زمرہ جات کے محفوظات: الطاف حسین حالی

جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 42
اب وہ اگلا سا التفات نہیں
جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں
رنج كيا كيا ہیں ایك جان کے ساتھ
زندگی موت ہے حیات نہیں
کوئی دلسوز ہو تو کیجے بیاں
سرسری دل کی واردات نہیں
ذرہ ذرہ ہے مظہر خورشید
جاگ اے آنکھ دن ہے رات نہیں
قیس ہو، كوہكن ہو، يا حالی
عاشقی کچھ كسي کی ذات نہیں
الطاف حسین حالی

اک یہ لپکا دیکھئے کب جائے گا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 41
ذوق سب جاتے رہے جز ذوق درد
اک یہ لپکا دیکھئے کب جائے گا
عیب سے خالی نہ واعظ ہے نہ ہم
ہم پہ منہ آئے گا منہ کی کھائے گا
باغ و صحرا میں رہے جو تنگ دل
جی قفس میں اس کا کیا گھبرائے گا
الطاف حسین حالی

ہو جہاں راہزن اور راہنما ایک ہی شخص

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 40
قافلے گزریں وہاں کیونکہ سلامت واعظ
ہو جہاں راہزن اور راہنما ایک ہی شخص
قیس سا پھر کوئی اٹھا نہ بنی عامر پیں
فخر ہوتا ہے گھرانے کا سدا ایک ہی شخص
گھر میں برکت ہے مگر فیض ہے جاری شب و روز
کچھ سہی شیخ، مگر ہے بخدا ایک ہی شخص
اعتراضوں کا زمانہ کے ہے حالیؔ پہ نچوڑ
شاعر اب ساری خدائی میں ہے یا ایک ہی شخص
الطاف حسین حالی

ناصح قوم اس پہ کہلاتے ہیں آپ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 39
یہ ہیں واعظ، سب پہ منہ آتے ہیں آپ
ناصح قوم اس پہ کہلاتے ہیں آپ
بس بہت طعن و ملامت کر چکے
کیوں زباں رندوں کی کھلواتے ہیں آپ
ہے صراحی میں وہی لذت کہ جو
چڑھ کے ممبر پر مزا پاتے ہیں آپ
واعظو ہے ان کو شرمانا گناہ
جو گنہ سے اپنے شرماتے ہیں آپ
کرتے ہیں اک اک کی تکفیر آپ کیوں
ا س پہ بھی کچھ غور فرماتے ہیں آپ
چھیڑ کر واعظ کو حالیؔ خلد سے
بسترا کیوں اپنا پھکواتے ہیں آپ
الطاف حسین حالی

بلبل بہت ہے دیکھ کے پھولوں کو باغ باغ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 38
یا رب نگاہ بد سے چمن کو بچائیو
بلبل بہت ہے دیکھ کے پھولوں کو باغ باغ
آئیں پئیں وہ شوق سے جو اہلِ ظرف ہوں
ساقی بھرے کھڑا ہے مئے لعل سے ایاغ
حالیؔ بھی پڑھنے آئے تھے کچھ بزم شعرو میں
باری تب ان کی آئی کہ گل ہو گئے چراغ
الطاف حسین حالی

نہ وہ دیوار کی صورت ہے، نہ گھر کی صورت

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 37
اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت
نہ وہ دیوار کی صورت ہے، نہ گھر کی صورت
کس سے پیمان وفا باندھ رہی ہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت
اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار
اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت
دیکھئے شیخ مصور سے کھچے یا نہ کھچے
صورت اور آپ سے بے عیب بشر کی صورت
واعظو آتش دوزخ سے جہان کو تم نے
یہ ڈرایا ہے کہ خود بن گئے ڈر کی صورت
کیا خبر زاہد قانع کو کہ کیا چیز ہے حرص
اس نے دیکھی ہی نہیں کیسۂ زر کی صورت
حملہ اپنے پہ بھی اک بعد ہزیمت ہے ضرور
رہ گئی ہے یہی اک فتح و ظفر کی صورت
ان کو حالیؔ بھی بلاتے ہیں گھر اپنے مہماں
دیکھنا آپ کو اور آپ کے گھر کی صورت
الطاف حسین حالی

کاٹنا ہے شب تنہائی کا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 36
عمر شاید نہ کرے آج وفا
کاٹنا ہے شب تنہائی کا
ایک دن راہ پہ جا پہنچے ہم
شوق تھا بادیہ پیمائی کا
کچھ تو ہے قدر تماشائی کی
ہے جو یہ شوق خود آرائی کا
یہی انجام تھا اے فصل خزاں
گل و بلبل کی شناسائی کا
محتسب عذر بہت ہیں لیکن
اذن ہم کو نہیں گویائی کا
ہوں گے حالیؔ سے بہت آوارہ
گھر ابھی دور ہے رسوائی کا
الطاف حسین حالی

دل کو یہ کیسی لگا دی تو نے چاٹ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 35
تو نہیں ہوتا تو رہتا ہے اچاٹ
دل کو یہ کیسی لگا دی تو نے چاٹ
رچ رہی ہے کان میں یاں لے وہی
اور معنی نے کئی بدلے ہیں ٹھاٹ
ناؤ ہے بوسیدہ اور موجیں ہیں سخت
اور دریا کا بہت چکلا ہے پاٹ
دیر سے مسجد میں ہم آئے تو ہیں
ہے مگر یاں جی کچھ اے زاہد اچاٹ
تیغ میں برش یہ لے حالیؔ نہیں
جس قدر تیری زباں کرتی ہے کاٹ
الطاف حسین حالی

کس توجہ سے پڑھ رہا ہے نماز

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 33
شیخ! اللہ رے تیری عیاری
کس توجہ سے پڑھ رہا ہے نماز
خیر ہے اے فلک کہ چار طرف
چل رہی ہیں ہوائیں کچھ ناساز
رنگ بدلا ہوا ہے عالم کا
ہیں دگرگوں زمانہ کے انداز
چھپتے پھرتے ہیں کبکو تیہو سے
گھونسلوں میں عقاب اور شہباز
ہے نہتوں کو رہگزر میں خطر
رہزنوں نے کئے ہیں ہاتھ دراز
ٹڈیوں کا ہے کھیتوں پہ ہجوم
بھیڑیوں کے ہیں خوں میں تر لب آز
نا توانوں پہ گد ہیں منڈلاتے
کھئلوں پر ہیں حیز تیر انداز
تشنۂ خوں میں بھوکے شیروں کے
حیلہ گر رہوں بہو کے عشوۂ ناز
دشمنوں کے ہیں دوست خود جاسوس
اور یاروں کے یار میں غماز
ہو گا انجام دیکھئے کیا کچھ
ہے پر آشوب جب کہ یہ آغاز
کے ابھی تک کھلی نہیں لیکن
عیب سے آ رہی ہے کچھ آوا ز
وقت نازک ہے اپنے بیڑے پر
موج ہائل ہے اور ہوا ناساز
یا تھپیڑے ہوا کے لے ابھرا
یا گیا کشمکش میں ڈوب جہاز
الطاف حسین حالی

سبحہ و سجادہ ہیچ اور جبہ و دستار ہیچ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 31
شاہد معنی کو آرائش کی کچھ حاجت نہیں
سبحہ و سجادہ ہیچ اور جبہ و دستار ہیچ
ہے ادب مسند پہ، جو کچھ ہے رئیس شہر
ہٹ کے مسند سے جو خود دیکھیں تو ہیں سرکار ہیچ
گو کہ حالیؔ اگلے استادوں کے آگے ہیچ ہے
کاش ہوتے ملک میں ایسے ہی اب دوچار ہیچ
الطاف حسین حالی

بلکہ جام آبِ کوثر سے لذیذ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 30
پیاس تیری بوئے ساغر سے لذیذ
بلکہ جام آبِ کوثر سے لذیذ
جس کا تو قاتل ہو پھر اس کے لئے
کون سی نعمت ہے خنجر سے لذیذ
لطف ہو تیری طرف سے یا عتاب
ہم کو ہے سب شہد و شکر سے لذیذ
قند سے شیریں تری پہلی نگاہ
دوسری قند مکرر سے لذیذ
ہے یہ تجھ میں کس کی بو باس اے صبا
بوئے بید مشک و عنبر سے لذیذ
الطاف حسین حالی

کوئی مل گیا گر ہمیں یار واعظ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 29
نکل آئے گی مے کشی کی بھی حلَت
کوئی مل گیا گر ہمیں یار واعظ
نہ چھوڑے گا زیور گھروں میں نہ زر تو
یہی ہے اگر حسن گفتار واعظ
مسلماں نہ ہم کاش حالیؔ کو کہتے
ہوئے بات کہہ کر گنہگار واعظ
الطاف حسین حالی

گرچہ اُترے جی سے دل اکثر ابا کرتا رہا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 28
نفس دعویٰ بے گناہی کا سدا کرتا رہا
گرچہ اُترے جی سے دل اکثر ابا کرتا رہا
حق نے احساں نہ کی اور میں نے کفراں میں کمی
وہ عطا کرتا رہا اور میں خطا کرتا رہا
چوریوں سے دیدہ و دل کی نہ شرمایا کبھی
چپکے چپکے نفس خائن کا کہا کرتا رہا
طاعنوں کی زد سے بچ بچ کر چلا راہ خطا
وار ان کا اس لئے اکثر خطا کرتا رہا
نفس میں جو ناروا خواہش ہوئی پیدا کبھی
اس کو حیلے دل سے گھڑ گھڑ کر روا کرتا رہا
منہ نہ دیکھیں دوست پھر میرا اگر جائیں کہ میں
اُس سے کیا کہتا رہا اور آپ کیا کرتا رہا
تھا نہ استحقاق تحسیں پر سنی تحسیں سدا
حق ہے جود و ہمتی کا وہ ادا کرتا رہا
شہرت اپنی جس قدر بڑھتی گئی آفاق میں
کبر نفس اتنا ہی یا نشوونما کرتا رہا
ایک عالم سے وفا کی تو نے اے حالیؔ مگر
نفس سے اپنے سدا ظالم جفا کرتا رہا
الطاف حسین حالی

چھیڑو نہ تم کو میرے بھی منہ میں زباں ہے اب

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 27
مجھ میں وہ تاب ضبط شکایت کہاں ہے اب
چھیڑو نہ تم کو میرے بھی منہ میں زباں ہے اب
وہ دن گئے کہ حوصلۂ ضبط راز تھا
چہرے سے اپنے شورش پنہاں عیاں ہے اب
جس دل کو قید ہستی دنیا سے تنگ تھا
وہ دل اسیر حلقہ زلف بتاں ہے اب
آنے لگا جب اس کی تمنا میں کچھ مزا
کہتے ہیں لوگ جان کا اس میں زیاں ہے اب
حالیؔ تم اور ملازمت پیرے فروش
وہ علم و دیں کدھر ہے وہ تقویٰ کہاں ہے اب
الطاف حسین حالی

گویا ہمارے سر پہ کبھی آسماں نہ تھا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 26
ملتے ہی ان کے بھول گئیں کلفتیں تمام
گویا ہمارے سر پہ کبھی آسماں نہ تھا
رات ان کو بات بات پہ سو سو دئیے جواب
مجھ کو خود اپنی ذات سے ایسا گماں نہ تھا
رونا یہ ہے کہ آپ بھی ہنستے تھے ورنہ یاں
طعن رقیب دل پہ کچھ ایسا گراں نہ تھا
تھا کچھ نہ کچھ کہ پھانس ہی اک دل میں چبھ گئی
مانا کہ اس کے ہاتھ میں تیر و سناں نہ تھا
بزم سخن میں جی نہ لگا اپنا زینہار
شب انجمن میں حالیؔ جادو بیاں نہ تھا
الطاف حسین حالی

احسان یہ نہ ہر گز بھولیں گے ہم تمہارا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 25
کھولی ہیں تم نے آنکھیں اے حادثو ہماری
احسان یہ نہ ہر گز بھولیں گے ہم تمہارا
ہوتے ہی تم تو پیدل کچھ رو دئیے سوارو
ہے لاکھ لاکھ من کا ایک اک قدم تمہارا
رستے میں گر نہ ٹھہرے تو تم بھی جا ملو گے
گزرا ابھی ہے یاں سے خیل و حشم تمہارا
پھرتے ادھر ادھر ہو کس کی تلاش میں تم
گم ہے تمہیں میں یارو باغ ارم تمہارا
جادو رقم تو مانیں، ہم دل سے تم کو حالیؔ
کچھ کر کے بھی دکھائے زور قلم تمہارا
الطاف حسین حالی

بدنام ہی دنیا میں نکو نام ہے گویا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 24
کچھ کرتے ہیں جو یاں وہی انگشت نما ہیں
بدنام ہی دنیا میں نکو نام ہے گویا
ناچیز ہیں وہ کام نہیں جن پہ کچھ الزام
جو کام ہیں ان کا یہی انعام ہے گویا
ہے وقت راحیل اور وہی عشرت کے ہیں ساماں
آخر ہوئی رات اور ابھی شام ہے گویا
جب دیکھئے حالیؔ کو پڑا پائیے بیکار
کرنا اسے باقی یہی اک کام ہے گویا
الطاف حسین حالی

بات اس کی کاٹتے رہے اور ہمزباں رہے

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 23
کل مدعی کو آپ پر کیا کیا گماں رہے
بات اس کی کاٹتے رہے اور ہمزباں رہے
یارانِ تیز گام نے محمل کو جالیا
ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے
یا کھینچ لائے دہر سے رندوں کو اہلِ وعظ
یا آپ بھی ملازمِ پیر مغاں رہے
وصل مدام سے بھی ہماری بجھی نہ پیاس
ڈوبے ہم آبِ خضر میں اور نیم جاں رہے
کل کی خبر ہو تو جھوٹے کا رو سیاہ
تم مدعی کے گھر گئے اور مہماں رہے
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
حالیؔ کے بعد کوئی نہ ہمدرد پھر ملا
کچھ راز تھے کہ دل میں ہمارے نہاں رہے
الطاف حسین حالی

میری ہی طرح تو بھی غیروں سے خفا ہوتا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 22
کچھ اپنی حقیقت کی گر تجھ کو خبر ہوتی
میری ہی طرح تو بھی غیروں سے خفا ہوتا
جو دل پہ گزرتی ہے کیا تجھ کو خبر ناصح
گر آج نہ تم آتے کیا جانئے کیا ہوتا
کل حالیؔ دیوانہ کہتا تھا کچھ افسانہ
سننے ہی کے قابل تھا تم نے بھی سنا ہوتا
الطاف حسین حالی

تیرا قبلہ ہے جدا، میرا جدا اے زاہد

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 21
کہیں خوف اور کہیں غالب ہے رجا اے زاہد
تیرا قبلہ ہے جدا، میرا جدا اے زاہد
ہم دکھا دیں گے کہ زاہد اور ہے نیکی کچھ اور
کچھ بہت دور نہیں روز جزا اے زاہد
جال جب تک ہے یہ پھیلا ہوا دینداری کا
فکر دنیا کا کرے تیری بلا اے زاہد
الطاف حسین حالی

یہ بھید ہے اپنی زندگی کا بس اس کا چرچا نہ کیجئے گا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 20
جہاں میں حالیؔ کسی پہ اپنے سوا بھروسہ نہ کیجئے گا
یہ بھید ہے اپنی زندگی کا بس اس کا چرچا نہ کیجئے گا
جو لاکھ غیروں کا غیر کوئی، نہ جاننا اس کو غیر ہرگز
جو اپنا سایہ بھی ہو تو اس کو تصور اپنا نہ کیجئے گا
سنا ہے صوفی کا قول ہے یہ کہ ہے طریقت میں کفر دعویٰ
یہ کہدو دعویٰ بہت بڑا ہے پھر ایسا دعویٰ نہ کیجئے گا
کہے اگر کوئی تم کو واعظ کہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہو
زمانہ کی خو ہے نکتہ چینی، کچھ اس کی پروا نہ کیجئے گا
لگاؤ تم میں نہ لاگ زاہد، نہ درد الفت کی آگ زاہد
پھر اور کیا کیجئے آخر جو ترک دنیا نہ کیجئے گا
الطاف حسین حالی

وہ حوصلہ رہا نہیں صبر و قرار کا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 19
اک خوشی ہو گئی ہے تحمل کی ورنہ اب
وہ حوصلہ رہا نہیں صبر و قرار کا
آؤ مٹا بھی دو خلش آرزوئے قتل
کیا اعتبار زندگی مستعار کا
سمجھو مجھے اگر ہے تمہیں آدمی کی قدر
میرا اک التفات نہ مرنا ہزار کا
گر صبح تک وفا نہ ہوا وعدہ وصال
سن لیں گے وہ مآل شب انتظار کا
ہر سمت گرد ناقۂ لیلیٰ بلند ہے
پہنچے جو حوصلہ ہو کسی شہسوار کا
حالیؔ بس اب یقین ہے کہ دلی کے ہو رہے
ہے ذرہ ذرہ مہر فزا اس دیار کا
الطاف حسین حالی

جب کبھی جیتے تھے ہم اے بذلہ سنج

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 18
ہم کو بھی آتا تھا ہنسنا بولنا
جب کبھی جیتے تھے ہم اے بذلہ سنج
آ گئی مرگ طبیعی ہم کو یاد
شاخ سے دیکھا جو خود گرتا ترنج
راہ اب سیدھی ہے حالیؔ سوئے دوست
ہو چکے طے سب خم و پیچ و شکنج
الطاف حسین حالی

آتا ہے دور ہی سے ہم کو نظر گھر اپنا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 17
ہو عزم دیر شاید کعبہ سے پھر کر اپنا
آتا ہے دور ہی سے ہم کو نظر گھر اپنا
قید خرد میں رہتے آتے نہیں نظر ہم
وحشت رہے گی دل کی دکھلا کے جوہر اپنا
بیگانہ وش ہے گروہ تو ہے ہمارے ڈھب کا
ایسوں ہی سے نبھا ہے یارانہ اکثر اپنا
کچھ کذب و افترا ہے کچھ کذب حق نما ہے
یہ ہے بضاعت اپنی اور یہ ہے دفتر اپنا
غیروں کو لیں گے آخر اپنا بنا کے کیا ہم
اپنوں ہی سے ہے حالیؔ کچھ دل مکدر اپنا
ہو عزم دیر شاید کعبہ سے پھر کر اپنا
آتا ہے دور ہی سے ہم کو نظر گھر اپنا
قید خرد میں رہتے آتے نہیں نظر ہم
وحشت رہے گی دل کی دکھلا کے جوہر اپنا
بیگانہ وش ہے گروہ تو ہے ہمارے ڈھب کا
ایسوں ہی سے نبھا ہے یارانہ اکثر اپنا
کچھ کذب و افترا ہے کچھ کذب حق نما ہے
یہ ہے بضاعت اپنی اور یہ ہے دفتر اپنا
غیروں کو لیں گے آخر اپنا بنا کے کیا ہم
اپنوں ہی سے ہے حالیؔ کچھ دل مکدر اپنا
الطاف حسین حالی

قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرا

قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرا

اک بندۂ نا فرماں ہے حمد سرا تیرا

گو سب سے مقدم ہے حق تیرا ادا کرنا

بندے سے مگر ہو گا حق کیونکہ ادا تیرا

محرم بھی ہے ایسا ہی جیسا کہ ہے نامحرم

کچھ کہہ نہ سکا جس پر یاں بھید کھلا تیرا

جچتا نہیں نظروں میں یاں خلعت سلطانی

کملی میں مگن اپنی رہتا ہے گدا تیرا

عظمت تری مانے بن کچھ بن نہیں آتی یاں

ہیں خیرہ و سرکش بھی دم بھرتے سدا تیرا

تو ہی نظر آتا ہے ہر شے پر محیط ان کو

جو رنج و مصیبت میں کرتے ہیں گلا تیرا

نشہ میں وہ احساں کے سرشار ہیں اور بیخود

جو شکر نہیں کرتے نعمت پہ ادا تیرا

آفاق میں پھیلے گی کب تک نہ مہک تیری

گھر گھر لئے پھرتی ہے پیغام صبا تیرا

ہر بول ترا دل سے ٹکرا کے گزرتا ہے

کچھ رنگ بیاں حالیؔ ہے سب سے جدا تیرا

الطاف حسین حالی

بن آئیگی نہ درد کا درماں کئے بغیر

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 15
گوہ شفا سے یاس پہ جب تک ہے دم میں دم
بن آئیگی نہ درد کا درماں کئے بغیر
بگڑی ہوئی بہت ہے کچھ اسباغ کی ہوا
یہ باغ کو رہے گی نہ ویراں کئے بغیر
مشکل بہت ہے گو کہ مٹانا سلف کا نام
مشکل کو ہم ٹلیں گے نہ آساں کئے بغیر
گو مے ہ تندو تلخ پہ ساقی ہے دلربا
اے شیخ بن پڑے گی نہ کچھ ہاں کئے بغیر
تکفیر جو کہ کرتے ہیں ابنائے وقت کی
چھوڑے گا وقت انہیں نہ مسلماں کئے بغیر
الطاف حسین حالی

پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 14
گو جوانی میں تھی کج رائی بہت
پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت
وصل کے ہو ہو کے ساماں رہ گئے
مینہ نہ برسا اور گھٹا چھائی بہت
ہم نے ہر ادنیٰ کو اعلیٰ کر دیا
خاکساری اپنی کام آئی بہت
کر دیا چپ واقعات دہر نے
تھی کبھی ہم میں بھی گویائی بہت
ہم نہ کہتے تھے کہ حالیؔ چپ رہو
راست گوئی میں ہے رسوائی بہت
الطاف حسین حالی

ہو گئی اک اک گھڑی تجھ بن پہاڑ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 13
گھر ہے وحشت خیر اور بستی اجاڑ
ہو گئی اک اک گھڑی تجھ بن پہاڑ
ہے پہنچنا اپنا چوٹی تک محال
اے طلب نکلا بہت اونچا پہاڑ
کھیلنا آتا ہے ہم کو بھی شکار
پر نہیں زاہد کوئی ٹٹّی کی آڑ
عید اور نو روز ہے سب دل کے ساتھ
دل نہیں حاضر تو دنیا ہے اجاڑ
تم نے حالیؔ کھول کر ناحق زباں
کر لیا ساری خدائی کا بگاڑ
الطاف حسین حالی

اب دکھائے گا یہ شکلیں نہ زمانہ ہرگز

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 12
غالب و شیفتہ و آزردہ و ذوق
اب دکھائے گا یہ شکلیں نہ زمانہ ہرگز
مومن و علوی و صہبائی و ممنون کے بعد
شعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگز
کر دیا مر کے یگانوں نے یگانہ ہم کو
ورنہ یاں کوئی نہ تھا ہم میں یگانہ ہرگز
داغ و مجروح کو سن لو کہ پھر اس گلشن میں
نہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانہ ہرگز
رات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیرو زبر
اب نہ دیکھو گے کبھی لطف شبانا ہرگز
الطاف حسین حالی

اور معرکۂ گردش ایام ہے درپیش

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 11
غفلت ہے کہ گھیر ے ہوئے ہے چار طرف سے
اور معرکۂ گردش ایام ہے درپیش
گو صبح بھی تھی روز مصیبت کی قیامت
پر صبح تو جوں توں کٹی اب شام ہے درپیش
وہ وقت گیا نشہ تھا جب زوروں پہ اپنا
اب وقت خمار مئے گلفام ہے درپیش
امید شفا کا تو جواب آ ہی چکا ہے
اب موت کا سننا ہمیں پیغام ہے درپیش
جی اس کا کسی کام میں لگتا نہیں زنہار
ظاہر ہے کہ حالیؔ کو کوئی کام ہے درپیش
الطاف حسین حالی

گویا نہ رہا اب کہیں دنیا میں ٹھکانا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 10
دلّی سے نکلتے ہی ہوا جینے سے دل سیر
گویا نہ رہا اب کہیں دنیا میں ٹھکانا
افسوس کہ غفلت میں کٹا عہد جوانی
تھا اب بقا گھر میں مگر، ہم نے نہ جلنا
یاروں کو ہمیں دیکھ کے عبرت نہیں ہوتی
اب واقعہ سب اپنا پڑا ہم کو سنانا
لی ہوش میں آنے کی جو ساقی سے اجازت
فرمایا خبردار کہ نازک ہے زمانہ
ڈھاریں سی کچھ اے ہمقدمو تم سے بندھی ہے
حالیؔ کو کہیں راہ میں تم چھوڑ نہ جانا
الطاف حسین حالی

پھر کئے سے اپنے ہم پچھتائیں کیا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 9
دل میں باقی ہیں وہی حرصِ گناہ
پھر کئے سے اپنے ہم پچھتائیں کیا
آؤ اس کو لیں ہمیں جا کر منا
اس کی بے پروائیوں پر جائیں کیا
جانتا دنیا کو ہے اک کھیل تو
کھیل قدرت کے تجھے دکھلائیں کیا
مان لیجئے شیخ جو دعویٰ کرے
اک بزرگ دیں کو ہم جھٹلائیں کیا
ہو چکے حالیؔ غزلخوانی کے دن
راگئی بے وقت کی اب گائیں کیا
الطاف حسین حالی

کی بھی اور کسی سے آشنائی کی

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 8
دھوم تھی اپنی پارسائی کی
کی بھی اور کسی سے آشنائی کی
کیوں بڑھاتے ہو اخلاط بہت
ہم کو طاقت نہیں جدائی کی
منہ کہاں چھپاؤ گے ہم سے
تم کو عادت ہے خود نمائی کی
لاگ میں ہیں لگاؤ کی باتیں
صلح میں چھیڑ ہے لڑائی کی
ملتے غیروں سے ہو ملو لیکن
ہم سے باتیں کرو صفائی کی
دل رہا پائے بند الفت دام
تھی عبث آرزو رہائی کی
دل بھی پہلو میں ہو یاں کسی سے
رکھئے امید دلربائی کی
شہر و دریا سے باغ و صحرا سے
بو نہیں آتی آشنائی کی
نہ ملا کوئی غارتِ ایماں
رہ گئی شرم پارسائی کی
موت کی طرح جس سے ڈرتے تھے
ساعت آن پہنچی اس جدائی کی
زندہ پھرنے کی ہے ہوس حالیؔ
انتہا ہے یہ بے حیائی کی
الطاف حسین حالی

تیرا ہی رہ گیا ہے لے دے کے اک سہارا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 7
دیکھ اے امید کہ جو، ہم سے نہ تو کنارا
تیرا ہی رہ گیا ہے لے دے کے اک سہارا
یوں بے سبب زمانہ پھرتا نہیں کسی سے
اے آسماں کچھ اس میں تیرا بھی ہے اشارا
میخانہ کی خرابی جی دیکھ کر بھر آیا
مدت کے بعد کل واں جا نکلے تھے قضا را
اک شخص کو توقع بخشش کی بے عمل ہے
اے زاہدو تمہارا ہے اس میں کیا اجارا
دنیا کے خرخشوں سے چیخ اٹھتے تم ہم اول
آخر کو رفتہ رفتہ سب ہو گئے گوارا
انصاف سے جو دیکھا نکلے وہ عیب سارے
جتنے ہنر تھے اپنے عالم میں آشکارا
افسوس، اہل دیں بھی مانند اہلِ دنیا
خود کام خود نما ہیں خود بیں میں اور خود آرا
الطاف حسین حالی

کیمیا کو طلا سے کیا مطلب

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 6
درد دل کو دوا سے کیا مطلب
کیمیا کو طلا سے کیا مطلب
جو کرینگے بھرینگے خود واعظ
تم کو میری خطا سے کیا مطلب
جن کے معبود حورو غلماں ہیں
ان کو زاہد خدا سے کیا مطلب
کام ہے مردمی سے انساں کی
زبد یا اتقا سے کیا مطلب
صوفی شہرِ با صفا ہے اگر
ہو ہماری بلا سے، کیا مطلب
نگہت مے پہ عشق میں جو حالیؔ
ان کو درد و صفا سے کیا مطلب
الطاف حسین حالی

مال مہنگا نظر آتا تو چکایا جاتا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 5
چپ چپاتے اسے دے آئے دل اک بات پہ ہم
مال مہنگا نظر آتا تو چکایا جاتا
نامہ بر آج بھی خط لے کے نہ آیا یارو
تم تو کہتے ہو کہ وہ ہے ابھی آیا جاتا
لوگ کیوں شیخ کو کہتے ہیں کہ عیار ہے وہ
اس کی صورت سے تو ایسا نہیں پایا جاتا
کرتے کیا پیتے اگر مے نہ عشا سے نا صبح
وقت فرصت کا یہ کس طرح گنوایا جاتا
اس نے اچھا ہی کیا حال نہ پوچھا دل کا
بھڑک اٹھتا تو یہ شعلہ نہ دبایا جاتا
عشق سنتے تھے جسے ہم وہ یہی ہے شاید
خود بخود دل میں ہے اک شخص سمایا جاتا
اب تو تکفیر سے واعظ نہیں ہٹتا حالیؔ
کہتے پہلے سے تو دے لے کے ہٹایا جاتا
الطاف حسین حالی

گو ہوں سب کی جدا جدا اغراض

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 4
چاہئے ایک سب کا ہو مقصود
گو ہوں سب کی جدا جدا اغراض
یاد میں تیری سب کو بھول گئے
کھو دئیے ایک دکھ نے سب امراض
دیکھئے تو بھی خوش ہیں یا نا خوش
اور تو ہم سے سب ہیں کچھ ناراض
رائے ہے کچھ علیل سی تیری
نبض اپنی بھی دکھ اے نباض
ایسی غزلیں سنی نہ تھیں حالیؔ
یہ نکالی کہاں سے تم نے بیاض
الطاف حسین حالی

جس گھر سے سر اٹھایا اس کو بٹھا کے چھوڑا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 3
اے عشق تو نے اکثر قوموں کو کھا کے چھوڑا
جس گھر سے سر اٹھایا اس کو بٹھا کے چھوڑا
رایوں کے راج چھینے شاہونکے تاج چھینے
گردن کشوں کو اکثر نیچا دکھا کے چھوڑا
فرہاد کوہکن کی لی تو نے جان شیریں
اور قیس عامری کو مجنوں بنا کے چھوڑا
یعقوب سے بشر کو دی تو نے ناصبوری
یوسف سے پارسا پر بہتان لگا کے چھوڑا
عقل و خرد نے تجھ سے کچھ چپقلش جہاں کی
عقل و خرد کا تو نے خاکہ اڑا کے چھوڑا
افسانہ تیرا رنگین، روداد تیری دلکش
شعر و سخن کا تو نے جادو بنا کے چھوڑا
اک دسترس سے تیری حالیؔ بچا ہوا تھا
اس کے بھی دل پہ آخر چرکا لگا کے چھوڑا
الطاف حسین حالی

وہ دل کہ خاص محرم بزم حضور تھا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 1
اب باریاب انجمن عام بھی نہیں
وہ دل کہ خاص محرم بزم حضور تھا
روز وداع بھی شب ہجراں سے کم نہ تھا
کچھ صبح ہی سے شام بلا کا ظہور تھا
حالیؔ کو ہجر میں بھی جو دیکھا شادماں
تھا حوصلہ اسی کا کہ اتنا صبور تھا
الطاف حسین حالی