھی اس کی بیٹی کا پتہ نہ چلا۔ رات کو وہ بہت دیر تک ان رضا کار نوجوانوں کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگتا رہتا۔ جنہوں نے اس کو یقین دلایا تھا کہ اگر سکینہ زندہ ہوئی تو چند دنوں ہی میں وہ اسے ڈھونڈ نکالیں گے۔ ایک روز سراج الدین نے کیمپ میں ان نوجوان رضا کاروں کو دیکھا۔ لاری میں بیٹھے تھے۔ سراج الدین بھاگا بھاگا ان کے پاس گیا۔ لاری چلنے ہی والی تھی کہ اس نے پوچھا۔

’’بیٹا، میری سکینہ کا پتہ چلا؟‘‘

سب نے یک زبان ہو کر کہا۔

’’چل جائے گا، چل جائے گا۔ ‘‘

اور لاری چلا دی۔ سراج الدین نے ایک بار پھران نوجوانوں کی کامیابی کے لیے دعا مانگی اور اس کا جی کسی قدر ہلکا ہو گیا۔ شام کے قریب کیمپ میں جہاں سراج الدین بیٹھا تھا۔ اس کے پاس ہی کچھ گڑبڑسی ہوئی۔ چار آدمی کچھ اٹھا کر لارہے تھے۔ اس نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ایک لڑکی ریلوے لائن کے پاس بیہوش پڑی تھی۔ لوگ اسے اٹھا کر لائے ہیں۔ سراج الدین ان کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ لوگوں نے لڑکی کو ہسپتال والوں کے سپرد کیا اور چلے گئے۔ کچھ دیر وہ ایسے ہی ہسپتال کے باہر گڑے ہوئے لکڑی کے کھمبے کے ساتھ لگ کر کھڑا رہا۔ پھر آہستہ آہستہ اندر چلا گیا۔ کمرے میں کوئی بھی نہیں تھا۔ ایک اسٹریچر تھا جس پر ایک لاش پڑی تھی۔ سراج الدین چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھا۔ کمرے میں دفعتاً روشنی ہوئی۔ سراج الدین نے لاش کے زرد چہرے پر چمکتا ہوا تل دیکھا اور چلایا۔

’’سکینہ!‘‘

ڈاکٹر نے جس نے کمرے میں روشنی کی تھی سراج الدین سے پوچھا۔

’’کیا ہے؟‘‘

سراج الدین کے حلق سے صرف اس قدر نکل سکا۔

’’جی میں۔ جی میں۔ اس کا باپ ہوں!‘‘

ڈاکٹر نے اسٹریچر پر پڑی ہوئی لاش کی طرف دیکھا۔ اس کی نبض ٹٹولی اور سراج الدین سے کہا

’’کھڑکی کھول دو۔ ‘‘

سکینہ کے مردہ جسم میں جنبش پیدا ہوئی۔ بے جان ہاتھوں سے اس نے ازار بند کھولا اور شلوار نیچے سرکا دی۔ بوڑھا سراج الدین خوشی سے چلایا۔

’’زندہ ہے۔ میری بیٹی زندہ ہے‘‘

۔ ڈاکٹر سر سے پیر تک پسینے میں غرق ہو گیا۔

سعادت حسن منٹو

کوٹ پتلون

ناظم جب باندرہ میں منتقل ہوا تو اُسے خوش قسمتی سے کرائے والی بلڈنگ میں تین کمرے مل گئے۔ اس بلڈنگ میں جو بمبئی کی زبان میں چالی کہلاتی ہے، نچلے درجے کے لوگ رہتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی (بمبئی کی زبان میں ) کھولیاں یعنی کوٹھڑیاں تھیں جن میں یہ لوگ اپنی زندگی جوں توں بسر کررہے تھے۔ ناظم کو ایک فلم کمپنی میں بحیثیت منشی یعنی مکالمہ نگار ملازمت مل گئی تھی۔ چونکہ کمپنی نئی قائم ہوئی تھی اس لیے اسے چھ سات مہینوں تک ڈھائی سو روپے ماہوار تنخواہ ملنے کا پورا تیقن تھا، چنانچہ اُس نے اس یقین کی بنا پر یہ عیاشی کی ڈونگری کی غلیظ کھولی سے اُٹھ کر باندرہ کی کرائے والی بلڈنگ میں تین کمرے لے لیے۔ یہ تین کمرے زیادہ بڑے نہیں تھے، لیکن اس بلڈنگ کے رہنے والوں کے خیال کے مطابق بڑے تھے، کہ انھیں کوئی سیٹھ ہی لے سکتا تھا۔ ویسے ناظم کا پہناوا بھی اب اچھا تھا کیونکہ فلم کمپنی میں معقول مشاہرے پر ملازمت ملتے ہی اِس نے کُرتہ پائیجامہ ترک کرکے کوٹ پتلون پہننا شروع کردی تھی۔ ناظم بہت خوش تھا۔ تین کمرے اُس کے اور اس کی نئی بیاہتا بیوی کے لیے کافی تھے۔ مگر جب اُسے پتہ چلا کہ غسل خانہ ساری بلڈنگ میں صرف ایک ہے تو اُسے بہت کوفت ہوئی ڈونگری میں تو اس سے زیادہ دقت تھی کہ وہاں کے واحد غسل خانہ میں نہانے والے کم از کم پانچ سو آدمی تھے اور اس کو چونکہ وہ صبح ذرا دیر سے اُٹھنے کا عادی تھا، نہانے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا۔ یہاں شاید اس لیے کہ لوگ نہانے سے گھبراتے تھے یا رات پالی(نائٹ ڈیوٹی)کرنے کے بعد دن بھر سوئے رہتے اس لیے اسے غسل کے سلسلے میں زیادہ تکلیف نہیں ہوتی تھی۔ غسل خانہ اس کے دروازے کے ساتھ بائیں طرف تھا۔ اس کے سامنے ایک کھولی تھی جس میں کوئی۔ معلوم نہیں کون رہتا تھا۔ ایک دن ناظم جب غسل خانے کے اندر گیا تو اس نے دروازہ بند کرتے ہوئے دیکھا کہ اس میں سوراخ ہے غورسے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ یہ کوئی قدرتی درز نہیں بلکہ خود ہاتھ سے کسی تیز آلے۔ کی مدد سے بنایاگیا ہے۔ کپڑے اُتار کے نہانے لگا تو اس کو خیال آیا کہ زون میں سے جھانک کرتو دیکھے۔ معلوم نہیں اسے یہ خواہش کیوں پیدا ہوئی۔ بہرحال اس نے اٹھ کر آنکھ اس سوراخ پر جمائی۔ سامنے والی کھولی کا دروازہ کھلا تھا۔ اور ایک جوان عورت جس کی عمر پچیس چھبیس برس کی ہو گی صرف بنیان اور پیٹی کوٹ پہنے یوں انگڑائیاں لے رہی تھی جیسے وہ ان دیکھے مردوں کو دعوت دے رہی ہے کہ وہ اسے اپنے بازوؤں میں بھینچ لیں اور اس کی انگڑائیوں کا علاج کردیں۔ ناظم نے جب یہ نظارہ دیکھا تو اس کا پانی سے ادھ بھیگا جسم تھرتھرا گیا۔ دیر تک وہ اسی عورت کی طرف دیکھتا رہا، جو اپنے مستور لیکن اس کے باوجود عریاں بدن کو ایسی نظروں سے دیکھ رہی تھی جس سے صاف پتہ چلتا تھا کہ وہ اس کا مصرف ڈُھونڈنا چاہتی ہے۔ ناظم بڑا ڈرپوک آدمی تھا۔ نئی نئی شادی کی تھی، اس لیے بیوی سے بہت ڈرتا تھا۔ اس کے علاوہ اُس کی سرشست میں بدکاری نہیں تھی۔ لیکن غسل خانے کے اُس سوراخ نے اس کے کردار میں کئی سوراخ کردیے۔ اس میں سے ہر روز صبح کو وہ اس عورت کو دیکھتا اور اپنے گیلے یا خشک بدن میں عجیب قسم کی حرارت محسوس کرتا۔ چند روز بعد اسے بعد اُسے محسوس ہوا کہ وہ عورت جس کا نام زبیدہ تھا اُس کو اس بات کا علم ہے کہ وہ غسل خانے کے دروازے کے سوراخ سے اُس کو دیکھتا ہے۔ اور کن نظروں سے دیکھتا ہے ظاہرہے کہ جو مرد غسل خانے میں جاکر دروازے کی درز میں سے کسی ہمسائی کو جھانکے گا تو اُس کی نیت کبھی صاف نہیں ہوسکتی۔ ناظم کی نیت قطعاً نیک نہیں تھی۔ اُس کی طبیعت کو اس عورت نے جو صرف بنیان اور پیٹی کوٹ پہنتی اور اس وقت جب کہ ناظم نہانے میں مصروف ہوتا اس قسم کی انگڑائیاں لیتی تھی کہ دیکھنے والے مرد کی ہڈیاں چٹخنے لگیں، اس نے اسے اُکسادیا تھا مگر وہ ڈرپوک تھا۔ اُس کی شریف فطرت اُس کو مجبور کرتی کہ وہ اُس سے زیادہ آگے نہ بڑھے۔ ورنہ اُسے یقین تھا کہ اس عورت کو حاصل کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ ایک دن ناظم نے غسل خانے میں سے دیکھا کہ زبیدہ مسکرارہی ہے اُس کو معلوم تھا کہ ناظم اُس کو دیکھ رہا ہے۔ اُس دن اُس نے اپنے صحت مند ہونٹوں پر لپ اسٹک لگائی ہوئی تھی۔ گالوں پر غازہ اور سُرخی بھی تھی۔ بنیان خلافِ معمول چھوٹی اور انگیا پہلے سے زیادہ چست۔ ناظم نے خود کو اس فلم کا ہیرو محسوس کیا جس کے وہ مکالمے لکھ رہا تھا۔ لیکن جونہی اپنی بیوی کا خیال آیا جو اس کے دولت مند بھائی کے گھر ورلی گئی ہوئی تھی وہ اسی فلم کا ایکسٹرا بن گیا۔ اور سوچنے لگا کہ اسے ایسی عیاشی سے باز رہنا چاہیے۔ بہت دنوں کے بعد ناظم کو معلوم ہوا کہ زبیدہ کا خاوند کسی مل میں ملازم ہے۔ چونکہ اُس کی اولاد نہیں ہوتی اس لیے پیروں فقیروں کے پیچھے پھرتا رہتا ہے۔ کئی حکیموں سے علاج بھی کراچکا تھا۔ بہت کم زبان، اور داڑھی مونچوں سے بے نیاز۔ پنجابی زبان میں ایسے مردوں کو

’’کھودا‘‘

کہتے ہیں معلوم نہیں کس رعایت سے، لیکن اس رعایت سے زبیدہ کا خاوند کھودا تھا کہ وہ زمین کاہر ٹکڑا کھودتاکہ اِس سے اُس کا کوئی بچہ نکل آئے۔ مگر زبیدہ کو بچے کی کوئی فکر نہ تھی۔ وہ غالباً یہ چاہتی تھی کہ کوئی اس کی جوانی کی فکر کرے۔ جس کے بارے میں شاید اس کا شوہر غافل تھا۔ ناظم کے علاوہ اس بلڈنگ میں ایک اور نوجوان تھا۔ کنوارا۔ کنوارے تو یوں وہاں کئی تھے، مگر اس میں خصوصیت یہ تھی کہ وہ بھی کوٹ پتلون پہنتا تھا۔ ناظم کو معلوم ہوا کہ وہ بھی غسل خانے میں سے زبیدہ کو جھانکتا ہے اور وہ اسی طرح سوراخ کے اس طرف اپنے مستور لیکن غیر مستور جسم کی نمائش کرتی ہے۔ ناظم پہلے پہل بہت جلا۔ رشک اور حسد کا جذبہ ایسے معاملات میں عام طور پر پیدا ہو جایا کرتا ہے۔ لازماً ناظم کے دل میں بھی پیدا ہوا۔ لیکن یہ کوٹ پتلون پہننے والا نوجوان ایک مہینے کے بعد رخصت ہو گیا۔ اس لیے کہ اسے احمد آباد میں اچھی ملازمت مل گئی تھی۔ ناظم کے سینے کا بوجھ ہلکا ہو گیا تھا۔ لیکن اُس میں اتنی جرأت نہ تھی کہ زبیدہ سے بات چیت کرسکتا۔ غسل خانہ کے دروازے کے سُوراخ میں سے وہ ہر روز اُسی انداز میں دیکھتا اور ہر روز اُس کے دماغ میں حرارت بڑھتی جاتی۔ لیکن ہر روز سوچتا کہ اگر کسی کو پتہ چل گیا تو اُس کی شرافت مٹی میں مل جائے گی۔ اسی لیے وہ کوئی تیز قدم آگے نہ بڑھاسکا۔ اس کی بیوی ورلی سے آگئی تھی۔ وہاں صرف ایک ہفتہ رہی۔ اس کے بعد اس نے غسل خانے میں سے زبیدہ کو دیکھنا چھوڑ دیا۔ اس لیے کہ اُس کے ضمیر نے ملامت کی تھی۔ اس نے اپنی بیوی سے اور زیادہ محبت کرنا شروع کردی۔ شروع شروع میں اسے کسی قدر حیرت ہوئی مگر بعد میں اُسے بڑی مسرت محسوس ہوئی کہ اس کا خاوند اس کی طرف پہلے سے کہیں زیادہ توجہ دے رہاہے۔ لیکن ناظم نے پھر غسل خانے میں سے تاک جھانک شروع کردی۔ اصل میں اُس کے دل و دماغ میں زبیدہ کا مستور مگر غیر مستور بدن سما گیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی انگڑائیوں کے ساتھ کھیلے اور کچھ اس طرح کھیلے کے خود بھی ایک نہ ٹُوٹنے والی انگڑائی بن جائے۔ فلم کمپنی سے تنخواہ برابر وقت پر مل رہی تھی۔ ناظم نے ایک نیا سوٹ بنوالیا تھا۔ اُس میں جب زبیدہ نے اُسے اپنی کھولی کے کھلے ہوئے دروازے میں سے دیکھا تو ناظم نے محسوس کیا کہ وہ اسے زیادہ پسندیدہ نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ اُس نے چاہا کہ دس قدم آگے بڑھ کر اپنے ہونٹوں پر اپنی تمام زندگی کی تمام مسکراہٹیں بکھیر کر کہے

’’جناب سلام عرض کرتا ہوں۔ ‘‘

ناظم یوں تو مکالمہ نگار تھا۔ ایسے فلموں کے ڈایلاگ لکھتا جو عشق و محبت سے بھرپور ہوتے تھے۔ مگر اس وقت اس کے ذہن میں تعارفی مکالمہ یہی آیا کہ وہ اُس سے کہے

’’جناب ! سلام کرتا ہوں۔ ‘‘

اُس نے دو قدم آگے بڑھائے۔ زبیدہ کلی کی طرح کھلی مگر وہ مُرجھاگیا۔ اُس کو اپنی بیوی کے خوف اور شرافت کے زائل ہونے کے احساس نے یہ بڑھائے ہوئے قدم پیچھے ہٹانے پر مجبور کردیا۔ اور اپنے گھر جاکر اپنی بیوی سے کچھ ایسی محبت سے پیش آیا کہ غریب شرما گئی۔ اسی دوران ایک اور کوٹ پتلون والا کرائے دار بلڈنگ میں آیا۔ اس نے بھی غسل خانے کے سوراخ میں سے جھانک کر دیکھنا شروع کردیا۔ ناظم کے لیے یہ دوسرا رقیب تھا مگر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد برقی ٹرین سے اُترتے وقت اُس کا پاؤں پھسلا اور ہلاک ہو گیا۔ ناظم کو اُس کی موت پر افسوس ہوا۔، مگر مشیتِ ایزدی کے سامنے کیا چارہ ہے اُس نے سوچا شاید خدا کو یہی منظور تھا کہ اُس کے راستے سے یہ روڑاہٹ جائے۔ چنانچہ اُس نے پھرغسل خانے کے دروازے کے سُوراخ سے اور اپنے تین کمروں میں آتے جاتے وقت زبیدہ کو اُنھیں نظروں سے دیکھنا شروع کردیا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ لاہور میں ناظم کی بیوی کے کسی قریبی رشتہ دار کی شادی تھی۔ اس تقریب میں اُس کی شمولیت ضروری تھی۔ ناظم کے جی میں آئی کہ وہ اس سے کہہ دے کہ یہ تکلف اس سے برداشت نہیں ہوسکتا۔ لیکن فوراً اُسے زبیدہ کا خیال آیا اور اُس نے اپنی بیوی کو لاہور جانے کی اجازت دے دی۔ مگر وہ فکر مند تھا کہ اُسے صبح چائے بنا کر کون دے گا۔ یہ واقعی بہت اہم چیز تھی۔ اس لیے کہ ناظم چائے کا رسیا تھا۔ صبح سویرے اگر اُسے چائے کی دو پیالیاں نہ ملیں تو وہ سمجھتا تھا کہ دن شروع ہی نہیں ہوا۔ بمبئی میں رہ کر وہ اس شے کا حد سے زیادہ عادی ہو گیا تھا۔ اُس کی بیوی نے تھوڑی دیر سوچا اور کہا، آپ کچھ فکر نہ کیجیے۔ میں زبیدہ سے کہے دیتی ہوں کہ وہ آپ کو صبح کی چائے بھیجنے کا انتظام کردے گی۔ چنانچہ اُس نے فوراً زبیدہ کو بلوایا اور اس کو مناسب وموزوں الفاظ میں تاکید کردی کہ وہ اُس کے خاوند کے لیے چائے کی دو پیالیوں کا ہر صبح جب تک وہ نہ آئے انتظام کردیا کرے۔ اس وقت زبیدہ پورے لباس میں تھی اور دوپٹے کے پلو سے اپنے چہرے کا ایک حصہ ڈھانپے کنکھیوں سے ناظم کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ بہت خوش ہوا۔ مگر کوئی ایسی حرکت نہ کی جس سے کسی قسم کا شبہ ہوتا۔ چند منٹوں کی رسمی گفتگو میں یہ طے ہو گیا کہ زبیدہ چائے کا بندوبست کردے گی۔ ناظم کی بیوی نے اُسے دس روپے کا نوٹ پیشگی کے طور پر دینا چاہا مگر اُس نے انکار کردیا اور بڑے خلوص سے کہا۔

’’بہن اس تکلف کی کیا ضرورت ہے۔ آپ کے میاں کو کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔ صبح جس وقت چاہیں، چائے مل جایا کرے گی۔ ‘‘

ناظم کا دل باغ باغ ہو گیا۔ اُس نے دل ہی دل میں کہا۔ چائے ملے نہ ملے۔ لیکن زبیدہ تم مل جایا کرے۔ لیکن فوراً اُسے اپنی بیوی کا خیال آیا اور اُس کے جذبات سرد ہو گئے۔ ناظم کی بیوی لاہور چلی گئی۔ دوسرے روز صبح سویرے جبکہ وہ سو رہا تھا دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ سمجھا شاید اُس کی بیوی باورچی خانے میں پتھر کے کوئلے توڑ رہی ہے۔ چنانچہ کروٹ بدل کر اُس نے پھر آنکھیں بند کرلیں۔ لیکن چند لمحات کے بعد پھر ٹھک ٹھک ہوئی اور ساتھ ہی مہین نسوانی آواز آئی۔

’’ناظم صاحب۔ ناظم صاحب‘‘

ناظم کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اُس نے زبیدہ کی آواز کو پہچان لیا تھا۔ اُس کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کرے۔ ایک دم چونک کر اُٹھا۔ دروزاہ کھولا زبیدہ دونوں ہاتھوں میں ٹرے لیے کھڑی تھی۔ اس نے ناظم کو سلام کیا اور کہا

’’چائے حاضر ہے۔ ‘‘

ایک لحظے کے لیے ناظم کا دماغ غیر حاضر ہو گیا۔ لیکن فوراً سنبھل کر اُس نے زبیدہ سے کہا

’’آپ نے بہت تکلیف کی۔ لائیے یہ ٹرے مجھے دے دیجیے۔ ‘‘

زبیدہ مسکرائی

’’میں خود اندر رکھ دیتی ہوں۔ تکلیف کی بات ہی کیا ہے۔ ‘‘

ناظم شب خوابی کا لباس پہنے تھا۔ دھاری دار پاپلین کا کرتا اور پائجامہ۔ یہ عیاشی اُس نے زندگی میں پہلی بار کی تھی۔ زبیدہ شلوار قمیص میں تھی۔ ان دونوں لباسوں کے کپڑے بہت معمولی اور سستے تھے مگر وہ اس پر سج رہے تھے۔ چائے کی ٹریک اُٹھائے وہ اندر آئی۔ اس کو تپائی پر رکھا اور ناظم کے چڑیا ایسے دل کو کہہ کر دھڑکایا

’’مجھے افسوس ہے کہ چائے بنانے میں دیر ہو گئی۔ دراصل میں زیادہ سونے کی عادی ہوں۔ ‘‘

ناظم کرسی پر بیٹھ چکا تھا جب زبیدہ نے یہ کہا تو اُس کے جی میں آئی کہ ذرا شاعری کرے اور اُس سے کہے

’’آؤ۔ سو جائیں۔ سونا ہی سب سے بڑی نعمت ہے۔ ‘‘

۔ لیکن اس میں اتنی جرأت نہیں تھی، چنانچہ وہ خاموش رہا۔ زبیدہ نے بڑے پیار سے ناظم کو چائے بنا کردی۔ وہ چائے کے ساتھ زبیدہ کو بھی پیتا رہا۔ لیکن اُس کی قوت ہاضمہ کمزور تھی۔ اس لیے اس نے فوراً اس سے کہا

’’زبیدہ جی آپ اور تکلیف نہ کریں۔ میں برتن صاف کراکے آپ کو بھجوا دُوں گا۔ ‘‘

ناظم کو اس بات کا احساس تھا کہ اُس کے دل میں جتنے برتن ہیں، زبیدہ کی موجودگی میں صاف کر دیے ہیں۔ برتن اُٹھا کر جب وہ چلی گئی تو ناظم کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ تھوتھا چنا بن گیا ہے جو گھنا بج رہاہے۔ زبیدہ ہر روز صبح سویرے آتی۔ اُسے چائے پلاتی۔ وہ اُس کو اور چائے دونوں کو پیتا۔ اور اپنی بیوی کو یاد کرکے ڈرکے مارے رات کو سوجاتا۔ دس بارہ روز یہ سلسلہ جاری رہا۔ زبیدہ نے ناظم کو ہر موقع دیا کہ وہ اُس کی نہ ٹُوٹنے والی انگڑائیوں کو توڑدے۔ لیکن ناظم خود ایک غیر مختتم ! انگڑائی بن کے رہ گیا تھا۔ اُس کے پاس دو سُوٹ تھے مگر اُس نے چرفی روڈ کی اُس دکان سے جہاں اُس فلم کمپنی کا سیٹھ کاسٹیوم بنوایا کرتا تھا ایک اور سُوٹ سُلوایا اور اس سے وعدہ کیا کہ رقم بہت جلدادا کردے گا۔ گبر ڈین کا یہ سُوٹ پہن کر وہ زبیدہ کی کھولی کے سامنے سے گزرا۔ حسبِ معمول وہ بنیان اور پیٹی کوٹ پہنے تھی۔ اُسے دیکھ وہ دروازے کے پاس آئی۔ مہین سی مسکراہٹ اُس کے سرخی لگے ہونٹوں پر نمودار ہوئی اور اُس نے بڑے پیار سے کہا

’’ناظم صاحب آج تو آپ شہزادے لگتے ہیں۔ ‘‘

ناظم ایک دم کوہ قاف چلا گیا۔ یا شاید اُن کتابوں کی دنیا میں جو شہزادوں اور شہزادیوں کے اذکار سے بھری پڑی ہیں۔ لیکن فوراً وہ اپنے برق رفتار گھوڑے پر سے گرکر زمین پر اوندھے منہ آ رہا۔ اور اپنی بیوی سے جو لاہور میں تھی کہنے لگا سخت چوٹ لگی ہے۔ عشق کی چوٹ یوں بھی بڑی سخت ہوتی ہے، لیکن جس قسم کا عشق ناظم کا تھا۔ اس کی چوٹ بہت شدیدتھی۔ اس لیے کہ شرافت اور اُس کی بیوی اُس کے آڑے آتی تھی۔ ایک اور چوٹ ناظم کو یہ لگی کہ اُس کی فلم کمپنی کادیوالیہ پٹ گیا۔ معلوم نہیں کیا ہوا۔ بس ایک دن جب وہ کمپنی گیا تو اُس کو معلوم ہوا کہ وہ ختم ہو گئی۔ اُس سے پانچ روز پہلے وہ سو روپے اپنی بیوی کو لاہور بھیج چکا تھا۔ سو روپے چرنی روڈ کے بزاز کے دینے تھے کچھ اور بھی قرض تھے۔ ناظم کے دماغ سے عشق پھر بھی نہ نکلا۔ زبیدہ ہر روز چائے لے کر آتی تھی۔ لیکن اب وہ سخت شرمندہ تھا کہ اتنے دنوں کے پیسے وہ کیسے ادا کرے گا۔ اُس نے ایک ترکیب سوچی کہ اپنے تینوں سوٹ جن میں نیا گیبر ڈین کا بھی شامل تھا گروی رکھ کر صرف پچاس روپے وصول کیے۔ دس دس کے پانچ نوٹ جیب میں ڈال کر ناظم نے سوچا کہ ان میں دو چار زبیدہ کو دے دے گا، اور اس سے ذرا کھلی بات کرے گا۔ لیکن دادرا اسٹیشن پر کسی جیب کترے اُس کی جیب صاف کردی۔ اُس نے چاہا کہ خود کشی کرلے ٹرینیں آ جارہی تھیں پلیٹ فارم سے ذرا سا پھسل جانا کافی تھا۔ یوں چٹکیوں میں اُس کا کام تمام ہوجاتا۔ مگر اس کو اپنی بیوی کا خیال آٰگیا جو لاہور میں تھی اور اُمید سے۔ ناظم کی حالت بہت خستہ ہو گئی۔ زبیدہ آتی تھی لیکن اُس کی نگاہوں میں اب وہ بات ناظم کو نظر نہیں آتی تھی۔ چائے کی پتی ٹھیک نہیں ہوتی تھی۔ دُودھ سے تو اُسے کوئی رغبت نہیں تھی لیکن پانی ایسا پتلا ہوتا تھا، اُس کے علاوہ اب وہ زیادہ سجی بنی نہ ہوتی تھی۔ غسل خانے میں جاتا اور اُسے دروازے کے سوراخ میں سے جھانکتا وہ نظر نہ آتی۔ لیکن ناظم خود بہت متفکر تھا۔ اس لیے کہ اُسے دو مہینوں کا کرایہ ادا کرنا تھا۔ چرنی روڈ کے بزاز کے اور دوسرے لوگوں کے قرض کی ادائیگی بھی اس کے ذمہ تھی۔ چند روز میں ناظم کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کا جو بہت بڑا بینک تھا فیل ہو گیا ہے۔ اس کی ٹانچ آنے والی تھی، مگر اس سے پہلے ہی اُس نے کرائے والی بلڈنگ سے نقل مکانی کا ارادہ کرلیا۔ ایک شخص سے اس نے طے کیا کہ وہ اُس کا قرض ادا کردے تو وہ اس کو اپنے تین کمرے دے دے گا۔ اُس نے اُس کے تینوں سوٹ واپس دلوادیے۔ چھوٹے موٹے قرض بھی ادا کردیے۔ جب ناظم غمناک آنکھوں سے

’’کرائے والی بلڈنگ‘‘

سے اپنا مختصر سامان اُٹھوا رہا تھا تو اس نے دیکھا زبیدہ نئے مکین کو جو شارک سکن کے کوٹ پتلون میں ملبوس تھا ایسی نظروں سے دیکھ رہی ہے، جن سے وہ کچھ عرصہ پہلے اسے دیکھا کرتی تھی۔

سعادت حسن منٹو

کتے کی دعا

’’آپ یقین نہیں کریں گے۔ مگر یہ واقعہ جو میں آپ کو سنانے والا ہوں، بالکل صحیح ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کرشیخ صاحب نے بیڑی سلگائی۔ دو تین زور کے کش لے کر اسے پھینک دیا اور اپنی داستان سنانا شروع کی۔ شیخ صاحب کے مزاج سے ہم واقف تھے، اس لیے ہم خاموشی سے سنتے رہے۔ درمیان میں ان کو کہیں بھی نہ ٹوکا۔ آپ نے واقعہ یوں بیان کرنا شروع کیا۔

’’گولڈی میرے پاس پندرہ برس سے تھا۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔ اس کا رنگ سنہری مائل بھوسلا تھا۔ بہت ہی حسین کتا تھا جب میں صبح اس کے ساتھ باغ کی سیر کو نکلتا تو لوگ اسکو دیکھنے کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے۔ لارنس گارڈن کے باہر میں اسے کھڑا کردیتا۔

’’گولڈی کھڑے رہنا یہاں۔ میں ابھی آتا ہوں‘‘

یہ کہہ کر میں باغ کے اندر چلا جاتا۔ گھوم پھر کر آدھے گھنٹے کے بعد واپس آتا تو گولڈی وہیں اپنے لمبے لمبے کان لٹکائے کھڑا ہوتا۔ اسپنیل ذات کے کتے عام طورپربڑے اطاعت گزار اور فرمانبردار ہوتے ہیں۔ مگر میرے گولڈی میں یہ صفات بہت نمایاں تھیں۔ جب تک اسکو اپنے ہاتھ سے کھانا نہ دوں نہیں کھاتا تھا۔ دوست یاروں نے میرا مان توڑنے کے لیے لاکھوں جتن کیے مگر گولڈی نے ان کے ہاتھ سے ایک دانہ تک نہ کھایا۔ ایک روز اتفاق کی بات ہے کہ میں لارنس کے باہر اسے چھوڑ کر اندر گیا تو ایک دوست مل گیا۔ گھومتے گھومتے کافی دیر ہو گئی۔ اس کے بعد وہ مجھے اپنی کوٹھی لے گیا۔ مجھے شطرنج کھیلنے کا مرض تھا۔ بازی شروع ہوئی تو میں دنیا مافیا بھول گیا۔ کئی گھنٹے بیت گئے۔ دفعتہً مجھے گولڈی کا خیال آیا۔ بازی چھوڑ کر لارنس کے گیٹ کی طرف بھاگا۔ گولڈی وہیں اپنے لمبے لمبے کان لٹکائے کھڑا تھا۔ مجھے اس نے عجیب نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہا ہے

’’دوست، تم نے آج اچھا سلوک کیا مجھ سے‘‘

میں بے حد نادم ہوا چنانچہ آپ یقین جانیں میں نے شطرنج کھیلنا چھوڑ دی۔ معاف کیجیے گا۔ میں اصل واقعے کی طرف ابھی تک نہیں آیا۔ دراصل گولڈی کی بات شروع ہوئی تو میں چاہتا ہوں کہ اسکے متعلق مجھے جتنی باتیں یاد ہیں آپکو سنا دوں۔ مجھے اس سے بے حد محبت تھی۔ میرے مجرد رہنے کا ایک باعث اسکی محبت بھی تھی جب میں نے شادی نہ کرنے کا تہیہ کیا تواس کو خصی کرادیا۔ آپ شاید کہیں کہ میں نے ظلم کیا، لیکن میں سمجھتا ہوں۔ محبت میں ہر چیز روا ہے۔ میں اسکی ذات کے سوا اور کسی کو وابستہ دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ کئی بار میں نے سوچا اگر میں مر گیا تو یہ کسی اور کے پاس چلا جائے گا۔ کچھ دیر میری موت کا اثر اس پر رہے گا۔ اس کے بعد مجھے بھول کر اپنے نئے آقا سے محبت کرنا شروع کردے گا جب میں یہ سوچتا تو مجھے بہت دکھ ہوتا۔ لیکن میں نے یہ تہیہ کرلیا تھا کہ اگرمجھے اپنی موت کی آمد کا پورا یقین ہو گیا تو میں گولڈی کو ہلاک کردوں گا۔ آنکھیں بند کرکے اسے گولی کا نشانہ بنا دوں گا۔ گولڈی کبھی ایک لمحے کے لیے مجھ سے جدا نہیں ہوا تھا۔ رات کو ہمیشہ میرے ساتھ سوتا۔ میری تنہا زندگی میں وہ ایک روشنی تھی۔ میری بے حد پھیکی زندگی میں اسکا وجود ایک شیرینی تھا۔ اس سے میری غیر معمولی محبت دیکھ کر کئی دوست مذاق اڑاتے تھے۔

’’شیخ صاحب گولڈی کتیا ہوتی تو آپ نے ضرور اس سے شادی کر لی ہوتی۔ ‘‘

ایسے ہی کئی اور فقرے کسے جاتے لیکن میں مسکرا دیتا۔ گولڈی بڑا ذہین تھا اس کے متعلق جب کوئی بات ہوئی تو فوراً اس کے کان کھڑے ہو جاتے تھے۔ میرے ہلکے سے ہلکے اشارے کو بھی وہ سمجھ لیتا تھا۔ میرے موڈ کے سارے اتار چڑھاؤ اسے معلوم ہوتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے رنجیدہ ہوتا تووہ میرے ساتھ چہلیں شروع کردیتا مجھے خوش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا۔ ابھی اس نے ٹانگ اٹھا کر پیشاب کرنا نہیں سیکھا تھا یعنی ابھی کم سن تھا کہ اس نے ایک برتن کو جو کہ خالی تھا۔ تھوتھنی بڑھا کرسونگھا۔ میں نے اسے جھڑکا تو دم دبا کروہیں بیٹھ گیا۔ پہلے اس کے چہرے پر حیرت سی پیدا ہوئی تھی کہ ہیں یہ مجھ سے کیا ہو گیا۔ دیر تک گردن نیوڑھائے بیٹھا رہا۔ جیسے ندامت کے سمندر میں غرق ہے۔ میں اٹھا۔ اٹھ کر اسکو گود میں لیا۔ پیارا پچکارا۔ بڑی دیر کے بعد جا کر اسکی دم ہلی۔ مجھے بہت ترس آیا کہ میں نے خواہ مخواہ اسے ڈانٹا کیوں کہ اس روز رات کو غریب نے کھانے کو منہ نہ لگایا۔ وہ بڑاحساس کتا تھا۔ میں بہت بے پروا آدمی ہوں۔ میری غفلت سے اس کو ایک بار نمونیہ ہو گیا میرے اوسطان خطا ہو گئے۔ ڈا کٹروں کے پاس دوڑا۔ علاج شروع ہوا۔ مگر اثر ندارد۔ متواتر سات راتیں جاگتارہا۔ اسکو بہت تکلیف تھی۔ سانس بڑی مشکل سے آتا تھا۔ جب سینے میں درد اٹھتا تو وہ میری طرف دیکھتا جیسے یہ کہہ رہا ہے۔

’’فکر کی کوئی بات نہیں، میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔ ‘‘

کئی بار میں نے محسوس کیا کہ صرف میرے آرام کی خاطر اس نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسکی تکلیف کچھ کم ہے وہ آنکھیں میچ لیتا۔ تاکہ میں تھوڑی دیر آنکھ لگالوں۔ آٹھویں روز خدا خدا کرکے اس کا بخار ہلکا ہوا اور آہستہ آہستہ اتر گیا۔ میں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو مجھے ایک تھکی تھکی سی مسکراہٹ اسکی آنکھوں میں تیرتی نظر آئی۔ نمونیے کے ظالم حملے کے بعد دیر تک اس کو نقاہت رہی۔ لیکن طاقت ور دواؤں نے اسے ٹھیک ٹھاک کردیا۔ ایک لمبی غیر حاضری کے بعد لوگوں نے مجھے اسکے ساتھ دیکھا تو طرح طرح کے سوال کرنے شروع کیے

’’عاشق و معشوق کہاں غائب تھے اتنے دنوں‘‘

’’آپس میں کہیں لڑائی تو نہیں ہو گئی تھی‘‘

’’کسی اور سے تو نظر نہیں لڑ گئی تھی گولڈی کی‘‘

میں خاموش رہا۔ گولڈی یہ باتیں سنتا تو ایک نظر میری طرف دیکھ کر خاموش ہو جاتا کہ بھونکنے دو کتوں کو۔ وہ مثل مشہور ہے۔ کند ہم جنس باہم جنس پرواز۔ کبوتر بہ کبوتر باز بہ باز۔ لیکن گولڈی کو اپنے ہم جنسوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اسکی دنیا صرف میری ذات تھی۔ اس سے باہر وہ کبھی نکلتا ہی نہیں تھا۔ گولڈی میرے پاس نہیں تھا۔ جب ایک دوست نے مجھے اخبار پڑھ کر سنایا۔ اس میں ایک واقعہ لکھا تھا۔ آپ سنیے بڑا دلچسپ ہے۔ امریکہ یا انگلستان مجھے یاد نہیں کہاں۔ ایک شخص کے پاس کتا تھا۔ معلوم نہیں کس ذات کا۔ اس شخص کا آپریشن ہونا تھا۔ اسکو ہسپتال لے گئے تو کتا بھی ساتھ ہولیا۔ اسٹریچر پر ڈال کر اس کو آپریشن روم میں لے جانے لگے تو کتے نے اندر جانا چاہا۔ مالک نے اس کو روکا اور کہا، باہر کھڑے رہو۔ میں ابھی آتا ہوں۔ کتا حکم سن کر باہر کھڑا ہو گیا۔ اندر مالک کا آپریشن ہوا۔ جو ناکام ثابت ہوا۔ اسکی لاش دوسرے دروازے سے باہر نکال دی گئی۔ کتا بارہ برس تک وہیں کھڑا اپنے مالک کا انتظار کرتا رہا۔ پیشاب۔ پاخانے کے لیے کچھ وہاں سے ہٹتا۔ پھروہیں کھڑا ہو جاتا۔ آخر ایک روز موٹر کی لپیٹ میں آگیا۔ اور بُری طرح زخمی ہو گا۔ مگر اس حالت میں بھی وہ خود کو گھسیٹتاہوا وہاں پہنچا۔ جہاں اس کے مالک نے اسے انتظار کرنے کے لیے کہا تھا۔ آخری سانس اس نے اُسی جگہ لیا۔ یہ بھی لکھا تھا۔ کہ ہسپتال والوں نے اس کی لاش میں بُھس بھر کے اسکو وہیں رکھ دیا ہے جیسے وہ اب بھی اپنے آقا کے انتظار میں کھڑا ہے۔ میں نے یہ داستان سنی تو مجھ پر کوئی خاص اثر نہ ہوا۔ اول تو مجھے اسکی صحت ہی کا یقین نہ آیا، لیکن جب گولڈی میرے پاس آیا اور مجھے اسکی صفات کا علم ہوا تو بہت برسوں کے بعد میں نے یہ داستان کئی دوستوں کو سنائی۔ سناتے وقت مجھ پر ایک رقت طاری ہو جاتی تھی اور میں سوچنے لگتا تھا

’’میرے گولڈی سے بھی کوئی ایسا کارنامہ وابستہ ہونا چاہیے۔ گولڈی معمولی ہستی نہیں ہے۔ ‘‘

گولڈی بہت متین اور سنجیدہ تھا۔ بچپن میں اس نے تھوڑی شرارتیں کیں مگر جب اس نے دیکھا کہ مجھے پسند نہیں تو ان کو ترک کردیا۔ آہستہ آہستہ سنجیدگی اختیار کرلی جو تادمِ مرگ قائم رہی۔

’’میں نے تادمِ مرگ کہا ہے تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے ہیں۔ ‘‘

شیخ صاحب رک گئے انکی آنکھیں نم آلود ہو گئی تھیں۔ ہم خاموش رہے تھوڑے عرصے کے بعد انھوں نے رومال نکال کر اپنے آنسو پونچھے اور کہنا شروع کیا۔

’’یہی میری زیادتی ہے کہ میں زندہ ہوں۔ لیکن شاید اس لیے زندہ ہوں کہ انسان ہوں۔ مر جاتا تو شاید گولڈی کی توہین ہوتی۔ جب وہ مرا تو رو رو کر میرا بُرا حال تھا۔ لیکن وہ مرا نہیں تھا۔ میں نے اس کو مروا دیا تھا۔ اس لیے نہیں کہ مجھے اپنی موت کی آمد کا یقین ہو گیا تھا۔ وہ پاگل ہو گیا تھا۔ ایسا پاگل نہیں جیسا کہ عام پاگل کتے ہوئے ہیں۔ اسکے مرض کا کچھ پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔ اس کو سخت تکلیف تھی۔ جانکنی کا سا عالم اس پر طاری تھا۔ ڈاکٹروں نے کہا اس کا واحد علاج یہی ہے کہ اسکو مروا دو۔ میں نے پہلے سوچا نہیں۔ لیکن وہ جس اذیت میں گرفتار تھا۔ مجھ سے دیکھی نہیں جاتی تھی۔ میں مان گیا وہ اسے ایک کمرہ میں لے گئے جہاں برقی جھٹکا پہنچا کر ہلاک کرنے والی مشین تھی۔ میں ابھی اپنے نحیف دماغ میں اچھی طرح کچھ سوچ بھی نہ سکا تھا کہ وہ اسکی لاش لے آئے۔ میری گولڈی کی لاش۔ جب میں نے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھایا تو میرے آنسو ٹپ ٹپ اس کے سنہرے بالوں پر گرنے لگے۔ جو پہلے کبھی گرد آلود نہیں ہوئے تھے۔ ٹانگے میں اسے گھر لایا۔ دیر تک اس کو دیکھا کیا۔ پندرہ سال کی رفافت کی لاش میرے بستر پر پڑی تھی۔ قربانی کا مجسمہ ٹوٹ گیا تھا۔ میں نے اس کو نہلایا۔ کفن پہنایا۔ بہت دیر تک سوچتا رہا کہ اب کیا کروں۔ زمین میں دفن کروں یا جلادوں۔ زمین میں دفن کرتا تو اسکی موت کا ایک نشان رہ جاتا۔ یہ مجھے پسند نہیں تھا۔ معلوم نہیں کیوں۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ میں نے کیوں اس کو غرقِ دریا کرنا چاہا۔ میں نے اس کے متعلق اب بھی کئی بار سوچا ہے۔ مگر مجھے کوئی جواب نہیں ملا۔ خیرمیں نے ایک نئی بوری میں اسکی کفنائی ہوئی لاش ڈالی۔ دھو دھا کر بٹے اس میں ڈالے اور دریا کی طرف روانہ ہو گیا۔ جب بیڑی دریا کے درمیان میں پہنچی۔ اور میں نے بوری کی طرف دیکھا تو گولڈی سے پندرہ برس کی رفاقت و محبت ایک بہت ہی تیز تلخی بن کر میرے حلق میں اٹک گئی۔ میں نے اب زیادہ دیر کرنا مناسب نہ سمجھا۔ کانپتے ہوئے ہاتھوں سے بوری اٹھائی اور دریا میں پھینک دی۔ بہتے ہوئے پانی کی چادرپرکچھ بلبلے اٹھے اور ہوا میں حل ہو گئے۔ بیڑی واپس ساحل پر آئی۔ میں اتر کر دیر تک اس طرف دیکھتا رہا۔ جہاں میں نے گولڈی کو غرقِ آب کیا تھا۔ شام کا دھندلکا چھایا ہوا تھا۔ پانی بڑی خاموشی سے بہہ رہا تھا جیسے وہ گولڈی کو اپنی گود میں سلا رہا ہے۔ یہ کہہ کرشیخ صاحب خاموش ہو گئے۔ چند لمحات کے بعد ہم میں سے ایک نے ان سے پوچھا۔

’’لیکن شیخ صاحب آپ تو خاص واقعہ سنانے والے تھے۔ ‘‘

شیخ صاحب چونکے۔ اوہ معاف کیجیے گا۔ میں اپنی رو میں جانے کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ واقعہ یہ تھا کہ۔ میں ابھی عرض کرتا ہوں۔ پندرہ برس ہو گئے تھے ہماری رفاقت کو۔ اس دوران میں کبھی بیمار نہیں ہوا تھا۔ میری صحت ماشاء اللہ بہت اچھی تھی، لیکن جس دن میں نے گولڈی کی پندرھویں سالگرہ منائی۔ اس کے دوسرے دن میں نے اعضا شکنی محسوس کی۔ شام کو یہ اعضا شکنی تیز بخارمیں تبدیل ہو گئی۔ رات سخت بے چین رہا۔ گولڈی جاگتا رہا۔ ایک آنکھ بند کرکے دوسری آنکھ سے مجھے دیکھتا رہا۔ پلنگ پر سے اتر کر نیچے جاتا۔ پھر آکر بیٹھ جاتا۔ زیادہ عمر ہو جانے کے باعث اس کی بینائی اور سماعت کمزور ہو گئی تھی لیکن ذرا سی آہٹ ہوتی تو وہ چونک پڑتا اور اپنی دھندلی آنکھوں سے میری طرف دیکھتا اور جیسے یہ پوچھتا۔

’’یہ کیا ہو گیاہے تمہیں‘‘

اس کو حیرت تھی کہ میں اتنی دیرتک پلنگ پر کیوں پڑا ہوں، لیکن وہ جلدی ہی ساری بات سمجھ گیا۔ جب مجھے بستر پر لیٹے کئی دن گزر گئے تو اس کے سالخوردہ چہرے پر افسردہ چھا گئی۔ میں اس کو اپنے ہاتھ سے کھلایا کرتا تھا۔ بیماری کے آغاز میں تو میں اس کو کھانا دیتا رہا۔ جب نقاہت بڑھ گئی تو میں نے ایک دوست سے کہا کہ وہ صبح شام گولڈی کو کھانا کھلانے آجایا کرے۔ وہ آتا رہا۔ مگر گولڈی نے اس کی پلیٹ کی طرف منہ نہ کیا۔ میں نے بہت کہا۔ لیکن وہ نہ مانا۔ ایک مجھے اپنے مرض کی تکلیف تھی جو دورہونے ہی میں نہیں آتا تھا۔ دوسرے مجھے گولڈی کی فکر تھی جس نے کھانا پینا بالکل بند کردیا تھا۔ اب اُس نے پلنگ پر بیٹھنا لینا بھی چھوڑ دیا۔ سامنے دیوار کے پاس سارا دن اور ساری رات خاموش بیٹھا اپنی دھندلی آنکھوں سے مجھے دیکھتا رہتا۔ ا س سے مجھے اور بھی دکھ ہوا۔ وہ کبھی ننگی زمین پر نہیں بیٹھا تھا۔ میں نے اس سے بہت کہا۔ لیکن وہ نہ مانا۔ وہ بہت زیادہ خاموش ہو گیا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ غم و اندوہ میں غرق ہے۔ کبھی کبھی اٹھ کر پلنگ کے پاس آتا۔ عجیب حسرت بھری نظروں سے میری طرف دیکھتا اور گردن جھکا کر واپس دیوار کے پاس چلا جاتا۔ ایک رات لیمپ کی روشنی میں میں نے دیکھا۔ کہ گولڈی کی دھندلی آنکھوں میں آنسو چمک رہے ہیں۔ اس کے چہرے سے حزن و ملال برس رہا تھا۔ مجھے بہت دکھ پہنچا۔ میں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے بلایا۔ لمبے لمبے سنہرے کان ہلاتا وہ میرے پاس آیا۔ میں نے بڑے پیار سے کہا۔

’’گولڈی میں اچھا ہو جاؤں گا۔ تم دعا مانگو۔ تمہاری دعا ضرور قبول ہو گی۔ ‘‘

یہ سن کر اس نے بڑی اداس آنکھوں سے مجھے دیکھا، پھر سر اوپر اٹھا کر چھت کی طرف دیکھنے لگا۔ جیسے دعا مانگ رہا ہے۔ کچھ دیر وہ اس طرح کھڑا رہا۔ میرے جسم پر جھرجھری سی طاری ہو گئی۔ ایک عجیب و غریب تصویر میری آنکھوں کے سامنے تھی۔ گولڈی سچ مچ دعا مانگ رہا تھا۔ میں سچ عرض کرتا ہوں وہ سرتاپا دعا تھا۔ میں کہنا نہیں چاہتا۔ لیکن اس وقت میں نے محسوس کیا کہ اسکی روح خدا کے حضور پہنچ کر گڑگڑارہی ہے۔ میں چند ہی دنوں میں اچھا ہو گیا۔ لیکن گولڈی کی حالت غیرہ ہو گئی۔ جب تک میں بستر پر تھا وہ آنکھیں بند کیے دیوار کے ساتھ خاموش بیٹھا رہا۔ میں ہلنے جلنے کے قابل ہوا تو میں نے اسکو کھلانے پلانے کی کوشش کی مگر بے سود۔ اسکو اب کسی شے سے دلچسپی نہیں تھی۔ دعا مانگنے کے بعد جیسے اسکی ساری طاقت زائل ہو گئی تھی۔ میں اس سے کہتا، میری طرف دیکھو گولڈی۔ میں اچھا ہو گیا ہوں۔ خدا نے تمہاری دعا قبول کرلی ہے، لیکن وہ آنکھیں نہ کھولتا۔ میں نے دو تین دفعہ ڈاکٹر بلایا۔ اس نے انجکشن لگائے پرکچھ نہ ہوا۔ ایک دن میں ڈاکٹر لے کر آیا تو اس کا دماغ چل چکا تھا۔ میں اٹھا کر اسے بڑے ڈاکٹر کے پاس لے گیا اور اس کو برقی ضرب سے ہلاک کرادیا۔ مجھے معلوم نہیں بابر اور ہمایوں والا قصہ کہاں تک صحیح ہے۔ لیکن یہ واقعہ حرف بحرف درست ہے۔ 6جون1950ء

سعادت حسن منٹو

کتاب کا خلاصہ

سردیوں میں انور ممٹی پر پتنگ اڑا رہا تھا۔ اس کا چھوٹا بھانجا اس کے ساتھ تھا۔ چونکہ انور کے والد کہیں باہر گئے ہوئے تھے اور وہ دیر سے واپس آنے والے تھے اس لیے وہ پوری آزادی اور بڑی بے پروائی سے پتنگ بازی میں مشغول تھا۔ پیچ ڈھیل کا تھا۔ انور بڑے زوروں سے اپنی مانگ پائی پتنگ کو ڈور پلا رہا تھا۔ اس کے بھانجے نے جس کا چھوٹا سا دل دھک دھک کررہا تھا اور جس کی آنکھیں آسمان پر جمی ہوئی تھیں انور سے کہا۔

’’ماموں جان کھینچ کے پیٹ کاٹ لیجیے۔ ‘‘

مگر وہ دھڑا دھڑ ڈور پلاتا رہا۔ نیچے کھلے کوٹھے پر انور کی بہن سہیلیوں کے ساتھ دھوپ سینک رہی تھی۔ سب کشیدہ کاری میں مصروف تھیں۔ ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتی جاتی تھیں۔ انور کی بہن شمیم انور سے دو برس بڑی تھی۔ کشیدہ کاری اور سینے پرونے کے کام میں ماہر۔ اسی لیے گلی کی اکثر لڑکیاں اس کے پاس آتی تھیں اور گھنٹوں بیٹھی کام سیکھتی رہتی تھیں۔ ایک ہندو لڑکی جس کا نام بملا تھا بہت دور سے آتی تھی۔ اس کا گھر قریباً دو میل پرے تھا۔ لیکن وہ ہر روز بڑی باقاعدگی سے آتی اور بڑے انہماک سے کشیدہ کاری کے نئے نئے ڈیزائن سیکھا کرتی تھی۔ بملا کا باپ اسکول ماسٹر تھا۔ بملا ابھی چھوٹی بچی ہی تھی کہ اس کی ماں کا دیہانت ہو گیا۔ بملا کا باپ لالہ ہری چرن چاہتا تو بڑی آسانی سے دوسری شادی کرسکتا تھا مگر اس کو بملا کا خیال تھا، چنانچہ وہ رنڈوا ہی رہا اور بڑے پیار محبت سے اپنی بچی کو پال پوس کر بڑا کیا۔ اب بملا سولہ برس کی تھی۔ سانولے رنگ کی دبلی پتلی لڑکی۔ خاموش خاموش بہت کم باتیں کرنے والی۔ بڑی شرمیلی۔ صبح دس بجے آتی۔ آپا شمیم کو پرنام کرتی اور اپنا تھیلا کھول کر کام میں مشغول ہو جاتی۔ انور اٹھارہ برس کا تھا۔ اس کو تمام لڑکیوں میں سے صرف سعیدہ سے ہلکی سی دلچسپی تھی، لیکن یہ ہلکی سی دلچسپی کوئی اور صورت اختیار نہیں کرسکی تھی اس لیے کہ اس کی بہن اس کو لڑکیوں میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ اگر وہ کبھی ایک لحظے کے لیے ان کے پاس آبیٹھتا تو آپا شمیم فوراً ہی اس کو حکم دیتیں،

’’انور اٹھو، تمہارا یہاں کوئی کام نہیں‘‘

اور انور کو اس حکم کی فوری تعمیل کرنی پڑتی۔ بملا البتہ کبھی کبھی انور کو بلاتی تھی، ناول لینے کے لیے۔ اس نے شمیم سے کہا تھا۔

’’گھر میں میرا جی نہیں لگتا۔ پتا جی باہر شطرنج کھیلنے چلے جاتے ہیں۔ میں اکیلی پڑی رہتی ہوں۔ انور بھائی سے کہئے، مجھے ناول دے دیا کریں پڑھنے کے لیے۔ ‘‘

پہلے تو بملا، شمیم کے ذریعے سے ناول لیتی رہی پھر کچھ عرصے کے بعد اس نے براہ راست انور سے مانگنے شروع کردیے۔ انور کو بملا بڑی عجیب و غریب لڑکی لگتی تھی۔ یعنی ایسی جو بڑے غور سے دیکھنے پر دکھائی دیتی تھی۔ لڑکیوں کے جھرمٹ میں تو وہ بالکل غائب ہو جاتی تھی۔ بیٹھک میں جب وہ انور سے نیا ناول مانگنے آتی تو اس کو اس کی آمد کا اس وقت پتا چلتا جب وہ اس کے پاس آکر دھیمی آواز میں کہتی۔

’’انور صاحب۔ یہ لیجئے اپنا ناول۔ شکریہ۔ ‘‘

انور اس کی طرف دیکھتا۔ اس کے دماغ میں عجیب و غریب تشبیہہ پُھدک اٹھتی۔

’’یہ لڑکی تو ایسی ہے جیسے کتاب کا خلاصہ۔ ‘‘

بملا اور کوئی بات نہ کرتی۔ پرانا ناول واپس کرکے نیا ناول لیتی اور نمستے کرکے چلی جاتی۔ انور اس کے متعلق چند لمحات سوچتا، اس کے بعد وہ اسکے دماغ سے نکل جاتی۔ لیکن انور نے ایک بات ضرورمحسوس کی تھی کہ بملا نے ایک دو بار اس سے کچھ کہنا چاہا تھا مگر کہتے کہتے رک گئی تھی۔ انور سوچتا۔

’’کیا کہنا چاہتی تھی مجھ سے؟‘‘

اس کا جواب اس کا دماغ یوں دیتا۔

’’کچھ بھی نہیں۔ مجھ سے وہ کیا کہنا چاہتی ہو گی بھلا؟‘‘

انور ممٹی پر پتنگ اڑا رہا تھا۔ پیچ ڈھیل کا تھا، خوب ڈور پلا رہا تھا۔ دفعتہً اس کی بہن شمیم کی گھبرائی ہوئی آواز۔

’’انور۔ انور۔ ابا جی آگئے!‘‘

انور کو اور کچھ نہ سوجھا۔ ہاتھ سے ڈور توڑی اور ممٹی پر سے نیچے کود پڑا۔ وہ کاٹا، وہ کاٹا کا شور بلند ہوا۔ انور کا گھٹنا بڑے زوروں سے چھل گیا تھا۔ ایک اس کو اس کا دکھ تھا اس پر اُس کے حریف فاتحانہ نعرے لگا رہے تھے۔ لنگڑاتا لنگڑاتا چارپائی پر بیٹھ گیا۔ گھٹنے کو دیکھا تو اس میں سے خون بہہ رہا تھا۔ بملا سامنے بیٹھی تھی۔ اس نے اپنا دوپٹہ اتارا، کنارے پر سے تھوڑا سا پھاڑا اور پٹی بنا کر انور کے گھٹنے پر باندھ دیا۔ انور اس وقت اپنے پتنگ کے متعلق سوچ رہا تھا۔ اس کو یقین تھا کہ میدان اس کے ہاتھ رہے گا۔ لیکن اس کے باپ کی بے وقت آمد نے اسے مجبور کردیا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اتنے بڑھے ہوئے پتنگ کا خاتمہ کردے۔ حریفوں کے نعرے ابھی تک گونج رہے تھے۔ اس نے غصہ آمیز آواز میں اپنی بہن سے کہا۔

’’ابا جی کو بھی اسی وقت آنا تھا۔ ‘‘

شمیم مسکرائی۔

’’وہ کب آئے ہیں۔ ‘‘

انور چلایا۔

’’کیا کہا؟‘‘

شمیم ہنسی۔

’’میں نے تم سے مذاق کیا تھا۔ ‘‘

انور برس پڑا۔

’’میرا بیڑا غرق کراکے آپ ہنس رہی ہیں۔ اچھا مذاق ہے۔ ایک میرا اتنا بڑھا ہوا پتنگ غارت ہوا۔ لوگوں کی آوازے سنے۔ اور گھٹنا الگ زخمی ہوا۔ ‘‘

یہ کہہ کر انور نے اپنے گھٹنے کی طرف دیکھا۔ سفید ململ کی پٹی بندھی تھی۔ اب اس کو یہ یاد آیا کہ یہ پٹی بملا نے اپنا دوپٹہ پھاڑ کر اس کے باندھی تھی۔ اس نے شکر گزار آنکھوں سے بملا کو دیکھا اور اسکو ایسا محسوس ہوا کہ وہ اس کے زخم کے درد کو محسوس کررہی ہے۔ بملا، شمیم سے مخاطب ہو۔

’’آپ آپ نے بہت ظلم کیا۔ زیادہ چوٹ آجاتی تو۔ ‘‘

وہ کچھ اور کہتے کہتے رک گئی اور کشیدہ کاڑھنے میں مصروف ہو گئی۔ انور کی نگاہ بملا سے ہٹ کر سعیدہ پر پڑی۔ سفید پل اوور میں وہ اسے بہت بھلی معلوم ہوئی۔ انور اس سے مخاطب ہوا۔

’’سعیدہ تم ہی بتاؤ یہ مذاق اچھا تھا۔ ہنسی میں پھنسی ہو جاتی تو؟‘‘

شمیم نے اسے ڈانٹ دیا۔

’’جاؤ انور تمہارا یہاں کوئی کام نہیں۔ ‘‘

انور نے ایک نگاہ سعیدہ پر ڈالی۔ بہت اچھا۔ کہہ کر اٹھا اور لنگڑاتا لنگڑاتا پھر ممٹی پر چڑھ گیا۔ تھوڑی دیر پتنگ اڑائے۔ غصے میں کھینچ کے ہاتھ مار کر قریباً ایک درجن پتنگ کاٹے اور نیچے اتر آیا۔ گھٹنے میں درد تھا۔ بیٹھک میں صوفے پر لیٹ گیا اور اوپر کمبل ڈال لیا۔ تھوڑی دیر اپنی فتوحات کے متعلق سوچا اور سو گیا۔ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد اس کو آواز سنائی دی جیسے کوئی اسے بلا رہا ہے۔ اس نے آنکھیں کھولیں، دیکھا سامنے بملا کھڑی تھی۔ مرجھائی ہوئی۔ کچھ سمٹی ہوئی۔ انور نے لیٹے لیٹے پوچھا

’’کیا ہے بملا؟‘‘

’’جی، میں آپ سے کچھ۔ ‘‘

بملا رک گئی۔

’’جی میں آپ سے کوئی۔ کوئی نئی کتاب دیجیے۔ ‘‘

انور نے کہا۔

’’میرے گھٹنے میں زوروں کا درد ہے۔ وہ جو سامنے الماری ہے اسے کھول کر جو کتاب تمہیں پسند ہو لے لو۔ ‘‘

بملا چند لمحات کھڑی رہی، پھر چونکی

’’جی؟‘‘

انور نے اس کو غور سے دیکھا۔ اس دوپٹے کے پیچھے جس میں سے بملا نے پٹی پھاڑی تھی، بڑی مریل قسم کی چھاتیاں دھڑک رہی تھیں۔ انور کو اس پر ترس آیا۔ اس کی شکل وصورت، اس کے خدوخال ہی کچھ اس قسم کے تھے کہ اس کو دیکھ کر انور کے دل و دماغ میں ہمیشہ رحم کے جذبات پیدا ہوتے تھے۔ اس کو اور تو کچھ نہ سوجھا۔ یہ کہا۔

’’پٹی باندھنے کا شکریہ!‘‘

بملا نے کچھ کہے بغیر الماری کا رخ کیا اور اسے کھول کر کتابیں دیکھنے لگی۔ انور کے دماغ میں وہ تشبیہہ پھر پھدکی

’’یہ کتاب نہیں، کتاب کا خلاصہ ہے۔ بہت ہی ردی کاغذوں پر چھپا ہوا!‘‘

بملا نے ایک بار انور کو کنکھیوں سے دیکھا مگر جب اسے متوجہ پایا تو اس کی طرف پیٹھ کرلی۔ کچھ دیر کتابیں دیکھیں۔ ایک منتخب کی، الماری کو بند کیا، انورکے پاس آئی اور

’’میں یہ لے چلی ہوں‘‘

کہہ کر چلی گئی۔ انور نے بملا کے بارے میں سوچنے کی کوشش کی مگر اس کو سعیدہ کے سفید پُل اوور کا خیال آتا رہا۔

’’پل اوور پہننے سے جسم کے خط کتنے واضح ہو جاتے ہیں۔ سعیدہ کا سینہ اور اس بملا کی مریل چھاتیاں۔ جیسے ان کا دودھ الگ کرکے صرف پانی رہنے دیا گیا ہے۔ سعیدہ کے گھنگھریالے بال۔ کم بخت نے اپنے ماتھے کے زخم کے نشان کو چھپانے کا کیا ڈھنگ نکالا ہے۔ بل کھاتی ہوئی ایک لٹ چھوڑ دیتی ہے اس پر۔ اور بملا۔ جانے کیا تکلیف ہے اسے۔ آج بھی کچھ کہتے کہتے رک گئی تھی۔ مگر مجھ سے کیا کہنا چاہتی ہے۔ شاید اس کا اندازہی کچھ اس قسم کا ہو۔ ہمیشہ کتاب اسی طرح مانگتی ہے جیسے کوئی مدد مانگ رہی ہے۔ کوئی سہارا ڈھونڈ رہی ہے۔ سعیدہ ماشاء اللہ آج سفید پل اوور میں قیامت ڈھا رہی تھی۔ یہ قیامت ڈھانا کیا بکواس ہے۔ قیامت تو ہر چیز کا خاتمہ ہے اور سعیدہ تو ابھی میری زندگی میں شروع ہوئی ہے۔ بملا۔ بملا۔ بھئی میری سمجھ میں نہیں آئی یہ لڑکی۔ باپ تو اس کو بہت پیار کرتا ہے۔ اسی کی خاطر اس نے دوسری شادی نہ کی۔ شاید ان کو کوئی مالی تکلیف ہو۔ لیکن گھر تو خاصا اچھا تھا۔ ایک ہی پلنگ تھا لیکن بڑا شاندار۔ صوفہ سیٹ بھی برا نہیں تھا۔ اور جو کھانا میں نے کھایا تھا اس میں کوئی برائی نہیں تھی۔ سعیدہ کا گھر تو بہت ہی امیرانہ ہے۔ بڑے رئیس کی لڑکی ہے۔ اس ریاست کی ایسی تیسی۔ یہی تو بہت بڑی مصیبت ہے ورنہ۔ لیکن چھوڑو جی۔ سعیدہ جوان ہے، کل کلاں بیاہ دی جائے گی۔ مجھے خدا معلوم کتنے برس لگیں گے۔ پوری تعلیم حاصل کرنے میں۔ بی اے۔ بی اے کے بعد ولایت۔ میم؟۔ دیکھیں!۔ لیکن سفید پل اوور خوب تھا!‘‘

انور کے دماغ میں اسی قسم کے مخلوط خیالات آتے رہے، اس کے بعد وہ دوسرے کاموں میں مشغول ہو گیا۔ دوسرے روز بملا نہ آئی مگر انور نے اس کی غیر حاضری کو کچھ زیادہ محسوس نہ کیا، بس صرف اتنا دیکھا کہ وہ لڑکیوں کے جھرمٹ میں نہیں ہے۔ شاید ہو، لیکن اگلے روز جب بملا آئی تو لڑکیوں نے اس سے پوچھا۔

’’بملا تم کل کیوں نہ آئیں۔ ‘‘

بملا اور زیادہ مرجھائی ہوئی تھی، اور زیادہ مختصر ہو گئی تھی جیسے کسی نے رندہ پھیر کر اس کو ہر طرف سے چھوٹا اور پتلا کردیا ہے۔ اس کا سانولا رنگ عجب قسم کی دردناک زردی اختیار کرگیا تھا۔ لڑکیوں کا سوال سن کر اس نے انور کی طرف دیکھا جو گملوں میں پانی دے رہا تھا اور تھیلا کھول کر چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

’’کل پتا جی۔ کل پتا جی بیمار تھے۔ ‘‘

شمیم نے افسوس ظاہر کیا اور پوچھا۔

’’کیا تکلیف تھی انھیں؟‘‘

بملا نے انور کی طرف دیکھا۔ چونکہ وہ اس کو دیکھ رہا تھا۔ اس لیے نگاہیں دوسری طرف کرلیں اور کہا

’’تکلیف۔ معلوم نہیں کیا تکلیف تھی‘‘

پھر تھیلے میں ہاتھ ڈال کر اپنی چیزیں نکالیں۔

’’میں تو نہیں سمجھتی۔ ‘‘

انور نے لوٹا منڈیر پر رکھا اور بملا سے مخاطب ہوا

’’کسی ڈاکٹر سے مشورہ لیا ہوتا۔ ‘‘

بملا نے انور کو بڑی تیز نگاہوں سے دیکھا۔

’’ان کا روگ ڈاکٹروں کی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ ‘‘

انور کو ایسا محسوس ہوا کہ بملا نے اس سے یہ کہا ہے۔

’’ان کا روگ تم سمجھ سکتے ہو۔ ‘‘

وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ سعیدہ کی آواز اس کے کانوں میں آئی۔ وہ بملا سے کہہ رہی تھی۔

’’خالو جان کے پاس جائیں وہ بہت بڑے ڈاکٹر ہیں۔ یوں چٹکیوں میں سب کچھ بتا دیں گے۔ ‘‘

سعیدہ نے چٹکی بجائی تھی مگر بجی نہیں تھی۔ انور نے اس سے کہا

’’سعیدہ تم سے چٹکی کبھی نہیں بجے گی۔ فضول کوشش نہ کیا کرو۔ ‘‘

سعیدہ شرما گئی، آج کا پل اوور سیاہ تھا۔ انور نے سوچا۔

’’کم بخت پر ہررنگ کِھلتا ہے۔ لیکن کتنے پُل اوور ہیں اس کے پاس؟۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی بنتی ہی رہتی ہے۔ سویٹروں اور پل اووروں کا خبط ہے۔ اس سے میری شادی ہو جائے تو مزے آجائیں، پل اوور ہی پل اوور۔ دوست یار خوب جلیں۔ لیکن یہ بملا کیوں آج راکھ کی ڈھیر سی لگتی ہے۔ سعیدہ شرما گئی تھی۔ یہ شرمانا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ چٹکی بجانا سیکھ لے مجھ سے۔ مجھ سے نہیں تو کسی اور سے۔ لیکن بہترین چٹکی بجانے والا ہوں۔ ‘‘

یہ سب کچھ اس نے ایک سیکنڈ کے عرصے میں سوچا۔ سعیدہ نے کوئی جواب نہ دیا تھا۔ انور نے اس سے کہا۔

’’دیکھئے چٹکی یوں بجایا کرتے ہیں۔ ‘‘

اور اس نے بڑے زور سے چٹکی بجائی۔ اتفاقاً اس کی نگاہ بملا پر پڑی۔ اس کے چہرے پر مایوسی کی مردنی طاری تھی۔ انور کے دل میں ہمدردی کے جذبات ابھر آئے۔

’’بملا تم پتا جی سے کہو کہ وہ کسی اچھے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ لیں۔ ان کے سوا تمہارا اور کون ہے؟‘‘

یہ سن کر بملا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ زور سے دونوں ہونٹ بھینچے اور انتہائی ضبط کے باوجود زار و قطار روتی، برساتی کی طرف دوڑ گئی۔ ساری لڑکیاں کام چھوڑ کر اس کی طرف بھاگیں انور نے برساتی میں جانا مناسب نہ سمجھا اور نیچے بیٹھک میں چلا گیا۔ بملا کے بارے میں اس نے سوچنے کی کوشش کی مگر اس کے دماغ نے اسکی رہبری نہ کی۔ وہ بملا کے دکھ درد کا صحیح تجزیہ نہ کرسکا وہ صرف اتنا سوچ سکا کہ اس کو صرف اس بات کا غم ہے کہ اس کی ماں زندہ نہیں۔ شام کو انور نے اپنی بہن سے بملا کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا۔

’’معلوم نہیں کیا دکھ ہے بیچاری کو۔ اپنے باپ کا بار بار ذکر کرتی تھی کہ ان کو جانے کیا روگ ہے اوربس!‘‘

سعیدہ پاس کھڑی تھی۔ سیاہ پل اوور پہنے۔ اس کی جیتی جاگتی چھاتیاں آبنوسی گولوں کی صورت میں اس کے سفید ننون کے دوپٹے کی پیچھے بڑا دلکش تضاد پیدا کررہی تھیں۔ ایسا لگاتھا جیسے سایہ بٹوں پر ان کی چمک چھپانے کے لیے کسی مکڑی نے مہین سا جالا بن دیا ہے۔ انور بملا کو بھول گیا اور سعیدہ سے باتیں کرنے لگا۔ سعیدہ نے اس سے کوئی دلچسپی نہ لی اور آپا شمیم کو سلام کرکے چلی گئی۔ انور بیٹھک میں کالج کا کام کرنے بیٹھا تو اسے بملا کا خیال آیا۔

’’کیسی لڑکی ہے؟۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ میرے پٹی باندھی۔ اپنا دوپٹہ پھاڑ کر۔ آج میں نے کہا، پتا جی کے سوا تمہارا کون ہے تو اس لیے زار و قطار رونا شروع کردیا۔ اور جب میں گملوں میں پانی دے رہا تھا تو بملا کی اس بات سے کہ ان کا روگ ڈاکٹروں کی سمجھ میں نہیں آئے گا اس نے کیوں یہ محسوس کیا تھا کہ بملا نے اس کے بجائے اس سے یہ کہا ہے، ان کا روگ تم سمجھ سکتے ہو۔ لیکن میں کیسے سمجھ سکتا ہوں۔ کیا سمجھ سکتا ہوں۔ وہ مجھے ٹھیک طور پر سمجھاتی کیوں نہیں، یعنی اگر وہ کچھ سمجھانا ہی چاہتی ہے۔ میری سمجھ میں تو کچھ بھی نہیں آتا۔ جب اس نے میری طرف دیکھا تھا تو اس کی نگاہوں میں اتنی تیزی کیوں تھی۔ اب خیال کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ میری ذہانت و فراست پر لعنت بھیج رہی تھی۔ لیکن کیوں؟۔ ہٹاؤ جی۔ سعیدہ۔ ہاں وہ سیاہ پل اوور۔ سفید ننوں کا ہوائی دوپٹہ۔ اور۔ لیکن مجھے ایسا نہیں سوچنا چاہیے۔ جانے کس کا مال ہے۔ خیر کچھ بھی ہو۔ خوبصورت لڑکی ہے۔ مگر اس پر خوبصورتی ختم تو نہیں ہو گئی۔ ‘‘

اگلے روز بملا نہ آئی۔ انور کے گھر میں سب متفکر تھے۔ دعائیں کرتے تھے کہ خدا اس کے باپ کو اس کے سر پر سلامت رکھے۔ شمیم کو بملا بے حد پسند تھی۔ اس لیے کہ وہ خاموشی پسند اور ذہین تھی۔ باریک سے باریک بات فوراً سمجھ جاتی تھی، چنانچہ وہ سارا دن وقفوں کے بعد اس کو یاد کرتی رہی۔ انور کی ماں نے تو انور سے کہا کہ وہ سائیکل پر جائے اور بملا کے باپ کی خیریت دریافت کرکے آئے۔ انور گیا۔ بملا ساگوان کے چوڑے پلنگ پر اوندھی لیٹی تھی۔ سانس کا اتار چڑھاؤ تیز تھا۔ انور نے ہولے سے پکارا تو کوئی رد عمل نہ ہوا۔ ذرا بلند آواز میں کہا۔

’’بملا۔ ‘‘

تو وہ چونکی کروٹ بدل کر اس نے انور کو دیکھا۔ انور نے نمستے کی۔ بملا نے ہاتھ جوڑ کر اس کا جواب دیا۔ انور نے دیکھا کہ بملا کی آنکھیں میلی تھیں، جیسے وہ روتی رہی تھی اور اس نے اپنے آنسو خشک نہیں کیے تھے۔ پلنگ پر سے اٹھ کر اس نے انور کو کرسی پیش کی اور خود فرش پر بچھی ہوئی دری پر بیٹھ گئی۔ انور نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد

’’وہاں سب کو بہت فکر تھی۔ پتا جی کہاں ہیں؟‘‘

بملا کے مرجھائے ہوئے ہونٹ کھلے اور اس نے کھوکھلی آواز میں صرف اتنا کہا

’’پتا۔ !‘‘

انور نے پوچھا۔

’’طبیعت کیسی ہے ان کی۔ ‘‘

’’اچھی ہے۔ ‘‘

بملا کی آواز اس کی آواز نہیں تھی۔

’’تم آج نہیں آئیں تو سب کو بڑی تشویش ہوئی۔ امی جان نے مجھ سے کہا، سائیکل پر جاؤ اور پتا لے کر آؤ۔ لالہ جی کہاں ہیں؟‘‘

’’شطرنج کھیلنے گئے ہیں۔ ‘‘

’’تم آج کیوں نہیں آئیں؟‘‘

’’میں؟‘‘

یہ کہہ کر بملا رک گئی۔ تھوڑے وقفے کے بعد بولی

’’میں اب نہیں آسکوں گی، ۔ مجھے۔ مجھے ایک کام مل گیا ہے۔ ‘‘

انورنے پوچھا۔

’’کیسا کام؟‘‘

بملا نے ایک آہ بھری

’’کل ہی معلوم ہوا ہے۔ جانے کیا ہے۔ ‘‘

یہ کہتے ہوئے کانپی۔

’’ٹھیک ہے، جو کچھ بھی ہے ٹھیک ہے۔ ‘‘

پھر وہ جیسے اپنے اندر ڈوب گئی۔ کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر انور نے اکتا کر پوچھا۔

’’میں ان سے کیا کہوں؟‘‘

’’بملا چونکی، کیا؟‘‘

انور نے اپنے الفاظ دہرائے۔

’’میں ان سے کیا کہوں؟‘‘

’’اور کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ سب کو نمستے!‘‘

انور کرسی پر سے اٹھا۔ ہاتھ جوڑ کر بملا کو نمستے کی۔ بملا نے اس کا جواب دیا مگر انور کھڑا رہا۔ بملا، خلا میں دیکھ رہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد انور اس سے مخاطب ہوا۔

’’بملا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ تم نے مجھ سے کئی بار کچھ کہنے کی کوشش کی۔ مگر کہہ نہ سکیں۔ میں پوچھ سکتا ہوں۔ ‘‘

بملا کے ہونٹوں پر ایک زخم خوردہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ انور اپنی بات مکمل نہ کرسکا، بملا اٹھی۔ کھڑکی کے ساتھ لگ کر اس نے نیچے بڑی بدرو کی طرف دیکھا اور انور سے کہا۔

’’جو میں کہہ نہ سکی، تم سمجھ نہ سکے، اب کہنے اور سمجھنے سے بہت پرے چلا گیا ہے۔ تم جاؤ، میں سونا چاہتی ہوں۔ ‘‘

انور چلا گیا۔ بملا پھر نہ آئی۔ قریباً دس مہینے بعد اخباروں میں یہ سنسنی پھیلانے والی خبر شائع ہوئی کہ بی سڑک کی بدرو میں ایک نوزائیدہ بچہ مرا ہوا پایا گیا۔ تحقیقات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ بچہ لالہ ہری چرن اسکول ماسٹر کی لڑکی بملا کا تھا اور بچے کا باپ خود لالہ ہری چرن تھا۔ سب پر سکتہ چھا گیا۔ انور نے سوچا

’’تو ساری کتاب کا خلاصہ یہ تھا۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

کبوتروں والا سائیں

پنجاب کے ایک سرد دیہات کے تکیے میں مائی جیواں صبح سویرے ایک غلاف چڑھی قبر کے پاس زمین کے اندر کُھدے ہوئے گڑھے میں بڑے بڑے اپلوں سے آگ لگا رہی ہے۔ صبح کے سرد اور مٹیالے دھندلکے میں جب وہ اپنی پانی بھری آنکھوں کو سکیڑ کر اور اپنی کمر کو دہرا کرکے، منہ قریب قریب زمین کے ساتھ لگا کر اوپر تلے رکھے ہوئے اُپلوں کے اندر پھونک گھسیڑنے کی کوشش کرتی ہے تو زمین پر سے تھوڑی سی راکھ اڑتی ہے اور اس کے آدھے سفید اور آدھے کالے بالوں پر جو کہ گھِسے ہُوئے کمبل کا نمونہ پیش کرتے ہیں بیٹھ جاتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بالوں میں تھوڑی سی سفیدی اور آگئی ہے۔ اُپلوں کے اندر آگ سُلگتی ہے اور یوں جو تھوڑی سی لال لال روشنی پیدا ہوتی ہے مائی جیواں کے سیاہ چہرے پر جھریوں کو اور نمایاں کردیتی ہے۔ مائی جیواں یہ آگ کئی مرتبہ سُلگا چکی ہے۔ یہ تکیہ یا چھوٹی سی خانقاہ جس کے اندر بنی ہوئی قبر کی بابت اس کے پردادا نے لوگوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ وہ ایک بہت بڑے پیر کی آرام گاہ ہے، ایک زمانے سے اُن کے قبضہ میں تھی۔ گاما سائیں کے مرنے کے بعد اب اس کی ہوشیار بیوی ایک تکیے کی مجاور تھی۔ گاما سائیں سارے گاؤں میں ہر دلعزیز تھا۔ ذات کا وہ کُمہار تھا مگر چونکہ اسے تکیے کی دیکھ بھال کرنا ہوتی تھی۔ اس لیے اُس نے برتن بنانے چھوڑ دیئے تھے۔ لیکن اس کے ہاتھ کی بنائی ہوئی کونڈیاں اب بھی مشہور ہیں۔ بھنگ گھوٹنے کے لیے وہ سال بھر میں چھ کونڈیاں بنایا کرتا تھا جن کے متعلق بڑے فخر سے وہ یہ کہا کرتا تھا۔

’’چوہدری لوہا ہے لوہا۔ فولاد کی کونڈی ٹوٹ جائے پر گاما سائیں کی یہ کونڈی دادا لے تو اس کا پوتا بھی اسی میں بھنگ گھوٹ کرپِیے۔ ‘‘

مرنے سے پہلے گاما سائیں چھ کونڈیاں بنا کررکھ گیا تھا جو اب مائی جیواں بڑی احتیاط سے کام میں لاتی تھی۔ گاؤں کے اکثر بڈھے اور جوان تکیئے میں جمع ہوتے تھے اور سردائی پیا کرتے تھے۔ گھوٹنے کے لیے گاما سائیں نہیں تھا پر اُس کے بہت سے چیلے چانٹے جو اَب سر اور بھویں منڈا کر سائیں بن گئے تھے، اس کے بجائے بھنگ گھوٹا کرتے تھے اور مائی جیواں کی سُلگائی ہُوئی آگ سُلفہ پینے والوں کے کام آتی تھی۔ صبح اور شام کو تو خیر کافی رونق رہتی تھی، مگر دوپہر کو آٹھ دس آدمی مائی جیواں کے پاس بیری کی چھاؤں میں بیٹھے ہی رہتے تھے۔ اِدھر اُدھر کونے میں لمبی لمبی بیل کے ساتھ ساتھ کئی کابک تھے جن میں گاما سائیں کے ایک بہت پرانے دوست ابو پہلوان نے سفید کبوتر پال رکھے تھے۔ تکیئے کی دھوئیں بھری فضا میں ان سفید اور چتکبرے کبوتروں کی پھڑپھڑاہٹ بہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔ جس طرح تکیئے میں آنے والے لوگ شکل وصورت سے معصومانہ حد تک بے عقل نظر آتے تھے اسی طرح یہ کبوتر جن میں سے اکثر کے پیروں میں مائی جیواں کے بڑے لڑکے نے جھانجھ پہنا رکھے تھے بے عقل اور معصوم دکھائی دیتے تھے۔ مائی جیواں کے بڑے لڑکے کا اصلی نام عبدالغفار تھا۔ اسکی پیدائش کے وقت یہ نام شہر کے تھانیدار کا تھا جو کبھی کبھی گھوڑی پر چڑھ کر موقعہ دیکھنے کے لیے گاؤں میں آیا کرتا تھا اور گاما سائیں کے ہاتھ کا بنا ہوا ایک پیالہ سردائی کا ضرور پیا کرتا تھا۔ لیکن اب وہ بات نہ رہی تھی۔ جب وہ گیارہ برس کا تھا تو مائی جیواں اس کے نام میں تھانیداری کی بُو سُونگھ سکتی تھی مگر جب اس نے بارہویں سال میں قدم رکھا تو اس کی حالت ہی بگڑ گئی۔ خاصا تگڑا جوان تھا پر نہ جانے کیا ہوا کہ بس ایک دو برس میں ہی سچ مچ کا سائیں بن گیا۔ یعنی ناک سے رینٹھ بہنے لگا اور چپ چپ رہنے لگا۔ سر پہلے ہی چھوٹا تھا پر اب کچھ اور بھی چھوٹا ہو گیا اور منہ سے ہر وقت لعاب سا نکلنے لگا۔ پہلے پہل ماں کو اپنے بچے کی اس تبدیلی پر بہت صدمہ ہوا مگر جب اس نے دیکھا کہ اس کی ناک سے رینٹھ اور منہ سے لعاب بہتے ہی گاؤں کے لوگوں نے اس سے غیب کی باتیں پوچھنا شروع کردی ہیں اور اس کی ہر جگہ خوب آؤ بھگت کی جاتی ہے تو اسے ڈھارس ہُوئی کہ چلو یوں بھی تو کما ہی لے گا۔ کمانا ومانا کیا تھا۔ عبدالغفار جس کو اب کبوتروں والا سائیں کہتے تھے، گاؤں میں پھرپھرا کر آٹا چاول اکٹھا کرلیا کرتا تھا، وہ کبھی اس لیے کہ اس کی ماں نے اس کے گلے میں ایک جھولی لٹکا دی تھی، جس میں لوگ کچھ نہ کچھ ڈال دیا کرتے تھے۔ کبوتروں والا سائیں اسے اس لیے کہا جاتا تھا کہ اسے کبوتروں سے بہت پیار تھا۔ تکیئے میں جتنے کبوتر تھے ان کی دیکھ بھال ابو پہلوان سے زیادہ یہی کیا کرتا تھا۔ اس وقت وہ سامنے کوٹھڑی میں ایک ٹُوٹی ہُوئی کھاٹ پر اپنے باپ کا میلا کچیلا لحاف اوڑھے سورہا تھا۔ باہر اس کی ماں آگ سُلگا رہی تھی۔ چونکہ سردیاں اپنے جوبن پر تھیں اس لیے گاؤں ابھی تک رات اور صبح کے دھوئیں میں لپٹا ہوا تھا۔ یوں تو گاؤں میں سب لوگ بیدار تھے اور اپنے کام دھندوں میں مصروف تھے مگر تکیہ جو کہ گاؤں سے فاصلہ پر تھا ابھی تک آباد نہ ہوا تھا، البتہ دُور کونے میں مائی جیواں کی بکری زور زور سے ممیا رہی تھی۔ مائی جیواں آگ سُلگا کر بکری کے لیے چارہ تیار کرنے ہی لگی تھی کہ اسے اپنے پیچھے آہٹ سُنائی دی۔ مڑ کر دیکھا تو اسے ایک اجنبی سر پر ٹھاٹا اور موٹا سا کمبل اوڑھے نظر آیا۔ پگڑی کے ایک پلو سے اس آدمی نے اپنا چہرہ آنکھوں تک چھپا رکھا تھا۔ جب اس نے موٹی آواز میں

’’مائی جیواں السلام علیکم‘‘

کہا تو پگڑی کا کھردرا کپڑا اس کے منہ پر تین چار مرتبہ سکڑا اور پھیلا۔ مائی جیواں نے چارہ بکری کے آگے رکھ دیا اور اجنبی کو پہچاننے کی کوشش کیے بغیر کہا

’’وعلیکم السلام۔ آؤ بھائی بیٹھو۔ آگ تاپو۔ ‘‘

مائی جیواں کمر پر ہاتھ رکھ کر اس گڑھے کی طرف بڑھی جہاں ہر روز آگ سلگتی رہتی تھی۔ اجنبی اور وہ دونوں پاس پاس بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر ہاتھ تاپ کر اس آدمی نے مائی جیواں سے کہا۔

’’ماں۔ اللہ بخشے گاماں سائیں مجھے باپ کی طرح چاہتا تھا۔ اس کے مرنے کی خبر ملی تو مجھے بہت صدمہ ہوا۔ مجھے آسیب ہو گیا تھا، قبرستان کا جن ایسا چمٹا تھا کہ اللہ کی پناہ، گاما سائیں کے ایک ہی تعویذ سے یہ کالی بلا دُور ہو گئی۔ ‘‘

مائی جیواں خاموشی سے اجنبی کی باتیں سنتی رہی جو کہ اس کے شوہر کا بہت ہی معتقد نظر آتا تھا۔ اس نے اِدھر اُدھر کی اوربہت سی باتیں کرنے کے بعد بڑھیا سے کہا۔

’’میں بارہ کوس سے چل کر آیا ہوں، ایک خاص بات کہنے کے لیے۔ اجنبی نے رازداری کے انداز میں اپنے چاروں طرف دیکھا کہ اُس کی بات کوئی اور تو نہیں سُن رہا اور بھنچے ہوئے لہجہ میں کہنے لگا۔

’’میں سُندر ڈاکو کے گروہ کا آدمی ہُوں۔ پرسوں رات ہم لوگ اس گاؤں پر ڈاکہ مارنے والے ہیں۔ خون خرابہ ضرور ہو گا، اس لیے میں تم سے یہ کہنے آیا ہوں کہ اپنے لڑکوں کو دُور ہی رکھنا۔ میں نے سُنا ہے کہ گاما سائیں مرحوم نے اپنے پیچھے دو لڑکے چھوڑے ہیں۔ جو ان آدمیوں کا لہو ہے بابا، ایسا نہ ہو کہ جوش مار اٹھے اور لینے کے دینے پڑ جائیں۔ تم ان کو پرسوں گاؤں سے کہیں باہر بھیج دو تو ٹھیک رہے گا۔ بس مجھے یہی کہنا تھا۔ میں نے اپنا حق ادا کردیا ہے۔ السلام علیکم۔ ‘‘

اجنبی اپنے ہاتھوں کو آگ کے الاؤ پر زور زور سے مل کر اُٹھا اور جس راستے سے آیا تھا اسی راستے سے باہر چلا گیا۔ سُندر جاٹ بہت بڑا ڈاکو تھا۔ اس کی دہشت اتنی تھی کہ مائیں اپنے بچوں کو اُسی کا نام لے کر ڈرایا کرتی تھیں۔ بے شمار گیت اسکی بہادری اور بیباکی کے گاؤں کی جوان لڑکیوں کو یاد تھے۔ اس کا نام سُن کر بہت سی کنواریوں کے دل دھڑکنے لگتے تھے۔ سُندر جاٹ کو بہت کم لوگوں نے دیکھا تھا مگر جب چوپال میں لوگ جمع ہوتے تھے تو ہر شخص اس سے اپنی اچانک ملاقات کے من گھڑت قصے سُنانے میں ایک خاص لذت محسوس کرتا تھا۔ اس کے قدوقامت اور ڈیل ڈول کے بارے میں مختلف بیان تھے۔ بعض کہتے تھے کہ وہ بہت قد آور جوان ہے، بڑی بڑی مونچھوں والا۔ ان مونچھوں کے بالوں کے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہ دو بڑے بڑے لیموں ان کی مدد سے اُٹھا سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ بیان تھا کہ اس کا قد معمولی ہے مگر بدن اس قدر گٹھا ہوا ہے کہ گینڈے کا بھی نہ ہو گا۔ بہرحال سب متفقہ طور پر اسکی طاقت اور بیباکی کے مُعترف تھے۔ جب مائی جیواں نے یہ سنا کہ سُندر جاٹ انکے گاؤں پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے آرہا ہے تو اسکے آئے اوسان خطا ہو گئے اور وہ اس اجنبی کے سلام کا جواب تک نہ دے سکی اور نہ اس کا شکریہ ادا کرسکی۔ مائی جیواں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ سُندر جاٹ کا ڈاکہ کیا معنی رکھتا ہے۔ پچھلی دفعہ جب اس نے ساتھ والے گاؤں پر حملہ کیا تھا تو سکھی مہاجن کی ساری جمع پونجی غائب ہو گئی تھی اور گاؤں کی سب سے سُندر اور چنچل چھوکری بھی ایسی گُم ہوئی تھی کہ اب تک اس کا پتہ نہیں ملتا تھا۔ یہ بلا اب ان کے گاؤں پر نازل ہونے والی تھی اور اس کا علم سوائے مائی جیواں کے گاؤں میں کسی اور کو نہ تھا۔ مائی جیواں نے سوچا کہ وہ اس آنے والے بھونچال کی خبر کس کس کو دے۔ چوہدری کے گھر خبر کردے۔ لیکن نہیں وہ تو بڑے کمینے لوگ تھے۔ پچھلے دنوں اس نے تھوڑا سا ساگ ان سے مانگا تھا تو انھوں نے انکار کردیا تھا۔ گھسیٹا رام حلوائی کو متنبہ کردے۔ نہیں، وہ بھی ٹھیک آدمی نہیں تھا۔ وہ دیر تک ان ہی خیالات میں غرق رہی۔ گاؤں کے سارے آدمی وہ ایک ایک کرکے اپنے دماغ میں لائی اور ان میں سے کسی ایک کو بھی اس نے مہربانی کے قابل نہ سمجھا۔ اس کے علاوہ اس نے سوچا اگر اس نے کسی کو ہمدردی کے طور پر اس راز سے آگاہ کردیا تو وہ کسی اور پر مہربانی کرے گا اور یوں سارے گاؤں والوں کو پتہ چل جائے گا جس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا۔ آخر میں وہ یہ فیصلہ کرکے اٹھی کہ اپنی ساری جمع پونجی نکال کر وہ سبز رنگ کی غلاف چڑھی قبر کے سرہانے گاڑ دے گی اور رحمان کو پاس والے گاؤں میں بھیج دے گی۔ جب وہ سامنے والی کوٹھڑی کی طرف بڑھی تو دہلیز میں اسے عبدالغفار یعنی کبوتروں والاسائیں کھڑا نظر آیا۔ ماں کو دیکھ کر وہ ہنسا۔ اس کی یہ ہنسی آج خلافِ معمول معنی خیز تھی۔ مائی جیواں کو اس کی آنکھوں میں سنجیدگی اور متانت کی جھلک بھی نظر آئی جو کہ ہوشمندی کی نشانی ہے۔ جب وہ کوٹھڑی کے اندر جانے لگی تو عبدالغفار نے پوچھا۔

’’ماں، یہ صبح سویرے کون آدمی آیا تھا؟‘‘

عبدالغفار اس قسم کے سوال عام طور پر پوچھا کرتا تھا، اس لیے اس کی ماں جواب دیئے بغیر اندر چلی گئی اور اپنے چھوٹے لڑکے کو جگانے لگی۔

’’اے رحمان، اے رحمان اُٹھ اُٹھ۔ ‘‘

بازو جھنجھوڑ کر مائی جیواں نے اپنے چھوٹے لڑکے رحمان کو جگایا اور وہ جب آنکھیں مل کر اٹھ بیٹھا اور اچھی طرح ہوش آگیا تو اس کی ماں نے اس کو ساری بات سنا دی۔ رحمان کے تو اوسان خطا ہو گئے۔ وہ بہت ڈرپوک تھا گو اس کی عمر اس وقت بائیس برس کی تھی اور کافی طاقتور جوان تھا مگر اُس میں ہمت اور شجاعت نام تک کو نہ تھی۔ سُندر جاٹ!۔ اتنا بڑا ڈاکو، جس کے متعلق مشہور تھا کہ وہ تھوک پھینکتا تھا تو پورے بیس گز کے فاصلے پر جا کر گرتا تھا، پرسوں ڈاکہ ڈالنے اور لوٹ مار کرنے کے لیے آرہا تھا۔ وہ فوراً اپنی ماں کے مشورے پر راضی ہو گیا بلکہ یوں کہیے کہ وہ اسی وقت گاؤں چھوڑنے کی تیاریاں کرنے لگا۔ رحمان کو نیتی چمارن یعنی عنایت سے محبت تھی جو کہ گاؤں کی ایک بیباک شوخ اور چنچل لڑکی تھی۔ گاؤں کے سب جوان لڑکے شباب کی یہ پوٹلی حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے مگر وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ بڑے بڑے ہوشیار لڑکوں کو وہ باتوں باتوں میں اڑا دیتی تھی۔ چوہدری دین محمد کے لڑکے فضل دین کو کلائی پکڑنے میں کمال حاصل تھا۔ اس فن کے بڑے بڑے ماہر دُور دُور سے اس کو نیچا دکھانے کے لیے آتے تھے مگر اس کی کلائی کسی سے بھی نہ مڑی تھی۔ وہ گاؤں میں اکڑ اکڑ کر چلتا تھا مگر اس کی یہ ساری اکڑفوں نیتی نے ایک ہی دن میں غائب کردی جب اس نے دھان کے کھیت میں اس سے کہا۔

’’فجے، گنڈا سنگھ کی کلائی مروڑ کر تُو اپنے من میں یہ مت سمجھ کہ بس اب تیرے مقابلہ میں کوئی آدمی نہیں رہا۔ آمیرے سامنے بیٹھ، میری کلائی پکڑ، ان دو انگلیوں کی ایک ہی ٹھمکی سے تیرے دونوں ہاتھ نہ چُھڑا دُوں تو نیتی نام نہیں۔ ‘‘

فضل دین اس کو محبت کی نگاہوں سے دیکھتا تھا اور اسے یقین تھا کہ اسکی طاقت اور شہزوری کے رُعب اور دبدبے میں آکر وہ خودبخود ایک روز رام ہو جائیگی۔ لیکن جب اس نے کئی آدمیوں کے سامنے اس کو مقابلے کی دعوت دی تو وہ پسینہ پسینہ ہو گیا۔ اگر وہ انکارکرتا ہے تو نیتی اور بھی سر پر چڑھ جاتی ہے اور اگر وہ اسکی دعوت قبول کرتا ہے تو لوگ یہی کہیں گے۔ عورت ذات سے مقابلہ کرتے شرم تو نہیں آئی مردود کو۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کرے۔ چنانچہ اس نے نیتی کی دعوت قبول کرلی تھی۔ اور جیسا کہ لوگوں کا بیان ہے اس نے جب نیتی کی گدرائی ہوئی کلائی اپنے ہاتھوں میں لی تو وہ سارے کا سارا کانپ رہا تھا۔ نیتی کی موٹی موٹی آنکھیں اس کی آنکھوں میں دھنس گئیں، ایک نعرہ بلند ہوا اور نیتی کی کلائی فضل کی گرفت سے آزاد ہو گئی۔ اس دن سے لیکر اب تک فضل نے پھر کبھی کسی کی کلائی نہیں پکڑی۔ ہاں، تو اس نیتی سے رحمان کو محبت تھی، جیسا کہ وہ آپ ڈرپوک تھا اسی طرح اس کا پریم بھی ڈرپوک تھا۔ دُور سے دیکھ کروہ اپنے دل کی ہوّس پوری کرتا تھا اور جب کبھی اس کے پاس ہوتی تو اس کو اتنی جرأت نہیں ہوتی تھی کہ حرفِ مدعا زبان پر لائے۔ مگر نیتی سب کچھ جانتی تھی۔ وہ کیا کچھ نہیں جانتی تھی۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ چھوکرا جو درختوں کے تنوں کے ساتھ پیٹھ ٹیکے کھڑا رہتا ہے اس کے عشق میں گرفتار ہے، اس کے عشق میں کون گرفتار نہیں تھا؟ سب اس سے محبت کرتے تھے۔ اس قسم کی محبت جو کہ بیریوں کے بیرپکنے پر گاؤں کے جوان لڑکے اپنی رگوں کے تناؤ کے اندر محسوس کیا کرتے ہیں مگر وہ ابھی تک کسی کی محبت میں گرفتار نہیں ہوئی تھی۔ محبت کرنے کی خواہش البتہ اسکے دل میں اس قدر موجود تھی کہ بالکل اس شرابی کے مانند معلوم ہوتی تھی جس کے متعلق ڈر رہا کرتا ہے کہ اب گِرا اور اب گِرا۔ وہ بے خبری کے عالم میں ایک بہت اونچی چٹان کی چوٹی پر پہنچ چکی تھی اور اب تمام گاؤں والے اس کی افتاد کے منتظر تھے جو کہ یقینی تھی۔ رحمان کو بھی اس اُفتاد کا یقین تھا مگر اس کا ڈرپوک دل ہمیشہ اسے ڈھارس دیا کرتا تھا کہ نہیں، نیتی آخر تیری ہی باندی بنے گی اور وہ یوں خوش ہوجایا کرتا تھا۔ جب رحمان دس کوس طے کرکے دوسرے گاؤں میں پہنچنے کے لیے تیار ہو کر تکیئے سے باہر نکلا تو اُسے راستے میں نیتی کا خیال آیا مگر اس وقت اُس نے یہ نہ سوچا کہ سُندر جاٹ دھاوا بولنے والا ہے۔ وہ دراصل نیتی کے تصور میں اس قدر مگن تھا اور اکیلے میں اس کے ساتھ من ہی من میں اتنے زوروں سے پیار محبت کررہا تھا کہ اسے کسی اور بات کا خیال ہی نہ آیا۔ البتہ جب وہ گاؤں سے پانچ کوس آگے نکل گیا تو ایکا ایکی اس نے سوچا کہ نیتی کو تو بتا دینا چاہیے تھا کہ سندر جاٹ آرہا ہے۔ لیکن اب واپس کون جاتا۔ عبدالغفار یعنی کبوتروں والا سائیں تکیے سے باہر نکلا۔ اس کے منہ سے لعاب نکل رہا تھا جو کہ میلے کُرتے پر گر کر دیر تک گلیسرین کی طرح چمکتا رہتا تھا۔ تکیے سے نکل کر سیدھا کھیتوں کا رخ کیا کرتا تھا اور سارا دن وہیں گزار دیتا تھا۔ شام کو جب ڈھورڈنگر واپس گاؤں کو آتے تو ان کے چلنے سے جو دھول اُڑتی ہے اس کے پیچھے کبھی کبھی غفار کی شکل نظر آجاتی تھی۔ گاؤں اس کو پسند نہیں تھا۔ اجاڑ اور سنسان جگہوں سے اسے غیر محسوس طور پر محبت تھی یہاں بھی لوگ اس کا پیچھا نہ چھوڑتے تھے اور اس سے طرح طرح کے سوال پوچھتے تھے۔ جب برسات میں دیر ہو جاتی تو قریب قریب سب کسان اس سے درخواست کرتے تھے کہ وہ پانی بھرے بادلوں کیلیے دعا مانگے اور گاؤں کے عشق پیشہ جوان اس سے اپنے دل کا حال بیان کرتے اور پوچھتے کہ وہ کب اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے، نوجوان چھوکریاں بھی چپکے چپکے دھڑکتے ہوئے دلوں سے اس کے سامنے اپنی محبت کا اعتراف کرتی تھیں اور یہ جاننا چاہتی تھیں کہ ان کے

’’ماہیا‘‘

کا دل کیسا ہے۔ عبدالغفار ان سوالیوں کو اوٹ پٹانگ جواب دیا کرتا تھا اس لیے کہ اسے غیب کی باتیں کہاں معلوم تھیں، لیکن لوگ جو اس کے پاس سوال لیکر آتے تھے اس کی بے ربط باتوں میں اپنا مطلب ڈھونڈ لیا کرتے تھے۔ عبدالغفار مختلف کھیتوں میں سے ہوتا ہوا اس کنویں کے پاس پہنچ گیا جو کہ ایک زمانے سے بیکار پڑا تھا۔ اس کنویں کی حالت بہت ابتر تھی۔ اس بوڑھے برگد کے پتے جو کہ سالہا سال سے اس کے پہلو میں کھڑا تھا اس قدر اس میں جمع ہو گئے تھے کہ اب پانی نظر ہی نہ آتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا کہ بہت سی مکڑیوں نے مل کر پانی کی سطح پر موٹا سا جالا بُن دیا ہے۔ اس کنویں کی ٹوٹی ہوئی منڈیر پر غبدالغفار بیٹھ گیا اور دوسروں کی اُداس فضا میں اس نے اپنے وجود سے اور بھی اداسی پیدا کردی۔ دفعتاً اُڑتی ہوئی چیلوں کی اُداس چیخوں کو عقب میں چھوڑتی ہوئی ایک بلند آواز اُٹھی اور بوڑھے برگد کی شاخوں میں ایک کپکپاہٹ سی دوڑ گئی۔ نیتی گا رہی تھی ؂ ماہی مرے نے باگ لوایا چمپا، میوا خوب کِھلایا اَسی تے لوایاں کھٹیاں وے راتیں سون نہ دیندیاں اکھیاں وے اس گیت کا مطلب یہ تھا کہ میرے ماہیا یعنی میرے چاہنے والے نے ایک باغ لگایا ہے، اس میں ہر طرح کے پھول اُگائے ہیں، چمپا، میوا وغیرہ کھلائے ہیں۔ اور ہم نے تو صرف نارنگیاں لگائی ہیں۔ رات کو آنکھیں سونے نہیں دیتیں۔ کتنی انکساری برتی گئی ہے۔ معشوق عاشق کے لگائے ہوئے باغ کی تعریف کرتا ہے، لیکن وہ اپنی جوانی کے باغ کی طرف نہایت انکسارانہ طور پر اشارہ کرتا ہے جس میں حقیر نارنگیاں لگی ہیں اور پھر شب جوابی کا گلہ کِس خُوبی سے کیا گیا ہے۔ گو عبدالغفار میں نازک جذبات بالکل نہیں تھے پھر بھی نیتی کی جوان آواز نے اس کو چونکا دیا اور وہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ اس نے پہچان لیا تھا کہ یہ آواز نیتی کی ہے۔ گاتی گاتی نیتی کنویں کی طرف آنکلی۔ غفار کو دیکھ کروہ دوڑی ہُوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی۔

’’اوہ، غفار سائیں۔ تم۔ اوہ، مجھے تم سے کتنی باتیں پوچھنا ہیں۔ اور اس وقت یہاں تمہارے اور میرے سوا اور کوئی بھی نہیں۔ دیکھو میں تمہارا منہ میٹھا کراؤں گی اگر تم نے میرے دل کی بات بُوجھ لی اور۔ لیکن تم تو سب کچھ جانتے ہو۔ اللہ والوں سے کسی کے دل کا حال چُھپا تھوڑی رہتا ہے۔ ‘‘

وہ اُس کے پاس زمین پر بیٹھ گئی اور اس کے میلے کرتے پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ خلافِ معمول کبوتروں والا سائیں مسکرایا مگر نیتی اس کی طرف دیکھ نہیں رہی تھی، اس کی نگاہیں گاڑہے کے تانے بانے پربغیر کسی مطلب کے تیر رہی تھیں۔ کُھردرے کپڑے پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے اس نے گردن اُٹھائی اور آہوں میں کہنا شروع کیا۔

’’غفار سائیں تم اللہ میاں سے محبت کرتے ہو اور میں۔ میں ایک آدمی سے محبت کرتی ہُوں۔ تم میرے دل کا حال کیا سمجھو گے!۔ اللہ میاں کی محبت اور اس کے بندے کی محبت ایک جیسی تو ہو نہیں سکتی۔ کیوں غفار سائیں۔ ارے تم بولتے کیوں نہیں۔ کچھ بولو۔ کچھ کہو۔ اچھا تو میں ہی بولے جاؤں گی۔ تم نہیں جانتے کہ آج میں کتنی دیر بول سکتی ہوں۔ تم سُنتے سُنتے تھک جاؤ گے پر میں نہیں تھکوں گی۔ ‘‘

یہ کہتے کہتے وہ خاموش ہو گئی اور اس کی سنجیدگی زیادہ بڑھ گئی۔ اپنے من میں غوطہ لگانے کے بعد جب وہ ابھری تو اس نے ایکا ایکی عبدالغفار سے پوچھا۔

’’سائیں۔ میں کب تھکوں گی؟‘‘

عبدالغفار کے منہ سے لعاب نکلنا بند ہو گیا۔ اس نے کنویں کے اندر جُھک کر دیکھتے ہُوئے جواب دیا۔

’’بہت جلد۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ اُٹھ کھڑا ہُوا۔ اس پر نیتی نے اس کے کرتے کا دامن پکڑ لیا اور گھبرا کر پوچھا۔

’’کب؟۔ کب؟۔ سائیں کب؟‘‘

عبدالغفار نے اس کاکوئی جواب نہ دیا اور ببول کے جُھنڈ کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ نیتی کچھ دیر کنویں کے پاس سوچتی رہی پھر تیز قدموں سے جدھر سائیں گیا تھا اُدھر چل دی۔ وہ رات جس میں سُندر جاٹ گاؤں پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے آرہا تھا۔ مائی جیواں نے آنکھوں میں کاٹی۔ ساری رات وہ اپنی کھاٹ پر لحاف اوڑھے جاگتی رہی۔ وہ بالکل اکیلی تھی۔ رحمان کو اس نے دوسرے گاؤں بھیج دیا اور عبدالغفار نہ جانے کہاں سو گیا تھا۔ ابو پہلوان کبھی کبھی تکیے میں آگ تاپتا تاپتا وہیں الاؤ کے پاس سو جایا کرتا تھا مگر وہ صبح ہی سے دکھائی نہیں دیا تھا، چنانچہ کتوبروں کو دانہ مائی جیواں ہی نے کِھلایا تھا۔ تکیہ گاؤں کے اس سِرے پرواقع تھا جہاں سے لوگ گاؤں کے اندر داخل ہوتے تھے۔ مائی جیواں ساری رات جاگتی رہی مگر اس کو ہلکی سی آہٹ بھی سُنائی نہ دی۔ جب رات گزر گئی اور گاؤں کے مرغوں نے اذانیں دینا شروع کردیں تو وہ سُندر جاٹ کی بابت سوچتی سوچتی سو گئی۔ چونکہ رات کو وہ بالکل نہ سوئی تھی اس لیے صبح بہت دیر کے بعد جاگی۔ کوٹھڑی سے نکل کر جب وہ باہر آئی تو اس نے دیکھا کہ ابو پہلوان کبوتروں کو دانہ دے رہا ہے اور دھوپ سارے تکیے میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس نے باہر نکلتے ہی اس سے کہا۔

’’ساری رات مجھے نیند نہیں آئی۔ یہ موا بڑھاپا بڑا تنگ کررہا ہے۔ صبح سوئی ہوں اور اب اُٹھی ہوں۔ ہاں تم سناؤ کل کہاں رہے ہو؟‘‘

ابو نے جواب دیا۔

’’گاؤں میں۔ ‘‘

اس پر مائی جیواں نے کہا۔

’’کوئی تازہ خبر سناؤ۔ ‘‘

ابو نے جھولی کے سب دانے زمین پر گرا کر اور جھپٹ کر ایک کبوتر کو بڑی صفائی سے اپنے ہاتھ میں دبوچتے ہوئے کہا۔

’’آج صبح چوپال پر نتھا سنگھ کہہ رہا تھا کہ گام چمار کی وہ لونڈیا۔ کیا نام ہے اس کا؟۔ ہاں وہ نیتی کہیں بھاگ گئی ہے؟۔ میں تو کہتا ہوں اچھا ہوا۔ حرامزادی نے سارا گاؤں سر پر اٹھا رکھا تھا۔ ‘‘

’’کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے یا کوئی اُٹھا کر لے گیا ہے؟‘‘

’’جانے میری بلا۔ لیکن میرے خیال میں تو وہ خود ہی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ ‘‘

مائی جیواں کو اس گفتگو سے اطمینان نہ ہوا۔ سُندر جاٹ نے ڈاکہ نہیں ڈالا تھا پر ایک چھوکری تو غائب ہو گئی تھی۔ اب وہ چاہتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح نیتی کا غائب ہو جانا سُندر جاٹ سے متعلق ہو جائے۔ چنانچہ وہ ان تمام لوگوں سے نیتی کے بارے میں پوچھتی رہی جو کہ تکیے میں آتے جاتے رہے لیکن جو کچھ ابو نے بتایا تھا اس سے زیادہ اسے کوئی بھی نہ بتا سکا۔ شام کورحمان لوٹ آیا۔ اس نے آتے ہی ماں سے سُندر جاٹ کے ڈاکہ کے متعلق پوچھا۔ اس پر مائی جیواں نے کہا۔

’’سندر جاٹ تو نہیں آیا بیٹا پر نیتی کہیں غائب ہو گئی ہے۔ ایسی کہ کچھ پتہ ہی نہیں چلتا۔ ‘‘

رحمان کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کی ٹانگوں میں دس کوس اور چلنے کی تھکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔ وہ اپنی ماں کے پاس بیٹھ گیا، اس کا چہرہ خوفناک طور پر زرد تھا۔ ایک دم یہ تبدیلی دیکھ کر مائی جیواں نے تشویشناک لہجہ میں اس سے پوچھا۔

’’کیا ہوا بیٹا۔ ‘‘

رحمان نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور کہا۔

’’کچھ نہیں ماں۔ تھک گیا ہوں۔ ‘‘

’’اور نیتی کل مجھ سے پوچھتی تھی، میں کب تھکوں گی؟‘‘

رحمان نے پلٹ کر دیکھا تو اس کا بھائی عبدالغفار آستین سے اپنے منہ کا لعاب پونچھ رہا تھا۔ رحمان نے اس کی طرف گھور کردیکھا اور پوچھا

’’کیا کہا تھا اس نے تجھ سے؟‘‘

عبدالغفار الاؤ کے پاس بیٹھ گیا۔

’’کہتی تھی کہ میں تھکتی ہی نہیں۔ پر اب وہ تھک جائے گی۔ ‘‘

رحمان نے تیزی سے پوچھا۔

’’کیسے؟‘‘

غفار سائیں کے چہرے پر ایک بے معنی سی مسکراہٹ پیدا ہُوئی۔

’’مجھے کیا معلوم؟۔ سُندر جاٹ جانے اور وہ جانے۔ ‘‘

یہ سُن کر رحمان کے چہرے پر اور زیادہ زردی چھا گئی اور مائی جیواں کی جُھریاں زیادہ گہرائی اختیار کرگئیں۔

سعادت حسن منٹو

کالی کلی

جب اُس نے اپنے دشمن کے سینے میں اپنا چھرا پیوست کیا اور زمین پر ڈھیر ہو گیا۔ اس کے سینے کے زخم سے سرخ سرخ لہو کا چشمہ پھوٹنے لگا اور تھوڑی ہی دیر میں وہاں لہو کا چھوٹا سا حوض بن گیا۔ قاتل پاس کھڑا اس کی تعمیر دیکھتا رہا تھا۔ جب لہو کا آخری قطرہ باہر نکلا تو لہو کی حوض میں مقتول کی لاش ڈُوب گئی اور وہ پھر سے اُڑ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ننھے ننھے پرندے اُڑتے، چوں چوں کرتے حوض کے پاس آئے تو اُن کی سمجھ میں نہ آیا کہ ان کا باپ یہ لال لال پانی کا خوبصورت حوض کیسے بن گیا۔ نیچے تہ میں ایک قطرہ خون اپنے لہو کی آخری بوند جو اس نے چوری چوری اپنے دل کے خفیہ گوشے میں رکھ لی تھی تڑپنے لگی۔ اُس کا یہ رقص ایسا تھا جس میں زرق برق پشوازوں کا کوئی بھڑکیلا پن نہیں تھا، معصوم بچے کے سے چہل تھے۔ وہ اچھل کود رہی تھی اور اپنے دل ہی میں خوش ہو رہی تھی۔ اس کو اس بات کا ہوش ہی نہیں رہا تھا کہ وہ چار چڑیاں جو حوض کے اُوپر بیقراری سے پھڑ پھڑاتی دائرہ بناتی اُڑ رہی ہیں ان کے دل ہانپ رہے ہیں اور بہت ممکن ہے وہ ہانپتے ہانپتے ان کے سینوں سے اُچھل کر حوض میں گر پڑیں۔ وہ اپنی خوشی میں مست تھی۔ اُوپر اُڑی ہوئی چڑیوں میں ایک چڑیا نے جو شکل و صورت کے اعتبار سے چڑا معلوم ہوتا تھا کہا

’’تم رو رہی ہو؟‘‘

چڑیا نے اپنی اڑان ہلکی کر دی، چنانچہ تیز ہوا میں لڑھکتے ہوئے اس نے اپنے ننھے سے نرم و نازک اور ریشم جیسے پر کو اپنی چونچ سے پھلا کر اپنی ایک آنکھ پونچھی اور جلدی سے اپنے دوسرے پروں کے اندر اس آنسو آلود پری کو چھپا لیا۔ دوسری آنکھ کے اس جل دیپ کو اس نے ایسے ہی ننھے سے مخملیں پر سے پھونک ماری، وہ فوراً راکھ بن کر حوض کی سرخ آنکھوں میں سرمے کی تحریر بن کر تیرنے لگی۔ حوض کی یہ تبدیلی دیکھ کر باقی تین چڑیوں نے پلٹ کر چوتھی چڑیا کی طرف دیکھا اور آنکھوں میں اس کی سرزنش کی اور ایک دم اپنے سارے پرسمیٹ لیے اور چشمِ زدن میں وہ حوض کے اندر تھیں۔ حوض کا لال لال پانی ایک لحظے کے لیے تھر تھرا اٹھا۔ اس نے زبردستی ان کی بند چونچوں میں اپنی بڑی چونچ سے اپنے خون کی ایک ایک بوند ڈالنے کی کوشش کی، جس طرح ماں باپ اپنے پیارے بچوں کے حلق میں چمچوں کے ذریعے سے دوا ٹپکاتے ہیں، مگر وہ نہ کھلیں۔ وہ سمجھ گیا کہ اس کا کیا مطلب ہے چنانچہ اس کی آنکھوں سے اتنا ہی سفید پانی بہہ نکلا جتنا اس حوض میں لال تھا۔ جو وہ قاتل اس ایک لال بوند کے بغیر، جو اس کے اوپر اڑ رہی تھی اور اس سفید پانی سمیت، جو وہ اس کے وجود میں چھوڑ گیا تھا۔ اس نے یہ سفید آنسو اور بہانے چاہے مگر وہ بالکل خشک تھے۔ ایک صرف اس کی آنکھوں کی بصارت باقی تھی۔ وہ اسی پر قانع ہو گیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کے حوض کے پانی کا رنگ بدل رہا ہے۔ اس کے لیے یہ بڑی تکلیف دہ بات تھی کہ جب قتل نہیں کیا گیا تھا۔ قتل کے بعد تو اُس نے سُنا تھا کہ سفید سے سفید خون بھی جیتا جاگتا سرخ ہو جاتا ہے۔ دن بدن حوض کا پانی نئی رنگ اختیار کرنے لگا شروع شروع میں تو وہ گرم گرم سرخ قرمزی تھا۔ تھوڑی دیر میں بھوسلا پن اس میں پیدا ہونے لگا یہ تبدیلی بڑی سست رفتار تھی۔ اُس نے سنا تھا کہ قدرت اٹل ہے وہ کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ وہ سوچتا کہ یہ قدرت کیسی ہے جو اس کی اپنے عناصر سے تخلیق کی ہوئی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اب اُسے کسی تصویر ساز کی پلیٹ بنا رہی ہے جس پر وہ ایک مرتبہ صاف اور شدھ رنگ لگا کر پھر اس پرسینکڑوں دوسرے رنگوں کی تہیں چڑھادیتا ہے اور بہت مسرور ہوتا ہے۔ اس میں مسرت انگیز بات ہی کیا ہے اور اس بات کے لیے کہ ایک بے گناہ کو قتل کروا دینا؟۔ یہ اور بھی زیادہ عجیب ہے۔ میں اگر اپنے قاتل کی جگہ ہوتا تو کیا کرتا؟۔ ہاں کیا کرتا؟ اسے اپنے ہاتھوں سے نقرئی تاروں والا ہار پہناتا۔ زربفت کی اس کی اچکن ہو، ہوخ سرتلے دار دستار اور اس طائر تازی پر سوار جس پر زربفت کی جھول ہو اور وہ اُس پر سوار ہو کر قدرت بانو کو دلھن بنا کر گھر لانے کے لیے روانہ ہو جائے۔ اس کے جلو میں صرف اس کے خون کے قطرے ہوں۔ وہ سوچتا کتنی شاندار سواری ہوتی جو آج تک کسی کو بھی نصیب نہیں ہوئی۔ وہ ایک بہت اونچے درخت پر اپنا گھونسلا بناتا جس میں حجلہء عروسی کو بٹھاتا۔ اس کا چہرہ حیا کے باعث رنگ برنگ کے پروں کے گھونگھٹ کی اوٹ میں ہوتا۔ وہ اس نقاب کو بہت ہولے ہولے اٹھاتا۔ جوں جوں نقاب اوپر اٹھتی، اس کا دل نفرت و حقارت سے لبریز ہوتا جاتا۔ اس کے انتقامی جذبے کی آگ اور زیادہ تیز ہوتی جاتی جیسے اس کی نقاب کے پر اس پر تیل نچڑ رہے ہوں لیکن وہ اس جذبے کو اپنے دل میں وہیں دبا دیتا جیسے وہ مر جھائے ہوئے پھولوں کی روکھی سوکھی اور بے کیف پتیاں ہیں جنھیں کئی ننھی ننھی ناگ سپنیوں نے پھونکیں مار مار کر ڈس دیا ہو۔ شبِ عروسی میں اس نے اپنی دُلہن سے بڑی پیار اور محبت بھری باتیں کیں، ایسی باتیں جن کو سننے کے بعد سب پرندوں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ یہ ایسا کلام ہے جو اگر فرشتے اور حوریں بھی اپنے سازوں پر گائیں تو خود کو عاجز سمجھیں اور بربطوں کے تار جھنجھلا اُٹھیں کہ یہ نغمہ ہم سے کیوں ادا نہیں ہو سکتا۔ آخر کار فرشتوں نے اپنے حلق میں اپنی اپنی دُلہنوں کی مانگ کے سیندور بھر لیے اور مرگئے۔ حوروں نے اپنے بربط توڑ ڈالے اور ان کے باریک تاروں کا پھندا بنا کر خودکشی کر لی۔ اُس کو اپنے یہ افکار بہت پسند آئے تھے۔ اس لیے کہ یہ غیب سے آئے ہیں۔ چنانچہ اس نے گانا شروع کیا۔ اس کا الحان واقعی الہامی تھا۔ اگر پرندوں کے ہجوم کو وہ صرف چند نغمے سناتا تو وہ یقیناً بے خودی کے عالم میں زخمی طیور کے مانند پھڑ پھڑا نے لگتیں اور اسی طرح پھڑ پھڑاتی پھڑ پھڑاتی قدرت کے اشجار کو پیاری ہو جاتیں۔ وہ اپنے تمام پتے اور اپنی کومل شاخوں کو نوچ کر ان کی لاشوں پر آرام سے رکھ دیتے۔ ادھر باغ کے سارے پھول اپنی تمام پتیاں ان پر نچھاور کر دیتے۔ کھلی اور ان کھلی گلیاں بھی خود کو اُن کی مجموعی تربت کی آرائش کے لیے پیش کر دیتیں۔ پھر تمام سرنگوں ہو کر انتہائی غم ناک سروں میں دھیمے دھیمے سروں میں شہیدوں کا نوحہ گاتیں۔ ساتوں آسمانوں کے تمام فرشتے اپنے اپنے آسمان کی کھڑکیاں کھول کر اس سوگ کے جشن کا نظارہ کرتے اور ان کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو جاتیں جو ہلکی ہلکی پھوار کی صورت میں ان خاکی شہیدوں کی پھولوں سے لدی پھندی تربت کو نم آلودہ کر دیتیں تاکہ اس کی تازگی دیر تک رہے۔ سُنا ہے کہ یہ تربت دیر تک قائم رہی۔ پھول جب باکل باسی ہو جاتے، پتے خشک ہو جاتے تو ان کی جگہ اپنے بدن سے نوچ نوچ کر آہستہ آہستہ اس تربت پر رکھ دیے جاتے۔ اُدھر دوسرے باغ میں جو اپنی خوبصورتی کے باعث تمام دنیا میں بہت مشہور تھا۔ ایک طاہر جس کا نام بلبل یعنی ہزار داستان ہے اپنے حسن اور اپنی خوش الحانی پر نازاں بلکہ یوں کہیے کہ مغرور تھا۔ باغ کی ہر کلی اس پر سو جان سے فدا تھی مگر وہ ان کو منہ نہیں لگاتا۔ اگر کبھی ازراہ تفریح وہ کبھی کسی کلی پر اپنی خوبصورت منقار کی ضرب لگا کر اُسے قدرت کے اصولوں کے خلاف پہلے ہی کھول دیتا تو اس غریب کا جی باغ باغ ہو جاتا، پر وہ شادی مرگ ہو جاتی۔ اور دل ہی دل میں دوسری کھلی ان کھلی کلیاں حسد اور رشک کے مارے جل بھن کر راکھ ہو جاتیں اور وہ کسی چٹان کی چوٹی کے سخت پتھر پر ہولے سے یوں بیٹھتا کہ اس پتھر کو اس کا بوجھ محسوس نہ ہو۔ اطمینان کر کے اس پتھر نے اُسے خندہ پیشانی سے قبول کر لیا ہے تو وہ موم کر دینے والا ایک حزنیہ نغمہ شروع کرتا۔ بہ فرط ادب اور تاثر کے باعث سرنگوں ہو جاتے۔ کلیاں سوچتیں کہ یہ کیا وجہ ہے کہ وہ ہمیں اپنے التفات سے محروم رکھتا ہے۔ ہم میں سے اکثر جل جل کے بھسم ہو گئیں۔ پر اس کو ہماری کچھ پروا نہیں۔ ایک سفید کلی اپنے شبنمی آنسو پونچھ کر کہتی ہے

’’ایسا نہ کہو بہن اس کو ہماری ہر ادا نا پسند ہے‘‘

کالی کلی کہتی۔

’’تو سفید جھوٹ بولتی ہے۔ میری طرف کبھی آنکھ اُٹھا کر دیکھ۔ دونوں دیدے پھوڑ ڈالوں۔ ‘‘

کاسنی کلی کو دُکھ ہوتا :

’’ایسا کرو گی تو تم کہاں رہو گی؟‘‘

سفید کلی طنزیہ انداز میں اس مغرور پرندے کی طرف سے جواب دیتی۔

’’اس کے لیے دنیا کے تمام باغوں کی کلیوں کے منہ کھلے ہیں۔ وہ نیلے آسمان کے نیچے جہاں بھی چاہے اپنے حسین خیمے گاڑ سکتا ہے۔ ‘‘

کالی کلی مسکراتی۔ یہ مسکراہٹ سنگ اسود کے چھوٹے سے کالے تریڑے کے مانند کھلتی۔

’’سفید کلی نے ٹھیک کہا ہے۔ خواہ مجھے خوش کرنے کے لیے ہی کہا ہو۔ میں یہاں کا بادشاہ ہوں‘‘

سفید کلی اور زیادہ نکھرگئی۔

’’حضور! آپ شہنشاہ ہیں۔ اور ہم سب آپ کی کنیزیں۔ ‘‘

کالی کلی نے زور سے اپنے پرپھڑ پھڑائے جیسے وہ بہت غصے میں ہے۔

’’ہم میں مجھے شامل نہ کرو۔ مجھے اس سے نفرت ہے۔ ‘‘

جونہی کالی کلی کی زبان سے یہ گستاخانہ الفاظ نکلے، سب چڑیاں ڈر کے مارے پھڑ پھڑاتی ہوئی وہاں سے اُڑ گئیں۔ ایک صرف کالی کلی باقی رہ گئی۔ اُس نے آنکھ اٹھا کر بھی اس چٹان کو نہ دیکھا جس کے ایک کنگرے کی نوک پر وہ اکڑ کر کھڑا تھا۔ کالی کلی اس کے قدموں میں تھی۔ اپنی اس بے اعتنائی اور رعونت کے ساتھ۔ حسین و جمیل بلبل کو اس بے اعتنائی اور رعونت سے پہلی مرتبہ دو چار ہونا پڑا تھا۔ اُس کے وقار کو سخت صدمہ پہنچا، چٹان سے نیچے اُتر کر وہ ہولے ہولے جیسے ٹہل رہا ہے، کالی کلی کے قریب سے گزرا گویا وہ اس کا موقع دے رہا ہے کہ تم نے جو غلطی کی ہے درست کر لو۔ پر اُس نے اس فیاضانہ تحفے کو ٹھکرا دیا۔ اس پر بلبل اور جھنجھلایا اور مڑ کر کالی کلی سے مخاطب ہوا۔

’’ایسا معلوم ہوتا ہے، تم نے مجھے پہچانا نہیں۔ ‘‘

کالی کلی نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔

’’ایسی تم میں کون سی خوبی ہے جو کوئی تمھیں یاد رکھے۔ تم ایک معمولی چڑے ہو، جو لاکھوں یہاں پڑے جھک مارتے ہیں‘‘

بلبل سراپا عجز ہو گیا۔

’’دیکھو، میں اس باغ کا تمام حسن تمہارے قدموں میں ڈھیر کرسکتا ہوں‘‘

کالی کلی کے ہونٹوں پر کالی طنزیہ مسکراہٹ پیدا ہوئی۔

’’میں رنگوں کے بے ڈھب، بے جوڑ رنگوں کے ملاپ کو حسن نہیں کہہ سکتی۔ حسن میں یک رنگی اور یک آہنگی ہونی چاہیے۔ ‘‘

’’تم اگر حکم دو تو میں اپنی سرخ دم نوچ کر یہاں پھینک دوں گا۔ ‘‘

’’تمہاری سرخ دُم کے پر سرخاب کے پر تو نہیں ہو جائیں گے۔ رہنے دو اپنی دم میں۔ میری دُم دیکھتے رہا کرو، جو سنگ اسود کی طرح کالی ہے اور آبنوس کی طرح کالی اور چمکیلی۔ ‘‘

یہ سُن کر وہ اور زیادہ جھنجھلا گیا اور سوچے سمجھے بغیر کالی کلی سے بغل گیر ہو گیا۔ پھر فوراً ہی پیچھے ہٹ کر معذرت طلب کرنے لگا،

’’مجھے معاف کر دینا۔ باغ کی مغرور ترین حسینہ!‘‘

کالی کلی چند لمحات بالکل خاموش رہی، پھر اُس کے بعد ایسا معلوم ہوا کہ رات کے گھپ اندھیرے میں اچانک دو دیے جل پڑے ہیں۔

’’میں تمہاری کنیز ہوں پیارے بلبل !‘‘

بُلبل نے چونچ کا ایک زبردست ٹھونگا مارا اور بڑی نفرت آمیز نا امیدی سے کہا۔

’’جا، دُور ہو جا، میری نظروں سے۔ اور اپنے رنگ کی سیاہی میں ساری عمر اپنے دل کی سیاہی گھولتی رہ۔ سعادت حسن منٹو (دستخط) ۴ جنوری ۱۹۵۶ء (؟ )

سعادت حسن منٹو

کالی شلوار

دہلی آنے سے پہلے وہ ابنالہ چھاؤنی میں تھی جہاں کئی گورے اس کے گاہک تھے۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی، ان کو وہ عام گفتگو میں استعمال نہیں کرتی تھی لیکن جب وہ دہلی میں آئی اوراس کا کاروبار نہ چلا تو ایک روز اس نے اپنی پڑوسن طمنچہ جان سے کہا۔

’’دِ س لیف۔ ویری بیڈ۔ ‘‘

یعنی یہ زندگی بہت بُری ہے جبکہ کھانے ہی کو نہیں ملتا۔ ابنالہ چھاؤنی میں اس کا دھندا بہت اچھی طرح چلتا تھا۔ چھاؤنی کے گورے شراب پی کر اس کے پاس آجاتے تھے اور وہ تین چار گھنٹوں ہی میں آٹھ دس گوروں کو نمٹا کر بیس تیس روپے پیدا کر لیا کرتی تھی۔ یہ گورے، اس کے ہم وطنوں کے مقابلے میں بہت اچھے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایسی زبان بولتے تھے جس کا مطلب سلطانہ کی سمجھ میں نہیں آتا تھا مگر ان کی زبان سے یہ لاعلمی اس کے حق میں بہت اچھی ثابت ہوتی تھی۔ اگر وہ اس سے کچھ رعایت چاہتے تو وہ سر ہلا کرکہہ دیا کرتی تھی۔

’’صاحب، ہماری سمجھ میں تمہاری بات نہیں آتا۔ ‘‘

اور اگر وہ اس سے ضرورت سے زیادہ چھیڑ چھاڑ کرتے تو وہ ان کو اپنی زبان میں گالیاں دینا شروع کردیتی تھی۔ وہ حیرت میں اس کے منہ کی طرف دیکھتے تو وہ ان سے کہتی

’’صاحب، تم ایک دم اُلو کا پٹھا ہے۔ حرامزادہ ہے۔ سمجھا۔ ‘‘

یہ کہتے وقت وہ اپنے لہجہ میں سختی پیدا نہ کرتی بلکہ بڑے پیار کے ساتھ اُن سے باتیں کرتی۔ یہ گورے ہنس دیتے اور ہنستے وقت وہ سلطانہ کو بالکل الو کے پٹھے دکھائی دیتے۔ مگر یہاں دہلی میں وہ جب سے آئی تھی ایک گورا بھی اس کے یہاں نہیں آیا تھا۔ تین مہینے اس کو ہندوستان کے اس شہر میں رہتے ہو گئے تھے جہاں اس نے سنا تھا کہ بڑے لاٹ صاحب رہتے ہیں، جو گرمیوں میں شملے چلے جاتے ہیں، مگر صرف چھ آدمی اس کے پاس آئے تھے۔ صرف چھ، یعنی مہینے میں دو اور ان چھ گاہکوں سے اس نے خدا جھوٹ نہ بلوائے تو ساڑھے اٹھارہ روپے وصول کیے تھے۔ تین ر وپے سے زیادہ پرکوئی مانتا ہی نہیں تھا۔ سلطانہ نے ان میں سے پانچ آدمیوں کو اپنا ریٹ دس روپے بتایا تھا مگر تعجب کی بات ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے یہی کہا۔

’’بھئی ہم تین روپے سے ایک کوڑی زیادہ نہ دیں گے۔ ‘‘

نہ جانے کیا بات تھی کہ ان میں سے ہر ایک نے اسے صرف تین روپے کے قابل سمجھا۔ چنانچہ جب چھٹا آیا تو اس نے خود اس سے کہا۔

’’دیکھو، میں تین روپے ایک ٹیم کے لوں گی۔ اس سے ایک دھیلا تم کم کہو تو میں نہ لوں گی۔ اب تمہاری مرضی ہو تو رہو ورنہ جاؤ۔ ‘‘

چھٹے آدمی نے یہ بات سن کر تکرار نہ کی اور اس کے ہاں ٹھہر گیا۔ جب دوسرے کمرے میں دروازے وروازے بند کرکے وہ اپنا کوٹ اتارنے لگا تو سلطانہ نے کہا۔

’’لائیے ایک روپیہ دودھ کا۔ ‘‘

اس نے ایک روپیہ تو نہ دیا لیکن نئے بادشاہ کی چمکتی ہوئی اٹھنی جیب میں سے نکال کر اس کو دے دی اور سلطانہ نے بھی چپکے سے لے لی کہ چلو جو آیا ہے غنیمت ہے۔ ساڑھے اٹھارہ روپے تین مہینوں میں۔ بیس روپے ماہوار تو اس کوٹھے کا کرایہ تھا جس کو مالک مکان انگریزی زبان میں فلیٹ کہتا تھا۔ اس فلیٹ میں ایسا پاخانہ تھا جس میں زنجیر کھینچنے سے ساری گندگی پانی کے زور سے ایک دم نیچے نل میں غائب ہو جاتی تھی اور بڑا شور ہوتا تھا۔ شروع شروع میں تو اس شور نے اسے بہت ڈرایا تھا۔ پہلے دن جب وہ رفع حاجت کے لیے اس پاخانہ میں گئی تو اس کے لیے کمر میں شدت کا درد ہورہا تھا۔ فارغ ہو کر جب اٹھنے لگی تو اس نے لٹکی ہوئی زنجیر کا سہارا لے لیا۔ اس زنجیرکو دیکھ کر اس نے خیال کیا چونکہ یہ مکان خاص ہم لوگوں کی رہائش کے لیے تیار کیے گئے ہیں یہ زنجیر اس لیے لگائی گئی ہے کہ اٹھتے وقت تکلیف نہ ہو اور سہارا مل جایا کرے مگر جونہی اس نے زنجیر پکڑ کر اٹھنا چاہا، اوپر کھٹ کھٹ سی ہُوئی اور پھر ایک دم پانی اس شور کے ساتھ باہر نکلا کہ ڈر کے مارے اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ خدا بخش دوسرے کمرے میں اپنا فوٹو گرافی کا سامان درست کررہا تھا اور ایک صاف بوتل میں ہائی ڈرو کونین ڈال رہا تھا کہ اس نے سلطانہ کی چیخ سنی۔ دوڑ کروہ باہر نکلا اور سلطانہ سے پوچھا۔

’’کیا ہوا؟۔ یہ چیخ تمہاری تھی؟‘‘

سلطانہ کا دل دھڑک رہا تھا۔ اس نے کہا۔

’’یہ موا پاخانہ ہے یا کیا ہے۔ بیچ میں یہ ریل گاڑیوں کی طرح زنجیر کیا لٹکا رکھی ہے۔ میری کمرمیں درد تھا۔ میں نے کہا چلو اس کا سہارا لے لوں گی، پر اس موئی زنجیر کو چھیڑنا تھا کہ وہ دھماکہ ہُوا کہ میں تم سے کیا کہوں۔ ‘‘

اس پر خدا بخش بہت ہنسا تھا اور اس نے سلطانہ کو اس پیخانے کی بابت سب کچھ بتا دیا تھا کہ یہ نئے فیش کا ہے جس میں زنجیر ہلانے سے سب گندگی نیچے زمین میں دھنس جاتی ہے۔ خدا بخش اور سلطانہ کا آپس میں کیسے سمبندھ ہُوا یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ خدا بخش راولپنڈی کا تھا۔ انٹرنٹس پاس کرنے کے بعد اس نے لاری چلانا سیکھا، چنانچہ چار برس تک وہ راولپنڈی اور کشمیر کے درمیان لاری چلانے کا کام کرتا رہا۔ اس کے بعد کشمیر میں اس کی دوستی ایک عورت سے ہو گئی۔ اس کو بھگا کر وہ لاہور لے آیا۔ لاہور میں چونکہ اس کو کوئی کام نہ ملا۔ اس لیے اس نے عورت کو پیشے بٹھا دیا۔ دو تین برس تک یہ سلسلہ جاری رہا اور وہ عورت کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی۔ خدا بخش کو معلوم ہوا کہ وہ ابنالہ میں ہے۔ وہ اس کی تلاش میں ابنالہ آیا جہاں اس کو سلطانہ مل گئی۔ سلطانہ نے اس کو پسند کیا، چنانچہ دونوں کا سمبندھ ہو گیا۔ خدا بخش کے آنے سے ایک دم سلطانہ کا کاروبار چمک اٹھا۔ عورت چوں کہ ضعیف الاعتقاد تھی۔ اس لیے اس نے سمجھا کہ خدا بخش بڑا بھاگوان ہے جس کے آنے سے اتنی ترقی ہو گئی، چنانچہ اس خوش اعتقادی نے خدا بخش کی وقعت اس کی نظروں میں اور بھی بڑھا دی۔ خدا بخش آدمی محنتی تھا۔ سارا دن ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنا پسند نہیں کرتا تھا۔ چنانچہ اس نے ایک فوٹو گرافرسے دوستی پیدا کی جو ریلوے اسٹیشن کے باہر منٹ کیمرے سے فوٹو کھینچا کرتا تھا۔ اس لیے اس نے فوٹو کھینچنا سیکھ لیا۔ پھر سلطانہ سے ساٹھ روپے لے کر کیمرہ بھی خرید لیا۔ آہستہ آہستہ ایک پردہ بنوایا، دو کرسیاں خریدیں اور فوٹو دھونے کا سب سامان لے کر اس نے علیحدہ اپنا کام شروع کردیا۔ کام چل نکلا، چنانچہ اس نے تھوڑی ہی دیر کے بعد اپنا اڈا ابنالے چھاؤنی میں قائم کردیا۔ یہاں وہ گوروں کے فوٹو کھینچتا رہتا۔ ایک مہینے کے اندر اندر اس کی چھاؤنی کے متعدد گوروں سے واقفیت ہو گئی، چنانچہ وہ سلطانہ کو وہیں لے گیا۔ یہاں چھاؤنی میں خدا بخش کے ذریعہ سے کئی گورے سلطانہ کے مستقل گاہک بن گئے اور اس کی آمدنی پہلے سے دوگنی ہو گئی۔ سلطانہ نے کانوں کے لیے بُندے خریدے۔ ساڑھے پانچ تولے کی آٹھ کنگنیاں بھی بنوالیں۔ دس پندرہ اچھی اچھی ساڑھیاں بھی جمع کرلیں، گھرمیں فرنیچر وغیرہ بھی آگیا۔ قصہ مختصر یہ کہ ابنالہ چھاؤنی میں وہ بڑی خوش حال تھی مگر ایکا ایکی نہ جانے خدا بخش کے دل میں کیا سمائی کہ اس نے دہلی جانے کی ٹھان لی۔ سطانہ انکار کیسے کرتی جبکہ خدا بخش کو اپنے لیے بہت مبارک خیال کرتی تھی۔ اس نے خوشی خوشی دہلی جانا قبول کرلیا۔ بلکہ اس نے یہ بھی سوچا کہ اتنے بڑے شہر میں جہاں لاٹ صاحب رہتے ہیں اس کا دھندا اور بھی اچھا چلے گا۔ اپنی سہیلیوں سے وہ دہلی کی تعریف سُن چکی تھی۔ پھر وہاں حضرت نظام الدین اولیاء کی خانقاہ تھی۔ جس سے اسے بے حد عقیدت تھی، چنانچہ جلدی جلدی گھر کا بھاری سامان بیچ باچ کر وہ خدا بخش کے ساتھ دہلی آگئی۔ یہاں پہنچ کر خدا بخش نے بیس روپے ماہوار پر ایک چھوٹا سا فلیٹ لے لیا جس میں وہ دونوں رہنے لگے۔ ایک ہی قسم کے نئے مکانوں کی لمبی سی قطار سڑک کے ساتھ ساتھ چلی گئی تھی۔ میونسپل کمیٹی نے شہر کا یہ حصہ خاص کسبیوں کے لیے مقرر کردیا تھا تاکہ وہ شہر میں جگہ جگہ اپنے اڈے نہ بنائیں۔ نیچے دکانیں تھیں اور اوپر دومنزلہ رہائشی فلیٹ۔ چونکہ سب عمارتیں ایک ہی ڈیزائن کی تھیں اس لیے شروع شروع میں سلطانہ کو اپنا فلیٹ تلاش کرنے میں بہت دِقت محسوس ہوئی تھی پر جب نیچے لانڈری والے نے اپنا بورڈ گھر کی پیشانی پر لگا دیا تو اس کو ایک پکی نشانی مل گئی۔

’’یہاں میلے کپڑوں کی دھلائی کی جاتی ہے۔ ‘‘

یہ بورڈ پڑھتے ہی وہ اپنا فلیٹ تلاش کرلیا کرتی تھی۔ اسی طرح اس نے اور بہت سی نشانیاں قائم کرلی تھیں، مثلاً بڑے بڑے حروف میں جہاں

’’کوئلوں کی دوکان‘‘

لکھا تھا وہاں اس کی سہیلی ہیرا بائی رہتی تھی جو کبھی کبھی ریڈیو گھر میں گانے جایا کرتی تھی۔ جہاں

’’شرفا کے کھانے کا اعلیٰ انتظام ہے۔ ‘‘

لکھا تھا وہاں اس کی دوسری سہیلی مختار رہتی تھی۔ نواڑ کے کارخانہ کے اوپر انوری رہتی تھی جو اسی کارخانہ کے سیٹھ کے پاس ملازم تھی۔ چونکہ سیٹھ صاحب کو رات کے وقت اپنے کارخانہ کی دیکھ بھال کرنا ہوتی تھی اس لیے وہ انوری کے پاس ہی رہتے تھے۔ دوکان کھولتے ہی گاہک تھوڑے ہی آتے ہیں۔ چنانچہ جب ایک مہینے تک سلطانہ بیکار رہی تو اس نے یہی سوچ کر اپنے دل کو تسلی دی، پر جب دو مہینے گزر گئے اور کوئی آدمی اس کے کوٹھے پر نہ آیا تو اسے بہت تشویش ہوئی۔ اس نے خدا بخش سے کہا۔

’’کیا بات ہے خدا بخش، دو مہینے آج پورے ہو گئے ہیں ہمیں یہاں آئے ہوئے، کسی نے ادھر کا رخ بھی نہیں کیا۔ مانتی ہوں آج کل بازار بہت مندا ہے، پر اتنا مندا بھی تو نہیں کہ مہینے بھر میں کوئی شکل دیکھنے ہی میں نہ آئے۔ ‘‘

خدا بخش کو بھی یہ بات بہت عرصہ سے کھٹک رہی تھی مگر وہ خاموش تھا، پر جب سلطانہ نے خود بات چھیڑی تو اس نے کہا۔

’’میں کئی دنوں سے اس کی بابت سوچ رہا ہوں۔ ایک بات سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ کہ جنگ کی وجہ سے لوگ باگ دوسرے دھندوں میں پڑ کر ادھر کا رستہ بھول گئے ہیں۔ یا پھر یہ ہو سکتا ہے کہ۔ ‘‘

وہ اس کے آگے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ سیڑھیوں پر کسی کے چڑھنے کی آواز آئی۔ خدا بخش اور سلطانہ دونوں اس آواز کی طرف متوجہ ہوئے۔ تھوڑی دیر کے بعد دستک ہوئی۔ خدا بخش نے لپک کر دروازہ کھولا۔ ایک آدمی اندر داخل ہوا۔ یہ پہلا گاہک تھا جس سے تین روپے میں سودا طے ہوا۔ اس کے بعد پانچ اور آئے یعنی تین مہینے میں چھ، جن سے سلطانہ نے صرف ساڑھے اٹھارہ روپے وصول کیے۔ بیس روپے ماہوار تو فلیٹ کے کرایہ میں چلے جاتے تھے، پانی کا ٹیکس اور بجلی کا بل جدا تھا۔ اس کے علاوہ گھر کے دوسرے خرچ تھے۔ کھانا پینا، کپڑے لتے، دوا دارو اور آمدن کچھ بھی نہیں تھی۔ ساڑھے اٹھارہ روپے تین مہینے میں آئے تو اسے آمدن تو نہیں کہہ سکتے۔ سلطانہ پریشان ہو گئی۔ ساڑھے پانچ تولے کی آٹھ کنگنیاں جو اس نے انبالے میں بنوائی تھیں آہستہ آہستہ بک گئیں۔ آخری کنگنی کی جب باری آئی تو اس نے خدا بخش سے کہا۔

’’تم میری سنو اور چلو واپس انبالے میں یہاں کیا دھرا ہے؟۔ بھئی ہو گا، پر ہمیں تو یہ شہر راس نہیں آیا۔ تمہارا کام بھی وہاں خوب چلتا تھا، چلو، وہیں چلتے ہیں۔ جو نقصان ہوا ہے اس کو اپنا سر صدقہ سمجھو۔ اس کنگنی کو بیچ کر آؤ، میں اسباب وغیرہ باندھ کر تیار رکھتی ہوں۔ آج رات کی گاڑی سے یہاں سے چل دیں گے۔ ‘‘

خدا بخش نے کنگنی سلطانہ کے ہاتھ سے لے لی اور کہا۔

’’نہیں جانِ من، انبالہ اب نہیں جائیں گے، یہیں دہلی میں رہ کر کمائیں گے۔ یہ تمہاری چوڑیاں سب کی سب یہیں واپس آئیں گی۔ اللہ پر بھروسہ رکھو۔ وہ بڑا کارساز ہے۔ یہاں بھی وہ کوئی نہ کوئی اسباب بنا ہی دے گا۔ ‘‘

سلطانہ چُپ ہورہی، چنانچہ آخری کنگنی ہاتھ سے اتر گئی۔ بُچے ہاتھ دیکھ کر اس کو بہت دُکھ ہوتا تھا، پر کیا کرتی، پیٹ بھی تو آخر کسی حیلے سے بھرنا تھا۔ جب پانچ مہینے گزر گئے اور آمدن خرچ کے مقابلے میں چوتھائی سے بھی کچھ کم رہی تو سلطانہ کی پریشانی اور زیادہ بڑھ گئی۔ خدا بخش بھی سارا دن اب گھر سے غائب رہنے لگا تھا۔ سلطانہ کو اس کا بھی دُکھ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پڑوس میں اس کی دو تین ملنے والیاں موجود تھیں جن کے ساتھ وہ اپنا وقت کاٹ سکتی تھی پر ہر روز ان کے یہاں جانا اور گھنٹوں بیٹھے رہنا اس کو بہت بُرا لگتا تھا۔ چنانچہ آہستہ آہستہ اس نے ان سہیلیوں سے ملنا جلنا بالکل ترک کردیا۔ سارا دن وہ اپنے سنسنان مکان میں بیٹھی رہتی۔ کبھی چھالیا کاٹتی رہتی، کبھی اپنے پرانے اور پھٹے ہوئے کپڑوں کو سیتی رہتی اور کبھی باہر بالکونی میں آ کر جنگلے کے ساتھ کھڑی ہو جاتی اور سامنے ریلوے شیڈ میں ساکت اور متحرک انجنوں کی طرف گھنٹوں بے مطلب دیکھتی رہتی۔ سڑک کی دوسری طرف مال گودام تھا جو اس کونے سے اس کونے تک پھیلا ہوا تھا۔ داہنے ہاتھ کو لوہے کی چھت کے نیچے بڑی بڑی گانٹھیں پڑی رہتی تھیں اور ہر قسم کے مال اسباب کے ڈھیر سے لگے رہتے تھے۔ بائیں ہاتھ کو کھلا میدان تھا جس میں بے شمار ریل کی پٹڑیاں بچھی ہُوئی تھیں۔ دُھوپ میں لوہے کی یہ پٹڑیاں چمکتیں تو سلطانہ اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتی جن پر نیلی نیلی رگیں بالکل ان پٹڑیوں کی طرح اُبھری رہتی تھیں، اس لمبے اور کھلے میدان میں ہر وقت انجن اور گاڑیاں چلتی رہتی تھیں۔ کبھی ادھر کبھی اُدھر۔ ان انجنوں اور گاڑیوں کی چِھک چِھک پَھک پَھک سدا گونجتی رہتی تھی۔ صبح سویرے جب وہ اٹھ کر بالکونی میں آتی تو ایک عجیب سماں نظر آتا۔ دُھندلکے میں انجنوں کے منہ سے گاڑھا گاڑھا دُھواں نکلتا تھا اور گدلے آسمان کی جانب موٹے اور بھاری آدمیوں کی طرح اُٹھتا دکھائی دیتا تھا۔ بھاپ کے بڑے بڑے بادل بھی ایک شور کے ساتھ پٹڑیوں سے اُٹھتے تھے اور آنکھ جھپکنے کی دیر میں ہوا کے اندر گُھل مل جاتے تھے۔ پھر کبھی کبھی جب وہ گاڑی کے کسی ڈبے کو جسے انجن نے دھکا دے کر چھوڑ دیا ہو اکیلے پٹڑیوں پر چلتا دیکھتی تو اسے اپنا خیال آتا۔ وہ سوچتی کہ اسے بھی کسی نے زندگی کی پٹڑی پر دھکا دے کر چھوڑ دیا ہے اور وہ خود بخود جارہی ہے۔ دوسرے لوگ کانٹے بدل رہے ہیں اور وہ چلی جارہی ہے۔ نہ جانے کہاں۔ پھر ایک روز ایسا آئے گا جب اس دھکے کا زور آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گا اور وہ کہیں رک جائیگی۔ کسی ایسے مقام پر جو اس کا دیکھا بھالا نہ ہو گا۔ یوں تو وہ بے مطلب گھنٹوں ریل کی ان ٹیڑھی بانکی پٹڑیوں اور ٹھہرے اور چلتے ہُوئے انجنوں کی طرف دیکھتی رہتی تھی پر طرح طرح کے خیال اس کے دماغ میں آتے رہتے تھے۔ ابنالہ چھاؤنی میں جب وہ رہتی تھی تو اسٹیشن کے پاس ہی اس کا مکان تھا مگروہاں اس نے کبھی ان چیزوں کو ایسی نظروں سے نہیں دیکھا تھا۔ اب تو کبھی کبھی اس کے دماغ میں یہ بھی خیال آتا کہ یہ جو سامنے ریل کی پٹڑیوں کا جال سا بچھا ہے اور جگہ جگہ سے بھاپ اور دھواں اٹھ رہا ہے ایک بہت بڑا چکلہ ہے۔ بہت سی گاڑیاں ہیں جن کو چند موٹے موٹے انجن ادھر ادھر دھکیلتے رہتے ہیں۔ سلطانہ کو تو بعض اوقات یہ انجن سیٹھ معلوم ہوتے ہیں جو کبھی کبھی انبالہ میں اس کے ہاں آیا کرتے تھے۔ پھر کبھی کبھی جب وہ کسی انجن کو آہستہ آہستہ گاڑیوں کی قطار کے پاس سے گزرتا دیکھتی تو اسے ایسا محسوس ہوتا کہ کوئی آدمی چکلے کے کسی بازار میں سے اوپر کوٹھوں کی طرف دیکھتا جارہاہے۔ سلطانہ سمجھتی تھی کہ ایسی باتیں سوچنا دماغ کی خرابی کا باعث ہے، چنانچہ جب اس قسم کے خیال اس کو آنے لگے تو اس نے بالکونی میں جانا چھوڑ دیا۔ خدا بخش سے اس نے بارہا کہا۔

’’دیکھو، میرے حال پر رحم کرو۔ یہاں گھر میں رہا کرو۔ میں سارا دن یہاں بیماروں کی طرح پڑی رہتی ہوں۔ ‘‘

مگر اُس نے ہر بار سلطانہ سے یہ کہہ کر اُس کی تشفی کردی۔

’’جانِ من۔ میں باہر کچھ کمانیکی فکر کررہا ہوں۔ اللہ نے چاہا تو چند دنوں ہی میں بیڑا پار ہو جائے گا۔ ‘‘

پورے پانچ مہینے ہو گئے تھے مگر ابھی تک نہ سلطانہ کا بیڑا پار ہوا تھا نہ خدا بخش کا۔ محرم کا مہینہ سر پر آرہا تھا مگر سلطانہ کے پاس کالے کپڑے بنوانے کے لیے کچھ بھی نہ تھا۔ مختار نے لیڈی ہیملٹن کی ایک نئی وضع کی قمیض بنوائی تھی جس کی آستینیں کالی جارجٹ کی تھیں۔ اس کے ساتھ میچ کرنے کے لیے اس کے پاس کالی ساٹن کی شلوار تھی جو کاجل کی طرح چمکتی تھی۔ انوری نے ریشمی جارجٹ کی ایک بڑی نفیس ساڑھی خریدی تھی۔ اس نے سلطانہ سے کہا تھا کہ وہ اس ساڑھی کے نیچے سفید بوسکی کا پیٹی کوٹ پہنے گی کیونکہ یہ نیا فیشن ہے۔ اس ساڑھی کے ساتھ پہننے کو انوری کالی مخمل کا ایک جوتا لائی تھی جو بڑا نازک تھا۔ سلطانہ نے جب یہ تمام چیزیں دیکھیں تو اُس کو اس احساس نے بہت دکھ دیا کہ وہ محرم منانے کے لیے ایسا لباس خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ انوری اور مختار کے پاس یہ لباس دیکھ کر جب وہ گھر آئی تو اس کا دل بہت مغموم تھا۔ اسے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پھوڑا سا اس کے اندر پیدا ہو گیا ہے۔ گھر بالکل خالی تھا۔ خدا بخش حسبِ معمول باہر تھا۔ دیر تک وہ دری پر گاؤ تکیہ سر کے نیچے رکھ کر لیٹی رہی، پرجب اس کی گردن اونچائی کے باعث اکڑ سی گئی تو اٹھ کر باہر بالکونی میں چلی گئی تاکہ غم افزا خیالات کو اپنے دماغ میں سے نکال دے۔ سامنے پٹڑیوں پر گاڑیوں کے ڈبے کھڑے تھے پر انجن کوئی بھی نہ تھا۔ شام کا وقت تھا۔ چھڑکاؤ ہو چکا تھا اس لیے گرد و غبار دب گیا تھا۔ بازار میں ایسے آدمی چلنے شروع ہو گئے تھے جو تاک جھانک کرنے کے بعد چپ چاپ گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک آدمی نے گردن اونچی کرکے سطانہ کی طرف دیکھا۔ سلطانہ مسکرا دی اور اس کوبھول گئی کیونکہ اب سامنے پٹڑیوں پر ایک انجن نمودار ہو گیا تھا۔ سلطانہ نے غورسے اس کی طرف دیکھنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ یہ خیال اس کے دماغ میں آیا کہ انجن نے بھی کالا لباس پہن رکھا ہے۔ یہ عجیب و غریب خیال دماغ سے نکالنے کی خاطر جب اس نے سڑک کی جانب دیکھا تو اسے وہی آدمی بیل گاڑی کے پاس کھڑا نظر آیا جس نے اس کی طرف للچائی نظروں سے دیکھا تھا۔ سلطانہ نے ہاتھ سے اُسے اشارہ کیا۔ اس آدمی نے اِدھر اُدھر دیکھ کر ایک لطیف اشارے سے پوچھا، کدھر سے آؤں، سلطانہ نے اسے راستہ بتا دیا۔ وہ آدمی تھوڑی دیر کھڑا رہا مگر پھر بڑی پُھرتی سے اوپر چلا آیا۔ سلطانہ نے اسے دری پر بٹھایا۔ جب وہ بیٹھ گیا تو اس نے سلسلہ گفتگو شروع کرنے کے لیے کہا۔

’’آپ اوپر آتے ڈر رہے تھے۔ ‘‘

وہ آدمی یہ سن کر مسکرایا۔

’’تمہیں کیسے معلوم ہُوا۔ ڈرنے کی بات ہی کیا تھی؟‘‘

اس پر سلطانہ نے کہا۔

’’یہ میں نے اس لیے کہا کہ آپ دیر تک وہیں کھڑے رہے اور پھر کچھ سوچ کر ادھر آئے۔ ‘‘

وہ یہ سُن کر پھر مسکرایا۔

’’تمہیں غلط فہمی ہُوئی۔ میں تمہارے اوپر والے فلیٹ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہاں کوئی عورت کھڑی ایک مرد کو ٹھینگا دکھا رہی تھی۔ مجھے یہ منظر پسند آیا۔ پھر بالکونی میں سبز بلب روشن ہُوا تو میں کچھ دیر کے لیے ٹھہر گیا۔ سبز روشنی مجھے پسند ہے۔ آنکھوں کو بہت اچھی لگتی ہے۔ ‘‘

یہ کہہ اس نے کمرے کا جائزہ لینا شروع کردیا۔ پھر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ سلطانہ نے پوچھا۔

’’آپ جارہے ہیں؟‘‘

اس آدمی نے جواب دیا۔

’’نہیں، میں تمہارے اس مکان کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ چلو مجھے تمام کمرے دکھاؤ۔ ‘‘

سلطانہ نے اس کو تینوں کمرے ایک ایک کرکے دکھا دیے۔ اس آدمی نے بالکل خاموشی سے ان کمروں کا معائنہ کیا۔ جب وہ دونوں پھر اُسی کمرے میں آگئے جہاں پہلے بیٹھے تو اس آدمی نے کہا۔

’’میرا نام شنکر ہے۔ ‘‘

سلطانہ نے پہلی بار غور سے شنکر کی طرف دیکھا۔ وہ متوسط قد کا معمولی شکل و صورت کا آدمی تھا مگر اس کی آنکھیں غیرمعمولی طور پر صاف اور شفاف تھیں۔ کبھی کبھی ان میں ایک عجیب قسم کی چمک بھی پیدا ہوتی تھی۔ گٹھیلا اور کسرتی بدن تھا۔ کنپٹیوں پر اس کے بال سفید ہورہے تھے۔ خاکستری رنگ کی گرم پتلون پہنے تھا۔ سفید قمیض تھی جس کا کالر گردن پر سے اوپر کو اُٹھا ہوا تھا۔ شنکر کچھ اس طرح دری پر بیٹھا تھا کہ معلوم ہوتا تھا شنکر کے بجائے سلطانہ گاہک ہے۔ اس احساس نے سلطانہ کو قدرے پریشان کردیا۔ چنانچہ اس نے شنکر سے کہا۔

’’فرمائیے۔ ‘‘

شنکر بیٹھا تھا، یہ سُن کر لیٹ گیا۔

’’میں کیا فرماؤں، کچھ تم ہی فرماؤ۔ بلایا تمہیں نے ہے مجھے۔ ‘‘

جب سلطانہ کچھ نہ بولی تو وہ اُٹھ بیٹھا۔

’’میں سمجھا، لو اب مجھ سے سُنو، جو کچھ تم نے سمجھا، غلط ہے، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو کچھ دیکر جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی طرح میری بھی فیس ہے۔ مجھے جب بلایا جائے تو فیس دینا ہی پڑتی ہے۔ ‘‘

سلطانہ یہ سُن کر چکرا گئی مگر اس کے باوجود اسے بے اختیار ہنسی آگئی۔

’’آپ کام کیا کرتے ہیں؟‘‘

شنکر نے جواب دیا۔

’’یہی جو تم لوگ کرتے ہو۔ ‘‘

’’کیا؟‘‘

’’تم کیا کرتی ہو؟‘‘

’’میں۔ میں۔ میں کچھ بھی نہیں کرتی۔ ‘‘

’’میں بھی کچھ نہیں کرتا۔ ‘‘

سلطانہ نے بھنا کر کہا۔

’’یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ آپ کچھ نہ کچھ تو ضرور کرتے ہوں گے۔ ‘‘

شنکر نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔

’’تم بھی کچھ نہ کچھ ضرور کرتی ہو گی۔ ‘‘

’’جھک مارتی ہوں۔ ‘‘

’’میں بھی جھک مارتا ہوں۔ ‘‘

’’تو آؤ دونوں جھک ماریں۔ ‘‘

’’میں حاضر ہوں مگر جھک مارنے کے لیے دام میں کبھی نہیں دیا کرتا۔ ‘‘

’’ہوش کی دوا کرو۔ یہ لنگر خانہ نہیں۔ ‘‘

’’اور میں بھی والنٹیر نہیں ہوں۔ ‘‘

سلطانہ یہاں رک گئی۔ اس نے پوچھا۔

’’یہ والنٹیر کون ہوتے ہیں۔ ‘‘

شنکر نے جواب دیا۔

’’اُلو کے پٹھے۔ ‘‘

’’میں بھی الو کی پٹھی نہیں۔ ‘‘

’’مگر وہ آدمی خدا بخش جو تمہارے ساتھ رہتا ہے ضرور اُلو کا پٹھا ہے۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

اس لیے کہ وہ کئی دنوں سے ایک ایسے خدا رسیدہ فقیر کے پاس اپنی قسمت کھلوانے کی خاطر جارہا ہے جس کی اپنی قسمت زنگ لگے تالے کی طرح بند ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر شنکر ہنسا۔ اس پر سلطانہ نے کہا۔

’’تم ہندو ہو، اسی لیے ہمارے ان بزرگوں کا مذاق اُڑاتے ہو۔ ‘‘

شنکر مسکرایا۔

’’ایسی جگہوں پر ہندو مسلم سوال پیدا نہیں ہُوا کرتے۔ پنڈت مالویہ اور مسٹر جناح اگر یہاں آئیں تو وہ بھی شریف آدمی بن جائیں۔ ‘‘

’’جانے تم کیا اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہو۔ بولو رہو گے؟‘‘

’’اسی شرط پر جو پہلے بتا چکا ہُوں۔ ‘‘

سلطانہ اُٹھ کھڑی ہُوئی۔

’’تو جاؤ رستہ پکڑو۔ ‘‘

شنکر آرام سے اُٹھا۔ پتلون کی جیبوں میں اس نے اپنے دونوں ہاتھ ٹھونسے اور جاتے ہوئے کہا۔

’’میں کبھی کبھی اس بازار سے گزرا کرتا ہُوں۔ جب بھی تمہیں میری ضرورت ہو بلا لینا۔ میں بہت کام کا آدمی ہوں۔ ‘‘

شنکر چلا گیا اور سلطانہ کالے لباس کو بھول کر دیر تک اس کے متعلق سوچتی رہی۔ اس آدمی کی باتوں نے اس کے دکھ کو بہت ہلکا کردیا تھا۔ اگر وہ انبالے میں آیا ہوتا جہاں کہ وہ خوشحال تھی تو اُس نے کسی اور ہی رنگ میں اس آدمی کو دیکھا ہوتا اور بہت ممکن ہے کہ اسے دھکے دیکر باہر نکال دیا ہوتا مگر یہاں چونکہ وہ بہت اداس رہتی تھی، اس لیے شنکر کی باتیں اسے پسند آئیں۔ شام کو جب خدا بخش آیا تو سلطانہ نے اُس سے پوچھا۔

’’تم آج سارا دن کدھر غائب رہے ہو؟‘‘

خدا بخش تھک کر چُور چُور ہورہا تھا، کہنے لگا۔

’’پرانے قلعہ کے پاس سے آرہا ہوں۔ وہاں ایک بزرگ کچھ دنوں سے ٹھہرے ہُوئے ہیں، انہی کے پاس ہر روز جاتا ہُوں کہ ہمارے دن پھر جائیں۔ ‘‘

’’کچھ انھوں نے تم سے کہا؟‘‘

’’نہیں، ابھی وہ مہربان نہیں ہُوئے۔ پر سلطانہ، میں جو ان کی خدمت کررہا ہوں وہ اکارت کبھی نہیں جائے گی۔ اللہ کا فضل شامل حال رہا تو ضرور وارے نیارے ہو جائیں گے۔ ‘‘

سلطانہ کے دماغ میں محرم منانے کا خیال سمایا ہوا تھا، خدا بخش سے رونی آواز میں کہنے لگی۔

’’سارا سارا دن باہر غائب رہتے ہو۔ میں یہاں پنجرے میں قید رہتی ہوں، نہ کہیں جاسکتی ہوں نہ آسکتی ہوں۔ محرم سر پر آگیا ہے، کچھ تم نے اسکی بھی فکر کی کہ مجھے کالے کپڑے چاہئیں، گھر میں پھوٹی کوڑی تک نہیں۔ کنگنیاں تھیں سو وہ ایک ایک کرکے بِک گئیں، اب تم ہی بتاؤ کیا ہو گا؟۔ یوں فقیروں کے پیچھے کب تک مارے مارے پھرا کرو گے۔ مجھے تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہاں دہلی میں خدا نے بھی ہم سے منہ موڑ لیا ہے۔ میری سنو تو اپنا کام شروع کردو۔ کچھ تو سہارا ہو ہی جائے گا۔ ‘‘

خدا بخش دری پر لیٹ گیا اور کہنے لگا۔

’’پر یہ کام شروع کرنے کے لیے بھی تو تھوڑا بہت سرمایہ چاہیے۔ خدا کے لیے اب ایسی دُکھ بھری باتیں نہ کرو۔ مجھ سے اب برداشت نہیں ہوسکتیں۔ میں نے سچ مچ انبالہ چھوڑنے میں سخت غلطی کی، پر جو کرتا ہے اللہ ہی کرتا ہے اور ہماری بہتری ہی کے لیے کرتا ہے، کیا پتا ہے کہ کچھ دیر اور تکلیفیں برداشت کرنے کے بعد ہم۔ ‘‘

سلطانہ نے بات کاٹ کر کہا۔

’’تم خدا کے لیے کچھ کرو۔ چوری کرو یا ڈاکہ مارو پر مجھے ایک شلوار کا کپڑا ضرور لادو۔ میرے پاس سفید بوسکی کی قمیض پڑی ہے، اس کو میں کالا رنگوالوں گی۔ سفید نینوں کا ایک نیا دوپٹہ بھی میرے پاس موجود ہے، وہی جو تم نے مجھے دیوالی پر لا کر دیا تھا، یہ بھی قیض کیساتھ ہی کالا رنگوا لیا جائے گا۔ ایک صرف شلوار کی کسر ہے، سووہ تم کسی نہ کسی طرح پیدا کردو۔ دیکھو تمہیں میری جان کی قسم کسی نہ کسی طرح ضرور لادو۔ میری بھتی کھاؤ اگر نہ لاؤ۔ ‘‘

خدا بخش اُٹھ بیٹھا۔

’’اب تم خواہ مخواہ زور دیئے چلی جارہی ہو۔ میں کہاں سے لاؤں گا۔ افیم کھانے کے لیے تو میرے پاس پیسہ نہیں۔ ‘‘

’’کچھ بھی کرو مگر مجھے ساڑھے چار گز کالی ساٹن لادو۔ ‘‘

’’دعا کرو کہ آج رات ہی اللہ دو تین آدمی بھیج دے۔ ‘‘

’’لیکن تم کچھ نہیں کرو گے۔ تم اگر چاہو تو ضرور اتنے پیسے پیدا کرسکتے ہو۔ جنگ سے پہلے یہ ساٹن بارہ چودہ آنہ گز مل جاتی تھی، اب سوا روپے گز کے حساب سے ملتی ہے۔ ساڑھے چار گزوں پرکتنے روپے خرچ ہو جائیں گے؟‘‘

’’اب تم کہتی ہو تو میں کوئی حیلہ کروں گا۔ ‘‘

یہ کہہ کر خدا بخش اُٹھا۔

’’لو اب ان باتوں کو بھول جاؤ، میں ہوٹل سے کھانا لے آؤں۔ ‘‘

ہوٹل سے کھانا آیا دونوں نے مل کر زہر مار کیا اور سو گئے۔ صبح ہوئی۔ خدا بخش پرانے قلعے والے فقیر کے پاس چلا گیا اور سلطانہ اکیلی رہ گئی۔ کچھ دیر لیٹی رہی، کچھ دیر سوئی رہی۔ اِدھر اُدھر کمروں میں ٹہلتی رہی، دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد اس نے اپنا سفید نینوں کا دوپٹہ اور سفید بوسکی کی قمیض نکالی اور نیچے لانڈری والے کو رنگنے کے لیے دے آئی۔ کپڑے دھونے کے علاوہ وہاں رنگنے کا کام بھی ہوتا تھا۔ یہ کام کرنے کے بعد اس نے واپس آکر فلموں کی کتابیں پڑھیں جن میں اس کی دیکھی ہوئی فلموں کی کہانی اور گیت چھپے ہُوئے تھے۔ یہ کتابیں پڑھتے پڑھتے وہ سو گئی، جب اٹھی تو چار بج چکے تھے کیونکہ دھوپ آنگن میں سے موری کے پاس پہنچ چکی تھی۔ نہا دھو کر فارغ ہُوئی تو گرم چادر اوڑھ کر بالکونی میں آکھڑی ہُوئی۔ قریباً ایک گھنٹہ سلطانہ بالکونی میں کھڑی رہی۔ اب شام ہو گئی تھی۔ بتیاں روشن ہورہی تھیں۔ نیچے سڑک میں رونق کے آثار نظر آنے لگے۔ سردی میں تھوڑی سی شدت ہو گئی تھی مگر سلطانہ کو یہ ناگوار معلوم نہ ہُوئی۔ وہ سڑک پر آتے جاتے ٹانگوں اور موٹروں کی طرف ایک عرصہ سے دیکھ رہی تھی۔ دفعتہ اسے شنکر نظر آیا۔ مکان کے نیچے پہنچ کر اس نے گردن اونچی کی اور سلطانہ کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔ سلطانہ نے غیر ارادی طور پر ہاتھ کا اشارہ کیا اور اسے اوپر بلا لیا۔ جب شنکر اوپر آگیا تو سلطانہ بہت پریشان ہُوئی کہ اس سے کیا کہے۔ دراصل اس نے ایسے ہی بلا سوچے سمجھے اسے اشارہ کردیا تھا۔ شنکر بے حد مطمئن تھا جیسے اسکا اپنا گھر ہے، چنانچہ بڑی بے تکلفی سے پہلے روز کی طرح وہ گاؤ تکیہ سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گیا۔ جب سلطانہ نے دیر تک اس سے کوئی بات نہ کی تو اس سے کہا۔

’’تم مجھے سو دفعہ بُلا سکتی ہو اور سو دفعہ ہی کہہ سکتی ہو کہ چلے جاؤ۔ میں ایسی باتوں پر کبھی ناراض نہیں ہُوا کرتا۔ ‘‘

سلطانہ شش و پنج میں گرفتار ہو گئی، کہنے لگی۔

’’نہیں بیٹھو، تمہیں جانے کو کون کہتا ہے۔ ‘‘

شنکر اس پر مسکرا دیا۔

’’تو میری شرطیں تمہیں منظور ہیں۔ ‘‘

’’کیسی شرطیں؟‘‘

سلطانہ نے ہنس کر کہا۔

’’کیا نکاح کررہے ہو مجھ سے؟‘‘

’’نکاح اور شادی کیسی؟۔ نہ تم عمر بھر میں کسی سے نکاح کرو گی نہ میں۔ یہ رسمیں ہم لوگوں کے لیے نہیں۔ چھوڑو ان فضولیات کو۔ کوئی کام کی بات کرو۔ ‘‘

’’بولو کیا بات کروں؟‘‘

’’تم عورت ہو۔ کوئی ایسی بات شروع کرو جس سے دو گھڑی دل بہل جائے۔ اس دنیا میں صرف دوکانداری ہی دوکانداری نہیں، اور کچھ بھی ہے۔ ‘‘

سلطانہ ذہنی طور پر اب شنکر کو قبول کرچکی تھی۔ کہنے لگی۔

’’صاف صاف کہو، تم مجھ سے کیا چاہتے ہو۔ ‘‘

’’جو دوسرے چاہتے ہیں۔ ‘‘

شنکر اُٹھ کر بیٹھ گیا۔

’’تم میں اور دوسروں میں پھر فرق ہی کیا رہا۔ ‘‘

’’تم میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں۔ ان میں اور مجھ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایسی بہت سی باتیں ہوتی ہیں جو پوچھنا نہیں چاہئیں خود سمجھنا چاہئیں۔ ‘‘

سلطانہ نے تھوڑی دیر تک شنکر کی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کی پھر کہا۔

’’میں سمجھ گئی ہوں۔ ‘‘

’’تو کہو، کیا ارادہ ہے۔ ‘‘

’’تم جیتے، میں ہاری۔ پر میں کہتی ہُوں، آج تک کسی نے ایسی بات قبول نہ کی ہو گی۔ ‘‘

’’تم غلط کہتی ہو۔ اسی محلے میں تمہیں ایسی سادہ لوح عورتیں بھی مل جائینگی جو کبھی یقین نہیں کریں گی کہ عورت ایسی ذلت قبول کرسکتی ہے جو تم بغیر کسی احساس کے قبول کرتی رہی ہو۔ لیکن ان کے نہ یقین کرنے کے باوجود تم ہزاروں کی تعداد میں موجود ہو۔ تمہارا نام سلطانہ ہے نا؟‘‘

’’سلطانہ ہی ہے۔ ‘‘

شنکر اُٹھ کھڑا ہوا اور ہنسنے لگا۔

’’میرا نام شکر ہے۔ یہ نام بھی عجب اوٹ پٹانگ ہوتے ہیں، چلو آؤ اندر چلیں۔ ‘‘

شنکر اور سلطانہ دری والے کمرے میں واپس آئے تو دونوں ہنس رہے تھے، نہ جانے کس بات پر۔ جب شنکر جانے لگا تو سلطانہ نے کہا۔

’’شنکر میری ایک بات مانو گے؟‘‘

شنکر نے جواباً کہا۔

’’پہلے بات بتاؤ۔ ‘‘

سلطانہ کچھ جھینپ سی گئی۔

’’تم کہو گے کہ میں دام وصول کرنا چاہتی ہوں مگر۔ ‘‘

’’کہو کہو۔ رُک کیوں گئی ہو۔ ‘‘

سلطانہ نے جرأت سے کام لے کر کہا۔

’’بات یہ ہے کہ محرم آرہا ہے اور میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں کالی شلوار بنوا سکوں۔ یہاں کے سارے دکھڑے تو تم مجھ سے سُن ہی چکے ہو۔ قمیض اور دوپٹہ میرے پاس موجود تھا جو میں نے آج رنگوانے کے لیے دیدیا ہے۔ ‘‘

شنکر نے یہ سن کرکہا۔

’’تم چاہتی ہو کہ میں تمہیں کچھ روپے دے دوں جو تم یہ کالی شلوار بنوا سکو۔ ‘‘

سلطانہ نے فوراً ہی کہا۔

’’نہیں، میرا مطلب یہ ہے کہ اگر ہو سکے تو تم مجھے ایک کالی شلوار بنوا دو۔ ‘‘

شنکر مسکرایا۔

’’میری جیب میں تو اتفاق ہی سے کبھی کچھ ہوتا ہے، بہر حال میں کوشش کروں گا۔ محرم کی پہلی تاریخ کو تمہیں یہ شلوار مل جائے گی۔ لے بس اب خوش ہو گئیں۔ ‘‘

سلطانہ کے بُندوں کی طرف دیکھ کر شنکر نے پوچھا۔

’’کیا یہ بُندے تم مجھے دے سکتی ہو؟‘‘

سلطانہ نے ہنس کر کہا۔

’’تم انھیں کیا کرو گے۔ چاندی کے معمولی بُندے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ پانچ روپے کے ہوں گے۔ ‘‘

اس پر شنکر نے کہا۔

’’میں نے تم سے بندے مانگے ہیں۔ ان کی قیمت نہیں پوچھی، بولو، دیتی ہو۔ ‘‘

’’لے لو۔ ‘‘

یہ کہہ کر سلطانہ نے بُندے اتار کر شنکر کو دے دیے۔ اس کے بعد افسوس ہوا مگر شنکر جا چکا تھا۔ سلطانہ کو قطعاً یقین نہیں تھا کہ شنکر اپنا وعدہ پورا کرے گا مگر آٹھ روز کے بعد محرم کی پہلی تاریخ کو صبح نو بجے دروازے پر دستک ہُوئی۔ سلطانہ نے دروازہ کھولا تو شنکر کھڑا تھا۔ اخبار میں لپٹی ہوئی چیز اس نے سلطانہ کو دی اور کہا۔

’’ساٹن کی کالی شلوار ہے۔ دیکھ لینا، شاید لمبی ہو۔ اب میں چلتا ہوں۔ ‘‘

شنکر شلوار دے کر چلا گیا اورکوئی بات اس نے سلطانہ سے نہ کی۔ اس کی پتلون میں شکنیں پڑی ہوئی تھیں۔ بال بکھرے ہُوئے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ابھی ابھی سو کر اٹھا ہے اور سیدھا ادھر ہی چلا آیا ہے۔ سلطانہ نے کاغذ کھولا۔ ساٹن کی کالی شلوار تھی ایسی ہی جیسی کہ وہ انوری کے پاس دیکھ کر آئی تھی۔ سلطانہ بہت خوش ہُوئی۔ بندوں اور اُس سودے کا جو افسوس اسے ہُوا تھا اس شلوار نے اور شنکر کی وعدہ ایفائی نے دور کردیا۔ دوپہر کو وہ نیچے لانڈری والے سے اپنی رنگی ہوئی قمیض اور دوپٹہ لے کر آئی۔ تینوں کالے کپڑے اس نے جب پہن لیے تو دروازے پر دستک ہُوئی۔ سلطانہ نے دروازہ کھولا تو انوری اندر داخل ہوئی۔ اس نے سلطانہ کے تینوں کپڑوں کی طرف دیکھا اور کہا۔

’’قمیض اور دوپٹہ تو رنگا ہُوا معلوم ہوتا ہے، پر یہ شلوار نئی ہے۔ کب بنوائی؟‘‘

سلطانہ نے جواب دیا۔

’’آج ہی درزی لایا ہے۔ ‘‘

یہ کہتے ہوئے اس کی نظریں انوری کے کانوں پر پڑیں۔

’’یہ بُندے تم نے کہاں سے لیے؟‘‘

انوری نے جواب دیا۔

’’آج ہی منگوائے ہیں۔ ‘‘

اس کے بعد دونوں کو تھوڑی دیر تک خاموش رہنا پڑا۔

سعادت حسن منٹو

ڈھارس

آج سے ٹھیک آٹھ برس پہلے کی بات ہے۔ ہندو سبھا کالج کے سامنے جو خوبصورت شادی گھر ہے اس میں ہمارے دوست بشیشر ناتھ کی برات ٹھہری ہوئی تھی۔ تقریباً تین ساڑھے تین سو کے قریب مہمان تھے جو امرتسر اور لاہور کی نامور طوائفوں کا مجرا سُننے کے بعد اس وسیع عمارت کے مختلف کمروں میں فرش پر یا چارپائیوں پر گہری نیند سو رہے تھے۔ چار بج چکے تھے۔ میری آنکھوں میں بشیشر ناتھ کے ساتھ ایک علیحدہ کمرے میں خاص خاص دوستوں کی موجودگی میں پی ہوئی وسکی کا خمار ابھی تک باقی تھا۔ جب ہال کے گول کلاک نے چار بجائے تو میری آنکھ کھلی۔ شاید کوئی خواب دیکھ رہا تھا کیوں کہ پلکوں میں کچھ چیز پھنسی پھنسی معلوم ہوتی تھی۔ ایک آنکھ بند کرکے، اس خیال سے کہ دوسری آنکھ ابھی کچھ دیر سوتی رہے، میں نے ہال کے فرش پر نظر دوڑائی۔ سب سو رہے تھے۔ کچھ اوندھے، کچھ سیدھے اور کچھ چاقو سے بنے ہوئے۔ میں نے اب دوسری آنکھ کھولی اور دیکھا۔ رات کو پینے کے بعد جب ہم ہال میں آکر لیٹے تھے تو اصغر علی نے ضد کی تھی کہ وہ گاؤ تکیہ لے کر سوئے گا۔ گاؤ تکیہ مرے سر سے کچھ فاصلے پر پڑا تھا مگر اصغر موجود نہیں تھا۔ میں نے سوچا، حسبِ معمول رات بھر جاگتا رہا ہے اور اس وقت یہاں سے بہت دور رام باغ میں کسی معمولی ٹکھیائی کے میلے بستر پر سو رہا ہے۔ اصغر علی کے لیے شراب دیسی ہو یا انگریزی، ایک تیز گاڑی تھی جو اسے فوراً عورت کی طرف کھینچ کر لے جاتی تھی۔ شراب پینے کے بعد یوں تو ننانوے فی صد مردوں کو خوبصورت چیزیں اپنی طرف کھینچتی ہیں، لیکن اصغر جو نہایت اچھا فوٹو گرافر اور پینٹر تھا۔ جو رنگوں اور لکیروں کا صحیح امتزاج جانتا تھا، شراب پینے کے بعد ہمیشہ نہایت ہی بھونڈی تصویر پیش کیا کرتا تھا۔ میری پلکوں میں پھنسے ہُوئے خواب کے ٹکڑے نکل گئے اور میں نے اصغر علی کے متعلق سوچنا شروع کردیا جو خواب نہیں تھا۔ اس کے لمبے بالوں والے وزنی سر کا دباؤ گاؤ تکیے پر مجھے صاف نظر آرہا تھا۔ کئی بار غور کرنے کے باوجود میں سمجھ نہ سکا تھا کہ شراب پی کر اصغر کا دل اور دماغ شل کیوں ہو جاتا ہے۔ شل تو نہیں کہنا چاہیے کیونکہ وہ خوفناک طور پر بیدار ہو جاتا تھا اور اندھیری سے اندھیری گلیوں میں بھی راستہ تلاش کرتا، وہ لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے کسی نہ کسی جسم بیچنے والی عورت کے پاس پہنچ جاتا۔ اس کے غلیظ بستر سے اٹھ کر جب وہ صبح نہا دھو کر اپنے اسٹوڈیو پہنچتا اور صاف ستھری، تندرست جوان اور خوب صورت لڑکیوں اور عورتوں کی تصویر اُتارتا تو اس کی آنکھوں میں حیوانیت کی ہلکی سی جھلک بھی نہ ہوتی جو شرابی حالت میں ہر دیکھنے والے کو نظر آسکتی تھی۔ یقین مانیے شراب پی کر وہ سخت بے چین ہو جاتا تھا۔ اس کے دماغ سے خود احتسابی کچھ عرصے کے لیے بالکل مفقود ہو جاتی تھی۔ آدمی کتنا پی سکتا تھا! چھ، سات، آٹھ پیگ۔ مگر اس بظاہر بے ضرر سیال مادے کے چھ یا سات گھونٹ اسے شہوت کے اتھاہ سمندر میں دھکیل دیتے تھے۔ آپ وسکی میں سوڈا یا پانی ملا سکتے ہیں، لیکن عورت کو اس میں حل کرنا کم از کم میری سمجھ میں نہیں آتا۔ شراب پی جاتی ہے۔ غم غلط کرنے کے لیے۔ عورت کوئی غم تو نہیں۔ شراب پی جاتی ہے۔ شور مچانے کے لیے۔ عورت کوئی شور تو نہیں۔ رات اصغر نے شراب پی کر بہت شور مچایا۔ شادی بیاہ پر چونکہ ویسے ہی کافی ہنگامہ ہوتا ہے اس لیے یہ شور دب گیا ورنہ مصیبت برپا ہوتی۔ ایک دفعہ وسکی سے بھرا ہوا گلاس اٹھا کر یہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا:

’’میں بہت اونچا آدمی ہوں۔ اونچی جگہ بیٹھ کر پیوں گا۔ ‘‘

میرا خیال تھا کہ رام باغ میں کسی اونچے کوٹھے کی تلاش میں چلا گیا ہے، لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد جب دروازہ کھلا تو وہ ایک لکڑی کی سیڑھی لیے اندر داخل ہوا اور اسے دیوار کے ساتھ لگا کر سب سے اوپر والے ڈنڈے پر بیٹھ گیا اور چھت کے ساتھ سر لگا کر پینے لگا۔ بڑی مشکلوں کے بعد میں نے اور بشیشر نے اسے نیچے اتارا اور سمجھایا کہ ایسی حرکتیں صرف اس وقت اچھی لگتی ہیں جب کوئی اور موجود نہ ہو، شادی گھر مہمانوں سے کھچا کھچ بھرا ہے، اسے خاموش رہنا چاہیے۔ معلوم نہیں کیسے یہ بات اس کے دماغ میں بیٹھ گئی کیونکہ جب تک پارٹی جاری رہی، وہ ایک کونے میں چپ چاپ بیٹھا اپنے حصے کی وسکی پیتا رہا۔ یہ سوچتے سوچتے میں اُٹھا اور باہر بالکنی میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ سامنے ہندو سبھا کالج کی لال لال اینٹوں والی عمارت صبح کے خاموش اندھیارے میں لپٹی ہوئی تھی۔ آسمان کی طرف دیکھا تو کئی تارے مٹیالے آسمان پر کانپتے ہوئے نظر آئے۔ مارچ کے آخری دنوں کی خُنک ہوا دھیرے دھیرے چل رہی تھی۔ میں نے سوچا چلو اوپر چلیں۔ کھلی جگہ ہے، کچھ دیر مر مر کے بنے ہوئے شہ نشین پر لیٹیں گے۔ سردی محسوس ہونے پر بدن میں جو تیز تیز جھرجھریاں پیدا ہوں گی، ان کا مزا آئے گا۔ لمبا برآمدہ طے کرکے جب میں سیڑھیوں کے پاس پہنچا تو اوپر سے کسی کے اترنے کی آواز آئی۔ چند لمحات کے بعد اصغر نمودار ہوا اور مجھ سے کلام کیے بغیر پاس سے گزر گیا اندھیرا تھا میں نے سوچا شاید اس نے مجھے دیکھا نہیں چنانچہ آہستہ آہستہ سیڑھیوں پر میں نے چڑھنا شروع کیا۔ میری عادت ہے، جب کبھی میں سیڑھیاں چڑھتا ہوں تو اس کے زینے ضرور گنتا ہوں۔ میں نے دل میں چوبیس کہا اور دفعتہً مجھے آخری زینے پر ایک عورت کھڑی نظر آئی۔ میں بوکھلا گیاکیونکہ قریب قریب ہم دونوں ایک دوسرے سے ٹکرا گئے تھے۔

’’معاف کر دیجیے گا۔ اوہ، آپ!‘‘

عورت شاردا تھی۔ ہماری ہمسائی ہرنام کور کی بڑی لڑکی جو شادی کے ایک برس بعد ہی بیوہ ہو گئی تھی۔ پیشتر اس کے میں اس سے کچھ اور کہوں، اس نے مجھ سے بڑی تیزی سے پوچھا۔

’’یہ کون تھا جو ابھی نیچے گیا ہے؟‘‘

’’کون!‘‘

’’وہی آدمی جو ابھی نیچے اُتر کے گیا ہے۔ کیا آپ اسے جانتے ہیں۔ ‘‘

’’جانتا ہوں۔ ‘‘

’’کون ہے؟‘‘

’’اصغر۔ ‘‘

’’اصغر!‘‘

اس نے یہ نام اپنے دانتوں کے اندر جیسے کاٹ دیا اور مجھے، جو کچھ بھی ہُوا تھا اس کا علم ہو گیا۔

’’کیا اس نے کوئی بدتمیزی کی ہے۔ ‘‘

’’بدتمیزی!‘‘

شاردا کا دوہرا جسم غصے سے کانپ اٹھا۔

’’لیکن میں کہتی ہوں اس نے مجھے سمجھا کیا۔ ‘‘

یہ کہتے ہُوئے اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

’’اس نے۔ اس نے۔ ‘‘

اس کی آواز حلق میں پھنس گئی اور دونوں ہاتھوں سے منہ ڈھانپ کر اس نے زور زور سے رونا شروع کردیا۔ میں عجیب الجھن میں پھنس گیا۔ سوچنے لگا اگر رونے کی آواز سن کر کوئی اوپر آگیا تو ایک ہنگامہ برپا ہو جائے گا۔ شاردا کے چار بھائی ہیں اور چاروں کے چاروں شادی گھر میں موجود ہیں۔ ان میں سے دو تو ہر وقت دوسروں سے لڑائی کا بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ اصغر علی کی اب خیر نہیں۔ میں نے اس کو سمجھانا شروع کیا:

’’دیکھیے آپ روئیے نہیں۔ کوئی سُن لے گا۔ ‘‘

ایک دم دونوں ہاتھ اپنے منہ سے ہٹا کر اس نے تیز آواز کہا۔

’’سُن لے۔ میں سُنانا ہی تو چاہتی ہوں۔ مجھے آخر اس نے سمجھا کیا تھا۔ بازاری عورت۔ میں۔ میں۔ ‘‘

آواز پھر اس کے حلق میں اٹک گئی۔

’’میرا خیال ہے اس معاملے کو یہیں دبا دینا چاہیے۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’بدنامی ہو گی۔ ‘‘

’’کس کی۔ میری یا اس کی؟‘‘

’’بدنامی تو اس کی ہو گی لیکن کیچڑ میں ہاتھ ڈالنے کا فائدہ ہی کیا ہے!‘‘

یہ کہہ میں نے اپنا رومال نکال کر اسے دیا۔

’’لیجیے آنسو پونچھ لیجیے۔ ‘‘

رومال فرش پر پٹک کروہ شہ نشین پر بیٹھ گئی۔ میں نے رومال اٹھا کر اپنی جیب میں رکھ لیا۔

’’شاردا دیوی! اصغر میرا دوست ہے۔ اس سے جو غلطی ہوئی، میں اس کی معافی چاہتا ہوں۔

’’آپ کیوں معافی مانگتے ہیں؟‘‘

’’اس لیے کہ میں یہ معاملہ رفع دفع کرنا چاہتا ہوں۔ ویسے آپ کہیں تو میں اسے یہاں لے آتا ہوں۔ وہ آپ کے سامنے ناک سے لکیریں بھی کھینچ دے گا۔ ‘‘

نفرت سے اس نے اپنا منہ پھیر لیا۔

’’نہیں۔ اس کو میرے سامنے مت لائیے گا۔ اس نے میرا اپمان کیا ہے۔ ‘‘

یہ کہتے ہوئے پھر اس کا گلا رندھ گیا، اور شہ نشین کی مرمریں سل پر کہنیوں کے بل دوہری ہو کر اس نے مجروح جذبات کے اٹھتے ہوئے فوارے کو دبانے کی ناکام کوشش کی۔ میں بوکھلا گیا۔ ایک جوان اور تندرست عورت میرے سامنے رو رہی تھی اور میں اسے چپ نہیں کراسکتا تھا۔ ایک دفعہ اسی اصغر کی موٹر چلاتے چلاتے میں نے ایک کتے کو بچانے کے لیے ہارن بجایا۔ شامت اعمال ایسا ہاتھ پڑا کہ ہارن بس وہیں، آواز۔ ایک نہ ختم ہونے والا شور بن کے رہ گئی۔ ہزار کوشش کررہا ہوں کہ ہارن بند ہو جائے مگر وہ پڑا چلا رہا ہے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں اور میں مجسم بے چارگی بنا بیٹھا ہوں۔ خدا کا شکر ہے کوٹھے پرمیرے اور شاردرا کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ لیکن میری بے چارگی کچھ اس ہارن والے معاملے سے سوا تھی۔ میرے سامنے ایک عورت رو رہی تھی جس کو بہت دکھ پہنچا تھا۔ کوئی اور عورت ہوتی تو میں تھوڑی دیر اپنا فرض ادا کرنے کے بعد چلا جاتا، مگر شاردا ہمسائی کی لڑکی تھی اور میں اسے بچپن سے جانتا تھا۔ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ اپنی تین چھوٹی بہنوں کے مقابلے میں کم خوبصورت لیکن بہت ذہین۔ کروشیے اور سلائی کے کام میں چابک دست اور کم گو۔ جب پچھلے برس شادی کے عین ساڑھے گیارہ مہینوں بعد اس کا خاوند ریل کے حادثے میں مر گیا تھا تو ہم سب گھر والوں کو بہت افسوس ہوا تھا۔ خاوند کی موت کا صدمہ کچھ اور ہے، مگر یہ صدمہ جو شاردا کو میرے ایک واہیات دوست نے پہنچایا تھا، ظاہر ہے کہ اس کی نوعیت بالکل مختلف اور بہت اذّیت دہ تھی۔ میں نے اس کو چپ کرانے کی ایک بار اور کوشش کی۔ شہ نشین پراس کے پاس بیٹھ کر میں نے اس سے کہا:

’’شاردا یوں روئے جانا ٹھیک نہیں۔ جاؤ! نیچے چلی جاؤ اور جو کچھ ہُوا ہے، اس کو بھول جاؤ۔ وہ کم بخت شراب پیے ہوا تھا۔ ورنہ یقین جانو اتنا برا آدمی نہیں۔ شراب پی کر جانے کیا ہو جاتا ہے اسے۔ ‘‘

شاردا کا رونا بند نہ ہُوا۔ مجھے معلوم تھا اصغر نے کیا کیا ہو گا، کیونکہ عام مردوں کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے، جسمانی۔ لیکن پھربھی میں خود شاردا کے منہ سے سننا چاہتا تھا کہ اصغر نے کس طور پر یہ بے ہودگی کی۔ چنانچہ میں نے اسی ہمدردانہ لہجے میں اس سے کہا۔

’’معلوم نہیں اس نے تم سے کیا بدتمیزی کی ہے، لیکن کچھ نہ کچھ میں سمجھ سکتا ہوں۔ تم اوپر کیا کرنے آئی تھیں۔ ‘‘

شاردا نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔

’’میں نیچے کمرے میں سو رہی تھی، دو عورتوں نے میرے متعلق باتیں شروع کردیں۔ ‘‘

آواز ایک دم اس کے گلے میں رندھ گئی۔ میں نے پوچھا۔

’’کیا کہہ رہی تھیں؟‘‘

شاردا نے اپنا منہ مرمریں سل پر رکھ دیا اور بہت زور سے رونے لگی۔ میں نے اس کے چوڑے کاندھوں پر ہولے ہولے تھپکی دی۔

’’چپ کر جاؤ شاردا۔ چپ کر جاؤ۔ ‘‘

روتے روتے، ہچکیوں کے درمیان اس نے کہا۔

’’وہ کہتی تھیں۔ وہ کہتی تھیں۔ اس ودوا کو یہاں کیوں بُلایا گیا ہے۔ ‘‘

ودوا کہتے ہوئے شاردا نے اپنے آنسوؤں بھرے دوپٹے کا ایک کونہ منہ میں چبا لیا۔

’’یہ سن کر میں رونے لگی اور اوپر چلی آئی۔ اور۔ ‘‘

یہ سُن کر مجھے بھی شدید دکھ ہوا۔ عورتیں کتنی ظالم ہوتی ہیں۔ خاص طور پر بوڑھی۔ زخم تازہ ہوں، یا پرانے کیا مزے لے لے کرکریدتی ہیں۔ میں نے شاردا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور پُر خلوص ہمدردی سے دبایا۔

’’ایسی باتوں کی بالکل پروا نہیں کرنی چاہیے۔ ‘‘

وہ بچے کی طرح بلکنے لگی۔

’’میں نے اوپر آکر یہی سوچا تھا اور سو گئی تھی۔ کہ آپ کا دوست آیا اور اس نے میرا دوپٹہ کھینچا۔ اور میرے کُرتے کے بٹن کھول کر۔ ‘‘

اس کے کُرتے کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔

’’جانے دو شاردا۔ بھول جاؤ جو کچھ ہوا۔ ‘‘

میں نے جیب سے رومال نکالا اور اس کے آنسو پونچھنے شروع کیے۔ دوپٹے کا کونہ ابھی تک اس کے منہ تھا، بلکہ اس نے کچھ اور زیادہ اندر چبا لیا تھا۔ میں نے کھینچ کر باہر نکال لیا۔ اس گیلے حصے کو اس نے اپنی انگلیوں پر لپیٹتے ہوئے بڑے دکھ سے کہا:

’’آپ کے دوست ودوا سمجھ کر ہی مجھ پر ہاتھ ڈالا ہو گا۔ سوچا ہو گا اس عورت کا کون ہے۔ ‘‘

’’نہیں نہیں شاردا، نہیں۔

’’میں نے اس کا سر اپنے کندھے کے ساتھ لگا لیا‘‘

’’جو کچھ اس نے سوچا، جو کچھ اس نے کیا لعنت بھیجو اس پر۔ چپ ہو جاؤ۔ ‘‘

جی چاہا لوری دے کر اس کو سلادوں۔ میں نے اس کی آنکھیں خشک کی تھیں لیکن آنسو پھر اُبل آئے تھے۔ دوپٹے کا کونہ جو اس نے پھر منہ میں چبا لیا تھا، میں نے نکال کر انگلیوں سے اس کے آنسو پونچھے اور دونوں آنکھوں کو ہولے ہولے چوم لیا۔

’’بس اب نہیں رونا۔ ‘‘

شاردا نے اپنا سر میرے سینے کے ساتھ لگا دیا۔ میں نے دھیرے دھیرے اس کے گال تھپکائے:

’’بس، بس، بس!‘‘

تھوڑی دیر کے بعد جب میں نیچے اترا تو مارچ کے آخری دنوں کی خنک ہوا میں، شہ نشین کی مرمریں سل پر، اصغر کی بے ہودگی کو بھول کر شاردا اپنا ململ کا دوپٹہ تانے خود کو بالکل ہلکی محسوس کررہی تھی۔ اس کے سینے میں تلاطم کے بجائے اب شیر گرم سکون تھا۔

سعادت حسن منٹو

ڈرپوک

میدان بالکل صاف تھا۔ مگر جاوید کا خیال تھا کہ میونسپل کمیٹی کی لالٹین جو دیوار میں گڑی ہے۔ اس کوگھور رہی ہے۔ بار باروہ اس چوڑے صحن کو جس پر نانک شاہی اینٹوں کا اونچا نیچا فرش بنا ہوا تھا، طے کرکے اس نکڑ والے مکان تک پہنچنے کا ارادہ کرتا جو دوسری عمارتوں سے بالکل الگ تھلگ تھا۔ مگر یہ لالٹین جو مصنوعی آنکھ کی طرح ہر طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی، اس کے ارادے کو متزلزل کردیتی اور وہ اس بڑی موری کے اس طرف ہٹ جاتا جس کو پھاند کر وہ صحن کو چند قدموں میں طے کرسکتا تھا۔ صرف چند قدموں میں! جاوید کا گھر اس جگہ سے کافی دور تھا۔ مگر یہ فاصلہ بڑی تیزی سے طے کرکے یہاں پہنچ گیا تھا۔ اس کے خیالات کی رفتار اس کے قدموں کی رفتار سے زیادہ تیز تھی۔ راستے میں اس نے بہت سی چیزوں پرغور کیا۔ وہ بیوقوف نہیں تھا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ ایک بیسوا کے پاس جا رہا ہے۔ اور اس کو اس بات کا بھی پورا شعور تھا کہ وہ کس غرض سے اس کے یہاں جانا چاہتاہے۔ وہ عورت چاہتا تھا۔ عورت، خواہ وہ کسی شکل میں ہو۔ عورت کی ضرورت اس کی زندگی میں یک بیک پیدا نہیں ہوئی تھی۔ ایک زمانے سے یہ ضرورت اس کے اندر آہستہ آہستہ شدت اختیار کرتی رہی تھی۔ اور اب دفعتہً اس نے محسوس کیا تھا کہ عورت کے بغیر وہ ایک لمحہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ عورت اس کو ضرور ملنی چاہیے، ایسی عورت جس کی ران پر ہولے سے طمانچہ مار کروہ اس کی آواز سن سکے۔ ایسی عورت جس سے وہ واہیات قسم کی گفتگو کرسکے۔ جاوید پڑھا لکھا ہوشمند آدمی تھا۔ ہر بات کی اونچ نیچ سمجھتا تھا۔ مگر اس معاملے میں مزید غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس کے دل میں ایک ایسی خواہش پیدا ہوئی تھی، جو اس کے لیے نئی نہ تھی۔ عورت کی قربت حاصل کرنے کی خواہش اس سے پہلے کئی بار اس کے دل میں پیدا ہوئی اور اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے انتہائی کوششوں کے بعد جب اسے ناامیدی کا سامنا کرنا پڑا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس کی زندگی میں سالم عورت کبھی نہیں آئے گی۔ اور اگر اس نے اس سالم عورت کی تلاش جاری رکھی تو کسی روز وہ دیوانے کُتے کی طرح راہ چلتی عورت کو کاٹ کھائے گا۔ کاٹ کھانے کی حد تک اپنے ارادہ میں ناکام رہنے کے بعد اب دفعتہً اس کے دل میں اس خواہش نے کروٹ بدلی تھی۔ اب کسی عورت کے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کرنے کاخیال اس کے دماغ سے نکل چکا تھا۔ عورت کا تصور اس کے دماغ میں موجود تھا۔ اس کے بال بھی تھے۔ مگر اب اس کی یہ خواہش تھی کہ وہ ان بالوں کو وحشیوں کی طرح کھینچے، نوچے، اکھیڑے۔ اب اس کے دماغ میں سے وہ عورت نکل چکی تھی جس کے ہونٹوں پر وہ اپنے ہونٹ اس طرح رکھنے کا آرزو مند تھا۔ جیسے تتلی پھولوں پر بیٹھتی ہے، اب وہ ان ہونٹوں کو اپنے گرم ہونٹوں سے داغنا چاہتا تھا۔ ہولے ہولے سرگوشیوں میں باتیں کرنے کا خیال بھی اس کے دماغ میں نہیں تھا۔ اب وہ بلند آواز میں باتیں کرنا چاہتا تھا۔ ایسی باتیں جو اس کے موجودہ ارادے کی طرح ننگی ہوں۔ اب سالم عورت اس کے پیش نظر نہیں تھی۔ وہ ایسی عورت چاہتا تھا جو گھس گھسا کر شکستہ حال مرد کی شکل اختیار کرگئی ہو۔ ایسی عورت جو آدھی عورت ہو۔ اور آدھی کچھ بھی نہ ہو۔ ایک زمانہ تھا جب جاوید عورت کہتے وقت اپنی آنکھوں میں خاص قسم کی ٹھنڈک محسوس کیا کرتا تھا۔ جب عورت کا تصور اسے چاند کی ٹھنڈی دنیا میں لے جاتا تھا۔ وہ

’’عورت‘‘

کہتا تھا۔ بڑی احتیاط سے جیسے اس کو اس بے جان لفظ کے ٹوٹنے کا ڈر ہو۔ ایک عرصے تک وہ اس دنیا کی سیر کرتا رہا مگر انجام کار اس کو معلوم ہوا کہ عورت کی تمنا اس کے دل میں ہے۔ اس کی زندگی کا ایسا خواب ہے جو خراب معدے کے ساتھ دیکھا جائے۔ جاوید اب خوابوں کی دنیا سے باہر نکل آیا تھا۔ بہت دیر تک ذہنی طور پر وہ اپنے آپ کو بہلاتا رہا۔ مگر اب اس کا جسم خوفناک حد تک بیدار ہو چکا تھا۔ اس کے تصور کی شدت نے اس کی جسمانی حسیات کی نوک پلک کچھ اس طور پر نکالی تھی کہ اب زندگی اس کے لیے سوئیوں کا بستر بن گئی۔ ہر خیال ایک نشتر بن گیا اور عورت اس کی نظروں میں ایسی شکل اختیار کرگئی جس کو وہ بیان بھی کرنا چاہتا تو نہ کرسکتا۔ جاوید کبھی انسان تھا۔ مگر اب انسانوں سے اسے نفرت تھی، اس قدر کہ اپنے آپ سے بھی متنفّر ہوچکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ خود کو ذلیل کرنا چاہتا تھا۔ اس طورپر کہ ایک عرصے تک اس کے خوبصورت خیال جن کو وہ اپنے دماغ میں پھولوں کی طرح سجا کے رکھتا رہا تھا، غلاظت سے لتھڑے رہیں۔

’’مجھے نفاست تلاش کرنے میں ناکامی رہی ہے لیکن غلاظت تو میرے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ اب جی یہ چاہتا ہے کہ اپنی روح اور جسم کے ہر ذرے کو اس غلاظت سے آلودہ کردوں۔ میری ناک جو اس سے پہلے خوشبوؤں کی متجسس رہی ہے اب بدبو دار اور متعفن چیزیں سونگھنے کے لیے بیتاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے آج اپنے پرانے خیالات کا چغہ اتار کر اس محلے کا رخ کیا ہے۔ جہاں ہر شے ایک پراسرار تعفن میں لپٹی نظر آتی ہے۔ یہ دنیا کس قدر بھیانک طور پر حسین ہے!‘‘

نانک شاہی اینٹوں کا ناہموار فرش اس کے سامنے تھا۔ لالٹین کی بیمار روشنی میں جاوید نے اس فرش کی طرف اپنی بدلی ہوئی نظروں سے دیکھا تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ بہت سی ننگی عورتیں اوندھی لیٹی ہیں جن کی ہڈیاں جا بجا ابھر رہی ہیں۔ اس نے ارادہ کیا کہ اس فرش کو طے کرکے نکڑ والے مکان کی سیڑھیوں تک پہنچ جائے اور کوٹھے پر چڑھ جائے مگر میونسپل کمیٹی کی لالٹین غیر مختتم ٹکٹکی باندھے اس کی طرف گھور رہی تھی۔ اس کے بڑھنے والے قدم رک گئے۔ اور وہ بھنا سا گیا۔ یہ لالٹین مجھے کیوں گھور رہی ہے۔ یہ میرے راستے میں کیوں روڑے اٹکاتی ہے۔ ‘‘

وہ جانتا تھا کہ یہ محض واہمہ ہے اور اصلیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں لیکن پھربھی اس کے قدم رک جاتے تھے۔ اور وہ اپنے دل میں تمام بھیانک ارادے لیے موری کے اس پار رہ جاتا تھا، وہ یہ سمجھتا تھا کہ اس کی زندگی کے ستائیس برسوں کی جھجک جو اسے ورثے میں ملی تھی، اس لالٹین میں جمع ہو گئی ہے۔ یہ جھجک جس کو پرانی کینچلی کی طرح اتار کروہ اپنے گھر چھوڑ آیا تھا، اس سے پہلے وہاں پہنچ چکی تھی جہاں اسے اپنی زندگی کا سب سے بھدا کھیل کھیلنا تھا۔ ایسا کھیل جو اسے کیچڑ میں لت پت کردے، اس کی روح کو ملوّث کردے۔ ایک میلی کچیلی عورت اس مکان میں رہتی تھی۔ اس کے پاس چار پانچ جوان عورتیں تھیں جو رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں یکساں بھدے پن سے پیشہ کیا کرتی تھیں۔ یہ عورتیں گندی موری سے غلاظت نکالنے والے پمپ کی طرح چلتی رہتی تھیں۔ جاوید کو اس قحبہ خانے کے متعلق اس کے ایک دوست نے بتایا تھا جو حسن و عشق کی تلاش کئی مرتبہ اس قبرستان میں دفن کر چکا تھا۔ جاوید سے وہ کہا کرتا تھا۔

’’تم عورت عورت پکارتے ہو۔ عورت ہے کہاں؟۔ مجھے تو اپنی زندگی میں صرف ایک عورت نظر آئی جو میری ماں تھی۔ مستورات البتہ دیکھی ہیں اور ان کے متعلق سنا بھی ہے لیکن جب کبھی عورت کی ضرورت محسوس ہوئی ہے تو میں نے مائی جیواں کے کوٹھے کو اپنا بہترین رفیق پایا ہے۔ بخدا مائی جیواں عورت نہیں فرشتہ ہے۔ خدا اس کو خضر کی عمر عطا فرمائے۔ ‘‘

جاوید مائی جیواں اور اس کے یہاں کی چار پانچ پیشہ کرنے والی عورتوں کے متعلق بہت کچھ سن چکا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ ان میں سے ایک ہر وقت گہرے رنگ کے شیشے والا چشمہ پہنے رہتی ہے۔ اس لیے کہ کسی بیماری کے باعث اس کی آنکھیں خراب ہو چکی ہیں۔ ایک کالی کلوٹی لونڈیا ہے جو ہر وقت ہنستی رہتی ہے۔ اس کے متعلق جاوید جب سوچتاتو عجیب و غریب تصویر اس کی آنکھوں کے سامنے کھچ جاتی۔

’’مجھے ایسی ہی عورت چاہیے جو ہر وقت ہنستی رہے۔ ایسی عورتوں کو ہنستے ہی رہنا چاہیے۔ جب وہ ہنستی ہو گی تو اس کے کالے کالے ہونٹ یوں کھلتے ہوں گے۔ جیسے بدبودار گندے پانی میں میلے بلبلے بن بن کر اٹھتے ہیں۔ ‘‘

مائی جیواں کے پاس ایک اور چھوکری بھی تھی۔ جو باقاعدہ طور پر پیشہ کرنے سے پہلے گلیوں اور بازاروں میں بھیک مانگا کرتی تھی۔ اب ایک برس سے وہ اس مکان میں تھی، جہاں اٹھارہ برسوں سے یہی کام ہورہا تھا۔ یہ اب پوڈر اور سرخی لگاتی تھی۔ جاوید اس کے متعلق بھی سوچتا۔

’’اس کے سرخی لگے گال بالکل داغدار سیبوں کے مانند ہوں گے۔ جو ہر کوئی خرید سکتا ہے۔ ‘‘

ان چار یا پانچ عورتوں میں سے جاوید کی کسی خاص پر نظر نہیں تھی۔ مجھے کوئی بھی مل جائے۔ میں چاہتا ہوں کہ مجھ سے دام لیے جائیں اور کھٹ سے ایک عورت میری بغل میں تھما دی جائے۔ ایک سیکنڈ کی دیر نہ ہونی چاہیے۔ کسی قسم کی گفتگو نہ ہو، کوئی نرم و نازک فقرہ منہ سے نہ نکلنے پائے۔ قدموں کی چاپ سنائی دے۔ دروازہ کھلنے کی کھڑکھڑاہٹ پیدا ہو۔ روپے کھنکھنائیں۔ اور آوازیں بھی آئیں مگر منہ بند رہے، اگر آواز نکلے تو ایسی جو انسانی آواز معلوم نہ ہو۔ ملاقات ہو بالکل حیوانوں کی طرح تہذیب و تمدن کے صندوق میں تالا لگ جائے۔ تھوڑی دیر کے لیے ایسی دنیا آباد ہو جائے جس میں سونگھنے، دیکھنے اور سننے کی نازک حسیات زنگ لگے استرے کے مانند کند ہو جائیں۔ جاوید بے چین ہو گیا۔ ایک الجھن سی اس کے دماغ میں پیدا ہو گئی۔ ارادہ اس کے اندر اتنی شدت اختیار کر چکا تھا۔ کہ اگر پہاڑ بھی اس کے راستے میں ہوتے تو وہ ان سے بھڑ جاتا۔ مگر میونسپل کمیٹی کی ایک اندھی لالٹین جس کو ہوا کا ایک جھونکا بجھا سکتا تھا۔ اس کی راہ میں بہت بُری طرح حائل ہو گئی تھی۔ اس کی بغل میں پان والے کی دکان کھلی تھی۔ تیز روشنی میں اس کی چھوٹی سی دکان کا اسباب اس قدر نمایاں ہورہا تھا کہ بہت سی چیزیں نظر نہیں آتی تھیں۔ بجلی کے قمقمے کے اردگرد مکھیاں اس انداز سے اڑ رہی تھیں جیسے ان کے پَر بوجھل ہورہے ہیں۔ جاوید نے جب ان کی طرف دیکھا تو اس کی الجھن میں اضافہ ہو گیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسے کوئی سست رفتار چیز نظر آئے۔ اس کا کر گزرنے کا ارادہ جو وہ اپنے گھر سے لے کر یہاں آیا تھا ان مکھیوں کے ساتھ ساتھ بار بار ٹکرایا اور وہ اس کے احساس سے اس قدر پریشان ہوا کہ ایک ہلڑ سا اس کے دماغ میں مچ گیا۔

’’میں ڈرتا ہوں۔ میں خوف کھاتا ہوں۔ اس لالٹین سے مجھے ڈر لگتا ہے۔ میرے تمام ارادے اس نے تباہ کردیے ہیں۔ میں ڈرپوک ہوں۔ میں ڈرپوک ہوں۔ لعنت ہو مجھ پر۔ ‘‘

اس نے کئی لعنتیں اپنے آپ پر بھیجیں مگر خاطر خواہ اثر پیدا نہ ہوا۔ اس کے قدم آگے نہ بڑھ سکے۔ نانک شاہی اینٹوں کا ناہموار فرش اس کے سامنے لیٹا رہا۔ گرمیوں کے دن تھے نصف رات گزرنے پر بھی ہوا ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی۔ بازار میں آمدورفت بہت کم تھی۔ گنتی کی صرف چند دکانیں کھلی تھیں۔ فضا خاموشی میں لپٹی ہوئی تھی۔ البتہ کبھی کبھی کسی کوٹھے سے ہوا کے گرم جھونکے کے ساتھ تھکی ہوئی موسیقی کا ایک ٹکڑا اڑ کر ادھر چلا آتا تھا اور گاڑھی خاموشی میں گھل جاتا تھا۔ جاوید کے سامنے یعنی مائی جیواں کے قحبہ خانے سے ادھر ہٹ کر بڑے بازار میں جو دکانوں کے اوپر کوٹھوں کی ایک قطار تھی۔ اس میں کئی جگہ زندگی کے آثار نظر آرہے تھے۔ اس کے بالمقابل کھڑکی میں تیز روشنی کے قمقمے کے نیچے ایک سیاہ فام عورت بیٹھی پنکھا جھل رہی تھی۔ اس کے سر کے اوپر بجلی کا بلب جل رہا تھا اور ایسا دکھائی دیتا تھا کہ سفید آگ کا ایک گولا ہے جو پگھل پگھل کر اس ویشیا پر گر رہا ہے۔ جاوید اس سیاہ فام عورت کے متعلق کچھ غور کرنے ہی والا تھا کہ بازار کے اس سرے سے جو اس کی آنکھوں سے اوجھل تھا۔ بڑے بھدے نعروں کی صورت میں چند آوازیں بلند ہوئیں۔ تھوڑی دیر کے بعد تین آدمی جھومتے جھامتے شراب کے نشے میں چور نمودار ہوئے۔ تینوں کے تینوں اس سیاہ فام عورت کے کوٹھے کے نیچے پہنچ کر کھڑے ہو گئے اور جاوید کے کانوں نے ایسی ایسی واہیات باتیں سنیں کہ اس کے تمام ارادے اس کے اندر سمٹ کر رہ گئے۔ ایک شرابی نے جس کے قدم بہت زیادہ لڑکھڑا رہے تھے، اپنے مونچھوں بھرے ہونٹوں سے بڑی بھدی آواز کے ساتھ ایک بوسہ نوچ کر اس کالی ویشیا کی طرف اچھالا اور ایک ایسا فقرہ کسا کہ جاوید کی ساری ہمت پست ہو گئی۔ کوٹھے پر برقی لیمپ کی روشنی میں اس سیاہ فام عورت کے ہونٹ ایک آبنوسی قہقہے نے وا کیے اور اس نے شرابی کے فقرے کا جواب یوں دیا جیسے ٹوکری بھر کوڑا نیچے پھینک دیا ہے۔ نیچے غیر مربوط قہقہوں کا ایک فوارہ سا چھوٹ پڑا اور جاوید کے دیکھتے دیکھتے وہ تینوں شرابی کوٹھے پر چڑھے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ نشست جہاں وہ کالی ویشیا بیٹھی تھی خالی ہو گئی۔ جاوید اپنے آپ سے اور زیادہ متنفر ہو گیا۔

’’تم۔ تم۔ تم کیا ہو؟۔ میں پوچھتا ہوں، آخر تم کیا ہو۔ نہ تم یہ ہو، نہ وہ ہو۔ نہ تم انسان ہو نہ حیوان۔ تمہاری ذہانت و ذکاوت آج سب دھری کی دھری رہ گئی ہے۔ تین شرابی آتے ہیں۔ تمہاری طرح ان کے دل میں ارادہ نہیں ہوتا۔ لیکن بے دھڑک اس ویشیا سے واہیات باتیں کرتے ہیں اور ہنستے، قہقہے لگاتے کوٹھے پر چڑھ جاتے ہیں۔ گویا پتنگ اڑانے جارہے ہیں۔ اور تم۔ اور تم جو کہ اچھی طرح سمجھتے ہو کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔ یوں بیوقوفوں کی طرح بیچ بازار میں کھڑے ہو اور ایک بے جان لالٹین سے خوف کھا رہے ہو۔ تمہارا ارادہ اس قدر صاف اور شفاف ہے لیکن پھر بھی تمہارے قدم آگے نہیں بڑھتے۔ لعنت ہو تم پر۔ ‘‘

جاوید کے اندر ایک لمحے کے لیے خود انتقامی کا جذبہ پیدا ہوا۔ اس کے قدموں میں جنبش ہوئی اور موری پھاند کر وہ مائی جیواں کے کوٹھے کی طرف بڑھا۔ قریب تھا کہ وہ لپک کر سیڑھیوں کے پاس پہنچ جائے کہ اوپرسے ایک آدمی اترا۔ جاوید پیچھے ہٹ گیا۔ غیرارادی طور پر اس نے اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش بھی کی لیکن کوٹھے پر سے نیچے آنے والے آدمی نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ اس آدمی نے اپنا ململ کا کرتہ اتار کرکاندھے پر دھرا تھا۔ اور دا ہنی کلائی میں موتیے کے پھولوں کا مسلا ہوا ہار لپیٹا تھا۔ اس کا بدن پسینے سے شرابور ہورہا تھا۔ جاوید کے وجود سے بے خبر وہ اپنے تہمد کو دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں تک اونچا کیے نانک شاہی اینٹوں کا اونچا نیچا فرش طے کرکے موری کے اس پار چلا گیا اور جاوید نے سوچنا شروع کیا کہ اس آدمی نے اس کی طرف کیوں نہیں دیکھا۔ اس دوران میں اس نے لالٹین کی طرف دیکھا تو وہ اسے یہ کہتی معلوم ہوئی۔

’’تم کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس لیے کہ تم ڈرپوک ہو۔ یاد ہے تمہیں پچھلے برس برسات میں جب تم نے اس ہندو لڑکی اندرا سے اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہا تو تمہارے جسم میں سکت نہیں رہی تھی۔ کیسے کیسے۔ بھیانک خیال تمہارے دماغ میں پیدا ہوئے تھے۔ یاد ہے، تم نے ہندو مسلم فساد کے متعلق بھی سوچا تھا اور ڈر گئے تھے۔ اس لڑکی کو تم نے اسی ڈر کے مارے بھلا دیا اور حمیدہ سے تم اس لیے محبت نہ کرسکے کہ وہ تمہاری رشتہ دار تھی اور تمہیں اس بات کا خوف تھا کہ تمہاری محبت کو غلط نظروں سے دیکھا جائے گا۔ کیسے کیسے وہم تمہارے اوپر ان دنوں مسلط تھے۔ اور پھر تم نے بلقیس سے محبت کرنا چاہی۔ مگر اس کو صرف ایک بار دیکھ کر تمہارے سب ارادے غائب ہو گئے اور تمہارا دل ویسے کا ویسا بنجر رہا۔ کیا تمہیں اس بات کا احساس نہیں کہ ہر بار تم نے اپنی بے لوث محبت کو آپ ہی شک کی نظروں سے دیکھا ہے۔ تمہیں اس بات کا کبھی پوری طرح یقین نہیں آیا کہ تمہاری محبت ٹھیک فطری حالت میں ہے۔ تم ہمیشہ ڈرتے ہو۔ اس وقت بھی تم خائف ہو یہاں گھریلو عورتوں اور لڑکیوں کا سوال نہیں، ہندو مسلم فساد کا بھی اس جگہ کوئی خدشہ نہیں لیکن اس کے باوجود تم کبھی اس کوٹھے پر نہیں جاسکو گے۔ میں دیکھوں گی تم کس طرح اوپر جاتے ہو۔ ‘‘

جاوید کی رہی سہی ہمت بھی پست ہو گئی۔ اس نے محسوس کیا وہ واقعی پرلے حد درجے کا ڈرپوک ہے۔ بیتے ہوئے واقعات تیز ہوا میں رکھی ہوئی کتاب کے اوراق کی طرح اس کے دماغ میں دیر تک پھڑپھڑاتے رہے اور پہلی مرتبہ اس کو اس بات کا بڑی شدت کے ساتھ احساس ہوا کہ اس کے وجود کی بنیادوں میں ایک ایسی جھجک بیٹھی ہوئی ہے جس نے اسے قابلِ رحم حد تک ڈرپوک بنا دیاہے۔ سامنے سیڑھیوں سے کسی کے اترنے کی آواز آئی۔ تو جاوید اپنے خیالات سے چونک پڑا۔ وہی جو گہرے رنگ کے شیشوں والی عینک پہنتی تھی اور جس کے متعلق وہ کئی بار اپنے دوست سے سن چکا تھا۔ سیڑھیوں کے اختتامی چبوترے پر کھڑی تھی۔ جاوید گھبرا گیا، قریب تھا کہ وہ آگے سرک جائے کہ اس نے بڑے بھدے طریقے پر اسے آواز دی۔

’’اجی ٹھہر جاؤ۔ میری جان گھبراؤ نہیں۔ آؤ۔ آؤ۔ ‘‘

اس کے بعد اس نے پچکارتے ہوئے کہا۔

’’چلے آؤ۔ آجاؤ۔ ‘‘

یہ سن کر جاوید کو ایسا محسوس ہوا کہ اگر وہ کچھ دیر وہاں ٹھہرا تو اس کی پیٹھ میں دُم اُگ آئے گی جو ویشیا کے پچکارنے پرہلنا شروع کردے گی۔ اس احساس سمیت اس نے چیوترے کی طرف گھبرائی ہوئی نظروں سے دیکھا۔ مائی جیواں کے قحبے خانے کی اس عینک چڑھی لونڈیا نے کچھ اس طرح اپنے بالائی جسم کو حرکت دی کہ جاوید کے تمام ارادے پکے ہوئے بیروں کی مانند جھڑ گئے۔ اس نے پھر پچکارا

’’آؤ۔ میری جان اب آبھی جاؤ۔ ‘‘

جاوید اٹھ بھاگا۔ موری پھاند کر جب وہ بازار میں پہنچا تو اس نے ایک ایسے قہقہے کی آواز سنی جو خطرناک طور پر بھیانک تھا۔ وہ کانپ اٹھا۔ جب وہ اپنے گھر کے پاس پہنچا تو اس کے خیالات کے ہجوم میں سے دفعتہً ایک خیال رینگ کر آگے بڑھا۔ جس نے اس کو تسکین دی۔

’’جاوید، تم ایک بہت بڑے گناہ سے بچ گئے۔ خدا کا شکر بجا لاؤ۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

ڈاکٹر شروڈکر

بمبئی میں ڈاکٹر شروڈ کر کا بہت نام تھا۔ اس لیے کہ عورتوں کے امراض کا بہترین معالج تھا۔ اس کے ہاتھ میں شفا تھی۔ اُس کا شفاخانہ بہت بڑا تھا ایک عالیشان عمارت کی دو منزلوں میں جن میں کئی کمرے تھے نچلی منزل کے کمرے متوسط اور نچلے طبقے کی عورتوں کے لیے مخصوص تھے۔ بالائی منزل کے کمرے امیر عورتوں کے لیے۔ ایک لیبارٹری تھی۔ اس کے ساتھ ہی کمپاؤنڈر کا کمرہ۔ ایکس رے کا کمرہ علیحدہ تھا۔ اس کی ماہانہ آمدن ڈھائی تین ہزار کے قریب ہو گی۔ مریض عورتوں کے کھانے کا انتظام بہت اچھا تھا جو اُس نے ایک پارسن کے سپرد کر رکھا تھا جو اس کی ایک دوست کی بیوی تھی۔ ڈاکٹر شروڈ کر کا یہ چھوٹا سا ہسپتال میٹرنٹی ہوم بھی تھا۔ بمبئی کی آبادی کے متعلق آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کتنی ہو گی۔ وہاں بے شمار سرکاری ہسپتال اور میٹرنٹی ہوم ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر شروڈکر کا کلینک بھرا رہتا۔ بعض اوقات تو اسے کئی کیسوں کو مایوس کرنا پڑتا۔ اس لیے کہ کوئی بیڈ خالی نہیں رہتا تھا۔ اس پر لوگوں کو اعتماد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی بیویاں اور جوان لڑکیاں اس کے ہسپتال میں چھوڑ آتے تھے جہاں ان کا بڑی توجہ سے علاج کیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر شروڈ کر کے ہسپتال میں دس بارہ نرسیں تھیں۔ یہ سب کی سب محنتی اور پُر خلوص تھیں۔ مریض عورتوں کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کرتیں۔ ان نرسوں کا انتخاب ڈاکٹر شروڈکر نے بڑی چھان بین کے بعد کیا تھا۔ وہ بری اور بھدّی شکل کی کوئی نرس اپنے ہسپتال میں رکھنا نہیں چاہتا تھا۔ ایک مرتبہ چار نرسوں نے دفعتاً شادی کرنے کا فیصلہ کیا تو ڈاکٹر بہت پریشان ہوا۔ یہ چاروں چلی گئیں۔ اُس نے مختلف اخباروں میں اشتہار دیے کہ اسے نرسوں کی ضرورت ہے کئی آئیں ڈاکٹر شروڈ کر نے اُن سے انٹرویو کیا مگر اُسے اُن میں کسی کی شکل پسند نہ آئی۔ کسی کا چہرہ ٹیڑھا میڑھا۔ کسی کا قد انگشتا نے بھرکا۔ کسی کارنگ خوفناک طور پر کالا۔ کسی کی ناک گز بھر لمبی۔ لیکن وہ بھی اپنی ہٹ کا پکا تھا۔ اُس نے اور اشتہار اخباروں میں دیے اور آخر اُس نے چار خوش شکل اور نفاست پسند نرسیں چُن ہی لیں۔ اب وہ مطمئن تھا چنانچہ اُس نے پھر دلجمعی سے کام شروع کر دیا۔ مریض عورتیں بھی خوش ہو گئیں۔ اس لیے کہ چار نرسوں کے چلے جانے سے اُن کی خبر گیری اچھی طرح نہیں ہو رہی تھی یہ نئی نرسیں بھی خوش تھیں کہ ڈاکٹر شروڈ کر اُن سے بڑی شفقت سے پیش آتا تھا۔ انھیں وقت پر تنخواہ ملتی تھی۔ دوپہر کا کھانا ہسپتال ہی انھیں مہیا کرتا۔ وردی بھی ہسپتال کے ذمے تھی۔ ڈاکٹر شروڈکر کی آمدن چونکہ بہت زیادہ تھی اس لیے وہ ان چھوٹے موٹے اخراجات سے گھبراتا نہیں تھا۔ شروع شروع میں جب اُس نے سرکاری ہسپتال کی ملازمت چھوڑ کر خود اپنا ہسپتال قائم کیا تو اُس نے تھوڑی بہت کنجوسی کی، مگر بہت جلد اُس نے کھل کر خرچ کرنا شروع کر دیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ شادی کر لے۔ مگر اسے ہسپتال سے ایک لمحے کی فرصت نہیں ملتی تھی۔ دن رات اس کو وہیں رہنا پڑتا۔ بالائی منزل میں اس نے ایک چھوٹا سا کمرہ اپنے لیے مخصوص کر لیا تھا جس میں رات کو چند گھنٹے سو جاتا۔ لیکن اکثر اُسے جگا دیا جاتا جب کسی مریض عورت کو اس کی فوری توجہ کی ضرورت ہوتی۔ تمام نرسوں کو اُس سے ہمدردی تھی کہ اُس نے اپنی نیند اپنا آرام حرام کر رکھا ہے۔ وہ اکثر اس سے کہتیں

’’ڈاکٹر صاحب آپ کوئی اسسٹنٹ کیوں نہیں رکھ لیتے‘‘

ڈاکٹر شروڈکر جواب دیتا

’’جب کوئی قابل ملے گا تو رکھ لوں گا‘‘

وہ کہتیں

’’آپ تو اپنی قابلیت کا چاہتے ہیں۔ بھلا وہ کہاں سے ملے گا‘‘

’’مل جائے گا‘‘

نرسیں یہ سُن کر خاموش ہو جاتیں اور الگ جا کر آپس میں باتیں کرتیں۔ ڈاکٹر شروڈکر اپنی صحت خراب کررہے ہیں ایک دن کہیں کولیپس نہ ہو جائے‘‘

’’ہاں ان کی صحت کافی گر چکی ہے۔ وزن بھی کم ہو گیاہے‘‘

’’کھاتے پیتے بھی بہت کم ہیں‘‘

’’ہر وقت مصروف جو رہتے ہیں‘‘

’’اب انھیں کون سمجھائے‘‘

قریب قریب ہر روز ان کے درمیان اِسی قسم کی باتیں ہوتیں۔ ان کو ڈاکٹر سے اس لیے بھی بہت زیادہ ہمدردی تھی کہ وہ بہت شریف النفس انسان تھا۔ اس کے ہسپتال میں سینکڑوں خوبصورت اور جوان عورتیں علاج کے لیے آتی تھیں مگر اُس نے کبھی اُن کو بُری نگاہوں سے نہیں دیکھا تھا وہ بس اپنے کام میں مگن رہتا۔ اصل میں اُسے اپنے پیشے سے ایک قسم کا عشق تھا۔ وہ اس طرح علاج کرتا تھا جس طرح کوئی شفقت اور پیار کا ہاتھ کسی کے سر پر پھیرے۔ جب وہ سرکاری ہسپتال میں ملازم تھا تو اس کے آپریشن کرنے کے عمل کے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہ نشتر نہیں چلاتا بُرش سے تصویریں بناتا ہے۔ اور یہ واقعہ ہے کہ اُس کے کیے ہوئے آپریشن نوّے فیصد کامیاب رہتے تھے۔ اُس کو اِس فن میں مہارت تام حاصل تھی۔ اس کے علاوہ خود اعتمادی بھی تھی جو اُس کی کامیابی کا سب سے بڑا راز تھی۔ ایک دن وہ ایک عورت کا جس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تھی بڑے غور سے معائنہ کر کے باہر نکلا اور اپنے دفتر میں گیا تو اُس نے دیکھا کہ ایک بڑی حسین لڑکی بیٹھی ہے۔ ڈاکٹر شروڈکر ایک لحظے کے لیے ٹھٹک گیا۔ اس نے نسوانی حسن کا ایسا نادر نمونہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ اندر داخل ہوا ٗ لڑکی نے کرسی پر سے اُٹھنا چاہا۔ ڈاکٹر نے اُس سے کہا

’’بیٹھو بیٹھو‘‘

اور یہ کہہ کر وہ اپنی گھومنے والی کُرسی پر بیٹھ گیا اور پیپر ویٹ پکڑ کر اُس کے اندر ہوا کے بلبلوں کو دیکھتے ہوئے اُس لڑکی سے مخاطب ہوا

’’بتاؤ تم کیسے آئیں‘‘

لڑکی نے آنکھیں جھکا کرکہا

’’ایک پرائیویٹ بہت ہی پرائیویٹ بات ہے جو میں آپ سے کرنا چاہتی ہوں‘‘

ڈاکٹر شروڈکر نے اُس کی طرف دیکھا۔ اس کی جھکی ہوئی آنکھیں بھی بلا کی خوبصورت دکھائی دے رہی تھیں۔ ڈاکٹر نے اس سے پوچھا

’’پرائیویٹ بات تم کر لینا۔ پہلے اپنا نام بتاؤ‘‘

لڑکی نے جواب دیا

’’میں۔ میں اپنا نام بتانا نہیں چاہتی‘‘

ڈاکٹر کی دلچسپی اس جواب سے بڑھ گئی

’’کہاں رہتی ہو؟‘‘

شولا پور میں

’’۔ آج ہی یہاں پہنچی ہوں‘‘

ڈاکٹر نے پیپر ویٹ میز پر رکھ دیا

’’اتنی دور سے یہاں آنے کا مقصد کیا ہے‘‘

لڑکی نے جواب دیا

’’میں نے کہا ہے ناکہ مجھے آپ سے ایک پرائیویٹ بات کرنی ہے‘‘

اتنے میں ایک نرس اندر داخل ہوئی۔ لڑکی گھبرا گئی۔ ڈاکٹر نے اُس نرس کو چند ہدایات دیں جو وہ پوچھنے آئی تھی اور اُس سے کہا

’’اب تم جاسکتی ہو۔ کسی نوکر سے کہہ دو کہ وہ کمرے کے باہر کھڑا رہے اور کسی کو اندر نہ آنے دے‘‘

نرس

’’جی اچھا‘‘

کہہ کر چلی گئی۔ ڈاکٹر نے دروازہ بند کر دیا اور اپنی کُرسی پر بیٹھ کر اُس حسین لڑکی سے مخاطب ہوا

’’اب تم اپنی پرائیویٹ بات مجھے بتا سکتی ہو‘‘

شولا پور کی لڑکی شدید گھبراہٹ اور اُلجھن محسوس کررہی تھی اُس کے ہونٹوں پر لفظ آتے مگر واپس اُس کے حلق کے اندر چلے جاتے۔ آخر اُس نے ہمت اور جرأت سے کام لیا اور رُک رُک کر صرف اتنا کہا

’’مجھ سے۔ مجھ سے ایک غلطی ہو گئی۔ میں بہت گھبرا رہی ہوں‘‘

ڈاکٹر شروڈکر سمجھ گیا، لیکن پھر بھی اُس نے اُس لڑکی سے کہا

’’غلطیاں انسان سے ہو ہی جاتی ہیں۔ تم سے کیا غلطی ہُوئی ہے۔ ‘‘

لڑکی نے تھوڑے وقفے کے بعد جواب دیا

’’وہی۔ وہی جو بے سمجھ جوان لڑکیوں سے ہوا کرتی ہیں‘‘

ڈاکٹر نے کہا

’’میں سمجھ گیا۔ لیکن اب تم کیا چاہتی ہو‘‘

لڑکی فوراً اپنے مقصد کی طرف آگئی

’’میں چاہتی ہوں کہ وہ ضائع ہو جائے۔ صرف ایک مہینہ ہوا ہے‘‘

ڈاکٹر شروڈکر نے کچھ دیر سوچا، پھر بڑی سنجیدگی سے کہا

’’یہ جرم ہے۔ تم جانتی نہیں ہو‘‘

لڑکی کی بھوری آنکھوں میں یہ موٹے موٹے آنسو اُمڈ آئے

’’تو میں زہر کھالوں گی‘‘

یہ کہہ کر اس نے زاروقطار رونا شروع کر دیا۔ ڈاکٹر کو اس پر بڑا ترس آیا۔ وہ اپنی جوانی کی پہلی لغزش کر چکی تھی۔ پتا نہیں وہ کیا لمحات تھے کہ اس نے اپنی عصمت کسی مرد کے حوالے کر دی اور اب پچھتا رہی ہے اور اتنی پریشان ہو رہی ہے۔ اس کے پاس اس سے پہلے کئی ایسے کیس آچکے تھے مگر اُس نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا تھا کہ وہ جیون ہتیا نہیں کرسکتا۔ یہ بہت بڑا گناہ اور جرم ہے۔ مگر شولا پور کی اُس لڑکی نے اس پر کچھ ایسا جادو کیا کہ وہ اس کی خاطر یہ جرم کرنے پر تیار ہو گیا۔ اس نے اس کے لیے ایک علیحدہ کمرہ مختص کر دیا۔ کسی نرس کو اس کے اندر جانے کی اجازت نہ تھی۔ اس لیے کہ وہ اس لڑکی کے راز کو افشا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اسقاط بہت ہی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ جب اُس نے دوائیں وغیرہ دے کر یہ کام کر دیا تو شولا پور کی وہ مرہٹہ لڑکی جس نے آخر اپنا نام بتا دیا تھا بے ہوش ہو گئی جب ہوش میں آئی تو نقاہت کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے ہاتھ سے پانی بھی نہیں پی سکتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ جلد گھر واپس چلی جائے مگر ڈاکٹر اسے کیسے اجازت دے سکتا تھا جب کہ وہ چلنے پھرنے کے قابل ہی نہیں تھی اس نے مس للیتا کھمٹے کر سے (شولا پور کی اُس حسینہ کا یہی نام تھا) کہا

’’تمھیں کم از کم دو مہینے آرام کرنا پڑے گا۔ میں تمہارے باپ کو لکھ دُوں گا کہ تم جس سہیلی کے پاس آئی تھیں وہاں اچانک طور پر بیمار ہو گئیں اور اب میرے ہسپتال میں زیر علاج ہو۔ تردّد کی کوئی بات نہیں‘‘

للیتا مان گئی۔ دو مہینے ڈاکٹر شروڈکر کے زیرِ علاج رہی۔ جب رخصت کا وقت آیا تو اُس نے محسوس کیا کہ وہ گڑ بڑ پھر پیدا ہو گئی ہے اُس نے ڈاکٹر شروڈکر کو اُس سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر مسکرایا

’’کوئی فکر کی بات نہیں۔ میں تم سے آج شادی کرنے والا ہوں‘‘

سعادت حسن منٹو ۱۱اکتوبر۱۹۵۴ء

سعادت حسن منٹو

ڈارلنگ

یہ ان دنوں کا واقعہ ہے۔ جب مشرقی اور مغربی پنجاب میں قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ کئی دن سے موسلا دھار بارش ہورہی تھی۔ وہ آگ جو انجنوں سے نہ بجھ سکی تھی۔ اس بارش نے چند گھنٹوں ہی میں ٹھنڈی کردی تھی۔ لیکن جانوں پر باقاعدہ حملے ہورہے تھے اور جوان لڑکیوں کی عصمت بدستور غیر محفوظ تھی۔ ہٹے کٹے نوجوان لڑکوں کی ٹولیاں باہر نکلتی تھیں اور اِدھر اُدھر چھاپے مار کر ڈری ڈبکی اور سہمی ہوئی لڑکیاں اٹھا کر لے جاتی تھیں۔ کسی کے گھر پر چھاپہ مارنا اور اس کے ساکنوں کو قتل کرکے ایک جوان لڑکی کو کاندھے پر ڈال کر لے جانا بظاہر بہت ہی آسان کام معلوم ہوتا ہے لیکن’س‘ کا بیان ہے کہ یہ محض لوگوں کا خیال ہے۔ کیونکہ اسے تو اپنی جان پر کھیل جانا پڑا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں آپ کو’س‘ کا بیان کردہ واقعہ سناؤں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سے آپ کو متعارف کرادوں۔ ’س‘ ایک معمولی جسمانی اور ذہنی ساخت کا آدمی ہے۔ مفت کے مال سے اس کو اتنی ہی دلچسپی ہے جتنی عام انسانوں کو ہوتی ہے۔ لیکن مالِ مفت سے اس کا سلوک دلِ بے رحم کا سا نہیں تھا۔ پھر بھی وہ ایک عجیب و غریب ٹریجڈی کا باعث بن گیا۔ جس کا علم اسے بہت دیر میں ہوا۔ اسکول میں’س‘ اوسط درجے کا طالب علم تھا۔ ہر کھیل میں حصہ لیتا تھا۔ لیکن کھیلتے کھیلتے جب نوبت لڑائی تک جا پہنچی تھی تو’س‘ اس میں سب سے پیش پیش ہوتا۔ کھیل میں وہ ہر قسم کے اوچھے ہتھیار استعمال کر جاتا تھا۔ لیکن لڑائی کے موقع پر اس نے ہمیشہ ایمانداری سے کام لیا۔ مصوری سے’س‘ کو بچپن ہی سے دلچسپی تھی۔ لیکن کالج میں داخل ہونے کے ایک سال بعد ہی اس نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ تعلیم کو خیرباد کہہ کر سائیکلوں کی دکان کھول لی۔ فساد کے دوران میں جب اس کی دکان جل کر راکھ ہو گئی تو اس نے لوٹ مار میں حصہ لینا شروع کردیا۔ انتقاماً کم اور تفریحاً زیادہ، چنانچہ اسی دوران میں اس کے ساتھ یہ عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ جو اس کہانی کا موضوع ہے۔ اس نے مجھ سے کہا۔

’’موسلا دھار بارش ہورہی تھی۔ منوں پانی برس رہا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنی تیز و تند بارش کبھی نہیں دیکھی۔ میں اپنے گھر کی برساتی میں بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔ میرے سامنے لوٹے ہوئے مال کا ایک ڈھیر پڑا تھا۔ بے شمار چیزیں تھیں مگر مجھے ان سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ میری دکان جل گئی تھی۔ مجھے اس کا بھی کوئی اتنا خیال نہیں تھا شاید اس لیے کہ میں نے لاکھوں کا مال تباہ ہوتے دیکھا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا، دماغ کی کیا کیفیت تھی۔ اتنے زور سے بارش ہورہی تھی۔ لیکن ایسا لگتا تھا کہ چاروں طرف خاموشی ہی خاموشی ہے اور ہر چیز خشک ہے۔ جلے ہوئے مردنڈوں کی سی بو آرہی تھی۔ میرے ہونٹوں میں جلتا ہوا سگرٹ تھا۔ اس کے دھوئیں سے بھی کچھ ایسی ہی بونکل رہی تھی۔ جانے کیا سوچ رہا تھا اور شاید کچھ سوچ ہی نہیں رہا تھا کہ ایک دم بدن پر کپکپی سی دوڑ گئی اور جی چاہا کہ ایک لڑکی اٹھا کر لے آؤں۔ جونہی یہ خیال آیا۔ بارش کا شور سنائی دینے لگا اور کھڑکی کے باہر ہر چیز پانی میں شرابور نظر آنے لگی۔ میں اٹھا، سامنے لوٹے ہوئے مال کے ڈھیر سے سگرٹوں کا ایک نیا ڈبہ اٹھا کر میں نے برسانی پہنی اور نیچے اتر گیا۔ ‘‘

’’سڑکیں اندھیری اور سنسان تھیں۔ سپاہیوں کا پہرہ بھی نہیں تھا۔ میں دیر تک ادھر ادھر گھومتارہا۔ اس دوران میں کئی لاشیں مجھے نظر آئیں۔ لیکن مجھ پر کوئی اثر نہ ہوا۔ گھومتا گھامتا میں سول لائنز کی طرف نکل گیا۔ لُک پھری ہوئی سڑک بالکل خالی تھی۔ جہاں جہاں بجری اکھڑی ہوئی تھی۔ و ہاں بارش جھاگ بن کر اڑ رہی تھی۔ دفعتہً مجھے موٹر کی آواز آئی۔ پلٹ کر دیکھا تو ایک چھوٹی سی موٹر بیبی آسٹن اندھا دھند چلی آرہی تھی۔ میں سڑک کے عین درمیان میں کھڑا ہو گیا اور دونوں ہاتھ اس انداز سے ہلانے لگا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ رک جاؤ۔ ‘‘

’’موٹر بالکل پاس آگئی مگر اس کی رفتار میں فرق نہ آیا۔ چلانے والے نے رخ بدلا۔ میں بھی پینترہ بدل کر ادھر ہو گیا۔ موٹر تیزی سے دوسری طرف مڑ گئی۔ میں بھی لپک کر ادھر ہولیا۔ موٹر میری طرف بڑھی مگر اب اس کی رفتار دھیمی ہو گئی تھی میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا۔ پیشتر اس کے کہ میں کچھ سوچتا مجھے زور سے دھکا لگا اور میں اکھڑ کر فٹ پاتھ پر جاگرا۔ جسم کی تمام ہڈیاں کڑکڑا اٹھیں مگر مجھے چوٹ نہ آئی۔ موٹر کے بریک چیخے، پہیّے ایک دم پھسلے اور موٹر تیرتی ہوئی سامنے والے فٹ پاتھ پر چڑھ کر ایک درخت سے ٹکرائی اور ساکت ہو گئی۔ میں اٹھا اور اس کی طرف بڑھا۔ موٹر کا دروازہ کھلا اور ایک عورت سرخ رنگ کا بھڑکیلا مومی رین کوٹ پہنے باہر نکلی۔ میری کڑکڑائی ہوئی ہڈیاں ٹھیک ہو گئیں اور جسم میں حرارت پیدا ہو گئی۔ رات کے اندھیرے میں مجھے صرف اس کا شوخ رنگ رین کوٹ ہی دکھائی دیا۔ لیکن اتنا اشارہ کافی تھا کہ اس مومی کپڑے میں لپٹا ہوا جو کوئی بھی ہے۔ صنفِ نازک میں سے ہے۔ ‘‘

’’میں جب اس کی طرف بڑھا تو اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا۔ بارش کے لرزتے ہوئے پردے میں سے مجھے دیکھ کر بھاگی۔ مگر میں نے چند گزوں ہی میں اسے جا لیا جب ہاتھ اس کے چکنے زین کوٹ پر پڑا تو وہ انگریزی میں چلائی۔

’’ہلپ ہلپ۔ ‘‘

میں نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور گود میں اٹھا لیا۔ وہ پھر انگریزی میں چلائی

’’ہلپ ہلپ۔ ہی از کلنگ می۔ ‘‘

میں نے اس سے انگریزی میں پوچھا۔

’’آر یو اے انگلش وومن‘‘

فقرہ منہ سے نکل گیا تو خیال آیا کہ اے کی جگہ مجھے این کہنا چاہیے تھا۔ اس نے جواب دیا۔

’’نو۔ ‘‘

انگریز عورتوں سے مجھے نفرت ہے۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا

’’دَن اِٹ از آل رائیٹ۔ ‘‘

اب وہ اردو میں چلانے لگی۔

’’تم مار ڈالو گے مجھے۔ تم مار ڈالو گے مجھے۔ ‘‘

میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس لیے کہ میں اس کی آواز سے، اس کی شکل و صورت اور عمر کا اندازہ لگا رہا تھا۔ لیکن ڈری ہوئی ہوئی آواز سے کیا پتہ چل سکتا تھا۔ میں نے اس کے چہرے پر سے ہڈہٹانے کی کوشش کی۔ پر اس نے دونوں ہاتھ آگے رکھ دیے۔ میں نے کہا۔ ہٹاؤ اور سیدھا موٹر کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھول کر اس کو پچھلی سیٹ پرڈ الا اور خود اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ گیر درست کرکے سلف دبایا تو انجن چل پڑا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ ہینڈل گھمایا۔ گاڑی کوفٹ پاتھ پر سے اتارا اور سڑک میں پہنچ کر اکسلریٹر پر پیر رکھ دیا۔ موٹر تیرنے لگی۔ گھر پہنچ کر میں نے پہلے سوچا کہ اوپر برساتی ٹھیک رہے گی۔ لیکن اس خیال سے کہ لونڈیا کو اوپر لے جانے میں جھک جھک کرنی پڑے گی۔ اس لیے میں نے نوکر سے کہا۔ دیوانہ خانہ کھول دو۔ اس نے دیوان خانہ کھولا تو میں نے اسے گھپ اندھیرے ہی میں صوفے پر ڈال دیا۔ سارا رستہ خاموش رہی تھی۔ لیکن صوفے پر گرتے ہی چلانے لگی۔

’’ڈونٹ کِل می۔ ڈونٹ کِل می پلیز۔ ‘‘

مجھے ذرا شاعری سوجھی۔

’’آئی وونٹ کِل یو۔ آئی وونٹ کِل یو ڈارلنگ۔ ‘‘

وہ رونے لگی۔ میں نے نوکر سے کہا۔ چلے جاؤ۔ وہ چلا گیا۔ میں نے جیب سے دیا سلائی نکالی۔ ایک ایک کرکے ساری تیلیاں نکالیں مگر ایک بھی نہ سلگی۔ اس لیے کہ بارش میں ان کے مصالحے کا بالکل فالودہ ہو گیا تھا۔ بجلی کا کرنٹ کئی دنوں سے غائب تھا۔ اوپر برساتی میں ٹوٹے ہولے مال کے ڈھیر میں کئی بیٹریاں پڑی تھیں۔ لیکن میں نے کہا۔ اندھیرے ہی میں ٹھیک ہے، مجھے کون سی فوٹو گرافی کرنی ہے۔ چنانچہ برساتی اتار کر میں نے ایک طرف پھینک دی اور اس سے کہا۔

’’لائیے میں آپ کا رین کوٹ اتار دوں۔ ‘‘

میں نیچے صوفے کی جانب جھکا۔ لیکن وہ غائب تھی۔ میں بالکل نہ گھبرایا۔ اس لیے کہ دروازہ نوکر نے باہر سے بند کردیا تھا۔ گُھپ اندھیرے میں اِدھر اُدھر میں نے اسے تلاش کرنا شروع کیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بھڑ گئے اور تپائی کے ساتھ ٹکرا کر گر پڑے۔ فرش پر لیٹے ہی لیٹے میں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا جو گردن پر جاپڑا۔ وہ چیخی میں نے کہا۔

’’چیختی کیوں ہو۔ میں تمہیں ماروں گا نہیں۔ ‘‘

اس نے پھر سسکیاں لینا شروع کردیں۔ شاید اس کا پیٹ ہی تھا جس پر میرا ہاتھ پڑا۔ وہ دوہری ہو گئی۔ میں نے جیسا بھی بن پڑا اس کے رین کوٹ کے بٹن کھولنے شر وع کردیے۔ مومی کپڑا بھی عجیب ہوتا ہے جیسے بوڑھے گوشت میں چکنی چکنی جھریاں پڑی ہوں۔ وہ روتی رہی اور ادھر ادھر لپٹ کر مزاحمت کرتی رہی۔ لیکن میں نے پورے بٹن کھول دیے اسی دوران میں مجھے معلوم وہ کہ وہ ساڑھی پہنے تھی۔ میں نے کہا یہ تو ٹھیک رہا۔ چنانچہ میں نے ذرا معاملہ دیکھا۔ خاصی سڈول پنڈلی تھی جس کے ساتھ میرا ہاتھ لگا۔ وہ تڑپ کر ایک طرف ہٹ گئی۔ میں پہلے ذرا یوں ہی سلسلہ کررہا تھا۔ پنڈلی کے ساتھ جب میرا ہاتھ لگا تو بدن میں چار سو چالیس والٹ پیدا ہو گئے۔ لیکن میں نے فوراً ہی بریک لگا دیے کہ سہج پکے سو میٹھا ہو ئے۔ چنانچہ میں نے شاعری شروع کردی۔

’’ڈارلنگ۔ میں تمہیں یہاں قتل کرنے کے لیے نہیں لایا۔ ڈرو نہیں۔ یہاں تم زیادہ محفوظ ہو۔ جانا چاہو تو چلی جاؤ۔ لیکن باہر لوگ درندوں کی طرح چیر پھاڑ دیں گے۔ جب تک یہ فساد ہیں تم میرے ساتھ رہنا۔ تم پڑھی لکھی لڑکی ہو، میں نہیں چاہتا۔ کہ تم گنواروں کے چنگل میں پھنس جاؤ۔ ‘‘

اس نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا۔

’’یو وونٹ کِل می؟‘‘

میں نے فوراً ہی کہا۔

’’نو سر۔ ‘‘

وہ ہنس پڑی۔ مجھے فوراً ہی خیال آیا کہ عورت کو سر نہیں کہا کرتے۔ بہت خفت ہوئی۔ لیکن اس کے ہنس پڑنے سے مجھے کچھ حوصلہ ہو گیا۔ میں نے کہا۔ معاملہ پٹا سمجھو، چنانچہ میں بھی ہنس پڑا۔

’’ڈارلنگ، میری انگریزی کمزور ہے۔ ‘‘

تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے مجھ سے پوچھا۔

’’اگر تم مجھے مارنا نہیں چاہتے تو یہاں کیوں لائے ہو؟‘‘

سوال بڑا بے ڈھب تھا۔ میں نے جواب سوچنا شروع کیا۔ لیکن تیار نہ ہوا۔ میں نے کہا جو منہ میں آئے کہہ دو۔

’’میں تمہیں مارنا بالکل نہیں چاہتا۔ اس لیے کہ مجھے یہ کام بالکل اچھا نہیں لگتا۔ تمہیں یہاں کیوں لایا ہوں؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میں اکیلا تھا۔ ‘‘

وہ بولی۔

’’تمہارا نوکر تمہارے پاس رہتا ہے۔ ‘‘

میں نے بغیر سوچے سمجھے جواب دے دیا۔

’’اس کا کیا ہے وہ تو نوکر ہے۔ ‘‘

وہ خاموش ہو گئی۔ میرے دماغ میں نیکی کے خیال آنے لگے میں نے کہا۔ ہٹاؤ چنانچہ اٹھ کر اس سے کہا۔

’’تم جانا چاہتی ہو تو چلی جاؤ۔ اٹھو۔ ‘‘

میں نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ایک دم مجھے اس کی پنڈلی کا خیال آگیا اور میں نے زور سے اس کو اپنے سینے کے ساتھ چمٹا لیا۔ اس کی گرم گرم سانس میری ٹھوڑی کے نیچے گھس گئی۔ میں نے اٹکل پچو اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر جما دیے۔ وہ لرزنے لگی۔ میں نے کہا۔

’’ڈارلنگ ڈرو نہیں۔ میں تمہیں ماروں گا نہیں۔ ‘‘

’’چھوڑ دو مجھے۔ ‘‘

کی آواز میں عجیب و غریب قسم کی کپکپاہٹ تھی۔ میں نے اسے اپنی گرفت سے علیحدہ کردیا۔ لیکن فوراً ہی اپنے بازوؤں میں اٹھا لیا۔ سڑک پر اسے اٹھاتے وقت مجھے محسوس نہیں ہوا تھا۔ لیکن اس وقت میں نے محسوس کیا کہ اس کے کولہوں کا گوشت بہت ہی نرم تھا۔ ایک بات مجھے اور بھی معلوم ہوئی وہ یہ کہ اس کے ایک ہاتھ میں چھوٹا سا بیگ تھا۔ میں نے اسے صوفے پر لٹا دیا اور بیگ اس کے ہاتھ سے لے لیا۔

’’اگر اس میں کوئی قیمتی چیز ہے تو یقین رکھو یہاں بالکل محفوظ رہے گی۔ بلکہ چاہو تو میں بھی تمہیں کچھ دے سکتا ہوں۔ ‘‘

وہ بولی۔

’’مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ ‘‘

’’لیکن مجھے چاہیے‘‘

اس نے پوچھا۔

’’کیا؟‘‘

میں نے جواب دیا۔

’’تم۔ ‘‘

وہ خاموش ہو گئی۔ میں فرش پر بیٹھ کر اس کی پنڈلی سہلانے لگا۔ وہ کانپ اٹھی۔ لیکن میں ہاتھ پھیرتا رہا۔ اس نے جب کوئی مزاحمت نہ کی تو میں نے سوچا کہ مجبوری کی وجہ سے بیچاری نے اپنا آپ ڈھیلا چھوڑ دیا ہے۔ اس سے میری طبیعت کچھ کھٹی سی ہونے لگی۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا۔

’’دیکھو میں زبردستی کچھ نہیں کرنا چاہتا۔ تمہیں منظور نہیں ہے تو جاؤ۔ ‘‘

یہ کہہ کر میں اٹھنے ہی والا تھا کہ اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیا۔ جو کہ دھک دھک کررہا تھا۔ میرا بھی دل اچھلنے لگا۔ میں نے زور سے ڈارلنگ کہا اور اس کے ساتھ چمٹ گیا۔ دیر تک چوما چاٹی ہوتی رہی۔ وہ سسکیاں بھر بھر کے مجھے ڈارلنگ کہتی رہی۔ میں بھی کچھ اسی قسم کی خرافات بکتا رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے اس سے کہا۔

’’یہ رین کورٹ اتار دو۔ بہت ہی واہیات ہے۔ ‘‘

اس نے جذبات بھری آواز میں کہا۔

’’تم خود ہی اتار دو ناں۔ ‘‘

میں نے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور کوٹ اس کے بازوؤں میں سے کھینچ کر اتار دیا۔ اس نے بڑے پیار سے پوچھا۔

’’کون ہو تم؟‘‘

میں اس وقت اپنا حدود اربعہ بتانے کے موڈ میں نہیں تھا۔

’’تمہارا ڈارلنگ!‘‘

اس نے

’’یو آر اے نوٹی بوائے‘‘

کہا اور اپنی باہیں میرے گلے میں ڈ ال دیں میں اس کا بلاؤز اتارنے لگا تو اس نے میرے ہاتھ پکڑ لیے اور التجا کی۔

’’مجھے ننگا نہ کرو ڈارلنگ، مجھے ننگا نہ کرو۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’کیا ہوا۔ اس قدر اندھیرا ہے۔ ‘‘

’’نہیں، نہیں!‘‘

’’تو اس کا یہ مطلب ہے کہ۔ ‘‘

اس نے میرے دونوں ہاتھ اٹھا کر چومنے شروع کردیے اور لرزاں آواز میں کہنے لگی۔

’’نہیں نہیں۔ مجھے شرم آتی ہے۔ ‘‘

عجیب ہی سی بات تھی۔ لیکن میں نے کہا۔ چلو ہٹاؤ چھوڑو بلاؤز کو۔ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں کچھ دیر خاموش رہا تو اس نے ڈری ہوئی آواز میں پوچھا

’’تم ناراض تو نہیں ہو گئے؟‘‘

مجھے کچھ معلوم ہی نہیں تھا کہ میں ناراض ہوں یا کیا کہوں۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا

’’نہیں نہیں ناراض ہونے کی کیا بات ہے۔ تم بلاؤز نہیں اتارنا چاہتی ہو، نہ اتارو۔ لیکن۔ ‘‘

اس سے آگے کہتے ہوئے مجھے شرم آگئی۔ لیکن ذرا گول کرکے میں نے کہا۔

’’لیکن کچھ تو ہونا چاہیے۔ میرا مطلب ہے کہ ساڑھی اتار دو۔ ‘‘

’’مجھے ڈر لگتا ہے‘‘

یہ کہتے ہوئے اس کا حلق سوکھ گیا۔ میں نے بڑے پیار سے کہا۔

’’کس سے ڈر لگتا ہے۔ ‘‘

’’اسی سے۔ اسی سے‘‘

اور اس نے بلک بلک کر رونا شروع کردیا۔ میں نے اُسے تسلی دی کہ ڈرنے کی وجہ کوئی بھی نہیں۔

’’میں تمہیں تکلیف نہیں دوں گا۔ لیکن اگر تمہیں و اقعی ڈر لگتا ہے تو جانے دو۔ دو تین دن یہاں رہو جب میری طرف سے تمہیں پورا اطمینان ہو جائے تو پھر سہی۔ ‘‘

اس نے روتے روتے کہا۔

’’نہیں نہیں۔ ‘‘

اور اپنا سر میری رانوں پر رکھ دیا۔ میں اس کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد اس نے رونا بند کردیا اور سوکھی سوکھی ہچکیاں لینے لگی۔ پھر ایک دم مجھے اپنے ساتھ زور کے ساتھ بھینچ لیا اور شدت کے ساتھ کانپنے لگی۔ میں نے اسے صوفے پر سے اٹھ کر فرش پر بٹھا دیا اور۔ کمرے میں دفعتہً روشنی کی لکیریں تیر گئیں۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے پوچھا

’’کون ہے؟‘‘

نوکر کی آواز آئی۔

’’لالٹین لے لیجیے‘‘

میں نے کہا۔

’’اچھا‘‘

لیکن اس نے آواز بھینچ کر خوفزدہ لہجے میں کہا۔

’’نہیں نہیں۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’حرج کیا ہے۔ ایک طرف نیچی کرکے رکھ دوں گا۔ ‘‘

چنانچہ میں نے اٹھ کرلالٹین لی اور دروازہ اندر سے بند کردیا۔ اتنی دیر کے بعد روشنی دیکھی تھی۔ اس لیے آنکھیں چندھیا گئیں۔ وہ اٹھ کر ایک کونے میں کھڑی ہو گئی تھی۔ میں نے کہا

’’بھئی اتنا بھی کیا ہے۔ تھوڑی دیر روشنی میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ جب تم کہو گی اسے گل کردیں گے۔ ‘‘

چنانچہ میں لالٹین ہاتھ ہی میں لیے اس کی طرف بڑھا۔ اس نے ساڑھی کا پلو سرکا کہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ لیا۔ میں نے کہا

’’تم بھی عجیب و غریب لڑکی ہو۔ اپنے دولھے سے بھی پردہ۔ ‘‘

یہ کہہ میں سمجھنے لگا کہ وہ میری دولہن ہے اور میں اس کا دولھا۔ چنانچہ اسی تصور کے۔ تحت میں نے اس سے کہا۔

’’اگر ضد ہی کرنی ہے تو بھئی کرلو۔ ہمیں آپ کی ہر ادا قبول ہے۔ ‘‘

ایک دم زور کا دھماکا ہوا۔ وہ میرے ساتھ چمٹ گئی۔ کہیں بم پھٹا تھا۔ میں نے اس کو دلاسا دیا۔

’’ڈرو نہیں۔ معمولی بات ہے‘‘

۔ ایک دم مجھے خیال آیا جیسے میں نے اس کے چہرے کی جھلک دیکھی تھی۔ چنانچہ اس کو دونوں کندھوں سے پکڑ کرمیں ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ میں بیان نہیں کرسکتا۔ میں نے کیا دیکھا۔ بہت ہی بھیانک صورت، گال اندر دھنسے ہوئے جن پر گاڑھا میک اپ تھپا تھا۔ کئی جگہوں پر سے اس کی تہہ بارش کی وجہ سے اتری ہوئی تھی اور نیچے سے اصلی جلد نکل آئی تھی جیسے کئی زخموں پرسے پھاہے اتر گئے ہیں۔ خضاب لگے خشک اور بے جان بال جن کی سفید جڑیں دانت دکھا رہی تھیں۔ اور سب سے عجیب و غریب چیز مومی پھول تھے جو اس نے اس کان سے اس کان تک ماتھے کے ساتھ ساتھ بالوں میں اڑسے ہوئے تھے۔ میں دیر تک اس کو دیکھتا رہا۔ وہ بالکل ساکت کھڑی رہی۔ میرے ہوش و حواس گم ہو گئے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد جب میں سنبھلا تو میں نے لالٹین ایک طرف رکھی اور اس سے کہا

’’تم جانا چاہو تو چلی جاؤ!‘‘

اس نے کچھ کہنا چاہا۔ لیکن جب دیکھا کہ میں اس کا رین کوٹ اور بیگ اٹھا رہا ہوں تو خاموش ہو گئی۔ میں نے یہ دونوں چیزیں اس کی طرف دیکھے بغیر اس کو دے دیں۔ وہ کچھ دیر گردن جھکائے کھڑی رہی۔ پھر دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی۔ ‘‘

یہ واقعہ سُنا کر میں نے’س‘ سے پوچھا۔

’’جانتے ہو وہ عورت کون تھی؟‘‘

’س‘ نے جواب دیا۔

’’نہیں تو۔ ‘‘

میں نے اس کو بتایا۔

’’وہ عورت مشہور آرٹسٹ مس’م‘ تھی۔ ‘‘

وہ چلایا۔

’’مس’م‘؟۔ وہی جس کی بنائی ہوئی تصویروں کی میں اسکول میں کاپی کیا کرتا تھا؟‘‘

میں نے جواب دیا۔

’’وہی۔ ایک آرٹ کالج کی پرنسپل تھی۔ جہاں وہ لڑکیوں کو صرف عورتوں اور پھولوں کی تصویر کشی سکھاتی تھی۔ مردوں سے اسے سخت نفرت تھی۔ ‘‘

عزت جہاں کو آپ یقیناً جانتے ہوں گے۔ کون ہے جو اس لڑکی کے نام سے واقف نہیں۔ اگر آپ سوشلسٹ ہیں اور بمبئی میں رہتے ہیں تو آپ ضرور عزت سے کئی بار ملاقات کرچکے ہوں گے اور آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ اس نے اپنی زندگی کے کئی برس اشتراکیت کی تحریک کی نشر و اشاعت میں صرف کیے ہیں اور حال ہی میں ایک غیر معروف آدمی سے شادی کی ہے۔ اس غیر معروف آدمی کو میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ ناصر سے میں اس زمانے کا واقف ہوں جب میں اس کو ناصو کہا کرتا تھا۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں وہ میرا ہم جماعت تھا۔ میں تو اپنی تعلیم بیماری اور مفلسی کے باعث جاری نہ رکھ سکا مگر وہ صرف مفلس تھا۔ اس نے بی اے کا امتحان کسی نہ کسی طرح پاس کرلیا اور بمبئی کی ایک بہت بڑی مِل میں ملازم ہو گیا۔ میں ان دنوں بمبئی ہی میں تھا۔ جب وہ دلی کے ایک کارخانے میں کام کرتا کرتا بمبئی آیا اور مل میں ملازم ہوا۔ اس دوران میں اس سے میری کئی ملاقاتیں ہوئیں لیکن افسوس ہے کہ چند وجوہ کی بنا پر میں بمبئی میں اپنا قیام جاری نہ رکھ سکا اور مجھے مجبوراً دلی جا کر ایک نہایت ہی ذلیل ملازمت اختیار کرنا پڑی۔ خیر! میں نے دلی کو دو برس کے بعد خیر باد کہا اور بمبئی شہر کا رخ کیا۔ جہاں میرے چند عزیز دوستوں کے علاوہ اب عزت جہاں بھی رہتی تھی۔ میں خود سوشلسٹ ہوں۔ سوشلزم پر میں نے سینکڑوں مضمون لکھے ہیں مگر وہ مضامین جو میں نے عزت جہاں کے قلم سے مختلف اخباروں میں پڑھے تھے، میرے دل و دماغ پر مرتسم ہو گئے تھے۔ خدا کے لیے کہیں یہ خیال نہ کیجیے گا کہ مجھے اس سے غائبانہ عشق تھا۔ دراصل مجھے اس لڑکی یا عورت کو دیکھنے اور اس سے ملنے کا صرف اشتیاق تھا۔ اخباروں اور رسالوں میں اکثر اس کی سرگرمیوں کا حال پڑھ چکا تھا اور مجھے اس سے بے پناہ دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ میں چاہتا تھا۔ اس سے ملوں، اس سے باتیں کروں اور جس طرح کالج اور اسکول کے نو گرفتارِ محبت لونڈے اپنے رومانوں کا ذکر کرتے ہیں۔ اسی طرح میں اس سے اشتراکیت کے ساتھ اپنی والہانہ وابستگی کا اظہار کروں۔ ہم دونوں سیگل سے لے کر کارل مارکس تک اشتراکی فلسفے کی نشو وارتقاء کی باتیں کرتے۔ لینن، لراتسکی اور اسٹالن کے مختلف نظریات پر گفتگو کرتے۔ میں ہندوستان کی سوشلسٹ تحریک کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہارکرتا۔ وہ بھی اپنے خیالات مجھے بتاتی۔ میں اسے ان نوجوانوں کی کہانیاں سناتا جو کارل مارکس کی کتاب محض اس لیے بغل میں دبائے پھرتے ہیں کہ انھیں دوسروں پر رعب گانٹھنا مقصود ہوتا ہے۔ میں اسے اپنے ایک دوست کی داستان سناتا جس کے پاس سوشلزم پر ہر وہ کتاب جو انگریزی زبان میں چھپ چکی ہے۔ موجود ہے مگر وہ سوشلزم کی الف ب سے بھی واقف نہیں وہ کارل مارکس کا نام اس طرح لیتا ہے جس طرح لوگ اپنے قریبی رشتہ دار میونسپل کمشنروں کا لیتے ہیں۔ میں عزت کو بتاتا کہ اس کے باوجود وہ مخلص آدمی ہے جو سوشلزم کے خلاف ایک لفظ بھی سننے کو تیار نہیں۔ پھرمیں اس سے ان لڑکوں اور لڑکیوں کے متعلق بات چیت کرتا جو سوشلزم صرف اس لیے اختیار کرتے ہیں کہ انھیں ایک دوسرے سے ملنے اور جنسی تعلقات پیدا کرنے کا موقعہ ملے۔ میں اسے بتاتا کہ پچاس فیصدی لڑکے جو سوشلسٹ تحریک میں شامل ہوتے ہیں شہوت زدہ ہوتے ہیں۔ اپنی ہم جماعت لڑکیوں کو وہ یوں دیکھتے ہیں جیسے ان کی نگاہیں صدیوں کی بھوکی پیاسی ہیں اور اکثر لڑکیاں جو اس تحریک میں شامل ہوتی ہیں۔ سرمایہ داروں کی ہنگامہ پسند بیٹیاں ہوتی ہیں اپنی زندگی میں حادثے پیدا کرنے کے لیے یہ سوشلزم پر چند ابتدائی کتابیں پڑھنے کے بعد اس تحریک کی سرگرم کارکن بن جاتی ہیں۔ ان میں سے کچھ تو آہستہ آہستہ جنسی خواہشات کے خرابے کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور کچھ آزادی کی آخری حدود پر پہنچ کر ایک ایسی جذباتی چیز بن جاتی ہیں جو ملک کے نام نہاد لیڈروں کے کھیلنے کے کام آتی رہتی ہے۔ غرض یہ کہ عزت جہاں سے ہندوستان کی اشتراکی تحریک کے عواقب و عواطف پر سیر حاصل بحث کرنے کا خوب لطف آتا۔ اس کے مضامین سے میں اس کی ذہانت اور بیباک خیالی معلوم کرچکا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ میری ہم خیال ہو گی۔ بمبئی آکر مجھے ایک دوست کے ہاں ٹھہرنا پڑا۔ کیونکہ مکان اور فرنیچر کا بندوبست کرتے کرتے مجھے کئی روز خوار ہونا تھا۔ بیوی کو میں دلی ہی چھوڑ آیا تھا۔ اس سے میں نے کہہ دیا تھا کہ جونہی مکان ملے گا۔ میں تمہیں بلالوں گا۔ میرے سب دوست کنوارے ہیں اور فلم ڈائریکٹر عورتوں کے متعلق آپ کا فلسفہ بہت ہی دلچسپ ہے۔ آپ چونکہ اسٹوڈیو میں کسی ایکٹرس یا ایکٹر کی لڑکی سے تعلقات پیدا نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ضرورت کے وقت مختلف دلالوں کے ذریعے سے ایک لڑکی منگوا لیتے ہیں۔ رات بھر اسے اپنے پاس رکھتے ہیں اور صبح ہوتے ہی اسے رخصت کردیتے ہیں۔ شادی اس لیے نہیں کرتے کہ ان کے خیال کے مطابق بیوی ان سے کبھی خوش نہیں رہے گی۔

’’بھائی میں فلم ڈائریکٹر ہوں۔ دن کو شوٹنگ کروں گا تو دن بھر باہر رہوں گا رات کو شوٹنگ کروں گا تو رات بھر باہر رہوں گا۔ دن کو کام کرنے کے بعد رات کو اور رات کو کام کرنے کے بعد دن کو آرام کرنا ضروری ہے۔ بیوی مجھ سے اپنے سارے حقوق طلب کرے گی مجھے بتاؤ ایک تھکا ہوا آدمی یہ سارے حقوق کیسے پورے کرسکتا ہے۔ ہر روز ایک نئی لونڈیا اچھی ہے نیند آگئی تو اس سے کہا جاؤ سو رہو۔ اگر اس کی صحبت سے تنگ آگئے تو ٹیکسی کا کرایہ دیا اور چلتا کیا۔ عورت بیوی بنتے ہی ایک بڑا فرض بن جاتی ہے۔ میں چونکہ فرض شناس ہوں اس لیے شادی کا بالکل قائل نہیں۔ ‘‘

جس دوست کے ہاں میں ٹھہرا ہوا تھا ایک دن میں اور وہ ٹیکسی میں بیٹھ کر ایک لڑکی ڈھونڈنے گئے۔ دلال جو اس کا پرانا واقف تھا۔ ایک کے بجائے دو

’’دکھشنی چھوکریاں‘‘

لے آیا۔ میں بہت سٹپٹایا۔ مگر فوراً ہی میرے دوست نے کہا۔ تم گھبراؤ نہیں۔ ایک اور دو میں فرق ہی کیا ہے؟‘‘

ٹیکسی واپس گھر کی طرف مڑی ہم سب یعنی میں، میرا دوست فلم ڈائریکٹر اور وہ دو کاشٹا پوش لڑکیاں تین سیڑھیاں طے کرکے تیسری منزل پر پہنچے۔ فلیٹ کا دروازہ میں نے کھولا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ہی ایک کرسی پر ناصر بیٹھا بڑے انہماک سے میرا اردو ٹائپ رائٹر دیکھ رہا تھا اور اس کے پاس ہی ایک عینک لگی عورت بیٹھی تھی جب اس نے مڑ کرہماری طرف دیکھا تو میں پہچان گیا۔ عزت جہاں تھی۔ میرا دوست ان اجنبیوں کو دیکھ کر بہت پریشان ہوا۔ لیکن دونوں

’’دکھشنی چھوکریاں‘‘

اندر کمرے میں داخل ہو چکی تھیں۔ اس لیے اس نے پردہ پوشی کی ضرورت بیکار سمجھی۔ میں نے اپنے دوست سے ناصر کا تعارف کرایا۔ ناصر نے جواب میں ہم دونوں سے اپنی بیوی کو متعارف کرایا۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا اور اپنے دوست سے جو اب سگرٹ سلگا رہا تھا۔ عزت جہاں کا مزید تعارف کرانے کی خاطر۔

’’یہ ہندوستان بہت بڑی اشتراکی خاتون ہیں۔ تم نے ان کے مضامین ضرور پڑھے ہوں گے۔ ‘‘

میرے دوست کو اشتراکیت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اس نام ہی سے ناواقف تھا۔ اس نے دونوں لڑکیوں کو دوسرے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا اور ہم سب سے مخاطب ہوکر کہا۔

’’معاف فرمائیے گا۔ میں ابھی حاضر ہوا۔ ‘‘

عزت جہاں کی آنکھیں ان لڑکیوں پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ ان کے لباس، وضع قطع، غرضیکہ ہر چیز کا اچھی طرح جائزہ لے رہی تھی۔ جب وہ دونوں دوسرے کمرے میں چلی گئیں اور میرے دوست نے جرأت رندانہ سے کام لے کر دروازہ بند کردیا۔ تو وہ مجھ سے مخاطب ہوئی۔

’’آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ ناصر ہرروز مجھ سے کہتے تھے کہ چلو چلو۔ پر میں ان دنوں کچھ زیادہ مصروف رہی۔ اور۔ آپ تو اب یہیں تشریف لے آئے ہیں نا؟۔ مکان برا نہیں!‘‘

اس نے کمرے کے چاروں طرف دیکھ کر خوشنودی کا اظہار کیا۔ میں نے کہا۔

’’جی ہاں اچھا ہے۔ ہوا دار ہے۔ ‘‘

’’ہوادار تو خاک بھی نہیں۔ ‘‘

’’بیچ کا دروازہ کھلا ہو تو بہت ہوا آتی ہے۔ ‘‘

’’ہاں شاید پہلے آرہی تھی۔ ‘‘

دیر تک میں اور ناصر اور عزت جہاں ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے مگر میں محسوس کررہا تھا کہ عزت کے دل میں کُھد بُد ہورہی ہے۔ میرا دوست جلدی حاضر ہونے کا وعدہ کرکے دو لڑکیوں کے ساتھ دوسرے کمرے میں کیا کررہا تھا؟۔ غالباً وہ یہی معلوم کرنے کے لیے بیقرار تھی۔ نصف گھنٹہ گزرنے پر اس نے بڑے تکلف کے ساتھ مجھ سے کہا۔

’’ایک گلاس پانی پلوا دیجیے۔ ‘‘

فلیٹ کے دو راستے ہیں ایک سامنے سے۔ ایک پیچھے۔ میں نے درواز کھلوانا مناسب خیال نہ کیا۔ چنانچہ دوسرے راستے سے گلاس میں پانی لے کر آگیا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا کہ میاں بیوی دونوں کُھسر پھسر کررہے ہیں۔ عزت جہاں نے گلاس میرے ہاتھ سے لے لیا اور کہا۔

’’آپ نے بہت تکلیف کی۔ ‘‘

’’جی نہیں۔ اس میں تکلیف کی بات ہی کیا ہے۔ ‘‘

پانی پی کر اس نے عینک کے موٹے شیشوں کے پیچھے اپنی آنکھیں سکوڑیں اور بناوٹی لہجے میں کہا۔

’’اس فلیٹ کے غالباً دو راستے ہیں۔ ‘‘

’’جی ہاں۔ ‘‘

کچھ دیر پھر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ اس کے بعد گفتگو کا رخ بدل کر اشتراکیت کی طرف آگیا اور میں اور عزت دونوں سرخ ہو گئے۔ میں نے باتوں باتوں میں اشراکیت کے متعلق اپنے نقطہ ءِ نظر کو واضح کیا۔

’’اشتراکی کہتے ہیں کہ تمام انسانی ادارے مثال کے طور پر مذہب، تاریخ، سیاست وغیرہ سب ہمارے معاشی حالات سے اثر پذیر ہو کر معرضِ وجود میں آتے ہیں۔ موجودہ نظامِ معیشت جس میں امیر اور غریب کا امتیاز ہے اور جس میں پیداوار کے تمام آلات ایک محدود اونچے طبقے کے ہاتھ میں ہیں انھیں صرف ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے یہ ایک مضر اور تباہ کن ادارہ ہے جسے ہمیشہ کے لیے ختم کردینا چاہیے۔ جب اس کا خاتمہ ہو جائے گا تو آپ کے خیال کے مطابق اشتراکی دور شروع ہو گا۔ جس میں تمام آلات پیداوار۔ یہی ہمارے معاشی حالات پر حاوی ہیں عوام کے قبضے میں آجائیں گے۔ عزت جہاں نے میری تائید کی۔

’’جی ہاں۔ ‘‘

’’عوام کی قوت اور حکومت کی نمائندہ ایک خاص جماعتِ حاملہ ہو گی۔ جسے اشتراکی حکومت کہا جائے گا۔ ‘‘

عزت جہاں نے پھر کہا۔

’’جی ہاں۔ ‘‘

’’لیکن یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ اشتراکی نظام میں بھی تمام قوت ایک محدود طبقے کے ہاتھ میں ہو گی۔ یہ نمائندہ جماعت اشتراکیوں کے فلسفے کے مطابق تمام لوگوں کی بہبودی کو مدارِ عمل بنائے گی۔ اس جماعت کو ذاتی اغراض اور شخصی منافع سے کوئی واسطہ نہ ہو گا اس کے اغراض عوام کے مقاصد کے مطابق ہوں گے۔ لیکن۔ سینے پر ہاتھ رکھ کر وثوق سے کون کہہ سکتا ہے کہ یہ محدود جماعت جو بظاہر عوام کی نمائندہ جماعت ہو گی۔ کچھ عرصے کے بعد سرمایہ داروں کی طرح ہر قسم کے ظلم و ستم ڈھائے گی۔ کیا یہ لوگ غاصب نہیں ہوسکتے۔ کچھ عرصے کی حکومت کے بعد کیا ان کے دل میں ذاتی اغراض پیدا نہیں ہوں گی؟‘‘

عزت جہاں مسکرائی۔

’’آپ تو باکونین کے بھائی معلوم ہوتے ہیں۔ ‘‘

میں نے جوش کے ساتھ کہا۔

’’مانتا ہوں کہ کارل مارکس کے ساتھ ساری عمر لڑنے کے باوجود باکونین کسی نقطہ مفاہمت پر نہیں پہنچ سکا اور اپنے اخلاص کے باوجود کسی مدلل اور منظم فلسفے کی بنیاد نہیں ڈال سکا۔ لیکن اس کا یہ کہنا جھوٹ نہیں ہے کہ ڈیمو کریسی بھی ایک بڑی جماعت کے دوسری چھوٹی جماعت پر جابرانہ نظامِ حکومت کا نام ہے۔ میں ایسے دورِ سیاست کا قائل ہوں جس کا سماج ہر قسم کی حکومت اور دباؤسے آزاد ہو‘‘

عزت پھر مسکرائی۔ تو آپ انار کزم چاہتے ہیں جو ایک ناقابل عمل چیز ہے۔ آپ کا باکونین اور کرویٹوکین دونوں مل کر اسے قابلِ قبول نہیں بنا سکتے۔ ؟‘‘

میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔

’’اشتراکیت کے پاس بھی کوئی قابل عمل فلسفہ نہیں تھا۔ لوگ اسے دیوانوں کا ایک دھندلا سا خواب سمجھتے تھے۔ مگر انیسویں صدی میں کارل مارکس نے اس کو ایک قابل عمل معاشرتی نظام کی صورت میں پیش کیا۔ ممکن ہے انارکزم کو بھی کوئی کارل مارکس مل جائے۔ ‘‘

عزت جہاں نے بند دروازے کی طرف دیکھا اور جیسے اس نے میری بات سنی نہیں مجھ سے پوچھا۔

’’آپ کے دوست وعدہ کرکے گئے تھے ابھی آئے نہیں؟‘‘

میں نے بہتر سمجھا کہ اسے سب کچھ بتا دوں۔

’’انھوں نے تکلف برتا تھا۔ ورنہ ان کا مقصد یہی تھا کہ وہ نہیں آئیں گے۔ ‘‘

عزت جہاں نے بڑے بھولے پن سے کہا۔

’’کیوں؟‘‘

میں ناصر کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔ جو اب ہماری گفتگو میں دلچسپی لینے لگا تھا۔

’’دو لڑکیاں اس کے ساتھ ہیں انھیں چھوڑ کر وہ ایسی خشک محفل میں کیسے آسکتا ہے؟‘‘

عزت نے یہ سن کر مجھ سے دریافت کیا۔

’’یہ دو لڑکیاں فلم ایکٹرس تھیں؟‘‘

’’جی نہیں۔ ‘‘

’’دوست ہوں گی؟‘‘

’’جی نہیں۔ آج ہی جان پہچان ہوئی ہے۔ ‘‘

اس کے بعد آہستہ آہستہ میں نے ساری بات بتادی اور جنسیات کے بارے میں اپنے دوست کا نظریہ بھی اچھی طرح واضح کردیا۔ بڑے غور سے میری تمام باتیں سن کر اس نے فتویٰ دینے کے انداز میں کہا۔

’’یہ انارکزم کی بدترین قسم ہے۔ آپ کے دوست کے خیالات اگر عام ہو جائیں تو دنیا میں ایک اندھیر مچ جائے۔ عورت اور مرد کے تعلقات صرف۔ صرف بستر تک محدود ہو جائیں اور کیا؟۔ یہ آپ کے دوست جو کوئی بھی ہیں یہ عورت کو کیا سمجھتے ہیں۔ ڈبل روٹی، کیک یا بسکٹ۔ زیادہ سے زیادہ کافی یا چائے کی ایک گرم پیالی۔ پی اور جھوٹے برتنوں میں ڈال دی۔ لعنت ہے ایسی عورتوں پر جو یہ ذلت برداشت کرلیتی ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ زندگی میں جنسیات کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے۔ کیا آپ کے یہ دوست بغیر عورت کے زندہ نہیں رہ سکتے۔ انھیں ہر روز عورت کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟‘‘

میں نے اپنے ذاتی خیال کا اظہار۔

’’عورت کی ضرورت ہر مرد کو عمر کے ایک خاص حصے میں محسوس ہوتی ہے۔ اس کو بعض زیادہ اہمیت دیتے ہیں بعض کم۔ میرا دوست ان بعض لوگوں میں سے ہے جو اس کو روزمرہ کی ایک ضرورت سمجھتے ہیں۔ اگر کھانا پینا اور سونا اہم تو اس کے نزدیک عورت بھی اتنی ہی اہم اور ضروری ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ غلطی پر ہو مگر اس نے اپنی اس کمزوری کی کبھی پردہ پوشی نہیں کی۔ ‘‘

عزت جہاں کے لہجے میں اور زیادہ تلخی پیدا ہو گئی۔

’’پردہ پوشی نہیں کی۔ تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ وہ راستی پر ہیں۔ فاحشائیں کھلے بندوں اپنا جسم بیچتی ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا وجود فطری ہے۔ چونکہ ہمارا نظام بالکل غلط اور غیر فطری ہے۔ اسی لیے ہمیں یہ چکلے نظر آتے ہیں۔ چونکہ آپ کے دوست کا نظامِ عصبی تندرست نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عورت اور روٹی میں کوئی فرق نہیں سمجھتے۔ روٹی کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ لیکن اس جسمانی تعلق کے بغیر یقیناً زندہ رہ سکتا ہے!‘‘

میں نے کہا۔

’’جی ہاں زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کی میں زندگی اور موت کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتاہے۔ ہر مرد کو عورت دستیاب نہیں ہوسکتی۔ لیکن جس کو دستیاب ہو سکتی ہے۔ وہ اسے اپنی ضروریاتِ زندگی میں شامل کرلیتا ہے۔ ‘‘

ناصر کو اب اس گفتگو سے بھی کوئی دلچسپی نہ رہی تھی۔ چنانچہ اس نے اپنی بیزاری کا اظہار کرہی دیا۔

’’ہٹاؤ یار اس قصے کو۔ بہت وقت ہو گیا اور ہمیں یہاں سے پورے انیس میل دور جانا ہے۔ چلو عزت چلیں۔ ‘‘

عزت نے اپنے خاوند کی بات سنی ان سنی کردی اور مجھ سے کہا۔

’’کچھ بھی ہو مگر آپ کے دوست اصل میں بہت ہی بدتمیز ہیں۔ یعنی اتنا بھی کیا کہ یہاں ہم تین آدمی بیٹھے ہیں اور آپ دوسرے کمرے میں۔ لاحول ولا قوۃ۔ ‘‘

ناصر کو نیند آرہی تھی۔

’’ارے بھئی خدا کے لیے اب سلسلے کو ختم کرو۔ چلیں!‘‘

عزت بھنا گئی۔

’’ارے واہ۔ ارے واہ۔ یہ تو آہستہ آہستہ میرے خاوند ہی بن بیٹھے ہیں۔ ‘‘

یہ سن کر مجھے بے اختیار ہنسی آگئی۔ ناصر بھی ہنس دیا۔ ہم دونوں ہنسے تو عزت جہاں کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آگئی۔

’’اور کیا۔ یہ آہستہ آہستہ خاوند بننا ہی تو ہے۔ یعنی مجھ پر رعب جمایا جارہا ہے۔ ‘‘

اس کے بعد ناصر اور عزت تھوڑی دیر اور بیٹھے اور چلے گئے۔ پہلی ملاقات خاصی دلچسپ رہی۔ ہندوستان کی اشتراکی تحریک کے بارے میں گو مفصل طور میں عزت جہاں سے گفتگو نہ کرسکا۔ لیکن پھر بھی اس نے مجھے بہت متاثر کیا اور میں نے سوچا کہ اس سے آئندہ ملاقاتیں بہت ہی فکر خیز ہوں گی۔ میں نے اپنا فلیٹ لے لیا۔ دلی سے بیوی بھی آگئی تو عزت ایک بار پھر آئی۔ دونوں پہلی ہی ملاقات میں سہیلیاں بن گئی۔ چونکہ عزت جہاں کو ہر روز اپنے دفتر جانے کے لیے شہر آنا پڑتا تھا۔ اس لیے شام کو گھر لوٹتے ہوئے اکثر ہمارے ہاں آجاتی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ وہ میرے پاس بیٹھے اور ہم ہیگل، کارل مارکس، اینجل، باکونین، کروپٹوکین اور تراتسکی کے متعلق باتیں کریں اور سوشلزم کے ہر دور کو سامنے رکھ کر اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ مگر میری بیوی اور وہ دونوں دوسرے کمرے میں جا کر پلنگ پر لیٹ جاتی تھیں اور جانے کیا کیا باتیں شروع کردیتی تھیں۔ اگر کبھی میں سوشلزم پر اسٹالن کی موجودہ جنگی پالیسی کے اثر کا ذکر چھیڑتا تو وہ میری بیوی سے سفید اون کا بھاؤ پوچھنا شروع کردیتی۔ اگر میں ایم۔ این۔ رائے کی ریا کاری کی بات کرتا توہ

’’خاندان‘‘

فلم کے کسی گیت کی تعریف شروع کردیتی تھی اور اگر میں اسے اپنے پاس بٹھا کر روس کے موجودہ جنگی نظام پر گفتگو کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو وہ تھوڑی ہی دیر کے بعد اٹھ کے باورچی خانے میں چلی جاتی اور میری بیوی کا ہاتھ بٹانے کی خاطر پیاز چھیلنے میں مشغول ہو جاتی۔ دن بھر وہ پاٹری کے دفتر میں کام کرتی تھی۔ شام کو تھکی ہوئی گھر پہنچتی تھی جو دفتر سے بیس پچیس میل دور تھا۔ الیکٹرک ٹرین میں ایک ایک گھنٹے کا سفر اس کو دن میں دو دو مرتبہ کرنا پڑتاتھا۔ آتے اور جاتے ہوئے۔ اس کا خاوند مل میں ملازم تھا۔ مہینے میں پندرہ دن اسے رات کو ڈیوٹی دینا پڑتی تھی۔ لیکن عزت خوشی تھی۔ میری بیوی سے کئی مرتبہ کہہ چکی تھی۔

’’شادی کا مطلب صرف بستر نہیں اور خاوند کا مطلب صرف رات کا ساتھی نہیں۔ دنیا میں انسان صرف اسی کام کے لیے نہیں بھیجا گیام۔ ‘‘

۔ اور میری بیوی اس کی اس بات سے بہت متاثر تھی۔ عزت جہاں اپنا کام بہت خلوص سے کررہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے اس کی بے اعتنائیاں بری معلوم نہیں ہوتی تھیں وہ مجھ سے زیادہ میری بیوی کے پاس بیٹھنا اور اس سے بات چیت کرنا پسند کرتی تھی۔ مجھے اس کا مطلقاً خیال نہیں تھا۔ بلکہ میں سوچ رہا تھا کہ وہ بہت جلد میری بیوی کو جو متوسط طبقے کے سرمایہ داروں کی ذہنیت رکھتی تھی۔ اپنی ہم خیال بنا لے گی۔ ایک روز کا ذکرہے۔ میں اپنے دفتر سے جلد واپس آگیا۔ غالباً دو عمل ہو گا میں نے دروازے پر دستک دی۔ دروازہ میری بیوی کے بجائے ناصر نے کھولا میں سیدھا اپنے میز کی طرف بڑھا۔ چونکہ حسبِ عادت مجھے اپنا بیگ رکھنا تھا۔ ناصر سامنے میرے پلنگ پر کمبل اوڑھ کر لیٹ گیا۔ ادھر صوفے پر عزت جہاں لیٹی تھی۔ ناصر نے کہا۔

’’بھئی مجھے بخار ہورہا ہے۔ ‘‘

میں نے عزت جہاں کی طرف اشارہ کرکے پوچھا۔

’’اور آپ۔ ؟‘‘

عزت نے جواب دیا۔

’’جی نہیں۔ میں ایسے ہی لیٹی ہوں۔ ‘‘

’’رقیہ کہاں ہے؟‘‘

عزت نے جواب دیا۔

’’دوسرے کمرے میں سو رہی ہیں۔ ‘‘

’’یہ کیا۔ ہر ایک سورہا ہے۔ ‘‘

میں نے اپنی بیوی کو آواز دی۔

’’رقیہ۔ رقیہ‘‘

اندر سے نیند بھری آواز آئی۔

’’جی!‘‘

’’ارے بھئی ادھر آؤ۔ کب تک سوئی رہو گی؟‘‘

رقیہ آنکھیں ملتی آئی اور عزت کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی۔ ناصر کمبل اوڑھے لیٹا رہا۔ میں اپنی بیوی کے پاس کرسی پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر گہری نیند کے متعلق باتیں ہوتی رہیں۔ کیونکہ رقیہ ہمیشہ گھوڑے بیچ کر سونے کی عادی ہے۔ اس کے بعد عزت اور میری بیوی کے درمیان کروشیے اور سلائیوں کی باتیں چھڑ گئیں۔ اسی دوران میں چائے آگئی۔ ناصر نے لیٹے لیٹے ایک پیالی پی لی۔ میں نے بخار دورکرنے کے لیے اسے اسپرو کی دو ٹکیاں دیں جو اس نے لے لیں۔ ڈیڑھ دو گھنٹے تک یہ لوگ بیٹھے رہے۔ اس کے بعد چلے گئے۔ رات کو سونے کے لیے جی میں پلنگ پر لیٹا تو حسبِ عادت میں نے اوپر کے تکیے کو دہرا کیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ نچلے تکیے کا غلاف ہی نہیں ہے۔ رقیہ سے جو میرے پاس کھڑی اپنے کپڑے تبدیل کررہی تھی میں نے پوچھا۔

’’اس تکیے پرغلاف کیوں نہیں چڑھایا۔ ‘‘

رقیہ نے غور سے تکیے کی طرف دیکھا اور حیرت سے کہا۔

’’ہائیں، سچ مچ یہ غلاف کدھر غائب ہو گیا۔ ہاں۔ وہ آپ کے دوست۔ ‘‘

میں نے مسکرا کر پوچھا۔

’’کیا ناصر لے گیا؟‘‘

’’کیا معلوم؟‘‘

رقیہ نے رک رک کرکہا۔

’’ہائے کتنی شرم کی بات ہے۔ میں نے ابھی تک یہ بات آپ کو بتائی ہی نہیں تھی۔ میں اندر سو رہی تھی اور وہ آپ کے دوست اور اس کی بیوی۔ لعنت بھیجیے۔ بڑے بدتمیز نکلے۔ ‘‘

دوسرے روز تکیے کا غلاف پلنگ کے نیچے سے ملا جس کو چوہوں اور کاکروچوں نے جگہ جگہ سے دھن ڈالا تھا اور اسپرو کی دو ٹکیاں جو میں نے ناصر کو بخار دورکرنے کے لیے دی تھیں۔ وہ بھی پلنگ کے نیچے سے مل گئیں!

سعادت حسن منٹو

ڈائرکٹر کرپلانی

ڈائرکٹر کر پلانی اپنی بُلند کرداری اور خوش اطواری کی وجہ سے بمبئی کی فلم انڈسٹری میں بڑے احترام کی نظرسے دیکھا جاتا تھا۔ بعض لوگ تو حیرت کا اظہار کرتے تھے کہ ایسا نیک اور پاکباز آدمی فلم ڈائریکٹر کیوں بن گیا کیونکہ فلم کا میدان ایسا ہے جہاں جا بجا گڑھے ہوتے ہیں ان دیکھے گڑھے، بے شمار دلدلیں، جن میں آدمی ایک دفعہ پھنسا تو عمر بھر باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔ ڈائرکٹر کرپلانی کامیاب ڈائرکٹر تھا۔ اس کا ہر فلم باکس آفس ہٹ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ سب فلم ساز اس کی خدمات حاصل کرنے کے لیے بیتاب رہتے۔ مگر وہ لالچی نہیں تھا۔ ایک فلم بنا کر وہ دو تین مہینے کے لیے پنج گنی یا روناولہ چلا جاتا اور اپنے آئندہ فلم کی کہانی اور منظر نامے بڑے اطمینان سے تیار کرتا رہتا۔ وہ رہنے والا سندھ حیدر آباد کا تھا۔ سفید ٹول کی قمیص اور سفید زین کی پتلون کے علاوہ اور کوئی لباس نہیں پہنتا تھا۔ شام کو چھ بجے ایک بوتل بیئر کی پیتا لیکن اگر شوٹنگ رات کو ہو تو یہ بوتل اُس کے کمرے میں پڑی رہتی تھی۔ نشے کی حالت میں کام کرنا پسند نہیں کرتا تھا اس لیے کہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ نشہ انسان کے ذہنی اعصاب کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ فلمی دنیا میں عشق معاشقے عام ہوتے ہیں۔ آج اگر ایک ایکٹرس کسی ڈائرکٹر کے پاس ہے تو دوسرے روز وہ کسی اور ڈائرکٹر کی بغل میں ہو گی۔ وہاں سے پھسل کر وہ شاید کسی نواب یا راجہ کی گود میں چلی جائے۔ سیلو لائڈ کی یہ دنیا بڑی نرالی ہے۔ یہاں دُھوپ چھاؤں کی سی کیفیت رہتی ہے۔ جن دنوں کی میں بات کر رہا ہوں۔ ایک ہی دن میں کئی وارداتیں ہوئی۔ ایک ایکٹرس اپنے شوہر کو چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی، پتی دیو صاحب جس سے ملتے اُس کے سامنے اپنی بدقسمتی کا رونا روتے۔ ایک ڈائرکٹر نے اپنی بیوی کو زہر دے کر مار ڈالا۔ دوسرے نے محبت کی ناکامی کے صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے خود کشی کر لی۔ ایک ایکٹرس کے حرامی بچہ پیدا ہوا۔ ڈائرکٹر کرپلانی یوں تو اسی دنیا میں رہتا تھا مگر سب سے الگ تھلگ۔ اس کو صرف اپنے کام سے غرض تھی۔ شوٹنگ ختم کی اور اپنے خوبصورت فلیٹ میں واپس چلا آیا۔ اسے کسی ایکٹرس سے جنسی تعلقات پیدا کرنے کی کبھی خواہش ہی نہیں تھی۔ ایک مرتبہ مس۔ نے اس سے رغبت کا اظہار کیا، کرپلانی اُس کو علیحدہ کمرے میں ڈائلاگ کی ری ہرسل کرا رہا تھا کہ اس ایکٹرس نے اس سے بڑے دلبرانہ انداز میں کہا

’’کرپلانی صاحب ! آپ پر سفید کپڑے بہت پھبتے ہیں، ۔ میں بھی اب سفید ساڑھی اور سفید بلاؤز پہنا کروں گی۔ ‘‘

کرپلانی نے جس کے دماغ میں اس وقت فلمائے جانے والے سین کے ڈائلاگ گھسے ہوئے تھے اُس سے کہا

’’ہاں۔ مگر سفید چیزیں بہت جلد میلی ہو جاتی ہیں‘‘

’’تو کیا ہوا؟‘‘

’’ہوا تو کچھ بھی نہیں۔ لیکن تمھیں کم از کم چودہ پندرہ ساڑھیاں اور اسی قدربلاؤز بنوانے پڑیں گے‘‘

ایکٹرس مسکرائی

’’بنوالوں گی۔ آپ ہی لے دیں گے۔ ‘‘

کرپلانی چکرا گیا۔

’’میں۔ میں آپ کو کیوں لے کر دوں گا۔ ‘‘

ایکٹرس نے کرپلانی کی قمیض کا کالر جو کسی قدر سمٹا ہو تھا، بڑے پیار سے درست کیا

’’آپ میرے لیے سب کچھ کریں گے۔ اور میں آپ کے لیے‘‘

قریب تھا کہ وہ ایکٹرس کرپلانی کے ساتھ چمٹ جائے کہ اُس نے اُس کو پیچھے دھکیل دیا اور کہا

’’خبر دار جو تم نے ایسی بے ہودہ حرکت کی‘‘

دوسرے روز اُس نے اُس ایکٹرس کو اپنے فلم سے نکال باہر پھینکا۔ دو ہزار روپے اڈوانس لے چکی تھی۔ کرپلانی نے سیٹھ سے کہا کہ وہ روپے اُس کے حساب میں ڈال دے۔ سیٹھ نے پوچھا

’’بات کیا ہے مسٹر کرپلانی‘‘

کوئی بات نہیں ہے۔ واہیات عورت ہے میں اس کو پسند نہیں کرتا‘‘

اتفاق کی بات ہے کہ وہ ایکٹرس سیٹھ کی منظورِ نظر تھی۔ سیٹھ نے جب زور دیا کہ وہ فلم کاسٹ میں موجود رہے گی تو کرپلانی دفتر سے باہر چلا گیا اور پھر واپس نہ آیا۔ کرِپلانی کی عمر یہی پینتیس برس کے قریب ہو گی۔ خوش شکل اور نفاست پسند تھا۔ اُس نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی۔ اپنے خوبصورت فلیٹ میں اکیلا رہتا، جہاں اُس کے دو نوکر تھے۔ باورچی اور ایک دوسرا نوکر جو گھر کی صفائی کرتا تھا، اور آرام آسائش کا خیال رکھتا تھا۔ وہ ان دونوں سے مطمئن تھا۔ اُس کی زندگی بڑی ہموار گزر رہی تھی۔ اُسے عورت سے کوئی لگاؤ نہیں تھا مگر اُس کے ہم عصر فلم ڈائرکٹروں کو سخت تعجب تھا کہ وہ عموماً رومانی فلم بناتا تھا جس میں مرد اور عورت کی پر جوش محبت کے مناظر ہوتے تھے۔ اُس کے دوست گنتی کے تھے ان میں سے ایک میں تھا جس کو وہ اپنا عزیز سمجھتا تھا۔ ایک دن میں نے اُس سے پوچھا

’’کرپ، ۔ یہ کیا بات ہے کہ تم کبھی عورت کے نزدیک نہیں گئے، پر تمہارے فلموں پر عشق و محبت کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ تجربے کے بغیر تم ایسے مناظرکیوں کر لکھتے ہو، جس میں کیوپڈ ہوتا ہے یا اس کے تیر۔ ‘‘

یہ سُن کر وہ مسکرایا

’’آدمی تجربے کی بنا پر جو سوچے

’’وہ ٹھس ہوتا ہے۔ پر تخیل کے زور سے جو کچھ سوچے، اُس میں حسن پیدا ہوتا ہے۔ فلم سازی فریب کاری کا دوسرا نام ہے۔ جب تک تم انپے آپ کو فریب نہ دو، دوسروں کو نہیں دے سکتے‘‘

اُس کا یہ فلسفہ عجیب و غریب تھا۔ میں نے اس سے پوچھا

’’کیا تم نے تخیل میں کوئی ایسی عورت پیدا کرلی ہے جس سے تم محبت کرتے ہو۔ ‘‘

کرپلانی پھر مسکرایا

’’ایک نہیں سینکڑوں۔ ایک عورت سے میرا کام کیسے چل سکتا ہے۔ مجھے عورت سے نہیں اس کے کردار سے دلچسپی ہے۔ چنانچہ میں ایک عورت اپنے تخیل میں پیدا کرتا ہوں اور اُس کو اُلٹ پلٹ کرتا رہتا ہوں۔ ‘‘

’’اُلٹ پلٹ سے تمہارا کیا مطلب ہے‘‘

’’یار تم بڑے کم سمجھ ہو، ۔ عورت کا جسمانی ڈھانچہ تو ایک ہی قسم کا ہوتا ہے۔ پر اس کا کیریکٹر جدا گانہ ہوتا ہے۔ کبھی وہ ماں ہوتی ہے کبھی چڑیل، کبھی بہن، کبھی مردانہ صفات رکھنے والی، ۔ سو ایک عورت میں تم سو روپ دیکھ سکتے ہو۔ اور صرف اپنے تخیل کی مدد سے۔ میں نے ایک روز اُس کی غیر موجودگی میں اُس کے میز کا دراز کھولا کہ میرے پاس ماچس نہیں تھی، تو مجھے کاغذات کا ایک پلندہ نظر آیا، جو غالباً اس کے تازہ فلم کا منظر نامہ تھا۔ میں نے اُس کو اُٹھایا کہ شاید اس کے نیچے ماچس کی کوئی ڈبیا ہو۔ لیکن اس کے بجائے مجھے ایک فوٹو دکھائی دی جو ایک خوبصورت سندھی لڑکی کی تھی۔ میں اس فوٹو کو نکال کر غور سے دیکھ ہی رہا تھا کہ کرپلانی آگیا اس نے میرے ہاتھ میں فوٹو دیکھی تو دیوانہ وار آگے بڑھ کر چھین لی اور اُسے اپنی جیب میں رکھ لیا۔ میں نے اُس سے معذرت طلب کی۔

’’معاف کرنا کرپ۔ میں دیا سلائی تلاش کررہا تھا کہ یہ فوٹو مجھے نظر آئی اور میں اسے دیکھنے لگا۔ کس کی ہے؟‘‘

اُس نے یہ کہہ کر معاملہ گول کرنا چاہا

’’کسی کی ہے‘‘

میں نے پوچھا

’’آخر کس کی؟۔ اس لڑکی کا کوئی نام تو ہو گا‘‘

کرپلانی آرام کرسی پر بیٹھ گیا

’’اس کے کئی نام ہوسکتے ہیں۔ لیکن وہ رادھا تھی۔ ناموں میں کیا پڑا ہے۔ یہ وہ لڑکی ہے جس سے میں نے عرصہ ہوا محبت کی تھی۔ ‘‘

مجھے سخت حیرت ہوئی

’’تم نے؟۔ تم نے محبت کی تھی‘‘

’’کیوں؟۔ میں کیا محبت نہیں کرسکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اب محبت کے نام ہی سے دُور بھاگتا ہوں لیکن جوانی کے دنوں میں ہر انسان کو ایسے لمحات سے دو چار ہونا پڑتا ہے جب وہ دوسری صنف میں بے پناہ کشش محسوس کرتا ہے‘‘

میں جاننا چاہتا تھا کہ کرپلانی کو اس لڑکی سے کیسے عشق ہوا

’’یہ کب کی بات ہے کرپ تم نے آج مجھے حیرت زدہ کر دیا کہ تم کسی سے عشق لڑا چکے ہو۔ تمہارے عشق کا انجام کیا ہوا‘‘

کرپلانی نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا

’’بہت افسوسناک‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’میں اس سے محبت کرتا رہا، میرا خیال تھا کہ وہ بھی مجھ میں دلچسپی لیتی ہے۔ آخر ایک دن جب میں نے اسے ٹٹولا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس کے دل میں میرے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اس نے مجھ سے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے۔ میرا دل ٹوٹ گیا لیکن میں نے اپنے دل میں اس بت کو بھی توڑ ڈالا جس کی میں پوجا کیا کرتا تھا۔ میں نے اُس کو بے شمار بد دُعائیں دیں کہ وہ مر جائے‘‘

میں نے پوچھا

’’کیا وہ مر گئی؟‘‘

’’ہاں اُسے مرنا ہی تھا، اس لیے کہ اُس نے مجھے مار ڈالا تھا۔ اُس کو ٹائی فائڈ ہوا اور ایک مہینے کے اندر اندر چل بسی۔ ‘‘

’’تمھیں اس کی موت کا افسوس نہ ہوا؟‘‘

مجھے افسوس کیوں ہوتا۔ میری آنکھوں میں چند آنسو آئے، بہنے والے تھے کہ میں نے اُن سے کہا بے وقوفو کیوں خود کو ضائع کررہے ہو۔ اور وہ میرا کہا مان کر واپس چلے گئے جہاں سے آئے تھے۔ ‘‘

یہ کہتے ہوئے کرپلانی کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے شاید وہی جو اس کا کہا مان کر واپس چلے گئے تھے۔ میں نے سوچا کہ اب اس معاملے پر اور زیادہ گفتگو نہیں کرنی چاہیے چنانچہ میں اس سے رخصت لیے بغیر چلا گیا اس لیے کہ میرا خیال تھا کہ وہ تنہائی میں رہ کر اپنا جی ہلکا کرنا چاہتا ہے۔ دوسرے روز اُس سے ملاقات ہوئی تو وہ ٹھیک ٹھاک تھا۔ مجھے اپنے ساتھ اسٹوڈیو میں لے گیا وہاں چہک چہک کر مجھ سے اور اپنے ٹیکنیکل سٹاف سے باتیں کرتا رہا۔ یہ اس فلم کی شوٹنگ کا آخری دن تھا۔ اس کے بعد کرپلانی ایڈیٹنگ میں قریب قریب ایک ماہ تک مصروف رہا۔ ریکارڈنگ ہوئی پرنٹ تیار ہوئے، فلم ریلیز ہوا اور بہت کامیاب ثابت ہوا۔ حسبِ دستور وہ پنج گنی چلا گیا اور ڈیڑھ مہینے تک وہاں بڑی پُرسکون اور صحت افزا فضا میں اپنے آئندہ فلم کے لیے کہانی اور اُس کا منظر نامہ تیار کرتا رہا۔ اس کا ایک نئی فلم کمپنی سے کنٹریکٹ ہو چکا تھا کہانی بہت پسند کی گئی۔ اب کاسٹ چننے کا مرحلہ باقی تھا۔ سیٹھ چاہتا تھا کہ ہیروئن کے لیے کوئی نیا چہرہ لیا جائے۔ در اصل وہ پہلے ہی سے ایک خوش شکل لڑکی منتخب کر چکا تھا۔ اس کا ارادہ یہ نہیں تھا کہ اس لڑکی کو ایک دم ہیروئن بنا دے۔ پر جب اس نے کہانی سنی تو اس کی ہیروئن میں اُس کو ہو بہو اُسی لڑکی کی شکل و شباہت اور چال ڈھال نظر آئی۔ اُس نے کرپلانی سے کہا

’’میں نے ایک لڑکی کو ملازم رکھا ہے۔ آپ اسے دیکھ لیجیے۔ آپ کے فلم کے لیے بڑی مناسب ہیروئن رہے گی۔ ‘‘

کرپلانی نے کہا

’’آپ اُس کو بُلائیے میں دیکھ لُوں گا، کیمرہ اور ساؤنڈ ٹیسٹ لینے کے بعد اگر میرا اطمینان ہو گیا تو مجھے کوئی عذر نہیں ہو گا کہ اُسے ہیروئن کا رول دے دُوں۔ ‘‘

دوسرے روز صبح دس بجے کا وقت مقرر کیا گیا۔ کرپلانی کی یہ عادت تھی کہ صبح سویرے ناشتے سے فارغ ہو کر اسٹوڈیو آ جاتا اور ادھر اُدھر ٹہلتا رہتا۔ دس بجے تک وہ نئے اسٹوڈیو کی ہر چیز دیکھتا رہا ساڑھے دس بج گئے اس نے بیئر کی بوتل منگوائی مگر اسے نہ کھولا اس لیے کے اُسے یاد آگیا کہ اُسے نئے چہرے کو دیکھنا ہے۔ گیارہ بج گئے، مگر سیٹھ کا دریافت کیا ہوا نیا چہرہ نمودار نہ ہوا۔ کرپلانی اُکتا گیا اس نے اپنی کہانی کے منظر نامے کی ورق گردانی شروع کر دی اس میں کچھ ترمیم کی اس دوران میں بارہ بج گئے، وہ صوفے پر لیٹ کر سونے ہی والا تھا کہ چپڑاسی نے کہا

’’سیٹھ صاحب آپ کو سلام بولتے ہیں‘‘

کرپلانی اُٹھا۔ سیٹھ کے دفتر میں گیا جہاں ایک لڑکی بیٹھی تھی۔ اس کی پیٹھ اس کی طرف تھی۔ جب وہ سیٹھ کی کرسی کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا تو دم بخود ہو گیا۔ اس لڑکی کی شکل و صورت بالکل اس لڑکی کی سی تھی جس سے اُس نے عرصہ ہوا محبت کی تھی۔ سیٹھ باتیں کرتا رہا مگر کرپلانی کے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلا۔ بہر حال اُس لڑکی کو ہیروئن کے رول کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ کرپلانی اُس لڑکی کو قریب قریب ہر روز دیکھتا اور اس کا اضطراب بڑھتا جاتا۔ ایک دن اُس نے ہمت سے کام لے کر اس سے پوچھا

’’آپ کہاں کی رہنے والی ہیں‘‘

لڑکی نے جواب دیا

’’سندھ حیدر آباد کی۔ کرپلانی چکرا گیا۔

’’سندھ حیدر آباد کی؟۔ آپ کا نام؟‘‘

لڑکی نے بڑی دلفریب مسکراہٹ سے کہا

’’یشو دھرا‘‘

’’آپ کی کوئی بہن ہے؟‘‘

’’تھی۔ مگر اس کا دیہانت ہو چکا ہے‘‘

’’کیا نام تھا ان کا؟‘‘

’’رادھا !‘‘

کرپلانی نے سہ سنتے ہی اپنے دل کو پکڑ لیا اور بے ہوش ہو گیا۔ اور دوسرے روز اچانک مر گیا۔

سعادت حسن منٹو

ٹیڑھی لکیر

اگر سڑک سیدھی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بالکل سیدھی تو اس پر اس کے قدم منوں بھاری ہو جاتے تھے۔ وہ کہا کرتا تھا۔ یہ زندگی کے خلاف ہے۔ جو پیچ در پیچ راستوں سے بھری ہے۔ جب ہم دونوں باہر سیر کو نکلتے تو اس دوران میں وہ کبھی سیدھے راستے پر نہ چلتا۔ اسے باغ کا وہ کونہ بہت پسند تھا۔ جہاں لہراتی ہوئی روشیں بنی ہوئی تھیں۔ ایک بار اس نے اپنی ٹانگوں کو سینے کے ساتھ جوڑ کر بڑے دلکش انداز میں مجھ سے کہا تھا۔

’’عباس اگر مجھے اور کوئی کام نہ ہو۔ تو بخدا میں اپنی ساری زندگی کشمیر کی پہاڑی سڑکوں پر چڑھنے اُترنے میں گزار دُوں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا پیچ ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ابھی تم مجھے نظر آ رہے ہو اور ایک موڑ مڑنے کے بعد میری نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنی پُر اسرار چیز ہے۔۔۔۔۔۔۔ سیدھے راستے پر تم ہر آنے والی چیز دیکھ سکتے ہو، مگر یہاں آنے والی چیزیں تمہاری آنکھوں کے سامنے بالکل اچانک آجائیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ موت کی طرح اچانک۔۔۔۔۔۔۔ اس میں کتنا مزا ہے!‘‘

وہ ایک دُبلا پتلا نوجوان تھا۔ بے حد دُبلا۔ اس کو ایک نظر دیکھنے سے اکثر اوقات معلوم ہوتا کہ ہسپتال کے کسی بستر سے کوئی زرد رُو بیمار اُٹھ کر چلا آیا ہے۔ اُس کی عمر بمشکل بائیس برس کے قریب ہو گی۔ مگر بعض اوقات وہ اس سے بہت زیادہ عمر کا معلوم ہوتا تھا۔ اور عجیب بات ہے کہ کبھی کبھی اس کو دیکھ کر میں یہ خیال کرنے لگتا کہ وہ بچہ بن گیا ہے۔ اس میں ایکا ایکی اس قدر تبدیلی ہو جایا کرتی تھی کہ مجھے اپنی نگاہوں کی صحت پر شبہ ہونے لگ جاتا تھا۔ آخری ملاقات سے دس روز پہلے جب وہ مجھے بازار میں ملا تو میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ ہاتھ میں ایک بڑا سیب لیے اُسے دانتوں سے کاٹ کر کھا رہا تھا۔ اس کا چہرہ بچوں کی مانند ایک ناقابلِ بیان خوشی کے باعث تمتمایا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ گواہی دے رہا تھا کہ سیب بہت لذیذ ہے۔ سیب کے رس سے بھرے ہوئے ہاتھوں کو بچوں کی مانند اپنی پتلون سے صاف کر کے اس نے میرا ہاتھ بڑے جوش سے دبایا اور کہا۔۔۔۔۔۔۔ عباس وہ دو آنے مانگتا تھا، مگر میں نے بھی ایک ہی آنے میں خریدا۔ ‘‘

اس کے ہونٹ ظفر مندانہ ہنسی کے باعث تھرتھرانے لگتے، پھر اس نے جیب سے ایک چیز نکالی۔ اور میرے ہاتھ میں دے کر کہا۔

’’تم نے لٹو تو بہت دیکھے ہوں گے۔ پر ایسا لٹو کبھی دیکھنے میں نہ آیا ہو گا۔۔۔۔۔ اوپر کا بٹن دباؤ۔۔۔۔۔۔۔ دباؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارے دباؤ!‘‘

میں سخت متحیّر ہو رہا تھا۔ لیکن اُس نے میری طرف دیکھے بغیر لٹو کا بٹن دبا دیا جو میری ہتھیلی پر سے اُچھل کر سڑک پر لنگڑانے لگا۔۔۔۔۔ اس پر خوشی کے مارے میرے دوست نے اُچھلنا شروع کر دیا۔

’’دیکھو، عباس، دیکھو، اس کا ناچ۔ ‘‘

میں نے لٹو کی طرف دیکھا۔ جو میرے سر کے مانند گھوم رہا تھا۔ ہمارے ارد گرد بہت سے آدمی جمع ہو گئے تھے۔ شائد وہ یہ سمجھ رہے تھے۔ کہ میرا دوست دوائیاں بیچے گا۔

’’لٹو اٹھاؤ اور چلیں۔۔۔۔۔۔۔ لوگ ہمارا تماشہ دیکھنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں!‘‘

میرے لہجے میں شاید تھوڑی سی تیزی تھی۔ کیونکہ اس کی ساری خوشی ماند پڑ گئی۔ اور اس کے چہرے کی تمتماہٹ غائب ہو گئی۔ وہ اُٹھا اور اس نے میری طرف کچھ اس انداز سے دیکھا کہ مجھے ایسا معلوم ہوا۔ جیسے ایک ننھا سا بچہ رونی صورت بنا کر کہہ رہا ہے۔ میں نے تو کوئی بُری بات نہیں کی پھر مجھے کیوں جھڑکا گیا ہے؟ اس نے لٹّو وہیں سڑک پر چھوڑ دیا۔ اور میرے ساتھ چل پڑا، گھر تک میں نے اور اس نے کوئی بات نہ کی۔ گلی کے نکڑ پر پہنچ کر میں نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ اس قلیل عرصے میں اس کے چہرے پر انقلاب پیدا ہو گیا تھا۔ وہ مجھے ایک تفکر زدہ بوڑھا نظر آیا۔ میں نے پوچھا۔ کیا سوچ رہے ہو؟‘‘

اس نے جواب دیا۔

’’میں یہ سوچ رہا ہوں۔ اگر خدا کو انسان کی زندگی بسر کرنی پڑ جائے تو کیا ہو؟‘‘

وہ اسی قسم کی بے ڈھنگی باتیں سوچا کرتا تھا۔ بعض لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو نرالا ظاہر کرنے کے لیے ایسے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ مگر یہ بات غلط تھی۔ دراصل اس کی طبیعت کا رجحان ہی ایسی چیزوں کی طرف رہتا تھا جو کسی اور دماغ میں نہیں آتی تھیں۔ آپ یقین نہیں کریں گے۔ مگر اس کو اپنے جسم پر رستا ہوا زخم بہت پسند تھا۔ وہ کہا کرتا تھا۔ اگر میرے جسم پر ہمیشہ کے لیے کوئی زخم بن جائے تو کتنا اچھا ہو۔۔۔۔۔۔ مجھے درد میں بڑا مزا آتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اسکول میں ایک روز اس نے میرے سامنے اپنے بازو کو اُسترے کے تیز بلیڈ سے زخمی کیا۔ صرف اس لیے کہ کچھ روز اس میں درد ہوتا رہے ٹیکہ اس نے کبھی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس خیال سے نہیں لگوایا تھا۔ کہ اس سے ہیضے، پلیگ یا ملیریا کا خوف نہیں رہتا۔ اس کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی تھی۔ کہ دو تین روز اس کا بدن بخار کے باعث تپتا رہے۔ چنانچہ جب کبھی وہ بخار کو دعوت دیا کرتا تھا۔ تو مجھ سے کہا کرتا تھا۔ عباس، میرے گھر میں ایک مہمان آنے والا ہے۔ اس لیے تین روز تک مجھے فرصت نہیں ملے گی۔ ‘‘

ایک روز میں نے اس سے پوچھا کہ تم آئے دن ٹیکہ کیوں لگواتے ہو۔ اس نے جواب دیا۔ عباس، میں تمہیں بتا نہیں سکتا کہ ٹیکہ لگوانے سے جو بخار چڑھتا ہے اس میں کتنی شاعری ہوتی ہے۔ جب جوڑ جوڑ میں درد ہوتا ہے۔ اور اعضا شکنی ہوتی ہے تو بخدا ایسا معلوم ہوتا ہے۔ کہ تم کسی نہایت ہی ضدی آدمی کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔ اور پھر بخار بڑھ جانے سے جو خواب آتے ہیں۔ اللہ کس قدر بے ربط ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ بالکل ہماری زندگی کی مانند!۔۔۔۔۔۔ ابھی تم یہ دیکھتے ہو کہ تمہاری شادی کسی نہایت حسین عورت سے ہو رہی ہے۔ دوسرے لمحے یہی عورت تمہاری آغوش میں ایک قوی ہیکل پہلوان بن جاتی ہے۔ ‘‘

میں اس کی ان عجیب و غریب باتوں کا عادی ہو گیا تھا، لیکن اس کے باوجود ایک روز مجھے اس کے دماغی توازن پر شبہ ہونے لگا۔ گزشتہ مئی میں مَیں نے اس سے اپنے استاد کا تعارف کرایا جس کی میں بے حد عزت کرتا تھا۔ ڈاکٹرشاکر نے اس کا ہاتھ بڑی گرمجوشی سے دبایا اور کہا۔

’’میں آپ سے مل کر بہت خوش ہُوا ہُوں۔ ‘‘

’’اس کے برعکس، مجھے آپ سے مل کر کوئی خوشی نہیں ہوئی۔ ‘‘

یہ میرے دوست کا جواب تھا۔ جس نے مجھے بیحد شرمندہ کیا، آپ قیاس فرمائیے کی اس وقت میری کیا حالت ہوئی ہو گی۔ شرم کے مارے میں اپنے استاد کے سامنے گڑا جا رہا تھا۔ اور وہ بڑے اطمینان سے سگریٹ کے کش لگا کر ہال میں ایک تصویر کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ڈاکٹر شاکر نے میرے دوست کی اس حرکت کو بُرا سمجھا اور تخلیے میں مجھ سے بڑے تیز لہجے میں کہا۔

’’معلوم ہوتا ہے۔ تمہارے دوست کا دماغ ٹھکانے نہیں۔ ‘‘

میں نے اس کی طرف سے معذرت طلب کی اور معاملہ رفع دفع ہو گیا، میں واقعی بے حد شرمندہ تھا کہ ڈاکٹر شاکر کو میری وجہ سے ایسا سخت فقرہ سننا پڑا۔ شام کو میں اپنے دوست کے پاس گیا۔ اس ارادے کے ساتھ کہ اس سے اچھی طرح باز پُرس کروں گا۔ اور اپنے دل کی بھڑاس نکالوں گا۔ وہ مجھے لائبریری کے باہر ملا۔ میں نے چھوٹتے ہی اس سے کہا۔

’’تم نے آج ڈاکٹر شاکر کی بہت بے عزتی کی۔۔۔۔۔۔۔ معلوم ہوتا ہے تم نے مجلسی آداب کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ ‘‘

وہ مسکرایا

’’ارے چھوڑو اس قصّے کو۔۔۔۔۔۔ آؤ کوئی اور کام کی بات کریں۔ ‘‘

یہ سن کر میں اس پر برس پڑا۔ خاموشی سے میری تمام باتیں سن کر اس نے صاف صاف کہہ دیا۔۔۔۔۔ اگر مجھ سے مل کر کسی شخص کو خوشی حاصل ہوتی ہے تو ضروری نہیں کہ اس سے مل کر مجھے بھی خوشی حاصل ہو۔۔۔۔۔۔ اور پھر پہلی ملاقات پر صرف ہاتھ ملانے سے میں نے اس کے دل میں خوشی پیدا کر دی۔۔۔۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔۔۔۔۔تمہارے ڈاکٹر صاحب نے اس روز پچیس آدمیوں سے تعارف کیا۔ اور ہر شخص سے انھوں نے یہی کہا، کہ آپ سے مل کر مجھے بڑی مسّرت حاصل ہوئی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہر شخص ایک ہی قسم کے تاثرات پیدا کرے۔۔۔۔۔۔۔ تم مجھ سے فضول باتیں نہ کرو۔۔۔۔۔ آؤ اندر چلیں!‘‘

میں ایک سحر زدہ آدمی کی طرح اس کے ساتھ ہو لیا۔ اور لائبریری کے اندر جا کر اپنا سب غصہ بھول گیا۔ بلکہ یہ سوچنے لگا۔ کہ میرے دوست نے جو کچھ کہا تھا۔ صحیح ہے لیکن فوراً ہی میرے دل میں ایک حسد سا پیدا ہوا کہ اس شخص میں اتنی قوت کیوں ہے۔ کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار بے دھڑک کر دیتا ہے۔ پچھلے دنوں میرے ایک افسر کی دادی مر گئی تھی۔ اور مجھے اس کے سامنے مجبوراً اپنے اوپر غم کی کیفیت طاری کرنی پڑی تھی۔ اور اس سے اپنی مرضی کے خلاف دس پندرہ منٹ تک افسوس ظاہر کرنا پڑا تھا۔ اس کی دادی سے مجھے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اس کی موت کی خبر نے میرے دل پر کوئی اثر نہ کیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود مجھے نقلی جذبات تیار کرنے پڑے تھے۔ اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ میرا کریکٹر اپنے دوست کے مقابلے میں بہت کمزور ہے، اس خیال ہی نے میرے دل میں حسد کی چنگاری پیدا کی تھی۔ اور میں اپنے حلق میں ایک ناقابلِ برداشت تلخی محسوس کرنے لگا تھا۔ لیکن یہ ایک وقتی اور ہنگامی جذبہ تھا جو ہوا کے ایک تیز جھونکے کے مانند آیا اور گزر گیا۔ میں بعد میں اس پر بھی نادم ہوا۔ مجھے اس سے بے حد محبت تھی۔ لیکن اس محبت میں غیر ارادی طور پر کبھی کبھی نفرت کی جھلک بھی نظر آتی تھی۔ ایک روز میں نے اس کی صاف گوئی سے متاثر ہو کر کہا تھا۔

’’یہ کیا بات ہے کہ بعض اوقات میں تم سے نفرت کرنے لگتا ہوں‘‘

اور اس نے مجھے یہ جواب دے کر مطمئن کر دیا تھا۔

’’تمہارا دل جو میری محبت سے بھرا ہوا ہے ایک ہی چیز کو بار بار دیکھ کر کبھی کبھی تنگ آ جاتا ہے۔ اور کسی دوسری شے کی خواہش کرنے لگ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اگر تم مجھ سے کبھی کبھی نفرت نہ کرو۔ تو مجھ سے ہمیشہ محبت بھی نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔ انسان اسی قسم کی الجھنوں کا مجموعہ ہے۔ ‘‘

میں اور وہ اپنے وطن سے بہت دُور تھے۔ ایک ایسے بڑے شہر میں جہاں زندگی تاریک قبر سی معلوم ہوتی ہے۔ مگر اسے کبھی ان گلیوں کی یاد نہ ستاتی تھی۔ جہاں اس نے اپنابچپن اور اپنے شباب کا زمانہ ءِ آغاز گزارا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا۔ کہ وہ اسی شہر میں پیدا ہوا ہے۔ میرے چہرے سے ہر شخص یہ معلوم کر سکتا ہے کہ میں غریب الوطن ہوں۔ مگر میرا دوست ان جذبات سے یکسر عاری ہے۔ وہ کہا کرتا ہے۔ وطن کی یاد بہت بڑی کمزوری ہے ایک جگہ سے خود کو چپک دینا ایسا ہی ہے جیسے ایک آزادی پسند سانڈ کو کھونٹے سے باندھ دیا جائے۔ اس قسم کے خیالات کے مالک کی جو ہر شے کو ٹیڑھی عینک سے دیکھتا ہو۔ اور مروّجہ رسوم کے خلاف چلتا ہو باقاعدہ نکاح خوانی ہو، یعنی پرانی رسوم کے مطابق۔ اس کا عقد عمل میں آئے۔ تو کیا آپ کو تعجب نہ ہو گا؟ ۔۔۔۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ ضرور ہو گا۔ ایک روز شام کو جب وہ میرے پاس آیا۔ اور بڑے سنجیدہ انداز میں اس نے مجھے اپنے نکاح کی خبر سنائی۔ تو آپ یقین کریں میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی اس حیرت کا باعث یہ چیز تھی کہ وہ شادی کر رہا ہے نہیں، مجھے تعجب اس بات پر تھا۔ کہ اس نے لڑکی بغیر دیکھے، پرانے خطوط کے مطابق نکاح کی رسم میں شامل ہونا قبول کیسے کر لیا۔ جب کہ وہ ہمیشہ ان مولویوں کا مضحکہ اڑایا کرتا تھا۔ جو لڑکی اور لڑکے کو رشتہ ازدواج میں باندھتے ہیں؟ وہ کہا کرتا تھا۔

’’یہ مولوی مجھے بڈھے اور گنٹھیا کے مارے پہلوان معلوم ہوتے ہیں۔ جو اپنے اکھاڑے میں چھوٹے چھوٹے لڑکوں کی کشتیاں دیکھ کر اپنی حرص پوری کرتے ہیں۔ ‘‘

اور پھر وہ شادی یا نکاح پر لوگوں کے جمگھٹے کا بھی تو قائل نہ تھامگر۔۔۔۔۔۔ اس کا نکاح پڑھا گیا۔ میری آنکھوں کے سامنے مولوی نے۔۔۔۔۔۔ اس مولوی نے جس سے اس کو سخت چڑ تھی۔ اور جس کو وہ بوڑھا طوطا کہا کرتا تھا۔ اس کا نکاح پڑھا۔ چھوہارے بانٹے گئے۔ اور میں ساری کارروائی یوں دیکھ رہا تھا گویا سوتے میں کوئی سپنا دیکھ رہا ہوں۔ نکاح ہو گیا۔ دوسرے لفظوں میں ان ہونی بات ہو گئی۔ اور جو تعجب مجھے پہلے پیدا ہوا تھا۔ بعد میں بھی برقرار رہا۔ مگر میں نے اس کے متعلق اپنے دوست سے ذکر نہ کیا۔ اس خیال سے کہ شاید اسے ناگوار گزرے۔ لیکن دل ہی دل میں اس بات پر خوش تھا۔ کہ آخر کار اسے اس دائرے میں لوٹنا پڑا۔ جس میں دوسرے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ نکاح کرکے میرا دوست اپنے اصولوں کے ٹیڑھے منار سے بہت بُرح طرح پھسلا تھا۔ اور اس گڑھے میں سر کے بل آ گرا تھا۔ جس کو وہ بے حد غلیظ کہا کرتا تھا۔ جب میں نے یہ سوچا تو میرے جی میں آئی۔ کہ اپنے کج رفتار دوست کے پاس جاؤں۔ اور اتنا ہنسوں اتنا ہنسوں کہ پیٹ میں بل پڑ جائیں۔ مگر جس روز میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی۔ اسی روز وہ دوپہر کو میرے گھر آیا۔ نکاح کو تین مہینے گزر گئے تھے اور اس دوران میں وہ ہمیشہ اُداس اُداس رہتا تھا۔ اس کا چہرہ چمک رہا تھا۔ اور ناک جو چند روز پہلے بھدّی نیام کے اندر چھپی ہوئی تلوار کا نقشہ پیش کرتی تھی۔ اس پر سب سے نمایاں نظر آ رہی تھی۔ وہ میرے کمرے میں داخل ہوا۔ اور سگریٹ سلگا کر میرے پاس بیٹھ گیا۔ اس کے ہونٹوں کے اختتامی کونے کپکپا رہے تھے۔ ظاہر تھا کہ وہ مجھے کوئی بڑی اہم بات سنانے والا ہے۔ میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔ اس نے سگریٹ کے دھوئیں سے چھلا بنایا۔ اور اس میں اپنی اُنگلی گاڑتے ہوئے مجھ سے کہا۔

’’عباس! میں کل یہاں سے جا رہا ہوں۔ ‘‘

’’جا رہے ہو؟‘‘

میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔

’’میں کل یہاں سے جا رہا ہوں۔ شاید ہمیشہ کے لیے۔ میں اس خبر سے تمہیں مطلع کرنے کے لیے نہ آتا۔ مگر مجھے تم سے کچھ روپے لینا ہیں۔ جو تم نے مجھ سے قرض لے رکھے ہیں۔۔۔۔۔ کیا تمہیں یاد ہے؟‘‘

میں نے جواب دیا۔

’’یاد ہے، پر تم جا کہاں رہے ہو؟ ۔۔۔۔۔۔ اور پھر ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔؟‘‘

’’بات یہ ہے کہ مجھے اپنی بیوی سے عشق ہو گیا ہے۔ اور کل رات میں اسے بھگا کر اپنے ساتھ لیے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ وہ تیار ہو گئی ہے!‘‘

یہ سُن کر مجھے اس قدر حیرت ہوئی کہ میں بیوقوفوں کی مانند ہنسنے لگا۔ اور دیر تک ہنستا رہا۔ وہ اپنی منکوحہ بیوی کو جسے وہ جب چاہتا انگلی پکڑ کر اپنے ساتھ لا سکتا تھا، اغوا کرکے لے جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔بھگا کر لے جا رہا تھا۔ جیسے جیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کیا کہوں کہ اس وقت میں نے کیا سوچا۔۔۔۔۔۔۔ دراصل میں کچھ سوچنے کے قابل ہی نہ رہا تھا۔ مجھے ہنستا دیکھ کر اس نے ملامت بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔

’’عباس ! یہ ہنسنے کا موقع نہیں۔ کل رات وہ اپنے مکان کے ساتھ والے باغ میں میرا انتظار کرے گی، اور مجھے سفر کے لیے کچھ روپیہ فراہم کرکے اس کے پاس ضرور پہنچنا چاہیے۔ وہ کیا کہے گی۔ اگر میں اپنے وعدے پر قائم نہ رہا۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں کیا معلوم، میں نے کن کن مشکلوں کے بعد رسائی حاصل کرکے اس کو اس بات پر آمادہ کیا ہے!‘‘

میں نے پھر ہنسنا چاہا۔ مگر اس کو غایت درجہ سنجیدہ و متین دیکھ کر میری ہنسی دب گئی اور مجھے قطعی طور پر معلوم ہو گیا۔ کہ وہ واقعی اپنی منکوحہ بیوی کو بھگا کر لے جا رہا ہے۔ کہاں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مجھے معلوم نہ تھا۔ میں زیادہ تفصیل میں نہ گیا۔ اور اسے وہ روپے ادا کر دئیے۔ جو میں نے عرصہ ہوا اس سے قرض لیے تھے۔ اور یہ سمجھ کر ابھی تک نہ دیے تھے کہ وہ نہ لے گا۔ مگر اس نے خاموشی سے نوٹ گن کر اپنی جیب میں ڈالے اور بغیر ہاتھ ملائے رخصت ہونے ہی والا تھا کہ میں نے آگے بڑھ کر اس سے کہا۔ تم جا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن مجھے بھلا نہ دینا!‘‘

میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ مگر اس کی آنکھیں بالکل خشک تھیں۔

’’میں کوشش کروں گا۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ میں بہت دیر تک جہاں کھڑا تھا بُت بنا رہا۔ جب اُدھر اس کے سُسرال والوں کو پتہ چلا۔ کہ ان کی لڑکی رات رات میں کہیں غائب ہو گئی ہے۔ تو ایک ہیجان برپا ہو گیا۔ ایک ہفتے تک انھوں نے اسے ادھر اُدھر تلاش کیا۔ اور کسی کو اس واقعہ کی خبر تک نہ ہونے دی۔ مگر بعد میں لڑکی کے بھائی کو میرے پاس آنا پڑا۔ اور مجھے اپنا ہمراز بنا کر اسے ساری رام کہانی سنانی پڑی۔ وہ بے چارے یہ خیال کر رہے تھے کہ لڑکی کسی اور آدمی کے ساتھ بھاگ گئی ہے اور لڑکی کا بھائی میرے پاس اس غرض سے آیا تھا کہ ان کی طرف سے میں اپنے دوست کو اس تلخ واقعے سے آگاہ کروں وہ بیچارہ شرم کے مارے زمین میں گڑا جا رہا تھا۔ جب میں نے اس کو اصل واقعہ سے آگاہ کیا تو حیرت کے باعث اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس بات سے تو اسے بہت ڈھارس ہوئی کہ اس کی بہن کسی غیر مرد کے ساتھ نہیں گئی۔ بلکہ اپنے شوہر کے پاس ہے۔ لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میرے دوست نے یہ فضول اور نازیبا حرکت کیوں کی؟

’’بیوی اسی کی تھی جب چاہتا لے جاتا۔ مگر اس حرکت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے جیسے۔۔۔۔۔۔ جیسے۔۔۔۔۔۔‘‘

وہ کوئی مثال پیش نہ کر سکا اور میں بھی اسے کوئی اطمینان دہ جواب نہ دے سکا کل صبح کی ڈاک سے مجھے اس کا خط ملا جس کو میں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کھولا۔ لفافے میں ایک کاغذ تھا جس پر ایک ٹیڑھی لکیر کھینچی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ خالی لفافہ ایک طرف رکھ کر میں اس عمود کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔ جو میں نے بورڈ پر چپکے ہوئے کاغذ پر گرایا تھا۔

سعادت حسن منٹو

ٹیٹوال کا کتا

کئی دن سے طرفین اپنے اپنے مورچے بر جمے ہوئے تھے۔ دن میں ادھر اور ادھر سے دس بارہ فائر کیے جاتے جن کی آواز کے ساتھ کوئی انسانی چیخ بلند نہیں ہوتی تھی۔ موسم بہت خوشگوار تھا۔ ہواخود رو پھولوں کی مہک میں بسی ہوئی تھی۔ پہاڑیوں کی اونچائیوں اور ڈھلوانوں پر جنگ سے بے خبرقدرت اپنے مقررہ اشغال میں مصروف تھی۔ پرندے اسی طرح چہچہاتے تھے۔ پھول اسی طرح کھل رہے تھے اور شہد کی سست رو مکھیاں اسی پرانے ڈھنگ سے ان پر اونگھ اونگھ کر رس چوستی تھیں۔ جب پہاڑیوں میں کسی فائر کی آواز گونجتی تو چہچہاتے ہوئے پرندے چونک کر اڑنے لگتے، جیسے کسی کا ہاتھ ساز کے غلط تار سے جا ٹکرایا ہے۔ اور ان کی سماعت کو صدمہ پہنچانے کا موجب ہوا ہے۔ ستمبر کا انجام اکتوبر کے آغاز سے بڑے گلابی انداز میں بغل گیر ہورہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ موسمِ سرما اور گرما میں صلح صفائی ہورہی ہے۔ نیلے نیلے آسمان پر دھنکی ہوئی روئی ایسے پتلے پتلے اور ہلکے ہلکے بادل یوں تیرتے تھے جیسے اپنے سفید بجروں میں تفریح کررہے ہیں۔ پہاڑی مورچوں میں دونوں طرف کے سپاہی کئی دن سے بڑی کوفت محسوس کررہے تھے کہ کوئی فیصلہ کن بال کیوں وقوع پذیر نہیں ہوتی۔ اکتا کر ان کا جی چاہتا تھا کہ موقع بے موقع ایک دوسرے کو شعر سنائیں۔ کوئی نہ سنے تو ایسے ہی گنگناتے رہیں۔ پتھریلی زمین پر اوندھے یا سیدھے لیٹے رہتے تھے۔ اور جب حکم ملتا تھا ایک دو فائر کردیتے تھے۔ دونوں کے مورچے بڑی محفوظ جگہ تھے۔ گولیاں پوری رفتار سے آتی تھیں اور پتھروں کی ڈھال کے ساتھ ٹکرا کر وہیں چت ہو جاتی تھیں۔ دونوں پہاڑیاں جن پر یہ مورچے تھے۔ قریب قریب ایک قد کی تھیں۔ درمیان میں چھوٹی سی سبز پوش وادی تھی جس کے سینے پر ایک نالہ موٹے سانپ کی طرح لوٹتا رہتا تھا۔ ہوائی جہازوں کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ توپیں ان کے پاس تھیں نہ ان کے پاس، اس لیے دونوں طرف بے خوف و خطر آگ جلائی جاتی تھیں۔ ان سے دھوئیں اٹھتے اور ہواؤں میں گھل مل جاتے۔ رات کو چونکہ بالکل خاموشی ہوتی تھی، اس لیے کبھی کبھی دونوں مورچوں کے سپاہیوں کو ایک دوسرے کے کسی بات پر لگائے ہوئے قہقہے سنائی دے جاتے تھے۔ کبھی کوئی لہر میں آکے گانے لگتا تو اس کی آوازرات کے سناٹے کو جگا دیتی۔ ایک کے پیچھے ایک باز گشت صدائیں گونجتیں تو ایسا لگتا کہ پہاڑیاں آموختہ دہرا رہی ہیں۔ چائے کا دور ختم ہو چکا تھا۔ پتھروں کے چولھے میں چیڑ کے ہلکے پھلکے کوئلے قریب قریب سرد ہو چکے تھے۔ آسمان صاف تھا۔ موسم میں خنکی تھا۔ ہوا میں پھولوں کی مہک نہیں تھی جیسے رات کو انھوں نے اپنے عطردان بند کرلیے تھے، البتہ چیڑ کے پسینے یعنی بروزے کی بوتھی مگر یہ بھی کچھ ایسی ناگوار نہیں تھی۔ سب کمبل اوڑھے سورہے تھے، مگر کچھ اس طرح کہ ہلکے سے اشارے پر اٹھ کر لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو سکتے تھے۔ جمعدار ہرنام سنگھ خود پہرے پر تھا۔ اس کی راسکوپ گھڑی میں دو بجے تو اس نے گنڈا سنگھ کو جگایا اورپہرے پر متعین کردیا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ سو جائے، پر جب لیٹا تو آنکھوں سے نیند کو اتنا دور پایا جتنے کہ آسمان کے ستارے تھے۔ جمعدار ہرنام سنگھ چٹ لیتا ان کی طرف دیکھتا رہا۔ اورگنگنانے لگا۔ جُتیّ لینی آں ستاریاں والی۔ ستاریاں والی۔ وے ہر نام سنگھا ہو یارا، بھاویں تیری مہیں وک جائے اور ہرنام سنگھ کو آسمان ہر طرف ستاروں والے جوتے بکھرے نظر آئے۔ جو جھلمل جھلمل کررہے تھے جتی لے دؤں ستاریاں والی۔ ستاریاں والی۔ نی ہرنام کورے ہونارے، بھاویں میری مَہیں وک جائے یہ گا کر وہ مسکرایا، پھر یہ سوچ کر کہ نیند نہیں آئے گی، اس نے اٹھ کر سب کو جگا دیا۔ نار کے ذکر نے اس کے دماغ میں ہلچل پیدا کردی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اوٹ پٹانگ گفتگو ہو، جس سے اس بولی کی ہرنام کوری کیفیت پیدا ہو جائے۔ چنانچہ باتیں شروع ہوئیں مگر اُکھڑی اُکھڑی رہیں۔ بنتا سنگھ جو ان سب میں کم عمر اور خوش آواز تھا، ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گیا۔ باقی اپنی بظاہر پرلطف باتیں کرتے اور جمائیاں لیتے رہے۔ تھوڑی دیر کے بعد بنتا سنگھ نے ایک دم اپنی پرسوز آواز میں ہیر گانا شروع کردی۔ ہیر آکھیا جو گیا جھوٹھ بولیں، کون روٹھڑے یار مناؤندائی ایسا کوئی نہ ملیا میں ڈھونڈتھکی جیہڑا گیاں نوں موڑلیاؤندائی اک باز تو کانگ نے کونج کھوئی دیکھاں چپ ہے کہ کرلاؤندائی دکھاں والیاں نوں گلاں سُکھدیاں نی قصے جوڑ جہان سناؤندائی پھر تھوڑے وقفے کے بعد اس نے ہیر کی ان باتوں کا جواب رانجھے کی زبان میں گایا ؂ جیہڑے بازتوں کانگ نے کونج کھوئی صبرشکر کر بازفناہ ہویا اینویں حال ہے اس فقیر دانی دھن مال گیا تے تباہ ہویا کریں صدق تے کم معلوم ہووے تیرا رب رسول گواہ ہویا دنیا چھڈ اداسیاں پہن لیاں سید وارثوں ہن وارث شاہ ہویا بنتا سنگھ نے جس طرح ایک دم گانا شروع کیا تھا، اسی طرح وہ ایک دم خاموش ہو گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خاکستری پہاڑیوں نے بھی اداسیاں پہن لی ہیں۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے تھوڑی دیر کے بعد کسی غیر مرئی چیز کو موٹی سی گالی دی اور لیٹ گیا۔ دفعتہً رات کے آخری پہر کی اس اداس فضا میں کتے کے بھونکنے کی آواز آئی۔ سب چونک پڑے۔ آواز قریب سے آئی تھی۔ صوبیدار ہرنام سنگھ نے بیٹھ کر کہا۔

’’یہ کہاں سے آگیا بھونکو؟‘‘

کتا پھر بھونکا۔ اب اس کی آواز اور بھی نزدیک سے آئی تھی۔ چند لمحات کے بعد دور جھاڑیوں میں آہٹ ہوئی۔ بنتا سنگھ اٹھا اور اس کی طرف بڑھا۔ جب واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک آوارہ سا کتا تھا جس کی دم ہل رہی تھی۔ وہ مسکرایا۔

’’جمعدار صاحب۔ میں ہوکمر ادھر بولا تو کہنے لگا، میں ہوں چپڑ جُھن جُھن!‘‘

سب ہنسنے لگے۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے کتے کو پچکارا۔

’’ادھر آچپڑ جُھن جُھن۔ ‘‘

کتا دم ہلاتا ہرنام سنگھ کے پاس چلا گیا اور یہ سمجھ کر کہ شاید کوئی کھانے کی چیز پھینکی گئی ہے، زمین کے پتھر سونگھنے لگا۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے تھیلا کھول کر ایک بسکٹنکالا اور اس کی طرف پھینکا۔ کتے نے اسے سونگھ کر منہ کھولا، لیکن ہرنام سنگھ نے لپک کر اسے اٹھالیا۔

’’ٹھہر۔ کہیں پاکستانی تو نہیں!‘‘

سب ہنسنے لگے۔ سردار بنتا سنگھ نے آگے بڑھ کر کتے کی پیٹھ پرہاتھ پھیرا اور جمعدار ہرنام سنگھ سے کہا۔

’’نہیں جمعدار صاحب، چپڑ جُھن جُھن ہندوستانی ہے۔ ‘‘

جمعدارہرنام سنگھ ہنسا اور کتے سے مخاطب ہوا۔

’’نشانی دکھا اوئے؟‘‘

کتا دم ہلانے لگا۔ ہرنام سنگھ ذرا کھل کے ہنسا۔

’’یہ کوئی نشانی نہیں۔ دم تو سارے کتے ہلاتے ہیں۔ ‘‘

بنتا سنگھ نے کتے کی لرزاں دم پکڑلی۔

’’شرنارتھی ہے بے چارہ!‘‘

جمعدار ہرنام سنگھ نے بسکٹ پھینکا جو کتے نے فوراً دبوچ لیا۔ ایک جوان نے اپنے بوٹ کی ایڑھی سے زمین کھودتے ہوئے کہا۔

’’اب کتوں کو بھی یا تو ہندوستانی ہونا پڑے گا یا پاکستانی!‘‘

جمعدار نے اپنے تھیلے سے ایک بسکٹ نکالا اور پھینکا۔

’’پاکستانیوں کی طرح پاکستانی کتے بھی گولی سے اڑا دیے جائیں گے!‘‘

ایک نے زور سے نعرہ بلند کیا۔

’’ہندوستان زندہ باد!‘‘

کتا جو بسکٹ اٹھانے کے لیے آگے بڑھا تھا ڈر کے پیچھے ہٹ گیا۔ اس کی دم ٹانگوں کے اندر گھس گئی۔ جمعدار ہرنام سنگھ ہنسا۔

’’اپنے نعرے سے کیوں ڈرتا ہے چپڑجُھن جُھن۔ کھا۔ لے ایک اور لے۔ ‘‘

اس نے تھیلے سے ایک اور بسکٹ نکال کر اسے دیا۔ باتوں باتوں میں صبح ہو گئی۔ سورج ابھی نکلنے کا ارادہ ہی کررہا تھا کہ چار سو اجالا ہو گیا۔ جس طرح بٹن دبانے سے ایک دم بجلی کی روشنی ہوتی ہے۔ اسی طرح سورج کی شعاعیں دیکھتے ہی دیکھتے ہی اس پہاڑی علاقے میں پھیل گئی جس کا نام ٹیٹوال تھا۔ اس علاقے میں کافی دیر سے لڑائی جاری تھی۔ ایک ایک پہاڑی کے لیے درجنوں جوانوں کی جان جاتی تھی، پھر بھی قبضہ غیریقینی ہوتا تھا۔ آج یہ پہاڑی ان کے پاس ہے، کل دشمن کے پاس، پرسوں پھر ان کے قبضے میں اس سے دوسرے روز وہ پھر دوسروں کے پاس چلی جاتی تھی۔ صوبیدار ہرنام سنگھ نے دوربین لگا کر آس پاس کا جائزہ لیا۔ سامنے پہاڑی سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ اس کا یہ مطلب تھا کہ چائے وغیرہ تیار ہورہی ہے ادھر بھی ناشتے کی فکر ہورہی تھی۔ آگ سلگائی جارہی تھی۔ ادھر والوں کو بھی یقیناً اِدھر سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا تھا۔ ناشتے پر سب جوانوں نے تھوڑا تھوڑا کتے کو دیا جس کو اس نے خوب پیٹ بھر کے کھایا۔ سب اس سے دلچسپی لے رہے تھے جیسے وہ اس کو اپنا دوست بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے آنے سے کافی چہل پہل ہو گئی تھی۔ ہر ایک اس کو تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد پچکار کر

’’چپڑ جُھن جُھن‘‘

کے نام سے پکارتا اور اسے پیار کرتا۔ شام کے قریب دوسری طرف پاکستانی مورچے میں صوبیدار ہمت خان اپنی بڑی بڑی مونچھوں کو جن سے بے شمار کہانیاں وابستہ تھیں، مروڑے دے کر ٹیٹوال کے نقشے کا بغور مطالعہ کررہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی وائرلیس آپریٹر بیٹھا تھا اور صوبیدار ہمت خاں کے لیے پلاٹون کمانڈر سے ہدایات وصول کررہا تھا۔ کچھ دور ایک پتھر سے ٹیک لگائے اور اپنی بندوق لیے بشیر ہولے ہولے گنگنا رہا تھا۔ ؂ چن کِتھے گوائی آئی رات وے۔ چن کتھے گوائی آئی بشیر نے مزے میں آکر ذرا اونچی آواز کی تو صوبیدار ہمت خان کی کڑک بلند ہوئی۔

’’اوئے کہاں رہا ہے تو رات بھر؟‘‘

بشیر نے سوالیہ نظروں سے ہمت خان کو دیکھنا شروع کیا۔ جو بشیر کے بجائے کسی اور سے مخاطب تھا۔

’’بتا اوئے۔ ‘‘

بشیر نے دیکھا۔ کچھ فاصلے پر وہ آوارہ کتا بیٹھا تھا جو کچھ دن ہوئے ان کے مورچے میں بن بلائے مہمان کی طرح آیا تھا اور وہیں ٹک گیا تھا۔ بشیر مسکرایا اور کتے سے مخاطب ہو کر بولا۔

’’چن کتھے گوائی آئی رات وے۔ چن کتھے گوائی آئی؟ کتنے نے زور سے دم ہلانا شروع کردی جس سے پتھریلی زمین پر جھاڑوسی پھرنے لگی۔ صوبیدار ہمت خاں نے ایک کنکر اٹھا کر کتے کی طرف پھینکا۔

’’سالے کو دم ہلانے کے سوا اور کچھ نہیں آتا!‘‘

بشیر نے ایک دم کتے کی طرف غور سے دیکھا۔

’’اس کی گردن میں کیا ہے؟‘‘

یہ کہہ کروہ اٹھا، مگر اس سے پہلے ایک اور جوان نے کتے کو پکڑ کر اس کی گردن میں بندھی ہوئی رسی اتاری۔ اس میں گتے کا ایک ٹکڑا پرویا ہوا تھا۔ جس پر کچھ لکھا تھا۔ صوبیدار ہمت خاں نے یہ ٹکڑا لیا اور اپنے جوانوں سے پوچھا۔

’’لنڈے ہیں۔ جانتا ہے تم میں سے کوئی پڑھنا۔ ‘‘

بشیر نے آگے بڑھ کر گتے کا ٹکڑا لیا۔

’’ہاں۔ کچھ کچھ پڑھ لیتا ہوں۔ ‘‘

اور اس نے بڑی مشکل سے حرف جوڑ جوڑ کر یہ پڑھا۔

’’چپ۔ چپڑ۔ جُھن جُھن۔ چپڑ جُھن جُھن۔ یہ کیاہوا؟‘‘

صوبیدار ہمت خاں نے اپنی بڑی بڑی تاریخی مونچھوں کو زبردست مروڑا دیا۔

’’کوڈورڈ ہو گا کوئی۔ ‘‘

پھر اس نے بشیر سے پوچھا۔

’’کچھ اور لکھاہے بشیرے۔ ‘‘

بشیر نے جو حروف شناسی میں مشغول تھا۔ جواب دیا۔

’’جی ہاں۔ یہ۔ ہند۔ ہند۔ ہندوستانی۔ یہ ہندوستانی کتا ہے!‘‘

صوبیدار ہمت خاں نے سوچنا شروع کیا۔

’’مطلب کیا ہوا اس کا؟۔ کیا پڑھا تھا تم نے۔ چپڑ؟ ؟‘‘

بشیر نے جواب دیا۔

’’چپڑ جُھن جُھن!‘‘

ایک جوان نے بڑے عاقلانہ انداز میں کہا۔

’’جو بات ہے اسی میں ہے۔ ‘‘

صوبیدار ہمت خان کو یہ بات معقول معلوم ہوئی۔

’’ہاں کچھ ایسا لگتا ہے۔ ‘‘

بشیر نے گتے پر لکھی ہوئی عبارت پڑھی۔

’’چپڑ جھن جھن۔ یہ ہندوستانی کتا ہے!‘‘

صوبیدار ہمت خان نے وائرلیس سیٹ لیا اور کانوں پر ہیڈ فون جما کر پلاٹوں کمانڈر سے خود اس کتے کے بارے میں بات چیت کی۔ وہ کیسے آیاتھا۔ کس طرح ان کے پاس کئی دن پڑا۔ پھر ایکا ایکی غائب ہو گیا اور رات بھر غائب رہا۔ اب آیا ہے تو اس کے گلے میں رسی نظر آئی جس میں گتے کا ایک ٹکرا تھا۔ اس پر جو عبارت لکھی تھی وہ اس نے تین چار مرتبہ دہرا کرپلاٹون کمانڈر کو سنائی مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ بشیر الگ کتے کے پاس بیٹھ کر اسے کبھی پچکار کر، کبھی ڈرا دھمکا کر پوچھتا رہا کہ وہ رات کہاں غائب رہا تھا اور اسکے گلے میں وہ رسی اور گتے کا ٹکڑا کس نے باندھا تھا مگر کوئی خاطر خواہ جواب نہ ملا۔ وہ جو سوال کرتا، اس کے جواب میں کتا اپنی دم ہلا دیتا۔ آخرغصے میں آکر بشیر نے اسے پکڑ لیا اور زور سے جھٹکا دیا۔ کتا تکلیف کے باعث چاؤں چاؤں کرنے لگا۔ وائرلیس سے فارغ ہو کر صوبیدار ہمت خان نے کچھ دیر نقشے کا بغور مطالعہ کیا پھر فیصلہ کن انداز میں اٹھا اور سگریٹ کی ڈبیا کا ڈھکنا کھول کر بشیر کودیا۔

’’بشیرے، لکھ اس پر گورمکھی میں۔ ان کیڑے مکوڑوں میں۔ ‘‘

بشیر نے سگرٹ کی ڈبیا کا گتا لیا اور پوچھا۔

’’کیا لکھوں صوبیدار صاحب۔ ‘‘

صوبیدار ہمت خاں نے مونچھوں کو مروڑے دے کر سوچنا شروع کیا۔

’’لکھ دے۔ بس لکھ دے!‘‘

یہ کہہ اس نے جیب سے پنسل نکال کر بشیر کودی

’’کیا لکھنا چاہیے؟‘‘

بشیر پنسل کے منہ کو لب لگا کر سوچنے لگا!پھرایک دم سوالیہ انداز میں بولا

’’سپڑ سُن سُن؟۔ ‘‘

لیکن فوراً ہی مطمئن ہو کر اس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا

’’ٹھیک ہے۔ چپڑ جُھن جُھن کا جواب سپڑ سُن سُن ہی ہو سکتا ہے۔ کیا یاد رکھیں گے اپنی ماں کے سکھڑے۔ ‘‘

بشیر نے پنسل سگرٹ کی ڈبیا پرجمائی۔

’’سپر سن سن؟‘‘

’’سولہ آنے۔ لکھ۔ سب۔ سپر۔ سن سن!‘‘

یہ کہہ کرصوبیدار ہمت خاں نے زور کا قہقہہ لگایا۔

’’اور آگے لکھ۔ یہ پاکستانی کتا ہے!‘‘

صوبیدار ہمت خاں نے کتا بشیر کے ہاتھ سے لیا۔ پنسل سے اس میں ایک طرف چھید کیا اوررسی میں پرو کرکتے کی طرف بڑھا۔

’’لے جا، یہ اپنی اولاد کے پاس!‘‘

یہ سن کر سب خوب ہنسے۔ صوبیدار ہمت خاں نے کتے کے گلے میں رسی باندھ دی۔ وہ اس دوران میں اپنی دم ہلاتا رہا۔ اس کے بعد صوبیدار نے اسے کچھ کھانے کو دیا اور بڑے ناصحانہ انداز میں کہا۔

’’دیکھو دوست غداری مت کرنا۔ یادرکھو غدار کی سزا موت ہوتی ہے!‘‘

کتا دم ہلاتا رہا۔ جب وہ اچھی طرح کھا چکا تو صوبیدار ہمت خاں نے رسی سے پکڑ کر اس کا رخ پہاڑی کی اکلوتی پگڈنڈی کی طرف پھیرا اور کہا۔

’’جاؤ۔ ہمارا خط دشمنوں تک پہنچا دو۔ مگر دیکھوواپس آجانا۔ یہ تمہارے افسر کا حکم ہے سمجھے؟‘‘

کتے نے اپنی دم ہلائی اور آہستہ آہستہ پگڈنڈی پر جو بل کھاتی ہوئے نیچے پہاڑی کے دامن میں جاتی تھی چلنے لگا۔ صوبیدار ہمت خاں نے اپنی بندوق اٹھائی اور ہوا میں ایک فائر کیا۔ فائر اور اس کی باز گشت دوسری طرف ہندوستانیوں کے مورچے میں سنی گئی۔ اس کا مطلب اُن کی سمجھ میں نہ آیا۔ جمعدار ہرنام سنگھ معلوم نہیں کس بات پر چڑچڑا ہورہا تھا، یہ آواز سن کر اور بھی چڑچڑا ہو گیا۔ اس نے فائر کا حکم دے دیا۔ آدھے گھنٹے تک چنانچہ دونوں مورچوں سے گولیوں کی بیکار بارش ہوتی رہی۔ جب اس شغل سے اکتا گیا تو جمعدار ہرنام سنگھ نے فائر بند کرادیا اور داڑھی میں کنگھا کرنا شروع کردیا۔ اس سے فارغ ہو کر اس نے جالی کے اندرسارے بال بڑے سلیقے سے جمائے اور بنتا سنگھ سے پوچھا۔

’’اوئے بنتاں سیاں! چپڑ جُھن جُھن کہاں گیا؟‘‘

بنتا سنگھ نے چیڑ کی خشک لکڑی سے بروزہ اپنے ناخنوں سے جدا کرتے ہوئے کہا۔

’’کتے کو گھی ہضم نہیں ہوا؟‘‘

بنتا سنگھ اس محاورے کا مطلب نہ سمجھا۔

’’ہم نے تواسے گھی کی کوئی چیز نہیں کھلائی تھی۔ ‘‘

یہ سن کر جمعدار ہرنام سنگھ بڑے زور سے ہنسا۔

’’اوئے ان پڑھ۔ تیرے ساتھ تو بات کرنا پچانویں کا گھاٹا ہے!‘‘

اتنے میں وہ سپاہی جو پہرے پر تھا اور دور بین لگائے اِدھر سے اُدھر دیکھ رہا تھا۔ ایک دم چلایا۔

’’وہ۔ وہ آرہا ہے!‘‘

سب چونک پڑے۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے پوچھا۔

’’کون؟‘‘

پہرے کے سپاہی نے کہا۔

’’کیا نام تھا اس کا؟۔ چپڑ جُھن جُھن!‘‘

’’چپڑ جُھن جُھن؟‘‘

یہ کہہ کر جمعدار ہرنام سنگھ اٹھا۔

’’کیا کررہا ہے۔ ‘‘

پہرے کے سپاہی نے جواب دیا۔

’’آرہا ہے۔ ‘‘

جمعدار ہرنام سنگھ نے دور بین اس کے ہاتھ میں لی اور دیکھنا شروع کیا۔

’’ادھر ہی آرہا ہے۔ رسی بندھی ہوئی ہے گلے میں۔ لیکن۔ یہ تو اُدھرسے آ رہا ہے دشمن کے مورچے سے۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے کتے کی ماں کو بہت بڑی گالی دی۔ اس کے بعد اس نے بندوق اٹھائی اور شست باندھ کر فائر کیا۔ نشانہ چُوک گیا۔ گولی کتے سے کچھ فاصلے پر پتھروں کی کرچیں اڑاتی زمین میں دفن ہو گئی۔ وہ سہم کر رُک گیا۔ دوسرے مورچے میں صوبیدار ہمت خاں نے دور بین میں سے دیکھا کہ کتا پگڈنڈی پر کھڑا ہے۔ ایک اور فائر ہوا تووہ دم دبا کر الٹی طرف بھاگا۔ صوبیدار ہمت خاں کے مورچے کی طرف۔ وہ زور سے پکارا۔

’’بہادر ڈرا نہیں کرتے۔ چل واپس‘‘

اور اس نے ڈرانے کے لیے ایک فائر کیا۔ کتا رک گیا۔ ادھر سے جمعدار ہرنام سنگھ نے بندوق چلائی۔ گولی کتے کے کان سے سنساتی ہوئی گزر گئی۔ اس نے اچھل کر زور زور سے دونوں کان پھڑپھڑانے شروع کیے۔ ادھر سے صوبیدار ہمت خاں نے دوسرا فائر کیا جو اس کے اگلے پنجوں کے پاس پتھروں میں پیوست ہو گیا۔ بوکھلا کر کبھی وہ ادھر دوڑا، کبھی ادھر۔ اس کی اس بوکھلاہٹ سے ہمت خاں اور ہرنام دونوں مسرور ہوئے اور خوب قہقہے لگاتے رہے۔ کتے نے جمعدار ہرنام سنگھ کے مورچے کی طرف بھاگنا شروع کیا۔ اس نے یہ دیکھا تو بڑے تاؤ میں آکر موٹی سی گالی دی اور اچھی طرح شِست باندھ کر فائر کیا۔ گولی کتے کی ٹانگ میں لگی۔ ایک فلک شگاف چیخ بلند ہوئی۔ اس نے اپنا رخ بدلا۔ لنگڑا لنگڑا کر صوبیدار ہمت خاں کے مورچے کی طرف دوڑنے لگا تو اُدھر سے بھی فائر ہوا، مگر وہ صرف ڈرانے کے لیے کیا گیا تھا۔ ہمت خاں فائر کرنے ہی چلایا۔

’’بہادر پروا نہیں کیا کرتے زخموں کی۔ کھیل جاؤ اپنی جان پر۔ جاؤ۔ جاؤ!‘‘

کتا فائر سے گھبرا کر مڑا۔ ایک ٹانگ اس کی بالکل بیکار ہو گئی تھی۔ باقی تین ٹانگوں کی مدد سے اس نے خود کو چند قدم دوسری جانب گھسیٹا کہ جمعدار ہرنام سنگھ نے نشانہ تاک کر گولی چلائی جس نے اسے وہیں ڈھیر کردیا۔ صوبیدار ہمت خاں نے افسوس کے ساتھ کہا۔

’’چچ چچ۔ شہید ہو گیا بے چارہ!‘‘

جمعدار ہرنام سنگھ نے بندوق کی گرم گرم نالی اپنے ہاتھ میں لی اور کہا۔

’’وہی موت مرا جو کتے کی ہوتی ہے !‘‘

10-11اکتوبر1951ء

سعادت حسن منٹو

ٹھنڈا گوشت

ایشر سنگھ جونہی ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا۔ کلونت کور پلنگ پر سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز آنکھوں سے اس کی طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کردی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، شہر کا مضافات ایک عجیب پراسرار خاموشی میں غرق تھا۔ کلونت کور پلنگ پر آلتی پالتی مار کربیٹھ گئی۔ ایشرسنگھ جو غالباً اپنے پراگندہ خیالات کے الجھے ہوئے دھاگے کھول رہا، ہاتھ میں کرپان لیے ایک کونے میں کھڑا تھا۔ چند لمحات اسی طرح خاموشی میں گزر گئے۔ کلونت کور کو تھوڑی دیر کے بعد اپنا آسن پسند نہ آیا، اور وہ دونوں ٹانگیں پلنگ سے نیچے لٹکا کر ہلانے لگی۔ ایشر سنگھ پھر بھی کچھ نہ بولا۔ کلونت کور بھرے بھرے ہاتھ پیروں والی عورت تھی۔ چوڑے چکلے کولہے، تھل تھل کرنے والے گوشت سے بھرپور کچھ بہت ہی زیادہ اوپر کو اٹھا ہواسینہ، تیز آنکھیں۔ بالائی ہونٹ پر بالوں کا سرمئی غبار، ٹھوڑی کی ساخت سے پتہ چلتا تھا کہ بڑے دھڑلے کی عورت ہے۔ ایشر سنگھ گوسرنیوڑھائے ایک کونے میں چپ چاپ کھڑا تھا۔ سرپر اس کی کس کر باندھی ہوئی پگڑی ڈھیلی ہورہی تھی۔ اس کے ہاتھ جو کرپان تھامے ہوئے تھے۔ تھوڑے تھوڑے لرزاں تھے، گمڑی اس کے قدوقامت اور خدوخال سے پتہ چلتا تھا کہ کلونت کور جیسی عورت کے لیے موزوں ترین مرد ہے۔ چند اور لمحات جب اسی طرح خاموشی سے گزر گئے تو کلونت کور چھلک پڑی۔ لیکن تیز تیز آنکھوں کو بچا کر وہ صرف اس قدر کہہ سکی۔

’’ایشرسیاں۔ ‘‘

ایشر سنگھ نے گردن اٹھا کر کلونت کور کی طرف دیکھا، مگر اس کی نگاہوں کی گولیوں کی تاب نہ لا کرمنہ دوسری طرف موڑ لیا۔ کلونت کور چلائی۔

’’ایشر سیاں۔ ‘‘

لیکن فوراً ہی آواز بھینچ لی اور پلنگ پر سے اٹھ کر اس کی جانب جاتے ہوئے بولی۔

’’کہاں رہے تم اتنے دن؟‘‘

ایشر سنگھ نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔

’’مجھے معلوم نہیں۔ ‘‘

کلونت کور بھنا گئی۔

’’یہ بھی کوئی ماں یا جواب ہے؟‘‘

ایشر سنگھ نے کرپان ایک طرف پھینک دی اور پلنگ پر لیٹ گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ کئی دنوں کا بیمار ہے۔ کلونت کور نے پلنگ کی طرف دیکھا۔ جواب ایشر سنگھ سے لبالب بھرا تھا۔ اس کے دل میں ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو گیا۔ چنانچہ اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اس نے بڑے پیار سے پوچھا۔

’’جانی کیا ہوا ہے تمہیں؟‘‘

ایشر سنگھ چھت کی طرف دیکھ رہا تھا، اس سے نگاہیں ہٹا کر اس نے کلونت کور کے مانوس چہرے کوٹٹولنا شروع کیا۔

’’کلونت!‘‘

آواز میں درد تھا۔ کلونت کور ساری کی ساری سمٹ کراپنے بالائی ہونٹ میں آگئی۔

’’ہاں جانی‘‘

کہہ کر وہ اس کو دانتوں سے کاٹنے لگی۔ ایشر سنگھ نے پگڑی اتار دی۔ کلونت کور کی طرف سہارا لینے والی نگاہوں سے دیکھا، اس کے گوشت بھرے کولھے پر زور سے دھپا مارا اور سر کو جھٹکا دے کر اپنے آپ سے کہا۔

’’یہ کڑی یا دماغ ہی خراب ہے۔ ‘‘

جھٹکا دینے سے اس کے کیس کھل گئے۔ کلونت کور انگلیوں سے ان میں کنگھی کرنے لگی۔ ایسا کرتے ہوئے اس نے بڑے پیار سے پوچھا۔

’’ایشر سیاں، کہاں رہے تم اتنے دن؟‘‘

’’بُرے کی ماں کے گھر۔ ‘‘

ایشر سنگھ نے کلونت کور کو گھور کے دیکھا اور دفعتاً دونوں ہاتھوں سے اس کے ابھرے ہوئے سینے کو مسلنے لگا۔

’’قسم واہگورو کی بڑی جاندار عورت ہے۔ ‘‘

کلونت کور نے ایک ادا کے ساتھ ایشر سنگھ کے ہاتھ ایک طرف جھٹک دیے اور پوچھا۔

’’تمہیں میری قسم بتاؤ، کہاں رہے؟۔ شہرگئے تھے؟‘‘

ایشرسنگھ نے ایک ہی لپیٹ میں اپنے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے جواب دیا۔

’’نہیں۔ ‘‘

کلونت کور چڑ گئی۔

’’نہیں تم ضرور شہر گئے تھے۔ اور تم نے بہت سا روپیہ لوٹا ہے جو مجھ سے چھپا رہے ہو۔ ‘‘

’’وہ اپنے باپ کا تخم نہ ہو جو تم سے جھوٹ بولے۔ ‘‘

کلونت کور تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئی، لیکن فوراً ہی بھڑک اٹھی۔

’’لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا، اس رات تمہیں کیا ہوا؟۔ اچھے بھلے میرے ساتھ لیٹے تھے، مجھے تم نے وہ تمام گہنے پنا رکھے تھے جو تم شہر سے لوٹ کر لائے تھے۔ میری بھپیاں لے رہے تھے، پر جانے ایک دم تمہیں کیا ہوا، اٹھے اور کپڑے پہن کر باہر نکل گئے۔ ‘‘

ایشر سنگھ کا رنگ زرد ہو گیا۔ کلونت کور نے یہ تبدیلی دیکھتے ہی کہا۔

’’دیکھا کیسے رنگ نیلا پڑ گیا۔ ایشر سیاں، قسم واہگورو کی، ضرور کچھ دال میں کالا ہے؟‘‘

’’تیری جان کی قسم کچھ بھی نہیں۔ ‘‘

ایشر سنگھ کی آواز بے جان تھی۔ کلونت کور کا شبہ اور زیادہ مضبوط ہو گیا، بالائی ہونٹ بھینچ کر اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔

’’ایشر سیاں، کیا بات ہے۔ تم وہ نہیں ہو جو آج سے آٹھ روز پہلے تھے؟‘‘

ایشر سنگھ ایک دم اٹھ بیٹھا، جیسے کسی نے اس پر حملہ کیا تھا۔ کلونت کور کو اپنے تنو مند بازوؤں میں سمیٹ کر اس نے پوری قوت کے ساتھ اسے بھنبھوڑنا شروع کردیا۔

’’جانی میں وہی ہوں۔ گھٹ گھٹ پا جپھیاں، تیری نکلے ہڈاں دی گرمی۔ ‘‘

کلونت کور نے مزاحمت نہ کی، لیکن وہ شکایت کرتی رہی۔

’’تمہیں اس رات ہو کیا گیا تھا؟‘‘

’’برے کی ماں کا وہ ہو گیا تھا۔ ‘‘

’’بتاؤگے نہیں؟‘‘

’’کوئی بات ہو تو بتاؤں۔ ‘‘

’’مجھے اپنے ہاتھوں سے جلاؤ اگر جھوٹ بولو۔ ‘‘

ایشر سنگھ نے اپنے بازو اس کی گردن میں ڈال دیے اور ہونٹ اس کے ہونٹوں میں گاڑ دیے۔ مونچھوں کے بال کلونت کور کے نتھنوں میں گھسے تو اسے چھینک آگئی۔ دونوں ہنسنے لگے۔ ایشر سنگھ نے اپنی صدری اتار دی اور کلونت کور کو شہوت بھری نظروں سے دیکھ کر کہا۔

’’آجاؤ، ایک بازی تاش کی ہو جائے!‘‘

کلونت کور کے بالائی ہونٹ پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں پھوٹ آئیں، ایک ادا کے ساتھ اس نے اپنی آنکھوں کی پتلیاں گھمائیں اور کہا۔

’’چل دفان ہو۔ ‘‘

ایشر سنگھ نے اس کے بھرے ہوئے کولہے پر زور سے چٹکی بھری۔ کلونت کور تڑپ کر ایک طرف ہٹ گئی۔

’’نہ کر ایشر سیاں، میرے درد ہوتا ہے۔ ‘‘

ایشر سنگھ نے آگے بڑھ کر کلونٹ کور کا بالائی ہونٹ اپنے دانتوں تلے دبا لیا اور کچکچانے لگا۔ کلونت کور بالکل پگھل گئی۔ ایشر سنگھ نے اپنا کرتہ اتار کے پھینک دیا اور کہا۔

’’لو، پھرہو جائے تُرپ چال۔ ‘‘

کلونت کور کا بالائی ہونٹ کپکپانے لگا، ایشر سنگھ نے دونوں ہاتھوں سے کلونت کور کی قمیض کا گھیرا پکڑا اور جس طرح بکرے کی کھال اتارتے ہیں، اسی طرح اس کو اتار کر ایک طرف رکھ دیا، پھراس نے گھور کے اس کے ننگے بدن کو دیکھا اور زور سے اس کے بازو پرچٹکی بھرتے ہوئے کہا۔

’’کلونت، قسم واہگورو کی، بڑی کراری عورت ہے تو۔ ‘‘

کلونت کور اپنے بازو پر ابھرتے ہوئے لال دھبے کو دیکھنے لگی۔

’’بڑا ظالم ہے تو ایشر سیاں۔ ‘‘

ایشر سنگھ اپنی گھنی کالی مونچھوں میں مسکرایا۔

’’ہونے دے آج ظلم؟‘‘

اور یہ کہہ کر اس نے مزید ظلم ڈھانے شروع کیے۔ کلونت کور کا بالائی ہونٹ دانتوں تلے کچکچایا۔ کان کی لووں کو کاٹا، ابھرے ہوئے سینے کو بھنبھوڑا، ابھرے ہوئے کولہوں پر آواز پیدا کرنے والے چانٹے مارے۔ گالوں کے منہ بھر بھر کے بوسے لیے۔ چوس چوس کر اس کا سارا سینہ تھوکوں سے لتھیڑ دیا۔ کلونت کور تیز آنچ پر چڑھی ہوئی ہانڈی کی طرح ابلنے لگی۔ لیکن ایشر سنگھ ان تمام حیلوں کے باوجود خود میں حرارت پیدا نہ کرسکا۔ جتنے گر اور جتنے داؤ اسے یاد تھے۔ سب کے سب اس نے پٹ جانے والے پہلوان کی طرح استعمال کردیے۔ پرکوئی کارگر نہ ہوا۔ کلونت کور نے جس کے بدن کے سارے تار تن کر خود بخود بج رہے تھے۔ غیر ضروری چھیڑ چھاڑ سے تنگ آکر کہا۔

’’ایشر سیاں، کافی پھینٹ چکا ہے، اب پتا پھینک!‘‘

یہ سنتے ہی ایشر سنگھ کے ہاتھ سے جیسے تاش کی ساری گڈی نیچے پھسل گئی۔ ہانپتا ہوا وہ کلونت کور کے پہلو میں لیٹ گیا اور اس کے ماتھے پر سرد پسینے کے لیپ ہونے لگے۔ کلونت کور نے اسے گرمانے کی بہت کوشش کی۔ مگر ناکام رہی، اب تک سب کچھ منہ سے کہے بغیر ہوتا رہا تھا لیکن جب کلونت کور کے منتظر بہ عمل اعضا کو سخت ناامیدی ہوئی تو وہ جھلا کر پلنگ سے نیچے اتر گئی۔ سامنے کھونٹی پر چادر پڑی تھی، اس کو اتار کر اس نے جلدی جلدی اوڑھ کر اور نتھنے پھلا کر، بپھرے ہوئے لہجے میں کہا

’’ایشر سیاں، وہ کون حرامزادی ہے، جس کے پاس تو اتنے دن رہ کر آیا ہے۔ جس نے تجھے نچوڑ ڈالا ہے؟‘‘

ایشر سنگھ پلنگ پر لیٹا ہانپتا رہا اور اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ کلونت کور غصے سے ابلنے لگی۔

’’میں پوچھتی ہوں؟ کون ہے چڈو۔ کون ہے وہ الفتی۔ کون ہے وہ چورپتا؟‘‘

ایشر سنگھ نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔

’’کوئی بھی نہیں کلونت، کوئی بھی نہیں۔ ‘‘

کلونت کور نے اپنے بھرے ہوئے کولہوں پر ہاتھ رکھ کر ایک عزم کے ساتھ کہا ایشر سیاں، میں آج جھوٹ سچ جان کے رہوں گی۔ کھا واہگورو جی کی قسم۔ کیا اس کی تہہ میں کوئی عورت نہیں؟‘‘

ایشر سنگھ نے کچھ کہنا چاہا، مگرکلونت کور نے اس کی اجازت نہ دی۔

’’قسم کھانے سے پہلے سوچ لے کہ میں سردار نہال سنگھ کی بیٹی ہوں۔ تکا بوٹی کردوں گی، اگر تو نے جھوٹ بولا۔ لے اب کھا واہگورو جی کی قسم۔ کیا اس کی تہہ میں کوئی عورت نہیں؟‘‘

ایشر سنگھ نے بڑے دکھ کے ساتھ اثبات میں سر ہلایا، کلونت کور بالکل دوانی ہو گئی۔ لپک کر کونے میں سے کرپان اٹھائی، میان کو کیلے کے چھلکے کی طرح اتار کر ایک طرف پھینکا اور ایشر سنگھ پر وارکردیا۔ آن کی آن میں لہو کے فوارے چھوٹ پڑے۔ کلونت کور کی اس سے بھی تسلی نہ ہوئی تو اس نے وحشی بلیوں کی طرح ایشر سنگھ کے کیس نوچنے شروع کر دیے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی نامعلوم سوت کوموٹی موٹی گالیاں دیتی رہیں۔ ایشر سنگھ نے تھوڑی دیر کے بعد نقاہت بھری الجا کی۔

’’جانے دے اب کلونت! جانے دے۔ ‘‘

آواز میں بلا کا درد تھا، کلونت کور پیچھے ہٹ گئی۔ خون، ایشر سنگھ کے گلے سے اڑ اڑ کر اس کی مونچھوں پر گررہا تھا، اس نے اپنے لرزاں ہونٹ کھولے اور کلونت کور کی طرف شکریے اور گِلے کی ملی جلی نگاہوں سے دیکھا۔

’’میری جان! تم نے بہت جلدی کی۔ لیکن جو ہوا ٹھیک ہے۔ ‘‘

کلونت کور کا حسد پھر بھڑکا۔

’’مگر وہ کون ہے تمہاری ماں؟‘‘

لہو، ایشر سنگھ کی زبان تک پہنچ گیا، جب اس نے اس کا ذائقہ چکھا تو اس کے بدن پر جھرجھری سی دوڑ گئی۔

’’اور میں۔ اور میں۔ بھینی یا چھ آدمیوں کو قتل کرچکا ہوں۔ اسی کرپان سے۔ ‘‘

کلونت کور کے دماغ میں صرف دوسری عورت تھی۔

’’میں پوچھتی ہوں، کون ہے وہ حرامزادی؟‘‘

ایشر سنگھ کی آنکھیں دھندلارہی تھیں، ایک ہلکی سی چمک ان میں پیدا ہوئی اور اس نے کلونت کور سے کہا۔

’’گالی نہ دے اس بھڑوی کو۔ ‘‘

کلونت چلائی۔

’’میں پوچھتی ہوں، وہ ہے کون؟‘‘

ایشر سنگھ کے گلے میں آواز رندھ گئی۔

’’بتاتا ہوں۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیرا اور اس پر اپنا جیتا جیتا خون دیکھ کر مسکرایا۔

’’انسان ماں یا بھی ایک عجیب چیز ہے۔ ‘‘

کلونت کور اس کے جواب کی منتظر تھی۔

’’ایشر سیاں، تو مطلب کی بات کر۔ ‘‘

ایشر سنگھ کی مسکراہٹ اس کی لہو بھری مونچھوں میں اور زیادہ پھیل گئی۔

’’مطلب ہی کی بات کررہا ہوں۔ گلا چراہے ماں یا میرا۔ اب دھیرے دھیرے ہی ساری بات بتاؤں گا۔ ‘‘

اور جب وہ بات بنانے لگا تو اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پسینے کے لیپ ہونے لگے۔ کلونت! میری جان۔ میں تمہیں نہیں بتا سکتا، میرے ساتھ کیا ہوا؟۔ انسان کڑی یا بھی ایک عجیب چیز ہے۔ شہر میں لوٹ مچی تو سب کی طرح میں نے بھی اس میں حصہ لیا۔ گہنے پاتے اور روپے پیسے جو بھی ہاتھ لگے وہ میں نے تمہیں دے دیے۔ لیکن ایک بات تمہیں نہ بتائی۔ ‘‘

ایشر سنگھ نے گھاؤ میں درد محسوس کیا اور کراہنے لگا۔ کلونت کور نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ اور بڑی بے رحمی سے پوچھا۔

’’کون سی بات؟‘‘

ایشرسنگھ نے مونچھوں پر جمتے ہوئے لہو کو پھونک کے ذریعے سے اڑاتے ہوئے کہا۔ جس مکان پر۔ میں نے دھاوا بولا تھا۔ اس میں سات۔ اس میں سات آدمی تھے۔ چھ میں نے۔ قتل کر دیے۔ اسی کرپان سے جس سے تو نے مجھے۔ چھوڑ اسے۔ سن۔ ایک لڑکی تھی بہت سندر۔ اس کو اٹھا میں اپنے ساتھ لے آیا۔ ‘‘

کلونت کور، خاموش سنتی رہی۔ ایشر سنگھ نے ایک بار پھر پھونک مار کے مونچھوں پر سے لہو اڑایا۔

’’کلونت جانی، میں تم سے کیا کہوں، کتنی سندر تھی۔ میں اسے بھی مار ڈالتا، پر میں نے کہا۔

’’نہیں، ایشر سیاں، کلونت کور کے تو ہر روز مزے لیتا ہے، یہ میوہ بھی بھی چکھ دیکھ۔ ‘‘

کلونت کور نے صرف اس قدر کہا۔

’’ہوں۔ !‘‘

اور میں اسے کندھے پر ڈال کر چل دیا۔ راستے میں۔ کیا کہہ رہا تھا میں؟۔ ہاں راستے میں۔ نہر کی پٹڑی کے پاس، تھوہڑ کی جھاڑیوں تلے میں نے اسے لٹا دیا۔ پہلے سوچا کہ پھینٹوں، لیکن پھر خیال آیا کہ نہیں

’’۔ یہ کہتے کہتے ایشر سنگھ کی زبان سوکھ گئی۔ کلونت کور نے تھوک نگل کر اپنا حلق تر کیا اور پوچھا۔

’’پھر کیا ہوا؟‘‘

ایشر سنگھ کے حلق سے بمشکل یہ الفاظ نکلے۔

’’میں نے۔ میں نے پتا پھینکا۔ لیکن۔ لیکن۔ ‘‘

اس کی آواز ڈوب گئی۔ کلونت کور نے اسے جھنجھوڑا۔

’’پھر کیا ہوا؟‘‘

ایشر سنگھ نے اپنی بند ہوتی ہوئی آنکھیں کھولیں اور کلونت کور کیجسم یک طرف دیکھا، جس کی بوٹی بوٹی تھرک رہی تھی۔

’’وہ۔ وہ مری ہوئی تھی۔ لاش تھی۔ بالکل ٹھنڈا گوشت۔ جانی مجھے اپنا ہاتھ دے۔ ‘‘

کلونت کور نے اپنا ہاتھ ایشر سنگھ کے ہاتھ پر رکھا، جو برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا تھا۔

سعادت حسن منٹو

ٹُوٹُو

میں سوچ رہا تھا۔ دنیا کی سب سے پہلی عورت جب ماں بنی تو کائنات کا رد عمل کیا تھا؟ دنیا کے سب سے پہلے مرد نے کیا آسمانوں کی طرف تمتماتی آنکھوں سے دیکھ کر دنیا کی سب سے پہلی زبان میں بڑے فخر کے ساتھ یہ نہیں کہا تھا۔

’’میں بھی خالق ہوں۔ ‘‘

ٹیلی فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی۔ میرے آوارہ خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ بالکنی سے اٹھ کر میں اندر کمرے میں آیا۔ ٹیلی فون ضدی بچے کی طرح چلائے جارہا تھا۔ ٹیلی فون بڑی مفید چیز ہے، مگر مجھے اس سے نفرت ہے۔ اس لیے کہ یہ وقت بے وقت بجے لگنا ہے۔ چنانچہ بہت ہی بددلی سے میں نے ریسیور اٹھایا اور نمبر بتایا

’’فور فور فائیو سیون۔ ‘‘

دوسرے سرے سے ہیلو ہیلوشروع ہوئی۔ میں جھنجھلا گیا۔

’’کون ہے‘‘

جواب ملا۔

’’آیا۔ ‘‘

میں نے آیاؤں کے طرز گفتگو میں پوچھا۔

’’کس کومانگتا ہے؟‘‘

’’میم صاحب ہے۔ ‘‘

’’ہے۔ ٹھہرو۔ ‘‘

ٹیلی فون کا ریسیور ایک طرف رکھ کر میں نے اپنی بیوی کو جو غالباً اندر سو رہی تھی، آواز دی

’’میم صاحب۔ میم صاحب۔ ‘‘

آواز سن کر میری بیوی اٹھی اور جمائیاں لیتی ہوئی آئی۔

’’یہ کیا مذاق ہے۔ میم صاحب، میم صاحب!‘‘

میں نے مسکرا کہا۔

’’میم صاحب ٹھیک ہے۔ یاد ہے، تم نے اپنی پہلی آیا سے کہا تھا کہ مجھے میم صاحب کے بدلے بیگم صاحبہ کہا کرو تو اس نے بیگم صاحبہ کو بینگن صاحبہ بنا دیا تھا!‘‘

ایک مسکراتی ہوئی جمائی لے کر میری بیوی نے پوچھا۔

’’کون ہے۔ ‘‘

’’دریافت کرلو۔ ‘‘

میری بیوی نے ٹیلی فون اٹھایا اور ہیلو ہیلو شروع کردیا۔ میں باہر بالکنی میں چلا گیا۔ عورتیں ٹیلی فون کے معاملے میں بہت لمبی ہوتی ہیں۔ چنانچہ پندرہ بیس منٹ تک ہیلو ہیلو ہوتا رہا۔ میں سوچ رہا تھا۔ ٹیلی فون ہر دو تین الفاظ کے بعد ہیلو کیوں کہا جاتا ہے؟ کیا اس ہلو ہلوکے عقب میں احساس کمتری تو نہیں؟۔ بار بار ہلو صرف اسے کرنی چاہیے جسے اس بات کا اندیشہ ہو کہ اس کی مہمل گفتگو سے تنگ آکر سننے والا ٹیلی فون چھوڑ دے گا۔ یا ہو سکتا ہے یہ محض عادت ہو۔ دفعتاً میری بیوی گھبرائی ہوئی آئی۔

’’سعادت صاحب، اس دفعہ معاملہ بہت ہی سیریس معلوم ہوتا ہے۔ ‘‘

’’کون سا معاملہ۔ ‘‘

معاملے کی نوعیت بتائے بغیر میری بیوی نے کہنا شروع کردیا۔

’’بات بڑھتے بڑھتے طلاق تک پہنچ گئی ہے۔ پاگل پن کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں شرط لگانے کے لیے تیار ہوں کہ بات کچھ بھی نہیں ہو گی۔ بس پُھسری کا بھگندر بنا ہو گا۔ دونوں سر پھرے ہیں۔ ‘‘

’’اجی حضرت کون؟‘‘

’’میں نے بتایا نہیں آپ کو؟۔ اوہ۔ ٹیلی فون، طاہرہ کا تھا!‘‘

’’طاہرہ۔ کون طاہرہ؟‘‘

’’مسز یزدانی۔ ‘‘

’’اوہ!‘‘

میں سارا معاملہ سمجھ گیا

’’کوئی نیا جھگڑا ہوا ہے؟‘‘

نیا اور بہت بڑا۔ جائیے یزدانی آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

’’مجھ سے کیا بات کرنا چاہتا ہے؟‘‘

’’معلوم نہیں۔ طاہرہ سے ٹیلی فون چھین کر مجھ سے فقط یہ کہا۔ بھابی جان، ذرا منٹوص احب کو بلائیے!‘‘

’’خواہ مخواہ میر مغز چاٹے گا‘‘

یہ کہہ کر میں اٹھا اور ٹیلی فون پر یزدانی سے مخاطب ہوا۔ اس نے صرف اتنا کہا

’’معاملہ بے حد نازک ہو گیا ہے۔ تم اور بھابی جان ٹیکسی میں فوراً یہاں آجاؤ۔ ‘‘

میں اور میری بیوی جلدی کپڑے تبدیل کرکے یزدانی کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستے میں ہم دونوں نے یزدانی اور طاہرہ کے متعلق بے شمار باتیں کیں۔ طاہرہ ایک مشہور عشق پیشہ موسیقار کی خوبصورت لڑکی تھی۔ عطا یزدانی ایک پٹھان آڑھتی کا لڑکا تھا۔ پہلے شاعری شروع کی، پھر ڈرامہ نگاری، اس کے بعد آہستہ آہستہ فلمی کہانیاں لکھنے لگا۔ طاہرہ کا باپ اپنے آٹھویں عشق میں مشغول تھا اور عطا یزدانی علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک کے لیے

’’بیچلہ‘‘

نامی ڈرامہ لکھنے میں۔ ایک شام پریڈ کرتے ہوئے عطا یزدانی کی آنکھیں طاہرہ کی آنکھوں سے چار ہوئیں۔ ساری رات جاگ کر اس نے ایک خط لکھا اور طاہرہ تک پہنچا دیا۔ چند ماہ تک دونوں میں نامہ و پیام جاری رہا اور آخر کار دونوں کی شادی بغیر کسی حیل حجت ہو گئی۔ عطا یزدانی کو اس بات کا افسوس تھا کہ ان کا عشق ڈرامے سے محروم رہا۔ طاہرہ بھی طبعاً ڈرامہ پسند تھی۔ عشق اور شادی سے پہلے سہیلیوں کے ساتھ باہر شوپنگ کو جاتی تو ان کے لیے مصیبت بن جاتی۔ گنجے آدمی کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھوں میں کھجلی شروع ہو جاتی

’’میں اس کے سر پر ایک دھول تو ضرور جماؤں گی، چاہے تم کچھ ہی کرو۔ ‘‘

ذہین تھی۔ ایک دفعہ اس کے پاس کوئی پیٹی کوٹ نہیں تھا۔ اس نے کمر کے گرد ازار بند باندھا اور اس میں ساڑھی اڑس کر سہیلیوں کے ساتھ چل دی۔ کیا طاہرہ واقعی عطا یزدانی کے عشق میں مبتلا ہوئی تھی؟ اس کے متعلق وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا۔ یزدانی کا پہلا عشقیہ خط ملنے پر اس کا رد عمل غالباً یہ تھا کہ کھیل دلچسپ ہے کیا ہرج ہے، کھیل لیا جائے۔ شادی پربھی اس کا رد عمل کچھ اسی قسم کا تھا۔ یوں تو مضبوط کردار کی لڑکی تھی، یعنی جہاں تک با عصمت ہونے کا تعلق ہے، لیکن تھی کھلنڈری۔ اور یہ جو آئے دن اس کا اپنے شوہر کے ساتھ لڑائی جھگڑا ہوتا تھا، میں سمجھتا ہوں ایک کھیل ہی تھا۔ لیکن جب ہم وہاں پہنچے اور حالات دیکھے تو معلوم ہوا کہ یہ کھیل بڑی خطرناک صورت اختیار کرگیا تھا۔ ہمارے داخل ہوتے ہی وہ شور برپا ہوا کہ کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ طاہرہ اور یزدانی دونوں اونچے اونچے سروں میں بولنے لگے۔ گلے، شکوے، طعنے منے‘۔ پرانے مردوں پر نئی لاشیں، نئی لاشوں پرپرانے مردے۔ جب دونوں تھک گئے تو آہستہ آہستہ لڑائی کی نوک پلک نکلنے لگی۔ طاہرہ کو شکایت تھی کہ عطا اسٹوڈیو کی ایک واہیات ایکٹرس کو ٹیکسیوں میں لیے لیے پھرتا ہے۔ یزدانی کا بیان تھا کہ یہ سراسر بہتان ہے۔ طاہرہ قرآن اٹھانے کے لیے تیار تھی عطا کا اس ایکٹرس سے ناجائز تعلق ہے۔ جب وہ صاف انکاری ہوا تو طاہرہ نے بڑی تیزی کے ساتھ کہا۔

’’کتنے پارسا بنتے ہو۔ یہ آیا جو کھڑی ہے۔ کیا تم نے اسے چومنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ تو میں اوپر سے آگئی۔ ‘‘

یزدانی گرجا

’’بکواس بند کرو۔ ‘‘

اس کے بعد پھر وہی شور برپا ہو گیا۔ میں نے سمجھایا۔ میری بیوی نے سمجھایا مگر کوئی اثر نہ ہوا۔ عطا کو تومیں نے ڈانٹا بھی

’’زیادتی سراسر تمہاری ہے۔ معافی مانگو اور یہ قصہ ختم کرو۔ ‘‘

عطا نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ میری طرف دیکھا

’’سعادت، یہ قصہ یوں ختم نہیں ہو گا۔ میرے متعلق یہ عورت بہت کچھ کہہ چکی ہے، لیکن میں نے اس کے متعلق ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا۔ عنایت کو جانتے ہو تم؟‘‘

’’عنایت؟‘‘

’’پلے بیک سنگر۔ اس کے باپ کا شاگرد!‘‘

’’ہاں ہاں‘‘

’’اول درجے کا چھٹا ہوا بدمعاش ہے۔ مگر یہ عورت ہر روز اسے یہاں بلاتی ہے۔ بہانہ یہ ہے کہ۔ ‘‘

طاہرہ نے اس کی بات کاٹ دی۔

’’بہانہ وہانہ کچھ نہیں۔ بولو، تم کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘

عطا نے انتہائی نفرت کے ساتھ کہا۔

’’کچھ نہیں۔ ‘‘

طاہرہ نے اپنے ماتھے پر بالوں کی جھالر ایک طرف ہٹائی۔

’’عنایت میرا چاہنے والا ہے۔ بس!‘‘

عطا نے گالی دی۔ عنایت کو موٹی اور طاہرہ کو چھوٹی۔ پھر شور برپا ہو گیا۔ ایک بار پھر وہی کچھ دہرایا گیا۔ جو پہلے کئی بار کہا جا چکا تھا۔ میں نے اور میری بیوی نے بہت ثالثی کی مگر نتیجہ وہی صفر۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے عطا اور طاہرہ دونوں اپنے جھگڑے سے مطمئن نہیں۔ لڑائی کے شعلے ایک دم بھڑکتے تھے اور کوئی مرئی نتیجہ کیے بغیر ٹھنڈے ہو جاتے تھے۔ پھر بھڑکائے جاتے تھے، لیکن ہوتا ہوتا کچھ نہیں تھا۔ میں بہت دیر تک سوچتا رہا کہ عطا اور طاہرہ چاہتے کیا ہیں مگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔ مجھے بڑی الجھن ہورہی تھی۔ دو گھنٹے سے بک بک اور جھک جھک جاری تھی۔ لیکن انجام خدا معلوم کہاں بھٹک رہا تھا۔ تنگ آکر میں نے کہا

’’بھئی، اگر تم دونوں کی آپس میں نہیں نبھ سکتی تو بہتر یہی ہے کہ علیحدہ ہو جاؤ۔ ‘‘

طاہرہ خاموش رہی، لیکن عطا نے چند لمحات غور کرنے کے بعد کہا۔

’’علیحدگی نہیں۔ طلاق!‘‘

طاہرہ چلائی

’’طلاق، طلاق، طلاق۔ دیتے کیوں نہیں طلاق۔ میں کب تمہارے پاؤں پڑی ہوں کہ طلاق نہ دو۔ ‘‘

عطا نے بڑی مضبوط لہجے میں کہا۔

’’دے دوں گا اور بہت جلد۔ ‘‘

طاہرہ نے اپنے ماتھے پر سے بالوں کی جھالر ایک طرف ہٹائی۔

’’آج ہی دو۔ ‘‘

عطا اٹھ کر ٹیلی فون کی طرف بڑھا۔

’’میں قاضی سے بات کرتا ہوں۔ ‘‘

جب میں نے دیکھا کہ معاملہ بگڑ رہا ہے تو اٹھ کر عطا کو روکا

’’بے وقوف نہ بنو۔ بیٹھو آرام سے!‘‘

طاہرہ نے کہا۔

’’نہیں بھائی جان، آپ مت روکیے۔ ‘‘

میری بیوی نے طاہرہ کو ڈانٹا۔

’’بکواس بند کرو۔ ‘‘

’’یہ بکواس صرف طلاق ہی سے بند ہو گی۔ ‘‘

یہ کہہ کر طاہرہ ٹانگ ہلانے لگی۔

’’سن لیا تم نے‘‘

عطا مجھ سے مخاطب ہو کر پھر ٹیلی فون کی طرف بڑھا، لیکن میں درمیان میں کھڑا ہو گیا۔ طاہرہ میری بیوی سے مخاطب ہوئی

’’مجھے طلاق دے کر اس چڈد ایکٹرس سے بیاہ رچائے گا۔ ‘‘

عطا نے طاہرہ سے پوچھا۔

’’اور تو؟‘‘

طاہرہ نے ماتھے پر بالوں کے پسینے میں بھیگی ہوئی جھالر ہاتھ سے اوپر کی۔

’’میں۔ تمہارے اس یوسفِ ثانی عنایت خان سے!‘‘

’’بس اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ حد ہو گئی ہے۔ تم ہٹ جاؤ ایک طرف‘‘

عطا نے ڈائرکٹری اٹھائی اور نمبر دیکھنے لگا۔ جب وہ ٹیلی فون کرنے لگا تو میں نے اسے روکنا مناسب نہ سمجھا۔ اس نے ایک دو مرتبہ ڈائل کیا۔ لیکن نمبر نہ ملا۔ مجھے موقعہ ملا تو میں نے اسے پرزور الفاظ میں کہا کہ اپنے ارادے سے باز رہے۔ میری بیوی نے بھی اس سے درخواست کی مگر وہ نہ مانا۔ اس پر طاہرہ نے کہا۔

’’صفیہ۔ ‘‘

تم کچھ نہ کہو۔ اس آدمی کے پہلو میں دل نہیں پتھر ہے۔ میں تمہیں وہ خط دکھاؤں گی جو شادی سے پہلے اس نے مجھے لکھے تھے۔ اس وقت میں اس کے دل کا فرار اس کی آنکھوں کا نور تھی۔ میری زبان سے نکلا ہوا صرف ایک لفظ اس کے تِن مردہ میں جان ڈالنے کے لیے کافی تھا۔ میرے چہرے کی صرف ایک جھلک دیکھ کر یہ بخوشی مرنے کے لیے تیار تھا۔ لیکن آج اسے میری ذرہ برابر پروا نہیں۔ ‘‘

عطا نے ایک بار پھر نمبر ملانے کی کوشش کی۔ طاہرہ بولتی رہی

’’میرے باپ کی موسیقی سے بھی اسے عشق تھا۔ اس کو فخر تھا کہ اتنا بڑا آرٹسٹ مجھے اپنی دامادی میں قبول کررہا ہے۔ شادی کی منظوری حاصل کرنے کے لیے اس نے ان کے پاؤں تک دابے، پر آج اسے ان کا کوئی خیال نہں۔ ‘‘

عطا ڈائل گھماتا رہا۔ طاہرہ مجھ سے مخاطب ہو۔

’’آپ کو یہ بھائی کہتا ہے، آپ کی عزت کرتا ہے۔ کہتا تھا جو کچھ بھائی جان کہیں گے میں مانوں گا۔ لیکن آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔ ٹیلی فون کررہا ہے قاضی کو۔ مجھے طلاق دینے کے لیے۔ ‘‘

میں نے ٹیلی فون ایک طرف ہٹا دیا۔

’’عطا، اب چھوڑو بھی۔ ‘‘

’’نہیں‘‘

یہ کہہ کر اس نے ٹیلی فون اپنی طرف گھسیٹ لیا۔ طاہرہ بولی

’’جانے دیجیے بھائی جان۔ اس کے دل میں میرا کیا، ٹُوٹُو کا بھی کچھ خیال نہیں!‘‘

عطا تیزی سے پلٹا۔

’’نام نہ لو ٹُو ٹُو کا!‘‘

طاہرہ نے نتھنے پھلا کرکہا۔

’’کیوں نام نہ لوں اس کا۔ ‘‘

عطا نے ریسیور رکھ دیا۔

’’وہ میرا ہے!‘‘

طاہرہ اٹھی کھڑی ہوئی۔

’’جب میں تمہاری نہیں ہوں تو وہ کیسے تمہارا ہو سکتا ہے۔ تم تو اس کا نام بھی نہیں لے سکتے۔ ‘‘

عطا نے کچھ دیر سوچا۔

’’میں سب بندوبست کرلوں گا۔ ‘‘

طاہرہ کے چہرے پر ایک دم زردی چھا گئی۔

’’ٹُو ٹُو کو چھین لو گے مجھ سے؟‘‘

عطا نے بڑے مضبوط لہجے میں جواب دیا۔

’’ہاں۔ ‘‘

’’ظالم۔ ‘‘

طاہرہ کے منہ سے ایک چیخ نکلی۔ بے ہوش کر گرنے والی ہی تھی کہ میری بیوی نے اسے تھام لیا۔ عطا پریشان ہو گیا۔ پانی کے چھینٹے۔ یوڈی کلونم۔ سملنگ سالٹ۔ ڈاکٹروں کو ٹیلی فون۔ اپنے بال نوچ ڈالے، قمیض پھاڑ ڈ الی۔ طاہرہ ہوش میں آئی تو وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر تھپکنے لگا۔

’’جانم ٹوٹو تمہارا ہے۔ ٹوٹو تمہارا ہے۔ ‘‘

طاہرہ نے رونا شروع کردیا۔

’’نہیں وہ تمہارا ہے۔ ‘‘

عطا نے طاہرہ کی آنسوؤں بھری آنکھوں کو چومنا شروع کردیا۔

’’میں تمہارا ہوں۔ تم میری ہو۔ ٹوٹو تمہارا بھی ہے، میرا بھی ہے!‘‘

میں نے اپنی بیوی سے اشارہ کیا۔ وہ باہر نکلی تو میں بھی تھوڑی دیر کے بعد چل دیا۔ ٹیکسی کھڑی تھی، ہم دونوں بیٹھ گئے۔ میری بیوی مسکرا رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا

’’یہ ٹوٹو کون ہے؟‘‘

میری بیوی کھکھلا کر ہنس پڑی۔

’’ان کا لڑکا‘‘

میں نے حیرت سے پوچھا۔

’’لڑکا؟‘‘

میری بیوی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ میں نے اور زیادہ حیرت سے پوچھا

’’کب پیدا ہوا تھا۔ میرا مطلب ہے۔

’’ابھی پیدا نہیں ہوا۔ چوتھے مہینے میں ہے۔ ‘‘

چوتھے مہینے، یعنی اس واقعے کے چار مہینے بعد، میں باہر بالکنی میں بالکی خالی الذہن بیٹھا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی۔ بڑی بے دلی سے اٹھنے والا تھا کہ آواز بند ہو گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد میری بیوی آئی۔ میں نے اس سے پوچھا۔

’’کون تھا۔ ‘‘

’’یزدانی صاحب۔ ‘‘

’’کوئی نئی لڑائی تھی؟‘‘

’’نہیں۔ طاہرہ کے لڑکی ہوئی ہے۔ مری ہوئی‘‘

یہ کہہ کر وہ روتی ہوئی اندر چلی گئی۔ میں سوچنے لگا۔

’’اگر اب طاہرہ اور عطا کا جھگڑا ہوا تو اسے کون ٹُو ٹُو چکائے گا۔ ؟‘‘

سعادت حسن منٹو

ٹوبہ ٹیک سنگھ

بٹوارے کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کی طرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہیے یعنی جو مسلمان پاگل، ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انھیں پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو اور سکھ، پاکستان کے پاگل خانوں میں ہیں انھیں ہندوستان کے حوالے کردیا جائے۔ معلوم نہیں یہ بات معقول تھی یا غیر معقول، بہر حال دانش مندوں کے فیصلے کے مطابق ادھر ادھر اونچی سطح کی کانفرنسیں ہوئیں اور بالآخر ایک دن پاگلوں کے تبادلے کے لیے مقرر ہو گیا۔ اچھی طرح چھان بین کی گئی۔ وہ مسلمان پاگل جن کے لواحقین ہندوستان ہی میں تھے۔ وہیں رہنے دیے گئے تھے۔ جو باقی تھے، ان کو سرحد پر روانہ کردیا گیا۔ یہاں پاکستان میں چونکہ قریب قریب تمام ہندو، سکھ جا چکے تھے اسی لیے کسی کو رکھنے رکھانے کا سوال ہی نہ پیدا ہوا۔ جتنے ہندو، سکھ پاگل تھے سب کے سب پولیس کی حفاظت میں بارڈرپر پہنچا دیے گئے۔ ادھر کا معلوم نہیں، لیکن ادھر لاہور کے پاگل خانے میں جب اس تبادلے کی خبر پہنچی تو بڑی دلچسپ چہ مے گوئیاں ہونے لگیں۔ ایک مسلمان پاگل جو بارہ برس سے ہر روز باقاعدگی کے ساتھ

’’زمیندار‘‘

پڑھتا تھا، اس سے جب اس کے ایک دوست نے پوچھا۔

’’مولبی ساب! یہ پاکستان کیا ہوتا ہے؟‘‘

تو اس نے بڑے غور و فکر کے بعد جواب دیا۔

’’ہندوستان میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں استرے بنتے ہیں۔ ‘‘

یہ جواب سن کر اس کا دوست مطمئن ہو گیا۔ اسی طرح ایک سکھ پاگل نے ایک دوسرے سکھ پاگل سے پوچھا۔

’’سردار جی ہمیں ہندوستان کیوں بھیجا رہا ہے۔ ہمیں تو وہاں کی بولی نہیں آتی۔ ‘‘

دوسرا مسکرایا۔

’’مجھے تو ہندوستوڑوں کی بولی آتی ہے۔ ہندوستانی بڑے شیطانی، اکڑ اکڑ پھرتے ہیں۔ ‘‘

ایک دن نہاتے نہاتے ایک مسلمان پاگل نے

’’پاکستان زندہ باد‘‘

کا نعرہ اس زور سے بلند کیا کہ فرش پر پھسل کر گرا اور بے ہوش ہو گیا۔ بعض پاگل ایسے بھی تھے جو پاگل نہیں تھے۔ ان میں اکثریت ایسے قاتلوں کی تھی جن کے رشتہ داروں نے افسروں کو دے دلا کر، پاگل خانے بھجوا دیا تھا کہ پھانسی کے پھندے سے بچ جائیں۔ یہ کچھ کچھ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کیوں تقسیم ہوا ہے اور یہ پاکستان کیا ہے۔ لیکن صحیح واقعات سے وہ بھی خبر تھے۔ اخباروں سے کچھ پتا نہیں چلتا تھا اور پہرہ دار سپاہی ان پڑھ اور جاہل تھے۔ ان کی گفتگوؤں سے بھی وہ کوئی نتیجہ برآمد نہیں کرسکتے تھے۔ ان کو صرف اتنا معلوم تھا کہ ایک آدمی محمد علی جناح ہے جس کو قائداعظم کہتے ہیں۔ اس نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ملک بنایا ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ یہ کہاں ہے، اس کا محل وقوع کیا ہے، اس کے متعلق وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاگل خانے میں وہ سب پاگل جن کا دماغ پوری طرح ماؤف نہیں ہوا تھا، اس مخصمے میں گرفتار تھے کہ وہ پاکستان میں ہیں یا ہندوستان میں۔ اگرہندوستان میں ہیں تو پاکستان کہاں ہے! اگر وہ پاکستان میں ہیں تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ عرصے پہلے یہیں رہتے ہوئے بھی ہندوستان میں تھے! ایک پاگل تو پاکستان اور ہندوستان۔ اور ہندوستان اور پاکستان کے چکر میں کچھ ایسا گرفتار ہوا کہ اور زیادہ پاگل ہو گیاجھاڑو دیتے ایک دن درخت پر چڑھ گیا اور ٹہنے پر بیٹھ کر دو گھنٹے مسلسل تقریر کرتا رہا جو پاکستان اور ہندوستان کے نازک مسئلے پر تھی۔ سپاہیوں نے اسے نیچے اترنے کو کہا تووہ اور اوپر چڑھ گیا۔ ڈرایا دھمکایا گیا تو اس نے کہا۔

’’میں ہندوستان میں رہنا چاہتا ہوں نہ پاکستان میں۔ میں اس درخت پر ہی رہوں گا۔ ‘‘

بڑی مشکلوں کے بعد جب اس کا دورہ سرد پڑا تو وہ نیچے اترا اور اپنے ہندو سکھ دوستوں سے گلے مل مل کر رونے لگا۔ اس خیال سے اس کا دل بھر آیا تھا کہ وہ اسے چھوڑکر ہندوستان چلے جائیں گے۔ ایک ایم۔ ایس۔ سی پاس ریڈیو انجنیئر میں جو مسلمان تھا اور دوسرے پاگلوں سے بالکل الگ تھلگ، باغ کی ایک خاص روش پر، سارا دن خاموش ٹہلتا رہتا تھا، یہ تبدیلی نمودار ہوئی کہ اس نے تمام کپڑے اتار کر دفعدار کے حوالے کردیے اور ننگ دھڑنگ سارے باغ میں چلنا پھرنا شروع کردیا۔ چنیوٹ کے ایک موٹے مسلمان پاگل نے جو مسلم لیگ کا سرگرم کارکن رہ چکا تھا اور دن میں پندرہ سو مرتبہ نہایا کرتا تھا، یک لخت یہ عادت ترک کردی۔ اس کا نام محمد علی تھا۔ چنانچہ اس نے ایک دن اپنے جنگلے میں اعلان کردیا کہ وہ قائداعظم محمد علی جناح ہے۔ اس کی دیکھا دیکھی ایک سکھ پاگل ماسٹر تارا سنگھ بن گیا۔ قریب تھا کہ اس جنگلے میں خون خرابہ ہو جائے مگر دونوں کو خطرناک پاگل قرار دے کر علیحدہ علیحدہ بند کردیا گیا۔ لاہور کا ایک نوجوان ہندووکیل تھا جو محبت میں ناکام ہو کر پاگل ہو گیا تھا۔ جب اس نے سنا کہ امرتسر ہندوستان میں چلا گیا ہے تو اسے بہت دکھ ہوا۔ اسی شہر کی ایک ہندو لڑکی سے اسے محبت ہوئی تھی۔ گو اس نے اس وکیل کو ٹھکرا دیا تھا، مگر دیوانگی کی حالت میں بھی وہ اس کو نہیں بھولا تھا۔ چنانچہ وہ ان تمام ہندو اور مسلم لیڈروں کو گالیاں دیتا تھا جنہوں نے مل ملا کر ہندوستان کے دو ٹکڑے کردیے۔ اس کی محبوبہ ہندوستانی بن گئی اور وہ پاکستانی۔ جب تبادلے کی بات شروع ہوئی تووکیل کو کئی پاگلوں نے سمجھایا کہ وہ دل برا نہ کرے، اس کوہندوستان بھیج دیا جائے گا۔ اس ہندوستان میں جہاں اس کی محبوبہ رہتی ہے۔ مگر وہ لاہور چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اس لیے کہ اس کا خیال تھا کہ امرتسر میں اس کی پریکٹس نہیں چلے گی۔ یورپین وارڈ میں اینگلو انڈین پاگل تھے۔ ان کو جب معلوم ہوا کہ ہندوستان کو آزاد کرکے انگریز چلے گئے ہیں تو ان کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ چھپ چھپ کر گھنٹوں آپس میں اس اہم مسئلے پر گفتگو کرتے رہتے کہ پاگل خانے میں اب ان کی حیثیت کس قسم کی ہو گی۔ یورپین وارڈ رہے گا یا اڑا دیا جائے گا۔ بریک فاسٹ ملا کرے گا یا نہیں۔ کیا انھیں ڈبل روٹی کے بجائے بلڈی انڈین چپاتی تو زہر مار نہیں کرنا پڑے گی۔ ایک سکھ تھا جس کو پاگل خانے میں داخل ہوئے پندرہ برس ہو چکے تھے۔ ہر وقت اس کی زبان سے یہ عجیب وغریب الفاظ سننے میں آتے تھے۔

’’اوپڑدی گڑگڑدی انیکس دی بے دھیانادی منگ دی دال اف دی لالٹین۔ ‘‘

دیکھتا تھا رات کو۔ پہرہداروں کا یہ کہنا تھا کہ پندرہ برس کے طویل عرصے میں وہ ایک لحظے کے لیے بھی نہیں سویا۔ لیٹا بھی نہیں تھا۔ البتہ کبھی کبھی کسی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لیتا تھا۔ ہر وقت کھڑا رہنے سے اس کے پاؤں سوج گئے تھے۔ پنڈلیاں بھی پھول گئی تھیں، مگر اس جسمانی تکلیف کے باوجود لیٹ کر آرام نہیں کرتا تھا۔ ہندوستان، پاکستان اور پاگلوں کے تبادلے کے متعلق جب کبھی پاگل خانے میں گفتگو ہوتی تھی وہ غور سے سنتا تھا۔ کوئی اس سے پوچھتا تھا کہ اس کا کیا خیال ہے تو وہ بڑی سنجیدگی سے جواب دیتا۔

’’اوپڑدی گڑ گڑ دی انیکس دی بے دھیانا دی منگ دی وال آف دی پاکستان گورنمنٹ۔ ‘‘

لیکن بعد میں

’’آف دی پاکستان گورنمنٹ‘‘

کی جگہ

’’اوف دی ٹوبہ ٹیک سنگھ گورنمنٹ‘‘

نے لی لی اور اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے جہاں کا وہ رہنے والا ہے۔ لیکن کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں۔ جو بتانے کی کوشش کرتے تھے، خود اس الجھاؤ میں گرفتار ہو جاتے تھے کہ سیالکوٹ پہلے ہندوستان میں ہوتا تھا پر اب سنا ہے کہ پاکستان میں ہے، کیا پتہ ہے کہ لاہور جواب پاکستان میں ہے کل ہندوستان میں چلا جائے۔ یا سارا ہندوستان ہی پاکستان بن جائے اور یہ بھی کون سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کسی دن سرے سے غائب ہی ہو جائیں۔ اس سکھ پاگل کے کیس چھدرے ہو کر بہت مختصر رہ گئے تھے۔ چونکہ بہت کم نہاتا تھا، اس لیے داڑھی اور سر کے بال آپس میں جم گئے تھے، جس کے باعث اس کی شکل بڑی بھیانک ہو گئی تھی۔ مگر آدمی بے ضرر تھا۔ پندرہ برسوں میں اس نے کبھی کسی سے جھگڑا فساد نہیں کیا تھا۔ پاگل خانے کے جو پرانے ملازم تھے، وہ اس کے متعلق جانتے تھے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اس کی کئی زمینیں تھیں۔ اچھا کھاتا پیتا زمیندار تھا کہ اچانک دماغ الٹ گیا۔ اس کے رشتہ دار لوہے کی موٹی موٹی زنجیروں میں اسے باندھ کر لا ئے اور پاگل خانے میں داخل کرا گئے۔ مہینے میں ایک بارملاقات کے لیے یہ لوگ آتے تھے اور اس کی خیر خیریت دریافت کرکے چلے جاتے تھے۔ ایک مدت تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پر جب پاکستان، ہندوستان کی گڑبڑ شروع ہوئی تو ان کا آنا بند ہو گیا۔ اس کا نام بشن سنگھ تھا مگر اسے ٹوبہ ٹیک سنگھ کہتے تھے۔ اس کو یہ قطعاً معلوم نہیں تھا کہ دن کون سا ہے، مہینہ کون سا ہے یا کتنے سال بیت چکے ہیں۔ لیکن ہر مہینے جب اس کے عزیز و اقارب اس سے ملنے کے لیے آتے تھے تو اسے اپنے آپ پتہ چل جاتا تھا۔ چنانچہ وہ دفعدار سے کہتا کہ اس کی ملاقات آرہی ہے۔ اس دن وہ اچھی طرح نہاتا، بدن پر خوب صابن گھستا اور سر میں تیل لگا کر کنگھا کرتا، اپنے کپڑے جو وہ کبھی استعمال نہیں کرتا تھا، نکلوا کے پہنتا اور یوں سج کر ملنے والوں کے پاس جاتا۔ وہ اس سے کچھ پوچھتے تو وہ خاموش رہتا یا کبھی کبھار

’’اوپر دی گڑگڑ دی انیکس دی بے دھیانا دی منگ دی وال آف دی لالٹین‘‘

کہہ دیتا۔ اس کی ایک لڑکی تھی جوہر مہینے ایک انگلی بڑھتی بڑھتی پندرہ برسوں میں جوان ہو گئی تھی۔ بشن سنگھ اس کو پہچانتا ہی نہیں تھا۔ وہ بچی تھی جب بھی اپنے باپ کو دیکھ کر روتی تھی، جوان ہوئی تب بھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے۔ پاکستان اور ہندوستان کا قصہ شروع ہوا تو اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔ جب اطمینان بخش جواب نہ ملا تو اس کی کرید دن بدن بڑھتی گئی۔ اب ملاقات بھی نہیں آتی تھی۔ پہلے تو اسے اپنے آپ پتہ چل جاتا تھا کہ ملنے والے آرہے ہیں، پر اب جیسے اس کے دل کی آواز بھی بند ہو گئی تھی جو اسے ان کی آمد کی خبر دے دیا کرتی تھی۔ اس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ لوگ آئیں جو اس سے ہمدردی کا اظہار کرتے تھے اور اس کے لیے پھل، مٹھائیاں اور کپڑے لاتے تھے۔ وہ اگر ان سے پوچھتا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ تو وہ اسے یقیناً بتا دیتے کہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ہی سے آتے ہیں، جہاں اس کی زمینیں ہیں۔ پاگل خانے میں ایک پاگل ایسا بھی تھا جو خود کو خدا کہتا تھا۔ اس سے جب ایک روز بشن سنگھ نے پوچھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں تو اس نے حسب عادت قہقہہ لگایا اور کہا

’’وہ پاکستان میں ہے نہ ہندوستان میں۔ اس لیے کہ ہم نے ابھی تک حکم نہیں دیا۔ ‘‘

بشن سنگھ نے اس خدا سے کئی مرتبہ منت سماجت سے کہا کہ وہ حکم دیدے تاکہ جھنجھٹ ختم ہو، مگر وہ بہت مصروف تھا اس لیے کہ اسے اور بے شمار حکم دینے تھے۔ ایک دن تنگ آکر وہ اس پر برس پڑا:

’’اوپڑ دی گڑ گڑ دی انیکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف واہے گورجی دا خالصہ اینڈ واہے گوروجی کی فتح۔ جو بولے سونہال، ست سری اکال۔ ‘‘

اس کا شاید یہ مطلب تھا کہ تم مسلمان کے خدا ہو۔ سکھوں کے خدا ہوتے تو ضرور میری سنتے۔ تبادلے سے کچھ دن پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ایک مسلمان جو اس کا دوست تھا، ملاقات کے لیے آیا۔ پہلے وہ کبھی نہیں آیا تھا۔ جب بشن سنگھ نے اسے دیکھا تو ایک طرف ہٹ گیا اور واپس جانے لگا، مگر سپاہیوں نے اسے روکا۔

’’یہ تم سے ملنے آیا ہے۔ تمہارا دوست فضل دین ہے۔ ‘‘

بشن سنگھ نے فضل دین کو ایک نظر دیکھا اور کچھ بڑبڑانے لگا۔ فضل دین نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا‘‘

میں بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ تم سے ملوں لیکن فرصت ہی نہ ملی۔ تمہارے سب آدمی خیریت سے ہندوستان چلے گئے۔ مجھ سے جتنی مدد ہوسکی، میں نے کی۔ تمہاری بیٹی روپ کور۔ ‘‘

وہ کچھ کہتے کہتے روک گیا۔ بشن سنگھ کچھ یاد کرنے لگا۔

’’بیٹی روپ کور!‘‘

فضل دین نے رک رک کر کہا

’’ہاں۔ وہ۔ وہ بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔ ان کے ساتھ ہی چلی گئی۔ ‘‘

بشن سنگھ خاموش رہا۔ فضل دین نے کہنا شروع کیا

’’انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہاری خیر خیریت پوچھتا رہوں۔ اب میں نے سنا ہے کہ تم ہندوستان جارہے ہو۔ بھائی بلبیر سنگھ اور بھائی ودھاوا سنگھ سے میرا سلام کہنا۔ اور بہن امرت کور سے بھی۔ بھائی بلبیر سے کہنا فضل دین راضی خوشی ہے۔ دو بھوری بھینسیں جو وہ چھوڑ گئے تھے، ان میں سے ایک نے کٹا دیا ہے۔ اور دوسری کے کٹی ہوئی تھی پر وہ چھ دن کی ہو کے مر گئی۔ اور۔ میرے لائق جو خدمت ہو کہنا، میں ہر وقت تیار ہوں۔ اور یہ تمہارے لیے تھوڑے سے مرونڈے لایا ہوں۔ ‘‘

بشن سنگھ نے مرونڈوں کی پوٹلی لے کر پاس کھڑے سپاہی کے حوالے کردی اور فضل دین سے پوچھا۔

’’ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟‘‘

فضل دین نے قدرے حیرت سے کہا۔

’’کہاں ہے۔ وہیں ہے جہاں تھا۔ ‘‘

بشن سنگھ نے پھر پوچھا۔

’’پاکستان میں یا ہندوستان میں؟‘‘

’’ہندوستان میں۔ نہیں نہیں، پاکستان میں۔ ‘‘

فضل دین بوکھلا سا گیا۔ بشن سنگھ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔

’’اوپڑ دی گڑ گڑ دی انیکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی درفٹے منہ۔ ‘‘

تبادلے کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آنے والے پاگلوں کی فہرستیں پہنچ گئی تھیں اور تبادلے کا دن بھی مقرر ہو چکا تھا۔ سخت سردیاں تھیں، جب لاہور کے پاگل خانے سے ہندو، سکھ پاگلوں سے بھری ہوئی لاریاں پولیس کے محافظ د ستے کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ متعلقہ افسر بھی ہمراہ تھے۔ واہگہ کے بارڈر پر طرفین کے سپرنٹنڈنٹ ایک دوسرے سے ملے اور ابتدائی کارروائی ختم ہونے کے بعد تبادلہ شروع ہو گیا جو رات بھر جاری رہا۔ پاگلوں کو لاریوں سے نکالنا اور ان کو دوسرے افسروں کے حوالے کرنا بڑا کٹھن کام تھا۔ بعض تو باہر نکلتے ہی نہیں تھے۔ جو نکلنے پررضا مند ہوئے تھے، ان کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا کیوں کہ ادھر ادھر بھاگ اٹھتے تھے، جو ننگے تھے، ان کو کپڑے پہنائے جاتے وہ پھاڑ کر اپنے تن سے جدا کردیتے۔ کوئی گالیاں بک رہا ہے۔ کوئی گا رہا ہے۔ آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ رو رہے ہیں، بلک رہے ہیں۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ پاگل عورتوں کا شور و غوغا الگ تھا اور سردی اتنی کڑاکے کی تھی کہ دانت سے دانت بج رہے تھے۔ پاگلوں کی اکثریت اس تبادلے کے حق میں نہیں تھی، اس لے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ انھیں اپنی جگہ سے اکھاڑ کر یہاں پھینکا جارہا ہے۔ وہ چند جو کچھ سوچ سمجھ سکتے تھے۔

’’پاکستان زندہ باد‘‘

اور

’’پاکستان مردہ باد‘‘

کے نعرے لگا رہے تھے۔ دو تین مرتبہ فساد ہوتے ہوتے بچا کیوں کہ بعض مسلمانوں اور سکھوں کو یہ نعرہ سن کر طیش آگیا تھا۔ جب بشن سنگھ کی باری آئی اور واہگہ کے اس پار متعلقہ افسر اس کا نام رجسٹر میں درج کرنے لگا تو اس نے پوچھا۔

’’ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔ پاکستان میں یا ہندوستان میں؟‘‘

متعلقہ افسر ہنسا۔

’’پاکستان میں۔ ‘‘

یہ سن کر بشن سنگھ اچھی کر ایک طرف ہٹا اور دوڑ کر اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا۔ پاکستانی سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور دوسری طرف لے جانے لگے، مگر اس نے چلنے سے انکار کردیا:

’’ٹوبہ ٹیک سنگھ یہاں ہے۔ ‘‘

اور زور زور سے چلانے لگا۔

’’اوپڑ دی گڑ گڑ دی انیکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان۔ ‘‘

اسے بہت سمجھایا گیا کہ دیکھو اب ٹوبہ ٹیک سنگھ ہندوستان میں چلا گیا ہے۔ اگر نہیں گیا تو اسے فوراً وہاں بھیج دیا جائے گا، مگر وہ نہ مانا۔ جب اس کو زبردستی دوسری طرف لے جانے کی کوشش کی گئی تو وہ درمیان میں ایک جگہ اس انداز میں اپنی سوجی ہوئی ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا جیسے اب اسے کوئی طاقت وہاں سے نہیں بلا سکے گی۔ آدمی چونکہ بے ضرر تھا اس لیے اس سے مزید زبردستی نہ کی گئی۔ اس کو وہیں کھڑا رہنے دیا گیا اور تبادلے کا باقی کام ہوتا رہا۔ سورج نکلنے سے پہلے ساکت وصامت بشن سنگھ کے حلق سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی۔ ادھر ادھر سے کئی افسر دوڑے آئے اور دیکھا کہ وہ آدمی جو پندرہ برس تک دن رات اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہا تھا، اوندھے منہ لیٹا ہے۔ ادھر خار دار تاروں کے پیچھے ہندوستان تھا۔ ادھر ویسے ہی تاروں کے پیچھے پاکستان۔ درمیان میں زمین کے اس ٹکڑے پر جس کا کوئی نام نہیں تھا، ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑا تھا!

سعادت حسن منٹو

وہ لڑکی

سوا چار بج چکے تھے لیکن دھوپ میں وہی تمازت تھی جو دوپہر کو بارہ بجے کے قریب تھی۔ اس نے بالکنی میں آکر باہر دیکھا تو اسے ایک لڑکی نظر آئی جو بظاہر دھوپ سے بچنے کے لیے ایک سایہ دار درخت کی چھاؤں میں آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی۔ اس کا رنگ گہرا سانولا تھا۔ اتنا سانولا کہ وہ درخت کی چھاؤں کا ایک حصہ معلوم ہوتا تھا۔ سریندر نے جب اس کو دیکھا تو اس نے محسوس کیا کہ وہ اس کی قربت چاہتا ہے، حالانکہ وہ اس موسم میں کسی کی قربت کی بھی خواہش نہ کرسکتا تھا۔ موسم بہت واہیات قسم کا تھا۔ سوا چار بج چکے تھے۔ سورج غروب ہونے کی تیاریاں کررہا تھا۔ لیکن موسم نہایت ذلیل تھا۔ پسینہ تھا کہ چومٹا جارہا تھا۔ خدا معلوم کہاں سے مساموں کے ذریعے اتنا پانی نکل رہا تھا۔ سریندر نے کئی مرتبہ غور کیا تھا کہ پانی اس نے زیادہ سے زیادہ چار گھنٹوں میں صرف ایک گلاس پیا ہو گا مگر پسینہ بلامبالغہ چار گلاس نکلا ہو گا۔ آخر یہ کہاں سے آیا! جب اس نے لڑکی کو درخت کی چھاؤں میں آلتی پالتی مارے دیکھا تو اس نے سوچا کہ دنیا میں سب سے خوش یہی ہے جسے دھوپ کی پرواہ ہے نہ موسم کی۔ سریندر پسینے میں لت پت تھا۔ اس کی بنیان اس کے جسم کے ساتھ بہت بری طرح چمٹی ہوئی تھی۔ وہ کچھ اس طرح محسوس کررہا تھا جیسے اس کے بدن پر کسی نے موبل آئل مل دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود جب اس نے درخت کی چھاؤں میں بیٹھی ہوئی لڑکی کو دیکھا تو اس کے جسم میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اس کے پسینے کے ساتھ گھل مل جائے، اس کے مساموں کے اندر داخل ہو جائے۔ آسمان خاکستری تھا۔ کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ بادل ہیں یا محض گردوغبار۔ بہر حال، اس گردوغبار یا بادلوں کے باوجود دھوپ کی جھلک موجود تھی اور وہ لڑکی بڑے اطمینان سے پیپل کی چھاؤں میں بیٹھی سستا رہی تھی۔ سریندر نے اب کی غور سے اس کی طرف دیکھا۔ اس کا رنگ گہرا سانولا مگر نقش بہت تیکھے کہ وہ سریندر کی آنکھوں میں کئی مرتبہ چبھے۔ مزدور پیشہ لڑکی معلوم ہوتی تھی۔ یہ بھی ممکن تھا کہ بھکارن ہو۔ لیکن سریندر اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کرسکا تھا۔ اصل میں وہ یہ فیصلہ کررہا تھاکہ آیا اس لڑکی کو اشارہ کرنا چاہیے یا نہیں۔ گھر میں وہ بالکل اکیلا تھا۔ اس کی بہن مری میں تھی۔ ماں بھی اس کے ساتھ تھی۔ باپ مر چکا تھا۔ ایک بھائی، اس سے چھوٹا، وہ بورڈنگ میں رہتا تھا۔ سریندر کی عمر ستائس اٹھائیس سال کے قریب تھی۔ اس سے قبل وہ اپنی دو ادھیڑ عمر کی نوکرانیوں سے دو تین مرتبہ سلسلہ لڑا چکا تھا۔ معلوم نہیں کیوں، لیکن موسم کی خرابی کے باوجود سریندر کے دل میں یہ خواہش ہورہی تھی کہ وہ پیپل کی چھاؤں میں بیٹھی ہوئی لڑکی کے پاس جائے یا اسے اوپر ہی سے اشارہ کرے تاکہ وہ اس کے پاس آجائے، اور وہ دونوں ایک دوسرے کے پسینے میں غوطہ لگائیں اور کسی نامعلوم جزیرے میں پہنچ جائیں۔ سریندر نے بالکنی کے کٹہرے کے پاس کھڑے ہو کر زور سے کھنکارا مگر لڑکی متوجہ نہ ہوئی۔ سریندر نے جب کئی مرتبہ ایسا کیا اور کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا تو اس نے آواز دی۔

’’ارے بھئی۔ ذرا ادھر دیکھو!‘‘

مگر لڑکی نے پھر بھی اس کی طرف نہ دیکھا۔ وہ اپنی پنڈلی کھجلاتی رہی۔ سریندر کو بہت الجھن ہوئی۔ اگر لڑکی کی بجائے کوئی کتا ہوتا تو وہ یقیناً اس کی آواز سن کر اس کی طرف دیکھتا۔ اگر اسے اس کی یہ آواز ناپسند ہوتی تو بھونکتا مگر اس لڑکی نے جیسے اس کی آواز سنی ہی نہیں تھی۔ اگر سنی تھی تو ان سنی کردی تھی۔ سریندر دل ہی دل میں بہت خفیف ہورہا تھا۔ اس نے ایک بار بلند آواز میں اس لڑکی کو پکارا۔

’’اے لڑکی!‘‘

لڑکی نے پھر بھی اس کی طرف نہ دیکھا۔ جھنجھلا کر اس نے اپنا ململ کا کرتا پہنا اور نیچے اترا۔ جب اس لڑکی کے پاس پہنچا تو وہ اسی طرح اپنی ننگی پنڈلی کھجلا رہی تھی۔ سریندر اس کے پاس کھڑا ہو گیا۔ لڑکی نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور شلوار نیچی کرکے اپنی پنڈلی ڈھانپ لی۔ سریندر نے اس سے پوچھا۔

’’تم یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘

لڑکی نے جواب دیا۔

’’بیٹھی ہوں۔ ‘‘

’’کیوں بیٹھی ہو؟‘‘

لڑکی اٹھ کھڑی ہوئی۔

’’لو، اب کھڑی ہو گئی ہوں!‘‘

سریندر بوکھلا گیا۔

’’اس سے کیا ہوتا ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ تم اتنی دیر سے یہاں بیٹھی کیا کررہی تھیں؟‘‘

لڑکی کا چہرہ اور زیادہ سنولا ہو گیا۔

’’تم چاہتے کیا ہو؟‘‘

سریندر نے تھوڑی دیر اپنے دل کو ٹٹولا۔

’’میں کیا چاہتا ہوں۔ میں کچھ نہیں چاہتا۔ میں گھر میں اکیلا ہوں۔ اگر تم میرے ساتھ چلو تو بڑی مہربانی ہو گی۔ ‘‘

لڑکی کے گہرے سانولے ہونٹوں پر عجیب و غریب قسم کی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

’’مہربانی۔ کاہے کی مہربانی۔ چلو!‘‘

اور دونوں چل دیے۔ جب اوپر پہنچے تو لڑکی صوفے کی بجائے فرش پر بیٹھ گئی اور اپنی پنڈلی کھجلانے لگی۔ سریندر اس کے پاس کھڑا سوچتا رہا کہ اب اسے کیا کرنا چاہیے۔ اس نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ خوبصورت نہیں تھی۔ لیکن اس میں وہ تمام قوسیں اور وہ تمام خطوط موجود تھے جو ایک جوان لڑکی میں موجود ہوتے ہیں۔ اس کے کپڑے میلے تھے، لیکن اس کے باوجود اس کا مضبوط جسم اس کے باہر جھانک رہا تھا۔ سریندر نے اس سے کہا۔

’’یہاں کیوں بیٹھی ہو۔ ادھر صوفے پر بیٹھ جاؤ!‘‘

لڑکی نے جواب میں صرف اس قدر کہا۔

’’نہیں!‘‘

سریندر اس کے پاس فرش پر بیٹھ گیا۔

’’تمہاری مرضی۔ لو اب یہ بتاؤ کہ تم کون ہو اور درخت کے نیچے تم اتنی دیر سے کیوں بیٹھی تھیں؟‘‘

’’میں کون ہوں اور درخت کے نیچے میں کیوں بیٹھی تھی۔ اس سے تمہیں کوئی مطلب نہیں۔ ‘‘

لڑکی نہ یہ کہہ کر اپنی شلوار کا پائنچہ نیچے کرلیا اور پنڈلی کھجلانا بند کردی۔ سریندر اس وقت اس لڑکی کی جوانی کے متعلق سوچ رہا تھا۔ وہ اس کا اور ان دو ادھیڑ عمر کی نوکرانیوں کا مقابلہ کررہا تھا جن سے اس کا دو تین مرتبہ سلسلہ ہو چکا تھا۔ وہ محسوس کررہا تھا کہ وہ اس لڑکی کے مقابلے میں ڈھیلی ڈھالی تھیں، جیسے برسوں کی استعمال کی ہوئی سائیکلیں۔ لیکن اس کا ہر پرزہ اپنی جگہ پر کسا ہوا تھا۔ سریندر نے ان ادھیڑ عمر کی نوکرانیوں سے اپنی طرف سے کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ خود اس کو کھینچ کر اپنی کوٹھڑیوں میں لے جاتی تھیں۔ مگر سریندر اب محسوس کرتا تھا کہ یہ سلسلہ اس کو اب خود کرنا پڑے گا، حالانکہ اس کی تکنیک سے قطعات ناواقف تھا۔ بہر حال۔ اس نے اپنے ایک بازہ کو تیار کیا اور اسے لڑکی کی عمر میں حمائل کردیا۔ لڑکی نے ایک زور کا جھٹکا دیا۔

’’یہ کیا کررہے ہو تم؟‘‘

سریندر ایک بار پھر بوکھلاگیا۔

’’میں۔ میں۔ کچھ بھی نہیں۔ ‘‘

لڑکی کے گہرے سانولے ہونٹوں پر عجیب قسم کی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

’’آرام سے بیٹھے رہو!‘‘

سریندر آرام سے بیٹھ گیا۔ مگر اس کے سینے میں ہلچل اور زیادہ بڑھ گئی۔ چنانچہ اس نے ہمت سے کام لے کر لڑکی کو پکڑ کر اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔ لڑکی نے بہت ہاتھ پاؤں مارے، مگر سریندر کی گرفت مضبوط تھی۔ وہ فرش پر چت گر پڑی۔ سریندر اس کے اوپر تھا۔ اس نے دھڑاد ھڑ اس کے گہرے سانولے ہونٹ چومنے شروع کردیے۔ لڑکی بے بس تھی۔ سریندر کا بوجھ اتنا تھا کہ وہ اسے اٹھا کر پھینک نہیں سکتی تھی۔ بوجہ مجبوری وہ اس کے گیلے بوسے برداشت کرتی رہی۔ سریندر نے سمجھا کہ وہ رام ہو گئی ہے، چنانچہ اس نے مزید دراز دستی شروع کی۔ اس کی قمیض کے اندر ہاتھ ڈالا۔ وہ خاموش رہی۔ اس نے ہاتھ پاؤں چلانے بند کردیے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس نے مدافعت کو اب فضول سمجھا ہے۔ سریندر کو اب یقین ہو گیا کہ میدان اسی کے ہاتھ رہے گا، چنانچہ اس نے دراز دستی چھوڑ دی اور اس سے کہا۔

’’چلو آؤ، پلنگ پر لیٹتے ہیں۔ ‘‘

لڑکی اٹھی اور اس کے ساتھ چل دی۔ دونوں پلنگ پر لیٹ گئی۔ ساتھ ہی تپائی پر ایک طشتری میں چند مالٹے اور ایک تیز چھری پڑی تھی۔ لڑکی نے ایک مالٹا ا ٹھایا اور سریندر سے پوچھا۔

’’میں کھالوں؟‘‘

’’ہاں ہاں۔ ایک نہیں سب کھالو!‘‘

سریندر نے چھری اٹھائی اور مالٹا چھیلنے لگا، مگر لڑکی نے اس سے دونوں چیزیں لے لیں۔

’’میں خود چھیلوں گی!‘‘

اس نے بڑی نفاست سے مالٹا چھیلا۔ اس کے چھلکے اتارے۔ پھانکوں پر سے سفید سفید جھلی ہٹائی۔ پھر پھانکیں علیحدہ کیں۔ ایک پھانک سریندر کو دی، دوسری اپنے منہ میں ڈالی اور مزہ لیتے ہوئے پوچھا۔

’’تمہارے پاس پستول ہے؟‘‘

سریندر نے جواب دیا۔

’’ہاں۔ تمہیں کیا کرنا ہے؟‘‘

لڑکی کے گہرے سانولے ہونٹوں پر پھر وہی عجیب و غریب مسکراہٹ نمودار ہوئی

’’میں نے ایسے ہی پوچھا تھا۔ تم جانتے ہو نا کہ آج کل ہندو مسلم فساد ہورہے ہیں۔ ‘‘

سریندر نے دوسرا مالٹا طشتری میں سے اٹھایا۔

’’آج سے ہورہے ہیں۔ بہت دنوں سے ہورہے ہیں۔ میں اپنے پستول سے چار مسلمان مار چکا ہوں۔ بڑے خونی قسم کے!‘‘

’’سچ؟‘‘

یہ کہہ کر لڑکی اٹھ کھڑی ہوئی۔

’’مجھے ذرا وہ پستول تو دکھانا!‘‘

سریندر اٹھا۔ دوسرے کمرے میں جا کر اس نے اپنے میز کا دراز کھولا اور پستول لے کر باہر آیا۔

’’یہ لو۔ لیکن ٹھہرو!‘‘

اور اس نے پستول کا سیفٹی کیچ ٹھیک کردیا کیوں کہ اس میں گولیاں بھری تھیں۔ لڑکی نے پستول پکڑا اور سریندر سے کہا۔

’’میں بھی آج ایک مسلمان ماروں گی‘‘

یہ کہہ کر اس نے سیفٹی کیچ کو ایک طرف کیا اور سریندر پر پستول داغ دیا۔ وہ فرش پر گر پڑا اور جان کنی کی حالت میں کراہنے لگا۔

’’یہ تم نے کیا کیا؟‘‘

لڑکی کے گہرے سانولے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

’’وہ چار مسلمان جو تم نے مارے تھے، ان میں میرا باپ بھی تھا۔ !‘‘

سعادت حسن منٹو

وہ خط جو پوسٹ نہ کیے گئے

حوا کی ایک بیٹی کے چند خطوط جو اس نے فرصت کے وقت محلے کے چند لوگوں کو لکھے۔ مگر اُن وجوہ کی بنا پر پوسٹ نہ کیے گئے جو اِن خطوط میں نمایاں نظر آتی ہیں۔ (نام اور مقام فرضی ہیں) پہلا خط مسز کرپلانی کے نام خاتونِ مکّرم آداب عرض۔ معاف فرمائیے گا۔ میں یہ سطور بغیر تعارف کے لکھ رہی ہُوں۔ مگر مجھے چند ضروری باتیں آپ سے کہنا ہیں۔ آپ کو میں ایک عرصے سے جانتی ہُوں۔ ہر روز صبح ساڑھے آٹھ بجے جب میں بسترسے اُٹھ کر بالکنی میں آتی ہُوں۔ تو آپ کو بازار میں سیر سے واپس آتے دیکھا کرتی ہوں۔ مجھے تعجب ہے کہ مسٹر کرپلانی جنھیں ساڑھے آٹھ بجے گھر سے دفتر پہنچنے کے لیے نکل جانا ہوتا ہے۔ صرف ایک بڈھی نوکرانی کی موجودگی اور آپکی غیر حاضری میں ناشتہ کیسے کرتے ہیں، کپڑے کیوں کر تبدیل کرتے ہیں اور پھر آپکا بچہ بھی تو ہے۔ اس کی دیکھ بھال کون کرتا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیر آپ کی صحت کے لیے مفید ہے۔ مگر اس سیر کا اثر آپ کے شوہر پر کیا پڑے گا، کیا آپ نے اس کی بابت کبھی غورکیا ہے؟۔ میں نے پرسوں مسٹر کرپلانی کو دیکھا۔ ان کی حالت قابل رحم تھی۔ آپ نے سرپر ہیٹ اُلٹا لگا رکھا تھا اور اگر میری نگاہوں نے دھوکا نہیں دیا تو ان کے بوٹ کا ایک تسمہ کھلا ہُوا تھا۔ جو بار بار ان کے پاؤں میں الجھ رہا تھا۔ کل بھی آپ کی حالت ایسی ہی تھی۔ ان کی پتلون شکنوں سے بھرپور تھی اور ٹائی کی گرہ بھی دُرست نہیں تھی۔ اگر آپ کی صبح کی سیر اسی طرح جارہی رہی۔ تو مجھے اندیشہ ہے ایک روز مسٹر کرپلانی اس افراتفری میں دفتر کا رخ کریں گے کہ راہ چلتی عورتوں کو اپنی آنکھیں بند کرنی پڑیں گی۔ اور ہاں، دیکھیے کل آپ نے جو ساڑھی پہن رکھی تھی۔ وہ آپکی نہیں ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مسز اڈوانی نے یہ ساڑھی پچھلی دیوالی پر خریدی تھی۔ دوسروں کے کپڑے پہننا بہت معیوب ہے۔ آپکے پاس کم از کم بیس ساڑیاں موجود ہیں۔ مسز اڈوانی کی ساڑھی مستعار لے کر آپ نے کیوں پہنی۔ یہ میں ابھی تک نہیں سمجھ سکی۔ ایک بات اور۔ وہ یہ کہ آپ کو بغیر آستینوں کا بلاؤز اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ آپ کے کاندھوں پر ضرورت سے زیادہ گوشت ہے۔ جسکی نمائش آنکھوں پر بہت گراں گزرتی ہے۔ آپکے جسم کا یہ عیب آستینوں والے بلاؤز میں چھپ جاتا ہے۔ اس لیے آپکو ہمیشہ اسی تراش کا بلاؤز پہننا چاہیے۔ اونچی ایڑی کا شو آپ کیوں پہنتی ہیں؟۔ آپ کا قد ماشاء اللہ کافی اُونچا ہے۔ پرسوں آپ نے غیر معمولی اونچی ایڑی کا سینڈل پہن رکھا تھا۔ معاف فرمائیے۔ معلوم ہوتا تھا کہ آپ کے پیروں کے ساتھ اسٹول بندھے ہوئے ہیں۔ اونچی ایڑی کا جوتا پہن کر آپ آسانی سے چل بھی نہیں سکتیں۔ خواہ مخواہ کیوں اپنے آپ کو تکلیف دیتی ہیں۔ آپ کی۔

دوسرا خط مسز اڈوانی کے نام محترم بہن تسلیمات۔ میں نے پچھلے دنوں آپ کو باندرہ کے میلے پر چند سہیلیوں کے ساتھ دیکھا تھا۔ آپ نے پیلے رنگ کی جارجٹ کی ساڑھی پہن رکھی تھی۔ بورڈر کے بغیر۔ بلاؤز کالی ساٹن کا تھا۔ کھلے گلے کا، آستینوں کے بغیر۔ گلے پر زرد رنگ کی سائٹ کا پائپنگ تھا اور سامنے سینے پر اسی رنگ کا پھول۔ پاؤں میں آپکے سنہری سینڈل تھی۔ چھاتا سیاہ رنگ کا تھا جس کی مونٹھ زرد رنگ کے سلولائیڈ کی تھی۔ کالے بالوں میں پیلا ربن تھا۔ سیاہی اور زردی کا یہ میل مجھے بہت پسند آیا تھا۔ آپ کے ذوق کی میں بے حد معترف ہوں۔ رنگوں کے صحیح التزام کا آپ خوب سلیقہ رکھتی ہیں۔ مگر کل آپ جب بَس پر سے اُتریں تو مجھے یہ دیکھ کر سخت صدمہ ہوا کہ آپ نے کالی ساڑھی کے ساتھ بُھوسلے رنگ کا بلاؤز پہن رکھا ہے آپ کے بالوں میں نیلا ربن گندھا ہے اور جوتا سفید کینوس کا پہن رکھا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ ایسی اعلیٰ ذوق رکھنے والی خاتون نے کیوں کر ایسے بھونڈے لباس میں باہر نکلنا گوارا کیا۔ اور پھر غضب یہ ہے کہ آپ بَس میں کہیں دُور گئی تھیں۔ آئندہ اگر میں نے آپ کو ایسے بے تُکے لباس میں دیکھا تو مجھے اتنا صدمہ ہو گا کہ میں بیان نہیں کرسکوں گی۔ ایک بات اور میری سمجھ میں نہیں آئی کہ آپ کی نوکرانی اتنا سنگھار کیوں کرتی ہے؟ اس کی عمر میرے انداز کے مطابق اٹھارہ برس ہے۔ بظاہر وہ کنواری ہے۔ اس عمرمیں اور خاص کر کنوارپنے میں اس کا یوں بن کر سنور کر سودا سلف لینے باہر بازار نکلنا اتنا خطرناک نہیں۔ جتنا کہ اس کا آپکے گھر میں اپنے سنگھار پر توجہ دینا ہے۔ آپ عموماً گھر سے باہر رہتی ہیں۔ اور مسٹر اڈوانی چونکہ دفتر نہیں جاتے۔ اس لیے وہ اکثر گھر ہی میں رہتے ہیں۔ آپ کی غفلت حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہہ سکتی۔ میرا خیال ہے کہ آپ کی دائیں آنکھ بائیں آنکھ سے کچھ چھوٹی ہے۔ اگر آپ چشمہ پہنا کریں تو یہ عیب بالکل دُور ہو جائے گا۔ کیونکہ شیشوں میں سے یہ معمولی فرق نظر نہ آئے گا۔ ہاں، یہ آپ اپنی سہیلیوں کو اپنی ساڑھیاں پہننے کے لیے کیوں دے دیا کرتی ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ بدعت معاشرتی نقطہ ءِ نظر سے بہت بُری ہے۔ اس کے علاوہ سہیلیاں خواہ کتنی ہی محتاط ہوں۔ مستعار کپڑے کو نہایت بے دردی کے ساتھ استعمال کرتی ہیں اگر آپ کو یقین نہ ہو تو اس سفید ساڑھی کو غور سے دیکھیے جو آپ نے ایک روز مسزکر پلانی کو پہننے کے لیے دی تھی۔ اس کا تِلے کا کام کئی جگہ سے اکھڑ گیا ہے۔ بازار میں چلتے وقت آپ بار بار ساڑھی کا پلو نہ سنبھالا کریں۔ مجھے اس سے بڑی الجھن ہوتی ہے۔ آپکی۔

تیسرا خط مسٹر ایوب خان انسپکٹر پولیس کے نام مکّرمی محترمی۔ سلام مسنون کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ دن میں دو بار اپنی داڑھی منڈوانا چھوڑ دیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ نارمل آدمی کی داڑھی کے بال نارمل حالت میں اتنی جلدی کبھی نہیں اُگتے۔ پولیس اسٹیشن جاتے ہوئے اور وہاں سے شام کو آتے ہُوئے آپ کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ سیلون میں داخل ہو جائیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ کو MANIA ہو گیا ہے۔ اگر آپکا دماغی توازن درست ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ دن میں دوبار صبح و شام اپنی داڑھی پر اُسترا پھرائیں۔ کیا سیلون کا نائی آپ کی اس عجیب و غریب عادت پر زیرِ لب کبھی نہیں مسکرایا۔ اور پھر یہ آپ اپنے سر کے بال کس طور سے کٹواتے ہیں؟۔ واللہ بہت بُرے معلوم ہوتے ہیں۔ گردن سے لے کر کھوپڑی کے بالائی حصے تک آپ بالوں کا بالکل صفایا کرادیتے ہیں اور کانوں کے اوپر تک باریک مشین پھروا کر آخر آپ کیا فیشن پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت آپ کی گردن بہت بھدی ہے اور آپ کے سر کے نچلے حصے پر پھوڑوں کے نشان ہیں جو صرف بال ہی چھپا سکتے ہیں اور کیا آپ نے کبھی غور فرمایا ہے کہ بار بار بال مونڈنے سے آپ کی گردن موٹی ہو جائے گی۔ آپ کے کان بہت بڑے ہیں۔ جس فیشن کی حجامت کا آپ کو شوق ہے۔ اس سے یہ اور بھی زیادہ بڑے دکھائی دیتے ہیں۔ میری رائے ہے کہ آپ قلمیں رکھیں۔ اور کانوں کے قریب سے بال زیادہ نہ کٹوائیں۔ گردن پر اگر آپ تھوڑے سے بال اُگنے دیں تو کوئی ہرج نہیں۔ اس سے آپ کو کوئی تکلیف نہ ہو گی۔ ہاتھ میں چھڑی لے کر جب آپ بازار میں چلتے ہیں تو دماغ میں اس خیال کو جگہ نہ دیا کریں کہ ہر اسکول جانے والی لڑکی آپکو دیکھ رہی ہے۔ کسی شائستہ مذاق لڑکی کی آنکھیں آپ کی طرف نہیں اُٹھ سکتیں۔ اس لیے کہ آپ اپنے کاندھوں پر ایسا بھونڈا سر اُٹھائے پھرتے ہیں۔ جس کو آپ کے ایجاد کردہ فیشن نے اور بھی زیادہ بدنما بنا رکھا ہے۔ بار بار آپ اپنے کوٹ سے کیا جھاڑا کرتے ہیں؟ کیا گردوغبار کے ذرّے صرف آپ ہی کے کوٹ پر آبیٹھتے ہیں۔ یا پھر آپ حد سے زیادہ نفاست پسند ہیں؟ کسی نے مجھ سے کہا تھا۔ کہ چالیس برس کے ہونے پر بھی آپ کنوارے ہیں؟ اگر یہ سچ ہے تو اس سے آپ کو عبرت حاصل کرنا چاہیے۔ میرا مشورہ لیجیے۔ اور دن میں دوبار سیلون میں جا کر داڑھی منڈوانا چھوڑ دیجیے۔ خدا آپ کی حالت پر رحم کرے۔ آپکی مخلص۔

چوتھا خط مِس ڈی سِلوا کے نام ڈیئر مِس ڈی سِلوا۔ تمہاری حالت پر مجھے بہت افسوس ہوتا ہے۔ تم روز بروز موٹی ہورہی ہو۔ اگر تمہارا موٹاپا اسی رفتار سے بڑھتا گیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ تم کسی مرد کے قابل نہ رہو گی۔ اسکول جانے کیلیے جب تم

’’جم‘‘

پہن کر گھر سے نکلتی ہو تو میرے دل میں عجیب وغریب خیال پیدا ہوتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ اس کرسمس پر تم ڈانس کیسے کرسکو گی۔ ایک دو قدموں ہی میں تمہارا پسینہ چھوٹ جائے گا۔ اور تمہارا ساتھی کیوں کرتمہاری بانہوں کو حسب منشا حرکت میں لاسکے گا۔ تمہاری بغلوں کے نیچے اس قدر گوشت جمع ہورہا تھا کہ تم ڈانس کرنے کے بالکل قابل نہیں رہی ہو۔ خدا کے لیے اپنا علاج کرو اور اس موٹاپے کوجلد از جلد ختم کرنے کی کوشش کرو۔ ایک نصیحت میری اور سُن لو۔ شام کو تم ہر روز ٹیرس پر اکیلی جاتی ہو۔ اور سامنے والے مکان پر ڈی کوسٹا کے بڑے لڑکے کو اشارے کرتی رہتی ہو۔ اوّل تو یہ شریف لڑکیوں کا کام نہیں۔ دوسرے یہ اشارے چربی بھرے گوشت کے مانند بھدے اور بے لذّت ہوتے ہیں۔ تم جیسی موٹی لڑکیوں کو ایسی اشارہ بازی نہیں کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ اشارہ ایک لطیف یعنی باریک اور پتلی چیز کا نام ہے۔ تمہارے اشارے، اشارے نہیں ہوتے۔ ان کے لیے مجھے کوئی اور نام تلاش کرنا ہو گا۔ جس لونڈے کے ساتھ تم رومان لڑانا چاہتی ہو۔ اسکے متعلق بھی سُن لو۔ وہ ایک آوارہ مزاج لڑکا ہے۔ ڈھائی مہینے سے کالی کھانسی میں مبتلا ہے۔ ماں باپ نے ناقابلِ اصلاح سمجھ کر اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ اسکے پاس صرف تین پتلونیں ہیں۔ جن کوبدل بدل کر پہنتا ہے۔ ہر روز اپنی قمیض اور پتلون پر وہ دو بار استری کرتا ہے تاکہ باہر کے لوگوں کی نظر میں اس کی وضع داری قائم رہے۔ مجھے ایسے آدمیوں سے نفرت ہے۔ تم اپنی پنڈلیوں کے بال استرے سے نہ مونڈا کرو۔ بال اڑانے کے سب پوڈر اور سب کریمیں بھی فضول ہیں۔ بال ہمیشہ کے لیے کبھی غائب نہیں ہوسکتے اس لیے تم اپنی پنڈلیوں پر ظلم نہ کرو۔ بال رہنے دو اور لمبی جُرابیں پہنا کرو۔ تمہارا دوست آج دوپہر کو اپنا پھٹا ہُوا جُوتا خود مرمت کررہا تھا۔ تمہاری خیر خواہ۔

پانچواں خط کوشلیا دیوی کے نام شریمتی کوشلیا دیوی۔ نمسکار اس میں کوئی شک نہیں۔ اپنے گھر میں ہر شخص کو اختیار ہے کہ وہ آرام دہ سے آرام دہ لباس پہنے اور تکلّفات سے آزاد رہے۔ مگر دیوی جی آپ ململ کی باریک دھوتی پہن کر اس آزادی سے ناجائز فائدہ اُٹھا رہی ہیں اور پھر یہ دھوتی آپ کچھ اس

’’بے تکلفی‘‘

سے پہنتی ہیں کہ جب آپ اتفاق سے نظر آجائیں تو سوچنا پڑتا ہے کہ آپ کو کس زاویے سے دیکھا جائے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔ روشنی کے سامنے کھڑے ہونے سے آپکی ململ کی دھوتی کا وجود ہونے نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ آپ کی عمر اس وقت چوالیس برس کے قریب ہے۔ عمر کی اس زیادتی نے آپکے جسم کو بالکل ڈھیلا کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باریک دھوتی میں سے آپکی بھدی ٹانگوں کی نمائش آنکھوں پر

’’گوہاسنجنی‘‘

بن کر رہ جاتی ہے۔ آپ کے فلیٹ کا دروازہ عام طور پر کھلا رہتا ہے اورمیں نے اکثر آپ کو باورچی خانہ کے پاس یہی باریک دھوتی پہنے دیکھا ہے اگر آپ کو اس کا استعمال ترک نہیں کرنا ہے تو براہ کرم اپنے فلیٹ کا دروازہ بند رکھا کریں۔ آپ کی۔

چھٹا خط مسٹر سعید حسن جرنلسٹ کے نام جناب من۔ تسلیم۔ آپ ہر روز صبح بالکونی میں پتلون پہنتے ہیں۔ آپ کا یہ فعل کمیونزم کی بدترین مثال ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ خط پڑھ کر آپ ضرور شرمسار ہونگے۔ اور آئندہ سے پتلون شریف آدمیوں کی طرح اپنے کمرے میں پہنا کریں گے۔ مخلص۔ مکرر:۔ آپ کے بال بہت بڑھ گئے ہیں۔ سیلون آپ کے مکان کے نیچے ہے۔ ہمت کرکے آج ہی کٹوا دیں۔

ساتواں خط مِسز قاسمی کے نام خاتونِ مکرم۔ السلام علیکم۔ میں بہت عرصے سے آپکو یہ خط لکھنے کا ارادہ کررہی تھی مگر چند در چند وجوہ کے باعث ایسا نہ کرسکی۔ میں نے سُنا ہے کہ دو گھروں میں نفاق پیدا کرنے کے لیے آپ کو بہت سے گُر زبانی یاد ہیں۔ مسز اڈوانی اور مسز کرپلانی کے درمیان ایک دفعہ آپ ہی کی کوششوں سے رنجش پیدا ہُوئی تھی۔ اور پچھلے دنوں سیٹھ گوپال داس کی لڑکی پشپا کے بارے میں آپ نے جو افواہیں مشہور کی تھیں ان سے سیٹھ گوپال داس اور سیٹھ رام داس کے خاندانوں میں اچھا خاصا ہنگامہ برپا ہو گیا تھا۔ مجھے آپکی صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔ مگر میں سوچتی ہوں کہ ابھی تک آپ کے اور مسز قانون گو کے درمیان کشیدگی پیدا کیوں نہیں ہُوئی۔ اب تک آپ نے جس عورت کو اپنی سہیلی بنایا ہے اس سے تیسرے چوتھے مہینے آپ کی تُو تُو مَیں مَیں ضرور ہوتی ہے۔ لیکن مسز قانون گو سے آپ کی دوستی کو چھ مہینے ہو گئے ہیں۔ جو کئی برسوں کے برابر ہیں۔ میں اب زیادہ دیر انتظار نہیں کرسکتی۔ اس مہینے میں مسز قانون گو سے آپکی چخ چخ ضرور ہونی چاہیے۔ آپ کو اپنی روایات برقرار رکھنی چاہئیں۔ ہاں یہ ضرور بتائیے کہ آپ کہاں پیدا ہُوئی تھیں۔ یہ تو مجھے معلوم ہے کہ آپ پنجاب کی رہنے والی ہیں۔ مگر آپ کا چہرہ نیپالیوں اور تبتیوں سے کیوں ملتا جلتا ہے؟ آپکی ناک بالکل نیپالیوں کی طرح چپٹی ہے۔ اور گالوں کی ہڈیاں بھی انہی کی طرح ابھری ہُوئی ہیں، البتہ آپکا قد ان کی طرح پست نہیں۔ آپ نے عید پر جو ساڑھی پہنی تھی۔ مجھے پسند نہیں آئی۔ آپ کا ذوق نہایت فضول ہے۔ اگر آپ بھڑکیلے اور شوخ رنگوں کے بجائے ہلکے رنگ کے کپڑے انتخاب کیا کریں تو بہت اچھا ہو۔ لمبے قد کی عورتوں کو کھڑی لکیروں کی قمیض نہیں پہننی چاہیے۔ اس سے وہ اور لمبی ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح آپ کو

’’پف سیلوز‘‘

کا بلاؤز بھی نہیں پہننا چاہیے۔ کیونکہ لمبے قد کی عورتوں کے لیے یہ موزوں نہیں ہوتا۔ اور پھر آپ تو ویسے ہی دُبلی پتلی ہیں۔ آپکے کاندھے پر بلاؤز کے اُٹھے ہُوئے

’’پف‘‘

بہت بُرے معلوم ہوتے ہیں۔ آپکی خیر اندیش۔

آٹھواں خط مِس راجکماری ایکٹرس کے نام مِس راجکماری مجھے تم سے نفرت ہے۔ تم عورت نہیں ہو۔ سوٹ کیس ہو۔ تم سے نفرت کرنیوالی۔

نواں خط مسٹر صالح بھائی کنٹریکٹر کے نام جناب صالح بھائی صاحب۔ تسلیم۔ مجھے آپکے خلاف کوئی شکایت نہیں لیکن پھر بھی میں آپکو پسند نہیں کرتی۔ نہ معلوم کیا وجہ ہے کہ آپکو دیکھ کر میرے دل میں غیظ و غضب پیدا ہو جاتا ہے۔ آپ بہت شریف آدمی ہیں۔ آپ کی شکل و صورت بھی کوئی خاص بُری نہیں۔ لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ پھر آپ کو میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے کیوں دیکھتی ہُوں۔ آپ کے چہرے پر یتیمی برستی ہے، آپکی چال بھی نہایت واہیات ہے۔ آپکی ہمدرد۔

دسواں خط مِس رضیہ صلاح الدین کے نام ڈیئر مِس رضیہ۔ سلام مسنون۔ تم ابھی ابھی پنجاب کے کسی گاؤں سے آئی ہو۔ پہلے ساڑھی پہننے کی عادت اختیار کرو پھر اس لباس میں باہر نکلو۔ تمہیں یہ لباس پہننے کا بالکل سلیقہ نہیں ہے۔ خدا کے لیے اپنے آپ کو تماشہ نہ بناؤ۔ تمہاری خیر خواہ۔

سعادت حسن منٹو

والد صاحب

توفیق جب شام کو کلب میں آیا تو پریشان سا تھا۔ دوبار ہارنے کے بعد اس نے جمیل سے کہا۔

’’لو بھئی میں چلا۔ ‘‘

جمیل نے توفیق کے گورے چٹے چہرے کی طرف غور سے دیکھا اور کہا۔

’’اتنی جلدی؟‘‘

ریاض نے تاش کی گڈی کے دو حصے کرکے انھیں بڑے ماہر انداز میں پھینٹنا شروع کیا۔ اسکی نگاہیں تاش کے پھڑپھڑاتے پتوں پر تھیں۔ لیکن روئے سخن توفیق کی طرف تھا۔ توفی، آج تم پریشان ہو۔ خلاف معمول اوپر تلے دوبار ہارے ہو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آج شام کو ہسپتال میں نرس مارگرٹ نے تمہارے رومانس کو پوٹاسیم برومائڈ پلادیا۔ ‘‘

جمیل نے ایک بار پھر غور سے توفیق کے چہرے کی طرف دیکھا۔

’’کیوں توفی آج ٹمپریچر کیسا رہا؟‘‘

نصیر اپنی کرسی پر سے اٹھا۔ توفیق کی انگلیوں میں پھنسا ہوا سگریٹ نکالا۔ اور زور کا کش لے کر کہنے لگا سب بکواس ہے۔ توفی نے آج تک جتنے رومانس لڑائے ہیں۔ سب بکواس تھے۔ یہ نرس مارگرٹ کا قصہ تو بالکل من گھڑت ہے۔ مری کی ٹھنڈی ہواؤں سے یہاں لاہور کی گرمیوں میں آنے کے باعث سرسام ہو گیا ہے۔ ‘‘

توفیق اٹھ کھڑا ہوا

’’بکو نہیں!‘‘

نصیر ہنسا

’’اگر نہیں ہوا تو آج کل میں ہو جائے گا۔ بتاؤ تمہارے ابا کب تک ہسپتال میں رہیں گے۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ توفیق کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ توفیق نے اپنے کلف لگے ململ کے کرتے کی ڈھیلی آستینوں کو اوپر چڑھا دیا اور جمیل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا

’’چلو چلیں۔ میری طبیعت یہاں گھبرا رہی ہے۔ ‘‘

جمیل اٹھا

’’بھئی توفی، تم کوئی بات چھپا رہے ہو۔ ضرور کوئی گڑ بڑ ہوئی ہے۔ ‘‘

’’گڑ بڑ کچھ نہیں۔ نصیر کی بکواس سے کون ہے جس کی طبیعت نہیں گھبراتی۔ توفیق نے جیب سے باجا نکالا اور منہ کے ساتھ لگا کر بجانا شروع کردیا۔ نصیر نے اپنی ٹانگیں میز پر پھیلا دیں اور زور سے کہا

’’بکواس ہے۔ سب بکواس ہے۔ یہ دھن جو تم بجا رہے ہو رشید عطرے کی ہے۔ اور رشید عطرے کی کوئی دھن سن کر آج تک کوئی اینگلو انڈین یا کرسیچن نرس بے ہوش نہیں ہوئی۔ بہتر ہو گا اگر تم رومال پر تھوڑا سا کلوروفام چھڑک کرلے جاؤ۔ ‘‘

ریاض نے تاش کی گڈی رکھ دی اور نصیر کی ٹانگیں ایک طرف ریل دیں۔

’’کچھ بھی ہو۔ لیکن ہم اتنا جانتے ہیں کہ توفی جہاں اپنی گاڑی کا ہارن بجائے تو لڑکیاں سن کر اس پر فریفتہ ہو جاتی ہیں۔ ‘‘

نصیر نے سگریٹ کی گردن ایش ٹرے میں دبائی

’’اور سائیکل کی گھنٹی بجائے تو آسمان سے فرشتے اترنے شروع ہو جاتے ہیں۔ ایک دفعہ اسکی کھانسی کی آواز سن کر باغِ جناح کی ساری بلبلیں اپنی نغمہ سرائی بھول گئی تھیں۔ بڑا ہنگامہ ہو گیا تھا۔ ماسٹر غلام حیدر نے پورا ایک مہینہ ان کو ریہرسل کرائی۔ تب جا کروہ کہیں ٹوں ٹاں کرنے لگیں۔ ‘‘

توفیق کے سوا باقی سب ہنسنے لگے۔ نصیر ذرا سنجیدہ ہو گیا۔ اٹھ کر توفیق کے پاس آگیا۔ اس کے کلف لگے ململ کے کرتے کی ایک شکن درست کی اور کہا۔

’’مذاق برطرف۔ لو اب بتاؤ ہسپتال کی لونڈیا سے تمہارا معاملہ کہاں تک پہنچا؟۔ میں تو سمجھتا ہوں وہیں کا وہیں ہو گا۔ ایک شریف آدمی اپنڈے سائٹس کا آپریشن کرائے پڑا ہے۔ مقررہ اوقات پر یہ تمہاری نرس صاحبہ تشریف لاتی ہیں۔ جناب صرف ایک دفعہ صبح اور ایک دفعہ شام وہاں جاسکتے ہیں۔ مریض، اور وہ بھی قبلہ والد صاحب۔ وہ مریض اپنڈے سائٹس اور تم مریض عشق۔ ‘‘

ریاض نے قریب قریب گا کر کہا۔

’’مریضِ عشق پر رحمت خدا کی۔ ‘‘

نصیر کی رگِ مذاق پھڑک اٹھی۔ اور مریضِ عشق پر جب خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ تو وہ بینڈ ماسٹر بن جاتا ہے۔ آج توفی کا منہ باجا بجا رہا ہے۔ خدا کی رحمت شاملِ حل رہی تو کل سیکسو فون بجائے گا۔ آہستہ آہستہ اس کے ساتھ دوسرے مریضانِ عشق شامل ہو جائیں گے۔ پھر یہ براتوں کے ساتھ منہ میں کلارنٹ دبائے فلمی ٹیونیں بجایا کرے گا۔ ہیرا منڈی سے گزرتے ہوئے اس کی کلارنٹ کا منہ اونچا ہو جایا کرے گا۔ گال دھونکنی کی طرح پھولیں گے۔ گلے کی رگیں ابھر آئینگی۔ اور رنڈیاں کوٹھوں پر سے اس پر رحمت خداوندی کے پھول برسائیں گی‘‘

توفیق تنگ آگیا۔ ہاتھ جوڑ کر نصیر سے کہنے لگا

’’خدا کے لیے یہ بھانڈ پنا بند کرو۔ ‘‘

نصیر نے جمیل کی طرف دیکھا

’’لو صاحب ہم بھانڈ ہو گئے۔ دنیا بھر کی نقلیں یہ اتاریں۔ زمانے بھر کی خرافات یہ بکیں۔ اوربھانڈ ہم کہلائیں۔ یہ تو آج انھیں منہ میں گھنگھنیاں ڈالے دیکھ کر میں نے چھیڑ خانی شروع کردی کہ شائد اسی حیلے اُکسیں، منہ سے بولیں۔ سر سے کھیلیں۔ ورنہ جائے استاد خالی است، کجا دام رام کجاٹیں ٹیں‘‘

یہ کہہ کر اس نے توفیق کے کلف لگے ململ کے کُرتے کی شکن درست کی

’’بھئی توفیق ذرا چہکو۔ کیا ہو گیا ہے تمہیں۔ ‘‘

توفیق نے جیب سے سگریٹ کیس نکالا۔ ایک سلگایا اور کش لیتا کرسی پر بیٹھ گیا۔ مپز پر سے تاش کی گڈی اٹھائی اور پیسنیں کھیلنے لگا۔ لیکن نصیر نے لپک کر پتے اٹھالیے۔

’’یہ بڈھے جرنیلوں کا کھیل ہے جو زندگی میں کئی بار اپنی تمام کشتیاں جلا چکے ہوں۔ تم اتنے مایوس کیوں ہو گئے ہو۔ مارگرٹ نہ سہی کوئی اور سہی۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ جمیل اور ریاض سے مخاطب ہوا۔

’’یارو بتاؤ یہ فنالہ کون ہے؟۔ خوبصورت ہے؟۔ چندے آفتاب چندے مہتاب ہے؟۔ پانی پیتی ہے تو گردن میں سے دکھائی دیتا ہے؟‘‘

جمیل توفیق کے پاس بیٹھ گیا، وہ فارسی کا محاورہ ہے۔ لیلی بنظرِ مجنوں باید دید۔ مارگرٹ بنظرِ توئی باید دید، ۔ کیوں توفی؟‘‘

توفیق خاموش رہا۔

’’میں پوچھتا ہوں، خوبصورت ہے؟۔ اس کے بدن سے آنڈوفارم کی بھینی بھینی بو آتی ہے؟۔ اسکی گردن دیکھ کر گردن توڑ بخار ہوتا ہے یا نہیں؟‘‘

نصیر یہ کہتا کہتا میز پر بیٹھ گیا۔

’’مینڈکیوں کو جو زکام ہوتا ہے اس کا علاج تووہ ضرور جانتی ہو گی۔ خدا کے لیے مجھ اس سے ملاؤ۔ ورنہ مجھ پر ہسٹیریا کے دورے پڑنے لگیں گے۔ ‘‘

جمیل نے ریاض کی طرف دیکھا۔

’’ریاض اس کو کئی مرتبہ دیکھ چکا ہے۔ ‘‘

’’ریاض کے دیکھنے سے کیا ہوتا ہے۔ اس کو تو اندھ عورتا ہے۔ ‘‘

نصیر مسکرایا۔

’’جمیل نے پوچھا یہ اندھ عورتا کیا ہے؟‘‘

نصیر نے ریاض کے چشمہ لگے چہرے کو گھور کے دیکھا اور جمیل کو جواب دیا۔

’’جناب یہ ایک بیماری کا نام ہے۔ اس کے مریض عورتوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ چاہے اصلی پتھر کا چشمہ لگائیں۔ ‘‘

ریاض مسکرا دیا۔ شاید اسی لیے مجھے مارگرٹ میں وہ حسن نظر نہ آیا۔ جس کی تعریف میں توفی نے زمین و آسمان کے قلابے ملا رکھے تھے۔ توفیق نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھا کر ریاض سے صرف اتنا پوچھا

’’کیا وہ حسین نہیں تھی؟‘‘

ریاض نے جواب دیا۔

’’ہرگز نہیں۔ صاف ستھری لڑکی البتہ ضرور ہے۔ ‘‘

’’لانڈری سے تازہ تازہ آئی ہوئی شلوار کی طرح؟

’’نصیر ابھی کچھ اور کہنا چاہتا تھا کہ ریاض بول پڑا۔

’’ہاں یار۔ ایک لڑکی اس نے شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔ ان کپڑوں میں اچھی لگتی تھی۔ میں اور توفی موٹر میں تھے۔ توفی ڈرائیو کررہا تھا۔ موٹر ہسپتال کے پھاٹک میں داخل ہوئی تو اسٹیئرنگ توفی کے ہاتھوں کے نیچے پھسلا۔ لڑکی دیکھ کر ہمیشہ اسکی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ میں نے سامنے دیکھا تو وہ شلوار قمیض پہنے مٹکتی چلی آرہی تھی۔ توفی نے موٹر عین اسکے پاس روکی اور کہا۔ گڈمورننگ۔ وہ مسکرائی۔ لکھنوی انداز سے دایاں ہاتھ ماتھے تک لے گئی۔ اور کہا۔ آداب عرض۔ جیسا لباس ویسی بولی۔ لونڈیا ہے چالاک۔ توفی ابھی کوئی فقرہ موزوں کررہا تھا کہ وہ چھوٹے چھوٹے مگر تیز قدم اٹھاتی آگے بڑھ گئی۔ توفی نے فقرے کو چوڑا اور سینے پر دوہتڑ مار کر کہا۔ مار ڈالا۔ اتنے میں مارگرٹ کا عکس بیک ویو مرر میں نمودار ہوا۔ توفی نے بڑے تھیٹری انداز میں ایک عدد چما اس کی طرف پھینکا اور موٹر اسٹارٹ کردی۔ ‘‘

تمہاری اس گفتگو سے ثابت کیا ہوا؟ نصیر نے اپنے گھنگھریالے بالوں کا ایک گُچھا مروڑتے ہوئے کہا۔ بات یہ ہے کہ جب تک یہ خاکسار بقلمِ خود اس لونڈیا کو نہیں دیکھے گا کچھ بھی ثابت نہیں ہو گا۔ جھوٹ بولوں تو توفی ہی کا منہ کالا ہو۔ ‘‘

توفیق خاموش سگریٹ کے کش لیتا رہا۔ جمیل نے اپنی کرسی ذرا آگے بڑھائی اور ریاض سے پوچھا۔

’’اچھا بھئی یہ بتاؤ توفی نے کبھی اسے موٹر کی سیر نہیں کرائی۔ ‘‘

ریاض نے جواب دیا

’’ایک دفعہ اس نے کہا تھا تو اس سے مجھے یاد نہیں رہا۔ اس نے کیا جواب دیا تھا۔ بات دراصل یہ ہے کہ توفی کو کھل کے بات کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملا۔ ٹمپریچر لینے یا ٹیکہ لگانے کے لیے آتی ہے تو باپ کی موجودگی میں یہ اس سے کیا بات کرسکتا ہے۔ پھر بھی اشاروں کنایوں میں کچھ نہ کچھ ہو ہی جاتا ہے۔ میرا خیال ہے یہ ادائیں آج صرف اسی لیے ہیں کہ اس کے ابا جان دو تین دنوں ہسپتال چھوڑنے والے ہیں کیونکہ زخم اب بالکل بھر چکا ہے۔ کیوں توفی؟‘‘

توفیق نے صرف اتنا کہا۔

’’مجھے ستاؤ نہیں یار۔ ‘‘

اور اٹھ کر باہر باغ میں چلا گیا۔ نصیر نے اپنی ٹھوڑی ہاتھ میں پکڑی اور چہرے پر گہری فکر مندی کے نشانات پیدا کرکے کہا۔

’’کہیں لمڈے کو اِسک تو نہیں ہو گیا۔ ‘‘

’’توفی اور عشق۔ دو متضاد چیزیں ہیں۔ ‘‘

ریاض کرسی پرسے اٹھا۔ اور سنجیدگی سے کہنے لگا۔

’’کوئی اور ہی چیز ہوئی ہے جناب کو۔ میرا خیال ہے لاہور میں اس کا جی لگ گیا تھا۔ والد ٹھیک ہو گئے ہیں تو اب اسے واپس مری جانا پڑے گا۔ ‘‘

’’بکواس ہے‘‘

نصیر چلایا

’’کوئی اور ہی بات ہے۔ تم یہاں ٹھہرو۔ میں ابھی دریافت کرکے آتا ہوں۔ ‘‘

نصیر اٹھ کر باہر چلنے لگا تو جمیل نے اس سے پوچھا۔

’’کس سے دریافت کرنے چلے ہو۔ ‘‘

نصیر مسکرایا۔ گھوڑے کے منہ سے۔ انگریزی میں فروم دی ہارسر ماؤتھ!‘‘

یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔ جمیل نے ریاض کی طرف دیکھا اور سنجیدگی سے پوچھا۔ ہاں بھئی ریاض، یہ سلسلہ کیا ہے۔ توفی ایک دن بہت تعریف کررہا تھا۔ اس مارگرٹ کی۔ کہتا تھا کہ معاملہ پٹا سمجھو۔ کیا یہ ٹھیک ہے؟‘‘

’’ٹھیک ہی ہو گا۔ میرا مطلب ہے ایسا کون سا چتوڑ گڑھ کا قلعہ یہ جو توفی کو سر کرنا ہے۔ ایک دن کورسی ڈور میں کافی میٹھی میٹھی باتیں کررہے تھے؟‘‘

’’کیا؟‘‘

’’میں نے پاکٹ بک میں نوٹ کی ہوئی ہیں۔ کسی روز پڑھ کے تمہیں سناؤں گا‘‘

جمیل کے ہونٹوں پر کھسیانی سی مسکراہٹ پیدا ہوئی۔

’’مذاق کرتے ہویار۔ سناؤ۔ کوئی اور بات سناؤ۔ میرا مطلب ہے، یہ بتاؤ کہ میں کبھی اس نرس کو دیکھ سکتا ہوں۔ ‘‘

’’جب چاہو دیکھ سکتے ہو۔ ہسپتال چلے جاؤ، فیملی وارڈ میں تمہیں نظر آجائے گی۔ لیکن کیا کرو گے دیکھ کہ تمہارا قد بہت چھوٹا ہے۔ وہ تم سے پوری ایک بالشت اونچی ہے۔ ‘‘

اس قد نے مجھے کہیں کا نہیں رکھا۔ بہتیرے علاج کروا چکا ہوں۔ ایک سوئی برابر اونچا نہیں ہوا۔ اچھا، میں نے کہا، ریاض۔ باپ کی موجودگی میں توفی اس سے اشارے بازی کیسے کرتا ہو گا۔ نہیں، لڑکا ہوشیار ہے!‘‘

ریاض نے تاش کی گڈی اٹھائی اور پتے پھینٹنے شروع کیے

’’اچھی خاصی مصیبت ہے۔ ہروقت یہی دھڑکا کہ والد دیکھ نہ لے، تاڑ نہ جائے۔ کہتا تھا جونہی ان کی نگاہیں میری طرف اٹھتی تھیں، میں نظریں نیچی کرلیتا تھا۔ جب وہ آتی تھی تو دس پندرہ منٹوں میں غریب کو صرف تین چار موقعے آنکھ لڑانے کو ملتے تھے۔ ‘‘

جمیل نے پوچھا۔

’’ڈی ایس پی ہیں نا توفی کے ابا جان‘‘

’’ہاں بھائی۔ باپ ہونا ہی کافی ہوتا ہے۔ اوپر سے ڈی ایس پی۔ ‘‘

جمیل نے آہ بھری۔

’’میرے تمام رومانس غارت کرنے والے میرے ابا جان ہیں۔ حج سے پہلے ان کی غارت گردی اتنے زوروں پر نہ تھی، پر جب سے آپ خانہ کعبہ سے واپس تشریف لائے ہیں۔ آپ کی غارت گردی عروج پر ہے۔ سوچتا ہوں شادی کرلوں۔ ایک لڑکا پیدا کروں اور بیٹھا اس سے اپنا انتقام لیتا رہوں۔ ‘‘

ریاض مسکرایا۔

’’حج کرنے جاؤ گے؟‘‘

’’ایک نہیں دس دفعہ۔ صاحب زادے کو ساتھ لے کر جاؤں گا۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے میز پر زور سے مکا مارا۔ آواز کے ساتھ ہی نصیر داخل ہوا۔ ریاض اور جمیل دونوں اسکی طرف غور سے دیکھنے لگے۔ نصیر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ کرسی پر بیٹھ گیا۔ جمیل کے دماغ میں کُھد بُد ہونے لگی۔

’’کچھ دریافت کیا؟‘‘

’’سب کچھ‘‘

نصیر کا جواب مختصر تھا۔ ریاض نے پوچھا

’’توفی کہاں ہے؟‘‘

نصیر نے جواب دیا۔

’’چلا گیا ہے‘‘

’’کہاں‘‘

یہ سوال ریاض نے کیا۔

’’واپس مری۔ ‘‘

نصیر کا یہ جواب سن کر ریاض اور جمیل دونوں بیک وقت بولے

’’مری واپس‘‘

’’جی ہاں۔ مری واپس چلا گیا ہے۔ ‘‘

اپنی موٹر میں۔ ہسپتال سے سیدھا یہاں کلب آیا۔ یہاں سے سیدھا مری روانہ ہو گیا ہے۔ نصیر نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کیا۔ جمیل بے چین ہو گیا۔

’’آخر ہوا کیا؟‘‘

نصیر نے جواب دیا۔

’’حادثہ!‘‘

جمیل اور ریاض دونوں بولے

’’کیسا حادثہ؟‘‘

’’بتاتا ہوں‘‘

یہ کہہ کر نصیر نے جیب سے سگریٹ کی ڈبیا نکالی جس میں کوئی سگریٹ نہیں تھا۔ ڈبیا ایک طرف پھینک کر وہ ریاض اور جمیل سے مخاطب ہوا۔

’’معاملہ بہت سنگین ہے؟‘‘

جمیل نے ریاض سے کہا۔

’’میرا خیال ہے توفی پکڑا گیا ہو گا!‘‘

ریاض نے کہا

’’معلوم ایسا ہی ہوتا ہے۔ آدمی کب تک کسی کی آنکھوں میں دُھول جھونک سکتا ہے۔ ڈی۔ ایس۔ پی ہے۔ فوراً تاڑ گیا ہو گا۔ لیکن نصیر تم بتاؤ۔ توفی نے تم سے کیا کہا۔ ‘‘

’’بتاتا ہوں۔ ایک سگریٹ دینا جمیل‘‘

جمیل نے اس کو ایک سگریٹ دیا اسے سلگا کر اس نے بات شروع کی، باپ کی موجودگی میں اس کی نرس سے اشارہ بازی ہوتی تھی۔ یہ تم لوگوں کو معلوم ہے۔ یہ سلسلہ اشارے بازی کا بہت دنوں سے جاری تھا۔ توفی اس میں خاصا کامیاب رہا تھا۔ باپ کی موجودگی کے باعث اسے بہت محتاط رہنا پڑتا تھا وہ ذرا گردن گھماتے تو یہ فوراً اپنی آنکھیں نیچی کرلیتا۔ ان دقتوں کے باوجود اس نے لڑکی سے ربط بڑھا ہی لیا۔ اور ڈیوٹی کے روز شام کو وہ اسے ایک مرتبہ سینما بھی لے گیا۔ ‘‘

جمیل گٹکا

’’واہ!‘‘

ریاض نے کہا۔

’’مجھ سے اُس نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ ‘‘

نصیر نے سگریٹ کا کش لیا۔

’’سینما میں وہ خوب ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل گئے۔ نرس کو توفی کا چنچل پنا بہت پسند آیا۔ پرسوں کی ملاقات میں آج کی شام طے ہوئی کہ وہ توفی کے ساتھ دور تک موٹر میں سیر کرنے چلے گی۔ اور توفی اپنی عادت سے مجبور ہو کر اگر کوئی شرارت کرنا چاہے گا تو وہ بُرا نہیں مانے گی۔ ‘‘

جمیل پھر گٹکا

’’واہ!‘‘

ریاض نے اسے ٹوکا۔

’’خاموش رہو جمیل۔ ‘‘

نصیر نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا۔

’’پرسوں کی ملاقات میں جو کچھ طے ہوا تھا، میں آپ کو بتا چکا ہوں۔ توفی بہت خوش تھا۔ اپنے خیال کے مطابق وہ ایک بہت بڑا میدان مارنے والا تھا۔ آج دن بھر وہ اسکیمیں بناتارہا۔ پٹرول کا انتظام اس نے کرلیا۔ کرم الٰہی نے اسے چھ کوپن دے دیے تھے۔ اسی کی پرمٹ پر بیئر کی چھ بوتلیں بھی حاصل کرلی تھیں جو غالباً ابھی تک امتیاز کے فرجڈیئر میں ٹھنڈی ہورہی ہیں۔ توفی کی اسکیم یہ تھی کہ چنیوٹ کے پل تک چلیں گے۔ حسن و عشق کے دریا چناب کی لہریں ہوں گے۔ موسم بھی خوشگوار ہو گا۔ گلاس راستے میں خرید لیں گے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی بیئر اڑے گی۔ خوب سرور جمیں گے۔ لیکن۔ ‘‘

یہ کہہ کر نصیر ایک دم خاموش ہو گیا۔ جمیل نے بے چین ہوکر پوچھا۔

’’سارا معاملہ غارت ہو گیا؟‘‘

نصیر نے اثبات میں سرہلایا۔

’’سارا معاملہ غارت ہو گیا۔ ‘‘

جمیل نے اور زیادہ بے چین ہو کر پوچھا۔

’’کیسے؟‘‘

نصیر نے سگریٹ کی گردن ایش ٹرے میں دبائی اور کہا

’’پروگرام یہ تھا کہ وہ شام کو چھ بجے ہسپتال جائے گا۔ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ اپنے باپ کے پاس بیٹھے گا۔ اس دوران میں جب مارگرٹ آئے تو وہ سیر کی بات پکی کرلے گا۔ بات پکی ہو جائے گی تو وہ سیدھا امتیاز کے ہاں جائے گا۔ کچھ دیر وہاں بیٹھے گا۔ بیئر کی ایک بوتل پیے گا۔ باقی پانچ موٹر میں رکھے اور جو جگہ مقرر ہوئی ہو گی وہاں مارگرٹ سے جا ملے گا۔ دل و دماغ سخت بے چین تھا۔ گھر سے وقت سے کچھ پہلے ہی نکل آیا۔ ہسپتال پہنچا۔ موٹر ایک طرف کھڑی کی۔ و ارڈ کی طرف چلا۔ سیڑھیاں طے کیں اوپر پہنچا۔ کمرے کا دروازہ کھولا تو کیا دیکھتا ہے۔ ‘‘

نصیر ایک دم رک گیا۔ جمیل اور ریاض دونوں بیک وقت بولے

’’کیا دیکھتا ہے۔ ؟‘‘

’’دیکھتا ہے کہ۔ ٹھہرو‘‘

نصیر تھوڑی دیر کے لیے رکا۔

’’میں توفی کے الفاظ میں بیان کرتا ہوں۔ میں نے کمرے کا دروازہ کھولا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ماگرٹ پلنگ پر جُھکی ہوئی ہے اور والد صاحب۔ اور والد صاحب اس کے ہونٹ چوس رہے ہیں۔ ‘‘

جمیل اورریاض قریب قریب اچھل پڑے

’’سچ؟‘‘

نصیر نے جواب دیا۔

’’دروغ برگردنِ راوی‘‘

جمیل جس کے دل و دماغ پر حیرت مسلط تھی بڑبڑایا

’’کمال کردیا۔ ڈی ایس پی صاحب نے۔ ‘‘

ریاض نے نصیر سے پوچھا۔

’’توفی نے کیا کیا؟‘‘

نصیر نے جواب دیا۔

’’آنکھیں نیچی کرلیں اور چلا آیا۔ ‘‘

جمیل، ریاض سے مخاطب ہوا

’’میرے والد صاحب قبلہ کبھی ایسے نظارے کا موقعہ دیں تو مزا آجائے۔ پتہ نہیں توفی کیوں اس قدر پریشان تھا؟‘‘

نصیر نے کہا

’’توفی کی والدہ صاحبہ اُس کے ساتھ تھیں۔ توفی نے مجھ سے کہا میں تو نظریں نیچی کرکے چلایا۔ لیکن امی جان دروازہ کھول کر اندر کمرے میں چلی گئیں۔ جمیل نے پر افسوس لہجے میں کہا۔

’’قبلہ والد صاحب کے ساتھ یہ زیادتی ہوئی!‘‘

2جون1950

سعادت حسن منٹو

نیا قانون

منگو کوچوان اپنے اڈے میں بہت عقلمند آدمی سمجھا جاتا تھا۔ گو اس کی تعلیمی حیثیت صفر کے برابر تھی اور اس نے کبھی اسکول کا منہ بھی نہیں دیکھا تھا لیکن اس کے باوجود اسے دنیا بھر کی چیزوں کا علم تھا۔ اڈے کے وہ تمام کوچوان جن کو یہ جاننے کی خواہش ہوتی تھی کہ دنیا کے اندر کیا ہو رہا ہے استاد منگو کی وسیع معلومات سے اچھی طرح واقف تھے۔ پچھلے دنوں جب استاد منگو نے اپنی ایک سواری سے سپین میں جنگ چھڑ جانے کی افواہ سنی تھی۔ تو اس نے گاما چودھری کے چوڑے کاندھے پر تھپکی دے کر مدبرانہ انداز میں پیش گوئی کی تھی

’’دیکھ لینا گاما چودھری، تھوڑے ہی دنوں میں اسپین کے اندر جنگ چھڑ جائے گی۔ ‘‘

جب گاما چودھری نے اس سے یہ پوچھا تھا۔ کہ اسپین کہاں واقع ہے تو استاد منگو نے بڑی متانت سے جواب دیا تھا۔ ولایت میں اور کہاں؟‘‘

اسپین کی جنگ چھڑی۔ اور جب ہر شخص کو پتہ چل گیا۔ تو اسٹیشن کے اڈے میں جتنے کوچوان حُقہ پی رہے تھے۔ دل ہی دل میں استاد منگو کی بڑائی کا اعتراف کر رہے تھے۔ اور استاد منگو اس وقت مال روڈ کی چمکیلی سطح پر تانگہ چلاتے ہوئے کسی سواری سے تازہ ہندو مسلم فساد پر تبادلہ خیال کر رہا تھا۔ اس روز شام کے قریب جب وہ اڈے میں آیا تو اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر تمتمایا ہوا تھا۔ حُقے کا دور چلتے چلتے جب ہندومسلم فساد کی بات چھڑی تو استاد منگو نے سر پر سے خاکی پگڑی اتاری۔ اور بغل میں داب کر بڑے مفکرانہ لہجے میں کہا:۔

’’یہ کسی پیر کی بددُعا کا نتیجہ ہے کہ آئے دن ہندوؤں اور مسلمانوں میں چاقو، چُھریاں چلتی رہتی ہیں۔ اور میں نے اپنے بڑوں سے سُنا ہے کہ اکبر بادشاہ نے کسی درویش کا دل دکھایا تھا۔ اور اس درویش نے جل کر یہ بددُعا دی تھی۔ جا، تیرے ہندوستان میں ہمیشہ فساد ہی ہوتے رہیں گے۔ اور دیکھ لو جب سے اکبر بادشاہ کا راج ختم ہوا ہے ہندوستان میں فساد پر فساد ہوتے رہتے ہیں‘‘

یہ کہہ کر اس نے ٹھنڈی سانس بھری۔ اور پھر حقّے کا دم لگا کر اپنی بات شروع کی۔

’’یہ کانگرسی ہندوستان کو آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اگر یہ لوگ ہزار سال بھی سر پٹکتے رہیں۔ تو کچھ نہ ہو گا۔ بڑی سے بڑی بات یہ ہو گی کہ انگریز چلا جائے گا اور کوئی اٹلی والا آجائے گا۔ یا وہ روس والا جس کی بابت میں نے سنا ہے کہ بہت تگڑا آدمی ہے۔ لیکن ہندوستان سدا غلام رہے گا۔ ہاں میں یہ کہنا بھول ہی گیا۔ کہ پیر نے یہ بددُعا بھی دی تھی کہ ہندوستان پر ہمیشہ باہر کے آدمی راج کرتے رہیں گے۔ ‘‘

استاد منگو کو انگریزوں سے بڑی نفرت تھی۔ اور اس نفرت کا سبب تو وہ یہ بتلایا کرتا تھا کہ وہ ہندوستان پر اپنا سکہ چلاتے ہیں۔ اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے ہیں۔ مگر اس کے تنّفر کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ چھاؤنی کے گورے اسے بہت ستایا کرتے تھے۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتے تھے۔ گویا وہ ایک ذلیل کُتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے ان کا رنگ بھی بالکل پسند نہ تھا۔ جب کبھی وہ گورے کے سُرخ وسپید چہرے کو دیکھتا۔ تو اُسے متلی آ جاتی۔ نہ معلوم کیوں۔ وہ کہا کرتا تھا کہ ان کے لال جھریوں بھرے چہرے دیکھ کر مجھے وہ لاش یاد آ جاتی ہے جس کے جسم پر سے اوپر کی جھلّی گل گل کر جھڑ رہی ہو! جب کسی شرابی گورے سے اس کا جھگڑا ہو جاتا۔ تو سارا دن اس کی طبیعت مکّدر رہتی۔ اور وہ شام کو اڈے میں آکر ہل مارکہ سگرٹ پیتے یا حُقے کے کش لگاتے ہوئے اس ’’گورے‘‘ کو جی بھر کر سنایا کرتا۔

’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ موٹی گالی دینے کے بعد وہ اپنے سر کو ڈھیلی پگڑی سمیت جھٹکا دے کر کہا کرتا تھا

’’آگ لینے آئے تھے۔ اب گھر کے مالک ہی بن گئے ہیں۔ ناک میں دم کر رکھا ہے ان بندروں کی اولاد نے۔ یوں رعب گانٹھتے ہیں۔ گویا ہم ان کے باوا کے نوکر ہیں۔۔۔۔۔۔ ‘‘

اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا تھا۔ جب تک اس کا کوئی ساتھی اس کے پاس بیٹھا رہتا وہ اپنے سینے کی آگ اُگلتا رہتا۔

’’شکل دیکھتے ہو نا تم اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے کوڑھ ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ بالکل مُردار، ایک دھپّے کی مار اور گٹ پٹ یوں بک رہا تھا۔ جیسے مار ہی ڈالے گا۔ تیری جان کی قسم، پہلے پہل جی میں آئی۔ کہ ملعون کی کھوپڑی کے پُرزے اڑا دوں لیکن اس خیال سے ٹل گیا کہ اس مردود کو مارنا اپنی ہتک ہے‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہتے کہتے وہ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو جاتا۔ اور ناک کو خاکی قمیض سے صاف کرنے کے بعد پھر بڑبڑانے لگ جاتا۔

’’قسم ہے بھگوان کی ان لاٹ صاحبوں کے ناز اٹھاتے اٹھاتے تنگ آگیا ہوں۔ جب کبھی ان کا منحوس چہرہ دیکھتا ہوں۔ رگوں میں خون کھولنے لگ جاتا ہے۔ کوئی نیا قانون وانون بنے۔ تو ان لوگوں سے نجات ملے۔ تیری قسم جان میں جان آ جائے‘‘

اور جب ایک روز استاد منگو نے کچہری سے اپنے تانگے پر دو سواریاں لادیں۔ اور ان کی گفتگو سے اسے پتہ چلا کہ ہندوستان میں جدید آئین کا نفاذ ہونے والا ہے تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ دو مار واڑی جو کچہری میں اپنے دیوانی مقدمے کے سلسلے میں آئے تھے گھر جاتے ہوئے جدید آئین یعنی انڈیا ایکٹ کے متعلق آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ سُنا ہے کہ پہلی اپریل سے ہندوستان میں نیا قانون چلے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہر چیز بدل جائے گی؟‘‘

’’ہر چیز تو نہیں بدلے گی۔ مگر کہتے ہیں کہ بہت کچھ بدل جائے گا اور ہندوستانیوں کو آزادی مل جائے گی؟‘‘

’’کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہو گا؟‘‘

’’یہ پوچھنے کی بات ہے کل کسی وکیل سے دریافت کریں گے۔ ان مار واڑیوں کی بات چیت استاد منگو کے دل میں ناقابلِ بیان خوشی پیدا کر رہی تھی۔ وہ اپنے گھوڑے کو ہمیشہ گالیاں دیتا تھا۔ اور چابک سے بہت بُری طرح پیٹا کرتا تھا۔ مگر اس روز وہ بار بار پیچھے مڑ کر مارداڑیوں کی طرف دیکھتا۔ اور اپنی بڑھی ہوئی مونچھوں کے بال ایک انگلی سے بڑی صفائی کے ساتھ اونچے کرکے گھوڑے کی پیٹھ پر باگیں ڈھیلی کرتے ہوئے بڑے پیار سے کہتا چل بیٹا۔۔۔۔۔۔۔ ذرا ہوا سے باتیں کرکے دکھا دے‘‘

مارواڑیوں کو ان کے ٹھکانے پہنچا کر اس نے انارکلی میں دینو حلوائی کی دکان پر آدھ سیر دہی کی لسّی پی کر ایک بڑی ڈکار لی۔ اور مونچھوں کو منہ میں دبا کر ان کو چُوستے ہوئے ایسے ہی بلند آواز میں کہا۔

’’ہمت تیری ایسی تیسی۔ ‘‘

شام کو جب وہ اڈے کو لوٹا۔ تو خلافِ معمول اسے وہاں اپنی جان پہچان کا کوئی آدمی نہ مل سکا۔ یہ دیکھ کر اس کے سینے میں ایک عجیب و غریب طوفان برپا ہو گیا۔ آج وہ ایک بڑی خبر اپنے دوستوں کو سنانے والا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت بڑی خبر، اور اس خبر کو اپنے اندر سے نکالنے کے لیے وہ سخت مجبور ہو رہا تھا لیکن وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔ آدھ گھنٹے تک وہ چابک بغل میں دبائے اسٹیشن کے اڈے کی آہنی چھت کے نیچے بیقراری کی حالت میں ٹہلتا رہا۔ اس کے دماغ میں بڑے اچھے اچھے خیالات آ رہے تھے۔ نئے قانون کے نفاذ کی خبر نے اس کو ایک نئی دنیا میں لاکر کھڑا کر دیا تھا۔ وہ اس نئے قانون کے متعلق جو پہلی اپریل کو ہندوستان میں نافذ ہونے والا تھا۔ اپنے دماغ کی تمام بتیاں روشن کرکے غورو فکر کر رہا تھا۔ اس کے کانوں میں مارواڑی کا یہ اندیشہ کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہو گا؟‘‘

بار بار گونج رہا تھا۔ اور اس کے تمام جسم میں مسّرت کی ایک لہر دوڑا رہا تھا۔ کئی بار اپنی گھنی مونچھوں کے اندر ہنس کر اس نے مارواڑیوں کو گالی دی‘‘

۔۔۔۔ غریبوں کی کُھٹیا میں گُھسے ہوئے کھٹمل۔۔۔۔۔ نیا قانون ان کے لیے کھولتا ہوا پانی ہو گا۔ ‘‘

وہ بے حد مسرور تھا، خاص کر اس وقت اس کے دل کو بہت ٹھنڈک پہنچتی جب وہ خیال کرتا کہ گوروں۔۔۔۔۔۔۔ سفید چوہوں (وہ ان کو اسی نام سے یاد کیا کرتا تھا) کی تھوتھنیاں نئے قانون کے آتے ہی بِلّوں میں ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گی۔ جب نتھو گنجا، پگڑی بغل میں دبائے، اڈے میں داخل ہوا۔ تو استاد منگو بڑھ کر اُس سے ملا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہنے لگا‘‘

لا ہاتھ ادھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسی خبر سناؤں کہ جی خوش ہو جائے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری اس گنجی کھوپری پر بال اُگ آئیں۔ ‘‘

اور یہ کہہ کر منگو نے بڑے۔۔۔۔۔۔۔ مزے لے لے کر نئے قانون کے متعلق اپنے دوست سے باتیں شروع کر دیں۔ دورانِ گفتگو میں اس نے کئی مرتبہ نتھو گنجے کے ہاتھ پر زور سے اپنا ہاتھ مار کر کہا‘‘

تو دیکھتا رہ، کیا بنتا ہے، یہ روس والا بادشاہ کچھ نہ کچھ ضرور کرکے رہے گا۔ استاد منگو موجودہ سوویت نظام کی اشتراکی سرگرمیوں کے متعلق بہت کچھ سُن چکا تھا۔ اور اسے وہاں کے نئے قانون اور دوسری نئی چیزیں بہت پسند تھیں۔ اسی لیے اس نے روس والے بادشاہ ’’کو انڈیا ایکٹ‘‘ یعنی جدید آئین کے ساتھ ملا دیا۔ اور پہلی اپریل کو پرانے نظام میں جو نئی تبدیلیاں ہونے والی تھیں۔ وہ اُنھیں ’’روس والے بادشاہ‘‘ کے اثر کا نتیجہ سمجھتا تھا۔ کچھ عرصے سے پشاور اور دیگر شہروں میں سُرخ پوشوں کی تحریک جا رہی تھی۔ منگو نے اس تحریک کو اپنے دماغ میں ’’روس والے بادشاہ‘‘ اور پھر نئے قانون کے ساتھ خلط ملط کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ جب کبھی وہ کسی سے سنتا۔ کہ فلاں شہر میں بم ساز پکڑے گئے ہیں۔ یا فلاں جگہ اتنے آدمیوں پر بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔ تو ان تمام واقعات کو نئے قانون کا پیش خیمہ سمجھتا۔ اور دل ہی دل میں خوش ہوتا۔ ایک روز اس کے تانگے میں دو بیرسٹر بیٹھے نئے آئین پر بڑے زور سے تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ اور وہ خاموشی سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔ ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا۔

’’جدید آئین کا دوسرا حصّہ فیڈریشن ہے جو میری سمجھ میں ابھی تک نہیں آسکا۔ فیڈریشن دنیا کی تاریخ میں آج تک نہ سُنی نہ دیکھی گئی۔ سیاسی نظریہ سے بھی یہ فیڈریشن بالکل غلط ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ یہ کوئی فیڈریشن ہے ہی نہیں!‘‘

ان بیرسٹروں کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس میں بیشتر الفاظ انگریزی کے تھے۔ اس لیے استاد منگو صرف اُوپر کے جملے ہی کو کسی قدر سمجھا اور اُس نے کہا۔

’’یہ لوگ ہندوستان میں نئے قانون کی آمد کو بُرا سمجھتے ہیں۔ اور نہیں چاہتے کہ ان کا وطن آزاد ہو۔ ‘‘

چنانچہ اس خیال کے زیر اثر اس نے کئی مرتبہ ان دو بیرسٹروں کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھ کر کہا۔

’’ٹو ڈی بچے!‘‘

جب کبھی وہ کسی کو دبی زبان میں ’’ٹوڈی بچہ‘‘ کہتا تو دل میں یہ محسوس کرکے بڑا خوش ہوتا کہ اس نے اس نام کو صحیح جگہ استعمال کیا ہے اور یہ کہ وہ شریف آدمی اور ’’ٹوڈی بچے‘‘ کی تمیز کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس واقعے کے تیسرے روز وہ گورنمنٹ کالج کے تین طلبا کو اپنے تانگے میں بٹھا کر مزنگ جا رہا تھا کہ اس نے ان تین لڑکوں کو آپس میں یہ باتیں کرتے سنا:۔

’’نئے آئین نے میری امیدیں بڑھا دی ہیں اگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صاحب اسمبلی کے ممبر ہو گئے۔ تو کسی سرکاری دفتر میں ملازمت ضرور مل جائے گی۔ ‘‘

’’ویسے بھی بہت سی جگہیں اور نکلیں گی۔ شاید اسی گڑبڑ میں ہمارے ہاتھ بھی کچھ آ جائے۔ ‘‘

’’ہاں ہاں کیوں نہیں۔ ‘‘

’’وہ بے کار گریجویٹ جو مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ان میں کچھ تو کمی ہو گی۔ ‘‘

اس گفتگو نے استاد منگو کے دل میں جدید آئین کی اہمیت اور بھی بڑھا دی۔ وہ اس کو ایسی چیز

’’سمجھنے لگا جو بہت چمکتی ہو‘‘

نیا قانون۔۔۔۔۔۔۔۔

! وہ دن میں کئی بار سوچتا یعنی کوئی نئی چیز!

اور ہر بار اس کی نظروں کے سامنے اپنے گھوڑے کا وہ ساز آ جاتا۔ جو اس نے دو برس ہوئے چودھری خدا بخش سے اچھی طرح ٹھونک بجا کر خریدا تھا۔ اس ساز پر جب وہ نیا تھا۔ جگہ جگہ لوہے کی نِکل کی ہوئی کیلیں چمکتی تھیں اور جہاں جہاں پیتل کا کام تھا وہ تو سونے کی طرح دمکتا تھا۔ اس لحاظ سے بھی ’’نئے قانون‘‘ کا درخشاں و تاباں ہونا ضروری تھا۔ پہلی اپریل تک استاد منگو نے جدید آئین کے خلاف اور اس کے حق میں بہت کچھ سنا۔ مگر اس کے متعلق جو تصور وہ اپنے ذہن میں قائم کر چکا تھا۔ بدل نہ سکا۔ وہ سمجھتا تھا کہ پہلی اپریل کو نئے قانون کے آتے ہی سب معاملہ صاف ہو جائے گا۔ اور اس کو یقین تھا کہ اس کی آمد پر جو چیزیں نظر آئیں گی ان سے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچے گی۔ آخر کار مارچ کے اکتیس دن ختم ہو گئے اور اپریل کے شروع ہونے میں رات کے چند خاموش گھنٹے باقی رہ گئے۔ موسم خلافِ معمول سرد تھا۔ اور ہوا میں تازگی تھی۔ پہلی اپریل کو صبح سویرے استاد منگو اُٹھا اور اصطبل میں جاکر گھوڑے کو جوتا اور باہر نکل گیا۔ اس کی طبیعت آج غیر معمولی طور پر مسرور تھی۔۔۔۔۔۔ وہ نئے قانون کو دیکھنے والا تھا۔ اس نے صبح کے سرد دُھندلکے میں کئی تنگ اور کُھلے بازاروں کا چکر لگایا۔ مگر اسے ہر چیز پرانی نظر آئی۔ آسمان کی طرح پرانی۔ اس کی نگاہیں آج خاص طور پر نیا رنگ دیکھنا چاہتی تھیں۔ مگر سوائے اس کلغی کے جو رنگ برنگ کے پروں سے بنی تھی۔ اور اس کے گھوڑے کے سر پر جمی ہوئی تھی۔ اور سب چیزیں پرانی نظر آتی تھیں۔ یہ نئی کلغی اس نے نئے قانون کی خوشی میں یکم مارچ کو چودھری خدا بخش سے ساڑھے چودہ آنہ میں خریدی تھی۔ گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز، کالی سڑک اور اس کے آس پاس تھوڑا تھوڑا فاصلہ چھوڑ کر لگائے ہوئے بجلی کے کھمبے، دکانوں کے بورڈ، اس کے گھوڑے کے گلے میں پڑے ہوئے گھنگھرو کی جھنجھناہٹ، بازار میں چلتے پھرتے آدمی۔۔۔۔۔۔۔ ان میں سے کون سی چیز نئی تھی؟ ظاہر ہے کہ کوئی بھی نہیں لیکن اُستاد منگو مایوس نہیں تھا۔

’’ابھی بہت سویرا ہے دکانیں بھی تو سب کی سب بند ہیں‘‘

اس خیال سے اُسے تسکین تھی۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی سوچتا تھا۔

’’ہائی کورٹ میں نو بجے کے بعد ہی کام شروع ہوتا ہے۔ اب اس سے پہلے نئے قانون کا کیا نظر آئے گا؟‘‘

جب اس کا تانگہ گورنمنٹ کالج کے دروازے کے قریب پہنچا۔ تو کالج کے گھڑیال نے بڑی رعونت سے نو بجائے۔ جو طلبا کالج کے بڑے دروازے سے باہر نکل رہے تھے۔ خوش پوش تھے۔ مگر استاد منگو کو نہ جانے ان کے کپڑے مَیلے مَیلے سے کیوں نظر آئے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی، کہ اس کی نگاہیں آج کسی خیرہ کن جلوے کا نظارہ کرنے والی تھیں۔ تانگے کو دائیں ہاتھ موڑ کر وہ تھوڑی دیر کے بعد پھر انار کلی میں تھا۔ بازار کی آدھی دکانیں کھل چکی تھیں۔ اور اب لوگوں کی آمدورفت بھی بڑھ گئی تھی۔ حلوائی کی دکانوں پر گاہکوں کی خوب بھیڑ تھی۔ منہاری والوں کی نمائشی چیزیں شیشے کی الماریوں میں لوگوں کو دعوتِ نظارہ دے رہی تھیں۔ اور بجلی کے تاروں پر کئی کبوتر آپس میں لڑ جھگڑ رہے تھے۔ مگر استاد منگو کے لیے ان تمام چیزوں میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔ وہ نئے قانون کو دیکھنا چاہتا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح وہ اپنے گھوڑے کو دیکھ رہا تھا۔ جب اُستاد منگو کے گھر میں بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ تو اس نے چار پانچ مہینے بڑی بے قراری سے گزارے تھے۔ اس کو یقین تھا کہ بچہ کسی نہ کسی دن ضرور پیدا ہو گا مگر وہ نتظار کی گھڑیاں نہیں کاٹ سکتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنے بچے کو صرف ایک نظر دیکھ لے۔ اس کے بعد وہ پیدا ہوتا رہے۔ چنانچہ اسی غیر مغلوب خواہش کے زیرِ اثر اس نے کئی بار اپنی بیمار بیوی کے پیٹ کو دبا دبا کر اور اس کے اوپر کان رکھ کر اپنے بچے کے متعلق کچھ جاننا چاہا تھا مگر ناکام رہا تھا۔ ایک مرتبہ وہ انتظار کرتے کرتے اس قدر تنگ آگیا تھا کہ اپنی بیوی پر برس پڑا تھا:

’’تو ہر وقت مُردے کی طرح پڑی رہتی ہے۔ اُٹھ ذرا چل پھر، تیرے انگ میں تھوڑی سی طاقت تو آئے۔ یوں تختہ بنے رہنے سے کچھ نہ ہو سکے گا۔ تو سمجھتی ہے کہ اس طرح لیٹے لیٹے بچّہ جن دے گی؟‘‘

اُستاد منگو طبعاً بہت جلد باز واقع ہوا تھا۔ وہ ہر سبب کی عملی تشکیل دیکھنے کا خواہش مند تھا بلکہ متجسّس تھا۔ اس کی بیوی گنگاوئی اس کی اس قسم کی بے قراریوں کو دیکھ کر عام طور پر یہ کہا کرتی تھی۔

’’ابھی کنواں کھودا نہیں گیا اور پیاس سے نڈھال ہو رہے ہو۔ ‘‘

کچھ بھی ہو مگر اُستاد منگو نئے قانون کے انتظار میں اتنا بیقرار نہیں تھا۔ جتنا کہ اسے اپنی طبیعت کے لحاظ سے ہونا چاہیے تھا۔ وہ نئے قانون کو دیکھنے کے لیے گھر سے نکلا تھا، ٹھیک اسی طرح جیسے وہ گاندھی یا جواہر لال کے جلوس کا نظارہ کرنے کے لیے نکلا کرتا تھا۔ لیڈروں کی عظمت کا اندازہ اُستاد منگو ہمیشہ ان کے جلوس کے ہنگاموں اور اُن کے گلے میں ڈالے ہوئے پھولوں کے ہاروں سے کیا کرتا تھا اگر کوئی لیڈر گیندے کے پھولوں سے لدا ہوتو استاد منگو کے نزدیک، وہ بڑا آدمی تھا۔ اور اگر کسی لیڈر کے جلوس میں بھیڑ کے باعث دو تین فساد ہوتے ہوتے رہ جائیں۔ تو اس کی نگاہوں میں وہ اور بھی بڑا تھا۔ اب نئے قانون کو وہ اپنے ذہن کے اسی ترازو میں تولنا چاہتا تھا۔ انار کلی سے نکل کر وہ مال روڈ کی چمکیلی سطح پر اپنے تانگے کو آہستہ آہستہ چلا رہا تھا کہ موٹروں کی دکان کے پاس اسے چھاؤنی کی ایک سواری مل گئی۔ کرایہ طے کرنے کے بعد اس نے اپنے گھوڑے کو چابک دکھایا۔ اور دل میں خیال کیا:۔

’’چلو یہ بھی اچھا ہوا۔۔۔۔۔۔۔ شاید چھاؤنی ہی سے نئے قانون کا کچھ پتہ چل جائے۔ ‘‘

چھاؤنی پہنچ کر استاد منگو نے سواری کو اس کی منزل مقصود پر اتاردیا۔ اور جیب سے سگریٹ نکال کر بائیں ہاتھ کی آخری دو انگلیوں میں دبا کر سلگایا۔ اور پچھلی نشست کے گدّے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ جب اُستاد منگو کو کسی سواری کی تلاش نہیں ہوتی تھی۔ یا اُسے کسی بیتے ہوئے واقعے پر غور کرنا ہوتا تھا۔ تو وہ عام طور پر اگلی نشست چھوڑ کر پچھلی نشست پر بڑے اطمینان سے بیٹھ کر اپنے گھوڑے کی باگیں دائیں ہاتھ کے گرد لپیٹ لیا کرتا تھا۔ ایسے موقعوں پر اس کا گھوڑا تھوڑا سا ہنہنانے کے بعد بڑی دھیمی چال چلنا شروع کر دیتا تھا۔ گویا اسے کچھ دیر کے لیے بھاگ دوڑ سے چھٹی مل گئی ہے۔ گھوڑے کی چال اور استاد منگو کے دماغ میں خیالات کی آمد بہت سُست تھی۔ جس طرح گھوڑا آہستہ آہستہ قدم اُٹھا رہا تھا۔ اسی طرح استاد منگو کے ذہن میں نئے قانون کے متعلق نئے قیاسات داخل ہو رہے تھے۔ وہ نئے قانون کی موجودگی میں میونسپل کمیٹی سے تانگوں کے نمبر ملنے کے طریقے پر غور کر رہا تھا۔ وہ اس قابلِ غور بات کو آئینِ جدید کی روشنی میں دیکھنے کی سعی کر رہا تھا۔ وہ اس سوچ بچار میں غرق تھا۔ اُسے یوں معلوم ہوا جیسے کسی سواری نے اُسے بُلایا ہے۔ پیچھے پلٹ کر دیکھنے سے اسے سڑک کے اس طرف دُور بجلی کے کھمبے کے پاس ایک ’’گورا‘‘ کھڑا نظر آیا۔ جو اُسے ہاتھ سے بُلا رہا تھا۔ جیسا کہ بیان کی جا چکا ہے۔ استاد منگو کو گوروں سے بیحد نفرت تھی۔ جب اُس نے اپنے تازہ گاہک کو گورے کی شکل میں دیکھا۔ تو اس کے دل میں نفرت کے جذبات بیدار ہو گئے۔ پہلے تو اس کے جی میں آئی کہ بالکل توجہ نہ دے اور اس کو چھوڑ کر چلا جائے مگر بعد میں اس کو خیال آیا۔ ان کے پیسے چھوڑنا بھی بیوقوفی ہے۔ کلغی پر جو مفت میں ساڑھے چودہ آنے خرچ دئیے ہیں۔ ان کی جیب ہی سے وصول کرنے چاہئیں۔ چلو چلتے ہیں۔ ‘‘

خالی سڑک پر بڑی صفائی سے ٹانگہ موڑ کر اس نے گھوڑے کو چابک دکھایا اور آنکھ جھپکنے میں وہ بجلی کے کھمبے کے پاس تھا۔ گھوڑے کی باگیں کھینچ کر اس نے تانگہ ٹھہرایا اور پچھلی نشست پر بیٹھے بیٹھے گورے سے پوچھا،

’’صاحب بہادر کہاں جانا مانگٹا ہے؟‘‘

اس سوال میں بلا کا طنزیہ انداز تھا، صاحب بہادر کہتے وقت اس کا اوپر کا مونچھوں بھرا ہونٹ نیچے کی طرف کھچ گیا۔ اور پاس ہی گال کے اس طرف جو مدھم سی لکیر ناک کے نتھنے سے ٹھوڑی کے بالائی حصے تک چلی آ رہی تھی، ایک لرزش کے ساتھ گہری ہو گئی، گویا کسی نے نوکیلے چاقو سے شیشم کی سانولی لکڑی میں دھاری ڈال دی ہے۔ اس کا سارا چہرہ ہنس رہا تھا، اور اپنے اندر اس نے اس ’’گورے‘‘ کو سینے کی آگ میں جلا کر بھسم کر ڈالا تھا۔ جب ’’گورے‘‘ نے جو بجلی کے کھمبے کی اوٹ میں ہوا کا رُخ بچا کر سگرٹ سُلگا رہا تھا مڑ کر تانگے کے پائدان کی طرف قدم بڑھایا تو اچانک استاد منگو کی اور اس کی نگاہیں چار ہوئیں۔ اور ایسا معلوم ہوا کہ بیک وقت آمنے سامنے کی بندوقوں سے گولیاں خارج ہوئیں۔ اور آپس میں ٹکرا کر ایک آتشیں بگولا بن کر اوپر کو اڑ گئیں۔ استاد منگو جو اپنے دائیں ہاتھ سے باگ کے بل کھول کر تانگے پر سے نیچے اُترنے والا تھا۔ اپنے سامنے کھڑے ’’گورے‘‘ کو یوں دیکھ رہا تھا گویا وہ اس کے وجود کے ذرّے ذرّے کو اپنی نگاہوں سے چبا رہا ہے۔ اور گورا کچھ اس طرح اپنی نیلی پتلون پر سے غیر مرئی چیزیں جھاڑ رہا ہے، گویا وہ استاد منگو کے اس حملے سے اپنے وجود کے کچھ حصے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گورے نے سگریٹ کا دُھواں نگلتے ہوئے کہا

’’جانا مانگٹا یا پھر گڑبڑ کرے گا؟‘‘

’’وہی ہے‘‘

یہ لفظ استاد منگو کے ذہن میں پیدا ہوئے۔ اور اس کی چوڑی چھاتی کے اندر ناچنے لگے۔

’’وہی ہے۔ ‘‘

اس نے یہ لفظ اپنے منہ کے اندر ہی اندر دُہرائے اور ساتھ ہی اسے پورا یقین ہو گیا۔ کہ وہ گورا جو اس کے سامنے کھڑا تھا۔ وہی ہے جس سے پچھلے برس اس کی جھڑپ ہوئی تھی، اور اس خواہ مخواہ کے جھگڑے میں جس کا باعث گورے کے دماغ میں چڑھی ہوئی شراب تھی۔ اسے طوہاً کرہاً بہت سی باتیں سہنا پڑی تھیں۔ استاد منگو نے گورے کا دماغ درست کر دیا ہوتا۔ بلکہ اس کے پُرزے اُڑا دئیے ہوتے، مگر وہ کسی خاص مصلحت کی بنا پر خاموش ہو گیا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ اس قسم کے جھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور کوچوانوں ہی پر گرتا ہے۔ استاد منگو نے پچھلے برس کی لڑائی اور پہلی اپریل کے نئے قانون پر غور کرتے ہوئے گورے سے کہا۔

’’کہاں جانا مانگٹا ہے؟‘‘

استاد منگو کے لہجے میں چابک ایسی تیزی تھی۔ گورے نے جواب دیا۔

’’ہیرا منڈی‘‘

’’کرایہ پانچ روپے ہو گا۔ استاد منگو کی مونچھیں تھرتھرائیں۔ یہ سن کر گورا حیران ہو گیا۔ وہ چلاّیا۔ پانچ روپے۔ کیا تم۔۔۔۔۔۔؟‘‘

’’ہاں، ہاں، پانچ روپے۔ ‘‘

یہ کہتے ہوئے استاد منگو کا داہنا بالوں بھرا ہاتھ بھنج کر ایک وزنی گھونسے کی شکل اختیار کر گیا۔

’’کیوں جاتے ہو یا بیکار باتیں بناؤ گے؟‘‘

استاد منگو کا لہجہ زیادہ سخت ہو گیا۔ گورا پچھلے برس کے واقعے کو پیش نظر رکھ کر استاد منگو کے سینے کی چوڑائی نظر انداز کر چکا تھا۔ وہ خیال کر رہا تھا کہ اس کی کھوپڑی پھر کھجلا رہی ہے۔ اس حوصلہ افزا خیال کے زیر اثر وہ تانگے کی طرف اکڑ کر بڑھا اور اپنی چھڑی سے استاد منگو کو تانگے پر سے نیچے اُترنے کا اشارہ کیا۔ بید کی یہ پالش کی ہوئی پتلی چھڑی استاد منگو کی موٹی ران کے ساتھ دو تین مرتبہ چھوئی۔ اس نے کھڑے کھڑے اوپر سے پست قد گورے کو دیکھا گویا وہ اپنی نگاہوں کے وزن ہی سے اسے پیس ڈالنا چاہتا ہے۔ پھر اس کا گھونسہ کمان میں سے تیر کی طرح سے اُوپر کو اُٹھا اور چشمِ زدن میں گورے کی ٹھڈی کے نیچے جم گیا۔ دھکا دے کر اس نے گورے کو پرے ہٹایا۔ اور نیچے اتر کر اسے دھڑا دھڑ پیٹنا شروع کر دیا۔ ششدر و متحیر گورے نے ادھر ادھر سمٹ کر استاد منگو کے وزنی گھونسوں سے بچنے کی کوشش کی۔ اور جب دیکھا کہ اس کے مخالف پر دیوانگی کی سی حالت طاری ہے۔ اور اس کی آنکھوں میں سے شرارے برس رہے ہیں۔ تو اس نے زور زور سے چلانا شروع کیا۔ اس کی چیخ پکار نے استاد منگو کی بانہوں کا کام اور بھی تیز کر دیا۔ وہ گورے کو جی بھر کے پیٹ رہا تھا۔ اور ساتھ ساتھ یہ کہتا جاتا تھا:۔

’’پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

’’ہے بچہ؟‘‘

لوگ جمع ہو گئے۔ اور پولیس کے دو سپاہیوں نے بڑی مشکل سے گورے کو استاد منگو کی گرفت سے چھڑایا۔ استاد منگو ان دو سپاہیوں کے درمیان کھڑا تھا اس کی چوڑی چھاتی پھولی سانس کی وجہ سے اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ منہ سے جھاگ بہہ رہا تھا۔ اور اپنی مسکراتی ہوئی آنکھوں سے حیرت زدہ مجمع کی طرف دیکھ کر وہ ہانپتی ہوئی آواز میں کہہ رہا تھا۔ ‘‘

’’وہ دن گزر گئے۔ جب خلیل خاں فاختہ اُڑایا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ اب نیا قانون ہے میاں۔۔۔۔۔۔۔۔ نیا قانون!‘‘

اور بیچارا گورا اپنے بگڑے ہوئے چہرے کے ساتھ بے وقوفوں کے مانند کبھی استاد منگو کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی ہجوم کی طرف۔ استاد منگو کو پولیس کے سپاہی تھانے میں لے گئے۔ راستے میں اور تھانے کے اندر کمرے میں وہ ’’نیا قانون نیا قانون‘‘ چلاّتا رہا۔ مگر کسی نے ایک نہ سُنی۔

’’نیا قانون، نیا قانون۔ کیا بک رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ قانون وہی ہے پرانا!‘‘

اور اس کو حوالات میں بند کر دیا گیا!

سعادت حسن منٹو

نیا سال

کیلنڈر کا آخری پتا جس پر موٹے حروف میں31 دسمبر چھپا ہوا تھا، ایک لمحہ کے اندر اسکی پتلی انگلیوں کی گرفت میں تھا۔ اب کیلنڈر ایک ٹنڈ منڈ درخت سا نظر آنے لگا۔ جسکی ٹہنیوں پر سے سارے پتے خزاں کی پھونکوں نے اُڑا دیے ہوں۔ دیوار پر آویزاں کلاک ٹِک ٹِک کررہاتھا۔ کیلنڈر کا آخری پتا جو ڈیڑھ مربع انچ کاغذ کا ایک ٹکڑا تھا، اس کی پتلی انگلیوں میں یوں کانپ رہا تھا گویا سزائے موت کا قیدی پھانسی کے سامنے کھڑا ہے۔ کلاک نے بارہ بجائے، پہلی ضرب پر انگلیاں متحرک ہوئیں اور آخری ضرب پر کاغذ کا وہ ٹکرا ایک ننھی سی گولی بنا دیا گیا۔ انگلیوں نے یہ کام بڑی بے رحمی سے کیا اور جس شخص کی یہ انگلیاں تھیں اور بھی زیادہ بے رحمی سے اس گولی کو نگل گیا۔ اس کے لبوں پر ایک تیزابی مسکراہٹ پیدا ہُوئی اور اس نے خالی کیلنڈر کی طرف فاتحانہ نظروں سے دیکھا اور کہا۔

’’میں تمہیں کھا گیا ہوں۔ بغیر چبائے نگِل گیا ہُوں۔ ‘‘

اس کے بعد ایک ایسے قہقہے کا شور بلند ہوا جس میں ان توپوں کی گونج دب گئی جو نئے سال کے آغاز پر کہیں دور داغی جارہی تھیں۔ جب تک ان توپوں کا شور جاری رہا، اس کے سوکھے ہوئے حلق سے قہقہے آتشیں لاوے کی طرح نکلتے رہے، وہ بے حد خوش تھا۔ بے حد خوش، یہی وجہ تھی کہ اس پر دیوانگی کا عالم طاری تھا۔ اس کی مسرت آخری درجہ پر پہنچی ہوئی تھی، وہ سارے کا سارا ہنس رہا تھا۔ مگر اس کی آنکھیں رو رہی تھیں اور جب اسکی آنکھیں ہنستیں تو آپ اس کے سکڑے لبوں کو دیکھ کر یہی سمجھتے کہ اس کی روح کسی نہایت ہی سخت عذاب میں سے گزر رہی ہے۔ بار بار وہ نعرہ بلند کرتا۔

’’میں تمہیں کھا گیا ہُوں۔ بغیر چبائے نِگل گیا ہُوں۔ ایک ایک کرکے تین سو چھیاسٹھ دنوں کو، لیپ دن سمیت!‘‘

خالی کیلنڈر اُس کے اس عجیب و غریب دعوے کی تصدیق کررہا تھا۔ آج سے ٹھیک چار برس پہلے جب وہ اپنے کاندھوں پر مصیبتوں کا پہاڑ اُٹھا کر اپنی روٹی آپ کمانے کے لیے میدان میں نکلا تو کتنے آدمیوں نے اس کا مضحکہ اُڑایا تھا۔ کتنے لوگ اس کی

’’ہمت‘‘

پر زیرِ لب ہنستے تھے۔ مگر اس نے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی تھی اور اسے اب بھی کسی کی کیا پروا تھی، اس کو صرف اپنے آپ سے غرض تھی اور بس، دوسروں کی جنت پر وہ ہمیشہ اپنی دوزخ کو ترجیح دیتا رہا تھا۔ اور اب بھی اسی چیز پرپابند تھا۔ وہ ان دنوں گدھوں کی سی مشقت کررہا تھا۔ کُتّوں سے بڑھ کر ذلیل زندگی بسر کررہا تھامگر یہ چیزیں اس کے راستے میں حائل نہ ہوتی تھیں۔ کئی بار اسے ہاتھ پھیلانا پڑا۔ اس نے ہاتھ پھیلایا، لیکن ایک شان کے ساتھ۔ وہ کہا کرتا تھا۔

’’یہ سب بھکاری جو سڑکوں پر جھولیاں پھیلائے اور کشکول بڑھائے پھرتے رہتے ہیں، گولی مار کر اڑا دینے چاہئیں۔ بھِیک لے کر یہ ذلیل کتے شکر گزار نظر آتے ہیں۔ حالانکہ انھیں شکریہ گالیوں سے ادا کرنا چاہیے۔ جو بھیک مانگتے ہیں وہ اتنے لعنتی نہیں جتنے کہ یہ لوگ جو دیتے ہیں۔ دان پُن کے طور پر۔ جنت میں ایک ٹھنڈی کوٹھڑی بُک کرانے والے سوداگر! اس کو کئی مرتبہ روپے پیسے کی امداد حاصل کرنیکی خاطر شہر کے دھنوانوں کے پاس جانا پڑا۔ اُس نے ان دولتمندوں سے امداد حاصل کی۔ انکی کمزوریاں انہی کے پاس بیچ کر!۔ اور اُس نے یہ سودا کبھی اناڑی دکاندار کی خاطر نہیں کیا۔ آپ شہر کی صحت کے محافظ مقرر کیے گئے ہیں۔ لیکن درحقیقت آپ بیماریاں فراہم کرنے کے ٹھیکیدار ہیں۔ حکومت کی کتابوں میں آپ کے نام کے سامنے ہیلتھ آفیسر لکھا جاتا ہے، مگر میری کتاب میں آپ کا نام امراض فروشوں کی فہرست میں درج ہے۔ پرسوں مارکیٹ میں آپ نے سنگتروں کے دو سو ٹوکرے پاس کرکے بھجوائے جو طبی اصول کے مطابق صحت عامہ کے لیے سخت مضر تھے۔ دس روز پہلے آپ نے قریباً دو ہزار کیلوں پر اپنی آنکھیں بند کرلیں جن میں سے ہر ایک ہیضہ کی پُڑیا تھی۔ اور آج آپ نے اُس بوسیدہ اور غلیظ عمارت کو بچا لیا جہاں بیماریاں پرورش پاتی ہیں اور۔ اُسے عام طور پر آگے کہنے کی ضرورت ہی نہ پیش آتی تھی۔ اس لیے کہ اس کا سودا بہت کم گفتگو ہی سے طے ہو جاتا تھا۔ وہ ایک سستے اور بازاری قسم کے اخبار کا ایڈیٹر تھا۔ جس کی اشاعت دو سو سے زیادہ نہ تھی۔ دراصل وہ اشاعت کا قائل ہی نہ تھا۔ وہ کہا کرتا تھا

’’جو لوگ اخبار پڑھتے ہیں بے وقوف ہیں۔ اور جو لوگ اخبار پڑھ کر اس میں لکھی باتوں پر یقین کرتے ہیں۔ سب سے بڑے بیوقوف ہیں۔ جن لوگوں کی اپنی زندگی ہنگامے سے پُر ہو۔ اُن کو اِن چھپے ہُوئے چیتھڑوں سے کیا مطلب؟‘‘

وہ اخبار اس لیے نہیں نکالتا تھا کہ اسے مضامین لکھنے کا شوق تھا۔ یا وہ اخبار کے ذریعے سے شہرت حاصل کرنا چاہتا تھا۔ نہیں، بالکل نہیں۔ ایک دو گھنٹے کی مصروفیت کے سوا جو اس کے اخبار کی اشاعت کے لیے ضروری تھی وہ اپنا بقایا وقت ان خوابوں کی تعبیر دیکھنے میں گزارا کرتا تھا جو ایک زمانہ سے اس کے ذہن میں موجود تھے۔ وہ اپنے لیے ایک ایسا مقام بنانا چاہتا تھا جہاں اسے کوئی نہ چھیڑ سکے۔ جہاں وہ اطمینان حاصل کرسکے۔ خواہ وہ دو سیکنڈ ہی کا کیوں نہ ہو۔

’’جنگ کے میدان میں فتح پر برلبِ گورہی نصیب ہو۔ مگر ہو ضرور۔ اور اگر شکست ہو جائے، پٹنا پڑے تو بھی کیا ہرج ہے۔ شکست کھائیں گے لیکن فتح حاصل کرنیکی کوشش کرتے ہُوئے۔ موت ان کی ہے جو موت سے ڈرکر جان دیں، اور جو زندہ رہنے کی کوشش میں موت سے لپٹ جائیں زندہ ہیں۔ اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ کم از کم اپنے لیے!‘‘

دنیا اُس کے خلاف تھی۔ جو شخص بھی اس سے ملتا تھا اس سے نفرت کرتا تھا۔ وہ خوش تھا۔ نفرت میں محبت سے زیادہ تیزی ہوتی ہے۔ اگر سب لوگ مجھ سے محبت کرنا شروع کردیں تو میں اس پہیے کے مانند ہو جاؤں جس میں اندر باہر، اوپر نیچے سب جگہ تیل دیا گیا ہو۔ میں کبھی اس گاڑی کو آگے نہ دھکیل سکونگا جسے لوگ زندگی کہتے ہیں۔ قریب قریب سب اس کے خلاف تھے۔ اور وہ اپنے ان مخالفین کی طرف یُوں دیکھا کرتا تھا گویا وہ موٹر کے انجن میں لگے ہُوئے پُرزوں کو دیکھ رہا ہے،

’’یہ کبھی ٹھنڈے نہیں ہونے چاہئیں۔ ‘‘

اور اس نے اب تک ان کو ٹھنڈا نہ ہونے دیا تھا۔ وہ اس الاؤ کو جلائے رکھتا تھا۔ جس پر وہ ہاتھ تاپ کر اپنا کام کیا کرتا تھا جس روز وہ اپنے مخالفین میں کسی نئے آدمی کا اضافہ کرتا۔ تو اپنے دل سے کہا کرتا تھا۔

’’آج میں نے الاؤ میں ایک اور سوکھی لکڑی جھونک دی ہے جو دیر تک جلتی رہے گی۔ ‘‘

اُس کے ایک مخالف نے جلسے میں اُس کے خلاف بہت زہر اُگلا۔ اسے بہت بُرا بھلا کہا۔ حتیٰ کہ اسے ننگی گالیاں بھی دیں۔ اس کے مخالف کا خیال تھا کہ یہ سب کچھ سن کر اسے نیند نہ آئے گی۔ مگر اس کے برعکس وہ تو اس روز معمول کے خلاف بہت آرام سے سویا۔ اور اسے خود ساری رات آنکھوں میں کاٹنا پڑی۔ شب بھر اس کا ضمیر اسے ستاتا رہا۔ حتیٰ کہ صبح اٹھ کر وہ اس کے پاس آیا اور بہت بڑے ندامت بھرے لہجہ میں اس سے معذرت طلب کی۔

’’مجھے بہت افسوس ہے کہ میں نے آپ جیسے بلند اخلاق انسان کو برا بھلا کہا۔ گالیاں دیں۔ دراصل۔ دراصل میں نے یہ سب کچھ بہت جلد بازی میں کیا۔ سوچے سمجھے بغیر۔ مجھے اُکسایا گیا تھا۔ میں اپنے کیے پر نادم ہوں۔ اور مجھے اُمید ہے کہ آپ مجھے معاف فرما دیں گے۔ مجھ سے سخت غلطی ہوئی!‘‘

بُلند اخلاق!۔ اسے ا س لفظ اخلاق سے بہت چڑ تھی۔ اخلاق رُخِ انسانیت کا غازہ۔ اخلاق۔ اخلاق اخلاق۔ یعنی یہ نہ کرو، وہ نہ کرو کی بے معنی گردان۔ انسان کی آزادانہ سرگرمیوں پر بٹھایا ہوا سینسر! اس کو معلوم تھا کہ اسکے کمزور دل مخالف نے جھوٹ بولا۔ مگر نہ معلوم اس کے دل میں غصہ کیوں نہ پیدا ہوا۔ بخلاف اس کے اُسے ایسا محسوس ہوا کہ جو شخص اس کے سامنے بیٹھا معافی مانگ رہا ہے اس کی کوئی نہایت ہی عزیز شے فنا ہو گئی ہے۔ وہ غایت درجہ بے رحم تصورکیا جاتا تھا اور اصل میں وہ تھا بھی بے رحم، نرم و نازک جذبات سے اس کا سینہ بالکل پاک تھا۔ مگر اس پتھر پر سے کوئی چیز رینگتی ہُوئی نظر آئی۔ اسے اس شخص پر رحم آنے لگا۔

’’آج تم روحانی طور پر مر گئے ہو۔ اور مجھے تمہاری اِس موت پر افسوس ہے!‘‘

یہ سُن کر اس کے مخالف کو پھر گالیاں دینا پڑیں۔ مگر اُس کے کانوں تک کوئی آواز نہ پہنچ سکی۔ مُدت ہُوئی وہ اس کو کسی دو دراز قبرستان میں دفن کر چکا تھا۔ چار برس سے وہ اسی طرح جی رہا تھا، زبردستی، دنیا کی مرضی کے خلاف۔ بہت سی قوتیں اس کو پسپا کر دینے پر تُلی رہتی تھیں۔ مگر وہ اپنے وجود کا ایک ذّرہ بھی جنگ کے بغیر ان کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ جنگ، جنگ، جنگ۔ ہر مخالف قوت کے خلاف جنگ۔ رحم و ترحم سے ناآشنائی عشق و محبت سے پرہیز۔ امید، خوف اور استقبال سے بیگانگی۔ اور پھر جو ہو سو ہو! چار برس سے وہ زمانے کی تیز و تند ہوا میں ایک تناور اور مضبوط درخت کی طرح کھڑا تھا۔ موسموں کے تغیروتبدل نے ممکن ہے اُس کے جسم پر اثر کیا ہو مگر اس کی روح پر ابھی تک کوئی چیز اثر انداز نہ ہو سکی تھی۔ وہ ابھی تک ویسی ہی تھی۔ جیسی کہ آج سے چار برس پہلے تھی، فولاد کی طرح سخت، یہ سختی قدرت کی طرف سے عطا نہیں کی گئی تھی بلکہ خود اس نے پیدا کی تھی۔ وہ کہتا تھا۔

’’نرم و نازک روح کو اپنے سینے میں دبا کر تم زمانے کی پتھریلی زمین پر نہیں چل سکو گے۔ جو پھول کی پتی سے ہیرے کا جِگر کاٹنا چاہے اسے پاگل خانے میں بند کردینا چاہیے۔ ‘‘

شاعرانہ خیالات کو اس نے انپے دماغ میں کبھی داخل نہ ہونے دیا تھا اور اگر کبھی کبھار غیر ارادی طور پر وہ اس کے دماغ میں پیداہو جاتے تھے تو وہ ان

’’حرامی بچوں‘‘

کا فوراً گلا گھونٹ دیا کرتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا۔

’’میں اُن بچوں کا باپ نہیں بننا چاہتا جو میرے کاندھوں کا بوجھ بن جائیں۔ ‘‘

اس نے اپنے سازِ حیات سے ساری طربیں اُتار دیں تھیں۔ اس نے اس میں سے وہ تمام تار نوچ کر باہر نکال دیئے تھے جن میں سے نرم و نازک سُر نکلتے ہیں۔

’’زندگی کا صرف ایک راز ہے اور وہ رجزہے۔ جو آگے بڑھنے، حملہ کرنے، مرنے اور مارنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اس کے سوا باقی تمام راگنیاں فضول ہیں جو اعضاء پر تھکارٹ طاری کرتی ہیں۔ ‘‘

اس کا دل شباب کے باوجود عشق و محبت سے خالی تھا۔ اسکی نظروں کے سامنے سے ہزار ہا خوبصورت لڑکیاں اور عورتیں گزر چکی تھیں، مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی اُس کے دل پر اثر نہ کیا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا۔

’’اس پتھر میں عشق کی جونک نہیں لگ سکتی!‘‘

وہ اکیلاتھا، بالکل اکیلا۔ کھجُور کے اس درخت کے مانند جو کسی تپتے ہوئے ریگستان میں تنہا کھڑا ہو۔ مگروہ اس تنہائی سے کبھی نہ گھبرایا تھا۔ دراصل وہ کبھی تنہا رہتا ہی نہ تھا۔

’’جب میں کام میں مشغول ہوتا ہُوں تو وہی میرا ساتھی ہوتا ہے۔ اور جب میں اُس سے فارغ ہو جاتا ہوں تو میرے دوسرے خیالات و افکار میرے گردوپیش جمع ہو جاتے ہیں۔ میں ہمیشہ اپنے دوستوں کے جمگٹھے میں رہتا ہو۔ ‘‘

وہ اپنے دن یوں بسر کرتا تھا جیسے آم کھا رہا ہے۔ شام کو جب وہ بستر پر دراز ہوتا تھا تو ایسا محسوس کیا کرتا تھا کہ اس نے دن کو چُوسی ہوئی گٹھلی کے مانند پھینک دیا ہے۔ اگر آپ اُس کے کمرے کی ایک دیوار ہوتے تو کئی بار آپ کے ساتھ یہ الفاظ ٹکراتے جو کبھی کبھی سوتے وقت اس کی زبان سے نکلا کرتے تھے۔

’’آج کا دن کتنا کھٹا تھا۔ اس برس کے ٹوکرے میں اگر بقایا دن بھی اسی قسم کے ہُوئے تو مزا آجائے گا!‘‘

اور راتیں۔ خواہ تاریک ہوں یا منور۔ اس کی نظر میں داشتائیں تھیں۔ جن کو وہ روز طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی بھول جاتا تھا۔ چار برس سے وہ اسی طرح زندگی بسر کررہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایک اونچے چبوترے پربیٹھا ہے۔ ہاتھ میں ہتھوڑا لیے۔ زمانہ کا آہنی فیتہ اس کے سامنے سے گزر رہا ہے اور وہ اس فیتے پر ہتھوڑے کی ضربوں سے اپنا ٹھپہ لگائے جارہا ہے۔ ایک دن جب گزرنے لگتا ہے تو وہ فیتے کو تھوڑی دیر کے لیے تھام لیتا ہے۔ اور پھر اسے چھوڑ کر کہتا ہے۔

’’اب جاؤ، میں تمہیں اچھی طرح استعمال کرچکا ہوں۔ ‘‘

بعض لوگوں کو افسوس ہُوا کرتا ہے کہ ہم نے فلاں کام فلاں وقت پر کیوں نہیں کیا۔ اور یہ پچھتاوا وہ دیر تک محسوس کیا کرتے ہیں۔ مگر اسے آج تک اس قسم کا افسوس یا رنج نہیں ہُوا۔ جو وقت سوچنے میں ضائع ہوتا ہے وہ اس سے بغیر سوچے سمجھے فائدہ اٹھانے کی کوشش کیا کرتا تھا۔ خواہ انجام کار اسے نقصان ہی کیوں نہ پہنچے۔ اگر سوچ سمجھ کرچلنے ہی میں فائدہ ہوتا تو ان پیغمبروں اور نیکوکاروں کی زندگی تکلیفوں اور ناکامیوں سے بھری ہوئی ہرگز نہ ہوتی، جو ہر کام بڑے غور و فکر سے کیا کرتے تھے۔ اگر سوچ بچار کے بعد بھی نقصان ہو۔ یا ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے تو کیا اس سے یہ بہتر نہیں کہ غور و فکر میں پڑنے کے بغیر ہی نتائج کا سامنا کر لیا جائے۔ اسے ان چار برسوں میں ہزارہا ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ صرف منہ ہی نہیں بلکہ اِن کو سر سے پیر تک دیکھنا پڑا تھا مگر وہ اپنے اصول پر اسی طرح قائم تھا جس طرح تُند لہروں میں ٹھوس چٹان کھڑی رہتی ہے۔ آج رات بارہ بجے کے بعد نیا سال اس کے سامنے آرہا تھا۔ اور پرانے سال کو وہ ہضم کرگیا تھا۔ بغیر ڈکار لیے۔ نئے سال کی آمد پر وہ خوش تھا جس طرح اکھاڑے میں کوئی نامور پہلوان اپنے نئے مدِ مقابل کی طرف خم ٹھونک کر بڑھتا ہے۔ اسی طرح وہ نئے سال کے مقابلے میں اپنے ہتھیاروں سے لیس ہو کر کھڑا ہو گیا تھا۔ اب وہ بلند آواز میں کہہ رہا تھا۔

’’میں تم جیسے پہلوانوں کو پچھاڑ چکا ہوں۔ اب تمہیں بھی چاروں شانے چت گِرادونگا۔ ‘‘

جی بھر کر خوشی منانے کے بعد وہ نئے کیلنڈر کی طرف بڑھا جو میلی دیوار پر اوپر کی طرف سمٹ رہا تھا۔ تاریخ نما سے اس نے اوپر کا کاغذ ایک جھٹکے سے علیحدہ کردیا اور کہا۔

’’ذرا نقاب ہٹاؤ تو۔ دیکھو تمہاری شکل کیسی ہے۔ میں ہُوں تمہارا آقا۔ تمہارا مالک۔ تمہارا سب کچھ!‘‘

یکم جنوری کی تاریخ کا پتہ عریاں ہو گیا۔ ایک قہقہہ بُلند ہُوا اور اس نے کہا:۔

’’کل رات تم فنا کردیئے جاؤ گے!‘‘

سعادت حسن منٹو

نِکّی

طلاق لینے کے بعد وہ بالکل نچنت ہو گئی تھی۔ اب وہ ہر روز کی وانتا کِل کِل اور مار کٹائی نہیں تھے۔ نِکی بڑے آرام و اطمینان سے اپنا گزر اوقات کررہی تھی۔ یہ طلاق پورے دس برس کے بعد ہوئی تھی۔ نِکی کا شوہر بہت ظالم تھا۔ پرلے درجے کا نکھٹو اور شرابی کبابی۔ بھنگ چرس کی بھی لت تھی۔ کئی کئی دن بھنگڑ خانوں میں اور تکیوں میں پڑا رہتا تھا۔ ایک لڑکا ہوا تھا۔ وہ پیدا ہوتے ہی مر گیا۔ برس کے بعد ایک لڑکی ہوئی جو زندہ تھی اور اب نو برس کی تھی۔ نِکی سے اس کے شوہر گام کو اگرکوئی دلچسپی تھی تو صرف اتنی کہ وہ اس کو مار پیٹ سکتا تھا۔ جی بھر کے گالیاں دے سکتا تھا۔ طبیعت میں آئے تو کچھ عرصے کے لیے گھر سے نکال دیتا تھا۔ اس کے علاوہ نِکی سے اس کو اور کوئی سروکار نہیں تھا۔ محنت مزدوری کی جب تھوڑی سی رقم نِکی کے پاس جمع ہوتی تھی تو وہ اس سے زبردستی چھین لیتا تھا۔ طلاق بہت پہلے ہو چکی ہوتی۔ اس لیے کہ میاں بیوی کے نباہ کی کوئی صورت ہی نہیں تھی۔ یہ صرف گام کی ضد تھی کہ معاملہ اتنی دیر لٹکا رہا اس کے علاوہ ایک بات یہ تھی کہ نِکی کے آگے پیچھے کوئی بھی نہ تھا۔ ماں باپ نے اس کو ڈولی میں ڈال کر گام کے سپرد کیا اور دو مہینے کے اندر اندر راہی ملک بقا ہوئے جیسے انھوں نے صرف اسی غرض کے لیے موت کو روک رکھا تھا۔ انھیں اپنی بیٹی کو ایک لمبی موت کے لیے گام کے حوالے کرنا تھا۔ بہت دور کے دو ایک رشتہ دار ہوں گے۔ مگر نِکی سے ان کا کوئی واسطہ نہیں تھا۔ انھوں نے خود کو اور زیادہ دور کرلیا تھا۔ گام کیسا ہے، یہ نِکی کے ماں باپ اچھی طرح جانتے تھے۔ ان کی بیٹی ساری عمر روتی رہے گی، یہ بھی ان کو اچھی طرح معلوم تھا۔ مگر انھیں تو اپنی زندگی میں ایک فرض سے سبکدوش ہونا تھا۔ اور ایسے سبکدوش ہوئے کہ سارا بوجھ نِکی کے ناتواں کاندھوں پر ڈال گئے۔ طلاق لینے سے نِکی کا یہ مطلب نہیں تھا کہ کسی شریف سے نکاح کرنا چاہتی تھی۔ دوسری شادی کا اس کو کبھی خیال تک بھی نہ آیا تھا۔ طلاق ہونے کے بعد وہ کیا کرے گی، کیا نہیں کرے گی، اس کے متعلق بھی نِکی نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ اصل میں وہ ہر روز کی بک بک اور جھک جھک سے صرف ایک اطمینان کا سانس لینا چاہتی تھی۔ اس کے بعد جو ہونے والا تھا اس کو نِکی بخوشی برداشت کرنے کے لیے تیار تھی۔ لڑائی جھگڑے کا آغاز تو پہلے روز ہی سے ہو گیا تھا۔ جب نِکی دولہن بن کر گام کے گھرگئی تھی۔ لیکن طلاق کا سوال اس وقت پیدا ہوا تھا۔ جب وہ گام کے سدھار کے لیے دعائیں مانگ مانگ کر عاجز آگئی تھی اور اس کے ہاتھ اپنی یا اس کی موت کے لیے اٹھنے لگے تھے۔ جب یہ حیلہ بھی بے اثر ثابت ہوا تو اس نے اپنے شوہر کی منت سماجت شروع کی کہ وہ اسے بخش دے اور علیحدہ کردے، مگرقدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ دس برس کے بعد تکیے میں ایک ادھیڑ عمر کی میراثن سے گام کی آنکھ لڑی اور ایک دن اس کے کہنے پر اس نے نِکی کو طلاق دے دی اور بیٹی پر بھی اپنا کوئی حق نہ جتایا۔ حالانکہ نِکی کو اس بات کا ہمیشہ د ھڑکا رہتا تھا کہ اگر اس کا شوہر طلاق پر راضی بھی ہو گیا تو وہ بیٹی کبھی اس کے حوالے نہیں کرے گا۔ بہرحال نِکی نچنت ہو گئی۔ اور ایک چھوٹی سی کوٹھڑی کرائے پر لے کر چین کے دن گزارنے لگی۔ اس کے دس برس اداس خاموشی میں گزرے تھے۔ دل میں ہر روز اس کے بڑے بڑے طوفان جمع ہوتے تھے مگر وہ خاوند کے سامنے اف تک نہیں کرسکتی تھی۔ اس لیے کہ اسے بچپن ہی سے یہ تعلیم ملی تھی کہ شوہر کے سامنے بولنا ایسا گناہ ہے جو کبھی بخشا ہی نہیں جاتا۔ اب وہ آزاد تھی اس لیے و ہ چاہتی تھی کہ اپنے دس برس کی بھڑاس کسی نہ کسی طرح نکالے۔ چنانچہ ہمسایوں سے اس کی اکثر لڑائی بھڑائی ہونے لگی۔ معمولی توں توں میں میں ہوتی جو گالیوں کی جنگ میں تبدیل ہو جاتی۔ نِکی پہلے جس قدر خاموش تھی۔ اب اسی قدر اس کی زبان چلتی تھی۔ منٹا منٹی میں وہ اپنے مدمقابل کی ساتوں پیڑھیاں پُن کر رکھ دیتی۔ ایسی ایسی گالیاں اور سٹھنیاں دیتی کہ حریف کے چھکے چھوٹ جاتے۔ آہستہ آہستہ سارے محلے پر نِکی کی دھاک بیٹھ گئی۔ یہاں کاروباری قسم کے مرد رہتے تھے۔ جو صبح سویرے اٹھ کر کام پر نکل جاتے اور رات دیر سے گھر لوٹتے۔ سارے دن میں عورتوں میں جو لڑائی جھگڑا ہوتا۔ اس سے وہ مرد بالکل الگ تھلگ رہتے تھے۔ ان میں سے شاید کسی کو پتا بھی نہیں تھا کہ نِکی کون ہے اور محلے کی ساری عورتیں اس سے کیوں دبتی ہیں۔ چرخہ کات کر، بچوں کے لیے گڑے گڑیاں بنا کر اور اسی طر کے چھوٹے موٹے کام کرکے وہ گزر اوقات کے لیے کچھ نہ کچھ پیدا کرلیتی تھی۔ طلاق لیے اسے قریب قریب ایک برس ہو چلا تھا۔ اس کی بیٹی بھولی اب گیارہ کے لگ بھگ تھی اور بڑی سرعت سے جوان ہورہی تھی، نِکی کو اس کے شادی بیاہ کی بہت فکر تھی۔ اس کے اپنے زیور تھے۔ جو ایک ایک کرکے گام نے چٹ کرلیے تھے۔ ایک صرف ناک کی کیل باقی رہ گئی تھی۔ وہ بھی گھس گھسا کر آدھی رہ گئی تھی۔ اسے بھولی کا پورا جہیز بنانا تھا اور اس کے لیے کافی روپیہ درکار تھا۔ تعلیم تھی، وہ اس نے اپنی طرف سے ٹھیک دی تھی۔ قرآن ختم کرادیا تھا۔ معمولی حرف شناسی کرلیتی تھی۔ کھانا پکانا خوب آتا تھا۔ گھر کے دوسرے کام کاج بھی اچھی طرح جانتی تھی۔ چونکہ نِکی کو اپنی زندگی میں بہت تلخ تجربہ ہوا تھا۔ اس لیے اس نے بھولی کو خاوند کا اطاعت گزارہونے کے لیے کبھی اشارتاً بھی نہیں کہا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کی بیٹی سسرال میں چھڑکھٹ پربیٹھی راج کرے۔ ماں کے ساتھ جو کچھ بیتا تھا اس بپتا کا سارا حال بھولی کو معلوم تھا مگر ہمسایوں کے ساتھ جب نِکی کی لڑائی ہوتی تھی۔ تو وہ پانی پی پی کر اسے کوستی تھیں اور یہ طعنہ دیتی تھیں کہ وہ مطلقہ ہے جس کو خاوند نے صرف اس لیے علیحدہ کیا تھا کہ اس غریب کا نام میں دم کر رکھا تھا۔ اور بہت سی باتیں اپنی ماں کے کردار و اطوار کے متعلق اس کی سماعت میں آتی تھیں۔ مگر وہ خاموش رہتی تھی۔ بڑے بڑے معرکے کی لڑائیاں ہوتیں مگر وہ کان سمیٹے اپنے کام میں لگی رہتی۔ جب سارے محلے پر نِکی کی دھاک بیٹھ گئی تو کئی عورتوں نے مرعوب ہو کر اس کے پاس آنا جانا شروع کردیا۔ کئی اس کی سہیلیاں بن گئیں۔ جب ان کی اپنی کسی پڑوسن سے لڑائی ہوتی تو نِکی ساتھ دیتی اور ہر ممکن مدد کرتی۔ اسکے بدلے میں اس کو کبھی قمیض کے لیے کپڑا مل جاتا تھا۔ کبھی پھل، کبھی مٹھائی اور کبھی کبھی کوئی بھولی کے لیے سوٹ بھی سلوا دیتا تھا۔ لیکن جب نِکی نے دیکھا کہ ہر دوسرے تیسرے دن اسے محلے کی کسی نہ کسی عورت کی لڑائی میں شریک ہونا پڑتا ہے اور اس کے کام کاج کا حرج ہوتا ہے تو اس نے پہلے دبی زبان سے پھر کھلے لفظوں میں اپنا معاوضہ مانگنا شروع کردیا۔ اور آہستہ آہستہ اپنی فیس بھی مقرر کرلی۔ معرکے کی جنگ ہو تو پچیس روپے۔ دن زیادہ لگیں تو چالیس۔ معمولی چخ کے صرف چار روپے اور دو وقت کا کھانا۔ درمیانے درجے کی لڑائی کے پندرہ روپے۔ کسی کی سفارش ہو تو وہ کچھ رعایت بھی کردیتی تھی۔ اب چونکہ اس نے دوسروں کی طرف سے لڑنا اپنا پیشہ بنا لیا تھا۔ اس لیے اُسے محلے کی تمام عورتوں اور ان کی بہو بیٹیوں کے تمام فضیحتے یاد رکھنے پڑتے تھے۔ ان کا تمام حسب و نسب معلوم کرکے اپنی یادداشت میں محفوظ کرنا پڑتا تھا۔ مثال کے طور پر اس کو معلوم تھا کہ اونچی حویلی والی سوداگر کی بوی جو اپنی ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتی، ایک موچی کی بیٹی ہے اس کا باپ شہرمیں لوگوں کے جوتے گانٹھتا پھرتا تھا اور اس کا خاوند جو جناب شیخ صاحب کہلاتا ہے معمولی قصائی تھا۔ اسکے باپ پر ایک رنڈی مہربان ہو گئی تھی۔ وہ اسی کے بطن سے تھا اور یہ اونچی حویلی اس طوائف نے اپنے یار کو بنوا کر دی تھی۔ کس لڑکی کا کس کے ساتھ معاشقہ ہے۔ کون کس کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ کون کتنے حمل گرا چکی ہے۔ اس کا حساب سب نِکی کو معلوم تھا۔ یہ تمام معلومات حاصل کرنے میں وہ کافی محنت کرتی تھی۔ کچھ مصالحہ اس کو اپنے موکلوں سے مل جاتا تھا۔ اسے اپنی معلومات کے ساتھ ملا کر وہ ایسے ایسے بم بناتی کہ مد مقابل کے چھکے چھوٹ جاتے تھے۔ ہوشیار وکیلوں کی طرح وہ سب سے وزنی ضرب صرف اسی وقت استعمال کرتی تھی۔ جب لوہا پوری طرح سرخ ہوتا۔ چنانچہ یہ ضرب سولہ آنے فیصلہ کن ثابت ہوتی تھی۔ جب وہ اپنے موکل کے ساتھ کسی محاذ پر جاتی تھی تو گھر سے پوری طرح کیل کانٹے سے لیس ہو کے جاتی تھی، طعنے مہنوں اور گالیوں اور سٹھنیوں کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف اشیاء بھی استعمال کرتی تھی۔ مثال کے طور پر گھسا ہوا جوتا۔ پھٹی ہوئی قمیض۔ چمٹا۔ پھکنی وغیرہ وغیرہ۔ کوئی خاص تشبیہہ دینی ہو یا کوئی خاص الخاص اشارہ یا کہنا یہ مطلوب ہو تو وہ اس غرض کے لیے کار آمد شے گھر ہی سے لے کر چلتی تھی۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ آج وہ جنتے کے لیے خیراں سے لڑی ہے۔ تو دو ڈھائی مہینے کے بعد اسی خیراں سے ڈبل فیس لے کر اسے جنتے سے لڑنا پڑتا تھا۔ ایسے موقعوں پر وہ گھبراتی نہیں تھی۔ اسے اپنے فن میں اس قدر مہارت ہو گئی تھی اور اس کی پریکٹس میں وہ اتنی مخلص تھی کہ اگر کوئی فیس دیتا تووہ اپنی بھی دھجیاں بکھیر دیتی۔ نِکی اب فارغ البال تھی۔ ہر مہینے اسے اب اتنی آمدن ہونے لگی تھی کہ اس نے پس انداز کرکے اپنی بیٹی بھولی کا جہیز بنانا شروع کردیا تھا۔ تھوڑے ہی عرصے میں اتنے گہنے پاتے اور کپڑے لتے ہوئے گئے تھے کہ وہ کسی بھی وقت اپنی بیٹی کو ڈولی میں ڈال سکتی تھی۔ اپنے ملنے والیوں سے وہ بھولی کے لیے کوئی اچھا سا بر تلاش کرنے کی بات کئی مرتبہ کر چکی تھی۔ شروع شروع میں تو اس کو کوئی اتنی جلدی نہیں تھی، مگر بھولی سولہ برس کی ہو گئی۔ لوٹھا کی لوٹھا۔ قد کاٹھ کی چونکہ اچھی تھی۔ اس لیے چودھویں برس ہی میں پوری جوان عورت بن گئی تھی۔ سترھویں میں تو ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کی چھوٹی بہن ہے۔ چنانچہ اب نِکی کو دن رات اس کے بیاہ کی فکر ستانے لگی۔ نِکی نے بڑی دوڑ دھوپ کی۔ کوئی صاف انکار تو نہیں کرتا تھا۔ مگر دل سے حامی بھی نہیں بھرتا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ ہو نہ ہو لوگ اس سے ڈرتے ہیں۔ اس کی یہ صفت کہ لڑنے کے فن میں اپنا جواب نہیں رکھتی تھی۔ دراصل اس کے آڑے آرہی تھی۔ بعض گھروں میں تو وہ خود ہی سلسلہ جنیانی نہ کرتی کہ اس کی کسی عورت کا اس نے کبھی ناطقہ بند کیا تھا۔ دن پر دن چڑھتے جارہے تھے۔ اور گھر میں پہاڑ سی جوان بیٹی کنواری بیٹھی تھی۔ نِکی کو اپنے پیشے سے اب گھن آنے لگی اس نے سوچا کہ ایسا ذلیل کام کیوں اس نے اختیار کیا۔ مگر وہ کیا کرتی، محلے میںآرام چین کی جگہ پیدا کرنے کے لیے اسے پڑوسنوں کا مقابلہ کرنا ہی تھا۔ اگر وہ نہ کرتی تو اسے دب کے رہنا پڑتا۔ پہلے خاوند کے جوتے کھاتی تھی، پھر ان کی پیزار کی غلامی کرنی پڑی۔ یہ عجیب بات تھی کہ برسوں دبیل رہنے کے بعد جب اس نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا اور مخالف قوتوں کا مقابلہ کرکے ان کو شکست دی، یہ قومیں جھک کر اس کی امداد کی طالب ہوئیں کہ دوسری قوتوں کو شکست دیں اور اُس کو اس امداد پر کچھ اس طرح راغب کیا گیا کہ اس کوچسکا ہی پڑ گیا۔ اس کے متعلق وہ سوچتی تو اس کا دل نہ مانتا تھا۔ کیوں کہ اس نے صرف بھولی کی خاطر اس پیشے کوجسے اب لوگ ذلیل سمجھنے لگے تھے اختیار کیا تھا۔ یہ بھی کم عجیب چیز نہیں تھی۔ نِکی کو روپے دے کر کسی عورت پر انگلی رکھ دی جاتی تھی۔ اور اس سے کہا جاتا تھا کہ وہ اس کی ساتوں پیڑھیاں پن ڈالے۔ اس کے آباؤ اجداد کی ساری کمزوریاں ماضی کے ملبے سے کرید کرید کر نکالے اور اس کے وجود پر چھید کردے۔ نِکی یہ کام بڑی ایمانداری سے کرتی وہ گالیاں جو ان کے منہ میں ٹھیک نہیں بیٹھی تھیں اپنے منہ میں بٹھائی۔ ان کی بہو بیٹیوں کے عیوب پر پردے ڈال کر وہ دوسروں کی بہو بیٹیوں میں کیڑے ڈالتی۔ غلیظ سے غلیظ گالیاں اپنے ان موکلوں کی خاطر خود بھی کھاتی۔ پر اب کہ اس کی بیٹی کے بیاہ کا سوال آیا تھا وہ کمینی نیچ اور رذیل بن گئی تھی۔ ایک دو مرتبہ تو اس کے جی میں آئی کہ محلے کی ان تمام عورتوں کو جنہوں نے اس کی بیٹی کو رشتہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ بیچ چوراہے میں جمع کرے اور ایسی گالیاں دے کہ ان کے دل کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں مگر وہ سوچتی کہ اگر اس نے یہ غلطی کردی تو غریب بھولی کا مستقبل بالکل تیرہ و تار ہو جائے گا۔ جب چاروں طرف سے مایوسی ہوئی تو نِکی نے شہر چھوڑنے کا ارادہ کرلیا ایک طرف یہی راستہ تھا۔ جس سے بھولی کی شادی کا کٹھن مرحلہ طے ہو سکتاتھا چنانچہ اس نے ایک روز بھولی سے کہا۔

’’بیٹا، میں نے سوچا ہے کہ اب کسی اور شہر میں جا رہیں۔ ‘‘

بھولی نے چونک کر پوچھا۔

’’کیوں ماں!‘‘

’’بس اب یہاں رہنے کو جی نہیں چاہتا۔ ‘‘

نِکی نے اس کی طرف ممتا بھری نظروں سے دیکھا اور کہا۔

’’تیرے بیاہ کی فکر میں گُھلی جارہی ہوں۔ یہاں بیل منڈھے نہیں چڑھے گی۔ تیری ماں کو سب رذیل سمجھتے ہیں۔ ‘‘

بھولی کافی سیانی تھی، فوراً نِکی کا مطلب سمجھ گئی اس نے صرف اتنا کہاں

’’ہاں ماں!‘‘

نِکی کو ان دو لفظوں سے سخت صدمہ پہنچا۔ بڑے دکھی لہجے میں اس نے بھولی سے سوا کیا۔

’’کیا تو بھی مجھے رذیل سمجھتی ہے؟‘‘

بھولی نے جواب نہ دیا اور آٹا گوندھنے میں مصروف ہو گئی۔ اُس دن نِکی نے عجیب عجیب باتیں سوچیں۔ اس کے سوال کرنے پر بھولی خاموش کیوں ہو گئی تھی۔ کیا وہ اسے واقعی رذیل سمجھتی ہے کیا وہ اتنا بھی نہ کہہ سکتی تھی کہ

’’نہیں ماں‘‘

کیا یہ باپ کے خون کا اثر تھا؟ بات میں سے بات نکل آتی اور وہ بہت بری طرح ان میں الجھ جاتی۔ اسے بیتے ہوئے دس برس یاد آتے۔ بیاہی زندگی کے دس برس جس کا ایک ایک دن مار پیٹ اور گالی گلوچ سے بھرا تھا۔ پھر وہ اپنی نظروں کے سامنے مطلقہ زندگی کے دن لاتی۔ ان میں بھی گالیاں ہی گالیاں تھیں جو وہ پیسے کی خاطر دوسروں کو دیتی رہی تھی۔ تھک ہ ار کر وہ بعض اوقات کوئی سہارا ٹٹولنے لگتی اور سوچتی، کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ طلاق نہ لیتی۔ آج بیٹی کا بوجھ گام کے کندھوں پر ہوتا۔ نکھٹو تھا۔ پرلے درجے کا ظالم تھا۔ عیبی تھا۔ مگر بیٹی کے لیے ضرور کچھ نہ کچھ کرتا۔ یہ اس کے عجز کی انتہا تھی۔ پرانی ماریں، اور ان کے دبے ہوئے درد اب آہستہ آہستہ نِکی کے جوڑوں میں ابھرنے لگے۔ پہلے اس نے کبھی اُف تک نہیں کی تھی۔ بر اپ اٹھتے بیٹھتے ہائے ہائے کرنے لگی۔ اس کے کانوں میں ہر وقت ایک شور سا برپا ہونے لگا۔ جیسے ان کے پردوں پر وہ تمام گالیاں اور سٹھنیاں ٹکرا رہی ہیں جو ان گنت لڑائیوں میں اس نے استعمال کی تھیں۔ عمر اس کی زیادہ نہیں تھی۔ چالیس کے لگ بھگ تھی۔ مگر اب نِکی کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ بوڑھی ہو گئی ہے اس کی کمر جواب دے چکی ہے اس کی زبان جو قینچی کی طرح چلتی تھی۔ اب کُند ہو گئی ہے۔ بھولی سے گھر کے کام کاج کے متعلق معمولی سی بات کرتے ہوئے اس کو مشقت کرنی پڑتی تھی۔ نِکی بیمار پڑ گئی اور چارپائی کے ساتھ لگ گئی۔ شروع شروع میں تووہ اس بیماری کا مقابلہ کرتی رہی۔ بھولی کو بھی اس نے خبر نہ ہونے دی کہ اندر ہی اندر کونسی دیمک اسے چاٹ رہی ہے۔ لیکن ایک دم وہ ایسی نڈھال ہوئی کہ اس سے اٹھا تک نہ گیا۔ بھولی کو بہت تشویش ہوئی۔ اس نے حکیم کو بلایا۔ جس نے نبض دیکھ کر بتایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں، پرانا بخار ہے۔ علاج سے دور ہو جائیگا۔ علاج باقاعدہ ہوتا رہا۔ بھولی سعادت مند بیٹیوں کی طرح ماں کی ہر ممکن خدمت بجا لا رہی تھی۔ اس سے نِکی کے دکھی دل کو کافی تسکین ہوتی تھی۔ مگر مرض دور نہ ہوا۔ بخار پہلے سے تیز ہو گیا۔ اور آہستہ آہستہ نِکی کی بھوک غائب ہو گئی۔ جس کے باعث وہ بہت ہی لاغر اور نحیف ہو گئی۔ عورتوں میں ایک خداداد وصف ہوتا ہے کہ مریض کی شکل دیکھ کرہی پہچان لیتی ہیں کہ وہ کتنے دن کا مہمان ہے ایک دو عورتیں جب بیمار پرسی کے لیے نِکی کے پاس آئیں تو انھوں نے اندازہ لگایا کہ وہ بمشکل دس روز نکالے گی چنانچہ یہ بات سارے محلے کو معلوم ہو گئی۔ کوئی بیمارہو۔ مرنے کے قریب ہو۔ تو عورتوں کے لیے ایک اچھی خاصی تفریح کا بہانہ نکل آتا ہے۔ گھر سے بن سنور کر نکلتی ہیں اور مریض کے سرہانے بیٹھ کر اپنے تمام مرحوم عزیزوں کو یاد کرتی ہیں ان کی بیماریوں کا ذکر ہوتا ہے وہ تمام علاج بیان کیے جاتے ہیں جو لاعلاج ثابت ہوئے تھے۔ گفتگو کا رخ پلٹ کر قمیضوں کے نئے ڈیزائنوں کی طرف آجاتا ہے۔ نِکی ایسی باتوں سے بہت گھبراتی تھی۔ لیکن وہ خود چونکہ مریضوں کے سرہانے ایسی ہی باتیں کرتی رہی تھی اس لیے مجبوراً اسے یہ خرافات سننی پڑتی تھی۔ ایک روز جب محلے کی بہت سی عورتیں اس کے گھر میں جمع ہو گئیں تو اس احساس نے اس کو بہت مضطرب کیا کہ اب اس کا وقت آچکا ہے ان میں سے ہر ایک چہرے پر یہ فیصلہ مرقوم تھا کہ نِکی کے دروازے پر موت دستک دے رہی ہے۔ جو عورت آتی۔ اپنے ساتھ یہ کھٹ کھٹ لاتی تنگ آکر کئی دفعہ نِکی کے جی میں آئی کہ کنڈی کھول دے اور دستک دینے والے فرشتے کو اندر بلالے۔ ان بیمار پرس عورتوں کو سب سے بڑا افسوس بھولی کا تھا۔ نِکی سے وہ بار بار اس کا ذکر کرتیں کہ ہائے اس بیچاری کا کیا ہو گا۔ دنیا میں غریب کی صرف ایک ماں ہے۔ وہ بھی چلی گئی تو اس کا کیا ہو گا۔ پھر وہ اللہ میاں سے دعا کرتیں کہ وہ نِکی کی زندگی میں چند دنوں کا اضافہ کردے تا کہ وہ بھولی کی طرف سے مطمئن ہوکر مرے۔ نِکی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ دعا بالکل جھوٹی ہے۔ انھیں بھولی کا اتنا خیال ہوتا تو وہ اس کے رشتے سے انکار کیوں کرتیں۔ صاف انکار نہیں کیا تھا۔ اس لیے کہ یہ دُنیا داری کے اصول کے خلاف تھا۔ مگر کسی نے حامی نہیں بھری تھی۔ وہ چھوٹا سا کمرہ جس میں نِکی چارپائی پر پڑی تھی، بیمار پرس عورتوں سے بھرا ہوا تھا۔ بھولی نے ان کے بیٹھنے کا انتظام ایسا معلوم ہوتا ہے پہلے ہی سے کر رکھا تھا۔ پیڑھیاں کم تھیں، اس لیے اس نے کھجور کے پتوں کی چٹائی بچھا دی تھی۔ بھولی کے اس اہتمام و انتظام سے نِکی کو بڑا صدمہ پہنچا تھا گویا وہ بھی دوسری عورتوں کی طرح اس کی موت کے استقبال کے لیے تیار تھی۔ بخار تیز تھا، دماغ تپا ہوا تھا۔ نِکی نے اوپر تلے بہت سی تکلیف دہ باتیں سوچیں تو بخار اور زیادہ تیز ہو گیا اور اس پر ہذیانی کیفیت طاری ہو گئی۔ جلدی جلدی بے جوڑ باتیں کرنے لگی۔ بیمار پرس عورتوں نے معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ وہ جو اٹھ کر جانے والی تھیں نِکی کا وقت قریب دیکھ کر بیٹھ گئیں۔ نِکی بکے جارہی تھی۔ ایسا معلوم تھا کہ وہ کسی سے لڑ رہی ہے۔

’’میں تیری ہشت پشت کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ جو کچھ تو نے میرے ساتھ کیا ہے۔ وہ کوئی دشمن کے ساتھ بھی نہیں کرتا۔ میں نے اپنے خاوند کی دس برس غلامی کی۔ اس نے مار مار کر میری کھال اور ادھیڑ دی۔ پر میں نے اُف تک نہ کی۔ اب تو نے۔ اب تو نے مجھ پر یہ ظلم شروع کیے ہیں۔ ‘‘

پھر وہ کمرے میں جمع شدہ عورتوں کو پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھتی۔

’’تم۔ تم یہاں کیا کرنے آئی ہو۔ نہیں نہیں۔ میں کسی فیس پر بھی لڑنے کے لیے تیار نہیں۔ تم میں سے ہر ایک کے عیب وہی ہیں۔ پرانے۔ صدیوں کے پرانے جو کیڑے۔ جو کیڑے پھاماں میں ہیں وہی تم سب میں ہیں۔ تم میں سے قریب قریب ہر ایک کا خصم رنڈی باز ہے۔ جو بری بیماری پھاتو کے خاوند کو لگی ہے۔ وہی جنتے کے گھر والے کو چمٹی ہوئی ہے۔ تم سب کوڑھی ہو۔ اور یہ کوڑھ تم نے مجھے بھی دے دیا ہے۔ لعنت ہو تم سب پر خدا کی۔ خدا کی۔ خدا۔ ‘‘

اور وہ ہنسنے لگتی۔

’’میں اس خدا کو بھی جانتی ہوں۔ اس کی ہشت پشت کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ یہ کیا دنیا بنائی ہے تو نے۔ یہ دنیا جس میں گام ہیں۔ جس میں پھاماں ہے جو اپنے خاوند کو چھوڑ کر دوسروں کے بستر گرم کرتی ہے۔ اور مجھے فیس دیتی ہے۔ بیس روپے گن کر میرے ہاتھ پر رکھتی ہے کہ میں نورفشاں کے پرانے یارانوں کا پول کھولوں۔ اور فشاں میرے پاس آتی ہے کہ نکی یہ پانچ زیادہ لو اور جاؤ امینہ سے لڑو۔ وہ مجھے ستاتی ہے۔ یہ کیا چکر چلایا ہوا ہے تو نے اپنی دنیا میں۔ میرے سامنے آ۔ ذرا میرے سامنے آ۔ ‘‘

آواز نِکی کے حلق میں رکنے لگی۔ تھوڑی دیر کے بعد گھنگرو بجنے لگا۔ تشنج سے وہ پیچ وہ تاب کھا رہی تھی اور ہذیانی کیفیت میں چلا رہی تھی۔

’’گام مجھے نہ مار۔ اوگام۔ اور خدا مجھے نہ مار۔ او خدا۔ اوگام‘‘

او خدا او گام بڑبڑاتی آخر نِکی بیمار پرس عورتوں کے اندازے کے عین مطابق مر گئی۔ بھولی جو ان عورتوں کی خاطر داری میں مصروف تھی۔ پانی کا گلاس ہاتھ سے گرا کر دھڑا دھڑ اپنا سر پیٹنے لگی۔ 14-15 اکتوبر1951ء

سعادت حسن منٹو

نواب سلیم اللہ خان

نواب سلیم اللہ خاں بڑے ٹھاٹ کے آدمی تھے۔ اپنے شہر میں ان کا شمار بہت بڑے رئیسوں میں ہوتا تھا۔ مگر وہ اوباش نہیں تھے، نہ عیش پرست، بڑی خاموش اور سنجیدہ زندگی بسر کرتے تھے۔ گنتی کے چند آدمیوں سے ملنا اور بس وہ بھی جو اُن کی پسند کے ہیں۔ دعوتیں عام ہوتی تھیں۔ شراب کے دور بھی چلتے تھے مگر حدِ اعتدال تک۔ وہ زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال کے قائل تھے۔ اُن کی عمر پچپن برس کے لگ بھگ تھی۔ جب وہ چالیس بھر کے تھے تواُن کی بیوی دل کے عارضے کے باعث انتقال کرگئی ان کو بہت صدمہ ہوا۔ مگر مشیتِ ایزدی کو یہی منظور تھا۔ چنانچہ اس صدمے کوبرداشت کرلیا۔ اُن کے اولاد نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے وہ بالکل اکیلے تھے۔ بہت بڑی کوٹھی جس میں وہ رہتے تھے چار نوکر تھے جو اُن کی آسائش کا خیال رکھتے اور مہمانوں کی تواضع کرتے۔ اپنی بیوی کی وفات کے پندرہ برس بعد اچانک اُن کا دل اپنے وطن سے اُچاٹ ہو گیا انھوں نے اپنے چہیتے ملازم معظم علی کو بُلایا اور اُس سے کہا

’’دیکھو کوئی ایسا ایجنٹ تلاش کرو جو ساری جائیداد مناسب داموں پربکوادے۔ ‘‘

معظم علی بہت حیران ہوا۔

’’نواب صاحب! آپ یہ کیا فرما رہے ہیں۔ حضور کو کس بات کی کمی ہے جو اپنی ساری جائیداد بیچنا چاہتے ہیں۔ آپ کے سر پر کوئی قرض بھی نہیں۔ ‘‘

نواب صاحب نے بڑی سنجیدگی سے کہا

’’معظم علی اس ماحول سے ہمارا جی اُکتا گیا ہے۔ ۔ ایک ایک گھڑی، ایک ایک برس معلوم ہوتی ہے۔ میں یہاں سے کہیں اور جانا چاہتا ہوں۔ ‘‘

’’کہاں جائیے گا حضور؟‘‘

میرا خیال ہے بمبئی جاؤں گا۔ جب میں ولایت سے واپس آیا تھا تو مجھے یہ شہر پسند آیا تھا۔ اس لیے ارادہ ہے کہ میں وہیں جاکے رہوں۔ تم میری جائیداد فروخت کرنے کا بندوبست کرو۔ ‘‘

جائداد فروخت کرنے میں ایک مہینہ لگ گیا۔ ساڑھے دس لاکھ وصول ہوئے۔ نواب صاحب کے بنک میں دو اڑھائی لاکھ تھے۔ جو ساڑھے دس لاکھ وصول ہوئے وہ انھوں نے اپنے بنک میں جمع کروادیے۔ اور نوکروں کو انعام و اکرام دے کر رخصت کیا اور خود اپنا ضروری سامان لے کربمبئی روانہ ہو گئے۔ وہاں پہنچ کر وہ تاج محل ہوٹل میں رہے۔ لیکن وہ کشادہ جگہ کے عادی تھے۔ اس لیے انھوں نے تھوڑے ہی عرصے کے بعد باندرہ میں ایک مکان خرید لیا اور اس کو مناسب و موزوں طریقے سے سجا کر اُس میں رہنے لگے۔ ایک دو ماہ کے اندر اندر ہی ان کی وہاں کافی واقفیت ہو گئی۔ ریڈیو کلب کے ممبربن گئے۔ جہاں اونچی سوسائٹی کے لوگ ہر شام کو جمع ہوتے وہ برج کھیلتے اور اپنی نئی کار میں واپس آجاتے۔ اُن کو باہر کا کھاناپسند نہیں تھا۔ گھر میں وہ اپنی منشا کے مطابق کھانا پکواتے۔ باورچی اچھا مل گیا تھا اس لیے وہ اپنے دوستوں کو ایک ہفتے میں ضرور کھانے پر مدعو کرتے تھے۔ ایک دن انھوں نے سوچا کہ یہاں بمبئی میں اچھی سے اچھی گورنس مل سکتی ہے۔ عورتیں زیادہ تن دہی اور نفاست سے کام کرتی ہیں۔ ان میں ایک خاص سلیقہ اور قرینہ ہوتا ہے وہ گھر کی دیکھ بھال مردوں سے کہیں اچھی طرح کرتی ہیں۔ چنانچہ اُنھوں نے ٹائمز آف انڈیا کے علاوہ اور کئی اخبارات میں اشتہار دیا کہ انھیں ایک اچھی گورنس کی ضرورت ہے۔ کئی درخواستیں آئیں۔ انھوں نے اُن کا انٹر ویو بھی لیا، مگرکوئی پسند نہ آئی، بڑی چھچھوری اور بھڑکیلی قسم کی تھیں، جو آنکھیں مٹکا مٹکا اورکولھے ہلا ہلا کر باتیں کرتی تھیں۔ نواب صاحب نے ان سب کوبڑی شائستگی سے کہا

’’میں اپنے فیصلے سے آپ کو بہت جلد مطلع کر دُوں گا۔ اس وقت کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ‘‘

جو آئی تھیں ایک ایک کرکے رخصت کردی گئیں۔ نواب صاحب نے اپنا

’’ہوانا‘‘

سگار سُلگایا اور صوفے پر بیٹھ کر صبح کاپڑھا ہوا اخبار دوبارہ پڑھنے لگے۔ اتنے میں نوکر نے اطلاع دی کہ ایک اور عورت اسی ملازمت کے سلسلے میں آئی ہے۔ نواب صاحب نے اخبار تپائی پر رکھا اور کہا

’’اس کو اندر بھیج دو۔ ‘‘

وہ عورت اندر آئی۔ گواکی رہنے والی تھی اس لیے اس کے خدوخال ٹھیٹ گوائی تھے۔ رنگ سانولا، مضبوط جسم، قد میانہ۔ اندر آتے ہی اُس نے نواب صاحب کو بڑی صاف اردو میں سلام عرض کیا۔ نواب صاحب اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اُس کو کرسی پیش کی۔ انگریزی ادب کے متعلق، موسم کے متعلق چند باتیں کیں پھر اُس سے پوچھا۔

’’آپ پہلے بھی کہیں کام کرچکی ہیں؟‘‘

اُس عورت نے جس کی عمر تیس برس کے قریب ہو گی۔ بڑی شائستگی سے جواب دیا:

’’جی ہاں۔ دو تین جگہ بڑے اچھے گھرانوں میں۔ یہ اُن کی اسناد موجود ہیں۔ ‘‘

یہ کہہ کر اُس نے اپنا پرس کھولا اور چند کاغذات نکال کر نواب صاحب کو دیے

’’آپ ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔ ‘‘

نواب صاحب نے یہ کاغذات سرسری نظر سے دیکھ کر واپس کردیے۔ اور اُس عورت سے پوچھا۔

’’آپ کا نام؟‘‘

’’جی میرا نام مسز لوجوائے ہے۔ ‘‘

’’لوجوائے آپ کے۔ ‘‘

’’جی ہاں وہ میرے شوہر تھے۔ ‘‘

نواب صاحب نے سگار کا لمبا کش لیا اور مسز لوجوائے سے کہا۔

’’کیا کام کرتے ہیں؟‘‘

مسز لوجوائے نے جواب دیا۔

’’جی وہ فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ تھے، مگر تین برس ہوئے لڑائی میں مارے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے یہ پیشہ اختیار کیا۔ ‘‘

سگار کے دُھوئیں میں سے نواب صاحب نے مسز لوجوائے کا آخری جائزہ لیا اور کہا آپ کب سے کام شروع کرسکتی ہیں۔ ‘‘

’’جی میں تو ابھی سے کرسکتی ہوں۔ مگر مجھے اپنا سامان لانا ہے۔ کل صبح حاضر ہوجاؤں گی۔ ‘‘

’’بہتر۔ فی الحال آپ کو سوروپیہ ماہوار ملے گا۔ اگر آپ کا کام اچھا ہوا تواس میں اضافہ کردیاجائے گا۔ ‘‘

مسز لوجوائے نے مناسب و موزوں الفاظ میں نواب صاحب کا شکریہ ادا کیا اور سلام کرکے چلی گئی۔ نواب صاحب سوچنے لگے کہیں ان کا انتخاب غلط تو نہیں؟۔ لیکن وہ ایک مہینے کے امتحان کے بعد دوسرے مہینے کی تنخواہ دے کر اُسے بڑی آسانی سے برخاست کرسکتے ہیں۔ معلوم نہیں مسز لوجوائے صبح کس وقت آئی، لیکن نواب صاحب بیدار ہوئے تو دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ نواب صاحب نے سوچا کہ شاید ان کا بیرا ہو گا جو بیڈ ٹی لایا ہے۔ اُنھوں نے آواز دی

’’دروازہ کھلا ہے، آجاؤ۔ ‘‘

دروازہ کھلا اور مسزلوجوائے اندر داخل ہوئی۔ صبح کا سلام کیا

’’چائے بیرا لارہاہے۔ میں نے آپ کے غسل کے لیے گرم پانی تیار کردیا ہے۔ آپ چائے پی کر فارغ ہوجائیے اور غسل کرلیں، تو میں آپ کے کپڑے نکال کر تیار رکھوں گی۔ آپ کا وارڈروب کھلا ہے نا؟‘‘

نواب صاحب نے جواب دیا

’’ہاں کھلا ہے۔ ‘‘

مسزلوجوائے نے وارڈروب کھولا۔ نواب صاحب کے سارے کپڑوں کا جائزہ لیا اور ان سے پوچھا

’’میرا خیال ہے آپ گیبر ڈین کا سوٹ پہنیں گے۔ ‘‘

نواب صاحب نے ایک لحظے کے لیے سوچا۔

’’ہاں میرا ارادہ بھی یہی سُوٹ پہننے کا تھا۔ ‘‘

بیرا چائے لے آیا۔ اُسے پی کر وہ اُٹھے اور غسل خانہ میں چلے گئے۔ جس کی سفید ٹائلیں شیشے کے مانند چمک رہی تھیں۔ پہلے وہ کبھی اتنا صاف نہیں ہوا کرتا تھا۔ نواب صاحب بہت خوش ہوئے، اس لیے کہ صفائی میں یقیناً مسزلوجوائے کا ہاتھ تھا۔ غسل سے فارغ ہوکر وہ بیڈ روم میں آئے انھوں نے دیکھا کہ ان کے تمام کپڑے بستر پر پڑے تھے، سلیقے سے، ٹائی بھی وہی تھی جو خاص طور پر گیبر ڈین کے سوٹ کے ساتھ پہنتے تھے۔ جب انھوں نے کپڑے پہن لیے تو مسزلوجوائے آئی اور نواب صاحب سے کہا

’’چلیے تشریف لے چلیے۔ ناشتہ تیار ہے۔ ‘‘

نواب صاحب ڈرائنگ روم میں چلے گئے۔ ناشتہ خود مسز لوجوائے نے لگایا۔ گردے تھے، پنیر تھا، بہت اچھے سینکے ہوئے ٹوسٹ، بالائی پوچڑ، انڈ ے اور ایک گلاس دودھ۔ مسز لوجوائے تھوڑے ہی عرصے میں نواب صاحب کے گھر پر چھا گئی۔ اُن کے دوستوں کو بھی اُس نے موہ لیا۔ اُس کو معلوم ہوتا کہ کون سی چیز اُن کے کس دوست کو مرغوب ہے۔ مرغ کا کون سا حصہ کس کو پسند ہے۔ کون سی شراب کس کس کو من بھاتی ہے۔ چنانچہ جب بھی دعوت ہوتی وہ کھانا خود میز پر لگاتی اورخود ہی فرداً فرداً سارے مہمانوں کو پیش بھی کرتی۔ اس کے کام کرنے کے انداز میں تمکنت تھی، مگر وہ بڑے ادب سے ہرایک کے ساتھ پیش آتی۔ اُس میں پھرتی تھی مگر گلہریوں ایسی نہیں۔ ہر کام اپنے مقررہ وقت کے اندر اندر ہوجاتا۔ جب نواب صاحب کاکوئی دوست مسزلوجوائے کی تعریف کرتا تو وہ بڑے فخریہ انداز میں کہتے

’’یہ انتخاب میرا ہے۔ سوعورتیں آئی تھیں۔ انٹرویو کے لیے لیکن میں نے سب میں سے اسی کو چنا۔ ‘‘

مسز لوجوائے سے گھر کے نوکر بھی خوش تھے، اس لیے کہ ان کا کام بہت ہلکا ہو گیا تھا۔ البتہ اتوارکو سارا بوجھ ان کے کندھوں پر آ پڑتا تھا کہ مسز لوجوائے اُس دن چھٹی مناتی تھی۔ چرچ جاتی۔ وہاں اپنی سہلیوں سے ملتی۔ اُن کے ساتھ پکچر دیکھنے چلی جاتی۔ اور کسی ایک سہیلی کے ہاں رات کاٹ کر صبح پھر ڈیوٹی پر حاضر ہوجاتی۔ نواب صاحب کو اُس کی اتوارکی غیر موجودگی ضرورمحسوس ہوتی، مگر وہ بااصول آدمی تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ کسی نوکر کو چوبیس گھنٹے کا غلام بنا کے رکھا جائے۔ مسز لوجوائے اگر ہفتے میں ایک چھٹی کرتی تھی تو یہ اُس کا جائز حق تھا۔ دن بہ دن مسزلوجوائے نواب صاحب اور اُن کے تمام دوستوں کے دل میں گھر کرتی گئی۔ سب اُس کے شیدا تھے۔ ایک دن اُن میں سے ایک نے نواب صاحب سے کہا۔

’’میری ایک درخواست ہے۔ ‘‘

’’فرمائیے۔ ‘‘

’’مسز لوجوائے اگر آپ مجھے عنایت فرمادیں تو میں ساری عمر آپ کا شکر گزار رہوں گا۔ ۔ مجھے گورنس کی اشد ضرورت ہے۔ ‘‘

نواب صاحب نے سگار کا کش لگایا اور زور سے نفی میں سر ہلایا

’’نہیں قبلہ یہ نہیں ہوسکتا۔ ایسی گورنس مجھے کہاں سے ملے گی۔ ‘‘

اُن کے دوست نے چاپلوسی کے انداز میں کہا

’’نواب صاحب آپ کی نگاہ انتخاب یقیناً اس سے بھی اچھی ڈھونڈلے گی۔ ہم ایسی نگاہ کہاں سے لائیں؟‘‘

نواب صاحب نے سگار کا دوسرا کش لگایا

’’نہیں جناب۔ مسز لوجوائے کو میں کسی قیمت میں کسی کے حوالے نہیں کرسکتا۔ ‘‘

ایک رات جب مسز لوجوائے صاحب کا شب خوابی کا لباس استری کرکے لائی تو انھوں نے اُس کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ جلدی سونا نہیں چاہتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے اس سے کہا

’’مسز لوجوائے میں آج دیر سے سوؤں گا۔ میرا جی چاہتا ہے کہ سیکنڈ شو میں کوئی پکچر دیکھوں۔ تمہارے خیال میں کون سی اچھی پکچر آج کل شہر میں دکھائی جارہی ہے؟‘‘

مسز لوجوائے نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کہا

’’میونٹی اون دی بونٹی کی بہت تعریف سُنی ہے۔ میٹرو میں چھ ہفتوں سے برابر رش لے رہی ہے۔ ‘‘

نواب صاحب نے ازراہِ مہربانی اُس کو دعوت دی

’’تم بھی ساتھ چلو گی۔ ‘‘

’’آپ کی بڑی نوازش ہے۔ آپ لے چلیں تو چلی چلوں گی۔ ‘‘

نواب صاحب نے اُٹھ کر قدِ آدم آئینے میں اپنے آپ کا سرتا پا جائزہ لیا اور مسز جوائے سے مخاطب ہوئے:

’’توچلو۔ کھانا آج باہر ہی کھائیں گے۔ ‘‘

مسز لوجوائے نے کہا

’’اگر آپ اجازت دیں تو کپڑے تبدیل کرلوں۔ اس لباس میں آپ کے ساتھ جانا کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ مجھے زیادہ سے زیادہ دس منٹ لگیں گے۔ ابھی حاضر ہوئی۔ ‘‘

تھوڑی دیر بعد جب وہ آئی تو بڑی سمارٹ دکھائی دے رہے تھی۔ نواب صاحب نے اُس سے کہا۔

’’چلیے۔ ‘‘

آگے آگے مسز لوجوائے تھیں۔ باہر صدردروازے پر جا کروہ رُک گئی۔ نواب صاحب سمجھ گئے کہ اب وہ خود کو ملازم نہیں سمجھتی۔ چاہتی ہے کہ اُس کے لیے دروازہ کھولا جائے۔ جیسا کہ انگریزی قاعدہ ہے کہ احتراماً وہ خواتین کے لیے آگے بڑھ کر دروازہ کھولتے ہیں۔ نواب صاحب نے دروازہ کھولا۔ مسز لوجوائے باہر نکلیں اُس کے بعد نواب صاحب۔ موٹر باہر کھڑی تھی۔ شوفر بھی موجود تھا لیکن نواب صاحب نے اُسے رخصت کردیا۔ پہلے مسز لوجوائے کو بٹھایا۔ پھر آپ بیٹھے اور کار ڈرائیو کرنا شروع کردی۔ جب موٹر میرین ڈرائیو سے گزر رہی تھی تو نواب صاحب مسز لوجوائے سے مخاطب ہوئے جو خاموش اپنی سیٹ پر بیٹھی تھی۔

’’کس ہوٹل میں کھانا کھائیں۔ ‘‘

’’میرا خیال ہے ایروز سینما کے اُوپر جو ہوٹل ہے اچھا رہے گا۔ آپ کو وہاں اپنی پسند کی چیزیں مل جائیں گی۔ ‘‘

نواب صاحب نے کہا

’’بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن ایسا کیوں نہ کریں۔ اوپر کھانا بڑے اطمینان سے کھائیں اور ایروز میں پکچر دیکھیں۔ ‘‘

مسز لوجوائے نے تھوڑی دیر سوچا

’’جی ہاں۔ ایروز میں ایک اچھی پکچر دکھائی جارہی ہے۔ گڈارتھ۔ میری چند سہلیوں نے دیکھی ہے۔ بہت تعریف کررہی تھیں۔ کہتی تھیں پال منی نے اس میں کمال کردیا ہے۔ ‘‘

نواب صاحب اور مسز لوجوائے ایروز پہنچے۔ اُوپر کی منزل پر لفٹ کے ذریعے سے پہنچے۔ ڈانسنگ ہال میں مشہور موسیقار بیتھون کی ایک سمفنی بجائی جارہی تھی۔ نواب صاحب نے مینبو دیکھا اور کھانے کے لیے آرڈر دیا۔ جو کچھ دیر بعد سرد کردیاگیا۔ لیکن اس سے پہلے وہ دو پیگ وسکی کے ختم کرچکے تھے اور مسز لوجوائے نے شیری کا ایک گلاس پیا تھا۔ وہ دونوں ہلکے ہلکے سُرور میں تھے۔ جب ڈنر سے فارغ ہوئے تو ڈانس شروع ہو گیا۔ نواب صاحب کو انگلستان کا وہ زمانہ یاد آگیا جب اُن کا دل جوان تھا اور انھوں نے انگریزی رقص کی باقاعدہ تعلیم لی تھی۔ اُس یاد نے انھیں اُکسایا کہ وہ بھی تھوڑی دیر کے لیے ذرا ناچ لیں۔ چنانچہ انھوں نے مسز لوجوائے سے کہا

’’کیا آپ میری پارٹنر بن سکتی ہیں۔ ‘‘

مسز لو جوائے نے جواب دیا

’’مجھے کوئی عذر نہیں۔ ‘‘

دونوں دیر تک ناچتے رہے۔ نواب صاحب مسز لوجوائے کے قدموں کی روانی سے بہت متاثر ہوئے۔ یہ سلسلہ جب ختم ہوا تو پکچر دیکھنے چلے گئے۔ جب شو ختم ہوا تو گھر کا رخ کیا۔ رات کا وقت تھا میرین ڈرائیو کی وسیع و عریض سڑک پر جس کے ایک طرف سمندر ہے۔ اور ساحل کے ساتھ ساتھ بجلی کے قمقمے دوڑتے چلے گئے ہیں خنک ہوا کے جھونکے ان دونوں کے سُرور میں اضافہ کررہے تھے جب گھر پہنچے تو نواب صاحب نے مسز لوجوائے کے لیے دروازہ کھولا۔ اور غیر ارادی طور پر اُس کی کمر میں اپنا بازو حمائل کر کے اندر داخل ہوئے۔ مسز لوجوائے نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ دوسرے روز خلافِ معمول نواب صاحب چھ بجے جاگے۔ ایک دم اُٹھ کر انھوں نے اپنے ساگوانی پلنگ کو اس طرح دیکھنا شروع کیا جیسے اُن کی کوئی چیز گم ہو گئی ہے اور وہ اسے تلاش کررہے ہیں۔ موسم سرد تھا۔ لیکن اُن کی پیشانی عرق آلود ہو گئی۔ اُن کے تکیے کے ساتھ ایک تکیہ تھا جس پر مسز لوجوائے کے سر کا دباؤ موجود تھا۔ نواب صاحب دل ہی دل میں پشیمان ہوئے کہ انھوں نے جن کی لوگ اتنی عزت کرتے ہیں جن کا مقام سوسائٹی میں بہت اُونچا ہے یہ کیا ذلیل حرکت کی۔ اس قسم کے خیال اُن کے دماغ میں اُوپر تلے آرہے تھے اور ندامت کی گہرائیوں میں ڈوبتے چلے جارہے تھے کہ مسز لوجوائے اندر آئی اور اس نے حسبِ معمول بڑے مؤدبانہ انداز میں کہا۔

’’جناب میں نے آپ کے غسل کے لیے گرم پانی تیار کردیا ہے۔ بیرا آپ کی بیڈ ٹی لے کر آرہا ہے۔ آپ پی کر فارغ ہوجائیں تو غسل کے لیے تشریف لے جائیں میں اتنی دیر میں آپ کے کپڑے نکالتی ہوں۔ ‘‘

نواب صاحب نے اطمینان کا سانس لیا اور بیڈ ٹی پئے بغیر غسل خانے میں چلے گئے جہاں اُن کے لیے گرم پانی تیار تھا۔

سعادت حسن منٹو

ننگی آوازیں

بھولو اور گاما دو بھائی تھے۔ بے حد محنتی۔ بھولو قلعی گرتھا۔ صبح دھونکنی سر پر رکھ کر نکلتا اور دن بھر شہر کی گلیوں میں

’’بھانڈے قلعی کرالو‘‘

کی صدائیں لگاتا رہتا۔ شام کوگھر لوٹتا تو اس کے تہہ بند کے ڈب میں تین چار روپے کا کریانہ ضرور ہوتا۔ گاما خوانچہ فروش تھا۔ اس کو بھی دن بھر چھابڑی سر پر اٹھائے گھومنا پڑتا تھا۔ تین چار روپے یہ بھی کما لیتا تھا۔ مگر اس کو شراب کی لت تھی۔ شام کو دینے کے بھٹیار خانے سے کھانا کھانے سے پہلے ایک پاؤ شراب اسے ضرور چاہیے تھی۔ پینے کے بعد وہ خوب چہکتا۔ دینے کے بھٹیار خانے میں رونق لگ جاتی۔ سب کو معلوم تھا کہ وہ پیتا ہے اور اسی کے سہارے جیتا ہے۔ بھولو نے گاما سے جو کہ اس سے دو سال بڑا تھا بہت سمجھایا کہ دیکھو یہ شراب کی لت بہت بری ہے۔ شادی شدہ ہو، بیکار پیسہ برباد کرتے ہو۔ یہی جو تم ہر روز ایک پاؤ شراب پر خرچ کرتے ہو بچا کر رکھو تو بھابھی ٹھاٹ سے رہا کرے۔ ننگی بُچی اچھی لگتی ہے تمہیں اپنی گھر والی۔ گاما نے اس کان سنا۔ اس کان سے نکال دیا۔ بھولو جب تھک ہار گیا تو اس نے کہنا سننا ہی چھوڑ دیا۔ دونوں مہاجر تھے۔ ایک بڑی بلڈنگ کے ساتھ سرونٹ کوارٹر تھے۔ ان پر جہاں اوروں نے قبضہ جما رکھا تھا، وہاں ان دونوں بھائیوں نے بھی ایک کوارٹر کو جو کہ دوسری منزل پر تھا اپنی رہائش کے لیے محفوظ کرلیا تھا۔ سردیاں آرام سے گزر گئیں۔ گرمیاں آئیں تو گاما کو بہت تکلیف ہوئی۔ بھولو تو اوپر کوٹھے پر کھاٹ بچھا کر سو جاتا تھا۔ گاما کیا کرتا۔ بیوی تھی۔ اور اوپر پردے کا کوئی بندوبست ہی نہیں تھا۔ ایک گاما ہی کو یہ تکلیف نہیں تھی۔ کوارٹروں میں جو بھی شادی شدہ تھا اسی مصیبت میں گرفتار تھا۔ کلّن کو ایک بات سوجھی۔ اس نے کوٹھے پر کونے میں اپنی اور اپنی بیوی کی چارپائی کے اردگرد ٹاٹ تان دیا۔ اس طرح پردے کا انتظام ہو گیا۔ کلّن کی دیکھا دیکھی دوسروں نے بھی اس ترکیب سے کام لیا۔ بھولو نے بھائی کی مدد کی اور چند دنوں ہی میں بانس وغیرہ گاڑ کر ٹاٹ اور کمبل جوڑ کر پردے کا انتظام کردیا۔ یوں ہوا تو رک جاتی تھی مگر نیچے کوارٹر کے دوزخ سے ہر حالت میں یہ جگہ بہتر تھی۔ اوپر کوٹھے پر سونے سے بھولو کی طبیعت میں ایک عجیب انقلاب ہو گیا۔ وہ شادی بیاہ کا بالکل قائل نہیں تھا۔ اس نے دل میں عہد کر رکھا تھا کہ یہ جنجال کبھی نہیں پائے گا۔ جب گاما کبھی اس کے بیاہ کی بات چھیڑتا تو وہ کہا کرتا نہ بھائی۔ میں اپنے نردئے پنڈے پر جونکیں نہیں لگوانا چاہتا۔

’’لیکن جب گرمیاں آئیں اور اس نے اوپر کھاٹ بچھا کر سونا شروع کیا تو دس پندرہ دن ہی میں اس کے خیالات بدل گئے۔ ایک شام کو دینے کے بھٹیار خانے میں اس نے اپنے بھائی سے کہا۔

’’میری شادی کردو، نہیں تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔ ‘‘

گاما نے جب یہ سنا تو اس نے کہا۔

’’یہ کیا مذاق سو جھا ہے تمہیں۔ ‘‘

بھولو بہت سنجیدہ ہو گیا۔

’’تمہیں نہیں معلوم۔ پندرہ راتیں ہو گئی ہیں مجھے جاگتے ہوئے۔ ‘‘

گاما نے پوچھا۔

’’کیوں کیاہوا؟‘‘

’’کچھ نہیں یار۔ دائیں بائیں جدھر نظر ڈالو کچھ نہ کچھ ہورہا ہوتا ہے۔ عجیب عجیب آوازیں آتی ہیں۔ نیند کیا آئے گی خاک!‘‘

گاما زور سے اپنی گھنی مونچھوں میں ہنسا۔ بھولو شرما گیا۔

’’وہ جو کلن ہے، اس نے تو حد ہی کردی ہے۔ سالا رات بھر بکواس کرتا رہتا ہے۔ اس کی بیوی سالی کی زبان بھی تالو سے نہیں لگتی۔ بچے پڑے رو رہے ہیں مگر وہ۔ ‘‘

گاما حسبِ معمول نشے میں تھا۔ بھولو گیا تو اس نے دینے کے بھٹیار خانے میں اپنے سب واقف کاروں کو خوب چہک چہک کر بتایا کہ اس کے بھائی کو آج کل نیند نہیں آتی۔ اس کا باعث جب اس نے اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا تو سننے والوں کے پیٹ میں ہنس ہنس کر بل پڑ گئے۔ جب یہ لوگ بھولو سے ملے تو اس کا خوب مذاق اڑایا۔ کوئی اس سے پوچھتا۔

’’ہاں بھئی، کلن اپنی بیوی سے کیا باتیں کرتا ہے۔ ‘‘

کوئی کہتا۔

’’میاں مفت میں مزے لیتے ہو۔ ساری رات فلمیں دیکھتے رہتے ہو۔ سو فیصدی گالی بولتی۔ ‘‘

بعض نے گندے گندے مذاق کیے۔ بھولو چڑ گیا۔ گاما صوفی حالت میں تھا تو اس نے اس سے کہا۔

’’تم نے تو یار میرا مذاق بنا دیا ہے۔ دیکھو جو کچھ میں نے تم سے کہا یہ جھوٹ نہیں۔ میں انسان ہوں۔ خدا کی قسم مجھے نیند نہیں آتی۔ آج بیس دن ہو گئے ہیں جاگتے ہوئے۔ تم میری شادی کا بندوبست کردو، ورنہ قسم پنچ تن پاک کی میرا خانہ خراب ہو جائے گا۔ بھابھی کے پاس میرا پانسو روپیہ جمع ہے۔ جلدی کردو بندوبست!‘‘

گاما نے مونچھ مروڑ کر پہلے کچھ سوچا پھر کہا۔

’’اچھا ہو جائے گا بندوبست۔ تمہاری بھابھی سے آج ہی بات کرتا ہوں کہ وہ اپنی ملنے والیوں سے پوچھ گچھ کرے۔ ‘‘

ڈیڑھ مہینے کے اندر اندر بات پکی ہو گئی۔ صمد قلعی گرکی لڑکی عائشہ گاما کی بیوی کو بہت پسند آئی۔ خوبصورت تھی۔ گھر کا کام کاج جانتی تھی۔ ویسے صمد بھی شریف تھا۔ محلے والے اس کی عزت کرتے تھے۔ بھولو محنتی تھی۔ تندرست تھا۔ جون کے وسطے میں شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ صمد نے بہت کہا کہ وہ لڑکی اتنی گرمیوں میں نہیں بیاہے گا مگر بھولو نے جب زور دیا تو وہ مان گیا۔ شادی سے چار دن پہلے بھولو نے اپنی دہن کے لیے اوپر کوٹھے پر ٹاٹ کے پردے کا بندوبست کیا۔ بانس بڑی مضبوطی سے فرش میں گاڑے۔ ٹاٹ خوب کر کس کر لگایا۔ چارپائیوں پر نئے کھیس بچھائے۔ نئی صراحی منڈیر پر رکھی۔ شیشے کا گلاس بازار سے خریدا۔ سب کام اس نے بڑے اہتمام سے کیے۔ رات کو جب وہ ٹاٹ کے پردے میں گھر کر سویا تو اس کو عجیب سا لگا وہ کھلی ہوا میں سونے کا عادی تھا مگر اب اس کو عادت ڈالنی تھی۔ یہی وجہ یہ کہ شادی سے چار دن پہلے ہی اس نے یوں سونا شروع کردیا۔ پہلی رات جب وہ لیٹا اور اس نے اپنی بیوی کے بارے میں سوچا تو وہ پسینے میں تربتر ہو گیا۔ اس کے کانوں میں وہ آوازیں گونجنے لگیں جو اسے سونے نہیں دیتی تھیں اور اس کے دماغ میں طرح طرح کے پریشان خیالات دوڑاتی تھیں۔ کیا وہ بھی ایسی ہی آوازیں پیدا کرے گا؟۔ کیا آپ پاس کے لوگ یہ آوازیں سنیں گے۔ کیا وہ بھی اسی کے مانند راتیں جاگ جاگ کر کاٹیں گے۔ کسی نے اگر جھانک کر دیکھ لیا تو کیا ہو گا؟ بھولو پہلے سے بھی زیادہ پریشان ہو گیا۔ ہر وقت اس کو یہی بات ستاتی رہتی کہ ٹاٹ کا پردہ بھی کوئی پردہ ہے، پھر چاروں طرف لوگ بکھرے پڑے ہیں۔ رات کی خاموشی میں ہلکی سی سرگوشی بھی دوسرے کانوں تک پہنچ جاتی ہے۔ لوگ کیسے یہ ننگی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ایک کوٹھا ہے۔ اس چارپائی پر بیوی لیٹی ہے۔ اس چارپائی پر خاوند پڑا ہے۔ سینکڑوں آنکھیں، سینکڑوں کان آس پاس کھلے ہیں۔ نظر نہ آنے پر بھی آدمی سب کچھ دیکھ لیتا ہے۔ ہلکی سی آہٹ پوری تصویر بن کر سامنے آجاتی ہے۔ یہ ٹاٹ کا پردہ کیا ہے۔ سورج نکلتا ہے تو اس کی روشنی ساری چیزیں بے نقاب کردیتی ہے۔ وہ سامنے کلّن اپنی بیوی کی چھاتیاں دبا رہا ہے۔ وہ کونے میں اس کا بھائی گاما لیٹا ہے۔ تہہ بند کھل کر ایک طرف پڑا ہے۔ ادھر عبدو حلوائی کی کنواری بیٹی شاماں کا پیٹ چھدرے ٹاٹ سے جھانک جھانک کردیکھ رہا ہے۔ شادی کا دن آیا تو بھولو کا جی چاہا کہ وہ کہیں بھاگ جائے مگر کہاں جاتا۔ اب تو وہ جکڑا جا چکا تھا۔ غائب ہو جاتا تو صمد ضرور خود کشی کرلیتا۔ اس کی لڑکی پر جانے کیا گزرتی۔ جو طوفان مچتا وہ الگ۔

’’اچھا جو ہوتا ہے ہونے دو۔ میرے ساتھی اور بھی تو ہیں۔ آہستہ آہستہ عادت ہو جائے گی۔ مجھے بھی‘‘

۔ بھولو نے خود کو ڈھارس دی اور اپنی نئی نویلی دلہن کی ڈولی گھر لے آیا۔ کوارٹروں میں چہل پہل پیداہو گئی۔ لوگوں نے بھولو اور گاما کو خوب مبارکبادیں دیں۔ بھولو کے جو خاص دوست تھے، انھوں نے اس کو چھیڑا اور پہلی رات کے لیے کئی کامیاب گُر بتائے۔ بھولو خاموشی سے سنتا رہا۔ اس کی بھابھی نے اوپر کوٹھے پر ٹاٹ کے پردوں کے نیچے بستر کا بندوبست کردیا۔ گاما نے چار موتیے کے بڑے بڑے ہار تکیے کے پاس رکھ دیے۔ ایک دوست اس کے لیے جلیبیوں والا دودھ لے آیا۔ دیر تک وہ نیچے کوارٹر میں اپنی دلہن کے پاس بیٹھا رہا۔ وہ بے چاری شرم کی ماری سر نیوڑھائے، گھونگٹ کاڑھے سمٹی ہوئی تھی۔ سخت گرمی تھی۔ بھولو کا نیا کرتا اس کے جسم کے ساتھ چپکا ہوا تھا۔ پنکھا جھل رہا تھا مگر ہوا جیسے بالکل غائب ہی ہو گئی تھی۔ بھولو نے پہلے سوچا تھا کہ وہ اوپر کوٹھے پر نہیں جائے گا۔ نیچے کوارٹر ہی میں رات کاٹے گا۔ مگر جب گرمی انتہا کو پنچ گئی تو وہ اٹھا اور دولھن سے چلنے کو کہا۔ رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ تمام کوارٹر خاموشی میں لپٹے ہوئے تھے۔ بھولو کو اس بات کی تسکین تھی کہ سب سو رہے ہوں گے۔ کوئی اس کو نہیں دیکھے گا۔ چپ چاپ دبے قدموں سے وہ اپنے ٹاٹ کے پردے کے پیچھے اپنی دولہن سمیت داخل ہو جائیگا اور صبح منہ ادھیرے نیچے اتر جائے گا۔ جب وہ کوٹھے پر پہنچا تو بالکل خاموش تھی۔ دولہن نے شرمائے ہوئے قدم اٹھائے تو پازیب کے نقرئی گھنگھرو بجنے لگے۔ ایک دم بھولو نے محسوس کیا کہ چاروں طرف جو نیند بکھری ہوئی تھی چونک کر جاگ پڑی ہے۔ چارپائیوں پر لوگ کروٹیں بدلنے لگے، کھانسنے، کھنکارنے کی آوازیں اِدھر اُدھر ابھریں۔ دبی دبی سرگوشیاں اس تپی ہوئی فضا میں تیرنے لگیں۔ بھولو نے گھبرا کر اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا اور تیزی سے ٹاٹ کی اوٹ میں چلا گیا۔ دبی دبی ہنسی کی آواز اس کے کانوں کے ساتھ ٹکرائی۔ اس کی گھبراہٹ میں اضافہ ہو گیا۔ بیوی سے بات کی تو پاس ہی کُھسر پُھسر شروع ہو گئی۔ دور کونے میں جہاں کلن کی جگہ تھی۔ وہاں چارپائی کی چرچوں چرچوں ہونے لگی۔

’’یہ دھیمی پڑی تو گاما کی لوہے کی چارپائی بولنے لگی۔ عیدد حلوائی کی کنواری لڑکی شاداں نے دو تین بار اٹھ کرپانی پیا۔ گھڑے کے ساتھ اس کا گلاس ٹکراتا تو ایک چھنا کا سا پیدا ہوتا۔ خیرے قصائی کے لڑکے کی چارپائی سے بار بار ماچس جلانے کی آواز آتی تھی۔ بھولو اپنی دلہن سے کوئی بات نہ کرسکا۔ اسے ڈر تھا کہ آس پاس کے کھلے ہوئے کان فوراً اس کی بات نگل جائیں گے۔ اور ساری چارپائیں چرچوں چرچوں کرنے لگیں گی۔ دم سادھے وہ خاموش لیٹا رہا۔ کبھی کبھی سہمی ہوئی نگاہ سے اپنی بیوی کی طرف دیکھ لیتا جو گٹھڑی سی بنی دوسری چارپائی پر لیٹی تھی۔ کچھ دیر جاگتی رہی، پھر سو گئی۔ بھولو نے چاہا کہ وہ بھی سو جائے مگر اس کو نیند نہ آئی۔ تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد اس کے کانوں میں آوازیں آتی تھیں۔ آوازیں جو فوراً تصویر بن کر اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتی تھیں۔ اس کے دل میں بڑے ولولے تھے۔ بڑا جوش تھا۔ جب اس نے شادی کا ارادہ کیا تھا تو وہ تمام لذتیں جن سے وہ نا آشنا تھا اس کے دل و دماغ میں چکر لگاتی رہتی تھیں۔ اس کو گرمی محسوس ہوتی تھی۔ بڑی راحت بخش گرمی، مگر اب جیسے پہلی رات سے کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی۔ اس نے رات میں کئی بار یہ دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کی مگر آوازیں۔ وہ تصویریں کھینچنے والی آوازیں سب کچھ درہم برہم کردیتیں۔ وہ خود کو ننگا محسوس کرتا۔ الف ننگا جس کو چاروں طرف سے لوگ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے ہیں اور ہنس رہے ہیں۔ صبح چار بجے کے قریب وہ اٹھا، باہر نکل کر اس نے ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس پیا۔ کچھ سوچا۔ وہ جھجک جو اس کے دل میں بیٹھ گئی تھی اس کو کسی قدر دور کیا۔ اب ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی جو کافی تیز تھی۔ بھولو کی نگاہیں کونے کی طرف مڑیں۔ کلّن کا گھسا ہوا ٹاٹ ہل رہا تھا۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ بالکل ننگ دھڑنگ لیٹا تھا۔ بھولو کو بڑی گھن آئی۔ ساتھ ہی غصہ بھی آیا کہ ہوا ایسے کوٹھوں پر کیوں چلتی ہے چلتی ہے تو ٹاٹوں کو کیوں چھیڑتی ہے۔ اس کے جی میں آئی کہ کوٹھے پر جتنے ٹاٹ ہیں، سب نوچ ڈالے اور ننگا ہو کے ناچنے لگے۔ بھولو نیچے اتر گیا۔ جب کام پر نکلا تو کئی دوست ملے۔ سب نے اس سے پہلی رات کی سرگزشت پوچھی۔ پھوجے درزی نے اس کو دور ہی سے آواز دی،

’’کیوں استاد بھولو، کیسے رہے، کہیں ہمارے نام پر بٹہ تو نہیں لگا دیا تم نے۔ ‘‘

چھاگے ٹین ساز نے اس سے بڑے راز دارانہ لہجے میں کہا۔

’’دیکھو اگر کوئی گڑ بڑ ہے تو بتا دو۔ ایک بڑا اچھا نسخہ میرے پاس موجود ہے۔ ‘‘

بالے نے اس کے کاندھے پر زور سے دھپا مارا۔

’’کیوں پہلوان، کیسا رہا دنگل؟‘‘

بھولو تو خاموش رہا۔ صبح اس کی بیوی میکے چلی گئی۔ پانچ چھ روز کے بعد واپس آئی تو بھولو کو پھر اسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا۔ کوٹھے پر سونے والے جیسے اس کی بیوی کی آمد کے منتظر تھے۔ چند راتیں خاموش رہی تھی لیکن جب وہ اوپر سوئے تو وہی کھسر پھسر وہی چرچوں چرچوں، وہی کھانسنا کھنکارنا۔ وہی گھڑے کے ساتھ گلاس کے ٹکرانے کے چھناکے۔ کروٹوں پر کروٹیں، دبی دبی ہنسی۔ بھولو ساری رات اپنی چارپائی پر لیٹا آسمان کی طرف دیکھتا رہا۔ کبھی کبھی ایک ٹھنڈی آہ بھر کر اپنی دولہن کو دیکھ لیتا اور دل میں کڑھتا، مجھے کیا ہو گیا ہے۔ یہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔ یہ مجھے کیا ہو گیاہے۔ ‘‘

سات راتوں تک یہی ہوتا رہا، آخر تنگ آکر بھولو نے اپنی دولہن کو میکے بھیج دیا۔ بیس پچیس دن گزر گئے تو گاما نے بھولو سے کہا۔

’’یار تم بڑے عجیب و غریب آدمی ہو نئی نئی شادی اور بیوی کو میکے بھیج دیا۔ اتنے دن ہو گئے ہیں اسے گئے ہوئے۔ تم اکیلے سوتے کیسے ہو۔ ‘‘

بھولو نے صرف اتنا کہا۔

’’ٹھیک ہے؟‘‘

گاما نے پوچھا۔

’’ٹھیک کیا ہے۔ جو بات ہے بتاؤ۔ کیا تمہیں پسند نہیں آئی عائشہ؟‘‘

’’یہ بات نہیں ہے۔ ‘‘

’’یہ بات نہیں ہے تو اور کیا ہے؟‘‘

بھولو بات گول کرگیا تھوڑے ہی دنوں کے بعد اس کے بھائی نے پھر بات چھیڑی۔ بھولو اٹھ کر کوارٹر کے باہر چلا گیا۔ چارپائی پڑی تھی اس پر بیٹھ گیا۔ اندر سے اس کو اپنی بھابھی کی آواز سنائی دی۔ وہ گاما سے کہہ رہی تھی۔

’’تم جو کہتے ہو نا کہ بھولو کو عائشہ پسند نہیں، یہ غلط ہے۔ ‘‘

گاما کی آواز آئی

’’تو اور کیا بات ہے۔ بھولو کو اس سے کوئی دلچسپی ہی نہیں۔ ‘‘

’’دلچسپی کیا ہو۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

گاما کی بیوی کا جواب بھولہ نہ سن سکا مگر اس کے باوجود اس کو ایسا محسوس ہواکہ اس کی ساری ہستی کسی نے ہاون میں ڈال کر کوٹ دی ہے۔ ایک دم گاما اونچی آواز میں بولا۔

’’نہیں نہیں۔ یہ تم سے کس نے کہا۔ ‘‘

گاما کی بیوی بولی۔

’’عائشہ نے اپنی کسی سہیلی سے ذکر کیا۔ بات اڑتی اڑتی مجھ تک پہنچ گئی۔ ‘‘

بڑی صدمہ زدہ آواز میں گاما نے کہا۔

’’یہ تو بہت بُرا ہوا!‘‘

بھولو کے دل میں چھری سی پیوست ہو گئی۔ اس کا دماغی توازن بگڑ گیا۔ اٹھا اور کوٹھے پرچڑھ کر جتنے ٹاٹ گئے تھے اکھیڑنے شروع کردیے۔ کھٹ کھٹ پھٹ پھٹ سن کر لوگ جمع ہو گئے۔ انھوں نے اس کو روکنے کی کوشش کی تو وہ لڑنے لگا۔ بات بڑھ گئی۔ کلن نے بانس، اٹھا کر اس کے سر پر دے مارا۔ بھولو چکرا کر گِرا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب ہوش آیا تو اس کا دماغ چل چکا تھا۔ اور وہ الف ننگا بازاروں میں گھومتا پھرتا ہے کہیں ٹاٹ لٹکا دیکھتا ہے تو اس کو اتار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔

سعادت حسن منٹو

نفسیاتی مطالعہ

مجھے چائے کے لیے کہہ کر، وہ ان کے دوست پھر اپنی باتوں میں غرق ہو گئے۔ گفتگو کا موضوع، ترقی پسند ادب اور ترقی پسند ادیب تھا۔ شروع شروع میں تو یہ لوگ اردو کے افسانوی ادب پر طائرانہ نظر دوڑاتے رہے۔ لیکن بعد میں یہ نظر گہرائی اختیار کرگئی اور جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے، گفتگو گرما گرم بحث میں تبدیل ہو گئی۔ میرے شوہر، ترقی پسند ہیں نہ رجعت پسند، لیکن بحث پسند ضرور ہیں، چنانچہ اپنے دوستوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ گرمجوش وہی نظر آتے تھے۔ وہ اس اندیشے کے یکسر خلاف تھے کہ پاکستان میں ترقی پسند ادب کا مستقبل تاریک ہے۔ بحث کے دوران میں ایک مرتبہ انھوں نے بالکل

’’تم آج شام کو ساڑھی پہنوگی‘‘

کے سے فیصلہ کن انداز میں اپنے دوست حبیب سے کہا۔

’’تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان میں ترقی پسند ادب کی تحریک زندہ رہے گی۔ ‘‘

حبیب صاحب فوراً سر تسلیم خم کردینے والے نہیں تھے، چنانچہ بحث جاری رہی، اور جب میں چائے تیار کرنے کے لیے اٹھی تو حفیظ اللہ صاحب جن کو سب اُلاّ کہہ کر پکارتے تھے پچیسواں سگریٹ پھونکتے ہوئے ترقی پسند ادب پر کریملن کے اشتمالی اثر کو غلط ثابت کرنے کی کوشش شروع کرنے والے تھے۔ میں اٹھ کر باورچی خانے میں آئی تو نوکر غائب تھا اور چائے کا پانی چولہے پر دھرا بالکل غارت ہو چکا تھا۔ میں نے کیتلی کا پانی تبدیل کیا اور باہر نکل کر نوکر کو آواز دی۔ وہ جب آیا تو اس کے ہاتھ میں

’’اداکار‘‘

کا پرچہ تھا جس کے سرورق پرمنورما کی نیم برہنہ تصویر چھپی ہوئی تھی۔ میں نے جھڑک کر پرچہ اس کے ہاتھ سے لیا۔

’’جب دیکھو واہیات پرچے پڑھ رہا ہے۔ چائے کا پانی ابل ابل کر تیل بن چکا ہے اس کا کچھ خیال ہی نہیں۔ جاؤ، پیسٹری لے کر آؤ۔ منٹا منٹی میں آنا۔ ‘‘

میں نے پرس میں سے ایک پانچ کا نوٹ اس کو دیا اور باورچی خانے میں لوہے کی کرسی پر بیٹھ کر

’’اداکار‘‘

کی تصویریں دیکھنا شروع کردیں۔ تصویریں دیکھ چکنے کے بعد میں سوال جواب پڑھ رہی تھی کہ پیسٹری آگئی۔

’’اداکار‘‘

کا پرچہ میز پر رکھ کر میں نے سب دانے الگ الگ طشتریوں میں چنے اور نوکر سے یہ کہہ کر وہ دودھ گرم کرکے جلدی چائے لے آئے، واپس بڑے کمرے میں چلی آئی۔ جب اندر داخل ہوئی تو وہ اور ان کے دوست قریب قریب خاموش تھے۔ میں سمجھی، شاید ان کی گفتگو ختم ہو چکی ہے لیکن اُلاّ صاحب نے اپنے موٹے موٹے شیشوں والی عینک اتار کر رومال سے آنکھیں صاف کرکے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’بھابی جان سے پوچھنا چاہیے۔ شاید وہ اس پر کچھ روشنی ڈال سکیں؟‘‘

میں کرسی پر بیٹھنے والی تھی۔ یہ سن کر قدرے رک گئی۔ اب حبیب صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے۔

’’تشریف رکھیے!‘‘

میں بیٹھ گئی۔ میرے شوہر اپنی جگہ سے اٹھے اور بالکل

’’اس کو سینا پرونا نہیں آتا‘‘

کے سے انداز میں اپنے دوست اُلاّ سے کہا۔

’’یہ اس معاملے پر کوئی روشنی نہیں ڈال سکتی۔ ‘‘

’’پوچھنا مجھے تھا۔ ‘‘

حبیب صاحب نے ان سے پوچھا۔

’’کیوں؟‘‘

حسب عادت میرے شوہر گول کر گئے۔

’’بس۔ !‘‘

پھر مجھ سے مخاطب ہوئے

’’چائے کب آئے گی؟‘‘

میں نے مسکرا کر جواب دیا۔

’’جب آپ مجھ سے روشنی ڈالنے کے لیے کہیں گے۔ ‘‘

اُلاّ صاحب نے چشمہ ناک پر جمایا اور تھوڑا سا مسکرائے۔

’’بات یہ ہے بھابی جان کہ۔ وہ ہیں نا آپ کی۔ میرا مطلب ہے۔ ‘‘

حبیب صاحب نے ان کی بات کاٹ دی۔

’’اُتے، خدا کی قسم تمہیں اپنا مطلب سمجھانے کا سلیقہ کبھی نہیں آئے گا۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ مجھ سے مخاطب ہوئے۔

’’آپ یہ فرمائیے کہ آپ کا اپنی سہیلی بلقیس جہاں کے متعلق کیا خیال ہے؟‘‘

سوال بڑا اوندھا سا تھا۔ میں جواب سوچنے لگی۔

’’میں آپ کا مطلب نہیں سمجھی۔ ‘‘

اُلاّ صاحب نے حبیب صاحب کی پسلیوں میں اپنی کہنی سے ایک ٹھونکا دیا۔

’’بھئی واللہ، اپنا مطلب واضح طور پر سمجھانے کا سلیقہ ایک فقط تمہیں ہی آتا ہے۔ ‘‘

’’ٹھہرو یار‘‘

حبیب جھنجھلا گئے۔ انھوں نے ٹائی کی گرہ ٹھیک کی اور جھنجھلاہٹ دور کرتے ہوئے مجھ سے کہا۔

’’ابھی ابھی بلقیس کی باتیں ہورہی تھیں۔ اردو کے موجودہ ادب میں اس خاتون کا جو رتبہ ہے۔ میرا مطلب ہے کہ ان کا ایک خاص مقام ہے۔ افسانہ نگاری میں اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں وہ بہت آگے ہیں۔ جہاں تک نفسیات کے مطالعے کا تعلق ہے۔ ‘‘

حبیب صاحب جیسے یہ کہنے کے لیے بیتاب تھے۔

’’ان کا مطالعہ بہت گہرا ہے۔ ‘‘

’’خاص طور پر مردوں کی جنسی نفسیات کا۔ ‘‘

میرے شوہر نے اپنے مخصوص انداز میں کہا اور میری طرف معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔ حبیب نے مجھ سے مخاطب ہو کر میرے شوہر کے الفاظ دہرائے۔

’’جی ہاں خاص طور پر مردوں کی جنسی نفسیات کا۔ ‘‘

اور یہ کہتے ہوئے دو دفعتہً محجوب سے ہو گئے اور آنکھیں نیچی کرلیں۔ مجھے ان پر کچھ ترس آیا چنانچہ میں نے ذرا بیباکی سے کہا

’’آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟‘‘

اُلاّ صاحب خاموش رہے۔ ان کی جگہ حبیب بولے۔

’’چونکہ آپ بلقیس صاحبہ کی سہیلی ہیں، اس لیے ظاہر ہے کہ آپ ان کو بہت اچھی طرح جانتی ہیں۔ ‘‘

میں نے صرف اتنا کہا۔

’’ایک حد تک!‘‘

میرے شوہر نے کسی قدر بے چین ہو کہا۔

’’بیکار ہے۔ بالکل بیکار ہے۔ عورتیں راز کی باتیں نہیں بتایا کرتیں، خاص طور پر جب وہ خود ان کی اپنی صنف سے متعلق ہوں۔ ‘‘

پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوئے۔

’’کیوں محترمہ، کیا میں جھوٹ کہتا ہوں۔ ‘‘

میرا خیال ہے ایک حد تک درست کہہ رہے تھے، لیکن میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اتنے میں چائے آگئی اور گفتگو تھوڑے عرصے کیلیے

’’چائے کتنی۔ دودھ کتنا۔ شکر کتنے چمچ‘‘

میں تبدیل ہو گئی۔ اُلاّ صاحب پانچویں کریم رول کی کریم اپنے ہونٹوں پر سے چوستے ہوئے پھر بلقیس جہاں کی طرف لوٹے اور بلند آواز میں کہا۔

’’کچھ بھی ہو، یہ طے ہے کہ یہ محترمہ ہم مردوں کی جنسی نفسیات کو خوب سمجھتی ہے۔ ‘‘

ان کا روئے سخن ہم سب کی طرف کم اور ساری دنیا کی طرف زیادہ تھا۔ میں ان کا یہ فیصلہ سن کر دل ہی دل میں مسکرائی۔ کیونکہ کم بخت بلقیس، اُلاّ صاحب کی جنسی نفسیات خوب سمجھتی تھی۔ اس نے ایک مرتبہ مجھ سے کہاتھا۔

’’تھپو۔ اگر یہ اُلاّ صاحب تمہارے شوہر نیک اختر کے دوست نہ ہوتے تو خدا کی قسم میں انھیں ایسے چکر دیتی کہ ساری عمر یاد رکھتے۔ اول درجے کے ریشہ خطمی انسان ہیں۔ اسٹریم لائنڈ عاشق۔ ‘‘

مجھے معلوم نہیں بلقیس نے اُلاّ صاحب کے متعلق یہ رائے کیسے قائم کی تھی۔ میں نے ان کی طرف غور سے دیکھا۔ عینک کے دبیز شیشوں کے پیچھے ان کی آنکھیں گڈمڈ سی ہورہی تھیں۔ اسٹریم لائنڈ عاشق کا کوئی خط مجھے ان کے چہرے پر نظر نہ آیا۔ میں نے سوچا ایسے معاملے جانچنے کے لیے ایک خاص قسم کی نگاہ کی ضرورت ہوتی ہے جو قدرت نے صرف بلی ہی کو عطا کی تھی۔ اُلاّ صاحب نے جب مجھے گھورتے دیکھا تو سٹپٹا سے گئے۔ چھٹے کریم رول کی کریم بہت بری طرح ان کے ہونٹوں سے لتھڑ گئی۔

’’معاف کیجیے گا۔ ‘‘

یہ کہہ کر رومال سے اپنا منہ پونچھا۔

’’کیا آپ کی سہیلی بلقیس کے بارے میں میرا خیال غلط ہے۔ ‘‘

میں نے اپنے لیے دوسرا کپ بانا شروع کردیا۔

’’میں اس بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔ ‘‘

میرے شوہر ایک دم اٹھ کھڑے ہوئے اور بالکل

’’شلجم بن جلائے تم کبھی نہیں پکا سکتیں‘‘

کے سے انداز میں کہا۔

’’یہ اس بارے میں کبھی کچھ کہہ نہیں سکیں گی‘‘

میں نے غیر ارادی طور پر ان کی طرف دیکھا۔ بلی کی ان کے بارے میں یہ رائے تھی کہ بنتے بنتے بننے کے فن میں بڑی مہارت حاصل کرگئے ہیں۔ بے حد خشک ہیں اور یہ خشکی انھوں نے اپنے وجود میں ادھر ادھر سے ملبہ ڈال ڈال کر پیدا کی ہے بظاہر کسی عورت میں دلچسپی ظاہر نہیں کریں گے مگر ہر عورت کو ایک بار چور نظر سے ضرور دیکھیں گے۔ دفعتہً انھوں نے میری طرف چور نظر سے دیکھا۔ میں جھینپ گئی۔ اُلاّ صاحب اپنے ہونٹ تسلی بخش طور پر صاف کر چکے تھے۔ ایک پیٹس اٹھا کر وہ میرے شوہر سے مخاطب ہوئے۔

’’یار تمہاری بیگم صاحبہ نے تو ہمیں بہت بری طرح ڈس اپائنٹ کیا ہے۔ ‘‘

حبیب صاحب چائے کا آخری گھونٹ پی کر بولے

’’درست ہے۔ لیکن اس معاملے میں بیوی کے بجائے خاوند کسی حد تک رہبری کرسکتا ہے۔ ‘‘

اُلاّ صاحب نے پوچھا۔

’’تمہارا مطلب ہے، بلقیس صاحبہ کے بارے میں؟‘‘

’’جی ہاں‘‘

یہ کہہ کر حبیب صاحب اٹھے، میرے شوہر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے۔

’’اپنی بیگم صاحبہ کے ذریعے سے آپ کو بلقیس کی عجیب و غریب شخصیت کے بارے میں کچھ نہ کچھ تو ضرور معلوم ہوا ہو گا۔ ‘‘

میرے شوہر نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا۔

’’صرف اسی قدر کہ اس کا مطالعہ کتابی نہیں‘‘

یہ کہہ کر انھوں نے مجھ سے پوچھا۔

’’کیوں سعیدہ؟‘‘

میں نے ذرا توقف کے بعد کہا۔

’’جی ہاں۔ اسے کتابوں کے مطالعے کا اتنا شوق نہیں!‘‘

میرے شوہر نے ایک دم سوال کیا۔

’’تم اس کی وجہ بتا سکتی ہو؟‘‘

مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں تھی، اس لیے میں نے اپنی معذوری ظاہر کردی لیکن میں سوچنے لگی کہ جب بلقیس کا کام ہی لکھنا ہے، پھر اسے پڑھنے سے لگاؤ کیوں نہیں۔ مجھے یاد ہے، ایک مرتبہ نمائش میں گھومتے ہو ئے اس نے مجھ سے کہا تھا۔

’’بھپو، یہ نمائش نہیں ایک لائبریری ہے۔ زندہ اور متحرک کتابوں سے بھری ہوئی۔ غور تو کرو کتنے دلچسپ کردار چل پھر رہے ہیں۔ ‘‘

سوچتے سوچتے مجھے اس کی اور بہت سی باتیں یاد آگئیں۔ عورتوں کے مقابلے میں وہ مردوں سے کہیں زیادہ تپاک سے ملتی اور باتیں کرتی تھی۔ لیکن گفتگو کاموضوع ادب، شاذو نادر ہی ہوتا تھا، میرا خیال ہے کہ ادبی ذوق رکھنے والے مرد اس سے مل کر یقینی طور پر اس نتیجے پر پہنچتے ہوں گے کہ بہت غیر ادبی قسم کی عورت ہے، کیونکہ عام طور پر وہ گفتگو کا رخ لٹریچر کی طرف آنے ہی نہیں دیتی تھی، لیکن اس کے باوجود اس سے ملاقات کرنے والے بہت خوش خوش جاتے تھے کہ انھوں نے اتنی بڑی ادبی شخصیت کے ایک بالکل نئے اور نرالے پہلو کی جھلک دیکھ لی ہے۔ جہاں تک میں سمجھتی ہوں، بلی اپنی شخصیت کے اس بظاہر بالکل نئے اور نرالے پہلو کی جھلک خود دکھاتی تھی، بقدر ضرورت اور وہ بھی صرف اپنے ملاقاتیوں کے کردار کی صحیح جھلک دیکھنے کے لیے۔ میرے ساتھ اس کو اپنا یہ محبوب اور مجرب نسخہ استعمال کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی تھی کیونکہ بقول اس کے

’’میں نے ایک نظر ہی میں تاڑ لیا تھا کہ تم بے حد سادہ اور چغد قسم کی لڑکی ہو۔ ‘‘

میں بے حد سادہ اور چغد قسم کی لڑکی تو نہیں ہوں۔ لیکن شاید بلی نے یہ رائے اس لیے قائم کی تھی کہ میں نے اس کی بحث پسند، ضدی اور اڑیل طبیعت کے پیش نظر اس سے راہ و رسم بڑھانے سے پہلے ہی اپنے دل میں فیصلہ کرلیا تھا کہ میں اس کی طبیعت کے خلاف بالکل نہ چلوں گی۔ یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس کے بعض افسانے جو بڑے ٹھیٹ قسم کے جنسیاتی یا نفسیاتی ہوتے تھے، میری سمجھ سے عام طور پر اونچے ہی رہتے تھے۔ وہ اکثر ایسے افسانوں کے متعلق پوچھا کرتی تھی

’’کہو، بھپو، تم نے میرا فلاں افسانہ پڑھا۔ ‘‘

اور پھر خود ہی کہا کرتی تھی۔

’’پڑھا تو ضرور ہو گا، مگر سمجھ میں کیا آیا ہو گا۔ خاک۔ خدا کی قسم تم بے حد سادہ اور چغد قسم کی لڑکی ہو!‘‘

میں یہ افسانے سمجھنے کی کوشش ضرور کرتی، مگر مجھے اس بات سے بڑی الجھن ہوتی کہ بلی عورت ہوکر ایسی گہرائیوں میں کود جاتی ہے، جن میں اترنے سے مرد بھی گھبرائیں۔ میں نے کئی دفعہ اس سے کہا

’’تم کیوں ایسی باتیں لکھتی ہو کہ مرد بیٹھ کر تمہارے متعلق طرح طرح کی افواہیں اڑاتے ہیں۔ ‘‘

مگر اس نے ہر بار جواب کچھ اسی قسم کا دیا۔

’’اڑانے دو۔ میں ان کیڑوں کی کیا پروا کرتی ہوں۔ ایسی درگت بناؤں گی کہ یاد رکھیں گے!‘‘

وہ کتنے مردوں کی درگت بنا چکی تھی، اس کا مجھے کوئی علم نہیں، لیکن میرٹھ کے ایک ادھیڑ عمر کے شاعر جو دو سال تک اسے عشقیہ خط لکھتے رہے تھے اور جسے دو سال تک یہ شہہ دیتی رہی تھی، انجام کار سب کچھ بھول کر ایک بہت ہی خفیہ خط میں اس کو اپنی بیٹی بنانے پر مجبور ہو گئے تھے۔ بلکہ یوں کہئے کہ مجبور کر دیے گئے تھے۔ اس نے مجھے ان کا آخری خط دکھایا تھا۔ خدا کی قسم مجھے بہت ترس آیا تھا بیچارے پر۔ اُلاّ صاحب دوسرا پیٹس ختم کر چکے تھے۔ حبیب صاحب تفریحاً خالی پیالی میں چمچ ہلا رہے تھے۔ میں اٹھ کر چائے کے برتن جمع کرنے لگی تو اُلاّ صاحب نے رسمیہ طور پر کہا۔

’’اتنی نفیس چائے کا بہت بہت شکریہ۔ مگر یہ گلہ آپ سے ضرور ر ہے گا کہ آپ نے بلقیس جہاں صاحبہ کی جنسیات نگاری پر کوئی روشنی نہ ڈالی۔ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ بڑے بڑے ماہر جنسیات بھی حیراں ہیں کہ ایک عورت میں اتنی گہری نگاہ کہاں سے آگئی۔ ‘‘

میں کچھ کہنے ہی والی تھی کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی، میرے شوہر نے ریسیور اٹھایا۔

’’ہلو۔ ہلو۔ جی؟۔ جی جی۔ آداب عرض۔ جی ہاں ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر انھوں نے مجھ سے کہا۔

’’تمہارا فون ہے۔ ‘‘

پھر جیسے دفعتہً یاد آیا ہو۔

’’بلی ہے!‘‘

اُلاّ صاحب، حبیب اور میں بیک وقت بولے۔

’’بلقیس!‘‘

میں نے بڑھ کر ریسیور لیا۔ گو بلقیس آنکھ سے اوجھل تھی، مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ وہ جانتی ہے کہ اس کے متعلق یہاں باتیں ہورہی تھیں۔ اس احساس کے باعث میں بوکھلا گئی۔ جلدی جلدی میں اس سے چند باتیں کیں اور ریسیور رکھ دیا۔ اس نے مجھے اپنے یہاں بلایا تھا۔ محفل جمی رہی۔ میں گھر کے کام کاج سے جلدی جلدی فارغ ہو کر بلی کے ہاں روانہ ہو گئی۔ کوٹھی کے باہر بے شمار اسباب افراتفری کے عالم میں پڑا تھا، اس لیے کہ سفیدی ہورہی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں تھی، مگر اس کا سامان بھی درہم برہم تھا۔ میں ایک کرسی صاف کرکے اس پر بیٹھ گئی، بلی نے ادھر ادھر دیکھا اور مجھ سے کہا۔

’’میں ابھی آئی۔ ‘‘

چند منٹ کے بعد ہی وہ واپس آگئی اور مجھ سے کچھ دور اسٹول پر بیٹھ گئی۔ میں نے اس سے کہا۔

’’آج تمہارے متعلق بہت باتیں ہورہی تھیں!‘‘

’’اوہ!‘‘

اس نے کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی۔

’’اُلاّ صاحب بھی تھے۔ ‘‘

’’اچھا!‘‘

’’میں نے انھیں بہت غور سے دیکھا، مگر مجھے ان میں اسٹریم لائنڈ عاشق کے کوئی آثار نظر نہ آئے۔ ‘‘

بلی نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی، پھر سنجیدگی کے ساتھ کہا۔

’’مجھے تم سے ایک بات کرنا تھی؟‘‘

’’کیا؟‘‘

’’کوئی ایسی خاص نہیں۔ ‘‘

لیکن اس کے لہجے نے چغلی کھائی کہ بات بہت خاص قسم کی ہے، چنانچہ میں نے فوراً سوچا کہ اس کے لیے خاص بات صرف ایک ہی ہوسکتی ہے۔ کسی مرد کے عشق میں گرفتار ہو جانا۔

’’آنکھ لڑ گئی ہے کسی سے؟‘‘

بلقیس نے میرے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے جب اس کی طرف غور سے دیکھا تو وہ مجھے بہت ہی متردد نظر آئی۔

’’بات کیا ہے۔ آج تم میں وہ شگفتگی نہیں۔ ‘‘

اس نے پھر مسکرانے کی ناکام کوشش کی۔

’’شگفتگی؟۔ نہیں تو سفیدی ہورہی ہے نا۔ ساری پریشانی اسی کی ہے!‘‘

یہ کہہ کر وہ دانتوں سے اپنے ناخن کاٹنے لگی۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت تعجب ہوا۔ کیونکہ وہ اس کو بہت ہی مکروہ سمجھتی تھی۔ چند لمحات خاموشی میں گزرگئے۔ میں بے چین ہورہی تھی کہ وہ جلدی بات کرے، لیکن وہ خدا معلوم کن خیالات میں غرق تھی۔ بالآخر میں نے تنگ آکر اس سے کہا۔

’’کیا تم میرا نفسیاتی مطالعہ تو نہیں کررہی ہو۔ آخر کچھ کہو گی یا نہیں؟‘‘

وہ بڑبڑائی۔

’’نفسیاتی مطالعہ۔ ‘‘

اور اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ میں ابھی اپنے تعجب کا اظہار بھی نہ کرنے پائی تھی کہ وہ اٹھ کر تیزی سے غسل خانے میں چلی گئی۔ بلی کی سدا تمسخر اڑانے والی آنکھیں اور آنسو؟۔ مجھے یقین نہیں آتا تھا مگر اس کا رونا نہایت کرب آلود تھا۔ اور تو کچھ میری سمجھ میں نہ آیا۔ سینے کے ساتھ لگا اس کی ڈھارس دی اور کہا

’’کیا بات ہے میری جان؟‘‘

اس کے آنسو اور تیزی سے بہنے لگے، لیکن تھوڑی دیر بعد ایک دم آنسو رک گئے۔ مجھ سے دور ہٹ کر وہ دریچے کے باہر دیکھنے لگی۔

’’میں جانتی تھی کہ یہ کھیل خطرناک ہے، لیکن میں نے کوئی پرواہ نہ کی۔ کیا دلچسپ اور مزیدار کھیل تھا!‘‘

وہ دیوانوں کی طرح ہنسی۔

’’بہت ہی مزیدار کھیل۔ ان کی فطری کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا، چند روز بے وقوف بنایا اور ایک افسانہ لکھ دیا۔ کس کا افسانہ۔ بلقیس جہاں کا۔ جنسی نفسیات کی ماہر کا۔ ‘‘

اس نے پھر رونا شروع کردیا اور مجھ سے لپٹ کر کہنے لگی۔

’’بھپو۔ میری حالت قابل رحم!‘‘

’’کیا ہوا میری جان؟‘‘

مجھ سے دور ہٹ کر وہ پھر دریچے کے باہر دیکھنے لگی۔

’’بلقیس جہاں کا خاتمہ۔ کل اسی کمرے میں اس کا وجود ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ ‘‘

’’کیسے؟‘‘

’’یہ مجھ سے نہ پوچھو بھپو۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ مجھ سے لپٹ گئی۔

’’لیکن نہیں۔ میں تم سے نہیں چھپا سکتی۔ لو سنو۔ چند دنوں سے میں سفیدی کرنے والے مزدور کا مطالعہ کررہی تھی۔ کل شام اسی وحشی نے اچانک۔ ‘‘

بلقیس نے دھکا دے کر مجھے باہر نکال دیا اور غسل خانے کا دروازہ بند کردیا۔ جب میں گھر پہنچی تو اُلاّ صاحب اور حبیب صاحب کے علاوہ اور صاحب بھی موجود تھے۔ بلقیس جہاں کی حیرت انگیز جنسی نفسیات نگاری گفتگو کا موضوع تھا۔

سعادت حسن منٹو

نفسیات شناس

آج میں آپ کو اپنی ایک پُر لطف حماقت کا قصّہ سُناتا ہوں۔ کرفیوں کے دن تھے۔ یعنی اس زمانے میں جب بمبئی میں فرقہ وارانہ فساد شروع ہو چکے تھے۔ ہر روز صبح سویرے جب اخبار آتا تو معلوم ہوتا کہ متعدد ہندوؤں اور مسلمانوں کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ میری بیوی اپنی بہن کی شادی کے سلسلے میں لاہور جا چکی تھی۔ گھر بالکل سُونا سُونا تھا اسے گھر تو نہیں کہنا چاہیے۔ کیونکہ صرف دو کمرے تھے ایک غسلخانہ جس میں سفید چمکیلی ٹائلیں لگی تھیں اس سے کچھ اور ہٹ کر ایک اندھیرا سا باورچی خانہ اور بس۔ جب میری بیوی گھر میں تھی تو دونوکر تھے۔ دونوں بھائی کم عمر تھے۔ ان میں سے جو چھوٹا تھا وہ مجھے قطعاً پسند نہیں تھا اس لیے کہ وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ چالاک اور مکار تھا چنانچہ میں نے موقعہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُسے نکال باہر کیا اور اُس کی جگہ ایک اور لڑکا ملازم رکھ لیا جس کا نام افتخار تھا۔ رکھنے کو تو میں نے اُسے رکھ لیا لیکن بعد میں بڑا افسوس ہوا کہ وہ ضرورت سے زیادہ پھرتیلا تھا۔ میں کرسی پر بیٹھا ہوں اور کوئی افسانہ سوچ رہا ہوں کہ وہ باورچی خانہ سے بھاگا آیا اور مجھ سے مخاطب ہوا۔

’’صاحب آپ نے بُلایا مجھے۔ ‘‘

میں حیران کہ اس خرذات کو میں نے کب بُلایا تھا چنانچہ میں نے شروع شروع تو اتنی حیرت کا اظہار کیا اور اس سے کہا۔ افتخار تمہارے کان بجتے ہیں میں جب آواز دیا کروں اُسی وقت آیا کرو۔ افتخار نے مجھ سے کہا۔ لیکن صاحب آپ کی آواز ہی سنائی دی تھی۔ میں نے اس سے بڑے نرم لہجے میں کہا۔ نہیں میں نے تمھیں نہیں بُلایا تھا جاؤ اپنا کام کرو۔ وہ چلا گیا لیکن جب ہر روز چھ چھ مرتبہ آ کر یہی پوچھتا صاحب آپ نے بُلایا ہے مجھے تو تنگ آکر اُس سے کہنا پڑتا۔ تم بکواس کرتے ہو تم ضرورت سے زیادہ چالاک ہو بھاگ جاؤ یہاں سے۔ اور وہ بھاگ جاتا۔ گھر میں چونکہ اور کوئی نہیں تھا اس لیے میرا دوست راجہ مہدی علی خان میرے ساتھ ہی رہتا تھا اُس کو افتخار کی مستعدی بہت پسند تھی۔ وہ اُس سے بہت متاثر تھا۔ اس نے کئی بار مجھ سے کہا منٹو۔ تمہارا یہ ملازم کتنا اچھا ہے۔ ہر کام کتنی مستعدی سے کرتا ہے۔ میں نے اُس سے ہر بار یہی کہا۔ راجہ میری جان تم مجھ پر بہت بڑا احسان کرو گے۔ اگر اسے یہاں اپنے یہاں لے جاؤ مجھے ایسے مستعد نوکر کی ضرورت نہیں معلوم نہیں کہ راجہ کو افتخار پسند تھا تو اُس نے اُسے ملازم کیوں نہ رکھ لیا میں نے راجہ سے کہا۔

’’دیکھو بھائی یہ لڑکا بڑا خطرناک ہے مجھے یقین ہے کہ چور ہے کبھی نہ کبھی میرے چونا ضرور لگائے گا۔ ‘‘

راجہ میرا تمسخر اُڑاتا۔ تم فرائڈ بن رہے ہو۔ ایسا نوکر زندگی میں مشکل سے ملتا ہے تم نے اسے سمجھا ہی نہیں۔

’’میں سوچ میں پڑ جاتا کہ میرا قیافہ یا اندازہ کہیں غلط تو نہیں۔ شاید راجہ ٹھیک ہی کہہ رہا ہو۔ ہوسکتا ہے افتخار ایماندار ہو اور جو میں نے اس کی ضرورت سے زیادہ پھرتی اور چالاکی کے متعلق فیصلہ کیا ہے بہت ممکن ہے غلط ہو۔ مگر سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچتا کہ میں نے جو فیصلہ کیا ہے وہی درست ہے مجھے اپنے متعلق یہ حسن ظن ہے کہ انسانی نفسیات کا ماہر ہوں۔ آپ یقین مانیے افتخار کے متعلق جو رائے میں نے قائم کی تھی دُرست نکلی۔ لیکن۔ ‘‘

’’یہ۔ لیکن ہی سارا قصہ ہے‘‘

اور قصّہ یُوں ہے کہ میں جب بمبئی ٹاکیز سے واپس آیا کرتا تھا تو عادتاً ریل گاڑی کا ماہانہ ٹکٹ جو ایک کارڈ کی صورت میں ہوتا تھا جو سلو لائیڈ کے کور میں بند رہتا تھا، اپنے میز کے ٹرے میں رکھا کرتا تھا جتنے روپے پیسے اور آنے جیب میں ہوتے وہ بھی اس ٹرے میں رکھ دیتا۔ اگر کچھ نوٹ ہوں تو میں وہ ٹکٹ کے سلو لائیڈ کے کور میں اُڑس دیا کرتا۔ ایک دن جب میں بمبئی ٹاکیز سے واپس آیا تو میری جیب میں ساٹھ روپے کی مالیت کے چھ نوٹ دس دس کے تھے میں نے حسبِ عادت جیب میں سے ٹرین کا پاس نکالا اور سلولائڈ کور میں چھ نوٹ اڑسے اور برانڈی پینے لگا۔ کھانا کھانے کے بعد میں سوگیا۔ صبح جلدی بیدار ہوتا ہوں یعنی یہی کوئی ۵ بجے ساڑھے پانچ کے قریب اخبار آ جاتے تھے اُن کا جلدی جلدی مطالعہ کرتے کرتے چھ بجے میں اُٹھ کر غسل کرتا اُس کے بعد پھر برانڈی پیتا اور کھانا کھا کر سو جاتا۔ اُس شام بھی ایسا ہی ہوا افتخار نے بڑی پھرتی سے میز پر کھانا لگایا جب میں کھا کر فارغ ہوا تو اس نے بڑی پھرتی سے برتن اُٹھائے۔ میز صاف کی اور مجھ سے کہا

’’صاحب آپ کو سگریٹ چاہئیں۔ ‘‘

میں نے اس سے بڑے درشت لہجے میں کہا۔ کہ

’’سگریٹ تو مجھے چاہئیں۔ لیکن تم لاؤ گے کہاں سے جانتے نہیں ہو آج کرفیو ہے نو بجے سے صبح چھ بجے تک۔ ‘‘

افتخار خاموش ہو گیا۔ میں حسبِ معمول صبح پانچ بجے اُٹھا لیکن سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کروں نوکر سو رہے تھے۔ کرفیو کا وقت چھ بجے تک تھا۔ اس وقت کوئی اخبار نہیں آیا تھا۔ صوفے پر بیٹھا اونگھتا رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد اُکتا کر میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو بازار سنسان تھا وہ بازار جو صبح تین بجے ہی ٹرالوں کی کھڑ کھڑاہٹ اور مل میں کام کرنیوالی عورتوں اور مردوں کی تیز رفتاری سے زندہ ہوتا تھا۔ کھڑکی ایک ہی تھی۔ اس کے پاس ہی میری میز پر جو ٹرے پڑی تھی میری نظر اتفاقیہ اس پر پڑی شام کو ہر روز میں اس میں اپنا ریل کا پاس اور روپے پیسے رکھا کرتا تھا اس لیے کہ یہ معاملہ عادت بن کر طبیعت بن گیا تھا۔ جب میں نے ٹرے کو اتفاقیہ دیکھا تو مجھے وہ پاس نظر نہ آیا جس کے کور میں میں نے دس دس کے چھ کرنسی نوٹ رکھے تھے پہلے تو میں نے سمجھا کہ شاید میں نے کاغذوں کے نیچے رکھ دیا ہو گا لیکن جب کاغذ اُٹھائے تو کچھ بھی نہ تھا۔ بڑی حیرت ہوئی۔ ایک ایک کاغذ اُلٹ پلٹ کیا مگر وہ پاس نہ ملا۔ دونوں نوکر باورچی خانے میں سو رہے تھے۔ میں بڑا متحیر تھا کہ یہ قصہ کیا ہے میں نے اگر گھر آنے سے پہلے شراب پی ہوتی تو میں سمجھتا کہ میرا حافظہ جواب دے گیا ہے یا جیب سے رومال نکالتے وقت مجھ سے وہ چھ نوٹ کہیں گر گئے۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس تھا میں نے بمبئی ٹاکیز سے واپس گھر آتے ہوئے راستے میں ایک قطرہ بھی نہیں پیا تھا اس لیے کہ گھر میں برانڈی کی پوری بوتل موجود تھی۔ میں نے اِدھر اُدھر تلاش شروع کی تو دیکھا میرا ریلوے پاس دس دس کے چھ نوٹوں سمیت میز کے نچلے درازمیں فائلوں کے نیچے پڑا ہے میں دیر تک سوچتا رہا لیکن کچھ سمجھ میں نہ آیا اس لیے کہ میں نے اسے چھپا کر نہیں رکھا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ افتخار کی حرکت ہے۔ جبکہ میں سو رہا تھا باورچی خانے کے کام سے فارغ ہو کر ٹرے میں وہ پاس دیکھا اور اس کو میز کے نیچے والی دراز میں فائلوں کے اندر چھپا دیا۔ رات کرفیو تھا اس لیے وہ باہر نہیں جاسکتا تھا۔ اس کی غالباً یہ اسکیم تھی کہ جب صبح کرفیو اُٹھے تو وہ پاس نوٹوں سمیت لے کر چھپت سو جائے گا مگر میں بھی ایک کائیاں تھا میں نے پاس فائلوں کے نیچے سے اُٹھایا اور پھر ٹرے میں رکھ دیا تاکہ میں افتخار کی پریشانی دیکھ سکوں۔ مجھے مقررہ وقت پر بمبئی ٹاکیز جانا تھا چنانچہ حسبِ معمول میں نے کُرتہ اور پاجامہ نکالا پاجامہ میں ازار بند ڈالا اور تولیہ لے کر غسل خانے میں چلا گیا لیکن میرے دل و دماغ میں صرف ایک ہی خیال تھا۔ اور وہ افتخار کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کا مجھے یقین تھا کہ وہ میری میز کے نچلے دراز میں چھپایا ہوا پاس بڑے وثوق سے نکالے گا پھر جب اُسے نہیں ملے گا تو وہ اِدھر اُدھر دیکھے گا۔ جب اُسے ناکامی ہو گی تو وہ اُٹھے گا اُس کی نظر ٹرے پر پڑے گی وہ کس قدر حیران ہو گا لیکن وہ پاس کو اُٹھائے گا اور اپنے قبضے میں اُڑس کر چلتا بنے گا۔ میں نے اپنے دماغ میں اسکیم بنائی تھی کہ غسل خانے کا دروازہ تھوڑا سا کھلا رکھوں گا۔ غسل خانہ میرے کمرے کے بالکل سامنے تھا ذرا سا دروازہ کھلا رہتا اور میں تاک میں رہتا تو افتخار کو رنگے ہاتھوں پکڑ لینے میں کوئی شبہ ہی نہیں ہوسکتا۔ میں جب غسل خانے میں داخل ہوا تو بہت مسرور تھا۔ بزعمِ خود نفسیاتی ماہر کی وجہ سے اور بھی زیادہ خوش تھا کہ آج میری قابلیت مُسلم ہو جائے گی۔ افتخار کو پکڑ کر میں راجہ کے سامنے پیش کرنا چاہتا تھا۔ میرا یہ ارادہ نہیں تھا کہ اسے پولیس کے حوالے کروں مجھے صرف اپنا دلی اور ذہنی اطمینان ہی تو مطلوب تھا۔ چنانچہ میں نے غسل خانے میں داخل ہو کر جب اپنے کپڑے اُتارے تو دروازہ ذرا سا کھلا رکھا۔ پانی کے دو ڈونگے اپنے بدن پر ڈال کر میں نے صابن ملنا شروع کیا اس کے بعد کئی مرتبہ جھانک کر کمرے کی طرف دیکھا مگر افتخار پاس لینے نہ آیا۔ لیکن مجھے یقین واثق تھا کہ وہ ضرور آئے گا اس لیے کہ اس وقت کرفیو اُٹھ چکا تھا۔ میں فوارے کے نیچے بیٹھا اور اُس کی تیز اور ٹھنڈی پھوار میں اپنا کام بھول گیا اور سوچنے لگا۔ افسانہ نگار ہونا بھی بہت بڑی لعنت ہے میں نے اسکیم کو افسانے کی شکل دینا شروع کر دی ساتھ ساتھ نہاتا بھی رہا اتنا مزا آیا کہ افسانے اور پانی میں غرق ہو گیا۔ میں نے پورا افسانہ صابن اور پانی سے دھو دھا کر اپنے دماغ میں صاف کر لیا۔ بہت خوش تھا۔ اس لیے کہ اس افسانے کا انجام یہ تھا کہ میں نے اپنے نوکر کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے اور میری نفسیات شناسی کی چاروں طرف دُھوم مچ گئی ہے۔ میں بہت خوش تھا چنانچہ میں خلافِ معمول اپنے بدن پر ضرورت سے زیادہ صابن ملا۔ ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کیا لیکن ایک بات تھی کہ افسانہ میرے دماغ میں اور زیادہ صاف اور زیادہ اُجلا ہوتا گیا جب نہا کر باہر نکلاتو میں اور بھی زیادہ خوش تھا۔ اب صرف یہ کرنا تھا کہ یہ قلم اُٹھاؤں اور یہ افسانہ لکھ کر کسی پرچے کو بھیج دُوں۔ میں خوش تھا کہ چلو ایک افسانہ ہو گیا۔ کپڑے تبدیل کرنے کے لیے دوسرے کمرے میں گیا میرے فلیٹ میں صرف دو کمرے تھے۔ ایک کمرے میں تو وہ معاملہ پڑا تھا۔ یعنی میرا ریلوے کا پاس جس میں دس دس کے چھ نوٹ ملفوف تھے میں دوسرے کمرے میں کپڑے پہن رہا تھا۔ کپڑے پہن کر جب باہر نکلا تو یوں سمجھیے جیسے افسانوں کی دنیا سے باہر آیا۔ فوراً مجھے خیال آیا کہ میری اسکیم کیا تھی۔ میز پر پڑی ٹرے کو دیکھا۔ میرا ریلوے پاس دس دس کے چھ نوٹوں سمیت غائب تھا۔ میں نے فوراً اپنے شریف نوکر کو طلب کیا اور اُس سے پوچھا۔

’’کریم افتخار کہاں ہے‘‘

اس نے جواب دیا۔

’’صاحب وہ کوئلے لینے گیا ہے۔ ‘‘

میں نے صرف اتنا کہا

’’تو اُس نے اپنا منہ کالا کر لیا ہے۔ ‘‘

کریم نے اُس کی تلاش کی مگر وہ نہ ملا میں غسل خانے میں انسانی نفسیات کو صابن اور پانی سے دھوتا اور صاف کرتا رہا۔ مگر افتخار مجھے صاف کر گیا۔ اس لیے کہ اسی صبح جب میں بمبئی ٹاکیز کی برقی ٹرین میں روانہ ہوا تو میرے پاس، پاس نہیں تھا ٹکٹ چیکر آیا تو میں پکڑا گیا۔ مجھے کافی جرمانہ ادا کرنا پڑا۔

سعادت حسن منٹو

نعرہ

اُسے یوں محسوس ہوا کہ اس سنگین عمارت کی ساتوں منزلیں اُس کے کاندھوں پر دھر دی گئی ہیں۔ وہ ساتویں منزل سے ایک ایک سیڑھی کرکے نیچے اُترا اور تمام منزلوں کا بوجھ اُس کے چوڑے مگر دُبلے کاندھے پر سوار ہوتا گیا۔ جب وہ مکان کے مالک سے ملنے کے لیے اوپر چڑھ رہا تھا۔ تو اُسے محسوس ہوا تھا کہ اُس کا کچھ بوجھ ہلکا ہو گیا ہے اور کچھ ہلکا ہو جائے گا۔ اس لیے کہ اس نے اپنے دل میں سوچا تھا۔ مالک مکان جسے سب سیٹھ کے نام سے پُکارتے ہیں اس کی بپتا ضرور سنے گا۔ اور کرایہ چکانے کے لیے اُسے ایک مہینے کی اور مہلت بخش دے گا۔۔۔۔۔ بخش دے گا!۔۔۔۔۔۔ یہ سوچتے ہوئے اُس کے غرور کو ٹھیس لگی تھی لیکن فوراً ہی اس کو اصلیت بھی معلوم ہو گئی تھی۔۔۔۔ وہ بھیک مانگنے ہی تو جا رہا تھا۔ اور بھیک ہاتھ پھیلا کر، آنکھوں میں آنسو بھر کے، اپنے دُکھ درد سُنا کر اور اپنے گھاؤ دکھا کر ہی مانگی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔! اُس نے یہی کچھ کیا۔ جب وہ اس سنگین عمارت کے بڑے دروازے میں داخل ہونے لگا۔ تو اُس نے اپنے غرور کو، اُس چیز کو جو بھیک مانگنے میں عام طور پر رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ نکال کر فٹ پاتھ پر ڈال دیا تھا۔ وہ اپنا دیا بُجھا کر اور اپنے آپ کو اندھیرے میں لپیٹ کر مالک مکان کے اس روشن کمرے میں داخل ہوا۔ جہاں وہ اپنی دو بلڈنگوں کا کرایہ وصول کیا کرتا تھا۔ اور ہاتھ جوڑ کر ایک طرف کھڑا ہو گیا۔ سیٹھ کے تلک لگے ماتھے پر کئی سلوٹیں پڑ گئیں۔ اُس کا بالوں بھرا ہاتھ ایک موٹی سی کاپی کی طرف بڑھا۔ دو بڑی بڑی آنکھوں نے اس کاپی پر کچھ حروف پڑھے اور ایک بھدّی سی آواز گونجی۔

’’کیشو لال۔۔۔۔۔ کھولی پانچویں، دوسرا مالا۔۔۔۔۔۔۔ دو مہینوں کا کرایہ۔۔۔۔۔۔۔۔ لے آئے ہو کیا؟‘‘

یہ سُن کر اس نے اپنا دل جس کے سارے پرانے اور نئے گھاؤ وہ سیڑھیاں چڑھتے ہُوئے کرید کرید کر گہرے کر چکا تھا۔ سیٹھ کو دکھانا چاہا۔ اُسے پورا پورا یقین تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے دل میں ضرور ہمدردی پیدا ہو جائے گی۔ پر۔۔۔۔۔۔ سیٹھ جی نے کچھ سننا نہ چاہا۔ اور اس کے سینے میں ایک ہلڑ سا مچ گیا۔ سیٹھ کے دل میں ہمدردی پیدا کرنے کے لیے اُس نے اپنے وہ تمام دُکھ جو بیت چکے تھے۔ گزرے دنوں کی گہری کھائی سے نکال کر اپنے دل میں بھر لیے تھے اور ان تمام زخموں کی جلن جو مُدّت ہُوئی مِٹ چکے تھے۔ اُس نے بڑی مشکل سے اکٹھی اپنی چھاتی میں جمع کی تھی۔ اب اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اتنی چیزوں کو کیسے سنبھالے؟ اُس کے گھر میں بن بلائے مہمان آ گئے ہوتے وہ ان سے بڑے روکھے پن کے ساتھ کہہ سکتا تھا۔ جاؤ بھئی میرے پاس اتنی جگہ نہیں ہے کہ تمہیں بٹھا سکوں اور نہ میرے پاس روپیہ ہے کہ تم سب کی خاطر مدارات کر سکوں۔ لیکن یہاں تو قصّہ ہی دوسرا تھا۔ اُس نے تو اپنے بھولے بھٹکے دُکھوں کو ادھر اُدھر سے پکڑ کر اپنے آپ سینے میں جمع کیا تھا۔ اب بھلا وہ باہر نکل سکتے تھے؟ افراتفری میں اُسے کچھ پتہ نہ چلا تھا۔ کہ اس کے سینے میں کتنی چیزیں بھر گئی ہیں۔ پر جیسے جیسے اُس نے سوچنا شروع کیا۔ وہ پہچاننے لگا کہ فلاں دُکھ فلاں وقت کا ہے اور فلاں درد اُسے فلاں وقت پر ہوا تھا۔ اور جب یہ سوچ بچار ہوئی تو حافظے نے بڑھ کر وہ دُھند ہٹا دی۔ جو ان پر لپٹی ہوئی تھی۔ اور کل کے تمام دُکھ درد آج کی تکلیفیں بن گئے اور اس نے اپنی زندگی کی باسی روٹیاں پھر انگاروں پر سینکنا شروع کر دیں۔ اُس نے سوچا، تھوڑے سے وقت میں اُس نے بہت کچھ سوچا۔ اس کے گھر کا اندھا لیمپ کئی بار بجلی کے اُس بلب سے ٹکرایا جو مالک مکان کے گنجے سر کے اوپر مسکرا رہا تھا۔ کئی بار اُس پیوندلگے کپڑے ان کھونٹیوں پر لٹک کر پھر اس کے میلے بدن سے چمٹ گئے۔ جو دیوار میں گڑی چمک رہی تھیں۔ کئی بار اُسے ان داتا بھگوان کا خیال آیا جو بہت دُور نہ جانے کہاں بیٹھا اپنے بندوں کا خیال رکھتا ہے۔ مگر اپنے سامنے سیٹھ کو کُرسی پر بیٹھا دیکھ کر جس کے قلم کی جنبش کچھ کا کچھ کر سکتی تھی۔ وہ اس بارے میں کچھ بھی نہ سوچ سکا۔ کئی بار اُس خیال آیا۔ اور وہ سوچنے لگا۔ کہ اُسے کیا خیال آیا تھا۔ مگر وہ اس کے پیچھے بھاگ دوڑ نہ کر سکا۔ وہ سخت گھبرا گیا تھا۔ اُس نے آج تک اپنے سینے میں اتنی کھلبلی نہیں دیکھی تھی۔ وہ اس کھلبلی پر ابھی تعجب ہی کر رہا تھا۔ کہ مالک مکان نے غصّے میں آکر اُسے گالی دی۔۔۔۔۔ گالی۔۔۔۔۔۔۔ یوں سمجھیے کہ کانوں کے راستے پگھلا ہوا سیسہ شائیں شائیں کرتا اس کے دل میں اُتر گیا۔ اور اس کے سینے کے اندر جو ہلڑ مچ گیا۔ اُس کا تو کچھ ٹھکانہ ہی نہ تھا جس طرح کسی گرم گرم جلسے میں کسی شرارت سے بھگدڑ مچ جایا کرتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح اُس کے دل میں ہلچل پیدا ہو گئی۔ اُس نے بہت جتن کیے کہ اس کے وہ دُکھ درد جو اس نے سیٹھ کو دکھانے کے لیے اکٹھے کیے تھے۔ چپ چاپ رہیں۔ پر کچھ نہ ہو سکا۔ گالی کا سیٹھ کے منہ سے نکلنا تھا کہ تمام دکھ بے چین ہو گئے۔ اور اندھا دھند ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے۔ اب تو وہ یہ نئی تکلیف بالکل نہ سہ سکا۔ اور اس کی آنکھوں میں جو پہلے ہی تپ رہی تھیں آنسو آ گئے جس سے ان کی گرمی اور بھی بڑھ گئی اور ان سے دُھواں نکلنے لگا۔ اُس کے جی میں آئی کہ اس گالی کو جسے وہ بڑے حد تک نگل چکا تھا۔ سیٹھ کے جھُریوں پڑے چہرے پر قے کر دے مگر وہ اس خیال سے باز آگیا کہ اس کا غرور تو فُٹ پاتھ پر پڑا ہے۔ اپولوبندر پر نمک لگی مونگ پھلی بیچنے والے کا غرور۔۔۔۔۔۔ اُس کی آنکھیں ہنس رہی تھیں۔ اور ان کے سامنے نمک لگی مونگ پھلی کے وہ تمام دانے جو اُس کے گھر میں ایک تھیلے کے اندر برکھا کے باعث گیلے ہو رہے تھے، ناچنے لگے۔ اس کی آنکھیں ہنسیں، اس کا دل بھی ہنسا، یہ سب کچھ ہُوا۔ پر وہ کڑواہت دُور نہ ہُوئی۔ جو اُس کے گلے میں سیٹھ کی گالی نے پیدا کر دی تھی۔ یہ کڑواہٹ اگر صرف زبان پر ہوتی تو وہ اسے تھوک دیتا مگر وہ تو بہت بُری طرح اس کے گلے میں اٹک گئی تھی۔ اور نکالے نہ نکلتی تھی۔ اور پھر ایک عجیب قسم کا دُکھ جو اُس گالی نے پیدا کر دیا تھا۔ اس کی گھبراہٹ کو اور بھی بڑھا رہا تھا۔ اُسے یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس کی آنکھیں جو سیٹھ کے سامنے رونا فضول سمجھتی تھیں۔ اس کے سینے کے اندر اُتر کر آنسو بہا رہی ہیں۔ جہاں ہر چیز پہلے ہی سے سوگ میں تھی۔ سیٹھ نے اسے پھر گالی دی۔ اتنی ہی موٹی جتنی اُس کی چربی بھری گردن تھی۔ اور اُسے یوں لگا کہ کسی نے اُوپر سے اس پر کوڑا کرکٹ پھینک دیا ہے۔ چنانچہ اس کا ایک ہاتھ اپنے آپ چہرے کی حفاظت کے لیے بڑھا پر اس گالی کی ساری گرد اس پر پھیل چکی تھی۔۔۔۔۔ اب اس نے وہاں ٹھہرنا اچھا نہ سمجھا۔ کیونکہ کیا خبر تھی۔۔۔۔۔۔ کیا خبر تھی۔۔۔۔۔۔ اُسے کچھ خبر نہ تھی۔۔۔۔۔۔ وہ صرف اتنا جانتا تھا کہ ایسی حالتوں میں کسی بات کی سُدھ بُدھ نہیں رہا کرتی۔ وہ جب نیچے اترا تو اُسے ایسا محسوس ہوا کہ اس سنگین عمارت کی ساتوں منزلیں اُس کے کندھوں پر دھر دی گئی ہیں۔ ایک نہیں، دو گالیاں۔۔۔۔۔ بار بار یہ دو گالیاں جو سیٹھ نے بالکل پان کی پیک کے مانند اپنے منہ سے اُگل دی تھیں جو اُس کے کانوں کے پاس زہریلی بھڑوں کی طرح بھنبھنانا شروع کر دیتی تھیں اور وہ سخت بے چین ہو جاتا تھا۔ وہ کیسے اُس۔ اُس۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس گڑ بڑ کا نام کیا رکھے، جو اس کے دل میں اور دماغ میں ان گالیوں نے مچا رکھی تھی۔ وہ کیسے اس تپ کو دُور کر سکتا تھا۔ جس میں وہ پھنکا جا رہا تھا۔ کیسے؟ ۔۔۔۔۔ پر وہ سوچ بچار کے قابل بھی تو نہیں رہا تھا۔ اس کا دماغ تو اس وقت ایک ایسا اکھاڑہ بنا ہُوا تھا جس میں بہت سے پہلوان کشتی لڑ رہے ہوں۔ جو خیال بھی وہاں پیدا ہوتا۔ کسی دوسرے خیال سے جو پہلے ہی سے وہاں موجود ہوتا بھڑ جاتا۔ اور وہ کچھ سوچ نہ سکتا۔ چلتے چلتے جب ایکا ایکی اُس کے دُکھ قےَ کی صورت میں باہر نکلنے کو تھے اس کے جی میں آئی۔ جی میں کیا آئی، مجبوری کی حالت میں وہ اس آدمی کو روک کر جو لمبے لمبے ڈگ بھرتا اُس کے پاس سے گزر رہا تھا۔ یہ کہنے ہی والا تھا۔

’’بھیّا میں روگی ہوں‘‘

مگر جب اُس نے اُس راہ چلتے آدمی کی شکل دیکھی تو بجلی کا وہ کھمبا جو اس کے پاس ہی زمین میں گڑا تھا۔ اسے اس آدمی سے کہیں زیادہ حساس دکھائی دیا۔ اور جو کچھ وہ اپنے اندر سے باہر نکالنے والا تھا۔ ایک ایک گھونٹ کرکے پھر نگل گیا۔ فٹ پاتھ پر چوکور پتھر ایک ترتیب کے ساتھ جُڑے ہُوئے تھے۔ وہ ان پتھروں پر چل رہا تھا۔ آج تک کبھی اُس نے ان کی سختی محسوس نہ کی تھی۔ مگر آج ان کی سختی اس کے دل تک پہنچ رہی تھی۔ فٹ پاتھ کا ہر ایک پتھر جس پر اُس کے قدم پڑ رہے تھے۔ اُس کے دل کے ساتھ ٹکرا رہا تھا۔۔۔۔۔ سیٹھ کے پتھر کے مکان سے نکل کر ابھی وہ تھوڑی دُور ہی گیا ہو گا کہ اس کا بند بند ڈھیلا ہو گیا۔ چلتے چلتے اُس کی ایک لڑکے سے ٹکر ہوئی۔ اور اُسے یوں محسوس ہوا۔ کہ وہ ٹوٹ گیا ہے۔ چنانچہ اُس نے جھٹ اُس آدمی کی طرح جس کی جھولی سے بیر گر رہے ہوں۔ ادھر اُدھر ہاتھ پھیلائے اور اپنے آپ کو اکٹھا کر کے ہولے ہولے چلنا شروع کیا۔ اُس کا دماغ اس کی ٹانگوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی کے ساتھ چل رہا تھا چنانچہ کبھی کبھی چلتے چلتے اُسے یہ محسوس ہوتا تھا۔ کہ اس کا نچلا دھڑ سارے کا سارابہت پیچھے رہ گیا ہے۔ اور دماغ بہت آگے نکل گیا ہے۔ کئی بار اسے اس خیال سے ٹھہرنا پڑا کہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہو جائیں۔ وہ فٹ پاتھ پر چل رہا تھا جس کے اس طرف سڑک پر پوں پوں کرتی موٹروں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ گھوڑے گاڑیاں، ٹرالیں، بھاری بھرکم ٹرک، لاریاں یہ سب سڑک کی کالی چھاتی پر دندناتی ہوئی چل رہی تھیں۔ ایک شور مچا ہُواتھا۔ پر اس کے کانوں کو کچھ سنائی نہ دیتا تھا۔ وہ تو پہلے ہی سے شائیں شائیں کر رہے تھے۔ جیسے ریل گاڑی کا انجن زائد بھاپ باہر نکال رہا ہے۔ چلتے چلتے ایک لنگڑے کُتے سے اس کی ٹکر ہوئی۔ کُتے نے اس خیال سے کہ شاید اُس کا پیر کچل دیا گیا ہے۔

’’چاؤں‘‘

کیا اور پرے ہٹ گیا۔ اور وہ سمجھا کہ سیٹھ نے اُسے پھر گالی دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گالی۔۔۔۔۔۔ گالی ٹھیک اسی طرح اُس سے اُلجھ کر رہ گئی تھی جیسے بیری کے کانٹوں میں کوئی کپڑا۔ وہ جتنی کوشش اپنے آپ کو چھڑانے کی کرتا تھا۔ اتنی ہی زیادہ اس کی روح زخمی ہوتی جا رہی تھی۔ اُسے اس نمک لگی مونگ پھلی کا خیال نہیں تھا جو اس کے گھر میں برکھا کے باعث گیلی ہو رہی تھی اور نہ اسے روٹی کپڑے کا خیال تھا۔ اس کی عمر تیس برس کے قریب تھی۔ اور ان تیس برسوں میں جن کے پرماتما جانے کتنے دن ہوتے ہیں۔ وہ کبھی بھُوکا نہ سویا تھا۔ اور نہ کبھی ننگا ہی پھرا تھا۔ اُسے صرف اس بات کا دُکھ تھا۔ کہ اُسے ہر مہینے کرایہ دینا پڑتا تھا۔ وہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرے۔ اس بکرے جیسی داڑھی والے حکیم کی دوائیوں کے دام دے۔ شام کو تاڑی کی ایک بوتل کے لیے دوّئی پیدا کر لے۔ یا اس گنجے سیٹھ کے مکان کے ایک کمرے کا کرایہ ادا کرے۔ مکانوں اور کرایوں کا فلسفہ اس کی سمجھ سے سدا اونچا رہا تھا۔ وہ جب بھی دس روپے گن کر سیٹھ یا اس کے منیم کی ہتھیلی پر رکھتا تو سمجھتا تھا کہ زبردستی اس سے یہ رقم چھین لی گئی ہے۔ اور اب اگر وہ پانچ برس تک برابر کرایہ دیتے رہنے کے بعد صرف دو مہینے کا حساب چکتا نہ کر سکا تو کیا سیٹھ کو اس بات کا اختیار ہو گیا۔ کہ وہ اُسے گالی دے؟ سب سے بڑی بات تو یہ تھی جو اُسے کھائے جا رہی تھی۔ اُسے ان بیس روپوں کی پروا نہ تھی جو اُسے آج نہیں کل ادا کر دینے تھے۔ وہ ان دو گالیوں کی بابت سوچ رہا تھا۔ جو ان بیس روپوں کے بیچ میں سے نکلتی تھیں۔ نہ وہ بیس روپے کا مقروض ہوتا اور نہ سیٹھ کے کٹھالی جیسے منہ سے یہ گندگی باہر نکلتی۔ مان لیا وہ دھنوان تھا۔ اس کے پاس دو بلڈنگیں تھیں۔ جن کے ایک سو چوبیس کمروں کا کرایہ اس کے پاس آتا تھا۔ پر ان ایک سو چوبیس کمروں میں جتنے لوگ رہتے ہیں۔ اُس کے غلام تو نہیں اور اگر غلام بھی ہیں تو وہ انھیں گالی کیسے دے سکتا ہے؟‘‘

’’ٹھیک ہے اُسے کرایہ چاہیے۔ پر میں کہاں سے لاؤں پانچ برس تک اُس کو دیتا ہی رہا ہوں۔ جب ہو گا، دے دوں گا۔ حالانکہ مجھے اس سے کہیں زیادہ ہولناک گالیاں یاد ہیں۔ پر میں نے سیٹھ سے بار ہا کہا۔ کہ سیڑھی کا ڈنڈا ٹوٹ گیا ہے۔ اُسے بنوا دیجیے۔ پر میری ایک نہ سُنی گئی۔ میری پھول سی بچی گری۔ اس کا داہنا ہاتھ ہمیشہ کے لیے بیکار ہو گیا۔ میں گالیوں کے بجائے اسے بددعائیں دے سکتا تھا۔ پر مجھے اس کا دھیان ہی نہیں آیا۔۔۔۔۔۔ دو مہینے کا کرایہ نہ چکانے پر میں گالیوں کے قابل ہو گیا۔ اس کو یہ خیال تک نہ آیا۔ کہ اس کے بچے اپولوبندر پرمیرے تھیلے سے مٹھیاں بھر بھر کے مونگ پھلی کھاتے ہیں۔ ‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے پاس اتنی دولت نہیں تھی جتنی کہ اس دو بلڈنگوں والے سیٹھ کے پاس تھی۔ اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کے پاس اس سے بھی زیادہ دولت ہو گی، پر وہ غریب کیسے ہو گیا۔۔۔۔۔ اسے غریب سمجھ کر ہی تو گالی دی گئی تھی۔ ورنہ اس گنجے سیٹھ کی کیا مجال تھی۔ کہ کرسی پر بڑے اطمینان سے بیٹھ کر اُسے دو گالیاں سُنا دیتا۔ گویا کسی کے پاس دھن دولت کا نہ ہونا بہت بُری بات ہے۔ اب یہ اس کا قصور نہیں تھا۔ کہ اس کے پاس دولت کی کمی تھی۔ سچ پوچھیے۔ تو اُس نے کبھی دھن دولت کے خواب دیکھے ہی نہ تھے وہ اپنے حال میں مست تھا۔ اُس کی زندگی بڑے مزے میں گزر رہی تھی۔ پر پچھلے مہینے ایکا ایکی اس کی بیوی بیمار پڑ گئی اور اس کے دوا دارو پر وہ تمام روپے خرچ ہو گئے جو کرایے میں جانے والے تھے۔ اگر وہ خود بیمار ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ دواؤں پر روپیہ خرچ نہ کرتا لیکن یہاں تو اس کے ہونے والے بچے کی بات تھی جو ابھی اپنی ماں کے پیٹ ہی میں تھا۔ اس کو اولاد بہت پیاری تھی جو پیدا ہو چکی تھی اور جو پیدا ہونے والی تھی۔ سب کی سب اُسے عزیز تھی وہ کیسے اپنی بیوی کا علاج نہ کراتا؟ ۔۔۔۔۔۔کیا وہ اس بچے کا باپ نہ تھا؟ ۔۔۔۔۔۔ باپ پِتا۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو صرف دو مہینے کے کرائے کی بات تھی۔ اگر اُسے اپنے بچے کے لیے چوری بھی کرنا پڑتی تو وہ کبھی نہ چوکتا۔۔۔۔۔۔۔ چوری۔ نہیں نہیں وہ چوری کبھی نہ کرتا۔۔۔۔۔ یوں سمجھئے کہ وہ اپنے بچے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی کرنے کے لیے تیار تھا۔ مگر وہ چور کبھی نہ بنتا۔۔۔۔۔ وہ اپنی چھِنی ہُوئی چیز واپس لینے کے لیے لڑ مرنے کو تیار تھا۔ پر وہ چوری نہیں کر سکتا تھا۔ اگر وہ چاہتا تو اس وقت جب سیٹھ نے اُسے گالی دی تھی۔ آگے بڑھ کر اس کا ٹینٹوا دبا دیتا اور اس کی تجوری میں سے وہ تمام نیلے اور سبز نوٹ نکال کر بھاگ جاتا۔ جن کو وہ آج تک لاجونتی کے پتّے سمجھا کرتا تھا۔۔۔۔۔ نہیں نہیں وہ ایسا کبھی نہ کرتا۔ لیکن پھر سیٹھ نے اسے گالی کیوں دی؟ ۔۔۔۔۔۔ پچھلے برس چوپاٹی پر ایک گاہک نے اُسے گالی دی تھی۔ اس لیے کہ دو پیسے کی مونگ پھلی میں چار دانے کڑوے چلے گئے تھے۔ اور اس کے جواب میں اس کی گردن پر ایسی دُھول جمائی تھی کہ دُور بنچ پر بیٹھے آدمیوں نے بھی اس کی آواز سُن لی تھی۔ مگر سیٹھ نے اُسے دو گالیاں دیں اور وہ چپ رہا۔۔۔۔۔۔ کیشو لال کھاری سینگ والا۔ جس کی بابت یہ مشہور تھا۔ کہ وہ ناک پر مکھی بھی نہیں بیٹھنے دیتا۔۔۔۔ سیٹھ نے ایک گالی دی اور وہ کچھ نہ بولا۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری گالی دی تو بھی خاموش رہا جیسے وہ مٹی کا پُتلا ہے۔۔۔۔۔۔ پر مٹی کا پتلا کیسے ہُوا۔ اس نے ان دو گالیوں کو سیٹھ کے تھوک بھرے منہ سے نکلتے دیکھا جیسے دو بڑے بڑے چوہے موریوں سے باہر نکلتے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر خاموش رہا۔ اس لیے کہ وہ اپنا غرور نیچے چھوڑ آیا تھا۔۔۔۔۔ مگر اُس نے اپنا غرور اپنے سے الگ کیوں کیا؟ سیٹھ سے گالیاں لینے کے لیے؟ یہ سوچتے ہوئے اُسے ایکا ایکی خیال آیا کہ شاید سیٹھ نے اُسے نہیں کسی اور کو گالیاں دی تھیں۔۔۔۔۔۔ نہیں، نہیں، گالیاں اُسے ہی دی گئی تھیں۔ اس لیے کہ دو مہینے کا کرایہ اُسی کی طرف نکلتا تھا۔ اگر اسے گالیاں نہ دی گئی ہوتی تو اس سوچ بچار کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اور یہ جو اس کے سینے میں ہُلّڑ سا مچ رہا تھا۔ کیا بغیر کسی وجہ کے اُسے دُکھ دے رہا تھا؟ اُسی کو دو گالیاں دی گئی تھیں۔ جب اُس کے سامنے ایک موٹر نے اپنے ماتھے کی بتیاں روشن کیں۔ تو اُسے معلوم ہوا کہ وہ دو گالیاں پگھل کر اس کی آنکھوں میں دھنس گئی ہیں۔۔۔۔۔۔ گالیاں۔۔۔۔۔۔ گالیاں۔ وہ جھنجھلا گیا۔۔۔۔۔۔ وہ جتنی کوشش کرتا تھا۔ کہ ان گالیوں کی بابت نہ سوچے اتنی ہی شدت سے اُسے ان کے متعلق سوچنا پڑتا تھا۔ اور یہ مجبوری اسے بہت چڑچڑا بنا رہی تھی۔ چنانچہ اسی چڑچڑے پن میں اُس نے خواہ مخواہ دو تین آدمیوں کو جو اس کے پاس سے گزر رہے تھے۔ دل ہی دل میں گالیاں دیں۔

’’یوں اکڑ کے چل رہے ہیں جیسے ان کے باوا کا راج ہے!‘‘

اگر اس کا راج ہوتا تو وہ سیٹھ کو مزا چکھا دیتا جو اُسے اوپر تلے دو گالیاں سُنا کر اپنے گھر میں یوں آرام سے بیٹھا تھا جیسے اُس نے اپنی گدے دار کرسی میں سے وہ کھٹمل نکال کر باہر پھینک دیے ہیں۔۔۔۔۔ سچ مچ اگر اس کا اپنا راج ہوتا تو چوک میں بہت سے لوگوں کو اکٹھا کرکے سیٹھ کو بیچ میں کھڑا کر دیتا۔ اور اس کی گنجی چندیا پر اس زور سے دھپّا مارتا کہ بِلبلا اُٹھتا، پھر وہ سب لوگوں سے کہتا کہ ہنسو، جی بھر کر ہنسو اور خود اتنا ہنستا کہ ہنستے ہنستے ہنستے اُس کا پیٹ دُکھنے لگتا پر اس وقت اُسے بالکل ہنسی نہیں آتی تھی۔ کیوں؟۔ وہ اپنے راج کے بغیر بھی تو سیٹھ کے گنجے سر پر دھپّا مار سکتا تھا۔ اسے کس بات کی رکاوٹ تھی؟ ۔۔۔۔۔۔ رکاوٹ تھی۔۔۔۔۔۔۔ رکاوٹ تھی تو وہ گالیاں سُن کر خاموش ہو رہا۔ اُس کے قدم رُک گئے۔ اس کا دماغ بھی ایک دو پل کے لیے سستایا اور اس نے سوچا کہ چلو ابھی اس جھنجھٹ کا فیصلہ ہی کر دوں۔۔۔۔۔۔ بھاگا ہُوا جاؤں اور ایک ہی جھٹکے میں سیٹھ کی گردن مروڑ کر اس تجوری پر رکھ دوں۔ جس کا ڈھکنا مگر مچھ کے منہ کی طرح کھلتا ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن وہ کھمبے کی طرح زمین میں کیوں گڑ گیا تھا؟ سیٹھ کے گھر کی طرف پلٹا کیوں نہیں تھا؟ ۔۔۔۔۔ کیا اس میں جرأت نہ تھی؟ اس میں جرأت نہ تھی۔۔۔۔۔ کتنے دُکھ کی بات ہے کہ اس کی ساری طاقت سرد پڑ گئی تھی۔۔۔۔ یہ گالیاں۔۔۔۔۔ وہ ان گالیوں کو کیا کہتا۔۔۔۔۔ ان گالیوں نے اس کی چوڑی چھاتی پر رولر سا پھیر دیا تھا۔۔۔۔ صرف دو گالیوں نے۔۔۔۔ حالانکہ پچھلے ہندو مُسلم فساد میں ایک ہندو نے اُسے مسلمان سمجھ کر لاٹھیوں سے بہت پِیٹا تھا اور آدھ مُوا کر دیا تھا اور اُسے اتنی کمزوری محسوس نہ ہُوئی تھی۔ جتنی کہ اب ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ کیشولال کھاری سینگ والا جو دوستوں سے بڑے فخر کے ساتھ کہا کرتا تھا۔ کہ وہ کبھی بیمار نہیں پڑا۔ آج یوں چل رہا تھا جیسے برسوں کا روگی ہے۔۔۔۔۔۔ اور یہ روگ کس نے پیدا کیا تھا؟ ۔۔۔۔۔ دو گالیوں نے! گالیاں۔۔۔۔۔ گالیاں۔۔۔۔۔۔۔ کہاں تھیں وہ دو گالیاں؟ اس کے جی میں آئی۔ کہ اپنے سینے کے اندر ہاتھ ڈال کر وہ ان دو پتھروں کو جو کسی حیلے گلتے ہی نہ تھے۔ باہر نکال لے اور جو کوئی بھی اُس کے سامنے آئے اُس کے سر پر دے مارے، پر یہ کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔۔۔ اُس کا سینہ مُربے کا مرتبان تھوڑی تھا۔ ٹھیک ہے۔ لیکن پھر کوئی اور ترکیب بھی تو سمجھ میں آئے جس سے یہ گالیاں دُور دفان ہوں۔۔۔۔ کیوں نہیں کوئی شخص بڑھ کر اُسے دُکھ سے نجات دلانے کی کوشش کرتا؟ کیا وہ ہمدردی کے قابل نہ تھا؟ ۔۔۔۔۔ ہو گا۔ پر کسی کو اس کے دل کے حال کا کیا پتہ تھا۔ وہ کھلی کتاب تھوڑی تھا۔ اور نہ اُس نے اپنا دل باہر لٹکا رہا تھا۔ اندر کی بات کسی کو کیا معلوم؟ نہ معلوم ہو!۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر ماتما کرے کسی کو معلوم نہ ہو۔۔۔۔۔ اگر کسی کو اندر کی بات کا پتہ چل گیا۔ تو کیشولال کھاری سینگ والے کے لیے ڈوب مرنے کی بات تھی۔۔۔۔۔ گالیاں سُن کر خاموش رہنا معمولی بات تھی کیا؟ معمولی بات نہیں بہت بڑی بات ہے ۔۔۔۔۔۔ ہمالیہ پہاڑ جتنی بڑی بات ہے۔ اس سے بھی بڑی بات ہے۔ اُس کا غرور مٹی میں مل گیا ہے۔ اُس کی ذلّت ہُوئی ہے۔ اس کی ناک کٹ گئی ہے۔۔۔۔۔ اس کا سب کچھ لُٹ گیا ہے چلو بھئی چھٹی ہوئی۔ اب تو یہ گالیاں اُس کا پیچھا چھوڑ دیں۔۔۔۔۔۔۔ وہ کمینہ تھا۔ رذیل تھا۔ نیچ تھا۔ گندگی صاف کرنے والا بھنگی تھا، کُتّا تھا۔۔۔۔۔۔ اُس کو گالیاں ملنا ہی چاہیے تھیں۔ نہیں نہیں، کسی کی کیا مجال تھی کہ اسے گالیاں دے اور پھر بغیر کسی قصور کے، وہ اسے کچا نہ چبا جاتا۔۔۔۔۔اماں ہٹاؤ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔۔۔۔۔۔ تم نے تو سیٹھ سے یُوں گالیاں سنیں۔ جیسے میٹھی میٹھی بولیاں تھیں۔

’’میٹھی میٹھی بولیاں تھیں، بڑے مزے دار گھونٹ تھے، چلو یہی سہی۔۔۔۔۔ اب تو میرا پیچھا چھوڑ دو ورنہ سچ کہتا ہُوں۔ دیوانہ ہو جاؤں گا۔۔۔۔۔ یہ لوگ جو بڑے آرام سے ادھر اُدھر چل پھر رہے ہیں۔ میں ان میں سے ہر ایک کا سر پھوڑ دوں گا بھگوان کی قسم مجھے اب زیادہ تاب نہیں رہی۔ میں ضرور دیوانے کُتّے کی طرح سب کو کاٹنا شروع کر دوں گا۔ لوگ مجھے پاگل خانے میں بند کر دیں گے۔ اور میں دیواروں کے ساتھ اپنا سر ٹکرا ٹکرا کر مر جاؤں گا۔۔۔۔۔۔مر جاؤں گا۔ سچ کہتا ہوں، مر جاؤں گا۔۔۔۔ مر جاؤں گا۔ سچ کہتا ہوں، مر جاؤں گا۔ اور میری رادھا ودھوا اور میرے بچے اناتھ ہو جائیں گے۔۔۔۔۔۔ یہ سب کچھ اس لیے ہو گا کہ میں نے سیٹھ سے دو گالیاں سُنیں اور خاموش رہا۔ جیسے میرے منہ پر تالا لگا ہُوا تھا۔ میں لُولا، لنگڑا، اپاہج تھا۔۔۔۔۔پر ماتما کرے میری ٹانگیں اس موٹر کے نیچے آکر ٹوٹ جائیں، میرے ہاتھ کٹ جائیں۔۔۔۔۔۔ میں مر جاؤں تاکہ یہ بک بک تو ختم ہو ۔۔۔۔۔ توبہ ۔۔۔۔۔۔۔ کوئی ٹھکانہ ہے اس دُکھ کا۔۔۔۔ کپڑے پھاڑ کر ننگا ناچنا شروع کر دوں۔۔۔۔۔ اس ٹرام کے نیچے سر دے دوں، زور زور سے چلانا شروع کر دوں۔۔۔۔۔ کیا کروں کیا نہ کروں؟‘‘

یہ سوچتے ہوئے اُسے ایکا ایکی خیال آیا کہ بازار کے بیچ کھڑا ہو جائے، اور سب ٹریفک کو روک کر جو اس کی زبان پر آئے بکتا چلا جائے۔ حتیٰ کہ اس کا سینہ سارے کا سارا خالی ہو جائے۔ یا پھر اس کے جی میں آئی کہ کھڑے کھڑے یہیں سے چلانا شروع کر دے۔

’’مجھے بچاؤ۔۔۔۔ مجھے بچاؤ!‘‘

اتنے میں ایک آگ بُجھانے والا انجن سڑک پر ٹن ٹن کرتا آیا اور اُدھر اس موڑ میں گُم ہو گیا۔ اس کو دیکھ کر وہ اونچی آواز میں کہنے ہی والا تھا۔

’’ٹھہرو۔۔۔۔۔ میری آگ بُجھاتے جاؤ۔ ‘‘

مگر نہ جانے کیوں رک گیا۔ ایکا ایکی اُس نے اپنے قدم تیز کر دیے۔ اُسے ایسا محسوس ہوا تھا کہ اس کی سانس رُکنے لگی ہے اور اگر وہ تیز نہ چلے گا تو بہت ممکن ہے کہ وہ پھٹ جائے۔ لیکن جونہی اس کی رفتار بڑھی۔ اُس کا دماغ آگ کا ایک چکر سا بن گیا۔ اس چکر میں اس کے سارے پرانے اور نئے خیال ایک ہار کی صورت میں گندھ گئے۔۔۔۔۔۔ دو مہینے کا کرایہ، اس کا پتھر کی بلڈنگ میں درخواست لے کر جانا۔۔۔۔۔۔ سات منزلوں کے ایک سوبارہ زینے، سیٹھ کی بھدّی آواز، اس کے گنجے سر پر مسکراتا ہوا بجلی کا لیمپ اور۔۔۔۔۔ یہ موٹی گالی۔۔۔۔۔ پھر دوسری۔۔۔۔۔ اور اس کی خاموشی۔۔۔۔۔ یہاں پہنچ کر آگ کے اس چکر میں تڑ تڑ گولیاں سی نکلنا شروع ہو جاتیں اور اسے ایسا محسوس ہوتا کہ اس کا سینہ چھلنی ہو گیا ہے۔ اس نے اپنے قدم اور تیز کیے اور آگ کا یہ چکر اتنی تیزی سے گھومنا شروع ہُوا۔ کہ شعلوں کی ایک بہت بڑی گیند سی بن گئی۔ جو اس کے آگے آگے زمین پر اُچھلنے کودنے لگی۔ وہ اب دوڑنے لگا۔ لیکن فوراً ہی خیالوں کی بھیڑ بھاڑ میں ایک نیا خیال بلند آواز میں چلایا۔

’’تم کیوں بھاگ رہے ہو؟ کس سے بھاگ رہے ہو؟ تم بزدل ہو!‘‘

اُس کے قدم آہستہ آہستہ اُٹھنے لگے۔ بریک سی لگ گئی۔ اور وہ ہولے ہولے چلنے لگا۔۔۔۔۔ وہ سچ مچ بزدل تھا۔۔۔۔۔۔۔ بھاگ کیوں رہا تھا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اُسے تو انتقام لینا تھا۔۔۔۔ انتقام۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سوچتے ہُوئے اُسے اپنی زبان پر لہو کا نمکین ذائقہ محسوس ہُوا۔ اور اس کے بدن میں ایک جھرجھری سی پیدا ہُوئی۔ لہو۔۔۔۔۔ اُسے آسمان زمین سب لہو ہی میں رنگے ہُوئے نظر آنے لگے۔۔۔۔۔۔۔ لہو۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت اس میں اتنی قوت تھی کہ پتھر کی رگوں میں سے بھی لہو نچوڑ سکتا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں لال ڈورے اُبھر آئے۔ مٹھیاں بھنچ گئیں۔ اور قدموں میں مضبوطی پیدا ہو گئی۔۔۔۔۔ اب وہ انتقام پر تُل گیا تھا! وہ بڑھا۔ آنے جانے والے لوگوں میں سے تیر کے مانند اپنا راستہ بناتا۔ آگے بڑھتا رہا۔ آگے۔۔۔۔۔۔ آگے! جس طرح تیز چلنے والی ریل گاڑی چھوٹے چھوٹے اسٹیشنوں کو چھوڑ جایا کرتی ہے۔ اسی طرح وہ بجلی کے کھمبوں، دوکانوں اور لمبے لمبے بازاروں کو اپنے پیچھے چھوڑتا آگے بڑھ رہا تھا۔ آگے۔۔۔۔۔۔ آگے۔۔۔۔۔۔ بہت آگے! راستے میں ایک سینما کی رنگین بلڈنگ آئی۔ اُس نے اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ اور اس کے پاس سے بے پرواہ، ہَوا کے مانند بڑھ گیا۔ وہ بڑھتا گیا۔ اندر ہی اندر اُس نے اپنے ہر ذّرے کو ایک بم بنا لیا تھا۔ تاکہ وقت پر کام آئے مختلف بازاروں سے زہریلے سانپ کے مانند پھنکارتا ہوا وہ اپولوبندر پہنچا۔۔۔۔۔۔۔ اپولوبندر۔۔۔۔ گیٹ وے آف انڈیا کے سامنے بے شمار موٹریں قطار اندر قطار کھڑی تھیں۔ ان کو دیکھ کر اس نے یہ سمجھا کہ بہت سے گدھ ’پر‘ جوڑے کسی کی لاش کے ارد گرد بیٹھے ہیں۔ جب اُس نے خاموش سمندر کی طرف دیکھا۔ تو اُسے یہ ایک لمبی چوڑی لاش معلوم ہُوئی۔۔۔۔۔۔ اس سمندر کے اُس طرف ایک کونے میں لال لال روشنی کی لکیریں ہولے ہولے بل کھا رہی تھیں۔ یہ ایک عالی شان ہوٹل کی پیشانی کا برقی نام تھا۔ جس کی لال روشنی سمندر کے پانی میں گُدگُدی پیدا کر رہی تھی۔ کیشولال کھاری سینگ والا اُس عالی شان ہوٹل کے نیچے کھڑا ہو گیا۔ اس برقی بورڈ کے عین نیچے قدم گاڑ کر اُس نے اوپر دیکھا۔۔۔۔۔ سنگین عمارت کی طرف جس کے روشن کمرے چمک رہے تھے اور۔۔۔۔۔۔۔ اس کے حلق سے ایک نعرہ۔۔۔۔۔۔ کان کے پردے پھاڑ دینے والا نعرہ پگھلے ہُوئے گرم گرم لاوے کے مانند نکلا۔

’’ہت تیری۔۔۔۔۔۔۔ !‘‘

جتنے کبوتر ہوٹل کی منڈیروں پر اُونگھ رہے تھے ڈر گئے اور پھڑپھڑانے لگے۔ نعرہ مار کر جب اس نے اپنے قدم زمین سے بڑی مشکل کے ساتھ علیحدہ کیے اور واپس مڑا۔ تو اُسے اس بات کا پورا یقین تھا۔ کہ ہوٹل کی سنگین عمارت اڑا اڑا دھم نیچے گر گئی ہے۔ اور یہ نعرہ سُن کر ایک شخص نے اپنی بیوی سے جو یہ شور سن کر ڈر گئی تھی۔ کہا۔

’’پگلا ہے!‘‘

سعادت حسن منٹو

نُطفہ

’’معلوم نہیں بابو گوپی ناتھ کی شخصیت در حقیقت ایسی ہی تھی جیسی آپ نے افسانے میں پیش کی ہے، یا محض آپ کے دماغ کی پیداوار ہے، پر میں اتنا جانتا ہوں کہ ایسے عجیب وغریب آدمی عام ملتے ہیں۔ میں نے جب آپ کا افسانہ پڑھا تو میرا دماغ فوراً ہی اپنے ایک دوست کی طرف منتقل ہو گیا۔ صادقے کی طرف۔ آپ کے بابو گوپی ناتھ اور اس میں بظاہر کوئی مماثلت نہیں ہے۔ لیکن میں ایسا محسوس کرتا ہوں کہ ان دونوں کا خمیر ایک ہی مٹی سے اٹھا ہے۔ آپ کے بابو گوپی ناتھ کو دولت وراثت میں ملی ہے۔ میرے صادقے کو اپنی محنت و مشقت اور ذہانت کے صلے میں۔ دونوں شاہ خرچ تھے۔ آپ کا بابو گوپی ناتھ بظاہر بدھو تھا۔ لیکن دراصل بہت ہوشیار اور باخبر آدمی تھا۔ میرا صادق اندر باہر سے بالکل ایک جیسا تھا۔ وہ بدھو تھا نہ چالاک۔ درمیانے درجے کی عقل و فہم کا آدمی تھا۔ اپنے کاموں میں آٹھوں گانٹھ ہوشیار۔ حسب کا پکا۔ لیکن دین کے معاملے میں بڑا با اصول۔ آپ کے بابو گوپی ناتھ کو لُٹ جانے میں مزا آتا ہے۔ اسے دوسروں کو لوٹنے میں۔ بابو صاحب کو پیروں فقیروں کے تکیوں اور رنڈیوں کے کوٹھوں سے رغبت تھی۔ صادق کو ان سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ مگر ان تمام تفاوتوں کے باوجود میں جب بھی بابو گوپی ناتھ کو صادق کے ساتھ کھڑا کرتا ہوں تو مجھے ان کے خدوخال ایک جیسے نظر آتے ہیں، جیسے وہ جڑواں ہیں۔ میں تجزیہ نہیں کرنا چاہتا۔ ہو سکتا ہے آپ، جب صادق کا حال مجھ سے سنیں تو اس کو انسانوں کی کسی اور ہی صف میں کھڑا کردیں۔ جس میں بابو گوپی ناتھ کی مونچھ کا ایک بال بھی نہ آسکا ہو، لیکن میں سمجھوں گا کہ آپ کے تجزیے میں غلطی ہوئی ہے اورمیں آپ سے درخواست کروں گا کہ اسے اس صف سے نکال کر اس صف میں شامل کردیجیے جس میں آپ کا بابو گوپی ناتھ موجود ہے۔ میں افسانہ نگار نہیں۔ معلوم نہیں بابو گوپی ناتھ کے حالات آپ نے من و عن بیان کیے ہیں ان میں کچھ رد و بدل کیا ہے۔ بہر حال جو کچھ بھی ہے بہت خوب ہے۔ اور کچھ اس افسانے میں ہے۔ اگر اس کے مطابق بابو گوپی ناتھ نہیں چلا تو لعنت ہے اس پر۔ اور اگر وہ ایسا ہی تھا جیسا کہ افسانے میں ہے تو اس پر خدا کی رحمت ہو۔ یقین مانیے ایسے لوگ پرستش کے قابل ہوتے ہیں۔ اور صادق کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ اس سے میری ملاقات دلی میں ہوئی۔ جنگ کا زمانہ تھا۔ ٹھیکیداریاں بڑے زوروں پر تھیں۔ صادقے کی پانچوں گھی میں تھیں اور سر محاورے کے مطابق کڑاہے میں۔ میل ملاپ اور اثر رسوخ کافی تھا اور شاہ خرچ تھا ہی۔ دس بیس پرتکلف دعوتیں کرتا اور ایک کنٹریکٹ اپنی جیب میں ڈال لیتا۔ ایک بات ہے۔ بے شک اس نے بہت کمایا۔ دونوں ہاتھوں سے گورنمنٹ کا مال لوٹا۔ لیکن اس میں اس نے ان لوگوں کو برابر کا حصہ دیا جن کے ذریعے سے اس کو اس لوٹ کے مواقع بہم پہنچے تھے۔ اسی دوران میں اس کا گزر ان وادیوں میں ہوا جن کا بابو گوپی ناتھ ایک بہت بڑا زائر تھا۔ لیکن وہ ان میں بھٹکا نہیں۔ دوسروں کے ساتھ محض رواداری کی خاطر جاتا رہا اور واپس گھر آکر اپنے جوتوں کی گرد جھاڑ کر بیٹھ جاتا رہا۔ اس نے بوتل سے بھی تعارف حاصل کیا۔ مگر معانقے کی نوبت نہ آنے دی۔ ایک دو گھونٹ پی۔ صرف دوسروں کا ساتھ دینے کے لیے۔ ان کوٹھوں پر جہاں آپ کے بابو گوپی ناتھ کے قول کے مطابق دھوکا ہی دھوکا ہوتا ہے۔ صادقے نے خود کو دھوکا دینے کی کبھی کوشش نہ کی۔ ایک دو بار اسے اپنے ساتھیوں کی خوشی کے لیے رنڈیوں کا منہ چومنا پڑا تھا اور چند واہیات حرکتیں بھی کرنا پڑی تھیں، مگر اس نے ان سے کوئی لطف حاصل نہیں کیا تھا۔ وہ رنڈی کے متعلق کبھی سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔ لیکن اگر ملٹری کے نوجوانوں کے لیے رنڈیاں فراہم کرنے کا ٹھیکہ اسے مل جاتا تو وہ یقیناً ان کے متعلق بڑے غور و فکر سے سوچنا شروع کردیتا۔ وہ کاروباری آدمی تھا۔ لیکن ایک دم حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ صادق وہ صادق ہی نہ رہا جنگ ختم ہوئی تو ٹھیکے بھی ختم ہو گئے۔ پھر مقدموں کا کچھ ایسا تانتا بندھا کہ صادق کچہریوں کے چکر میں پھنس گیا۔ جو دولت پیدا کی تھی، سب مقدموں کی نذر ہو گئی موٹر کے بجائے اب صادق ٹانگے پر ہوتا تھا یا سائیکل پر۔ پہلے نئے سا نیا سوٹ اس کے بدن پر ہوتا ہے۔ اب اسے کپڑوں سے کوئی دلچسپی ہی نہیں رہتی تھی پہلے اس کے خوشامدی دوست اسے نواب صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔ اب وہ صرف

’’صادقا‘‘

’’اوئے صادقا۔ ‘‘

رہ گیا تھا۔ مگر ان کی اس تبدیلی تخاطب کو صادق نے قطعاً محسوس نہیں کیا تھا۔ اس کو اپنے مقدموں کی اتنی فکر تھی کہ وہ ایسی فروعات کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔ کچہریوں کے اس چکر میں اس نے اپنی مرضی سے بوتل کی طرف ہاتھ بڑھایا اور تھوڑے ہی عرصے میں بڑے دھڑلے کا شرابی بن گیا۔ اسی دوران میں اس کی ملاقات سرحد کے ایک خان سے ہوئی جس کو وہاں کی حکومت نے صوبہ بدر کر رکھا تھا۔ یہ ملاقات رنڈی کے ایک کوٹھے پر ہوئی۔ زندگی میں صادق پہلی مرتبہ کسی انسان کے خلوص سے متاثر ہوا۔ یہ خان اپنے علاقے کا بہت بڑا رئیس تھا۔ بالکل ان پڑھ مگر جاہل نہیں تھا۔ اس کا دل و دماغ قوم کی فلاح و بہبود کے لیے پوری طرح روشن تھا۔ وہ ایک بہت بڑا انقلاب چاہتا تھا جو ظلم و ستم کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے۔ وہ چاہتا تھا کہ سرمائے کی لعنت سے دنیا آزاد ہو جائے۔ دنیا آزاد نہ ہو تو کم از کم اس کا صوبہ آزاد ہو جائے۔ ان خیالات کی پاداش میں وہ اپنے وطن سے باہر نکال دیا گیا۔ میں آپ کی طرح افسانہ نگار نہیں ہوں۔ مجھ سے حاشیہ آرائی نہیں ہوتی۔ خان کا کیریکٹر بھی کم دلچسپ نہیں۔ کسی زمانے میں وہ بڑا پرجوش سرخ پوش تھا۔ اس تحریک سے وابستہ ہو کر اس نے کئی مرتبہ جیل دیکھی۔ اپنی جائیداد میں سے ہزاروں روپے خرچ کیے۔ جب بٹوارہ ہوا تو وہ مسلم لیگی بن گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح سے اس کو والہانہ عشق ہو گیا۔ مسلم لیگ کی تنظیم کے لیے اس نے قابل قدر خدمات سرانجام دیں، لیکن پھر کچھ ایسے حالات ہوئے کہ وہ جو تعلیم یافتہ تھے، اس سے آگے بڑھ گئے اور بڑے بڑے منصبوں پر جا بیٹھے۔ خان جھنجھلا گیا۔ اس جھنجھلاہٹ میں اس نے اپنے غیض و غضب کا بڑا خام مظاہرہ کیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا گیا۔ جس زمانے میں صادق کی ان سے ملاقات ہوئی، آپ کی حالت بالکل بچوں کی سی تھی۔ ان بچوں کی سی جن کو معمولی سی شرارت پر سخت گیر ماسٹر نے بنچ پر کھڑا کردیا ہویا مرغا بنا کر کلاس کے ایک کونے میں کان پکڑنے کا حکم دے دیا ہو۔ صادق جب بھی مجھ سے ان کی بات کرتا تو کہتا۔

’’بڑا بیبا آدمی ہے۔ ‘‘

کچھ میں بھی اس خان کے متعلق جانتا ہوں۔ یہ واقع ہے کہ صرف

’’بیبا‘‘

ہی ایک ایسا لفظ ہے جو اس کی شخصیت کو پورے طور پر اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔ وطن سے دور تھا۔ سینکڑوں میل دور۔ مگر وطن کی یاد اسے کبھی نہیں ستاتی تھی۔ اپنے گاؤں میں ایک چھوڑ دو بیویاں تھیں، مگر ان کے متعلق اس نے کبھی تردو کا اظہار نہیں کیا تھا۔ اس لیے کہ اس کو اس طرف سے کامل یقین تھا کہ زمینداری سے جو کچھ وصول ہوتا ہے، ان کے اخراجات کے لیے کافی سے زیادہ ہے۔ سات آٹھ سو روپیہ ماہوار اس کا منیجر وہاں سے روانہ کردیتا تھا۔ جواس کی واکسہال موٹر کے پٹرول اور اس کی شراب پر اٹھ جاتا تھا۔ گھر اس کا ہیرا منڈی کے ایک کوٹھے پر تھا۔ صوبہ بدر ہونے کے بعد اس نے کچھ دیر اس منڈی کے مختلف کوٹھوں پر جھک ماری۔ آخر کار ایک کوٹھا منتخب کرکے وہاں مستقل طور پر اپنے ڈیرے جما دیے۔ ڈیڑھ دو مہینے کے بعد خان صاحب کو محسوس ہوا کہ آپ کو اس کوٹھے کی رنڈی سے عشق ہو گیا ہے۔ آپ نے صادق کو اس راز سے بڑے بیبے پن کے ساتھ آگاہ کیا۔

’’صادق۔ وہ رنڈی جس کے کوٹھے پر تم سے پہلی ملاقات ہوئی تھی، ہمارے دل کے اندر گھس گئی ہے۔ اس کو بدر کرنے کی کوئی ترکیب تمہارے دماغ کے اندر آتی ہو تو ہم کو بتاؤ۔ ‘‘

صادق نے اس کو بہت سی ترکیبیں بتائیں۔ جن پر خان صاحب نے عمل بھی کیا مگر وہ اپنے دل کے اندر سے اس رنڈی کو

’’شہر بدر‘‘

نہ کرسکے۔ آخر کار انھوں نے ایک بار پھر اسی بیبے پن کے ساتھ صادق سے کہا۔

’’صادق۔ وہ رنڈی ہم پر سوار ہو گئی ہے۔ ہم اس کو اپنی بیوی بنالے گا۔ ‘‘

صادق نے ان کو بہت سمجھایا بجھایا۔ مگر خان صاحب عشق کے ہاتھوں مجبور تھے۔ رنڈی کو بھی وہ پسند آگئے تھے۔ چنانچہ ایک دن وہ میاں بیوی بن گئے۔ رنڈی کے گھر والوں کو یہ رشتہ بالکل پسند نہ آیا۔ بڑی گڑ بڑ ہوئی۔ آخر سمجھوتہ ہو گیا۔ رنڈی وہیں کوٹھے پر رہی اور خان صاحب اس کے شوہر کی حیثیت سے اس کے ساتھ رہنے لگے۔ صادق نے مجھ سے کہا۔

’’خان عجیب و غریب آدمی ہے۔ اتنے اونچے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اخباری اور سیاسی دنیا میں نام رکھتا ہے، لیکن اسے کبھی اتنا خیال نہیں آتا کہ وہ ایک بدنام محلے میں رہتا ہے۔ ایک رنڈی جس کے ہزاروں گاہک تھے، اس کی بیوی ہے۔ مجھے بعض اوقات حیرت ہوتی ہے کہ پٹھان ہو کر اس کی غیرت کہاں سو رہی ہے۔ سرحد میں دو بیویاں پڑی ہیں۔ اولاد موجود ہے مگر وہ کس اطمینان سے ہیرا منڈی کے کوٹھے میں ایک چچوڑی ہوئی ہڈی چوستا رہتا ہے۔ اس سے اس بارے میں کچھ کہتا ہوں تو اس کے بے ریا چہرے پر بیبی سی مسکراہٹ پیدا ہوتی ہے اور وہ مجھ سے کہتا ہے۔ صادق۔ وہ لوگ ادھر راضی خوشی ہے۔ ہمیں کوئی تردد نہیں۔ اور یہ رنڈی بہت اچھا ہے۔ ہم سے محبت کرتا ہے۔ جو عورت ادھر ہوتا ہے نا، محبت کرنا نہیں جانتا۔ ناز نخرہ نہیں جانتا۔ اور مجھے یقین آجاتا ہے۔ مجھے اس کی ہر بات کا یقین آجاتا ہے۔ ‘‘

اور یہ واقعہ ہے کہ صادق جس کو پہلے کسی بات کا یقین نہیں آتا تھا، اب اس خان کے کہنے پر چلتا تھا۔ جب وہ مقدموں سے فارغ ہوا تو اس کے کہنے پر اس نے ملٹری کی چھوڑی ہوئی بارکیں ڈھانے اور ان کا ملبہ اٹھوانے کا ٹھیکہ لے لیا۔ اس کام سے اسے نفرت تھی، مگر خان صاحب کے مشورے کو وہ کیسے ٹال سکتا تھا، چنانچہ ایک برس تک وہ کمہاروں اور ان کے گدھوں اور ملبے کے دھول غبارمیں پھنسا رہا۔ لیکن اس میں اس نے کافی کمایا۔ خوشامدی دوست یار، پھر اس کے گرد جمع ہو گئے۔ میرا خیال تھا کہ وہ انھیں منہ نہیں لگائے گا، لیکن اس نے ان کو دھتکارنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ پہلے صرف دستر خوان پر ان کی شمولیت ہوتی تھی۔ اب بوتل میں بھی وہ اس کے شریک ہونے لگے۔ خان نے اس کو بتایا تھا کہ شراب بہت اچھی چیز ہے خصوصاً اس آدمی کے لیے جوصوبہ بدر کردیا گیا ہو۔ بوتل سے منہ لگاتے ہی ایک نیا صوبہ اس کے دل و دماغ میں آباد ہو جاتا ہے۔ جس میں وہ ایک کونے سے دوسرے کونے تک جہاں چاہے اسٹول پر کھڑا ہو کے باغیانہ سے باغیانہ تقریر کرسکتا ہے۔ سرمائے کی تمام لعنتوں سے اس کو پاک کرسکتا ہے۔ اور پھر رنڈی کا کوٹھا۔ اس سے بہترین گھر تو اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ بیوی گھریلو اور سگی قسم کی ہو تو آدمی اسے گالی نہیں دے سکتا۔ اگر رنڈی ہو تو گندی سے گندی گالی بھی اسے دی جاسکتی ہے۔ اس کی ماں کے سامنے۔ اس کی پھوپھی کے سامنے۔ اس کی چچی کے سامنے۔ اور اگر اس کا کوئی باپ موجود ہو تو اس کے بھی سامنے۔ پھر وہ اسے اپنے مخصوص خام اور بیبے انداز میں روزمرہ زندگی میں گالی کی اہمیت بیان کرنے لگتا اور اسے بتاتا کہ یہ بہت ضروری چیز ہے۔ اگر آدمی اسے وقتاً فوقتاً اپنے اندر سے باہر نہ نکالے تو تعفن پیدا ہو جاتا ہے جو بالآخر دل و دماغ پر بہت برا اثر کرتا ہے۔ رنڈی کا کوٹھا۔ اور گھریلو گھر۔ زمین و آسمان کا فرق ہے۔ وہاں سو بکھیڑے ہوتے ہیں۔ اتنا سازو سامان اور اتنے رشتے ہوتے ہیں کہ آدمی ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہے تو پوری زندگی اسی کوشش میں بسر ہو جائے مگریہاں رنڈی کے کوٹھے پر ایسی کوئی مشکل نہیں۔ اپنا ہولڈال اورٹرنک اٹھاؤ، اچکن کاندھے پر ڈالو اور کسی ہوٹل میں جا کر بڑے اطمینان سے طلاق کا کاغذ لکھ کر روانہ کردو۔ ایک بات اور بھی ہے۔ رنڈی کو سمجھنے میں اگر دقت محسوس ہو تو اس کو استعمال کرنے والے ایسے کئی آدمی موجود ہوں گے جن کے تجربوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ پھر گانا بجانا مفت۔ عیاشی کی عیاشی، شادی کی شادی۔ جی اکتایا تو چھوڑ کے چلتے بنے۔ کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔ کوئی برا نہیں کہے گا۔ بلکہ وہ جو شریف ہیں مرحبا کہیں گے کہ صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آیا۔ رنڈی کو لعنتی کہیں گے جو چمٹ گئی تھی اور خدا وند کریم کا شکر بجا لائیں گے کہ اس نے اس سے نجات دلائی۔ اور رنڈی کی زندگی میں بھی کوئی زلزلہ نہیں آتا۔ اس کے لگے بندھے گاہک موجود ہوتے ہیں۔ تمہاری ٹھیکے داری ختم ہوتی ہے تو وہ اطمینان کا سانس لیتے ہیں کہ چلو ہمارا راستہ کھلا۔ ‘‘

صادق کو خان رنڈی سے شادی کے فوائد اکثربتاتا رہتا تھا۔ بوتل سے بڑے خلوص کے س